Muslim99Muslim99

Sahih Ibn Hibban · Book 35 · Chapter 2

Book of Borrowing

Hadith 3906–3945

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

3906

Sahih Ibn Hibban #3906

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، يَسْأَلُ السَّائِبَ بْنَ يَزِيدَ : مَا سَمِعْتَ فِيَ سُكْنَى مَكَّةَ ؟ ، فَقَالَ : حَدَّثَنِي الْعَلاءُ بْنُ الْحَضْرَمِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : لِلْمُهَاجِرِ ثَلاثًا بَعْدَ الصَّدَرِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبدالرحمن بن حمید رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: میں نے عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کو سائب بن یزید رضی اللہ عنہ سے یہ سوال کرتے ہوئے سنا: مکہ میں رہائش اختیار کرنے کے بارے میں آپ نے کیا سنا ہے؟ تو انہوں نے بتایا: علاء بن حضرمی رضی اللہ عنہ نے مجھے یہ حدیث سنائی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”باہر سے آنے والا شخص طوافِ صدر کرنے کے بعد تین دن تک (مکہ میں ٹھہر سکتا ہے)۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3906]

3907

Sahih Ibn Hibban #3907

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حُمَيْدٍ ، عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنِ الْعَلاءِ بْنِ الْحَضْرَمِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : يَمْكُثُ الْمُهَاجِرُ ثَلاثًا بَعْدَ قَضَاءِ نُسُكِهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا علاء بن حضرمی رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”باہر سے آنے والا شخص اپنے حج کے مناسک ادا کرنے کے بعد تین دن تک (مکہ میں) ٹھہر سکتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3907]

3908

Sahih Ibn Hibban #3908

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ النَّرْسِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى الْقَطَّانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَبَاتَ بِذِي طُوًى حَتَّى صَلَّى الصُّبْحَ ، ثُمَّ دَخَلَ مَكَّةَ ، وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ يَفْعَلُهُ ، وَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ مَكَّةَ مِنْ كَدَاءِ الثَّنِيَّةِ الْعُلْيَا الَّتِي بِالْبَطْحَاءِ ، وَخَرَجَ مِنْ ثَنِيَّةِ السُّفْلَى """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے «ذِي طُوًى» ”ذی طوی“ میں رات بسر کی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح کی نماز ادا کی، اس کے بعد مکہ میں داخل ہوئے۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بھی ایسا ہی کیا کرتے تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ مکرمہ میں بطحا میں موجود بالائی گھاٹی «كَدَاء» ”کداء“ کی طرف سے داخل ہوئے تھے اور (واپس جاتے ہوئے) آپ صلی اللہ علیہ وسلم زیریں گھاٹی کی طرف سے تشریف لے گئے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3908]

3909

Sahih Ibn Hibban #3909

أَخْبَرَنَا أَبُو عَرُوبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مُوسَى الْفَرْوِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ الْجُمَحِيُّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَإِذَا خَرَجَ مِنْ مَكَّةَ خَرَجَ مِنْ طَرِيقِ الشَّجَرَةِ ، وَإِذَا رَجَعَ رَجَعَ مِنْ طَرِيقِ الْمُعَرَّسِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب مکہ سے باہر تشریف لے گئے تھے، تو آپ شجرہ کے راستے سے تشریف لے گئے تھے اور جب آپ واپس تشریف لائے تھے، تو آپ معرس کے راستے سے تشریف لائے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3909]

3910

Sahih Ibn Hibban #3910

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدَةَ بْنِ أَبِي لُبَابَةَ ، عَنْ شَقِيقِ بْنِ سَلَمَةَ ، عَنِ الصَّبِيِّ بْنِ مَعْبَدٍ ، أَنَّهُأَهَلَّ بِحَجٍّ وَعُمْرَةٍ، فَذَكَرَ ذَلِكَ لِعُمَرَ ، فَقَالَ : هُدِيتَ لِسُنَّةِ نَبِيِّكَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

صبی بن معبد رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے حج اور عمرے کا احرام ایک ساتھ باندھ لیا، انہوں نے (بعد میں) اس بات کا تذکرہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے کیا، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تمہاری رہنمائی تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کی طرف کی گئی ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3910]

3911

Sahih Ibn Hibban #3911

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَبْدَةَ بْنِ أَبِي لُبَابَةَ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ شَقِيقِ بْنِ سَلَمَةَ ، قَالَ : كَثِيرًا مَا كُنْتُ آتِي الصُّبَيَّ بْنَ مَعْبَدٍ أَنَا ، وَمَسْرُوقٌ نسأله عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ ، قَالَ : كُنْتُ امْرَأً نَصْرَانِيًّا ، فَأَسْلَمْتُ ،فَأَهْلَلْتُ بِالْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ فَسَمِعَنِي سَلْمَانُ بْنُ رَبِيعَةَ ، وَزَيْدُ بْنُ صُوحَانَ ، وَأَنَا أُهِلُّ بِهِمَا بِالْقَادِسِيَّةِ ، فَقَالا : لَهَذَا أَضَلُّ مِنْ بَعِيرِ أَهْلِهِ ، فَكَأَنَّمَا حُمِلَ عَلَيَّ بِكَلِمَتِهِمَا جَبَلٌ حَتَّى قَدِمْتُ مَكَّةَ ، فَأَتَيْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ، وَهُوَ بِمِنًى ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ ، فَأَقْبَلَ عَلَيْهِمَا ، فَلامَهُمَا ، وَأَقْبَلَ عَلَيَّ ، فَقَالَ : هُدِيتَ لِسُنَّةِ نَبِيِّكَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّتَيْنِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابووائل شقیق بن سلمہ بیان کرتے ہیں: میں اکثر صبی بن معبد کی خدمت میں حاضر ہوا کرتا تھا، میں اور مسروق ان سے ان کے واقعے کے بارے میں دریافت کرتے تھے، انہوں نے بتایا: میں ایک عیسائی شخص تھا، میں نے اسلام قبول کیا، پھر میں نے حج اور عمرے کا احرام باندھ لیا، سلیمان بن ربیعہ اور زید بن صوحان رضی اللہ عنہما نے مجھے (حج اور عمرے کا ایک ساتھ) تلبیہ پڑھتے ہوئے سنا، میں (قادسیہ) میں ان کے سامنے تلبیہ پڑھ رہا تھا، تو ان دونوں نے کہا: یہ شخص اپنے گھر کے اونٹ سے زیادہ گمراہ ہے، تو ان دونوں کی اس بات سے گویا میرے اوپر پہاڑ جتنا وزن آ گیا، یہاں تک کہ جب میں مکہ آیا، تو سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا، وہ اس وقت منیٰ میں موجود تھے، میں نے اس بات کا تذکرہ ان کے سامنے کیا، تو انہوں نے ان دونوں کو ملامت کی اور میری طرف رخ کیا اور فرمایا: ”تمہاری تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کی طرف رہنمائی کی گئی ہے۔“ یہ بات انہوں نے دو مرتبہ ارشاد فرمائی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3911]

3912

Sahih Ibn Hibban #3912

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ : خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ فَأَهْلَلْنَا بِعُمْرَةٍ ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ كَانَ مَعَهُ هَدْيٌ فَلْيُهلِلَّ بِالْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ ، ثُمَّ لا يَحِلُّ حَتَّى يَحِلَّ مِنْهُمَا جَمِيعًا " ، قَالَتْ : فَطَافَ الَّذِينَ أَهَلُّوا بِالْعُمْرَةِ بِالْبَيْتِ وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ، ثُمَّ أَحَلُّوا ، ثُمَّ طَافُوا طَوَافًا آخَرَ بَعْدَ أَنْ رَجَعُوا مِنْ مِنًى لِحَجِّهِمْ ، وَأَمَّا الَّذِينَ أَهَلُّوا بِالْحَجِّ ، وَجَمَعُوا بَيْنَ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ ، فَإِنَّمَا طَافُوا طَوَافًا وَاحِدًا ، قَالَتْ : فَقَدِمْتُ مَكَّةَ ، وَأَنَا حَائِضٌ ، لَمْ أَطُفْ بِالْبَيْتِ ، وَلا بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ، فَشَكَوْتُ ذَلِكَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " انْقُضِي رَأْسَكِ ، وَامْتَشِطِي ، وَأَهِلِّي بِالْحَجِّ ، وَدَعِي الْعُمْرَةَ " ، قَالَتْ : فَفَعَلْتُ ، فَلَمَّا قَضَيْنَا الْحَجَّ ، أَرْسَلَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ إِلَى التَّنْعِيمِ ، فَاعْتَمَرْتُ ، فَقَالَ : " هَذِهِ مَكَانُ عُمْرَتِكِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ حجۃ الوداع کے موقع پر ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ روانہ ہوئے، ہم نے عمرے کا احرام باندھا ہوا تھا۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جس شخص کے ساتھ قربانی کا جانور موجود ہو وہ حج اور عمرے کا تلبیہ پڑھے اور وہ اس وقت احرام نہیں کھولے گا، جب تک وہ ان دونوں سے فارغ نہیں ہو جاتا۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ جن لوگوں نے عمرے کا احرام باندھا تھا (یا جو عمرے کا تلبیہ پڑھ رہے تھے) انہوں نے بیت اللہ کا طواف کرنے اور صفا و مروہ کی سعی کرنے کے بعد احرام کو کھول دیا، جب وہ لوگ منیٰ سے واپس آئے، تو انہوں نے اپنے حج کے لیے دوسری مرتبہ طواف کیا، البتہ جن لوگوں نے حج کا تلبیہ پڑھا تھا انہوں نے حج اور عمرے کو جمع کر دیا تھا، تو انہوں نے ایک ہی مرتبہ طواف کیا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں مکہ آئی، تو مجھے حیض آ چکا تھا، میں بیت اللہ کا طواف بھی نہیں کر سکی اور صفا و مروہ کی سعی بھی نہیں کر سکی، میں نے اس بات کی شکایت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم اپنے بالوں کو کھول دو، کنگھی کر لو اور حج کا تلبیہ پڑھو اور عمرے کو چھوڑ دو۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں نے ایسا ہی کیا، جب میں نے حج مکمل کر لیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے عبدالرحمن بن ابوبکر رضی اللہ عنہما کے ہمراہ تنعیم بھیجا، تو وہاں سے میں نے (عمرے کا تلبیہ پڑھا)۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”یہ تمہارے اس عمرے کی جگہ ہو گیا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3912]

3913

Sahih Ibn Hibban #3913

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ الْعَدَنِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ مُوسَى ، وَأَيُّوبُ السَّخْتِيَانِيُّ ، وعبيد الله بن عمر ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ : أَنَّهُجَمَعَ بَيْنَ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ ، وَطَافَ لَهُمَا سَبْعًا ، وَسَعَى بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ سَبْعًا ، وَقَالَ : هَكَذَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

نافع بیان کرتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے حج اور عمرہ کو جمع کیا، انہوں نے ان دونوں کے لیے سات مرتبہ طواف کیا اور سات مرتبہ سعی کی اور یہ بات بیان کی: ”میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح کرتے ہوئے دیکھا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3913]

3914

Sahih Ibn Hibban #3914

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُوسَى بِعَسْكَرِ مُكْرَمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : لَمْ يَطُفِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ إِلا طَوَافًا وَاحِدًا لِحَجَّتِهِ وَعُمْرَتِهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صفا اور مروہ کا طواف صرف ایک مرتبہ کیا تھا جو آپ کے حج اور عمرے (دونوں) کے لیے تھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3914]

3915

Sahih Ibn Hibban #3915

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّامِيُّ ، وَالْمُفَضَّلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الْجَنَدِيُّ ، قَالا : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الزُّهْرِيُّ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا الدَّرَاوَرْدِيُّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : مَنْ جَمَعَ بَيْنَ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ طَافَ لَهُمَا طَوَافًا وَاحِدًا ، ثُمَّ لَمْ يَحِلَّ حَتَّى يَحِلَّ مِنْ حَجَّتِهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جو شخص حج اور عمرے کو جمع کر لے، وہ ان دونوں کے لیے ایک مرتبہ طواف کرے گا اور وہ اس وقت تک احرام نہیں کھولے گا، جب تک اس سے فارغ نہیں ہو جاتا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3915]

3916

Sahih Ibn Hibban #3916

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّامِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمْزَةَ الزُّبَيْرِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الدَّرَاوَرْدِيُّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : مَنْ جَمَعَ الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ كَفَاهُ لَهُمَا طَوَافٌ وَاحِدٌ ، وَلا يَحِلَّ حَتَّى يَوْمِ النَّحْرِ ، ثُمَّ يَحِلُّ مِنْهُمَا جَمِيعًا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جو شخص حج اور عمرے کو اکٹھا کر لے تو ایک ہی طواف ان دونوں کے لیے کافی ہو گا اور ایسا شخص اس وقت تک احرام نہیں کھولے گا جب تک قربانی کا دن نہیں آ جاتا، پھر وہ ان دونوں کا احرام ایک ہی دفعہ کھولے گا“۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3916]

3917

Sahih Ibn Hibban #3917

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ الطَّائِيُّ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ : خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ حَجَّةِ الْوَدَاعِ ، فَأَهْلَلْنَا بِعُمْرَةٍ ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ كَانَ مَعَهُ هَدْيٌ فَلْيُهْلِلْ بِالْحَجِّ مَعَ الْعُمْرَةِ ، ثُمَّ لا يَحِلَّ حَتَّى يَحِلَّ مِنْهُمَا جَمِيعًا " ، قَالَتْ : فَقَدِمْتُ مَكَّةَ وَأَنَا حَائِضٌ لَمْ أَطُفْ بِالْبَيْتِ ، وَلا بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ، فَشَكَوْتُ ذَلِكَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " انْقُضِي رَأْسَكِ ، وَامْتَشِطِي ، وَأَهِلِّي بِالْحَجِّ ، وَدَعِي الْعُمْرَةَ " ، قَالَتْ : فَفَعَلْتُ ، فَلَمَّا قَضَيْنَا الْحَجَّ ، أَرْسَلَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ إِلَى التَّنْعِيمِ ، فَاعْتَمَرْتُ ، فَقَالَ : " هَذِهِ مَكَانُ عُمْرَتِكِ " ، قَالَتْ : فَطَافَ الَّذِينَ أَهَلُّوا بِالْعُمْرَةِ بِالْبَيْتِ وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ، ثُمَّ حَلُّوا ، ثُمَّ طَافُوا طَوَافًا آخَرَ بَعْدَ أَنْ رَجَعُوا مِنْ مِنًى بِحَجِّهِمْ ، وَأَمَّا الَّذِينَ كَانُوا أَهَلُّوا بِالْحَجِّ وَجَمَعُوا الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ ، فَإِنَّمَا طَافُوا طَوَافًا وَاحِدًا"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ حجۃ الوداع کے موقع پر وہ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ روانہ ہوئے، ہم نے عمرے کا تلبیہ پڑھا پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جس شخص کے ساتھ قربانی کا جانور موجود ہو وہ عمرے کے ساتھ حج کا بھی تلبیہ پڑھے، پھر وہ اس وقت تک احرام نہیں کھولے گا جب تک وہ ان دونوں سے فارغ نہیں ہو جاتا۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ جب میں مکہ آئی تو مجھے حیض آ گیا، میں نے بیت اللہ کا طواف بھی نہیں کیا اور صفا و مروہ کی سعی بھی نہیں کی۔ میں نے اس بات کی شکایت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم اپنے بال کھول کر ان میں کنگھی کر لو اور حج کا تلبیہ پڑھنا شروع کرو اور عمرے کو چھوڑ دو۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں نے ایسا ہی کیا، جب ہم نے حج مکمل کر لیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے عبدالرحمن بن ابوبکر رضی اللہ عنہما کے ہمراہ تنعیم بھیجا، وہاں سے میں نے عمرہ کیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”یہ تمہارے عمرے کی جگہ ہو گیا۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ جن لوگوں نے عمرے کا تلبیہ پڑھا تھا، انہوں نے بیت اللہ کا طواف اور صفا و مروہ کی سعی کرنے کے بعد احرام کھول دیا، پھر انہوں نے منیٰ سے واپس آنے کے بعد حج کے لیے دوسری مرتبہ طواف کیا، جہاں تک ان لوگوں کا تعلق ہے جنہوں نے حج کا تلبیہ پڑھا تھا اور انہوں نے حج اور عمرے کو جمع کر لیا تھا، تو انہوں نے ایک ہی مرتبہ طواف کیا تھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3917]

3918

Sahih Ibn Hibban #3918

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَفْلَحُ بْنُ حُمَيْدٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَشْهُرِ الْحَجِّ ، وَلَيَالِي الْحَجِّ ، وَحَرَمِ الْحَجِّ حَتَّى نَزَلْنَا بِسَرِفٍ ، قَالَتْ : فَخَرَجَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى أَصْحَابِهِ ، فَقَالَ : مَنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ هَدْيٌ ، وَأَحَبَّ أَنْ يَجْعَلَهَا عَمْرَةً فَلْيَفْعَلْ ، وَمَنْ كَانَ مَعَهُ الْهَدْيُ ، فَلا " ، قَالَتْ : فَالآخِذُ بِهَا ، وَالتَّارِكُ لَهَا مِنْ أَصْحَابِهِ ، قَالَتْ : فَأَمَّا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَرِجَالٌ مِنْ أَصْحَابِهِ ، فَكَانُوا أَهْلَ قُوَّةٍ ، فَكَانَ مَعَهُمُ الْهَدْيُ ، فَلَمْ يَقْدِرُوا عَلَى الْعُمْرَةِ ، قَالَتْ : فَدَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَنَا أَبْكِي ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا يُبْكِيكِ يَا هَنْتَاهُ ؟ " ، قُلْتُ : قَدْ سَمِعْتُ قَوْلُكَ لأَصْحَابِكَ ، فَمُنِعْتُ الْعُمْرَةَ ، قَالَ : " وَمَا شَأْنُكِ ؟ " ، قَالَتْ : لا أُصَلِّي ، قَالَ : " فَلا يَضُرُّكِ ، إِنَّمَا أَنْتِ امْرَأَةٌ مِنْ بَنَاتِ آدَمِ ، كَتَبَ اللَّهُ عَلَيْكِ مَا كَتَبَ عَلَيْهِنَّ ، فَكُونِي فِي حَجَّتِكِ ، فَعَسَى أَنْ تُدْرِكِيهَا " ، قَالَتْ : فَخَرَجْنَا فِي حَجِّهِ حَتَّى قَدِمْنَا مِنًى ، فَطَهَرْتُ ، ثُمَّ خَرَجْتُ مِنْ مِنًى فَأَفَضْتُ الْبَيْتَ ، قَالَتْ : ثُمَّ خَرَجْتُ مَعَهُ فِي النَّفْرِ الآخَرِ حَتَّى نَزَلَ الْمُحَصَّبُ ، وَنَزَلْنَا مَعَهُ ، فَدَعَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اخْرُجْ بِأُخْتِكَ مِنَ الْحَرَمِ ، فَلْتُهِلَّ بِعُمْرَةٍ ، ثُمَّ افْرُغَا ، ثُمَّ ائْتِيَا هُنَا ، فَإِنِّي أَنْظُرُكُمَا حَتَّى تَأْتِيَانِي " ، قَالَتْ : فَخَرَجْتُ لِذَلِكَ حَتَّى فَرَغْتُ ، وَفَرَغْتُ مِنَ الطَّوَافِ ، ثُمَّ جِئْتُهُ سَحْرًا ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " هَلْ فَرَغْتُمْ ؟ " ، قُلْتُ : نَعَمْ ، قَالَ : فَأَذِنَ بِالرَّحِيلِ فِي أَصْحَابِهِ ، فَارْتَحَلَ النَّاسُ ، فَمَرَّ بِالْبَيْتِ قَبْلَ صَلاةِ الصُّبْحِ ، فَطَافَ بِهِ ، ثُمَّ خَرَجَ ، فَرَكِبَ ، ثُمَّ انْصَرَفَ مُتَوَجِّهًا إِلَى الْمَدِينَةِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ہم حج کے مہینوں میں، حج کی راتوں میں، حج کے قابلِ احترام (مخصوص موسم میں) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ روانہ ہوئے۔ جب ہم نے سرف کے مقام پر پڑاؤ کیا، تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اصحاب کے پاس تشریف لے گئے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جس شخص کے پاس قربانی کا جانور موجود نہ ہو اور وہ اسے عمرے میں تبدیل کرنا چاہتا ہو وہ ایسا کر لے اور جس کے پاس قربانی کا جانور موجود ہو وہ ایسا نہیں کر سکتا۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ کچھ لوگوں نے اسے موقوف کر دیا اور کچھ لوگوں نے اسے ترک کر دیا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ جہاں تک نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور کچھ افراد کا تعلق تھا جو صاحبِ حیثیت تھے اور ان کے ساتھ قربانی کا جانور موجود تھا، وہ عمرہ (کر کے احرام نہیں کھول) سکتے تھے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے، تو میں رو رہی تھی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”تم کیوں رو رہی ہو؟“ میں نے عرض کی کہ میں نے آپ کا وہ فرمان سنا ہے، جو آپ نے اپنے اصحاب سے ارشاد فرمایا ہے، لیکن میں عمرہ نہیں کر سکتی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”کیوں، تمہیں کیا ہوا؟“ میں نے عرض کی کہ میں نماز ادا نہیں کر سکتی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہیں کوئی نقصان نہیں ہے۔ تم آدم کی بیٹیوں سے تعلق رکھنے والی ایک عورت ہو۔ اللہ تعالیٰ نے تم پر بھی وہی چیز مقرر کی ہے، جو ان پر مقرر کی ہے۔ تم اپنے حج کو جاری رکھو، عنقریب تم اسے (یعنی عمرے کو) پا لو گی۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ہم لوگ حج کے لیے روانہ ہوئے، یہاں تک کہ ہم منیٰ آ گئے اور میں پاک ہو گئی۔ پھر میں منیٰ سے نکلی، میں نے بیت اللہ کا طوافِ افاضہ کیا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ پھر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ آخری روانگی میں نکلی، یہاں تک کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وادیِ محصب میں پڑاؤ کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ہم نے بھی پڑاؤ کیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عبدالرحمن بن ابوبکر رضی اللہ عنہ کو بلایا اور ارشاد فرمایا: ”تم اپنی بہن کو حرم سے باہر لے جاؤ، اسے عمرے کا احرام بندھوا لاؤ۔ تم دونوں فارغ ہو کر یہاں آ جانا، میں تم دونوں کا انتظار کروں گا، جب تک تم آ نہیں جاتے۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ اس موقع پر میں نکلی، یہاں تک کہ میں (عمرہ کر کے فارغ ہو گئی) اور میں طواف کر کے فارغ ہوئی، پھر میں سحری کے وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم لوگ فارغ ہو گئے ہو؟“ میں نے جواب دیا کہ جی ہاں۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ساتھیوں کو روانگی کا حکم دیا۔ ہم نے روانگی کی تیاری کر لی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر بیت اللہ کے پاس سے، صبح کی نماز سے پہلے ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا طواف کیا، پھر (مکہ مکرمہ سے) تشریف لے گئے اور مدینہ منورہ کی طرف چل پڑے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3918]

3919

Sahih Ibn Hibban #3919

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا الْمُلائِيُّ ، وَيَحْيَى بْنُ آدَمَ ، قَالا : حَدَّثَنَا زُهَيْرُ أَبُو خَيْثَمَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُهِلِّينَ بِالْحَجِّ ، وَمَعَنَا النِّسَاءُ وَالذَّرَارِيُّ ، فَلَمَّا قَدِمْنَا مَكَّةَ طُفْنَا بِالْبَيْتِ ، وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ، فَقَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ هَدْيٌ فَلْيَحِلَّ " ، فَقُلْنَا : أَيُّ الْحِلِّ ؟ ، فَقَالَ : " الْحِلُّ كُلُّهُ " ، فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ التَّرْوِيَةِ أَهْلَلْنَا بِالْحَجِّ ، قَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اشْتَرِكُوا فِي الإِبِلِ وَالْبَقَرِ ، كُلُّ سَبْعَةٍ فِي بَدَنَةٍ " ، قَالَ : فَجَاءَ سُرَاقَةُ بْنُ مَالِكِ بْنِ جُعْشُمٍ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَرَأَيْتَ عُمْرَتَنَا هَذِهِ لِعَامِنَا هَذَا أَمْ لِلأَبَدِ ؟ ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لا بَلْ لِلأَبَدِ " ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، بَيِّنْ لَنَا دِينَنَا ، كَأَنَّمَا خُلِقْنَا الآنَ ، أَرَأَيْتَ الْعَمَلَ الَّذِي نَعْمَلُ بِهِ ، أَفِيمَا جَفَّتْ بِهِ الأَقْلامُ ، وَجَرَتْ بِهِ الْمَقَادِيرُ ، أَمْ مِمَّا نَسْتَقْبِلُ ؟ ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لا بَلْ فِيمَا جَفَّتْ بِهِ الأَقْلامُ ، وَجَرَتْ بِهِ الْمَقَادِيرُ " ، قُلْتُ : فَفِيمَ الْعَمَلُ ؟ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اعْمَلُوا ، فَكُلٌّ مُيَسَّرٌ "، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : فِي هَذِهِ الأَخْبَارِ الَّتِي ذَكَرْنَاهَا فِي إِفْرَادِ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْحَجَّ ، وَقِرَانِهِ وَتَمَتُّعِهِ بِهِمَا مِمَّا تَنَازَعَ فِيهَا الأَئِمَّةُ مِنْ لَدُنِ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى يَوْمِنَا هَذَا ، وَيُشَنِّعُ بِهِ الْمُعَطِّلَةُ ، وَأَهْلُ الْبِدَعِ عَلَى أَئِمَّتِنَا ، وَقَالُوا : رَوَيْتُمْ ثَلاثَةَ أَحَادِيثَ مُتَضَادَّةٌ فِي فِعْلٍ وَاحِدٍ ، وَرَجُلٍ وَاحِدٍ ، وَحَالَةٍ وَاحِدَةٍ ، وَزَعَمْتُمْ أَنَّهَا ثَلاثَتُهَا صِحَاحٌ مِنْ جِهَةِ النَّقْلِ ، وَالْعَقْلُ يَدْفَعُ مَا قُلْتُمْ ، إِذْ مُحَالٌ أَنَّ يَكُونَ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ كَانَ مُفْرَدًا قَارِنًا مُتَمَتِّعًا ، فَلَمَّا صَحَّ أَنَّهُ لَمْ يَكُنْ فِي حَالَةٍ وَاحِدَةٍ قَارِنًا مُتَمَتِّعًا مُفْرَدًا ، صَحَّ أَنَّ الأَخْبَارَ يَجِبُ أَنْ يُقْبَلَ مِنْهَا مَا يُوَافِقُ الْعَقْلَ ، وَمَهْمَا جَازَ لَكُمْ أَنْ تَرُدُّوا خَبَرًا يَصِحُّ ، ثُمَّ لا تَسْتَعْمِلُوهُ ، أَوْ تُؤْثِرُوا غَيْرَهُ عَلَيْهِ كَمَا فَعَلْتُمْ فِي هَذِهِ الأَخْبَارِ الثَّلاثَةِ ، يَجُوزُ لِخِصْمِكُمْ أَنْ يَأْخُذَ مَا تَرَكْتُمْ ، وَيَتْرُكَ مَا أَخَذْتُمْ ، وَلَوْ تَمَلَّقَ قَائِلٌ هَذَا فِي الْخَلْوَةِ إِلَى الْبَارِئِ جَلَّ وَعَلا ، وَسَأَلَهُ التَّوْفِيقَ لإِصَابَةِ الْحَقِّ ، وَالْهِدَايَةِ لِطَلَبِ الرُّشْدِ فِي الْجَمْعِ بَيْنَ الأَخْبَارِ ، وَنَفْيِ التَّضَادِ عَنِ الآثَارِ ، لَعَلِمَ بِتَوْفِيقِ الْوَاحِدِ الْجَبَّارِ ، أَنَّ أَخْبَارَ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لا تَضَادَ بَيْنَهَا وَلا تَهَاتُرَ ، وَلا يُكَذِّبُ بَعْضُهَا بَعْضًا إِذَا صَحَّتُ مِنْ جِهَةِ النَّقْلِ ، لَعَرِفَهَا الْمُخَصُوصُونَ فِي الْعِلْمِ ، الذَّابُّونَ عَنِ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْكَذِبَ ، وَعَنْ سُنَّتِهِ الْقَدَحَ ، الْمُؤْثِرُونَ مَا صَحَّ عَنْهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى قَوْلِ مَنْ بَعْدَهُ مِنْ أُمَّتِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَالْفَصْلُ بَيْنَ الْجَمْعِ فِي هَذِهِ الأَخْبَارِ ، أَنَّ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَهَلَّ بِالْعُمْرَةِ حَيْثُ أَحْرَمَ ، كَذَلِكَ قَالَهُ مَالِكٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، فَخَرَجَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُهِلُّ بِالْعُمْرَةِ وَحْدَهَا ، حَتَّى بَلَغَ سَرِفَ ، أَمَرَ أَصْحَابَهُ بِمَا ذَكَرْنَا فِي خَبَرِ أَفْلَحَ بْنِ حُمَيْدٍ ، فَمِنْهُمْ مَنْ أَفْرَدَ حِينَئِذٍ ، وَمِنْهُمْ مَنْ أَقَامَ عَلَى عُمْرَتِهِ ، وَلَمْ يَحِلَّ ، فَأَهَلَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهِمَا مَعًا حِينَئِذٍ إِلَى أَنْ دَخَلَ مَكَّةَ ، وَكَذَلِكَ أَصْحَابُهُ الَّذِينَ سَاقُوا مَعَهُمُ الْهَدْيَ ، وَكُلُّ خَبَرٍ رُوِيَ فِي قِرَانِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، إِنَّمَا كَانَ ذَلِكَ حَيْثُ رَأَوْهُ يُهِلُّ بِهِمَا بَعْدَ إِدْخَالِهِ الْحَجَّ عَلَى الْعُمْرَةِ إِلَى أَنْ دَخَلَ مَكَّةَ ، فَلَمَّا دَخَلَ مَكَّةَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَطَافَ وَسَعَى ، أَمَرَ ثَانِيًا مَنْ لَمْ يَكُنْ سَاقٍ الْهَدْيَ ، وَكَانَ قَدْ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ أَنْ يَتَمَتَّعَ وَيَحِلَّ ، وَكَانَ يَتَلَهَّفُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى مَا فَاتَهُ مِنَ الإِهْلالِ ، حَيْثُ كَانَ سَاقٍ الْهَدْيَ ، حَتَّى إِنَّ بَعْضَ أَصْحَابِهِ مِمَنْ لَمْ يَسُقِ الْهَدْيَ لَمْ يَكُونُوا يُحِلُّونَ حَيْثُ رَأَوَا الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَحِلَّ ، حَتَّى كَانَ مِنْ أَمْرِهِ مَا وَصَفْنَاهُ مِنْ دُخُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى عَائِشَةَ وَهُوَ غَضْبَانُ ، فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ التَّرْوِيَةِ ، وَأَحْرَمَ الْمُتَمَتِّعُونَ خَرَجَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى مِنًى ، وَهُوَ يُهِلُّ بِالْحَجِّ مُفْرَدًا ، إِذِ الْعُمْرَةُ الَّتِي قَدْ أَهَلَّ بِهَا فِي أَوَّلِ الأَمْرِ قَدِ انْقَضَتْ عِنْدَ دُخُولِهِ مَكَّةَ بِطَوَافِهِ بِالْبَيْتِ ، وَسَعْيِهِ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ، فَحَكَى ابْنُ عُمَرَ ، وَعَائِشَةُ : " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَفْرَدَ الْحَجَّ " أَرَادَ مِنْ خُرُوجِهِ إِلَى مِنًى مِنْ مَكَّةَ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَكُونَ بَيْنَ هَذِهِ الأَخْبَارِ تَضَادٌ أَوْ تَهَاتُرٌ ، وَفَّقَنَا اللَّهُ لِمَا يُقَرِّبُنَا إِلَيْهِ ، وَيَزْلِفُنَا لَدَيْهِ مِنَ الْخُضُوعِ عِنْدَ وُرُودِ السُّنَنِ إِذَا صَحَّتْ ، وَالانْقِيَادِ لِقُبُولِهَا ، وَاتِّهَامِ الأَنْفُسِ ، وَإِلْزَاقِ الْعَيْبِ بِهَا إِذَا لَمْ نُوَفَّقْ لإِدْرَاكِ حَقِيقَةِ الصَّوَابِ دُونَ الْقَدْحِ فِي السُّنَنِ ، وَالتَّعَرُّجِ عَلَى الآرَاءِ الْمَنْكُوسَةِ ، وَالْمَقَايَسَاتِ الْمَعْكُوسَةِ ، إِنَّهُ خَيْرُ مَسْئُولٍ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم لوگ حج کا تلبیہ پڑھتے ہوئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ روانہ ہوئے۔ ہمارے ساتھ خواتین اور بچے بھی تھے جب ہم مکہ آئے، تو ہم نے بیت اللہ کا طواف کیا اور صفا و مروہ کی سعی کی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا: ”جس شخص کے ساتھ قربانی کا جانور موجود نہ ہو وہ احرام کھول دے۔“ ہم نے کہا: کس حد تک حلال ہونا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مکمل طور پر۔“ جب تلبیہ کا دن آیا، تو ہم نے حج کا احرام باندھ لیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا: ”تم لوگ ایک اونٹ اور ایک گائے میں حصے دار بن جاؤ۔ سات آدمیوں کی طرف سے ایک قربانی ہو۔“ راوی کہتے ہیں: سیدنا سراقہ بن مالک رضی اللہ عنہ آئے انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہمارے اس عمرے کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ کیا یہ اس سال کے لیے مخصوص ہے یا ہمیشہ کے لیے ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جی نہیں بلکہ ہمیشہ کے لیے ہے۔“ انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ ہمارے سامنے دینی احکام کو یوں بیان کیجئے جس طرح ہم ابھی پیدا ہوئے ہیں۔ عمل کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے، جو آدمی کرتا ہے کیا اس بارے میں قلم خشک ہو چکا ہے اور تقدیر کا فیصلہ جاری ہو چکا ہے یا یہ ازسر نو کچھ ہوتا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جی نہیں بلکہ اس بارے میں قلم خشک ہو چکے ہیں اور تقدیر کا فیصلہ جاری ہو چکا ہے۔“ میں نے دریافت کیا: پھر عمل کیوں کیا جائے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم عمل کرو، کیونکہ ہر شخص کے لیے وہ چیز آسان کر دی جاتی ہے (جس کے لیے اسے پیدا کیا گیا ہے)۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) وہ روایات جو ہم نے ذکر کی ہیں، ان میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حج افراد کرنے، یا حج تمتع یا حج قران کرنے کا تذکرہ ہے۔ اس بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس سے لے کر ہمارے آج کے دن تک ائمہ کے درمیان اختلاف رہا ہے۔ معطلہ فرقے کے افراد اور دیگر اہل بدعت اس حوالے سے ہمارے ائمہ پر طعن و تشنیع کرتے ہوئے یہ کہتے ہیں: آپ لوگوں نے ایک ہی فعل، ایک ہی فرد اور ایک ہی حالت کے بارے میں تین متضاد روایات نقل کی ہیں اور آپ لوگ اس بات کے قائل ہیں کہ نقل کے اعتبار سے یہ تینوں روایات صحیح ہیں حالانکہ عقل آپ کے موقف کو تسلیم نہیں کرتی کیونکہ یہ بات ناممکن ہے کہ حجۃ الوداع کے موقع پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حج افراد بھی کیا ہو، حج قران بھی کیا ہو اور حج تمتع بھی کیا ہو۔ تو جب یہ بات درست (طور پر ثابت) ہو گئی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک ہی حالت میں حج قران، تمتع اور افراد کرنے والے نہیں تھے تو یہ بات بھی ثابت ہو جائے گی کہ ان روایات کو قبول کرنا ضروری ہے جو عقل کے موافق ہوں۔ بعض اوقات آپ کے لیے یہ بات جائز ہوتی ہے کہ آپ کسی صحیح حدیث کو اختیار نہ کریں، آپ اس پر عمل نہ کریں، یا کسی دوسری روایت کو اس پر ترجیح دیں، جس طرح آپ نے ان تین روایات کے بارے میں کیا ہے، تو پھر آپ کے مخالف فریق کے لیے بھی یہ بات جائز ہو گی کہ وہ اس روایت کو اختیار کر لے جسے آپ نے ترک کر دیا اور اس روایت کو ترک کر دے جسے آپ نے اختیار کیا ہو۔ (ابن حبان رحمہ اللہ کہتے ہیں) اس بات کا قائل شخص اگر خلوت میں اپنے پروردگار کی بارگاہ میں گریہ و زاری کرتا اور اس سے یہ دعا مانگتا کہ (اللہ تعالیٰ اسے) حق اور ہدایت تک پہنچا دے، تاکہ وہ شخص ”ایک“ اور ”غالب“ (معبود) کی عطا کردہ توفیق کے ذریعے روایات کے درمیان تطبیق دینے، اور آثار میں تضاد کی نفی کرنے کے لیے رہنمائی کا طلب گار ہوتا، (تو اسے پتہ چل جاتا کہ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول روایات میں کوئی تضاد اور اختلاف نہیں پایا جاتا ہے اور نہ ہی ان میں سے کوئی روایت کسی دوسری روایت کی تکذیب کرتی ہے جبکہ وہ نقل کے اعتبار سے مستند طور پر ثابت ہو، جس سے علم حدیث کے ماہرین آگاہ ہوں اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف (منسوب کی جانے والی) جھوٹی باتوں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت (پر کیے جانے والے اعتراضات کو) پرے کرنے والے (حضرات محدثین) جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مستند طور پر منقول حدیث کو آپ کے بعد آنے والے آپ کی امت کے کسی بھی دوسرے شخص کے قول پر ترجیح دیتے ہیں۔ ان روایات کے درمیان تطبیق دینے کی صورت یوں ہو گی۔ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے احرام باندھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمرہ کا تلبیہ پڑھنا شروع کیا۔ امام مالک رحمہ اللہ نے زہری، عروہ کے حوالے سے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے اس طرح نقل کیا ہے۔ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم روانہ ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم صرف عمرہ کا تلبیہ پڑھتے رہے، یہاں تک کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم ”سرف“ کے مقام پر پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب کو وہ حکم دیا، جس کا ذکر ہم نے افلح بن حمید کے حوالے سے منقول روایت میں کیا ہے۔ تو اس وقت صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے بعض حضرات نے حج افراد کا تلبیہ پڑھنا شروع کیا، بعض حضرات اپنے عمرہ کے تلبیہ پر برقرار رہے، (انہوں نے کوئی تبدیلی نہیں کی) اس موقع پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے (حج اور عمرہ) دونوں کا ایک ساتھ تلبیہ پڑھا۔ یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں داخل ہو گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے وہ اصحاب جو اپنے ساتھ قربانی کا جانور لے کر آئے تھے ان کی بھی یہی حالت تھی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حج قران کے بارے میں جو بھی روایات نقل کی گئی ہیں، یہ اس وقت کے بارے میں ہیں جب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو عمرہ کے ساتھ حج کو شامل کر کے ان دونوں کا ایک ساتھ تلبیہ پڑھتے ہوئے دیکھا۔ یہاں تک کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ مکرمہ تشریف لے آئے۔ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ تشریف لے آئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (بیت اللہ کا) طواف کر لیا (صفا و مروہ کی) سعی کر لی، تو جو لوگ قربانی کا جانور ساتھ نہیں لائے تھے اور عمرہ کا تلبیہ پڑھتے رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دوسری مرتبہ یہ حکم دیا کہ وہ تمتع کر کے احرام کھول دیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ قربانی کا جانور ساتھ لانے کی وجہ سے آپ کا تلبیہ رہ گیا، یہاں تک کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعض اصحاب جو اپنے ساتھ قربانی کا جانور نہیں لائے تھے، انہوں نے احرام ختم نہیں کیا کیونکہ انہوں نے یہ دیکھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے احرام ختم نہیں کیا۔ یہاں تک کہ یہ صورتحال ہوئی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم غصے کے عالم میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لائے جس کا ذکر ہم کر چکے ہیں۔ جب ترویہ کا دن آیا تو تمتع کرنے والوں نے (نئے سرے سے حج کا) احرام باندھا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم منی کی طرف روانہ ہوئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت صرف حج کا تلبیہ پڑھ رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم آغاز میں جو عمرہ کا تلبیہ پڑھ رہے تھے، وہ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مکہ مکرمہ تشریف لانے کے بعد خانہ کعبہ کا طواف کرنے، صفا و مروہ کی سعی کرنے سے ادا ہو چکا تھا۔ سیدنا عبداللہ بن عمر اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہما نے جو یہ بات بیان کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف حج (کا تلبیہ پڑھا) اس سے ان کی مراد وہ وقت ہو گا جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ مکرمہ سے منی کی طرف تشریف لے گئے تھے۔ اس طرح ان روایات میں کوئی تضاد اور اختلاف باقی نہیں رہے گا۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس بات کی توفیق عطا کرے جو اس کی بارگاہ کا قرب دلاتی ہے اور اس کے قریب کرتی ہے، (یعنی) جب احادیث مستند طور پر ثابت ہو جائیں، تو ان کے سامنے جھک جائیں، اور انہیں قبول کرنے کے لیے سر تسلیم خم کر دیں اور جب ہمیں صحیح حقیقت کے ادراک کی توفیق نصیب نہ ہو تو ہم احادیث پر اعتراض کرنے، غلط آراء اور غلط قیاس کی پیروی کرنے کی بجائے اپنے آپ پر الزام عائد کریں اور اپنے آپ کے ساتھ عیب کو لاحق کریں (یعنی اسے اپنی ذاتی خامی سمجھیں) بے شک وہ (یعنی اللہ تعالیٰ) سب سے بہتر مسئول ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3919]

3920

Sahih Ibn Hibban #3920

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، حَدَّثَنَا الْمُقْرِئُ ، حَدَّثَنَا حَيْوَةُ ، وَذَكَرَ أَبُو يَعْلَى آخَرَ مَعَهُ ، قَالا : سَمِعْنَا يَزِيدَ بْنَ أَبِي حَبِيبٍ ، يَقُولُ : حَدَّثَنِي أَبُو عِمْرَانَ ، أَنَّهُ حَجَّ مَعَ مَوَالِيهِ ، قَالَ : فَأَتَيْتُ أُمَّ سَلَمَةَ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ ، فَقُلْتُ : يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ ، إِنِّي لَمْ أَحُجَّ قَطُّ فَبِأَيِّهِمَا أَبْدَأُ بِالْعُمْرَةِ ، أَمْ بِالْحَجِّ ؟ ، قَالَتِ : ابْدَأْ بِأَيِّهِمَا شِئْتَ ، قَالَ : ثُمَّ أَتَيْتُ صَفِيَّةَ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ ، فَسَأَلْتُهَا ، فَقَالَتْ لِي مِثْلَ مَا قَالَتْ ، قَالَ : ثُمَّ جِئْتُ أُمَّ سَلَمَةَ ، فَأَخْبَرْتُهَا بِقَوْلِ صَفِيَّةَ ، فَقَالَتْ لِي أُمُّ سَلَمَةَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : يَا آلَ مُحَمَّدٍمَنْ حَجَّ مِنْكُمْ فَلْيُهِلَّ بِعُمْرَةٍ فِي حَجَّةٍ "، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : أَبُو عِمْرَانَ هَذَا اسْمُهُ أَسْلَمُ أَبُو عِمْرَانَ مِنْ ثِقَاتِ أَهْلِ مِصْرَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابوعمران بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے اپنے غلاموں کے ہمراہ حج کیا، وہ بیان کرتے ہیں: میں اُم المؤمنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا، میں نے عرض کی: اے ام المؤمنین! میں نے کبھی حج نہیں کیا تھا، تو کیا میں عمرے سے آغاز کروں یا پہلے حج کر لوں؟ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: تم ان دونوں میں سے جسے چاہو پہلے کر لو۔ وہ بیان کرتے ہیں: پھر میں اُم المؤمنین سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا، میں نے ان سے اس بارے میں دریافت کیا، انہوں نے بھی مجھے وہی جواب دیا جو سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے دیا تھا۔ وہ کہتے ہیں: پھر میں سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا، میں نے انہیں سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کے بیان کے بارے میں بتایا، تو سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے مجھ سے فرمایا: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”اے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے گھر والو! تم میں سے جو شخص حج کرے وہ حج میں عمرے کا بھی ذکر کرے (یعنی تلبیہ پڑھتے ہوئے ایسا کرے)۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) ابوعمران نامی راوی کا نام اسلم ابوعمران ہے اور یہ مصر سے تعلق رکھنے والے ثقہ راوی ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3920]

3921

Sahih Ibn Hibban #3921

أَخْبَرَنَا ابْنُ سَلْمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَطَاءٌ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : أَهْلَلْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحَجِّ خَالِصًا ، لا نَخْلِطُ بِغَيْرِهِ ، فَقَدِمْنَا مَكَّةَ لأَرْبَعِ لَيَالٍ خَلَوْنَ مِنْ ذِي الْحِجَّةِ ، فَلَمَّا طُفْنَا بِالْبَيْتِ ، وَسَعَيْنَا بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ، وَأَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَجْعَلَهَا عَمْرَةً ، وَأَنْ نَحِلَّ إِلَى النِّسَاءِ ، فَقُلْنَا بَيْنَنَا : لَيْسَ بَيْنَنَا وَبَيْنَ عَرَفَةَ إِلا خَمْسٌ ، فَنَخْرُجُ إِلَيْهَا ، وَمَذَاكِيرُنَا تَقْطُرُ مَنِيًّا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنِّي لأَبَرُّكُمْ وَأَصْدَقُكُمْ ، وَلَوْلا الْهَدْيُ لأَحْلَلْتُ " ، فَقَامَ سُرَاقَةُ بْنُ مَالِكٍ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَمْتِعَتُنَا هَذِهِ لِعَامِنَا هَذَا أَمْ لِلأَبَدِ ؟ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " بَلْ لِلأَبَدِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ صرف حج کا تلبیہ پڑھا، اس میں کوئی دوسری چیز شامل نہیں کی۔ ذوالحجہ کی چار تاریخ کو ہم لوگ مکہ آ گئے۔ جب ہم نے بیت اللہ کا طواف کر لیا اور صفا و مروہ کی سعی کر لی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ہم اسے عمرے میں تبدیل کر لیں اور ہم اپنی خواتین کے لیے حلال ہو جائیں۔ ہم نے آپس میں یہ کہا: ہمارے اور عرفہ میں صرف پانچ دن باقی رہ گئے ہیں، ہم جب عرفہ کی طرف جائیں گے، تو ہماری شرمگاہوں سے منی کے قطرے ٹپک رہے ہوں گے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میں تم سب سے زیادہ نیکو کار اور تم سب سے زیادہ سچا ہوں۔ اگر قربانی کا جانور ساتھ نہ ہوتا تو میں بھی احرام کھول دیتا۔“ سیدنا سراقہ بن مالک رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے، انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا یہ سہولت اس سال کے لیے ہے یا ہمیشہ کے لیے ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلکہ ہمیشہ کے لیے ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3921]

3922

Sahih Ibn Hibban #3922

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَيْوَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ يَزِيدَ بْنَ أَبِي حَبِيبٍ ، يَقُولُ : حَدَّثَنِي أَبُو عِمْرَانَ ، ، أَنَّهُ حَجَّ مَعَ مَوَالِيهِ ، قَالَ : فَأَتَيْتُ أُمَّ سَلَمَةَ ، فَقُلْتُ : يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ إِنِّي لَمْ أَحُجَّ قَطُّ ، فَبِأَيِّهِمَا أَبْدَأُ ، بِالْحَجِّ أَمْ بِالْعُمْرَةِ ؟ ، فَقَالَتْ : إِنْ شِئْتَ فَاعْتَمِرْ قَبْلَ أَنْ تَحُجَّ ، وَإِنْ شِئْتَ بَعْدَ أَنْ تَحُجَّ ، فَذَهَبْتُ إِلَى صَفِيَّةَ ، فَقَالَتْ لِي مِثْلَ ذَلِكَ ، فَرَجَعْتُ إِلَى أُمِّ سَلَمَةَ ، فَأَخْبَرْتُهَا بِقَوْلِ صَفِيَّةَ ، فَقَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : يَا آلَ مُحَمَّدٍمَنْ حَجِّ مِنْكُمْ فَلْيُهِلَّ بِعُمْرَةٍ فِي حَجٍّ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابوعمران بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے اپنے غلاموں کے ہمراہ حج کیا، وہ بیان کرتے ہیں: میں سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا۔ میں نے عرض کی: اے ام المؤمنین! میں نے پہلے حج نہیں کیا، تو اب میں پہلے حج کروں یا عمرہ کروں؟ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: اگر تم چاہو، تو حج کرنے سے پہلے عمرہ کر لو اور اگر چاہو، تو حج کرنے کے بعد عمرہ کر لینا، پھر میں سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا۔ انہوں نے بھی مجھ سے یہی بات ارشاد فرمائی، میں واپس سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا۔ انہیں سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کے بیان کے بارے میں بتایا، تو سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے بتایا: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر والو! تم میں سے جو شخص حج کرے وہ حج میں عمرے کا بھی تلبیہ پڑھے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3922]

3923

Sahih Ibn Hibban #3923

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ بِعَسْقَلانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نَوْفَلٍ أَنَّهُ سَمِعَ الضَّحَّاكَ بْنَ قَيْسٍ فِي حَجَّةِ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ ، يَقُولُ :لا يَفْتِي بِالتَّمَتُّعِ بِالْعُمْرَةِ إِلَى الْحَجِّ إِلا مَنْ جَهِلَ أَمْرَ اللَّهِ جَلَّ وَعَلا ، فَقَالَ لَهُ سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ : بِئْسَ مَا قُلْتُ يَا ابْنَ أَخِي ، فَوَاللَّهِ لَقَدْ فَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَفَعَلْنَاهُ مَعَهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

محمد بن عبداللہ بیان کرتے ہیں، انہوں نے ضحاک بن قیس کو سنا، یہ اس موقع کی بات ہے جب سیدنا معاویہ بن ابوسفیان رضی اللہ عنہما (اپنے عہد خلافت میں) حج کے لیے آئے تھے، ضحاک یہ کہہ رہے تھے: حج کے ہمراہ عمرہ کو شامل کرنے کی سہولت کا فتویٰ وہ شخص دے گا جو اللہ تعالیٰ کے حکم سے ناواقف ہو گا، اس پر سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: میرے بھتیجے! تم نے بہت غلط بات کہی ہے، اللہ کی قسم! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا کیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ہم نے بھی ایسا کیا تھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3923]

3924

Sahih Ibn Hibban #3924

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مَعْشَرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحِيمِ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : خَرَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُهِلِّينَ بِالْحَجِّ ، فَقَدِمْنَا مَكَّةَ ، فَطُفْنَا بِالْبَيْتِ ، وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ، ثُمَّ قَامَ فِينَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : مَنْ لَمْ يَكُنْ مِنْكُمْ سَاقَ هَدْيًا فَلْيَحْلِلْ وَلْيَجْعَلْهَا عَمْرَةً " ، فَقُلْنَا : حِلٌّ مِنْ ذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ ، قَالَ : " الْحِلُّ كُلُّهُ " ، فَوَاقَعْنَا النِّسَاءَ ، وَلَبِسْنَا ، وَتَطَيَّبْنَا بِالطِّيبِ ، فَقَالَ أُنَاسٌ : مَا هَذَا الأَمْرُ ، نَأْتِي عَرَفَةَ ، وَأُيُورُنَا تَقْطُرُ مَنِيًّا ؟ ، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَامَ فِينَا كَالْمُغْضَبِ ، فَقَالَ : " وَاللَّهِ لَقَدْ عَلِمْتُمْ أَنِّي أَتْقَاكُمْ ، وَلَوْ عَلِمْتُ أَنَّكُمْ تَقُولُونَ هَذَا مَا سُقْتُ الْهَدْيَ ، فَاسْمَحُوا بِمَا تُؤْمَرُونَ بِهِ " ، فَقَامَ سُرَاقَةُ بْنُ مَالِكِ بْنِ جُعْشُمٍ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، عُمْرَتُنَا هَذِهِ الَّتِي أَمَرْتَنَا بِهَا أَلِعَامِنَا هَذَا أَمْ لِلأَبَدِ ؟ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " بَلْ لِلأَبَدِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم لوگ حج کا تلبیہ پڑھتے ہوئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ روانہ ہوئے اور مکہ آ گئے، ہم نے بیت اللہ کا طواف کیا، صفا اور مروہ کی سعی کی، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان کھڑے ہوئے اور ارشاد فرمایا: ”تم میں سے جس شخص کے ساتھ قربانی کا جانور نہیں ہے وہ احرام کھول دے اور اسے عمرے میں تبدیل کر دے۔“ ہم نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم کس حد تک احرام ختم کریں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مکمل طور پر۔“ (راوی کہتے ہیں) ہم نے اپنی بیویوں کے ساتھ صحبت بھی کی، سلے ہوئے کپڑے بھی پہن لیے، خوشبو بھی لگا لی، کچھ لوگوں نے یہ بات کہی: اب تو یہ ہو گا، جب ہم عرفہ کی طرف جائیں گے، تو ہماری شرمگاہوں سے منی کے قطرے ٹپک رہے ہوں گے۔ اس بات کی اطلاع نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ملی، آپ ہمارے درمیان یوں کھڑے ہوئے جیسے غصے کے عالم میں ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اللہ کی قسم! تم لوگ یہ بات جانتے ہو کہ میں تم سب سے زیادہ پرہیزگار ہوں اور مجھے پتہ چلا ہے کہ تم نے یہ بات کہی ہے، اگر میں نے قربانی کا جانور ساتھ نہ لیا ہوتا (تو میں بھی احرام کھول دیتا)، تمہیں جس چیز کا حکم دیا جائے اس کی پیروی کیا کرو۔“ سیدنا سراقہ بن مالک رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے، انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! عمرے کے بارے میں حکم اس سال کے لیے خاص ہے یا ہمیشہ کے لیے ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلکہ ہمیشہ کے لیے ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3924]

3925

Sahih Ibn Hibban #3925

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنْ حَفْصَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَا شَأْنُ النَّاسِ ، حَلُّوا وَلَمْ تَحِلَّ أَنْتَ مِنْ عُمْرَتِكَ ؟ ، فَقَالَ : إِنِّي لَبَّدْتُ رَأْسِي ، وَقَلَّدْتُ هَدْيِي ، فَلا أَحِلُّ حَتَّى أَنْحَرَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی کہ کیا وجہ ہے کہ لوگوں نے احرام کھول دیا ہے اور آپ نے عمرے کے بعد احرام نہیں کھولا؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے اپنے سر کے بالوں کو جمایا ہوا ہے اور قربانی کا جانور ساتھ رکھا ہوا ہے، اس لیے جب تک میں قربانی نہیں کرتا، اس وقت تک احرام نہیں کھولوں گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3925]

3926

Sahih Ibn Hibban #3926

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حِبَّانُ بْنُ مُوسَى ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ ، فَمِنَّا مَنْ أَهَلَّ بِحَجٍّ ، وَمِنَّا مَنْ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ وَأَهْدَى ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ ، فَلَمْ يُهْدِ فَلْيَحِلَّ ، وَمَنْ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ فَأَهْدَى ، فَلا يَحِلَّ ، وَمَنْ أَهَلَّ بِحَجٍّ ، فَلْيُتِمَّ حَجَّهُ "، قَالَتْ عَائِشَةُ : وَكُنْتُ مِمَّنْ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ حجۃ الوداع کے موقع پر ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ روانہ ہوئے، ہم میں سے کوئی صرف حج کا تلبیہ پڑھ رہا تھا اور کوئی صرف عمرے کا تلبیہ پڑھ رہا تھا اور اس نے قربانی کا جانور بھی ساتھ رکھا ہوا تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جو شخص عمرے کا تلبیہ پڑھ رہا ہے اور اس نے قربانی کا جانور ساتھ نہیں رکھا وہ احرام کھول دے اور جو شخص عمرے کا تلبیہ پڑھ رہا تھا اور اس نے قربانی کا جانور ساتھ رکھا ہوا ہے، تو وہ احرام نہ کھولے، اور جو شخص حج کا تلبیہ پڑھ رہا تھا وہ اپنے حج کو مکمل کرے۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میں ان لوگوں میں شامل تھی جو عمرے کا تلبیہ پڑھ رہے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3926]

3927

Sahih Ibn Hibban #3927

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ ، فَأَهْلَلْتُ بِعُمْرَةٍ ، وَلَمْ أَكُنْ سُقْتُ الْهَدْيَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ كَانَ مِنْكُمْ قَدْ سَاقَ هَدْيًا ، فَلْيُهِلَّ بِحَجٍّ مَعَ عُمْرَتِهِ ، ثُمَّ لا يَحِلَّ حَتَّى يَحِلَّ مِنْهُمَا جَمِيعًا " ، قَالَتْ : فَحِضْتُ لَيْلَةَ عَرَفَةَ ، فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ أَصْنَعُ فِي حَجَّتِي ؟ ، قَالَ : " امْتَشِطِي ، وَدَعِي الْعُمْرَةَ وَأَهِلِّي بِالْحَجِّ "، قَالَتْ : فَحَجَجْتُ ، فَبَعَثَ مَعِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، فَأَعْمَرَنِي مَكَانَ عُمْرَتِي الَّتِي تَرَكْتُهَا"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: حجۃ الوداع کے موقع پر ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ روانہ ہوئے۔ میں نے عمرے کا تلبیہ پڑھا، میں قربانی کا جانور ساتھ نہیں لے جا سکی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم میں سے جو شخص قربانی کا جانور ساتھ لایا ہو اسے عمرے کے ہمراہ حج کا تلبیہ بھی پڑھنا چاہیے، پھر وہ اس وقت تک احرام نہیں کھولے گا جب تک وہ ان دونوں سے فارغ نہیں ہو جاتا۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: عرفہ کی رات مجھے حیض آ گیا، میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اب میں اپنے حج کے بارے میں کیا کروں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اپنے بالوں میں کنگھی کر لو اور عمرے کو چھوڑ دو اور حج کا تلبیہ پڑھو۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں میں نے حج کر لیا۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عبدالرحمن بن ابو بکر رضی اللہ عنہما کو میرے ہمراہ بھیجا۔ انہوں نے میرے اس عمرے کی جگہ مجھے عمرہ کروایا جو رہ گیا تھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3927]

3928

Sahih Ibn Hibban #3928

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ابْنِ أَخِي عَمْرَةَ ، عَنْ عُمَرَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِخَمْسٍ بَقِينَ مِنْ ذِي الْقَعْدَةِ ، فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَمَنْ كَانَ طَافَ بِالْبَيْتِ أَنْ يَحِلَّ إِلا أَنْ يَكُونَ سَاقَ هَدْيًا " ، قَالَتْ : وَأَتَيْنَا بِلَحْمِ بَقَرٍ ، فَقُلْتُ : مَا هَذَا ؟ ، قَالُوا : " ذَبَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَزْوَاجِهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ جب ذی قعدہ ختم ہونے میں پانچ دن رہ گئے تھے، تو ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ روانہ ہوئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ حکم دیا: ”جو شخص بیت اللہ کا طواف کر چکا ہو وہ احرام کھول دے، البتہ وہ شخص نہیں کھولے گا، جس کے ساتھ قربانی کا جانور موجود ہے۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ہمارے پاس گائے کا گوشت آیا، تو میں نے دریافت کیا: یہ کہاں سے آیا ہے؟ لوگوں نے بتایا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ازواج کی طرف سے (گائے) ذبح کی ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3928]

3929

Sahih Ibn Hibban #3929

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ عُمَرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّهَا ، سَمِعَتْ عَائِشَةَ ، تَقُولُ : خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِخَمْسِ لَيَالٍ بَقِينَ مِنْ ذِي الْقَعْدَةِ ، لا نَرَى إِلا أَنَّهُ الْحَجُّ ، فَلَمَّا دَنَوْنَا مِنْ مَكَّةَ ، أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَمَنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ هَدْيً ، إِذَا طَافَ بِالْبَيْتِ ، وَسَعَى بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ، أَنْ يَحِلَّ " ، قَالَتْ عَائِشَةُ : فَدَخَلَ عَلَيْنَا يَوْمَ النَّحْرِ بِلَحْمِ بَقَرٍ ، فَقُلْتُ : مَا هَذَا ؟ ، قَالَ : " نَحَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَزْوَاجِهِ "، قَالَ يَحْيَى : فَذَكَرْتُ هَذَا الْحَدِيثِ لِلْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، فَقَالَ : أَتَتْكَ وَاللَّهِ بِالْحَدِيثِ عَلَى وَجْهِهِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں، ذیقعدہ ختم ہونے میں پانچ دن باقی رہ گئے تھے، تو ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ روانہ ہوئے ہمارا ارادہ صرف حج کرنے کا تھا جب ہم مکہ کے قریب پہنچے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ حکم دیا کہ: ”جس شخص کے ساتھ قربانی کا جانور موجود نہیں ہے جب وہ بیت اللہ کا طواف کر لے اور صفا اور مروہ کی سعی کر لے، تو احرام کھول دے۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: قربانی کے دن ہمارے پاس گائے کا گوشت آیا، تو میں نے دریافت کیا: یہ کہاں سے آیا ہے؟ لوگوں نے بتایا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ازواج کی طرف سے (گائے) قربان کی ہے۔ یحییٰ نامی راوی کہتے ہیں: میں نے یہ روایت قاسم بن محمد کے سامنے ذکر کی، تو انہوں نے فرمایا: اللہ کی قسم! تم نے حدیث کو صحیح طور پر بیان کیا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3929]

3930

Sahih Ibn Hibban #3930

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ ، يَقُولُ : لَبَّيْكَ عَمْرَةً وَحَجًّا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہتے ہوئے سنا: «لَبَّيْكَ عُمْرَةً وَحَجًّا» ”میں عمرہ اور حج کرنے کے لیے حاضر ہوں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3930]

3931

Sahih Ibn Hibban #3931

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الأَشْعَثُ ، أَنَّ الْحَسَنَ حَدَّثَهُمْ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : قَرَنَ بَيْنَ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ ، وَقَرَنَ الْقَوْمُ مَعَهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حج اور عمرے کو جمع کر دیا تھا اور آپ کے ہمراہ کچھ لوگوں نے بھی ان دونوں کو جمع کیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3931]

3932

Sahih Ibn Hibban #3932

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ بِبَيْتِ الْمَقْدِسِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، وَعُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ مُوسَى ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : إِنَّا عِنْدَ ثَفِنَاتِ نَاقَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ الْمَسْجِدِ ، فَلَمَّا اسْتَوَتْ بِهِ ، قَالَ : لَبَّيْكَ بِحَجَّةٍ وَعُمْرَةٍ مَعًا " ، وَذَلِكَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں اس وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی کے پاس موجود تھا جو مسجد کے پاس موجود تھی، جب وہ کھڑی ہوئی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں حج اور عمرہ ایک ساتھ کرنے کے لیے حاضر ہوں۔“ (راوی کہتے ہیں) یہ حجۃ الوداع کے موقع کی بات ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3932]

3933

Sahih Ibn Hibban #3933

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ الشَّيْبَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ الْحِزَامِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو ضَمْرَةَ ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : لَبَّيْكَ بِعُمْرَةٍ وَحَجَّةٍ "، قَالَ حُمَيْدٌ : حَدَّثَنِي بَكْرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيُّ ، أَنَّهُ ذَكَرَ حَدِيثَ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، لابْنِ عُمَرَ ، فَقَالَ : وَهَلْ أَنَسٌ أَفْرَدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْحَجَّ ، قَالَ : فَذَكَرْتُ قَوْلَ ابْنِ عُمَرَ لأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، فَقَالَ : مَا يَحْسَبُ ابْنُ عُمَرَ إِلا أَنَّا صَبِيَّانِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہتے ہوئے سنا: «لَبَّيْكَ عُمْرَةً وَحَجًّا» ”میں حج اور عمرہ کرنے کے لیے حاضر ہوں۔“ حمید نامی راوی بیان کرتے ہیں: بکر بن عبداللہ مزنی نے مجھے یہ بات بتائی ہے۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی حدیث میں نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو سنائی، تو انہوں نے فرمایا: کیا میں بھول گیا ہوں؟ (میں تو یہ سمجھتا ہوں) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف حج کیا تھا۔ راوی کہتے ہیں: میں نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا یہ قول سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کو بتایا، تو انہوں نے فرمایا: سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما یہ سمجھتے ہیں کہ ہم بچے ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3933]

3934

Sahih Ibn Hibban #3934

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ الْحَجَبِيُّ ، قَالا : حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَفْرَدَ الْحَجَّ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبدالرحمن بن قاسم اپنے والد کے حوالے سے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ”حجِ افراد“ کیا تھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3934]

3935

Sahih Ibn Hibban #3935

أَخْبَرَنَا حَاجِبُ بْنُ أَرْكِينَ بِدِمَشْقَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي السَّفَرِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَفْرَدَ الْحَجَّ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبدالرحمن بن قاسم اپنے والد کے حوالے سے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حجِ افراد کیا تھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3935]

3936

Sahih Ibn Hibban #3936

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي الأَسْوَدِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ نَوْفَلٍ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَفْرَدَ الْحَجَّ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عروہ بن زبیر رحمہ اللہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حج افراد کیا تھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3936]

3937

Sahih Ibn Hibban #3937

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أُسَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي خَالِدُ بْنُ دُرَيْكٍ ، أَنَّ مُطَرِّفًا عَادَ عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ ، فَقَالَ لَهُ : إِنِّي مُحَدِّثُكَ حَدِيثًا ، فَإِنْ بَرِئْتُ مِنْ وَجَعِي ، فَلا تُحَدِّثْ بِهِ ، وَلَوْ مَضَيْتُ لَشَأْنِي ، فَحَدِّثْ بِهِ ، إِنْ بَدَا لَكَ : إِنَّا اسْتَمْتَعْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ لَمْ يَنْهَنَا عَنْهُ حَتَّى مَاتَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، رَأَى رَجُلٌ رَأْيَهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

خالد بن دریک بیان کرتے ہیں کہ مطرف، سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کی عیادت کے لیے گئے، تو سیدنا عمران رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا: میں تمہیں ایک ایسی حدیث بیان کرنے لگا ہوں کہ اگر میں اس بیماری سے صحت یاب ہو گیا تو تم نے وہ حدیث کسی کو بیان نہیں کرنی اور اگر میرا انتقال ہو گیا، تو تمہیں مناسب لگے، تو وہ حدیث بیان کر دینا؛ ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ حج تمتع کیا تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس سے منع نہیں کیا، یہاں تک کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہو گیا، تو ایک صاحب نے اپنی رائے کے مطابق (اس سے منع کیا)۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3937]

3938

Sahih Ibn Hibban #3938

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَيَّانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ يَحْيَى بْنُ كَثِيرٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلالٍ ، عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ لِي عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ : أَلا أُحَدِّثُكَ حَدِيثًا لَعَلَّ اللَّهَ أَنْ يَنْفَعَكَ بِهِ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَجَمَعَ بَيْنَ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ ، وَلَمْ يَنْهَ عَنْهُ ، وَلَمْ يَنْزِلْ فِيهِ ، وَلَمْ يُحَرِّمْهُ ، وَكَانَ يُسَلِّمُ عَلَيَّ ، فَلَمَّا اكْتَوَيْتُ ذَهَبَ ، أَوْ رُفِعَ عَنِّي ، فَلَمَّا تَرَكْتُهُ رَجَعَ إِلَيَّ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

مطرف بن عبداللہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نے مجھ سے فرمایا: میں تمہیں ایک حدیث نہ سناؤں، ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے تمہیں فائدہ دے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حج اور عمرے کو ایک ساتھ ادا کیا تھا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع نہیں کیا تھا اور اس بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر کوئی وحی نازل نہیں ہوئی تھی اور نہ ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے حرام قرار دیا۔ (مطرف بیان کرتے ہیں:) وہ (یعنی سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ) مجھے سلام کیا کرتے تھے، جب میں نے داغ لگوائے، تو آپ تشریف لے گئے، (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں:) میرے پاس سے اٹھ گئے، جب میں نے داغ لگوانے ترک کر دیے، تو وہ میرے پاس پھر آنا جانا شروع ہو گئے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3938]

3939

Sahih Ibn Hibban #3939

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الأَنْصَارِيُّ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ الْمُطَّلِبِ أَنَّهُ حَدَّثَهُ ، أَنَّهُ سَمِعَ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ ، وَالضَّحَّاكَ بْنَ قَيْسٍ ، عَامَ حَجِّ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ ، وَهُمَايَذْكُرَانِ التَّمَتُّعَ بِالْعُمْرَةِ إِلَى الْحَجِّ ، فَقَالَ الضَّحَّاكُ : لا يَصْنَعُ ذَلِكَ إِلا مَنْ جَهِلَ أَمْرَ اللَّهِ ، فَقَالَ سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ : بِئْسَ مَا قُلْتَ يَا ابْنَ أَخِي ، فَقَالَ الضَّحَّاكُ : كَانَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ قَدْ نَهَى عَنْ ذَلِكَ ، فَقَالَ سَعْدٌ : وَقَدْ صَنَعَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَصَنَعْنَاهَا مَعَهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

محمد بن عبد اللہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ اور ضحاک بن قیس رضی اللہ عنہ کو اس سال سنا، جس سال سیدنا معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما نے حج کیا تھا۔ یہ دونوں حضرات عمرے کو حج کے ساتھ شامل کر کے حج تمتع کرنے کا تذکرہ کر رہے تھے۔ ضحاک نے کہا: یہ کام وہ شخص کر سکتا ہے، جو اللہ تعالیٰ کے حکم سے ناواقف ہو، تو سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے میرے بھتیجے! تم نے بہت غلط بات کہی ہے۔ ضحاک نے کہا: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اس سے منع کیا کرتے تھے، تو سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا کیا ہے اور آپ کے ہمراہ ہم نے بھی ایسا کیا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3939]

3940

Sahih Ibn Hibban #3940

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا نَضْرَةَ يُحَدِّثُ ، قَالَ : كَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ يَأْمُرُنَا بِالْمُتْعَةِ ، وَكَانَ ابْنُ الزُّبَيْرِ يَنْهَى عَنْهَا ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِجَابِرٍ ، فَقَالَ : عَلَى يَدِي دَارَ الحَدِيثُ ،تَمَتَّعْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابونضرہ بیان کرتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما ہمیں حج تمتع کی ہدایت کرتے تھے، جبکہ سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما اس سے منع کیا کرتے تھے، میں نے اس بات کا تذکرہ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے کیا، تو انہوں نے فرمایا: اب میرے ذریعے بات کی تحقیق مکمل ہو گی، ہم لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ حج تمتع کیا ہے، جب سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا زمانہ آیا، تو انہوں نے یہ فرمایا: بے شک اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے جو چاہا اور جتنا چاہا حلال قرار دیا اور قرآن کے اپنے مخصوص احکامات ہیں، تم لوگ ﴿حج اور عمرے کو مکمل کرو﴾ [سورة البقرة: 196] جس طرح اللہ تعالیٰ نے تمہیں حکم دیا ہے اور تم لوگ نکاح متعہ کرنے سے باز رہو، میرے پاس جو بھی ایسا شخص لایا جائے جس نے کسی عورت کے ساتھ کسی متعین مدت کے لیے نکاح کیا ہو، تو میں اسے پتھروں کے ذریعے سنگسار کر دوں گا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3940]

3941

Sahih Ibn Hibban #3941

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ، وَوَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، قَالا : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ ، عَنْ ذَكْوَانَ مَوْلَى عَائِشَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيَّ لأَرْبَعِ لَيَالٍ خَلَوْنَ ، أَوْ خَمْسٍ مِنْ ذِي الْحِجَّةِ فِي حَجَّتِهِ ، وَهُوَ غَضْبَانُ ، قَالَتْ : فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَنْ أَغْضَبَكَ أَدْخَلَهُ اللَّهُ النَّارَ ؟ ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَمَا شَعَرْتِ أَنِّي أَمَرْتُهُمْ بِأَمْرٍ وَهُمْ يَتَرَدَّدُونَ فِيهِ ، وَلَوْ كُنْتُ اسْتَقْبَلْتُ مِنْ أَمْرِي مَا اسْتَدْبَرْتُ مَا سُقْتُ الْهَدْيَ ، وَلا اشْتَرَيْتَهُ حَتَّى أَحِلُّ كَمَا حَلُّوا "، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : فِي قَوْلِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَلَوْ كُنْتُ اسْتَقْبَلْتُ مِنْ أَمْرِي مَا اسْتَدْبَرْتُ مَا سُقْتُ الْهَدْيَ حَتَّى أَحِلَّ " أَبْيَنُ الْبَيَانِ بِأَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَكُنْ مُتَمَتِّعًا فِي حَجَّتِهِ ، إِذْ لَوْ كَانَ مُتَمَتِّعًا لأَحَلَّ كَمَا أَحَلُّوا ، وَلَمْ يَتَلَهَّفْ عَلَى مَا فَاتَهُ مِنْ ذَلِكَ حَيْثُ سَاقَ الْهَدْيَ ، وَأَمَّا الأَخْبَارُ الَّتِي ذَكَرْنَاهَا قَبْلَ في التَّمَتُّعِ ، فَإِنَّهَا مِمَّا نَقُولُ فِي كُتُبِنَا : إِنَّ الْعَرَبَ تُنْسَبُ الْفِعْلَ إِلَى الأَمْرِ ، كَمَا تَنْسِبَهُ إِلَى الْفَاعِلِ ، فَلَمَّا أَذِنَ لَهُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي التَّمَتُّعِ ، وَقَالَ : " مَنْ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ وَلَمْ يَكُنْ قَدْ سَاقَ الْهَدْيَ فَلْيَحِلَّ " ، كَانَ فِيهِ إِبَاحَةُ التَّمَتُّعِ لِمَنْ شَاءَ ، فَنُسِبَ هَذَا الْفِعْلُ إِلَى الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى سَبِيلِ الأَمْرِ بِهِ ، لا أَنَّهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ مُتَمَتِّعًا ، وَلِذَلِكَ قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ لِلصُّبَيِّ ابْنِ مَعْبَدٍ ، حَيْثُ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ أَهَلَّ بِالْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ ، فَقَالَ : هُدِيتَ لِسُنَّةِ نَبِيِّكَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ذوالحجہ کی چار یا پانچ تاریخ کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے، یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حج کے موقع کی بات ہے اور آپ غصے کے عالم میں تھے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! جو شخص آپ کو غصہ دلائے، اللہ تعالیٰ اسے جہنم میں داخل کرے؛ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہیں پتا نہیں چلا؟ میں نے ان لوگوں کو ایک بات کا حکم دیا اور وہ لوگ اس بارے میں تردد کا شکار ہو رہے ہیں، مجھے بعد میں جس چیز کا خیال آیا، اگر پہلے آ جاتا، تو میں قربانی کا جانور ساتھ نہ لاتا اور میں اسے خریدتا بھی نہیں، یہاں تک کہ میں بھی اب اسی طرح احرام کھول دیتا جس طرح ان لوگوں نے کھولا ہے۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان: ”مجھے بعد میں جس چیز کا خیال آیا، اگر پہلے آ جاتا، تو میں قربانی کا جانور ساتھ نہ لاتا اور احرام کھول دیتا“، اس بات کا واضح بیان ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اس حج میں حجِ تمتع نہیں کیا تھا، کیونکہ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجِ تمتع کیا ہوتا تو آپ بھی اسی طرح احرام کھول دیتے جس طرح دیگر لوگوں نے کھول دیا تھا اور آپ اس چیز کے رہ جانے کا اظہار نہ کرتے جو آپ کے قربانی کا جانور ساتھ لے جانے کی وجہ سے رہ گئی تھی۔ جہاں تک ان روایات کا تعلق ہے جنہیں ہم اس سے پہلے تمتع کے بارے میں ذکر کر چکے ہیں، تو ہم اپنی کتابوں میں یہ بات بیان کر چکے ہیں کہ عرب بعض اوقات کسی فعل کی نسبت حکم دینے والے کی طرف کر دیتے ہیں جس طرح وہ فعل کی نسبت کرنے والے کی طرف کرتے ہیں، چنانچہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو حجِ تمتع کرنے کی اجازت دی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جس شخص نے عمرے کا تلبیہ پکارا ہے اور وہ قربانی کا جانور ساتھ نہیں لایا، وہ احرام کھول دے“، تو اس میں اس شخص کے لیے حجِ تمتع کو مباح قرار دیا گیا جو ایسا کرنا چاہتا ہے، پس اس فعل کی نسبت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف اس اعتبار سے کی گئی کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا حکم دیا تھا، اس سے یہ مراد نہیں ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خود حجِ تمتع کیا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے صُبَی بن معبد سے یہ کہا تھا جب انہوں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو یہ بتایا کہ انہوں نے حج اور عمرہ دونوں کا تلبیہ پکارا ہے، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا تھا: ”تمہاری رہنمائی تمہارے نبی کی سنت کی طرف کی گئی ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3941]

3942

Sahih Ibn Hibban #3942

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ : حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : خَرَجْنَا مُوَافِينَ لِهِلالِ ذِي الْحِجَّةِ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ أَحَبَّ مِنْكُمْ أَنْ يُهِلَّ بِعُمْرَةٍ فَلْيُهِلَّ ، فَإِنِّي لَوْلا أَنِّي أَهْدَيْتُ لأَهْلَلْتُ بِعُمْرَةٍ " ، فَأَهَلَّ بِهِ بَعْضُ أَصْحَابِهِ بِحَجَّةٍ ، وَبَعْضُهُمْ بِعُمْرَةٍ ، قَالَتْ : وَكُنْتُ فِيمَنْ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ ، فَأَدْرَكَنِي يَوْمُ عَرَفَةَ وَأَنَا حَائِضٌ لَمْ أَحِلَّ مِنْ عُمْرَتِي ، فَشَكَوْتُ ذَلِكَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " دَعِي عُمْرَتَكِ ، وَانْقُضِي رَأْسَكِ ، وَامْتَشِطِي ، وَأَهِلِّي بِالْحَجِّ "، قَالَتْ : فَفَعَلْتُ حَتَّى إِذَا كَانَتْ لَيْلَةُ الْحَصْبَةِ ، أَرْسَلَ مَعَهَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، فَأَرْدَفَهَا ، فَخَرَجَتْ إِلَى التَّنْعِيمِ ، فَأَهَلَّتْ بِعُمْرَةٍ مَكَانَ عُمْرَتِهَا ، فَطَافَتْ بِالْبَيْتِ ، وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ، فَقَضَى اللَّهُ حَجَّهَا وَعُمْرَتَهَا ، وَلَمْ يَكُنْ فِي شَيْءٍ مِنْ ذَلِكَ صَوْمٌ ، وَلا هَدْيٌ ، وَلا صَدَقَةٌ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ذو الحجہ کا چاند نظر آنے والا تھا جب ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ (حج کرنے کے لیے) روانہ ہوئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے جو شخص عمرے کا تلبیہ پڑھنا چاہے وہ اس کا پڑھ لے۔ اگر میں نے قربانی کا جانور ساتھ نہ رکھا ہوتا، تو میں بھی عمرے کا تلبیہ پڑھ لیتا۔“ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعض اصحاب نے حج کا تلبیہ پڑھا اور بعض نے عمرے کا تلبیہ پڑھا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میں ان لوگوں میں شامل تھی جنہوں نے عمرے کا تلبیہ پڑھا تھا۔ عرفہ کے دن مجھے حیض آ گیا، میں اپنے عمرے کا احرام نہیں کھول سکی۔ میں نے اس بات کی شکایت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم عمرے کو چھوڑ دو اور اپنے بالوں کو کھول کر ان میں کنگھی کر لو اور حج کا تلبیہ پڑھنا شروع کر دو۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میں نے ایسا ہی کیا، یہاں تک کہ جب حصبہ کی رات آئی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عبدالرحمن بن ابوبکر رضی اللہ عنہما کو ان کے ہمراہ بھیجا اور انہوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو اپنے پیچھے بٹھایا اور انہیں ساتھ لے کر تنعیم چلے گئے۔ وہاں سے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اپنے عمرے کی جگہ عمرے کا احرام باندھا۔ انہوں نے بیت اللہ کا طواف کیا، صفا اور مروہ کی سعی کی، یوں اللہ تعالیٰ نے ان کے حج اور عمرے کو مکمل کر دیا اور اس بارے میں (روزہ رکھنے یا قربانی دینے یا صدقہ دینے کی صورت میں فدیہ ادا نہیں کرنا پڑا)۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3942]

3943

Sahih Ibn Hibban #3943

قَالَ : وَقَدِمَ عَلِيٌّ مِنَ الْيَمَنِ ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : بِأَيِّ شَيْءٍ أَهْلَلْتَ يَا عَلِيُّ ؟ " ، قَالَ : قُلْتُ : اللَّهُمَّ إِنِّي أَهِلُّ بِمَا أَهَلَّ بِهِ رَسُولُكَ ، قَالَ : " فَإِنَّ مَعِيَ هَدْيًا ، فَلا تَحِلَّ " ، قَالَ عَلِيٌّ : فَدَخَلْتُ عَلَى فَاطِمَةَ وَقَدِ اكْتَحَلَتْ ، وَلَبِسَتْ ثِيَابَ صِبْغٍ ، فَقُلْتُ : مَنْ أَمَرَكِ بِهَذَا ؟ ، فَقَالَتْ لِي : أَمَرَنِي أَبِي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : فَكَانَ عَلِيٌّ يَقُولُ بِالْعِرَاقِ : فَانْطَلَقْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُحَرِّشًا عَلَى فَاطِمَةَ مُسَتَثِّبَتًا فِي الَّذِي ، قَالَتْ : فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " صَدَقَتْ ، أَنَا أَمَرْتُهَا " ، قَالَ : وَنَحَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِائَةَ بَدَنَةٍ مِنْ ذَلِكَ بِيَدِهِ ثَلاثًا وَسِتِّينَ ، وَنَحَرَ عَلِيٌّ مَا غَبَرَ ، ثُمَّ أَخَذَ مِنْ كُلِّ بَدَنَةٍ قِطْعَةً فَطَبَخَ جَمِيعًا ، فَأَكَلا مِنَ اللَّحْمِ ، وَشَرِبَا مِنَ الْمَرَقِ ، فَقَالَ سُرَاقَةُ بْنُ مَالِكِ بْنِ جُعْشُمٍ : أَلِعَامِنَا هَذَا أَمْ لِلأَبَدِ ؟ ، قَالَ : " لا بَلْ لِلأَبَدِ ، دَخَلَتِ الْعُمْرَةُ فِي الْحَجِّ " ، وَشَبَّكَ بَيْنَ أَصَابِعِهِ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : الْعِلَّةُ فِي نَحْرِ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلاثًا وَسِتِّينَ بَدَنَةً بِيَدِهِ دُونَ مَا وَرَاءَ هَذَا الْعَدَدِ أَنَّ لَهُ فِي ذَلِكَ الْيَوْمِ كَانَتْ ثَلاثًا وَسِتِّينَ سَنَةً ، وَنَحَرَ لِكُلِّ سَنَةٍ مِنْ سِنِيهِ بَدَنَةً بِيَدِهِ ، وَأَمَرَ عَلِيًّا بِالْبَاقِي ، فَنَحَرَهَا"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

امام جعفر صادق رحمہ اللہ اپنے والد (امام محمد باقر رحمہ اللہ) کے حوالے سے سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نو برس تک مدینہ منورہ میں مقیم رہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دوران حج نہیں کیا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے روانگی کا لوگوں میں اعلان کروا دیا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم ذوالحلیفہ تشریف لائے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز ادا کی وہاں سیدہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا نے سیدنا محمد بن ابوبکر رضی اللہ عنہما کو جنم دیا۔ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو پیغام بھجوایا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ” «اغْتَسِلِي وَاسْتَثْفِرِي بِثَوْبٍ وَأَهِلِّي» تم غسل کر کے کپڑا باندھ لو اور احرام باندھ لو۔“ راوی بیان کرتے ہیں: انہوں نے ایسا ہی کیا جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری میدان میں کھڑی ہوئی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تلبیہ پڑھنا شروع کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ہم نے بھی تلبیہ پڑھنا شروع کیا۔ ہمارے ذہن میں صرف حج کا خیال تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ہم بھی روانہ ہوئے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان موجود تھے۔ قرآن آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہو رہا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی تفسیر کو جانتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہی کرتے تھے جس کا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا گیا۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: میں نے اپنے سامنے، اپنے پیچھے، اپنے دائیں طرف اور اپنے بائیں طرف جہاں تک نگاہ جاتی تھی لوگوں کا ہجوم دیکھا جو پیدل بھی تھے اور سوار بھی تھے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ تلبیہ پڑھنا شروع کیا: «لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ، لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ، إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالْمُلْكَ، لَا شَرِيكَ لَكَ» ”میں حاضر ہوں اے اللہ! میں حاضر ہوں، میں حاضر ہوں تیرا کوئی شریک نہیں ہے۔ بے شک حمد اور نعمت تیرے لیے مخصوص ہے اور بادشاہی بھی، تیرا کوئی شریک نہیں ہے۔“ جب ہم مکہ آئے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سب سے پہلے حجرِ اسود کا استلام کیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے طواف کے تین چکروں میں دوڑ کر طواف کیا اور چار چکروں میں عام رفتار سے چلے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم طواف کر کے فارغ ہوئے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم مقامِ ابراہیم کے پاس تشریف لائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ﴿وَاتَّخِذُوا مِنْ مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلًّى﴾ [سورة البقرة: 125] ”تم لوگ مقام ابراہیم کو جائے نماز بنا لو۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مقامِ ابراہیم کے پاس دو رکعات نماز ادا کی پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم حجرِ اسود کی طرف تشریف لے گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا استلام کیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم صفا کی طرف تشریف لے گئے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ” «نَبْدَأُ بِمَا بَدَأَ اللَّهُ بِهِ» ہم اس سے آغاز کریں گے جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے پہلے کیا ہے (ارشاد باری تعالیٰ ہے) ﴿إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ﴾ [سورة البقرة: 158] بے شک صفا اور مروہ اللہ تعالیٰ کی نشانیاں ہیں۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم صفا پر چڑھے جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے خانہ کعبہ آیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ تکبیر کہی اور یہ کلمات پڑھے: «لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ» ”اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے، وہی ایک معبود ہے اس کا کوئی شریک نہیں ہے، بادشاہی اسی کے لیے مخصوص ہے، حمد اسی کے لیے مخصوص ہے، وہ زندگی دیتا ہے اور وہ موت دیتا ہے، تمام بھلائی اسی کے دستِ قدرت میں ہے اور وہ ہر شے پر قدرت رکھتا ہے۔“ یہ کلمات آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ پڑھے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا مانگی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم صفا سے نیچے اترے اور عام رفتار سے چلتے رہے، یہاں تک کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قدم وادی کے نشیبی حصے میں پہنچے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم دوڑنے لگے، یہاں تک کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قدم نشیبی حصے سے اوپر کی طرف چڑھنے لگے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم عام رفتار سے چلتے ہوئے مروہ کی طرف تشریف لے آئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم مروہ پر چڑھے جب خانہ کعبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہی کلمات پڑھے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صفا پر پڑھے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا سات مرتبہ چکر لگایا اور یہ بات ارشاد فرمائی: ”جس شخص کے ساتھ قربانی کا جانور نہ ہو وہ احرام کھول دے اور جس شخص کے ساتھ قربانی کا جانور ہو وہ اپنے احرام میں باقی رہے، اگر میں نے اپنے ساتھ قربانی کا جانور نہ رکھا ہوتا، تو میں بھی احرام کھول دیتا، مجھے بعد میں جس چیز کا خیال آیا، اگر پہلے آ جاتا، تو میں عمرے کا تلبیہ پڑھتا۔“ سیدنا جابر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: سیدنا علی رضی اللہ عنہ یمن سے تشریف لائے تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے دریافت کیا: ”اے علی! تم نے کس چیز کا تلبیہ پڑھا ہے؟“ انہوں نے عرض کی: میں نے یہ کہا تھا: اے اللہ! میں اسی چیز کا تلبیہ پڑھتا ہوں جس کا تیرے رسول نے تلبیہ پڑھا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میرے ساتھ تو قربانی کا جانور ہے تم احرام نہ کھولو۔“ سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس گیا، تو انہوں نے سرمہ لگایا ہوا تھا اور رنگین کپڑے پہنے ہوئے تھے۔ میں نے کہا: تمہیں اس بات کا کس نے حکم دیا ہے؟ انہوں نے مجھے جواب دیا: میرے والد نے مجھے اس بات کا حکم دیا ہے۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے عراق میں یہ بات ارشاد فرمائی: پھر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں گیا، تاکہ فاطمہ کی شکایت لگاؤں اور انہوں نے جو بات بیان کی ہے اس معاملے کی تحقیق کروں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اس نے سچ بات بیان کی ہے میں نے ہی اسے اس بات کی ہدایت کی تھی۔“ سیدنا جابر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک سو اونٹوں کی قربانی دی جس میں سے 63 اونٹوں کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دستِ مبارک سے نحر کیا اور باقی بچ جانے والوں کو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے نحر کیا، پھر ان میں سے ہر ایک جانور کا کچھ گوشت لے کر ان سب کو ملا کر پکایا گیا، تو ان دونوں حضرات نے اس کا گوشت کھایا اور اس کا شوربہ پیا۔ سیدنا سراقہ بن مالک رضی اللہ عنہ نے عرض کی: کیا یہ حکم اس سال کے لیے خاص ہے یا ہمیشہ کے لیے ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ” «لَا بَلْ لِأَبَدِ الْأَبَدِ، دَخَلَتِ الْعُمْرَةُ فِي الْحَجِّ» جی نہیں بلکہ ہمیشہ کے لیے ہے۔ عمرہ حج میں شامل ہو گیا ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلیوں کو ایک دوسرے میں ڈال کر یہ بات ارشاد فرمائی۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں): نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے 63 اونٹ اپنے ہاتھوں سے قربان کرنے میں علت یہ ہے: اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر مبارک بھی 63 سال تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی عمر شریف کے ہر سال کے عوض میں اپنے دستِ مبارک کے ذریعے ایک اونٹ قربان کیا اور باقی جانوروں کے بارے میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو حکم دیا تو انہوں نے ان کو قربان کیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3943]

3944

Sahih Ibn Hibban #3944

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، وَأَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ ابْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالا : حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : دَخَلْنَا عَلَى جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، فَسَأَلَ عَنِ الْقَوْمِ حَتَّى انْتَهَى إِلَيَّ ، فَقُلْتُ أَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، فَأَهْوَى بِيَدِهِ إِلَى رَأْسِي ، فَنَزَعَ زِرِّيَ الأَعْلَى ، ثُمَّ نَزَعَ زِرِّيَ الأَسْفَلَ ، ثُمَّ وَضَعَ كَفَّهُ بَيْنَ ثَدْيَيَّ ، وَأَنَا غُلامٌ يَوْمَئِذٍ شَابٌّ ، فَقَالَ : مَرْحَبًا يَا ابْنَ أَخِي سَلْ عَمَّا شِئْتَ ، فَسَأَلْتُهُ وَهُوَ أَعْمَى ، وَجَاءَ وَقْتُ الصَّلاةِ ، فَقَامَ فِي نِسَاجَةٍ مُلْتَحِفًا بِهَا ، كُلَّمَا وَضَعَهَا عَلَى مَنْكِبَيْهِ رَجَعَ طَرَفَاهَا إِلَيْهِ مِنْ صِغَرِهَا ، وَرِدَاؤُهُ إِلَى جَنْبِهِ عَلَى الْمِشْجَبِ ، فَصَلَّى بِنَا ، فَقُلْتُ : أَخْبَرَنِي عَنْ حَجَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ بِيَدِهِ وَعَقَدَ تِسْعًا ، وَقَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَثَ تِسْعَ سِنِينَ لَمْ يَحُجَّ ، ثُمَّ أَذَّنَ فِي النَّاسِ فِي الْعَاشِرِ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَاجٌّ ، فَقَدِمَ الْمَدِينَةِ بَشَرٌ كَثِيرٌ ، كُلُّهُمْ يَلْتَمِسُ أَنْ يَأْتَمَّ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَيَعْمَلَ مِثْلَ عَمَلِهِ ، فَخَرَجْنَا مَعَهُ حَتَّى أَتَيْنَا ذَا الْحُلَيْفَةِ ، فَوَلَدَتْ أَسْمَاءُ بِنْتُ عُمَيْسٍ مُحَمَّدَ بْنَ أَبِي بَكْرٍ ، فَأَرْسَلَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَيْفَ أَصْنَعُ ، فَقَالَ : اغْتَسِلِي ، وَاسْتَثْفِرِي بِثَوْبٍ ، وَأَحْرِمِي " ، فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَسْجِدِ ، ثُمَّ رَكِبَ الْقَصْوَاءَ حَتَّى إِذَا اسْتَوَتْ بِهِ نَاقَتُهُ عَلَى الْبَيْدَاءِ ، نَظَرْتُ إِلَى مَدِّ بَصَرِي بَيْنَ يَدَيْهِ مِنْ رَاكِبٍ وَمَاشٍ ، وَعَنْ يَمِينِهِ مِثْلُ ذَلِكَ ، وَعَنْ يَسَارِهِ مِثْلُ ذَلِكَ ، وَمِنْ خَلْفِهِ مِثْلُ ذَلِكَ ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَظْهُرِنَا ، وَعَلَيْهِ يَنْزِلُ الْقُرْآنُ ، وَهُوَ يَعْرِفُ تَأْوِيلَهُ ، وَمَا عَمِلَ بِهِ مِنْ شَيْءٍ عَمَلْنَا بِهِ ، فَأَهَلَّ بِالتَّوْحِيدِ : " لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ ، لَبَّيْكَ لا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ ، إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالْمُلْكَ ، لا شَرِيكَ لَكَ " ، وَأَهَلَّ النَّاسُ بِهَذَا الَّذِي يُهِلُّونَ بِهِ ، فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْهُ شَيْئًا ، وَلَزِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَلْبِيَتَهُ ، قَالَ جَابِرٌ : لَسْنَا نَنْوِي إِلا الْحَجَّ ، لَسْنَا نَعْرِفُ الْعُمْرَةَ حَتَّى أَتَيْنَا الْبَيْتَ مَعَهُ ، اسْتَلَمَ الرُّكْنَ فَرَمَلَ ثَلاثًا ، وَمَشَى أَرْبَعًا ، ثُمَّ تَقَدَّمَ إِلَى مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ ، فَقَرَأَ وَاتَّخِذُوا مِنْ مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلًّى ، فَجَعَلَ الْمَقَامَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْبَيْتِ ، فَكَانَ أَبِي يَقُولُ : وَلا أَعْلَمُهُ ذَكَرَهُ إِلا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّهُ كَانَ يَقْرَأُ فِي الرَّكْعَتَيْنِ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ قُلْ يَأَيُّهَا الْكَافِرُونَ ، ثُمَّ رَجَعَ إِلَى الرُّكْنِ فَاسْتَلَمَهُ ، ثُمَّ خَرَجَ مِنَ الْبَابِ إِلَى الصَّفَا ، فَلَمَّا دَنَا مِنَ الصَّفَا قَرَأَ إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ " أَبْدَأُ بِمَا بَدَأَ اللَّهُ بِهِ " ، فَبَدَأَ بِالصَّفَا ، فَرَقِيَ عَلَيْهِ حَتَّى رَأَى الْبَيْتَ ، فَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ ، وَوَحَّدَ اللَّهَ ، وَكَبَّرَهُ ، وَقَالَ : " لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ وَحْدَهُ لا شَرِيكَ لَهُ ، لَهُ الْمَلِكُ ، وَلَهُ الْحَمْدُ ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ ، لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ وَحْدَهُ ، نَجَزَ وَعْدَهُ ، وَنَصَرَ عَبْدَهُ ، وَهَزَمَ الأَحْزَابَ وَحْدَهُ " ، ثُمَّ دَعَا بَيْنَ ذَلِكَ ، قَالَ مِثْلَ هَذَا ثَلاثَ مَرَّاتٍ ، ثُمَّ نَزَلَ إِلَى الْمَرْوَةِ حَتَّى انْصَبَّتْ قَدَمَاهُ إِلَى بَطْنِ الْوَادِي ، سَعَى ، حَتَّى إِذَا صَعِدَ مَشَى ، حَتَّى أَتَى الْمَرْوَةَ فَفَعَلَ عَلَى الْمَرْوَةِ كَمَا فَعَلَ عَلَى الصَّفَا ، حَتَّى إِذَا كَانَ آخِرَ طَوَافٍ عَلَى الْمَرْوَةِ ، قَالَ : " لَوْ أَنِّيَ اسْتَقْبَلْتُ مِنْ أَمْرِي مَا اسْتَدْبَرْتُ ، لَمْ أَسُقِ الْهَدْيَ ، وَجَعَلْتُهَا عَمْرَةً ، فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ لَيْسَ مَعَهُ هَدْيٌ فَلْيَحِلَّ ، وَلْيَجْعَلْهَا عَمْرَةً " ، فَقَامَ سُرَاقَةُ بْنُ جُعْشُمٍ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَلِعَامِنَا هَذَا أَمْ لِلأَبَدِ ؟ ، قَالَ : فَشَبَّكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَصَابِعَهُ وَاحِدَةً فِي الأُخْرَى ، وَقَالَ : " دَخَلَتِ الْعُمْرَةُ فِي الْحَجِّ مَرَّتَيْنِ ، لا بَلْ لأَبَدِ الأَبَدِ ، لا بَلْ لأَبَدِ الأَبَدِ " ، وَقَدِمَ عَلِيُّ مِنَ الْيَمَنِ بِبُدْنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَوَجَدَ فَاطِمَةَ مِمَّنْ قَدْ حَلَّ ، وَلَبِسَتْ ثِيَابَ صِبْغٍ ، وَاكْتَحَلَتْ ، فَأَنْكَرَ ذَلِكَ عَلَيْهَا ، فَقَالَتْ : أَبِي أَمَرَنِي بِهَذَا ، قَالَ : فَكَانَ عَلِيٌّ يَقُولُ بِالْعِرَاقِ : فَذَهَبْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُحَرِّشًا عَلَى فَاطِمَةِ لِلَّذِي صَنَعَتْ ، وَأَخْبَرْتُهُ أَنِّي أَنْكَرْتُ ذَلِكَ عَلَيْهَا ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " صَدَقَتْ ، مَا قُلْتَ حِينَ فَرَضْتَ الْحَجَّ " ، قَالَ : قُلْتُ : اللَّهُمَّ إِنِّي أُهِلُّ بِمَا أَهَلَّ بِهِ رَسُولُكَ ، قَالَ : " فَإِنَّ مَعِي الْهَدْيَ ، فَلا تَحِلَّ " ، قَالَ : فَكَانَ جَمَاعَةُ الْهَدْيِ الَّذِي قَدِمَ بِهِ عَلِيٌّ مِنَ الْيَمَنِ وَالَّذِي أَتَى بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِائَةً ، قَالَ : فَحَلَّ النَّاسُ كُلُّهُمْ ، وَقَصَّرُوا إِلا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَنْ كَانَ مَعَهُ هَدْيٌ ، فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ التَّرْوِيَةِ ، تَوَجَّهُوا إِلَى مِنًى ، فَأَهِلُّوا بِالْحَجِّ رَكِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَصَلَّى بِهَا الظُّهْرَ ، وَالْعَصْرَ ، وَالْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ ، وَالصُّبْحَ ، ثُمَّ مَكَثَ قَلِيلا حَتَّى طَلَعَتِ الشَّمْسُ ، وَأَمَرَ بِقُبَّةٍ مِنْ شَعَرٍ ، فَضُرِبَتْ لَهُ بِنَمِرَةَ ، فَسَارَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَلا تَشُكُّ قُرَيْشٌ إِلا أَنَّهُ وَاقِفٌ عِنْدَ الْمَشْعَرِ الْحَرَامِ كَمَا كَانَتْ قُرَيْشٌ تَصْنَعُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ ، فَأَجَازَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى أَتَى عَرَفَةَ ، فَوَجَدَ الْقُبَّةَ ، قَدْ ضُرِبَتْ لَهُ بِنَمِرَةَ ، فَنَزَلَ بِهَا ، حَتَّى إِذَا زَاغَتِ الشَّمْسُ أَمَرَ بِالْقَصْوَاءِ ، فَرُحِلَتْ لَهُ ، فَأَتَى بَطْنَ الْوَادِي ، يَخْطُبُ النَّاسَ ، ثُمَّ قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّدِمَاءَكُمْ ، وَأَمْوَالَكُمْ حَرَامٌ عَلَيْكُمْ ، كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا ، فِي شَهْرِكُمْ هَذَا فِي بَلَدِكُمْ هَذَا ، أَلا كُلُّ شَيْءٍ مِنْ أَمْرِ الْجَاهِلِيَّةِ تَحْتَ قَدَمَيَّ مَوْضُوعٌ ، وَدِمَاءُ الْجَاهِلِيَّةِ مَوْضُوعَةٌ ، وَإِنَّ أَوَّلَ دَمٍ أَضَعُ مِنْ دِمَائِنَا دَمُ ابْنِ رَبِيعَةَ بْنِ الْحَارِثِ ، وَكَانَ مُسْتَرْضَعًا فِي بَنِي لَيْثٍ ، فَقَتَلَتْهُ هُذَيْلٌ ، وَرِبَا الْجَاهِلِيَّةِ مَوْضُوعٌ ، وَأَوَّلُ رِبًا أَضَعُ رِبَا الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ، فَإِنَّهُ مَوْضُوعٌ كُلَّهُ ، فَاتَّقُوا اللَّهَ فِي النِّسَاءِ ، فَإِنَّكُمْ أَخَذْتُمُوهُنَّ بِأَمَانِ اللَّهِ ، وَاسْتَحْلَلْتُمْ فُرُوجَهُنَّ بِكَلِمَةِ اللَّهِ ، وَلَكُمْ عَلَيْهِنَّ أَنْ لا يُوطِئْنَ فُرُشَكُمْ أَحَدًا تَكْرَهُونَهُ ، فَإِنْ فَعَلْنَ ذَلِكَ فَاضْرِبُوهُنَّ ضَرْبًا غَيْرَ مُبَرِّحٍ ، وَلَهُنَّ عَلَيْكُمْ رِزْقُهُنَّ وَكِسْوَتُهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ ، وَقَدْ تَرَكْتُ فِيكُمْ مَا لَنْ تَضِلُّوا بَعْدَهُ إِنَّ اعْتَصَمْتُمْ بِهِ : كِتَابَ اللَّهِ ، وَأَنْتُمْ تُسْأَلُونَ عَنِّي ، فَمَا أَنْتُمْ قَائِلُونَ " ، قَالُوا : نَشْهَدُ أَنْ قَدْ بَلَّغْتَ وَأَدَّيْتَ وَنَصَحْتَ ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأُصْبُعِهِ السَّبَّابَةِ ، يَرْفَعُهَا إِلَى السَّمَاءِ وَيَنْكُتُهَا إِلَى النَّاسِ : " اللَّهُمَّ اشْهَدْ " ثَلاثَ مَرَّاتٍ ، ثُمَّ أَذَّنَ ، ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى الظُّهْرَ ، ثُمَّ أَقَامَ فَصَلَّى الْعَصْرَ ، وَلَمْ يُصَلِّي بَيْنَهُمَا شَيْئًا ، ثُمَّ رَكِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى أَتَى الْمَوْقِفَ فَجَعَلَ بَاطِنَ نَاقَتِهِ الْقَصْوَاءِ إِلَى الصَّخَرَاتِ ، وَجَعَلَ حَبَلَ الْمُشَاةِ بَيْنَ يَدَيْهِ ، فَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ ، فَلَمْ يَزَلْ وَاقِفًا حَتَّى غَرَبَتِ الشَّمْسُ ، وَذَهَبَتِ الصُّفْرَةُ قَلِيلا ، وَغَابَ الْقُرْصُ ، أَرْدَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُسَامَةَ خَلْفَهُ ، وَدَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ شَنَقَ لِلْقَصْوَاءِ الزِّمَامَ ، حَتَّى إِنَّ رَأْسَهَا لَيُصِيبُ مَوْرِكَ رَحْلِهِ ، وَيَقُولُ بِيَدِهِ الْيُمْنَى : " أَيُّهَا النَّاسُ السَّكِينَةَ السَّكِينَةَ " ، كُلَّمَا أَتَى حَبْلا مِنَ الْحِبَالِ أَرْخَى لَهَا قَلِيلا حَتَّى تَصْعَدَ ، حَتَّى أَتَى الْمُزْدَلِفَةَ ، فَصَلَّى بِهَا الْمَغْرِبَ ، وَالْعِشَاءَ بِأَذَانٍ وَاحِدٍ وَإِقَامَتَيْنِ ، وَلَمْ يُسَبِّحْ بَيْنَهُمَا شَيْئًا ، ثُمَّ اضْطَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى طَلَعَ الْفَجْرُ ، فَصَلَّى الْفَجْرَ ، حَتَّى تَبَيَّنَ لَهُ الصُّبْحُ بِأَذَانٍ وَإِقَامَةٍ ، ثُمَّ رَكِبَ الْقَصْوَاءَ حَتَّى أَتَى الْمَشْعَرَ الْحَرَامَ ، فَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ ، فَدَعَاهُ وَكَبَّرَهُ ، وَهَلَّلَهُ وَوَحَّدَهُ ، فَلَمْ يَزَلْ وَاقِفًا حَتَّى أَسْفَرَ جِدًّا ، دَفَعَ قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ ، وَأَرْدَفَ الْفَضْلُ بْنُ الْعَبَّاسِ ، وَكَانَ رَجُلا حَسَنَ الشَّعْرِ ، أَبْيَضَ وَسِيمًا ، فَلَمَّا دَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، مَرَّتْ ظُعُنٌ يَجْرِينَ ، فَطَفِقَ الْفَضْلُ يَنْظُرُ إِلَيْهِنَّ ، فَوَضَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ عَلَى وَجْهِ الْفَضْلِ ، فَحَوَّلَ الْفَضْلُ وَجْهَهُ مِنَ الشِّقِّ الآخَرِ ، فَحَوَّلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ إِلَى الشِّقِّ الآخَرِ عَلَى وَجْهِ الْفَضْلِ ، فَصَرَفَ وَجْهَهُ مِنَ الشِّقِّ الآخَرِ ، حَتَّى أَتَى مُحَسِّرًا ، فَحَرَّكَ قَلِيلا ، ثُمَّ سَلَكَ الطَّرِيقَ الْوُسْطَى الَّتِي تَخْرُجُ إِلَى الْجَمْرَةِ الْكُبْرَى ، حَتَّى أَتَى الْجَمْرَةَ فَرَمَاهَا بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ ، يُكَبِّرُ مَعَ كُلِّ حَصَاةٍ مِنْهَا مِثْلَ حَصَا الْخَذْفِ ، رَمَى مِنْ بَطْنِ الْوَادِي ، ثُمَّ انْصَرَفَ إِلَى الْمَنْحَرِ ، فَنَحَرَ ثَلاثًا وَسِتِّينَ بِيَدِهِ ، ثُمَّ أَعْطَى عَلِيًّا رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِ ، فَنَحَرَ مَا غَبَرَ مِنْهَا ، وَأَشْرَكَهُ فِي هَدْيِهِ ، وَأَمَرَ مِنْ كُلِّ بَدَنَةٍ بِبَضْعَةٍ ، فَجُعِلَتْ فِي قِدْرٍ ، فَطُبِخَتْ ، فَأَكَلا مِنْ لَحْمِهَا ، وَشَرِبَا مِنْ مَرَقِهَا ، ثُمَّ رَكِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَفَاضَ إِلَى الْبَيْتِ ، فَصَلَّى بِمَكَّةَ الظُّهْرَ ، فَأَتَى بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ يَسْتَقُونَ عَلَى زَمْزَمٍ ، فَقَالَ : " انْزِعُوا يَا بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ، فَلَوْلا أَنْ يَغْلِبَكُمُ النَّاسُ عَلَى سِقَايَتِكُمْ ، لَنَزَعْتُ مَعَكُمْ " ، فَنَاوَلُوهُ دَلْوًا ، فَشَرِبَ مِنْهُ، لَفْظُ الْخَبَرِ لأَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : هَذَا النَّوْعُ لَوِ اسْتَقْصَيْنَاهُ لَدَخَلَ فِيهِ ثُلُثَ السُّنَنِ ، وَفِيمَا أَوْمَأْنَا إِلَيْهِ مِنَ الأَشْيَاءِ الَّتِي فُرِضَتْ عَلَى الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَى أُمَّتِهِ جَمِيعًا مِنَ الْوضُوءِ ، وَالتَّيَمُّمِ ، وَالاغْتِسَالِ مِنَ الْجَنَابَةِ ، وَالصَّلاةِ ، وَالْحَجِّ ، وَمَا أَشْبَهَ هَذِهِ الأَشْيَاءَ مَا فِيهَا غَنِيَّةٌ عَنِ الإِمْعَانِ وَالإِكْثَارِ فِيهَا لِمَنْ وَفَّقَهُ اللَّهُ لِلصَّوَابِ ، وَهُدَاهُ لِسُلُوكِ الرَّشَادِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

امام جعفر صادق رحمہ اللہ اپنے والد (امام محمد باقر رحمہ اللہ) کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: ہم لوگ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ انہوں نے تمام لوگوں سے تعارف دریافت کیا؛ یہاں تک کہ جب میری باری آئی، تو میں نے بتایا: میں محمد بن علی بن حسین بن علی بن ابوطالب ہوں۔ انہوں نے اپنا ہاتھ میرے سر کی طرف بڑھایا اور میرا اوپر والا بٹن کھولا پھر اس کے نیچے والا بٹن کھولا۔ پھر انہوں نے اپنی ہتھیلی میرے سینے پر رکھی۔ میں ان دنوں نوجوان آدمی تھا۔ انہوں نے فرمایا: ”اے میرے بھتیجے! تمہیں خوش آمدید، تم جو چاہو دریافت کرو۔“ تو میں نے ان سے سوال کیا، وہ اس وقت نابینا ہو چکے تھے۔ نماز کا وقت آیا، تو وہ اپنی چادر کی طرف بڑھے۔ انہوں نے اسے لحاف کے طور پر لپیٹ لیا، جب بھی وہ اسے اپنے کندھے پر رکھنے کی کوشش کرتے، تو اس کا ایک کنارہ واپس آ جاتا، کیونکہ وہ چادر چھوٹی تھی، حالانکہ ان کی بڑی چادر ان کے پہلو میں کھونٹی پر لٹکی ہوئی تھی۔ انہوں نے ہمیں نماز پڑھائی، تو میں نے ان سے کہا: آپ ہمیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حج کے بارے میں بتائیں، تو انہوں نے اپنے ہاتھ کے ذریعے اشارہ کرتے ہوئے نو کا عدد بنایا اور بولے: ”نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نو سال تک ٹھہرے رہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دوران حج نہیں کیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دسویں سال لوگوں میں حج کا اعلان کروا دیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حج کے لیے تشریف لے جا رہے ہیں۔“ تو بہت سے لوگ مدینہ منورہ آ گئے، وہ سب اس بات کے خواہش مند تھے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کریں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل کی مانند عمل کریں۔ ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ روانہ ہوئے، یہاں تک کہ جب ہم ذوالحلیفہ پہنچے، تو وہاں سیدہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا نے سیدنا محمد بن ابوبکر رضی اللہ عنہما کو جنم دیا۔ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو پیغام بھجوایا کہ میں کیا کروں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم غسل کر کے کپڑا باندھ لو۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ذوالحلیفہ کی مسجد میں نماز ادا کی پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی اونٹنی قصواء پر سوار ہوئے، یہاں تک کہ جب میدان میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی سیدھی کھڑی ہوئی اور میں نے حدِ نگاہ تک دیکھا، تو مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے پیدل اور سوار لوگ نظر آئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دائیں طرف بھی اسی طرح تھے، بائیں طرف بھی اسی طرح تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے بھی اسی طرح تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان موجود تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر قرآن نازل ہوتا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی تفسیر کو جانتے تھے؛ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو بھی عمل کیا ہم نے بھی ویسا ہی عمل کیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کا اعتراف کرنے کا تلبیہ پڑھتے ہوئے یہ پڑھا: «لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ، لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ، إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالْمُلْكَ، لَا شَرِيكَ لَكَ» ”اے اللہ! میں حاضر ہوں، میں حاضر ہوں، تیرا کوئی شریک نہیں ہے۔ میں حاضر ہوں۔ بے شک حمد اور نعمت تیرے لیے مخصوص ہے اور بادشاہی بھی، تیرا کوئی شریک نہیں ہے۔“ لوگ بھی یہی تلبیہ پڑھتے رہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اس پر کچھ نہیں کہا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی تلبیے کو جاری رکھا۔ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ہماری نیت صرف حج کرنے کی تھی، عمرے کا ہمارے ذہن میں نہیں تھا، یہاں تک کہ جب ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ بیت اللہ آئے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حجرِ اسود کا استلام کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے طواف کے تین چکروں میں دوڑ کر (رمل) طواف کیا اور چار چکروں میں عام رفتار سے چل کر کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم مقامِ ابراہیم کی طرف بڑھ گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی: ﴿وَاتَّخِذُوا مِنْ مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلًّى﴾ [سورة البقرة: 125] ”اور تم لوگ ابراہیم کے کھڑے ہونے کی جگہ کو جائے نماز بنا لو۔“ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مقامِ ابراہیم کو اپنے اور بیت اللہ کے درمیان رکھا۔ (امام جعفر صادق رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں:) میرے والد یہ فرمایا کرتے تھے، میرا خیال ہے انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے یہ بات بھی ذکر کی تھی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دو رکعات میں سورہ اخلاص اور سورہ الکافرون کی تلاوت کی تھی۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حجرِ اسود کی طرف واپس آئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا استلام کیا اور پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس دروازے سے نکل کر صفا کی طرف تشریف لے گئے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم صفا کے قریب پہنچے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھی: ﴿إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ﴾ [سورة البقرة: 158] ”بے شک صفا اور مروہ اللہ تعالیٰ کی نشانیاں ہیں۔“ (پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:) «أَبْدَأُ بِمَا بَدَأَ اللَّهُ بِهِ» ”میں اس سے آغاز کرتا ہوں جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے پہلے کیا ہے۔“ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صفا سے آغاز کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر چڑھے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت اللہ کو دیکھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبلہ کی طرف رخ کیا۔ اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور اس کی کبریائی کا اعتراف کیا اور یہ پڑھا: «لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ، أَنْجَزَ وَعْدَهُ، وَنَصَرَ عَبْدَهُ، وَهَزَمَ الْأَحْزَابَ وَحْدَهُ» ”اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے، وہی ایک معبود ہے اس کا کوئی شریک نہیں ہے، بادشاہی اسی کے لیے مخصوص ہے، حمد اسی کے لیے مخصوص ہے، وہ ہر شے پر قدرت رکھتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے، وہی ایک معبود ہے، اس نے وعدے کو پورا کیا، اپنے بندے کی مدد کی اور (کافروں کے لشکروں) کو اسی نے پسپا کیا۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ کلمات تین مرتبہ پڑھے اور ان کے درمیان دعا بھی مانگی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس سے اتر کر مروہ کی طرف گئے، یہاں تک کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاؤں وادی کے نشیبی حصے میں پہنچے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم دوڑنے لگے اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اوپر کی طرف چڑھنے لگے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم عام رفتار سے چلنے لگے، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مروہ پر تشریف لائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مروہ پر بھی اسی طرح کیا جس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صفا پر کیا تھا، یہاں تک کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مروہ کا آخری طواف کر لیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”مجھے بعد میں جس چیز کا خیال آیا، اگر وہ پہلے آ جاتا تو میں قربانی کا جانور ساتھ نہ لاتا اور اسے عمرے میں تبدیل کر لیتا؛ تو تم لوگوں میں سے جس کے ساتھ قربانی کا جانور موجود نہ ہو وہ احرام کھول دے اور اسے عمرے میں تبدیل کر لے۔“ سیدنا سراقہ بن جعشم رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے۔ انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا یہ حکم اس سال کے لیے ہے یا ہمیشہ کے لیے ہے؟ راوی کہتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلیاں ایک دوسرے میں پیوست کیں اور ارشاد فرمایا: ”عمرہ حج میں داخل ہو گیا“، یہ بات آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو مرتبہ ارشاد فرمائی، (پھر فرمایا:) ”بلکہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے، بلکہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے۔“ سیدنا علی رضی اللہ عنہ یمن سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے قربانی کے جانور لے کر آئے۔ انہوں نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو اس حالت میں پایا کہ وہ احرام کھول چکی تھیں اور رنگے ہوئے کپڑے پہن چکی تھیں اور انہوں نے سرمہ لگایا ہوا تھا۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ان پر اعتراض کیا، تو انہوں نے بتایا: میرے والد نے اس بات کا حکم دیا ہے۔ راوی بیان کرتے ہیں: سیدنا علی رضی اللہ عنہ عراق میں یہ بات بیان کرتے تھے کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا اور فاطمہ کی شکایت کرنا چاہی ان کے اس عمل کی وجہ سے جو انہوں نے کیا تھا۔ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بارے میں بتایا کہ میں نے ان پر اعتراض کیا ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اس نے ٹھیک کہا ہے؛ تم نے جب حج کی نیت کی تھی، تو کیا کہا تھا؟“ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا، میں نے عرض کی: اے اللہ! میں اس کے لیے حاضر ہوں جس کی تیرے رسول نے نیت کی ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے ساتھ تو قربانی کا جانور ہے، تو تم اب احرام نہ کھولنا۔“ راوی بیان کرتے ہیں: قربانی کے جو جانور سیدنا علی رضی اللہ عنہ یمن سے لے کر آئے تھے اور جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم لے کر آئے تھے وہ مل کر ایک سو بنتے تھے۔ راوی کہتے ہیں: تمام لوگوں نے احرام کھول دیا اور بال چھوٹے کروا لیے، صرف نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا نہیں کیا اور جن لوگوں کے ساتھ قربانی کا جانور تھے انہوں نے ایسا نہیں کیا؛ جب ترویہ کا دن آیا، تو یہ لوگ منیٰ کی طرف حج کا تلبیہ پڑھتے ہوئے روانہ ہوئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سوار ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر، عصر، مغرب، عشاء اور صبح کی نمازیں ادا کیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم تھوڑی دیر ٹھہرے رہے، یہاں تک کہ سورج نکل آیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے تحت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے بالوں سے بنا ہوا ایک خیمہ وادی نمرہ میں لگا دیا گیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم روانہ ہوئے، قریش کو اس بارے میں کوئی شک نہیں تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مشعرِ حرام کے قریب وقوف کریں گے جس طرح قریش زمانہ جاہلیت میں کیا کرتے تھے، لیکن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس سے آگے گزر گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم عرفہ تشریف لے آئے، وہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑاؤ کیا، یہاں تک کہ سورج ڈھل گیا، تو اللہ کے حکم کے تحت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی قصواء پر پالان رکھ دیا گیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم وادی کے نشیبی حصے میں لوگوں کو خطبہ دینے کے لیے تشریف لائے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”بے شک تمہاری جانیں اور تمہارے مال ایک دوسرے کے لیے اسی طرح قابل احترام ہیں، جس طرح تمہارا یہ دن، اس مہینے میں، اس شہر میں قابل احترام ہے۔ خبردار! زمانہ جاہلیت سے تعلق رکھنے والی ہر چیز میرے ان پاؤں کے نیچے رکھی ہوئی ہے اور زمانہ جاہلیت کے خون معاف کر دیے گئے ہیں؛ اپنے خون کے بدلوں میں سے سب سے پہلے میں ربیعہ بن حارث کے صاحب زادے کے خون کو معاف کرتا ہوں جو بنو سعد میں دودھ پی رہے تھے اور ہذیل قبیلے کے لوگوں نے انہیں قتل کر دیا تھا اور زمانہ جاہلیت کا سود کالعدم قرار دیا جاتا ہے، سب سے پہلے میں سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کے وصول کرنے والے سود کو کالعدم قرار دیتا ہوں وہ سارے کا سارا معاف کر دیا جاتا ہے۔ تم خواتین کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہنا، کیونکہ تم نے اللہ تعالیٰ کی امان کے ہمراہ انہیں حاصل کیا ہے اور اللہ تعالیٰ کے کلام کے ہمراہ ان کی شرمگاہوں کو حلال کیا ہے؛ تمہارا ان پر یہ حق ہے کہ وہ تمہارے بچھونے پر ایسے کسی شخص کو نہ بیٹھنے دیں جسے تم ناپسند کرتے ہو، اگر وہ ایسا کرتی ہیں تو تم ان کی پٹائی کرو جس میں زیادتی نہ ہو اور ان کا تم پر یہ حق ہے کہ تم انہیں خوراک اور لباس مناسب طور پر فراہم کرو۔ میں تمہارے درمیان وہ چیز چھوڑ کر جا رہا ہوں کہ اگر تم اسے مضبوطی سے تھام لو، تو تم اس کے بعد کبھی گمراہ نہیں ہو گے، وہ اللہ کی کتاب ہے؛ اور اگر تم لوگوں سے میرے بارے میں دریافت کیا جائے، تو تم کیا جواب دو گے؟“ لوگوں نے عرض کی: ہم اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ آپ نے تبلیغ کر دی ہے، پیغام پہنچا دیا ہے اور خیر خواہی کی ہے؛ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی شہادت کی انگلی کو آسمان کی طرف بلند کر کے پھر لوگوں کی طرف کیا اور فرمایا: ”اے اللہ! تو گواہ ہو جا۔“ یہ بات آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی۔ پھر اذان دی گئی پھر اقامت کی گئی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر کی نماز ادا کی پھر اقامت کہی گئی پھر عصر کی نماز ادا کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کے درمیان کوئی نفل نماز ادا نہیں کی۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سوار ہوئے، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم وقوف کی جگہ تشریف لائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی اونٹنی قصواء کے پیٹ کو ان پتھروں کی طرف رکھا اور جبلِ مشاۃ کو اپنے سامنے کی طرف کر کے قبلہ کی طرف رخ کر لیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہیں ٹھہرے رہے، یہاں تک کہ سورج غروب ہو گیا اور زردی رخصت ہو گئی۔ اس کے تھوڑی دیر بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کو اپنے پیچھے بٹھایا اور روانہ ہو گئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی اونٹنی قصواء کی لگام کو یوں کھینچا ہوا تھا کہ اس کا سر پالان کے سرے سے لگ رہا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے دستِ مبارک کے ذریعے اشارہ کرتے ہوئے لوگوں سے یہ کہہ رہے تھے: ”اے لوگو! آرام سے چلو، آرام سے چلو۔“ جب بھی کوئی پہاڑ راستے میں آتا (یعنی چڑھائی آتی)، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم لگام کو تھوڑا سا ڈھیلا کر دیتے تھے، تاکہ وہ اس کے اوپر چڑھ جائے، یہاں تک کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مزدلفہ تشریف لے آئے، وہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مغرب اور عشاء کی نمازیں ایک اذان اور دو اقامتوں کے ہمراہ ادا کیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے درمیان کوئی نفل نماز ادا نہیں کی پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم لیٹ گئے، یہاں تک کہ صبح صادق ہو گئی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فجر کی نماز ادا کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح صادق ہونے کے بعد ایک اذان اور ایک اقامت کے ہمراہ یہ نماز ادا کی تھی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم قصواء پر سوار ہوئے اور مشعرِ حرام تک آئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبلہ کی طرف رخ کیا، اللہ تعالیٰ سے دعا مانگی، اس کی کبریائی بیان کی، اس کی معبودیت کا اعتراف کیا اور اس کی وحدانیت کا اعتراف کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسلسل وہاں ٹھہرے رہے، یہاں تک کہ اچھی طرح روشنی ہو گئی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سورج کے نکلنے سے پہلے وہاں سے روانہ ہو گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا فضل بن عباس رضی اللہ عنہما کو اپنے پیچھے بٹھا لیا، وہ ایک ایسے صاحب تھے، جن کے بال بڑے خوبصورت تھے اور خود بھی گورے چٹے اور حسین تھے؛ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے روانہ ہوئے، تو وہاں سے کچھ خواتین گزریں۔ سیدنا فضل رضی اللہ عنہما نے ان کی طرف دیکھنا شروع کر دیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دستِ مبارک سیدنا فضل رضی اللہ عنہما کے چہرے پر رکھا اور سیدنا فضل رضی اللہ عنہما کے چہرے کو دوسری طرف موڑ دیا، یہاں تک کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم وادیِ محسر میں تشریف لائے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (اونٹنی کو تھوڑی) سی حرکت دی (یعنی اس کی رفتار کو کچھ تیز کیا) پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس درمیانی راستے پر آ گئے جو جمرہ کبریٰ کی طرف جاتا ہے، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جمرہ آ گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے سات کنکریاں ماریں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر کنکری کے ہمراہ تکبیر کہی۔ وہ کنکری اتنی تھی کہ چٹکی میں آ جائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وادی کے نشیبی حصے سے کنکریاں ماری تھیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم قربان گاہ کی طرف تشریف لے گئے۔ وہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تریسٹھ (63) اونٹ اپنے دستِ مبارک کے ذریعے نحر کیے۔ باقی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے سپرد کر دیے، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے انہیں نحر کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو اپنی قربانی میں حصہ دار بنایا تھا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے تحت ہر قربانی کا کچھ حصہ لے کر ایک ہنڈیا میں پکایا گیا، ان دونوں صاحبان نے اس کا گوشت کھایا اور اس کے شوربے کو پیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سوار ہوئے اور بیت اللہ کی طرف چلے گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ میں ظہر کی نماز ادا کی پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم بنو عبدالمطلب کے پاس تشریف لائے جن سے لوگ پینے کے لیے آبِ زمزم لے رہے تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے بنو عبدالمطلب! تم لوگ پانی نکالو، اگر اس بات کا اندیشہ نہ ہوتا کہ لوگ تمہارے پانی پلانے پر غالب آ جائیں گے (یعنی لوگوں کا ہجوم زیادہ ہو جائے گا)، تو میں بھی تمہارے ساتھ پانی نکالتا۔“ لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پانی کا ڈول پیش کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پی لیا۔ روایت کے یہ الفاظ ابن ابی شیبہ کے حوالے سے حسن بن سفیان کے نقل کردہ ہیں۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) اگر ہم اس قسم کو تفصیل سے بیان کریں تو اس میں تین سنتیں داخل ہو جائیں گی اور جن اشیاء کی طرف ہم نے اشارہ کیا ہے کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی امت پر اور سب پر فرض ہیں ان میں وضو کرنا، تیمم کرنا، غسل جنابت کرنا، نماز ادا کرنا، حج کرنا اور اس جیسے دیگر امور شامل ہیں؛ جسے اللہ تعالیٰ درست چیز کی توفیق عطا کر دے اور ہدایت کے راستے کی طرف جس کی رہنمائی کر دے، اسے ان چیزوں میں زیادہ غور و فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے (بلکہ یہ چیزیں لوگوں کو ویسے ہی معلوم ہوتی ہیں)۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3944]

3945

Sahih Ibn Hibban #3945

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ السَّخْتِيَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، قَالَ : دَخَلْتُ أَنَا ، وَعُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ الْمَسْجِدَ ، فإذا عبد الله بن عمر جالس إلى حجرة عائشة ، وإذا الناس يصلون في المسجد صلاة الضحى ، قَالَ : فَسَأَلْنَاهُ عَنْ صَلاتِهِمْ ، فَقَالَ : بِدْعَةٌ ، ثُمَّ ، قَالَ : اعْتَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعًا ، إِحْدَاهُنَّ فِي رَجَبٍ فَكَرِهْنَا أَنْ نُكَذِّبَهُ ، أَوْ نَرُدَّ عَلَيْهِ ، وَسَمِعْنَا اسْتِنَانَ عَائِشَةَ فِي الْحُجْرَةِ ، فَقَالَ عُرْوَةُ : يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ أَلا تَسْمَعِينَ مَا يَقُولُ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ ؟ ، قَالَتْ : مَا يَقُولُ ؟ ، قَالَ : يَقُولُ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اعْتَمَرَ أَرْبَعَ عُمَرٍ ، إِحْدَاهُنَّ فِي رَجَبٍ ، فَقَالَتْ : يَرْحَمُ اللَّهُ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ ،مَا اعْتَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَمْرَةً ، إِلا وَهُوَ شَاهِدٌ ، وَمَا اعْتَمَرَ فِي رَجَبٍ قَطُّ "، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : فِي قَوْلِ بْنِ عُمَرَ : اعْتَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعَ عُمَرٍ إِحْدَاهُنَّ فِي رَجَبٍ ، أَبْيَنُ الْبَيَانِ أَنَّ الْخَيِّرَ الْمُتْقِنَ الْفَاضِلَ قَدْ يَنْسَى بَعْضَ مَا يَسْمَعُ مِنَ السُّنَنِ أَوْ يَشْهَدُهَا ، لأَنَّ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا اعْتَمَرَ إِلا أَرْبَعَ عُمَرٍ ، الأُولَى عَمْرَةُ الْقَضَاءِ سَنَةَ الْقَابِلِ مِنْ عَامِ الْحُدَيْبِيَةِ ، وَكَانَ ذَلِكَ فِي رَمَضَانَ ، ثُمَّ الْعُمْرَةُ الثَّانِيَةُ حَيْثُ فَتْحَ مَكَّةَ ، وَكَانَ فَتْحُ مَكَّةَ فِي رَمَضَانَ ، ثُمَّ خَرَجَ مِنْهَا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ هَوَازِنَ ، وَكَانَ مِنْ أَمْرِهِ مَا كَانَ ، فَلَمَّا رَجَعَ وَبَلَغَ الْجِعْرَانَةَ ، قَسَّمَ الْغَنَائِمَ بِهَا ، وَاعْتَمَرَ مِنْهَا إِلَى مَكَّةَ ، وَذَلِكَ فِي شَوَّالٍ ، وَاعْتَمَرَ الْعُمْرَةَ الرَّابِعَةَ فِي حَجَّتِهِ ، وَذَلِكَ فِي ذِي الْحِجَّةِ سَنَةَ عَشْرَةِ مِنَ الْهِجْرَةِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

مجاہد بیان کرتے ہیں: میں اور عروہ بن زبیر مسجد میں داخل ہوئے، وہاں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرے کے پاس تشریف فرما تھے، لوگ مسجد میں چاشت کی نماز ادا کر رہے تھے۔ راوی کہتے ہیں: ہم نے ان سے ان لوگوں کی اس نماز کے بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا: یہ بدعت ہے، پھر انہوں نے یہ بات بتائی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے چار مرتبہ عمرہ کیا تھا، جن میں ایک عمرہ رجب کے مہینے میں کیا تھا۔ ہمیں یہ بات اچھی نہیں لگی کہ ہم ان کی بات کو غلط قرار دیں یا ان کو جواب دیں، ہم نے حجرے میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے مسواک کرنے کی آواز سنی تو ان سے کہا: اے ام المؤمنین! کیا آپ سن رہی ہیں کہ سیدنا ابوعبدالرحمن رضی اللہ عنہما کیا فرما رہے ہیں؟ انہوں نے دریافت کیا: کیا فرما رہے ہیں؟ عروہ نے بتایا: یہ کہہ رہے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے چار عمرے کیے تھے، جن میں سے ایک عمرہ رجب کے مہینے میں تھا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: «يَرْحَمُ اللهُ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ» ”اللہ تعالیٰ ابوعبدالرحمن پر رحم کرے۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو بھی عمرہ کیا تھا یہ بھی اس میں شامل تھے، لیکن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے رجب میں کوئی بھی عمرہ نہیں کیا۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا یہ کہنا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے چار عمرے کیے تھے، ان میں سے ایک عمرہ رجب کے مہینے میں تھا؛ اس قول کا واضح بیان موجود ہے کہ بہتر، متقن اور فاضل شخص بھی بعض اوقات کسی ایسی چیز کو بھول سکتا ہے جو حدیث اس نے سنی ہو یا جس میں وہ موجود رہا ہو، کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف چار ہی عمرے کیے تھے: پہلا عمرہ قضا کا تھا جو حدیبیہ کے سال کے اگلے سال تھا اور یہ رمضان کے مہینے میں ہوا تھا؛ اور دوسرا عمرہ اس وقت ہوا تھا جب مکہ فتح کیا تھا اور مکہ بھی رمضان میں فتح ہوا تھا؛ پھر آپ وہاں سے ہوازن تشریف لے گئے تھے، پھر غزوہ حنین ہوا، جب وہاں سے واپس تشریف لائے اور جعرانہ کے مقام پر پہنچے، وہاں آپ نے مالِ غنیمت تقسیم کیا اور وہاں سے عمرہ کرنے کے لیے مکہ کی طرف روانہ ہو گئے، یہ شوال کے مہینے کی بات ہے؛ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے چوتھا عمرہ حج کے موقع پر کیا تھا جو سن دس ہجری کے ذوالحجہ کے مہینے میں کیا تھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3945]