Muslim99Muslim99

Sahih Ibn Hibban · Book 35 · Chapter 1

Book of Borrowing

Hadith 3866–3905

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

3866

Sahih Ibn Hibban #3866

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا الثَّقَفِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : كَانَتْ سَوْدَةُ امْرَأَةً ضَخْمَةً ثَبِطَةً ،فَاسْتَأْذَنَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنْ تُفِيضَ مِنْ جَمْعٍ بِلَيْلٍ ، فَأَذِنَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " ، وَكَانَتْ عَائِشَةُ ، تَقُولُ : " وَدِدْتُ أَنِّي كُنْتُ اسْتَأْذَنْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَمَا اسْتَأْذَنَتْهُ سَوْدَةُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا بھاری بھرکم خاتون تھیں، انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت مانگی کہ وہ مزدلفہ سے (دوسرے لوگوں سے) رات کے وقت ہی روانہ ہو جائیں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اجازت دے دی۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میری یہ خواہش تھی کہ میں نے بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح اجازت مانگ لی ہوتی، جس طرح سے سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا نے اجازت مانگی تھی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3866]

3867

Sahih Ibn Hibban #3867

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي الْحَوَارِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، قَالَ : كَانَ أَبِييُقَدِّمُ ضَعَفَةَ أَهْلِهِ مِنَ الْمُزْدَلِفَةِ إِلَى مِنًى ، وَيَذْكُرُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَفْعَلُهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سالم بیان کرتے ہیں کہ میرے والد (سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما) اپنے اہل خانہ میں سے کمزور افراد کو مزدلفہ سے پہلے ہی منیٰ کی طرف روانہ کر دیتے تھے، وہ یہ بات ذکر کرتے تھے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اسی طرح کیا تھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3867]

3868

Sahih Ibn Hibban #3868

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الأُمَوِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ إِسْحَاقَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : أَفَاضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ صَلَّى الظُّهْرَ ، ثُمَّ رَجَعَ إِلَى مِنًى ، فَأَقَامَ بِهَا أَيَّامَ التَّشْرِيقِ الثَّلاثَ ، يَرْمِي الْجِمَارَ حَتَّى تَزَولَ الشَّمْسُ بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ كُلَّ جَمْرَةٍ ، وَيُكَبِّرُ مَعَ كُلِّ حَصَاةٍ تَكْبِيرَةً يَقِفُ عِنْدَ الأُولَى ، وَعِنْدَ الْوُسْطَى بِبَطْنِ الْوَادِي ، فَيُطِيلُ الْمَقَامَ ، وَيَنْصَرِفُ إِذَا رَمَى الْكُبْرَى ، وَلا يَقِفُ عِنْدَهَا ، وَكَانَتِ الْجِمَارُ مِنْ آثَارِ إِبْرَاهِيمَ صَلَوَاتُ اللَّهِ عَلَيْهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ظہر کی نماز ادا کرنے کے بعد روانہ ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم منیٰ واپس تشریف لے آئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایام تشریق وہاں گزارے، وہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم جمرات کو کنکریاں مارتے تھے، یہاں تک کہ جب سورج ڈھل جاتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہر جمرہ کو سات کنکریاں مارتے اور ہر کنکری کے ہمراہ تکبیر کہتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پہلے اور دوسرے جمرہ کے قریب وادی کے نشیبی حصے میں ٹھہرتے تھے اور طویل قیام کرتے تھے، اور جب بڑے جمرہ کو کنکریاں مار لیتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم واپس تشریف لے جاتے تھے، اس کے پاس ٹھہرتے نہیں تھے؛ یہ جمرات سیدنا ابراہیم علیہ السلام (کے واقعہ) کی نشانیاں ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3868]

3869

Sahih Ibn Hibban #3869

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْعَبْدِيُّ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ كُهَيْلٍ ، عَنِ الْحَسَنِ الْعُرَنِيِّ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَدِمْنَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْمُزْدَلِفَةِ أُغَيْلِمَةَ بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ عَلَى حُمُرَاتٍ ، فَجَعَلَ يَلْطَحُ بِأَفْخَاذِنَا ، وَيَقُولُ : أُبَيْنِيَّ لا تَرْمُوا الْجَمْرَةَ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ہم لوگ بنو عبدالمطلب سے تعلق رکھنے والے چند نوجوان مزدلفہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں جمرات کے پاس حاضر ہوئے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے زانوں پر ہاتھ مارتے ہوئے ارشاد فرمایا: ”اے میرے بیٹو! تم اس وقت تک جمرات کو کنکریاں نہ مارنا جب تک سورج نکل نہ آئے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3869]

3870

Sahih Ibn Hibban #3870

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ ، قَالَ :رَمَى عَبْدُ اللَّهِ مِنْ بَطْنِ الْوَادِي ، فَقُلْتُ : يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ إِنَّ النَّاسَ يَرْمُونَهَا مِنْ فَوْقِهَا ، فَقَالَ : هَذَا وَالَّذِي لا إِلَهَ غَيْرُهُ الْمَقَامُ الَّذِي أُنْزِلَتْ عَلَيْهِ سُورَةُ الْبَقَرَةِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابراہیم بن عبدالرحمن بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے وادی کے نشیبی حصے سے کنکریاں ماریں، تو میں نے کہا: اے ابوعبدالرحمن! لوگ تو اوپر کی طرف سے انہیں کنکریاں مارتے ہیں، تو انہوں نے فرمایا: اس ذات کی قسم! جس کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے، یہ اس ہستی صلی اللہ علیہ وسلم کے کھڑے ہونے کی جگہ ہے جن پر ﴿سورۃ البقرہ﴾ نازل ہوئی تھی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3870]

3871

Sahih Ibn Hibban #3871

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حِبَّانُ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَوْفٌ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ حُصَيْنٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو الْعَالِيَةِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي ابْنُ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَدَاةَ الْعَقَبَةِ وَهُوَ وَاقِفٌ عَلَى رَاحِلَتِهِ : هَاتِ الْقُطْ لِي " ، فَلَقَطْتُ لَهُ حَصَيَاتٍ ، وَهِيَ حَصَى الْخَذْفِ ، فَلَمَّا وَضَعْتُهُنَّ فِي يَدِهِ ، قَالَ : " نَعَمْ ، بِأَمْثَالِ هَؤُلاءِ ، بِأَمْثَالِ هَؤُلاءِ ،وَإِيَّاكُمْ وَالْغُلُوَّ فِي الدِّينِ ، فَإِنَّمَا أَهْلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمُ الْغُلُوُّ فِي الدِّينِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ عقبہ کی صبح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری پر وقوف کیے ہوئے تھے، آپ نے ارشاد فرمایا: ”آگے آؤ اور مجھے کنکریاں چن دو۔“ میں نے آپ کو کنکریاں چن کر دیں جو اتنی چھوٹی تھیں جو چٹکی میں آ سکیں، جب میں نے انہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دستِ اقدس پر رکھا، تو آپ نے فرمایا: ”جی ہاں! اسی طرح کی ہونی چاہیے، اسی طرح کی ہونی چاہیے۔ تم لوگ دین میں غلو کرنے سے بچو، کیونکہ تم سے پہلے کے لوگ دین میں غلو کرنے کی وجہ سے ہلاکت کا شکار ہوئے تھے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3871]

3872

Sahih Ibn Hibban #3872

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ أَبِي مَعْبَدٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ ، وَكَانَ رَدِيفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ فِي عَشِيَّةِ عَرَفَةَ وَغَدَاةِ جَمْعٍ لِلنَّاسِ حِينَ دَفَعَ : عَلَيْكُمْ بِالسَّكِينَةِ " ، وَهُوَ كَافٌّ نَاقَتَهُ حَتَّى أَوْضَعَ فِي وَادٍ مُحَسِّرٍ ، وَهُوَ مِنْ مِنًى ، قَالَ :" عَلَيْكُمْ بِحَصَى الْخَذْفِ الَّذِي تُرْمَى بِهَا الْجَمْرَةَ " ، قَالَ : وَلَمْ يَزَلْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُلَبِّي حَتَّى رَمَى الْجَمْرَةَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما، سیدنا فضل بن عباس رضی اللہ عنہما کا یہ بیان نقل کرتے ہیں جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے سواری پر سوار تھے، وہ بیان کرتے ہیں: عرفہ کی شام اور مزدلفہ کی صبح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے روانگی کے وقت لوگوں سے فرمایا: ”تم لوگ آرام سے چلو۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خود بھی اپنی اونٹنی کو آہستہ رفتار سے چلا رہے تھے، وادی محسر روح میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی اونٹنی کی رفتار کو کچھ تیز کیا، یہ وادی منی کا حصہ ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم لوگوں پر اتنی چھوٹی کنکریاں اختیار کرنا لازم ہے جو چٹکی میں آ جاتی ہوں، انہیں جمرات کو مارا جائے گا۔“ سیدنا فضل بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جمرہ کی رمی کرنے تک مسلسل تلبیہ پڑھتے رہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3872]

3873

Sahih Ibn Hibban #3873

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْغَفَّارِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، قَالَ : سَمِعْتُ الْحَجَّاجَ بْنَ يُوسُفَ ، قَالَ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ أَلِّفُوَا الْقُرْآنَ كَمَا أَلَّفَهُ جِبْرَائِيلُ ، السُّورَةُ الَّتِي يُذْكَرُ فِيهَا الْبَقَرَةُ ، السُّورَةُ الَّتِي يُذْكَرُ فِيهَا آلُ عِمْرَانَ ، السُّورَةُ الَّتِي يُذْكَرُ فِيهَا النِّسَاءُ " ، قَالَ الأَعْمَشُ : فَلَقِيتُ إِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيَّ ، فَأَخْبَرْتُهُ ، فَسَبَّهُ ، ثُمَّ قَالَ إِبْرَاهِيمُ : حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَزِيدَ ، أَنَّهُ كَانَ مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ حِينَرَمَى جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ ، فَاسْتَبْطَنَ الْوَادِيَ ، فَرَمَاهَا مِنْ بَطْنِ الْوَادِي بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ ، يُكَبِّرُ مَعَ كُلِّ حَصَاةٍ ، فَقُلْتُ : يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، إِنَّ النَّاسَ يَرْمُونَهَا مِنْ فَوْقِهَا ، فَقَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ : " هَذَا وَالَّذِي لا إِلَهَ غَيْرُهُ مَقَامُ الَّذِي أُنْزِلَتْ عَلَيْهِ سُورَةُ الْبَقَرَةِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

اعمش رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: میں نے حجاج بن یوسف کو منبر پر یہ بات کہتے ہوئے سنا: تم قرآن کو اسی طرح پڑھو جس طرح سیدنا جبرائیل علیہ السلام نے اسے پڑھا تھا (یعنی یہ کہو) وہ سورۃ جس میں گائے کا ذکر ہے، وہ سورۃ جس میں آل عمران کا ذکر ہے، وہ سورۃ جس میں خواتین کا ذکر ہے۔ اعمش رحمہ اللہ کہتے ہیں: پھر میری ملاقات ابراہیم نخعی رحمہ اللہ سے ہوئی، میں نے انہیں اس بارے میں بتایا، تو انہوں نے حجاج کو برا کہا؛ پھر ابراہیم نخعی رحمہ اللہ نے بتایا: عبدالرحمن بن یزید رحمہ اللہ نے مجھے یہ بات بتائی ہے کہ وہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے اس وقت جب انہوں نے جمرہ عقبہ کو کنکریاں ماری تھیں۔ وہ وادی کے نشیبی حصے میں کھڑے ہوئے تھے۔ انہوں نے وادی کے نشیبی حصے سے سات کنکریاں ماریں، ہر کنکری کے ہمراہ تکبیر کہی۔ میں نے کہا: اے ابوعبدالرحمن! لوگ تو وادی کے اوپر والے حصے سے انہیں کنکریاں مارتے ہیں۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اس ذات کی قسم! جس کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے، یہ اس ہستی صلی اللہ علیہ وسلم کے کھڑے ہونے کی جگہ ہے جن پر ﴿سورة البقرة﴾ نازل ہوئی تھی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3873]

3874

Sahih Ibn Hibban #3874

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ أَخيهِ ، عَنْ أَبِي كَاهِلٍ قَالَ إِسْمَاعِيلُ : وَقَدْ رَأَيْتُ أَبَا كَاهِلٍ ، قَالَ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَيَخْطُبُ النَّاسَ يَوْمَ عِيدٍ عَلَى نَاقَةٍ لَهُ خَرْمَاءَ ، وَحَبَشِيٌّ مُمْسِكٌ بِخِطَامِهَا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

اسماعیل بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا ابوکاہل رضی اللہ عنہ کو یہ بات بیان کرتے ہوئے سنا ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، آپ عید کے دن لوگوں کو خطبہ دے رہے تھے، آپ ایک اونٹنی پر سوار تھے جس کے کان (کا کچھ حصہ) کٹا ہوا تھا اور ایک سیاہ فام شخص نے اس اونٹنی کی لگام کو پکڑا ہوا تھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3874]

3875

Sahih Ibn Hibban #3875

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي الْهِرْمَاسُ بْنُ زِيَادٍ الْبَاهِلِيُّ ، قَالَ : أَبْصَرْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَبِي ، وَأَنَا مُرْدِفٌ وَرَاءَهُ عَلَى جَمَلٍ ، وَأَنَا صَبِيٌّ صَغِيرٌ ، فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَيَخْطُبُ النَّاسَ عَلَى نَاقَتِهِ الْعَضْبَاءِ بِمِنًى """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ہرماس بن زیاد باہلی رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: میں نے اور میرے والد نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کی ہے، میں اس وقت اونٹ پر اپنے والد کے پیچھے سوار تھا، میں کم سن بچہ تھا، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو منیٰ میں اپنی اونٹنی «عَضْبَاءَ» پر (سوار ہو کر) لوگوں کو خطبہ دیتے ہوئے دیکھا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3875]

3876

Sahih Ibn Hibban #3876

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ زُهَيْرٍ بِتُسْتَرَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ : أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنْرَجُلٍ حَلَقَ قَبْلَ أَنْ يَذْبَحَ ، أَوْ ذَبَحَ قَبْلَ أَنْ يَرْمِيَ ؟ فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : لا حَرَجَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسے شخص کے بارے میں دریافت کیا گیا جو ذبح کرنے سے پہلے سرمنڈوا لیتا ہے یا رمی کرنے سے پہلے جانور ذبح کر لیتا ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہی فرماتے رہے: ”کوئی گناہ نہیں ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3876]

3877

Sahih Ibn Hibban #3877

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ الطَّائِيُّ ، أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عِيسَى بْنِ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ : وَقَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ بِمِنًى لِلنَّاسِ ، يَسْأَلُونَهُ ، فَجَاءَهُ رَجُلٌ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِلَمْ أَشْعُرْ ، فَحَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَذْبَحَ ؟ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اذْبَحْ وَلا حَرَجَ " ، فَجَاءَهُ رَجُلٌ آخَرُ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، لَمْ أَشْعُرْ فَنَحَرْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِيَ ؟ ، فَقَالَ : " ارْمِ وَلا حَرَجَ " ، فَمَا سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ شَيْءٍ قُدِّمَ وَلا أُخِّرَ إِلا ، قَالَ : " افْعَلْ وَلا حَرَجَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ حجۃ الوداع کے موقع پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم منی میں لوگوں کے لیے وقوف کیے ہوئے تھے، لوگ آپ سے مسائل دریافت کر رہے تھے۔ ایک شخص آپ کی خدمت میں حاضر ہوا، اس نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! مجھے پتہ نہیں تھا میں نے رمی کرنے سے پہلے ہی قربانی کر لی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اب رمی کر لو کوئی حرج نہیں ہے“ (راوی کہتے ہیں:) اس دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی بھی چیز کے پہلے یا بعد میں کیے جانے کے بارے میں پوچھا جاتا، تو آپ یہی فرماتے: ”تم اب کر لو کوئی حرج نہیں ہے“۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3877]

3878

Sahih Ibn Hibban #3878

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ رَجُلا ، قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِذَبَحْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِيَ ؟ ، فَقَالَ : ارْمِ وَلا حَرَجَ " ، فَقَالَ آخَرُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، حَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَذْبَحَ ؟ ، قَالَ : " اذْبَحْ وَلا حَرَجَ " ، فَقَالَ آخَرُ : طُفْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِيَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ ، فَقَالَ : " ارْمِ وَلا حَرَجَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں نے رمی کرنے سے پہلے ذبح کر لیا ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اب رمی کر لو، کوئی حرج نہیں ہے“۔ دوسرے صاحب نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں نے ذبح کرنے سے پہلے سر منڈوا لیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اب ذبح کر لو، کوئی حرج نہیں ہے“۔ ایک اور شخص نے دریافت کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں نے رمی کرنے سے پہلے طواف کر لیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اب رمی کر لو، کوئی حرج نہیں ہے“۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3878]

3879

Sahih Ibn Hibban #3879

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ الْعَدَنِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ : سَمِعْتُ هِشَامَ بْنَ حَسَّانَ يُخْبِرُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : لَمَّا رَمَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْجَمْرَةَ ، وَنَحَرَ نُسُكَهُ نَاوَلَ الْحَلاقَ شِقَّهُ الأَيْمَنَ فَحَلَقَهُ ، ثُمَّ نَاوَلَ أَبَا طَلْحَةَ الأَنْصَارِيَّ فَأَعْطَاهُ إِيَّاهُ ، ثُمَّ نَاوَلَهُ الشِّقَّ الأَيْسَرَ ، فَقَالَ : أَحْلِقْهُ ، فَحَلَقَهُ ، فَأَعْطَاهُ أَبَا طَلْحَةَ ، وَقَالَ : اقْسِمْهُ بَيْنَ النَّاسِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جمرہ کی رمی کر لی اور اپنی قربانی کو قربان کر لیا، تو آپ نے اپنے سر کا دایاں حصہ حجام کی طرف بڑھایا، اس نے اسے مونڈ دیا، پھر آپ نے (اپنے بال) سیدنا ابوطلحہ انصاری رضی اللہ عنہ کو دیے، پھر آپ نے (دوسرا حصہ حجام کی طرف) بڑھایا اور فرمایا: ”اسے مونڈ دو“ اس نے اسے مونڈ دیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے (اس حصے کے بال بھی) سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کو عطا کر دیے اور فرمایا: ”انہیں لوگوں کے درمیان تقسیم کر دو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3879]

3880

Sahih Ibn Hibban #3880

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الأَنْصَارِيُّ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : اللَّهُمَّ ارْحَمِ الْمُحَلِّقِينَ " ، قَالُوا : وَالْمُقَصِّرِينَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ ، قَالَ : " اللَّهُمَّ ارْحَمِ الْمُحَلِّقِينَ " ، قَالُوا : وَالْمُقَصِّرِينَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ ، قَالَ : " وَالْمُقَصِّرِينَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا مانگی: «اللَّهُمَّ ارْحَمِ الْمُحَلِّقِينَ» ”اے اللہ! سر منڈوانے والوں پر رحم کر،“ لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! بال چھوٹے کروانے والوں کے لیے (دعائے رحمت کیجیے)، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے (پھر) دعا کی: «اللَّهُمَّ ارْحَمِ الْمُحَلِّقِينَ» ”اے اللہ! سر منڈوانے والوں پر رحم کر،“ لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! بال چھوٹے کروانے والوں (کے لیے بھی دعا کیجیے)، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «وَالْمُقَصِّرِينَ» ”اور بال چھوٹے کروانے والوں (پر بھی رحم کر)۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3880]

3881

Sahih Ibn Hibban #3881

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الْعَابِدُ بِالْبَصْرَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ حِسَابٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَتْ عَائِشَةُ : طَيَّبْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ مِنًى قَبْلَ أَنْ يَزُورَ الْبَيْتَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سالم بن عبداللہ بیان کرتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے یہ بات بیان کی ہے: میں نے منی میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو خوشبو لگائی تھی اس سے پہلے کہ آپ بیت اللہ کی زیارت کرتے (یعنی حج سے فارغ ہونے کے بعد ایسا کرتے)۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3881]

3882

Sahih Ibn Hibban #3882

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَرْعَرَةَ بْنِ الْبِرِنْدِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا نَافِعٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ : أَنَّهُ كَانَيُفِيضُ يَوْمَ النَّحْرِ ، ثُمَّ يَرْجِعُ ، فَيُصَلِّي الظُّهْرَ بِمِنًى ، وَيُذْكَرُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَفْعَلُهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے بارے میں منقول ہے کہ وہ قربانی کے دن روانہ ہو جاتے، پھر واپس آتے اور ظہر کی نماز منیٰ میں ادا کرتے تھے، اور وہ یہ ذکر کرتے تھے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ”ایسا ہی کیا تھا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3882]

3883

Sahih Ibn Hibban #3883

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّامِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَأَفَاضَ يَوْمَ النَّحْرِ ، ثُمَّ رَجَعَ ، فَصَلَّى الظُّهْرَ بِمِنًى """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم قربانی کے دن تشریف لے گئے، پھر آپ واپس تشریف لے آئے اور آپ نے ظہر کی نماز منیٰ میں ادا کی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3883]

3884

Sahih Ibn Hibban #3884

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ جَدِّي ، قَالَ : حَدَّثَنِي خَالِدُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلالٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَصَلَّى الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ ، وَالْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ ، وَرَقَدَ رَقْدَةً بِمِنًى ، ثُمَّ رَكِبَ إِلَى الْبَيْتِ ، فَطَافَ بِهِ "، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي خَبَرِ ابْنِ عُمَرَ : " أَنَّهُ كَانَ يُفِيضُ يَوْمَ النَّحْرِ ، ثُمَّ يَرْجِعَ ، فَيُصَلِّي الظُّهْرَ بِمِنًى " ، وَفِي خَبَرِ أَنَسٍ : " أَنَّهُ صَلَّى الظُّهْرَ ، وَالْعَصْرَ ، وَالْمَغْرِبَ ، وَالْعِشَاءَ ، وَرَقَدَ رَقْدَةً بِمِنًى ، ثُمَّ رَكِبَ إِلَى الْبَيْتِ ، فَطَافَ بِهِ " ، فَجَعَلَ أَنَسٌ طَوَافَهُ لِلزِّيَارَةِ بِاللَّيْلِ ، وَأَخْبَرَنَا ابْنُ عُمَرَ : " أَنَّهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَافَ الزِّيَارَةَ قَبْلَ الظُّهْرِ " ، وَتِلْكَ حَجَّةٌ وَاحِدَةٌ ، وَطَوَافٌ وَاحِدٌ لِلزِّيَارَةِ ، وَالَّذِي يَجْمَعُ بَيْنَ الْخَبَرَيْنِ بِهِ ، " أَنَّهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَمَى جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ ، وَنَحَرَ ، ثُمَّ تَطَيَّبَ لِلزِّيَارَةِ ، ثُمَّ أَفَاضَ ، فَطَافَ بِالْبَيْتِ طَوَافَ الزِّيَارَةِ ، ثُمَّ رَجَعَ إِلَى مِنًى ، فَصَلَّى الظُّهْرَ بِهَا ، وَالْعَصْرَ ، وَالْمَغْرِبَ ، وَالْعِشَاءَ ، وَرَقَدَ رَقْدَةً بِهَا ، ثُمَّ رَكِبَ إِلَى الْبَيْتِ ثَانِيًا ، فَطَافَ بِهَا طَوَافًا آخَرَ بِاللَّيْلِ دُونَ أَنْ يَكُونَ بَيْنَ الْخَبَرَيْنِ تَضَادٌ أَوْ تَهَاتُرٌ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر اور عصر، مغرب اور عشاء کی نمازیں ادا کیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم منی میں تھوڑی دیر کے لیے سو گئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سوار ہو کر بیت اللہ کی طرف آئے اور اس کا طواف کیا۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی نقل کردہ روایت میں یہ بات مذکور ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم قربانی کے دن روانہ ہوئے تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم واپس تشریف لے آئے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منی میں ظہر کی نماز ادا کی تھی، جبکہ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے منقول روایات میں یہ بات مذکور ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر، عصر، مغرب اور عشاء کی نمازیں ادا کی تھیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم منی میں تھوڑی دیر کے لیے سو گئے تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سوار ہو کر بیت اللہ گئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا طواف کیا۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے یہ بات بیان کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے طوافِ زیارت رات کے وقت کیا تھا، جبکہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے یہ بات بیان کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے طوافِ زیارت ظہر سے پہلے کیا تھا، تو یہ ایک ہی حج کی بات ہے اور ایک ہی مرتبہ طوافِ زیارت کیا تھا، تو جن حضرات نے ان دونوں روایات کو جمع کیا ہے انہوں نے یہ بات بیان کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جمرہ عقبہ کی رمی کی، قربانی کی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے طوافِ زیارت کیا اور خوشبو لگائی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم روانہ ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت اللہ کا طوافِ زیارت کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم منی تشریف لے آئے، وہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر کی نماز ادا کی، عصر، مغرب اور عشاء کی نمازیں ادا کیں، پھر وہاں کچھ دیر کے لیے سو گئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سوار ہو کر دوبارہ بیت اللہ کی طرف گئے اور وہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رات کے وقت دوسری مرتبہ طواف کیا، تو اس طرح ان دونوں روایات میں کوئی تضاد اور اختلاف باقی نہیں رہے گا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3884]

3885

Sahih Ibn Hibban #3885

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّامِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَأَفَاضَ يَوْمَ النَّحْرِ ، ثُمَّ رَجَعَ ، فَصَلَّى الظُّهْرَ بِمِنًى """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم قربانی کے دن تشریف لے گئے، پھر آپ واپس تشریف لائے اور آپ نے منی میں ظہر کی نماز ادا کی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3885]

3886

Sahih Ibn Hibban #3886

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : رَمَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْجَمْرَةَ يَوْمَ النَّحْرِ ضَحَّى ، ثُمَّ رَمَى سَائِرَهُنَّ عِنْدَ الزَّوَالِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی کے دن چاشت کے وقت جمرہ کو کنکریاں ماریں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے باقی دنوں میں زوال کے وقت کنکریاں ماری تھیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3886]

3887

Sahih Ibn Hibban #3887

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا طَلْحَةُ بْنُ يَحْيَى ، عَنْ يُونُسَ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ : أَنَّهُ كَانَيَرْمِي الْجَمْرَةَ الأُولَى بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ يُكَبِّرُ مَعَ كُلِّ حَصَاةٍ ، ثُمَّ يَتَقَدَّمُ فَيَقُومُ مُسْتَقْبِلا الْقِبْلَةَ قِيَامًا طَوِيلا فَيَدْعُو ، وَيَرْفَعُ يَدَيْهِ ، ثُمَّ يَرْمِي الْجَمْرَةَ ذَاتَ الْعَقَبَةِ مِنْ بَطْنِ الْوَادِي ، وَلا يَقِفُ عِنْدَهَا ، ثُمَّ يَنْصَرِفُ ، وَيَقُولُ : هَكَذَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے بارے میں یہ بات منقول ہے کہ وہ پہلے جمرہ کو سات کنکریاں مارتے تھے، ہر کنکری کے ہمراہ تکبیر کہتے تھے، پھر آگے بڑھ جاتے اور قبلہ کی طرف رخ کر کے کھڑے ہو جاتے، وہ طویل قیام کرتے اور دعا مانگتے تھے، دونوں ہاتھوں کو بلند کرتے تھے، پھر ذات عقبہ والے جمرہ کو وادی کے نشیبی حصے سے کنکریاں مارتے تھے، وہ اس کے پاس ٹھہرتے نہیں تھے، پھر واپس آ جاتے تھے اور یہ کہتے تھے: ”میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح کرتے ہوئے دیکھا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3887]

3888

Sahih Ibn Hibban #3888

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي الْبَدَّاحِ بْنِ عَدِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ : أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَرَخَّصَ لِلرِّعَاءِ ، أَنْ يَرْمُوا يَوْمًا ، وَيَدَعُوا يَوْمًا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابوالبداح اپنے والد رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے (اونٹوں کے) چرواہوں کو اس بات کی اجازت دی کہ وہ ”ایک دن کنکریاں ماریں اور ایک دن نہ ماریں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3888]

3889

Sahih Ibn Hibban #3889

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي نَافِعٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ : أَنَّ الْعَبَّاسَ بْنَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ اسْتَأْذَنَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْيَبِيتَ بِمَكَّةَ لَيَالٍ مِنْ أَجْلِ سِقَايَتِهِ فَأَذِنَ لَهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بات کی اجازت مانگی کہ وہ منی کی راتیں مکہ میں بسر کریں، اس کی وجہ یہ تھی کہ انہوں نے (حاجیوں کو) پانی پلانا ہوتا ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اجازت دے دی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3889]

3890

Sahih Ibn Hibban #3890

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَرَخَّصَ لِلْعَبَّاسِ أَنْ يَبِيتَ بِمَكَّةَ أَيَّامَ مِنًى مِنْ أَجْلِ سِقَايَتِهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کو اس بات کی اجازت دی تھی کہ وہ ”منی کے دنوں کی راتیں مکہ میں بسر کریں“ کیونکہ انہوں نے حاجیوں کو (آب زمزم) پلانا ہوتا تھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3890]

3891

Sahih Ibn Hibban #3891

أَخْبَرَنَا الْمُفَضَّلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الْجَنَدِيُّ بِمَكَّةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ زِيَادٍ اللَّحْجِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو قُرَّةَ مُوسَى بْنُ طَارِقٍ السَّكْسَكِيُّ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ : أَنَّ الْعَبَّاسَ بْنَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ اسْتَأْذَنَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْيَبِيتَ بِمَكَّةَ لَيَالٍ مِنْ أَجْلِ سِقَايَتِهِ ، فَأَذِنَ لَهُ مِنْ أَجْلِ السِّقَايَةِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بات کی اجازت مانگی کہ وہ منیٰ کی راتیں مکہ میں بسر کریں، کیونکہ انہوں نے (حاجیوں کو آب زمزم) پلانا ہوتا ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے پلانے کی خدمت کی وجہ سے انہیں اس بات کی اجازت دے دی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3891]

3892

Sahih Ibn Hibban #3892

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ الشَّرْقِيِّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرِ بْنِ الْحَكَمِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَطَاءٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَعْمَرَ الدِّيلِيِّ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : الْحَجُّ عَرَفَاتٌ ، فَمَنْ أَدْرَكَ عَرَفَةَ لَيْلَةَ جَمْعٍ قَبْلَ أَنْ يَطْلُعَ الْفَجْرُ ، فَقَدْ أَدْرَكَ أَيَّامُ مِنًى ثَلاثَةُ أَيَّامٍ ، فَمَنْ تَعَجَّلَ فِي يَوْمَيْنِ فَلا إِثْمَ عَلَيْهِ ، وَمَنْ تَأَخَّرَ فَلا إِثْمَ عَلَيْهِ "، قَالَ ابْنُ عُيَيْنَةَ : فَقُلْتُ لِسُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ : لَيْسَ عِنْدَكُمْ بِالْكُوفَةِ حَدِيثٌ أَشْرَفُ وَلا أَحْسَنُ مِنْ هَذَا"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبدالرحمن بن یعمر دیلی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ” «الْحَجُّ عَرَفَةُ» ”حج عرفات (میں وقوف کا نام) ہے“، جو شخص مزدلفہ کی رات صبح صادق ہونے سے پہلے عرفہ پہنچ جاتا ہے وہ منیٰ کے ایام جو تین دن ہیں انہیں پا لیتا ہے، ﴿فَمَن تَعَجَّلَ فِي يَوْمَيْنِ فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ وَمَن تَأَخَّرَ فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ﴾ [سورة البقرة: 203] ”جو شخص دو دنوں کے بعد پہلے چلا جائے، تو اسے بھی کوئی گناہ نہیں ہے اور جو ٹھہرا رہے اور تین دن کے بعد جائے اسے بھی کوئی گناہ نہیں ہے“۔“ ابن عیینہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے سفیان ثوری رحمہ اللہ سے کہا: آپ لوگوں کے پاس کوفہ میں کوئی ایسی حدیث نہیں ہو گی جو اس حدیث سے زیادہ معزز اور عمدہ ہو۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3892]

3893

Sahih Ibn Hibban #3893

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ خَالِدٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَيُصَلِّي بِمِنًى رَكْعَتَيْنِ ، وَأَبُو بَكْرٍ ، وَعُمَرُ ، وَعُثْمَانُ ، ثُمَّ صَلَّى عُثْمَانُ بَعْدَ أَرْبَعًا ، وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ يُصَلِّي مَعَ الإِمَامِ بِصَلاتِهِ ، فَإِذَا صَلَّى وَحْدَهُ صَلَّى أَرْبَعًا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم منیٰ میں دو رکعات ادا کرتے تھے، سیدنا ابوبکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ بھی (دو رکعات ہی ادا کرتے تھے)، پھر اس کے بعد سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے یہاں چار رکعات ادا کرنا شروع کر دیں، سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما امام کی اقتداء میں ان کی نماز کے مطابق نماز ادا کرتے تھے اور جب تنہا نماز ادا کرتے تھے، تو دو رکعات ادا کرتے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3893]

3894

Sahih Ibn Hibban #3894

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الصَّبَّاحِ الْبَزَّارُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : عُكَاظُ وَذُو الْمَجَازِ أَسْوَاقٌ كَانَتْ لَهُمْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ ، فَلَمَّا جَاءَ اللَّهُ بِالإِسْلامِ كَأَنَّهُمْ تَأَثَّمُوا ، أَنْ يَتَّجِرُوا فِي الْحَجِّ ، فَسَأَلُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَنَزَلَتْ لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَنْ تَبْتَغُوا فَضْلا مِنْ رَبِّكُمْ فِي مَوَاسِمِ الْحَجِّ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ عکاظ اور ذوالجاز زمانہ جاہلیت کے بازار تھے (جو حج کے موقع پر لگا کرتے تھے)، جب اللہ تعالیٰ نے اسلام (کو غلبہ عطا کر دیا) تو لوگوں نے حج کے موقع پر تجارت کرنے کو گناہ سمجھا، لوگوں نے اس بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا تو یہ آیت نازل ہوئی: ﴿لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَن تَبْتَغُوا فَضْلًا مِّن رَّبِّكُمْ﴾ [سورة البقرة: 198] ”تم لوگوں پر کوئی گناہ نہیں ہے، اگر تم اپنے پروردگار کا فضل تلاش کرتے ہو۔“ (اس سے مراد یہ ہے) کہ حج کے موقع پر ایسا کرتے ہو۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3894]

3895

Sahih Ibn Hibban #3895

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ الصُّوفِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، وَمَعْمَرٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ : أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَبَا بَكْرٍ ، وَعُمَرَ ، وَعُثْمَانَ ، كَانُوايَنْزِلُونَ الْمُحَصَّبَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ وادی محصب میں پڑاؤ کیا کرتے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3895]

3896

Sahih Ibn Hibban #3896

أَخْبَرَنَا حَامِدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شُعَيْبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ أَسْمَاءَ ، وَعَائِشَةَ كانتا لا تُحَصِّبَانِ ، قَالَتْ عَائِشَةُ : إِنَّمَانَزَلَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، لأَنَّهُ كَانَ أَسْمَحَ لِخُرُوجِهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ہشام بن عروہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ سیدہ اسماء اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہما وادیِ محصب میں پڑاؤ نہیں کیا کرتی تھیں، اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی تھیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہاں اس لیے پڑاؤ کیا تھا کیونکہ یہ روانگی کے لیے زیادہ آسان تھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3896]

3897

Sahih Ibn Hibban #3897

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ الأَحْوَلِ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : كَانَ النَّاسُ يَنْفِرُونَ مِنْ كُلِّ وَجْهٍ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لا يَنْفِرَنَّ أَحَدٌ حَتَّى يَكُونَ آخِرَ عَهْدِهِ الطَّوَافُ بِالْبَيْتِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ پہلے لوگ کسی بھی سمت سے روانہ ہو جایا کرتے تھے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”کوئی بھی شخص اس وقت تک واپس روانہ نہ ہو جب تک وہ سب سے آخر میں بیت اللہ کا طواف نہ کرے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3897]

3898

Sahih Ibn Hibban #3898

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ السَّامِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا وهَيْبٌ ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : رَخَّصَ لِلْحَائِضِ أَنْ تَنْفِرَ إِذَا حَاضَتْ " ، قَالَ : وَسَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ ، يَقُولُ : " إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَخَّصَ لَهُنَّ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے) ”حیض والی خواتین کو اس بات کی اجازت دی ہے کہ جب اسے حیض آیا ہو، تو وہ (بیت اللہ کا طواف کرنے سے پہلے) روانہ ہو سکتی ہے۔“ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ”بے شک اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ان خواتین کو اس بات کی رخصت دی ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3898]

3899

Sahih Ibn Hibban #3899

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مُسَرِّحٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَمِّي الْوَلِيدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مُسَرِّحٍ ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : مَنْ حَجِّ الْبَيْتَ ، فَلْيَكُنْ آخِرَ عَهْدِهِ بِالْبَيْتِ ، إِلا الْحُيَّضَ رَخَّصَ لَهُنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ”جو شخص حج کرے اسے سب سے آخر میں بیت اللہ کا طواف کرنا چاہیے،“ البتہ حیض والی خواتین کا حکم مختلف ہے، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں رخصت دی ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3899]

3900

Sahih Ibn Hibban #3900

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مَعْشَرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى الْقَطَّانُ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِمَا أَرَى صَفِيَّةَ إِلا حَابِسَتَنَا ، قَالَ : مَا شَأْنُهَا ؟ " ، قُلْتُ : حَاضَتْ ، قَالَ : " أَمَا كَانَتْ طَافَتْ قَبْلَ ذَلِكَ ؟ " ، قُلْتُ : بَلَى ، وَلَكِنَّهَا حَاضَتْ ، قَالَ : " فَلا حَبْسَ عَلَيْهَا فَلْتَنْفِرْ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں نے عرض کی: ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میرا خیال ہے سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کی وجہ سے ہمیں رکنا پڑے گا۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”اسے کیا ہوا ہے؟“ ہم نے عرض کی: انہیں حیض آ گیا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا وہ پہلے طواف نہیں کر چکی ہے؟“ ہم نے عرض کی: جی ہاں، لیکن انہیں حیض آ گیا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر اس کا رکنا ضروری نہیں ہے، وہ روانہ ہو سکتی ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3900]

3901

Sahih Ibn Hibban #3901

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّ زَيْنَبَ بِنْتَ أُمِّ سَلَمَةَ حَدَّثَتْهُ ، أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ ، حَدَّثَتْهَا ، قَالَتْ : بَيْنَمَا أَنَا مَضْجِعَةٌ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْخَمِيلَةِ ، إِذْ حِضْتُ فَانْسَلَلْتُ ، فَأَخَذْتُ ثِيَابَ حِيضَتِي ، فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَنَفِسْتِ ؟ " ، قُلْتُ : نَعَمْ ، فَدَعَانِي ، فَأَضْجَعْتُ مَعَهُ فِي الْخَمِيلَةِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ زینب بنت ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے انہیں یہ بات بتائی: ایک مرتبہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ لحاف میں لیٹی ہوئی تھی، اسی دوران مجھے حیض آ گیا، میں اٹھ کر آ گئی اور میں نے اپنے حیض کے کپڑے رکھے (اور واپس آئی)، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے دریافت کیا: ”کیا تمہیں حیض آ گیا تھا؟“ میں نے عرض کی: جی ہاں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلایا اور میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ لحاف میں لیٹ گئی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3901]

3902

Sahih Ibn Hibban #3902

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ : أَنَّ صَفِيَّةَ بِنْتَ حُيَيٍّ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَحَاضَتْ ، فَذُكِرَ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : أَحَابِسَتُنَا هِيَ ؟ " ، فَقِيلَ لَهُ : إِنَّهَا قَدْ أَفَاضَتْ ، قَالَ : " فَلا إِذًا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کو حیض آ گیا، اس بات کا تذکرہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا گیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”کیا اس کی وجہ سے ہمیں رکنا پڑے گا؟“ آپ کو بتایا گیا کہ وہ طوافِ افاضہ کر چکی ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر کوئی حرج نہیں ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3902]

3903

Sahih Ibn Hibban #3903

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي اللَّيْثُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، وَعُرْوَةُ أَنَّ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : حَاضَتْ صَفِيَّةُ بِنْتُ حُيَيٍّ بَعْدَمَا طَافَتْ ، قَالَتْ عَائِشَةُ : فَذَكَرْتُ حَيْضَتَهَا لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَحَابِسَتُنَا هِيَ ؟ " ، قَالَتْ : فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّهَا قَدْ كَانَتْأَفَاضَتْ وَطَافَتْ بِالْبَيْتِ ، ثُمَّ حَاضَتْ بَعْدَ الإِفَاضَةِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فَلْتَنْفِرْ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ سیدہ صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا کو طواف کرنے کے بعد حیض آ گیا، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں نے ان کے حیض کا تذکرہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”کیا اس کی وجہ سے ہمیں رکنا پڑے گا؟“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! وہ طوافِ افاضہ کر چکی ہیں، اس کے بعد انہیں حیض آیا ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر وہ روانہ ہو سکتی ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3903]

3904

Sahih Ibn Hibban #3904

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مَعْشَرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى الْقَطَّانُ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، قَالَ : سَمِعْتُ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا ، قَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ،مَا أَرَى صَفِيَّةَ إِلا حَابِسَتَنَا ، قَالَ : وَمَا شَأْنُهَا ؟ " ، قَالَتْ : حَاضَتْ ، قَالَ : " أَمَا كَانَتْ أَفَاضَتْ ؟ " ، قُلْتُ : بَلَى ، وَلَكِنَّهَا حَاضَتْ ، قَالَ : " فَلا حَبْسَ عَلَيْهَا فَلْتَنْفِرْ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں، انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میرا خیال ہے سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کی وجہ سے ہمیں رکنا پڑے گا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”اسے کیا ہوا ہے؟“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بتایا: انہیں حیض آ گیا ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا وہ طوافِ افاضہ کر چکی ہے؟“ میں نے عرض کی: جی ہاں، لیکن انہیں حیض آ گیا ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر اس کا رکنا ضروری نہیں ہے، وہ روانہ ہو سکتی ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3904]

3905

Sahih Ibn Hibban #3905

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، أَنَّ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : حَاضَتْ صَفِيَّةُ بِنْتُ حُيَيٍّ بَعْدَمَا أَفَاضَتْ ، قَالَتْ عَائِشَةُ : فَذِكْرُتُ حَيْضَتَهَا لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَحَابِسَتُنَا هِيَ ؟ " ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّهَا قَدْأَفَاضَتْ ، وَطَافَتْ بِالْبَيْتِ ، ثُمَّ حَاضَتْ بَعْدَ الإِفَاضَةِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فَلْتَنْفِرْ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ سیدہ صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا کو طوافِ افاضہ کرنے کے بعد حیض آ گیا، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میں نے ان کے حیض کا تذکرہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”کیا اس کی وجہ سے ہمیں رکنا پڑے گا؟“ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! وہ طوافِ افاضہ کر چکی ہیں، طوافِ افاضہ کرنے کے بعد انہیں حیض آیا ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر وہ روانہ ہو سکتی ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3905]