Muslim99Muslim99

Sahih Ibn Hibban · Book 34 · Chapter 3

Book of Compromise

Hadith 3832–3865

34 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

3832

Sahih Ibn Hibban #3832

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْذِرِ بْنِ سَعِيدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ الأَحْوَلُ ، أَنَّ طَاوُسًا ، أَخْبَرَنَا ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ : أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَمَرَّ وَهُوَ يَطُوفُ بِالْكَعْبَةِ بِإِنْسَانٍ قَدْ رَبَطَ يَدَهُ بِإِنْسَانٍ آخَرَ بِسَيْرٍ ، أَوْ بِخَيْطٍ ، أَوْ شَيْءٍ غَيْرِ ذَلِكَ ، فَقَطَعَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَ قَالَ : قَدَّهُ بِيَدِهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا خانہ کعبہ کا طواف کرتے ہوئے ایک ایسے شخص کے پاس سے گزر ہوا جس نے رسی سے ہاتھ بندھوا کر دوسرے شخص کے ہاتھ میں (رسی کا دوسرا سرا) دیا ہوا تھا یا اس کے علاوہ شاید کوئی اور چیز تھی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کاٹ دیا اور فرمایا: ”تم (اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے ساتھ لے کر چلو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3832]

3833

Sahih Ibn Hibban #3833

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ نَوْفَلٍ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّهَا ، قَالَتْ : شَكَوْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنِّي أَشْتَكِي ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : طُوفِي مِنْ وَرَاءِ النَّاسِ ، وَأَنْتِ رَاكِبَةٌ " ، قَالَتْ : فَطُفْتُ ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَئِذٍ يُصَلِّي إِلَى جَنْبِ الْبَيْتِ ، وَهُوَ يَقْرَأُ بِ الطُّورِ وَكِتَابٍ مَسْطُورٍ "

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں شکایت کی کہ میں بیمار ہوں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم لوگوں سے پیچھے سوار ہو کر طواف کر لو۔“ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: تو میں نے طواف کر لیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت خانہ کعبہ کے پہلو کی طرف رخ کر کے نماز ادا کر رہے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ﴿وَالطُّورِ﴾ [سورة الطور: 1] کی تلاوت کر رہے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3833]

3834

Sahih Ibn Hibban #3834

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لا نَنْوِي إِلا الْحَجَّ ، فَلَمَّا كُنَّا بِسَرِفَ حِضْتُ ، فَدَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أَبْكِي ، فَقَالَ : مَا لَكِ ، أَنَفِسْتِ ؟ " ، فَقُلْتُ : نَعَمْ ، فَقَالَ : " هَذَا أَمَرٌ كَتَبَهُ اللَّهُ عَلَى بَنَاتِ آدَمَ ، فَاقْضِي مَا يَقْضِي الْحَاجُّ غَيْرَ أَنْ لا تَطُوفِي بِالْبَيْتِ " ، وَضَحَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ نِسَائِهِ الْبَقَرَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ روانہ ہوئے، ہماری نیت صرف حج کرنے کی تھی، جب ہم سرف کے مقام پر پہنچے، تو مجھے حیض آ گیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے، تو میں رو رہی تھی۔ آپ نے دریافت کیا: ”تمہیں کیا ہوا ہے؟ کیا تمہیں حیض آ گیا ہے؟“ میں نے عرض کی: جی ہاں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ ایک ایسی چیز ہے، جسے اللہ تعالیٰ نے آدم کی بیٹیوں کے لیے مقرر کر دیا ہے۔ تم وہ تمام چیزیں ادا کرو جو حاجی کرتے ہیں، البتہ تم بیت اللہ کا طواف نہ کرنا۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ازواج کی طرف سے ایک گائے قربان کی تھی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3834]

3835

Sahih Ibn Hibban #3835

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا ، قَالَتْ : قَدِمْتُ مَكَّةَ ، وَأَنَا حَائِضٌ لَمْ أَطُفْ بِالْبَيْتِ ، وَلا بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ، فَشَكَوْتُ ذَلِكَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : افْعَلِي مَا يَفْعَلُ الْحَاجُّ غَيْرَ أَنْ لا تَطُوفِي بِالْبَيْتِ حَتَّى تَطْهُرِي """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میں مکہ آئی، مجھے حیض آ چکا تھا۔ میں نے بیت اللہ کا طواف نہیں کیا اور صفا و مروہ کی سعی نہیں کی، میں نے اس بات کی شکایت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم وہ تمام کام کرو جو حاجی کرتے ہیں، البتہ تم پاک ہونے تک بیت اللہ کا طواف نہ کرنا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3835]

3836

Sahih Ibn Hibban #3836

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُتَوَكِّلِ بْنِ أَبِي السَّرِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا فُضَيْلُ بْنُ عِيَاضٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : الطَّوَافُ بِالْبَيْتِ صَلاةٌ ، إِلا أَنَّ اللَّهَ أَحَلَّ فِيهِ الْمَنْطِقَ ، فَمَنْ نَطَقَ ، فَلا يَنْطِقُ إِلا بِخَيْرٍ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”بیت اللہ کا طواف کرنا بھی نماز (ادا کرنے کی مانند ہے)، البتہ اللہ تعالیٰ نے اس دوران بات چیت کرنے کو جائز قرار دیا ہے، تو جو شخص (طواف کے دوران) کوئی بات کرے، تو اسے صرف بھلائی کی بات کرنی چاہیے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3836]

3837

Sahih Ibn Hibban #3837

أَخْبَرَنَا هَارُونُ بْنُ عِيسَى بْنِ السُّكَيْنِ بِبَلَدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَاتِمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ السَّلامِ بْنُ حَرْبٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ : أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَشَرِبَ مَاءً فِي الطَّوَافِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے طواف کے دوران آبِ زمزم پیا تھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3837]

3838

Sahih Ibn Hibban #3838

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي عَوْنٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَجَرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنْ عَاصِمٍ الأَحْوَلِ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : سَقَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ مَاءِ زَمْزَمَ ، فَشَرِبَهُ وَهُوَ قَائِمٌ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو آبِ زمزم پیش کیا، تو آپ نے اسے پی لیا، آپ نے کھڑے ہو کر اسے پیا تھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3838]

3839

Sahih Ibn Hibban #3839

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ قَالَ : قُلْتُ لِعَائِشَةَ وَأَنَا يَوْمَئِذٍ حَدِيثُ السِّنِّ : أَرَأَيْتَ قَوْلَ اللَّهِ جَلَّ وَعَلا إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ ، فَمَنْ حَجَّ الْبَيْتَ أَوِ اعْتَمَرَ ، فَلا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ يَطَّوَّفَ بِهِمَا ، فَمَا أَرَى عَلَى أَحَدٍ شَيْئًا أَنْ لا يَطُوفَ بِهِمَا ، قَالَتْ عَائِشَةُ : كَلا ، لَوْ كَانَتْ كَمَا تَقُولُ كَانَتْ فَلا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ لا يَطَّوَّفَ بِهِمَا ، إِنَّمَا نَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ فِي الأَنْصَارِ ، كَانُوا يُهِلُّونَ لِمَنَاةَ ، وَكَانَتْ مَنَاةُ حَذْوَ قُدَيْدٍ ، وَكَانُوا يَتَحَرَّجُونَ أَنْ يَطُوفُوا بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ، فَلَمَّا جَاءَ الإِسْلامُ سَأَلُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ ، فَمَنْ حَجَّ الْبَيْتَ أَوِ اعْتَمَرَ ، فَلا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ يَطَّوَّفَ بِهِمَا ، وَمَنْ تَطَوَّعَ خَيْرًا ، فَإِنَّ اللَّهَ شَاكِرٌ عَلِيمٌ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ہشام بن عروہ اپنے والد عروہ بن زبیر رحمہ اللہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا: میں ان دنوں کم سن تھا، اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ فَمَنْ حَجَّ الْبَيْتَ أَوِ اعْتَمَرَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ يَطَّوَّفَ بِهِمَا﴾ [سورة البقرة: 158] ”بے شک صفا اور مروہ اللہ تعالیٰ کی نشانیاں ہیں تو جو شخص بیت اللہ کا حج کرتا ہے یا عمرہ کرتا ہے تو اس پر کوئی گناہ نہیں ہوگا، اگر وہ ان دونوں کا طواف کر لیتا ہے“ کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ میں یہ سمجھتا ہوں کہ اگر کوئی شخص ان دونوں کا طواف نہیں کرتا، تو اس پر کوئی حرج نہیں ہے، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ایسا ہرگز نہیں ہے، اگر اس طرح ہوتا جس طرح تم بیان کر رہے ہو، تو آیت یہ ہونی چاہیے تھی: ”اس شخص پر کوئی گناہ نہیں ہے، جو ان کا طواف نہ کرے“، (پھر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے وضاحت کی) یہ آیت کچھ انصار کے بارے میں نازل ہوئی تھی جو «مَنَاةَ» (نامی بت) کا احرام باندھتے تھے، وہ لوگ صفا اور مروہ کی سعی کرنے میں حرج محسوس کرتے تھے، جب اسلام آیا، تو لوگوں نے اس بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: ﴿إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ فَمَنْ حَجَّ الْبَيْتَ أَوِ اعْتَمَرَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ يَطَّوَّفَ بِهِمَا وَمَنْ تَطَوَّعَ خَيْرًا فَإِنَّ اللَّهَ شَاكِرٌ عَلِيمٌ﴾ [سورة البقرة: 158] ”بے شک صفا اور مروہ اللہ تعالیٰ کی نشانیاں ہیں، تو جو شخص بیت اللہ کا حج کرے یا عمرہ کرے، تو اس پر کوئی گناہ نہیں ہوگا، اگر وہ ان کا طواف کر لیتا ہے اور جو شخص نفلی طور پر نیکی کرتا ہے، تو بے شک اللہ تعالیٰ شکر قبول کرنے والا اور علم رکھنے والا ہے“۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3839]

3840

Sahih Ibn Hibban #3840

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ الْكَلاعِيُّ بِحِمْصَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : قَالَ عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ : سَأَلْتُ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقُلْتُ لَهَا : أَرَأَيْتِ قَوْلَ اللَّهِ : إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ إِلَى آخِرِ الآيَةِ ، فَقُلْتُ لِعَائِشَةَ : فَوَاللَّهِ مَا عَلَى أَحَدٍ جُنَاحٌ أَلا يَطُوفُ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ : بِئْسَ مَا قُلْتَ يَا ابْنَ أُخْتِي ، إِنَّ هَذِهِ الآيَةَ لَوْ كَانَتْ عَلَى مَا أَوَّلْتُهَا عَلَيْهِ ، كَانَتْ فَلا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ يَطَّوَّفَ بِهِمَا ، وَلَكِنَّهَا إِنَّمَا أُنْزِلَتْ فِي الأَنْصَارِ قَبْلَ أَنْ يُسْلِمُوا ، كَانُوا يُهِلُّونَ لِمَنَاةَ الطَّاغِيَةِ الَّتِي كَانُوا يَعْبُدُونَ ، عِنْدَ الْمُشَلَّلِ ، وَكَانَ مَنْ أَهَلَّ لَهَا يَتَحَرَّجُ أَنْ يَطَّوَّفَ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ، فَلَمَّا أَسْلَمُوا سَأَلُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ ، وَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّا كُنَّا نَتَحَرَّجُ أَنَّ نَطَّوَّفَ بِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ ، فَمَنْ حَجَّ الْبَيْتَ أَوِ اعْتَمَرَ ، فَلا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ يَطَّوَّفَ بِهِمَا " ، قَالَتْ عَائِشَةُ : " قَدْ سَنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الطَّوَافَ بِهِمَا ، فَلَيْسَ لأَحَدٍ أَنْ يَتْرُكَ الطَّوَافَ بِهِمَا "، قَالَ الزُّهْرِيُّ : ثُمَ أَخْبَرْتُ أَبَا بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ بِالَّذِي حَدَّثَنِي عُرْوَةُ ، عَنْ عَائِشَةَ ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : إِنَّ هَذَا لَعِلْمٌ ، وَإِنِّي مَا كُنْتُ سَمِعْتُهُ ، وَلَقَدْ سَمِعْتُ رِجَالا مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ يَزْعُمُونَ أَنَّ النَّاسَ إِلا مَنْ ذَكَرْتِ عَائِشَةُ مِمَّنْ كَانَ يُهِلُّ لِمَنَاةَ ، كَانُوا يَطُوفُونَ كُلُّهُمْ بِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ، فَلَمَّا ذَكَرَ اللَّهُ الطَّوَافَ بِالْبَيْتِ فِي الْقُرْآنِ ، وَلَمْ يَذْكُرِ الطَّوَافَ بِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ جَلَّ ذِكْرُهُ إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ ، فَمَنْ حَجَّ الْبَيْتَ ، أَوِ اعْتَمَرَ ، فَلا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ يَطَّوَّفَ بِهِمَا ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ : فأَسْمَعُ ، هَذِهِ نَزَلَتْ فِي الْفَرِيقَيْنِ كِلَيْهِمَا فِي الَّذِينَ كَانُوا يَتَحَرَّجُونَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ أَنْ يَطَّوَّفُوا بِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ، ثُمَّ تَحَرَّجُوا أَنْ يَطَّوَّفُوا بِهِمَا فِي الإِسْلامِ مِنْ أَجْلِ أَنَّ اللَّهَ أَمَرَنَا بِالطَّوَافِ بِالْبَيْتِ ، وَلَمْ يَذْكُرُهُمَا حِينَ ذَكَرَ ذَلِكَ بَعْدَمَا ذَكَرَ الطَّوَافَ بِالْبَيْتِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عروہ بن زبیر بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے دریافت کیا، میں نے ان سے کہا: اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ فَمَنْ حَجَّ الْبَيْتَ أَوِ اعْتَمَرَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ يَطَّوَّفَ بِهِمَا﴾ [سورة البقرة: 158] ”بے شک صفا اور مروہ اللہ تعالیٰ کی نشانیاں ہیں، تو جو شخص بیت اللہ کا حج کرتا ہے یا عمرہ کرتا ہے تو اس پر کوئی گناہ نہیں ہوگا اگر وہ ان دونوں کا طواف کر لیتا ہے“ کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ میں یہ سمجھتا ہوں کہ اگر کوئی شخص ان دونوں کا طواف نہیں کرتا تو اس پر کوئی حرج نہیں ہے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ”ایسا ہرگز نہیں ہے، اگر اس طرح ہوتا جس طرح تم بیان کر رہے ہو تو آیت یوں ہونی چاہیے تھی: ”اس شخص پر کوئی گناہ نہیں ہے جو ان کا طواف نہ کرے“۔ (پھر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے وضاحت کی) یہ آیت کچھ انصار کے بارے میں نازل ہوئی تھی جو مناۃ (نامی بت) کا احرام باندھتے تھے، وہ لوگ صفا اور مروہ کی سعی کرنے میں حرج محسوس کرتے تھے، جب اسلام آیا تو لوگوں نے اس بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت ﴿إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ فَمَنْ حَجَّ الْبَيْتَ أَوِ اعْتَمَرَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ يَطَّوَّفَ بِهِمَا وَمَنْ تَطَوَّعَ خَيْرًا فَإِنَّ اللَّهَ شَاكِرٌ عَلِيمٌ﴾ [سورة البقرة: 158] ”بے شک صفا اور مروہ اللہ تعالیٰ کی نشانیاں ہیں، تو جو شخص بیت اللہ کا حج کرے یا عمرہ کرے تو اس پر کوئی گناہ نہیں ہوگا۔ اگر وہ ان کا طواف کر لیتا ہے اور جو شخص نفلی طور پر نیکی کرتا ہے تو بے شک اللہ تعالیٰ شکر قبول کرنے والا اور علم رکھنے والا ہے“ نازل فرمائی۔“ عروہ بن زبیر بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے دریافت کیا، میں نے ان سے کہا: اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ﴾ [سورة البقرة: 158] (یہ آیت آخر تک ہے) کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا: اللہ کی قسم! ایسے شخص پر کوئی گناہ نہیں ہوگا جو صفا اور مروہ کا طواف نہیں کرتا، تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ”اے میرے بھانجے! تم نے بہت غلط بات کہی ہے، اس آیت سے اگر وہ مراد ہوتی جو تم بیان کر رہے ہو تو آیت یوں ہونی چاہیے تھی: ”تو ایسے شخص پر کوئی گناہ نہیں ہوگا اگر وہ ان دونوں کا طواف نہ کرے“، درحقیقت یہ آیت انصار کے بارے میں نازل ہوئی تھی جو اسلام قبول کرنے سے پہلے مناۃ طاغیہ کے نام کا احرام باندھتے تھے، یہ لوگ مشلل کے قریب اس کی عبادت کیا کرتے تھے، جو شخص اس کے نام کا احرام باندھتا تھا وہ اس بات کو گناہ سمجھتا تھا کہ صفا اور مروہ کا طواف کرے، جب لوگوں نے اس بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا تو انہوں نے عرض کی: ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم لوگ صفا اور مروہ کا طواف کرنے کو گناہ سمجھتے تھے“، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت ﴿إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ فَمَنْ حَجَّ الْبَيْتَ أَوِ اعْتَمَرَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ يَطَّوَّفَ بِهِمَا﴾ [سورة البقرة: 158] ”بے شک صفا اور مروہ اللہ تعالیٰ کی نشانیاں ہیں، تو جو شخص بیت اللہ کا حج کرے یا عمرہ کرے تو اس پر کوئی گناہ نہیں ہوگا اگر وہ ان کا طواف کر لیتا ہے“ نازل فرمائی۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ”پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کے طواف کو سنت قرار دیا، تو اب کسی شخص کے لیے اس بات کی اجازت نہیں ہے کہ وہ ان دونوں کے طواف کو ترک کرے۔“ زہری کہتے ہیں: میں اس روایت کو لے کر ابوبکر بن عبدالرحمن کے پاس گیا، وہ روایت جو عروہ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے حوالے سے مجھے بیان کی تھی، ابوبکر بن عبدالرحمن نے کہا: ”یہ واقعی علم ہے، میں نے یہ بات پہلے نہیں سنی ہوئی تھی، میں نے پہلے کچھ اہل علم کو یہ بات بیان کرتے ہوئے سنا تھا کہ پہلے سب لوگ صفا اور مروہ کا طواف کیا کرتے تھے، ماسوائے ان لوگوں کے جن کا ذکر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کیا ہے جو مناۃ کے نام کا قربانی کا جانور لے کر جاتے تھے، جب اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں بیت اللہ کے طواف کا ذکر کیا اور صفا اور مروہ کے طواف کا ذکر نہیں کیا (تو اس بارے میں لوگوں کو الجھن ہوئی) تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت ﴿إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ فَمَنْ حَجَّ الْبَيْتَ أَوِ اعْتَمَرَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ يَطَّوَّفَ بِهِمَا﴾ [سورة البقرة: 158] ”بے شک صفا اور مروہ اللہ تعالیٰ کی نشانیاں ہیں، تو جو شخص بیت اللہ کا حج کرے یا عمرہ کرے تو اس پر کوئی گناہ نہیں ہوگا اگر وہ ان دونوں کا طواف کر لیتا ہے“ نازل فرمائی۔“ ابوبکر بن عبدالرحمن نے کہا: ”تو میں نے یہ سنا کہ یہ آیت دونوں فریقوں کے بارے میں نازل ہوئی تھی، ان لوگوں کے بارے میں جو زمانہ جاہلیت میں صفا اور مروہ کا طواف کیا کرتے تھے، تو انہوں نے اسلام میں ان دونوں کے طواف کو گناہ سمجھا کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں بیت اللہ کا طواف کرنے کا حکم دیا ہے اور صفا و مروہ کا اس میں ذکر نہیں کیا، یہ اس وقت کی بات ہے جب اللہ تعالیٰ نے صرف بیت اللہ کا طواف کرنے کا ذکر کیا تھا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3840]

3841

Sahih Ibn Hibban #3841

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دَاوُدَ ، عَنْ فِطْرِ بْنِ خَلِيفَةَ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ وَاثِلَةَ ، قَالَ : قُلْتُ لابْنِ عَبَّاسٍ : إِنَّ قَوْمَكَ يَزْعُمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَمَلَ ، وَأَنَّهُ سُنَّةٌ ، فَقَالَ : كَذَبُوا ، وَصَدَقُوا ، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا دَخَلَ مَكَّةَ وَالْمُشْرِكُونَ عَلَى قُعَيْقِعَانَ ، فَتَحَدَّثُوا أَنَّ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَصْحَابَهُ هَزْلَى ،فَرَمَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَمَرَ أَصْحَابَهُ فَرَمَلُوا ، وَلَيْسَتْ بِسُنَّةٍ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عامر بن واثلہ بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا: ”آپ کی قوم کے لوگ یہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے رمل کیا ہے اور یہ چیز سنت ہے،“ تو سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”انہوں نے کچھ بات ٹھیک بیان کی ہے اور کچھ غلط بیان کی ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب مکہ میں داخل ہوئے تھے، تو مشرکین اس وقت قیقعان میں موجود تھے وہ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب کے بارے میں مذاق اڑانے کے طور پر بات چیت کر رہے تھے (کہ یہ کمزور لوگ ہیں)، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے رمل کیا اور آپ نے اپنے اصحاب کو حکم دیا کہ وہ بھی رمل کریں“ (سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا:) ”یہ چیز سنت نہیں ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3841]

3842

Sahih Ibn Hibban #3842

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ بِمَنْبِجَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا وَقَفَ عَلَى الصَّفَا يُكَبِّرُ ثَلاثًا ، وَيَقُولُ : لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ وَحْدَهُ لا شَرِيكَ لَهُ ، لَهُ الْمَلِكُ ، وَلَهُ الْحَمْدُ ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ " يَصْنَعُ ذَلِكَ ثَلاثَ مَرَّاتٍ وَيَدْعُو ، وَيَصْنَعُ عَلَى الْمَرْوَةِ مِثْلَ ذَلِكَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

امام جعفر صادق رحمہ اللہ اپنے والد (امام محمد باقر رحمہ اللہ) کے حوالے سے سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب صفا پر ٹھہرے، تو آپ نے تین مرتبہ تکبیر پڑھی اور یہ پڑھا: «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ، وَهُوَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ» ”اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے، وہی ایک معبود ہے، اس کا کوئی شریک نہیں ہے، بادشاہی اسی کے لیے مخصوص ہے، حمد اسی کے لیے مخصوص ہے اور وہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا تین مرتبہ کہا، پھر آپ نے دعا مانگی، پھر آپ نے مروہ پر بھی اس کی مانند کیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3842]

3843

Sahih Ibn Hibban #3843

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى الْقَطَّانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي أَوْفَى ، قَالَ : اعْتَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَطَافَ بِالْبَيْتِ ، ثُمَّ خَرَجَ ، فَطَافَ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ، وَنَحْنُ نَسْتُرُهُ مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ ، أَنْ يَرْمِيَهُ أَحَدٌ أَوْ يُصِيبُهُ بِشَيْءٍ ، قَالَ : فَسَمِعْتُهُ يَدْعُو عَلَى الأَحْزَابِ ، يَقُولُ : اللَّهُمَّ اهْزِمْهُمُ وَزَلْزِلْهُمْ ، مُنْزِلَ الْكِتَابِ ، سَرِيعَ الْحِسَابِ ، اهْزِمِ الأَحْزَابَ ، اللَّهُمَّ اهْزِمْهُمْ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عمرہ کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت اللہ کا طواف کیا اور صفا و مروہ کا طواف کیا۔ ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اہل مکہ سے بچا رہے تھے کہ کوئی شخص آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تیر نہ مار دے یا کوئی اور چیز نہ مار دے۔ راوی کہتے ہیں: تو میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو (دشمنوں کے) لشکروں کے خلاف یہ دعا کرتے ہوئے سنا: «اَللّٰهُمَّ اهْزِمْهُمْ وَزَلْزِلْهُمْ، اَللّٰهُمَّ مُنْزِلَ الْكِتَابِ، سَرِیْعَ الْحِسَابِ، اِهْزِمِ الْأَحْزَابَ، اَللّٰهُمَّ اهْزِمْهُمْ» ”اے اللہ! انہیں پسپا کر دے انہیں لڑکھڑا دے۔ اے کتاب کو نازل کرنے والے اے جلدی حساب لینے والے (دشمنوں کے لشکروں) کو پسپا کر دے اے اللہ! انہیں پسپا کر دے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3843]

3844

Sahih Ibn Hibban #3844

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ الرَّمَادِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي أَوْفَى ، يَقُولُ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ يَوْمَ الأَحْزَابِ : اللَّهُمَّ مُنْزِلَ الْكِتَابِ ، سَرِيعَ الْحِسَابِ اهْزِمْهُمْ وَزَلْزِلْهُمْ "، يَعْنِي الأَحْزَابَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے غزوۂ احزاب کے دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ دعا مانگتے ہوئے سنا: «اللَّهُمَّ مُنْزِلَ الْكِتَابِ، سَرِيعَ الْحِسَابِ، اهْزِمِ الْأَحْزَابَ، اللَّهُمَّ اهْزِمْهُمْ وَزَلْزِلْهُمْ» ”اے اللہ! اے کتاب کو نازل کرنے والے، جلدی حساب لینے والے، تو ان لوگوں کو پسپا کر دے اور انہیں لڑکھڑا دے“ (راوی کہتے ہیں) یعنی (دشمن کے لشکروں کو)۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3844]

3845

Sahih Ibn Hibban #3845

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْجُرَيْرِيُّ ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ ، قَالَ : قُلْتُ لابْنِ عَبَّاسٍ : أَرَأَيْتَ هَذَا الرَّمَلَ بِالْبَيْتِ ثَلاثَةَ أَطْوَافٍ ، وَمَشَى أَرْبَعَةَ أَطْوَافٍ ، أَسُنَّةٌ هُوَ ، فَإِنَّ قَوْمَكَ يَزْعُمُونَ أَنَّهُ سَنَةٌ ؟ ، فَقَالَ : صَدَقُوا ، وَكَذَبُوا ، قُلْتُ : مَا قَوْلُكَ صَدَقُوا ، وَكَذَبُوا ؟ ، قَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدِمَ مَكَّةَ ، فَقَالَ الْمُشْرِكُونَ : إِنَّ مُحَمَّدًا وَأَصْحَابَهُ لا يَسْتَطِيعُونَ أَنْ يَطُوفُوا بِالْبَيْتِ مِنَ الْهُزَالِ ، قَالَ : وَكَانُوا يَحْسُدُونَهُ ، قَالَ : فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْيَرْمُلُوا ثَلاثًا ، وَيَمْشُوا أَرْبَعًا " ، قَالَ : فَقُلْتُ لَهُ : أَخْبَرَنِي عَنِ الطَّوَافِ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ رَاكِبًا ، سَنَةٌ هُوَ ، فَإِنَّ قَوْمَكَ يَزْعُمُونَ أَنَّهُ سَنَةٌ ؟ ، قَالَ : صَدَقُوا ، وَكَذَبُوا ، قَالَ : قُلْتُ : مَا قَوْلُكَ صَدَقُوا ، وَكَذَبُوا ؟ ، قَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَثُرَ عَلَيْهِ النَّاسُ يَقُولُونَ : هَذَا مُحَمَّدٌ ؟ ، هَذَا مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، حَتَّى خَرَجَتِ الْعَوَاتِقُ مِنَ الْبُيُوتِ ، قَالَ : " وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لا يَصْرِفُ النَّاسَ بَيْنَ يَدَيْهِ ، فَلَمَّا كَثُرَ عَلَيْهِ رَكِبَ "، وَالْمَشْيُ وَالسَّعْيُ أَفْضَلُ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابوطفیل بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے دریافت کیا: آپ کی رمل کے بارے میں کیا رائے ہے؟ کیا بیت اللہ کا طواف کرتے ہوئے تین چکروں میں رمل کرنا اور چار چکروں میں عام رفتار سے چلنا سنت ہے؟ آپ کی قوم کے افراد تو یہ کہتے ہیں کہ یہ سنت ہے، انہوں نے فرمایا: انہوں نے کچھ بات ٹھیک بیان کی ہے اور کچھ بات غلط بیان کی ہے۔ میں نے دریافت کیا: آپ کی اس بات سے کیا مراد ہے کہ انہوں نے کچھ بات ٹھیک بیان کی ہے اور کچھ بات غلط بیان کی ہے؟ انہوں نے فرمایا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب مکہ تشریف لائے، تو مشرکین نے یہ بات کہی: ”سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب کمزوری کی وجہ سے بیت اللہ کا طواف نہیں کر سکیں گے۔“ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ وہ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے حسد کرتے تھے، راوی کہتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ حکم دیا: ”لوگ تین چکروں میں رمل کریں اور چار چکروں میں عام رفتار سے چلیں۔“ راوی کہتے ہیں: میں نے ان سے دریافت کیا: مجھے صفا اور مروہ کا طواف کرنے کے بارے میں بتائیں کہ کیا اسے سوار ہو کر کرنا سنت ہے؟ آپ کی قوم کے لوگ تو یہ کہتے ہیں کہ یہ سنت ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: انہوں نے کچھ بات صحیح بیان کی ہے اور کچھ بات غلط بیان کی ہے۔ میں نے ان سے دریافت کیا: آپ کے اس قول کا کیا مطلب ہے کہ انہوں نے کچھ بات صحیح بیان کی ہے اور کچھ بات غلط بیان کی ہے؟ تو انہوں نے بتایا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارد گرد لوگوں کا ہجوم زیادہ ہو گیا تھا، جو یہ کہہ رہے تھے: ”یہ سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، یہ سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں،“ یہاں تک کہ خواتین گھروں سے نکل آئی تھیں۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے سامنے سے لوگوں کو ہٹا نہیں رہے تھے، جب ان لوگوں کا ہجوم زیادہ ہو گیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سوار ہو گئے، ویسے پیدل چلنا اور دوڑنا زیادہ فضیلت رکھتا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3845]

3846

Sahih Ibn Hibban #3846

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّامِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ الأَزْرَقُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ ، قَالَ : سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، أَخْبِرْنِي عَنْ شَيْءٍ عَقَلْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ :أَيْنَ أُصَلِّي الظُّهْرَ يَوْمَ التَّرْوِيَةِ ؟ ، قَالَ : بِمِنًى " ، قَالَ : قُلْتُ : فَأَيْنَ صَلَّى الظُّهْرَ يَوْمَ النَّفْرِ ؟ ، قَالَ : " بِالأَبْطَحِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبدالعزیز بن رفیع بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا: آپ مجھے کسی ایسی چیز کے بارے میں بتائیں جو آپ کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یاد ہو کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ترویہ کے دن ظہر کی نماز کہاں ادا کی تھی؟ انہوں نے جواب دیا: منیٰ میں۔ راوی کہتے ہیں: میں نے دریافت کیا: تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے روانگی کے وقت ظہر کی نماز کہاں ادا کی تھی؟ انہوں نے جواب دیا: ابطح میں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3846]

3847

Sahih Ibn Hibban #3847

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ الثَّقَفِيُّ ، أَنَّهُ سَأَلَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، وَهُمَا غَادِيَانِ مِنْ مِنًى إِلَى عَرَفَةَ ، كَيْفَ كُنْتُمْ تَصْنَعُونَ فِي هَذَا الْيَوْمِ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ ، فَقَالَ : كَانَيُهِلُّ الْمُهِلُّ بِمِنًى ، فَلا يُنْكِرُ عَلَيْهِ ، وَيُكَبِّرُ الْمُكَبِّرُ ، فَلا يُنْكِرُ عَلَيْهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

محمد بن ابوبکر ثقفی بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سوال کیا، اور یہ دونوں اس وقت منیٰ سے عرفہ کی طرف جا رہے تھے (سوال یہ تھا) کہ آج کے دن آپ لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ کیا کیا تھا؟ انہوں نے بتایا کہ منیٰ میں تلبیہ پکارنے والا تلبیہ پکار رہا تھا تو اس پر کوئی انکار نہیں کیا گیا اور تکبیر کہنے والا (تکبیر کہہ رہا تھا) تو اس پر بھی کوئی انکار نہیں کیا گیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3847]

3848

Sahih Ibn Hibban #3848

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ ، ذَكَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : وَقَفَ عَلَى بَعِيرِهِ ، وَأَمْسَكَ إِنْسَانٌ بِخِطَامِهِ ، أَوْ قَالَ : بِزِمَامِهِ ، فَقَالَ : أَيُّ يَوْمٍ هَذَا ؟ " ، فَسَكَتْنَا حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ سَيُسَمِّيهِ سِوَى اسْمِهِ ، فَقَالَ : " أَلَيْسَ يَوْمَ النَّحْرِ ؟ " ، قُلْنَا : بَلَى ، قَالَ : " فَأَيُّ شَهْرٍ هَذَا ؟ " ، فَسَكَتْنَا حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ سَيُسَمِّيهِ سِوَى اسْمِهِ ، فَقَالَ : " أَلَيْسَ بِذِي الْحِجَّةِ ؟ " قُلْنَا : بَلَى ، قَالَ : " فَأَيُّ بَلَدٍ هَذَا ؟ " ، فَسَكَتْنَا حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ سَيُسَمِّيهِ سِوَى اسْمِهِ ، قَالَ : " أَلَيْسَ الْبَلَدَ الْحَرَامِ " ، قُلْنَا : بَلَى ، فَقَالَ : " فَإِنَّدِمَاءَكُمْ ، وأَمْوَالَكُمْ ، وَأَوْلادَكُمْ ، وَأَعْرَاضَكُمْ بَيْنَكُمْ حَرَامٌ عَلَيْكُمْ ، كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا ، فِي شَهْرِكُمْ هَذَا ، فِي بَلَدِكُمْ هَذَا ، أَلا لِيُبَلِّغِ الشَّاهِدُ مِنْكُمُ الْغَائِبَ ، فَإِنَّ الشَّاهِدَ يَبْلُغُ مَنْ هُوَ أَوْعَى لَهُ مِنْهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر کرتے ہوئے یہ بات بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اونٹ پر وقوف کیا ہوا تھا، جس کی لگام کو کسی صاحب نے تھاما ہوا تھا (یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے)، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”آج کون سا دن ہے؟“ تو ہم لوگ خاموش رہے، ہم نے یہ گمان کیا کہ شاید آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے نام کے علاوہ کوئی اور نام تجویز کریں گے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”کیا یہ قربانی کا دن نہیں ہے؟“ ہم نے عرض کی: جی ہاں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”یہ کون سا مہینہ ہے؟“ ہم خاموش رہے۔ ہم نے یہ سمجھا کہ شاید آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کا کوئی دوسرا نام تجویز کریں گے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”کیا یہ ذوالحجہ نہیں ہے؟“ ہم نے عرض کی: جی ہاں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ کون سا شہر ہے؟“ تو ہم خاموش رہے، ہم نے یہ گمان کیا کہ شاید آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس نام کی بجائے دوسرا نام تجویز کریں گے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”کیا یہ قابلِ احترام شہر نہیں ہے؟“ ہم نے عرض کی: جی ہاں! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہاری جانیں، تمہارا مال اور تمہاری عزتیں ایک دوسرے کے لیے اسی طرح قابلِ احترام ہیں، جس طرح یہ دن اس مہینے میں اس شہر میں قابلِ احترام ہے۔ خبردار! تم میں سے ہر موجود شخص غیر موجود تک تبلیغ کر دے، کیونکہ (ممکن ہے) موجود شخص اس شخص تک یہ بات پہنچا دے جو اس سے زیادہ بہتر طور پر اسے محفوظ رکھے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3848]

3849

Sahih Ibn Hibban #3849

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بُجَيْرِ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ الطُّوسِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، سَمِعَ مُحَمَّدُ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : أَضْلَلْتُ بَعِيرًا لِي فَذَهَبْتُ أَطْلُبُهُ بِعَرَفَةَ ، فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَفَةَ وَاقِفًا مَعَ النَّاسِ ، فَقُلْتُ : وَاللَّهِ إِنَّ هَذَا لَمِنَ الْحُمْسِ ، فَمَا شَأْنُهُ وَاقِفًا هَا هُنَا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

محمد بن جبیر اپنے والد سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: میرا اونٹ گم ہو گیا، میں اس کی تلاش میں عرفہ آیا، تو میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو عرفہ میں لوگوں کے ہمراہ وقوف کیے ہوئے دیکھا، میں نے کہا: اللہ کی قسم! یہ تو حمس سے تعلق رکھتے ہیں، یہ یہاں وقوف کیوں کیے ہوئے ہیں؟ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3849]

3850

Sahih Ibn Hibban #3850

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي السَّفَرِ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ مُضَرِّسِ بْنِ حَارِثَةَ بْنِ لامٍ ، قَالَ : أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَهُوَ بِجَمْعٍ ، فَقُلْتُ : هَلْ عَلَيَّ مِنْ حَجٍّ ؟ ، قَالَ : مَنْ شَهِدَ مَعَنَا هَذَا الْمَوْقِفَ حَتَّى يُفِيضَ ، وَقَدْ أَفَاضَ قَبْلَ ذَلِكَ مِنْ عَرَفَاتٍ لَيْلا ، أَوْ نَهَارًا ، فَقَدْ تَمَّ حَجُّهُ ، وَقَضَى تَفَثَهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عروہ بن مضرس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپ اس وقت مزدلفہ میں موجود تھے، میں نے عرض کی: کیا مجھ پر حج کرنا لازم ہے (یعنی میرا حج ہو گیا ہے یا میں دوبارہ کروں؟) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص ہمارے ساتھ روانہ ہونے تک اس جگہ پر وقوف کیے رہا اور وہ اس سے پہلے عرفات سے رات کے وقت یا دن کے وقت روانہ ہو چکا ہو، تو اس نے اپنے حج کو پورا کر لیا اور اپنی نذر کو مکمل کر لیا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3850]

3851

Sahih Ibn Hibban #3851

أَخْبَرَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى السَّاجِيُّ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَخْزُومِيُّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدَ ، وَإِسْمَاعِيلَ ، وَزَكَرِيَّا ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ مُضَرِّسٍ ، قَالَ : رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ وَاقِفٌ بِالْمُزْدَلِفَةِ ، فَقَالَ : مَنْ صَلَّى صَلاتَنَا هَذِهِ ، ثُمَّ أَقَامَ مَعَنَا وَقَدْ وَقَفَ قَبْلَ ذَلِكَ بِعَرَفَةَ لَيْلا ، أَوْ نَهَارًا ، فَقَدْ تَمَّ حَجُّهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عروہ بن مضرس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو مزدلفہ میں وقوف کیے ہوئے دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جس نے ہمارے ہمراہ یہ نماز ادا کی، پھر وہ ہمارے ساتھ مقیم رہا اور وہ اس سے پہلے رات کے وقت یا دن کے وقت عرفہ میں وقوف کر چکا ہو، تو اس نے اپنے حج کو مکمل کر لیا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3851]

3852

Sahih Ibn Hibban #3852

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : إِنَّاللَّهَ يُبَاهِي بِأَهْلِ عَرَفَاتٍ مَلائِكَةَ أَهْلِ السَّمَاءِ ، فَيَقُولُ : انْظُرُوا إِلَى عِبَادِي هَؤُلاءِ جَاءُونِي شُعْثًا غُبْرًا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”بے شک اللہ تعالیٰ آسمان کے رہنے والوں یعنی فرشتوں کے سامنے اہل عرفات پر فخر کا اظہار کرتا ہے اور فرماتا ہے: تم میرے ان بندوں کو دیکھو! جو وہ بکھرے ہوئے اور غبار آلود ہو کر میرے پاس یعنی میری بارگاہ میں آئے ہیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3852]

3853

Sahih Ibn Hibban #3853

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ جَبَلَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَرْوَانَ الْعُقَيْلِيُّ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ هُوَ الدَّسْتُوَائِيُّ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَا مِنْ أَيَّامٍ أَفْضَلُ عِنْدَ اللَّهِ مِنْ أَيَّامِ عَشْرِ ذِي الْحِجَّةِ " ، قَالَ : فَقَالَ رَجُلٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هُنَّ أَفْضَلُ أَمْ عِدَّتُهُنَّ جِهَادًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ ؟ ، قَالَ : " هُنَّ أَفْضَلُ مِنْ عِدَّتِهِنَّ جِهَادًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، وَمَا مِنْ يوْمٍ أَفْضَلُ عِنْدَ اللَّهِ مِنْ يوْمِ عَرَفَةَ يَنْزِلُ اللَّهُ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا فَيُبَاهِي بِأَهْلِ الأَرْضِ أَهْلَ السَّمَاءِ ، فَيَقُولُ : انْظُرُوا إِلَى عِبَادِي شُعْثًا غُبْرًا ضَاحِينَ جَاءُوا مِنْ كُلِّ فَجٍّ عَمِيقٍ يَرْجُونَ رَحْمَتِي ، وَلَمْ يَرَوْا عَذَابِي ، فَلَمْ يُرَ يَوْمٌ أَكْثَرُ عِتْقًا مِنَ النَّارِ مِنْ يوْمِ عَرَفَةَ "، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : هِشَامٌ هَذَا هُوَ هِشَامُ بْنُ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الدَّسْتُوَائِيُّ ، وَالدَّسْتَوَاءُ قَرْيَةٌ مِنْ قُرَى الأَهْوَازِ ، وَإِنَّمَا سُمِّيَ الدَّسْتُوَائِيَّ لأَنَّهُ كَانَ يَبِيعُ الثِّيَابَ الَّتِي تُحْمَلُ مِنْهَا فَنُسِبَ إِلَيْهَا"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”اللہ کے نزدیک ذوالحجہ کے دس دنوں سے زیادہ فضیلت والے دن اور کوئی نہیں ہیں۔“ راوی کہتے ہیں: ایک صاحب نے عرض کی: یا رسول اللہ! یہ دن زیادہ فضیلت رکھتے ہیں یا اتنے ہی دن اللہ کی راہ میں جہاد کرتے ہوئے گزارنا زیادہ فضیلت رکھتے ہیں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ دن اتنے ہی دن اللہ کی راہ میں جہاد کے دوران گزارنے سے زیادہ فضیلت رکھتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں عرفہ کے دن سے زیادہ فضیلت والا دن اور کوئی نہیں ہے اس دن میں اللہ تعالیٰ آسمانِ دنیا کی طرف نزول کرتا ہے اور آسمان والوں کے سامنے اہل زمین پر فخر کا اظہار کرتا ہے اور فرماتا ہے: میرے ان بندوں کو دیکھو یہ بکھرے ہوئے بال لے کر اور غبار آلود ہو کر آئے ہیں یہ دور دراز علاقوں سے آئے ہیں یہ میری رحمت کی امید رکھتے ہیں انہوں نے میرے عذاب کو نہیں دیکھا ہوا“ (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:)، ”تو ایسا کوئی دن نظر نہیں آیا جس دن میں عرفہ کے دن سے زیادہ تعداد میں لوگ جہنم سے آزاد ہوتے ہوں۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) ہشام نامی یہ راوی ہشام بن ابوعبداللہ دستوائی ہے۔ دستواء، اہواز کی ایک بستی ہے۔ ان کا نام دستوائی اس لیے رکھا گیا کیونکہ یہ دستواء سے لا کر کپڑے فروخت کیا کرتے تھے تو ان کی نسبت اس شہر کی طرف ہو گئی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3853]

3854

Sahih Ibn Hibban #3854

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ الصُّوفِيُّ بِبَغْدَادَ ، حَدَّثَنَا أَبُو نَصْرٍ التَّمَّارُ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْقُشَيْرِيُّ فِي شَوَّالٍ سَنَةَ سَبْعٍ وَعِشْرِينَ وَمِائَتَيْنِ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي حُسَيْنٍ ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : كُلُّ عَرَفَاتٍ مَوْقِفٌ ، وَارْفَعُوا عَنْ عُرَنَةَ ، وَكُلُّ مُزْدَلِفَةَ مَوْقِفٌ ، وَارْفَعُوا عَنْ مُحَسِّرٍ ، فَكُلُّ فِجَاجِ مِنًى مَنْحَرٌ ، وَفِي كُلِّ أَيَّامِ التَّشْرِيقِ ذَبَحٌ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”عرفات سارے کا سارا وقوف کی جگہ ہے، تم لوگ عرنہ سے بلند ہو جاؤ، اور مزدلفہ سارے کا سارا وقوف کی جگہ ہے، اور تم لوگ محسر سے بلند ہو جاؤ، منی کا ہر راستہ قربانی کی جگہ ہے اور تمام ایامِ تشریق میں ذبح کیا جا سکتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3854]

3855

Sahih Ibn Hibban #3855

أَخْبَرَنَا ابْنُ سَلْمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ أَبِي مَعْبَدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ ، انْهُ كَانَ رَدِيفُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَوَقَفَ يُهَلِّلُ ، وَيُكَبِّرُ اللَّهَ وَيَدْعُوهُ ، فَلَمَّا نَفَرَ دَفَعَ النَّاسُ ، فَصَاحَ : عَلَيْكُمُ السَّكِينَةَ " ، فَلَمَّا بَلَغَ الشِّعْبَ إِهْرَاقَ الْمَاءَ وَتَوَضَّأَ ، ثُمَّ رَكِبَ ، فَلَمَّا قَدِمَ الْمُزْدَلِفَةَ ، جَمَعَ بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ ، فَلَمَّا صَلَّى الصُّبْحَ وَقَفَ ، فَلَمَّا نَفَرَ ، دَفَعَ النَّاسَ ، فَقَالَ حِينَ دَفَعُوا : " عَلَيْكُمُ السَّكِينَةَ " ، وَهُوَ كَافٌّ رَاحِلَتَهُ حَتَّى إِذَا دَخَلَ بَطْنَ مِنًى ، قَالَ :" عَلَيْكُمْ بِحَصَى الْخَذْفِ الَّذِي يُرْمَى بِهِ الْجَمْرَةَ " وَهُوَ فِي ذَلِكَ يُهِلُّ حَتَّى رَمَى الْجَمْرَةَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سیدنا فضل بن عباس رضی اللہ عنہما کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں: وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے سواری پر سوار تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ٹھہرنے کے دوران «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ» ”اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں“ پڑھتے رہے، اللہ تعالیٰ کی کبریائی کا ذکر کرتے رہے اور اس سے دعا مانگتے رہے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم روانہ ہوئے، تو لوگ روانہ ہو چکے تھے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بلند آواز میں انہیں حکم دیا: ”آرام سے چلو۔“ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم گھاٹی میں پہنچے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی بہایا اور وضو کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سوار ہوئے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم مزدلفہ تشریف لائے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مغرب اور عشاء کی نمازیں ایک ساتھ ادا کیں، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح کی نماز ادا کر لی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ٹھہرے رہے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم روانہ ہوئے، تو لوگ بھی روانہ ہوئے۔ جب لوگ روانہ ہوئے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم لوگ آرام سے چلو۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بھی اپنی سواری کی لگام کو کھینچے ہوئے تھے، یہاں تک کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم منی کے نشیبی حصے میں داخل ہوئے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم پر ایسی کنکریاں چننا لازم ہیں جو چٹکی میں آ جائیں، وہ جمرہ کو ماری جائیں گی۔“ اور اس مقام پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تلبیہ پڑھتے رہے، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جمرہ کی رمی کر لی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3855]

3856

Sahih Ibn Hibban #3856

أَخْبَرَنَا أَبُو عَرُوبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ أَخْزَمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانٌ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : كَانَتْقُرَيْشُ قُطَّانَ الْبَيْتِ ، وَكَانُوا يُفِيضُونَ مِنْ مِنًى ، وَكَانَ النَّاسُ يُفِيضُونَ مِنْ عَرَفَاتٍ ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ ثُمَّ أَفِيضُوا مِنْ حَيْثُ أَفَاضَ النَّاسُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ قریش بیت اللہ کے نگران تھے، وہ لوگ منیٰ سے روانہ ہو جاتے تھے جبکہ دوسرے لوگ عرفات سے روانہ ہوتے تھے، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی: ﴿ثُمَّ أَفِيضُوا مِنْ حَيْثُ أَفَاضَ النَّاسُ﴾ [سورة البقرة: 199] ”تم لوگ بھی وہیں سے واپس جاؤ جہاں سے لوگ واپس جاتے ہیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3856]

3857

Sahih Ibn Hibban #3857

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الأَنْصَارِيُّ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ كُرَيْبٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ أَنَّهُ سَمِعَهُ ، يَقُولُ : دَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عَرَفَةَ حَتَّى إِذَا كَانَ بِالشِّعْبِ ، نَزَلَ فَبَالَ ، ثُمَّ تَوَضَّأَ ، وَلَمْ يُسْبِغِ الْوضُوءَ ، فَقُلْتُ لَهُ : الصَّلاةَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : الصَّلاةُ أَمَامَكَ ، فَرَكِبَ ، فَلَمَّا جَاءَ الْمُزْدَلِفَةَ ، نَزَلَ فَتَوَضَّأَ ، فَأَسْبَغَ الْوضُوءَ ، ثُمَّ أُقِيمَتِ الصَّلاةُ ، فَصَلَّى الْمَغْرِبَ ، ثُمَّ أَنَاخَ كُلُّ إِنْسَانٍ بَعِيرَهُ فِي مَنْزِلِهِ ، ثُمَّ أُقِيمَتِ الْعِشَاءُ ، فَصَلاهُمَا وَلَمْ يُصَلِّ بَيْنَهُمَا شَيْئًا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عرفہ سے روانہ ہوئے، یہاں تک کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم گھاٹی میں پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سواری سے نیچے اترے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیشاب کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مبالغے کے ساتھ وضو نہیں کیا، میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا آپ نماز ادا کریں گے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نماز آگے جا کے ہو گی۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سوار ہوئے، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مزدلفہ تشریف لے آئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سواری سے اترے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کرتے ہوئے مبالغے کے ساتھ وضو کیا، پھر نماز کھڑی ہوئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مغرب کی نماز ادا کی، پھر ہر شخص نے اپنے اونٹ کو اپنی رہائشی جگہ پر بٹھا لیا، پھر عشاء کی نماز کے لیے اقامت کہی گئی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دونوں نمازیں ادا کیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے درمیان (کوئی اور نفل نماز) ادا نہیں کی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3857]

3858

Sahih Ibn Hibban #3858

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الأَنْصَارِيُّ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ الأَنْصَارِيِّ ، أَنَّ أَبَا أَيُّوبَ الأَنْصَارِيَّ أَخْبَرَهُ : أَنَّهُصَلَّى مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ الْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ بِالْمُزْدَلِفَةِ جَمِيعًا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے حجۃ الوداع کے موقع پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتدا میں مزدلفہ میں مغرب اور عشا کی نمازیں ایک ساتھ ادا کی تھیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3858]

3859

Sahih Ibn Hibban #3859

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى الْقَطَّانُ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، قَالَ : صَلَّى بِنَا ابْنُ عُمَرَ بِجَمْعِ الْمَغْرِبِ ثَلاثًا ، فَلَمَّا سَلَّمَ قَامَ فَصَلَّى الْعِشَاءَ رَكْعَتَيْنِ ، وَحَدَّثَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى بِهِمْ فِي ذَلِكَ الْمَكَانِ مِثْلَ ذَلِكَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سعید بن جبیر بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے ہمیں مزدلفہ میں مغرب کی نماز میں تین رکعات پڑھائیں، جب انہوں نے سلام پھیرا تو وہ پھر کھڑے ہوئے اور انہوں نے عشاء کی دو رکعات پڑھائیں، انہوں نے یہ بات بیان کی کہ ”نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس جگہ پر ان لوگوں کو اسی طرح نماز پڑھائی تھی۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3859]

3860

Sahih Ibn Hibban #3860

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْعَبْدِيُّ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ ، قَالَ : قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : كَانَ أَهْلُ الْجَاهِلِيَّةِ لا يُفِيضُونَ حَتَّى يَرَوَا الشَّمْسَ عَلَى ثَبِيرٍ ، فَخَالَفَهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَفَدَفَعَ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: زمانہ جاہلیت کے لوگ اس وقت تک روانہ نہیں ہوتے تھے جب تک ثبیر (نامی پہاڑ) پر سورج کو دیکھ نہیں لیتے تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے برخلاف کیا اور آپ سورج کے طلوع ہونے سے پہلے ہی روانہ ہو گئے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3860]

3861

Sahih Ibn Hibban #3861

أَخْبَرَنَا ابْنُ سَلْمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الْقَاسِمِ حَدَّثَهُ ، أَنَّ الْقَاسِمَ ، قَالَ : قَالَتْ عَائِشَةُ : اسْتَأْذَنَتْ سَوْدَةُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تَتَقَدَّمَ مِنْ جَمْعٍ ، وَكَانَتِ امْرَأَةً ثَقِيلَةً ثَبِطَةً فَأَذِنَ لَهَا ، وَوَدِدْتُ أَنِّي اسْتَأْذَنْتُهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ اجازت مانگی کہ وہ مزدلفہ سے پہلے روانہ ہو جائیں، کیونکہ وہ ایک بھاری بھرکم خاتون تھیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اجازت دے دی، (سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں) میری یہ خواہش تھی کہ میں بھی آپ سے اجازت لے لیتی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3861]

3862

Sahih Ibn Hibban #3862

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ حِسَابٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الثَّقَلِ مِنْ جَمْعٍ بِلَيْلٍ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ان لوگوں کے ہمراہ بھیج دیا تھا، جنہیں مزدلفہ سے (پہلے ہی) رات کے وقت بھجوا دیا تھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3862]

3863

Sahih Ibn Hibban #3863

أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ بِبُسْتَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ : بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ جَمْعٍ بِلَيْلٍ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے مزدلفہ سے رات کے وقت بھجوا دیا تھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3863]

3864

Sahih Ibn Hibban #3864

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مَعْشَرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ زِيَادٍ السُّوسِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ :لَوَدِدْتُ أَنِّي كُنْتُ اسْتَأْذَنْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَمَا اسْتَأْذَنَتْ سَوْدَةُ ، فَأُصَلِّيَ الصُّبْحَ بِمِنًى ، وَأَرْمِي الْجَمْرَةَ قَبْلَ أَنْ يَأْتِيَ النَّاسُ ، فَقُلْتُ لِعَائِشَةَ : وَكَانَتْ سَوْدَةُ اسْتَأْذَنَتْهُ ؟ ، قَالَتْ : نَعَمْ إِنَّهَا كَانَتِ امْرَأَةً ثَقِيلَةً ثَبِطَةً ، فَاسْتَأْذَنَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَذِنَ لَهَا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میری یہ خواہش ہے کہ میں نے بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح اجازت لے لی ہوتی جس طرح سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا نے لی تھی اور میں صبح کی نماز منیٰ میں ادا کرتی، جمرہ کو کنکریاں لوگوں کے آنے سے پہلے مار لیتی۔ راوی کہتے ہیں: میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: کیا سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت لی تھی؟ انہوں نے جواب دیا: جی ہاں، وہ ایک بھاری بھرکم خاتون تھیں، انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت مانگی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اجازت دے دی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3864]

3865

Sahih Ibn Hibban #3865

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَحْمُودِ بْنِ مُقَاتِلٍ الشَّيْخُ الصَّالِحُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ الْجَوَّازُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ ، سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ : كُنَّا مِمَّنْ قَدَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ضَعَفَةِ أَهْلِهِ لَيْلَةَ الْمُزْدَلِفَةِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ہم ان لوگوں میں شامل تھے، جنہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اہل خانہ کے کمزور افراد کے ہمراہ مزدلفہ کی رات (دوسرے لوگوں سے) پہلے ہی روانہ کر دیا تھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3865]