Muslim99Muslim99

Sahih Ibn Hibban · Book 34 · Chapter 2

Book of Compromise

Hadith 3792–3831

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

3792

Sahih Ibn Hibban #3792

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ أَبُو بَكْرٍ ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مِقْدَامٍ الْعِجْلِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا ، قَالَتْ : خَرَجْنَا مُوَافِينَ لِهِلالِ ذِي الْحِجَّةِ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ شَاءَ أَنْ يُهِلَّ بِحَجٍّ فَلْيُهِلَّ ، وَمَنْ شَاءَ أَنْ يُهِلَّ بِعُمْرَةٍ فَلْيُهِلَّ بِعُمْرَةٍ " ، قَالَتْ : فَمِنَّا مَنْ أَهَلَّ بِحَجٍّ ، وَمِنَّا مَنْ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ ، قَالَ : فَكُنْتُ أَنَا مِمَّنْ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ ، حَتَّى إِذَا كُنَّا بِسَرِفَ ذَكَرْتُ الْمَحِيضَةَ ، دَخَلُ عَلَيَّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَنَا أَبْكِي ، فَقُلْتُ : وَدِدْتُ أَنِّي لَمْ أَخْرُجِ الْعَامَ ، وَذَكَرَتْ مَحِيضَتَهَا ، قَالَتْ : فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " انْقُضِي رَأْسَكِ ، وَامْتَشِطِي ، وَافْعَلِي مَا يَفْعَلُ الْمُسْلِمُونَ فِي حَجِّهِمْ " ، قَالَتْ : فَأَطَعْتُ اللَّهَ وَرَسُولَهُ ، فَلَمَّا كَانَتْ لَيْلَةَ الصَّدْرِ ، أَمَرَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي بَكْرٍ ، فَأَخْرَجَهَا إِلَى التَّنْعِيمِ ، قَالَتْ : فَأَهْلَلْتُ مِنْهُ بِعُمْرَةٍ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: ہم ذوالحجہ کا چاند نظر آنے سے کچھ دن پہلے روانہ ہوئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جس نے حج کا احرام باندھنا ہو وہ حج کا احرام باندھ لے جس نے عمرے کا احرام باندھنا ہو وہ عمرے کا احرام باندھ لے۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: ہم میں سے کچھ لوگوں نے حج کا احرام باندھ لیا کچھ نے عمرے کا احرام باندھ لیا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میں ان لوگوں میں شامل تھی جنہوں نے عمرے کا احرام باندھا تھا۔ جب ہم ”سرف“ کے مقام پر پہنچے، تو مجھے حیض آ گیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے، تو میں رو رہی تھی۔ میں نے کہا: میری یہ آرزو تھی کہ میں اس سال نہ آئی ہوتی، پھر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اپنے حیض کا تذکرہ کیا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم اپنے بال کھول کر ان میں کنگھی کر لو اور وہ تمام کام کرو جو مسلمان حج کے موقع پر کرتے ہیں۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میں نے اللہ اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کی، جب واپسی کی رات آئی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عبدالرحمن بن ابوبکر رضی اللہ عنہما کو حکم دیا وہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو لے کر تنعیم گئے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میں نے وہاں سے عمرے کا احرام باندھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3792]

3793

Sahih Ibn Hibban #3793

أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ سُلَيْمَانَ الْعَدْلُ بِالْفُسْطَاطِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ هِشَامِ بْنِ أَبِي خَيْرَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدَ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَصْرُخُ بِالْحَجِّ صُرَاخًا ، فَلَمَّا طُفْنَا بِالْبَيْتِ ، قَالَ : اجْعَلُوهَا عَمْرَةً إِلا مَنْ كَانَ مَعَهُ هَدْيٌ " ، قَالَ : فَحَلَلْنَا وَجَعَلْنَاهَا عَمْرَةً ، فَلَمَّا كَانَ غَدَاةَ التَّرْوِيَةِ ، صَرَخْنَا بِالْحَجِّ ، ثُمَّ انْطَلَقْنَا إِلَى مِنًى"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم لوگ حج کا تلبیہ پڑھتے ہوئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ روانہ ہوئے۔ ہم نے بیت اللہ کا طواف کر لیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم لوگ اسے عمرے میں تبدیل کر لو، البتہ جس شخص کے ہمراہ قربانی کا جانور موجود ہے (وہ ایسا نہ کرے)“ راوی کہتے ہیں: تو ہم نے احرام کھول دیے اور اسے عمرے میں تبدیل کر دیا، جب ترویہ کی صبح آئی، تو ہم نے پھر حج کا تلبیہ پڑھنا شروع کیا اور ہم منی کی طرف روانہ ہو گئے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3793]

3794

Sahih Ibn Hibban #3794

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ الصُّوفِيُّ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ أَبُو دَاوُدَ الْمُبَارَكِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو شِهَابٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نُهِلُّ بِالْحَجِّ ، فَقَدِمَ لأَرْبَعٍ مِنْ ذِي الْحِجَّةِ ، فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصُّبْحَ بِالْبَطْحَاءِ ، فَلَمَّا صَلَّى ، قَالَ : مَنْ شَاءَ أَنْ يَجْعَلَهَا عَمْرَةً فَلْيَجْعَلْهَا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ہم لوگ حج کا احرام باندھ کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ روانہ ہوئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم چار ذوالحجہ کو (مکہ مکرمہ) پہنچے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وادی بطحا میں صبح کی نماز ادا کی، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز ادا کر لی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جو شخص اسے عمرہ بنانا چاہے وہ ایسا کرے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3794]

3795

Sahih Ibn Hibban #3795

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ ، حَدَّثَنَا أَفْلَحُ بْنُ حُمَيْدٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَشْهُرِ الْحَجِّ ، وَلَيَالِي الْحَجِّ ، وَحَرَمِ الْحَجِّ ، حَتَّى نَزَلْنَا بِسَرِفَ ، قَالَتْ : فَخَرَجَ إِلَى الصَّحَابَةِ ، فَقَالَ : مَنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ هَدْيٌ ، وَأَحَبَّ أَنْ يَجْعَلَهَا عَمْرَةً فَلْيَفْعَلْ ، وَمَنْ كَانَ مَعَهُ الْهَدْيُ ، فَلا " ، قَالَتْ : فَالآخِذُ بِهَا ، وَالتَّارِكُ لَهَا مِنْ أَصْحَابِهِ ، قَالَتْ : فَأَمَّا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَرِجَالٌ مِنْ أَصْحَابِهِ ، فَكَانُوا أَهَلَ قُوَّةٍ ، وَكَانَ مَعَهُمُ الْهَدْيُ ، فَلَمْ يَقْدِرُوا عَلَى الْعُمْرَةِ ، قَالَتْ : فَدَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَنَا أَبْكِي ، فَقَالَ : " مَا يُبْكِيكِ يَا هَنْتَاهُ ؟ " ، قُلْتُ : قَدْ سَمِعْتُ قَوْلَكَ لأَصْحَابِكَ ، فَمُنِعْتُ الْعُمْرَةَ ، قَالَ : " وَمَا شَأْنُكِ ؟ " ، قُلْتُ : لا أُصَلِّي ، قَالَ : " فَلا يَضُرُّكِ ، إِنَّمَا أَنْتِ امْرَأَةٌ مِنْ بَنَاتِ آدَمَ كَتَبَ اللَّهُ عَلَيْكِ مَا كَتَبَ عَلَيْهِنَّ ، فَكُونِي فِي حَجَّتِكِ فَعَسَى أَنْ تُدْرِكِيهَا " ، قَالَتْ : فَخَرَجْنَا فِي حَجَّتِهِ حَتَّى قَدِمْنَا مِنًى فَطَهَرْتُ ، ثُمَّ خَرَجْتُ مِنْ مِنًى ، فَأَفَضْتُ الْبَيْتَ ، قَالَتْ : ثُمَّ خَرَجْتُ مَعَهُ فِي النَّفْرِ الآخَرِ حَتَّى نَزَلَ الْمُحَصَّبُ ، وَنَزَلْنَا مَعَهُ ، فَدَعَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي بَكْرٍ ، فَقَالَ : " اخْرُجْ بِأُخْتِكَ مِنَ الْحَرَمِ ، فَلْتُهِلَّ بِعُمْرَةٍ ، ثُمَّ افْرُغَا ، ثُمَّ ائْتِيَا هَا هُنَا ، فَإِنِّي أَنْظُرُكُمَا حَتَّى تَأْتِيَانِي " ، قَالَتْ : فَخَرَجْتُ لِذَلِكَ حَتَّى فَرَغْتُ ، وَفَرَغْتُ مِنَ الطَّوَافِ ، ثُمَّ جِئْتُهُ سَحْرًا ، فَقَالَ : " هَلْ فَرَغْتُمْ ؟ " ، قُلْتُ : نَعَمْ ، قَالَ : " فَآذَنَ بِالرَّحِيلِ فِي أَصْحَابِهِ ، فَارْتَحَلَ النَّاسُ ، فَمَرَّ بِالْبَيْتِ قَبْلَ صَلاةِ الصُّبْحِ ، فَطَافَ بِهِ ، ثُمَّ خَرَجَ فَرَكِبَ ، ثُمَّ انْصَرَفَ مُتَوَجِّهًا إِلَى الْمَدِينَةِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: ہم حج کے مہینے میں، حج کے دنوں میں، حج کے احرام میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ روانہ ہوئے، جب ہم نے ”سرف“ کے مقام پر پڑاؤ کیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اصحاب کے پاس تشریف لے گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جس شخص کے ہمراہ قربانی کا جانور موجود نہ ہو اور وہ اسے عمرہ میں تبدیل کرنا چاہتا ہے وہ ایسا کر لے، لیکن جس کے ساتھ قربانی کا جانور موجود ہے وہ ایسا نہیں کر سکتا۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: کچھ لوگوں نے اس حکم پر عمل کیا اور کچھ نے اسے ترک کر دیا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: جہاں تک نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب میں سے کچھ افراد کا تعلق تھا جو صاحب حیثیت تھے اور ان کے ساتھ قربانی کا جانور موجود تھا، وہ عمرہ (میں تبدیل) نہیں کر سکتے تھے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے، تو میں رو رہی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے خاتون! تم کیوں رو رہی ہو؟“ میں نے عرض کی: میں نے آپ کا وہ فرمان سنا ہے، جو آپ نے اپنے ساتھیوں سے فرمایا ہے، لیکن میں اب عمرہ نہیں کر سکتی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”تمہیں کیا ہوا ہے؟“ میں نے عرض کی: میں نماز ادا نہیں کر سکتی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر تمہیں کوئی نقصان نہیں ہو گا۔ تم آدم کی بیٹیوں میں سے ایک عورت ہو۔ اللہ تعالیٰ نے تم پر بھی وہی چیز مقرر کی ہے، جو ان پر مقرر کی ہے، تم حج کرتی رہو۔ تمہیں عمرے کا بھی موقع مل جائے گا۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: پھر ہم لوگ حج کے لیے روانہ ہوئے، ہم منیٰ آ گئے، پھر میں پاک ہو گئی۔ پھر میں منیٰ سے روانہ ہوئی، میں نے طوافِ افاضہ کیا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: آخری روانگی کے وقت میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ روانہ ہوئی، یہاں تک کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وادیِ محصب میں پڑاؤ کیا، آپ کے ہمراہ ہم نے بھی پڑاؤ کیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عبدالرحمن بن ابوبکر رضی اللہ عنہما کو بلوایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنی بہن کو حرم سے باہر لے جاؤ اور اسے عمرہ کروا لاؤ، پھر تم دونوں فارغ ہو کر فلاں مقام پر آ جانا، میں تم دونوں کے آنے کا انتظار کروں گا۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: تو میں اس کام کے لیے روانہ ہوئی۔ پھر میں اس سے فارغ ہوئی، پھر میں طواف سے فارغ ہوئی۔ پھر سحری کے وقت وہاں آئی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”کیا تم لوگ فارغ ہو گئے ہو؟“ میں نے عرض کی: جی ہاں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب کو روانگی کا حکم دیا۔ لوگوں نے روانگی کی تیاری کی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم صبح کی نماز سے پہلے خانہ کعبہ کے پاس سے گزرے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا طواف کیا۔ پھر آپ وہاں سے باہر نکلے اور سوار ہو گئے۔ پھر آپ مدینہ منورہ کی طرف رخ کر کے روانہ ہو گئے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3795]

3796

Sahih Ibn Hibban #3796

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُوسَى بِعَسْكَرِ مُكْرَمٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الْقُطَعِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ ، سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَذْكُرُ حَجَّةَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ :فَأَمَرَنَا بَعْدَ مَا تَمَتَّعْنَا أَنْ نَحِلَّ ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : فَإِذَا أَرَدْتُمْ أَنْ تَنْطَلِقُوا إِلَى مِنًى فَأَهِلُّوا " ، قَالَ : فَأَهْلَلْنَا مِنَ الْبَطْحَاءِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حج کا تذکرہ کرتے ہوئے یہ بات ارشاد فرماتے ہیں: ہم نے حجِ تمتع کی نیت کی تھی۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں یہ حکم دیا کہ ہم احرام کھول دیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جب تم منیٰ کی طرف جانے کا ارادہ کرو گے، تو پھر احرام باندھ لینا۔“ سیدنا جابر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: تو ہم نے بطحاء سے احرام باندھا تھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3796]

3797

Sahih Ibn Hibban #3797

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ كُرَيْبٍ مَوْلَى بْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَرَّ بِامْرَأَةٍ ، فَقِيلَ لَهَا : هَذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ ،فَأَخَذَتْ بِعَضُدِ صَبِيٍّ كَانَ مَعَهَا ، فَقَالَتْ : أَلِهَذَا حَجٌّ يَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ ، قَالَ : نَعَمْ وَلَكِ أَجْرٌ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر ایک خاتون کے پاس سے ہوا، اس خاتون کو بتایا گیا: یہ اللہ کے رسول ہیں، تو اس خاتون نے اپنے بچے، جو اس کے ہمراہ تھا، کا بازو پکڑا، اس نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا اس کا حج ہوا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جی ہاں اور تمہیں بھی (اس کا) اجر ملے گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3797]

3798

Sahih Ibn Hibban #3798

أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ بِبُسْتَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ يَعْقُوبَ الطَّالَقَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ كُرَيْبٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : بَيْنَمَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْشِي فِي بَطْنِ الرَّوْحَاءِ إِذْ أَقْبَلَ وَفْدٌ ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنْهُمْ : مَنْ أَنْتُمْ ؟ ، فَقَالَ : نَحْنُ الْمُسْلِمُونَ ، ثُمَّ قَالَتِ امْرَأَةٌ : مَنْ أَنْتَ ؟ ، قَالَ : أَنَا رَسُولُ اللَّهِ ،فَأَخْرَجَتْ صَبِيًّا ، فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلِهَذَا حَجٌّ ؟ ، فَقَالَ : وَلَكِ أَجْرٌ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ”روحاء“ کے نشیبی علاقے سے گزر رہے تھے، سامنے سے کچھ لوگ آئے، ان میں سے ایک صاحب نے دریافت کیا: آپ کون لوگ ہیں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ہم مسلمان ہیں۔“ پھر ایک خاتون نے دریافت کیا: آپ کون ہیں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں اللہ کا رسول ہوں۔“ اس خاتون نے اپنے بچے کو نکالا اور دریافت کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا اس کا حج ہو گیا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(جی ہاں) اور تمہیں بھی اجر ملے گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3798]

3799

Sahih Ibn Hibban #3799

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الأَنْصَارِيُّ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ تَلْبِيَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ لا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ ، إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالْمُلْكَ ، لا شَرِيكَ لَكَ "، قَالَ نَافِعٌ : وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ يَزِيدُ فِيهَا : لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ ، لَبَّيْكَ وَالرَّغْبَاءُ إِلَيْكَ وَالْعَمَلُ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے تلبیہ کے یہ الفاظ تھے: «لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ، لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ، إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالْمُلْكَ، لَا شَرِيكَ لَكَ» ”میں حاضر ہوں اے اللہ! میں حاضر ہوں، تیرا کوئی شریک نہیں ہے، میں حاضر ہوں، بیشک حمد اور نعمت تیرے لیے مخصوص ہے اور بادشاہی بھی، تیرا کوئی شریک نہیں ہے۔“ نافع بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اس میں ان الفاظ کا اضافہ کرتے تھے: «لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ، وَالرَّغْبَاءُ إِلَيْكَ وَالْعَمَلُ» ”میں حاضر ہوں، سعادت تجھ سے حاصل ہو سکتی ہے، میں حاضر ہوں، رغبت تیری طرف کی جا سکتی ہے اور امر بھی تیری طرف جاتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3799]

3800

Sahih Ibn Hibban #3800

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي تَلْبِيَتِهِ : لَبَّيْكَ إِلَهَ الْحَقِّ لَبَّيْكَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تلبیہ میں یہ الفاظ پڑھتے تھے: «لَبَّيْكَ إِلٰهَ الْحَقِّ لَبَّيْكَ» ”میں حاضر ہوں اے حقیقی معبود، میں حاضر ہوں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3800]

3801

Sahih Ibn Hibban #3801

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ الْخَلِيلِ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ سَعِيدٍ الْمَسْرُوقِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدَ ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : انْطَلَقْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ مَكَّةَ إِلَى الْمَدِينَةِ ، فَلَمَّا أَتَيْنَا عَلَى وَادِي الأَزْرَقِ ، قَالَ : أَيُّ وَادٍ هَذَا ؟ " ، قَالُوا : وَادِي الأَزْرَقِ ، قَالَ : " كَأَنَّمَا أَنْظُرُ إِلَى مُوسَى ، يَنْعَتُ مِنْ طُولِهِ ، وَشَعَرِهِ ، وَلَوْنِهِ ، وَاضِعًا أُصْبُعَيْهِ فِي أُذُنَيْهِ ، لَهُ جُؤَارٌ إِلَى اللَّهِ تَعَالَى بِالتَّلْبِيَةِ مَارًّا بِهَذَا الْوَادِي " ، ثُمَّ نَفَذْنَا الْوَادِيَ حَتَّى أَتَيْنَا ، قَالَ دَاوُدَ : أَظُنُّهُ ثَنِيَّةَ هَرْشَى ، قَالَ : " أَيُّ ثَنِيَّةٍ هَذِهِ ؟ " فَقُلْنَا : ثَنِيَّةُ هَرْشَى ، قَالَ : " كَأَنَّمَا أَنْظُرُ إِلَى يُونُسَ عَلَى نَاقَةٍ حَمْرَاءَ ، خِطَامُ النَّاقَةِ خُلْبَةٌ ، عَلَيْهِ جُبَّةٌ لَهُ مِنْ صُوفٍ ، يُهِلُّ نَهَارًا بِهَذِهِ الثَّنِيَّةِ مُلَبِّيًا "، الْجُؤَارُ : الابْتِهَالُ ، وَالْخُلْبَةُ : الْحَشِيشُ ، قَالَهُ الشَّيْخُ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ کی طرف روانہ ہوئے۔ جب ہم وادیِ ازرق میں آئے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”یہ کون سی وادی ہے؟“ لوگوں نے بتایا: یہ وادیِ ازرق ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میں گویا اس وقت بھی سیدنا موسیٰ علیہ السلام کو دیکھ رہا ہوں“ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے قد، ان کے بالوں اور رنگت کا تذکرہ کیا (اور یہ فرمایا): ”انہوں نے اپنی دونوں انگلیاں دونوں کانوں میں دی ہوئی ہیں اور تلبیہ کے الفاظ کے ہمراہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں التجا کرتے ہوئے اس وادی سے گزر رہے ہیں۔“ راوی کہتے ہیں: پھر ہم اس وادی سے آگے بڑھ گئے اور ہم آئے—داؤد نامی راوی نے یہ بات بیان کی ہے میرا خیال ہے روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ ہم— ”ہرشی“ نامی گھاٹی پر آئے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”یہ کون سی گھاٹی ہے؟“ ہم نے جواب دیا: یہ ہرشی گھاٹی ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”گویا میں اس وقت بھی سیدنا یونس علیہ السلام کو دیکھ رہا ہوں، وہ اپنی سرخ اونٹنی پر سوار ہیں جس کی لگام کھجور کے پتوں سے بنی ہوئی ہے۔ انہوں نے ادنیٰ جبہ پہنا ہوا ہے اور وہ اس گھاٹی سے گزرتے ہوئے بلند آواز میں تلبیہ پڑھ رہے ہیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3801]

3802

Sahih Ibn Hibban #3802

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ خَلادِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ أَبِيهِ ، يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : أَتَانِي جِبْرِيلُ ، فَأَمَرَنِي أَنْآمُرَ أَصْحَابِي أَنْ يَرْفَعُوا أَصْوَاتَهُمْ بِالإِهْلالِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

خلاد بن سائب اپنے والد (سائب بن خلاد رضی اللہ عنہ) کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ ان تک نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان پہنچا ہے: ”جبرائیل میرے پاس آئے اور انہوں نے مجھ سے یہ کہا کہ میں اپنے ساتھیوں کو یہ ہدایت کروں کہ وہ بلند آواز میں تلبیہ پڑھیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3802]

3803

Sahih Ibn Hibban #3803

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي لَبِيدٍ ، عَنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَنْطَبٍ ، عَنْ خَلادِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : أَتَانِي جِبْرِيلُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا مُحَمَّدُمُرْ أَصْحَابَكَ فَلْيَرْفَعُوا أَصْوَاتَهُمْ بِالتَّلْبِيَةِ ، فَإِنَّهُ مِنْ شِعَارِ الْحَجِّ "، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : سَمِعَ هَذَا الْخَبَرَ خَلادُ بْنُ السَّائِبِ ، مِنْ أَبِيهِ ، وَمِنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ ، وَلَفْظَاهُمَا مُخْتَلِفَانِ ، وَهُمَا طَرِيقَانِ مَحْفُوظَانِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جبرائیل میرے پاس آئے اور بولے: اے (سیدنا) محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) آپ اپنے اصحاب کو یہ حکم دیجیے کہ وہ بلند آواز میں تلبیہ پڑھیں، کیونکہ یہ حج کا مخصوص طریقہ ہے۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) خلاد بن سائب نے یہ روایت اپنے والد سے بھی سنی ہے اور سیدنا زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ سے بھی سنی ہے۔ اس کے الفاظ ایک دوسرے سے مختلف ہیں تاہم اس کے دونوں طرق محفوظ ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3803]

3804

Sahih Ibn Hibban #3804

قَالَ عَطَاءٌ أَخْبَرَنِي ابْنُ عَبَّاسٍ ، أَنَّ الْفَضْلَ أَخْبَرَهُ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَلَمْ يَزَلْ يُلَبِّي حَتَّى رَمَى جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مزدلفہ سے منی کی طرف جاتے ہوئے سیدنا فضل بن عباس رضی اللہ عنہما کو اپنے پیچھے بٹھا لیا تھا۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ سیدنا فضل رضی اللہ عنہ نے انہیں بتایا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جمرہ عقبہ کی رمی کرنے تک مسلسل تلبیہ پڑھتے رہے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3804]

3805

Sahih Ibn Hibban #3805

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ ، وَعُمَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بُجَيْرٍ الْهَمْدَانِيُّ ، ومحمد بن المعافى ، والحسن بن سفيان ، وأبو عروبة ، قَالُوا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُصَفَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَنَسٍ : أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَدَخَلَ مَكَّةَ وَعَلَى رَأْسِهِ الْمِغْفَرُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں داخل ہوئے تو آپ کے سر مبارک پر خود تھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3805]

3806

Sahih Ibn Hibban #3806

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ الطَّائِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَامِدُ بْنُ يَحْيَى الْبَلْخِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : دَخَلَ مَكَّةَ عَامَ الْفَتْحِ ، وَعَلَى رَأْسهِ الْمِغْفَرُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ فتح مکہ کے موقع پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب مکہ میں داخل ہوئے، تو آپ کے سر مبارک پر خود تھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3806]

3807

Sahih Ibn Hibban #3807

أَخْبَرَنَا ابْنُ سَلْمٍ ، حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَدَخَلَ عَامَ الْفَتْحِ مِنْ كَدَاءٍ أَعْلَى مَكَّةَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: فتح مکہ کے موقع پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ مکرمہ کے بالائی علاقے کداء کی طرف سے مکہ میں داخل ہوئے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3807]

3808

Sahih Ibn Hibban #3808

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّ رَجُلا مِنْ أَهْلِ الْعِرَاقِ ، قَالَ : سَلْ لِي عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ عَنْ رَجُلٍ يُهِلُّ بِالْحَجِّ ، فَإِذَا طَافَ بِالْبَيْتِ أَهَلّ أَمْ لا ؟ فَقَالَ عُرْوَةُ : قَدْحَجَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَخْبَرَتْنِي عَائِشَةُ ، أَنَّ أَوَّلَ شَيْءٍ بَدَأَ بِهِ حِينَ قَدِمَ مَكَّةَ أَنَّهُ تَوَضَّأَ ، وَطَافَ بِالْبَيْتِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

محمد بن عبدالرحمن بیان کرتے ہیں: عراق سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے کہا: عروہ بن زبیر رحمہ اللہ سے ایسے شخص کے بارے میں دریافت کریں جو حج کا احرام باندھتا ہے اور وہ بیت اللہ کا طواف کر لیتا ہے، وہ تلبیہ پڑھتا رہے گا یا نہیں؟ تو عروہ رحمہ اللہ نے بتایا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حج کیا تھا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے یہ بات بتائی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ مکرمہ تشریف لانے کے بعد سب سے پہلے وضو کیا تھا اور بیت اللہ کا طواف کیا تھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3808]

3809

Sahih Ibn Hibban #3809

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ ، يَقُولُ : لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ ،طَافَ بِالْبَيْتِ سَبْعًا ، ثُمَّ صَلَّى خَلْفَ الْمَقَامِ رَكْعَتَيْنِ ، ثُمَّ خَرَجَ إِلَى الصَّفَا مِنَ الْبَابِ الَّذِي يَخْرُجُ مِنْهُ ، فَطَافَ بِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ "، قَالَ شُعْبَةُ : وَأَخْبَرَنِي أَيُّوبُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّهُ قَالَ : سُنَّةٌ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ تشریف لائے، تو آپ نے بیت اللہ کا سات مرتبہ طواف کیا۔ پھر آپ نے مقامِ ابراہیم کے پاس دو رکعت نماز ادا کی، پھر آپ اس دروازے سے، جس سے باہر آیا جاتا ہے، صفا کی طرف تشریف لے گئے اور آپ نے صفا اور مروہ کا چکر لگایا۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: یہ سنت ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3809]

3810

Sahih Ibn Hibban #3810

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَابِرٍ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّاقَدِمَ مَكَّةَ رَمَلَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "فِيمَا وَصَفْنَاهُ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

امام جعفر صادق رحمہ اللہ اپنے (والد امام محمد باقر رحمہ اللہ) کے حوالے سے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ ”جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ تشریف لائے تو آپ نے (طواف کرتے ہوئے) رمل کیا تھا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3810]

3811

Sahih Ibn Hibban #3811

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حِبَّانُ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، عَنْ فِطْرٍ ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ ، قَالَ : دَخَلْتُ عَلَى ابْنِ عَبَّاسٍ ، فَقُلْتُ : يَا ابْنَ عَبَّاسٍ ، إِنَّ قَوْمَكَ يَزْعُمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَمَلَ ، وَأَنَّهُ سَنَةٌ ، فَقَالَ : صَدَقُوا وَكَذَبُوا ، قَدْ رَمَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَيْسَ بِسُنَّةٍ ، ثُمَّ قَالَ : قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَالْمُشْرِكُونَ عَلَى قُعَيْقِعَانَ ، وَقَدْ تَحَدَّثُوا : أَنَّ بِصَحَابَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هُزَالا وَجَهْدًا ، فَأَمَرَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَرْمُلُوا لِيُرِيَهُمْ أَنَّ بِهِمْ قُوَّةً """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابوطفیل بیان کرتے ہیں: میں سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی خدمت میں حاضر ہوا۔ میں نے کہا: اے ابن عباس! آپ کی قوم کے افراد یہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے رمل کیا تھا اور یہ سنت ہے، تو سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: انہوں نے کچھ بات ٹھیک بیان کی ہے اور کچھ غلط بیان کی ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے رمل کیا تھا، لیکن یہ سنت نہیں ہے، پھر انہوں نے یہ بات بتائی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم (مکہ مکرمہ) تشریف لائے، تو مشرکین قعیقان (کے مقام پر) بیٹھے ہوئے تھے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کے بارے میں مذاق اڑانے کے طور پر بات چیت کر رہے تھے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام کو یہ حکم دیا کہ ”وہ رمل کریں، تاکہ ان لوگوں کو اپنی قوت دکھا دیں“۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3811]

3812

Sahih Ibn Hibban #3812

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ الشَّيْبَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ النَّرْسِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ ، عَنِ ابْنِ خُثَيْمٍ ، قَالَ : سَأَلْتُ أَبَا الطُّفَيْلِ ، فَقُلْتُ : الأَطْرَافُ الثَّلاثَةُ الَّتِي تُسْنَدُ بِالْكَعْبَةِ ؟ ، قَالَ أَبُو الطُّفَيْلِ : سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ عَنْهَا ، فَقَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا نَزَلَ مَرَّ الظَّهْرَانِ فِي صُلْحِ قُرَيْشٍ ، بَلَغَ أَصْحَابَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ قُرَيْشًا كَانَتْ ، تَقُولُ : تُبَايعُونَ ضُعَفَاءَ ؛ قَالَ أَصْحَابُهُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ لَوْ أَكَلْنَا مِنْ ظَهْرِنَا ، فَأَكَلْنَا مِنْ شُحُومِهَا ، وَحَسَوْنَا مِنَ الْمَرَقِ ، فَأَصْبَحْنَا غَدًا حَتَّى نَدْخُلَ عَلَى الْقَوْمِ ، وَبِنَا جِمَامٌ ، قَالَ : لا وَلَكِنِائْتُونِي بِفَضْلِ أَزْوَادِكُمْ " ، فَبَسَطُوا أَنْطَاعَهُمْ ، ثُمَّ جَمَعُوا عَلَيْهَا مِنْ أَطْعِمَاتِهِمْ كُلَّهَا ، فَدَعَا لَهُمْ فِيهَا بِالْبَرَكَةِ ، فَأَكَلُوا حَتَّى تَضَلَّعُوا شِبَعًا ، فَأَكْفَتُوا فِي جُرَبِهِمْ فُضُولَ مَا فَضَلَ مِنْهَا ، فَلَمَّا دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى قُرَيْشٍ ، وَاجْتَمَعَتْ قُرَيْشٌ نَحْوَ الْحَجَرِ ، اضْطَبَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لأَصْحَابِهِ : " لا يَرَى الْقَوْمُ فِيكُمْ غَمِيزَةً " ، وَاسْتَلَمَ الرُّكْنَ الْيَمَانِيَ ، وَتَغَيَّبَتْ قُرَيْشٌ ، مَشَى هُوَ وَأَصْحَابُهُ حَتَّى اسْتَلَمُوا الرُّكْنَ الأَسْوَدَ ، فَطَافَ ثَلاثَةَ أَطْوَافٍ ، فَلِذَلِكَ تَقُولُ قُرَيْشٌ وَهُمْ يَمُرُّونَ بِهِمْ يَرْمُلُونَ : لَكَأَنَّهُمُ الْغِزْلانُ ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : وَكَانَتْ سُنَّةً"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابن خثیم بیان کرتے ہیں کہ میں نے ابوطفیل سے دریافت کیا، میں نے کہا: وہ تین اطراف جن میں خانہ کعبہ کے ساتھ ٹیک لگائی جاتی ہے؟ تو ابوطفیل نے بتایا: میں نے اس بارے میں سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے دریافت کیا، تو انہوں نے بتایا کہ قریش کے ساتھ صلح کے موقع پر جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مرالظہران کے مقام پر پڑاؤ کیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کو یہ بات پتہ چلی کہ قریش یہ کہتے ہیں: ”تم لوگوں نے کمزور لوگوں کے ساتھ معاہدہ کیا ہے“، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب نے عرض کی: ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اگر ہم اپنی قربانی کے جانوروں کا گوشت کھائیں اور ان کی چربی کو کھائیں اور اس کا شوربہ پی لیں (تو ہمارے جسموں میں طاقت آ جائے گی)، تو ہم کل صبح مکہ میں داخل ہوں گے اور اس وقت ہم طاقت ور نظر آئیں گے۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جی نہیں بلکہ تم اپنے زادِ سفر میں سے بچ جانے والی چیزیں لے کر آؤ“، پھر لوگوں نے اپنے دسترخوان بچھائے اور اس پر اپنے کھانے کی تمام چیزیں جمع کر دیں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان چیزوں کے بارے میں برکت کی دعا کی، تو انہوں نے اسے کھایا، تو ان کے پیٹ بھر گئے۔ انہوں نے باقی بچ جانے والی چیزیں اپنے تھیلوں میں ڈال لیں، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم قریش کے سامنے آئے تو قریش حجرِ اسود کے سامنے اکٹھے تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اضطباع (کے طور پر کپڑے کو لپیٹا) کیا، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ساتھیوں سے فرمایا: ”ان لوگوں کو تمہارے اندر کمزوری نہیں نظر آنی چاہیے۔“ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے رکنِ یمانی کا استلام کیا۔ اس وقت قریش دوسری طرف ہو گئے (یعنی نظر نہیں آتے تھے) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب عام رفتار سے چلتے تھے، یہاں تک کہ حجرِ اسود کا استلام کر لیتے (تو پھر دوڑنا شروع کر دیتے تھے) تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تین طواف اس طرح کیے کہ یہ حضرات دوڑتے ہوئے قریش کے پاس سے گزرتے، تو قریش یہ کہتے تھے: ”یہ ہرنوں کی طرح دوڑ رہے ہیں۔“ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ یہ سنت ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3812]

3813

Sahih Ibn Hibban #3813

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَابِرٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَرَمَلَ مِنَ الْحَجَرِ إِلَى الْحَجَرِ "، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : " رَمَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْبَيْتِ ثَلاثًا ، وَمَشَى أَرْبَعًا " ، كَذَلِكَ قَالَهُ جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ فِي رِوَايَةِ أَصْحَابِهِ عَنْهُ ، عَنْ جَابِرٍ ، وَاخْتَصَرَ مَالِكٌ الْخَبَرَ وَلَمْ يَذْكُرْ أَنَّهُ رَمَلَ ثَلاثًا ، وَمَشَى أَرْبَعًا ، فَكَانَ الرَّمَلُ لِعِلَّةٍ مَعْلُومَةٍ ، وَهِيَ أَنْ يَرَاهُمُ الْمُشْرِكُونَ جُلَدَاءَ ، لا ضَعْفَ بِهِمْ ، فَارْتَفَعَتْ هَذِهِ الْعِلَّةُ ، وَبَقِيَ الرَّمَلُ فَرِضَا عَلَى أُمَّةِ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

امام جعفر صادق رحمہ اللہ اپنے والد (امام محمد باقر رحمہ اللہ) کے حوالے سے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: ”نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حجر سے لے کر حجر تک رمل کیا تھا۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ بیت اللہ کا رمل کیا اور چار مرتبہ عام رفتار سے چلے۔ امام جعفر صادق رحمہ اللہ نے اپنی روایت میں یہ بات اسی طرح نقل کی ہے جو سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے منقول ہے، جیسا کہ ان کے شاگردوں نے اسے نقل کیا ہے۔ جب کہ امام مالک رحمہ اللہ نے اس روایت کو مختصر طور پر نقل کیا ہے، انہوں نے یہ بات نقل نہیں کی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تین چکروں میں بھاگ کر چلے تھے اور چار چکروں میں عام رفتار سے چلے تھے؛ تو یہ رمل کسی متعین علت کی وجہ سے تھا اور وہ علت یہ تھی کہ مشرکین ان لوگوں کو دیکھ لیں کہ وہ تندرست لوگ ہیں، ان میں کمزوری نہیں ہے، جب یہ علت ختم ہو گئی تو علت کا حکم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کے لیے قیامت کے دن تک فرض کے طور پر باقی رہ گیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3813]

3814

Sahih Ibn Hibban #3814

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الذُّهْلِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ ابْنِ خُثَيْمٍ ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لأَصْحَابِهِ حِينَ أَرَادُوا دُخُولَ مَكَّةَ فِي عُمْرَتِهِ بَعْدَ الْحُدَيْبِيَةِ : إِنَّقَوْمَكُمْ غَدًا سَيَرَوْنَكُمْ ، فَلَيَرَوْنَكُمْ جُلَدَاءَ " ، فَلَمَّا دَخَلُوا الْمَسْجِدَ اسْتَلَمُوا الرُّكْنَ ، ثُمَّ رَمَلُوا ، وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَهُمْ ، حَتَّى إِذَا بَلَغُوا الرُّكْنَ مَشَوْا إِلَى الرُّكْنِ الأَسْوَدِ ، ثُمَّ رَمَلُوا حَتَّى بَلَغُوا الرُّكْنَ ، فَعَلَ ذَلِكَ ثَلاثَ مَرَّاتٍ ، ثُمَّ مَشَى الأَرْبَعَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ حدیبیہ کے بعد عمرہ کے موقع پر جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب مکہ میں داخل ہونے لگے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب سے فرمایا: ”لوگ کل تمہیں دیکھیں، تو تمہیں مضبوط دیکھیں“۔ جب یہ لوگ مسجد میں داخل ہوئے، تو انہوں نے حجر اسود کا استلام کیا، پھر انہوں نے رمل کیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بھی ان کے ساتھ تھے، یہاں تک کہ یہ لوگ رکن یمانی تک پہنچے، تو عام رفتار سے چلتے ہوئے حجر اسود تک آئے، پھر بھاگنے لگے، جب رکن یمانی تک پہنچے (تو پھر عام رفتار سے چلنے لگے)۔ ایسا انہوں نے تین مرتبہ کیا (جبکہ باقی کے) چار طوافوں میں عام رفتار سے چلتے رہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3814]

3815

Sahih Ibn Hibban #3815

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَخْبَرَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : أَلَمْ تَرَيْ أَنَّ قَوْمَكِ حِينَ بَنَوَا الْكَعْبَةَ ، اقْتَصَرُوا عَلَى قَوَاعِدِ إِبْرَاهِيمَ " ، قَالَتْ : فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ أَفَلا تَرُدُّهَا عَلَى قَوَاعِدِ إِبْرَاهِيمَ ؟ ، قَالَ : " لَوْلا حِدْثَانُ قَوْمِكِ بِالْكُفْرِ "، قَالَ : فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ : لَئِنْ كَانَتْ عَائِشَةُ سَمِعْتُ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، مَا أَرَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَرَكَ اسْتِلامِ الرُّكْنَيْنِ اللَّذَيْنِ يَلِيَانِ الْحِجْرَ ، إِلا أَنَّ الْبَيْتَ لَمْ يَتِمَّ عَلَى قَوَاعِدِ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : قَوْلُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ : لَئِنْ كَانَتْ عَائِشَةُ سَمِعَتْ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَفْظَةً ، ظَاهِرُهَا التَّوَقُّفُ عَنْ صِحَّتِهَا مُرَادُهَا ابْتِدَاءَ إِخْبَارٍ عَنْ شَيْءٍ يَأْتِي بِتَيَقُّنِ شَيْءٍ مَاضٍ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”کیا تم نے اس بات کا جائزہ نہیں لیا کہ تمہاری قوم نے جب خانہ کعبہ کی تعمیر کی تھی، تو اسے سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی بنیادوں سے کم کر دیا تھا؟“۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! تو آپ اسے سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی بنیادوں پر لوٹا کیوں نہیں دیتے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اگر تمہاری قوم زمانہ کفر کے اتنا قریب نہ ہوتی (تو میں ایسا کر دیتا)۔“ راوی بیان کرتے ہیں: اس پر سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے یہ فرمایا: ”اگر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے یہ بات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی سنی ہے، تو میرا خیال ہے اسی وجہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حطیم کی طرف والے دو رکنوں کے استلام کو ترک کر دیا تھا، کیونکہ بیت اللہ سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی بنیادوں پر مکمل تعمیر نہیں ہوا تھا“۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا یہ قول ”اگر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے یہ بات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی سنی ہے“ ان الفاظ سے بظاہر یہ لگتا ہے کہ وہ اس روایت کے بارے میں توقف کرنا چاہتے ہیں، حالانکہ اس سے مراد ہے کہ وہ ایک چیز کے بارے میں اطلاع کا آغاز کر رہے ہیں جو اس سے پہلے یقینی طور پر آ چکی ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3815]

3816

Sahih Ibn Hibban #3816

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الذُّهْلِيُّ ، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ : سَمِعْتُ يَزِيدَ بْنَ رُومَانَ يُحَدِّثُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهَا : يَا عَائِشَةُلَوْلا أَنَّ قَوْمَكِ حَدِيثُ عَهْدٍ بِالْجَاهِلِيَّةِ ، لَهَدَمْتُ الْبَيْتَ حَتَّى أُدْخِلَ فِيهِ مَا أَخْرَجُوا مِنْهُ فِي الْحِجْرِ ، فَإِنَّهُمْ عَجَزُوا عَنْ نَفَقَتِهِ ، وَأَلْصَقْتُهُ بِالأَرْضِ ، وَوَضَعْتُهُ عَلَى أَسَاسِ إِبْرَاهِيمَ ، وَجَعَلْتُ لَهُ بَابَيْنِ ، بَابًا شَرْقِيًّا ، وَبَابًا غَرْبِيًّا "، قَالَ : فَكَانَ هَذَا الَّذِي دَعَا ابْنَ الزُّبَيْرِ إِلَى هَدْمِهِ وَبِنَائِهِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”اے عائشہ رضی اللہ عنہا! اگر تمہاری قوم زمانہ جاہلیت کے قریب نہ ہوتی، تو میں بیت اللہ کو منہدم کروا کے اس میں وہ حصہ داخل کر دیتا جو انہوں نے اس میں سے نکال دیا تھا (جو حطیم ہے ان لوگوں کے پاس خرچ کم ہو گیا تھا)، تو انہوں نے اسے زمین کے ساتھ ملا دیا اور میں اسے سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی بنیادوں کے مطابق تعمیر کرتا، میں اس کے دو دروازے بناتا؛ ایک دروازہ مشرق کی سمت ہوتا اور ایک مغرب کی سمت ہوتا۔“ راوی بیان کرتے ہیں کہ اسی وجہ سے سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے اسے منہدم کروا کے اس کی تعمیر نو کروائی تھی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3816]

3817

Sahih Ibn Hibban #3817

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْعَبْدِيُّ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الأَسْوَدِ ، أَنَّ ابْنَ الزُّبَيْرِ سَأَلَ الأَسْوَدَ ، وَكَانَ يَأْتِي عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، وَكَانَتْ تُفْضِي إِلَيْهِ ، قَالَ الأَسْوَدُ : قَالَتْ عَائِشَةُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَوْلا أَنَّ قَوْمَكِ حَدِيثُ عَهْدٍ بِجَاهِلِيَّةِ ، لَهَدَمْتُ الْكَعْبَةَ ، وَجَعَلْتُ لَهَا بَابَيْنِ "، فَهَدَمَهُ ابْنُ الزُّبَيْرِ ، وَجَعَلَ لَهَا بَابَيْنِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

اسود بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے اسود سے سوال کیا (وہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ہاں آیا جایا کرتے تھے اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا ان پر خصوصی شفقت کرتی تھیں)۔ اسود نے بتایا کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے یہ بات بتائی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”اگر تمہاری قوم زمانہ جاہلیت کے قریب نہ ہوتی، تو میں خانہ کعبہ کو منہدم کروا دیتا اور اس کے دو دروازے بنواتا۔“ راوی کہتے ہیں: اسی لیے سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے اسے منہدم کروا کے اس کے دو دروازے بنوائے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3817]

3818

Sahih Ibn Hibban #3818

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ زُهَيْرٍ بِتُسْتَرَ ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ الْقَطَّانُ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا سُلَيْمُ بْنُ حَيَّانٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مِينَاءٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنُ الزُّبَيْرِ ، يَقُولُ : وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ حِينَ أَرَادَ أَنْ يَهْدِمَ الْكَعْبَةَ وَيَبْنِيَهَا ، حَدَّثَتْنِي عَائِشَةُ خَالَتِي ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهَا : يَا عَائِشَةُلَوْلا أَنَّ قَوْمَكِ حَدِيثُ عَهْدٍ بِشِرْكٍ ، لَهَدَمْتُ الْكَعْبَةَ ، ثُمَّ زِدْتُ فِيهَا سِتَّةَ أَذْرُعٍ مِنَ الْحِجْرِ ، فَإِنَّ قُرَيْشًا اقْتَصَرَتْ بِهَا حِينَ بَنَتِ الْبَيْتَ ، وَجَعَلَتُ لَهَا بَابَيْنِ شَرْقِيًّا ، وَبَابًا غَرْبِيًّا ، وَأَلْزَقَتُهَا بِالأَرْضِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سعید بن میناء بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کو منبر پر یہ بیان کرتے ہوئے سنا، یہ اس وقت کی بات ہے جب انہوں نے خانہ کعبہ کو منہدم کروا کے اس کی تعمیرِ نو کا ارادہ کیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا، جو میری خالہ ہیں، انہوں نے مجھے یہ بات بتائی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا تھا: ”اے عائشہ! اگر تمہاری قوم زمانۂ شرک کے اتنا قریب نہ ہوتی، تو میں خانہ کعبہ کو منہدم کروا کے اس میں حطیم کے چھ بالشت حصے کا اضافہ کرواتا؛ کیونکہ قریش نے اس کی تعمیر کرتے ہوئے اس حصے کو چھوڑ دیا تھا، اور میں اس کے دو دروازے بناتا؛ ایک مشرقی دروازہ اور ایک مغربی دروازہ اور میں اس کے دروازوں کو زمین کے ساتھ رکھتا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3818]

3819

Sahih Ibn Hibban #3819

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ أَبِي إِسْرَائِيلَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ ، سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ : لَمْ يَطُفْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَلا أَصْحَابُهُ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ، إِلا طَوَافًا وَاحِدًا ، طَوَافَهُ الأَوَّلَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب نے صفا اور مروہ کے درمیان صرف ایک مرتبہ طواف کیا تھا جو پہلی مرتبہ کیا تھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3819]

3820

Sahih Ibn Hibban #3820

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنِ الْمُحَرَّرِ بْنِ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : كُنْتُ مَعَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ أُنَادِي بِالْمُشْرِكِينَ ، فَكَانَ عَلِيٌّ إِذَا صَحِلَ صَوْتُهُ ، أَوِ اشْتَكَى حَلْقُهُ ، أَوْ عَيِيَ مِمَّا يُنَادِي نَادَيْتُ مَكَانَهُ ، قَالَ : فَقُلْتُ لأَبِي : أَيَّ شَيْءٍ كُنْتُمْ تَقُولُونَ ؟ قَالَ : كُنَّا نَقُولُ : لا يَحُجُّ بَعْدَ الْعَامِ مُشْرِكٌ ، فَمَا حَجَّ بَعْدَ ذَلِكَ الْعَامِ مُشْرِكٌ ، وَلا يَطُوفُ بِالْبَيْتِ عُرْيَانٌ ، وَلا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ إِلا مُؤْمِنٌ ، وَمَنْ كَانَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُدَّةٌ ، فَمُدَّتُهُ إِلَى أَرْبَعَةِ أَشْهُرٍ ، فَإِذَا قُضِيَ أَرْبَعَةُ أَشْهُرٍ ، فَإِنَّ اللَّهَ بَرِيءٌ مِنَ الْمُشْرِكِينَ وَرَسُولُهُ " ، قَالَ : فَكَانَ الْمُشْرِكُونَ ، يَقُولُونَ : لا بَلْ شَهْرٌ يَضْحَكُونَ بِذَلِكَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

محرر بن ابوہریرہ رحمہ اللہ اپنے والد (سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ) کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ میں سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے ساتھ مشرکین کے بارے میں اعلان کر رہا تھا، پھر جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی آواز بیٹھ گئی اور ان کے حلق میں درد ہونے لگا اور وہ بلند آواز میں اعلان کرنے کے قابل نہ رہے تو ان کی جگہ میں پکارنے لگا۔ راوی (محرر) کہتے ہیں کہ میں نے اپنے والد سے دریافت کیا: آپ لوگ کیا اعلان کر رہے تھے؟ تو سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ ہم یہ پکار رہے تھے: ”اس سال کے بعد کوئی مشرک حج نہیں کرے گا،“ چنانچہ اس سال کے بعد کسی مشرک نے حج نہیں کیا، ”اور کوئی برہنہ شخص بیت اللہ کا طواف نہیں کرے گا، اور جنت میں صرف مومن جان ہی داخل ہوگی، اور جس شخص کے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان (کسی مدت تک کا) کوئی معاہدہ ہے تو اس کے ختم ہونے کی مدت چار ماہ ہے، پھر جب چار ماہ گزر جائیں گے تو اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول مشرکین سے لاتعلق ہوں گے۔“ ﴿أَنَّ اللَّهَ بَرِيءٌ مِنَ الْمُشْرِكِينَ ۙ وَرَسُولُهُ﴾ [سورة التوبة: 3] تو مشرکین (اس بات کا مذاق اڑاتے ہوئے) یہ کہہ رہے تھے: جی نہیں، ایک مہینہ ہی کافی ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3820]

3821

Sahih Ibn Hibban #3821

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ ، قَالَ : قَبَّلَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ الْحَجَرَ ، ثُمَّ قَالَ : وَاللَّهِ لَقَدْعَلِمْتُ أَنَّكَ حَجَرٌ ، وَلَوْلا أَنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَبِّلُكَ مَا قَبَّلْتُكَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سالم بن عبداللہ اپنے والد (سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما) کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے حجر اسود کو بوسہ دیا اور فرمایا: اللہ کی قسم! میں یہ بات جانتا ہوں کہ تم ایک پتھر ہو، اگر میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو تمہیں بوسہ دیتے ہوئے نہ دیکھا ہوتا، تو میں تمہیں بوسہ نہ دیتا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3821]

3822

Sahih Ibn Hibban #3822

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَابِسِ بْنِ رَبِيعَةَ ، عَنْ عُمَرَ ، أَنَّهُ جَاءَ لِلْحَجَرِ فَقَبَّلَهُ ، وَقَالَ : إِنِّي لأَعْلَمُ أَنَّكَ حَجَرٌ مَا تَنْفَعُ وَمَا تَضُرُّ ، وَلَوْلا أَنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَبِّلُكَ مَا قَبَّلْتُكَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عابس بن ربیعہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ «الْحَجَرَ الْأَسْوَدَ» (حجر اسود) کے پاس آئے، اس کو بوسہ دیا اور فرمایا: ”میں یہ بات جانتا ہوں کہ تم ایک پتھر ہو، تم نہ کوئی نفع دے سکتے ہو اور نہ کوئی نقصان پہنچا سکتے ہو؛ اگر میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو تمہیں بوسہ دیتے ہوئے نہ دیکھا ہوتا، تو میں تمہیں بوسہ نہ دیتا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3822]

3823

Sahih Ibn Hibban #3823

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مَعْشَرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلاءِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ السَّرِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الثَّوْرِيُّ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، قَالَ : قَالَ لِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : كَيْفَ صَنَعْتَ فِي اسْتِلامِ الْحَجَرِ ؟ فَقُلْتُ : اسْتَلَمْتُ وَتَرَكْتُ ، قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَصَبْتَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”تم نے حجر اسود کا استلام کرتے ہوئے کیا، کیا؟“ میں نے عرض کی: میں نے اس کا استلام کیا اور پھر اسے چھوڑ دیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے ٹھیک کیا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3823]

3824

Sahih Ibn Hibban #3824

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ : أَنَّهُاسْتَلَمَ الْحَجَرَ ، ثُمَّ قَبَّلَ يَدَهُ ، وَقَالَ : مَا تَرَكْتُهُ مُنْذُ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَبِّلُهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

نافع، سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے حجر اسود کا استلام کرنے کے بعد اپنے ہاتھ کو بوسہ دیا اور فرمایا: جب سے میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اسے بوسہ دیتے ہوئے دیکھا ہے، اس کے بعد میں نے اسے کبھی ترک نہیں کیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3824]

3825

Sahih Ibn Hibban #3825

أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ بِبُسْتَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ هِلالٍ الصَّوَّافُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، وَعَبْدُ الْوَهَّابِ ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : طَافَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى رَاحِلَتِهِ ، فَإِذَا أَتَيْنَا إِلَى الرُّكْنِ ، أَشَارَ إِلَيْهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی اونٹنی پر سوار ہو کر طواف کیا، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم حجر اسود کے مد مقابل آئے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی طرف اشارہ کیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3825]

3826

Sahih Ibn Hibban #3826

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى الْقَطَّانُ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عُبَيْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ السَّائِبِ ، قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَقُولُ بَيْنَ الرُّكْنِ وَالْحَجَرِ : رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً ، وَفِي الآخِرَةِ حَسَنَةً ، وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن سائب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو رکن یمانی اور حجر اسود کے درمیان یہ دعا مانگتے ہوئے سنا: «رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ» ﴿رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ﴾ [سورة البقرة: 201] ”اے ہمارے پروردگار! تو ہمیں دنیا میں بھلائی عطا کر اور آخرت میں بھی بھلائی عطا کر اور ہمیں جہنم کے عذاب سے بچا لے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3826]

3827

Sahih Ibn Hibban #3827

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ مَوْهِبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : لَمْ أَرَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْسَحُ مِنَ الْبَيْتِ ، إِلا الرُّكْنَيْنِ الْيَمَانِيَّيْنِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بیت اللہ کے صرف دو یمانی رکنوں پر ہاتھ پھیرتے ہوئے دیکھا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3827]

3828

Sahih Ibn Hibban #3828

أَخْبَرَنَا مَكْحُولٌ بِبَيْرُوتَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : طَافَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى رَاحِلَتِهِ الْقَصْوَاءِ يَوْمَ الْفَتْحِ ، وَاسْتَلَمَ الرُّكْنَ بِمِحْجَنِهِ ، وَمَا وَجَدَ لَهَا مُنَاخًا فِي الْمَسْجِدِ حَتَّى أُخْرِجَتْ إِلَى بَطْنِ الْوَادِي ، فَأُنِيخَتْ ، ثُمَّ حَمِدَ اللَّهَ وَاثْنَيْ عَلَيْهِ ، ثُمَّ قَالَ : أَمَا بَعْدَ ، أَيُّهَا النَّاسُ ، فَإِنَّاللَّهَ قَدْ أَذْهَبَ عَنْكُمْ عُبِّيَّةَ الْجَاهِلِيَّةِ ، يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، إِنَّمَا النَّاسُ رَجُلانِ بَرٌّ تَقِيٌّ كَرِيمٌ عَلَى رَبِّهِ ، وَفَاجِرٌ شَقِيٌّ هَيِّنٌ عَلَى رَبِّهِ " ، ثُمَّ تَلا : يَأَيُّهَا النَّاسُ إِنَّا خَلَقْنَاكُمْ مِنْ ذَكَرٍ وَأُنْثَى وَجَعَلْنَاكُمْ شُعُوبًا وَقَبَائِلَ لِتَعَارَفُوا حَتَّى قَرَأَ الآيَةَ ، ثُمَّ قَالَ : " أَقُولُ هَذَا وَاسْتَغْفِرُ اللَّهَ لِي وَلَكُمْ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ فتح مکہ کے موقع پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی اونٹنی قصواء پر طواف کیا تھا، آپ نے اپنی چھڑی کے ذریعے حجر اسود کا استلام کیا، آپ کو اونٹنی کو بٹھانے کے لیے مسجد میں کوئی جگہ نہیں ملی یہاں تک کہ اسے وادی کے نشیبی حصے کی طرف لے جا کر بٹھایا گیا، پھر آپ نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی اور یہ بات ارشاد فرمائی: «أَمَّا بَعْدُ» ”امّا بعد! اے لوگو! بے شک اللہ تعالیٰ نے تم سے زمانہ جاہلیت کی خرابیوں کو ختم کر دیا ہے، اے لوگو! لوگ دو طرح کے ہوتے ہیں: ایک وہ جو اپنے پروردگار کے نزدیک نیک اور معزز ہوں اور دوسرے وہ جو اپنے پروردگار کے نزدیک گناہگار، بدبخت اور بے حیثیت ہوں، پھر آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی: ﴿يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّا خَلَقْنَاكُم مِّن ذَكَرٍ وَأُنثَىٰ وَجَعَلْنَاكُمْ شُعُوبًا وَقَبَائِلَ لِتَعَارَفُوا﴾ [سورة الحجرات: 13] ”اے لوگو! بے شک ہم نے تمہیں مذکر اور مونث سے پیدا کیا ہے، ہم نے تمہیں مختلف گروہوں میں تقسیم کیا ہے، تاکہ تم ایک دوسرے کی شناخت حاصل کرو“۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت مکمل تلاوت کی، پھر آپ نے ارشاد فرمایا: ”میں یہ بات کہتا ہوں، میں اپنے لیے اور تمہارے لیے اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کرتا ہوں“۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3828]

3829

Sahih Ibn Hibban #3829

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَطَافَ بِالْبَيْتِ عَلَى رَاحِلَتِهِ يَسْتَلِمُ الرُّكْنَ بِمِحْجَنٍ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی اونٹنی پر بیٹھ کر بیت اللہ کا طواف کیا تھا، آپ نے اپنی چھڑی کے ذریعے حجر اسود کا استلام کیا تھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3829]

3830

Sahih Ibn Hibban #3830

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الرَّقَّامِ بِتُسْتَرَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مَعَنُ بْنُ عِيسَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ نَوْفَلٍ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أُمِّ سَلَمَةَ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ : شَكَوْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنِّي شَاكِيَةٌ ، فَقَالَ : طُوفِي مِنْ وَرَاءِ النَّاسِ ، وَأَنْتِ رَاكِبَةٌ " ، قَالَتْ : فَفَعَلْتُ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ زینب بنت ام سلمہ رضی اللہ عنہا، ام سلمہ رضی اللہ عنہا کا یہ بیان نقل کرتی ہیں: ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بیمار ہونے کی شکایت کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم لوگوں سے پرے ہو کر طواف کر لو۔“ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میں نے ایسا ہی کیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3830]

3831

Sahih Ibn Hibban #3831

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ الأَحْوَلِ ، أَنَّ طَاوُسًا أَخْبَرَهُ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَمَرَّ وَهُوَ يَطُوفُ بِالْكَعْبَةِ بِإِنْسَانٍ يَقُودُ إِنْسَانًا بِخِزَامَةٍ فِي أَنْفِهِ ، فَقَطَعَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ ، ثُمَّ أَمَرَهُ أَنْ يَقُودَهُ بِيَدِهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ خانہ کعبہ کا طواف کرتے ہوئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر ایک شخص کے پاس سے ہوا جسے ایک دوسرا شخص ساتھ لے کر چل رہا تھا اور اس نے اس کی ناک میں نکیل ڈالی ہوئی تھی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دستِ مبارک کے ذریعے اسے کاٹ دیا اور پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے یہ ہدایت کی: ”وہ اسے اپنے ہاتھ کے ساتھ پکڑ کر ساتھ لے کر چلے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3831]