Muslim99Muslim99

Sahih Ibn Hibban · Book 34 · Chapter 1

Book of Compromise

Hadith 3752–3791

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

3752

Sahih Ibn Hibban #3752

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بُجَيْرٍ الْهَمْدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْبُخَارِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ ، حَدَّثَنَا خَارِجَةُ بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ أَبِيهِ الْحَارِثِ بْنِ رَافِعِ بْنِ مَكِيثٍ الْجُهَنِيِّ ثُمَّ الرَّبْعِيِّ أَنَّهُ ، سَأَلَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، فَقَالَ : لَنَا غَنَمٌ وَغِلْمَانٌ ، وَهُمْ يُخَبِّطُونَ عَلَى غَنَمِهِمْ هَذِهِ الثَّمَرَةَ الْحُبْلَةَ ، وَهِيَ ثَمَرَةُ السَّمَرِ ؟ ، فَقَالَ جَابِرُ : لا ، ثُمَّ قَالَ : لا يُخْبَطُ ، وَلا يُعْضَدُ مُحْرِمُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَلَكِنْ هُشُّوا هَشًّا ، ثُمَّ قَالَ : إِنْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَلَيَنْهانَا أَنْ نَقْطَعَ الْمَسَدَ وَمِرْوَدَ الْبَكَرَةِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حارث بن رافع بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے سوال کیا، وہ بولے: ہماری بکریاں بھی ہیں اور بال بچے بھی ہیں، تو ان بال بچوں نے اپنی ان بکریوں کو پتے توڑ کر دینے ہوتے ہیں جو اس سمر کے درخت کے ہوتے ہیں، تو سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جی نہیں۔ پھر انہوں نے فرمایا: ”یہاں کے پتوں کو توڑا نہیں جائے گا اور یہاں کے (درخت کو) کاٹا نہیں جائے گا،“ کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے حرم قرار دیا ہے، البتہ تم لوگ آرام سے جھاڑ سکتے ہو۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3752]

3753

Sahih Ibn Hibban #3753

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا الْمُؤَمَّلُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : لَئِنْ عِشْتُ إِنْ شَاءَ اللَّهِ لأُخْرِجَنَّ الْيَهُودَ ، وَالنَّصَارَى مِنْ جَزِيرَةِ الْعَرَبِ ، حَتَّى لا يَبْقَى فِيهَا إِلا مُسْلِمٌ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عمر رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”اگر اللہ نے چاہا اور میں زندہ رہ گیا، تو میں یہودیوں اور عیسائیوں کو جزیرہ عرب سے نکال دوں گا، یہاں تک کہ اس میں صرف مسلمان باقی رہ جائیں گے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3753]

3754

Sahih Ibn Hibban #3754

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، وَأَبُو يَعْلَى مِنْ كِتَابِهِ ، قَالا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَزْرَةُ بْنُ ثَابِتٍ ، عَنْ ثُمَامَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَنَسٍ ، قَالَ : حَجَّ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ عَلَى رَحْلٍ ، وَلَمْ يَكُنْ شَحِيحًا ، وَحَدَّثَ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَحَجَّ عَلَى رَحْلٍ ، وَكَانَتْ زَامِلَتَهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ثمامہ بن عبداللہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے پالان پر بیٹھ کر (سفر کر کے) حج کیا، وہ کنجوس آدمی نہیں تھے، لیکن انہوں نے یہ بات بیان کی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بھی پالان پر سوار ہو کر حج کے لیے گئے تھے وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری تھی ( «زَامِلَة» اس اونٹنی کو کہا جاتا ہے جس پر ساز و سامان لادا جاتا ہے)۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3754]

3755

Sahih Ibn Hibban #3755

أَخْبَرَنَا الْمُفَضَّلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجَنَدِيُّ بِمَكَّةَ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ زِيَادٍ اللَّحْجِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو قُرَّةَ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ : وَحَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى مُوسَى بْنِ عِمْرَانَ مُنْهَبِطًا مِنْ ثَنِيَّةَ هَرْشَى مَاشِيًا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”گویا کہ میں اس وقت بھی سیدنا موسیٰ بن عمران علیہ السلام کی طرف دیکھ رہا ہوں جو ہرشی کی گھاٹی سے پیدل نیچے کی طرف اتر رہے ہیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3755]

3756

Sahih Ibn Hibban #3756

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَحْمُودِ بْنِ مُقَاتِلٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلاءِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا مَعْبَدٍ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ ، يَخْطُبُ ، فَقَامَ إِلَيْهِ رَجُلٌ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، اكْتُتِبْتُ فِي غَزَاةِ كَذَا وَكَذَا ، وَخَرَجَتِ امْرَأَتِي حَاجَةً ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اذْهَبْ فَحِجَّ بِامْرَأَتِكَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو منبر پر خطبہ دیتے ہوئے یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے؛ ایک شخص آپ کے سامنے کھڑا ہوا اس نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میرا نام فلاں فلاں غزوے میں شرکت کے لیے نوٹ کر لیا گیا ہے جبکہ میری بیوی حج کے لیے روانہ ہونا چاہتی ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم جاؤ اور اپنی بیوی کو حج کرواؤ۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3756]

3757

Sahih Ibn Hibban #3757

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلاءِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ أَبِي مَعْبَدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : لا يَخْلُوَنَّ رَجُلٌ بِامْرَأَةٍ إِلا وَمَعَهَا ذُو مَحْرَمٍ " ، فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي اكْتُتِبْتُ فِي غَزْوَةِ كَذَا وَكَذَا ، وَانْطَلَقَتِ امْرَأَتِي حَاجَةً ، فَقَالَ : " انْطَلِقْ فَحِجَّ مَعَ امْرَأَتِكَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”کوئی بھی شخص کسی عورت کے ساتھ تنہا ہرگز نہ ہو، اس عورت کے ساتھ اس کا کوئی محرم بھی ہونا چاہیے۔“ ایک صاحب کھڑے ہوئے، انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میرا نام فلاں فلاں جنگ میں حصے کے لیے نوٹ کر لیا گیا ہے، حالانکہ میری بیوی حج کے لیے جانا چاہتی ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم جاؤ اور اپنی بیوی کے ہمراہ حج کرو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3757]

3758

Sahih Ibn Hibban #3758

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ صَاعِقَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، عَنِ ابْنِ عَجْلانَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لا يَحِلُّ لامْرَأَةٍ أَنْ تُسَافِرَ إِلا مَعَ ذِي مَحْرَمٍ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”کسی بھی عورت کے لیے سفر کرنا جائز نہیں ہے، البتہ اس کا محرم ساتھ ہو، تو اس کا حکم مختلف ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3758]

3759

Sahih Ibn Hibban #3759

وَأُخْبِرْتُ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : وَيُهِلُّ أَهْلَ الْيَمَنِ مَنْ يلَمْلَمَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل مدینہ کو یہ حکم دیا ہے کہ ”وہ ذوالحلیفہ سے اور اہل شام جحفہ سے اور اہل نجد قرن سے احرام باندھیں۔“ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ یہ وہ مقامات ہیں جن کے بارے میں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی سنا ہے، مجھے یہ بات بتائی گئی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”اہل یمن یلملم سے احرام باندھیں گے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3759]

3760

Sahih Ibn Hibban #3760

قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ : وَأُخْبِرْتُ ، أَنَّهُ قَالَ : وَيُهِلُّ أَهْلَ الْيَمَنِ مِنْ يلَمْلَمَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ”اہل مدینہ کو ذوالحلیفہ سے، اہل شام کو جحفہ سے اور اہل نجد کو قرن سے احرام باندھنے کا حکم دیا ہے“۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: مجھے یہ بات بتائی گئی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”اہل یمن، اہل یلملم سے احرام باندھیں گے“۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3760]

3761

Sahih Ibn Hibban #3761

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنَّ رَجُلا سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ :مَا نَلْبَسُ مِنَ الثِّيَابِ إِذَا أَحْرَمْنَا ؟ ، فَقَالَ : لا تَلْبَسُوا الْقَمِيصَ ، وَلا السَّرَاوِيلاتَ ، وَلا الْعَمَائِمَ ، وَلا الْبَرَانِسَ ، وَلا الْخِفَافَ ، إِلا أَنْ يَكُونَ الرَّجُلُ لَيْسَتْ لَهُ نَعْلانِ ، فَلْيُقْطَعِ الْخُفَّيْنِ أَسْفَلَ مِنَ الْكَعْبَيْنِ ، وَلا يَلْبَسُ ثَوْبًا مَسَّهُ زَعْفَرَانُ ، أَوْ وَرْسٌ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے بلند آواز میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کرتے ہوئے دریافت کیا کہ آپ ہمیں کیا حکم دیتے ہیں کہ ہم کہاں سے احرام باندھیں؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اہلِ مدینہ ذوالحلیفہ سے، اہل شام جحفہ سے، اہل نجد قرن سے احرام باندھیں گے۔“ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ لوگ یہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات بھی ارشاد فرمائی ہے: ”اہل یمن، یلملم سے (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہے) ایلملم سے احرام باندھیں گے۔“ یہ شک یحییٰ نامی راوی کو ہے۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ ہم احرام باندھیں، تو ہم کون سے کپڑے پہنیں گے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم قمیص، شلوار، عمامہ، ٹوپی، موزے نہ پہنو، البتہ اگر کسی کے پاس جوتے نہ ہوں، تو وہ ٹخنوں سے نیچے اپنے موزے کاٹ لے اور (احرام والا شخص) ایسا کوئی کپڑا نہیں پہنے گا، جس پر زعفران یا ورس لگا ہوا ہو۔“ سیدنا عبدالله بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا: ہم احرام باندھیں، تو ہم کون سے کپڑے پہنیں گے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم قمیض شلوار، عمامہ، ٹوپی موزے نہ پہنو، البتہ اگر کسی کے پاس جوتے نہ ہوں، تو وہ ٹخنوں سے نیچے اپنے موزے کاٹ لے اور (احرام والا شخص) ایسا کوئی کپڑا نہیں پہنے گا، جس پر زعفران یا ورس لگا ہوا ہو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3761]""

3762

Sahih Ibn Hibban #3762

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّهُ ، سَمِعَ أَبَاهُ ، يَقُولُ : بَيْدَاؤُكُمْ هَذِهِ الَّتِي تَكْذِبُونَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهَا !مَا أَهَلَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلا مِنْ عِنْدِ الْمَسْجِدِ " ، يَعْنِي مَسْجِدَ ذِي الْحُلَيْفَةِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سالم بن عبداللہ بیان کرتے ہیں، انہوں نے اپنے والد سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا: یہ بیداء وہ جگہ ہے، جس کے بارے میں تم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف غلط بات منسوب کرتے ہو۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد کے پاس سے تلبیہ پڑھا تھا (ان کی مراد) مسجد ذوالحلیفہ تھی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3762]

3763

Sahih Ibn Hibban #3763

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ جُرَيْجٍ ، أَنَّهُ قَالَ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ : يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ رَايَتْكَ تَصْنَعُ أَرْبَعًا لَمْ أَرَ أَحَدًا مِنْ أَصْحَابِكَ يَصْنَعُهَا ، قَالَ : مَا هِيَ يَا ابْنَ جُرَيْجٍ ؟ ، قَالَ : رَأَيْتُكَ لا تَمَسُّ مِنَ الأَرْكَانِ إِلا الْيَمَانِيَّيْنِ ، وَرَأَيْتُكَ تَلْبَسُ النِّعَالَ السِّبْتِيَّةَ ، وَرَأَيْتُكَ تَصْبِغُ بِالصُّفْرَةِ ، وَرَأَيْتُكَ إِذَا كُنْتَ بِمَكَّةَ أَهَلَّ النَّاسُ إِذَا رَأَوَا الْهِلالَ ، وَلَمْ تُهِلَّ أَنْتَ حَتَّى يَكُونَ يَوْمُ التَّرْوِيَةِ ? فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ :" أَمَّا الأَرْكَانُ ، فَإِنِّي لَمْ أَرَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَلِمُ إِلا الْيَمَانِيَّيْنِ ، وَأَمَّا النِّعَالُ السِّبْتِيَّةُ ، فَإِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَلْبَسُ النِّعَالَ السِّبْتِيَّةَ الَّتِي لَيْسَ فِيهَا شَعَرٌ ، وَيَتَوَضَّأُ فِيهَا ، فَأَنَا أَحَبُّ أَنْ أَلْبَسَهَا ، وَأَمَّا الصُّفْرَةُ ، فَإِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْبُغُ بِهَا ، وَأَمَّا الإِهْلالُ ، فَإِنِّي لَمْ أَرَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُهِلُّ حَتَّى تَنْبَعِثَ بِهِ رَاحِلَتُهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سعید بن ابوسعید مقبری بیان کرتے ہیں: عبید بن جریج نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے دریافت کیا: اے ابوعبدالرحمن! میں نے آپ کو چار کام کرتے ہوئے دیکھا ہے جو میں نے آپ کے ساتھیوں میں سے کسی کو کرتے ہوئے نہیں دیکھا۔ انہوں نے دریافت کیا: اے ابن جریج! وہ کون سے کام ہیں؟ ابن جریج نے کہا: میں نے آپ کو دیکھا ہے کہ آپ دو یمانی ارکان کو چھوتے ہیں اور میں نے آپ کو دیکھا ہے کہ آپ سبتی جوتے پہنتے ہیں۔ میں نے آپ کو دیکھا کہ آپ زرد رنگ سے رنگتے ہیں اور میں نے آپ کو دیکھا ہے کہ جب آپ مکہ میں مقیم ہوں، تو لوگ پہلی کا چاند دیکھنے کے ساتھ ہی تلبیہ پڑھنا شروع کر دیتے ہیں، لیکن آپ تلبیہ کے دن تلبیہ پڑھنا شروع کرتے ہیں۔ تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: جہاں تک ارکان کا تعلق ہے، تو میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو صرف دو یمانی ارکان کا استلام کرتے ہوئے دیکھا ہے؛ جہاں تک سبتی جوتے پہننے کا تعلق ہے میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سبتی جوتے پہنتے ہوئے دیکھا ہے جن پر بال نہیں ہوتے تھے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم انہیں پہن کر ہی وضو کر لیتے تھے اس لیے میں بھی انہیں پہننا پسند کرتا ہوں؛ جہاں تک زرد رنگ کا تعلق ہے، تو میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ رنگ استعمال کرتے ہوئے دیکھا ہے؛ جہاں تک تلبیہ پڑھنے کا تعلق ہے تو میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی وقت تلبیہ پڑھتے ہوئے دیکھا تھا جب آپ کی سواری چلنے کے لیے تیار ہو گئی تھی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3763]

3764

Sahih Ibn Hibban #3764

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ : أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَاعْتَمَرَ أَرْبَعَ عُمَرٍ ، كُلُّهُنَّ فِي ذِي الْقَعْدَةِ : عَمْرَةُ الْحُدَيْبِيَةِ فِي ذِي الْقَعْدَةِ ، وَعُمْرَةٌ مِنَ الْعَامِ الْمُقْبِلِ فِي ذِي الْقَعْدَةِ ، وَعُمْرَةٌ مِنَ الْجِعْرَانَةِ حِينَ قَسَّمَ غَنَائِمَ حُنَيْنٍ فِي ذِي الْقَعْدَةِ ، وَعُمْرَةٌ مَعَ حَجَّتِهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے چار عمرے کیے ہیں، وہ سب ذی القعدہ کے مہینے میں تھے؛ ایک عمرہ حدیبیہ سے کیا تھا جو ذی القعدہ کے مہینے میں ہوا، ایک اس سے اگلے سال ذی القعدہ کے مہینے میں کیا تھا، ایک عمرہ جعرانہ سے کیا تھا جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ حنین کے مال غنیمت کو تقسیم کیا تھا، یہ بھی ذی القعدہ میں ہوا تھا اور ایک عمرہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج کے ہمراہ کیا تھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3764]

3765

Sahih Ibn Hibban #3765

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ الشَّيْبَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ سَهْلٍ الْجَعْفَرِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، وَابْنُ إِسْحَاقَ ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : وَاللَّهِمَا أُعْمِرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ذِي الْحِجَّةِ إِلا لِيَقْتَطِعَ بِذَلِكَ أَمْرَ أَهْلِ الشِّرْكِ ، فَإِنَّ هَذَا الْحَيَّ مِنْ قُرَيْشٍ ، وَمِنْ دَانَ دِينَهُمْ ، كَانُوا يَقُولُونَ : إِذَا عَفَا الْوَبَرُ ، وَبَرَأَ الدَّبَرُ ، وَدَخَلَ صَفَرُ ، فَقَدْ حَلَّتِ الْعُمْرَةُ لِمَنِ اعْتَمَرَ ، وَكَانُوا يُحَرِّمُونَ الْعُمْرَةَ حَتَّى يَنْسَلِخَ ذُو الْحِجَّةِ ، فَمَا أُعْمِرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَائِشَةَ إِلا لِيَنْقُضَ ذَلِكَ مِنْ قَوْلِهِمْ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: اللہ کی قسم! اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ذوالحجہ کے مہینے میں عمرہ اس لیے کیا تاکہ اس کے ذریعے اہل شرک کی روایت کو ختم کریں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ قریش اور ان کے دین کے پیروکار لوگ کہا کرتے تھے: جب اونٹ کے بال بڑھ جائیں اور اس کی پشت پر موجود زخم ٹھیک ہو جائے (یعنی حاجی کے پالان رکھنے کی وجہ سے جو زخم بنتا ہے) اور صفر کا مہینہ شروع ہو جائے تو عمرہ کرنے والے کے لیے عمرہ کرنا جائز ہو جاتا ہے؛ وہ لوگ ذوالحجہ کے مہینے میں عمرہ کرنے کو حرام قرار دیتے تھے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو عمرہ اسی لیے کروایا تھا تاکہ ان لوگوں کے اس قول کے برخلاف کریں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3765]

3766

Sahih Ibn Hibban #3766

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الأَنْصَارِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا ، قَالَتْ : كُنْتُأُطَيِّبُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لإِحْرَامِهِ قَبْلَ أَنْ يُحْرِمَ ، وَلِحِلِّهِ قَبْلَ أَنْ يَطُوفَ بِالْبَيْتِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میں نے خود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے احرام باندھنے سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے احرام پر اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بیت اللہ کا طواف کرنے سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے احرام کھولنے کے وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو خوشبو لگائی تھی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3766]

3767

Sahih Ibn Hibban #3767

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى وَبِيصِ الطِّيبِ فِي رَأْسِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَهُوَ مُحْرِمٌ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مانگ میں خوشبو کی چمک کا منظر گویا کہ آج بھی میری نگاہ میں ہے، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت (احرام باندھے) ہوئے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3767]

3768

Sahih Ibn Hibban #3768

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى زَحْمَوَيْهِ الْوَاسِطِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : طَيَّبْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ إِحْرَامِهِ ، فَرَأَيْتُ الطِّيبَ فِي مَفْرِقِ رَأْسِهِ بَعْدَ ثَلاثٍ ، وَهُوَ مُحْرِمٌ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے احرام باندھنے کے وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو خوشبو لگائی تھی، تو میں نے تین دن گزرنے کے بعد آپ کی مانگ میں خوشبو کا نشان دیکھا تھا، آپ اس وقت (احرام باندھے) ہوئے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3768]

3769

Sahih Ibn Hibban #3769

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْحَسَنِ الْمَدَائِنِيُّ بِمِصْرَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ سِنَانٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ :كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى وَبِيصِ الْمِسْكِ فِي مَفْرِقِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَهُوَ مُحْرِمٌ "

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مانگ میں خوشبو کی چمک کا منظر گویا کہ آج بھی میری نگاہ میں ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت احرام باندھے ہوئے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3769]

3770

Sahih Ibn Hibban #3770

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي عَوْنٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ مَنْصُورِ بْنِ زَاذَانَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : طَيَّبْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ أَنْ يَحْرُمَ ، وَيَوْمَ النَّحْرِ قَبْلَ أَنْ يَطُوفَ بِالْبَيْتِ ، بِطِيبٍ فِيهِ مِسْكٌ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے احرام باندھنے سے پہلے آپ کو خوشبو لگائی تھی اور قربانی کے دن آپ کے بیت اللہ کا طواف کرنے سے پہلے آپ کو خوشبو لگائی تھی جس میں مشک ملی ہوئی تھی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3770]

3771

Sahih Ibn Hibban #3771

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ : طَيَّبْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِحَرَمِهِ حِينَ يُحْرِمَ ، وَلِحِلِّهِ قَبْلَ أَنْ يَطُوفَ بِالْبَيْتِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب احرام باندھا تھا اس وقت اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت اللہ کا طواف کرنے سے پہلے احرام کھولا تھا اس وقت میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو خوشبو لگائی تھی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3771]

3772

Sahih Ibn Hibban #3772

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلانَ بِأَذَنَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الزِّمَّانِيُّ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : كُنْتُأُطَيِّبُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِحَرَمِهِ قَبْلَ أَنْ يَحْرُمَ ، وَلِحِلِّهِ قَبْلَ أَنْ يُفِيضَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے احرام باندھنے سے پہلے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے طوافِ افاضہ کرنے سے پہلے احرام کھولنے کے وقت میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو خوشبو لگائی تھی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3772]

3773

Sahih Ibn Hibban #3773

أَخْبَرَنَا مُسَدَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ إِسْحَاقَ الْقُلُوسِيُّ بِنَصِيبَينَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو هَمَّامٍ الصَّلْتُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِضُبَاعَةَ : حُجِّي ، وَاشْتَرِطِي أَنَّ مَحِلِّيَ حَيْثُ حَبَسْتَنِي """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ ضباعہ رضی اللہ عنہا سے یہ فرمایا تھا: ”تم حج کرو اور یہ شرط عائد کرو کہ جہاں میں آگے جانے کے قابل نہ رہی وہاں احرام کھول دوں گی۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3773]

3774

Sahih Ibn Hibban #3774

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَى ضُبَاعَةَ بِنْتِ الزُّبَيْرِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ، وَهِيَ شَاكِيَةٌ ، فَقَالَ لَهَا : حُجِّي ، وَاشْتَرِطِي أَنَّ مَحِلِّيَ حَيْثُ حَبَسْتَنِي """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ ضباعہ بنت زبیر بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہا کے ہاں تشریف لے گئے، وہ بیمار تھیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”تم (حج کا احرام باندھ لو) اور یہ شرط عائد کرو کہ جہاں میں آگے جانے کے قابل نہ رہی وہاں احرام کھول دوں گی۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3774]

3775

Sahih Ibn Hibban #3775

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ ، حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّ طَاوُسًا أَخْبَرَهُ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَى ضُبَاعَةَ ، وَهِيَ شَاكِيَةٌ ، فَقَالَتْ : إِنِّي أُرِيدُ الْحَجَّ ، وَأَنَا شَاكِيَةٌ ؟ ، فَقَالَ لَهَا : حُجِّي ، وَاشْتَرِطِي أَنَّ مَحِلِّيَ حَيْثُ حَبَسْتَنِي """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ ضباعہ رضی اللہ عنہا کے ہاں تشریف لے گئے وہ بیمار تھیں، انہوں نے عرض کی: میں حج کرنا چاہتی ہوں اور میں بیمار ہوں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم حج (کا احرام باندھ لو) اور یہ شرط عائد کرو کہ جہاں میں آگے جانے کے قابل نہ رہی وہاں احرام کھول دوں گی۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3775]

3776

Sahih Ibn Hibban #3776

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّامِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا بَهْزُ بْنُ أَسَدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُلَيْمُ بْنُ حَيَّانٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ مَرْوَانَ الأَصْفَرَ يُحَدِّثُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ عَلِيًّا قَدِمَ مِنَ الْيَمَنِ ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : بِمَ أَهْلَلْتَ ؟ " ، قَالَ : أَهْلَلْتُ بِمَا أَهَلَّ بِهِ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " فَإِنِّيلَوْلا أَنَّ مَعِيَ الْهَدْيَ لَحَلَلْتُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ یمن سے تشریف لائے تھے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے دریافت کیا: ”تم نے کیا احرام باندھا ہے (یعنی کیا نیت کی ہے)؟“ انہوں نے جواب دیا کہ میں نے وہی احرام باندھا ہے، جو اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے باندھا ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اگر میرے ساتھ قربانی کا جانور ہوتا تو میں احرام کھول دیتا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3776]

3777

Sahih Ibn Hibban #3777

أَخْبَرَنَا أَبُو عَرُوبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ وَهْبِ بْنِ أَبِي كَرِيمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحِيمِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ أَبِي أُنَيْسَةَ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَيْسَرَةَ ، عَنِ النَّزَّالِ بْنِ سَبْرَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ مِنَ الْمَدِينَةِ حَاجًّا ، وَخَرَجْتُ أَنَا مِنَ الْيَمَنِ ، قُلْتُ : لَبَّيْكَ إِهْلالا كَإِهْلالِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : فَإِنِّيأَهْلَلْتُ بِالْعُمْرَةِ وَالْحَجِّ جَمِيعًا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حج کے لیے مدینہ منورہ سے روانہ ہوئے۔ میں یمن سے روانہ ہوا۔ میں نے (نیت کی) کہ میں اسی احرام کے ہمراہ حاضر ہوں جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے باندھا ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میں نے حج اور عمرے دونوں کا ایک ساتھ احرام باندھا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3777]

3778

Sahih Ibn Hibban #3778

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ يَعْلَى ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ رَجُلا جَاءَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَقَدْ أَحْرَمَ بِعُمْرَةٍ ، وَعَلَيْهِ جُبَّةٌ وَهُوَ مُتَخَلِّقٌ ، فَأَمَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ : يَنْزِعَهَا نَزْعًا ، وَيَغْتَسِلَ مَرَّتَيْنِ ، أَوْ ثَلاثًا " ، وَقَالَ : " مَا كُنْتَ فَاعِلا فِي حَجَّتِكَ ، فَاصْنَعْهُ فِي عُمْرَتِكَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

صفوان بن یعلیٰ اپنے والد (سیدنا یعلیٰ رضی اللہ عنہ) کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اس نے عمرے کا احرام باندھا ہوا تھا اور جبہ پہنا ہوا تھا اور خوشبو لگائی ہوئی تھی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے یہ ہدایت کی کہ ”وہ جبہ اتار دے اور اسے دو یا تین مرتبہ دھوئے۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جو کچھ تم حج میں کرتے ہو وہی عمرے میں کرو (یعنی اسی طرح کا احرام باندھو)۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3778]

3779

Sahih Ibn Hibban #3779

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخٍ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا عَطَاءٌ ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَهُوَ بِالْجِعْرَانَةَ ، وَعَلَيْهِ جُبَّةٌ ، وَعَلَيْهَا الْخَلُوقُ ، أَوْ قَالَ : أَثَرَ صُفْرَةٍ ، فَقَالَ : كَيْفَ تَأْمُرُنِي أَنْ أَصْنَعَ فِي عُمْرَتِي ؟ ، قَالَ : وَأُنْزِلَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْوَحْيُ ، فَسُتِرَ بِثَوْبٍ ، وَكَانَ يَعْلَى ، يَقُولُ : وَدِدْتُ أَنِّي أَرَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَقَدْ أُنْزِلَ عَلَيْهِ الْوَحْيُ ، قَالَ : فَرَفَعَ عُمَرُ طَرَفَ الثَّوْبِ ، قَالَ : فَنَظَرْتُ إِلَيْهِ ، وَلَهُ غَطِيطٌ ، قَالَ : فَلَمَّا سُرِّيَ عَنْهُ ، قَالَ : أَيْنَ السَّائِلُ عَنِ الْعُمْرَةِ ؟ ، اغْسِلْ عَنْكَ أَثَرَ الصُّفْرَةِ " ، أَوْ قَالَ : " الْخَلُوقِ وَاخْلَعْ عَنْكَ جُبَّتَكَ ، وَاصْنَعْ فِي عُمْرَتِكَ مَا أَنْتَ صَانِعٌ فِي حَجَّتِكَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا صفوان بن یعلیٰ رضی اللہ عنہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت جعرانہ کے مقام پر موجود تھے، اس شخص نے جبہ پہنا ہوا تھا اور اس جبے پر خوشبو لگائی ہوئی تھی (راوی کو شک ہے کہ شاید یہ الفاظ ہیں) اس پر زرد رنگ کا نشان موجود تھا، اس نے دریافت کیا: آپ مجھے کیا ہدایت کرتے ہیں کہ میں اپنے عمرے میں کیا کروں؟ راوی بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہونا شروع ہوئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کپڑے میں چھپا دیا گیا، سیدنا یعلیٰ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میری یہ خواہش تھی کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسی حالت میں دیکھوں کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہو رہی ہو، وہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کپڑے کا کنارہ ہٹایا تو میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خراٹے لے رہے تھے، جب یہ کیفیت ختم ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”عمرہ کے بارے میں دریافت کرنے والا شخص کہاں ہے؟ تم اپنے اوپر سے زرد رنگ کے نشان کو دھو لو (راوی کو شک ہے کہ شاید یہ الفاظ ہیں) خوشبو کو دھو لو اور اپنے جبے کو اتار دو اور اپنے عمرے میں بھی وہی کرو جو تم حج میں کرتے ہو۔“ (یعنی اسی طرح کا احرام باندھو)۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3779]

3780

Sahih Ibn Hibban #3780

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ الشَّيْبَانِيُّ ، وَأَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالا : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ السَّامِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، قَالَ : جَلَسْتُ إِلَى أَبِي حَنِيفَةَ بِمَكَّةَ ، فَجَاءَهُ رَجُلٌ ، فَقَالَ : إِنِّيلَبِسْتُ خُفَّيْنِ وَأَنَا مُحْرِمٌ ، أَوْ قَالَ : لَبِسْتُ سَرَاوِيلَ وَأَنَا مُحْرِمٌ ، شَكَّ إِبْرَاهِيمُ ، فَقَالَ لَهُ أَبُو حَنِيفَةَ : عَلَيْكَ دَمٌ قَالَ : فَقُلْتُ لِلرَّجُلِ وَجَدْتُ نَعْلَيْنِ ، أَوْ وَجَدْتُ إِزَارًا ؟ ، فَقَالَ لا ، فَقُلْتُ : يَا أَبَا حَنِيفَةَ إِنَّ هَذَا يَزْعُمُ أَنَّهُ لَمْ يَجِدْ ، فَقَالَ : سَوَاءٌ وَجَدَ ، أَوْ لَمْ يَجِدْ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حماد بن زید بیان کرتے ہیں: میں مکہ میں امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا، ایک شخص ان کے پاس آیا اور بولا: میں نے احرام کے دوران موزے پہن لیے ہیں (راوی کو شک ہے کہ شاید یہ الفاظ ہیں) میں نے شلوار پہن لی جبکہ میں نے احرام باندھا ہوا تھا۔ یہ شک ابراہیم نامی راوی کو ہے، تو امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ نے اس کو فرمایا: تم پر دم دینا لازم ہوگا۔ حماد بن زید کہتے ہیں: میں نے اس شخص سے دریافت کیا: کیا تمہارے پاس جوتے ہیں؟ کیا تمہارے پاس تہبند ہے؟ اس نے جواب دیا: جی نہیں۔ میں نے کہا: اے ابوحنیفہ! یہ شخص تو یہ کہتا ہے کہ اس کے پاس تو وہ ہے ہی نہیں، تو امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ نے فرمایا: یہ حکم برابر ہے خواہ وہ اس کے پاس ہو یا اس کے پاس نہ ہو۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3780]

3781

Sahih Ibn Hibban #3781

فَقُلْتُ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : السَّرَاوِيلُ لِمَنْ لَمْ يَجِدِ الإِزَارَ ، وَالْخُفَّانِ لِمَنْ لَمْ يَجِدِ النَّعْلَيْنِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

تو میں نے کہا: عمرو بن دینار نے جابر بن زید کے حوالے سے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا یہ بیان نقل کیا ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”شلوار وہ شخص پہن سکتا ہے، جسے تہبند میسر نہ ہو، اور موزے وہ شخص پہن سکتا ہے، جسے جوتے میسر نہ ہوں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3781]

3782

Sahih Ibn Hibban #3782

قَالَ : فَقَالَ بِيَدِهِ ، وَأَشَارَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ ، كَأَنَّهُ لَمْ يَعْبَأْ بِالْحَدِيثِ ، فَقُمْتُ مِنْ عِنْدَهُ ، فَتَلَقَّانِي الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ دَاخِلَ الْمَسْجِدِ ، فَقُلْتُ : يَا أَبَا أَرْطَاةَ ، مَا تَقُولُ فِي مُحْرِمٍ لَبَسَ السَّرَاوِيلَ ، أَوْ لَبَسَ الْخُفَّيْنِ ؟ ، فَقَالَ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : السَّرَاوِيلُ لِمَنْ لَمْ يَجِدِ الإِزَارَ ، وَالْخُفَّانِ لِمَنْ لَمْ يَجِدِ النَّعْلَيْنِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ایوب نے نافع کے حوالے سے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا یہ بیان نقل کیا ہے: ”شلوار وہ شخص پہن سکتا ہے جسے تہبند میسر نہ ہو اور موزے وہ شخص پہن سکتا ہے جسے جوتے میسر نہ ہوں۔“ راوی کہتے ہیں: تو انہوں نے اپنے ہاتھ کے ذریعے اشارہ کیا، ابراہیم بن حجاج نے اشارہ کر کے بتایا کہ گویا انہوں نے حدیث کی کوئی پرواہ نہیں کی، تو میں ان کے پاس سے اٹھ گیا، پھر حجاج بن ارطاۃ کی مجھ سے ملاقات مسجد کے اندر ہوئی تو میں نے کہا: اے ارطاۃ! ایسے محرم کے بارے میں آپ کیا کہتے ہیں جو شلوار پہن لیتا ہے یا موزے پہن لیتا ہے؟ تو انہوں نے فرمایا: عمرو بن دینار نے جابر بن زید کے حوالے سے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کیا ہے: ”شلوار وہ شخص پہن سکتا ہے جسے تہبند دستیاب نہ ہو اور موزے وہ شخص پہن سکتا ہے جسے جوتے دستیاب نہ ہوں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3782]

3783

Sahih Ibn Hibban #3783

وَحَدَّثَنِي أَبُو إِسْحَاقَ ، عَنِ الْحَارِثِ ، عَنْ عَلِيٍّ ، أَنَّهُ قَالَ : السَّرَاوِيلُ لِمَنْ لَمْ يَجِدِ الإِزَارَ ، وَالْخُفَّانِ لِمَنْ لَمْ يَجِدِ النِّعَالَ "، قَالَ : قُلْتُ : فَمَا بَالُ صَاحِبِكُمْ ، يَقُولُ كَذَا وَكَذَا ؟ !"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابواسحاق نے حارث کے حوالے سے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا یہ فرمان نقل کیا ہے: ”شلوار وہ شخص پہن سکتا ہے جسے تہبند دستیاب نہ ہو اور موزے وہ شخص پہن سکتا ہے جسے جوتے دستیاب نہ ہوں۔“ حماد بن زید کہتے ہیں: میں نے کہا: ”آپ لوگوں کے ساتھی کا کیا معاملہ ہے، وہ تو اس طرح کہتے ہیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3783]

3784

Sahih Ibn Hibban #3784

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الأَنْصَارِيُّ ، أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ رَجُلا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ :مَا يَلْبَسُ الْمُحْرِمُ مِنَ الثِّيَابِ ؟ فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لا يَلْبَسُ الْقَمِيصَ ، وَلا الْعَمَائِمَ ، وَلا السَّرَاوِيلاتِ ، وَلا الْبَرَانِسَ ، وَلا الْخِفَافَ ، إِلا أَحَدٌ لا يَجِدُ النَّعْلَيْنِ ، فَلْيَلْبَسِ الْخُفَّيْنِ ، وَلْيَقْطَعْهُمَا أَسْفَلَ مِنَ الْكَعْبَيْنِ ، وَلا تَلْبَسُوا مِنَ الثِّيَابِ شَيْئًا مَسَّهُ الْوَرْسُ ، وَالزَّعْفَرَانُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ محرم کون سے کپڑے پہن سکتا ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”قمیض، عمامہ، شلوار، ٹوپی اور موزے نہیں پہنے گا، جس شخص کو جوتے نہیں ملتے، تو وہ موزے پہن لے، لیکن وہ ٹخنوں کے نیچے سے انہیں کاٹ لے اور تم ایسا کوئی کپڑا نہ پہنو، جس پر ورس یا زعفران لگا ہوا ہو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3784]

3785

Sahih Ibn Hibban #3785

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ الْقَطَّانُ بِالرَّقَّةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْوَزَّانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ أَيُّوبَ السَّخْتِيَانِيِّ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : مَنْ لَمْ يَجِدْ إِزَارًا ، فَلْيَلْبَسْ سَرَاوِيلَ ، وَمَنْ لَمْ يَجِدْ نَعْلَيْنِ ، فَلْيَلْبَسْ خُفَّيْنِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جسے تہبند نہیں ملتا وہ شلوار پہن لے اور جسے جوتے نہیں ملتے وہ موزے پہن لے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3785]

3786

Sahih Ibn Hibban #3786

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ ، حَدَّثَنَا الْحَوْضِيُّ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَخْطُبُ بِعَرَفَاتَ : مَنْ لَمْ يَجِدْ نَعْلَيْنِ ، فَلْيَلْبَسْ خُفَّيْنِ ، وَمَنْ لَمْ يَجِدْ إِزَارًا ، فَلْيَلْبَسْ سَرَاوِيلَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو عرفات میں خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جسے جوتے نہیں ملتے وہ موزے پہن لے اور جسے تہبند نہیں ملتا وہ شلوار پہن لے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3786]

3787

Sahih Ibn Hibban #3787

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : مَنْ لَمْ يَجِدْ نَعْلَيْنِ ، فَلْيَلْبَسِ الْخُفَّيْنِ ، وَلْيَقْطَعْهُمَا أَسْفَلَ مِنَ الْكَعْبَيْنِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جسے جوتے نہیں ملتے وہ موزے پہن لے، البتہ وہ انہیں ٹخنوں کے نیچے سے کاٹ لے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3787]

3788

Sahih Ibn Hibban #3788

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا وَكِيعُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : إِذَا لَمْ يَجِدِ الْمُحْرِمُ ، النَّعْلَيْنِ فَلْيَلْبَسِ الْخُفَّيْنِ ، وَلْيَقْطَعْهُمَا حَتَّى يَكُونَا أَسْفَلَ مِنَ الْكَعْبَيْنِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جب محرم شخص کو جوتے نہیں ملتے، تو وہ موزے پہن لے، البتہ وہ انہیں اس طرح کاٹ لے کہ وہ ٹخنوں سے نیچے ہو جائیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3788]

3789

Sahih Ibn Hibban #3789

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلانَ بِأَذَنَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الزِّمَّانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ لَمْ يَجِدِ الإِزَارَ ، فَلْيَلْبَسِ السَّرَاوِيلَ ، وَمَنْ لَمْ يَجِدِ النَّعْلَيْنِ ، فَلْيَلْبَسِ الْخُفَّيْنِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جسے تہبند نہیں ملتا وہ شلوار پہن لے، جسے جوتے نہیں ملتے وہ موزے پہن لے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3789]

3790

Sahih Ibn Hibban #3790

أَخْبَرَنَا ابْنُ سَلَمٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ ، حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، حَدَّثَنِي عِكْرِمَةُ ، حَدَّثَنِي ابْنُ عَبَّاسٍ ، حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ وَهُوَ بِالْعَقِيقِ : أَتَانِي آتٍ مِنْ رَبِّي ، فَقَالَ : صَلِّ فِي هَذَا الْوَادِي ، وَقَالَ : عَمْرَةٌ فِي حَجَّةٍ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو عقیق کے مقام پر یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا: ”میرے پروردگار کی طرف سے پیغام رساں میرے پاس آیا اور بولا: «صَلِّ فِي هَذَا الْوَادِي الْمُبَارَكِ» ”آپ اس مبارک وادی میں نماز ادا کیجیے“ اور اس نے یہ بتایا کہ عمرہ حج میں شامل ہو گیا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3790]

3791

Sahih Ibn Hibban #3791

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : أَهْلَلْنَا أَصْحَابَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحَجِّ خَالِصًا لَيْسَ مَعَهُ شَيْءٌ غَيْرُهُ ، فَقَدِمْنَا مَكَّةَ صُبْحَ رَابِعَةٍ مَضَتْ مِنْ ذِي الْحِجَّةِ ، فَأَمَرَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَحِلَّ ، قَالَ : أَحِلُّوا وَاجْعَلُوهَا عَمْرَةً " ، فَبَلَغَهُ عَنَّا أَنَا ، نَقُولُ : لَمَّا لَمْ يَكُنْ بَيْنَنَا وَبَيْنَ عَرَفَةَ إِلا خَمْسًا أَمَرَنَا أَنْ نَحِلَّ ، نَرُوحُ إِلَى مِنًى ، وَمَذَاكِيرُنَا تَقْطُرُ مِنَ الْمَنِيِّ ، فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطِيبًا ، فَقَالَ : " قَدْ بَلَغَنِي الَّذِي قُلْتُمْ ، وَإِنِّي لأَبَرُّكُمْ وَأَتْقَاكُمْ ، وَلَوْلا الْهَدْيُ لَحَلَلْتُ ، وَلَوِ اسْتَقْبَلْتُ مِنْ أَمْرِي مَا اسْتَدْبَرْتُ مَا أَهْدَيْتُ "، قَالَ : وَقَدِمَ عَلِيٌّ مِنَ الْيَمَنِ ، فَقَالَ : " بِمَ أَهْلَلْتَ ؟ ، قَالَ : بِمَا أَهَلَ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " فَاهْدِ ، وَامْكُثْ حَرَامًا كَمَا أَنْتَ " ، قَالَ : وَقَالَ لَهُ سُرَاقَةُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، عُمْرَتُنَا هَذِهِ لِعَامِنَا أَمْ لِلأَبَدِ ؟ ، قَالَ : فَقَالَ : " بَلْ لِلأَبَدِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم نے یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب نے صرف حج کا احرام باندھا تھا، اس کے ہمراہ اور کوئی چیز نہیں تھی۔ ہم ذو الحجہ کی چار تاریخ کی صبح مکہ پہنچ گئے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں یہ حکم دیا کہ ہم احرام کھول دیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم لوگ احرام کھول دو اور اسے عمرے میں تبدیل کر لو۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہمارے بارے میں یہ معلوم ہوا کہ ہم یہ کہتے ہیں: اب ہمارے اور عرفہ کے درمیان صرف پانچ دن باقی رہ گئے ہیں اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں احرام کھولنے کا حکم دے رہے ہیں، کیا ہم ایسی حالت میں منیٰ کی طرف جائیں گے کہ ہماری شرمگاہوں سے منی ٹپک رہی ہو گی؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم لوگوں نے جو بات کہی ہے وہ مجھ تک پہنچ گئی ہے۔ میں تم سب سے زیادہ نیکوکار اور پرہیزگار ہوں۔ اگر میں اپنے ساتھ قربانی کا جانور نہ لایا ہوتا اور مجھے بعد میں جو خیال آیا ہے، اگر وہ پہلے آ جاتا، تو میں قربانی کا جانور ساتھ نہ لاتا (اور میں بھی احرام کھول دیتا)۔“ راوی بیان کرتے ہیں: سیدنا علی رضی اللہ عنہ یمن سے آئے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”تم نے کیا نیت کی ہے؟“ انہوں نے بتایا: وہی نیت کی ہے جو احرام نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے باندھا ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم قربانی کا جانور ساتھ لائے ہو، تم احرام باندھے رہو جس طرح ہو۔“ راوی کہتے ہیں: سیدنا سراقہ رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! (حج کے احرام کو) عمرے میں تبدیل کرنے کا یہ حکم اس سال کے لیے خاص ہے یا ہمیشہ کے لیے ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”نہیں بلکہ ہمیشہ کے لیے ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3791]