Muslim99Muslim99

Sahih Ibn Hibban · Book 33 · Chapter 3

Book of Claims

Hadith 3718–3751

34 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

3718

Sahih Ibn Hibban #3718

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ زَكَرِيَّا ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَامِرٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُطِيعٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ مُطِيعًا ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ : لا يُقْتَلُ قُرَشِيٌّ صَبْرًا بَعْدَ هَذَا الْيَوْمِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ " ، وَلَمْ يُدْرِكِ الْمُسْلِمُونَ أَحَدًا مِنْ كُفَّارِ قُرَيْشٍ غَيْرَ مُطِيعٍ ، وَكَانَ اسْمَهُ الْعَاصِ ، فَسَمَّاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُطِيعًا"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا مطیع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے فتح مکہ کے دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا: ”آج کے بعد قیامت کے دن تک کسی بھی قریشی کو باندھ کر قتل نہیں کیا جائے گا۔“ اس دن مسلمانوں کو کفارِ مکہ سے صرف سیدنا مطیع رضی اللہ عنہ ہاتھ لگے تھے، ان کا نام عاص تھا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا نام مطیع رکھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3718]

3719

Sahih Ibn Hibban #3719

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ ، وَالْحَجَبِيُّ ، وَأَبُو الْوَلِيدِ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، دَخَلَ مَكَّةَ ، وَعَلَى رَأْسِهِ الْمِغْفَرُ ، فَلَمَّا وَضَعَهُ ، قِيلَ : هَذَاابْنُ خَطَلٍ مُتَعَلِّقٌ بِأَسْتَارِ الْكَعْبَةَ ، فَقَالَ : اقْتُلُوهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب مکہ میں داخل ہوئے تو آپ کے سر پر خود تھا، تو آپ نے اسے اتارا تو آپ کی خدمت میں عرض کی گئی کہ ابن خطل کعبہ کے پردوں میں چھپا ہوا ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے قتل کر دو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3719]

3720

Sahih Ibn Hibban #3720

أَخْبَرَنَا الْمُفَضَّلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجَنَدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُفَضَّلُ بْنُ مُهَلْهِلٍ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ : إِنَّهَذَا الْبَلَدَ حَرَامٌ ، حَرَّمَهُ اللَّهُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ ، لا يُنَفَّرُ صَيْدُهُ ، وَلا يُعْضَدُ شَوْكَةُ ، وَلا تُلْتَقَطُ لُقَطَتَهُ إِلا مَنْ عَرَّفَهَا ، وَلا يُخْتَلَى خَلاؤُهُ " ، فَقَالَ الْعَبَّاسُ : إِلا الإِذْخِرَ ، فَإِنَّهُ لِبُيُوتِهِمْ ، فَقَالَ : " إِلا الإِذْخِرَ ، وَلا هِجْرَةَ ، وَلَكِنْ جِهَادٌ وَنِيَّةٌ ، وَإِذَا اسْتُنْفِرْتُمْ فَانْفِرُوا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ فتح مکہ کے دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”یہ شہر قابل احترام ہے، اللہ تعالیٰ نے اسے قیامت کے دن تک کے لیے قابل احترام قرار دیا ہے، یہاں کا شکار بھگایا نہیں جائے گا، یہاں کا کانٹا توڑا نہیں جائے گا اور یہاں کی گری ہوئی چیز کو اٹھایا نہیں جائے گا، البتہ اعلان کرنے کے لیے اٹھایا جا سکتا ہے اور یہاں کے پودوں کو اکھیڑا نہیں جائے گا۔“ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے عرض کی: اذخر کی اجازت دے دیں، وہ گھروں میں استعمال ہوتی ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اذخر کی اجازت ہے، اب ہجرت باقی نہیں رہی، البتہ جہاد اور نیت باقی ہے اور جب تم سے (جہاد کے لیے) نکلنے کے لیے کہا جائے، تو تم نکل کھڑے ہو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3720]

3721

Sahih Ibn Hibban #3721

أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْحَلَبِيُّ بِدِمَشْقَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ السَّلامِ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الدِّمَشْقِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ يَوْمَ الْفَتْحِ ، وَعَلَى رَأْسِهِ الْمِغْفَرُ ، وَإِنَّهُمْ ، قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ،ابْنُ خَطَلٍ مُتَعَلَّقٌ بِأَسْتَارِ الْكَعْبَةِ ؟ ، فَقَالَ : اقْتُلُوهُ " ، فَقُتِلَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ فتح مکہ کے موقع پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں داخل ہوئے، آپ کے سر مبارک پر خود تھا، لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ابن خطل کعبہ کے پردوں میں چھپا ہوا ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اسے قتل کر دو“، تو اسے قتل کر دیا گیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3721]

3722

Sahih Ibn Hibban #3722

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : دَخَلَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ ، وَعَلَيْهِ عِمَامَةٌ سَوْدَاءُ "، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، فِي خَبَرِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ : " دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ ، وَعَلَى رَأْسِهِ الْمِغْفَرُ " ، وَفِي خَبَرِ جَابِرٍ : " أَنَّهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ مَكَّةَ ، وَعَلَيْهِ عِمَامَةٌ سَوْدَاءُ ، وَلَمْ يَدْخُلْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ بِغَيْرِ إِحْرَامٍ إِلا مَرَّةً وَاحِدَةً ، وَهُوَ يَوْمَ الْفَتْحِ ، وَيُشْبِهُ أَنْ يَكُونَ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ذَلِكَ الْيَوْمِ كَانَ عَلَى رَأْسِهِ الْمِغْفَرُ ، وَقَدْ تَعَمَّمَ بِعِمَامَةٍ سَوْدَاءِ فَوْقَهُ ، فَإِذًا جَابِرٌ ذَكَرَ الْعِمَامَةَ الَّتِي عَايَنَهَا ، وَإِذَا أَنَسٌ ذَكَرَ الْمِغْفَرَ الَّذِي رَآهُ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَكُونَ بَيْنَ الْخَبَرَيْنِ تَضَادٌّ أَوْ تَهَاتُرٌ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ فتحِ مکہ کے دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم (مکہ میں) داخل ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیاہ عمامہ باندھا ہوا تھا۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول روایت میں یہ بات مذکور ہے کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں داخل ہوئے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سرِ مبارک پر خود تھا، جبکہ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے منقول روایت میں یہ بات مذکور ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب مکہ میں داخل ہوئے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیاہ عمامہ باندھا ہوا تھا، حالانکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم احرام کے بغیر مکہ میں صرف ایک مرتبہ داخل ہوئے تھے، یہ فتحِ مکہ کا دن تھا، تو اس بات کا امکان موجود ہے کہ اس دن میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے سر پر خود بھی رکھا ہو اور اس پر سیاہ عمامہ بھی باندھا ہو، تو سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے عمامے کا ذکر کیا جسے انہوں نے دیکھا تھا اور سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے خود کا ذکر کیا جو انہوں نے دیکھا تھا، تو اس طرح ان دونوں روایات میں کوئی تضاد اور اختلاف نہیں ہوگا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3722]

3723

Sahih Ibn Hibban #3723

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، سَمِعْتُ أَبَا الْحُبَابِ سَعِيدَ بْنَ يَسَارٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أُمِرْتُ بِقَرْيَةٍ تَأْكُلُ الْقُرَى ، يَقُولُونَ : يَثْرِبُ ، وَهِيَ الْمَدِينَةُ تَنْفِي النَّاسَ كَمَا يَنْفِي الْكِيرُ خَبَثَ الْحَدِيدِ "، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أُمِرْتُ بِقَرْيَةٍ تَأْكُلُ الْقُرَى " لَفْظَةُ تَمْثِيلٍ ، مُرَادُهَا أَنَّ الإِسْلامَ يَكُونُ ابْتِدَاؤُهُ مِنَ الْمَدِينَةِ ، ثُمَّ يَغْلِبُ عَلَى سَائِرِ الْقُرَى ، وَيَعْلُو عَلَى سَائِرِ الْمُلْكِ ، فَكَأَنَّهَا قَدْ أَتَتْ عَلَيْهَا ، لا أَنَّ الْمَدِينَةَ تَأْكُلُ الْقُرَى"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”مجھے ایک ایسی بستی کے بارے میں حکم دیا گیا ہے، جو تمام بستیوں کو اپنی لپیٹ میں لے گی۔ لوگ یہ کہتے ہیں: یہ یثرب ہے، حالانکہ یہ مدینہ ہے، یہ لوگوں کو یوں باہر نکال دے گا جیسے بھٹی لوہے کے زنگ کو ختم کر دیتی ہے۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان: ”مجھے ایک بستی کے بارے میں حکم دیا گیا ہے، جو دیگر بستیوں کو کھا جائے گی۔“ یہ مثال بیان کرنے کے الفاظ ہیں اور اس سے مراد یہ ہے: اسلام کا آغاز مدینہ منورہ سے ہو گا اور پھر وہ دیگر بستیوں پر غالب آ جائے گا اور پورے ملک پر غالب آ جائے گا، تو یہ اس طرح ہو گا جیسے مدینہ پورے ملک پر غالب آ گیا۔ اس سے یہ مراد نہیں ہے کہ مدینہ دیگر بستیوں کو کھا جائے گا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3723]

3724

Sahih Ibn Hibban #3724

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ بِمَنْبِجَ ، أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا ، قَالَتْ : لَمَّا قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ وُعِكَ أَبُو بَكْرٍ ، وَبِلالٌ ، قَالَتْ : فَدَخَلْتُ عَلَيْهِمَا ، فَقُلْتُ : يَا أَبَتِ كَيْفَ تَجِدُكَ ؟ ، وَيَا بِلالُ كَيْفَ تَجِدُكَ ؟ ، قَالَتْ : وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِذَا أَخَذَتْهُ الْحُمَّى ، يَقُولُ : كُلُّ امْرِئٍ مُصَبَّحٌ فِي أَهْلِهِ وَالْمَوْتُ أَدْنَى مِنْ شِرَاكِ نَعْلِهِ وَكَانَ بِلالُ رَحِمَهُ اللَّهُ إِذَا أُقْلِعَ عَنْهُ يَرْفَعُ عَقِيرَتَهُ ، وَيَقُولُ : أَلا لَيْتَ شِعْرِي هَلْ أَبِيتَنَّ لَيْلَة بِوَادٍ وَحَوْلِي إِذْخِرٌ وَجَلِيلٌ وَهَلْ أَرِدَنْ يَوْمًا مِيَاهَ مَجَنَّةٍ وَهَلْ يَبْدُوَنْ لِي شَامَةٌ وَطَفِيلٌ قَالَتْ عَائِشَةُ : فَجِئْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَخْبَرْتُهُ ، فَقَالَ : اللَّهُمَّ حَبِّبْ إِلَيْنَا الْمَدِينَةَ كَحُبِّنَا مَكَّةَ أَوْ أَشَدَّ ، وَصَحِّحْهَا لَنَا ، وَبَارِكْ لَنَا فِي صَاعِهَا وَمُدِّهَا ، وَانْقُلْ حُمَّاهَا ، وَاجْعَلْهَا بِالْجُحْفَةِ "، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : الْعِلَّةُ فِي دُعَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بْنَقْلِ الْحُمَّى إِلَى الْجُحْفَةِ ، أَنَّ الْجُحْفَةَ حِينَئِذٍ كَانَتْ دَارَ الْيَهُودِ ، وَلَمْ يَكُنْ بِهَا مُسْلِمٌ ، فَمِنْ أَجْلِهِ ، قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَانْقُلْ حُمَّاهَا إِلَى الْجُحْفَةِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے، تو سیدنا ابوبکر اور سیدنا بلال رضی اللہ عنہما کو بخار ہو گیا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں ان کے پاس آئی اور میں نے پوچھا: ابا جان! آپ کا کیا حال ہے؟ اے بلال! آپ کا کیا حال ہے؟ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ جب سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو بخار ہوا، تو وہ یہ شعر پڑھتے تھے: ہر شخص اپنے گھر والوں کے پاس صبح کرتا ہے، حالانکہ موت اس کے جوتے کے تسمے سے بھی زیادہ قریب ہوتی ہے۔ جب سیدنا بلال رضی اللہ عنہ (اللہ تعالیٰ ان پر رحم فرمائے) کی طبیعت کچھ بہتر ہوتی تھی، تو وہ بلند آواز میں یہ پڑھتے تھے: ہائے افسوس! کیا میں اس وادی میں کبھی رات بسر کر سکوں گا کہ میرے ارد گرد اذخر اور جلیل (مکہ کی مخصوص گھاس) ہو گی؟ کیا میں کبھی کسی دن مجنہ کے پانی تک پہنچ پاؤں گا؟ کیا شامہ اور طفیل (نامی پہاڑ) میرے سامنے آئیں گے؟ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور میں نے آپ کو اس بارے میں بتایا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی: «اللَّهُمَّ حَبِّبْ إِلَيْنَا الْمَدِينَةَ كَحُبِّنَا مَكَّةَ أَوْ أَشَدَّ، وَصَحِّحْهَا، وَبَارِكْ لَنَا فِي صَاعِهَا وَمُدِّهَا، وَانْقُلْ حُمَّاهَا فَاجْعَلْهَا بِالْجُحْفَةِ» ”اے اللہ! تو مدینہ کو بھی ہمارے نزدیک اسی طرح محبوب کر دے جس طرح ہمیں مکہ سے محبت ہے بلکہ (مدینہ کو) زیادہ محبوب کر دے اور اسے ہمارے لیے صحت افزاء بنا دے اور ہمارے لیے اس کے صاع اور اس کے مد میں برکت دے دے اور یہاں کے بخار کو یہاں سے منتقل کر دے اسے حجفہ منتقل کر دے۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بخار کو حجفہ کی طرف منتقل کرنے کی دعا فرمانے کی علت یہ ہے کہ ان دنوں حجفہ یہودیوں کی بستی تھی اور وہاں کوئی مسلمان نہیں تھا، اس لیے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی: ”کہ اس کے بخار کو حجفہ کی طرف منتقل کر دے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3724]

3725

Sahih Ibn Hibban #3725

أَخْبَرَنَا حَامِدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شُعَيْبٍ الْبَلْخِيُّ ، حَدَّثَنَا الْقَوَارِيرِيُّ ، حَدَّثَنَا حَرَمِيُّ بْنُ عُمَارَةَ ، حَدَّثَنَا قُرَّةُ بْنُ خَالِدٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : نَظَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى أُحُدٍ ، وَقَالَ : إِنَّأُحُدًا جَبَلٌ يُحِبُّنَا وَنُحِبُّهُ "، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " جَبَلٌ يُحِبُّنَا وَنُحِبُّهُ " ، يُرِيدُ أَهْلَ الْجَبَلِ ، كَقَوْلِهِ جَلَّ وَعَلا وَأُشْرِبُوا فِي قُلُوبِهِمُ الْعِجْلَ بِكُفْرِهِمْ يُرِيدُ حُبَّ الْعِجْلِ ، وَكَقَوْلِهِ جَلَّ وَعَلا وَاسْأَلِ الْقَرْيَةَ يُرِيدُ بِهِ أَهْلَ الْقَرْيَةِ ، وَالْقَصْدُ فِيهِ أَهْلُ الْمَدِينَةِ ، فَأَطْلَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خِطَابَ الْمَقْصُودِ بِهِ الْمَدِينَةَ عَلَى الْجَبَلِ الَّذِي هُوَ أُحُدٌ عَلَى سَبِيلِ الْمُقَارَبَةِ بَيْنَهُمَا وَالْمُجَاوَرَةِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے احد پہاڑ کی طرف دیکھ کر ارشاد فرمایا: «أُحُدٌ جَبَلٌ يُحِبُّنَا وَنُحِبُّهُ» ”بے شک احد پہاڑ ہم سے محبت کرتا ہے اور ہم اس سے محبت کرتے ہیں۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان: ”ایک پہاڑ جو ہم سے محبت کرتا ہے اور ہم اس سے محبت کرتے ہیں“ اس سے مراد پہاڑ پر رہنے والے لوگ ہیں۔ اس کی مثال اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ﴿وَأُشْرِبُوا فِي قُلُوبِهِمُ الْعِجْلَ بِكُفْرِهِمْ﴾ [سورة البقرة: 93] ہے: ”تو ان کے کفر کی وجہ سے ان کے دلوں میں بچھڑے کو ڈال دیا گیا“ اس سے مراد بچھڑے کی محبت ہے اور اس کی مثال اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ﴿وَاسْأَلِ الْقَرْيَةَ﴾ [سورة يوسف: 82] بھی ہے: ”تم بستی سے دریافت کرو“ اس سے مراد بستی میں رہنے والے لوگ ہیں۔ اور (حدیث میں مذکور الفاظ) سے مراد اہل مدینہ ہیں، تو یہاں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیث کے الفاظ کو یوں استعمال کیا ہے کہ وہ پہاڑ جو احد ہے اس سے مقصود مدینہ منورہ لیا ہے، تو یہ ان دونوں کے درمیان مقاربت اور مجاورت کے طور پر ہوگا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3725]

3726

Sahih Ibn Hibban #3726

أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْحَسَنِ الْعَطَّارُ بِالْبَصْرَةَ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذِ بْنِ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَسَمَّى الْمَدِينَةَ طَابَةَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا، آپ نے مدینہ منورہ کو «طَابَةَ» ”طابہ“ کا نام دیا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3726]

3727

Sahih Ibn Hibban #3727

أَخْبَرَنَا صَالِحُ بْنُ الأَصْبَغِ بْنِ عَامِرٍ التَّنُوخِيُّ بِمَنْبِجَ ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَرْبٍ الطَّائِيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّالإِيمَانَ لَيَأْرِزُ إِلَى الْمَدِينَةِ ، كَمَا تَأْرِزُ الْحَيَّةُ إِلَى جُحْرِهَا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”بے شک ایمان مدینہ منورہ کی طرف یوں پلٹ آئے گا، جس طرح سانپ اپنے بل کی طرف پلٹتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3727]

3728

Sahih Ibn Hibban #3728

أَخْبَرَنَا أَبُو عَرُوبَةَ بِحَرَّانَ ، حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ زِيَادٍ السُّوسِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : إِنَّالإِيمَانَ لَيَأْرِزُ إِلَى الْمَدِينَةَ ، كَمَا تَأْرِزُ الْحَيَّةُ إِلَى جُحْرِهَا "، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الإِيمَانُ لَيَأْرِزُ إِلَى الْمَدِينَةِ " يُرِيدُ بِهِ أَهْلَ الإِيمَانِ ، وَذَلِكَ أَنَّ الْمَدِينَةَ خَشِنَةٌ قَفْرَةٌ ذَاتُ بَسَابِسَ وَدَكَادِكَ ، مَنَعَ اللَّهُ جَلَّ وَعَلا عَنْهَا طَيِّبَاتِ اللَّذَّاتِ فِي الأَعْيُنِ وَالأَنْفُسِ ، وَقَدَّرَ فِيهَا أَقْوَاتَهَا لِمَنْ طَلَبَ اللَّهَ وَالدَّارَ الآخِرَةَ ، فَلا يَرْكَنُ إِلَيْهَا إِلا كُلُّ مُشَمَّرٍ ، عَنْ هَذِهِ الْفَانِيَةِ الزَّائِلَةِ ، وَلا قَطَنَهَا إِلا كُلُّ مُنْقَلِعٍ بِكُلِّيَّتِهِ إِلَى الآخِرَةِ الدَّائِمَةِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”بے شک ایمان مدینہ منورہ کی طرف یوں پلٹ آئے گا جس طرح سانپ اپنے بل کی طرف پلٹتا ہے“۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ”ایمان مدینہ منورہ کی طرف سمٹ آئے گا“ اس سے مراد اہل ایمان ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے: مدینہ منورہ ایک خشک علاقہ ہے جہاں خشک زمین اور ریت کے ٹیلے زیادہ ہیں، یہاں اللہ تعالیٰ نے وہ چیزیں نہیں رکھی ہیں جو آنکھوں اور جان کو لذیذ اور پاکیزہ محسوس ہوتی ہیں، جو شخص اللہ تعالیٰ اور آخرت کے گھر کی طلب کا ارادہ کرتا ہے، اس کے لیے اللہ تعالیٰ نے یہاں خوراک رکھی ہے۔ اس لیے مدینہ منورہ کی طرف صرف وہی شخص مائل ہو سکتا ہے، جو اس فنا ہونے والی اور زائل ہو جانے والی دنیا سے لاتعلق ہو اور اس کی طرف وہی شخص راغب ہو سکتا ہے، جو مکمل طور پر ہمیشہ رہنے والی آخرت کی طرف متوجہ ہو۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3728]

3729

Sahih Ibn Hibban #3729

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّالإِيمَانَ لَيَأْرِزُ إِلَى الْمَدِينَةَ ، كَمَا تَأْرِزُ الْحَيَّةُ إِلَى جُحْرِهَا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”بے شک ایمان مدینہ منورہ کی طرف یوں پلٹ آئے گا، جس طرح سانپ اپنے بل کی طرف جاتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3729]

3730

Sahih Ibn Hibban #3730

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ حُمَيْدٍ الطَّوِيلُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : أَبْشِرُوا مَعْشَرَ الْمُسْلِمِينَ ، لا يَدْخُلُهَا الدَّجَّالُ "، يَعْنِي الْمَدِينَةَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اے مسلمانوں کے گروہ! تم لوگوں کو یہ خوشخبری ہے کہ دجال اس میں داخل نہیں ہو گا“ (راوی کہتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد مدینہ منورہ تھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3730]

3731

Sahih Ibn Hibban #3731

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَنْ يَدْخُلَ الْمَدِينَةَ رُعْبُ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ ، لَهَا يَوْمَئِذٍ سَبْعَةُ أَبْوَابٍ ، لِكُلِّ بَابٍ مِنْهَا مَلَكَانِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”مدینہ منورہ میں دجال کا رعب داخل نہیں ہو سکے گا، اس کے سات دروازے ہوں گے جن میں سے ہر دروازے پر دو فرشتے تعینات ہوں گے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3731]

3732

Sahih Ibn Hibban #3732

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنَّ أَعْرَابِيًّا بَايَعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الإِسْلامِ ، فَأَصَابَ الأَعْرَابِيَّ وَعْكٌ بِالْمَدِينَةِ ، فَخَرَجَ الأَعْرَابِيُّ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّمَاالْمَدِينَةُ كَالْكِيرِ تَنْفِي خَبَثَهَا ، وَيَنْصَعُ طَيِّبُهَا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دست اقدس پر اسلام قبول کیا، اسے مدینہ منورہ میں بخار ہو گیا، وہ دیہاتی (مدینہ منورہ چھوڑ کر) چلا گیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”مدینہ بھٹی کی مانند ہے، جو خرابی کو ختم کر دیتی ہے اور پاکیزہ چیز کو نکھار دیتی ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3732]

3733

Sahih Ibn Hibban #3733

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ ، أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لا يَخْرُجُ مِنْهَا أَحَدٌ ، يَعْنِي الْمَدِينَةَ ، رَغْبَةً عَنْهَا إِلا أَبْدَلَهَا اللَّهُ مَا هُوَ خَيْرٌ لَهَا مِنْهُ ، وَالْمَدِينَةُ خَيْرٌ لَهُمْ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”یہاں سے جو بھی شخص اس سے بے رغبت ہوتے ہوئے نکلے گا (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد مدینہ منورہ تھی)، تو اللہ تعالیٰ اس کے بدلے میں مدینہ منورہ کو وہ شخص عطا کر دے گا جو اس (مدینہ منورہ) کے لیے اس (نکل جانے والے) شخص سے زیادہ بہتر ہو گا اور مدینہ لوگوں کے لیے زیادہ بہتر ہے، اگر انہیں اس بات کا علم ہو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3733]

3734

Sahih Ibn Hibban #3734

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنِ الْعَلاءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : يَأْتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ ، يَدْعُو الرَّجُلُ ابْنَ عَمِّهِ ، وَقَرِيبِهِ : هَلُمَّ إِلَى الرَّخَاءِ هَلُمَّ إِلَى الرَّخَاءِ ، وَالْمَدِينَةُ خَيْرٌ لَهُمْ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا يَخْرُجُ أَحَدٌ مِنْهَا رَغْبَةً عَنْهَا إِلا أَخْلَفَ اللَّهُ فِيهَا خَيْرًا مِنْهُ ، أَلا إِنَّ الْمَدِينَةَ كَالْكِيرِ تُخْرِجُ الْخَبَثَ ، وَلا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تَنْفِيَ الْمَدِينَةُ شِرَارَهَا كَمَا يَنْفِي الْكِيرُ خَبَثَ الْحَدِيدِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”لوگوں پر ایک زمانہ ایسا آئے گا کہ ایک شخص اپنے چچازاد اور اپنے قریبی رشتے داروں کو بلائے گا کہ: سہولت کی طرف آؤ، سہولت کی طرف آؤ! حالانکہ اگر انہیں علم ہو، تو مدینہ ان کے لیے زیادہ بہتر ہے۔ اس ذات کی قسم جس کے دستِ قدرت میں میری جان ہے! یہاں سے بے رغبتی اختیار کرتے ہوئے جو بھی شخص نکلے گا، تو اللہ تعالیٰ اس شخص سے زیادہ بہتر شخص (مدینہ منورہ کو) عطا کر دے گا۔ خبردار! مدینہ بھٹی کی مانند ہے، جو خرابی کو نکال دیتا ہے اور قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی جب تک مدینہ اپنے برے لوگوں کو یوں نہیں نکال دے گا جیسے بھٹی لوہے کے میل (یا زنگ) کو نکال دیتی ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3734]

3735

Sahih Ibn Hibban #3735

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الأَنْصَارِيُّ ، أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنَّ أَعْرَابِيًّا بَايَعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الإِسْلامِ ، وَأَصَابَ الأَعْرَابِيَّ وَعْكٌ بِالْمَدِينَةِ ، فَخَرَجَ الأَعْرَابِيُّ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّمَاالْمَدِينَةُ كَالْكِيرِ تَنْفِي خَبَثَهَا ، وَيَنْصَعُ طَيِّبُهَا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دیہاتی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دست اقدس پر اسلام قبول کیا۔ اس دیہاتی کو مدینہ منورہ میں بخار ہو گیا۔ وہ (مدینہ منورہ چھوڑ) کر چلا گیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”بے شک مدینہ بھٹی کی مانند ہے، جو خرابی کو ختم کر دیتی ہے اور اچھائی کو نکھار دیتی ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3735]

3736

Sahih Ibn Hibban #3736

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ الْقَطَّانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مُوسَى الأَنْصَارِيُّ ، قَالَ : سَأَلْتُ سُفْيَانَ بْنَ عُيَيْنَةَ ، وَهُوَ جَالِسٌ مُسْتَقْبِلٌ الْحَجَرَ الأَسْوَدَ ، فَأَخْبَرَنِي ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يُوشِكُ أَنْ يَضْرِبَ الرَّجُلُ أَكْبَادَ الإِبِلِ فِي طَلَبِ الْعِلْمِ ، فَلا يَجِدُ عَالِمًا أَعْلَمَ مِنْ عَالِمِ أَهْلِ الْمَدِينَةِ "، قَالَ أَبُو مُوسَى : بَلَغَنِي عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، انْهُ كَانَ ، يَقُولُ : نَرَى أَنَّهُ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِسُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ ، فَقَالَ : إِنَّمَا الْعَالِمُ مَنْ يخْشَى اللَّهَ ، وَلا نَعْلَمُ أَحَدًا كَانَ أَخْشَى لِلَّهِ مِنَ الْعُمَرِيِّ يُرِيدُ بِهِ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”عنقریب ایسا وقت آئے گا کہ جب لوگ علم کے حصول کے لیے اونٹوں کے جگر پگھلا دیں گے (یعنی انتہائی زیادہ سفر کریں گے)، لیکن انہیں کوئی ایسا عالم نہیں ملے گا جو اہل مدینہ کے عالم سے بڑا عالم ہو۔“ ابوموسیٰ نامی راوی بیان کرتے ہیں کہ مجھے یہ بات پتا چلی ہے کہ ابن جریج رحمہ اللہ یہ فرماتے تھے: ہم یہ سمجھتے ہیں کہ اس سے مراد سیدنا امام مالک رحمہ اللہ ہیں۔ میں نے اس بات کا تذکرہ سفیان رحمہ اللہ سے کیا، تو انہوں نے فرمایا: عالم وہ شخص ہوتا ہے جو اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہو اور ہمیں ایسے کسی شخص کا علم نہیں ہے جو عُمَری سے زیادہ اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہو، ان کی مراد عبداللہ بن عبدالعزیز رحمہ اللہ تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3736]

3737

Sahih Ibn Hibban #3737

أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ سِنَانٍ الْقَطَّانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْقَرَّاظُ أَنَّهُ ، سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ أَرَادَ أَهْلَ الْمَدِينَةِ بِسُوءٍ ، أَذَابَهُ اللَّهُ كَمَا يَذُوبُ الْمِلْحُ فِي الْمَاءِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”جو شخص اہل مدینہ کے ساتھ برائی کا ارادہ کرے گا، اللہ تعالیٰ اسے (جہنم کی آگ میں) یوں گھول دے گا، جس طرح نمک پانی میں گھل جاتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3737]

3738

Sahih Ibn Hibban #3738

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ الصُّوفِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ الْمَكِّيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَطَاءٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ أَخَافَ أَهْلَ الْمَدِينَةِ أَخَافَهُ اللَّهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”جو شخص اہل مدینہ کو خوف زدہ کرے گا، تو اللہ تعالیٰ اسے خوف زدہ کرے گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3738]

3739

Sahih Ibn Hibban #3739

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنِ الْعَلاءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : لا يَصْبِرُ عَلَى لأْوَائِهَا ، وَشِدَّتِهَا أَحَدٌ ، إِلا كُنْتُ لَهُ شَفِيعًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”یہاں کی سختیوں اور شدت پر جو بھی شخص صبر کرے گا، قیامت کے دن میں اس کا شفیع ہوں گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3739]

3740

Sahih Ibn Hibban #3740

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمَدِينِيِّ ، حَدَّثَنَا أَبُو ضَمْرَةَ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ صَالِحِ بْنِ صَالِحٍ السَّمَّانِ ، عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لا يَصْبِرُ أَحَدٌ عَلَى لأْوَاءِ الْمَدِينَةِ وَجَهْدِهَا إِلا كُنْتُ لَهُ شَفِيعًا ، أَوْ شَهِيدًا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”مدینہ منورہ کی سختی اور مشکل پر جو شخص صبر کرے گا میں اس کا ”شفیع“ (راوی کو شک ہے یہ الفاظ ہیں) ”گواہ“ ہوں گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3740]

3741

Sahih Ibn Hibban #3741

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمَّارٍ الْمَوْصِلِيُّ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمْ أَنْ يَمُوتَ بِالْمَدِينَةِ ، فَلْيَمُتْ بِالْمَدِينَةَ ، فَإِنِّي أَشْفَعُ لِمَنْ مَاتَ بِهَا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”تم میں سے جس شخص کے لیے یہ ممکن ہو کہ وہ مدینہ منورہ میں انتقال کرے اسے مدینہ میں انتقال کرنا چاہیے، کیونکہ جو شخص یہاں فوت ہوگا میں اس کی شفاعت کروں گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3741]

3742

Sahih Ibn Hibban #3742

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، عَنِ الصُّمَيْتَةَ امْرَأَةً مِنْ بَنِي لَيْثٍ ، قَالَ : سَمِعْتُهَا ، تُحَدِّثُ صَفِيَّةَ بِنْتَ أَبِي عُبَيْدٍ أَنَّهَا ، سَمِعَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : مَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمْ أَنْ لا يَمُوتَ إِلا بِالْمَدِينَةِ ، فَلْيَمُتْ بِهَا ، فَإِنَّهُ مَنْ يَمُتْ بِهَا ، تَشْفَعْ لَهُ ، وَتَشْهَدُ لَهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ صفیہ بنت عبید رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”تم میں سے جس شخص کے لیے یہ ممکن ہو کہ وہ مدینہ منورہ میں انتقال کرے اسے یہاں انتقال کرنا چاہیے، کیونکہ جو شخص یہاں فوت ہو گا میں اس کی شفاعت کروں گا (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں:) یا میں اس کے حق میں گواہی دوں گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3742]

3743

Sahih Ibn Hibban #3743

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْمُبَارَكِ ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى الْمَهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي مُدِّنَا وَصَاعِنَا ، وَاجْعَلْ مَعَ الْبَرَكَةِ بَرَكَتَيْنِ "، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى الْمَهْرِيِّ مِنْ أَهْلِ مِصْرَ اسْمُهُ : بَكْرُ بْنُ عَمْرٍو ، وَأَبُو سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيُّ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ اسْمُهُ : كَيْسَانُ مَوْلَى بَنِي لَيْثٍ : ثِقَتَانِ مَأْمُونَانِ رَوَيَا جَمِيعًا عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: «اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي مُدِّنَا وَصَاعِنَا، وَاجْعَلْ مَعَ الْبَرَكَةِ بَرَكَتَيْنِ» ”اے اللہ! ہمارے مد اور ہمارے صاع میں ہمارے لیے برکت رکھ دے اور اس برکت کے ہمراہ دو مزید برکتیں شامل کر دے۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) ابوسعید مولیٰ مہری مصر سے تعلق رکھتے ہیں، ان کا نام بکر بن عمرو ہے، جبکہ ابوسعید مقبری اہل مدینہ سے تعلق رکھتے ہیں، ان کا نام کیسان ہے، یہ بنو لیث کے آزاد کردہ غلام ہیں۔ یہ دونوں راوی ثقہ اور مامون ہیں۔ ان دونوں حضرات نے سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایات نقل کی ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3743]

3744

Sahih Ibn Hibban #3744

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْهَاشِمِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو مَرْوَانَ مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الْعُثْمَانَيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْعَلاءُ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، صَاعُنَا أَصْغَرُ الصِّيعَانِ ، وَمُدُّنَا أَصْغَرُ الأَمْدَادِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي صَاعِنَا ، وَمُدِّنَا ، وَقَلِيلِنَا ، وَكَثِيرِنَا ، وَاجْعَلْ مَعَ الْبَرَكَةِ بَرَكَتَيْنِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ عرض کی گئی: یا رسول اللہ! ہمارا (اہل مدینہ کا) صاع سب سے چھوٹا صاع ہے اور ہمارا مد سب سے چھوٹا مد ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: «اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي صَاعِنَا، وَفِي مُدِّنَا، وَفِي قَلِيلِنَا وَكَثِيرِنَا، وَاجْعَلْ مَعَ الْبَرَكَةِ بَرَكَتَيْنِ» ”اے اللہ! ہمارے لیے ہمارے صاع اور مد اور ہمارے تھوڑے اور زیادہ میں برکت رکھ دے اور اس برکت کے ہمراہ مزید دو برکتیں رکھ دے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3744]

3745

Sahih Ibn Hibban #3745

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الأَنْصَارِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : اللَّهُمَّ بَارِكْ لَهُمْ فِي مِكْيَالِهِمْ ، وَبَارِكْ لَهُمْ فِي صَاعِهِمْ وَمُدِّهِمْ "، يَعْنِي أَهْلَ الْمَدِينَةِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: «اللَّهُمَّ بَارِكْ لَهُمْ فِي مِكْيَالِهِمْ، وَبَارِكْ لَهُمْ فِي صَاعِهِمْ، وَمُدِّهِمْ» ”اے اللہ! ان لوگوں کے ماپنے کے آلے میں برکت رکھ دے۔ ان کے صاع اور ان کے مد میں برکت رکھ دے۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد اہل مدینہ تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3745]

3746

Sahih Ibn Hibban #3746

أَخْبَرَنَا ابْنُ خُزَيْمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ اللَّيْثِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سُلَيْمٍ الزُّرَقِيِّ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِ أَنَّهُ ، قَالَ : خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى إِذَا كُنَّا بِالْحَرَّةِ بِالسُّقْيَا ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِيتُونِي بِوِضُوءٍ " ، فَلَمَّا تَوَضَّأَ ، قَامَ فَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ ، ثُمَّ كَبَّرَ ، ثُمَّ قَالَ :" اللَّهُمَّ إِنَّ إِبْرَاهِيمَ كَانَ عَبْدُكَ وَخَلِيلُكَ دَعَاكَ لأَهْلِ مَكَّةَ بِالْبَرَكَةِ ، وَأَنَا مُحَمَّدٌ عَبْدُكُ وَرَسُولُكَ ، أَدْعُوكَ لأَهْلِ الْمَدِينَةِ أَنْ تَبَارَكَ لَهُمْ فِي مُدِّهِمْ ، وَصَاعِهِمْ مِثْلَ مَا بَارَكْتَ لأَهْلِ مَكَّةَ مَعَ الْبَرَكَةِ بَرَكَتَيْنِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ روانہ ہوئے، یہاں تک کہ ”سقیا“ کے مقام پر موجود پتھریلے میدان میں آ گئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میرے پاس وضو کا پانی لے کر آؤ۔“ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کر لیا، تو آپ کھڑے ہوئے، آپ نے قبلہ کی طرف رخ کیا، پھر آپ نے تکبیر کہی، پھر یہ دعا کی: «اللَّهُمَّ إِنَّ إِبْرَاهِيمَ عَبْدُكَ وَخَلِيلُكَ دَعَاكَ لِأَهْلِ مَكَّةَ بِالْبَرَكَةِ، وَأَنَا مُحَمَّدٌ عَبْدُكَ وَرَسُولُكَ أَدْعُوكَ لِأَهْلِ الْمَدِينَةِ أَنْ تُبَارِكَ لَهُمْ فِي مُدِّهِمْ وَصَاعِهِمْ مِثْلَ مَا بَارَكْتَ لِأَهْلِ مَكَّةَ مَعَ الْبَرَكَةِ بَرَكَتَيْنِ» ”اے اللہ! بے شک سیدنا ابراہیم علیہ السلام تیرے بندے اور تیرے خلیل تھے۔ انہوں نے اہل مکہ کے لیے تجھ سے برکت کی دعا کی تھی۔ میں ”محمد“ تیرا بندہ اور تیرا رسول ہوں۔ میں اہل مدینہ کے لیے تجھ سے دعا کرتا ہوں کہ، تو ان کے مد اور ان کے صاع میں اسی طرح برکت کو رکھ دے جس طرح، تو نے اہل مکہ کے لیے برکت رکھی تھی اور اس برکت کے ہمراہ دو مزید برکتیں رکھ دے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3746]

3747

Sahih Ibn Hibban #3747

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ ، قَالَ : كَانَ النَّاسُ إِذَا رَأَوَا الثَّمَرَ جَاءُوا بِهِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَإِذَا أَخَذَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي ثَمَرِنَا ، وَبَارِكْ لَنَا فِي مَدِينَتِنَا ، وَبَارِكْ لَنَا فِي صَاعِنَا وَمُدِّنَا ، اللَّهُمَّ إِنَّ إِبْرَاهِيمَ عَبْدُكَ وَخَلِيلُكَ وَنَبِيُّكَ ، وَإِنِّي عَبْدُكَ وَنَبِيُّكَ ، وَإِنَّهُ دَعَاكَ لِمَكَّةَ ، وَأَنَا أَدْعُوكَ لِلْمَدِينَةِ بِمِثْلِ مَا دَعَا بِهِ لِمَكَّةَ وَمِثْلُهُ مَعَهُ " ، ثُمَّ يَدْعُو أَصْغَرَ وَلِيدٍ يَرَاهُ ، فَيُعْطِيهِ ذَلِكَ الثَّمَرَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب لوگ پہلا پھل دیکھتے تھے تو اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لاتے تھے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اسے لیتے اور یہ دعا مانگتے تھے: «اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي ثَمَرِنَا، وَبَارِكْ لَنَا فِي مَدِينَتِنَا، وَبَارِكْ لَنَا فِي صَاعِنَا، وَبَارِكْ لَنَا فِي مُدِّنَا، اللَّهُمَّ إِنَّ إِبْرَاهِيمَ عَبْدُكَ وَخَلِيلُكَ وَنَبِيُّكَ، وَإِنِّي عَبْدُكَ وَنَبِيُّكَ، وَإِنَّهُ دَعَاكَ لِمَكَّةَ، وَإِنِّي أَدْعُوكَ لِلْمَدِينَةِ بِمِثْلِ مَا دَعَاكَ لِمَكَّةَ وَمِثْلِهِ مَعَهُ» ”اے اللہ! ہمارے پھلوں میں ہمارے لیے برکت رکھ دے، ہمارے شہر میں ہمارے لیے برکت رکھ دے، ہمارے صاع اور مد میں ہمارے لیے برکت رکھ دے؛ اے اللہ! بے شک سیدنا ابراہیم علیہ السلام تیرے بندے اور تیرے نبی تھے اور میں بھی تیرا بندہ اور تیرا نبی ہوں، انہوں نے مکہ کے لیے تجھ سے دعا کی تھی اور میں مدینہ کے لیے تجھ سے دعا کرتا ہوں جو اس کی مانند ہو جو انہوں نے مکہ کے لیے دعا کی تھی اور اس کے ہمراہ اتنی ہی مزید ہو۔“ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم وہاں موجود نظر آنے والے سب سے چھوٹے بچے کو بلاتے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہ پھل اسے عطا کر دیتے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3747]

3748

Sahih Ibn Hibban #3748

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ أَبِي عَلْقَمَةَ ، عَنْ أُمِّهِ أَنَّهَا ، قَالَتْ : سَمِعْتُ عَائِشَةَ ، تَقُولُ : قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ ، فَلَبِسَ ثِيَابَهُ ، ثُمَّ خَرَجَ ، قَالَتْ : فَأَمَرْتُ بَرِيرَةَ جَارِيَتِي تَتْبَعُهُ ، فَتَبِعَتْهُ حَتَّى جَاءَ الْبَقِيعُ ، فَوَقَفَ فِي أَدْنَاهُ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَقِفَ ، ثُمَّ انْصَرَفَ ، فَسَبَقَتْهُ بَرِيرَةُ ، فَأَخْبَرَتْنِي ، فَلَمْ أَذْكُرْ لَهُ شَيْئًا حَتَّى أَصْبَحْتُ ، ثُمَّ إِنِّي ذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ ، فَقَالَ : إِنِّي بُعِثْتُ لأَهْلِ الْبَقِيعِ لأُصَلِّيَ عَلَيْهِمْ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ایک رات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے، آپ نے کپڑے پہنے (یعنی چادر اوڑھی) اور باہر تشریف لے گئے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میں نے اپنی کنیز بریرہ کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے جانے کی ہدایت کی، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے گئی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بقیع تشریف لائے، وہاں جتنا اللہ کو منظور تھا آپ ٹھہرے رہے۔ پھر آپ واپس تشریف لے گئے، تو بریرہ آپ سے پہلے آ گئی۔ اس نے مجھے بتایا، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کچھ ذکر نہیں کیا، یہاں تک کہ جب صبح ہوئی، تو میں نے اس بات کا تذکرہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”مجھے اہل بقیع کی طرف بھیجا گیا، تاکہ میں ان کے لیے دعائے رحمت کروں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3748]

3749

Sahih Ibn Hibban #3749

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ مَهْدِيِّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمَّارِ الدُّهْنِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : قَوَائِمُ الْمِنْبَرِ رَوَاتِبُ فِي الْجَنَّةِ "، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : دُهْنٌ : قَبِيلَةٌ مِنْ بَجِيلَةَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتی ہیں: ”میرے اس (منبر) کے پائے جنت میں گڑے ہوئے ہیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3749]

3750

Sahih Ibn Hibban #3750

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مَعْشَرٍ بِحَرَّانَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى الْقَطَّانُ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : مَا بَيْنَ بَيْتِي وَمِنْبَرِي رَوْضَةٌ مِنْ رِيَاضِ الْجَنَّةِ ، وَمِنْبَرِي عَلَى حَوْضِي "، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : خِطَابُ هَذَيْنِ الْخَبَرَيْنِ مِمَّا نَقُولُ فِي كُتُبِنَا بِأَنَّ الْعَرَبَ تُطْلِقُ فِي لُغَتِهَا اسْمَ الشَّيْءِ الْمَقْصُودِ عَلَى سَبَبِهِ ، فَلَمَّا كَانَ الْمُسْلِمُ إِذَا تَقَرَّبَ إِلَى بَارِئِهِ جَلَّ وَعَلا بِالطَّاعَةِ عِنْدَ مِنْبَرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَرُجِيَ لَهُ قَبُولُهَا ، وَثَوَابُهُ عَلَيْهَا الْجَنَّةُ ، أَطْلَقَ اسْمَ الْمَقْصُودَ الَّذِي هُوَ الْجَنَّةِ عَلَى سَبَبِهِ الَّذِي هُوَ الْمِنْبَرِ ، وَكَذَلِكَ قَوْلُهُ : " رَوْضَةٌ مِنْ رِيَاضِ الْجَنَّةِ " ، وَكَذَلِكَ قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مِنْبَرِي عَلَى حَوْضِي " ، لِرَجَاءِ الْمَرْءِ نَوَالَ الشُّرْبِ مِنَ الْحَوْضِ ، وَالتَّمَكُّنِ مِنْ رَوْضَةٍ مِنْ رِيَاضِ الْجَنَّةِ بِطَاعَتِهِ فِي الدُّنْيَا فِي ذَلِكَ الْمَوْضِعِ ، وَهَذَا كَقَوْلِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " عَائِدُ الْمَرِيضِ فِي مَخْرَفَةِ الْجَنَّةِ " ، لَمَّا كَانَ عَائِدُ الْمَرِيضِ فِي وَقْتِ عِيَادَتِهِ يُرْجَى لَهُ بِهَا التَّمَكُّنُ مِنْ مَخْرَفَةِ الْجَنَّةِ وَهُوَ الْمَقْصُودُ ، أَطْلَقَ اسْمَ ذَلِكَ الْمَقْصُودِ عَلَى سَبَبِهِ ، وَنَحْوُ هَذَا قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْجَنَّةُ تَحْتَ ظِلالِ السُّيُوفِ " ، وَلِهَذَا نَظَائِرٌ كَثِيرَةٌ سَنَذْكُرُهَا فِيمَا بَعْدُ مِنْ هَذَا الْكِتَابِ إِنْ قَضَى اللَّهُ ذَلِكَ وَشَاءَهُ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”میرے گھر اور میرے منبر کی درمیانی جگہ جنت کا ایک باغ ہے اور میرا منبر میرے حوض پر ہو گا۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) ان دونوں روایات میں جو الفاظ منقول ہیں اس کے بارے میں ہم اپنی کتابوں میں یہ بات بیان کر چکے ہیں کہ عرب اپنے محاورے میں بعض اوقات کسی مقصود چیز کا اسم اس کے سبب کے لیے استعمال کر لیتے ہیں۔ جب کوئی مسلمان نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے منبر کے پاس اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری کر کے اس کا قرب حاصل کرتا ہے اور اس کی قبولیت کی امید ہوتی ہے اور اس کا ثواب جنت ملنے کی امید ہوتی ہے، تو یہاں مقصود کے اسم کو جو جنت ہے اس کے سبب کے لیے استعمال کیا گیا ہے اور وہ منبر ہے، اسی طرح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان: ”جنت کے باغوں میں سے ایک باغ“، اسی طرح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان: ”میرا منبر میرے حوض پر ہے“، اس سے مراد یہی ہے کہ آدمی کو یہ امید رکھنی چاہیے کہ وہ حوضِ کوثر سے مشروب حاصل کرے گا اور جنت کے باغات میں پہنچے گا۔ دنیا میں اس جگہ پر اطاعت و فرمانبرداری کرنے کی وجہ سے (وہاں پہنچے گا) یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان کی مانند ہو گا: ”بیمار کی عیادت کرنے والا جنت کے باغ میں ہوتا ہے“، تو جب بیمار کی عیادت کرنے والا شخص اپنی عیادت کے وقت میں ایسی حالت میں ہوتا ہے کہ اس کے لیے جنت کے باغ میں پہنچنے کی امید کی جا سکتی ہے اور یہی مقصود ہے، تو یہاں مقصود کا اسم اس کے سبب کے لیے استعمال ہوا ہے۔ اس کی مثال نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ہے: ”جنت تلواروں کے سائے تلے ہے“، اس کی اور بھی بہت سی مثالیں ہیں، جنہیں ہم عنقریب اس کتاب میں آگے چل کر نقل کریں گے۔ ان شاء اللہ۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3750]

3751

Sahih Ibn Hibban #3751

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الأَنْصَارِيُّ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ كَانَ ، يَقُولُ : ثُمَّ لَوْ رَأَيْتُ الظِّبَاءَ تَرْتَعُ بِالْمَدِينَةَ مَا ذَعَرْتُهَا ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَا بَيْنَ لابَتَيْهَا حَرَامٌ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اگر میں مدینہ منورہ میں کسی ہرن کو چرتا ہوا دیکھوں، تو اسے پکڑنے کی کوشش نہیں کروں گا، کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”یہ دونوں کناروں کے درمیان کی جگہ حرم ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3751]