Muslim99Muslim99

Sahih Ibn Hibban · Book 33 · Chapter 2

Book of Claims

Hadith 3678–3717

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

3678

Sahih Ibn Hibban #3678

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحِيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : أُرِيتُ لَيْلَةَ الْقَدْرِ ، ثُمَّ أَيْقَظَنِي أَهْلِي ، فَنَسِيتُهَا ، فَالْتَمِسُوهَا فِي الْعَشْرِ الْغَوَابِرِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”مجھے شبِ قدر دکھائی گئی، پھر میری بیوی نے مجھے بیدار کر دیا، تو میں اسے بھول گیا، تو تم باقی رہ جانے والے عشرے میں اسے تلاش کرو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصوم/حدیث: 3678]

3679

Sahih Ibn Hibban #3679

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، أَنَّهُ قَالَ : خَرَجَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيُخْبِرَنَا بِلَيْلَةِ الْقَدْرِ ، فَتَلاحَى رَجُلانِ مِنَ الْمُسْلِمِينَ ، فَقَالَ : خَرَجْتُ لأُخْبِرَكُمْ بِلَيْلَةِ الْقَدْرِ ، فَتَلاحَى فُلانٌ وَفُلانٌ ، فَرُفِعَتْ ، وَعَسَى أَنْ يَكُونَ خَيْرًا لَكُمْ ، فَالْتَمِسُوهَا فِي التَّاسِعَةِ وَالسَّابِعَةِ وَالْخَامِسَةِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں شبِ قدر کے بارے میں بتانے کے لیے تشریف لائے، دو مسلمانوں کا جھگڑا ہو گیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میں تمہیں شبِ قدر کے بارے میں بتانے کے لیے آیا تھا، فلاں اور فلاں شخص کے درمیان جھگڑا ہو گیا، تو اس کا علم اٹھا لیا گیا، ہو سکتا ہے یہ تمہارے لیے زیادہ بہتر ہو، تم اسے نویں، ساتویں، پانچویں رات میں تلاش کرو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصوم/حدیث: 3679]

3680

Sahih Ibn Hibban #3680

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذِ بْنِ مُعَاذٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : لَيْلَةُ الْقَدْرِ لَيْلَةُ سَبْعٍ وَعِشْرِينَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”شبِ قدر ستائیسویں رات ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصوم/حدیث: 3680]

3681

Sahih Ibn Hibban #3681

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّامِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحِيَى بْنُ أَيُّوبَ الْمَقَابِرِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ : وَأَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ ، يَقُولُ : سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ لَيْلَةِ الْقَدْرِ ، فَقَالَ : تَحَرُّوهَا فِي السَّبْعِ الأَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے شب قدر کے بارے میں دریافت کیا گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اسے رمضان کی آخری سات راتوں میں تلاش کرو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصوم/حدیث: 3681]

3682

Sahih Ibn Hibban #3682

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا غَسَّانُ بْنُ الرَّبِيعِ ، حَدَّثَنَا ثَابِتُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : مَنْ قَامَ رَمَضَانَ وَصَامَهُ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا ، غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ ، وَمَنْ قَامَ لَيْلَةَ الْقَدْرِ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جو شخص ایمان کی حالت میں ثواب کی امید رکھتے ہوئے رمضان میں نوافل ادا کرتا ہے اور روزے رکھتا ہے اس شخص کے گزشتہ گناہوں کی مغفرت ہو جاتی ہے، جو شخص ایمان کی حالت میں ثواب کی امید رکھتے ہوئے شب قدر میں نوافل ادا کرتا ہے اس شخص کے گزشتہ گناہوں کی مغفرت ہو جاتی ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصوم/حدیث: 3682]

3683

Sahih Ibn Hibban #3683

أَخْبَرَنَا ابْنُ سَلْمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الُوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مَرْثَدُ بْنُ أَبِي مَرْثَدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : جَلَسْتُ عِنْدَ أَبِي ذَرٍّ عِنْدَ الْجَمْرَةِ الُوُسْطَى ، فَدَنَوْتُ مِنْهُ حَتَّى كَادَتْ رُكْبَتِي تَمَسُّ رُكْبَتَيْهِ ، فَقُلْتُ أَخْبِرْنِي عَنْ لَيْلَةِ الْقَدْرِ ، فَقَالَ أَنَا كُنْتُ اسْأَلُ النَّاسَ عَنْهَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَخْبِرْنِي عَنْلَيْلَةِ الْقَدْرِ تَكُونُ فِي زَمَانِ الأَنْبِيَاءِ ، يَنْزِلُ عَلَيْهِمُ الُوَحِيُ ، فَإِذَا قُبِضُوا رُفِعَتْ ؟ فَقَالَ : بَلْ هِيَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ " ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَأَخْبِرْنِي فِي أَيِّ الشَّهْرِ هِيَ ؟ فَقَالَ : " إِنَّ اللَّهَ لَوْ أَذِنَ لأَخْبَرْتُكُمْ بِهَا ، فَالْتَمِسُوهَا فِي الْعَشْرِ الأَوَاخِرِ فِي إِحْدَى السُّبُعَيْنِ ، وَلا تَسْأَلْنِي عَنْهَا بَعْدَ مَرَّتِكَ هَذِهِ " ، قَالَ : وَأَقْبَلَ عَلَى أَصْحَابِهِ يُحَدِّثُهُمْ ، فَلَمَّا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَطْلَقَ بِهِ الْحَدِيثُ ، فَقُلْتُ : أَقْسَمْتُ عَلَيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَتُخْبِرَنِّي فِي أَيِّ السُّبُعَيْنِ هِيَ ؟ قَالَ : فَغَضِبَ عَلَيَّ غَضَبًا لَمْ يَغْضَبْ عَلَيَّ مِثْلَهُ ، وَقَالَ : " لا أُمَّ لَكَ ، هِيَ تَكُونُ فِي السَّبْعِ الأَوَاخِرِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

مرثد بن ابومرثد اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: میں درمیانی جمرہ کے پاس سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کے قریب بیٹھا ہوا تھا، میں ان کے قریب ہوا یہاں تک کہ میرے گھٹنے ان کے گھٹنوں کو چھونے لگے۔ میں نے کہا: آپ مجھے شبِ قدر کے بارے میں بتائیں، تو انہوں نے فرمایا: میں نے اس کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سب سے زیادہ دریافت کیا ہے، میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ مجھے شبِ قدر کے بارے میں بتائیں، کیا یہ صرف انبیاء کے زمانے میں ہوتی ہے جن پر وحی نازل ہوتی ہے اور جب ان کا انتقال ہو جائے تو اسے اٹھا لیا جاتا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں بلکہ یہ قیامت تک ہوتی رہے گی۔“ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ مجھے بتائیں یہ کون سے مہینے میں ہوتی ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اگر اللہ تعالیٰ نے اجازت دی تو میں تمہیں اس کے بارے میں بتا دوں گا، تم اسے آخری عشرے میں سات راتوں میں سے کسی ایک میں تلاش کرو، اس کے بعد تم مجھ سے اس کے بارے میں دریافت نہ کرنا۔“ راوی کہتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اصحاب کے ساتھ بات چیت میں مشغول ہو گئے، جب میں نے دیکھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بات چیت میں مشغول ہیں تو میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں آپ کو قسم دیتا ہوں کہ آپ مجھے اس بارے میں بتائیں کہ ان دو ہفتوں میں سے کسی میں ہوتی ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مجھ پر شدید غضب ناک ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس طرح مجھ پر کبھی غصہ نہیں ہوئے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہاری ماں نہ رہے، یہ آخری ہفتے میں ہوتی ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصوم/حدیث: 3683]

3684

Sahih Ibn Hibban #3684

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عُمَارَةُ بْنُ غَزِيَّةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ إِبْرَاهِيمَ ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اعْتَكَفَ الْعَشْرَ الأُوَلَ مِنْ رَمَضَانَ ، ثُمَّ اعْتَكَفَ الْعَشْرَ الأَوْسَطَ فِي قُبَّةٍ تُرْكِيَّةٍ عَلَى سُدَّتِهَا قِطْعَةُ حَصِيرٍ ، قَالَ : فَأَخَذَ الْحَصِيرَ بِيَدِهِ ، فَنَحَّاهَا فِي نَاحِيَةِ الْقُبَّةِ ، ثُمَّ أَطْلَعَ رَأْسَهُ يُكَلِّمُ النَّاسَ ، فَدَنَوَا مِنْهُ ، فَقَالَ : إِنِّي اعْتَكَفَتُ فِي الْعَشْرِ الأُوَلِ الْتَمِسُ هَذِهِ اللَّيْلَةَ ، ثُمَّ اعْتَكَفْتُ الْعَشْرَ الأَوْسَطَ ، ثُمَّ أُتِيتُ ، فَقِيلَ لِي : إِنَّهَا فِي الْعَشْرِ الأَوَاخِرِ ، فَمَنْ أَحَبَّ مِنْكُمْ أَنْ يَعْتَكِفَ فَلِيَعْتَكِفْ " ، فَاعْتَكَفَ النَّاسُ مَعَهُ ، قَالَ : " وَإِنِّي أُرِيتُهَا وَإِنِّي أَسْجُدُ فِي صَبِيحَتِهَا فِي طِينٍ وَمَاءٍ " ، فَأَصْبَحَ مِنْ لَيْلَةِ إِحْدَى وَعِشْرِينَ ، وَقَدْ قَامَ إِلَى صَلاةِ الصُّبْحِ ، فَمَطَرَتِ السَّمَاءُ فَوَكَفَ الْمَسْجِدُ ، فَأَبْصَرَتُ الطِّينَ والْماءَ ، فَخَرَجَ حِينَ فَرَغَ مِنْ صَلاةِ الصُّبْحِ ، وَجَبِينُهُ ، وَأَنْفُهُ فِي الْمَاءِ وَالطِّينِ ، فَإِذَا هِيَ لَيْلَةُ إِحْدَى وَعِشْرِينَ مِنَ الْعَشْرِ الأَوَاخِرِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان کے پہلے عشرے میں اعتکاف کیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ترکی خیمے میں درمیانی عشرے میں اعتکاف کیا جس کے دروازے پر چٹائی کا ٹکڑا لٹکا ہوا تھا۔ راوی کہتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دستِ مبارک کے ذریعے چٹائی کو پکڑا اور اسے خیمے کے ایک کنارے کے ساتھ لٹکا دیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کے ساتھ بات چیت کرنے کے لیے اپنا سر مبارک باہر نکالا، لوگ آپ کے قریب ہو گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میں نے اس رات کی تلاش میں پہلے عشرے میں اعتکاف کیا، پھر میں نے درمیانی عشرے میں اعتکاف کیا، پھر میرے پاس فرشتہ آیا اور مجھے بتایا گیا کہ یہ آخری عشرے میں ہوگی، تو تم میں سے جو شخص اعتکاف کرنا چاہے وہ اعتکاف کر لے۔“ (راوی کہتے ہیں) لوگوں نے آپ کے ہمراہ اعتکاف کیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میں نے اس رات کو دیکھا ہے کہ اس کی صبح میں پانی اور مٹی میں سجدہ کر رہا ہوں۔“ اکیسویں رات کی صبح جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم صبح کی نماز ادا کرنے کے لیے کھڑے ہوئے، تو بارش شروع ہو گئی، مسجد کی چھت ٹپکنے لگی اور میں نے مٹی کو گیلا ہوتے ہوئے دیکھا۔ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم صبح کی نماز پڑھ کر فارغ ہو کر تشریف لائے، تو آپ کی مبارک پیشانی اور مبارک ناک پر پانی اور مٹی کا نشان موجود تھا، یہ آخری عشرے کی اکیسویں رات (کی اگلی صبح) کی بات ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصوم/حدیث: 3684]

3685

Sahih Ibn Hibban #3685

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الُوَلِيدُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي يَحِيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، قَالَ : أَتَيْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ ، فَقُلْتُ : يَا أَبَا سَعِيدٍ ، اخْرُجْ بِنَا إِلَى النَّخْلِ نَتَحَدَّثُ ، قَالَ : نَعَمْ ، فَدَعَا بِخَمِيصَةٍ يَلْبَسُهَا ، ثُمَّ خَرَجَ ، فَقُلْتُ : يَا أَبَا سَعِيدٍ : هَلْ سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَذْكُرُ لَيْلَةَ الْقَدْرِ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، اعْتَكَفْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعَشْرٍ مِنْ رَمَضَانَ ، فَلَمَّا كَانَ صَبِيحَةَ عِشْرِينَ ، قَامَ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : مَنْ كَانَ خَرَجَ فَلِيَرْجِعْ ، فَإِنِّي أُرِيتُ لَيْلَةَ الْقَدْرِ ، وَإِنِّي أُنْسِيتُهَا ، وَإِنِّي رَأَيْتُ أَنِّي أَسْجُدُ فِي مَاءٍ وَطِينٍ ، فَالْتَمِسُوهَا فِي الْعَشْرِ الأَوَاخِرِ مِنْ شَهْرِ رَمَضَانَ فِي وِتْرٍ " ، قَالَ أَبُو سَعِيدٍ : وَمَا نَرَى فِي السَّمَاءِ قَزَعَةً ، فَلَمَّا كَانَ اللَّيْلُ إِذَا السَّحَابُ أَمْثَالُ الْجِبَالِ ، فَمُطِرْنَا حَتَّى سَالَ سَقْفُ الْمَسْجِدِ ، قَالَ : وَسَقْفُهُ يَوْمَئِذٍ مِنْ جَرِيدِ النَّخْلِ ، حَتَّى رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَجَدَ فِي مَاءٍ وَطِينٍ ، حَتَّى رَأَيْتُ الطِّينَ فِي أَرْنَبَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان کے پہلے عشرے میں اعتکاف کیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ترکی خیمے میں درمیانی عشرے میں اعتکاف کیا جس کے دروازے پر چٹائی کا ٹکڑا لٹکا ہوا تھا۔ راوی کہتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دستِ مبارک کے ذریعے چٹائی کو پکڑا اور اسے خیمے کے ایک کنارے کے ساتھ لٹکا دیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کے ساتھ بات چیت کرنے کے لیے اپنا سر باہر نکالا، لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے قریب ہو گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میں نے اس رات کی تلاش میں پہلے عشرے میں اعتکاف کیا، پھر میں نے درمیانی عشرے میں اعتکاف کیا، پھر میرے پاس فرشتہ آیا اور مجھے بتایا گیا کہ یہ آخری عشرے میں ہو گی، تو تم میں سے جو شخص اعتکاف کرنا چاہے وہ اعتکاف کر لے“۔ (راوی کہتے ہیں) لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ اعتکاف کیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میں نے اس رات کو دیکھا ہے کہ اس کی صبح میں پانی اور مٹی میں سجدہ کر رہا ہوں“۔ اکیسویں رات کی صبح جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم صبح کی نماز ادا کرنے کے لیے کھڑے ہوئے، تو بارش شروع ہو گئی، مسجد کی چھت ٹپکنے لگی، میں نے مٹی کو گیلا ہوتے ہوئے دیکھا۔ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم صبح کی نماز پڑھ کر فارغ ہو کر تشریف لائے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک پیشانی اور مبارک ناک پر پانی اور مٹی کا نشان موجود تھا، یہ آخری عشرے کی اکیسویں رات (کی اگلی صبح) کی بات ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصوم/حدیث: 3685]

3686

Sahih Ibn Hibban #3686

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ هِشَامٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ عُيَيْنَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : ذُكِرَتْ لَيْلَةُ الْقَدْرِ عِنْدَ أَبِي بَكْرَةَ ، فَقَالَ : مَا أَنَا بِطَالِبِهَا إِلا فِي الْعَشْرِ الأَوَاخِرِ ، بَعْدَ حَدِيثٍ سَمِعْتُهُ مِنْ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، سَمِعْتُهُ يَقُولُ : الْتَمِسُوهَا فِي الْعَشْرِ الأَوَاخِرِ فِي سَبْعٍ يَبْقَيْنَ ، أَوْ خَمْسٍ يَبْقَيْنَ ، أَوْ ثَلاثٍ يَبْقَيْنَ ، أَوْ فِي آخِرِ لَيْلَةٍ " ، فَكَانَ لا يُصَلِّي فِي الْعِشْرِينَ إِلا كَصَلاتِهِ فِي سَائِرِ السَّنَةِ ، فَإِذَا دَخَلَ الْعَشْرُ اجْتَهَدَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عیینہ بن عبدالرحمن اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کے سامنے شب قدر کا ذکر کیا گیا، تو انہوں نے فرمایا: میں اسے صرف آخری عشرے میں تلاش کرتا ہوں، کیونکہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”تم اسے آخری عشرے میں باقی رہ جانے والی سات راتوں میں تلاش کرو، یا باقی رہ جانے والی پانچ راتوں میں تلاش کرو، یا باقی رہ جانے والی تین راتوں میں تلاش کرو، یا آخری رات میں تلاش کرو۔“ راوی کہتے ہیں کہ سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ رمضان کے ابتدائی بیس دنوں میں معمول کے مطابق سارے سال کی طرح نوافل ادا کرتے تھے، لیکن جب آخری عشرہ آ جاتا تھا، تو اہتمام سے عبادت کرتے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصوم/حدیث: 3686]

3687

Sahih Ibn Hibban #3687

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، وَبِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ، قَالا : حَدَّثَنَا الْجُرَيْرِيُّ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ : اعْتَكَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعَشْرَ الأَوْسَطَ مِنْ رَمَضَانَ وَهُوَ يَلْتَمِسُ لَيْلَةَ الْقَدْرِ ، فَلَمَّا انْقَضَى ، أَمَرَ بِالْبِنَاءِ ، فَنُقِضَ ، فَأُبِينَتْ لَهُ أَنَّهَا فِي الْعَشْرِ الأَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ ، فَخَرَجَ إِلَى النَّاسِ ، فَقَالَ : أَيُّهَا النَّاسُ ،إِنِّي قَدْ أُبِينَتْ لِي لَيْلَةُ الْقَدْرِ ، فَخَرَجْتُ أُحَدِّثُكُمْ بِهَا فَجَاءَ رَجُلانِ يَخْتَصِمَانِ وَمَعَهُمَا الشَّيْطَانُ ، فَنُسِّيتُهَا ، فَالْتَمِسُوهَا فِي السَّابِعَةِ ، وَالْتَمِسُوهَا فِي الْخَامِسَةِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان کے درمیانی عشرے میں اعتکاف کیا، آپ شبِ قدر تلاش کرنا چاہتے تھے، جب وہ گزر گیا، تو آپ کے حکم کے تحت خیمے کو اتار لیا گیا، پھر آپ کے سامنے یہ بات ظاہر ہوئی کہ شبِ قدر رمضان کے آخری عشرے میں ہو گی، تو آپ لوگوں کے پاس تشریف لائے۔ آپ نے ارشاد فرمایا: ”اے لوگو! شبِ قدر کو میرے سامنے کیا گیا، میں اس کے بارے میں تمہیں بتانے کے لیے آیا، تو دو آدمی آپس میں بحث کر رہے تھے، ان کے ساتھ شیطان تھا، تو یہ مجھے بھلا دی گئی، تو تم اسے ساتویں رات میں تلاش کرو یا تم اسے پانچویں رات میں تلاش کرو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصوم/حدیث: 3687]

3688

Sahih Ibn Hibban #3688

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ زِيَادِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ الزِّيَادِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْفُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنِّي كُنْتُ أُرِيتُ لَيْلَةَ الْقَدْرِ ، ثُمَّ نُسِّيتُهَا ، وَهِيَ فِي الْعَشْرِ الأَوَاخِرِ ، وَهِيَ طَلْقَةٌ بَلْجَةٌ لا حَارَّةٌ وَلا بَارِدَةٌ ، كَأَنَّ فِيهَا قَمَرًا يَفْضَحُ كَوَاكِبَهَا ، لا يَخْرُجُ شَيْطَانُهَا حَتَّى يَخْرُجَ فَجْرُهَا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”مجھے شبِ قدر دکھائی گئی، پھر یہ مجھے بھلا دی گئی، یہ آخری عشرے میں ہوتی ہے، یہ خوشگوار اور معتدل رات ہوتی ہے، جو نہ زیادہ گرم ہوتی ہے اور نہ زیادہ ٹھنڈی ہوتی ہے، اور اس میں چاند ستاروں کو شرمندہ کر رہا ہوتا ہے، اس کا شیطان اس وقت تک نہیں نکلتا جب تک اس کی صبحِ صادق نہیں ہو جاتی“ (یعنی جب تک وہ پوری رات گزر نہیں جاتی)۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصوم/حدیث: 3688]

3689

Sahih Ibn Hibban #3689

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلاءِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفِيَانُ ، عَنْ عَبْدَةَ بْنِ أَبِي لُبَابَةَ ، وَعَاصِمٍ ، عَنْ زِرٍّ ، قَالَ : قُلْتُ لأُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ : يَا أَبَا الْمُنْذِرِ ، إِنَّ أَخَاكَ ابْنَ مَسْعُودٍ ، يَقُولُ : مَنْ يَقُمِ الْحَوْلَ يُصِبْ لَيْلَةَ الْقَدْرِ ، فَقَالَ : يَرْحَمُهُ اللَّهُ ، لَقَدْ أَرَادَ أَنْ لا تَتَّكِلُوا ، وَاللَّهُ أعْلَمُ أَنَّهَا فِي شَهْرِ رَمَضَانَ ، وَأَنَّهَا فِي الْعَشْرِ الأَوَاخِرِ ، وَأَنَّهَا لَيْلَةَ سَبْعٍ وَعِشْرِينَ ، قَالَ : قُلْنَا : يَا أَبَا الْمُنْذِرِ ، بِأَيِّ شَيْءٍ تَعْرِفُ ذَلِكَ ؟ قَالَ : بِالْعَلامَةِ ، أَوْ بِالآيَةِ الَّتِي أَخْبَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّالشَّمْسَ تَطْلُعُ مِنْ ذَلِكَ الِيَوْمِ لا شُعَاعَ لَهَا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

زر بن حبیش بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے کہا: اے ابوالمنذر! آپ کے بھائی سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ یہ کہتے ہیں کہ جو شخص سارا سال رات کے وقت نوافل ادا کرتا رہے وہی شب قدر کو پا سکتا ہے۔ انہوں نے فرمایا: اللہ تعالیٰ ان پر رحم فرمائے، وہ یہ چاہتے ہیں کہ تم کسی ایک رات پر تکیہ کر کے نہ بیٹھ جاؤ، حالانکہ اللہ زیادہ بہتر جانتا ہے کہ یہ رمضان کے مہینے میں ہوتی ہے اور یہ آخری عشرے میں ہوتی ہے اور یہ ستائیسویں رات ہوتی ہے۔ راوی کہتے ہیں: ہم نے کہا: اے ابومنذر! آپ اس کو کس بات پر پہنچاتے ہیں؟ انہوں نے فرمایا: علامت کی وجہ سے، یا نشانی کی وجہ سے جس کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بتایا ہے کہ ”جب اس دن کا سورج طلوع ہوتا ہے، تو اس کی شعاع نہیں ہوتی۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصوم/حدیث: 3689]

3690

Sahih Ibn Hibban #3690

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيُّ ، حَدَّثَنَا الُوَلِيدُ ، حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ ، حَدَّثَنِي عَبْدَةُ بْنُ أَبِي لُبَابَةَ ، حَدَّثَنِي زِرُّ بْنُ حُبَيْشٍ ، أَنَّهُ قَالَ لأُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ : أَنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ ، يَقُولُ : مَنْ قَامَ السَّنَةَ أَصَابَ لَيْلَةَ الْقَدْرِ ، فَقَالَ أُبَيُّ : وَاللَّهِ الَّذِي لا إِلَهُ أَلا هُوَ ، إِنَّهَا لَفِي شَهْرِ رَمَضَانَ ، يَحْلِفُ مَا يَسْتَثْنَى ، وَاللَّهِ إِنِّي لأَعْلَمُ أَنَّلَيْلَةَ الْقَدْرِ هِيَ هَذِهِ اللَّيْلَةُ الَّتِي أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَقُومَهَا صَبِيحَةَ سَبْعٍ وَعِشْرِينَ ، وَأَمَارَتُهَا أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ فِي صَبِيحَةِ يَوْمِهَا بَيْضَاءَ لا شُعَاعَ لَهَا ، كَأَنَّهَا طَسْتٌ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

زر بن حبیش بیان کرتے ہیں: ہم نے سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے کہا: سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ یہ کہتے ہیں: جو شخص سال بھر نوافل ادا کرتا رہے وہی شب قدر کو پا سکتا ہے۔ سیدنا ابی رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! جس کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے، یہ رمضان کے مہینے میں ہوتی ہے، انہوں نے قسم اٹھائی جس میں کوئی استثنا نہیں کیا اور اللہ کی قسم! میں یہ بات جانتا ہوں کہ شب قدر ہی وہ رات ہے، جس کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں یہ حکم دیا تھا کہ ”ہم اس میں نوافل ادا کرتے رہیں“ اور یہ ستائیسویں رات کی صبح کی بات ہے، اس کی ایک مخصوص نشانی ہے کہ جب اس سے اگلے دن صبح کے وقت سورج نکلتا ہے، تو روشن ہوتا ہے، لیکن اس میں شعاع نہیں ہوتی، یوں ہوتا ہے جیسے وہ طشت ہو۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصوم/حدیث: 3690]

3691

Sahih Ibn Hibban #3691

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ مُكْرَمٍ الْبَزَّارُ الْحَافِظُ ، بِالْبَصْرَةِ ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو حَفْصٍ الأَبَّارُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ أَبِي النَّجُودِ ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ ، قَالَ : لَقِيتُ أُبَيَّ بْنَ كَعْبٍ ، فَقُلْتُ حَدِّثْنِي ، فَإِنَّهُ كَانَ يُعْجِبُنِي لُقِيُّكَ ، وَمَا قَدِمْتُ إِلا لِلِقَائِكَ ، فَأَخْبِرْنِي عَنْ لَيْلَةِ الْقَدْرِ ، فَإِنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ ، يَقُولُ : مَنْ يَقُومُ السَّنَةَ يُصِبْهَا أَوْ يُدْرِكْهَا ، قَالَ : لَقَدْ عَلِمَ أَنَّهَا فِي شَهْرِ رَمَضَانَ ، وَلَكِنَّهُ أَحَبَّ أَنْ يُعَمِّيَّ عَلَيْكُمْ ، وَإِنَّهَا لَيْلَةُ سَابِعَةٍ وَعِشْرِينَ بِالآيَةِ الَّتِي حَدَّثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَحَفِظْنَاهَا وَعَرَفْنَاهَا ، فَكَانَ زِرٌّ يُوَاصِلُ إِلَى السَّحَرِ ، فَإِذَا كَانَ قَبْلَهَا بِيَوْمٍ أَوْ بَعْدَهَا صَعِدَ الْمَنَارَةَ ، فَنَظَرَ إِلَى مَطْلِعِ الشَّمْسِ ، وَيَقُولُ : إِنَّهَا تَطْلُعُ لا شُعَاعَ لَهَا حَتَّى تَرْتَفِعَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

زر بن حبیش کہتے ہیں: میری ملاقات سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے ہوئی، میں نے ان سے کہا: میرے ساتھ بات چیت کیجئے؛ کیونکہ آپ سے ملاقات کرنا مجھے پسند ہے اور میں صرف آپ سے ملنے کے لیے آیا ہوں۔ آپ مجھے شبِ قدر کے بارے میں بتائیں؛ کیونکہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ تو یہ کہتے ہیں کہ جو شخص سال بھر نوافل ادا کرتا رہے وہی اسے پا سکتا ہے، تو سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: وہ یہ بات جانتے ہیں کہ یہ رمضان کے مہینے میں ہوتی ہے؛ لیکن وہ اس بات کو پسند کرتے ہیں کہ یہ تم سے مخفی رہے، یہ ستائیسویں رات ہوتی ہے جس کی ایک مخصوص نشانی ہے جس کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بتایا تھا اور ہم نے اسے محفوظ رکھا اور اسے جان لیا۔ زر بن حبیش نامی راوی سحری تک صومِ وصال رکھتے تھے، پھر ستائیسویں رات سے ایک دن پہلے یا ایک دن بعد کی بات ہے وہ منارے پر چڑھے؛ انہوں نے سورج کے نکلنے کا جائزہ لیا اور یہ کہا کہ یہ طلوع ہوا ہے لیکن اس کی شعاع نہیں تھی جب تک کہ یہ بلند نہیں ہو گیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصوم/حدیث: 3691]

3692

Sahih Ibn Hibban #3692

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عِيسَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنِي مَخْرَمَةُ بْنُ بُكَيْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : وَفْدُ اللَّهِ ثَلاثَةٌ : الْحَاجُّ ، وَالْمُعْتَمِرُ ، وَالْغَازِي """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”اللہ تعالیٰ کا وفد تین لوگ ہیں: حاجی، عمرہ کرنے والا شخص اور غازی (یعنی جہاد میں حصہ لینے والا شخص)۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3692]

3693

Sahih Ibn Hibban #3693

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّامِيُّ ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَيَّانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ قَيْسٍ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ شَقِيقٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : تَابِعُوا بَيْنَ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ ، فَإِنَّهُمَا يَنْفِيَانِ الْفَقْرَ وَالذُّنُوبَ ، كَمَا يَنْفِي الْكِيرُ خَبَثَ الْحَدِيدِ ، وَالذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ ، وَلَيْسَ لِلْحَجَّةِ الْمَبْرُورَةِ ثَوَابٌ دُونَ الْجَنَّةِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”حج عمرے یکے بعد دیگرے کرو، کیونکہ یہ دونوں غربت اور گناہوں کو ختم کر دیتے ہیں، یوں جیسے بھٹی لوہے، سونے اور چاندی کے کھوٹ کو ختم کر دیتی ہے اور مبرور حج کا ثواب جنت ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3693]

3694

Sahih Ibn Hibban #3694

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ مِسْعَرٍ ، وَسُفْيَانَ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ حَجِّ فَلَمْ يَرْفُثْ ، وَلَمْ يَفْسُقْ رَجَعَ كَمَا وَلَدَتْهُ أُمُّهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جو شخص حج کرے اور اس میں رفث اور فسق نہ کرے، تو جب وہ واپس آتا ہے، تو وہ یوں ہوتا ہے جیسے اس کی والدہ نے اسے جنم دیا تھا (یعنی وہ گناہوں سے مکمل طور پر پاک ہوتا ہے)۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3694]

3695

Sahih Ibn Hibban #3695

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، حَدَّثَنَا الْحَوْضِيُّ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ سُمَيًّا يُحَدِّثُ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : الْحِجَّةُ الْمَبْرُورَةُ لَيْسَ لَهَا ثَوَابٌ إِلا الْجَنَّةُ ، وَالْعُمْرَةُ إِلَى الْعُمْرَةِ تُكَفِّرُ مَا بَيْنَهُمَا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”مبرور حج کا ثواب جنت کے علاوہ کچھ اور نہیں ہے اور ایک عمرہ دوسرے عمرے تک کے درمیانی گناہوں کا کفارہ بن جاتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3695]

3696

Sahih Ibn Hibban #3696

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا حِبَّانُ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، وَمَالِكٍ ، عَنْ سُمَيٍّ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : الْعُمْرَةُ إِلَى الْعُمْرَةِ تُكَفِّرُ مَا بَيْنَهُمَا ، وَالْحَجُّ الْمَبْرُورُ لَيْسَ لَهُ جَزَاءٌ إِلا الْجَنَّةُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”ایک عمرے (کے بعد) دوسرا عمرہ درمیان میں ہونے والے گناہوں کا کفارہ بن جاتا ہے۔ مبرور حج کی جزاء صرف جنت ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3696]

3697

Sahih Ibn Hibban #3697

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : مَنْ طَافَ بِالْبَيْتِ أُسْبُوعًا لا يَضَعُ قَدَمًا ، وَلا يَرْفَعُ أُخْرَى ، إِلا حَطَّ اللَّهُ عَنْهُ بِهَا خَطِيئَةً ، وَكَتَبَ لَهُ بِهَا حَسَنَةً ، وَرَفَعَ لَهُ بِهَا دَرَجَةً """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جو شخص بیت اللہ کا سات مرتبہ طواف کرتا ہے، وہ جو بھی قدم رکھتا ہے اور جو بھی قدم اٹھاتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کی وجہ سے اس کا گناہ معاف فرماتا ہے، اس کی وجہ سے اس کی نیکی لکھتا ہے اور اس کی وجہ سے اس کا درجہ بلند فرماتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3697]

3698

Sahih Ibn Hibban #3698

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ بْنِ عَامِرِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ النُّعْمَانِ بْنِ عَطَاءٍ الشَّيْبَانِيُّ أَبُو الْعَبَّاسِ ، حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلانَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : مَسْحُ الْحَجَرِ وَالرُّكْنِ الْيَمَانِيِّ يَحُطُّ الْخَطَايَا حَطًّا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”حجر اسود اور رکن یمانی پر ہاتھ پھیرنا گناہوں کو ختم کر دیتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3698]

3699

Sahih Ibn Hibban #3699

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ الصُّوفِيُّ بِبَغْدَادَ ، حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْمَاعِيلَ الْمُؤَدِّبُ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ عَطَاءٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : جَاءَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَتْ : حَجَّ أَبُو طَلْحَةَ وَابْنُهُ وَتَرَكَانِي ، فَقَالَ : يَا أُمَّ سُلَيْمٍعُمْرَةٌ فِي رَمَضَانَ تَعْدِلُ حَجَّةً """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں، انہوں نے عرض کی: سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ اور ان کے صاحب زادے حج پر چلے گئے ہیں اور وہ مجھے چھوڑ گئے ہیں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اے ام سلیم! رمضان میں عمرہ کرنا حج کرنے کے برابر ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3699]

3700

Sahih Ibn Hibban #3700

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عِيسَى بْنِ السَّكَنِ بِوَاسِطٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُسْتَامٍ ، حَدَّثَنَا مَخْلَدُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَطَاءً يُحَدِّثُ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : عُمْرَةٌ فِي رَمَضَانَ تَعْدِلُ حَجَّةً """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”رمضان میں عمرہ کرنا حج کرنے کے برابر ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3700]

3701

Sahih Ibn Hibban #3701

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ سُحَيْمٍ مَوْلَى آلِ حُنَيْنٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي سُفْيَانَ الأَخْنَسِيِّ ، عَنْ أُمِّهِ أُمِّ حَكِيمٍ بِنْتِ أَبِي أُمَيَّةَ بْنِ الأَخْنَسِ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : مَنْ أَهَلَّ مِنَ الْمَسْجِدِ الأَقْصَى بِعُمْرَةٍ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ "، قَالَ : فَرَكِبَتْ أُمُّ حَكِيمٍ إِلَى بَيْتِ الْمَقْدِسِ حَتَّى أَهَلَّتْ مِنْهُ بِعُمْرَةٍ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جو شخص مسجد اقصیٰ سے عمرے کا احرام باندھتا ہے، اس کے گزشتہ گناہوں کی مغفرت ہو جاتی ہے۔“ راوی بیان کرتے ہیں کہ اس روایت کی راوی خاتون سیدہ ام حکیم رضی اللہ عنہا بیت المقدس تشریف لے گئی تھیں اور انہوں نے وہاں سے عمرے کا احرام باندھا تھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3701]

3702

Sahih Ibn Hibban #3702

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي عَمْرَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ بِنْتِ طَلْحَةَ ، قَالَتْ : أَخْبَرَتْنِي عَائِشَةُ أُمُّ الْمُؤْمِنِينَ أَنَّهَا ، قَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَلا نُخْرِجُ وَنُجَاهِدُ مَعَكَ ، فَإِنِّي لا أَرَى عَمَلا فِي الْقُرْآنِ أَفْضَلَ مِنَ الْجِهَادِ ، قَالَ : لا ، إِنَّلَكُنَّ أَحْسَنَ الْجِهَادِ ، حَجُّ الْبَيْتِ حَجٌّ مَبْرُورٌ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا ہم بھی آپ کے ہمراہ نکلا نہ کریں اور جہاد میں حصہ نہ لیا کریں؟ کیونکہ میری رائے کے مطابق قرآن میں سب سے افضل عمل جہاد ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، بلکہ سب سے بہترین جہاد بیت اللہ کا حج ہے، ایسا حج جو «مَبْرُورٌ» ”مقبول“ ہو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3702]

3703

Sahih Ibn Hibban #3703

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ خَلِيفَةَ ، عَنِ الْعَلاءِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : قَالَ اللَّهُ : إِنَّعَبْدًا صَحَّحْتُ لَهُ جِسْمَهُ ، وَوَسَّعْتُ عَلَيْهِ فِي الْمَعِيشَةِ يَمْضِي عَلَيْهِ خَمْسَةُ أَعْوَامٍ لا يَفِدُ إِلَيَّ لَمَحْرُومٌ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: جب میں بندے کے جسم کو تندرست رکھوں اور میں اسے کشادگی عطا کروں اور پھر اس پر پانچ سال گزر جائیں اور وہ میری طرف نہ آئے، تو وہ محروم ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3703]

3704

Sahih Ibn Hibban #3704

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ فُضَيْلِ بْنِ عِيَاضٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ السَّرِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ مُسْلِمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ زِيَادٍ ، وَيُوسُفُ بْنُ سَعْدٍ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ذَكَرَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطَبَ ، فَقَالَ : يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، إِنَّاللَّهَ افْتَرَضَ عَلَيْكُمُ الْحَجَّ " ، فَقَامَ رَجُلٌ ، فَقَالَ : أَكُلُّ عَامٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ ، قَالَ : فَسَكَتَّ عَنْهُ حَتَّى أَعَادَهَا ثَلاثَ مَرَّاتٍ ، قَالَ : " لَوْ قُلْتُ : نَعَمْ ، لَوَجَبَتْ ، وَلَوْ وَجَبَتْ مَا قُمْتُمْ بِهَا ، ذَرُونِي مَا تَرَكْتُكُمْ ، فَإِنَّمَا هَلَكَ الَّذِينَ قَبْلَكُمْ بِكَثْرَةِ سُؤَالِهِمْ ، وَاخْتِلافِهِمْ عَلَى أَنْبِيَائِهِمْ ، فَإِذَا نَهَيْتُكُمْ عَنْ شَيْءِ فَاجْتَنِبُوهُ ، وَإِذَا أَمَرْتُكُمْ بِشَيْءٍ ، فَأْتُوا مِنْهُ مَا اسْتَطَعْتُمْ "، وَذَكَرَ أَنَّ هَذِهِ الآيَةَ الَّتِي فِي الْمَائِدَةِ نَزَلَتْ فِي ذَلِك يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تَسْأَلُوا عَنْ أَشْيَاءَ إِنْ تُبْدَ لَكُمْ تَسُؤْكُم سورة المائدة آية 101 ْ "

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: ”اے لوگو! بے شک اللہ تعالیٰ نے تم پر حج کو فرض قرار دیا ہے۔“ ایک شخص کھڑا ہوا، اس نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا ہر سال؟ راوی کہتے ہیں: تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کوئی جواب نہیں دیا، یہاں تک کہ اس شخص نے تین مرتبہ اپنا سوال دہرایا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر میں ہاں کہہ دیتا، تو یہ لازم ہو جاتا اور اگر یہ لازم ہو جاتا، تو تم اسے ادا نہیں کر پاتے۔ جن معاملات کے بارے میں میں تمہیں بتاتا نہیں ہوں، تم ان معاملات میں مجھے رہنے دیا کرو، کیونکہ تم سے پہلے کے لوگ اپنے انبیاء سے بکثرت (غیر ضروری) سوالات کرنے اور ان سے اختلاف رکھنے کی وجہ سے ہلاکت کا شکار ہوئے تھے؛ جب میں تم لوگوں کو کسی چیز سے منع کروں، تو اس سے اجتناب کرو اور جب میں تمہیں کسی بات کا حکم دوں، تو جہاں تک تم سے ہو سکے اس پر عمل کرو۔“ انہوں نے یہ بات بھی ذکر کی کہ سورۃ مائدہ میں موجودہ آیت اس بارے میں نازل ہوئی تھی: ﴿اے ایمان والو! ایسی چیزوں کے بارے میں دریافت نہ کرو کہ اگر انہیں تمہارے سامنے ظاہر کر دیا جائے، تو تمہیں برا لگے﴾ [سورة المائدة: 101] ۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3704]

3705

Sahih Ibn Hibban #3705

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ مُسْلِمٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ زِيَادٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : خَطَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّاسَ ، فَقَالَ يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، إِنَّاللَّهَ فَرَضَ عَلَيْكُمُ الْحَجَّ " ، فَقَامَ رَجُلٌ ، فَقَالَ : أَوَفِي كُلِّ عَامٍ ؟ حَتَّى قَالَ ذَلِكَ ثَلاثَ مَرَّاتٍ ، وَرَسُولُ اللَّهِ يَعْرِضُ عَنْهُ ، ثُمَّ قَالَ : " لَوْ قُلْتُ : نَعَمْ ، لَوَجَبَتْ ، وَلَوْ وَجَبَتْ لَمَا قُمْتُمْ بِهِ " ، ثُمَّ قَالَ : " ذَرُونِي مَا تَرَكْتُكُمْ ، فَإِنَّمَا هَلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ بِسُؤَالِهِمْ ، وَاخْتِلافِهِمْ عَلَى أَنْبِيَائِهِمْ ، فَمَا أَمَرْتُكُمْ مِنْ شَيْءٍ ، فَأْتُوا مِنْهُ مَا اسْتَطَعْتُمْ ، وَمَا نَهَيْتُكُمْ مِنْ شَيْءٍ فَاجْتَنِبُوهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: ”اے لوگو! بے شک اللہ تعالیٰ نے تم پر حج کو فرض قرار دیا ہے۔“ ایک صاحب کھڑے ہوئے انہوں نے عرض کی: کیا ہر سال میں؟ یہاں تک کہ انہوں نے تین مرتبہ یہ سوال کیا، لیکن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے اعراض کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اگر میں ہاں کہہ دیتا، تو یہ لازم ہو جاتا اور اگر یہ لازم ہو جاتا، تو تم اسے ادا نہیں کر پاتے۔“ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جن معاملات میں، میں تمہیں ترک کر دیتا ہوں تم ان میں مجھے رہنے دو، کیونکہ تم سے پہلے کے لوگ اپنے انبیاء سے (غیر ضروری) سوالات کرنے اور اختلاف رکھنے کی وجہ سے ہلاکت کا شکار ہوئے تھے؛ میں تمہیں جس چیز کے بارے میں حکم دوں، جہاں تک تم سے ہو سکے اسے بجا لاؤ اور جب میں تمہیں کسی چیز سے منع کر دوں، تو تم اس سے اجتناب کرو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3705]

3706

Sahih Ibn Hibban #3706

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْمُسَيَّبِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نَافِعٍ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا حَجَّ بِنِسَائِهِ ، قَالَ : إِنَّمَاهِيَ هَذِهِ الْحِجَّةُ ، ثُمَّ عَلَيْكُمْ بِظُهُورِ الْحُصُرِ "، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : خِطَابُ هَذَا الْخَبَرِ وَقَعَ عَلَى بَعْضِ النِّسَاءِ ، أَرَادَ بِهِ نِسَاءَهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَالْقَصْدُ فِيهِ بَعْضُ الأَحْوَالِ ، وَهُوَ الْحَالُ الَّذِي لا يَكُونُ عَلَيْهِنَّ إِقَامَةُ الْفَرَائِضِ فِيهِ كَالصَّلاةِ ، وَالْحَجِّ ، وَمَا أَشْبَهَهُمَا"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ازواج کے ہمراہ حج کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”بے شک یہ حج ہے اور پھر تم پر گھر میں رہنا لازم ہے“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں): اس روایت کے الفاظ بعض خواتین کے لیے استعمال ہوئے ہیں اور اس سے مراد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج ہیں اور اس میں قصد بعض حالتوں کا کیا گیا ہے، اور یہ وہ حالت ہے کہ جب ان خواتین پر اس حالت کے دوران فرائض کو قائم کرنا لازم نہیں تھا جیسے نماز ادا کرنا اور اس جیسے دیگر امور۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3706]

3707

Sahih Ibn Hibban #3707

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الرَّمَادِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ فِي قَوْلِهِ بَرَاءَةٌ مِنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ : لَمَّا قَفَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ حُنَيْنٍ ، اعْتَمَرَ مِنَ الْجِعْرَانَةِ ، ثُمَّ أَمَّرَ أَبَا بَكْرٍ عَلَى تِلْكَ الْحِجَّةِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿بَرَاءَةٌ مِّنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ﴾ [سورة التوبة: 1] ”اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی طرف سے اظہارِ لاتعلقی ہے“ کے بارے میں نقل کرتے ہیں، سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حنین سے واپس تشریف لائے، تو آپ نے ”جعرانہ“ سے عمرہ کیا تھا، پھر آپ نے اس حج کے موقع پر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو امیر مقرر کیا تھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3707]

3708

Sahih Ibn Hibban #3708

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ بْنِ زِيَادِ بْنِ الطُّفَيْلِ اللَّخْمِيُّ أَبُو الْعَبَّاسِ بِعَسْقَلانَ ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ عَقِيلٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَخْبَرَهُ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَدِيِّ بْنِ حَمْرَاءَ الزُّهْرِيَّ ، قَالَ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى رَاحِلَتِهِ وَاقِفًا بِالْحَزْوَرَةِ ، يَقُولُ : وَاللَّهِإِنَّكِ لَخَيْرُ أَرْضِ اللَّهِ ، وَأَحَبُّ أَرْضِ اللَّهِ إِلَى اللَّهِ ، وَلَوْلا أَنِّي أُخْرِجْتُ مِنْكِ مَا خَرَجْتُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عدی زہری رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، آپ اپنی سواری پر حزورہ کے مقام پر وقوف کیے ہوئے تھے اور یہ فرما رہے تھے: ”(اے مکہ) اللہ کی قسم! بے شک تو اللہ کی سرزمین میں سب سے بہتر (حصہ) ہے اور تو اللہ تعالیٰ کے نزدیک اللہ کی زمین میں سے سب سے پسندیدہ (جگہ ہے)، اگر مجھے تجھ سے نکالا نہ گیا ہوتا، تو میں تجھ سے نہ نکلتا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3708]

3709

Sahih Ibn Hibban #3709

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ الشَّيْبَانِيُّ ، حَدَّثَنَا فُضَيْلُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْجَحْدَرِيُّ ، حَدَّثَنَا فُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ خُثَيْمٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، وَأَبِي الطُّفَيْل عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَا أَطْيَبَكِ مِنْ بَلْدَةٍ وَأَحَبَّكِ إِلَيَّ ، وَلَوْلا أَنَّ قَوْمِي أَخْرَجُونِي مِنْكِ ، مَا سَكَنْتُ غَيْرَكِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”(اے مکہ) تو کتنا پاکیزہ شہر ہے؟ اور مجھے کتنا محبوب ہے؟ اگر میری قوم نے مجھے تجھ سے نکالا نہ ہوتا، تو میں تیرے علاوہ اور کہیں رہائش اختیار نہ کرتا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3709]

3710

Sahih Ibn Hibban #3710

أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بِسْطَامٍ بِالْبَصْرَةَ ، حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا رَجَاءُ بْنُ صُبَيْحٍ الْحَرَشِيُّ ، حَدَّثَنَا مُسَافِعُ بْنُ شَيْبَةَ الْحَجَبِيُّ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ وَهُوَ مُسْنِدٌ ظَهْرَهُ إِلَى الْكَعْبَةِ : الرُّكْنُ وَالْمَقَامُ يَاقُوتَتَانِ مَنْ يَوَاقِيتِ الْجَنَّةِ ، وَلَوْلا أَنَّ اللَّهَ طَمَسَ عَلَى نُورِهِمَا لأَضَاءَتَا مَا بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا، آپ نے اپنی پشت خانہ کعبہ کے ساتھ لگائی ہوئی تھی: ”حجر اسود اور مقام ابراہیم دونوں جنت کے یواقیت میں سے یاقوت ہیں، اگر اللہ تعالیٰ نے ان کے نور پر پردہ نہ ڈالا ہوتا، تو یہ مشرق اور مغرب کے درمیان کی جگہ کو روشن کر دیتے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3710]

3711

Sahih Ibn Hibban #3711

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى بِالْمَوْصِلِ ، حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا ثَابِتُ أَبُو زَيْدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّلِهَذَا الْحَجَرِ لِسَانًا وَشَفَتَيْنِ يَشْهَدُ لِمَنِ اسْتَلَمَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِحَقٍّ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”(قیامت کے دن) اس حجر اسود کی ایک زبان اور دو ہونٹ ہوں گے اور یہ قیامت کے دن ہر اس شخص کے بارے میں حق کے ہمراہ گواہی دے گا، جس نے اس کا استلام کیا تھا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3711]

3712

Sahih Ibn Hibban #3712

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا الْفُضَيْلُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْجَحْدَرِيُّ ، حَدَّثَنَا فُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ خُثَيْمٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَيَبْعَثَنَّ اللَّهُ هَذَا الرُّكْنَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ لَهُ عَيْنَانِ يُبْصِرُ بِهِمَا ، وَلِسَانٌ يَنْطِقُ بِهِ يَشْهَدُ لِمَنِ اسْتَلَمَهُ بِحَقٍّ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس حجر اسود کو ضرور ایسی حالت میں اٹھائے گا کہ اس کی دو آنکھیں ہوں گی، جن کی مدد سے وہ دیکھتا ہوگا اور ایک زبان ہوگی، جس کی مدد سے وہ کلام کرتا ہوگا اور یہ ہر اس شخص کے بارے میں حق کے ہمراہ گواہی دے گا، جس نے اس کا استلام کیا تھا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3712]

3713

Sahih Ibn Hibban #3713

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ الْبُخَارِيُّ بِبَغْدَادَ ، حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ ، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ : سَمِعْتُ أَيُّوبَ يُحَدِّثُ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : إِنَّجِبْرِيلَ حِينَ رَكَضَ زَمْزَمَ بِعَقِبِهِ جَعَلَتْ أُمُّ إِسْمَاعِيلَ تَجْمَعُ الْبَطْحَاءَ " ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " رَحِمَ اللَّهُ هَاجَرَ ، لَوْ تَرَكَتْهَا كَانَتْ عَيْنًا مَعِينًا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما، سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جب جبرائیل علیہ السلام نے زمزم کے مقام پر اپنی ایڑی ماری، تو سیدنا اسماعیل علیہ السلام کی والدہ نے مٹی کو اکٹھا کرنا شروع کیا (تاکہ پانی کے گرد آڑ بنا لیں)۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: «يَرْحَمُ اللَّهُ أُمَّ إِسْمَاعِيلَ» ”اللہ تعالیٰ ہاجرہ رضی اللہ عنہا پر رحم فرمائے، اگر وہ اسے ایسے ہی رہنے دیتیں، تو یہ ایک بہتا ہوا بڑا چشمہ ہوتا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3713]

3714

Sahih Ibn Hibban #3714

أَخْبَرَنَا أَبُو عَرُوبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَعْيَنَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مَعْقِلُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ الْجَزَرِيُّ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : لا يَحِلُّ لأَحَدٍ أَنْ يَحْمِلَ السِّلاحَ بِمَكَّةَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”کسی بھی شخص کے لیے یہ بات جائز نہیں ہے کہ وہ مکہ میں ہتھیار اٹھائے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3714]

3715

Sahih Ibn Hibban #3715

أَخْبَرَنَا ابْنُ سَلْمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي الْوَلِيدُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : لَمَّا فَتْحَ اللَّهُ جَلَّ وَعَلا عَلَى رَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ ، قَتَلَتْ هُذَيْلُ رَجُلا مِنْ بَنِي لَيْثٍ بِقَتِيلٍ كَانَ لَهُمْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ ، فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَامَ ، فَقَالَ : إِنَّاللَّهَ جَلَّ وَعَلا حَبَسَ الْفِيلَ عَنْ مَكَّةَ ، وَسَلَّطَ عَلَيْهَا رَسُولَهُ وَالْمُؤْمِنِينَ ، وَإِنَّهَا لا تَحِلُّ لأَحَدٍ كَانَ قَبْلِي ، وَلا تَحِلُّ لأَحَدٍ بَعْدِي ، وَإِنَّمَا أُحِلَّتْ لِي سَاعَةً مِنْ نَهَارٍ ، وَإِنَّهَا سَاعَتِي هَذِهِ ، ثُمَّ هِيَ حَرَامٌ ، لا يُعْضَدُ شَجَرُهَا ، وَلا يُخْتَلَى شَوْكُهَا ، وَلا يُلْتَقَطُ سَاقِطُهَا إِلا لِمُنْشِدٍ ، وَمَنْ قُتِلَ لَهُ قَتِيلٌ ، فَهُوَ بِخَيْرِ النَّظَرَيْنِ ، إِمَّا أَنْ يَقْتُلَ ، وَإِمَّا أَنْ يَفْدِيَ " ، فَقَامَ رَجُلٌ مِنَ الْيَمَنِ يُقَالُ لَهُ : أَبُو شَاهٍ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، اكْتُبُوا لِي ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اكْتُبُوا لأَبِي شَاهٍ " ، ثُمَّ قَامَ الْعَبَّاسُ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِلا الإِذْخِرَ ، فَإِنَّا نَجْعَلُهُ فِي قُبُورِنَا ، وَفِي بُيُوتِنَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِلا الإِذْخِرَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کے لیے مکہ کو فتح کر دیا، تو ہذیل نے بنولیث سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کو اپنے ایک مقتول کے عوض میں قتل کر دیا، یہ زمانہ جاہلیت کا معاملہ تھا، اس بات کی اطلاع نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ملی۔ آپ کھڑے ہوئے اور آپ نے ارشاد فرمایا: ”بے شک اللہ تعالیٰ نے ہاتھیوں کو مکہ تک نہیں پہنچنے دیا، لیکن اس نے اپنے رسول اور اہل ایمان کو اس پر غلبہ عطا کیا، مجھ سے پہلے کسی بھی شخص کے لیے یہ حلال نہیں ہوا تھا اور میرے بعد بھی یہ کسی کے لیے حلال نہیں ہو گا، میرے لیے بھی دن کے ایک مخصوص حصے میں اسے حلال قرار دیا گیا اور یہ اب اس گھڑی کے بعد قابل احترام ہے، یہاں کے درخت کو کاٹا نہیں جائے گا، یہاں کے کانٹے کو توڑا نہیں جائے گا، یہاں کی گری ہوئی چیز کو اٹھایا نہیں جائے گا، البتہ اعلان کرنے کے لیے اٹھایا جا سکتا ہے، جس شخص کا کوئی عزیز قتل ہوا ہو، اسے دو باتوں میں سے ایک بات کا اختیار ہو گا، یا تو وہ (قاتل کو) قتل کر دے یا پھر فدیہ وصول کر لے۔“ (راوی بیان کرتے ہیں:) یمن سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب کھڑے ہوئے جن کا نام ابوشاہ تھا۔ انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! آپ یہ مجھے لکھوا دیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابوشاہ کو لکھ کر دے دو۔“ پھر سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے، انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! صرف «الْإِذْخِرُ» ”اذخر“ (کاٹنے کی اجازت دیں)، کیونکہ ہم اسے قبرستان میں استعمال کرتے ہیں اور گھروں میں بھی استعمال کرتے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «الْإِذْخِرُ» ”اذخر“ (کا حکم مختلف ہے یعنی اسے کاٹنے کی اجازت ہے)۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3715]

3716

Sahih Ibn Hibban #3716

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ الْقَطَّانُ بِالرَّقَّةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَكِيمُ بْنُ سَيْفٍ الرَّقِّيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيُّ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَلِيًّا ، يَقُولُ : مَا عِنْدَنَا كِتَابٌ نَقْرَؤُهُ إِلا كِتَابَ اللَّهِ ، وَصَحِيفَةً فِي قِرَابِ سَيْفِي ، فَقَرَأَهَا عَلَيْنَا ، فَإِذَا فِيهَا شَيْءٌ مِنْ أَسْنَانِ الإِبِلِ وَالْجِرَاحَاتِ ، وَإِذَا فِيهَا مَنْ وَالَى قَوْمًا بِغَيْرِ إِذَنِ مَوَالِيهِ ، فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ ، وَمَلائِكَتِهِ ، وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ ، لا يَقْبَلُ اللَّهُ مِنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ صَرْفًا ، وَلا عَدْلا ، ذِمَّةُ الْمُسْلِمِينَ وَاحِدَةٌ ، يَسْعَى بِهَا أَدْنَاهُمْ ، فَمَنْ أَخْفَرَ مُسْلِمًا ، فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ ، وَالْمَلائِكَةِ ، وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ ، وَلا يُقْبَلُ مِنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ صَرْفٌ ، وَلا عَدْلٌ ، وَالْمَدِينَةُ حَرَامٌ مَا بَيْنَ لابَتَيْهَا ، فَمَنْ أَحْدَثَ فِيهَا حَدَثًا ، أَوْ آوَى مُحْدِثًا ، فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ ، وَالْمَلائِكَةِ ، وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ ، لا يُقْبَلُ مِنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ صَرْفٌ وَلا عَدْلٌ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہمارے پاس کوئی ایسی کتاب نہیں ہے جس کو ہم پڑھتے ہوں، صرف اللہ کی کتاب ہے یا ایک صحیفہ ہے جو میری تلوار کی میان میں ہے، پھر انہوں نے اس صحیفے کو ہمارے سامنے پڑھا، اس میں اونٹوں کی دیت کے حوالے سے اور زخموں کی دیت کے حوالے سے کچھ احکام تھے اور اس میں ایک یہ بات موجود تھی: ”جو (آزاد شدہ غلام) اپنے آقا کی بجائے کسی اور کی طرف خود کو منسوب کرے، اس پر اللہ تعالیٰ، اس کے فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہو، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن ایسے شخص کی کوئی بھی فرض یا نفل عبادت قبول نہیں کرے گا۔ تمام مسلمانوں کی دی ہوئی پناہ ایک جیسی حیثیت رکھتی ہے، ان کا عام فرد بھی اسے پورا کرنے کی کوشش کرے گا اور جو کوئی شخص کسی مسلمان کو رسوا کرے گا، تو اس پر اللہ تعالیٰ، فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہو گی، ایسے شخص کی قیامت کے دن کوئی فرض یا نفل عبادت قبول نہیں ہو گی اور مدینہ منورہ اپنے دونوں کناروں کے درمیان پورے کا پورا قابلِ احترام ہے، جو شخص یہاں بدعت ایجاد کرے یا بدعتی کو پناہ دے، تو اس پر اللہ تعالیٰ، فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہو، ایسے شخص سے قیامت کے دن کوئی فرض یا نفل عبادت قبول نہیں کی جائے گی۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3716]

3717

Sahih Ibn Hibban #3717

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيُّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَلِيٍّ ، ثُمّ قَالَ : مَا كَتَبْنَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلا الْقُرْآنَ ، وَمَا فِي هَذِهِ الصَّحِيفَةِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : الْمَدِينَةُ حَرَامٌ مَا بَيْنَ عِيرٍ إِلَى ثَوْرٍ ، فَمَنْ أَحْدَثَ حَدَثًا فِيهَا ، أَوْ آوَى مُحْدِثًا فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ ، وَالْمَلائِكَةِ ، وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ ، لا يُقْبَلُ مِنْهُ صَرْفٌ وَلا عَدْلٌ ، ذِمَّةُ الْمُسْلِمِينَ وَاحِدَةٌ يَسْعَى بِهَا أَدْنَاهُمْ فَمَنْ أَخْفَرَ مُسْلِمًا ، فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ ، وَالْمَلائِكَةِ ، وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ ، لا يُقْبَلُ مِنْهُ صَرْفٌ وَلا عَدْلٌ ، وَمَنْ وَالَى قَوْمًا بِغَيْرِ إِذَنِ مَوَالِيهِ ، فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ ، وَالْمَلائِكَةِ ، وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے صرف قرآن کو نوٹ کیا ہے یا وہ احکام ہیں جو صحیفے میں ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”مدینہ عیر سے ثور تک حرم ہے، جو شخص یہاں کوئی بدعت ایجاد کرے یا بدعتی کو پناہ دے، تو اس پر اللہ تعالیٰ، فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہو، ایسے شخص کی کوئی فرض یا نفل عبادت قبول نہیں ہو گی۔ مسلمانوں کی دی ہوئی پناہ یکساں حیثیت رکھتی ہے، ان کا عام فرد بھی اسے پوری کرنے کی کوشش کرے گا، جو شخص کسی مسلمان کو رسوا کرے گا، اس پر اللہ تعالیٰ، فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہو گی، ایسے شخص کی کوئی فرض یا نفل عبادت قبول نہیں ہو گی اور جو شخص اپنے آقا کی بجائے خود کو کسی اور کی طرف منسوب کرے، اس پر اللہ تعالیٰ، فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہو گی۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3717]