Muslim99Muslim99

Sahih Ibn Hibban · Book 33 · Chapter 1

Book of Claims

Hadith 3638–3677

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

3638

Sahih Ibn Hibban #3638

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَحِيَى بْنِ زُهَيْرٍ ، بِتُسْتَرَ ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الُوَلِيدِ الْكَرْخِيُّ ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمُ بْنُ حَيَّانَ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مِينَاءٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو ، بَلَغَنِي أَنَّكَ تَصُومُ النَّهَارَ وَتَقُومُ اللَّيْلَ ، فَلا تَفْعَلْ ، فَإِنَّ لِجَسَدِكَ عَلَيْكَ حَقًّا ، وَإِنَّ لِنَفْسِكَ عَلَيْكَ حَقًّا ، صُمْ وَأَفْطِرْ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ ثَلاثَةَ أَيَّامٍ ، صَوْمُ الدَّهْرِ " ، قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي أَجِدُ قُوَّةً ، قَالَ :" صُمْ صَوْمَ دَاوُدَ ، صُمْ يَوْمًا وَأَفْطِرْ يَوْمًا "، قَالَ : وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو ، يَقُولُ : يَا لَيْتَنِي كُنْتُ أَخَذْتُ الرُّخْصَةَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اے عبداللہ بن عمرو! مجھے پتہ چلا ہے کہ تم روزانہ نفلی روزہ رکھ لیتے ہو اور رات بھر نفل پڑھتے رہتے ہو، تم ایسا نہ کرو، تمہارے جسم کا تم پر حق ہے، تمہاری جان کا تم پر حق ہے، تم (نفلی) روزہ رکھا بھی کرو اور چھوڑ بھی دیا کرو، تم ہر مہینے میں تین روزے رکھ لیا کرو، تو یہ ہمیشہ (یعنی پورا مہینہ) روزہ رکھنے کے مترادف ہو جائے گا۔“ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں قوت کو پاتا ہوں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر تم سیدنا داؤد علیہ السلام کے طریقے کے مطابق روزہ رکھو، تم ایک دن روزہ رکھا کرو اور ایک دن نہ رکھا کرو۔“ سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: کاش میں نے رخصت کو اختیار کر لیا ہوتا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصوم/حدیث: 3638]

3639

Sahih Ibn Hibban #3639

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا خَلْفُ بْنُ هِشَامٍ الْبَزَّارُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ غَيْلانَ بْنِ جَرِيرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْبَدٍ ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ ، أَنَّ رَجُلا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، كَيْفَ تَصُومُ ؟ قَالَ : فَغَضِبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ عُمَرُ ، قَالَ : رَضِينَا بِاللَّهِ رِبًا ، وَبِالإِسْلامِ دَيْنًا ، وَبِمُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَبِيًّا ، نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ غَضِبِ اللَّهِ وَغَضِبِ رَسُولِهِ ، وَجَعَلَ يُرَدِّدُهَا حَتَّى سَكَنَ مِنْ غَضِبِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ،كَيْفَ مَنْ يَصُومُ يَوْمَيْنِ وَيُفْطِرُ يَوْمًا ؟ قَالَ : وَيُطِيقُ ذَلِكَ أَحَدٌ ؟ " ، قَالَ : فَكَيْفَ مَنْ يَصُومُ يَوْمًا وَيُفْطِرُ يَوْمًا ؟ قَالَ : " ذَاكَ صَوْمُ أَخِي دَاوُدَ " ، قَالَ : فَكَيْفَ بِمَنْ يَصُومُ يَوْمًا وَيُفْطِرُ يَوْمَيْنِ ؟ قَالَ : " وَدِدْتُ أَنِّي طُوِّقْتُ ذَاكَ "، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : لَمْ يَكُنْ غَضَبُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَجْلِ مَسْأَلَةِ هَذَا السَّائِلِ عَنْ كَيْفِيَّةِ الصَّوْمِ ، وَإِنَّمَا كَانَ غَضَبُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لأَنَّ السَّائِلَ سَأَلَهُ ، قَالَ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ كَيْفَ تَصُومُ ؟ قَالَ : فَكَرِهَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتِخْبَارَهُ عَنْ كَيْفِيَّةِ صَوْمِهِ مَخَافَةَ أَنْ لَوَ أَخْبَرَهُ يَعْجِزُ عَنْ إِتِيَانِ مِثْلِهِ ، أَوْ خَشِيَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى السَّائِلِ وَأُمَّتِهِ جَمِيعًا أَنْ يَفْرِضَ عَلَيْهِمْ ذَلِكَ ، فَيَعْجِزُوا عَنْهُ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اس نے عرض کی: ”اے اللہ کے نبی! آپ کیسے روزہ رکھتے ہیں؟“ راوی کہتے ہیں: تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم غصے میں آ گئے، جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے یہ صورتحال دیکھی، تو انہوں نے عرض کی: «رَضِينَا بِاللَّهِ رَبًّا، وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا، وَبِمُحَمَّدٍ صلی اللہ علیہ وسلم نَبِيًّا، نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ غَضَبِ اللَّهِ وَغَضَبِ رَسُولِهِ» ”ہم اللہ تعالیٰ کے پروردگار ہونے، اسلام کے دین ہونے اور سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے نبی ہونے سے راضی ہیں (یعنی اس پر ایمان رکھتے ہیں) اور ہم اللہ کے غضب اور اس کے رسول کے غضب سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں۔“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ مسلسل یہ بات دہراتے رہے، یہاں تک کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا غصہ ختم ہوا۔ انہوں نے عرض کی: ”اے اللہ کے نبی! ایسے شخص کا کیا حکم ہو گا جو دو دن روزہ رکھتا ہے اور ایک دن روزہ نہیں رکھتا؟“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”کیا کوئی ایسا کر سکتا ہے؟“ انہوں نے دریافت کیا: ”ایسے شخص کا کیا حکم ہو گا جو ایک دن روزہ رکھتا ہے اور ایک دن روزہ نہیں رکھتا؟“ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ میرے بھائی سیدنا داؤد علیہ السلام کا روزہ رکھنے کا طریقہ ہے۔“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا: ”ایسے شخص کا کیا حکم ہو گا جو ایک دن روزہ رکھتا ہے اور دو دن روزہ نہیں رکھتا؟“ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری یہ خواہش ہے کہ مجھ میں اس کی طاقت ہو۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:): نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس سائل کے روزے کی کیفیت کے بارے میں دریافت کرنے کی وجہ سے غضب ناک نہیں ہوئے تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس بات پر غضب ناک ہوئے تھے کہ اس سائل نے آپ سے یہ سوال کیا تھا کہ ”اے اللہ کے نبی! آپ کیسے روزے رکھتے ہیں؟“ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس چیز کو ناپسند کیا کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے روزے کی کیفیت کے بارے میں دریافت کرے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ اندیشہ تھا کہ اگر آپ نے اس کو اس بارے میں بتا دیا تو وہ اس کی مانند روزہ نہیں رکھ سکے گا یا پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس سائل اور آپ کی اُمت کے بارے میں یہ اندیشہ تھا کہ کہیں یہ ان لوگوں پر لازم نہ ہو جائے اور وہ اسے ادا نہ کر پائیں گے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصوم/حدیث: 3639]

3640

Sahih Ibn Hibban #3640

أَخْبَرَنَا شَبَابُ بْنُ صَالِحٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا خَالِدٌ ، عَنْ خَالِدٍ ، عَنْ أَبِي قِلابَةَ ، عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ ، قَالَ : دَخَلْتُ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو فَحَدَّثَنَا ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَكَرَ لَهُ صَوْمِي ، فَدَخَلَ عَلَيَّ ، وَأَلْقَيْتُ وِسَادَةً مِنْ أَدَمٍ حَشُوُهَا لِيفٌ ، فَجَلَسَ عَلَى الأَرْضِ ، وَصَارَتِ الُوِسَادَةُ فِيمَا بَيْنِي وَبَيْنَهُ ، فَقَالَ : أَمَا يَكْفِيكَ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ ثَلاثٌ ؟ " ، قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " خَمْسٌ " ، قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " سَبْعٌ " ، قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " تِسْعٌ " ، قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " إِحْدَى عَشْرَةَ " ، قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ :" لا صَوْمَ فَوْقَ صَوْمِ دَاوُدَ ، شَطْرُ الدَّهْرِ صِيَامُ يَوْمٍ ، وَإِفْطَارُ يَوْمٍ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابوملیح بیان کرتے ہیں کہ میں سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کی خدمت میں حاضر ہوا، تو انہوں نے ہمیں یہ حدیث بیان کی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے میرے (نفلی) روزہ رکھنے کا ذکر کیا گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے، میں نے چمڑے کا بنا ہوا تکیہ پیش کیا جس میں پتے بھرے ہوئے تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم زمین پر تشریف فرما ہوئے اور وہ تکیہ میرے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”تمہارے لیے ہر مہینے میں تین روزے رکھنا کافی نہیں ہیں؟“ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! (مزید کی اجازت دیجئے) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پانچ۔“ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! (مزید کی اجازت دیجئے) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سات۔“ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! (مزید کی اجازت دیجئے) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نو۔“ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! (مزید کی اجازت دیجئے) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”گیارہ۔“ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! (مزید کی اجازت دیجئے) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سیدنا داؤد علیہ السلام کے روزہ رکھنے کے طریقے سے زیادہ روزہ نہیں رکھا جا سکتا جو نصف زمانہ ہو گا، ایک دن روزہ ہو گا اور ایک دن روزہ نہیں ہو گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصوم/حدیث: 3640]

3641

Sahih Ibn Hibban #3641

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي عَوْنٍ الرَّيَّانِيُّ ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ زِرٍّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَيَصُومُ مِنْ غُرَّةِ كُلِّ شَهْرٍ ثَلاثَةَ أَيَّامٍ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہر مہینے کے تین چمکدار دنوں میں (یعنی تیرہ، چودہ، پندرہ تاریخ کو) روزہ رکھا کرتے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصوم/حدیث: 3641]

3642

Sahih Ibn Hibban #3642

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفِيَانَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ الضَّرِيرُ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ غَيْلانَ بْنِ جَرِيرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْبَدٍ ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ ، أَنَّ أَعْرَابِيًّا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْصَوْمِ الدَّهْرِ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لا صَامَ وَلا أَفْطَرَ " أَوْ قَالَ : " لا أَفْطَرَ وَلا صَامَ " فَقَامَ غَيْرُهُ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَرَأَيْتَ رَجُلا يَصُومُ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ ثَلاثَةَ أَيَّامٍ ؟ قَالَ : " ذَاكَ صَوْمُ الدَّهْرِ " ، قَالَ : أَرَأَيْتَ رَجُلا يَصُومُ يَوْمَ الاثْنَيْنِ ؟ قَالَ : " ذَاكَ يَوْمٌ وُلِدْتُ فِيهِ ، وَيَوْمٌ أُنْزِلَ عَلَيَّ " ، قَالَ : أَرَأَيْتَ رَجُلا يَصُومُ يَوْمًا وَيُفْطِرُ يَوْمًا ؟ قَالَ : " ذَاكَ صَوْمُ أَخِي دَاوُدَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دیہاتی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہمیشہ روزہ رکھنے (یعنی روزانہ نفلی روزہ رکھنے) کے بارے میں دریافت کیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایسے شخص نے نہ روزہ رکھا اور نہ ہی روزہ چھوڑا (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) نہ اس نے روزہ چھوڑا اور نہ اس نے روزہ رکھا۔“ پھر ایک اور شخص کھڑا ہوا، اس نے عرض کی: یا رسول اللہ! ایسے شخص کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے جو ہر مہینے میں تین روزے رکھتا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ ہمیشہ (یعنی پورا مہینہ) نفلی روزہ رکھنے کے مترادف ہے۔“ اس شخص نے عرض کی: ایسے شخص کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے جو پیر کے دن روزہ رکھتا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ وہ دن ہے جس میں میری پیدائش ہوئی تھی اور اسی دن مجھ پر (قرآن یا وحی) نازل کیا گیا۔“ اس شخص نے عرض کی: ایسے شخص کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے جو ایک روزہ رکھتا ہے اور ایک دن روزہ نہیں رکھتا؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ میرے بھائی سیدنا داؤد علیہ السلام کا روزہ رکھنے کا طریقہ ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصوم/حدیث: 3642]

3643

Sahih Ibn Hibban #3643

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُعَافَى الْعَابِدُ ، بِصَيْدَا ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا يَحِيَى بْنُ حَمْزَةَ ، حَدَّثَنَا ثَوْرُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ ، حَدَّثَنَا رَبِيعَةُ بْنُ الْغَازِ ، أَنَّهُ سَأَلَ عَائِشَةَ عَنْ صِيَامِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَتْ : كَانَيَصُومُ شَعْبَانَ كُلَّهُ حَتَّى يَصِلَهُ بِرَمَضَانَ ، وَكَانَ يَتَحَرَّى صِيَامَ الإِثْنَيْنِ وَالْخَمِيسِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ربیعہ بن غاز بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے (نفلی) روزہ رکھنے کے بارے میں دریافت کیا، تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بتایا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم شعبان کا تقریباً پورا مہینہ ہی (نفلی) روزے رکھتے تھے، یہاں تک کہ آپ اسے رمضان کے ساتھ ملا دیتے تھے، البتہ آپ اہتمام کے ساتھ پیر اور جمعرات کے دن روزہ رکھا کرتے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصوم/حدیث: 3643]

3644

Sahih Ibn Hibban #3644

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى التَّمِيمِيُّ ، بِالْمَوْصِلِ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَرْعَرَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : تُفْتَحُ أَبُوَابُ الْجَنَّةِ كُلَّ اثْنَيْنِ وَخَمِيسٍ ، وَتُعْرَضُ الأَعْمَالُ فِي كُلِّ اثْنَيْنِ وَخَمِيسٍ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”ہر پیر اور جمعرات کے دن جنت کے دروازے کھولے جاتے ہیں اور ہر پیر اور جمعرات کے دن (لوگوں کے) اعمال (اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں) پیش کیے جاتے ہیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصوم/حدیث: 3644]

3645

Sahih Ibn Hibban #3645

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ النَّضْرِ الْخُلْقَانِيُّ ، بِمَرُوَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبِيَ ، يَقُولُ : أَخْبَرَنَا أَبُو حَمْزَةَ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ زِرٍّ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَيَصُومُ مِنْ غُرَّةِ كُلِّ شَهْرٍ ثَلاثَةَ أَيَّامٍ ، وَقَلَمَا يُفْطِرُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہر مہینے کے چمکدار دنوں میں تین روزے رکھا کرتے تھے اور بہت کم ایسا ہوتا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن روزہ نہیں رکھتے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصوم/حدیث: 3645]

3646

Sahih Ibn Hibban #3646

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفِيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حِبَّانُ بْنُ مُوسَى ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُمَرَ بْنِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ كُرَيْبٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : أَرْسَلَنِي ابْنُ عَبَّاسٍ وَنَاسٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنْ أَسْأَلَهَا : أَيُّ الأَيَّامِ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكْثَرُهَا صَوْمًا ؟ فَقَالَتْ : يَوْمُ السَّبْتِ وَيَوْمُ الأَحَدِ ، فَأَتَيْتُهُمْ فَأَخْبَرْتُهُمْ ، فَأَنْكَرُوا ذَلِكَ عَلَيَّ ، فَظُنُّوا أَنِّي لَمْ أَحْفَظْ فَرَدُّونِي ، فَقَالَتْ مِثْلَ ذَلِكَ ، فَأَخْبَرْتُهُمْ ، فَقَامُوا بِأَجْمَعِهِمْ ، فَقَالُوا : إِنَّا أَرْسَلْنَا إِلَيْكِ فِي كَذَا وَكَذَا ، فَزَعَمَ أَنَّكِ قُلْتِ كَذَا وَكَذَا ، فَقَالَتْ : صَدَقَ ، كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَيَصُومُ يَوْمَ السَّبْتِ وَيَوْمَ الأَحَدِ أَكْثَرَ مَا كَانَ يَصُومُ مِنَ الأَيَّامِ ، وَيَقُولُ : إِنَّهُمَا عِيدَانِ لِلْمُشْرِكِينَ ، فَأُحِبُّ أَنْ أُخَالِفَهُمُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

کریب بیان کرتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے چند دیگر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں بھیجا، تاکہ میں ان سے یہ دریافت کروں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم زیادہ تر کون سے دن میں روزہ رکھتے تھے، تو سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے بتایا: ہفتہ کے دن اور اتوار کے دن۔ میں ان لوگوں کے پاس واپس آیا اور انہیں اس بارے میں بتایا، تو انہوں نے میری اس بات کو تسلیم نہیں کیا۔ انہوں نے یہ گمان کیا کہ شاید میں نے بات کو صحیح طرح سے یاد نہیں رکھا۔ انہوں نے دوبارہ مجھے بھیجا، تو سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے اسی کی مانند جواب دیا۔ میں نے ان لوگوں کو آ کر بتایا، تو وہ سب لوگ خود اٹھے اور (سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئے) انہوں نے بتایا: ہم نے اس مسئلے کے بارے میں (اس شخص کو) آپ کی خدمت میں بھیجا تھا اس نے یہ بات بیان کی ہے کہ آپ نے یہ جواب دیا ہے، تو سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: اس نے ٹھیک کہا ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم زیادہ تر ہفتے کے دن اور اتوار کے دن روزہ رکھا کرتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ فرماتے تھے: ”یہ دونوں مشرکین کے عید کے دن ہیں (وہ ان دنوں میں کھاتے پیتے ہیں) تو میں یہ چاہتا ہوں کہ میں ان کے برخلاف کروں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصوم/حدیث: 3646]

3647

Sahih Ibn Hibban #3647

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ السَّخْتِيَانِيُّ ، بِجُرْجَانَ ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، قَالَ : سَأَلْتُ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ عَائِشَةَ ، قُلْتُ : يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ ، كَيْفَ كَانَ عَمَلُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، كَانَ يَخُصُّ شَيْئًا مِنَ الأَيَّامِ ؟ قَالَتْ : لا ، كَانَعَمَلُهُ دِيمَةً ، وَأَيُّكُمْ يَسْتَطِيعُ مَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَطِيعُ ؟ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

علقمہ بیان کرتے ہیں: میں نے اُم المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے دریافت کیا، میں نے کہا: اے اُم المؤمنین! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل کس طرح کا ہوتا تھا؟ کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کسی دن کو خاص کر لیتے تھے؟ انہوں نے جواب دیا: نہیں! بلکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل باقاعدگی سے ہوتا تھا اور تم میں سے کون شخص اس کی استطاعت رکھتا ہے جس کی استطاعت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رکھتے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصوم/حدیث: 3647]

3648

Sahih Ibn Hibban #3648

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانَ ، أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ مَوْلَى عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَيَصُومُ حَتَّى نَقُولَ لا يُفْطِرُ ، وَيُفْطِرُ حَتَّى نَقُولَ لا يَصُومُ ، وَمَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَكْمَلَ صِيَامَ شَهْرٍ قَطُّ إِلا رَمَضَانَ ، وَمَا رَأَيْتُهُ أَكْثَرَ صِيَامًا مِنْهُ فِي شَعْبَانَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم (نفلی) روزے رکھا کرتے تھے، یہاں تک کہ ہم یہ سوچتے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کوئی نفلی روزہ ترک نہیں کریں گے، اور بعض اوقات آپ صلی اللہ علیہ وسلم نفلی روزہ رکھنا چھوڑ دیتے تھے، یہاں تک کہ ہم یہ سوچتے تھے کہ اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کوئی نفلی روزہ نہیں رکھیں گے۔ میں نے رمضان کے علاوہ اور کسی بھی مہینے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو شعبان سے زیادہ روزے رکھتے ہوئے نہیں دیکھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصوم/حدیث: 3648]

3649

Sahih Ibn Hibban #3649

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفِيَانَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ ، أَنَّ مُطَرِّفًا مِنْ بَنِي عَامِرِ بْنِ صَعْصَعَةَ حَدَّثَهُ : أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ أَبِي الْعَاصِ دَعَا بِلَبَنٍ لِيَسْقِيَهُ ، فَقَالَ مُطَرِّفٌ : إِنِّي صَائِمٌ ، فَقَالَ عُثْمَانُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : الصِّيَامُ جُنَّةٌ كَجُنَّةِ أَحَدِكُمْ مِنَ الْقِتَالِ "وَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " صِيَامٌ حَسَنٌ ثَلاثَةُ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

مطرف بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عثمان بن ابوالعاص رضی اللہ عنہ نے دودھ منگوایا تاکہ انہیں پلوائیں، مطرف نے کہا: میں نے تو روزہ رکھا ہوا ہے، تو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”روزہ ڈھال ہے، جس طرح کسی شخص کی جنگ میں حصہ لینے کے لیے ڈھال ہوتی ہے“ اور میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”عمدہ روزے ہر ماہ کے تین دن کے ہیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصوم/حدیث: 3649]

3650

Sahih Ibn Hibban #3650

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَرْنَبٍ قَدْ شَوَاهَا ، وَجَاءَ مَعَهَا بِأَدَمِهَا ، فَوَضَعَهَا بَيْنَ يَدَيْهِ ، فَأَمْسَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ يَأْكُلْ ، وَأَمَرَ أَصْحَابَهُ أَنْ يَأْكُلُوا ، وَأَمْسَكَ الأَعْرَابِيُّ ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَا يَمْنَعُكَ أَنْ تَأْكُلَ ؟ " قَالَ : إِنِّي أَصُومُ ثَلاثَةَ أَيَّامٍ مِنَ الشَّهْرِ ، قَالَ : " إِنْ كُنْتَ صَائِمًا فَصُمْ أَيَّامَ الْغُرِّ "، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : سَمِعَ هَذَا الْخَبَرَ مُوسَى بْنُ طَلْحَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، وَسَمِعَهُ مِنِ ابْنِ الْحَوْتَكِيَّةِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، وَالطَّرِيقَانِ جَمِيعَانِ مَحْفُوظَانِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دیہاتی گوشت بھون کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لے کر آیا، وہ اس کے ہمراہ اس کا سالن بھی لے کر آیا تھا، اس نے اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے رکھا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ کو روک لیا اور اسے کھایا نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ساتھیوں کو یہ ہدایت کی کہ وہ کھا لیں، اس دیہاتی نے بھی اسے نہیں کھایا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے دریافت کیا: ”تم کیوں نہیں کھا رہے؟“ اس نے جواب دیا: میں ہر مہینے کے تین دن روزے رکھتا ہوں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اگر تم نے روزہ رکھنا ہی ہوتا ہے، تو چمکدار دنوں میں روزے رکھا کرو۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ رضی اللہ علیہ فرماتے ہیں:): موسیٰ بن طلحہ نے یہ روایت سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنی ہے اور انہوں نے یہ روایت ابن حوتکیہ کے حوالے سے سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ سے بھی سنی ہے، تو اس کے دونوں طرق محفوظ ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصوم/حدیث: 3650]

3651

Sahih Ibn Hibban #3651

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الُوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ سِيرِينَ ، سَمِعْتُ عَبْدَ الْمَلِكِ بْنَ الْمِنْهَالِ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ كَانَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَيَأْمُرُهُمْ بِصِيَامِ الْبِيضِ ، وَيَقُولُ : هِيَ صِيَامُ الدَّهْرِ "، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : الْمِنْهَالُ هُوَ ابْنُ مِلْحَانَ الْقَيْسِيُّ ، لَهُ صُحْبَةٌ ، وَلَيْسَ فِي الصَّحَابَةِ مِنْهَالٌ غَيْرُهُ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبدالملک بن منہال اپنے والد رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، وہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم روشن دنوں کے روزے رکھنے کا حکم دیتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ فرماتے تھے: ”یہ ہمیشہ روزہ رکھنے کے مترادف ہے (یعنی پورا مہینہ روزہ رکھنے کے مترادف ہے)۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) منہال نامی راوی ملحان قیسی کے صاحب زادے ہیں، یہ صحابیِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں ان کے علاوہ اور کسی کا نام منہال نہیں ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصوم/حدیث: 3651]

3652

Sahih Ibn Hibban #3652

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ ، حَدَّثَنَا يَحِيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : صَوْمُ ثَلاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ صِيَامُ الدَّهْرِ وَقِيَامُهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

معاویہ بن قرہ رحمہ اللہ اپنے والد رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”ہر مہینے میں تین روزے رکھ لینا پورا مہینہ روزہ رکھنے اور اس کے نوافل ادا کرنے کے مترادف ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصوم/حدیث: 3652]

3653

Sahih Ibn Hibban #3653

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي عَوْنٍ ، حَدَّثَنَا فَيَّاضُ بْنُ زُهَيْرٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ الْمُزَنِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَسَحَ عَلَى رَأْسِهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : صِيَامُ ثَلاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ صِيَامُ الدَّهْرِ وَإِفْطَارُهُ "، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : قَالَ وَكِيعٌ ، عَنْ شُعْبَةَ فِي هَذَا الْخَبَرِ : " وَإِفْطَارُهُ " ، وَقَالَ يَحِيَى الْقَطَّانُ ، عَنْ شُعْبَةَ : " وَقِيَامُهُ " ، وَهُمَا جَمِيعًا حَافِظَانِ مُتْقِنَانِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

معاویہ بن قرہ مزنی اپنے والد رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے سر پر اپنا دستِ اقدس پھیرا تھا، وہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ہر مہینے کے تین روزے رکھ لینا پورا مہینہ روزہ رکھنے اور افطار کرنے کے مترادف ہے“ (یہاں ایک لفظ کے بارے میں شاید راوی کو غلط فہمی ہوئی ہے)۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں): وکیع نے شعبہ کے حوالے سے اس روایت میں الفاظ نقل کیے ہیں: ”اور اس کا روزہ نہ رکھنا“ جبکہ یحییٰ قطان نے شعبہ کے حوالے سے یہ نقل کیا ہے: ”اس کا قیام کرنا“ اور یہ دونوں حضرات حافظ اور متقن ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصوم/حدیث: 3653]

3654

Sahih Ibn Hibban #3654

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفِيَانَ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذِ بْنِ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ يَزِيدَ الرِّشْكِ ، عَنْ مُعَاذَةَ ، قَالَتْ : قُلْتُ لِعَائِشَةَ أَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَيَصُومُ مِنَ الشَّهْرِ ثَلاثَةَ أَيَّامٍ ؟ " ، قَالَتْ : نَعَمْ ، قُلْتُ : " مِنْ أَيِّهِ ؟ " ، قَالَتْ : لَمْ يُبَالِ مِنْ أَيِّهِ صَامَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

معاذہ رحمہا اللہ بیان کرتی ہیں: میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے دریافت کیا: کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہر مہینے میں تین روزے رکھتے تھے؟ انہوں نے جواب دیا: جی ہاں۔ میں نے دریافت کیا: کون سے؟ انہوں نے فرمایا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس بات کی پرواہ نہیں کرتے تھے کہ آپ کون سے دن میں روزہ رکھ رہے ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصوم/حدیث: 3654]

3655

Sahih Ibn Hibban #3655

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، عَنْ يَحِيَى الْقَطَّانِ ، عَنْ فِطْرٍ ، عَنْ يَحِيَى بْنِ سَامٍ ، عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ : أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَبِصَوْمِ ثَلاثَ عَشْرَةَ ، وَأَرْبَعَ عَشْرَةَ ، وَخَمْسَ عَشْرَةَ "، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : يَحِيَى هَذَا ، يُقَالُ لَهُ : يَحِيَى بْنُ سَامٍ ، وَيُقَالُ يَحِيَى بْنُ سَالِمِ ، وَالصَّوَابُ سَامٍ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں ”تیرہ، چودہ اور پندرہ تاریخ کو روزہ رکھنے کا حکم دیتے تھے۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) یحییٰ نامی راوی کا نام یحییٰ بن سام ہے اور ایک قول کے مطابق یحییٰ بن سالم ہے، لیکن درست لفظ سام ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصوم/حدیث: 3655]

3656

Sahih Ibn Hibban #3656

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْجُنَيْدِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي رِزْمَةَ ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى ، عَنْ فِطْرٍ ، عَنْ يَحِيَى بْنِ سَامٍ ، عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ : أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْنَصُومَ مِنَ الشَّهْرِ ثَلاثَةَ أَيَّامِ الْبِيضِ ثَلاثَ عَشْرَةَ ، وَأَرْبَعَ عَشْرَةَ ، وَخَمْسَ عَشْرَةَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں یہ حکم دیا تھا کہ ”ہم ہر مہینے میں تین دن «أَيَّامِ الْبِيضِ» ”ایام بیض“ کے روزے رکھیں: تیرہ، چودہ اور پندرہ تاریخ کو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصوم/حدیث: 3656]

3657

Sahih Ibn Hibban #3657

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ يَزِيدَ الرِّشْكِ ، عَنْ مُعَاذَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَيَصُومُ ثَلاثَةَ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ " ، قُلْتُ : مِنْ أَيِّهِ ؟ قَالَتْ : " لَمْ يَكُنْ يُبَالِي مِنْ أَيِّهِ كَانَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہر مہینے میں تین دن روزہ رکھا کرتے تھے، (راوی خاتون کہتی ہیں) میں نے دریافت کیا: کون سے دن میں؟ تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس بات کی پرواہ نہیں کرتے تھے کہ کون سا دن ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصوم/حدیث: 3657]

3658

Sahih Ibn Hibban #3658

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الُوَارِثِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ فَيَّاضٍ ، عَنْ أَبِي عِيَاضٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ : أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلْتُهُ عَنِ الصَّوْمِ ، فَقَالَ : صُمْ يَوْمًا مِنْ كُلِّ شَهْرٍ وَلَكَ أَجْرُ مَا بَقِيَ " ، قُلْتُ : إِنِّي أُطِيقُ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ ، قَالَ : " صُمْ يَوْمَيْنِ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ وَلَكَ أَجْرُ مَا بَقِيَ " ، قُلْتُ : إِنِّي أُطِيقُ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ ، قَالَ : " صُمْ ثَلاثَةُ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ وَلَكَ أَجْرُ مَا بَقِيَ " ، قُلْتُ : إِنِّي أُطِيقُ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ ، قَالَ : " إِنَّ أَحَبَّ الصِّيَامِ إِلَى اللَّهِ صَوْمُ دَاوُدَ " ، وَكَانَ يَصُومُ يَوْمًا وَيُفْطِرُ يَوْمًاقَالَ أَبُو حَاتِمٍ : قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " صُمْ يَوْمًا مِنْ كُلِّ شَهْرٍ وَلَكَ أَجْرُ مَا بَقِيَ " يُرِيدُ أَجْرَ مَا بَقِيَ مِنَ الْعِشْرِينِ ، وَكَذَلِكَ فِي الثَّلاثِ إِذْ مُحَالٌ أَنَّ كَدَّهُ كُلَمَا كَثُرَ كَانَ أَنْقُصَ لأَجْرِهِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے روزہ رکھنے کے بارے میں دریافت کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم ہر مہینے میں ایک دن روزہ رکھ لیا کرو، تمہیں باقی کا اجر مل جائے گا۔“ میں نے عرض کی: میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم ہر مہینے میں تین دن روزہ رکھ لو، تمہیں باقی کا اجر مل جائے گا۔“ میں نے عرض کی: میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کے نزدیک روزہ رکھنے کا سب سے پسندیدہ طریقہ سیدنا داؤد علیہ السلام کا طریقہ ہے، وہ ایک دن روزہ رکھتے تھے اور ایک دن روزہ نہیں رکھتے تھے۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں): نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان: ”تم ہر مہینے میں ایک دن روزہ رکھ لو، تم کو باقی کا اجر مل جائے گا“، اس سے مراد یہ ہے کہ تیس دنوں میں جو باقی رہ جائے گا اس کا اجر مل جائے گا اور ان کا بھی اسی طرح حکم ہو گا، کیونکہ یہ بات ممکن نہیں ہے کہ آدمی کی محنت جیسے جیسے زیادہ ہوتی جائے، اس کا اجر اتنا ہی کم ہوتا جائے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصوم/حدیث: 3658]

3659

Sahih Ibn Hibban #3659

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ كَانَ فِي سَفَرٍ ، فَلَمَّا نَزَلُوا وَوُضِعَتِ السَّفَرَةُ بَعَثُوا إِلَيْهِ وَهُوَ يُصَلَّى ، فَقَالَ : إِنِّي صَائِمٌ ، فَلَمَّا كَادُوا أَنْ يَفْرُغُوا ، جَاءَ فَجَعَلَ يَأْكُلُ ، فَنَظَرَ الْقَوْمُ إِلَى رَسُولِهِمْ ، فَقَالَ : مَا تَنْظُرُونَ إِلَيَّ قَدْ وَاللَّهِ أَخْبَرَنِي أَنَّهُ صَائِمٌ ، فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : صَدَقَ ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : مَنْ صَامَ ثَلاثَةَ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ فَقَدْ صَامَ الشَّهْرَ كُلَّهُ "، وَقَدْ صُمْتُ ثَلاثَةَ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ ، وَإِنِّي الشَّهْرَ كُلَّهُ صَائِمٌ ، وَوَجَدْتُ تَصْدِيقَ ذَلِكَ فِي كِتَابِ اللَّهِ جَلَّ وَعَلا : مَنْ جَاءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهُ عَشْرُ أَمْثَالِهَا "

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابوعثمان بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سفر کر رہے تھے، جب ان لوگوں نے پڑاؤ کیا اور دسترخوان بچھا دیا گیا، تو لوگوں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو بلانے کے لیے کسی کو بھیجا، وہ اس وقت نماز ادا کر رہے تھے۔ انہوں نے بتایا: میں نے روزہ رکھا ہوا ہے، جب وہ لوگ کھانے سے فارغ ہو گئے، تو سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ تشریف لے آئے۔ انہوں نے کھانا شروع کر دیا۔ لوگوں نے اپنے پیغام رساں کی طرف دیکھا، تو اس نے کہا: آپ لوگ میری طرف کیا دیکھ رہے ہیں؟ اللہ کی قسم! انہوں نے تو مجھے یہ کہا تھا کہ میں نے روزہ رکھا ہوا ہے، تو سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اس نے سچ کہا تھا، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جو شخص ہر مہینے کے تین روزے رکھ لے، تو یہ پورا مہینہ روزے رکھنے کے برابر ہیں۔“ تو میں ہر مہینے کے تین روزے رکھتا ہوں، اس طرح میں پورا مہینہ روزہ رکھ لیتا ہوں اور میں نے اس بات کی تصدیق اللہ تعالیٰ کی کتاب میں بھی پائی ہے (ارشاد باری تعالیٰ ہے): ﴿مَن جَاءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهُ عَشْرُ أَمْثَالِهَا﴾ [سورة الأنعام: 160] ”جس شخص نے ایک نیکی کی، تو اسے اس کا دس گنا اجر ملے گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصوم/حدیث: 3659]

3660

Sahih Ibn Hibban #3660

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ الْكَلاعِيُّ ، بِحِمْصَ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ ، عَنِ الزُهْرِيِّ ، أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ ، وَأَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، قَالَ : أُخْبِرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنِّي أَقُولُ : وَاللَّهِ لأَصُومَنَّ النَّهَارَ ، وَلأَقُومَنَّ اللَّيْلَ مَا عِشْتُ ، فَقُلْتُ لَهُ : قَدْ قُلْتُهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : فَإِنَّكَ لا تَسْتَطِيعُ ذَلِكَ ،صُمْ ، وَأَفْطِرْ ، وَنَمْ ، وَقُمْ ، وَصُمْ مِنَ الشَّهْرِ ثَلاثَةَ أَيَّامٍ ، فَإِنَّ الْحَسَنَةَ بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا ، وَذَلِكَ مِثْلُ صِيَامِ الدَّهْرِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات بتائی گئی کہ میں یہ کہتا ہوں: اللہ کی قسم! میں جب تک زندہ رہا روزانہ روزہ رکھا کروں گا اور روزانہ رات کے وقت نفل پڑھتا رہوں گا، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں نے یہ بات کہی ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اس کی استطاعت نہیں رکھ سکو گے، تم روزہ رکھ بھی لیا کرو اور چھوڑ بھی دیا کرو، سو بھی جایا کرو اور نفل بھی پڑھ لیا کرو، ہر مہینے میں تین روزے رکھ لیا کرو؛ نیکی کا بدلہ دس گنا ہوتا ہے، تو یہ پورا مہینہ روزے رکھنے کے مترادف ہو گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصوم/حدیث: 3660]

3661

Sahih Ibn Hibban #3661

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : اعْتَكَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعَشْرَ الأَوْسَطَ مِنْ رَمَضَانَ وَهُوَ يَلْتَمِسُ لَيْلَةَ الْقَدْرِ ، ثُمَّ أَمَرَ بِالْبِنَاءِ ، فَنُقِضَ ، ثُمَّ أُبِينَتْ لَهُ فِي الْعَشْرِ الأَوَاخِرِ ، فَأَمَرَ بِهِ ، فَأُعِيدَ ، فَخَرَجَ إِلَيْنَا ، فَقَالَ : إِنَّهَاأُبِينَتْ لِي لَيْلَةُ الْقَدْرِ ، وَإِنِّي خَرَجْتُ لأُبِينَهَا لَكُمْ ، فَتَلاحَى رَجُلانِ فَنُسِّيتُهَا ، فَالْتَمِسُوهَا فِي التَّاسِعَةِ وَالسَّابِعَةِ وَالْخَامِسَةِ "، قُلْتُ : يَا أَبَا سَعِيدٍ إِنَّكُمْ أَعْلَمُ بِالْعَدَدِ مِنَّا ، فَأَيُّ لَيْلَةٍ التَّاسِعَةُ وَالسَّابِعَةُ وَالْخَامِسَةُ ، قَالَ : إِذَا كَانَ لَيْلَةُ وَاحِدٍ وَعِشْرِينَ ، ثُمَّ دَعْ لَيْلَةً ، ثُمَّ الَّتِي تَلِيهَا هِيَ السَّابِعَةُ ، ثُمَّ دَعْ لَيْلَةً وَالَّتِي تَلِيهَا هِيَ الْخَامِسَةُ ، قَالَ الْجُرَيْرِيُّ : وَحَدَّثَنِي أَبُو الْعَلاءِ ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ مُعَاوِيَةَ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَالثَّالِثَةِ " ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : الأَمْرُ بِالْتِمَاسِ لَيْلَةِ الْقَدْرِ فِي اللَّيَالِي الْمَعْلُومَةِ الْمَذْكُورَةِ فِي الْخَبَرِ أَمْرُ نَفْلٍ ، أُمِرَ مِنْ أَجْلِ سَبَبٍ ، وَهُوَ مُصَادَفَةُ لَيْلَةِ الْقَدْرِ ، فَمَتَى صُودِفَتْ فِي إِحْدَى اللَّيَالِي الْمَذْكُورَةِ سَقَطَ عَنْهُ طَلَبُهَا فِي سَائِرِ اللَّيَالِي"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان کے درمیانی عشرے میں اعتکاف کیا، آپ شبِ قدر تلاش کر رہے تھے، پھر آپ کے حکم کے تحت آپ کے خیمے کو اتار لیا گیا۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے یہ بات واضح ہوئی کہ شبِ قدر آخری عشرے میں ہو گی، تو آپ کے حکم کے تحت دوبارہ خیمہ لگا دیا گیا۔ آپ ہمارے پاس تشریف لائے اور آپ نے ارشاد فرمایا: ”میرے لیے شبِ قدر کے بارے میں یہ خیمہ لگایا گیا تھا، میں اس لیے باہر آیا تھا کہ تمہیں اس کے بارے میں بتاؤں، لیکن دو آدمی آپس میں بحث کر رہے تھے، تو یہ مجھے بھلا دی گئی، تو اسے نویں، ساتویں اور پانچویں رات میں تلاش کرو۔“ راوی کہتے ہیں: میں نے کہا: اے (سیدنا) ابوسعید (رضی اللہ عنہ)! آپ گنتی کے بارے میں ہم سے زیادہ علم رکھتے ہیں، نویں، ساتویں اور پانچویں رات سے مراد کیا ہے؟ انہوں نے فرمایا: جب اکیسویں رات ہو گی، تو پھر ایک رات کو چھوڑ دو، پھر اس کے بعد والی رات ہو گی، تو وہ ساتویں ہو گی۔ پھر تم ایک رات کو چھوڑ دو تو اس کے بعد والی پانچویں ہو گی۔ جریری نامی راوی کہتے ہیں: ایک اور سند کے ساتھ یہ بات منقول ہے، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے یہ بات بیان کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ لفظ بھی ارشاد فرمائے تھے: ”تیسری رات میں۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں): اس روایت میں مذکور متعین راتوں میں شبِ قدر کو تلاش کرنے کا حکم نفل حکم ہے، اور یہ حکم سبب کی وجہ سے دیا گیا ہے اور وہ (سبب) شبِ قدر کا ملنا ہے، تو ان مذکورہ راتوں میں سے جب بھی شبِ قدر آ جائے تو باقی راتوں میں اسے تلاش کرنے کا حکم آدمی سے ساقط ہو جائے گا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصوم/حدیث: 3661]

3662

Sahih Ibn Hibban #3662

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّامِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ أبى عَدِيٍّ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَإِذَا كَانَ مُقِيمًا يَعْتَكِفُ فِي الْعَشْرِ الأَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ ، فَإِذَا سَافَرَ اعْتَكَفَ مِنَ الْعَامِ الْمُقْبِلِ عِشْرِينَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب مقیم ہوتے تھے، تو آپ رمضان کے آخری عشرے میں اعتکاف کیا کرتے تھے اور جب آپ سفر کی حالت میں ہوتے تھے، تو آپ اس سے اگلے سال بیس دن اعتکاف کرتے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصوم/حدیث: 3662]

3663

Sahih Ibn Hibban #3663

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ الْقَيْسِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَيَعْتَكِفُ فِي الْعَشْرِ الأَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ ، فَسَافَرَ وَلَمْ يَعْتَكِفْ ، فَلَمَّا كَانَ مِنَ الْعَامِ الْمُقْبِلِ ، اعْتَكَفَ عِشْرِينَ يَوْمًا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے آخری عشرے میں اعتکاف کیا کرتے تھے، ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سفر کیا تو اعتکاف نہیں کیا، جب اگلا سال آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیس دن اعتکاف کیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصوم/حدیث: 3663]

3664

Sahih Ibn Hibban #3664

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّامِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَإِذَا كَانَ مُقِيمًا يَعْتَكِفُ الْعَشْرَ الأَوَاخِرَ مِنْ رَمَضَانَ ، فَإِذَا سَافَرَ اعْتَكَفَ مِنَ الْعَامِ الْمُقْبِلِ عِشْرِينَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب مقیم ہوتے تھے، تو رمضان کے آخری عشرے میں اعتکاف کیا کرتے تھے اور جب آپ (رمضان کے آخری عشرے میں) سفر کر رہے ہوتے تھے، تو اس سے اگلے سال بیس (20) دن اعتکاف کرتے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصوم/حدیث: 3664]

3665

Sahih Ibn Hibban #3665

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الأَنْصَارِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلُوَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، وَابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنِ الزُهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، وَعَنِ ابْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَيَعْتَكِفُ فِي الْعَشْرِ الأَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ حَتَّى قَبَضَهُ اللَّهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہما نقل کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے آخری عشرے میں اعتکاف کیا کرتے تھے، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے (آپ کی روح مبارکہ کو) قبض کر لیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصوم/حدیث: 3665]

3666

Sahih Ibn Hibban #3666

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، وَيَعْلَى ، عَنْ يَحِيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ عَمْرَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَعْتَكِفَ صَلَّى الْفَجْرَ ، ثُمَّ دَخَلَ فِيهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب اعتکاف کا ارادہ کرتے تھے، تو آپ فجر کی نماز ادا کرنے کے بعد اعتکاف گاہ میں تشریف لے جاتے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصوم/حدیث: 3666]

3667

Sahih Ibn Hibban #3667

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحِيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ يَحِيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ عَمْرَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَأَرَادَ الاعْتِكَافَ ، فَاسْتَأْذَنَتْهُ عَائِشَةُ لِتَعْتَكِفَ مَعَهُ ، فَأَذِنَ لَهَا ، فَضَرَبَتْ خِبَاءَهَا ، فَسَأَلَتْهَا حَفْصَةُ أَنْ تَسْتَأْذِنَ لَهَا لِتَعْتَكِفَ مَعَهَا ، فَلَمَّا رَأَتْ ذَلِكَ زَيْنَبُ ضَرَبَتْ مَعَهَا ، وَكَانَتِ امْرَأَةً غَيُورًا ، فَرَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبِيَتَهُنَّ ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَا هَذَا ، الْبِرَّ تُرِدْنَ بِهَذَا ؟ " فَتَرَكَ الاعْتِكَافَ حَتَّى أَفْطَرَ مِنْ رَمَضَانَ ، ثُمَّ إِنَّهُ اعْتَكَفَ فِي عِشْرِينَ مِنْ شَوَّالٍ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اعتکاف کا ارادہ فرمایا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت مانگی کہ وہ بھی آپ کے ہمراہ اعتکاف کریں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اجازت دے دی، تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اپنا خیمہ لگوا لیا۔ سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت مانگی کہ وہ بھی آپ کے ہمراہ اعتکاف کریں، جب سیدہ زینب رضی اللہ عنہا نے یہ بات دیکھی، تو انہوں نے بھی اپنا خیمہ ساتھ لگوا لیا، وہ مزاج کی تیز خاتون تھیں۔ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان خواتین کے خیمے دیکھے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”کیا ان خواتین نے ان کے ذریعے نیکی کا ارادہ کیا ہے؟“ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اعتکاف کو ترک کر دیا، یہاں تک کہ جب رمضان کا مہینہ گزر گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے شوال میں بیس (20) دن اعتکاف کیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصوم/حدیث: 3667]

3668

Sahih Ibn Hibban #3668

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ قَحْطَبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ الْجَرْجَرَائِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَيُخْرِجُ رَأْسَهُ وَهُوَ يَعْتَكِفُ ، فَأَغْسِلُهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اعتکاف کی حالت میں اپنا سر (مسجد سے باہر) کی طرف نکال دیتے تھے، تو میں اسے دھو دیا کرتی تھی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصوم/حدیث: 3668]

3669

Sahih Ibn Hibban #3669

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، وَعَمْرَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : إِنْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَلَيُدْخِلُ إِلَيَّ رَأْسَهُ وَهُوَ فِي الْمَسْجِدِ مُعْتَكِفٌ فَأُرَجِّلُهُ ، وَكَانَ لا يَدْخُلُ الْبَيْتَ إِلا لِحَاجَتِهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بعض اوقات اپنا سر میری طرف بڑھا دیتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت مسجد میں اعتکاف کیے ہوئے ہوتے تھے، میں اس میں کنگھی کر دیا کرتی تھی اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم (صرف) قضائے حاجت کے لیے گھر میں تشریف لاتے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصوم/حدیث: 3669]

3670

Sahih Ibn Hibban #3670

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الُوَاحِدِ ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ ، عَنِ الزُهْرِيِّ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَيَأْتِينِي وَهُوَ مُعْتَكِفٌ فِي الْمَسْجِدِ حَتَّى يَتَّكِئَ عَلَى عَتَبَةِ بَابِي ، وَأَنَا فِي حُجْرَتِي ، وَسَائِرُهُ فِي الْمَسْجِدِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لاتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت مسجد میں اعتکاف کیا ہوتا تھا یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے دروازے کی چوکھٹ کے ساتھ ٹیک لگا لیتے تھے، میں اس وقت اپنے حجرے میں ہوتی تھی اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں ہوتے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصوم/حدیث: 3670]

3671

Sahih Ibn Hibban #3671

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُهْرِيِّ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ ، عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ حُيَيٍّ ، قَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُعْتَكِفًا ، فَأَتَيْتُهُ أَزُورُهُ لَيْلا ، فَحَدَّثْتُهُ ، ثُمَّ جِئْتُ لأَنْقَلِبَ ، فَقَامَ مَعِي يَقْلِبُنِي ، وَكَانَ مَنْزِلُهَا فِي دَارِ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ، وَرَأَنَا رَجُلانِ مِنَ الأَنْصَارِ ، فَلَمَّا رَأَيَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَنَّعَا رُءُوسَهُمَا ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : عَلَى رِسْلِكُمَا ، إِنَّهَا صَفِيَّةُ بِنْتُ حُيَيٍّ " ، فَقَالا : سُبْحَانَ اللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ ! قَالَ : " إِنَّالشَّيْطَانَ يَجْرِي مِنَ الإِنْسَانِ مَجْرَى الدَّمِ ، وَإِنِّي خِفْتُ أَنْ يَقْذِفَ فِي قُلُوبُكُمَا شَيْئًا " ، أَوْ قَالَ : " شَرًّا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

امام زین العابدین رحمہ اللہ سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اعتکاف کیا ہوا تھا، میں آپ کی زیارت کے لیے رات کے وقت آپ کی خدمت میں حاضر ہوئی، میں آپ کے ساتھ بات چیت کرتی رہی، پھر جب میں واپس آنے کے لیے اٹھی تو آپ میرے ساتھ کھڑے ہوئے تاکہ مجھے رخصت کریں۔ سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کا گھر سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کے گھر کے پاس تھا۔ سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ انصار سے تعلق رکھنے والے دو آدمیوں نے ہمیں دیکھا، جب انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تو انہوں نے اپنے سر جھکا لیے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ٹھہرو! یہ صفیہ بنت حیی ہے (جو میری زوجہ ہے)۔“ ان دونوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! «سُبْحَانَ اللّٰهِ» ”اللہ پاک ہے!“ (ہم آپ کے معاملے میں ایسا سوچ سکتے ہیں) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”شیطان انسان کی رگوں میں خون کی جگہ دوڑتا ہے، مجھے یہ اندیشہ ہوا کہ کہیں وہ تمہارے دل میں خیال نہ ڈال دے (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہے) برا خیال نہ ڈال دے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصوم/حدیث: 3671]

3672

Sahih Ibn Hibban #3672

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، وَعَمْرَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَإِذَا اعْتَكَفَ أَدْنَى إِلَيَّ رَأْسَهُ فَأُرَجِّلُهُ ، فَكَانَ لا يَدْخُلُ الْبَيْتَ إِلا لِحَاجَةِ الإِنْسَانِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب اعتکاف کیے ہوئے ہوتے تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا سر میری طرف بڑھا دیتے تھے، میں اس میں کنگھی کر دیتی تھی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم گھر میں صرف قضائے حاجت کے لیے تشریف لایا کرتے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصوم/حدیث: 3672]

3673

Sahih Ibn Hibban #3673

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْهَادِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ التَّيْمِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنَّهُ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْتَكِفُ الْعَشْرَ الُوُسْطَى مِنْ رَمَضَانَ ، فَاعْتَكَفَ عَامًا حَتَّى إِذَا كَانَ لَيْلَةَ إِحْدَى وَعِشْرِينَ ، وَهِيَ اللَّيْلَةُ الَّتِي يَخْرُجُ صَبِيحَتَهَا مِنِ اعْتِكَافِهِ ، قَالَ : مَنِ اعْتَكَفَ مَعِي فَلِيَعْتَكِفَ الْعَشْرَ الأَوَاخِرَ ، وَقَدْ رَأَيْتُ هَذِهِ اللَّيْلَةُ ، ثُمَّ أُنْسِيتُهَا ، وَقَدْ رَأَيْتُنِي أَسْجُدُ مِنْ صَبِيحَتِهَا فِي مَاءٍ وَطِينٍ ، فَالْتَمِسُوهَا فِي الْعَشْرِ الأَوَاخِرِ ، وَالْتَمِسُوهَا فِي كُلِّ وِتْرٍ " ، قَالَ أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ : فَأَمْطَرَتِ السَّمَاءُ تِلْكَ اللَّيْلَةَ ، وَكَانَ الْمَسْجِدُ عَلَى عَرِيشٍ ، فَوَكَفَ الْمَسْجِدُ ، قَالَ أَبُو سَعِيدٍ : فَأَبْصَرَتْ عَيْنَايَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ انْصَرَفَ عَلَيْنَا ، وَعَلَى جَبْهَتِهِ وَأَنْفِهِ أَثَرُ الْمَاءِ وَالطِّينِ مِنْ صَبِيحَةِ إِحْدَى وَعِشْرِينَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے درمیانی عشرے میں اعتکاف کرتے تھے۔ ایک سال آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اعتکاف کیا، یہاں تک کہ جب اکیسویں رات آئی، تو یہ وہ رات ہے، جس کی صبح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اعتکاف گاہ سے واپس آنا تھا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جس شخص نے میرے ساتھ اعتکاف کیا ہے وہ آخری عشرے کا بھی اعتکاف کرے، کیونکہ میں نے اس رات کو دیکھا تھا، لیکن یہ مجھے بھلا دی گئی، میں نے خود کو دیکھا ہے کہ میں اس رات کی صبح پانی اور مٹی میں سجدہ کر رہا تھا، تو تم لوگ اسے آخری عشرے میں تلاش کرو اور اس کو ہر طاق رات میں تلاش کرنا۔“ سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: اسی رات بارش ہو گئی۔ مسجد کی چھت کھجور کے پتوں سے بنی ہوئی تھی وہ ٹپکنے لگی۔ سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے تھے: میں نے خود اپنی ان دونوں آنکھوں سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھنے کے بعد ہماری طرف رخ کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک پیشانی اور مبارک ناک پر پانی اور مٹی کا نشان موجود تھا، یہ اکیسویں رات کی صبح کی بات ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصوم/حدیث: 3673]

3674

Sahih Ibn Hibban #3674

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْجُنَيْدِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ مُضَرَ ، عَنِ ابْنِ الْهَادِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُجَاوِرُ فِي الْعَشْرِ الَّذِي فِي وَسَطِ الشَّهْرِ ، فَإِذَا كَانَ مِنْ حِينَ يَمْضِي عِشْرُونَ لَيْلَةً ، وَيَسْتَقْبِلُ إِحْدَى وَعِشْرِينَ لَمْ يَرْجِعْ إِلَى مَسْكَنِهِ ، وَرَجَعَ مَنْ كَانَ يُجَاوِرُ مَعَهُ ، ثُمَّ إِنَّهُ أَقَامَ فِي شَهْرٍ جَاوَرَ فِيهِ حَتَّى كَانَ تِلْكَ اللَّيْلَةَ الَّتِي يَرْجِعُ فِيهَا ، فَخَطَبَ النَّاسَ ، وَأَمَرَهُمْ بِمَا شَاءَ اللَّهُ ، ثُمَّ قَالَ : إِنِّي كُنْتُ أُجَاوِرُ هَذِهِ الْعَشْرَ ، ثُمَّ بَدَا لِي أَنْ أُجَاوِرَ هَذِهِ الْعَشْرَ الأَوَاخِرَ ، وَمَنْ كَانَ اعْتَكَفَ مَعِي فَلِيَلْبَثْ فِي مُعْتَكَفِهِ ، وَقَدْ أُرِيتُ هَذِهِ اللَّيْلَةَ ، فَأُنْسِيتُهَا ، فَالْتَمِسُوهَا فِي الْعَشْرِ الأَوَاخِرِ فِي كُلِّ وِتْرٍ ، وَقَدْ رَأَيْتُنِي أَسْجُدُ فِي مَاءٍ وَطِينٍ " ، قَالَ أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ : فَنَظَرْنَا لَيْلَةَ إِحْدَى وَعِشْرِينَ ، فَوَكَفَ الْمَسْجِدُ فِي مُصَلَّى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَنَظَرْتُ إِلَيْهِ وَقَدِ انْصَرَفَ مِنْ صَلاةِ الصُّبْحِ وَوَجْهُهُ مُمْتَلِئٌ طِينًا وَمَاءً"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے درمیانی عشرے میں اعتکاف کیا کرتے تھے۔ جب بیس راتیں گزر گئیں اور اکیسویں رات آئی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی رہائش گاہ کی طرف واپس تشریف نہیں لے گئے اور جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اعتکاف کیا تھا وہ واپس چلا گیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس مہینے میں مقیم تھے، جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم اعتکاف کرتے تھے، یہاں تک کہ جب وہ رات آئی جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے واپس جانا تھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو خطبہ دیا اور جو اللہ کو منظور تھا انہیں حکم دیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میں اس عشرے میں اعتکاف کیا کرتا تھا پھر مجھے یہ مناسب لگا کہ میں اس آخری عشرے میں بھی اعتکاف کروں اور جس شخص نے میرے ہمراہ اعتکاف کیا ہے وہ اپنی اعتکاف گاہ میں ٹھہرا رہے، مجھے یہ رات دکھائی گئی، لیکن پھر مجھے بھلا دی گئی، لیکن تم اسے آخری عشرے کی طاق راتوں میں تلاش کرو، میں نے خود کو (اس رات میں) پانی اور مٹی میں سجدہ کرتے ہوئے دیکھا ہے۔“ سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نے اکیسویں رات کو دیکھا کہ مسجد میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کی جگہ سے پانی ٹپکنے لگا ہے، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم صبح کی نماز پڑھ کر فارغ ہوئے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک پر پانی اور مٹی لگی ہوئی تھی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصوم/حدیث: 3674]

3675

Sahih Ibn Hibban #3675

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ رِجَالا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُرُوا لَيْلَةَ الْقَدْرِ فِي السَّبْعِ الأَوَاخِرِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنِّي أَرَى رُؤِيَاكُمْ قَدْ تَوَاطَأَتْ عَلَى السَّبْعِ ، فَمَنْ كَانَ مُتَحَرِّيهَا ، فَلِيَتَحَرَّهَا فِي السَّبْعِ الأَوَاخِرِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے کچھ اصحاب کو شبِ قدر آخری سات راتوں میں دکھائی گئی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں دیکھ رہا ہوں کہ تمہارے خواب آخری سات راتوں کے بارے میں متفق ہو گئے ہیں، تو جس شخص نے اسے تلاش کرنا ہو وہ اسے آخری سات راتوں میں تلاش کرے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصوم/حدیث: 3675]

3676

Sahih Ibn Hibban #3676

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ حُرَيْثٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَيْلَةُ الْقَدْرِ الْتَمِسُوهَا فِي الْعَشْرِ الأَوَاخِرِ ، وَإِنْ ضَعُفَ أَحَدُكُمْ أَوْ عَجَزَ فَلا يُغْلَبَنَّ عَنِ السَّبْعِ الْبَوَاقِي """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”شب قدر کو تم آخری عشرے میں تلاش کرو اور اگر کوئی شخص کمزور ہو یا عاجز آ جائے تو وہ باقی رہ جانے والی سات راتوں کے حوالے سے ہرگز مغلوب نہ ہو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصوم/حدیث: 3676]

3677

Sahih Ibn Hibban #3677

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، قَالَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، قَالَ : تَذَاكَرْنَا لَيْلَةَ الْقَدْرِ ، فَأَتَيْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ ، فَقُلْتُ : هَلْ سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَذْكُرُ لَيْلَةَ الْقَدْرِ ؟ فَقَالَ : اعْتَكَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعَشْرَ الأَوْسَطَ مِنْ شَهْرِ رَمَضَانَ ، وَاعْتَكَفْنَا مَعَهُ ، فَلَمَّا كَانَ صَبِيحَةَ عِشْرِينَ رَجَعَ ، فَرَجَعْنَا مَعَهُ ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَرَأَى لَيْلَةَ الْقَدْرِ فِي الْمَنَامِ ، ثُمَّ أُنْسِيَهَا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابوسلمہ بیان کرتے ہیں کہ ہم لوگ شب قدر کا تذکرہ کر رہے تھے، میں سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ میں نے دریافت کیا: ”کیا آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو شب قدر کے بارے میں کوئی بات ذکر کرتے ہوئے سنا ہے؟“ انہوں نے جواب دیا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان کے مہینے کے درمیانی عشرے میں اعتکاف کیا۔ آپ کے ہمراہ ہم نے بھی اعتکاف کیا جب بیسویں رات کی صبح آئی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم واپس جانے کے لیے تیار ہوئے آپ کے ہمراہ ہم لوگ بھی تیار ہوئے۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے، آپ نے خواب میں شب قدر کو دیکھا تھا، لیکن پھر وہ آپ کو بھلا دی گئی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصوم/حدیث: 3677]