Muslim99Muslim99

Sahih Ibn Hibban · Book 32 · Chapter 3

Book of Testimonies

Hadith 3604–3637

34 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

3604

Sahih Ibn Hibban #3604

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفِيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُلَيَّةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي نُجَيْحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : سُئِلَ ابْنُ عُمَرَ عَنْ صَوْمِ يَوْمِ عَرَفَةَ ، قَالَ : حَجَجْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يَصُمْهُ ، وَحَجَجْتُ مَعَ أَبَى بَكْرٍ فَلَمْ يَصُمْهُ ، وَحَجَجْتُ مَعَ عُمَرَ فَلَمْ يَصُمْهُ ، وَحَجَجْتُ مَعَ عُثْمَانَ فَلَمْ يَصُمْهُ ، وَأَنَا لا أَصُومُهُ ، وَلا آمُرُ بِهِ ، وَلا أَنْهَى عَنْهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبداللہ بن ابونجیح اپنے والد کا بیان نقل کرتے ہیں کہ میں نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے عرفہ کے دن روزہ رکھنے کے بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کیا ہے، آپ نے اس دن روزہ نہیں رکھا، میں نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ حج کیا، انہوں نے بھی یہ روزہ نہیں رکھا، میں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ حج کیا ہے، انہوں نے بھی یہ روزہ نہیں رکھا، میں نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے ساتھ حج کیا ہے، انہوں نے بھی یہ روزہ نہیں رکھا، تو میں بھی یہ روزہ نہیں رکھوں گا اور نہ ہی اسے رکھنے کا حکم دوں گا، البتہ میں اس سے منع بھی نہیں کروں گا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصوم/حدیث: 3604]

3605

Sahih Ibn Hibban #3605

قَالَ : وَحَدَّثَتْنِي أُمُّ الْفَضْلِ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أُتِيَ يَوْمَ عَرَفَةَ بِلَبَنٍ فَشَرِبَ مِنْهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: عرفہ کے دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں انار پیش کیا گیا، تو آپ نے اسے کھا لیا۔ راوی بیان کرتے ہیں: سیدہ ام فضل رضی اللہ عنہا نے مجھے یہ بات بتائی ہے عرفہ کے دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں دودھ پیش کیا گیا تھا، تو آپ نے اسے پی لیا تھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصوم/حدیث: 3605]

3606

Sahih Ibn Hibban #3606

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الأَنْصَارِيُّ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ مَوْلَى عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ عُمَيْرٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ أُمِّ الْفَضْلِ بِنْتِ الْحَارِثِ ، أَنَّنَاسًا تَمَارَوَا عِنْدَهَا يَوْمَ عَرَفَةَ فِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ : هُوَ صَائِمٌ ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ : لَيْسَ بِصَائِمٍ ، فَأَرْسَلَتْ إِلَيْهِ أُمُّ الْفَضْلِ بِقَدَحِ لَبَنٍ وَهُوَ وَاقِفٌ عَلَى بَعِيرِهِ ، فَشَرِبَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ ام فضل بنت حارث رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ کچھ لوگوں نے ان کی موجودگی میں عرفہ کے دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے روزہ رکھنے کے بارے میں اختلاف کیا، کچھ لوگوں کا یہ کہنا تھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے روزہ رکھا ہوا ہے، کچھ کا کہنا تھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے روزہ نہیں رکھا ہوا، تو سیدہ ام فضل رضی اللہ عنہا نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں دودھ کا پیالہ بھیجا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت اپنے اونٹ پر وقوف کیے ہوئے تھے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پی لیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصوم/حدیث: 3606]

3607

Sahih Ibn Hibban #3607

أَخْبَرَنَا ابْنُ سَلْمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الأَشَجِّ ، عَنْ كُرَيْبٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهَا قَالَتْ : إِنَّالنَّاسَ شَكُّوا فِي شَأْنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ عَرَفَةَ ، فَأَرْسَلَتْ إِلَيْهِ مَيْمُونَةُ بِحِلابٍ ، وَهُوَ وَاقِفٌ فِي الْمَوْقِفِ ، فَشَرِبَ وَالنَّاسُ يَنْظُرُونَ "، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : فِي حِجَّةِ الُوَدَاعِ كَانَ نِسَاءُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَهُ ، وَكَذَلِكَ جَمَاعَةٌ مِنْ قَرَابَتِهِ ، فَيُشْبِهُ أَنْ تَكُونَ أُمُّ الْفَضْلِ ، وَمَيْمُونَةُ كَانَتَا بِعَرَفَاتٍ فِي مَوْضِعٍ وَاحِدٍ ، حَيْثُ حُمِلَ الْقَدَحُ مِنَ اللَّبَنِ مِنْ عِنْدَهُمَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَنُسِبَ الْقَدَحُ وَبَعْثَتُهُ إِلَى أُمِّ الْفَضْلِ فِي خَبَرٍ ، وَإِلَى مَيْمُونَةَ فِي آخَرَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ لوگوں کو عرفہ کے دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے معاملے میں شک ہوا، تو سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں (دودھ کا) پیالہ بھیجا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت موقف میں وقوف کیے ہوئے تھے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پی لیا، جبکہ لوگ (آپ کو) دیکھ رہے تھے۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں): حجۃ الوداع کے موقع پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج آپ کے ساتھ تھیں، اسی طرح آپ کے رشتہ داروں کی ایک جماعت بھی آپ کے ساتھ تھی، تو اس بات کا احتمال موجود ہے کہ سیدہ ام فضل اور سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہما عرفات میں ایک ہی مقام پر موجود ہوں اور دودھ کا وہ پیالہ ان دونوں خواتین کے پاس سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لے جایا گیا ہو، تو ایک روایت میں اس پیالے اور اس کو بھیجنے کی نسبت سیدہ ام فضل رضی اللہ عنہا کی طرف کر دی گئی اور دوسری روایت میں سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کی طرف کر دی گئی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصوم/حدیث: 3607]

3608

Sahih Ibn Hibban #3608

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي عَوْنٍ الرَّيَّانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُجَاهِدُ بْنُ مُوسَى الْمَخَرِّمِيُّ ، وَيَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ ، قَالا : حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الأَسُوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَامَ الْعَشْرَ قَطُّ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو کبھی بھی (ذوالحج کے پہلے) عشرے کے روزے رکھتے ہوئے نہیں دیکھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصوم/حدیث: 3608]

3609

Sahih Ibn Hibban #3609

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا سُفِيَانُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ يَحِيَى بْنِ جَعْدَةَ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو الْقَارِيُّ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : مَا أَنَا نَهَيْتُ عَنْ صِيَامِ يَوْمِ الْجُمُعَةِ ، مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَبِّ الْكَعْبَةِ نَهَى عَنْهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے جمعہ کے دن روزہ رکھنے سے منع نہیں کیا بلکہ رب کعبہ کی قسم! سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے ”اس سے منع کیا ہے“۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصوم/حدیث: 3609]

3610

Sahih Ibn Hibban #3610

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي الْحَارِثِ بْنِ كَعْبٍ ، يُقَالُ لَهُ : أَبُو الأَوْبَرِ ، قَالَ : كُنْتُ قَاعِدًا عِنْدَ أَبِي هُرَيْرَةَ إِذْ جَاءَهُ رَجُلٌ ، فَقَالَ : إِنَّكَ نَهَيْتَ النَّاسَ عَنْ صِيَامِ يَوْمِ الْجُمُعَةِ ، قَالَ : مَا نَهَيْتُ النَّاسَ أَنْ يَصُومُوا يَوْمَ الْجُمُعَةِ ، وَلَكِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ :" لا تَصُومُوا يَوْمَ الْجُمُعَةِ ، فَإِنَّهُ يَوْمُ عِيدٍ إِلا أَنْ تَصِلُوهُ بِأَيَّامٍ "، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " بِأَيَّامٍ " يُرِيدُ بِهِ بَعْضَ الأَيَّامِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبدالملک بن عمیر بنو حارث بن کعب سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب، جن کا نام ابواوبر تھا، ان کے حوالے سے نقل کرتے ہیں، وہ بیان کرتے ہیں: میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ اسی دوران ایک شخص ان کے پاس آیا اور بولا: کیا آپ نے لوگوں کو جمعہ کے دن روزہ رکھنے سے منع کیا ہے؟ انہوں نے فرمایا: میں نے لوگوں کو جمعہ کے دن روزہ رکھنے سے منع نہیں کیا، بلکہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”تم لوگ جمعہ کے دن روزہ نہ رکھو، کیونکہ یہ عید کا دن ہے، البتہ اگر تم اس کے ساتھ کسی دوسرے دن کو ملا لو (تو حکم مختلف ہے)۔“ امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان «بِأَيَّامٍ» اس سے مراد کوئی ایک دن ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصوم/حدیث: 3610]

3611

Sahih Ibn Hibban #3611

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ : دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى جُوَيْرِيَةَ بِنْتِ الْحَارِثِيَوْمَ جُمُعَةِ وَهِيَ صَائِمَةٌ ، فَقَالَ : أَصُمْتِ أَمْسِ ؟ " ، قَالَتْ : لا ، قَالَ : " أَفَتُرِيدِينَ أَنْ تَصُومِي غَدًا ؟ " قَالَتْ : لا ، قَالَ : " فَأَفْطِرِي """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ جویریہ بنت حارث رضی اللہ عنہا کے ہاں جمعہ کے دن تشریف لائے، انہوں نے روزہ رکھا ہوا تھا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”کیا کل تم نے روزہ رکھا تھا؟“ انہوں نے جواب دیا: جی نہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا کل تمہارا روزہ رکھنے کا ارادہ ہے؟“ انہوں نے عرض کی: جی نہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر روزہ توڑ دو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصوم/حدیث: 3611]

3612

Sahih Ibn Hibban #3612

أَخْبَرَنَا ابْنُ خُزَيْمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَسْرُوقِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ ، عَنْ زَائِدَةَ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لا تَخُصُّوا لَيْلَةَ الْجُمُعَةِ بِقِيَامٍ مِنْ بَيْنِ اللَّيَالِي ، وَلا تَخُصُّوا يَوْمَ الْجُمُعَةِ بِصِيَامٍ مِنْ بَيْنِ الأَيَّامِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”جمعہ کی رات کو باقی راتوں کو چھوڑ کر نوافل ادا کرنے کے لیے مخصوص نہ کرو اور جمعہ کے دن کو باقی دنوں کے درمیان روزہ رکھنے کے لیے مخصوص نہ کرو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصوم/حدیث: 3612]

3613

Sahih Ibn Hibban #3613

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَسْرُوقِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ ، عَنْ زَائِدَةَ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لا تَخُصُّوا يَوْمَ الْجُمُعَةِ بِصِيَامٍ مِنْ بَيْنِ الأَيَّامِ ، وَلا تَخُصُّوا لَيْلَةَ الْجُمُعَةِ بِقِيَامٍ مِنْ بَيْنِ اللَّيَالِي """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”باقی دنوں کے درمیان جمعہ کے دن کو روزے کے لیے مخصوص نہ کرو اور باقی راتوں کے درمیان جمعہ کی رات کو نوافل ادا کرنے کے لیے مخصوص نہ کرو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصوم/حدیث: 3613]

3614

Sahih Ibn Hibban #3614

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أبو مُعَاوِيَةُ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لا يَصُومُ أَحَدُكُمْ يَوْمَ الْجُمُعَةِ إِلا أَنْ يَصُومَ قَبْلَهُ أَوْ بَعْدَهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جو بھی شخص جمعہ کے دن روزہ رکھے، تو وہ اس سے ایک دن پہلے یا اس کے بعد (ایک دن) بھی روزہ رکھے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصوم/حدیث: 3614]

3615

Sahih Ibn Hibban #3615

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُبَشِّرُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، عَنْ حَسَّانَ بْنِ نُوحٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ بُسْرٍ الْمَازِنِيَّ صَاحِبَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : تَرَوْنَ يَدِي هَذِهِ ؟ بَايَعْتُ بِهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَسَمِعْتُهُ ، يَقُولُ : لا تَصُومُوا يَوْمَ السَّبْتِ إِلا فِيمَا افْتُرِضَ عَلَيْكُمْ ، وَلَوْ لَمْ يَجِدْ أَحَدُكُمْ إِلا لِحَاءَ شَجَرَةٍ فَلِيُفْطِرْ عَلَيْهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن بسر مازنی رضی اللہ عنہ جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ہیں، وہ یہ فرماتے ہیں: تم نے میرے یہ ہاتھ دیکھے ہیں؟ میں نے ان کے ذریعے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دستِ اقدس پر بیعت کی تھی، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”تم لوگ ہفتہ کے دن روزہ نہ رکھو، ماسوائے اس روزے کے جو تم پر فرض ہے اور اگر کسی شخص کو (ہفتے کے دن) چبانے کے لیے درخت کی جڑ ملتی ہے، تو وہ اس کے ذریعے ہی افطار کر لے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصوم/حدیث: 3615]

3616

Sahih Ibn Hibban #3616

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الْمَرُوَزِيُّ زَاجٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُمَرَ بْنِ عَلِيٍّ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ كُرَيْبًا مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ أَخْبَرَهُ ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ وَنَاسًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثُونِي إِلَى أُمِّ سَلَمَةَ أُسَائِلُهَا عَنْ أَيِّ الأَيَّامِ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكْثَرَ لِصِيَامِهَا ؟ فَقَالَتْ : يَوْمَ السَّبْتِ وَالأَحَدِ ، فَرَجَعْتُ إِلَيْهِمْ فَأَخْبَرْتُهُمْ ، فَكَأَنَّهُمْ أَنْكَرُوا ذَلِكَ ، فَقَامُوا بِأَجْمَعِهِمْ إِلَيْهَا ، فَقَالُوا : إِنَّا بَعَثْنَا إِلَيْكِ هَذَا فِي كَذَا وَكَذَا ، وَذَكَرَ أَنَّكِ قُلْتِ كَذَا ، فَقَالَتْ : صَدَقَ ، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَأَكْثَرُ مَا كَانَ يَصُومُ مِنَ الأَيَّامِ يَوْمُ السَّبْتِ وَالأَحَدِ ، وَكَانَ يَقُولُ : إِنَّهُمَا عِيدَانِ لِلْمُشْرِكِينَ ، وَأَنَا أُرِيدُ أَنْ أُخَالِفَهُمْ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

کریب بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے چند دیگر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے مجھے سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں بھیجا، تاکہ میں ان سے یہ دریافت کروں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم زیادہ تر کون سے دن میں روزہ رکھا کرتے تھے، تو سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے بتایا: ہفتے کے دن اور اتوار کے دن میں۔ میں ان لوگوں کے پاس واپس آیا اور انہیں اس بارے میں بتایا، تو انہوں نے اس بات کو تسلیم نہیں کیا۔ وہ سب لوگ اٹھ کر سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں خود حاضر ہوئے اور انہوں نے یہ بتایا کہ ہم نے اس شخص کو آپ کی خدمت میں اس مسئلے کے بارے میں دریافت کرنے کے لیے بھیجا تھا، اس نے تو یہ بات بتائی ہے کہ آپ نے یہ بات بیان کی ہے، تو سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: اس نے ٹھیک کہا ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم زیادہ تر ہفتے اور اتوار والے دن روزہ رکھا کرتے تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ فرماتے تھے: ”یہ دونوں مشرکین کی عید کے دن ہیں (وہ اس دن کھاتے پیتے ہیں)، تو میں یہ چاہتا ہوں کہ میں ان کے برخلاف کروں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصوم/حدیث: 3616]

3617

Sahih Ibn Hibban #3617

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ ، عَنْ سُفِيَانَ ، عَنْ حُصَيْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ صَيْفِيٍّ الأَنْصَارِيِّ ، قَالَ : خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَيَوْمَ عَاشُورَاءَ ، فَقَالَ : هَلْ مِنْكُمْ أَحَدٌ طَعِمَ الِيَوْمَ ؟ " ، قَالُوا : مِنَّا مَنْ طَعِمَ ، وَمِنَّا مَنْ لَمْ يَطْعَمْ ، فَقَالَ : " مَنْ كَانَ لَمْ يَطْعَمْ مِنْكُمْ ، فَلِيَصُمْ ، وَمَنْ طَعِمَ ، فَلِيُتِمَّ بَقِيَّةَ يَوْمِهِ ، وَآذِنُوا أَهْلَ الْعَرُوضِ ، فَلِيُتِمُّوا بَقِيَّةَ يَوْمِهِمْ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا محمد بن صیفی انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: عاشورہ کے دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور دریافت فرمایا: ”کیا تم میں سے کسی نے آج کچھ کھایا ہے؟“ لوگوں نے عرض کی: ہم میں سے کچھ لوگوں نے کچھ کھایا ہے اور کچھ نے کچھ نہیں کھایا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے جس نے کچھ نہیں کھایا وہ روزہ رکھ لے اور جس نے کچھ کھا لیا ہے، تو وہ بقیہ دن (کا روزہ) مکمل کرے اور نواحی علاقے کے لوگوں کو یہ اطلاع دے دو کہ وہ بقیہ دن کو مکمل کریں (یعنی کچھ نہ کھائیں)۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصوم/حدیث: 3617]

3618

Sahih Ibn Hibban #3618

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ بَكَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَرْمَلَةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَسْمَاءِ بْنِ حَارِثَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَهُ إِلَى قَوْمِهِ ، قَالَ : مُرْ قَوْمَكَ فَلِيَصُومُوا هَذَا الِيَوْمَ " ، قُلْتُ : فَإِنْ وَجَدْتُهُمْ قَدْ طَعِمُوا قَالَ : " فَلِيُتِمُّوا آخِرَ يَوْمِهِمْ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا اسماء بن حارثہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ان کی قوم کی طرف بھیجا اور ارشاد فرمایا: ”تم ان لوگوں کو یہ ہدایت کرو کہ وہ آج کے دن روزہ رکھیں۔“ میں نے دریافت کیا: اگر میں ان لوگوں کو ایسی حالت میں پاؤں کہ وہ کچھ کھا چکے ہوں؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ دن کے آخر تک اسے مکمل کریں (یعنی مزید کچھ نہ کھائیں)۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصوم/حدیث: 3618]

3619

Sahih Ibn Hibban #3619

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا الدَّوْرَقِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الأَكُوَعِ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ رَجُلا مِنْ أَسْلَمَ يُؤَذِّنُ فِي النَّاسِ : أَنَّالِيَوْمَ يَوْمُ عَاشُورَاءَ فَمَنْ أَكَلَ فَلا يَأْكُلْ شَيْئًا بَقِيَّةَ يَوْمِهِ ، وَمَنْ لَمْ يَكُنْ أَكَلَ وَشَرِبَ فَلِيَصُمْ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسلم قبیلے سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کو لوگوں کے درمیان یہ اعلان کرنے کے لیے بھیجا: ”آج عاشورہ کا دن ہے، جس شخص نے کچھ کھا لیا ہو، تو وہ باقی دن کچھ نہ کھائے اور جس شخص نے کچھ نہ کھایا ہو یا کچھ نہ پیا ہو، تو وہ روزہ رکھ لے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصوم/حدیث: 3619]

3620

Sahih Ibn Hibban #3620

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى الصَّنْعَانِيُّ ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ ذَكُوَانَ ، عَنِ الرُّبَيِّعِ بِنْتِ مُعَوِّذِ بْنِ عَفْرَاءَ ، قَالَتْ : أَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَدَاةَ عَاشُورَاءَ إِلَى قُرَى الأَنْصَارِ الَّتِي حَوْلَ الْمَدِينَةِ : مَنْ كَانَ أَصْبَحَ صَائِمًا فَلِيُتِمَّ صَوْمَهُ ، وَمَنْ كَانَ أَصْبَحَ مُفْطِرًا فَلِيَصُمْ بَقِيَّةَ يَوْمِهِ ذَلِكَ "، قَالَتْ : فَكُنَّا نَصُومُهُ وَنُصَوِّمُ صِبِيَانَنَا الصِّغَارَ وَنَذْهَبُ بِهِمْ إِلَى الْمَسْجِدِ ، وَنَجْعَلُ لَهُمُ اللُّعْبَةَ مِنَ الْعِهْنِ ، فَإِذَا بَكَى أَحَدُهُمْ عَلَى الطَّعَامِ ، أَعْطَيْنَاهَا إِيَّاهُ حَتَّى يَكُونَ عِنْدَ الإِفْطَارِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ رُبَیِّع بنت معوذ بن عفراء رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عاشورہ کے دن صبح کے وقت مدینہ منورہ کے اردگرد موجود انصار کی آبادیوں کی طرف یہ پیغام بھیجا: ”جس شخص نے روزہ رکھا ہوا ہو وہ اپنا روزہ مکمل کرے اور جس شخص نے کچھ کھا لیا ہو، تو وہ بقیہ دن کا روزہ رکھے (یعنی مزید کچھ کھائے پیے نہیں)۔“ سیدہ رُبَیِّع رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ہم لوگ اس دن روزہ رکھا کرتے تھے اور اپنے چھوٹے بچوں کو بھی روزہ رکھوایا کرتے تھے، ہم انہیں ساتھ لے کر مسجد آ جاتے تھے اور ان کے لیے اون کی گڑیا بنا لیتے تھے، جب ان میں سے کوئی ایک بچہ کھانے کے لیے روتا تھا، تو ہم وہ اسے دے دیتے تھے، یہاں تک کہ افطاری کا وقت ہو جاتا تھا (تو ہم روزہ کھولتے تھے)۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصوم/حدیث: 3620]

3621

Sahih Ibn Hibban #3621

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الأَنْصَارِيُّ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ : كَانَيَوْمُ عَاشُورَاءَ يَوْمًا تَصُومُهُ قُرَيْشٌ فِي الْجَاهِلِيَّةِ ، فَلَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ ، صَامَهُ وَأَمَرَ بِصِيَامِهِ ، فَلَمَّا فُرِضَ رَمَضَانُ ، كَانَ هُوَ الْفَرِيضَةَ ، وَتُرِكَ يَوْمُ عَاشُورَاءَ ، فَمَنْ شَاءَ صَامَ ، وَمَنْ شَاءَ تَرَكَهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: عاشورہ کا دن ایک ایسا دن تھا جس میں قریش زمانہ جاہلیت میں روزہ رکھا کرتے تھے، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دن روزہ رکھا اور اس دن روزہ رکھنے کا حکم بھی دیا، جب رمضان فرض ہوا، تو وہ فرض قرار پایا اور عاشورہ کے دن کو ترک کر دیا گیا، تو جو شخص چاہتا تھا وہ (عاشورہ کے دن) روزہ رکھ لیتا تھا اور جو شخص چاہتا تھا وہ ترک کر دیتا تھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصوم/حدیث: 3621]

3622

Sahih Ibn Hibban #3622

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ الْخَلِيلِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاوِيَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ فِي صَوْمِيَوْمِ عَاشُورَاءَ بَعْدَمَا نَزَلَ صَوْمُ رَمَضَانَ : مَنْ شَاءَ صَامَهُ ، وَمَنْ شَاءَ أَفْطَرَهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عاشورہ کے دن روزہ رکھنے کے بارے میں یہ فرمایا ہے، یہ رمضان کے روزوں کا حکم نازل ہونے کے بعد کی بات ہے: ”جو شخص چاہے وہ اس دن روزہ رکھ لے اور جو شخص چاہے وہ روزہ نہ رکھے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصوم/حدیث: 3622]

3623

Sahih Ibn Hibban #3623

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الُوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ، حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَوْمُ عَاشُورَاءَ يَوْمٌ كَانَتْ تَصُومُهُ أَهْلُ الْجَاهِلِيَّةِ ، فَمَنْ أَحَبَّ مِنْكُمْ أَنْ يَصُومَهُ فَلِيَصُمْهُ ، وَمَنْ كَرِهَهُ فَلِيَدَعْهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”عاشورہ کا دن ایک ایسا دن ہے جس میں زمانہ جاہلیت میں لوگ یہ روزہ رکھا کرتے تھے، تو تم میں سے جو شخص اس دن روزہ رکھنا چاہے وہ روزہ رکھ لے اور جو شخص اسے ناپسند کرے وہ اسے چھوڑ دے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصوم/حدیث: 3623]

3624

Sahih Ibn Hibban #3624

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحِيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الأَشَجِّ ، عَنْ يَزِيدَ مَوْلَى سَلَمَةَ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الأَكُوَعِ ، أَنَّهُ قَالَ : كُنَّا فِي رَمَضَانَ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ شَاءَ صَامَ ، وَمَنْ شَاءَ أَفْطَرَ وَافْتَدَى بِإِطْعَامِ مِسْكِينٍ ، حَتَّى نَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ : فَمَنْ شَهِدَ مِنْكُمُ الشَّهْرَ فَلْيَصُمْهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں ہم لوگ رمضان میں یوں روزے رکھتے تھے کہ جو شخص چاہتا تھا وہ روزہ رکھ لیتا تھا اور جو شخص چاہتا تھا وہ روزہ چھوڑ دیتا تھا اور غریب کو کھانا کھلانے کا فدیہ دے دیا کرتا تھا، یہاں تک کہ یہ آیت نازل ہوئی: ﴿فَمَنْ شَهِدَ مِنْكُمُ الشَّهْرَ فَلْيَصُمْهُ﴾ [سورة البقرة: 185] ”تم میں سے جس شخص کو رمضان کا مہینہ ملے، تو وہ اس میں روزے رکھے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصوم/حدیث: 3624]

3625

Sahih Ibn Hibban #3625

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنِ ابْنِ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَجَدَيَهُودَ يَصُومُونَ يَوْمَ عَاشُورَاءَ ، فَقَالَ لَهُمْ : مَا هَذَا ؟ " ، قَالُوا : يَوْمٌ عَظِيمٌ نَجَّى اللَّهُ فِيهِ مُوسَى ، وَأَغْرَقَ آلَ فِرْعَوْنَ ، فَصَامَهُ مُوسَى شُكْرًا لِلَّهِ ، فَقَالُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَنَا أَوْلَى بِمُوسَى ، وَأَحَقُّ بِصِيَامِهِ مِنْكُمْ " ، فَصَامَهُ ، وَأَمَرَ بِصِيَامِهِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم (مدینہ منورہ) تشریف لائے، تو آپ نے یہودیوں کو پایا کہ وہ عاشورہ کے دن روزہ رکھتے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے دریافت فرمایا: ”اس کی کیا وجہ ہے؟“ انہوں نے بتایا کہ یہ ایک عظیم دن ہے، جس میں اللہ تعالیٰ نے سیدنا موسیٰ علیہ السلام کو نجات عطا کی تھی اور فرعون اور اس کے ماننے والوں کو ڈبو دیا تھا، تو سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنے کے لیے اس دن روزہ رکھا تھا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تمہارے مقابلے میں ہم سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے زیادہ قریب ہیں اور اس دن روزہ رکھنے کے زیادہ حقدار ہیں۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دن روزہ رکھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دن روزہ رکھنے کا حکم بھی دیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصوم/حدیث: 3625]

3626

Sahih Ibn Hibban #3626

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحِيَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ الزُهْرِيِّ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّ مُعَاوِيَةَ خَطَبَ بِالْمَدِينَةَ فِي قَدْمَةٍ قَدِمَهَا يَوْمَ عَاشُورَاءَ ، فَقَالَ : أَيْنَ عُلَمَاؤُكُمْ يَا أَهْلَ الْمَدِينَةِ ؟ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : هَذَا يَوْمُ عَاشُورَاءَ ، وَلَمْ يُكْتَبْ عَلَيْكُمْ صِيَامُهُ ، وَأَنَا صَائِمٌ ، فَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يَصُومَ فَلِيَصُمْ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حمید بن عبدالرحمن رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ مدینہ منورہ تشریف لائے، انہوں نے عاشورہ کے دن خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: اے اہل مدینہ! تمہارے علماء کہاں ہیں؟ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”یہ عاشورہ کا دن ہے، اس دن روزہ رکھنا تم پر لازم قرار نہیں دیا گیا، لیکن میں نے روزہ رکھا ہوا ہے، تو جو شخص (اس دن میں) روزہ رکھنا پسند کرے وہ روزہ رکھ لے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصوم/حدیث: 3626]

3627

Sahih Ibn Hibban #3627

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِشْكَابَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ أَبِي عُمَيْسٍ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ : كَانَتْيَهُودُ تَتَّخِذُ يَوْمَ عَاشُورَاءَ عِيدًا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : خَالِفُوهُمْ ، صُومُوا أَنْتُمْ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ یہودی عاشورہ کے دن کو عید قرار دیتے تھے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم لوگ ان کے برخلاف کرو، تم لوگ (عاشورہ کے دن) روزہ رکھو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصوم/حدیث: 3627]

3628

Sahih Ibn Hibban #3628

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ يَحِيَى ، عَنْ عَمَّتِهِ عَائِشَةَ بِنْتِ طَلْحَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ ، قَالَتْ : دَخَلَ عَلَيَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ ، فَقَالَ : هَلْ عِنْدَكِ شَيْءٌ ؟ " ، قُلْتُ : لا ، قَالَ : " فَإِنِّي صَائِمٌ " ، قَالَتْ : ثُمَّ أَتَانَا يَوْمًا آخَرَ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أُهْدِيَ لَنَا حَيْسٌ فَخَبَّأْنَاهُ لَكَ ، فَقَالَ : " أَدْنِيهِ " ، فَأَصْبَحَ صَائِمًا ، ثُمَّ أَفْطَرَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے، آپ نے دریافت کیا: ”کیا تمہارے پاس کھانے کے لیے کچھ ہے؟“ میں نے جواب دیا: جی نہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر میں روزہ رکھ لیتا ہوں۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اسی دن میں دوسری مرتبہ میرے ہاں تشریف لائے، میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہمیں «حَيْسٌ» ”حیس“ تحفے کے طور پر دیا گیا ہے وہ ہم نے آپ کے لیے سنبھال کر رکھا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے پیش کرو۔“ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے روزہ رکھا ہوا تھا پھر آپ نے روزہ ختم کر دیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصوم/حدیث: 3628]

3629

Sahih Ibn Hibban #3629

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ يَحِيَى ، عَنْ عَائِشَةَ بِنْتِ طَلْحَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَيُحِبُّ طَعَامَنَا ، فَجَاءَنَا يَوْمًا ، فَقَالَ : هَلْ عِنْدَكُمْ مِنْ ذَلِكَ ؟ " ، فَقُلْتُ : لا ، فَقَالَ : " إِنِّي صَائِمٌ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے کھانے کو پسند کرتے تھے۔ ایک دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”کیا تمہارے پاس (کچھ کھانے کے لیے) ہے؟“ میں نے عرض کی: جی نہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر میں روزہ رکھ لیتا ہوں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصوم/حدیث: 3629]

3630

Sahih Ibn Hibban #3630

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ الدُّولابِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ زَكَرِيَّا ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ يَحِيَى ، عَنْ عَائِشَةَ بِنْتِ طَلْحَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ ، قَالَتْ : إِنْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيَدْخُلُ عَلَيْنَا ، فَيَقُولُ : أَصْبَحَ عِنْدَكُمْ شَيْءٌ ؟ " ، فَنَقُولُ : لا ، فَيَقُولُ : " إِنِّي صَائِمٌ " ، قَالَتْ : وَدَخَلَ عَلَيْنَا ذَاتَ يَوْمٍ ، فَقَالَ : " هَلْ عِنْدَكُمْ مِنْ شَيْءٍ ؟ " ، قُلْتُ : نَعَمْ ، حَيْسٌ أُهْدِيَ لَنَا ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَقَدْ أَصْبَحْتُ وَأَنَا صَائِمٌ " ، ثُمَّ دَعَا بِهِ فَطَعِمَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ بعض اوقات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے ہاں تشریف لاتے اور دریافت فرماتے: ”کیا تمہارے پاس (کھانے کے لیے) کچھ ہے؟“ اگر ہم جواب دیتے: جی نہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے: ”پھر میں روزہ رکھ لیتا ہوں۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے ہاں تشریف لائے اور دریافت فرمایا: ”کیا تمہارے پاس کچھ ہے؟“ میں نے عرض کی: جی ہاں! ہمیں ”حیس“ تحفے کے طور پر دیا گیا ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”صبح تو میں نے روزہ رکھنے کی نیت کی تھی۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھانا منگوایا اور اسے کھا لیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصوم/حدیث: 3630]

3631

Sahih Ibn Hibban #3631

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفِيَانَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ الضَّرِيرُ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ غَيْلانَ بْنِ جَرِيرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْبَدٍ ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ ، أَنَّ رَجُلا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ،أَرَأَيْتَ رَجُلا يَصُومُ يَوْمَ عَاشُورَاءَ ؟ قَالَ : ذَاكَ صَوْمُ سَنَةٍ " ، قَالَ : أَرَأَيْتَ رَجُلا يَصُومُ يَوْمَ عَرَفَةَ ؟ قَالَ : " يُكَفِّرُ السَّنَةَ ، وَمَا قَبْلَهَا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا، اس نے عرض کی: ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ایسے شخص کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے جو عاشورہ کے دن روزہ رکھتا ہے؟“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ سال بھر (روزہ رکھنے کے برابر ہے)۔“ اس نے دریافت کیا: ”ایسے شخص کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے جو عرفہ کے دن روزہ رکھتا ہے؟“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ ایک سال کے اور اس سے پہلے کے ایک سال کے گناہوں کو ختم کر دیتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصوم/حدیث: 3631]

3632

Sahih Ibn Hibban #3632

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ غَيْلانَ بْنِ جَرِيرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْبَدٍ ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : صِيَامُ يَوْمِ عَرَفَةَ إِنِّي أَحْتَسِبَ عَلَى اللَّهِ أَنْ يُكَفِّرَ السَّنَةَ الَّتِي قَبْلَهُ ، وَالسَّنَةَ الَّتِي بَعْدَهُ ، وَصِيَامُ يَوْمِ عَاشُورَاءَ إِنِّي أَحْتَسِبُ عَلَى اللَّهِ أَنْ يُكَفِّرَ السَّنَةَ الَّتِي قَبْلَهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”عرفہ کے دن روزہ رکھنے کے بارے میں مجھے اللہ تعالیٰ سے یہ امید ہے کہ یہ اس سے پہلے کے ایک سال اور اس کے بعد کے ایک سال (اور اس ایک سال کے) گناہوں کو ختم کر دیتا ہے اور عاشورہ کے دن روزہ رکھنے کے بارے میں مجھے اللہ تعالیٰ کے فضل سے یہ امید ہے کہ یہ اس سے پہلے کے ایک سال کے گناہوں کو ختم کر دیتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصوم/حدیث: 3632]

3633

Sahih Ibn Hibban #3633

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الُوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا حَاجِبُ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ الأَعْرَجِ ، قَالَ : انْتَهَيْتُ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ وَهُوَ مُتَوَسِّدٌ رِدَاءَهُ عِنْدَ زَمْزَمَ ، فَجَلَسْتُ إِلَيْهِ ، وَنِعْمَ الْجَلِيسُ كَانَ ، فَسَأَلْتُهُ عَنْ عَاشُورَاءَ ؟ فَاسْتَوَى جَالِسًا ، ثُمَّ قَالَ : عَنْ أَيِّ بَابِهِ تَسْأَلُ ؟ " قَالَ : قُلْتُ : عَنْ صِيَامِهِ ، أَيَّ يَوْمٍ نَصُومُهُ ؟ قَالَ :" إِذَا رَأَيْتَ هِلالَ الْمُحَرَّمِ فَاعْدُدْ ، ثُمَّ أَصْبِحْ مِنْ تَاسِعِهِ صَائِمًا " ، قُلْتُ : أَكَذَلِكَ كَانَ يَصُومُ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ : " نَعَمْ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حکم بن اعرج بیان کرتے ہیں: میں سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی خدمت میں حاضر ہوا، وہ اس وقت زمزم کے کنویں کے پاس اپنی چادر کے ساتھ ٹیک لگا کر بیٹھے ہوئے تھے۔ میں ان کے پاس بیٹھ گیا، وہ بہترین ہم نشین تھے، میں نے ان سے عاشورہ کے بارے میں دریافت کیا، تو وہ سیدھے ہو کر بیٹھ گئے۔ پھر انہوں نے دریافت کیا: تم اس کے بارے میں کس حوالے سے پوچھنا چاہتے ہو؟ میں نے دریافت کیا: اس کے روزے کے بارے میں کہ ہمیں کون سے دن روزہ رکھنا چاہیے؟ تو انہوں نے فرمایا: جب تم محرم کا چاند دیکھ لو تو گنتی شروع کر دو، پھر تم اس کی نو تاریخ کو روزہ رکھنا۔ میں نے کہا: کیا سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم بھی اسی طرح روزہ رکھا کرتے تھے؟ انہوں نے جواب دیا: جی ہاں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصوم/حدیث: 3633]

3634

Sahih Ibn Hibban #3634

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنِي صَفُوَانُ بْنُ سُلَيْمٍ ، وَسَعْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ ثَابِتٍ الأَنْصَارِيِّ ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الأَنْصَارِيِّ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : مَنْ صَامَ رَمَضَانَ ، وَأَتْبَعَهُ بِسِتٍّ مِنْ شَوَّالٍ ، فَذَلِكَ صَوْمُ الدَّهْرِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جو شخص رمضان کے روزے رکھے اور اس کے بعد شوال کے چھ روزے رکھے، تو یہ ہمیشہ (یعنی سال بھر) روزہ رکھنے کے مترادف ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصوم/حدیث: 3634]

3635

Sahih Ibn Hibban #3635

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الأَنْصَارِيُّ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا الُوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا يَحِيَى بْنُ الْحَارِثِ الذِّمَارِيُّ ، عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ الرَّحَبِيِّ ، عَنْ ثَوْبَانَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : مَنْ صَامَ رَمَضَانَ ، وَسِتًّا مِنْ شَوَّالٍ ، فَقَدْ صَامَ السَّنَةَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے آزاد کردہ غلام ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جو شخص رمضان کے روزے رکھے اور شوال کے چھ روزے رکھے، تو اس نے سال بھر روزے رکھے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصوم/حدیث: 3635]

3636

Sahih Ibn Hibban #3636

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْجُنَيْدِ ، حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحِمِيَرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَفْضَلُ الصِّيَامِ بَعْدَ شَهْرِ رَمَضَانَ شَهْرُ اللَّهِ الْمَحَرَّمُ ، وَأَفْضَلُ الصَّلاةِ بَعْدَ الْفَرِيضَةِ صَلاةُ اللَّيْلِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”رمضان کے مہینے کے بعد سب سے افضل روزے اللہ تعالیٰ کے مہینے «الْمُحَرَّمِ» کے ہیں اور فرض نماز کے بعد سب سے افضل نماز رات کے وقت ادا کی جانے والی نماز ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصوم/حدیث: 3636]

3637

Sahih Ibn Hibban #3637

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي عَوْنٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ كَاسِبٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي لَبِيدٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالَ : أَتَيْتُ عَائِشَةَ أَسْأَلُهَا عَنْ صِيَامِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَتْ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَيَصُومُ حَتَّى نَقُولَ : قَدْ صَامَ ، ثُمَّ يُفْطِرُ حَتَّى نَقُولَ : قَدْ أَفْطَرَ ، وَمَا رَأَيْتُهُ بَعْدَ شَهْرِ رَمَضَانَ أَكْثَرَ صِيَامًا مِنْهُ فِي شَعْبَانَ ، كَانَ يَصُومُهُ كُلَّهُ إِلا قَلِيلا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابوسلمہ بن عبدالرحمن بیان کرتے ہیں: میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا، تاکہ ان سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے روزہ رکھنے کے معمول کے بارے میں دریافت کروں، تو انہوں نے بتایا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم (کسی مہینے میں) اتنے نفلی روزے رکھتے تھے کہ ہم یہ سوچتے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزے ہی رکھتے رہیں گے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم (کسی مہینے میں) نفلی روزے ترک کر دیتے تھے، یہاں تک کہ ہم یہ سوچتے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزہ نہیں رکھیں گے۔ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو رمضان کے علاوہ اور کسی بھی مہینے میں شعبان سے زیادہ روزے رکھتے نہیں دیکھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم شعبان کے کچھ دنوں میں روزہ نہیں رکھتے تھے، باقی پورا مہینہ روزہ رکھتے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصوم/حدیث: 3637]