Muslim99Muslim99

Sahih Ibn Hibban · Book 32 · Chapter 2

Book of Testimonies

Hadith 3564–3603

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

3564

Sahih Ibn Hibban #3564

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي اللَّيْثُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ عَامَ الْفَتْحِ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ ،فَصَامَ حَتَّى بَلَغَ الْكَدِيدَ ، ثُمَّ أَفْطَرَ" ، قَالَ : وَكَانَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَّبِعُونَ الأَحْدَثَ ، فَالأَحْدَثَ مِنْ أَمْرِهِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ فتح مکہ کے موقع پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے مہینے میں روانہ ہوئے، کدید پہنچنے تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے روزہ رکھا ہوا تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے روزہ ختم کر دیا۔ راوی بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد میں پیش آنے والے معاملے کی پیروی کیا کرتے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصوم/حدیث: 3564]

3565

Sahih Ibn Hibban #3565

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَسَافَرَ فِي رَمَضَانَ ، فَاشْتَدَّ الصَّوْمُ عَلَى رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِهِ ، فَجَعَلَتْ نَاقَتُهُ تَهِيمُ بِهِ تَحْتَ ظِلالِ الشَّجَرِ ، فَأُخْبِرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَمَرَهُ فَأَفْطَرَ ، ثُمَّ دَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِإِنَاءٍ فِيهِ مَاءٌ ، فَوَضَعَهُ عَلَى يَدِهِ ، فَلَمَّا رَآهُ النَّاسُ شَرِبَ شَرِبُوا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان کے مہینے میں سفر کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے ایک صاحب کے لیے روزہ رکھنا دشواری کا باعث ہو گیا اور اس کی اونٹنی اسے لے کر ایک درخت کے سائے میں چلی گئی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بارے میں بتایا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے روزہ ختم کرنے کا حکم دیا، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک برتن منگوایا جس میں پانی موجود تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنے ہاتھ میں لیا، جب لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ لیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی پی لیا ہے، تو لوگوں نے بھی پانی پی لیا، (اور روزہ ختم کر دیا)۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصوم/حدیث: 3565]

3566

Sahih Ibn Hibban #3566

أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ النَّضْرِ بْنِ عَمْرٍو الْقُرَشِيُّ أَبُو زَيْدٍ ، بِالْبَصْرَةِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الُوَاحِدِ بْنُ غِيَاثٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْمَدِينَةِ إِلَى مَكَّةَ ،فَصَامَ حَتَّى بَلَغَ عُسْفَانَ ، ثُمَّ دَعَا بِمَاءٍ ، فَرَفَعَهُ إِلَى يَدِهِ لِيَرَاهُ النَّاسُ ، فَأَفْطَرَ حَتَّى قَدِمَ مَكَّةَ ، وَذَلِكَ فِي رَمَضَانَ " ، وَكَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ : " قَدْ صَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَفْطَرَ ، فَمَنْ شَاءَ صَامَ ، وَمَنْ شَاءَ أَفْطَرَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ سے مکہ جانے کے لیے روانہ ہوئے، آپ نے روزہ رکھا ہوا تھا، جب آپ عسفان کے مقام پر پہنچے تو آپ نے پانی منگوایا، آپ نے اپنے دستِ مبارک کو بلند کیا تاکہ لوگ آپ کو دیکھ لیں، پھر آپ نے روزہ ختم کر دیا اور مکہ تشریف لانے تک (آپ نے روزہ نہیں رکھا)، یہ رمضان کے مہینے کی بات ہے۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ”نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے (سفر کے دوران) روزہ رکھا بھی ہے اور نہیں بھی رکھا، تو جو شخص چاہے وہ (سفر کے دوران) روزہ رکھ لے اور جو چاہے وہ نہ رکھے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصوم/حدیث: 3566]

3567

Sahih Ibn Hibban #3567

أَخْبَرَنَا ابْنُ سَلْمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحِيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ أَبَى الأَسُوَدِ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ أَبِي مُرَاوِحٍ ، عَنْ حَمْزَةَ بْنِ عَمْرٍو الأَسْلَمِيِّ ، أَنَّهُ قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ،أَجِدُ لِيَ قُوَّةً عَلَى الصِّيَامِ فِي السَّفَرِ ، فَهَلْ عَلَيَّ جُنَاحٌ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : هِيَ رُخْصَةٌ مِنَ اللَّهِ ، فَمَنْ أَخَذَ بِهَا فَحَسَنٌ ، وَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يَصُومَ فَلا جُنَاحَ عَلَيْهِ "، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَيْهِ : سَمِعَ هَذَا الْخَبَرَ عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، وَأَبَى مُرَاوِحٍ ، عَنْ حَمْزَةَ بْنِ عَمْرٍو ، وَلَفْظَاهُمَا مُخْتَلِفَانِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا حمزہ بن عمرو اسلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں اپنے اندر سفر کے دوران روزہ رکھنے کی قوت پاتا ہوں، تو کیا مجھے کوئی گناہ ہو گا (اگر میں روزہ رکھ لوں)؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ملنے والی رخصت ہے، جو اسے اختیار کر لیتا ہے، تو یہ اچھا ہے اور جو شخص روزہ رکھنے کو پسند کرتا ہے تو اسے کوئی گناہ نہیں ہو گا۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) عروہ بن زبیر نے یہ روایت سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے سنی ہے اور ابومراوح نے یہ روایت سیدنا حمزہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے سنی ہے، تو ان دونوں کے الفاظ مختلف ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصوم/حدیث: 3567]

3568

Sahih Ibn Hibban #3568

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ ، عَنْ حَرْبِ بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : إنَّاللَّهَ يُحِبُّ أَنْ تُؤْتَى رُخَصُهُ ، كَمَا يُحِبُّ أَنْ تُؤْتَى عَزَائِمُهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”بے شک اللہ تعالیٰ اس بات کو پسند کرتا ہے کہ اس کی عطا کردہ رخصت پر عمل کیا جائے، جس طرح وہ اس بات کو پسند کرتا ہے کہ اس کی لازم کردہ چیز پر عمل کیا جائے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصوم/حدیث: 3568]

3569

Sahih Ibn Hibban #3569

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ ، حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحِيَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي جَعْفَرٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، أنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : مَنْ مَاتَ وَعَلَيْهِ صِيَامٌ صَامَ عَنْهُ وَلِيُّهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”جو شخص فوت ہو جائے اور اس کے ذمے روزے رکھنا لازم ہو، تو اس کا ولی اس کی طرف سے روزہ رکھے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصوم/حدیث: 3569]

3570

Sahih Ibn Hibban #3570

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ الأَصْبَهَانِيُّ ، بِالْكَرْخِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الْكِنْدِيُّ ، حدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، عَنِ الْحَكَمِ ، وَمُسْلِمٌ الْبَطِينِ ، وسلمة بن كهيل ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، وَعَطَاءٍ ، وَمُجَاهِدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ أُخْتِي مَاتَتْ وَعَلَيْهَا صِيَامُ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَرَأَيْتِ لَوَ كَانَ عَلَى أُخْتِكِ دَيْنٌ أَكُنْتِ تَقْضِينَهُ ؟ " ، قَالَتْ : نَعَمْ ، قَالَ : " فَحَقُّ اللَّهِ أَحَقُّ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ایک خاتون نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی، اس نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میری بہن کا انتقال ہو گیا ہے، اس پر مسلسل دو ماہ کے روزے رکھنا لازم تھا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تمہارا کیا خیال ہے کہ تمہاری بہن کے ذمے قرض ہوتا، تو کیا تم اسے ادا کر دیتی؟“ اس نے جواب دیا: جی ہاں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کا حق اس بات کا زیادہ حقدار ہے (کہ اسے ادا کیا جائے)۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصوم/حدیث: 3570]

3571

Sahih Ibn Hibban #3571

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الُوَاحِدِ ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ ، عَنْ يَحِيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ : قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَلَمْ أُخْبَرْ أَنَّكَ تَصُومُ النَّهَارَ وَتَقُومُ اللَّيْلَ ؟ " قُلْتُ : بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " فَلا تَفْعَلْ ،نَمْ وَقُمْ وَصُمْ وَأَفْطِرْ ، فَإِنَّ لِجَسَدِكَ عَلَيْكَ حَقًّا ، وَإِنَّ لِزَوْرِكَ عَلَيْكَ حَقًّا ، وَإِنَّ لِزَوْجَتِكَ عَلَيْكَ حَقًّا ، وَإِنِّي مُخَيِّرُكَ أَنْ تَصُومَ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ ثَلاثَةَ أَيَّامٍ ، فَإِنَّ بِكُلِّ حَسَنَةٍ عَشَرَةُ أَمْثَالِهَا ، فَإِذَا ذَلِكَ صِيَامُ الدَّهْرِ كُلِّهِ " ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي أَجِدُ قُوَّةً ، قَالَ : " صُمْ مِنْ كُلِّ جُمُعَةٍ ثَلاثَةَ أَيَّامٍ " ، قَالَ : فَشَدَدْتُ فَشُدِّدَ عَلَيَّ ، قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي أَجِدُ قُوَّةً ، قَالَ : " صُمْ صِيَامَ نَبِيِّ اللَّهِ دَاوُدَ وَلا تَزِدْ عَلَيْهِ " ، قُلْتُ : فَمَا صِيَامُ نَبِيِّ اللَّهِ دَاوُدَ ؟ قَالَ : " نِصْفُ الدَّهْرِ "، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَإِنَّ لِزَوْرِكَ عَلَيْكَ حَقًّا " ، لَيْسَ فِي خَبَرٍ إِلا فِي هَذَا الْخَبَرِ ، وَفِيهِ دَلِيلٌ عَلَى إِبَاحَةَ إِفْطَارِ الْمَرْءِ لِضَيْفٍ يَنْزِلُ بِهِ ، وَزَائِرٍ يَزُورُهُ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”مجھے پتہ چلا ہے کہ تم روزانہ نفلی روزہ رکھ لیتے ہو اور رات بھر نفل پڑھتے رہتے ہو۔“ میں نے جواب دیا: ”جی ہاں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم ایسا نہ کرو (رات کے وقت) تم سو بھی جایا کرو اور نفل بھی پڑھ لیا کرو (دن کے وقت) نفلی روزہ رکھ بھی لیا کرو اور چھوڑ بھی دیا کرو، کیونکہ تمہارے جسم کا بھی تم پر حق ہے، تمہارے مہمان کا بھی تم پر حق ہے، تمہاری بیوی کا بھی تم پر حق ہے، میں تمہیں یہ اختیار دے رہا ہوں کہ تم ہر مہینے میں تین روزے رکھ لیا کرو، ہر نیکی کا بدلہ دس گنا ہوتا ہے، تو یہ پورا مہینہ روزہ رکھنے کے مترادف ہو جائے گا۔“ میں نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! (میں اس سے زیادہ روزے رکھنے کی) قوت محسوس کرتا ہوں۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم ہر ہفتے میں تین روزے رکھ لیا کرو۔“ راوی کہتے ہیں: میں نے شدت کا مطالبہ کیا، تو مجھ پر شدت کی گئی۔ میں نے عرض کی: ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں اس سے زیادہ کی قوت پاتا ہوں۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اس طرح روزے رکھو جس طرح اللہ کے نبی سیدنا داؤد علیہ السلام رکھا کرتے تھے، تم اس سے زیادہ نہ رکھنا۔“ میں نے دریافت کیا: اللہ کے نبی سیدنا داؤد علیہ السلام کے روزہ رکھنے کا طریقہ کیا تھا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نصف زمانہ (یعنی ایک دن روزہ رکھنا اور ایک دن نہ رکھنا)۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں): نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ”تمہارے ملاقاتی کا بھی تم پر حق ہے۔“ یہ الفاظ صرف اسی روایت میں منقول ہیں اور اس میں اس بات کی دلیل موجود ہے کہ گھر میں کسی مہمان یا ملاقاتی کے آنے پر آدمی کے لیے (نفلی روزے) کو ختم کرنا مباح ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصوم/حدیث: 3571]

3572

Sahih Ibn Hibban #3572

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لا تَصُومُ الْمَرْأَةُ وَبَعْلُهَا شَاهِدٌ إِلا بِإِذْنِهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”جب عورت کا شوہر گھر میں موجود ہو، تو وہ اس کی اجازت کے بغیر روزہ نہ رکھے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصوم/حدیث: 3572]

3573

Sahih Ibn Hibban #3573

أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي أُمَيَّةَ ، بِطَرَسُوسَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَامِدُ بْنُ يَحِيَى الْبَلْخِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفِيَانُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي عُثْمَانَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لا تَصُومَنَّ امْرَأَةٌ يَوْمًا سِوَى شَهْرِ رَمَضَانَ وَزَوْجُهَا شَاهِدٌ إِلا بِإِذْنِهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”جس عورت کا شوہر موجود ہو، تو وہ رمضان کے علاوہ کسی بھی دن کا روزہ اس کی اجازت کے بغیر نہ رکھے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصوم/حدیث: 3573]

3574

Sahih Ibn Hibban #3574

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفِيَانَ الشَّيْبَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ الضَّرِيرُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لا تُوَاصِلُوا " ، قَالُوا : فَإِنَّكَ تُوَاصِلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " إِنِّي لَسْتُ كَأَحَدِكُمْ ، إِنَّ رَبِّي يُطْعِمُنِي وَيَسْقِينِي """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم لوگ صومِ وصال نہ رکھو۔“ لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ بھی تو صومِ وصال رکھتے ہیں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں تمہاری مانند نہیں ہوں، میرا پروردگار مجھے کھلا دیتا ہے اور پلا دیتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصوم/حدیث: 3574]

3575

Sahih Ibn Hibban #3575

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : لا تُوَاصِلُوا " ، قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَنَّكَ تُوَاصِلُ ؟ فَقَالَ : " إِنِّي لَسْتُ مِثْلَكُمْ ، إِنِّي أَبِيتُ يُطْعِمُنِي رَبِّي وَيَسْقِينِي " ، فَلَمْ يَنْتَهُوا عَنِ الُوِصَالِ ، فَوَاصَلَ بِهِمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَيْنِ وَلَيْلَتَيْنِ ، ثُمَّ رَأَوَا الْهِلالَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَوْ تَأَخَّرَ الْهِلالُ لَزِدْتُكُمْ "، كَالْمُنَكِّلِ لَهُمْ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”تم لوگ صومِ وصال نہ رکھو۔“ لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ بھی تو صومِ وصال رکھتے ہیں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میں تمہاری مانند نہیں ہوں، میں ایسی حالت میں رات بسر کرتا ہوں کہ میرا پروردگار مجھے کھلا بھی دیتا ہے اور پلا بھی دیتا ہے۔“ لوگ صومِ وصال رکھنے سے باز نہیں آئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو دن اور دو راتوں تک انہیں صومِ وصال رکھوایا۔ پھر لوگوں نے پہلی کا چاند دیکھ لیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اگر پہلی کا چاند نظر آنے میں تاخیر ہوتی، تو میں مزید تم سے یہ روزے رکھواتا“، گویا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں سرزنش کی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصوم/حدیث: 3575]

3576

Sahih Ibn Hibban #3576

أَخْبَرَنَا الْبُجَيْرِيُّ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ شُعَيْبِ بْنِ أَبِي حَمْزَةَ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِيَّاكُمْ وَالُوِصَالَ ، إِيَّاكُمْ وَالُوِصَالَ " ، قَالُوا : فَإِنَّكَ تُوَاصِلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ فَقَالَ : " إِنِّي لَسْتُ فِي ذَلِكَ مِثْلَكُمْ ، إِنِّي أَبِيتُ يُطْعِمُنِي رَبِّي وَيَسْقِينِي ، فَاكْلَفُوا مِنَ الْعَمَلِ مَا لَكُمْ بِهِ طَاقَةٌ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم لوگ صوم وصال نہ رکھو، تم لوگ صوم وصال نہ رکھو۔“ لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ بھی تو صوم وصال رکھتے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں اس بارے میں تمہاری مانند نہیں ہوں، میں ایسی حالت میں رات بسر کرتا ہوں کہ میرا پروردگار مجھے کھلا بھی دیتا ہے اور پلا بھی دیتا ہے، تم صرف اتنے عمل کا خود کو پابند کرو جس کی تم میں طاقت ہو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصوم/حدیث: 3576]

3577

Sahih Ibn Hibban #3577

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي حَيُوَةُ ، وَعُمَرُ بْنُ مَالِكٍ وَذَكَرَ ، عُمَرُ آخَرَ مَعَهُمَا ، عَنِ ابْنِ الْهَادِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خَبَّابٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَنَّهُنَهَى عَنِ الُوِصَالِ " ، فَقِيلَ لَهُ : فَإِنَّكَ تُوَاصِلُ ؟ قَالَ : " لَسْتُمْ كَهَيْئَتِي ، إِنِّي أَبِيتُ لِيَ مُطْعِمٌ يُطْعِمُنِي وَسَاقٍ يَسْقِيَنِي ، فَأَيُّكُمْ وَاصَلَ فَمِنْ سَحَرٍ إِلَى سَحَرٍ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صومِ وصال رکھنے سے منع کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی گئی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی تو صومِ وصال رکھتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم لوگ میری مانند نہیں ہو، میں رات بسر کرتا ہوں تو مجھے کھلانے والا کھلا دیتا ہے اور پلانے والا پلا دیتا ہے، اگر تم میں سے کسی نے صومِ وصال رکھنا ہو تو وہ ایک صبح سے اگلی صبح تک رکھ لے۔“ (یعنی ایک سحری سے اگلی سحری تک صومِ وصال رکھے، یعنی افطاری کے وقت باقاعدہ کچھ کھائے پیے نہیں)۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصوم/حدیث: 3577]

3578

Sahih Ibn Hibban #3578

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّامِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ الُوَلِيدِ ، عَنْ سُفِيَانَ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ ، عَنْ قَزَعَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : لا وِصَالَ فِي الصِّيَامِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”روزے میں ملایا نہیں جا سکتا (یعنی صوم وصال نہیں رکھا جا سکتا)۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصوم/حدیث: 3578]

3579

Sahih Ibn Hibban #3579

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ ، عَنْ يَحِيَى الْقَطَّانِ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : لا تُوَاصِلُوا " ، قَالُوا : إِنَّكَ تُوَاصِلُ ، قَالَ : " إِنِّي لَسْتُ كَأَحَدِكُمْ ، إِنِّي أُطْعَمُ وَأُسْقَى "، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : هَذَا الْخَبَرُ دَلِيلٌ عَلَى أَنَّ الأَخْبَارَ الَّتِي فِيهَا ذِكْرُ وَضْعِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْحَجَرَ عَلَى بَطْنِهِ هِيَ كُلُّهَا أَبَاطِيلُ ، وَإِنَّمَا مَعْنَاهَا الْحُجَزُ لا الْحَجَرُ ، وَالْحُجَزُ طَرَفُ الإِزَارِ ، إِذِ اللَّهُ جَلَّ وَعَلا كَانَ يُطْعِمُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَيَسْقِيهِ إِذَا وَاصَلَ ، فَكَيْفَ يَتْرُكُهُ جَائِعًا مَعَ عَدَمِ الُوِصَالِ حَتَّى يَحْتَاجَ إِلَى شَدِّ حَجَرٍ عَلَى بَطْنِهِ ، وَمَا يُغْنِي الْحَجَرُ عَنِ الْجُوعِ ؟"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”تم لوگ صومِ وصال نہ رکھو۔“ لوگوں نے عرض کی: آپ بھی تو صومِ وصال رکھتے ہیں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں تمہاری مانند نہیں ہوں، مجھے کھلایا اور پلایا جاتا ہے۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں): یہ روایت اس بات کی دلیل ہے کہ وہ تمام روایات جن میں یہ بات مذکور ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پیٹ پر پتھر باندھا تھا، یہ تمام روایات جھوٹی ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہاں تہبند باندھا تھا، اس سے مراد پتھر باندھنا نہیں اور لفظ «حُجْز» سے مراد تہبند کا سرا ہے، اس کی وجہ یہ ہے: اللہ تعالیٰ اپنے رسول کو کھلا بھی دیتا تھا اور پلا بھی دیتا تھا۔ اس وقت جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم صومِ وصال رکھتے تھے، تو اللہ تعالیٰ آپ کو اس وقت کیسے بھوکا چھوڑ سکتا ہے جب آپ نے صومِ وصال بھی نہیں رکھا تھا اور آپ کو پیٹ پر پتھر باندھنے کی ضرورت پیش آئی تھی، حالانکہ پتھر بھوک کو کیا ختم کر سکتا ہے؟ [صحیح ابن حبان/كتاب الصوم/حدیث: 3579]

3580

Sahih Ibn Hibban #3580

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ الْخَلِيلِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْجُمَحِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ سَعِيدٍ الْجُرَيْرِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : مَا صَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَهْرًا قَطُّ كَامِلا إِلا رَمَضَانَ ، وَلا أَفْطَرَ شَهْرًا كَامِلا قَطُّ ، وَمَا كَانَ يَصُومُ شَهْرًا أَكْثَرَ مِمَّا كَانَ يَصُومُ فِي شَعْبَانَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان کے علاوہ اور کسی بھی مہینے میں پورا مہینہ روزے نہیں رکھے اور نہ ہی کبھی کسی مہینے میں پورا مہینہ روزے چھوڑے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کسی اور مہینے میں اتنے روزے نہیں رکھتے تھے جتنے زیادہ روزے آپ شعبان میں رکھتے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصوم/حدیث: 3580]

3581

Sahih Ibn Hibban #3581

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الُوَلِيدُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَطَاءُ بْنُ أَبِي رَبَاحٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ صَامَ الأَبَدَ فَلا صَامَ وَلا أَفْطَرَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جو شخص ہمیشہ (یعنی روزانہ) نفلی روزہ رکھے، تو اس نے (درحقیقت) نہ روزہ رکھا اور نہ ہی روزہ چھوڑا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصوم/حدیث: 3581]

3582

Sahih Ibn Hibban #3582

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا خَالِدٌ ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ ، عَنْ أَبِي الْعَلاءِ ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قِيلَ لَهُ : إِنَّ فُلانًالا يُفْطِرُ نَهَارَاً الدَّهْرِ إِلا لَيْلاً ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لا صَامَ وَلا أَفْطَرَ "، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : فِي هَذَا الْخَبَرِ كَالدَّلِيلِ عَلَى أَنَّ اللَّفْظَةَ الَّتِي فِي خَبَرِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو : " مَنْ صَامَ الأَبَدَ فَلا صَامَ وَلا أَفْطَرَ " ، أَرَادَ بِهِ الأَبَدَ وَفِيهِ الأَيَّامُ الَّتِي نُهِيَ عَنْهَا عَنْ صِيَامِهَا ، مِثْلُ أَيَّامِ التَّشْرِيقِ وَالْعِيدَيْنِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی گئی: فلاں شخص دن کے وقت کبھی افطاری نہیں کرتا صرف رات کے وقت کرتا ہے (یعنی روزانہ نفلی روزہ رکھ لیتا ہے)، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اس نے نہ تو روزہ رکھا اور نہ ہی روزہ چھوڑا۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) اس روایت میں اس بات کی دلیل موجود ہے کہ وہ الفاظ جو سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کے حوالے سے منقول روایت میں ہیں: ”جس شخص نے ہمیشہ روزہ رکھا تو اس نے درحقیقت نہ روزہ رکھا اور نہ ہی روزہ چھوڑا۔“ اس سے مراد ہمیشہ ایسا کرنا ہے اور اس میں وہ دن بھی آ جاتے ہیں جن میں روزہ رکھنے سے منع کیا گیا ہے جیسے ایام تشریق اور عیدین کے دن۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصوم/حدیث: 3582]

3583

Sahih Ibn Hibban #3583

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ شُعْبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ صَامَ الأَبَدَ فَلا صَامَ وَلا أَفْطَرَ "، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ صَامَ الأَبَدَ فَلا صَامَ وَلا أَفْطَرَ " ، يُرِيدُ بِهِ : مَنْ صَامَ الأَبَدَ وَفِيهِ الأَيَّامُ الَّتِي نُهِيَ عَنْ صِيَامِهَا ، مِثْلُ أَيَّامِ التَّشْرِيقِ مِنَ الْعِيدَيْنِ " فَلا صَامَ وَلا أَفْطَرَ " ، يُرِيدُ بِهِ : فَلا صَامَ الدَّهْرَ كُلَّهُ فَيُؤْجَرَ عَلَيْهِ مِنْ غَيْرِ مُفَارَقَتِهِ الإِثْمَ الَّذِي ارْتَكَبَهُ بِصَوْمِ الأَيَّامِ الَّتِي نُهِيَ عَنْ صِيَامِهَا ، وَلِهَذَا قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ صَامَ الدَّهْرَ ضُيِّقَ عَلَيْهِ جَهَنَّمُ هَكَذَا " وَعَقَدَ عَلَيْهِ تِسْعِينَ ، يُرِيدُ بِهِ : ضُيِّقَ عَلَيْهِ جَهَنَّمُ بِصَوْمِهِ الأَيَّامَ الَّتِي نُهِيَ عَنْ صِيَامِهَا فِي دَهْرِهِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

مطرف بن عبداللہ اپنے والد رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جو شخص ہمیشہ (یعنی روزانہ) نفلی روزہ رکھے اس نے درحقیقت نہ روزہ رکھا اور نہ ہی روزہ چھوڑا۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ”جو شخص ہمیشہ روزہ رکھے اس نے درحقیقت نہ روزہ رکھا اور نہ ہی روزہ چھوڑا۔“ اس سے مراد یہ ہے: جو شخص ہمیشہ روزہ رکھے اور اس میں وہ دن بھی آ جائیں جس میں روزہ رکھنے سے منع کیا گیا ہے، جیسے ایامِ تشریق اور عیدین کے دن (روایت کے یہ الفاظ) ”اس نے نہ روزہ رکھا اور نہ ہی چھوڑا۔“ اس سے مراد یہ ہے: اس نے نہ تو ہمیشہ روزہ رکھا کہ اس کو اس بات پر اجر دیا جائے کیونکہ وہ اس گناہ سے نہیں بچ سکا جس کا ارتکاب اس نے ممنوعہ دنوں میں روزہ رکھنے سے کیا ہے۔ اس لیے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا ہے کہ ”جو شخص ہمیشہ روزہ رکھتا ہے اس پر جہنم اس طرح تنگ ہو جاتی ہے“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نوے کا عدد بنا کر یہ بات بتائی۔ اس کے ذریعے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد یہ ہے: جہنم اس کے ان دنوں میں روزہ رکھنے کی وجہ سے تنگ ہوتی ہے جن دنوں میں روزہ رکھنے سے منع کیا گیا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصوم/حدیث: 3583]

3584

Sahih Ibn Hibban #3584

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ الْحَوْضِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ بْنُ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي تَمِيمَةَ الْهُجَيْمِيِّ ، عَنْ أَبِي مُوسَى الأَشْعَرِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : مَنْ صَامَ الدَّهْرَ ضُيِّقَتْ عَلَيْهِ جَهَنَّمُ هَكَذَا " وَعَقَدَ تِسْعِينَ، أَخْبَرَنَاهُ الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ مَرَّةً أُخْرَى ، قَالَ : وَضَمَّ عَلَى تِسْعِينَ ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : الْقَصْدُ فِي هَذَا الْخَبَرِ صَوْمُ الدَّهْرِ الَّذِي فِيهِ أَيَّامُ التَّشْرِيقِ وَالْعِيدَيْنِ ، وَأَوْقَعَ التَّغْلِيظَ عَلَى مَنْ صَامَ الدَّهْرَ مِنْ أَجْلِ صَوْمِهِ الأَيَّامَ الَّتِي نُهِيَ عَنْ صِيَامِهَا ، لا أَنَّهُ إِذَا صَامَ الدَّهْرَ وَقَوِيَ عَلَيْهِ مِنْ غَيْرِ الأَيَّامِ الَّتِي نُهِيَ عَنْ صِيَامِهَا يُعَذَّبُ فِي الْقِيَامَةِ ، وَأَبُو تَمِيمَةَ الْهُجَيْمِيُّ اسْمُهُ : طَرِيفُ بْنُ مُجَالِدٍ ، بَصْرِيٌ مَاتَ سَنَةَ خَمْسٍ وَتِسْعِينَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جو شخص ہمیشہ (یعنی روزانہ نفلی روزہ) رکھے اس پر جہنم کو اس طرح تنگ کر دیا جائے گا۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نوے کا ہندسہ بنا کر یہ بات بتائی۔ فضل نامی راوی نے دوسری مرتبہ یہ الفاظ نقل کیے: ”نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نوے پر مٹھی کو بند کر لیا۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) اس روایت میں ہمیشہ روزہ رکھنے سے مراد یہ ہے: ایامِ تشریق اور عیدین کے دن بھی روزہ رکھ لیا جائے اور اس شخص کی شدید مذمت کی گئی ہے، جو ہمیشہ روزہ رکھتا ہے اور ان دنوں میں بھی روزہ رکھ لیتا ہے جن دنوں میں روزہ رکھنے سے منع کیا گیا ہے۔ اس سے یہ مراد نہیں ہے، جو شخص ہمیشہ روزہ رکھتا ہے اور وہ اس کی قوت بھی رکھتا ہے لیکن وہ ان دنوں میں روزہ نہیں رکھتا جن دنوں میں روزہ رکھنے سے منع کیا گیا ہے، تو اسے بھی قیامت کے دن عذاب دیا جائے گا۔ ابوتمیمہ ہجیمی کا نام طریف بن مجاہد ہے، یہ بصرہ کا رہنے والا ہے، اس کا انتقال 95 ہجری میں ہوا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصوم/حدیث: 3584]

3585

Sahih Ibn Hibban #3585

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُصْعَبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الْكِنْدَيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ صِلَةَ بْنِ زُفَرَ ، قَالَ : كُنَّا عِنْدَ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ ، فَأُتِيَ بِشَاةٍ مَصْلِيَّةٍ ، فَقَالَ : كُلُوا ، فَتَنَحَّى بَعْضُ الْقَوْمِ ، وَقَالَ : إِنِّي صَائِمٌ ، فَقَالَ عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ : مَنْ صَامَ الِيَوْمَ الَّذِي يُشَكُّ فِيهِ ، فَقَدْ عَصَى أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

صلہ بن زفر بیان کرتے ہیں کہ ہم لوگ سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کے پاس موجود تھے، ان کی خدمت میں بھنی ہوئی بکری لائی گئی، انہوں نے فرمایا: ”آگے ہو جاؤ۔“ تو ایک صاحب پیچھے ہٹ گئے اور انہوں نے بتایا کہ میں نے روزہ رکھا ہوا ہے، تو سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”جو شخص اس دن میں روزہ رکھے جس کے بارے میں یہ شک ہو (کہ وہ رمضان کا دن ہے یا نہیں)، تو اس شخص نے ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کی۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصوم/حدیث: 3585]

3586

Sahih Ibn Hibban #3586

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الُوَلِيدُ ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحِيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لا تَقَدَّمُوا صِيَامَ شَهْرِ رَمَضَانَ بِصِيَامِ يَوْمٍ أَوْ يَوْمَيْنِ ، إِلا رَجُلٌ كَانَ يَصُومُ صِيَامًا فَلِيَصُمْهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”رمضان کا مہینہ شروع ہونے سے پہلے ایک دن یا دو دن روزے نہ رکھو ماسوائے اس شخص کے جو (کسی اور معمول کے مطابق) روزے رکھتا ہو، تو وہ اس دن روزہ رکھ سکتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصوم/حدیث: 3586]

3587

Sahih Ibn Hibban #3587

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفِيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ السَّامِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُ أَوْ لِرَجُلٍ : أَصُمْتَ مِنْ سَرَرِ هَذَا الشَّهْرِ شَيْئًا ؟ " ، قَالَ : لا ، قَالَ :" فَإِذَا أَفْطَرْتَ فَصُمْ يَوْمًا أَوْ يَوْمَيْنِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے یا شاید کسی اور شخص سے فرمایا: ”کیا تم نے اس مہینے کے آخر میں سے کچھ روزے رکھے؟“ انہوں نے جواب دیا: جی نہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم (کسی مہینے میں کوئی نفلی روزہ) نہ رکھو، تو ایک یا دو دن روزہ رکھ لیا کرو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصوم/حدیث: 3587]

3588

Sahih Ibn Hibban #3588

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ لَهُ أوَ لِرَجُلٍ : أَصُمْتَ مِنْ سَرَرِ شَعْبَانَ شَيْئًا " ، قَالَ : لا ، قَالَ :" فَإِذَا أَفْطَرْتَ فَصُمْ يَوْمَيْنِ "، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَصُمْتَ مِنْ سَرَرِ هَذَا الشَّهْرِ " ، لَفْظَةُ اسْتِخْبَارٍ عَنْ فَعَلٍ ، مُرَادُهَا الإِعْلامَ بِنَفِيِ جَوَازِ اسْتِعْمَالِ ذَلِكَ الْفِعْلِ الْمُسْتَخْبَرِ عَنْهُ كَالْمُنْكِرِ عَلَيْهِ لَوْ فَعَلَهُ ، وَهَذَا كَقَوْلِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعَائِشَةَ : " أَتَسْتُرِينَ الْجِدَارَ " ، أَرَادَ بِهِ الإِنْكَارِ عَلَيْهَا بِلَفْظِ الاسْتِخْبَارِ ، وَأَمَرَهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِصَوْمِ يَوْمَيْنِ مِنْ شَوَّالٍ ، أَرَادَ بِهِ أَنَّهَا السِّرَارُ ، وَذَلِكَ أَنَّ الشَّهْرَ إِذَا كَانَ تِسْعًا وَعِشْرِينَ يَسْتَتِرُ الْقَمَرُ يَوْمًا وَاحِدًا ، وَإِذَا كَانَ الشَّهْرُ ثَلاثِينَ يَسْتَتِرُ الْقَمَرُ يَوْمَيْنِ ، وَالُوَقْتُ الَّذِي خَاطَبَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا الْخِطَابِ يُشْبِهُ أَنْ يَكُونَ عَدَدُ شَعْبَانَ كَانَ ثَلاثِينَ مِنْ أَجْلِهِ أَمَرَ بِصَوْمِ يَوْمَيْنِ مِنْ شَوَّالٍ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے یا کسی اور شخص سے یہ فرمایا: ”کیا تم نے شعبان کے آخر میں کوئی روزہ رکھا ہے؟“ انہوں نے جواب دیا: جی نہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم روزہ نہ رکھو، تو دو دن روزے رکھ لیا کرو۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان: ”کیا تم نے اس مہینے کے اختتامی دنوں کے روزے رکھے ہیں؟“ اس میں لفظی طور پر کسی فعل کے بارے میں دریافت کیا گیا ہے لیکن اس سے مراد یہ ہے کہ اس فعل پر عمل کرنے کے جائز ہونے کی نفی کی جائے جس کے بارے میں دریافت کیا گیا ہے، یعنی اگر کسی نے اس فعل کا ارتکاب کیا ہو تو اس کا انکار کرنے کے مترادف ہے۔ یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان کی طرح ہو گا جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا تھا: ”کیا تم دیوار کو رکاوٹ بنا رہی ہو؟“ تو یہاں دریافت کرنے کے الفاظ کے ذریعے ان کا انکار کرنا مراد تھا۔ اسی طرح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان صاحب کو شوال کے دو روزے رکھنے کا حکم دیا تو اس کے ذریعے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد یہ تھی کہ یہ سرار (مہینے کی آخری راتیں) ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مہینہ جب 29 دن کا ہو تو چاند دو دن تک پوشیدہ رہتا ہے، وہ وقت جس میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی تھی اس میں اس بات کا احتمال موجود ہے کہ اس موقع پر شعبان 30 دن کا ہو، اس وجہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے شوال کے دو دن کے روزے رکھنے کا حکم دیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصوم/حدیث: 3588]

3589

Sahih Ibn Hibban #3589

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُصْعَبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحِيَى بْنُ حَكِيمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ حَبِيبِ بْنِ نُدْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ ، عَنِ الْعَلاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : إِذَا كَانَ النِّصْفُ مِنْ شَعْبَانَ ، فَأَفْطِرُوا حَتَّى يَجِيءَ رَمَضَانُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جب شعبان کا نصف ہو جائے، تو روزے رکھنا ترک کر دو، یہاں تک کہ رمضان آ جائے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصوم/حدیث: 3589]

3590

Sahih Ibn Hibban #3590

أَخْبَرَنَا ابْنُ خُزَيْمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحِيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ السَّكَنِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحِيَى بْنُ كَثِيرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، قَالَ : دَخَلْتُ عَلَى عِكْرِمَةَ فِي الِيَوْمِ الَّذِي يُشَكُّ فِيهِ مِنْ رَمَضَانَ وَهُوَ يَأْكُلُ ، فَقَالَ : ادْنُ فَكُلْ ، قُلْتُ : إِنِّي صَائِمٌ ، فَقَالَ : وَاللَّهِ لَتَدْنُوَنَّ ، قُلْتُ : فَحَدِّثْنِي ، قَالَ : حَدَّثَنِي ابْنُ عَبَّاسٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : لا تَسْتَقْبِلُوا الشَّهْرَ اسْتِقْبَالاً ، صُومُوا لِرُؤِيَتِهِ ، وَأَفْطِرُوا لِرُؤِيَتِهِ ، فَإِنْ حَالَ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهُ غَبَرَةُ سَحَابٍ ، أَوْ قَتَرَةٌ ، فَأَكْمِلُوا الْعِدَّةَ ثَلاثِينَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سماک بن حرب بیان کرتے ہیں: میں عکرمہ رحمہ اللہ کے پاس ایک ایسے دن میں آیا جس کے بارے میں یہ شک تھا کہ کیا یہ رمضان کا دن ہے، وہ اس دن کھانا کھا رہے تھے۔ انہوں نے فرمایا: آگے آؤ اور کھانا کھاؤ۔ میں نے کہا: میں نے تو روزہ رکھا ہوا ہے۔ انہوں نے فرمایا: اللہ کی قسم! تم ضرور آگے آؤ گے۔ میں نے کہا: پھر آپ اس بارے میں مجھے کوئی حدیث بیان کریں، تو انہوں نے بتایا: سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے مجھے یہ حدیث بیان کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”(رمضان کے) مہینے سے پہلے اس کا استقبال نہ کرو (یعنی اس کے شروع ہونے سے پہلے ہی روزے رکھنا شروع نہ کر دو)، اس کو (یعنی پہلی کے چاند کو) دیکھ کر روزے رکھنا شروع کرو اور اسے دیکھ کر عید الفطر کرو، اگر تمہارے درمیان اور اس (چاند) کے درمیان بادل کی رکاوٹ آ جائے، یا (چاند کو دیکھنے میں) دشواری ہو تو تم تیس کی تعداد کو پورا کر لو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصوم/حدیث: 3590]

3591

Sahih Ibn Hibban #3591

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنِ الْعَلاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قالَ : لا صَوْمَ بَعْدَ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ حَتَّى يَجِيءَ شَهْرُ رَمَضَانَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”نصف شعبان گزر جانے کے بعد روزہ نہیں رکھا جائے گا، یہاں تک کہ رمضان کا مہینہ آ جائے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصوم/حدیث: 3591]

3592

Sahih Ibn Hibban #3592

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الأَنْصَارِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدُ بْنُ أَبِي الْعِشْرِينَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي يَحِيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لا تَقَدَّمُوا بَيْنَ يَدَيْ رَمَضَانَ بِيَوْمٍ أَوْ يَوْمَيْنِ إِلا رَجُلٌ كَانَ يَصُومُ صِيَامًا فَلِيَصُمْهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”رمضان سے ایک یا دو دن پہلے روزے رکھنا شروع نہ کرو، ماسوائے اس شخص کے جو (کسی اور معمول کے مطابق) روزہ رکھتا ہو، تو وہ اس دن روزہ رکھ سکتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصوم/حدیث: 3592]

3593

Sahih Ibn Hibban #3593

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : إِنَّمَاالشَّهْرُ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ فَلا تَصُومُوا حَتَّى تَرَوْهُ ، وَلا تُفْطِرُوا حَتَّى تَرَوْهُ ، فَإِنْ أُغْمِيَ عَلَيْكُمْ فَاقْدُرُوا لَهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”مہینہ انتیس دن کا بھی ہوتا ہے، تم اس وقت تک روزے رکھنا شروع نہ کرو جب تک (پہلی کے چاند کو) نہیں دیکھ لیتے اور اس وقت تک عید الفطر نہ کرو جب تک اسے دیکھ نہیں لیتے اور اگر تم پر بادل چھائے ہوئے ہوں، تو تم گنتی پوری کر لو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصوم/حدیث: 3593]

3594

Sahih Ibn Hibban #3594

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْجُنَيْدِ إِمْلاءً ، قَالَ : حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الأَحُوَصِ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لا تَصُومُوا قَبْلَ رَمَضَانَ ، صُومُوا لِرُؤِيَتِهِ ، وَأَفْطِرُوا لِرُؤِيَتِهِ ، فَإِنْ حَالَتْ دُونَهُ غَيَابَةٌ فَأَكْمِلُوا ثَلاثِينَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”رمضان سے پہلے روزے رکھنا شروع نہ کر دو، اس کو (یعنی پہلی کے چاند کو) دیکھ کر روزے رکھنا شروع کرو اور اسے دیکھ کر عید الفطر کرو، اور اگر اس سے پہلے بادل رکاوٹ بن جائیں، تو تم تیس کی تعداد کو پورا کر لو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصوم/حدیث: 3594]

3595

Sahih Ibn Hibban #3595

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُصْعَبٍ السِّنْجِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الْكِنْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ صِلَةَ بْنِ زُفَرَ ، قَالَ : كُنَّا عِنْدَ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ فَأُتِيَ بِشَاةٍ مَصْلِيَّةٍ ، فَقَالَ : كُلُوا " ، فَتَنَحَّى بَعْضُ الْقَوْمِ ، وَقَالَ : إِنِّي صَائِمٌ ، فَقَالَ عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ :" مَنْ صَامَ الِيَوْمَ الَّذِي يَشُكُّ فِيهِ فَقَدْ عَصَى أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

صلہ بن زفر بیان کرتے ہیں کہ ہم لوگ سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کے پاس موجود تھے، وہاں ایک بھنی ہوئی بکری لائی گئی، انہوں نے فرمایا: تم لوگ کھانا کھاؤ، تو ایک شخص پیچھے ہٹ گیا اور اس نے کہا: میں نے روزہ رکھا ہوا ہے، تو سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”جو شخص ایسے دن میں روزہ رکھے جس کے بارے میں اسے شک ہو، تو اس نے سیدنا ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کی۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصوم/حدیث: 3595]

3596

Sahih Ibn Hibban #3596

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ صِلَةَ بْنِ زُفَرَ ، قَالَ : كُنَّا عِنْدَ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ فِي الِيَوْمِ الَّذِي يُشَكُّ فِيهِ مِنْ رَمَضَانَ ، فَأُتِيَ بِشَاةٍ ، فَتَنَحَّى بَعْضُ الْقَوْمِ ، فَقَالَ عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ : مَنْ صَامَ هَذَا الِيَوْمَ ، فَقَدْ عَصَى أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

صلہ بن زفر بیان کرتے ہیں: ہم سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کے پاس ایک ایسے دن میں موجود تھے جس کے بارے میں یہ شک تھا کہ کیا یہ رمضان ہے یا نہیں۔ ایک بکری لائی گئی، تو ایک شخص پیچھے ہٹ گیا۔ سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”جو شخص آج کے دن میں روزہ رکھے گا اس نے سیدنا ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کی۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصوم/حدیث: 3596]

3597

Sahih Ibn Hibban #3597

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّامِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحِيَى بْنُ أَيُّوبَ الْمَقَابِرِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ : وَأَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لا تَصُومُوا حَتَّى تَرَوَا الْهِلالَ ، وَلا تُفْطِرُوا حَتَّى تَرَوْهُ ، إِلا أَنْ يُغَمَّ عَلَيْكُمْ ، فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ فَاقْدُرُوا لَهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”تم لوگ اس وقت تک روزہ رکھنا شروع نہ کرو جب تک پہلی کا چاند نہ دیکھ لو اور اس وقت تک عید الفطر نہ کرو جب تک اسے دیکھ نہ لو، البتہ اگر تم پر بادل چھایا ہوا ہو، تو حکم مختلف ہے، اگر تم پر بادل چھایا ہوا ہو، تو تم گنتی پوری کر لو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصوم/حدیث: 3597]

3598

Sahih Ibn Hibban #3598

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحِيَى بْنِ حِبَّانَ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : نَهَى عَنْ صِيَامِ يَوْمَيْنِ ، يَوْمِ الْفِطْرِ وَيَوْمِ الأَضْحَى """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ”دو دنوں میں روزہ رکھنے سے منع کیا ہے: عید الفطر کا دن اور عید الاضحی کا دن۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصوم/حدیث: 3598]

3599

Sahih Ibn Hibban #3599

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الطَّالْقَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ سَهْمِ بْنِ مِنْجَابٍ ، عَنْ قَزَعَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لا صَوْمَ فِي يَوْمِ عِيدٍ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”عید کے دن روزہ نہیں رکھا جائے گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصوم/حدیث: 3599]

3600

Sahih Ibn Hibban #3600

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ مَوْلَى ابْنِ أَزْهَرَ قَالَ : شَهِدْتُ الْعِيدَ مَعَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، فَجَاءَ فَصَلَّى ، ثُمَّ انْصَرَفَ ، فَخَطَبَ النَّاسَ ، فَقَالَ : إِنَّ هَذَيْنِيَوْمَانِ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صِيَامِهِمَا ، يَوْمُ فِطْرِكُمْ مِنْ صِيَامِكُمْ ، وَالأَخَرُ يَوْمٌ تَأْكُلُونَ فِيهِ مِنْ نُسُكِكُمْ "، قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ : شَهِدْتُ الْعِيدَ مَعَ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ ، فَجَاءَ فَصَلَّى ، ثُمَّ انْصَرَفَ ، فَخَطَبَ ، فَقَالَ : إِنَّهُ قَدِ اجْتَمَعَ لَكُمْ فِي يَوْمِكُمْ هَذَا عِيدَانِ ، فَمَنْ أَحَبَّ مِنْ أَهْلِ الْعَالِيَةِ أَنْ يَنْتَظِرَ الْجُمُعَةَ فَلِيَنْتَظِرْهَا ، وَمَنْ أَحَبَّ أَنَّ يَرْجِعَ فَلِيَرْجِعْ ، فَقَدْ أَذِنْتُ لَهُ ، قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ : ثُمَّ شَهِدْتُ الْعِيدَ مَعَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، وَعُثْمَانُ مَحْضُورٌ ، فَجَاءَ فَصَلَّى ، ثُمَّ انْصَرَفَ ، فَخَطَبَ النَّاسَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابوعبید، جو ابن اظہر کے آزاد کردہ غلام ہیں، بیان کرتے ہیں: میں عید کے موقع پر سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے ہمراہ شریک ہوا، وہ تشریف لائے اور انہوں نے نماز ادا کی۔ جب انہوں نے نماز مکمل کی تو لوگوں کو خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: یہ دو دن ایسے ہیں جن میں روزہ رکھنے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے: ”ایک وہ دن جس دن تم اپنے روزوں کے بعد عید الفطر مناتے ہو اور دوسرا وہ دن جس دن میں تم اپنی قربانی کا گوشت کھاتے ہو۔“ ابوعبید بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کی اقتدا میں بھی عید کی نماز میں شرکت کی، وہ تشریف لائے اور انہوں نے نماز ادا کی۔ جب انہوں نے نماز مکمل کی تو خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: آج کے دن تم لوگوں کی دو عیدیں اکٹھی ہو گئی ہیں (یعنی آج عید کے دن جمعہ بھی ہے)، تو نواحی علاقوں کے رہنے والے لوگوں میں سے جو شخص جمعہ کا انتظار کرنا چاہے، وہ اس کا انتظار کرے اور جو شخص واپس جانا چاہے، وہ واپس چلا جائے، میں اسے اجازت دیتا ہوں۔ ابوعبید بیان کرتے ہیں: پھر میں نے سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی اقتدا میں نمازِ عید میں شرکت کی، اس وقت سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ (گھر میں) محصور کر دیے گئے تھے، پس وہ تشریف لائے اور انہوں نے نماز ادا کی۔ جب انہوں نے نماز مکمل کی تو لوگوں کو خطبہ دیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصوم/حدیث: 3600]

3601

Sahih Ibn Hibban #3601

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنِ سُلَيْمَانَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَيَّامُ مِنًى أَيَّامُ أَكْلٍ وَشُرْبٍ "، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَيَّامُ مِنًى أَيَّامُ أَكْلٍ وَشُرْبٍ " ، لَفْظَةُ إِخْبَارٍ عَنِ اسْتِعْمَالِ هَذَا الْفِعْلِ مُرَادُهَا الزَّجْرُ عَنْ ضِدِّهِ ، وَهُوَ صَوْمُ أَيَّامِ مِنًى ، فَقَيَّدَ بِالزَّجْرِ عَنْ صَوْمِ هَذِهِ الأَيَّامِ بِلَفْظِ الأَمْرِ بِالأَكْلِ وَالشُّرْبِ فِيهِمَا"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”منی کے دن کھانے پینے کے دن ہیں۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ”منی کے دن کھانے پینے کے دن ہیں“ اس میں لفظی طور پر اس فعل پر عمل کرنے کی اطلاع دی گئی ہے لیکن اس سے مراد اس کے متضاد سے منع کرنا ہے اور وہ متضاد منی کے مخصوص دنوں میں روزہ رکھنا ہے، تو یہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان ایام میں روزہ رکھنے کی ممانعت کو ان دنوں میں کھانے اور پینے کے حکم کے الفاظ کے ہمراہ مقید (یعنی بیان) کیا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصوم/حدیث: 3601]

3602

Sahih Ibn Hibban #3602

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَيَّامُ التَّشْرِيقِ أَيَّامُ طَعْمٍ وَذِكْرٍ "، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَيَّامُ طَعْمٍ " ، لَفْظَةُ إِخْبَارٍ مُرَادُهَا الزَّجْرُ عَنْ صِيَامِ أَيَّامِ التَّشْرِيقِ ، فَزَجَرَ عَنْ صِيَامِ هَذِهِ الأَيَّامِ بِلَفْظِ إِبَاحَةِ الأَكْلِ فِيهَا ، فَقَالَ : " أَيَّامُ طَعْمٍ " ، وَقَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " وَذِكْرٍ " قَصَدَ بِهِ النَّدْبَ وَالإِرْشَادَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: «أَيَّامُ التَّشْرِيقِ أَيَّامُ أَكْلٍ وَشُرْبٍ وَذِكْرِ اللّٰهِ» ”ایامِ تشریق کھانے پینے اور ذکر کرنے کے دن ہیں۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ”کھانے کے دن ہیں“ یہ لفظی طور پر اطلاع ہے، اس سے مراد ایامِ تشریق میں روزہ رکھنے کی ممانعت ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دنوں میں کھانے کے مباح ہونے کے الفاظ کے ذریعے ان ایام میں روزہ رکھنے سے منع کیا ہے اور یہ ارشاد فرمایا ہے کہ ”کھانے کے دن ہیں“، اور جبکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان کہ ”ذکر کرنے کے دن ہیں“ اس کے ذریعے آپ نے استحباب اور رہنمائی مراد لی ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصوم/حدیث: 3602]

3603

Sahih Ibn Hibban #3603

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفِيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سَعْدُ بْنُ يَزِيدَ الْفَرَّاءُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عَلِيِّ بْنِ رَبَاحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : يَوْمُ عَرَفَةَ ، وَيَوْمُ النَّحْرِ ، وَأَيَّامُ التَّشْرِيقِ هُنَّ عِيدُنَا أَهْلَ الإِسْلامِ ، هُنَّ أَيَّامُ أَكْلٍ وَشُرْبٍ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”عرفہ کا دن، قربانی کا دن اور ایام تشریق یہ ہم اہل اسلام کی عید ہے اور یہ کھانے پینے کے دن ہیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصوم/حدیث: 3603]