Muslim99Muslim99

Sahih Ibn Hibban · Book 32 · Chapter 1

Book of Testimonies

Hadith 3524–3563

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

3524

Sahih Ibn Hibban #3524

أَخْبَرَنَا حَامِدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شُعَيْبٍ الْبَلْخِيُّ ، بِبَغْدَادَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفِيَانُ ، عَنِ الزُهْرِيِّ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : هَلَكَتُ ، فَقَالَ : وَمَا شَأْنُكَ ؟ " ، قَالَ :وَقَعَتُ عَلَى امْرَأَتِي ، قَالَ : " فَهَلْ تَجِدُ مَا تُعْتِقُ بِهِ رَقَبَةً ؟ " ، قَالَ : لا ، قَالَ : " أَتَسْتَطِيعُ أَنْ تَصُومَ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ ؟ " ، قَالَ : لا ، قَالَ : " أَتَسْتَطِيعُ أَنْ تُطْعِمَ سِتِّينَ مِسْكِينًا ؟ " ، قَالَ : لا ، قَالَ : " اجْلِسْ " ، فَأُتِيَ بِعَرَقٍ فِيهِ تَمْرٌ ، وَهُوَ الْمِكْتَلُ الضَّخْمُ ، قَالَ : " خُذْ هَذَا فَتَصَدَّقْ بِهِ عَلَى سِتِّينَ مِسْكِينًا " ، قَالَ : مَا بَيْنَ لابَتَيْهَا أَهْلُ بَيْتٍ أَفْقَرُ مِنَّا ، قَالَ : فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى بَدَتْ أَنِيَابُهُ ، قَالَ : " خُذْهُ وَأَطْعِمْهُ عِيَالَكَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اس نے عرض کی: میں ہلاکت کا شکار ہو گیا ہوں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”تمہیں کیا ہوا ہے؟“ اس نے جواب دیا: میں نے (روزے کے دوران) اپنی بیوی کے ساتھ صحبت کر لی ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”کیا تمہارے پاس آزاد کرنے کے لیے غلام ہے؟“ اس نے جواب دیا: جی نہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”کیا تم مسلسل دو ماہ کے روزے رکھ سکتے ہو؟“ اس نے جواب دیا: جی نہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”کیا تم ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلا سکتے ہو؟“ اس نے جواب دیا: جی نہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم بیٹھ جاؤ۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک ٹوکرا پیش کیا گیا جس میں کھجوریں تھیں (یہ ایک بڑا پیمانہ ہوتا ہے)۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اسے لو اور ساٹھ مسکینوں کو صدقہ کر دو۔“ اس نے جواب دیا: پورے شہر میں ہمارے گھر سے زیادہ غریب اور کوئی نہیں ہے۔ راوی کہتے ہیں: تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا دیے، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اطراف کے دانت نظر آنے لگے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر تم اسے لو اور اپنے گھر والوں کو کھلاؤ۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصوم/حدیث: 3524]

3525

Sahih Ibn Hibban #3525

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُصْعَبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ بَكْرِ بْنِ مُضَرَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ رَبِيعَةَ ، عَنْ عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَجُلا أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَخْبَرَهُ أَنَّهُوَقَعَ بِامْرَأَتِهِ فِي رَمَضَانَ ، فَقَالَ : هَلْ تَجِدُ رَقَبَةً ؟ " قَالَ : لا ، قَالَ : " هَلْ تَسْتَطِيعُ صِيَامَ شَهْرَيْنِ ؟ " ، قَالَ : لا ، قَالَ : " تُطْعِمُ سِتِّينَ مِسْكِينًا ؟ " ، قَالَ : لا أَجِدُ ، فَأَعْطَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَمْرًا ، وَأَمَرَهُ أَنْ يَتَصَدَّقَ بِهِ ، قَالَ : فَذَكَرَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَاجَتَهُ ، فَأَمَرَهُ أَنْ يَأْخُذَهُ هُوَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اس نے آپ کو بتایا کہ اس نے روزے کے دوران اپنی بیوی کے ساتھ صحبت کر لی ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”کیا تمہارے پاس غلام ہے؟“ اس نے جواب دیا: جی نہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم دو ماہ کے روزے رکھ سکتے ہو؟“ اس نے جواب دیا: جی نہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلا سکتے ہو؟“ اس نے جواب دیا: اس کی بھی میرے پاس گنجائش نہیں ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کھجوریں عطا کیں اور اسے حکم کیا کہ وہ انہیں صدقہ کر دے۔ راوی کہتے ہیں: اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اپنے حاجت مند ہونے کا ذکر کیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے حکم دیا کہ وہ خود انہیں حاصل کرے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصوم/حدیث: 3525]

3526

Sahih Ibn Hibban #3526

أَخْبَرَنَا ابْنُ سَلْمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الُوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ ، عَنِ الزُهْرِيِّ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَجُلٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هَلَكَتُ ، قَالَ : وَيْحَكَ ، وَمَا ذَاكَ ؟ " ، قَالَ :وَقَعَتُ عَلَى امْرَأَتِي فِي يَوْمٍ مِنْ شَهْرِ رَمَضَانَ ، قَالَ : " أَعْتِقْ رَقَبَةً " ، قَالَ : مَا أَجِدُ ، قَالَ : " فَصُمْ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ " ، قَالَ : مَا أَسْتَطِيعُ ، قَالَ : " أَطْعِمْ سِتِّينَ مِسْكِينًا " ، قَالَ : مَا أَجِدُ ، قَالَ : فَأُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَقٍ فِيهِ خَمْسَةَ عَشَرَ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ ، فَقَالَ لَهُ : " فَتَصَدَّقْ بِهِ " ، قَالَ : عَلَى أَفْقَرَ مِنْ أَهْلِي ! ، مَا بَيْنَ لابَتَيِ الْمَدِينَةِ أَحُوَجُ مِنْ أَهْلِي ، فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى بَدَتْ أَنِيَابُهُ ، وَقَالَ : " خُذْهُ وَاسْتَغْفَرِ اللَّهَ ، وَأَطْعِمْهُ أَهْلَكَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں ہلاکت کا شکار ہو گیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارا ستیاناس ہو! کیا ہوا ہے؟“ اس نے جواب دیا: میں نے رمضان کے مہینے میں دن کے وقت اپنی بیوی کے ساتھ صحبت کر لی ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم غلام آزاد کرو۔“ اس نے جواب دیا: میرے پاس نہیں ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم مسلسل دو ماہ کے روزے رکھو۔“ اس نے جواب دیا: میں یہ نہیں کر سکتا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلاؤ۔“ اس نے جواب دیا: میرے پاس گنجائش نہیں ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پندرہ صاع کھجوروں کا ٹوکرا پیش کیا گیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اسے صدقہ کر دو۔“ اس نے جواب دیا: کیا میں اپنے گھر والوں سے زیادہ غریب لوگوں پر یہ صدقہ کروں؟ پورے شہر میں ہمارے گھر سے زیادہ ضرورت مند کوئی نہیں ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا دیے، یہاں تک کہ آپ کے اطراف کے دانت نظر آنے لگے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم اسے لو، اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کرو اور یہ اپنے گھر والوں کو کھلا دو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصوم/حدیث: 3526]

3527

Sahih Ibn Hibban #3527

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الُوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ ، عَنِ الزُهْرِيِّ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَجُلٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هَلَكَتُ ، قَالَ : وَمَا ذَاكَ ؟ ! " ، قَالَ :وَقَعَتُ عَلَى امْرَأَتِي فِي يَوْمٍ مِنْ شَهْرِ رَمَضَانَ ، قَالَ : " أَعْتِقْ رَقَبَةً " ، قَالَ : مَا أَجِدُهَا ، قَالَ : " صُمْ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ " ، قَالَ : لا أَسْتَطِيعُ ، قَالَ : " فَأَطْعِمْ سِتِّينَ مِسْكِينًا " ، قَالَ : لا أَجِدُ ، قَالَ : فَأُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَقٍ ، فَقَالَ : " خُذْهُ فَتَصَدَّقْ بِهِ " ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، عَلَى غَيْرِ أَهْلِي ؟ فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا بَيْنَ طُنُبَيِ الْمَدِينَةِ أَحَدٌ أَفْقَرُ مِنِّي ، فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى بَدَتْ أَنِيَابُهُ ، ثُمَّ قَالَ : " خُذْهُ وَاسْتَغْفَرْ رَبِّكَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک صاحب نے عرض کی: ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں ہلاکت کا شکار ہو گیا ہوں۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”کیا ہوا ہے؟“ اس نے جواب دیا: ”میں نے رمضان کے مہینے میں دن کے وقت اپنی بیوی کے ساتھ صحبت کر لی ہے۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم غلام آزاد کرو۔“ اس نے جواب دیا: ”میرے پاس نہیں ہے۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم مسلسل دو ماہ کے روزے رکھو۔“ اس نے جواب دیا: ”میں یہ نہیں کر سکتا۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلاؤ۔“ اس نے جواب دیا: ”میرے پاس گنجائش نہیں ہے۔“ راوی کہتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کھجوروں کا ٹوکرا پیش کیا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اسے لو اور انہیں صدقہ کر دو۔“ اس نے عرض کی: ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا اپنے گھر والوں کے علاوہ کسی اور کو دوں؟ اس ذات کی قسم جس کے دستِ قدرت میں میری جان ہے، پورے مدینہ منورہ میں مجھ سے زیادہ ضرورت مند اور کوئی نہیں ہے“، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا دیے، یہاں تک کہ آپ کے اطراف کے دانت نظر آنے لگے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم انہیں لو اور اپنے پروردگار سے مغفرت طلب کرو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصوم/حدیث: 3527]

3528

Sahih Ibn Hibban #3528

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحِيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : أَتَى رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَذَكَرَ أَنَّهُ احْتَرَقَ ، فَسَأَلَهُ عَنْ أَمْرِهِ ، فَذَكَرَ أَنَّهُوَقَعَ عَلَى امْرَأَتِهِ فِي رَمَضَانَ ، فَأُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِكْتَلٍ يُدْعَى الْعَرَقُ ، فِيهِ تَمْرٌ ، فَقَالَ : أَيْنَ الْمُحْتَرِقُ ؟ " ، فَقَامَ الرَّجُلُ ، فَقَالَ : " تَصَدَّقْ بِهَذَا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے یہ ذکر کیا کہ وہ جل گیا ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے اس کے معاملے کے بارے میں دریافت کیا تو اس نے یہ بات ذکر کی کہ اس نے رمضان میں (روزے کے دوران) اپنی بیوی کے ساتھ صحبت کر لی ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک پیمانہ لایا گیا جسے «عَرَق» ”عرق“ کہا جاتا تھا، اس میں کھجوریں تھیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”جلنے والا شخص کہاں ہے؟“ وہ صاحب کھڑے ہوئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم اسے صدقہ کر دو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصوم/حدیث: 3528]

3529

Sahih Ibn Hibban #3529

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ الْكَلاعِيُّ ، بِحِمْصَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ ، عَنِ الزُهْرِيِّ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ، قَالَ : بَيْنَمَا نَحْنُ جُلُوسٌ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، إِذْ جَاءَهُ رَجُلٌ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هَلَكَتُ ، قَالَ : وَمَا لَكَ ؟ " قَالَ :وَقَعْتُ عَلَى امْرَأَتِي وَأَنَا صَائِمٌ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " هَلْ تَجِدُ رَقَبَةً تُعْتِقُهَا ؟ " ، قَالَ : لا ، قَالَ : " فَهَلْ تَسْتَطِيعُ أَنْ تَصُومَ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ ؟ " ، قَالَ : لا ، وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " هَلْ تَجِدُ إِطْعَامَ سِتِّينَ مِسْكِينًا ؟ " ، قَالَ : لا يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : فَسَكَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : بَيْنَا نَحْنُ عَلَى ذَلِكَ ، أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَقٍ فِيهِ تَمْرٌ ، وَالْعَرَقُ : الْمِكْتَلُ ، فَقَالَ : " أَيْنَ السَّائِلُ آنِفًا ؟ خُذْ هَذَا التَّمْرَ فَتَصَدَّقْ بِهِ " ، فَقَالَ الرَّجُلُ : عَلَى أَفْقَرَ مِنْ أَهْلِي يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَاللَّهِ مَا بَيْنَ لا بَتَيْهَا يُرِيدُ الْحَرَّتَيْنِ ، أَهْلُ بَيْتٍ أَفْقَرُ مِنْ أَهْلِ بَيْتِي ، قَالَ : فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى بَدَتْ أَنِيَابُهُ ، ثُمَّ قَالَ : " أَطْعِمْهُ أَهْلَكَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، اسی دوران ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اس نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں ہلاکت کا شکار ہو گیا ہوں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”کیا ہو گیا ہے؟“ اس نے جواب دیا: میں نے روزے کے دوران اپنی بیوی کے ساتھ صحبت کر لی ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تمہارے پاس آزاد کرنے کے لیے کوئی غلام ہے؟“ اس نے جواب دیا: جی نہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”کیا تم مسلسل دو ماہ کے روزے رکھ سکتے ہو؟“ اس نے جواب دیا: جی نہیں، اللہ کی قسم! یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! (میں روزے نہیں رکھ سکتا)۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلا سکتے ہو؟“ اس نے جواب دیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! جی نہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے، سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ابھی ہم وہاں بیٹھے ہی ہوئے تھے کہ اسی دوران نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک ٹوکرا پیش کیا گیا جس میں کھجوریں تھیں، «الْعَرَقُ» ”ٹوکرے“ کو کہتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”سوال کرنے والا شخص کہاں ہے؟“ (پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا): ”تم اسے لو اور انہیں صدقہ کر دو“، اس شخص نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا میں اپنے گھر والوں سے زیادہ غریب لوگوں کو صدقہ کروں؟ اللہ کی قسم! پورے شہر میں ہم سے زیادہ غریب اور کوئی نہیں ہے، راوی کہتے ہیں: تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا دیے، یہاں تک کہ آپ کے اطراف کے دانت نظر آنے لگے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اسے تم اپنے گھر والوں کو کھلا دو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصوم/حدیث: 3529]

3530

Sahih Ibn Hibban #3530

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنِ الْحَكَمِ ، وَسَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ ، وَمُسْلِمٍ الْبَطِينِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، وَمُجَاهِدٍ ، وَعَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ : إِنَّ أُخْتِي مَاتَتْ ، وَعَلَيْهَا صِيَامُ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ ، قَالَ : أَرَأَيْتِ لَوْ كَانَ عَلَى أُخْتِكِ دَيْنٌ ، أَكُنْتِ تَقْضِينَهُ ؟ " ، قَالَتْ : نَعَمْ ، قَالَ : " فَحَقُّ اللَّهِ أَحَقُّ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ایک خاتون نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی، اس نے عرض کی: میری بہن کا انتقال ہو گیا ہے، اس کے ذمے مسلسل دو ماہ کے روزے رکھنا لازم تھا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارا کیا خیال ہے، اگر تمہاری بہن کے ذمے کچھ قرض ہوتا، تو کیا تم اسے ادا کر دیتی؟“ اس نے جواب دیا: جی ہاں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تو اللہ تعالیٰ کا حق اس بات کا زیادہ حقدار ہے (کہ اسے ادا کیا جائے)۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصوم/حدیث: 3530]

3531

Sahih Ibn Hibban #3531

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو الْمِنْقَرِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الُوَارِثِ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَاحْتَجَمَ وَهُوَ صَائِمٌ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے روزے کی حالت میں پچھنے لگوائے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصوم/حدیث: 3531]

3532

Sahih Ibn Hibban #3532

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الُوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي يَحِيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو قِلابَةَ ، أَنَّ أَبَا أَسْمَاءَ الرَّحَبِيَّ حَدَّثَهُ ، عَنْ ثَوْبَانَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ خَرَجَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِثَمَانِ عَشْرَةَ خَلَتْ مِنْ شَهْرِ رَمَضَانَ إِلَى الْبَقِيعِ ، فَنَظَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى رَجُلٍ يَحْتَجِمُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَفْطَرَ الْحَاجِمُ وَالْمَحْجُومُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے آزاد کردہ غلام ہیں وہ بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ وہ رمضان کی اٹھارہ تاریخ کو بقیع کی طرف گئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو دیکھا جو پچھنے لگوا رہا تھا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: «أَفْطَرَ الْحَاجِمُ وَالْمَحْجُومُ» ”پچھنے لگانے والے اور لگوانے کا روزہ ٹوٹ گیا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصوم/حدیث: 3532]

3533

Sahih Ibn Hibban #3533

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفِيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حِبَّانُ بْنُ مُوسَى ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَاصِمٌ ، عَنْ أَبِي قِلابَةَ ، عَنْ أَبِي الأَشْعَثِ ، عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ الرَّحَبِيِّ ، عَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ ، قَالَ : بَيْنَمَا أَنَا أَمْشِي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ثَمَانِ عَشْرَةَ خَلَتْ مِنْ رَمَضَانَ ، إِذْ حَانَتْ مِنْهُ الْتِفَاتَةٌ ، فَأَبْصَرَ رَجُلا يَحْتَجِمُ ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَفْطَرَ الْحَاجِمُ وَالْمَحْجُومُ "، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : سَمِعَ هَذَا الْخَبَرَ أَبُو قِلابَةَ ، عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ ، عَنْ ثَوْبَانَ ، وَسَمِعَهُ عَنْ أَبِي الأَشْعَثِ ، عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ ، عَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ ، وَهُمَا طَرِيقَانِ مَحْفُوظَانِ ، وَقَدْ جَمَعَ شَيْبَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بَيْنَ الإِسْنَادَيْنِ ، عَنْ يَحِيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي قِلابَةَ ، عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ ، عَنْ ثَوْبَانَ ، وَعَنْ أَبِي الأَشْعَثِ ، عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ ، عَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا شداد بن اوس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ میں رمضان کی اٹھارہ تاریخ کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جا رہا تھا، اسی دوران نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے توجہ کی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نظر ایک شخص پر پڑی جو پچھنے لگوا رہا تھا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”پچھنے لگانے والے اور لگوانے والے کا روزہ ٹوٹ گیا۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:): ابوقلابہ نے یہ روایت ابواسماء کے حوالے سے سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ سے بھی سنی ہے اور انہوں نے یہ روایت ابواشعث کے حوالے سے ابواسماء کے حوالے سے سیدنا شداد بن اوس رضی اللہ عنہ سے بھی سنی ہے، تو اس کے دونوں طرق محفوظ ہیں۔ شیبان بن عبدالرحمن نے یحییٰ بن ابی کثیر کے حوالے سے منقول اس روایت کی دونوں سندوں کو جمع کر دیا ہے، جو ابوقلابہ کے حوالے سے ابواسماء کے حوالے سے سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ سے اور ابواشعث کے حوالے سے ابواسماء کے حوالے سے سیدنا شداد بن اوس رضی اللہ عنہ سے منقول ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصوم/حدیث: 3533]

3534

Sahih Ibn Hibban #3534

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ يُوسُفَ ، حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الُوَهَّابِ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، عَنْ أَبِي قِلابَةَ ، عَنْ أَبِي الأَشْعَثِ الصَّنْعَانِيِّ ، عَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ ، قَالَ : كُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْبَقِيعِ زَمَانَ الْفَتْحِ ، فَنَظَرَ إِلَى رَجُلٍ يَحْتَجِمُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَفْطَرَ الْحَاجِمُ وَالْمَحْجُومُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا شداد بن اوس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بقیع کی طرف جا رہا تھا، یہ فتح کے زمانے کی بات ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو دیکھا جو پچھنے لگوا رہا تھا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”پچھنے لگانے والے اور لگوانے والے کا روزہ ٹوٹ گیا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصوم/حدیث: 3534]

3535

Sahih Ibn Hibban #3535

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدٍ الْعَظِيمِ الْعَنْبَرِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ يَحِيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَارِظٍ ، عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَفْطَرَ الْحَاجِمُ وَالْمَحْجُومُ "، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : هَذَانِ خَبَرَانِ قَدْ أَوْهَمَا عَالِمًا مِنَ النَّاسِ أَنَّهُمَا مُتَضَادَّانِ ، وَلَيْسَا كَذَلِكَ ، لأَنَّهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ احْتَجَمَ وَهُوَ صَائِمٌ مُحْرِمٌ ، وَلَمْ يَرُوَ عَنْهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي خَبَرٍ صَحِيحٍ أَنَّهُ احْتَجَمَ وَهُوَ صَائِمٌ دُونَ الإِحْرَامِ ، وَلَمْ يَكُنْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُحْرِمًا قَطُّ إِلا وَهُوَ مُسَافِرٌ ، وَالْمُسَافِرُ قَدْ أُبِيحَ لَهُ الإِفْطَارُ : إِنْ شَاءَ بِالْحِجَامَةِ ، وَإِنْ شَاءَ بِالشَّرْبَةِ مِنَ الْمَاءِ ، وَإِنْ شَاءَ بِالشَّرْبَةِ مِنَ اللَّبَنِ ، أَوْ بِمَا شَاءَ مِنَ الأَشِيَاءِ ، وَقَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَفْطَرَ الْحَاجِمُ وَالْمَحْجُومُ " لَفْظَةُ إِخْبَارٍ عَنْ فِعْلٍ مُرَادُهَا الزَّجْرُ عَنِ اسْتِعْمَالِ ذَلِكَ الْفِعْلِ نَفْسِهِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”پچھنے لگانے والے اور لگوانے والے کا روزہ ٹوٹ جاتا ہے“۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں): ان دونوں روایات نے ایک عالم کو غلط فہمی کا شکار کیا کہ یہ دونوں متضاد ہیں، حالانکہ ایسا نہیں ہے کیونکہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پچھنے لگوائے تھے، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزے کی حالت میں تھے اور احرام باندھے ہوئے تھے، اور کسی بھی مستند روایت میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ بات نقل نہیں کی گئی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے احرام کے علاوہ روزے کی حالت میں پچھنے لگوائے ہوں اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم احرام اسی وقت باندھے ہوئے تھے جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسافر تھے، مسافر شخص کے لیے روزے کو ختم کرنا مباح ہوتا ہے، خواہ وہ پچھنے لگوا کر کرے یا خواہ وہ پانی کا گھونٹ پی کر کرے، اگر وہ چاہے تو وہ دودھ کا گھونٹ پی کر یا کوئی اور چیز (کھا یا پی کر) روزے کو ختم کر سکتا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ”پچھنے لگانے والے اور لگوانے والے کا روزہ ٹوٹ گیا“ لفظی طور پر کسی فعل کے بارے میں اطلاع دینا ہے لیکن اس کے ذریعے مراد یہ ہے کہ اس فعل پر عمل کرنے سے منع کیا جائے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصوم/حدیث: 3535]

3536

Sahih Ibn Hibban #3536

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفِيَانَ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ يَحِيَى ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ بُرْقَانَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ أَبَا طَيْبَةَ أَنْ يَأْتِيَهُ مَعَ غَيْبُوبَةِ الشَّمْسِ ،فَأَمَرَهُ أَنْ يَضَعَ الْمُحَاجِمَ مَعَ إِفْطَارِ الصَّائِمِ ، فَحَجَمَهُ ، ثُمَّ سَأَلَهُ : كَمْ خَرَاجُكَ ؟ " قَالَ : صَاعَيْنِ ، فَوَضَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْهُ صَاعًا، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : سَعِيدُ بْنُ يَحِيَى يُعْرَفُ بِسَعْدَانِ ، مِنْ أَهْلِ دِمَشْقَ ، ثِقَةٌ ، مَأْمُونٌ ، مُسْتَقِيمُ الأَمْرِ فِي الْحَدِيثِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوطیبہ رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ وہ سورج غروب ہونے کے وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں یہ ہدایت کی کہ وہ افطاری کے وقت پچھنے لگانے کے اوزاروں کے ہمراہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو پچھنے لگا دیں، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے دریافت کیا: ”تمہارا خراج کتنا ہے؟“ انہوں نے جواب دیا: دو صاع۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا ایک صاع معاف کروا دیا۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) سعید بن یحییٰ نامی راوی کو سعدان کے نام سے پہچانا جاتا ہے، یہ اہل دمشق سے تعلق رکھتے ہیں، یہ ثقہ اور مامون ہیں اور حدیث میں مستقیم الامر ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصوم/حدیث: 3536]

3537

Sahih Ibn Hibban #3537

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا كَانَتْ تَقُولُ : إِنْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَلَيُقَبِّلُ بَعْضَ نِسَائِهِ وَهُوَ صَائِم ، ثُمَّ ضَحِكَتْ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ”نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بعض اوقات اپنی کسی زوجہ محترمہ کا روزے کی حالت میں بوسہ لے لیتے تھے“ پھر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا مسکرا دیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصوم/حدیث: 3537]

3538

Sahih Ibn Hibban #3538

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحِيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ عَبْدِ رَبِّهِ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبٍ الْحِمِيَرِيِّ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ، أَنَّهُ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ :أَيُقَبِّلُ الصَّائِمُ ؟ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : سَلْ هَذِهِ ، أُمَّ سَلَمَةَ " ، فَأَخْبَرَتْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُ ذَلِكَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَدْ غَفَرَ اللَّهُ لَكَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ : " وَاللَّهِ إِنِّي أَتْقَاكُمْ لِلَّهِ وَأَخْشَاكُمْ لَهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عمر بن ابوسلمہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا: کیا روزہ دار شخص (بیوی کا) بوسہ لے سکتا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”تم اُم سلمہ رضی اللہ عنہا سے اس بارے میں دریافت کرنا۔“ تو سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے سیدنا عمر بن ابوسلمہ رضی اللہ عنہ کو بتایا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایسا کر لیا کرتے تھے۔ انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اللہ تعالیٰ نے تو آپ کے گزشتہ اور آئندہ ذنب کی مغفرت کر دی ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”اللہ کی قسم! میں تم سب سے زیادہ اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہوں اور تم سب سے زیادہ اس کی خشیت رکھتا ہوں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصوم/حدیث: 3538]

3539

Sahih Ibn Hibban #3539

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، عَنْ شَيْبَانَ ، عَنْ يَحِيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، أَخْبَرَهُ أَنَّ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ أَخْبَرَهُ ، أَنَّ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْهُ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَيُقَبِّلُهَا وَهُوَ صَائِمٌ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم روزے کی حالت میں ان کا بوسہ لے لیا کرتے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصوم/حدیث: 3539]

3540

Sahih Ibn Hibban #3540

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا يَحِيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَيُقَبِّلُ بَعْضَ نِسَائِهِ وَهُوَ صَائِمٌ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم روزے کی حالت میں اپنی کسی زوجہ محترمہ کا بوسہ لے لیا کرتے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصوم/حدیث: 3540]

3541

Sahih Ibn Hibban #3541

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُعَافَى الْعَابِدُ ، بِصَيْدَا ، قَالَ : حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُسَافِرٍ التِّنِّيسِيُّ ، حَدَّثَنَا يَحِيَى بْنُ حَسَّانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ يَحِيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ عَمْرَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَيُقَبِّلُنِي وَهُوَ صَائِمٌ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم روزے کی حالت میں میرا بوسہ لے لیا کرتے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصوم/حدیث: 3541]

3542

Sahih Ibn Hibban #3542

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ صُبَيْحٍ ، عَنْ شُتَيْرِ بْنِ شَكَلٍ ، عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ عُمَرَ ، قَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَيُقَبِّلُ وَهُوَ صَائِمٌ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ حفصہ بنت عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم روزے کی حالت میں بوسہ لے لیا کرتے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصوم/حدیث: 3542]

3543

Sahih Ibn Hibban #3543

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْفَنْدَوَرِيُّ ، بِحَرَّانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَيُقَبِّلُ وَهُوَ صَائِمٌ " ، وَتَقُولُ : " أَيُّكُمْ أَمْلَكُ لإِرْبِهِ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم روزے کی حالت میں بوسہ لے لیا کرتے تھے۔ وہ فرماتی ہیں: تم میں سے کسے اپنی خواہش پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ قابو حاصل ہے؟ [صحیح ابن حبان/كتاب الصوم/حدیث: 3543]

3544

Sahih Ibn Hibban #3544

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الُوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا بُكَيْرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الأَشَجِّ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ سَعِيدٍ الأَنْصَارِيِّ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ، قَالَ : هَشَشْتُ ، فَقَبَّلْتُ وَأَنَا صَائِمٌ ، فَجِئْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ : لَقَدْ صَنَعْتُ الِيَوْمَ أَمْرًا عَظِيمًا ، قَالَ : وَمَا هُوَ ؟ " ، قُلْتُ :قَبَّلْتُ وَأَنَا صَائِمٌ ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَرَأَيْتَ لَوْ مَضْمَضْتَ مِنَ الْمَاءِ ؟ " ، قُلْتُ : إِذًا لا يَضُرُّ ؟ قَالَ : " فَفِيمَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ میرے مزاج میں شوخی آئی، تو میں نے روزے کی حالت میں (اپنی بیوی کا) بوسہ لے لیا، میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور میں نے عرض کی: آج میں نے ایک بڑا جرم کیا ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”وہ کیا؟“ میں نے جواب دیا: میں نے روزے کی حالت میں (اپنی بیوی کا) بوسہ لے لیا ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارا کیا خیال ہے، اگر تم پانی کی کلی کر لو (تو روزے کو کیا ہو گا)؟“ میں نے جواب دیا: اس صورت میں کوئی نقصان نہیں ہو گا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو اس صورت میں کیسے ہوا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصوم/حدیث: 3544]

3545

Sahih Ibn Hibban #3545

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَيُقَبِّلُ بَعْضَ نِسَائِهِ وَهُوَ صَائِمٌ " ، قُلْتُ لِعَائِشَةَ : فِي الْفَرِيضَةِ وَالتَّطَوُّعِ ؟ قَالَتْ عَائِشَةُ : " فِي كُلِّ ذَلِكَ ، فِي الْفَرِيضَةِ وَالتَّطَوُّعِ "، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : سَمِعَ هَذَا الْخَبَرَ أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، وَسَمِعَهُ مِنْ عَائِشَةَ نَفْسِهَا ، وَالدَّلِيلُ عَلَى صِحَّتِهِ : أَنَّ مَعْمَرًا ، قَالَ : عَنِ الزُهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، قَالَ : قُلْتُ لِعَائِشَةَ : فِي الْفَرِيضَةِ وَالتَّطَوُّعِ ؟ فَمَرَّةً أَدَّى الْخَبَرَ عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، وَأُخْرَى أَدَّى الْخَبَرَ عَنْهَا نَفْسِهَا"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم روزے کی حالت میں اپنی کسی زوجہ محترمہ کا بوسہ لے لیا کرتے تھے۔ راوی کہتے ہیں: میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے دریافت کیا: فرض روزے میں یا نفلی روزے میں؟ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ہر ایک میں، فرض میں بھی اور نفلی میں بھی۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:): ابوسلمہ بن عبدالرحمن نے یہ روایت عمر بن عبدالعزیز کے حوالے سے، عروہ کے حوالے سے، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے سنی ہے۔ انہوں نے یہ روایت خود سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے بھی سنی ہے۔ اور اس کے صحیح ہونے کی دلیل یہ ہے کہ معمر نے یہ بات بیان کی ہے، یہ روایت زہری کے حوالے سے، ابوسلمہ کے حوالے سے منقول ہے، وہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے دریافت کیا کہ کیا فرض کے بارے میں یا نفل کے بارے میں؟ تو انہوں نے ایک مرتبہ یہ روایت عمر بن عبدالعزیز کے حوالے سے، عروہ کے حوالے سے، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل کر دی اور دوسری مرتبہ یہ روایت براہ راست سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے حوالے سے نقل کر دی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصوم/حدیث: 3545]

3546

Sahih Ibn Hibban #3546

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ زَكَرِيَّا بْنِ أَبَى زَائِدَةَ ، عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ ذَرِيحٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الأَشْعَثِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَلا يَلَمْسُ مِنْ وَجْهِي مِنْ شَيْءٍ وَأَنَا صَائِمَةٌ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: جب میں نے روزہ رکھا ہوتا تھا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے چہرے کے کسی حصے کو چھوتے نہیں تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصوم/حدیث: 3546]

3547

Sahih Ibn Hibban #3547

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الأَنْصَارِيُّ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا كَانَتْ تَقُولُ : إِنْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَلَيُقَبِّلُ بَعْضَ نِسَائِهِ وَهُوَ صَائِمٌ "، ثُمَّ تَضْحَكُ ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : كَانَ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمْلَكُ النَّاسِ لإِرْبِهِ ، وَكَانَ يُقَبِّلُ نِسَاءَهُ إِذَا كَانَ صَائِمًا ، أَرَادَ بِهِ التَّعْلِيمَ أَنَّ مِثْلَ هَذَا الْفِعْلِ مِمَّنْ يَمْلِكُ إِرْبَهُ وَهُوَ صَائِمٌ جَائِزٌ ، وَكَانَ يَتَنَكَّبُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتِعْمَالَ مِثْلِهِ إِذَا كَانَتْ هِيَ صَائِمَةٌ ، عِلَمَا مِنْهُ بِمَا رُكِّبَ فِي النِّسَاءِ مِنَ الضَّعْفِ عِنْدَ الأَسْبَابِ الَّتِي تَرِدُ عَلَيْهِنَّ ، فَكَانَ يُبْقِي عَلَيْهِنَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِتَرْكِ استعمال ذَلِكَ الْفِعْلِ إِذَا كُنَّ بِتِلْكَ الْحَالَةِ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَكُونَ بَيْنَ هَذَيْنِ الْخَبَرَيْنِ تَضَادٌ أَوْ تَهَاتُرٌ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم روزے کی حالت میں اپنی کسی زوجہ محترمہ کا بوسہ لے لیا کرتے تھے، پھر وہ مسکرا دیں۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی خواہش پر سب سے زیادہ قابو حاصل تھا، اس کے باوجود آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزے کی حالت میں اپنی ازواج کا بوسہ لے لیا کرتے تھے، اس کے ذریعے اس بات کی تعلیم دینا مراد ہے کہ جو شخص اپنی خواہش پر قابو رکھتا ہو، اس کے لیے روزے کی حالت میں ایسا فعل کرنا جائز ہے۔ البتہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج نے روزہ رکھا ہوا ہوتا تھا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس نوعیت کے کسی فعل کو کرنے سے اجتناب کیا کرتے تھے، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ بات جانتے تھے کہ خواتین کے لیے اس نوعیت کی صورت حال میں خود پر قابو پانا مشکل ہوتا ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس فعل کو ترک کر کے ان کی حالت کو باقی رہنے دیتے تھے جب وہ اس حالت میں ہوتی تھیں، اس صورت میں ان دونوں روایات کے درمیان کوئی تضاد اور اختلاف باقی نہیں رہے گا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصوم/حدیث: 3547]

3548

Sahih Ibn Hibban #3548

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفِيَانَ بْنِ عَامِرٍ الشَّيْبَانِيُّ ، بِنَسَا ، وَعُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانَ الطَّائِيُّ ، بِمَنْبِجَ ، وَالْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ الرَّافِقِيُّ ، بِالرَّقَّةِ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ اللَّخْمِيُّ ، بِعَسْقَلانَ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمِ الْفِرِيَابِيُّ ، بِبَيْتِ الْمَقْدِسِ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ الْكَلاعِيُّ ، بِحِمْصَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُعَافَى بْنِ أَبَى حَنْظَلَةَ السَّاحِلِيُّ ، بِصَيْدَا ، فِي آخَرِينَ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُصَفَّى وَهَذَا حَدِيثُهُ ، وَقَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَيْسَ مِنَ الْبِرِّ الصِّيَامُ فِي السَّفَرِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: «لَيْسَ مِنَ الْبِرِّ الصِّيَامُ فِي السَّفَرِ» ”سفر کے دوران روزہ رکھنا نیکی نہیں ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصوم/حدیث: 3548]

3549

Sahih Ibn Hibban #3549

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الُوَهَّابِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَخَرَجَ عَامَ الْفَتْحِ إِلَى مَكَّةَ ، حَتَّى بَلَغَ كُرَاعَ الْغَمِيمِ ، وَصَامَ النَّاسُ ، ثُمَّ دَعَا بِقَدَحٍ مِنْ مَاءٍ ، فَرَفَعَهُ حَتَّى نَظَرَ النَّاسُ إِلَيْهِ ، ثُمَّ شَرِبَ ، فَقِيلَ لَهُ بَعْدَ ذَلِكَ : إِنَّ بَعْضَ النَّاسِ قَدْ صَامَ ، فَقَالَ : أُولَئِكَ الْعُصَاةُ ، أُولَئِكَ الْعُصَاةُ "، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أُولَئِكَ الْعُصَاةُ " ، إِنَّمَا أَطْلَقَ عَلَيْهِمْ هَذِهِ اللَّفْظَةَ بِتَرْكِهِمُ الأَمْرَ الَّذِي أَمَرَهُمْ بِهِ ، وَهُوَ الإِفْطَارُ ، لا أَنَّهُمْ صَارُوا عُصَاةً بِصَوْمِهِمْ فِي السَّفَرِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

امام جعفر صادق رحمہ اللہ اپنے والد (امام محمد باقر رحمہ اللہ) کے حوالے سے سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: فتحِ مکہ کے موقع پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ کے لیے روانہ ہوئے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کراع الغمیم پہنچے تو لوگوں نے روزہ رکھا ہوا تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی کا پیالہ منگوایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بلند کیا، یہاں تک کہ لوگ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف دیکھنے لگے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پی لیا۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی گئی کہ بعض لوگوں نے ابھی بھی روزہ رکھا ہوا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ نافرمان لوگ ہیں، وہ نافرمان لوگ ہیں۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ”وہ لوگ نافرمان ہیں“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے یہ لفظ اس لیے استعمال کیا ہے کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب انہیں یہ حکم دیا تھا تو انہوں نے اس پر عمل نہیں کیا تھا اور وہ حکم روزے کو ختم کرنے کا تھا۔ اس سے یہ مراد نہیں ہے کہ وہ لوگ سفر کے دوران روزہ رکھنے کی وجہ سے نافرمان ہو گئے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصوم/حدیث: 3549]

3550

Sahih Ibn Hibban #3550

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفِيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حِبَّانُ بْنُ مُوسَى ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى نَهَرٍ مِنْ مَاءٍ السَّمَاءِ ، وَهُوَ عَلَى بَغْلَةٍ لَهُ ، وَالنَّاسُ صِيَامٌ ، فَقَالَ : اشْرَبُوا " ، فَجَعَلُوا يَنْظُرُونَ إِلَيْهِ ، فَقَالَ :" اشْرَبُوا ، فَإِنِّي رَاكِبٌ ، وَإِنِّي أَيَسَرُّكُمْ ، وَأَنْتُمْ مُشَاةٌ " ، فَجَعَلُوا يَنْظُرُونَ إِلَيْهِ ، فَحَوَّلَ وَرِكَهُ فَشَرِبَ وَشَرِبَ النَّاسُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بارانی پانی کی نہر کے پاس ہم سے فرمایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت اپنے خچر پر سوار تھے اور لوگوں نے روزہ رکھا ہوا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم لوگ پانی پی لو۔“ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف دیکھنے لگے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم لوگ پانی پی لو، کیونکہ میں تو سوار ہوں، میں تم سے زیادہ آسان حالت میں ہوں، تم لوگ پیدل چل رہے ہو۔“ لوگ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف دیکھنے لگے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پہلو کو حرکت دی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی پیا، تو لوگوں نے بھی پانی پی لیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصوم/حدیث: 3550]

3551

Sahih Ibn Hibban #3551

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الُوَهَّابِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَخَرَجَ عَامَ الْفَتْحِ ، وَأَنَّهُ صَامَ حَتَّى بَلَغَ كُرَاعَ الْغَمِيمِ ، وَصَامَ النَّاسُ ، ثُمَّ دَعَا بِقَدَحٍ مِنْ مَاءٍ فَرَفَعَهُ ، حَتَّى نَظَرَ النَّاسُ إِلَيْهِ ، ثُمَّ شَرِبَ ، فَقِيلَ لَهُ بَعْدَ ذَلِكَ : إِنَّ بَعْضَ النَّاسِ قَدْ صَامَ ، قَالَ : أُولَئِكَ الْعُصَاةُ "، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : سَمَّاهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعُصَاةَ بِتَرْكِهِمُ الأَمْرَ الَّذِي أَمَرَهُمْ بِالإِفْطَارِ فِي السَّفَرِ لِيَقُوَوَا بِهِ ، لا أَنَّهُمْ عُصَاةٌ بِصَوْمِهِمْ فِي السَّفَرِ ، إِذِ الصَّوْمُ وَالإِفْطَارُ فِي السَّفَرِ جَمِيعًا طَلْقٌ مُبَاحٌ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

امام جعفر صادق رحمہ اللہ اپنے والد (امام محمد باقر رحمہ اللہ) کے حوالے سے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ فتح مکہ کے موقع پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم روانہ ہوئے، کراع الغمیم پہنچنے تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے روزہ رکھا ہوا تھا اور لوگوں نے بھی روزہ رکھا ہوا تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی کا پیالہ منگوایا اور اسے بلند کیا یہاں تک کہ لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف دیکھنے لگے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پی لیا، اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی گئی کہ بعض لوگوں نے ابھی بھی روزہ رکھا ہوا ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ نافرمان لوگ ہیں“۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں نافرمان کا نام اس لیے دیا تھا کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب سفر کے دوران انہیں روزہ ختم کرنے کا حکم دیا تھا تو انہوں نے اس حکم پر عمل نہیں کیا تھا، اس سے یہ مراد نہیں ہے کہ وہ لوگ سفر کے دوران روزہ رکھنے کی وجہ سے نافرمان ہو گئے کیونکہ سفر کے دوران روزہ رکھنا یا نہ رکھنا دونوں مطلق طور پر مباح ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصوم/حدیث: 3551]

3552

Sahih Ibn Hibban #3552

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالا : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَعْدِ بْنِ زُرَارَةَ الأَنْصَارِيِّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْحَسَنِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : رَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلا قَدِ اجْتَمَعَ النَّاسُ ، وَقَدْ ظُلِّلَ عَلَيْهِ ، فَقَالَ : مَا هَذَا ؟ " قَالُوا : رَجُلٌ صَائِمٌ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ :" لَيْسَ الْبِرَّ أَنْ تَصُومُوا فِي السَّفَرِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو دیکھا جس کے گرد لوگ اکٹھے تھے اور اس پر سایہ کیا جا رہا تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”کیا معاملہ ہے؟“ لوگوں نے بتایا: اس شخص نے روزہ رکھا ہوا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ بات نیکی نہیں ہے کہ تم لوگ سفر کے دوران روزہ رکھو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصوم/حدیث: 3552]

3553

Sahih Ibn Hibban #3553

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ يُوسُفَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُمَارَةُ بْنُ غَزِيَّةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زُرَارَةَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزَاةِ تَبُوكَ ، وَكَانَتْ تُدْعَى غَزُوَةُ الْعُسْرَةِ ، فَبَيْنَمَا نَسِيرُ بَعْدَمَا أَضْحَى النَّهَارُ ، فَإِذَا هُوَ بِجَمَاعَةٍ تَحْتَ ظِلِّ شَجَرَةٍ ، فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، رَجُلٌ صَامَ ، فَجَهَدَهُ الصَّوْمُ ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَيْسَ الْبِرَّ أَنْ تَصُومُوا فِي السَّفَرِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: غزوہ تبوک کے موقع پر ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ روانہ ہوئے، اس غزوہ کو غربت کی جنگ کا نام بھی دیا جاتا ہے۔ ابھی ہم دن چڑھنے کے بعد چل رہے تھے، ایک جگہ کچھ لوگ ملے جو ایک درخت کے سائے کے نیچے جمع تھے، ان لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اس شخص نے روزہ رکھا ہوا ہے، تو اس کا روزہ اس کے لیے دشواری پیدا کر رہا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ بات نیکی نہیں ہے کہ تم لوگ سفر کے دوران روزہ رکھو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصوم/حدیث: 3553]

3554

Sahih Ibn Hibban #3554

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْجُنَيْدِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ مُضَرَ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ ، وَرَأَى نَاسًا مُجْتَمِعِينَ عَلَى رَجُلٍ ، فَسَأَلَ ، فَقَالُوا : رَجُلٌ جَهَدَهُ الصَّوْمُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَيْسَ مِنَ الْبِرِّ الصِّيَامُ فِي السَّفَرِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک سفر کے دوران کچھ لوگوں کو ایک شخص کے پاس اکٹھے دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بارے میں دریافت کیا تو لوگوں نے بتایا: اس شخص کے لیے روزہ رکھنا دشواری کا باعث ہو رہا ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”سفر کے دوران روزہ رکھنا نیکی نہیں ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصوم/حدیث: 3554]

3555

Sahih Ibn Hibban #3555

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ عَامَ الْفَتْحِ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ ،فَصَامَ حَتَّى بَلَغَ الْكَدِيدَ ، ثُمَّ أَفْطَرَ "، قَالَ : فَكَانَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَّبِعُونَ الأَحْدَثَ ، فَالأَحْدَثَ مِنْ أَمْرِهِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: فتح مکہ کے موقع پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے مہینے میں روانہ ہوئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کدید پہنچنے تک روزہ رکھا ہوا تھا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے روزہ ختم کر دیا۔ راوی بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد والے عمل کی پیروی کیا کرتے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصوم/حدیث: 3555]

3556

Sahih Ibn Hibban #3556

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا خَالِدٌ ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبَى سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : مَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى نَهَرٍ مِنْ مَاءٍ وَهُوَ عَلَى بَغْلَتِهِ ، وَالنَّاسُ صِيَامٌ ، وَالْمَشَاةُ كَثِيرٌ ، فَقَالَ : اشْرَبُوا " ، فَجَعَلُوا يَنْظُرُونَ إِلَيْهِ ، فَقَالَ :" اشْرَبُوا ، فَإِنِّي آمُرُكُمْ " ، فَجَعَلُوا يَنْظُرُونَ إليهِ ، فَحَوَّلَ وَرِكَهُ ، فَشَرِبَ وَشَرِبَ النَّاسُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر پانی کی ایک نہر کے پاس سے ہوا، آپ اپنے خچر پر سوار تھے اور لوگوں نے روزہ رکھا ہوا تھا، نیز پیدل چلنے والے لوگ بہت زیادہ تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم لوگ پانی پی لو۔“ لوگ آپ کی طرف دیکھنے لگے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم لوگ پانی پی لو، میں تمہیں حکم دے رہا ہوں۔“ لوگ پھر آپ کی طرف دیکھنے لگے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پہلو کو حرکت دی (اور آگے بڑھ کر) پانی پی لیا، تو لوگوں نے بھی پانی پی لیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصوم/حدیث: 3556]

3557

Sahih Ibn Hibban #3557

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَبُو دَاوُدَ الْحَفَرِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفِيَانُ الثَّوْرِيُّ ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ ، عَنْ يَحِيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِطَعَامٍ بِمَرِّ الظَّهْرَانِ ، فَقَالَ لأَبِي بَكْرٍ ، وَعُمَرَ : كُلا " ، فَقَالا : إِنَّا صَائِمَانِ ، فَقَالَ :" ارْحَلُوا لِصَاحِبَيْكُمَا ، اعْمَلُوا لِصَاحِبَيْكُمَا ، ادْنُوَا فَكُلا "، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : يُرِيدُ بِهِ : كَأَنِّي بِكُمَا وَقَدِ احْتَجْتُمَا إِلَى النَّاسِ مِنَ الضَّعْفِ إِلَى أَنْ تَقُولُوا : ارْحَلُوا لِصَاحِبَيْكُمَا ، اعْمَلُوا لِصَاحِبَيْكُمَا"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: مَرُّ الظَّہْرَان کے مقام پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کھانا پیش کیا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوبکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما سے فرمایا: ”تم دونوں بھی کھاؤ۔“ ان دونوں نے عرض کی: ہم نے روزہ رکھا ہوا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنے ان دونوں ساتھیوں کا سامان لدواؤ، ان دونوں کے کام کاج کرو۔“ (پھر ان دونوں سے فرمایا:) ”تم دونوں آگے ہو اور کھانا کھاؤ۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) اس کے ذریعے آپ کی مراد یہ ہے: مجھے تمہارے بارے میں یہ اندیشہ ہے کہ کمزوری کی وجہ سے تمہیں لوگوں کی ضرورت ہو گی۔ یہاں تک کہ تمہیں یہ کہنا پڑے گا کہ اپنے دو ساتھیوں کے لیے پالان رکھو اور اپنے دونوں ساتھیوں کے لیے کام کرو۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصوم/حدیث: 3557]

3558

Sahih Ibn Hibban #3558

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ يُوسُفَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ : كُنَّا نَغْزُو مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَمَضَانَ ،فَمِنَّا الصَّائِمُ وَمِنَّا الْمُفْطِرُ ، فَلا يَجِدُ الصَّائِمُ عَلَى الْمُفْطِرِ ، وَلا الْمُفْطِرُ عَلَى الصَّائِمِ ، يَرَوْنَ أَنَّ مَنَ وَجَدَ قُوَّةً ، فَصَامَ فَهُوَ حَسَنٌ ، وَمَنْ وَجَدَ ضَعْفًا فَأفْطَرَ ، فَهُوَ حَسَنٌ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ رمضان کے مہینے میں ایک جنگ میں شرکت کے لیے گئے، ہم میں سے کچھ لوگوں نے روزہ رکھا ہوا تھا اور کچھ لوگوں نے روزہ نہیں رکھا ہوا تھا، تو روزہ دار شخص کو روزہ نہ رکھنے والے پر اور روزہ نہ رکھنے والے کو روزہ دار شخص پر کوئی اعتراض نہیں تھا، وہ لوگ یہ سمجھتے تھے کہ جس شخص میں قوت ہو اور وہ روزہ رکھ لے، تو یہ بہتر ہے اور جو شخص کمزور ہو اور اگر وہ روزہ نہ رکھے، تو یہ بہتر ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصوم/حدیث: 3558]

3559

Sahih Ibn Hibban #3559

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي عَوْنٍ الرَّيَّانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَاصِمٌ الأَحُوَلُ ، عَنْ مُوَرِّقٍ الْعِجْلِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ ،فَمِنَّا الصَّائِمُ ، وَمِنَّا الْمُفْطِرُ ، وَنَزَلْنَا مَنْزِلا يَوْمًا حَارًّا شَدِيدَ الْحَرِّ ، فَمِنَّا مِنْ يَتَّقِي الشَّمْسَ بِيَدِهِ ، وَأَكْثَرُنَا ظِلا صَاحِبُ كِسَاءٍ يَسْتَظِلُّ بِهِ الصَّائِمُونَ ، وَقَامَ الْمُفْطِرُونَ يَضْرِبُونَ الأَبْنِيَةَ وَيُصْلِحُونَ الرَّكَائِبَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : ذَهَبَ الْمُفْطِرُونَ الِيَوْمَ بِالأَجْرِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ سفر کر رہے تھے، ہم میں سے کچھ لوگوں نے روزہ رکھا ہوا تھا اور کچھ نے روزہ نہیں رکھا ہوا تھا۔ ایک شدید گرم دن میں ہم نے ایک جگہ پر پڑاؤ کیا، ہم میں سے کوئی شخص اپنے ہاتھ کے ذریعے دھوپ سے بچ رہا تھا اور اس دن زیادہ سایہ اس شخص کے پاس تھا جو چادر والا تھا اور اس کے ذریعے روزہ دار لوگوں نے سایہ کیا ہوا تھا اور جن لوگوں نے روزہ نہیں رکھا ہوا تھا وہ اٹھے، انہوں نے خیمے وغیرہ لگائے اور سواریاں وغیرہ بٹھائیں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”آج وہ لوگ اجر لے گئے ہیں جنہوں نے روزہ نہیں رکھا ہوا تھا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصوم/حدیث: 3559]

3560

Sahih Ibn Hibban #3560

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ تَسْنِيمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ حَمْزَةَ الأَسْلَمِيَّ ، سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِالصَّوْمِ فِي السَّفَرِ ، فَقَالَ : أَنْتَ بِالْخِيَارِ ، إِنْ شِئْتَ فَصُمْ ، وَإِنْ شِئْتَ فَأَفْطِرْ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ سیدنا حمزہ اسلمی رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سفر کے دوران روزہ رکھنے کے بارے میں دریافت کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تمہیں اختیار ہے، اگر تم چاہو، تو روزہ رکھ لو اور اگر چاہو، تو نہ رکھو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصوم/حدیث: 3560]

3561

Sahih Ibn Hibban #3561

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّامِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحِيَى بْنُ أَيُّوبَ الْمَقَابِرِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي حُمَيْدٌ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّهُ قَالَ : سَافَرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَمَضَانَ ،وَصَامَ صَائِمُنَا ، وَأَفْطَرَ مُفْطِرُنَا ، فَلَمْ يَعِبِ الصَّائِمُ عَلَى الْمُفْطِرِ ، وَلا الْمُفْطِرُ عَلَى الصَّائِمِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ رمضان میں سفر کر رہے تھے، ہم میں سے کچھ لوگوں نے روزہ رکھا ہوا تھا اور کچھ نے روزہ نہیں رکھا ہوا تھا، تو روزہ دار نے روزہ نہ رکھنے والے پر اور روزہ نہ رکھنے والے نے روزہ دار پر کوئی اعتراض نہیں کیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصوم/حدیث: 3561]

3562

Sahih Ibn Hibban #3562

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الُوَلِيدِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِسَبْعَ عَشْرَةَ حِينَ فَتْحَ مَكَّةَ ،فَصَامَ صَائِمُونَ ، وَأَفْطَرَ مُفْطِرُونَ ، فَلَمْ يَعِبْ هَؤُلاءِ عَلَى هَؤُلاءِ ، وَلا هَؤُلاءِ عَلَى هَؤُلاءِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم لوگ (رمضان کی) سترہ تاریخ کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ روانہ ہوئے، یہ اس موقع کی بات ہے جب مکہ فتح ہوا تھا، تو کچھ لوگوں نے روزہ رکھا ہوا تھا اور کچھ لوگوں نے روزہ نہیں رکھا ہوا تھا، تو انہیں ان لوگوں پر کوئی اعتراض نہیں تھا اور انہیں ان لوگوں پر کوئی اعتراض نہیں تھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصوم/حدیث: 3562]

3563

Sahih Ibn Hibban #3563

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الأَنْصَارِيُّ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ إِلَى مَكَّةَ عَامَ الْفَتْحِ فِي رَمَضَانَ ،فَصَامَ حَتَّى بَلَغَ الْكَدِيدَ ، ثُمَّ أَفْطَرَ وَأَفْطَرَ النَّاسُ مَعَهُ ، وَكَانَوا يَأْخُذُونَ بِالأَحْدَثِ ، فَالأَحْدَثِ مِنْ أَمْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: فتح مکہ کے موقع پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے مہینے میں روانہ ہوئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کدید پہنچنے تک روزہ رکھا ہوا تھا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے روزہ ختم کر دیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ لوگوں نے بھی روزہ ختم کر دیا، تو لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد میں پیش آنے والے معاملے کو اختیار کیا کرتے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصوم/حدیث: 3563]