Muslim99Muslim99

Sahih Ibn Hibban · Book 31 · Chapter 2

Book of Judgments

Hadith 3450–3489

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

3450

Sahih Ibn Hibban #3450

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : كَمْ مِنَ الشَّهْرِ ؟ " ، يَعْنِي رَمَضَانَ ، قُلْنَا : ثِنْتَانِ وَعِشْرُونَ ، وَبَقِيَ ثَمَانٍ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَضَتْ ثِنْتَانِ وَعِشْرُونَ ، وَبَقِيَ سَبْعٌ ، فَاطْلُبُوهَا اللَّيْلَةَ " ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الشَّهْرُ هَكَذَا وَهَكَذَا " ، ثَلاثَ مَرَّاتٍ عَشَرَةً عَشَرَةً مَرَّتَيْنِ ، وَوَاحِدَةٌ تِسْعَةٌ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”مہینہ (ختم ہونے میں) کتنے دن باقی رہ گئے ہیں؟“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد رمضان کا مہینہ تھا۔ ہم نے عرض کی: بائیس (22) دن گزر چکے ہیں اور آٹھ دن باقی رہ گئے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”بائیس (22) دن گزر گئے ہیں اور سات دن باقی رہ گئے ہیں، تم اسے آج کی رات میں تلاش کرو۔“ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”مہینہ اتنا اور اتنا ہوتا ہے۔“ یہ بات آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی، دو مرتبہ دس دس کا اشارہ کیا اور ایک مرتبہ نو کا اشارہ کیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصوم/حدیث: 3450]

3451

Sahih Ibn Hibban #3451

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْعِجْلِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : الشَّهْرُ ثَلاثُونَ ، وَالشَّهْرُ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ ، فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ ، فَعُدُّوا ثَلاثِينَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”(کبھی) مہینہ تیس دن کا ہوتا ہے اور (کبھی) مہینہ انتیس دن کا ہوتا ہے، اگر تم پر بادل چھائے ہوئے ہوں، تو تم تیس کی گنتی پوری کر لو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصوم/حدیث: 3451]

3452

Sahih Ibn Hibban #3452

أَخْبَرَنَا ابْنُ خُزَيْمَةَ ، وَالدَّغُولِيُّ ، قَالا : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرِ بْنِ الْحَكَمِ ، حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ : عَزَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نِسَاءَهُ شَهْرًا ، فَخَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَبَاحَ تِسْعٍ وَعِشْرِينَ ، فَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّا أَصْبَحْنَا مِنْ تِسْعَةٍ وَعِشْرِينَ ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّالشَّهْرَ يَكُونُ تِسْعًا وَعِشْرِينَ " ، ثُمَّ صَفَّقَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلاثًا مَرَّتَيْنِ بِأَصَابِعِ يَدَيْهِ كُلِّهَا ، وَالثَّالِثُ بِتِسْعٍ مِنْهَا"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ماہ تک اپنی ازواج سے علیحدگی اختیار کیے رکھی۔ انتیسویں دن کی صبح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے، تو حاضرین میں سے کسی نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ابھی تو انتیس دن ہوئے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”مہینہ کبھی انتیس دن کا بھی ہوتا ہے۔“ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں ہاتھ کی تمام انگلیوں کے ذریعے تین مرتبہ اشارہ کیا اور تیسری مرتبہ میں نو انگلیوں کے ذریعے اشارہ کیا (یعنی مہینہ کبھی انتیس دن کا بھی ہوتا ہے)۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصوم/حدیث: 3452]

3453

Sahih Ibn Hibban #3453

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ، عَنْ سِمَاكٍ أَبِي زُمَيْلٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَبَّاسٍ ، حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رِضُوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : إِنَّالشَّهْرَ يَكُونُ تِسْعًا وَعِشْرِينَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”مہینہ انتیس دن کا بھی ہوتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصوم/حدیث: 3453]

3454

Sahih Ibn Hibban #3454

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، حَدَّثَنَا أَبُو الُوَلِيدِ ، وَالْحَوْضِيُّ ، قَالا : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، أَخْبَرَنِي جَبَلَةُ بْنُ سُحَيْمٍ ، قَالَ : رَأَيْتُ ابْنَ عُمَرَ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّالشَّهْرَ هَكَذَا وَهَكَذَا " ، وَخَنَسَ الإِبْهَامَ فِي الثَّالِثَةِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”مہینہ اتنا اور اتنا ہوتا ہے۔“ تیسری مرتبہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے انگوٹھے کو بند کر لیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصوم/حدیث: 3454]

3455

Sahih Ibn Hibban #3455

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفِيَانَ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذِ بْنِ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قَالَ ابْنُ عُمَرَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : الشَّهْرُ هَكَذَا ، الشَّهْرُ هَكَذَا " ، يُثَبِّتُ الثَّلاثَةَ الأُوَلَ بِكُلِّ أَصَابِعِ يَدَيْهِ ، وَالثَّلاثَ الأَوَاخِرَ بِكُلِّ أَصَابِعِ يَدَيْهِ إِلا الآخِرَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”مہینہ اتنا اور مہینہ اتنا ہوتا ہے۔“ ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تینوں مرتبہ اپنی تمام انگلیوں کو کھلا رکھا اور دوسری مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں ہاتھوں کی تمام انگلیوں کو کھلا رکھا، لیکن تیسری مرتبہ میں نے ایک انگلی کو بند کر لیا (یعنی مہینہ کبھی انتیس دن کا بھی ہوتا ہے)۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصوم/حدیث: 3455]

3456

Sahih Ibn Hibban #3456

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَحِيَى بْنِ زُهَيْرٍ ، بِتُسْتَرَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ عُمُومَةً لَهُ شَهِدُوا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى رُؤِيَةِ الْهِلالِ ، فَأَمَرَهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْيَخْرُجُوا لِعِيدِهِمْ مِنَ الْغَدِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ان کے چچاؤں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پہلی کا چاند دیکھ لینے کی گواہی دی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو یہ حکم دیا کہ ”وہ اگلے دن عید کی نماز ادا کرنے کے لیے نکلیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصوم/حدیث: 3456]

3457

Sahih Ibn Hibban #3457

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، وَأَبِي سَلَمَةَ ، أو أحدهما ، شك إسحاق ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : صُومُوا لِرُؤِيَتِهِ ، وَأَفْطِرُوا لِرُؤِيَتِهِ ، فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ ، فَصُومُوا ثَلاثِينَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”اسے (یعنی پہلی کے چاند کو) دیکھ کر روزے رکھنا شروع کرو اور اسے دیکھ کر عیدالفطر کرو، اگر تم پر بادل چھائے ہوئے ہوں، تو تیس روزے رکھو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصوم/حدیث: 3457]

3458

Sahih Ibn Hibban #3458

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الأَنْصَارِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لا تَقَدَّمُوا الشَّهْرَ حَتَّى تَرَوُا الْهِلالَ ، أَوْ تُكْمِلُوا الْعِدَّةَ ، ثُمَّ صُومُوا حَتَّى تَرَوُا الْهِلالَ ، أَوْ تُكْمِلُوا الْعِدَّةَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”مہینے کا آغاز اس وقت تک نہ کرو جب تک پہلی کا چاند نہ دیکھ لو یا تیس کی تعداد پوری نہ کر لو، پھر تم روزے رکھنا شروع کرو، یہاں تک کہ جب تم پہلی کا چاند دیکھ لو یا تعداد پوری کر لو (تو عیدالفطر کرو)۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصوم/حدیث: 3458]

3459

Sahih Ibn Hibban #3459

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : صُومُوا لِرُؤِيَتِهِ ، وَأَفْطِرُوا لِرُؤِيَتِهِ ، فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ فَعُدُّوا ثَلاثِينَ يَوْمًا ، ثُمَّ أَفْطِرُوا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”اسے (یعنی پہلی کے چاند کو) دیکھ کر روزے رکھنا شروع کرو اور اسے دیکھ کر عیدالفطر کرو اور اگر تم پر بادل چھائے ہوئے ہوں، تو تیس کی تعداد پوری کر لو، پھر تم عیدالفطر کرو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصوم/حدیث: 3459]

3460

Sahih Ibn Hibban #3460

أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُبَارَكِ ، بِهَرَاةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الْعِجْلِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، عَنْ إِسْرَائِيلَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الْبَرَاءِ ، قَالَ : كَانَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَإِذَا كَانَ الرَّجُلُ صَائِمًا ، فَحَضَرَهُ الإِفْطَارُ ، فَنَامَ قَبْلَ أَنْ يُفْطِرَ ، لَمْ يَأْكُلْ لَيْلَتَهُ وَلا يَوْمَهُ حَتَّى يُمْسِيَ ، وَإِنَّ قَيْسَ بْنَ صِرْمَةَ كَانَ صَائِمًا ، فَلَمَّا حَضَرَ الإِفْطَارُ ، أَتَى امْرَأَتَهُ ، فَقَالَ : هَلْ عِنْدَكِ طَعَامٌ ؟ قَالَتْ : لا ، وَلَكِنْ أَنْطَلِقُ فَأَطْلُبُ ، وَكَانَ يَوْمَهُ يَعْمَلُ ، فَغَلَبَتْهُ عَيْنُهُ ، فَجَاءَتْهُ امْرَأَتُهُ ، فَلَمَّا رَأَتْهُ قَالَتْ : خَيْبَةً لَكَ ، فَأَصْبَحَ ، فَلَمَّا انْتَصَفَ النَّهَارُ غُشِيَ عَلَيْهِ ، فَذَكَرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَنَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ : أُحِلَّ لَكُمْ لَيْلَةَ الصِّيَامِ الرَّفَثُ إِلَى نِسَائِكُمْ ، هُنَّ لِبَاسٌ لَكُمْ ، فَفَرِحُوا بِهَا فَرَحًا شَدِيدًا وَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الأَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الأَسْوَدِ مِنَ الْفَجْرِ "

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا براء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے جب کسی شخص نے روزہ رکھا ہوا ہوتا اور افطاری کا وقت قریب آ جاتا اور وہ افطاری کرنے سے پہلے سو جاتا، تو وہ اس پوری رات میں کچھ نہیں کھا سکتا تھا اور اس سے اگلے دن شام تک بھی کچھ نہیں کھا سکتا تھا۔ ایک مرتبہ سیدنا قیس بن صرمہ رضی اللہ عنہ نے روزہ رکھا ہوا تھا، جب افطاری کا وقت قریب آیا، تو وہ اپنی بیوی کے پاس آئے اور دریافت کیا: کیا تمہارے پاس کھانے کے لیے کچھ ہے؟ اس نے جواب دیا: جی نہیں، لیکن میں جا کر تلاش کرتی ہوں؛ وہ اس دن کام کرتے رہے تھے، ان کی آنکھ لگ گئی۔ جب ان کی بیوی ان کے پاس آئی اور اس نے انہیں اس حالت میں دیکھا، تو بولی: آپ کے لیے افسوس ہے۔ اگلے دن دوپہر کے وقت ان پر غشی طاری ہو گئی، اس بات کا تذکرہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا گیا، تو یہ آیت نازل ہوئی: ﴿أُحِلَّ لَكُمْ لَيْلَةَ الصِّيَامِ الرَّفَثُ إِلَىٰ نِسَائِكُمْ ۚ هُنَّ لِبَاسٌ لَّكُمْ﴾ [سورة البقرة: 187] ”تمہارے لیے روزے (یعنی رمضان) کی راتوں میں اپنی بیویوں کے ساتھ صحبت کرنے کو حلال قرار دیا گیا ہے وہ تمہارا لباس ہیں“۔ تو لوگ اس سے بہت خوش ہوئے (ارشادِ باری تعالیٰ ہے) ﴿وَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّىٰ يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الْأَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الْأَسْوَدِ مِنَ الْفَجْرِ﴾ [سورة البقرة: 187] ”تم لوگ اس وقت تک کھا پی سکتے ہو جب تک سفید دھاگہ تمہارے سامنے سیاہ دھاگے سے ممتاز نہیں ہو جاتا جو صبح صادق ہے“۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصوم/حدیث: 3460]

3461

Sahih Ibn Hibban #3461

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ يَحِيَى بْنِ سَعِيدٍ الأُمَوِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَمِّي عُبَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الْبَرَاءِ ، قَالَ : كَانَ أَصْحَابُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ،إِذَا كَانَ أَحَدُهُمْ صَائِمًا ، فَحَضَرَ الإِفْطَارُ ، فَنَامَ قَبْلَ أَنْ يُفْطِرَ ، لَمْ يَأْكُلْ لَيْلَتَهُ وَلا يَوْمَهُ حَتَّى يُمْسِيَ ، وَإِنَّ قَيْسَ بْنَ صِرْمَةَ كَانَ صَائِمًا ، فَلَمَّا حَضَرَ الإِفْطَارُ أَتَى امْرَأَتَهُ ، فَقَالَ : أَعِنْدَكِ طَعَامٌ ؟ قَالَتْ : لا ، وَلَكِنْ أَطْلُبُ ، فَطَلَبَتْ لَهُ ، وَكَانَ يَوْمَهُ يَعْمَلُ ، فَغَلَبَتْهُ عَيْنُهُ ، وَجَاءَتِ امْرَأَتُهُ ، فَقَالَتْ : خَيْبَةً لَكَ ، فَأَصْبَحَ ، فَلَمَّا انْتَصَفَ النَّهَارُ غَشِيَ ، فَذَكَرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَنَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ : أُحِلَّ لَكُمْ لَيْلَةَ الصِّيَامِ الرَّفَثُ إِلَى نِسَائِكُمْ ، فَفَرِحُوا بِهَا فَرَحًا شَدِيدًا ، فَقَالَ : وَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الأَبِيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الأَسُوَدِ مِنَ الْفَجْرِ

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا براء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کا یہ معمول تھا کہ جب ان میں سے کسی نے روزہ رکھا ہوتا اور افطاری کا وقت آ جاتا اور وہ افطاری کرنے سے پہلے سو جاتا، تو وہ اس رات میں اور اس سے اگلے دن شام تک کچھ نہیں کھا سکتا تھا۔ ایک مرتبہ سیدنا قیس بن صرمہ رضی اللہ عنہ نے روزہ رکھا ہوا تھا، جب افطاری کا وقت قریب آیا، تو وہ اپنی بیوی کے پاس تشریف لائے اور انہوں نے دریافت کیا: ”کیا تمہارے پاس کھانے کے لیے کچھ ہے؟“ اس نے جواب دیا: ”جی نہیں، لیکن میں لے کر آتی ہوں۔“ وہ ان کے لیے کھانا لینے گئی، وہ اس دن کام کرتے رہے تھے اس لیے ان کی آنکھ لگ گئی، جب ان کی بیوی آئی، تو اس نے کہا: ”آپ پر افسوس ہے!“ اگلے دن دوپہر کے وقت ان پر بے ہوشی طاری ہو گئی، اس بات کا تذکرہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا گیا، تو یہ آیت نازل ہوئی: ﴿أُحِلَّ لَكُمْ لَيْلَةَ الصِّيَامِ الرَّفَثُ إِلَى نِسَائِكُمْ﴾ ”تمہارے لیے روزے کی راتوں میں بیویوں کے ساتھ صحبت کرنا حلال قرار دیا گیا ہے“ [سورة البقرة: 187] ، اس پر لوگ بہت زیادہ خوش ہوئے، تو اللہ تعالیٰ نے یہ بات ارشاد فرمائی: ﴿وَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الْأَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الْأَسْوَدِ مِنَ الْفَجْرِ﴾ ”اور تم لوگ اس وقت تک کھاتے پیتے رہو جب تک سفید دھاگہ سیاہ دھاگے سے تمہارے سامنے نمایاں نہیں ہو جاتا جس کا تعلق فجر سے ہے“ [سورة البقرة: 187] ۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصوم/حدیث: 3461]

3462

Sahih Ibn Hibban #3462

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا حُصَيْنٌ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، أَخْبَرَنِي عَدِيُّ بْنُ حَاتِمٍ ، قَالَ : لَمَا نَزَلَتْ : وَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الأَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الأَسْوَدِ ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّمَا ذَلِكَ بَيَاضُ النَّهَارِ وَسَوَادُ اللَّيْلِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب یہ آیت ﴿حَتّٰى يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الْاَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الْاَسْوَدِ﴾ [سورة البقرة: 187] ”تم لوگ اس وقت تک کھا پی سکتے ہو جب تک سیاہ دھاگے کے مقابلے میں سفید دھاگہ تمہارے سامنے نمایاں نہ ہو جائے“ نازل ہوئی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اس سے مراد دن کی سفیدی اور رات کی تاریکی ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصوم/حدیث: 3462]

3463

Sahih Ibn Hibban #3463

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ ، عَنْ حُصَيْنِ بْنِ نُمَيْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حُصَيْنُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ ، قَالَ : لَمَا نَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ : حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الأَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الأَسْوَدِ ، أَخَذْتُ عِقَالا أَبِيَضَ وَعِقَالا أَسُوَدَ ، فَوَضَعْتُهَا تَحْتَ وِسَادَتِي ، فَنَظَرْتُ فَلَمْ أَتَبَيَّنْ ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَضَحِكَ ، وَقَالَ : إِنَّ وِسَادَكَ إِذًا لَعَرِيضٌ طَوِيلٌ ، إِنَّمَا هُوَ اللَّيْلُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب یہ آیت: ﴿حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الْأَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الْأَسْوَدِ﴾ [سورة البقرة: 187] ”یہاں تک کہ سیاہ دھاگے کے مقابلے میں سفید دھاگہ تمہارے سامنے نمایاں ہو جائے“ نازل ہوئی تو میں نے ایک سفید دھاگہ لیا اور ایک سیاہ دھاگہ لیا، میں نے انہیں اپنے سرہانے کے نیچے رکھ دیا، میں اس بات کا جائزہ لیتا رہا لیکن وہ میرے سامنے نمایاں نہیں ہوا، میں نے اس بات کا تذکرہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہنس پڑے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تمہارا تکیہ بڑا لمبا چوڑا ہے، اس سے مراد رات ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصوم/حدیث: 3463]

3464

Sahih Ibn Hibban #3464

أَخْبَرَنَا يَحِيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، بِالْفُسْطَاطِ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْعَلاءِ الزُّبَيْدِيُّ ، أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَالِمِ ، عَنِ الزُّبَيْدِيِّ ، حَدَّثَنَا رَاشِدُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : هُوَ الْغَدَاءُ الْمُبَارَكُ "، يَعْنِي السَّحُورَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”یہ مبارک ناشتہ ہے“، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد سحری تھی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصوم/حدیث: 3464]

3465

Sahih Ibn Hibban #3465

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا الْقَوَارِيرِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ مَهْدِيٍّ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ، عَنْ يُونُسَ بْنِ سَيْفٍ ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ زِيَادٍ ، عَنْ أَبِي رُهْمٍ ، عَنِ الْعِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَدْعُو إِلَى السَّحُورِ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ ، فَقَالَ : هَلَمُوا إِلَى الْغَدَاءِ الْمُبَارَكِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا، آپ رمضان کے مہینے میں سحری کی طرف بلا رہے تھے۔ آپ نے ارشاد فرمایا: ”مبارک ناشتے کی طرف آ جاؤ۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصوم/حدیث: 3465]

3466

Sahih Ibn Hibban #3466

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : تَسَحَّرُوا ، فَإِنَّ فِي السَّحُورِ بَرَكَةٌ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”سحری کرو، کیونکہ سحری میں برکت ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصوم/حدیث: 3466]

3467

Sahih Ibn Hibban #3467

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ أَبِي الصَّغِيرِ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُنْقِذٍ ، حَدَّثَنَا إِدْرِيسُ بْنُ يَحِيَى ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَيَّاشِ بْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سُلَيْمَانَ الطَّوِيلِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّاللَّهَ وَمَلائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى الْمُتَسَحِّرِينَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”بے شک اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے سحری کرنے والوں پر رحمت نازل کرتے ہیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصوم/حدیث: 3467]

3468

Sahih Ibn Hibban #3468

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُلَيْمَانَ التَّيْمِيَّ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لا يَمْنَعَنَّ أَحَدًا مِنْكُمْ أَذَانُ بِلالٍ ، أَوْ قَالَ : نِدَاءُ بِلالٍ مِنْ سَحُورِهِ ، فَإِنَّهُ يُؤَذِّنُ ، أَوْ قَالَ : يُنَادِي بِلَيْلٍ ، لِيَرْجِعَ قَائِمَكُمْ ، وَيُوقِظَ نَائِمَكُمْ " ، وَقَالَ : " لَيْسَ الْفَجْرُ أَنْ يَقُولَ هَكَذَا وَهَكَذَا " ، وَضَرَبَ يَدَهُ وَرَفَعَهَا ، " حَتَّى يَقُولَ هَكَذَا " ، وَفَرَّجَ بَيْنَ أَصَابِعِهِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”بلال کی اذان تم میں سے کسی ایک شخص کو ہرگز نہ روکے (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) بلال کی اذان آدمی کو اس کی سحری سے نہ روکے، کیونکہ وہ اس لیے اذان دیتا ہے (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) اعلان کرتا ہے، تاکہ نوافل ادا کرنے والا (نوافل کو چھوڑ کر سحری کرنے کے لیے) واپس چلا جائے اور وہ تمہارے سوئے ہوئے شخص کو بیدار کر دے۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”صبح صادق اس طرح اور اس طرح نہیں ہوتی ہے“، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ مارا اور اسے بلند کیا، ”بلکہ وہ اس طرح ہوتی ہے“، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلیوں کو کشادہ کر کے یہ فرمایا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصوم/حدیث: 3468]

3469

Sahih Ibn Hibban #3469

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ ، حدَّثنا الْقَعْنَبِيُّ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : إِنَّبِلالا يُنَادِي بِلَيْلٍ ، فَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى يُنَادِيَ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ "، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ : وَكَانَ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ رَجُلا أَعْمَى ، لا يُنَادِي حَتَّى يُقَالَ لَهُ : قَدْ أَصْبَحْتَ ، قَدْ أَصْبَحْتَ ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : لَمْ يَرُوِ هَذَا الْحَدِيثَ مُسْنِدًا عَنْ مَالِكٍ إِلا الْقَعْنَبِيُّ ، وَجُوَيْرِيَةُ بْنُ أَسْمَاءٍ ، وَقَالَ أَصْحَابُ مَالِكٍ كُلُّهُمْ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمِ : أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”بلال رات میں ہی اذان دے دیتے ہیں، تو تم لوگ اس وقت تک کھاتے پیتے رہو جب تک ابن ام مکتوم اذان نہ دے دیں۔“ ابن شہاب بیان کرتے ہیں: ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ ایک نابینا شخص تھے، وہ اس وقت تک اذان نہیں دیتے تھے جب تک ان سے یہ نہیں کہا جاتا تھا کہ صبح ہو گئی ہے، صبح ہو گئی ہے۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) اس روایت کو امام مالک رحمہ اللہ کے حوالے سے مسند (یعنی متصل) حدیث کے طور پر صرف قعنبی اور جویریہ بن اسماء نے نقل کیا ہے، امام مالک رحمہ اللہ کے تمام دیگر شاگردوں نے یہ بات نقل کی ہے کہ یہ روایت زہری کے حوالے سے، سالم کے حوالے سے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ہے (یعنی یہ مرسل روایت ہے متصل نہیں ہے)۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصوم/حدیث: 3469]

3470

Sahih Ibn Hibban #3470

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : إِنَّبِلالاً يُؤَذِّنُ بِلَيْلٍ ، فَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى تَسْمَعُوا أَذَانَ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”بلال رات میں ہی (یعنی صبح صادق ہونے سے کچھ پہلے ہی) اذان دے دیتا ہے، تو تم لوگ اس وقت تک کھاتے پیتے رہو جب تک ابن ام مکتوم کی اذان نہیں سنتے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصوم/حدیث: 3470]

3471

Sahih Ibn Hibban #3471

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّامِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحِيَى بْنُ أَيُّوبَ الْمَقَابِرِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ : وَأَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّبِلالاً يُؤَذِّنُ بِلَيْلٍ ، فَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى يُنَادِي ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”بلال رات میں ہی (یعنی صبح صادق ہونے سے پہلے ہی) اذان دے دیتا ہے، تو تم لوگ اس وقت تک کھاتے پیتے رہو جب تک ابن ام مکتوم اذان نہیں دیتا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصوم/حدیث: 3471]

3472

Sahih Ibn Hibban #3472

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ الْفَلاسُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحِيَى الْقَطَّانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : إِنَّبِلالاً يُؤَذِّنُ بِلَيْلٍ لِيُنَبِّهَ نَائِمَكُمْ ، وَيَرْجِعَ قَائِمُكُمْ ، وَلَيْسَ الْفَجْرُ أَنْ يَقُولَ هَكَذَا ، وَأَشَارَ بِالسَّبَّابَتَيْنِ ، وَلَكِنَّ الْفَجْرَ أَنْ يَقُولَ هَكَذَا وَأَشَارَ بِكَفِّهِ "، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : قَوْلُ ابْنُ مَسْعُودٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّ بِلالاً يُؤَذِّنُ بِلَيْلٍ لِيُنَبِّهَ نَائِمَكُمْ ، وَيَرْجِعَ قَائِمُكُمْ " ، فِيهِ أَبِيَنُ الْبَيَانِ عَلَى أَنَّ بِلالاً كَانَ يُؤَذِّنُ بِاللَّيْلِ لانْتِبَاهِ النُّوَّامِ ، وَرُجُوعِ الْهُجَّدِ ، عَنِ الْقِيَامِ ، لا لِصَلاةِ الْفَجْرِ ، فَإِذَا كَانَ الْمَسْجِدُ لَهُ مُؤَذِّنَانِ ، وَأَذَّنَ أَحَدُهُمَا بِلَيْلٍ لَمَا وَصَفْنَا ، وَالآخَرُ عِنْدَ انْفِجَارِ الصُّبْحِ لِصَلاةِ الْفَجْرِ ، كَانَ ذَلِكَ جَائِزًا ، فَأَمَّا مَنْ أَذَّنَ بِلَيْلٍ قَبْلَ طُلُوعِ الْفَجْرِ لِصَلاةِ الصُّبْحِ ، كَانَ عَلَيْهِ الإِعَادَةُ لِصَلاةِ الصُّبْحِ ، فَإِنَّهُ لَمْ يَصِحَّ أَنَّهُ أَذَّنَ لَهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِلَيْلٍ إِلا مُؤَذِّنَانِ ، لا مُؤَذِّنٌ وَاحِدٌ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”بلال رات میں ہی (یعنی صبح صادق ہونے سے کچھ پہلے ہی) اذان دے دیتا ہے، تاکہ سوئے ہوئے شخص کو متنبہ کرے اور نوافل ادا کرنے والا شخص واپس جائے (اور سحری کرے) صبح صادق یوں نہیں ہوتی۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی شہادت کی دو انگلیوں کے ذریعے اشارہ کیا: ”بلکہ صبح صادق یوں ہوتی ہے۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ہتھیلی کے ذریعے اشارہ کیا۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرنا: ”بلال رات میں ہی (یعنی صبح صادق ہونے سے کچھ پہلے ہی) اس لیے اذان دے دیتا ہے تاکہ وہ سوئے ہوئے شخص کو متنبہ کر دے اور نوافل ادا کرنے والا شخص (سحری کرنے کے لیے) واپس چلا جائے۔“ اس روایت میں اس بات کا واضح بیان موجود ہے کہ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ صبح صادق ہونے سے پہلے اذان اس لیے دیتے تھے تاکہ سوئے ہوئے شخص کو بیدار کر دیں اور تہجد ادا کرنے والا شخص (نوافل ختم کر کے سحری کرنے کے لیے) واپس چلا جائے۔ وہ فجر کی نماز کے لیے یہ اذان نہیں دیتے تھے۔ تو جب مسجد میں دو مؤذن تھے اور ان میں سے ایک شخص صبح صادق ہونے سے کچھ پہلے ہی اذان دے دیتا ہے جس کا ہم نے ذکر کیا ہے، تو دوسرا شخص صبح صادق ہونے پر فجر کی نماز کے لیے اذان دیتا تھا تو یہ بات جائز ہو گی؛ البتہ جو شخص صبح کی نماز کے لیے صبح صادق ہونے سے پہلے ہی اذان دے دیتا ہے، تو اس پر یہ بات لازم ہو گی کہ وہ صبح کی نماز کے لیے دوبارہ اذان دے کیونکہ یہ بات مستند طور پر ثابت نہیں ہے کہ صبح صادق ہونے سے پہلے کبھی دونوں مؤذنوں نے اذان دی ہو۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصوم/حدیث: 3472]

3473

Sahih Ibn Hibban #3473

أَخْبَرَنَا ابْنُ خُزَيْمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحِيَى الذُّهْلِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمْزَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : إِنَّ ابْنَ أُمِّ مَكْتُومٍيُؤَذِّنَ بِلَيْلٍ ، فَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى يُؤَذِّنَ بِلالٌ "، وَكَانَ بِلالٌ يُؤَذِّنُ حِينَ يَرَى الْفَجْرَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ رات میں ہی (یعنی صبح صادق ہونے سے پہلے کچھ پہلے ہی) اذان دے دیتا ہے، تو تم لوگ اس وقت تک کھاتے پیتے رہو جب تک بلال رضی اللہ عنہ اذان نہ دے۔“ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ اس وقت اذان دیا کرتے تھے جب وہ صبح صادق دیکھ لیتے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصوم/حدیث: 3473]

3474

Sahih Ibn Hibban #3474

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ زَاذَانَ ، عَنْ خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَمَّتِهِ أُنَيْسَةَ بِنْتِ خُبَيْبٍ ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِذَا أَذَّنَ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ ، فَكُلُوا وَاشْرَبُوا ، وَإِذَا أَذَّنَ بِلالٌ ، فَلا تَأْكُلُوا وَلا تَشْرَبُوا ، فَإِنْ كَانَتِ الُوَاحِدَةُ مِنَّا لَيَبْقَى عَلَيْهَا الشَّيْءُ مِنْ سَحُورِهَا ، فَتَقُولُ لِبِلالٍ : أَمْهِلْ حَتَّى أَفْرَغَ مِنْ سَحُورِي "، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : هَذَانِ خَبَرَانِ قَدْ يُوهِمَانِ مَنْ لَمْ يُحْكِمْ صِنَاعَةَ الْعِلْمِ أَنَّهُمَا مُتَضَادَّانِ ، وَلَيْسَ كَذَلِكَ ، لأَنَّ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ جَعَلَ اللَّيْلَ بَيْنَ بِلالٍ ، وَبَيْنَ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ نَوْبًا ، فَكَانَ بِلالٌ يُؤَذِّنُ بِاللَّيْلِ لَيَالِيَ مَعْلُومَةً ، لِيُنَبِّهَ النَّائِمَ ، ويَرْجِعَ الْقَائِمُ ، لا لِصَلاةِ الْفَجْرِ ، وَيُؤَذِّنُ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ فِي تِلْكَ اللَّيَالِيَ بَعْدَ انْفِجَارِ الصُّبْحِ لِصَلاةِ الْغَدَاةِ ، فَإِذَا جَاءَتْ نَوْبَةُ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ ، كَانَ يُؤَذِّنُ بِاللَّيْلِ لَيَالِيَ مَعْلُومَةً كَمَا وَصَفْنَا قَبْلُ ، وَيُؤَذِّنُ بِلالٌ فِي تِلْكَ اللَّيَالِيَ بَعْدَ انْفِجَارِ الصُّبْحِ لِصَلاةِ الْغَدَاةِ ، مِنْ غَيْرِ أَنْ يَكُونَ بَيْنَ الْخَبَرَيْنِ تَضَادٌّ أَوْ تَهَاتُرٌ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ انیسہ بنت خبیب رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”جب ابن ام مکتوم اذان دیں، تو تم لوگ کھاتے پیتے رہو اور جب بلال اذان دیں، تو تم کچھ نہ کھاؤ پیو۔“ وہ خاتون بیان کرتی ہیں کہ بعض اوقات ہم میں سے کسی عورت کی سحری میں سے کچھ باقی ہوتا تھا، تو وہ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ سے کہتی تھیں کہ ابھی آپ ٹھہر جائیں، میں پہلے سحری کر کے فارغ ہو جاؤں۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) یہ دونوں روایات اس شخص کو غلط فہمی کا شکار کرتی ہیں جو علمِ حدیث میں مہارت نہیں رکھتا اور وہ یہ سمجھتا ہے کہ یہ دونوں ایک دوسرے کے متضاد ہیں، حالانکہ ایسا نہیں ہے؛ کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صبحِ صادق سے پہلے اذان دینے کی باری سیدنا بلال اور سیدنا ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہما کے درمیان باری باری رکھی تھی، تو کچھ متعین راتوں میں سیدنا بلال رضی اللہ عنہ صبحِ صادق ہونے سے پہلے اذان دے دیتے تھے تاکہ سویا ہوا شخص بیدار ہو جائے اور نوافل پڑھنے والا شخص (سحری کرنے کے لیے) واپس چلا جائے، وہ فجر کی نماز کے لیے اذان نہیں دیتے تھے اور ان راتوں میں سیدنا ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ صبح کی نماز کے لیے صبحِ صادق ہو جانے کے بعد اذان دیا کرتے تھے، اور جب سیدنا ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کی باری آتی تھی تو وہ متعین راتوں میں صبحِ صادق ہونے سے پہلے ہی اذان دے دیتے تھے جس کا ذکر ہم اس سے پہلے کر چکے ہیں اور ان راتوں میں سیدنا بلال رضی اللہ عنہ صبحِ صادق ہونے کے بعد صبح کی نماز کے لیے اذان دیا کرتے تھے، اس صورت میں ان دونوں روایات کے درمیان کوئی تضاد اور اختلاف نہیں رہے گا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصوم/حدیث: 3474]

3475

Sahih Ibn Hibban #3475

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي الُوَزِيرِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى الْمَدَنِيُّ ، عَنِ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : نِعْمَ سَحُورُ الْمُؤْمِنِ التَّمْرُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”مومن کی بہترین سحری کھجور ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصوم/حدیث: 3475]

3476

Sahih Ibn Hibban #3476

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَحِيَى بْنِ زُهَيْرٍ ، بِتُسْتَرَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ رَاشِدٍ الأَدَمِيَّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِلالٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عِمْرَانُ الْقَطَّانُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ وَسَّاجٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : تَسَحَّرُوا وَلَوْ بِجَرْعَةٍ مِنْ مَاءٍ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم لوگ سحری کرو خواہ پانی کا ایک گھونٹ (پی لو)“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصوم/حدیث: 3476]

3477

Sahih Ibn Hibban #3477

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفِيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي حِبَّانُ بْنُ مُوسَى ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عَلِيٍّ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبِي ، عَنْ أَبِي قَيْسٍ ، مَوْلَى عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : فَصْلُ مَا بَيْنَ صِيَامِنَا وَصِيَامِ أَهْلِ الْكِتَابِ أَكْلَةُ السَّحُورِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”ہمارے روزہ رکھنے اور اہل کتاب کے روزہ کے درمیان فرق سحری کھانا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصوم/حدیث: 3477]

3478

Sahih Ibn Hibban #3478

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْجُنَيْدِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ مُضَرَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الأَشَجِّ ، عَنْ يَزِيدَ ، مَوْلَى سَلَمَةَ بْنِ الأَكُوَعِ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الأَكُوَعِ ، قَالَ : لَمَا نَزَلَتْ : وَعَلَى الَّذِينَ يُطِيقُونَهُ فِدْيَةٌ طَعَامُ مِسْكِينٍ ، كَانَ مِنْ أَرَادَ مِنَّا أَنْ يُفْطِرَ أَفْطَرَ وَافْتَدَى ، حتى نزلت الآية التي بعدها فنسختها

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب یہ آیت ﴿وَعَلَى الَّذِينَ يُطِيقُونَهُ فِدْيَةٌ طَعَامُ مِسْكِينٍ﴾ [سورة البقرة: 184] ”اور جو لوگ روزہ رکھنے کی طاقت نہیں رکھتے ان پر فدیہ دینا لازم ہے، جو مسکین کو کھانا کھلانا ہو گا“ نازل ہوئی، تو ہم میں سے جس شخص نے روزہ نہ رکھنا ہوتا تھا وہ روزہ چھوڑ دیتا تھا اور فدیہ دے دیتا تھا، یہاں تک کہ اس کے بعد والی آیت نازل ہو گئی اور اس نے اسے منسوخ کر دیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصوم/حدیث: 3478]

3479

Sahih Ibn Hibban #3479

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ خَلِيلٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي ذُبَابٍ ، عَنْ عَمِّهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّالصِّيَامَ لَيْسَ مِنَ الأَكْلِ وَالشُّرْبِ فَقَطْ ، إِنَّمَا الصِّيَامُ مِنَ اللَّغُوِ وَالرَّفَثِ ، فَإِنْ سَابَّكَ أَحَدٌ ، أَوْ جَهِلَ عَلَيْكَ ، فَقُلْ : إِنِّي صَائِمٌ "، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : اسْمُ عَمِّهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُغِيرَةِ بْنِ أَبِي ذُبَابٍ الدَّوْسِيُّ ، وَهُوَ : الْحَارِثُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ أَبِي ذُبَابٍ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”روزے کا تعلق صرف کھانے پینے سے نہیں ہے بلکہ روزے کا تعلق لغو باتوں اور بدزبانی سے بچنے سے بھی ہے، اگر کوئی شخص تمہیں برا کہے یا تمہارے خلاف جہالت کا مظاہرہ کرے، تو تم یہ کہو: «إِنِّي صَائِمٌ» ”میں نے روزہ رکھا ہوا ہے“۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) (خالد بن عبدالرحمن نامی راوی) کے چچا کا نام عبداللہ بن مغیرہ بن ابوذباب دوسی ہے اور راوی کا نام حارث بن عبدالرحمن بن مغیرہ بن ابوذباب ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصوم/حدیث: 3479]

3480

Sahih Ibn Hibban #3480

أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ ، بِبُسْتَ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ يَعْقُوبَ الطَّالْقَانِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنِ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ لَمْ يَدَعْ قَوْلَ الزُّورِ وَالْعَمَلَ بِهِ وَالْجَهْلَ ، فَلَيْسَ لِلَّهِ حَاجَةٌ فِي أَنْ يَدَعَ طَعَامَهُ وَشَرَابَهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”جو شخص جھوٹی بات کہنا اور اس پر عمل کرنا اور جہالت کا مظاہرہ کرنا نہیں چھوڑتا، تو اللہ تعالیٰ کو اس بات کی کوئی حاجت نہیں ہے کہ وہ اپنا کھانا پینا چھوڑ دے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصوم/حدیث: 3480]

3481

Sahih Ibn Hibban #3481

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ قَحْطَبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبَانَ الْقُرَشِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ أَبِي عَمْرٍو ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : رُبَّ قَائِمٍ حَظُّهُ مِنْ قِيَامِهِ السَّهَرُ ، وَرُبَّ صَائِمٍ حَظُّهُ مِنْ صِيَامِهِ الْجُوعُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”کئی نوافل ادا کرنے والے ایسے ہیں جن کے (رات کے وقت) قیام کرنے میں صرف جاگنا نصیب ہوتا ہے (اجر و ثواب نہیں ملتا) اور کئی روزہ دار ایسے ہیں جن کا روزے میں سے حصہ صرف بھوکے رہنا ہوتا ہے (انہیں اس کا اجر و ثواب نہیں ملتا)۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصوم/حدیث: 3481]

3482

Sahih Ibn Hibban #3482

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ ، حَدَّثَنَا الْفُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : إِذَا كَانَ يَوْمُ صَوْمِ أَحَدِكُمْ ، فَلا يَرْفُثْ ، وَلا يَجْهَلْ ، فَإِنْ جَهِلَ عَلَيْهِ أَحَدٌ ، فَلِيَقُلْ : إِنِّي امْرُؤٌ صَائِمٌ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جب تم میں سے کسی شخص نے روزہ رکھا ہو، تو وہ بدزبانی کا مظاہرہ نہ کرے، جہالت کا مظاہرہ نہ کرے، اگر کوئی شخص اس کے خلاف جہالت کا مظاہرہ کرے، تو وہ یہ کہہ دے: میں نے روزہ رکھا ہوا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصوم/حدیث: 3482]

3483

Sahih Ibn Hibban #3483

أَخْبَرَنَا ابْنُ خُزَيْمَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ عَجْلانَ ، مَوْلَى الْمُشْمَعِلِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : لا تَسَابَّ وَأَنْتَ صَائِمٌ ، وَإِنْ سَابَّكَ أَحَدٌ ، فَقُلْ : إِنِّي صَائِمٌ ، وَإِنْ كُنْتَ قَائِمًا فَاجْلِسْ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جب تم روزہ رکھے ہوئے ہو تو کسی کو برا نہ کہو، اگر کوئی شخص تمہیں برا کہے تو تم یہ کہہ دو کہ میں نے روزہ رکھا ہوا ہے اور اگر تم کھڑے ہوئے ہو تو بیٹھ جاؤ۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصوم/حدیث: 3483]

3484

Sahih Ibn Hibban #3484

أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيُّ ، حَدَّثَنَا الُوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ نَمِرٍ ، حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ ، أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : إِنْ سُبَّ أَحَدُكُمْ وَهُوَ صَائِمٌ ، فَلِيَقُلْ : إِنِّي صَائِمٌ "، يَنْهَى بِذَلِكَ عَنْ مُرَاجَعَةِ الصَّائِمِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”اگر تم میں سے کسی شخص کو ایسی حالت میں برا کہا جائے کہ اس نے روزہ رکھا ہوا ہو، تو اسے یہ بتا دینا چاہیے کہ میں نے روزہ رکھا ہوا ہے۔“ (راوی بیان کرتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے ذریعے اس بات سے منع کیا ہے کہ روزہ دار شخص (برا کہنے والے کو) جواب دے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصوم/حدیث: 3484]

3485

Sahih Ibn Hibban #3485

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِذَا نُودِيَ بِالصَّلاةِ ، صَلاةِ الصُّبْحِ ، وَأَحَدُكُمْ جُنُبٌ ، فَلا يَصُومُ يَوْمَئِذٍ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جب نماز کے لیے یعنی صبح کی نماز کے لیے اذان دی جائے اور تم میں سے کوئی ایک شخص جنابت کی حالت میں ہو، تو وہ اس دن روزہ نہ رکھے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصوم/حدیث: 3485]

3486

Sahih Ibn Hibban #3486

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحِيَى ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : مَنْ أَصْبَحَ جُنُبًا فَلا يَصُومُ " ، قَالَ : فَانْطَلَقَ أَبُو بَكْرٍ وَأَبُوهُ ، حَتَّى دَخَلا عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ ، وَعَائِشَةَ ، فَكِلاهُمَا قَالَتْ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَيُصْبِحُ جُنُبًا ، ثُمَّ يَصُومُ "، فَانْطَلَقَ أَبُو بَكْرٍ وَأَبُوهُ حَتَّى أَتَيَا مَرُوَانَ ، فَحَدَّثَاهُ ، فَقَالَ : عَزَمْتُ عَلَيْكُمَا لَمَا انْطَلَقْتُمَا إِلَى أَبِي هُرَيْرَةَ فَحَدَّثْتُمَاهُ ، فَانْطَلَقَا إِلَى أَبِي هُرَيْرَةَ فَحَدَّثَاهُ ، فَقَالَ : هُمَا أَعْلَمُ ، أَخْبَرَنَا بِهِ الْفَضْلُ بْنُ الْعَبَّاسِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبدالملک بن ابوبکر اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا کہ جو شخص صبح صادق کے وقت جنابت کی حالت میں ہو وہ روزہ نہ رکھے، (راوی کہتے ہیں:) (ابوبکر نامی راوی اور ان کے والد گئے اور سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ان سے اس بارے میں دریافت کیا)، تو ان دونوں نے یہ بات بیان کی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بعض اوقات صبح صادق کے وقت جنابت کی حالت میں ہوتے تھے، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم پھر بھی روزہ رکھ لیتے تھے۔ پھر ابوبکر نامی راوی اور ان کے والد مروان کے پاس آئے اور اسے یہ حدیث بیان کی، تو وہ بولا: میں آپ دونوں کو تاکید کرتا ہوں کہ جب آپ دونوں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس جائیں، تو انہیں بھی یہ بات بیان کریں، پھر یہ دونوں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس گئے اور انہیں یہ بات بیان کی، تو انہوں نے فرمایا: وہ خواتین زیادہ علم رکھتی ہیں، مجھے اس بارے میں سیدنا فضل بن عباس رضی اللہ عنہما نے بتایا تھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصوم/حدیث: 3486]

3487

Sahih Ibn Hibban #3487

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ مَوْهِبٍ ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ ، أَنَّهَ قَالَ : أَخْبَرَتْنِي عَائِشَةُ ، وَأُمُّ سَلَمَةَ زَوْجَتَا النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَيُدْرِكُهُ الْفَجْرُ وَهُوَ جُنُبٌ مِنْ أَهْلِهِ ، ثُمَّ يَغْتَسِلُ وَيَصُومُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابوبکر بن عبدالرحمن بیان کرتے ہیں کہ سیدہ عائشہ صدیقہ اور سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہما، یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواجِ مطہرات ہیں، انہوں نے مجھے یہ بات بتائی ہے کہ بعض اوقات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم صبح صادق کے وقت اپنی بیوی کے ساتھ (صحبت کرنے کی وجہ سے) جنابت کی حالت میں ہوتے تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم غسل کر لیتے تھے اور روزہ رکھ لیتے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصوم/حدیث: 3487]

3488

Sahih Ibn Hibban #3488

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، قَالَ إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ ، أُخْبِرْنَا عَنْ عَامِرٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ ، أَنَّهُ أَتَى عَائِشَةَ ، فَقَالَ : إِنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ يُفْتِينَا أَنَّهُ مَنْ أَصْبَحَ جُنُبًا ، فَلا صِيَامَ لَهُ ، فَمَا تَقُولِينَ لَهُ فِي ذَلِكَ ؟ فَقَالَتْ : لَقَدْ كَانَ بِلالٌ يَأْتِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيُؤْذِنُهُ لِلصَّلاةِوَإِنَّهُ لَجُنُبٌ ، فَيَقُومُ ، وَيَغْتَسِلُ ، وَإِنِّي لأَرَى جَرِيَ الْمَاءِ بَيْنَ كَتِفَيْهِ ، ثُمَّ يَظَلُّ صَائِمًا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابوبکر بن عبدالرحمن بیان کرتے ہیں کہ وہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئے اور یہ بتایا کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ہمیں یہ فتوی دیتے ہیں کہ جو شخص صبح صادق کے وقت جنابت کی حالت میں ہو اس کا روزہ نہیں ہوتا، آپ اس بارے میں کیا کہتی ہیں؟ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بتایا کہ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز کے لیے بلانے آتے تھے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت جنابت کی حالت میں ہوتے تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھ کر غسل کرتے تھے اور میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دونوں کندھوں کے درمیان پانی کو بہتا ہوا دیکھ رہی ہوتی تھی، لیکن پھر بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزہ رکھ لیتے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصوم/حدیث: 3488]

3489

Sahih Ibn Hibban #3489

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ عَبْدِ رَبِّهِ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ ، أَنَّ عَائِشَةَ ، وَأُمَّ سَلَمَةَ زَوْجَيِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَتَا : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَيُصْبِحُ جُنُبًا مِنْ غَيْرِ احْتِلامٍ فِي رَمَضَانَ ، ثُمَّ يَصُومُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ اور سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہما، یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج ہیں، ان دونوں نے یہ بات بیان کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رمضان میں (بعض اوقات) صبح صادق کے وقت جنابت کی حالت میں ہوتے تھے جو احتلام کے علاوہ ہوتی تھی، لیکن پھر بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزہ رکھ لیتے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصوم/حدیث: 3489]