Muslim99Muslim99

Sahih Ibn Hibban · Book 31 · Chapter 1

Book of Judgments

Hadith 3410–3449

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

3410

Sahih Ibn Hibban #3410

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّامِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفِيَانُ الثَّوْرِيُّ ، عَنْ أَبٍي إِسْحَاقَ عَنْ أَبِي الأَحُوَصِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ،مَرَرْتُ بِرَجُلٍ ، فَلَمْ يُضَيِّفْنِي ، وَلَمْ يَقْرِنِي ، أَفَأَحْتَكِمُ ؟ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : بَلِ اقْرِهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابوالاحوص اپنے والد (مالک بن نضلہ رضی اللہ عنہ) کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میرا گزر ایک شخص کے پاس سے ہوا، اس نے مجھے مہمان بھی نہیں بنایا اور میری مہمان نوازی بھی نہیں کی، تو کیا میں اس کے ساتھ ایسا ہی کروں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(جی نہیں) بلکہ تم اس کی مہمان نوازی کرو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الزكاة/حدیث: 3410]

3411

Sahih Ibn Hibban #3411

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ السَّامِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : جَاءَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ ،فَأَطْعَمْنَاهُمْ رُطَبًا ، وَسَقَيْنَاهُمْ مِنَ الْمَاءِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : هَذَا مِنَ النَّعِيمِ الَّذِي تُسْأَلُونَ عَنْهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ہمارے ہاں تشریف لائے، ہم نے ان کو کھانے کے لیے تازہ کھجوریں پیش کیں اور انہیں پانی پیش کیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”یہ ان نعمتوں میں شامل ہے جن کے بارے میں تم سے حساب لیا جائے گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الزكاة/حدیث: 3411]

3412

Sahih Ibn Hibban #3412

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ زُهَيْرٍ أَبُو يَعْلَى ، بِالأُبُلَّةِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، قَالَ : قُلْتُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنِّي رَأَيْتُ فُلانًا يَدْعُو ، وَيَذْكُرُ خَيْرًا ، وَيَذْكُرُ أَنَّكَ أَعْطَيْتَهُ دِينَارَيْنِ ، قَالَ : لَكِنْ فُلانٌ أَعْطَيْتُهُ مَا بَيْنَ كَذَا إِلَى كَذَا ، فَمَا أَثْنَى وَلا قَالَ خَيْرًا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی: میں نے فلاں شخص کو دیکھا ہے، جو دعا کرتا ہے اور بھلائی کا ذکر کرتا ہے، وہ یہ ذکر کرتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دو دینار دیے ہیں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”لیکن فلاں کو تو میں نے اتنا اور اتنا کچھ دیا تھا، لیکن نہ تو اس نے تعریف کی اور نہ ہی بھلائی کی بات کہی۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الزكاة/حدیث: 3412]

3413

Sahih Ibn Hibban #3413

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، وَالْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ الْقَطَّانُ ، قَالا : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ الْجَوْهَرِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الأَحُوَصُ بْنُ جَوَّابٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُعَيْرُ بْنُ الْخِمْسِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ صُنِعَ إِلَيْهِ مَعْرُوفٌ ، فَقَالَ لِفَاعِلِهِ : جَزَاكَ اللَّهُ خَيْرًا ، فَقَدْ أَبْلَغَ فِي الثَّنَاءِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”جس شخص کے ساتھ بھلائی کی جائے، تو وہ بھلائی کرنے والے سے یہ کہے: «جَزَاكَ اللَّهُ خَيْرًا» ”اللہ تعالیٰ تمہیں جزائے خیر دے“، تو اس شخص نے تعریف پوری کر دی۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الزكاة/حدیث: 3413]

3414

Sahih Ibn Hibban #3414

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفِيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ طَرِيفٍ الْبَجَلِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، رَأَيْتُ فُلانًا يَشْكُرُ ، ذَكَرَ أَنَّكَ أَعْطَيْتَهُ دِينَارَيْنِ ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَكِنَّ فُلانًا قَدْ أَعْطَيْتُهُ مَا بَيْنَ الْعَشَرَةِ إِلَى الْمِئَةِ ، فَمَا يَشْكُرُهُ وَلا يَقُولُهُ ، إِنَّ أَحَدَكُمْ لَيَخْرُجُ مِنْ عِنْدِي لِحَاجَتِهِ مُتَأَبِّطَهَا ، وَمَا هِيَ إِلا النَّارُ " ، قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ لَمْ تُعْطِهِمْ ؟ قَالَ : " يَأْبَوْنَ إِلا أَنْ يَسْأَلُونِي ، وَيَأْبَى اللَّهُ لِيَ الْبُخْلَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں نے فلاں شخص کو دیکھا ہے کہ وہ شکر گزار ہو رہا تھا، اس نے یہ بات ذکر کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دو دینار عطا کیے ہیں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”فلاں شخص کو؟ تو میں نے دس سے لے کر ایک سو کے درمیان ادائیگی کی تھی، اس نے تو اس کا شکریہ ادا نہیں کیا اور نہ ہی اس کا ذکر کیا، کوئی شخص میرے پاس سے اپنی ضرورت کے لیے کوئی چیز لے کر نکلتا ہے، جو اس نے بغل میں لی ہوتی ہے وہ چیز صرف جہنم ہوتی ہے۔“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان لوگوں کو دے کیوں دیتے ہیں؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ مجھ سے مانگتے رہتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کو میرا بخل منظور نہیں ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الزكاة/حدیث: 3414]

3415

Sahih Ibn Hibban #3415

أَخْبَرَنَا الْحَسَينُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مَعْشَرٍ ، بِحَرَّانَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ وَهْبِ بْنِ أَبِي كَرِيمَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحِيمِ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ ، عَنْ شُرَحْبِيلَ الأَنْصَارِيِّ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : مَنْ أُولِيَ مَعْرُوفًا فَلَمْ يَجِدْ لَهُ خَيْرًا إِلا الثَّنَاءَ ، فَقَدْ شَكَرَهُ ، وَمَنْ كَتَمَهُ ، فَقَدْ كَفَرَهُ ، وَمَنْ تَحَلَّى بِبَاطِلٍ ، فَهُوَ كَلابِسِ ثَوْبَيْ زُورٍ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جس کے ساتھ بھلائی کی جائے، اسے بھلائی کرنے کے لیے صرف تعریف ملے تو وہ شکر گزار ہو، اور جو شخص اس کو چھپاتا ہے وہ کفرانِ نعمت کرتا ہے، اور جو شخص باطل چیز سے خود کو آراستہ ظاہر کرتا ہے وہ جھوٹ کے دو کپڑے پہننے کی مانند ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الزكاة/حدیث: 3415]

3416

Sahih Ibn Hibban #3416

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنِ الْعَلاءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : قَالَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى :كُلُّ حَسَنَةٍ عَمِلَهَا ابْنُ آدَمَ جَزَيْتُهُ بِهَا عَشْرَ حَسَنَاتٍ إِلَى سَبْعِ مِائَةِ ضِعْفٍ إِلا الصِّيَامَ ، فَهُوَ لِي وَأَنَا أَجْزِي بِهِ ، الصِّيَامُ جُنَّةٌ ، فَمَنْ كَانَ صَائِمًا ، فَلا يَرْفُثْ ، وَلا يَجْهَلْ ، فَإِنِ امْرُؤٌ شَتَمُهُ أَوْ آذَاهُ ، فَلِيَقُلْ : إِنِّي صَائِمٌ إِنِّي صَائِمٌ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ابنِ آدم جو بھی عمل کرتا ہے میں اس کا بدلہ دس گنا سے لے کر سات سو گنا تک دیتا ہوں، صرف روزے کا معاملہ مختلف ہے، کیونکہ وہ میرے لیے ہے اور میں خود اس کی جزا دوں گا۔ روزہ ڈھال ہے، جو شخص روزہ دار ہو وہ بدزبانی اور جہالت کا مظاہرہ نہ کرے، اگر کوئی شخص اسے برا کہے یا اسے تکلیف پہنچائے، تو وہ یہ کہہ دے: «إِنِّي صَائِمٌ، إِنِّي صَائِمٌ» ”میں نے روزہ رکھا ہوا ہے، میں نے روزہ رکھا ہوا ہے۔““ [صحیح ابن حبان/كتاب الصوم/حدیث: 3416]

3417

Sahih Ibn Hibban #3417

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ يَزِيدَ الْمُحًمَّدَابَاذِيُّ ، حَدَّثَنَا سَوَّارُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْعَنْبَرِيُّ ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ أَبِي عَيَّاشٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لا يَصُومُ عَبْدٌ يَوْمًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ إِلا بَاعَدَ اللَّهُ بِذَلِكَ الِيَوْمِ وَجْهَهُ عَنِ النَّارِ سَبْعِينَ خَرِيفًا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جو بھی شخص اللہ کی راہ میں ایک دن کا روزہ رکھتا ہے، تو اللہ تعالیٰ اس ایک دن کے عوض میں اسے جہنم سے ستر برس کے فاصلے جتنا دور کر دیتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصوم/حدیث: 3417]

3418

Sahih Ibn Hibban #3418

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ الْكَلاعِيُّ الرَّاهِبُ ، بِحِمْصَ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، أَخْبَرَنِي حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : مَنْ أَنْفَقَ زَوْجَيْنِ مِنْ شَيْءٍ مِنَ الأَشِيَاءِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، دُعِيَ مِنْ أَبُوَابِ الْجَنَّةِ : يَا عَبْدَ اللَّهِ ، هَذَا خَيْرٌ ، وَلِلْجَنَّةِ أَبُوَابٌ ، فَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الصَّلاةِ ، دُعِيَ مِنْ بَابِ الصَّلاةِ ، وَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الْجِهَادِ ، دُعِيَ مِنْ بَابِ الْجِهَادِ ، وَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الصَّدَقَةِ ، دُعِيَ مِنْ بَابِ الصَّدَقَةِ ، وَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الصِّيَامِ ، دُعِيَ مِنْ بَابِ الرَّيَّانِ " ، قَالَ : فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا عَلَى أَحَدٍ يُدْعَى مِنْ تِلْكَ الأَبُوَابِ مِنْ ضَرُورَةٍ ، هَلْ يُدْعَى مِنْهَا كُلُّ أَحَدٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " نَعَمْ وَأَرْجُو أَنْ تَكُونَ مِنْهُمْ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جو شخص کسی بھی چیز کا جوڑا اللہ کی راہ میں دیتا ہے تو جنت کے دروازوں سے یہ اعلان کیا جاتا ہے: اے اللہ کے بندے! یہ بھلائی ہے۔ جنت کے کئی دروازے ہیں؛ جو لوگ نمازی ہیں انہیں نماز والے دروازے سے بلایا جائے گا، جو جہاد کرنے والے ہیں انہیں جہاد والے دروازے سے بلایا جائے گا، جو صدقہ کرنے والے ہیں انہیں صدقہ والے دروازے سے بلایا جائے گا اور جو روزہ دار ہوں گے انہیں بابِ «الرَّيَّانِ» ”ریان“ سے بلایا جائے گا۔“ راوی بیان کرتے ہیں: سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ایسے شخص کو کوئی نقصان نہیں ہوگا کہ جس شخص کو ان تمام دروازوں سے بلایا جائے۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا کسی شخص کو ان تمام دروازوں سے بھی بلایا جائے گا؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جی ہاں! اور مجھے امید ہے تم ان میں سے ایک ہو گے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصوم/حدیث: 3418]

3419

Sahih Ibn Hibban #3419

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، أَخْبَرَنِي حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ أَنْفَقَ زَوْجَيْنِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، دُعِيَ مِنْ أَبُوَابِ الْجَنَّةِ ، وَلِلْجَنَّةِ أَبُوَابٌ ، فَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الصَّلاةِ ، دُعِيَ مِنْ أَبُوَابِ الصَّلاةِ ، وَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الصَّدَقَةِ ، دُعِيَ مِنْ أَبُوَابِ الصَّدَقَةِ ، وَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الْجِهَادِ ، دُعِيَ مِنْ أَبُوَابِ الْجِهَادِ ، وَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الصِّيَامِ ، دُعِيَ مِنْ بَابِ الرَّيَّانِ " ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا عَلَى أَحَدٍ مِنْ ضَرُورَةٍ مِنْ أَيِّهَا دُعِيَ ، فَهَلْ يُدْعَى أَحَدٌ مِنْهَا كُلِّهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " نَعَمْ ، وَأَرْجُو أَنْ تَكُونَ مِنْهُمْ "، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : " عَسَى " مِنَ اللَّهِ وَاجِبٌ ، وَ " أَرْجُو " مِنَ النَّبِيِّ حَقٌّ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”جو شخص اللہ کی راہ میں کسی چیز کا جوڑا خرچ کرتا ہے، تو اسے جنت کے دروازوں سے بلایا جاتا ہے؛ جنت کے کئی دروازے ہیں، جو لوگ نمازی ہیں انہیں نماز والے دروازے سے بلایا جائے گا، جو صدقہ کرنے والے ہیں انہیں صدقے والے دروازے سے بلایا جائے گا، جو جہاد کرنے والے ہیں انہیں جہاد کے دروازے سے بلایا جائے گا اور جو روزہ دار ہیں انہیں «بَابُ الرَّيَّانِ» ”بابِ ریان“ سے بلایا جائے گا۔“ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ایسے بھی تو ہو سکتا ہے کہ کسی شخص کو ان تمام دروازوں سے بلایا جائے، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا کسی شخص کو ان تمام دروازوں سے بلایا جائے گا؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جی ہاں! اور مجھے یہ امید ہے کہ تم ان میں سے ایک ہو گے۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں): لفظ «عَسَىٰ» جب اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب ہو تو اس سے مراد کسی چیز کا لازم ہونا ہو گا، اور لفظ «أَرْجُو» ”مجھے اُمید ہے“ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب ہو تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ایسا ضرور ہو گا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصوم/حدیث: 3419]

3420

Sahih Ibn Hibban #3420

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الْعِجْلِيُّ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلالٍ ، حَدَّثَنِي أَبُو حَازِمٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّفِي الْجَنَّةِ بَابًا يُقَالُ لَهُ : الرَّيَّانُ ، يَدْخُلُ مِنْهُ الصَّائِمُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، لا يَدْخُلُ مِنْهُ أَحَدٌ غَيْرُهُمْ ، يُقَالُ : أَيْنَ الصَّائِمُونَ ؟ فَيَقُومُونَ ، فَيَدْخُلُونَ مِنْهُ ، فَإِذَا دَخَلَ آخِرُهُمْ أُغْلِقَ ، فَلَمْ يَدْخُلْ مِنْهُ أَحَدٌ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”جنت میں ایک دروازہ ہے، جس کا نام «الرَّيَّانُ» ”الریان“ ہے، قیامت کے دن روزہ دار لوگ اس سے داخل ہوں گے، ان کے علاوہ اور کوئی شخص اس میں سے داخل نہیں ہوگا، یہ کہا جائے گا: روزہ دار لوگ کہاں ہیں؟ وہ لوگ اٹھیں گے اور اس دروازے سے جنت میں داخل ہو جائیں گے اور جب ان کا آخری فرد اندر داخل ہو جائے گا، تو اس دروازے کو بند کر دیا جائے گا، کوئی اور اس دروازے سے داخل نہیں ہو سکے گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصوم/حدیث: 3420]

3421

Sahih Ibn Hibban #3421

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْقَطَّانُ ، بِالرَّافِقَةِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبَالِسِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفِيَانُ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : فِي الْجَنَّةِ بَابٌ يُقَالُ لَهُ : الرَّيَّانُ ، أُعِدَّ لِلصَّائِمِينَ ، فَإِذَا دَخَلَ أُخْرَاهُمْ ، أُغْلِقَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”جنت میں ایک دروازہ ہے، جس کا نام «الرَّيَّانُ» ”ریان“ ہے، اسے روزہ داروں کے لیے تیار کیا گیا ہے، جب ان کا آخری فرد اس میں سے داخل ہو جائے گا، تو اسے بند کر دیا جائے گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصوم/حدیث: 3421]

3422

Sahih Ibn Hibban #3422

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : كُلُّ عَمَلِ ابْنِ آدَمَ لَهُ إِلا الصِّيَامَ ، وَالصِّيَامُ لِي وَأَنَا أَجْزِي بِهِ ، وَلَخُلُوفُ فَمِ الصَّائِمِ أَطِيَبُ عِنْدَ اللَّهِ مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”ابن آدم کا ہر عمل اس کے لیے ہوتا ہے، صرف روزے کا معاملہ مختلف ہے، وہ میرے لیے ہے اور میں اس کی جزاء دوں گا۔ روزہ دار شخص کے منہ کی بو اللہ تعالیٰ کے نزدیک مشک کی خوشبو سے زیادہ پاکیزہ ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصوم/حدیث: 3422]

3423

Sahih Ibn Hibban #3423

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ تَسْنِيمٍ كُوفِيٌّ ثَبْتٌ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ الْبُرْسَانِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ الزَّيَّاتِ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : قَالَ اللَّهُ تَعَالَى :كُلُّ عَمَلِ ابْنِ آدَمَ لَهُ إِلا الصِّيَامَ ، فَهُوَ لِي وَأَنَا أَجْزِي بِهِ ، وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَخُلُوفُ فَمِ الصَّائِمِ أَطِيَبُ عِنْدَ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ ، لِلصَّائِمِ فَرْحَتَانِ : إِذَا أَفْطَرَ ، فَرِحَ بِفِطْرِهِ ، وَإِذَا لَقِيَ اللَّهَ ، فَرِحَ بِصَوْمِهِ "، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : شِعَارُ الْمُؤْمِنِينَ فِي الْقِيَامَةِ التَّحْجِيلُ بِوُضُوئِهِمْ فِي الدُّنِيَا فَرَقًا بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ سَائِرِ الأُمَمِ ، وَشِعَارُهُمْ فِي الْقِيَامَةِ بِصَوْمِهِمْ طِيبُ خُلُوفِهِمْ أَطِيَبُ مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ لِيُعْرَفُوا بَيْنَ ذَلِكَ الْجَمْعِ بِذَلِكَ الْعَمَلِ ، نَسْأَلُ اللَّهَ بَرَكَةَ ذَلِكَ الِيَوْمِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ابن آدم کا ہر عمل اس کے لیے ہوتا ہے، صرف روزے کا معاملہ مختلف ہے، وہ میرے لیے ہے اور میں اس کی جزا دوں گا (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:) اس ذات کی قسم! جس کے دستِ قدرت میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے، روزہ دار شخص کے منہ کی بو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے نزدیک مشک کی خوشبو سے زیادہ پاکیزہ ہو گی۔ روزہ دار شخص کو دو خوشیاں نصیب ہوں گی: ایک جب وہ افطاری کرے گا، تو افطاری کرنے کی وجہ سے اسے خوشی ہو گی اور ایک جب وہ اللہ کی بارگاہ میں حاضر ہو گا، تو اپنے روزہ رکھنے کی وجہ سے خوش ہو گا۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:): قیامت کے دن اہل ایمان کا مخصوص علامتی نشان دنیا میں ان کے کیے گئے وضو کی چمک ہو گی جس کی وجہ سے ان کے اور دیگر تمام امتوں کے درمیان امتیاز کیا جا سکے گا اور قیامت کے دن ان کا مخصوص نشان ان کے روزے کی وجہ سے ان کے منہ سے آنے والی بو ہو گی جو مشک کی خوشبو سے زیادہ پاکیزہ ہو گی تاکہ وہ اپنے عمل کے نتیجے میں میدانِ محشر میں سب لوگوں کے درمیان پہچانے جائیں۔ ہم اللہ تعالیٰ سے اس دن کی برکت کا سوال کرتے ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصوم/حدیث: 3423]

3424

Sahih Ibn Hibban #3424

أَخْبَرَنَا أَبُو عَرُوبَةَ الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، بِحَرَّانَ ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، عَنْ ذَكُوَانَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : كُلُّ حَسَنَةٍ يَعْمَلُهَا ابْنُ آدَمَ بِعَشْرِ حَسَنَاتٍ إِلَى سَبْعِ مِائَةِ ضِعْفٍ ، يَقُولُ اللَّهُ : إِلا الصَّوْمَ ، فَهُوَ لِي وَأَنَا أَجْزِي بِهِ ، يَدَعُ الطَّعَامَ مِنْ أَجْلِي ، وَالشَّرَابَ مِنْ أَجْلِي ، وَشَهُوَتَهُ مِنْ أَجْلِي ، وَأَنَا أَجْزِي بِهِ ، وَلِلصَّائِمِ فَرْحَتَانِ : فَرْحَةٌ حِينَ يُفْطِرُ ، وَفَرْحَةٌ حِينَ يَلْقَى رَبَّهُ ، وَلَخُلُوفِ فَمِ الصَّائِمِ حِينَ يَخْلُفُ مِنَ الطَّعَامِ أَطِيَبُ عِنْدَ اللَّهِ مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”ابنِ آدم جو بھی نیکی کرتا ہے اس کا بدلہ دس گنا سے لے کر سات سو گنا تک ہوتا ہے، اللہ تعالیٰ یہ فرماتا ہے: صرف روزے کا معاملہ مختلف ہے وہ میرے لیے ہے اور میں اس کی جزا دوں گا، وہ میری وجہ سے کھانا چھوڑتا ہے، میری وجہ سے اپنا پینا چھوڑتا ہے اور میری وجہ سے اپنی خواہش کو چھوڑتا ہے، تو میں اس کی جزا دوں گا۔ روزہ دار کو دو خوشیاں نصیب ہوں گی: ایک خوشی اس وقت جب وہ افطاری کرے گا اور ایک خوشی اس وقت جب وہ اپنے پروردگار کی بارگاہ میں حاضر ہو گا۔ روزہ دار شخص کے منہ کی بو، جو کھانا چھوڑنے کی وجہ سے آتی ہے، وہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک مشک کی خوشبو سے زیادہ پاکیزہ ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصوم/حدیث: 3424]

3425

Sahih Ibn Hibban #3425

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ ، عَنْ رَجَاءِ بْنِ حَيُوَةَ ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ ، قَالَ : أَنْشَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَيْشًا ، فَأَتَيْتُهُ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، ادْعُ اللَّهَ لِي بِالشَّهَادَةِ ، قَالَ : اللَّهُمَّ سَلِّمْهُمْ وَغَنِّمْهُمْ " ، فَغَزَوْنَا ، فَسَلِمْنَا وَغَنِمْنَا ، حَتَّى ذَكَرَ ذَلِكَ ثَلاثَ مَرَّاتٍ ، قَالَ : ثُمَّ أَتَيْتُهُ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي أَتَيْتُكَ تَتْرَى ثَلاثَ مَرَّاتٍ ، أَسْأَلُكَ أَنْ تَدْعُوَ لِي بِالشَّهَادَةِ ، فَقُلْتَ : " اللَّهُمَّ سَلِّمْهُمْ وَغَنِّمْهُمْ " ، فَسَلِمْنَا وَغَنِمْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَمُرْنِي بِعَمَلٍ أَدْخُلُ بِهِ الْجَنَّةَ ، فَقَالَ : " عَلَيْكَ بِالصَّوْمِ ، فَإِنَّهُ لا مِثْلَ لَهُ "، قَالَ : فَكَانَ أَبُو أُمَامَةَ لا يُرَى فِي بَيْتِهِ الدُّخَانُ نَهَارًا إِلا إِذَا نَزَلَ بِهِمْ ضَيْفٌ ، فَإِذَا رَأَوَا الدُّخَانَ نَهَارًا ، عَرَفُوا أَنَّهُ قَدِ اعْتَرَاهُمْ ضَيْفٌ ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : رَوَى هَذَا الْخَبَرَ مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ ، عَنْ رَجَاءِ بْنِ حَيُوَةَ ، وَرَوَاهُ شُعْبَةُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلالٍ ، عَنْ رَجَاءِ بْنِ حَيُوَةَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لشکر تیار کیا، میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے لیے شہادت کی دعا کیجیے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «اللَّهُمَّ سَلِّمْهُمْ وَغَنِّمْهُمْ» ”اے اللہ! ان لوگوں کو سلامت رکھنا اور انہیں مال غنیمت عطا کرنا۔“ ہم لوگوں نے جنگ میں حصہ لیا، ہم سلامت بھی رہے اور ہمیں مال غنیمت بھی مل گیا، یہاں تک کہ راوی نے تین مرتبہ یہ بات ذکر کی۔ راوی بیان کرتے ہیں: پھر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں تین مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے لیے شہادت کی دعا کیجیے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: «اللَّهُمَّ سَلِّمْهُمْ وَغَنِّمْهُمْ» ”اے اللہ! ان لوگوں کو سلامت رکھنا اور انہیں مال غنیمت بھی عطا کرنا۔“ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم سلامت بھی رہے ہیں اور ہمیں مال غنیمت بھی مل گیا ہے، اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے کسی ایسے عمل کے بارے میں حکم دیجیے جس کی وجہ سے میں جنت میں داخل ہو جاؤں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: «عَلَيْكَ بِالصَّوْمِ فَإِنَّهُ لَا عِدْلَ لَهُ» ”تم پر روزہ رکھنا لازم ہے، کیونکہ اس کی مانند اور کوئی چیز نہیں ہے۔“ راوی بیان کرتے ہیں: تو سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ کے گھر سے دن کے وقت کبھی بھی دھواں نظر نہیں آتا تھا، ماسوائے ایک دن کے جب ان کے ہاں کوئی مہمان آیا ہوا ہوتا تھا، جب ان کے گھر دن کے وقت دھواں نظر آتا، تو لوگوں کو پتا چل جاتا تھا کہ ان کے ہاں کوئی مہمان آیا ہوا ہے۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:): مہدی بن میمون نے یہ روایت محمد بن ابویعقوب کے حوالے سے رجاء سے نقل کی ہے، جبکہ شعبہ نے یہ روایت محمد بن ابویعقوب کے حوالے سے حمید بن ہلال کے حوالے سے رجاء سے نقل کی ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصوم/حدیث: 3425]

3426

Sahih Ibn Hibban #3426

أَخْبَرَنَا أَبُو عَرُوبَةَ ، بِحَرَّانَ ، حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا نَصْرٍ الْهِلالِيَّ ، عَنْ رَجَاءِ بْنِ حَيُوَةَ ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ ، قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، دُلَّنِي عَلَى عَمَلٍ ، قَالَ : عَلَيْكَ بِالصَّوْمِ ، فَإِنَّهُ لا عِدْلَ لَهُ "قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : أَبُو نَصْرٍ هَذَا : هُوَ حُمَيْدُ بْنُ هِلالٍ ، وَلَسْتُ أُنْكِرُ أَنْ يَكُونَ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي يَعْقُوبَ سَمِعَ هَذَا الْخَبَرَ بِطُولِهِ ، عَنْ رَجَاءِ بْنِ حَيُوَةَ ، وَسَمِعَ بَعْضَهُ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلالٍ ، فَالطَّرِيقَانِ جَمِيعًا مَحْفُوظَانِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم کسی عمل کی طرف میری رہنمائی کیجیے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم پر روزہ رکھنا لازم ہے، کیونکہ اس کے برابر اور کوئی چیز نہیں ہے۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) ابونصر نامی یہ راوی حمید بن ہلال ہے۔ میں ایسا ہونے کا انکار نہیں کرتا کہ محمد بن ابویعقوب نے یہ روایت تفصیلی طور پر رجاء سے سنی ہو اور پھر انہوں نے اس کا کچھ حصہ حمید بن ہلال سے سنا ہو تو اس کے دونوں طرق محفوظ ہوں گے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصوم/حدیث: 3426]

3427

Sahih Ibn Hibban #3427

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : هَذَا مَا حَدَّثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَذَكَرَ أَحَادِيثَ ، وَقَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : الصِّيَامُ جُنَّةٌ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: یہ وہ حدیثیں ہیں جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے سامنے بیان کی تھیں، پھر انہوں نے کچھ احادیث بیان کیں جن میں یہ بات بھی بیان کی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”روزہ ڈھال ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصوم/حدیث: 3427]

3428

Sahih Ibn Hibban #3428

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، حَدَّثَنَا فَرَحُ بْنُ رَوَاحَةَ الْمَنْبِجِيُّ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ، عَنْ سَعْدٍ الطَّائِيِّ ، عَنْ أَبِي الْمُدِلَّةِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : ثَلاثَةٌ لا تُرَدُّ دَعُوَتُهُمُ : الصَّائِمُ حَتَّى يُفْطِرَ ، وَالإِمَامُ الْعَادِلُ ، وَدَعُوَةُ الْمَظْلُومِ "، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : أَبُو الْمُدِلَّةِ : اسْمُهُ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، مَدَنِيٌّ ثِقَةٌ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”تین لوگوں کی دعا مسترد نہیں ہوتی: روزہ دار شخص جب تک وہ افطاری نہیں کر لیتا، عادل حکمران اور مظلوم کی دعا۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) ابوالمدلہ نامی راوی کا نام عبیداللہ بن عبداللہ ہے، وہ مدینہ کا رہنے والا ہے اور ثقہ ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصوم/حدیث: 3428]

3429

Sahih Ibn Hibban #3429

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ ، عَنْ يَحِيَى الْقَطَّانِ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ ، حَدَّثَنِي عَطَاءٌ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : مَنْ فَطَّرَ صَائِمًا كُتِبَ لَهُ مِثْلَ أَجْرِهِ ، لا يَنْقُصُ مِنْ أَجْرِهِ شَيْءٌ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جو شخص روزہ دار کو افطاری کرواتا ہے اسے اس روزہ دار کی مانند اجر ملتا ہے اور اس روزہ دار کے اجر میں کوئی کمی نہیں ہوتی۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصوم/حدیث: 3429]

3430

Sahih Ibn Hibban #3430

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ زَيْدٍ الأَنْصَارِيِّ ، قَالَ : سَمِعْتُ مَوْلاةً لَنَا يُقَالُ لَهَا : لَيْلَى ، تُحَدِّثُ ، عَنْ أُمِّ عُمَارَةَ بِنْتِ كَعْبٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَيْهَا ، فَدَعَتْ لَهُ بِطَعَامٍ ، فَقَالَ : تَعَالَيْ فَكُلِي " ، فَقَالَتْ : إِنِّي صَائِمَةٌ ، فَقَالَ : " إِنَّالصَّائِمَ إِذَا أُكِلَ عِنْدَهُ صَلَّتْ عَلَيْهِ الْمَلائِكَةُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حبیب بن زید انصاری بیان کرتے ہیں: ہم نے اپنی ایک کنیز لیلیٰ کو سیدہ ام عمارہ بنت کعب رضی اللہ عنہا کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہوئے سنا کہ ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ہاں تشریف لائے، انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی کھانے کی دعوت کی تھی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم بھی آگے آؤ اور کھاؤ۔“ انہوں نے عرض کی: ”میں روزہ دار ہوں۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”روزہ دار شخص کے پاس جب تک کھانا کھایا جاتا ہے، فرشتے اس روزہ دار کے لیے دعائے رحمت کرتے رہتے ہیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصوم/حدیث: 3430]

3431

Sahih Ibn Hibban #3431

أَخْبَرَنَا شَبَابُ بْنُ صَالِحٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا خَالِدٌ ، عَنْ خَالِدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : شَهْرَا عِيدٍ لا يَنْقُصَانِ : رَمَضَانُ وَذُو الْحِجَّةِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبدالرحمن بن ابوبکرہ اپنے والد رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”عید کے دو مہینے کم نہیں ہوتے ہیں: رمضان اور ذوالحجہ۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصوم/حدیث: 3431]

3432

Sahih Ibn Hibban #3432

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفِيَانَ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ خَلادٍ الْبَاهِلِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ يَحِيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ صَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا ، غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ "، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : " إِيمَانًا " ، يُرِيدُ بِهِ : إِيمَانًا بِفَرْضِهِ ، " وَاحْتِسَابًا " : يُرِيدُ بِهِ مُخْلِصًا فِيهِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”جو شخص ایمان کی حالت میں ثواب کی امید رکھتے ہوئے رمضان کے روزے رکھتا ہے، اس کے گزشتہ گناہوں کی مغفرت ہو جاتی ہے۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:): ”ایمان کی حالت میں“ (کے الفاظ سے مراد) یہ ہے: جو شخص ان کی فرضیت پر ایمان رکھتا ہو اور ”ثواب کی امید رکھتے ہوئے“ (کے الفاظ سے مراد یہ ہے) کہ وہ اپنے اس عمل میں مخلص ہو۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصوم/حدیث: 3432]

3433

Sahih Ibn Hibban #3433

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفِيَانَ ، حَدَّثَنَا حِبَّانُ بْنُ مُوسَى ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، عَنْ يَحِيَى بْنِ أَيُّوبَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُرْطٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : مَنْ صَامَ رَمَضَانَ ، وَعَرَفَ حُدُودَهُ ، وَتَحَفَّظَ مَا يَنْبَغِي أَنْ يَتَحَفَّظَ ، كَفَّرَ مَا قَبْلَهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جو شخص رمضان کے روزے رکھے، اس کی حدود کی حفاظت کرے اور جس چیز کی حفاظت کرنا چاہے اس کی حفاظت کرے، تو اس شخص کے گزشتہ گناہوں کی مغفرت ہو جاتی ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصوم/حدیث: 3433]

3434

Sahih Ibn Hibban #3434

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحِيَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ أَبِي أَنَسٍ ، أَنَّ أَبَاهُ ، حَدَّثَهُ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِذَا كَانَ رَمَضَانُ ، فُتِحَتْ لَهُ أَبُوَابُ الْجَنَّةِ ، وَغُلِّقَتْ أَبُوَابُ جَهَنَّمَ ، وَسُلْسِلَتِ الشَّيَاطِينُ "، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : أَنَسُ بْنُ أَبِي أَنَسٍ هَذَا وَالِدُ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ، وَاسْمُ أَبِي أَنَسٍ : مَالِكُ بْنُ أَبِي عَامِرٍ مِنْ ثِقَاتِ أَهْلِ الْمَدِينَةِ ، وَهُوَ مَالِكُ بْنُ أَبِي عَامِرِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ بْنِ غَيْمَانَ بْنِ خُثَيْلِ بْنِ عَمْرٍو ، مِنْ ذِي أَصْبَحَ مِنْ أَقِيَالِ الِيَمَنِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”جب رمضان کا مہینہ آتا ہے تو جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں، جہنم کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں اور شیاطین کو پابندِ سلاسل کر دیا جاتا ہے۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) انس بن ابوانس نامی راوی امام مالک بن انس کے والد ہیں۔ ابوانس نامی راوی کا نام مالک بن ابوعامر ہے۔ یہ اہل مدینہ کے ثقہ راویوں میں سے ایک ہیں اور ان کا نسب یہ ہے: مالک بن ابوعامر بن عمرو بن حارث بن غیمان بن خثیل بن عمرو بن ذو اصبحہ، ان کا تعلق اہل یمن سے ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصوم/حدیث: 3434]

3435

Sahih Ibn Hibban #3435

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاءِ بْنِ كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : إِذَا كَانَ أَوَّلُ لَيْلَةٍ مِنْ شَهْرِ رَمَضَانَ ، صُفِّدَتِ الشَّيَاطِينُ مَرَدَةُ الْجِنِّ ، وَغُلِّقَتْ أَبُوَابُ النَّارِ ، فَلَمْ يُفْتَحْ مِنْهَا بَابٌ ، وَفُتِحَتْ أَبُوَابُ الْجَنَّةِ ، فَلَمْ يُغْلَقْ مِنْهَا بَابٌ ، وَمُنَادٍ يُنَادِي : يَا بَاغِيَ الْخَيْرِ أَقْبَلْ ، وَيَا بَاغِيَ الشَّرِّ أَقْصِرْ ، وَلِلَّهِ عُتَقَاءُ مِنَ النَّارِ ، وَذَلِكَ كُلَّ لَيْلَةٍ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جب رمضان کے مہینے کی پہلی رات آتی ہے، تو شیاطین یعنی سرکش جنوں کو قید کر دیا جاتا ہے، جہنم کے دروازوں کو بند کر دیا جاتا ہے، ان میں سے کوئی دروازہ کھلا نہیں رہتا، جنت کے دروازوں کو کھول دیا جاتا ہے، ان میں سے کوئی دروازہ بند نہیں رہتا اور ایک منادی یہ اعلان کرتا ہے: اے بھلائی کے خواہش مند! آگے آؤ، اے برائی کے خواہش مند! بچنے کی کوشش کرو، اللہ تعالیٰ کی طرف سے کچھ لوگ جہنم سے آزاد کیے جاتے ہیں اور ایسا ہر رات میں ہوتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصوم/حدیث: 3435]

3436

Sahih Ibn Hibban #3436

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الأَنْصَارِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفِيَانُ ، عَنْ أَبِي يَعْفُورٍ ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ صُبَيْحٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَإِذَا دَخَلَ الْعَشْرُ الأَوَاخِرُ مِنْ رَمَضَانَ أَيْقَظَ أَهْلَهُ ، وَشَدَّ الْمِئْزَرَ ، وَأَحِيَا اللَّيْلَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ جب رمضان کا آخری عشرہ آ جاتا تھا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی اہلیہ کو بھی بیدار کرتے تھے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کمرِ ہمت باندھ لیتے تھے اور رات بھر عبادت کرتے رہتے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصوم/حدیث: 3436]

3437

Sahih Ibn Hibban #3437

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلاءِ ، حَدَّثَنَا سُفِيَانُ ، عَنِ ابْنِ عُبَيْدِ بْنِ نِسْطَاسٍ ، عَنْ أَبِي الضُّحَى ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَإِذَا دَخَلَ الْعَشْرُ ، أَحِيَا اللَّيْلَ ، وَشَدَّ الْمِئْزَرَ ، وَأَيْقَظَ أَهْلَهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ جب (رمضان کا آخری) عشرہ آ جاتا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رات بھر عبادت کرتے رہتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کمر ہمت باندھ لیتے تھے اور اپنی اہلیہ کو بھی بیدار کرتے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصوم/حدیث: 3437]

3438

Sahih Ibn Hibban #3438

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ الصُّوفِيُّ ، حَدَّثَنَا يَحِيَى بْنُ مَعِينٍ ، حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ ، عَنْ شُعَيْبِ بْنِ أَبِي حَمْزَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي حُسَيْنٍ ، عَنْ عِيسَى بْنِ طَلْحَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ مُرَّةَ الْجُهَنِيَّ ، قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَرَأَيْتَإِنْ شَهِدْتُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ ، وَأَنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ ، وَصَلَّيْتُ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسَ ، وَأَدَّيْتُ الزَّكَاةَ ، وَصُمْتُ رَمَضَانَ ، وَقُمْتُهُ ، فَمِمَّنْ أَنَا ؟ قَالَ : مِنَ الصِّدِّيقِينَ وَالشُّهَدَاءِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عمرو بن مرہ جہنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اس نے عرض کی: ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی کیا رائے ہے، اگر میں اس بات کی گواہی دوں کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں، میں پانچ نمازیں ادا کروں، زکوٰۃ ادا کروں، رمضان کے روزے رکھوں اور رمضان میں نوافل بھی ادا کروں تو میرا شمار کن لوگوں میں ہو گا؟“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”صدیقین اور شہداء میں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصوم/حدیث: 3438]

3439

Sahih Ibn Hibban #3439

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُكْرَمِ بْنِ خَالِدٍ الْبِرْتِيُّ ، بِبَغْدَادَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحِيَى بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْمُهَلَّبُ بْنُ أَبِي حَبِيبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْحَسَنُ ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : لا يَقُولَنَّ أَحَدُكُمْ : إِنِّي صُمْتُ رَمَضَانَ كُلَّهُ وَقُمْتُهُ " ، قَالَ : فَلا أَدْرِي أَكَرِهَ التَّزْكِيَةَ ، أَمْ قَالَ : " لا بُدَّ مِنْ رَقْدَةٍ أَوْ غَفَلَةٍ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”کوئی بھی شخص یہ ہرگز نہ کہے میں نے پورا رمضان روزے رکھے اور پورا رمضان نوافل ادا کرتا رہا۔“ راوی کہتے ہیں: مجھے نہیں معلوم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی عبادت کا اظہار کرنے کو ناپسند کیا یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمانا چاہی کہ رمضان کے دوران آدمی کو سونا بھی چاہیے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصوم/حدیث: 3439]

3440

Sahih Ibn Hibban #3440

أَخْبَرَنَا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْمُقْرِئُ ، بِوَاسِطَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الطَّحَّانُ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَأَجُوَدَ النَّاسِ بِالْخَيْرِ ، وَكَانَ أَجُوَدَ مَا يَكُونُ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ ، إِنَّ جِبْرِيلَ كَانَ يَلْقَاهُ فِي كُلِّ لَيْلَةٍ مِنْ رَمَضَانَ حَتَّى يَنْسَلِخَ ، يَعْرِضُ عَلَيْهِ الْقُرْآنَ ، فَإِذَا لَقِيَهُ جِبْرِيلُ كَانَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَجُوَدَ بِالْخَيْرِ مِنَ الرِّيحِ الْمُرْسَلَةِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بھلائی کے بارے میں سب سے زیادہ سخی تھے، رمضان کے مہینے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور زیادہ سخی ہو جایا کرتے تھے۔ رمضان کی ہر رات میں جبرائیل علیہ السلام آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آتے تھے اور پورا مہینہ آتے رہتے تھے، وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ قرآن کا دور کیا کرتے تھے۔ جب سیدنا جبرائیل علیہ السلام آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا کرتے تھے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بھلائی کے بارے میں چلتی ہوئی ہوا سے زیادہ سخی ہوتے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصوم/حدیث: 3440]

3441

Sahih Ibn Hibban #3441

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحِيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : إِذَا رَأَيْتُمُوهُ ، فَصُومُوا ، وَإِذَا رَأَيْتُمُوهُ ، فَأَفْطِرُوا ، فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ فَاقْدُرُوا لَهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جب تم اسے دیکھو تو روزہ رکھو، جب تم اسے دیکھو تو عید الفطر کرو، اور اگر تم پر بادل چھا جائے تو تم گنتی پوری کر لو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصوم/حدیث: 3441]

3442

Sahih Ibn Hibban #3442

أَخْبَرَنَا أَبُو عَرُوبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ وَرْقَاءَ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : صُومُوا لِرُؤِيَتِهِ ، وَأَفْطِرُوا لِرُؤِيَتِهِ ، فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ ، فَاقْدُرُوا ثَلاثِينَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”اسے دیکھ کر روزے رکھنا شروع کرو اور اسے دیکھ کر عید الفطر کرو، اگر تم پر بادل چھائے ہوئے ہوں تو تم تیس کی گنتی پوری کر لو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصوم/حدیث: 3442]

3443

Sahih Ibn Hibban #3443

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحِيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : إِذَا رَأَيْتُمُ الْهِلالَ ، فَصُومُوا ، وَإِذَا رَأَيْتُمُوهُ ، فَأَفْطِرُوا ، فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ ، فَعُدُّوا ثَلاثِينَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جب تم پہلی کا چاند دیکھ لو، تو روزے رکھنا شروع کرو، جب اسے دیکھو، تو عیدالفطر کرو، اگر تم پر بادل چھائے ہوئے ہوں، تو تیس کی گنتی پوری کر لو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصوم/حدیث: 3443]

3444

Sahih Ibn Hibban #3444

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَيْسٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَائِشَةَ ، تَقُولُ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَحَفَّظُ مِنْ هِلالِ شَعْبَانَ مَا لا يَتَحَفَّظُ مِنْ غَيْرِهِ ، ثُمَّيَصُومُ لِرُؤِيَةِ رَمَضَانَ ، فَإِنْ غُمَّ عَلَيْهِ ، عَدَّ ثَلاثِينَ يَوْمًا ثُمَّ صَامَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم شعبان کی پہلی کا چاند دیکھنے کا جتنا اہتمام کرتے تھے اتنا اہتمام کسی اور چیز کا نہیں کرتے تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کی پہلی کا چاند دیکھ کر روزے رکھنا شروع کرتے تھے، اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر بادل چھائے ہوئے ہوتے تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پہلے تیس (30) دن کی گنتی پوری کرتے تھے، پھر روزے رکھنا شروع کرتے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصوم/حدیث: 3444]

3445

Sahih Ibn Hibban #3445

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الأَنْصَارِيُّ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَكَرَ رَمَضَانَ ، فَقَالَ : لا تَصُومُوا حَتَّى تَرَوَا الْهِلالَ ، وَلا تُفْطِرُوا حَتَّى تَرَوْهُ ، فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ ، فَاقْدِرُوا لَهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: ”تم لوگ اس وقت تک روزے رکھنا شروع نہ کرو جب تک پہلی کا چاند نہیں دیکھ لیتے اور اس وقت تک عیدالفطر نہ کرو جب تک تم اسے دیکھ نہیں لیتے، اگر تم پر بادل چھائے ہوئے ہوں، تو تم گنتی پوری کر لو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصوم/حدیث: 3445]

3446

Sahih Ibn Hibban #3446

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْحَسَينُ بْنُ عَلِيٍّ ، عَنْ زَائِدَةَ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْرَابِيٌّ ، فَقَالَ : أَبْصَرْتُ الْهِلالَ اللَّيْلَةَ ، فَقَالَ : تَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ ؟ " ، قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : " قُمْ يَا فُلانُ ، فَنَادِ فِي النَّاسِ ، فَلِيَصُومُوا غَدًا "، وَأَخْبَرَنَاهُ أَبُو يَعْلَى مَرَّةً أُخْرَى ، وَقَالَ : " قُمْ يَا بِلالُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ایک دیہاتی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اس نے عرض کی: گزشتہ رات میں نے پہلی کا چاند دیکھ لیا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”تم اس بات کی گواہی دیتے ہو کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے اور سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں؟“ اس نے جواب دیا: جی ہاں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے فلاں! تم اٹھو اور لوگوں میں یہ اعلان کرو کہ وہ کل روزہ رکھیں۔“ یہی روایت ایک اور سند کے ساتھ بھی منقول ہے، جس میں یہ الفاظ ہیں: ”اے بلال! تم اٹھو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصوم/حدیث: 3446]

3447

Sahih Ibn Hibban #3447

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفِيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّمَرْقَنْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مَرُوَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ ، عَنْ يَحِيَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَالِمِ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ نَافِعٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : تَرَاءَى النَّاسُ الْهِلالَ ، فَرَأَيْتُهُ ، فَأَخْبَرْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَصَامَ ، وَأَمَرَ النَّاسَ بِصِيَامِهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: لوگوں نے پہلی کا چاند دیکھنے کی کوشش کی، میں نے اسے دیکھ لیا، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بارے میں بتایا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے روزہ رکھا اور لوگوں کو بھی روزہ رکھنے کا حکم دیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصوم/حدیث: 3447]

3448

Sahih Ibn Hibban #3448

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : شَهْرَا عِيدٍ لا يَنْقُصَانِ : رَمَضَانُ وَذُو الْحِجَّةِ "، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : لِهَذَا الْخَبَرِ مَعْنَيَانِ ، أَحَدُهُمَا : أَنَّ شَهْرَا عِيدٍ لا يَنْقُصَانِ فِي الْحَقِيقَةِ ، وَإِنْ نَقْصَا عِنْدَنَا فِي رَأِيِ الْعَيْنِ عِنْدَ الْحَائِلِ بَيْنَنَا وَبَيْنَ رُؤِيَةِ الْهِلالِ لِغَبَرَةٍ أَوْ ضَبَابٍ ، وَالْمَعْنَى الثَّانِي : أَنَّ شَهْرَا عِيدٍ لا يَنْقُصَانِ فِي الْفَضْلِ ، يُرِيدُ أَنَّ عَشْرَ ذِي الْحِجَّةِ فِي الْفَضْلِ كَشَهْرِ رَمَضَانَ ، وَالدَّلِيلُ عَلَى هَذَا قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا مِنْ أَيَّامٍ الْعَمَلُ فِيهَا أَفْضَلُ مِنْ عَشْرِ ذِي الْحِجَّةِ " ، قِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَلا الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ؟ قَالَ : " وَلا الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”عید کے دو مہینے کم نہیں ہوتے؛ رمضان اور ذوالحجہ۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) اس روایت کے دو مفہوم ہو سکتے ہیں، ان میں سے ایک یہ ہے: عید کے دو مہینے درحقیقت کم نہیں ہوتے، اگرچہ وہ ہمارے نزدیک آنکھ سے دیکھنے کے حوالے سے کم ہو جاتے ہیں، اس وقت جب ہمارے اور چاند کو دیکھنے کے درمیان غبار یا بادل وغیرہ رکاوٹ بن جائیں۔ اس کا دوسرا مفہوم یہ ہے: عید کے دو مہینے فضیلت کے حوالے سے کم نہیں ہیں، اس سے مراد یہ ہے: ذوالحجہ کے مہینے کے پہلے عشرے کو فضیلت کے اعتبار سے وہی حیثیت حاصل ہے جو رمضان کے مہینے کو حاصل ہے اور اس کی دلیل نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ہے: ”کوئی بھی دن ایسے نہیں ہیں جن میں عمل کرنا ذوالحجہ کے پہلے عشرے (میں عمل کرنے) سے زیادہ فضیلت رکھتا ہو۔“ عرض کی گئی: یا رسول اللہ! اللہ کی راہ میں جہاد کرنا بھی نہیں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی راہ میں جہاد کرنا بھی نہیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصوم/حدیث: 3448]

3449

Sahih Ibn Hibban #3449

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ الطَّائِيُّ ، أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : الشَّهْرُ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”مہینہ (کبھی) انتیس (29) دن کا بھی ہوتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصوم/حدیث: 3449]