Muslim99Muslim99

Sahih Ibn Hibban · Book 30 · Chapter 3

Book of Guarantee

Hadith 3376–3409

34 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

3376

Sahih Ibn Hibban #3376

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي عَوْنٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا الأَعْمَشُ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا وَائِلٍ ، يُحَدِّثُ ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الْبَدْرِيِّ ، قَالَ : كُنَّا نَتَحَامَلُ ، فَكَانَ الرَّجُلُ يَجِيءُ بِالصَّدَقَةِ ، فَيُقَالُ : هَذَا مُرَاءٍ ، وَيَجِيءُ الرَّجُلُ بِنِصْفِ الصَّاعِ ، فَيُقَالُ : إِنَّ اللَّهَ لِغَنِيٌّ عَنْ هَذَا ، فَنَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ : الَّذِينَ يَلْمِزُونَ الْمُطَّوِّعِينَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ فِي الصَّدَقَاتِ "

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابومسعود بدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم لوگ وزن اٹھایا کرتے تھے، پھر کوئی شخص کوئی چیز صدقہ کرنے کے لیے لاتا تھا، تو یہ کہا جاتا کہ اس نے دکھاوے کے طور پر ایسا کیا ہے اور کوئی شخص نصف صاع لے آتا، تو یہ کہا جاتا کہ اللہ تعالیٰ اس سے بے نیاز ہے، تو اس بارے میں یہ آیت نازل ہوئی: ﴿الَّذِينَ يَلْمِزُونَ الْمُطَّوِّعِينَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ فِي الصَّدَقَاتِ﴾ [سورة التوبة: 79] ”وہ لوگ جو اہل ایمان کے کیے گئے صدقے کے حوالے سے ان پر نکتہ چینی کرتے ہیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الزكاة/حدیث: 3376]

3377

Sahih Ibn Hibban #3377

أَخْبَرَنَا ابْنُ سَلْمٍ ، حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، أَنَّ سَعِيدَ بْنَ أَبِي هِلالٍ حَدَّثَهُ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْمَهْرِيُّ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : لَيْسَ مِنْ نَفْسِ ابْنِ آدَمَ إِلا عَلَيْهَا صَدَقَةٌ فِي كُلِّ يَوْمٍ طَلَعَتْ فِيهِ الشَّمْسُ " ، قِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَمِنْ أَيْنَ لَنَا صَدَقَةٌ نَتَصَدَّقُ بِهَا ؟ فَقَالَ : " إِنَّ أَبُوَابَ الْخَيْرِ لَكَثِيرَةٌ : التَّسْبِيحُ ، وَالتَّحْمِيدُ ، وَالتَّكْبِيرُ ، وَالتَّهْلِيلُ ، وَالأَمْرُ بِالْمَعْرُوفِ ، وَالنَّهِيُ عَنِ الْمُنْكَرِ ، وَتُمِيطُ الأَذَى عَنِ الطَّرِيقِ ، وَتُسْمِعُ الأَصَمَّ ، وَتَهْدِي الأَعْمَى ، وَتُدِلُّ الْمُسْتَدِلَّ عَلَى حَاجَتِهِ ، وَتَسْعَى بِشِدَّةِ سَاقَيْكَ مَعَ اللَّهْفَانِ الْمُسْتَغِيثِ ، وَتَحْمِلُ بِشِدَّةِ ذِرَاعَيْكَ مَعَ الضَّعِيفِ ، فَهَذَا كُلُّهُ صَدَقَةٌ مِنْكَ عَلَى نَفْسِكَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”انسان کی ہر ایک سانس کے عوض اس پر ہر اس دن کا صدقہ لازم ہے جس میں سورج نکلتا ہے۔“ عرض کی گئی: ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اتنا زیادہ صدقہ دینے کے لیے ہمارے پاس کہاں گنجائش ہے؟“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”بھلائی کے دروازے بہت زیادہ ہیں؛ «سُبْحَانَ اللّٰهِ» ”اللہ پاک ہے“ کہنا، «الْحَمْدُ لِلّٰهِ» ”تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں“ کہنا، «اللّٰهُ أَكْبَرُ» ”اللہ سب سے بڑا ہے“ کہنا، «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ» ”اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں“ کہنا، نیکی کا حکم دینا، برائی سے منع کرنا، تکلیف دہ چیز کو راستے سے ہٹا دینا، بہرے شخص کو بات سمجھا دینا، نابینا شخص کی رہنمائی کر دینا، کسی کام کے سلسلے میں رہنمائی مانگنے والے کی رہنمائی کر دینا، اپنی ٹانگوں کی مضبوطی کی وجہ سے مدد مانگنے والے پریشان حال شخص کے لیے کوشش کرنا اور اپنے بازوؤں کی مضبوطی کی وجہ سے کمزور شخص کے لیے وزن اٹھا دینا؛ یہ سب تمہاری طرف سے تمہارے نفس کے لیے صدقہ ہیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الزكاة/حدیث: 3377]

3378

Sahih Ibn Hibban #3378

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ ، حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ الأَشْجَعِيِّ ، عَنْ رِبْعِيٍّ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ : قَالَ نَبِيُّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : كُلُّ مَعْرُوفٍ صَدَقَةٌ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”ہر نیکی صدقہ ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الزكاة/حدیث: 3378]

3379

Sahih Ibn Hibban #3379

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ الْكَلاعِيُّ ، بِحِمْصَ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ مُحَمَّدُ بْنُ مُطَرِّفٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : كُلُّ مَعْرُوفٍ صَدَقَةٌ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”ہر نیکی صدقہ ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الزكاة/حدیث: 3379]

3380

Sahih Ibn Hibban #3380

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ شُعَيْبٍ ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ سَلامٍ ، عَنْ أَخِيهِ زَيْدِ بْنِ سَلامٍ ، عَنْ جَدِّهِ أَبِي سَلامٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ فَرُّوخٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ عَائِشَةَ ، تَقُولُ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : خَلَقَ اللَّهُ كُلَّ إِنْسَانٍ مِنْ بَنِي آدَمَ عَلَى سِتِّينَ وَثَلاثِ مِائَةِ مَفْصِلٍ ، فَمَنْ كَبَّرَ اللَّهَ ، وَحَمِدَهُ ، وَهَلَّلَ اللَّهَ ، وَسَبِّحَ اللَّهَ ، وَاسْتَغْفَرَ اللَّهَ ، وَعَزَلَ عَظْمًا عَنْ طَرِيقِ النَّاسِ ، وَعَزَلَ حَجَرًا عَنْ طَرِيقِهِمْ ، وَأَمَرَ بِمَعْرُوفٍ ، وَنَهَى عَنْ مُنْكَرٍ عَدَدَ تِلْكَ السِّتِّينَ وَالثَّلاثِ مِائَةٍ ، فَإِنَّهُ يُمْسِي يَوْمَئِذٍ وَقَدْ زَحْزَحَ نَفْسَهُ عَنِ النَّارِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کے تین سو ساٹھ جوڑ بنائے ہیں، تو جو شخص تین سو ساٹھ کی تعداد میں (درج ذیل کام کرتا ہے) وہ «اللّٰهُ أَكْبَرُ» ”اللہ اکبر“ پڑھتا ہے، «الْحَمْدُ لِلّٰهِ» ”الحمد للہ“ پڑھتا ہے، «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ» ”لا الہ الا اللہ“ پڑھتا ہے، «سُبْحَانَ اللّٰهِ» ”سبحان اللہ“ پڑھتا ہے، «أَسْتَغْفِرُ اللّٰهَ» ”استغفر اللہ“ پڑھتا ہے، لوگوں کے راستے سے ہڈی کو ہٹا دیتا ہے، ان کے راستے سے پتھر کو ہٹا دیتا ہے، نیکی کا حکم دیتا ہے اور برائی سے روکتا ہے (وہ یہ سب کام تین سو ساٹھ مرتبہ کر لیتا ہے)، تو وہ شام کے وقت ایسی حالت میں ہوتا ہے کہ اس نے اپنے آپ کو جہنم سے بچا لیا ہوتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الزكاة/حدیث: 3380]

3381

Sahih Ibn Hibban #3381

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : كُلُّ سُلامَى مِنَ النَّاسِ عَلَيْهِ صَدَقَةٌ : كُلَّ يَوْمٍ تَطْلُعُ عَلَيْهِ الشَّمْسُ يَعْدِلُ بَيْنَ اثْنَيْنِ ، وَيُعِينُ الرَّجُلَ فِي دَابَّتِهِ ، وَيَحْمِلُهُ عَلَيْهَا ، وَيَرْفَعُ لَهُ عَلَيْهَا مَتَاعَهُ ، وَيُمِيطُ الأَذَى عَنِ الطَّرِيقِ صَدَقَةٌ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”انسان کے ہر جوڑ پر صدقہ کرنا لازم ہے ہر اس دن میں جس میں سورج طلوع ہوتا ہے (یعنی روزانہ ایسا کرنا لازم ہے)؛ آدمی کا دو آدمیوں کے درمیان انصاف کروا دینا، اور آدمی کا کسی دوسرے شخص کے جانور پر سوار ہونے میں اس کی مدد کرنا اور اس کا وزن اس پر لدوا دینا اور اس کا سامان اس کے لیے اٹھوا دینا، اور راستے سے تکلیف دہ چیز کو ہٹا دینا (یہ سب کام) صدقہ ہیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الزكاة/حدیث: 3381]

3382

Sahih Ibn Hibban #3382

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، أَنَّ دَرَّاجًا حَدَّثَهُ ، عَنْ أَبِي الْهَيْثَمِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : أَتَانِي جِبْرِيلُ ، فَقَالَ : إِنَّ رَبِّي وَرَبَّكَ يَقُولُ لَكَ :" كَيْفَ رَفَعْتُ ذِكْرَكَ ؟ " ، قَالَ : اللَّهُ أَعْلَمُ ، قَالَ : " إِذَا ذُكِرْتُ ذُكِرْتَ مَعِي """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جبریل علیہ السلام میرے پاس آئے اور بتایا کہ میرے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پروردگار نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ فرمایا ہے: میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذکر کو کیسا بلند کیا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ بہتر جانتا ہے، تو انہوں نے بتایا: (اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:) جب میرا ذکر کیا جائے گا، تو میرے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا بھی ذکر کیا جائے گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الزكاة/حدیث: 3382]

3383

Sahih Ibn Hibban #3383

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ ، أَخْبَرَنَا سُفِيَانُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ سَالْمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ جَابَانَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ وَلَدُ زِنِيَةٍ ، وَلا مَنَّانٌ ، وَلا عَاقٌّ ، وَلا مُدْمِنُ خَمْرٍ "، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : مَعْنَى نَفِيِ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ وَلَدِ الزِّنِيَةِ دُخُولَ الْجَنَّةِ ، وَوَلَدُ الزِّنِيَةِ لَيْسَ عَلَيْهِمْ مِنْ أَوْزَارِ آبَائِهِمْ وَأُمَّهَاتِهِمْ شَيْءٌ ، أَنَّ وَلَدَ الزِّنِيَةِ عَلَى الأَغْلَبِ يَكُونُ أَجْسَرَ عَلَى ارْتِكَابِ الْمَزْجُورَاتِ ، أَرَادَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ وَلَدَ الزِّنِيَةِ لا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ جَنَّةً يَدْخُلُهَا غَيْرُ ذِي الزِّنِيَةِ مِمَّنْ لَمْ تَكْثُرْ جَسَارَتُهُ عَلَى ارْتِكَابِ الْمَزْجُورَاتِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”زنا کے نتیجے میں پیدا ہونے والا بچہ، احسان جتانے والا شخص، (والدین کا) نافرمان اور باقاعدگی سے شراب پینے والا شخص جنت میں داخل نہیں ہوں گے۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا زنا کے نتیجے میں پیدا ہونے والے بچے کے جنت میں داخل ہونے کی نفی کرنا، حالانکہ زنا کے نتیجے میں پیدا ہونے والے بچے پر اس کے ماں باپ کے گناہ کا بوجھ نہیں ہونا چاہیے؛ اس کا مفہوم یہ ہے کہ زنا کے نتیجے میں پیدا ہونے والے بچے عام طور پر ممنوعہ چیزوں کا زیادہ ارتکاب کرتے ہیں، اس لیے اس کے ذریعے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد یہ ہو گی کہ زنا کے نتیجے میں پیدا ہونے والا بچہ جنت کے اس حصے میں داخل نہیں ہو گا جہاں وہ لوگ داخل ہوں گے جو زنا کے نتیجے میں پیدا نہیں ہوئے تھے اور ممنوعہ کاموں کا زیادہ ارتکاب نہیں کیا کرتے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الزكاة/حدیث: 3383]

3384

Sahih Ibn Hibban #3384

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ نُبَيْطِ بْنِ شَرِيطٍ ، عَنْ جَابَانَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : لا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ عَاقٌّ ، وَلا مَنَّانٌ ، وَلا مُدْمِنُ خَمْرٍ "، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : اخْتَلَفَ شُعْبَةُ ، وَالثَّوْرِيُّ فِي إِسْنَادِ هَذَا الْخَبَرِ ، فَقَالَ الثَّوْرِيُّ : عَنْ سَالِمِ ، عَنْ جَابَانَ ، وَهُمَا ثِقَتَانِ حَافِظَانِ إِلا أَنَّ الثَّوْرِيَّ كَانَ أَعْلَمَ بِحَدِيثِ أَهْلِ بَلَدِهِ مِنْ شُعْبَةَ ، وَأَحْفَظُ لَهَا مِنْهُ ، وَلا سِيَّمَا حَدِيثَ الأَعْمَشِ ، وَأَبِي إِسْحَاقَ ، وَمَنْصُورٍ ، فَالْخَبَرُ مُتَّصِلٌ ، عَنْ سَالِمِ ، عَنْ جَابَانَ ، فَمَرَّةٌ رُوِيَ كَمَا قَالَ شُعْبَةُ ، وَأُخْرَى كَمَا قَالَ سُفِيَانُ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”(والدین کا) نافرمان شخص، احسان جتلانے والا شخص اور باقاعدگی سے شراب پینے والا شخص جنت میں داخل نہیں ہوں گے۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) شعبہ اور ثوری نے اس روایت کی سند میں اختلاف کیا ہے، ثوری یہ کہتے ہیں کہ یہ سالم کے حوالے سے جابان کے حوالے سے منقول ہے اور یہ دونوں ثقہ اور حافظ ہیں۔ البتہ ثوری اپنے شہر کے افراد کی احادیث کے بارے میں شعبہ سے زیادہ علم رکھتے ہیں اور ان روایات کے بارے میں شعبہ سے زیادہ بڑے حافظ ہیں، بطور خاص وہ روایات جو اعمش، ابواسحاق اور منصور سے منقول ہیں۔ اس لیے سالم کے حوالے سے جابان سے منقول یہ روایت متصل ہو گی، تو ایک مرتبہ انہوں نے اسے اس طرح روایت کر دیا جس طرح شعبہ نے بیان کیا ہے اور ایک مرتبہ اس طرح روایت کر دیا جس طرح سفیان نے بیان کیا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الزكاة/حدیث: 3384]

3385

Sahih Ibn Hibban #3385

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحِيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلانِيِّ ، عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ لأَصْحَابِهِ : أَلا تُبَايعُونِي ؟ " ، قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَدْ بَايَعْنَاكَ مَرَّةً ، فَعَلَى مَاذَا نُبَايعُكَ ؟ قَالَ :" تُبَايعُونِي عَلَى أَنْ لا تُشْرِكُوا بِاللَّهِ شَيْئًا ، وَأَنْ تُقِيمُوا الصَّلاةَ ، وَتُؤْتُوا الزَّكَاةَ " ، ثُمَّ أَتْبَعَ ذَلِكَ كَلَمَةً خَفِيفَةً " عَلَى أَنْ لا تَسْأَلُوا النَّاسَ شَيْئًا "، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " عَلَى أَنْ لا تُشْرِكُوا بِاللَّهِ شَيْئًا " ، أَرَادَ بِهِ الأَمْرَ بِتَرْكِ الشِّرْكِ ، وَكَذَلِكَ قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " عَلَى أَنْ لا تَسْأَلُوا النَّاسَ شَيْئًا " ، أَرَادَ بِهِ الأَمْرَ بِتَرْكِ الْمَسْأَلَةِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عوف بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب سے فرمایا: ”کیا تم لوگ میری بیعت نہیں کرو گے؟“ تو لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت کر چکے ہیں، ہم کس بات پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت کریں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اس بات پر میری بیعت کرو کہ تم کسی کو اللہ کا شریک نہیں ٹھہراؤ گے، تم نماز قائم کرو گے اور زکوٰۃ ادا کرو گے“، اس کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پست آواز میں یہ الفاظ کہے: ”اور اس بات پر کہ تم لوگوں سے کچھ مانگو گے نہیں۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں): نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ”اس بات پر کہ تم اللہ تعالیٰ کا شریک نہیں ٹھہراؤ گے“، اس سے آپ کی مراد شرک نہ کرنے کا حکم دینا ہے۔ اسی طرح کا یہ فرمان: ”اس بات پر کہ تم لوگوں سے کچھ نہیں مانگو گے“، اس سے آپ کی مراد نہ مانگنے کا حکم دینا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الزكاة/حدیث: 3385]

3386

Sahih Ibn Hibban #3386

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُلَيَّةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا دَاوُدُ الطَّائِيُّ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ عُقْبَةَ ، قَالَ : قَالَ لَهُ الْحَجَّاجُ مَا مَنَعَكَ أَنْ تَسْأَلَنِي ؟ فَقَالَ قَالَ سَمُرَةُ بْنُ جُنْدُبٍ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّهَذِهِ الْمَسْأَلَةَ كَدٌّ يَكُدُّ بِهَا الرَّجُلُ وَجْهَهُ ، فَمَنْ شَاءَ أَبْقَى عَلَى وَجْهِهِ ، وَمَنْ شَاءَ تَرَكَ ، إِلا أَنْ يَسْأَلَ ذَا سُلْطَانٍ ، أَوْ يَنْزِلَ بِهِ أَمْرٌ لا يَجِدُ مِنْهُ بَدًّا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

زید بن عقبہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے کہ حجاج نے ان سے کہا: کیا وجہ ہے کہ آپ مجھ سے کچھ مانگتے نہیں ہیں؟ تو انہوں نے بتایا کہ سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ نے یہ بات بیان کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”یہ مانگنا ایک خراش ڈالنا ہے، جو آدمی اپنے چہرے پر ڈال لیتا ہے، تو جو شخص چاہے وہ اسے اپنے چہرے پر باقی رہنے دے اور جو شخص چاہے وہ ایسا نہ کرے، مگر یہ کہ جو شخص حاکمِ وقت (یا متعلقہ سرکاری اہل کار) سے مانگے یا وہ شخص جسے کوئی ایسی صورتِ حال پیش ہو کہ مانگنا اس کی مجبوری ہو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الزكاة/حدیث: 3386]

3387

Sahih Ibn Hibban #3387

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنِ الْعَلاءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : لا يُفْتَحُ إِنْسَانٌ عَلَى نَفْسِهِ بَابَ مَسْأَلَةٍ إِلا فَتْحَ اللَّهُ عَلَيْهِ بَابَ فَقْرٍ ، لأَنْ يَعْمِدَ الرَّجُلُ حَبْلا إِلَى جَبَلٍ فَيَحْتَطِبَ عَلَى ظَهْرِهِ ، وَيَأْكُلَ مِنْهُ خَيْرٌ مِنْ أَنْ يَسْأَلَ النَّاسَ مُعْطًى أَوْ مَمْنُوعًا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”مانگنے کا دروازہ جب بھی آدمی اپنے لیے کھولتا ہے، تو اللہ تعالیٰ اس پر فقر کا دروازہ کھول دیتا ہے، آدمی ایک رسی لے کر اس کے ذریعے لکڑیوں کا گٹھا بنا کر اپنی پشت پر رکھ کر (اسے بازار میں جا کر فروخت کر کے) اس کو کھائے، یہ اس کے لیے اس سے زیادہ بہتر ہے کہ وہ لوگوں سے مانگے اور اسے کچھ دیا جائے یا نہ دیا جائے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الزكاة/حدیث: 3387]

3388

Sahih Ibn Hibban #3388

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : إِنَّاللَّهَ يَرْضَى لَكُمْ ثَلاثًا ، وَيَسْخَطُ لَكُمْ ثَلاثًا ، يَرْضَى لَكُمْ أَنْ تَعْبُدُوهُ وَلا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا ، وَأَنْ تَعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا ، وَأَنْ تَنَاصَحُوا مَنْ وَلاهُ اللَّهُ أَمَرَكُمْ ، وَيَسْخَطُ لَكُمْ قِيلَ ، وَقَالَ ، وَإِضَاعَةَ الْمَالِ ، وَكَثْرَةَ السُّؤَالِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”اللہ تعالیٰ تمہارے لیے تین باتوں سے راضی ہے اور تمہارے لیے تین باتوں کو ناپسند کرتا ہے؛ تمہارے لیے اس بات سے راضی ہے کہ تم اس کی عبادت کرو اور کسی کو اس کا شریک نہ ٹھہراؤ، اور تم سب اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رکھو، اور تم سب لوگ اس (حکمران) کی خیر خواہی کرو جسے اللہ تعالیٰ نے تمہارے امور کا نگران بنایا ہے، اور وہ تمہارے لیے ان باتوں کو ناپسند کرتا ہے: قیل و قال کرنا، مال کو ضائع کرنا اور بکثرت مانگنا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الزكاة/حدیث: 3388]

3389

Sahih Ibn Hibban #3389

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ قَحْطَبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبَانَ الْقُرَشِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ دِينَارٍ ، عَنْ وَهْبِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، عَنْ أَخِيهِ ، سَمِعَهُ مِنْ مُعَاوِيَةَ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لا تُلْحِفُوا فِي الْمَسْأَلَةِ ، فَوَاللَّهِ لا يَسْأَلُنِي أَحَدٌ مِنْكُمْ شَيْئًا ، فَتُخْرِجَ لَهُ مَسْأَلَتُهُ مِنِّي شَيْئًا ، وَأَنَا لَهُ كَارِهٌ ، فَيُبَارَكُ لَهُ فِيهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”مانگتے ہوئے چمٹ نہ جایا کرو، اللہ کی قسم! تم میں سے جو شخص جو بھی چیز مانگتا ہے اور اس کے مانگنے کی وجہ سے میں ناپسندیدگی کے عالم میں وہ چیز اسے دے دیتا ہوں، تو اس کے لیے اس میں برکت نہیں رکھی جائے گی۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الزكاة/حدیث: 3389]

3390

Sahih Ibn Hibban #3390

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْبُخَارِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الرِّجَالِ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : مَنْ سَأَلَ وَلَهُ أُوقِيَّةٌ فَهُوَ مُلْحِفٌ "، قَالَ : قُلْتُ : الِيَاقُوتَةُ نَاقَتِي خَيْرٌ مِنْ أُوقِيَّةٍ ، قَالَ : وَالأُوقِيَّةُ أَرْبَعُونَ دِرْهَمًا"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جو شخص (دوسرے سے کچھ) مانگے، حالانکہ اس کے پاس ایک اوقیہ (چاندی) موجود ہو، تو وہ شخص لپٹ کر سوال کرنے والا ہے۔“ راوی کہتے ہیں: میں نے سوچا میری اونٹنی یاقوتہ تو ایک اوقیہ سے زیادہ بہتر ہے۔ راوی بیان کرتے ہیں: ایک اوقیہ چالیس درہم کا ہوتا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الزكاة/حدیث: 3390]

3391

Sahih Ibn Hibban #3391

أَخْبَرَنَا أَبُو عَرُوبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحَرَّانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحِيَى بْنُ السَّكَنِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، قَالَ : قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ سَأَلَ النَّاسَ لِيُثْرِيَ مَالَهُ فَإِنَّمَا هُوَ رَضْفٌ مِنَ النَّارِ يَتَلَهَّبُهُ ، مَنْ شَاءَ فَلِيُقِلَّ ، وَمَنْ شَاءَ فَلِيُكْثِرْ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”جو شخص لوگوں سے اس لیے مانگتا ہے تاکہ اس کے ذریعے اپنے مال میں اضافہ کرے، تو وہ جہنم کے انگارے جمع کر رہا ہے، اب جو چاہے وہ تھوڑے اکٹھے کرے، جو چاہے وہ زیادہ اکٹھے کر لے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الزكاة/حدیث: 3391]

3392

Sahih Ibn Hibban #3392

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفِيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، عَنْ إِسْرَائِيلَ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّالرَّجُلَ يَأْتِينِي مِنْكُمْ لَيَسْأَلَنِي فَأُعْطِيهِ ، فَيَنْطَلِقُ وَمَا يَحْمِلُ فِي حِضْنِهِ إِلا النَّارَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”ایک شخص میرے پاس آتا ہے اور مجھ سے کچھ مانگتا ہے، تو میں اسے دے دیتا ہوں، وہ چلا جاتا ہے، حالانکہ اس نے اپنے دامن میں صرف آگ کو اٹھایا ہوتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الزكاة/حدیث: 3392]

3393

Sahih Ibn Hibban #3393

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : وَمَنْ سَأَلَ النَّاسَ مِنْ أَمُوَالِهِمْ ، فَإِنَّمَا يَسْأَلُ جَمْرًا ، فَلِيَسْتَقِلَّ مِنْهُمْ ، أَوْ لِيَسْتَكْثِرْ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”جو لوگوں سے ان کے مال میں سے مانگتا ہے وہ انگارہ مانگتا ہے، اب اس کی مرضی ہے کہ وہ تھوڑا مانگے یا زیادہ مانگے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الزكاة/حدیث: 3393]

3394

Sahih Ibn Hibban #3394

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُكْرَمٍ الْبِرْتِيُّ ، بِبَغْدَادَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الُوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَزِيدَ بْنَ جَابِرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي رَبِيعَةُ بْنُ يَزِيدَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو كَبْشَةَ السَّلُولِيُّ ، أَنَّهُ سَمِعَ سَهْلَ بْنَ الْحَنْظَلِيَّةِ صَاحِبَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَنَّ الأَقْرَعَ وَعُيَيْنَةَ سَأَلا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا ، فَأَمَرَ مُعَاوِيَةَ أَنْ يَكْتُبَ بِهِ لَهُمَا ، وَخَتَمَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَمَرَ بِدَفْعِهِ إِلَيْهِمَا ، فَأَمَّا عُيَيْنَةَ ، فَقَالَ : مَا فِيهِ ؟ فَقَالَ : فِيهِ الَّذِي أَمَرْتَ بِهِ ، فَقَبَّلَهُ وَعَقْدَهُ فِي عِمَامَتِهِ ، وَكَانَ أَحْلَمَ الرَّجُلَيْنِ ، وَأَمَّا الأَقْرَعُ ، فَقَالَ : أَحْمِلُ صَحِيفَةً لا أَدْرِي مَا فِيهَا كَصَحِيفَةِ الْمُتَلَمِّسِ ، فَأَخْبَرَ مُعَاوِيَةُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَوْلِهِمَا ، وَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَاجَتِهِ ، فَمَرَّ بِبَعِيرٍ مُنَاخٍ عَلَى بَابِ الْمَسْجِدِ فِي أَوَّلِ النَّهَارِ ، ثُمَّ مَرَّ بِهِ فِي آخِرِ النَّهَارِ ، وَهُوَ فِي مَكَانَهِ ، فَقَالَ : أَيْنَ صَاحِبُ هَذَا الْبَعِيرِ ؟ " ، فَابْتُغِيَ فَلَمْ يُوجَدْ ، فَقَالَ :" اتَّقُوا اللَّهَ فِي هَذِهِ الْبَهَائِمِ ، ارْكَبُوهَا صِحَاحًا ، وَكُلُوهَا سِمَانًا ، كَالْمُتَسَخِّطِ آنِفًا ، إِنَّهُ مَنْ سَأَلَ شَيْئًا وَعِنْدَهُ مَا يُغْنِيهِ ، فَإِنَّمَا يَسْتَكْثِرُ مِنْ جَمْرِ جَهَنَّمَ " ، قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَمَا يُغْنِيهِ ؟ قَالَ : " مَا يُغَدِّيهِ ، أَوْ يُعَشِّيهِ "، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا يُغَدِّيهِ ، أَوْ يُعَشِّيهِ " ، أَرَادَ بِهِ عَلَى دَائِمِ الأَوْقَاتِ حَتَّى يَكُونَ مُسْتَغْنِيًا بِمَا عِنْدَهُ ، أَلا تَرَاهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي خَبَرِ أَبِي هُرَيْرَةَ : " لا تَحِلُّ الصَّدَقَةُ لِغَنِيٍّ ، وَلا لِذِي مِرَّةٍ سَوِيٍّ " ، فَجَعَلَ الْحَدَّ الَّذِي تَحْرُمُ الصَّدَقَةُ عَلَيْهِ بِهِ هُوَ الْغِنَى عَنِ النَّاسِ ، وَبِيَقِينٍ نَعْلَمُ أَنَّ وَاجِدَ الْغَدَاءِ أَوِ الْعِشَاءِ لَيْسَ مِمَّنِ اسْتَغْنَى عَنْ غَيْرِهِ حَتَّى تَحْرُمَ عَلَيْهِ الصَّدَقَةُ ، عَلَى أَنَّ الْخِطَابَ وَرَدَ فِي هَذِهِ الأَخْبَارِ بِلَفْظِ الْعُمُومِ ، وَالْمُرَادُ مِنْهُ صَدَقَةُ الْفَرِيضَةِ دُونَ التَّطَوُّعِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا سہل بن حنظلیہ رضی اللہ عنہ جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ہیں، وہ بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ اقرع اور عیینہ رضی اللہ عنہما نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ مانگا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ ان کے لیے ایک تحریر لکھ دیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر مہر لگا دی اور وہ تحریر ان دونوں کے سپرد کرنے کا حکم دیا۔ عیینہ رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا: اس میں کیا ہے؟ تو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے بتایا: اس میں وہ چیز ہے، جس کے بارے میں تمہیں دینے کا حکم دیا گیا ہے۔ اس نے اسے قبول کیا اور اسے اپنے عمامے میں رکھ لیا، وہ ان دونوں آدمیوں میں زیادہ سمجھدار تھا، لیکن اقرع رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا میں ایک ایسے صحیفے کو اٹھا لوں جس کے بارے میں مجھے پتہ ہی نہیں کہ اس میں کیا تحریر ہے، یہ تو ایک ایسے صحیفے کی مانند ہو گا جو غلط فہمی کا شکار کر دیتا ہے۔ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان دونوں کے قول کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کسی کام کے سلسلے میں باہر تشریف لائے۔ دن کے ابتدائی حصے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک اونٹ کے پاس سے گزرے تھے جو مسجد کے دروازے کے باہر بٹھایا گیا تھا، پھر دن کے آخری حصے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس سے گزرے وہ اسی جگہ موجود تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کا مالک کہاں ہے؟“ اسے تلاش کیا گیا، لیکن وہ نہیں ملا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ان جانوروں کے بارے میں اللہ سے ڈرو، ان پر ایسی حالت میں سواری کرو جب یہ تندرست ہوں، انہیں کھلا کر موٹا تازہ رکھو۔“ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ پہلے کے واقعے پر ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا: ”جو شخص کوئی چیز مانگتا ہے اور اس کے پاس ایسی چیز موجود ہو، جس کی وجہ سے اسے مانگنے کی ضرورت نہ ہو، تو وہ شخص جہنم کے انگارے زیادہ کر رہا ہوتا ہے۔“ لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اس کو مانگنے کی ضرورت نہ ہونے سے مراد کیا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جس کے پاس صبح اور شام کا کھانا موجود ہو۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ”جو کچھ وہ صبح کرتا ہے اور شام کو کرتا ہے“ اس سے آپ کی مراد یہ ہے، جو وہ ہمیشہ کرتا ہے، یہاں تک کہ وہ اس سے بے نیاز ہو جاتا ہے۔ کیا تم نے دیکھا نہیں ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول روایت میں یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”صدقہ دینا کسی خوشحال شخص کے لیے اور کام کرنے والے تندرست شخص کے لیے جائز نہیں ہے۔“ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہاں صدقہ حرام ہونے کی حد اس چیز کو قرار دیا ہے جس کی وجہ سے آدمی لوگوں سے بے نیاز ہو جائے۔ آپ یہ بات یقینی طور پر جانتے ہیں کہ جس شخص کے پاس صبح اور شام کا کھانا موجود ہو وہ ان افراد میں شامل نہیں ہوتا جو دوسروں سے بے نیاز ہو جائیں، یہاں تک کہ اس کے لیے صدقہ لینا حرام ہو جائے۔ اس بنیاد پر کہ ان روایات میں روایت کے الفاظ عمومی طور پر منقول ہوئے ہیں، لیکن اس سے مراد فرض صدقہ ہے، نفلی صدقہ مراد نہیں ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الزكاة/حدیث: 3394]

3395

Sahih Ibn Hibban #3395

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَارُونَ بْنِ رِئَابٍ ، عَنْ كِنَانَةَ الْعَدَوِيِّ ، قَالَ : كُنْتُ عِنْدَ قَبِيصَةَ بْنِ الْمُخَارِقِ ، فَاسْتَعَانَ بِهِ نَفَرٌ مِنْ قَوْمِهِ فِي نِكَاحِ رَجُلٍ مِنْ قَوْمِهِ ، فَأَبَى أَنْ يُعْطِيَهُمْ شَيْئًا ، فَانْطَلَقُوا مِنْ عِنْدِهِ ، قَالَ كِنَانَةُ : فَقُلْتُ لَهُ : أَنْتَ سَيِّدُ قَوْمِكَ ، وَأَتَوْكَ يَسْأَلُونَكَ ، فَلَمْ تُعْطِهِمْ شَيْئًا ، قَالَ : أَمَّا فِي هَذَا ، فَلا أُعْطِي شَيْئًا ، وَسَأُخْبِرُكَ عَنْ ذَلِكَ ، تَحَمَّلْتُ بِحَمَالَةٍ فِي قَوْمِي ، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَخْبَرْتُهُ وَسَأَلْتُهُ أَنْ يُعِينَنِي ، فَقَالَ : بَلْ نَحْمِلُهَا عَنْكَ يَا قَبِيصَةُ ، وَنُؤَدِّيهَا إِلَيْهِمْ مِنْ إِبِلِ الصَّدَقَةِ " ، ثُمَّ قَالَ : " إِنَّالْمَسْأَلَةَ لا تَحِلُّ إِلا لِثَلاثٍ : رَجُلٍ تَحَمَّلَ حَمَالَةً ، فَقَدْ حَلَّتْ لَهُ ، حَتَّى يُؤَدِّيَهَا ، أَوْ رَجُلٍ أَصَابَتْهُ جَائِحَةٌ ، فَاجْتَاحَتْ مَالَهُ حَتَّى يُصِيبَ قِوَامًا مِنْ عَيْشٍ ، أَوْ سِدَادًا مِنْ عَيْشٍ ، وَرَجُلٍ أَصَابَتْهُ فَاقَةٌ ، فَشَهِدَ لَهُ ثَلاثَةٌ مِنْ ذَوِي الْحِجَا مِنْ قَوْمِهِ أَنْ قَدْ حَلَّتْ لَهُ الْمَسْأَلَةُ ، فَقَدْ حَلَّتْ لَهُ حَتَّى يُصِيبَ قِوَامًا مِنْ عَيْشٍ ، أَوْ سِدَادًا مِنْ عَيْشٍ ، وَالْمَسْأَلَةُ فِيمَا سِوَى ذَلِكَ سُحْتٌ "، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : قَوْلُهُ : " وَالْمَسْأَلَةُ فِيمَا سِوَى ذَلِكَ سُحْتٌ " أَرَادَ بِهِ أَنَّ الْمَسْأَلَةَ فِي سِوَى هَذِهِ الأَشِيَاءِ الثَّلاثَةِ مِنَ السُّلْطَانِ عَنْ فَضْلِ حِصَّتِهِ مِنْ بَيْتِ الْمَالِ سُحْتٌ ، لأَنَّ الْمَسْأَلَةَ فِي غَيْرِ هَذِهِ الْخِصَالِ الثَّلاثَةِ مِنْ غَيْرِ السُّلْطَانِ عَنْ غَيْرِ بَيْتِ مَالِ الْمُسْلِمِينَ تَكُونَ سُحْتًا إِذَا كَانَ مُسْتَغْنٍ بِمَا عِنْدَهُ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

کنانہ عدوی بیان کرتے ہیں: میں سیدنا قبیصہ بن مخارق رضی اللہ عنہ کے پاس موجود تھا، ان کی قوم کے کچھ افراد نے اپنی قوم کے ایک شخص کی شادی کے بارے میں ان سے مدد مانگی، تو انہوں نے اسے کچھ دینے سے انکار کر دیا، وہ لوگ ان کے پاس سے اٹھ کر چلے گئے۔ کنانہ کہتے ہیں: میں نے ان سے کہا: آپ اپنی قوم کے سردار ہیں، وہ لوگ آپ کے پاس کچھ مانگنے آئے تھے، آپ نے انہیں کچھ بھی نہیں دیا، تو انہوں نے فرمایا: جہاں تک اس معاملے کا تعلق ہے، تو میں انہیں کچھ بھی نہیں دوں گا، میں تمہیں اس بارے میں بتاتا ہوں۔ ایک مرتبہ میں نے اپنی قوم کی کوئی ادائیگی اپنے ذمے لے لی، میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بارے میں بتایا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم میری مدد کریں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے قبیصہ! تمہاری طرف سے ادائیگی ہم اپنے ذمے لیتے ہیں اور صدقے کے اونٹوں میں سے ان لوگوں کو ادائیگی کر دیں گے۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مانگنا صرف تین آدمیوں کے لیے جائز ہوتا ہے: ایک وہ شخص جس کے ذمے ادائیگی لازم ہو، تو اس کے لیے مانگنا جائز ہوتا ہے، یہاں تک کہ وہ اس ادائیگی کو کر دے؛ یا جسے کوئی آفت لاحق ہو جائے، اس کے نتیجے میں اس کا مال ضائع ہو جائے، تو جب تک اس کی بنیادی ضروریات کی تکمیل کا سامان نہیں ہوتا، اس وقت تک اس کے لیے مانگنا جائز ہے؛ اور ایک وہ شخص جسے فاقہ لاحق ہو جائے، اس کی قوم کے تین سمجھدار لوگ اس کے بارے میں گواہی دیں کہ اس کے لیے مانگنا جائز ہو گیا ہے، تو اس شخص کے لیے مانگنا جائز ہو جاتا ہے، یہاں تک کہ اس کے لیے اپنی بنیادی ضروریات کی تکمیل کا سامان ہو جائے، اس کے علاوہ مانگنا حرام ہے۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں): نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ”اس کے علاوہ مانگنا حرام ہے“ اس کے ذریعے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد یہ ہے: حاکمِ وقت سے بیت المال میں سے اپنے مخصوص حصے سے اضافی طور پر ان تین چیزوں کے علاوہ مانگنا حرام ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے: ان تین خصوصیات کے علاوہ کی صورت میں حاکمِ وقت کے علاوہ کسی اور سے مانگنا مسلمانوں کے بیت المال میں سے وصولی نہ ہو۔ اس وقت حرام ہو گا جب انسان کے پاس اتنا کچھ موجود نہ ہو جس کی موجودگی میں (کسی سے مانگنے سے) بے نیاز ہو۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الزكاة/حدیث: 3395]

3396

Sahih Ibn Hibban #3396

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا حَوْثَرَةُ بْنُ أَشْرَسَ الْعَدَوِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ هَارُونَ بْنِ رِئَابٍ ، عَنْ كِنَانَةَ بْنِ نُعَيْمٍ الْعَدَوِيِّ ، عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ مُخَارِقٍ الْهِلالِيِّ ، قَالَ : تَحَمَّلْتُ حَمَالَةً ، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْأَلُهُ مِنْهَا ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَقِمْ يَا قَبِيصَةُ حَتَّى تَجِيئَنَا الصَّدَقَةُ ، فَنَأْمُرَ لَكَ بِهَا " ، ثُمَّ قَالَ : " يَا قَبِيصَةُ ، إِنَّالْمَسْأَلَةَ لا تَحِلُّ إِلا لإِحْدَى ثَلاثٍ : رَجُلٍ تَحَمَّلَ بِحَمَالَةٍ ، فَحَلَّتْ لَهُ الْمَسْأَلَةُ حَتَّى يُصِيبَهَا ثُمَّ يُمْسِكَ ، وَرَجُلٍ أَصَابَتْهُ جَائِحَةٌ ، فَاجْتَاحَتْ مَالَهُ ، فَحَلَّتْ لَهُ الْمَسْأَلَةُ حَتَّى يُصِيبَ قِوَامًا مِنْ عَيْشٍ ، أَوْ سِدَادًا مِنْ عَيْشٍ ، وَرَجُلٍ أَصَابَتْهُ فَاقَةٌ حَتَّى يَقُولَ ثَلاثَةٌ مِنْ ذَوِي الْحِجَا مِنْ قَوْمِهِ : لَقَدْ أَصَابَتْ فُلانًا فَاقَةٌ ، فَحَلَّتْ لَهُ الْمَسْأَلَةُ حَتَّى يُصِيبَ قِوَامًا مِنْ عَيْشٍ ، أَوْ قَالَ : سِدَادًا مِنْ عَيْشٍ ، وَمَا سِوَاهُنَّ مِنَ الْمَسْأَلَةِ سُحْتٌ يَأْكُلُهَا صَاحِبُهَا سُحْتًا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

کنانہ بن نعیم عدوی سیدنا قبیصہ بن مخارق ہلالی رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: میں نے ایک ادائیگی اپنے ذمے لے لی، میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تاکہ اس کے بارے میں مدد مانگوں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اے قبیصہ! تم ٹھہرے رہو، جب ہمارے پاس (صدقے کا مال) آئے گا، تو ہم تمہیں دینے کا حکم دے دیں گے۔“ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اے قبیصہ! مانگنا تین میں سے کسی ایک شخص کے لیے جائز ہے: ایک وہ شخص جس کے ذمے کوئی ادائیگی ہو، اس کے لیے مانگنا جائز ہو جاتا ہے، یہاں تک کہ جب وہ اس ادائیگی کو کر دے، تو اس (مانگنے) سے رک جائے۔ ایک وہ شخص جسے آفت لاحق ہو جس کے نتیجے میں اس کا مال ضائع ہو جائے، اس کے لیے مانگنا جائز ہو جاتا ہے، یہاں تک کہ وہ اپنی بنیادی ضروریات کو پورا کرے (یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے)۔ اور ایک وہ شخص جسے فاقہ لاحق ہو، یہاں تک کہ اس کی قوم کے تین سمجھدار لوگ اس بات کی گواہی دیں کہ فلاں شخص کو فاقہ لاحق ہوا ہے، اس کے لیے مانگنا جائز ہو جاتا ہے، یہاں تک کہ وہ اپنی بنیادی ضروریات کی تکمیل کر سکے (یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے)۔ اے قبیصہ! اس کے علاوہ مانگنا حرام ہے، جسے مانگنے والا حرام کے طور پر کھاتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الزكاة/حدیث: 3396]

3397

Sahih Ibn Hibban #3397

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ سَعِيدٍ السَّعْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : إِنَّمَاالْمَسَائِلُ كُدُوحٌ يَكْدَحُ بِهَا الرَّجُلُ وَجْهَهُ ، فمَنْ شَاءَ أَبْقَى عَلَى وَجْهِهِ ، وَمَنْ شَاءَ تَرَكَ ، إِلا أَنْ يَسْأَلَ ذَا سُلْطَانٍ ، أَوْ فِي أَمْرٍ لا يَجِدُ مِنْهُ بُدًّا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”مانگنا خراش ڈالنا ہے، جس کے ذریعے آدمی اپنے چہرے پر خراش ڈالتا ہے، تو جو شخص چاہے وہ اسے اپنے چہرے پر باقی رہنے دے اور جو شخص چاہے اسے ترک کر دے، البتہ حکمران (یا متعلقہ سرکاری اہل کار سے حکومتی آمدن میں سے) مانگا جا سکتا ہے یا کسی ایسی صورت میں مانگا جا سکتا ہے جو انتہائی مجبوری ہو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الزكاة/حدیث: 3397]

3398

Sahih Ibn Hibban #3398

أَخْبَرَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحِيَى السَّاجِيُّ ، بِالْبَصْرَةِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الُوَاحِدِ بْنُ غِيَاثٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أُرِيدُ أَنْ أَسْأَلَهُ ، فَسَمِعْتُهُ يَخْطُبُ ، وَهُوَ يَقُولُ : مَنْ يَسْتَغْنِ يُغْنِهِ اللَّهُ ، وَمَنْ يَسْتَعْفِفْ يُعِفُّهُ اللَّهُ ، وَمَنْ سَأَلَنَا أَعْطَيْنَاهُ "، قَالَ : فَرَجَعْتُ وَلَمْ أَسْأَلْهُ ، فَأَنَا الِيَوْمَ أَكْثَرُ الأَنْصَارِ مَالا"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، میرا یہ ارادہ تھا کہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ مانگوں گا، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خطبے کے دوران یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا: ”جو شخص بے نیازی اختیار کرنا چاہتا ہے اللہ تعالیٰ اسے بے نیاز رکھتا ہے، جو شخص مانگنے سے بچتا ہے اللہ تعالیٰ اسے مانگنے سے محفوظ رکھتا ہے اور جو شخص ہم سے کچھ مانگے گا ہم اسے دے دیں گے۔“ سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں واپس آ گیا اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ نہیں مانگا اور آج انصار میں میرے پاس سب سے زیادہ مال ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الزكاة/حدیث: 3398]

3399

Sahih Ibn Hibban #3399

أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ دَاوُدَ بْنِ وَرْدَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، عَنِ ابْنِ عَجْلانَ ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنَّ أَهْلَهُ شَكَوَا إِلَيْهِ الْحَاجَةَ ، فَخَرَجَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيَسْأَلَهُ لَهُمْ شَيْئًا ، فَوَافَقَهُ عَلَى الْمِنْبَرِ ، وَهُوَ يَقُولُ : أَيُّهَا النَّاسُ ، قَدْآنَ لَكُمْ أَنْ تَسْتَغْنُوا عَنِ الْمَسْأَلَةِ ، فَإِنَّهُ مَنْ يَسْتَعْفِفْ يُعِفُّهُ اللَّهُ ، وَمَنْ يَسْتَغْنِ يُغْنِهِ اللَّهُ ، وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ مَا رُزِقَ عَبْدٌ شَيْئًا أَوْسَعَ مِنَ الصَّبْرِ ، وَلَئِنْ أَبَيْتُمْ إِلا أَنْ تَسْأَلُونِيَ لأُعْطِيَنَّكُمْ مَا وَجَدْتُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ان کی اہلیہ نے ان کے سامنے کسی ضرورت کی شکایت کی، تو وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں جانے کے ارادے سے نکلے تاکہ اپنے گھر والوں کے لیے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ مانگیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت منبر پر موجود تھے اور یہ ارشاد فرما رہے تھے: ”اے لوگو! تم پر ایسا وقت آ گیا ہے کہ تم مانگنے سے بے نیاز ہو جاؤ، بے شک جو شخص (مانگنے سے) بچنے کی کوشش کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اسے بچا کر رکھتا ہے، جو شخص خوشحالی حاصل کرنا چاہتا ہے، اللہ تعالیٰ اسے خوشحالی عطا کرتا ہے، اس ذات کی قسم جس کے دستِ قدرت میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے! بندے کو صبر سے زیادہ کشادہ اور کوئی چیز نہیں دی گئی، اور اگر تم مانگنے پر اصرار کرتے ہو تو جو میرے پاس ہو گا وہ میں تمہیں دے دوں گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الزكاة/حدیث: 3399]

3400

Sahih Ibn Hibban #3400

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الأَنْصَارِيُّ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنَّ نَاسًا مِنَ الأَنْصَارِ سَأَلُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَعْطَاهُمْ ، ثُمَّ سَأَلُوهُ فَأَعْطَاهُمْ ، حَتَّى إِذَا نَفِدَ مَا عِنْدَهُ ، قَالَ : مَا يَكُنْ عِنْدِي مِنْ خَيْرٍ ، فَلَنْ أَدَّخِرَهُ عَنْكُمْ ، وَمَنْ يَسْتَعْفِفْ يُعِفُّهُ اللَّهُ ، وَمَنْ يَسْتَغْنِ يُغْنِهِ اللَّهُ ، وَمَنْ يَتَصَبَّرْ يُصَبِّرْهُ اللَّهُ ، وَمَا أُعْطِيَ أَحَدٌ عَطَاءً هُوَ خَيْرٌ وَأَوْسَعُ مِنَ الصَّبْرِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: کچھ انصار نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ مانگا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ انہیں عطا کر دیا، انہوں نے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے مانگا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر انہیں عطا کر دیا، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جو مال تھا وہ ختم ہو گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میرے پاس جو کچھ بھی بھلائی موجود ہے میں تم لوگوں سے بچا کر اسے نہیں رکھوں گا، لیکن جو شخص مانگنے سے بچنے کی کوشش کرے گا اللہ تعالیٰ اسے مانگنے سے بچا کے رکھے گا اور جو شخص (لوگوں سے) بے نیازی اختیار کرنے کی کوشش کرے گا اللہ تعالیٰ اسے بے نیاز کر دے گا اور جو شخص صبر کرنا چاہے گا اللہ تعالیٰ اسے صبر عطا کرے گا اور کسی بھی شخص کو ایسی کوئی چیز نہیں دی گئی جو صبر سے زیادہ بہتر اور صبر سے زیادہ کشادہ ہو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الزكاة/حدیث: 3400]

3401

Sahih Ibn Hibban #3401

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا رَبِيعَةُ بْنُ يَزِيدَ الدِّمَشْقِيُّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرٍ الِيَحْصِبِيِّ ، قَالَ : سَمِعْتُ مُعَاوِيَةَ ، يَقُولُ عَلَى مِنْبَرِ دِمِشْقَ : إِيَّاكُمْ وَأَحَادِيثَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلا حَدِيثًا كَانَ فِي عَهْدِ عُمَرَ ، فَإِنَّ عُمَرَ كَانَ يُخِيفُ النَّاسَ فِي اللَّهِ ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : مَنْ يُرِدِ اللَّهُ بِهِ خَيْرًا يُفَقِّهْهُ فِي الدِّينِ " ، وَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " إِنَّمَا أَنَا خَازِنٌ ، فَمَنْ أَعْطَيْتُهُ عَنْ طِيبِ نَفْسٍ يُبَارَكُ لَهُ فِيهِ ، وَمَنْ أَعْطَيْتُهُ عَنْ مَسْأَلَةٍ ، وَعَنْ شَرَهٍ ، كَانَ كَالَّذِي يَأْكُلُ وَلا يَشْبَعُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے دمشق کے منبر پر یہ بات بیان کی کہ خبردار! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث کے بارے میں احتیاط کرو اور اس حدیث کے بارے میں بھی جو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے عہد میں تھی، کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کے بارے میں لوگوں کو خوف دلایا کرتے تھے، وہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”اللہ تعالیٰ جس شخص کے بارے میں بھلائی کا ارادہ کر لے اسے دین کی سمجھ بوجھ عطا کر دیتا ہے“۔ اور میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”میں خزانچی ہوں، میں اپنی رضا مندی کے ساتھ جس شخص کو کوئی چیز دوں گا، تو اس میں اس شخص کے لیے برکت رکھی جائے گی اور جس شخص کو مانگنے کی وجہ سے کچھ دوں گا یا اس کے لالچ کی وجہ سے دوں گا، تو اس کی مثال ایسے شخص کی مانند ہو گی جو کھانے کے باوجود سیر نہیں ہوتا“۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الزكاة/حدیث: 3401]

3402

Sahih Ibn Hibban #3402

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، وَسَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، أَنَّ حَكِيمَ بْنَ حِزَامٍ ، قَالَ : سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَعْطَانِي ، ثُمَّ سَأَلْتُهُ فَأَعْطَانِي ثَلاثَ مَرَّاتٍ ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَا حَكِيمُ ، إِنَّهَذَا الْمَالَ حُلُوَةٌ خَضِرَةٌ ، فَمَنْ أَخَذَهُ بِسَخَاوَةِ نَفْسٍ بُورِكَ لَهُ فِيهِ ، وَمَنْ أَخَذَهُ بِإِشْرَافِ نَفْسٍ لَمْ يُبَارَكْ لَهُ فِيهِ ، وَكَانَ كَالَّذِي يَأْكُلُ وَلا يَشْبَعُ ، وَالِيَدُ الْعُلِيَا أَخِيَرُ مِنَ الِيَدِ السُّفْلَى "، قَالَ حَكِيمٌ : فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ لا أَرْزَأُ أَحَدًا بَعْدَكَ شَيْئًا حَتَّى أُفَارِقَ الدُّنِيَا"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ مانگا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے عطا کر دیا، میں نے پھر مانگا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر عطا کر دیا، ایسا تین مرتبہ ہوا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اے حکیم! یہ مال میٹھا اور سرسبز ہے، جو شخص نفس کی سخاوت کے ہمراہ اسے حاصل کرتا ہے اس کے لیے اس میں برکت رکھی جاتی ہے اور جو شخص نفس کے لالچ کے ہمراہ اسے حاصل کرتا ہے اس کے لیے اس میں برکت نہیں رکھی جاتی اور اس کی مثال ایسے شخص کی مانند ہوتی ہے جو کھانے کے باوجود سیر نہیں ہوتا، اور اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے۔“ سیدنا حکیم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اس ذات کی قسم جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو حق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے! اب میں مرتے دم تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی سے کوئی چیز نہیں مانگوں گا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الزكاة/حدیث: 3402]

3403

Sahih Ibn Hibban #3403

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحِيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، أَنَّ بَكْرَ بْنَ سَوَادَةَ حَدَّثَهُ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ يَزِيدَ الْمَعَافِرِيَّ حَدَّثَهُ ، عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ ذُؤَيْبٍ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ، أَعْطَى ابْنَ السَّعْدِيِّ أَلْفَ دِينَارٍ ، فَأَبَى أَنْ يَقْبَلَهَا ، وَقَالَ : أَنَا عَنْهَا غَنِيٌّ ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ : إِنِّي قَائِلٌ لَكَ مَا قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِذَا سَاقَ اللَّهُ إِلَيْكَ رِزْقًا مِنْ غَيْرِ مَسْأَلَةٍ ، وَلا إِشْرَافِ نَفْسٍ ، فَخُذْهُ ، فَإِنَّ اللَّهَ أَعْطَاكَهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

قبیصہ بن ذویب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ابن سعدی کو دو ہزار دینار دیے، تو انہوں نے اسے لینے سے انکار کر دیا اور بولے: مجھے اس کی ضرورت نہیں ہے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا: میں تمہیں وہی بات بتانے لگا ہوں جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمائی تھی۔ ”جب اللہ تعالیٰ مانگے بغیر، تمہارے لالچ کے بغیر، تمہیں کوئی رزق عطا کرے، تو تم اسے حاصل کر لو کیونکہ اللہ تعالیٰ نے وہ تمہیں عطا کیا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الزكاة/حدیث: 3403]

3404

Sahih Ibn Hibban #3404

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْمُقْرِئُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو الأَسُوَدِ ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الأَشَجِّ ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ عَدِيٍّ الْجُهَنِيِّ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : مَنْ بَلَغَهُ مَعْرُوفٌ عَنْ أَخِيهِ مِنْ غَيْرِ مَسْأَلَةٍ وَلا إِشْرَافِ ، نَفْسٍ ، فَلِيَقْبَلْهُ ، وَلا يَرُدَّهُ ، فَإِنَّمَا هُوَ رِزْقٌ سَاقَهُ اللَّهُ إِلَيْهِ "، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : هَذَا الأَمْرُ الَّذِي أُمِرْنَا بِاسْتِعْمَالِهِ هُوَ أَخْذُ مَا أُعْطِيَ الْمَرْءُ ، وَالشَّيْئَانِ الْمَعْلُومَانِ الَّذِي أُبِيحَ لَهُ ذَلِكَ عِنْدَ عَدَمِهِمَا هُوَ الْمَسْأَلَةُ وَإِشْرَافُ النَّفْسِ ، فَإِنْ وُجِدَ أَحَدُهُمَا فِي الْغَنِيِّ الْمُسْتَقِلِّ بِمَا عِنْدَهُ زُجِرَ عَنْ أَخْذِ مَا أُعْطِيَ دُونَ الْفُقَرَاءِ الْمُضْطَرِّينَ ، وَالتَّارَةُ الَّتِي يُبَاحُ فِيهَا أَخْذُ مَا أُعْطِيَ الْمَرْءُ ، وَإِنْ وُجِدَ فِيهِ الْمَسْأَلَةُ وَإِشْرَافُ النَّفْسِ هِيَ حَالَةُ الاضْطِرَارِ ، وَالاضْطِرَارُ عَلَى ضَرْبَيْنِ : اضْطِرَارٌ بِجِدَةٍ ، وَاضْطِرَارٌ بِعُدْمٍ ، وَالاضْطِرَارُ الَّذِي يَكُونُ بِجِدَةٍ هُوَ أَنْ يَمْلِكَ الْمَرْءُ الشَّيْءَ الْكَثِيرَ مِنْ حُطَامِ هَذِهِ الدُّنِيَا سِوَى الْمَأْكُولِ وَالْمَشْرُوبِ ، وَهُوَ فِي مَوْضِعٍ لا يُبَاعُ فِيهِ الطَّعَامُ وَالشَّرَابُ أَصْلا ، فَهُوَ وَإِنْ كَانَ وَاجِدًا ، حُكْمُهُ حُكْمُ الْمُضْطَرِّ ، لَهُ أَخْذُ مَا أُعْطِيَ ، وَإِنْ كَانَ سَائِلا أَوْ مُشْرِفَ النَّفْسِ إِلَيْهِ ، وَاضْطِرَارُ الْعُدْمِ هُوَ وَاضِحٌ لا يَحْتَاجُ إِلَى الْكَشْفِ عَنْهُ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا خالد بن عدی جہنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جس شخص کو مانگے بغیر اور لالچ کے بغیر اپنے بھائی کی طرف سے کوئی بھلائی ملے، تو وہ اسے قبول کر لے، وہ اسے واپس نہ کرے، کیونکہ یہ وہ رزق ہے جو اللہ تعالیٰ نے اس کی طرف بھیجا ہے۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) یہ حکم جس پر عمل کرنے کا ہمیں حکم دیا گیا ہے، وہ اس چیز کو لے لینا ہے جو آدمی کو دی گئی ہو، اور دو متعین چیزیں ایسی ہیں جن کی عدم موجودگی میں (کسی سے کوئی چیز لینا) آدمی کے لیے مباح ہوتا ہے۔ وہ (دو متعین چیزیں) مانگنا اور لالچ ہیں، تو ایسا خوشحال شخص جو مستقل طور پر (خوشحال ہو) اگر ان دونوں میں سے کوئی ایک چیز اس میں پائی جائے تو اس کے لیے دیے جانے والے مال کو لینا ممنوع ہو جائے گا۔ یہ حکم اضطرار کا شکار فقیر کے لیے نہیں ہے۔ کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ آدمی کے لیے ملنے والی چیز کو لینا مباح ہوتا ہے، اگرچہ اس میں مانگنے اور لالچ کی صورت پائی جا رہی ہو، اور یہ حالت اضطرار میں ہوتی ہے۔ اضطرار کی دو صورتیں ہیں: ایسا اضطرار جو (مال کی) موجودگی میں ہو، اور ایسا اضطرار (جو مال کی) عدم موجودگی میں ہو۔ وہ اضطرار جو (مال کی) موجودگی میں ہوتا ہے، اس کی صورت یہ ہے کہ آدمی اس دنیا کے بہت سے ساز و سامان کا مالک ہو (لیکن وہ سامان) کھانے پینے کی چیزوں کے علاوہ ہو اور آدمی ایسی جگہ موجود ہو جہاں کھانے پینے کی اشیاء سرے سے فروخت ہی نہ ہوتی ہوں، تو آپ اگرچہ اس کے پاس (مال) موجود ہے لیکن اس کا حکم اضطرار کے شکار شخص کا ہو گا، اسے جو کچھ دیا جائے وہ لینا اس کے لیے جائز ہو گا، اگرچہ وہ شخص مانگنے والا ہو یا اس میں لالچ موجود ہو، اور (مال کی) عدم موجودگی کی صورت میں لاحق ہونے والا اضطرار واضح ہے، اس کی وضاحت کی ضرورت نہیں ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الزكاة/حدیث: 3404]

3405

Sahih Ibn Hibban #3405

أخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الأَشَجِّ ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنِ ابْنِ السَّاعِدِيِّ الْمَالِكِيِّ ، قَالَ : اسْتَعْمَلَنِي عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ عَلَى الصَّدَقَةِ ، فَلَمَّا فَرَغْتُ مِنْهَا ، وَأَدَّيْتُهَا إِلَيْهِ ، أَمَرَ لِيَ بِعُمَالَةٍ ، فَقُلْتُ لَهُ : إِنَّمَا عَمِلْتُ لِلَّهِ ، وَأَجْرِي عَلَى اللَّهِ ، قَالَ : خُذْ مَا أُعْطِيتَ ، فَإِنِّي قَدْ قُلْتُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعَمَلِي مِثْلَ قَوْلِكَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِذَا أُعْطِيتَ شَيْئًا مِنْ غَيْرِ أَنْ تَسْأَلَ ، فَكُلْ وَتَصَدَّقْ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابن ساعدی مالکی بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے مجھے زکوٰۃ وصول کرنے کا نگران مقرر کیا، جب میں فارغ ہو کر آیا اور انہیں ادائیگی کر دی، تو انہوں نے مجھے تنخواہ دینے کا حکم دیا۔ میں نے ان سے کہا: میں نے اللہ کی رضا کے لیے یہ کام کیا ہے اور میرا اجر اللہ کے ذمے ہے۔ انہوں نے فرمایا: جو تمہیں دیا جا رہا ہے اسے وصول کر لو، کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں، میں نے بھی یہ کام کر کے وہی بات کہی تھی جو تم نے کہی ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جب تمہارے مانگے بغیر تمہیں کوئی چیز دے دی جائے، تو تم اسے خود بھی استعمال کرو اور صدقہ بھی کرو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الزكاة/حدیث: 3405]

3406

Sahih Ibn Hibban #3406

أَخْبَرَنَا حَامِدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شُعَيْبٍ الْبَلْخِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفِيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ ، وَعُرُوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُمَا سَمِعَا حَكِيمَ بْنَ حِزَامٍ ، يَقُولُ : سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَعْطَانِي ، ثُمَّ سَأَلْتُهُ فَأَعْطَانِي ، ثُمَّ قَالَ : إِنَّهَذَا الْمَالَ حُلُوَةٌ خَضِرَةٌ ، فَمَنْ أَخَذَهُ بِطِيبِ نَفْسٍ ، بُورِكَ لَهُ فِيهِ ، وَمَنْ أَخَذَهُ بِإِشْرَافِ نَفْسٍ لَهُ ، لَمْ يُبَارَكْ لَهُ فِيهِ ، وَكَانَ كَالَّذِي يَأْكُلُ وَلا يَشْبَعُ ، وَالِيَدُ الْعُلِيَا خَيْرٌ مِنَ الِيَدِ السُّفْلَى """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ مانگا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے عطا کر دیا، میں نے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے مانگا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر عطا کر دیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”بے شک یہ مال میٹھا اور سرسبز ہے، جو شخص نفس کی رضا مندی کے ساتھ اسے حاصل کرتا ہے اس کے لیے اس میں برکت رکھی جاتی ہے اور جو شخص نفس کے لالچ کے ساتھ اسے حاصل کرتا ہے، تو اس کے لیے اس میں برکت نہیں رکھی جاتی، اس کی مثال ایسے شخص کی مانند ہوتی ہے جو کھانے کے باوجود سیر نہیں ہوتا اور اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الزكاة/حدیث: 3406]

3407

Sahih Ibn Hibban #3407

سَمِعْتُ أَبَا خَلِيفَةَ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ بَكْرِ بْنِ الرَّبِيعِ بْنِ مُسْلِمٍ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ الرَّبِيعَ بْنَ مُسْلِمٍ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ زِيَادٍ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : لا يَشْكُرُ اللَّهَ مَنْ لا يَشْكُرُ النَّاسَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”وہ شخص درحقیقت اللہ تعالیٰ کا شکر ادا نہیں کرتا جو لوگوں کا شکریہ ادا نہیں کرتا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الزكاة/حدیث: 3407]

3408

Sahih Ibn Hibban #3408

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفِيَانَ ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنِ اسْتَعَاذَكُمْ بِاللَّهِ فَأَعِيذُوهُ ، وَمَنْ سَأَلَكُمْ بِاللَّهِ ، فَأَعْطُوهُ ، وَمَنْ دَعَاكُمْ فَأَجِيبُوهُ ، وَمَنْ صَنَعَ إِلَيْكُمْ مَعْرُوفًا فَكَافِئُوهُ ، فَإِنْ لَمْ تَجِدُوا مَا تُكَافِئُونَهُ ، فَادْعُوا اللَّهَ لَهُ حَتَّى تَرَوَا أَنْ قَدْ كَافَأْتُمُوهُ "، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : قَصَّرَ جَرِيرٌ فِي إِسْنَادِهِ ، لأَنَّهُ لَمْ يَحْفَظْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيَّ فِيهِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جو شخص اللہ کے نام پر تم سے پناہ مانگے اسے پناہ دے دو اور جو شخص اللہ کے نام پر تم سے کچھ مانگے تم اسے کچھ دے دو اور جو شخص تمہاری دعوت کرے، تو اسے قبول کر لو اور جو بھلائی کرے، تو تم اس کا بدلہ دو اور اگر تمہیں اسے بدلہ دینے کے لیے کچھ نہیں ملتا، تو تم اس کے لیے اتنی دعا کرو جس سے تمہیں اندازہ ہو جائے کہ اب تم نے اسے بدلہ دے دیا ہے۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) جریر نے اس کی سند مختصر کر دی ہے کیونکہ انہوں نے اس کی سند میں ابراہیم تیمی کا نام یاد نہیں رکھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الزكاة/حدیث: 3408]

3409

Sahih Ibn Hibban #3409

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَحِيَى بْنِ زُهَيْرٍ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْلِمٍ الطُّوسِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ مَعْنٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ سَأَلَ بِاللَّهِ فَأَعْطُوهُ ، وَمَنِ اسْتَعَاذَ بِاللَّهِ فَأَعِيذُوهُ ، وَمَنْ دَعَاكُمْ فَأَجِيبُوهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”جو شخص اللہ کے نام پر مانگے اسے دے دو، جو شخص اللہ کے نام پر پناہ مانگے اسے پناہ دے دو اور جو شخص تمہاری دعوت کرے تو اسے قبول کرو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الزكاة/حدیث: 3409]