Muslim99Muslim99

Sahih Ibn Hibban · Book 30 · Chapter 2

Book of Guarantee

Hadith 3336–3375

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

3336

Sahih Ibn Hibban #3336

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ مِرْدَاسٍ ، بِالأُبُلَّةِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الْكِنْدِيِّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي حَبِيبَةَ الطَّائِيِّ ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : مَثَلُ الَّذِي يَتَصَدَّقُ عِنْدَ الْمَوْتِ مَثَلُ الَّذِي يُهْدِي بَعْدَمَا يَشْبَعُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جو شخص مرنے کے قریب صدقہ کرتا ہے اس کی مثال اس طرح ہے، جس طرح وہ خود سیر ہونے کے بعد کوئی چیز دیتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الزكاة/حدیث: 3336]

3337

Sahih Ibn Hibban #3337

أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ دَاوُدَ بْنِ وَرْدَانَ الْبَزَّازُ ، بِالْفُسْطَاطِ ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، عَنِ ابْنِ عَجْلانَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ يَوْمًا لأَصْحَابِهِ : تَصَدَّقُوا " ، فَقَالَ رَجُلٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، عِنْدِي دِينَارٌ ، قَالَ : " أَنْفِقْهُ عَلَى نَفْسِكَ " ، قَالَ : إِنَّ عِنْدِي آخَرَ ، قَالَ : " أَنْفِقْهُ عَلَى زَوْجَتِكَ " ، قَالَ : " إِنَّ عِنْدِي آخَرَ ، قَالَ : " أَنْفِقْهُ عَلَى وَلَدِكَ " ، قَالَ : إِنَّ عِنْدِي آخَرَ ، قَالَ : " أَنْفِقْهُ عَلَى خَادِمِكَ " ، قَالَ : إِنَّ عِنْدِي آخَرَ ، قَالَ " أَنْتَ أَبْصَرُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن اپنے اصحاب سے فرمایا: ”تم لوگ صدقہ کرو۔“ ایک صاحب نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میرے پاس ایک دینار ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اس کو اپنے اوپر خرچ کرو۔“ اس نے عرض کی کہ اگر میرے پاس ایک اور ہو؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اسے اپنی بیوی پر خرچ کرو۔“ اس نے عرض کی: اگر میرے پاس ایک اور ہو؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اپنی اولاد پر خرچ کرو۔“ اس نے عرض کی: اگر میرے پاس ایک اور ہو؟ تو فرمایا: ”تم اس کو اپنے خادم پر خرچ کرو۔“ اس نے دریافت کیا: اگر میرے پاس ایک اور ہو؟ تو فرمایا: ”تم زیادہ سمجھ دار ہو۔“ (یعنی تمہیں خود اندازہ ہو گا اسے کسی پر خرچ کرنا چاہیے)۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الزكاة/حدیث: 3337]

3338

Sahih Ibn Hibban #3338

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بُجَيْرٍ الْهَمْدَانِيُّ ، بِالصُّغْدِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ الرَّبِيعِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا وَائِلٍ ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ ، قَالَ : كُنَّا نَتَحَامَلُ عَلَى ظُهُورِنَا ، فَيَجِيءُ الرَّجُلُ بِالشَّيْءِ فَيُتَصَدَّقُ بِهِ ، فَجَاءَ رَجُلٌ بِنِصْفِ صَاعٍ ، وَجَاءَ إِنْسَانٌ بِشَيْءٍ كَثِيرٍ ، فَقَالُوا : إِنَّ اللَّهَ غَنِيٌّ عَنْ صَدَقَةِ هَذَا ، وَقَالُوا : هَذَا مُرَاءٍ ، فَنَزَلَتِ : الَّذِينَ يَلْمِزُونَ الْمُطَّوِّعِينَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ فِي الصَّدَقَاتِ وَالَّذِينَ لا يَجِدُونَ إِلا جُهْدَهُمْ "

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابومسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم لوگ اپنی پشتوں پر بوجھ لادا کرتے تھے (یعنی مزدوری کرتے تھے) اور پھر ہم میں سے کوئی شخص کوئی چیز لاتا اور اسے صدقہ کر دیتا تھا، ایک شخص نصف صاع لے آتا تھا اور ایک شخص اس سے تھوڑی سی زیادہ چیز لے آتا تھا، تو منافقین یہ کہتے تھے: اللہ تعالیٰ اس شخص کے صدقے سے بے نیاز ہے، اور وہ یہ کہتے تھے: یہ دکھاوے کے طور پر ہے، تو اللہ تعالیٰ نے اس بارے میں یہ آیت نازل فرمائی: ﴿الَّذِينَ يَلْمِزُونَ الْمُطَّوِّعِينَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ فِي الصَّدَقَاتِ وَالَّذِينَ لَا يَجِدُونَ إِلَّا جُهْدَهُمْ﴾ [سورة التوبة: 79] ”وہ لوگ جو اہل ایمان سے تعلق رکھنے والے افراد پر ان کے کیے گئے صدقے کے حوالے سے نکتہ چینی کرتے ہیں، (اور) وہ اہل ایمان جنہیں (صدقہ کرنے کے لیے) صرف اپنی محنت کی کمائی ملتی ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الزكاة/حدیث: 3338]

3339

Sahih Ibn Hibban #3339

أَخْبَرَنَا زَيْدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ حِبَّانَ أَبُو جَابِرٍ ، بِالْمَوْصِلِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحِيَى بْنِ فَيَّاضٍ الزِّمَّانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الأَنْصَارِيُّ ، عَنْ عَزْرَةَ بْنِ ثَابِتٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنَّ رَجُلا مِنْ بَنِي عُذْرَةَ أَعْتَقَ مَمْلُوكًا لَهُ عَنْ دُبُرٍ مِنْهُ ، فَبَعَثَ إِلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَبَاعَهُ ، وَدَفَعَ إِلَيْهِ ثَمَنَهُ ، وَقَالَ : ابْدَأْ بِنَفْسِكَ ، فَتَصَدَّقْ عَلَيْهَا ، ثُمَّ عَلَى أَبَوَيْكَ ، ثُمَّ عَلَى قَرَابَتِكَ ، ثُمَّ هَكَذَا ، ثُمَّ هَكَذَا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ بنو عذرہ سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے اپنے غلام کو مدبر کے طور پر آزاد کر دیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بلوایا، اسے فروخت کیا اور اس کی قیمت اس شخص کے سپرد کی اور پھر فرمایا: ”اپنی ذات سے آغاز کرو، اس پر خرچ کرو، پھر اپنے ماں باپ پر خرچ کرو، پھر اپنے قریبی رشتے داروں پر کرو، پھر اس طرح اور اس طرح کرو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الزكاة/حدیث: 3339]

3340

Sahih Ibn Hibban #3340

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ : كَانَ أَبُو طَلْحَةَ أَكْثَرَ أَنْصَارِيٍّ بِالْمَدِينَةِ مَالا ، وَكَانَ أَحَبَّ أَمُوَالِهِ إِلَيْهِ بَيْرَحَاءُ ، وَكَانَتْ مُسْتَقْبِلَةَ الْمَسْجِدِ ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْخُلُهَا ، وَيَشْرَبُ مِنْ مَاءٍ فِيهَا طَيِّبٍ ، قَالَ أَنَسٌ : فَلَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ ، قَامَ أَبُو طَلْحَةَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ اللَّهَ يَقُولُ فِي كِتَابِهِ : لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ ، وَإِنَّ أَحَبَّ أَمُوَالِي إِلَيَّ بَيْرَحَاءُ ، فَإِنَّهَا صَدَقَةٌ لِلَّهِ أَرْجُو بِرَّهَا وَذُخْرَهَا عِنْدَ اللَّهِ ، فَضَعْهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ حَيْثُ شِئْتَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : بَخٍ ، ذَاكَ مَالٌ رَابِحٌ ، بَخٍ ذَاكَ مَالٌ رَابِحٌ ، وَقَدْ سَمِعْتُ مَا قُلْتَ فِيهَا ، وَإِنِّي أَرَى أَنْ تَجْعَلَهَا فِي الأَقْرَبِينَ "، فَقَالَ أَبُو طَلْحَةَ : أَفْعَلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَقَسَمَهَا أَبُو طَلْحَةَ فِي أَقَارِبِهِ وَبَنِي عَمِّهِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ مدینہ منورہ میں سیدنا ابوطلحہ انصاری رضی اللہ عنہ کی زمینیں انصار میں سب سے زیادہ تھیں اور ان کے نزدیک ان کی سب سے پسندیدہ ملکیت ”بیرحاء“ نامی باغ تھا جو مسجد کے بالکل مدمقابل تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس باغ میں تشریف لایا کرتے تھے اور اس کا میٹھا پانی پیا کرتے تھے۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب یہ آیت نازل ہوئی: ﴿لَن تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّىٰ تُنفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ﴾ [سورة آل عمران: 92] ”تم لوگ اس وقت تک نیکی کو نہیں پہنچ سکتے جب تک تم اس چیز کو خرچ نہیں کرتے جسے تم پسند کرتے ہو۔“ تو سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ﴿لَن تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّىٰ تُنفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ﴾ [سورة آل عمران: 92] ”تم لوگ اس وقت تک نیکی کو نہیں پہنچ سکتے جب تک اس چیز کو خرچ نہیں کرتے جسے تم پسند کرتے ہو۔“ میرے نزدیک میرا سب سے پسندیدہ مال ”بیرحاء“ ہے، یہ اللہ کے لیے صدقہ ہے، میں اس کے اجر و ثواب کا اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں امیدوار ہوں۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم جہاں چاہیں اسے خرچ کر دیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: «بَخٍ ذٰلِكَ مَالٌ رَابِحٌ، ذٰلِكَ مَالٌ رَابِحٌ» ”بہت عمدہ! یہ فائدہ بخش مال ہے، بہت عمدہ! یہ فائدہ بخش مال ہے۔ تم نے اس کے بارے میں جو کہا میں نے وہ سن لیا ہے، میں سمجھتا ہوں کہ تم اس کو اپنے رشتے داروں میں بانٹ دو۔“ سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں ایسا ہی کروں گا۔ (سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:) تو سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے اپنے قریبی رشتے داروں اور اپنے چچا زاد بھائیوں میں اسے تقسیم کر دیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الزكاة/حدیث: 3340]

3341

Sahih Ibn Hibban #3341

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو عَمَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ زِيَادِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ جَامِعِ بْنِ شَدَّادٍ ، عَنْ طَارِقٍ الْمُحَارِبِيِّ ، قَالَ : ثُمَّ قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ ، فَإِذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَائِمٌ يَخْطُبُ النَّاسَ ، وَهُوَ يَقُولُ : يَدُ الْمُعْطِي الْعُلِيَا ، وَابْدَأْ بِمَنْ تَعُولُ ، أُمَّكَ وَأَبَاكَ ، وَأُخْتَكَ وَأَخَاكَ ، ثُمَّ أَدْنَاكَ أَدْنَاكَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا طارق محاربی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: پھر میں مدینہ منورہ آیا، وہاں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے لوگوں کو خطبہ دے رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی: ”دینے والا ہاتھ اوپر والا ہے اور تم اپنے زیر کفالت (پر خرچ کرنے) سے آغاز کرو جو تمہاری والدہ، تمہارا باپ، تمہاری بہن، تمہارا بھائی ہے اور پھر درجہ بد درجہ قریبی عزیز ہیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الزكاة/حدیث: 3341]

3342

Sahih Ibn Hibban #3342

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلانَ ، بِأَذَنَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحِيَى الزِّمَّانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الُوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنَّ رَجُلا يُقَالُ لَهُ : أَبُو مَذْكُورٍ ، دَبَّرَ غُلامًا لَهُ ، وَلَمْ يَكُنْ لَهُ مَالٌ غَيْرُهُ ، وَكَانَ يُقَالُ لِلْغُلامِ : يَعْقُوبُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ يَشْتَرِي هَذَا ؟ " فَاشْتَرَاهُ رَجُلٌ مِنْ بَنِي عَدِيِّ بْنِ كَعْبٍ بِثَمَنِ مِائَةِ دِرْهَمٍ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ :" إِذَا كَانَ أَحَدُكُمْ مُحْتَاجًا ، فَلِيَبْدَأْ بِنَفْسِهِ ، فَإِنْ كَانَ لَهُ فَضْلٌ فَبِأَهْلِهِ ، فَإِنْ كَانَ لَهُ فَضْلٌ فَبِأَقْرِبَائِهِ ، فَإِنْ كَانَ لَهُ فَضْلٌ فَهَا هُنَا وَهَاهُنَا وَهَاهُنَا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص کا نام ابومذکور تھا، اس نے اپنے غلام کو مدبر کے طور پر آزاد کر دیا، اس شخص کے پاس اس غلام کے علاوہ کوئی مال نہیں تھا۔ غلام کا نام یعقوب تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”اسے کون خریدے گا؟“ تو بنو عدی سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے آٹھ سو درہم میں اسے خرید لیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جب کوئی شخص غریب ہو، تو اسے اپنی ذات سے آغاز کرنا چاہیے، اگر اس کے پاس اضافی مال ہو، تو اپنی بیوی پر خرچ کرے، اگر اضافی مال ہو، تو اپنے قریبی رشتے داروں پر خرچ کرے، اگر پھر بھی اضافی ہو، تو یہاں اور وہاں خرچ کرے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الزكاة/حدیث: 3342]

3343

Sahih Ibn Hibban #3343

أَخْبَرَنَا ابْنُ سَلْمٍ ، حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ كُرَيْبٍ ، عَنْ مَيْمُونَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ ، أَنَّهَا أَعْتَقَتْ وَلِيدَةً فِي زَمَانِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : لَوْ أَعْطَيْتِهَا أَخُوَالَكِ كَانَ أَعْظَمَ لأَجْرِكِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ میمونہ بنت حارث رضی اللہ عنہا کے بارے میں یہ بات منقول ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں انہوں نے اپنی کنیز کو آزاد کر دیا، انہوں نے اس بات کا تذکرہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اگر تم اسے اپنے ماموں کو دے دیتی، تو یہ تمہارے لیے زیادہ اجر کا باعث ہوتا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الزكاة/حدیث: 3343]

3344

Sahih Ibn Hibban #3344

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ ، عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ ، عَنْ أُمِّ الرَّائِحِ بِنْتِ صُلَيْعٍ ، عَنْ سَلَمَانَ بْنِ عَامِرٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : الصَّدَقَةُ عَلَى الْمِسْكِينِ صَدَقَةٌ ، وَهِيَ عَلَى ذِي الرَّحِمِ اثْنَانِ : صَدَقَةٌ وَصِلَةٌ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا سلمان بن عامر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”غریب کو صدقہ دینا صدقہ ہے اور رشتے دار کو صدقہ دینے میں دو پہلو ہیں: صدقہ کرنا اور صلہ رحمی کرنا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الزكاة/حدیث: 3344]

3345

Sahih Ibn Hibban #3345

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُوسَى بْنِ عَبْدَانَ ، بِعَسْكَرِ مُكْرَمَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ الْبَحْرَانِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَفْضَلُ الصَّدَقَةِ مَا كَانَ عَنْ ظَهْرِ غِنًى ، وَابْدَأْ بِمَنْ تَعُولُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”سب سے افضل صدقہ وہ ہے جو خوشحالی کے عالم میں دیا جائے اور تم ان سے آغاز کرو جو تمہارے زیر کفالت ہیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الزكاة/حدیث: 3345]

3346

Sahih Ibn Hibban #3346

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ مَوْهَبٍ ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ يَحِيَى بْنِ جَعْدَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّهُ قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ،أَيُّ الصَّدَقَةِ أَفْضَلُ ؟ قَالَ : جُهْدُ الْمُقِلِّ ، وَابْدَأْ بِمَنْ تَعُولُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کون سا صدقہ زیادہ فضیلت رکھتا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص کے پاس پیسے تھوڑے ہوں وہ محنت کر کے صدقہ کرے اور تم اپنے زیر کفالت سے آغاز کرو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الزكاة/حدیث: 3346]

3347

Sahih Ibn Hibban #3347

أَخْبَرَنَا حَاجِبُ بْنُ أَرْكِينَ الْفَرْغَانِيُّ ، بِدِمَشْقَ ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، حَدَّثَنَا صَفُوَانُ بْنُ عِيسَى ، عَنِ ابْنِ عَجْلانَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : سَبَقَ دِرْهَمٌ مِائَةَ أَلْفٍ " ، فَقَالَ رَجُلٌ : وَكَيْفَ ذَاكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " رَجُلٌ لَهُ مَالٌ كَثِيرٌ أَخَذَ مِنْ عُرْضِهِ مِائَةَ أَلْفٍ ، فَتَصَدَّقَ بِهَا ، وَرَجُلٌ لَيْسَ لَهُ إِلا دِرْهَمَانِ ، فَأَخَذَ أَحَدَهُمَا ، فَتَصَدَّقَ بِهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”بعض اوقات ایک درہم ایک لاکھ درہموں پر سبقت لے جاتا ہے۔“ ایک صاحب نے دریافت کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! وہ کیسے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک شخص کے پاس بہت زیادہ مال ہوتا ہے وہ اپنے مال میں سے ایک لاکھ درہم لیتا ہے اور انہیں صدقہ کر دیتا ہے اور ایک شخص کے پاس صرف دو درہم ہوتے ہیں وہ ان میں سے ایک لے کر اسے صدقہ کر دیتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الزكاة/حدیث: 3347]

3348

Sahih Ibn Hibban #3348

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ ، قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ،أَيُّ الصَّدَقَةِ أَفْضَلُ ؟ قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : سَقِيُ الْمَاءِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے عرض کی: ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کون سا صدقہ زیادہ فضیلت رکھتا ہے؟“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پانی پلانا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الزكاة/حدیث: 3348]

3349

Sahih Ibn Hibban #3349

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ ، عَنْ أَبِي ظَبِيَانَ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : ثَلاثَةٌ يُحِبُّهُمُ اللَّهُ ، وَثَلاثَةٌ يُبْغِضُهُمُ اللَّهُ ، أَمَّا الَّذِينَ يُحِبُّهُمُ اللَّهُ : فَرَجُلٌ أَتَى قَوْمًا فَسَأَلَهُمْ بِاللَّهِ وَلَمْ يَسْأَلْهُمْ بِقَرَابَةٍ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَهُ ، فَتَخَلَّفَ رَجُلٌ بِأَعْقَابِهِمْ ، فَأَعْطَاهُ سِرًّا لا يَعْلَمُ بِعَطِيَّتِهِ إِلا اللَّهُ وَالَّذِي أَعْطَاهُ ، وَقَوْمٌ سَارُوا لَيْلَتَهُمْ حَتَّى إِذَا كَانَ النَّوْمُ أَحَبَّ إِلَيْهِمْ مِمَّا يَعْدِلُ بِهِ نَزَلُوا ، فَوَضَعُوا رُءُوسَهُمْ ، وَقَامَ يَتَمَلَّقُنِي وَيَتْلُو آيَاتِي ، وَرَجُلٌ كَانَ فِي سَرِيَّةٍ ، فَلَقِيَ الْعَدُوَّ فَهُزِمُوا ، وَأَقْبَلَ بِصَدْرِهِ يَقْتُلُ أَوْ يُفْتَحُ لَهُ ، وَثَلاثَةٌ يُبْغِضُهُمُ اللَّهُ : الشَّيْخُ الزَّانِي ، وَالْفَقِيرُ الْمُخْتَالُ ، وَالْغَنِيُّ الظَّلُومُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”تین لوگوں کو اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے اور تین لوگوں کو ناپسند کرتا ہے؛ جہاں تک ان لوگوں کا تعلق ہے جنہیں اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے، تو ایک وہ شخص ہے جو کچھ لوگوں کے پاس آئے اور ان سے اللہ کے نام پر کچھ مانگے، وہ ان کے ساتھ اپنی رشتے داری کی وجہ سے کچھ نہ مانگے، پھر ایک شخص ان کے پیچھے رہ جائے اور پوشیدہ طور پر اسے کچھ دے دے، اس عطیے کے بارے میں اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور جس نے اسے دیا ہے اس کے علاوہ اور کسی کو علم نہ ہو۔ دوسرے وہ لوگ جو رات بھر سفر کرتے رہے، یہاں تک کہ جب وہ پڑاؤ کریں تو ان کے نزدیک نیند سب سے زیادہ پیاری ہو اور وہ سر رکھ کر سو جائیں، اور ان میں سے ایک شخص کھڑا ہو کر میری (یعنی اللہ تعالیٰ کی) خوشامد کرے اور میری آیات کی تلاوت کرے۔ اور ایک وہ شخص جو کسی مہم پر روانہ ہو، ان کا دشمنوں سے سامنا ہو تو وہ لوگ پسپا ہو جائیں، لیکن وہ شخص آگے بڑھے اور پھر یا قتل ہو جائے یا اسے فتح نصیب ہو۔ جہاں تک ان تین لوگوں کا تعلق ہے جنہیں اللہ تعالیٰ ناپسند کرتا ہے، تو وہ یہ ہیں: ایک بوڑھا زانی، دوسرا غریب متکبر اور تیسرا ظالم خوشحال شخص۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الزكاة/حدیث: 3349]

3350

Sahih Ibn Hibban #3350

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ظَبِيَانَ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : ثَلاثَةٌ يُحِبُّهُمُ اللَّهُ ، وَثَلاثَةٌ يُبْغِضُهُمُ اللَّهُ : يُحِبُّ رَجُلا كَانَ فِي قَوْمٍ ، فَأَتَاهُمْ سَائِلٌ ، فَسَأَلَهُمْ بِوَجْهِ اللَّهِ لا يَسْأَلُهُمْ لَقَرَابَةٍ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَهُ ، فَبَخِلُوا ، فَخَلَفَهُمْ بِأَعْقَابِهِمْ حَيْثُ لا يَرَاهُ إِلا اللَّهُ وَمَنْ أَعْطَاهُ ، وَرَجُلٌ كَانَ فِي كَتِيبَةٍ ، فَانْكَشَفُوا ، فَكَبَّرَ فَقَاتَلَ حَتَّى يَفْتَحَ اللَّهُ عَلَيْهِ ، أَوْ يُقْتَلَ ، وَرَجُلٌ كَانَ فِي قَوْمٍ فَأَدْلَجُوا ، فَطَالَتْ دُلْجَتُهُمْ ، فَنَزَلُوا وَالنَّوْمُ أَحَبُّ إِلَيْهِمْ مِمَّا يَعْدِلُ بِهِ ، فَنَامُوا ، وَقَامَ يَتْلُو آيَاتِي وَيَتَمَلَّقُنِي ، وَيُبْغِضُ الشَّيْخَ الزَّانِي ، وَالْبَخِيلَ الْمُتَكَبِّرَ " ، وَذَكَرَ الثَّالِثَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”تین لوگوں کو اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے اور تین لوگوں کو ناپسند کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ایسے شخص کو پسند کرتا ہے جو کچھ لوگوں میں موجود ہو، کوئی مانگنے والا ان کے پاس آئے اور اللہ کے نام پر ان سے مانگے، وہ ان لوگوں کے ساتھ اپنی کسی رشتہ داری کی وجہ سے ان سے نہ مانگے، تو وہ لوگ کنجوسی کا مظاہرہ کریں (اور اسے کچھ نہ دیں)، ان میں سے ایک شخص انہیں چھوڑ کر پیچھے رہ جائے اور ایسی جگہ (اس سائل سے ملے) جہاں اللہ تعالیٰ کے علاوہ اسے کوئی نہ دیکھ رہا ہو اور وہ شخص اسے کچھ دے دے۔ ایک وہ شخص جو کسی مہم پر ہو اور وہ لوگ بکھر جائیں، تو وہ تکبیر کہتے ہوئے لڑائی میں کود پڑے، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اسے فتح نصیب کر دے یا وہ شہید ہو جائے۔ ایک وہ شخص جو کچھ لوگوں کے ہمراہ رات کے وقت سفر کر رہا ہو، جب رات زیادہ ہو جائے اور وہ لوگ کسی جگہ پڑاؤ کریں اور اس وقت نیند ان کے نزدیک سب سے زیادہ پیاری ہو، وہ لوگ سو جائیں اور وہ شخص کھڑا ہو کر آیات کی تلاوت کرے اور میری بارگاہ میں التجا کرے، اور اللہ تعالیٰ بوڑھے زانی، کنجوس اور متکبر کو پسند نہیں کرتا۔“ راوی نے تیسرے شخص کا بھی ذکر کیا تھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الزكاة/حدیث: 3350]

3351

Sahih Ibn Hibban #3351

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الُوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَيْسَ الْمِسْكِينُ الَّذِي تَرُدُّهُ التَّمْرَةُ وَالتَّمْرَتَانِ ، وَالأَكْلَةُ وَالأَكْلَتَانِ ، وَلَكِنَّ الْمِسْكِينَ الَّذِي لَيْسَ لَهُ مَا يَسْتَغْنِي بِهِ ، وَلا يُعْلَمُ بِحَاجَتِهِ ، فَيُتَصَدَّقُ عَلَيْهِ ، فَذَلِكَ الْمَحْرُومُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”غریب وہ نہیں ہے جو ایک یا دو کھجوریں لے کر یا ایک یا دو لقمے لے کر واپس چلا جائے، غریب وہ شخص ہے جس کے پاس وہ چیز نہ ہو جو اس کی ضروریات کو پورا کرے اور اس کے حاجت مند ہونے کا پتہ بھی نہ چل سکے کہ اسے صدقہ ہی کر دیا جائے، «الْمَحْرُومُ» ﴿وَالْمَحْرُومِ﴾ [سورة الذاريات: 19] سے مراد یہ شخص ہے (جس کا ذکر قرآن میں ہے)۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الزكاة/حدیث: 3351]

3352

Sahih Ibn Hibban #3352

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، بِمَنْبِجَ ، أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : لَيْسَ الْمِسْكِينُ بِهَذَا الطَّوَّافِ الَّذِي يَطُوفُ عَلَى النَّاسِ تَرُدُّهُ اللُّقْمَةُ وَاللُّقْمَتَانِ ، وَالتَّمْرَةُ وَالتَّمْرَتَانِ " ، قَالُوا : فَمَنِ الْمِسْكِينُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " الَّذِي لا يَجِدُ غِنًى يُغْنِيهِ ، وَلا يُفْطَنُ لَهُ فَيُتَصَدَّقُ عَلَيْهِ ، وَلا يَقُومُ فَيَسْأَلُ النَّاسَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”غریب وہ نہیں ہوتا جو لوگوں کے گھر چکر لگاتا ہے، ایک یا دو لقمے لے کر ایک یا دو کھجوریں لے کر واپس چلا جاتا ہے۔“ لوگوں نے دریافت کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! پھر غریب کون ہوتا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ شخص جس کے پاس اپنی ضرورت پوری کرنے کے لیے کوئی چیز نہ ہو اور اس کی حالت کا پتہ بھی نہ چل سکے کہ اسے صدقہ ہی کر دیا جائے اور وہ خود کھڑا ہو کر لوگوں سے مانگتا بھی نہیں ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الزكاة/حدیث: 3352]

3353

Sahih Ibn Hibban #3353

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الأَنْصَارِيُّ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ رَجُلا قَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّأُمِّي افْتُلِتَتْ نَفْسُهَا ، وَأُرَاهَا لَوْ تَكَلَّمَتْ تَصَدَّقَتْ ، أَفَأَتَصَدَّقُ عَنْهَا ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : نَعَمْ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی: میری والدہ کا اچانک انتقال ہو گیا، میرا خیال ہے، اگر انہیں بات کرنے کا موقع ملتا، تو وہ صدقہ کرنے کے لیے کہتیں، کیا میں ان کی طرف سے صدقہ کر دوں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جی ہاں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الزكاة/حدیث: 3353]

3354

Sahih Ibn Hibban #3354

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ شُرَحْبِيلَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ : خَرَجَ سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ مَغَازِيهِ ، وَحَضَرَتْ أُمَّهُ الُوَفَاةُ بِالْمَدِينَةِ ، فَقِيلَ لَهَا : أُوصِي ، فَقَالَتْ : فَبِمَ أُوصِي ، إِنَّمَا الْمَالُ مَالُ سَعْدٍ ، فَتُوُفِّيَتْ قَبْلَ أَنْ يَقْدِمَ سَعْدٌ ، فَلَمَّا قَدِمَ سَعْدٌ ، ذُكِرَ ذَلِكَ لَهُ ، فَقَالَ سَعْدٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ،هَلْ يَنْفَعُهَا أَنْ أَتَصَدَّقُ عَنْهَا ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : نَعَمْ "، فَقَالَ سَعْدٌ : حَائِطُ كَذَا وَكَذَا صَدَقَةٌ عَلَيْهَا ، لِحَائِطٍ سَمَّاهُ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سعید بن عمرو اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ کسی جنگ میں شرکت کے لیے چلے گئے، مدینہ منورہ میں ان کی والدہ کا انتقال ہو گیا، ان سے کہا گیا: آپ کوئی تلقین کیجیے۔ انہوں نے فرمایا: میں کس بات کی وصیت کروں؟ سارا مال تو سعد کا ہے، پھر سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کے واپس آنے سے پہلے ان کا انتقال ہو گیا، جب سیدنا سعد رضی اللہ عنہ تشریف لائے اور ان کے سامنے اس بات کا تذکرہ کیا گیا، تو سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اگر میں ان کی طرف سے صدقہ کروں، تو کیا انہیں فائدہ ہو گا؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جی ہاں۔“ تو سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: فلاں فلاں باغ ان کی طرف سے صدقہ ہے، انہوں نے اس باغ کا نام بھی لیا تھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الزكاة/حدیث: 3354]

3355

Sahih Ibn Hibban #3355

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : بَيْنَمَا رَجُلٌ بِفَلاةٍ مِنَ الأَرْضِ إِذْ رَأَى سَحَابَةً فَسَمِعَ فِيهَا صَوْتًا : اسْقِ حَدِيقَةَ فُلانٍ ، فَجَاءَ ذَلِكَ السَّحَابُ ، فَأَفْرَغَ مَا فِيهِ فِي حُرَّةٍ ، قَالَ : فَانْتَهَيْتُ ، فَإِذَا فِيهَا أَذْنَابُ شِرَاجٍ ، وَإِذَا شَرْجَةٌ مِنْ تِلْكَ الشُّرَجِ قَدِ اسْتَوْعَبَتِ الْمَاءَ فَسَقَتْهُ ، فَانْتَهَيْتُ إِلَى رَجُلٍ قَائِمٍ يَحُولُ الْمَاءَ بِمِسْحَاتِهِ فِي حَدِيقَةٍ ، فَقُلْتُ لَهُ : يَا عَبْدَ اللَّهِ ، مَا اسْمُكَ ؟ فَقَالَ : فُلانٌ ، الاسْمُ الَّذِي سَمِعَ فِيَ السَّحَابَةِ ، قَالَ : كَيْفَ تَسْأَلُنِي يَا عَبْدَ اللَّهِ عَنِ اسْمِي ؟ قَالَ : إِنِّي سَمِعْتُ فِيَ السَّحَابَةِ الَّذِي هَذَا مَاؤُهَا يَقُولُ : اسْقِ حَدِيقَةَ فُلانٍ بِاسْمِكَ ، فَأَخْبِرْنِي مَا تَصْنَعُ فِيهَا ، قَالَ : أَمَا إِذَا قُلْتَ هَذَا ، فَإِنِّي أَنْظُرُ إِلَى مَا خَرَجَ مِنْهَا ، فَأَصَّدَقُ بِثُلُثِهِ ، وَآكُلُ أَنَا وَعِيَالِي ثُلُثَهُ ، وَأُعِيدُ فِيهَا ثُلُثَهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”ایک مرتبہ ایک شخص ایک ویران جگہ پر موجود تھا، اس نے ایک بادل میں آواز سنی (یعنی کسی فرشتے نے بادل کو حکم دیا): «اِسْقِ حَدِيقَةَ فُلَانٍ» ”تم فلاں شخص کے باغ کو سیراب کرو“، پھر وہ بادل وہاں سے ہٹا اور اس نے ایک پتھریلی زمین پر اپنا سارا پانی برسا دیا، وہ شخص کہتا ہے کہ جب میں اس جگہ پہنچا تو وہاں سے کچھ نالیاں نکل رہی تھیں، ان میں سے ایک نالی اس تمام پانی کو سمیٹے ہوئے تھی، میں اس پانی کے پیچھے ہولیا یہاں تک کہ ایک شخص کے پاس پہنچا جو کھڑا ہوا بیلچے کے ذریعے اپنے باغ میں کام کر رہا تھا اور پانی لگا رہا تھا، میں نے اس سے دریافت کیا: اے اللہ کے بندے! تمہارا نام کیا ہے؟ اس نے جواب دیا: فلاں، اور یہ وہی نام تھا جو اس شخص نے بادل میں سنا تھا، اس (باغ والے) شخص نے دریافت کیا: اے اللہ کے بندے! تم مجھ سے میرا نام کیوں پوچھ رہے ہو؟ اس نے بتایا: میں نے بادل میں جس سے یہ پانی آیا ہے، یہ سنا تھا کہ فرشتہ کہہ رہا تھا کہ تم فلاں بندے کے باغ کو سیراب کرو اور اس نے تمہارا نام لیا تھا، تو تم مجھے بتاؤ کہ تم اس باغ میں کیا کرتے ہو؟ اس نے کہا: اب جب کہ تم نے یہ بات پوچھ ہی لی ہے تو میں تمہیں بتا دیتا ہوں کہ اس کی جتنی بھی پیداوار ہوتی ہے، میں اس کے ایک تہائی حصے کو صدقہ کر دیتا ہوں، ایک تہائی حصہ اپنے اوپر اور اپنے اہل و عیال پر خرچ کرتا ہوں اور ایک تہائی حصہ دوبارہ اس (کی اصلاح) پر لگا دیتا ہوں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الزكاة/حدیث: 3355]

3356

Sahih Ibn Hibban #3356

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُحَمَّدٍ الدَّغُولِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُشْكَانَ ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ ، حَدَّثَنَا وَرْقَاءُ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادٍ ، حَدَّثَنَا الأَعْرَجُ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : قَالَ رَجُلٌ : لأَتَصَدَّقَنَّ بِصَدَقَةٍ ، فَخَرَجَ بِصَدَقَتِهِ ، فَوَضَعَهَا فِي يَدِ زَانِيَةٍ ، فَأَصْبَحَ النَّاسُ يَتَحَدَّثُونَ : تُصُدِّقَ اللَّيْلَةَ عَلَى زَانِيَةٍ ، فَقَالَ : اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ عَلَى زَانِيَةٍ ! لأَتَصَدَّقَنَّ بِصَدَقَةٍ ، فَخَرَجَ بِصَدَقَتِهِ ، فَوَضَعَهَا فِي يَدِ سَارِقٍ ، فَأَصْبَحَ النَّاسُ يَتَحَدَّثُونَ : تُصُدِّقَ اللَّيْلَةَ عَلَى سَارِقٍ ، فَقَالَ : اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ عَلَى سَارِقٍ ، لأَتَصَدَّقَنَّ اللَّيْلَةَ بِصَدَقَةٍ ، فَخَرَجَ بِصَدَقَتِهِ ، فَوَضَعَهَا فِي يَدِ غَنِيٍّ ، فَأَصْبَحَ النَّاسُ يَتَحَدَّثُونَ : تُصُدِّقَ اللَّيْلَةَ عَلَى غَنِيٍّ ، فَقَالَ : اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ عَلَى غَنِيٍّ ، فَأُتِيَ ، فَقِيلَ : أَمَّا صَدَقَتُكَ ، فَقَدْ قُبِلَتْ ، أَمَّا الزَّانِيَةُ ، فَلَعَلَّهَا تَسْتَعِفُّ بِهَا عَنْ زِنَاهَا ، وَأَمَّا السَّارِقُ ، فَلَعَلَّهُ يَسْتَعِفُّ عَنْ سَرِقَتِهِ ، وَلَعَلَّ الْغَنِيَّ يَعْتَبِرُ ، فَيُنْفِقُ مِمَّا أَعْطَاهُ اللَّهُ تَعَالَى """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”ایک شخص نے طے کیا کہ میں ضرور صدقہ کروں گا، وہ اپنے صدقے کو لے کر نکلا اور (اندھیرے میں لاعلمی کی وجہ سے) کسی زانیہ عورت کے ہاتھ میں رکھ آیا، اگلے دن لوگ آپس میں بات چیت کر رہے تھے کہ گزشتہ رات ایک زانیہ عورت کو کسی نے صدقہ دیا ہے، تو اس شخص نے کہا: اے اللہ! حمد تیرے لیے مخصوص ہے (اگرچہ میرا صدقہ) زانیہ عورت کو ملا ہے، میں ضرور پھر صدقہ کروں گا؛ پھر وہ شخص اپنے صدقے کو لے کر نکلا اور اس نے (اندھیرے میں لاعلمی کی وجہ سے) کسی چور کے ہاتھ میں اسے رکھ دیا، اگلے روز لوگ بات چیت کر رہے تھے کہ گزشتہ رات کسی چور کو صدقہ دیا گیا ہے، تو وہ شخص بولا: اے اللہ! حمد تیرے لیے مخصوص ہے (اگرچہ میرا صدقہ) ایک چور کے ہاتھ میں چلا گیا ہے، میں آج بھی ضرور صدقہ کروں گا؛ پھر وہ شخص اپنا صدقہ لے کر نکلا اور اس نے اسے ایک خوشحال شخص کے ہاتھ پر رکھ دیا، اگلے دن لوگ بات کر رہے تھے کہ گزشتہ رات ایک خوشحال شخص کو صدقہ دے دیا گیا، تو وہ شخص بولا: اے اللہ! حمد تیرے لیے مخصوص ہے (اگرچہ میرا صدقہ) ایک خوشحال شخص کو ملا ہے؛ پھر اسے (اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں) لایا گیا تو اسے بتایا گیا: جہاں تک تمہارے صدقے کا تعلق ہے، تو وہ قبول ہو گیا ہے؛ زانیہ عورت کو ملنے والا اس لیے قبول ہوا کہ شاید وہ اس کے ملنے کی وجہ سے زنا کرنے سے باز آ جائے، چور والا اس لیے قبول ہوا کہ شاید وہ اس کی وجہ سے چوری سے بچ جائے، اور خوشحال شخص والا اس لیے قبول ہوا کہ وہ اس سے نصیحت حاصل کرے اور اللہ تعالیٰ نے جو اسے عطا کیا ہے وہ اس میں سے کچھ خرچ کرے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الزكاة/حدیث: 3356]

3357

Sahih Ibn Hibban #3357

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْذِرِ بْنِ سَعِيدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ ، أَنَّهَا جَاءَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَتْ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، لَيْسَ لِي شَيْءٌ إِلا مَا أَدْخَلَ عَلَيَّ الزُّبَيْرُ ، فَهَلْ عَلَيَّ مِنْ جُنَاحٍ أَنْ أَرْضَخَ مِمَّا يُدْخِلُ عَلَيَّ ؟ قَالَ : ارْضَخِي مَا اسْتَطَعْتِ ، وَلا تُوعِي فَيُوعِيَ اللَّهُ عَلَيْكِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ اسماء بنت ابوبکر رضی اللہ عنہما بیان کرتی ہیں: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی، انہوں نے عرض کی: اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ! میرے پاس صرف وہی چیز ہوتی ہے، جو سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ مجھے دیتے ہیں، تو وہ مجھے جو دیتے ہیں اگر اس میں سے کچھ خرچ کر لوں، تو کیا مجھ پر کوئی گناہ ہو گا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم سے جہاں تک ہو سکے تم خرچ کرو اور تم (خرچ کرتے ہوئے) بندش کرنے کی کوشش نہ کرنا ورنہ اللہ تعالیٰ بھی تم پر بندش کر دے گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الزكاة/حدیث: 3357]

3358

Sahih Ibn Hibban #3358

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَحِيَى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي الضُّحَى ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : إِذَا تَصَدَّقْتِ الْمَرْأَةُ مِنْ بَيْتِ زَوْجِهَا غَيْرَ مُفْسِدَةٍ ، فَلَهَا أَجْرُهَا ، وَلِزَوْجِهَا أَجْرُ مَا اكْتَسَبَ ، وَلَهَا أَجْرُ مَا نَوَتْ ، وَلِلْخَازِنِ مِثْلُ ذَلِكَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جب کوئی عورت اپنے شوہر کے گھر میں سے، کوئی خرابی پیدا کیے بغیر، صدقہ کرتی ہے تو اس عورت کو اس کا اجر ملتا ہے، اس کے شوہر کو اس کا اجر ملتا ہے، آدمی کو کمانے کا اجر ملتا ہے اور عورت کو اس کی نیت کا اجر ملتا ہے اور خزانچی کی مثال بھی اسی کی مانند ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الزكاة/حدیث: 3358]

3359

Sahih Ibn Hibban #3359

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ حَمَّادٍ سَجَّادَةٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، حَدَّثَنِي بُرَيْدٌ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : الْخَازِنُ الْمُسْلِمُ الأَمِينُ الَّذِي يُنْفِقُ " ، وَرُبَّمَا قَالَ : " يُعْطِي مَا أُمِرَ ، فَيُعْطِيهِ كَامِلا مُوَفَّرًا طَيِّبَةً بِهِ نَفْسُهُ ، فَيَدْفَعُهُ إِلَى الَّذِي أُمِرَ بِهِ ، أَحَدُ الْمُتَصَدِّقِينَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”امانت دار مسلمان خزانچی جو خرچ کرتا ہے (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) جو کچھ وہ عطا کرتا ہے، جس کا اسے حکم دیا گیا ہے اور وہ اسے کامل طور پر پورا اور اپنی رضا مندی کے ساتھ دیتا ہے اور اس شخص کے سپرد کرتا ہے، جسے دینے کا حکم دیا گیا تھا، تو وہ خزانچی بھی صدقہ کرنے والوں میں سے ایک شمار ہوتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الزكاة/حدیث: 3359]

3360

Sahih Ibn Hibban #3360

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ عُمَيْرٍ مَوْلَى آبِي اللَّحْمِ ، قَالَ : كُنْتُ مَمْلُوكًا ، فَكُنْتُ أَتَصَدَّقُ بِلَحْمٍ مِنْ لَحْمِ مَوْلايَ ، فَسَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : تَصَدَّقْ وَالأَجْرُ بَيْنَكُمَا نِصْفَانِ "، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : أُضْمِرَ فِي هَذَا الْخَبَرِ : تَصَدَّقْ بِإِذْنِهِ ، فَذِكْرُ الإِذْنِ فِيهِ مُضْمَرٌ ، وَعُمَيْرٌ مَوْلَى آبِي اللَّحْمِ إِنَّمَا قِيلَ : آبِي اللَّحْمِ ، لأَنَّهُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ حَرَّمَ عَلَى نَفْسِهِ اللَّحْمَ ، وَأَبَى أَنْ يَأْكُلَ ، فَقِيلَ : آبِي اللَّحْمِ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ زَيْدٍ هَذَا : هُوَ مُحَمَّدُ بْنُ زَيْدِ بْنِ الْمُهَاجِرِ بْنِ قُنْفُذٍ الْجُدْعَانِيُّ الْقُرَشِيُّ ، سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ ، وَمُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفِيَانَ ، رَوَى عَنْهُ مَالِكٌ ، وَأَهْلُ الْمَدِينَةِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عمیر رضی اللہ عنہ جو سیدنا آبی لحم رضی اللہ عنہ کے غلام ہیں، وہ بیان کرتے ہیں: میں غلام تھا، میں اپنے آقا کے گوشت میں سے کچھ گوشت صدقہ کر دیا کرتا تھا، میں نے اس بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم صدقہ کرو، اجر تم دونوں کے درمیان برابر برابر تقسیم ہو گا۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں): اس روایت میں یہ بات پوشیدہ ہے کہ انہوں نے اپنے آقا کی اجازت کے تحت صدقہ کیا تھا، تو اجازت کا ذکر اس روایت میں پوشیدہ ہے۔ سیدنا عمیر رضی اللہ عنہ، سیدنا آبی لحم رضی اللہ عنہ کے غلام ہیں، یہ بات بیان کی گئی ہے۔ سیدنا آبی لحم رضی اللہ عنہ کا یہ نام اس لیے تھا کیونکہ انہوں نے زمانہ جاہلیت میں گوشت کھانا اپنے لیے حرام قرار دیا تھا اور گوشت کھانے سے انکار کر دیا تھا، اسی لیے انہیں «آبِي اللَّحْمِ» ”آبی لحم“ کہا جاتا تھا (یعنی گوشت سے انکار کرنے والا شخص)۔ محمد بن زید نامی راوی محمد بن زید بن مہاجر بن قنفر جدعانی قرشی ہیں، انہوں نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اور سیدنا معاویہ بن ابوسفیان رضی اللہ عنہ سے احادیث کا سماع کیا ہے، جبکہ امام مالک اور اہل مدینہ نے ان کے حوالے سے روایات نقل کی ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الزكاة/حدیث: 3360]

3361

Sahih Ibn Hibban #3361

أَخْبَرَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحِيَى السَّاجِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الُوَاحِدِ بْنُ غِيَاثٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُسْلِمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : الِيَدُ الْعُلِيَا خَيْرٌ مِنَ الِيَدِ السُّفْلَى """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الزكاة/حدیث: 3361]

3362

Sahih Ibn Hibban #3362

أَخْبَرَنَا ابْنُ خُزَيْمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بنِ الصّبَّاح ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُبَيْدَةُ بْنُ حُمَيْدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو الزَّعْرَاءِ ، عَنْ أَبِي الأَحُوَصِ ، عَنْ أَبِيهِ مَالِكِ بْنِ نَضْلَة ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : الأَيْدِي ثَلاثَةٌ : فَيَدُ اللَّهِ الْعُلِيَا ، وَيَدُ الْمُعْطِي الَّتِي تَلِيهَا ، وَيَدُ السُّفْلَى السَّائِلَةُ ، فَأَعْطِ الْفَضْلَ ، وَلا تَعْجِزْ عَنْ نَفْسِكِ "، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : فِي هَذَا الْخَبَرِ بَيَانٌ وَاضِحٌ بِأَنَّ الأَخْبَارَ الَّتِي ذَكَرْنَاهَا قَبْلُ فِي كِتَابِنَا هَذَا ، أَنَّ الِيَدَ الْعُلِيَا خَيْرٌ مِنَ الِيَدِ السُّفْلَى ، أَرَادَ بِهِ أَنَّ يَدَ الْمُعْطِي خَيْرٌ مِنْ يَدِ الآخِذِ ، وَإِنْ لَمْ يَسْأَلْ ، وَأَبُو الزَّعْرَاءِ هَذَا : هُوَ الصَّغِيرُ ، وَاسْمُهُ : عَمْرُو بْنُ عَمْرِو بْنِ مَالِكِ بْنِ أَخِي أَبِي الأَحُوَصِ ، وَأَبُو الزَّعْرَاءِ الْكَبِيرُ : اسْمُهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَانِئٍ ، يَرُوِي عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا مالک بن نضلہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”ہاتھ تین طرح کے ہوتے ہیں، اوپر والا ہاتھ اللہ تعالیٰ کا ہے، دینے والا ہاتھ اس کے بعد ہے اور نیچے والا ہاتھ مانگنے والے کا ہے، تو تم اضافی چیز کو دے دیا کرو اور اپنی ذات کے حوالے سے عاجز نہ آؤ۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) اس روایت میں اس بات کا واضح بیان موجود ہے کہ وہ روایات، جنہیں ہم اس سے پہلے اپنی کتاب میں ذکر کر چکے ہیں، اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے، اس سے مراد یہ ہے کہ دینے والے کا ہاتھ لینے والے سے بہتر ہوتا ہے، اگرچہ اس نے مانگا نہ ہو۔ ابوزعراء نامی راوی صغیر ہے، اس کا نام عمرو بن عمرو بن مالک ہے، (مالک کا باپ) ابواحوص کا بھائی ہے، جبکہ ابوزعراء کبیر کا نام عبداللہ بن ہانی ہے، اس نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایات نقل کی ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الزكاة/حدیث: 3362]

3363

Sahih Ibn Hibban #3363

أَخْبَرَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحِيَى بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّاجِيُّ ، بِالْبَصْرَةِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الُوَاحِدِ بْنُ غِيَاثٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ بَهْدَلَةَ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : خَيْرُ الصَّدَقَةِ مَا كَانَ عَنْ ظَهْرِ غِنًى ، وَالِيَدُ الْعُلِيَا خَيْرٌ مِنَ الِيَدِ السُّفْلَى ، وَلِيَبْدَأْ أَحَدُكُمْ بِمَنْ يَعُولُ ، تَقُولُ امْرَأَتُهُ : أَنْفِقْ عَلَيَّ ، وَتَقُولُ أُمُّ وَلَدِهِ : إِلَى مَنْ تَكِلُنِي ؟ وَيَقُولُ لَهُ عَبْدُهُ : أَطْعِمْنِي وَاسْتَعْمِلْنِي "، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الِيَدُ الْعُلِيَا خَيْرٌ مِنَ الِيَدِ السُّفْلَى " عِنْدِي أَنَّ الِيَدَ الْمُتَصَدِّقَةَ أَفْضَلُ مِنَ الِيَدِ السَّائِلَةِ ، لا الآخِذَةِ دُونَ السُّؤَالِ ، إِذْ مُحَالٌ أَنْ تَكُونَ الِيَدُ الَّتِي أُبِيحَ لَهَا اسْتِعْمَالُ فِعْلٍ بِاسْتِعْمَالِهِ أَحْسَنَ مِنْ آخَرَ فُرِضَ عَلَيْهِ إِتِيَانُ شَيْءٍ ، فَأَتَى بِهِ ، أَوْ تَقَرَّبَ إِلَى بَارِئِهِ مُتَنَفِّلا فِيهِ ، وَرُبَّمَا كَانَ الْمُعْطِي فِي إِتِيَانِهِ ذَلِكَ أَقَلَّ تَحْصِيلا فِي الأَسْبَابِ مِنَ الَّذِي أَتَى بِمَا أُبِيحَ لَهُ ، وَرُبَّمَا كَانَ هَذَا الآخِذُ بِمَا أُبِيحَ لَهُ أَفْضَلَ وَأَوْرَعَ مِنَ الَّذِي يُعْطِي ، فَلَمَّا اسْتَحَالَ هَذَا عَلَى الإِطْلاقِ دُونَ التَّحْصِيلِ بِالتَّفْضِيلِ ، صَحَّ أَنَّ مَعْنَاهُ أَنَّ الْمُتَصَدِّقَ أَفْضَلُ مِنَ الَّذِي يَسْأَلُهَا"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”سب سے بہتر صدقہ وہ ہے، جو خوشحالی کے عالم میں دیا جائے (یا جسے دینے کے بعد آدمی خوشحال رہے) اور اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے اور تم میں سے ہر شخص کو اپنے زیرِ کفالت سے آغاز کرنا چاہیے، کیونکہ اس کی بیوی کہے گی تم مجھ پر خرچ کرو، اس کی اولاد کہے گی تم مجھے کس کے حوالے کر رہے ہو، اس کا غلام کہے گا مجھے کھانے کے لیے دو پھر مجھ سے کام لینا۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:): نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ”اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہوتا ہے۔“ میرے نزدیک اس سے مراد یہ ہے: صدقہ دینے والے شخص کا ہاتھ مانگنے والے ہاتھ سے افضل ہوتا ہے۔ اس سے یہ مراد نہیں ہے کہ مانگے بغیر لینے والے سے افضل ہوتا ہے، کیونکہ یہ بات ناممکن ہے کہ وہ ہاتھ جس کے لیے کسی فعل کے کرنے کو مباح قرار دیا گیا ہو، وہ اس مباح فعل پر عمل کرنے کی وجہ سے اس دوسرے شخص سے کم تر ہو جائے جس پر کسی کام کے کرنے کو فرض قرار دیا گیا ہو اور وہ اسے سرانجام دے، یا وہ دوسرا شخص کسی نفلی کام کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں قرب حاصل کرنا چاہیے۔ بعض اوقات دینے والا شخص اپنے دینے میں کم اسباب اختیار کرتا ہے اس شخص کے مقابلے میں جس کے لیے اسے (لینا) مباح قرار دیا گیا ہے، اور بعض اوقات لینے والا شخص جس کے لیے اس کو مباح قرار دیا گیا ہے وہ زیادہ فضیلت رکھتا ہے اور اس شخص سے زیادہ پرہیزگار ہوتا ہے جو دے رہا ہے، تو جب کسی ایک کو افضل قرار دیے بغیر یہ اطلاق ناممکن ہو تو یہ بات ثابت ہو جاتی ہے کہ صدقہ دینے والا شخص اس شخص سے افضل ہے جو اسے مانگتا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الزكاة/حدیث: 3363]

3364

Sahih Ibn Hibban #3364

أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ صُلَيْحٍ الْعَابِدُ ، بِوَاسِطَ ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ ، حَدَّثَنَا فُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : الِيَدُ الْعُلِيَا خَيْرٌ مِنَ الِيَدِ السُّفْلَى ، وَالِيَدُ الْعُلِيَا الْمُنْفِقَةُ ، وَالِيَدُ السُّفْلَى السَّائِلَةُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے، اوپر والا ہاتھ خرچ کرنے والا ہے اور نیچے والا ہاتھ مانگنے والا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الزكاة/حدیث: 3364]

3365

Sahih Ibn Hibban #3365

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ مُكْرَمٍ الْبَزَّارُ ، بِالْبَصْرَةِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : جَاءَهَا سَائِلٌ ، فَأَمَرَتْ لَهُ عَائِشَةُ بِشَيْءٍ ، فَلَمَّا خَرَجَتِ الْخَادِمُ دَعَتْهَا ، فَنَظَرَتْ إِلَيْهِ ، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَا تُخْرِجِينَ شَيْئًا إِلا بِعِلْمِكِ " ، قَالَتْ : إِنِّي لأَعْلَمُ ، فَقَالَ لَهَا : " لا تُحْصِي فَيُحْصِيَ اللَّهُ عَلَيْكِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ایک مرتبہ ایک مانگنے والا ان کے ہاں آیا، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اسے کچھ دینے کی ہدایت کی، جب خادمہ اسے لے کر باہر نکلی، تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اسے بلوایا، پھر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف دیکھا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم اپنے علم کے ساتھ ہی چیز باہر نکالتی ہو (یعنی تم جو بھی خیرات کرتی ہو اسے پہلے دیکھتی ہو پھر کرتی ہو)۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی کہ میں پہلے جانتی ہوں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”تم شمار نہ کرو ورنہ اللہ تعالیٰ بھی گنتی کر کے تمہیں دے گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الزكاة/حدیث: 3365]

3366

Sahih Ibn Hibban #3366

أَخْبَرَنَا ابْنُ الْجُنَيْدِ ، بِبُسْتَ ، حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ : دَخَلَ ابْنُ عُمَرَ عَلَى ابْنِ عَامِرٍ يَعُودُهُ ، فَقَالَ : يَا ابْنَ عُمَرَ ، أَلا تَدْعُوا لِي ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : لا تُقْبَلُ صَلاةٌ إِلا بِطَهُورٍ ، وَلا صَدَقَةٌ مِنْ غُلُولٍ "، وَقَدْ كُنْتُ عَلَى الْبَصْرَةِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

مصعب بن سعد بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما، سیدنا ابن عامر رضی اللہ عنہما کی عیادت کرنے کے لیے تشریف لائے تو انہوں نے فرمایا: اے ابن عمر! کیا آپ میرے لیے دعا نہیں کریں گے؟ تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”اللہ تعالیٰ وضو کے بغیر نماز کو قبول نہیں کرتا اور حرام مال میں سے دیے گئے صدقے کو قبول نہیں کرتا“ اور تم بصرہ کے گورنر رہ چکے ہو (جہاں سے تمہیں آمدن ہوئی تھی)۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الزكاة/حدیث: 3366]

3367

Sahih Ibn Hibban #3367

أَخْبَرَنَا ابْنُ سَلْمٍ ، حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحِيَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ الْحَارِثِ ، يَقُولُ : حَدَّثَنِي دَرَّاجٌ أَبُو السَّمْحِ ، عَنِ ابْنِ حُجَيْرَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ جَمَعَ مَالا حَرَامًا ، ثُمَّ تَصَدَّقَ بِهِ ، لَمْ يَكُنْ لَهُ فِيهِ أَجْرٌ ، وَكَانَ إِصْرُهُ عَلَيْهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”جو شخص حرام طور پر مال جمع کرے اور پھر اسے صدقہ کرے، اسے اس کا کوئی اجر نہیں ملے گا، اس کا وبال اس شخص کے ذمے ہو گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الزكاة/حدیث: 3367]

3368

Sahih Ibn Hibban #3368

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ مَوْهَبٍ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى أُمِّ مُبَشِّرٍ الأَنْصَارِيَّةِ فِي نَخْلٍ لَهَا ، فَقَالَ لَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ غَرَسَ هَذَا النَّخْلَ ؟ أَمُسْلِمٌ أَمْ كَافِرٌ ؟ " ، فَقَالَتْ : بَلْ مُسْلِمٌ ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ :" لا يَغْرِسُ الْمُسْلِمُ غَرْسًا ، وَلا يَزْرَعُ زَرْعًا ، فَيَأْكُلُ مِنْهُ إِنْسَانٌ وَلا دَابَّةٌ وَلا شَيْءٌ إِلا كَانَتْ لَهُ صَدَقَةٌ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ ام مبشر انصاریہ رضی اللہ عنہا کے باغ میں ان کے ہاں تشریف لے گئے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”یہ باغ کس نے لگایا ہے؟ کسی مسلمان نے یا کافر نے؟“ انہوں نے جواب دیا: مسلمان نے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسلمان جو بھی باغ لگاتا ہے یا کھیت لگاتا ہے، تو اس میں سے جو بھی انسان یا جانور یا جو بھی چیز کچھ کھاتے ہیں، تو یہ اس کے لیے صدقہ ہوتی ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الزكاة/حدیث: 3368]

3369

Sahih Ibn Hibban #3369

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُوسَى الْجَوَالِيقِيُّ ، بِعَسْكَرِ مُكْرَمٍ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيِّ بْنِ بَحْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، قَالَ : سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : لا يَغْرِسُ مُسْلِمٌ غَرْسًا فَيَأْكُلَ مِنْهُ سَبْعٌ وطيرٌ وَشَيْءٌ إِلا كَانَ لَهُ فِيهِ أَجْرٌ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”مسلمان جو بھی باغ لگاتا ہے اور اس میں سے کوئی بھی درندہ یا پرندہ جو بھی کوئی چیز کھاتے ہیں، تو اس شخص کو اس کا اجر ملتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الزكاة/حدیث: 3369]

3370

Sahih Ibn Hibban #3370

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي السَّرِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : لَمْ أَتَخَلَّفْ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزُوَةٍ غَزَاهَا ، حَتَّى كَانَتْ غَزُوَةَ تَبُوكَ إِلا بَدْرٍ ، وَلَمْ يُعَاتِبِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَدًا تَخَلَّفَ عَنْ بَدْرٍ ، إِنَّمَا خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُرِيدُ الْعِيرَ ، وَخَرَجَتْ قُرَيْشٌ مُغِيثِينَ لِعِيرِهِمْ ، فَالْتَقَوَا عَلَى غَيْرِ مَوْعِدٍ كَمَا قَالَ اللَّهُ ، وَلَعَمْرِي إِنَّ أَشْرَفَ مَشَاهِدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي النَّاسِ لَبَدْرٌ ، وَمَا أُحِبُّ أَنِّي كُنْتُ شَهِدْتُهَا مَكَانَ بَيْعَتِي لَيْلَةَ الْعَقَبَةِ حِينَ تَوَاثَقْنَا عَلَى الإِسْلامِ ، وَلَمْ أَتَخَلَّفْ بَعْدُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزُوَةٍ غَزَاهَا ، حَتَّى كَانَتْ غَزُوَةُ تَبُوكَ ، وَهِيَ آخِرُ غَزُوَةٍ غَزَاهَا ، آذَنَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّاسَ بِالرَّحِيلِ ، وَأَرَادَ أَنْ يَتَأَهَّبُوا أُهْبَةَ غَزُوِهِمْ ، وَذَلِكَ حِينَ طَابَ الظِّلالُ ، وَطَابَتِ الثِّمَارُ ، وَكَانَ قَلَمَا أَرَادَ غَزُوَةً إِلا وَرَّى غَيْرَهَا ، وَكَانَ يَقُولُ : الْحَرْبُ خُدْعَةٌ " ، فَأَرَادَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزُوَةِ تَبُوكَ أَنْ يَتَأَهَّبَ النَّاسُ أُهْبَتَهُ ، وَأَنَا أَيْسَرُ مَا كُنْتُ ، قَدْ جَمَعْتُ رَاحِلَتَيْنِ لِي ، فَلَمْ أَزَلْ كَذَلِكَ حَتَّى قَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَادِيًا بِالْغَدَاةِ ، وَذَلِكَ يَوْمَ الْخَمِيسِ ، وَكَانَ يُحِبُّ أَنْ يَخْرُجَ يَوْمَ الْخَمِيسِ ، فَأَصْبَحَ غَادِيًا ، فَقُلْتُ : أَنْطَلِقُ إِلَى السُّوقِ ، وَأَشْتَرِي جِهَازِي ، ثُمَّ أَلْحَقُ بِهَا ، فَانْطَلَقْتُ إِلَى السُّوقِ مِنَ الْغَدِ ، فَعَسُرَ عَلَيَّ بَعْضُ شَأْنِي ، فَرَجَعْتُ ، فَقُلْتُ : " أَرْجِعُ غَدًا إِنْ شَاءَ اللَّهُ ، فَأَلْحَقُ بِهِمْ ، فَعَسُرَ عَلَيَّ بَعْضُ شَأْنِي أَيْضًا ، فَلَمْ أَزَلْ كَذَلِكَ حَتَّى لَبَّسَ بِيَ الذَّنْبُ ، وَتَخَلَّفْتُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَجَعَلْتُ أَمْشِي فِي الأَسُوَاقِ وَأَطْرَافِ الْمَدِينَةِ ، فَيُحْزِنُنِي أَنْ لا أَرَى أَحَدًا تَخَلَّفَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلا رَجُلا مَغْمُوصًا عَلَيْهِ فِي النِّفَاقِ ، وَكَانَ لَيْسَ أَحَدٌ تَخَلَّفَ إِلا أَرَى ذَلِكَ سَيَخْفَى لَهُ ، وَكَانَ النَّاسُ كَثِيرًا لا يَجْمَعُهُمْ دِيوَانٌ ، وَكَانَ جَمِيعُ مَنْ تَخَلَّفَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَضْعَةً وَثَمَانِينَ رَجُلا ، وَلَمْ يَذْكُرْنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى بَلَغَ تَبُوكَاً ، فَلَمَّا بَلَغَ تَبُوكَاً ، قَالَ : " مَا فَعَلَ كَعْبُ بْنُ مَالِكٍ ؟ " ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ قَوْمِي : خَلَّفَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ بُرْدَاهُ وَالنَّظَرُ فِي عِطْفَيْهِ ، فَقَالَ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ : بِئْسَ مَا قُلْتَ ، وَاللَّهِ يَا نَبِيَّ اللَّهِ مَا نَعْلَمُ إِلا خَيْرًا ، قَالَ : فَبَيْنَا هُمْ كَذَلِكَ إِذَا رَجُلٌ يَزُولُ بِهِ السَّرَابُ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كُنَّ أَبَا خَيْثَمَةَ " ، فَإِذَا هُوَ أَبُو خَيْثَمَةَ ، فَلَمَّا قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَزُوَةَ تَبُوكَ ، وَقَفَلَ وَدَنَا مِنَ الْمَدِينَةِ ، جَعَلْتُ أَتَذَكَّرُ مَاذَا أَخْرُجُ بِهِ مِنْ سَخَطِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَسْتَعِينُ عَلَى ذَلِكَ بِكُلِّ ذِي رَأِيٍ مِنْ أَهْلِ بَيْتِي ، حَتَّى إِذَا قِيلَ : النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُصَبِّحُكُمْ بِالْغَدَاةِ ، رَاحَ عَنِّي الْبَاطِلُ ، وَعَرَفْتُ أَنِّي لا أَنْجُو إِلا بِالصِّدْقِ ، فَدَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَحًى ، فَصَلَّى فِي الْمَسْجِدِ رَكْعَتَيْنِ ، وَكَانَ إِذَا قَدِمَ مِنْ سَفَرٍ فَعَلَ ذَلِكَ ، دَخَلَ الْمَسْجِدَ ، فَصَلَّى فِيهِ رَكْعَتَيْنِ ، ثُمَّ جَلَسَ ، فَجَعَلَ يَأْتِيهِ مَنْ تَخَلَّفَ ، فَيَحْلِفُونَ لَهُ ، وَيَعْتَذِرُونَ إِلَيْهِ ، فَيَسْتَغْفِرُ لَهُمْ ، وَيَقْبَلُ عَلانِيَتَهُمْ ، وَيَكِلُ سَرَائِرَهُمْ إِلَى اللَّهِ ، فَدَخَلْتُ الْمَسْجِدَ ، فَإِذَا هُوَ جَالِسٌ ، فَلَمَّا رَآنِي تَبَسَّمَ تَبَسُّمَ الْمُغْضَبِ ، فَجِئْتُ ، فَجَلَسْتُ بَيْنَ يَدَيْهِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَلَمْ تَكُنِ ابْتَعْتَ ظَهْرًا ؟ " ، قُلْتُ : بَلَى يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، فَقَالَ : " مَا خَلَّفَكَ عَنِّي ؟ " ، فَقُلْتُ : وَاللَّهِ لَوْ بَيْنَ يَدَيْ أَحَدٍ مِنَ النَّاسِ غَيْرِكَ جَلَسْتُ ، لَخَرَجْتُ مِنْ سَخَطِهِ عَلَيَّ بِعُذْرٍ ، وَلَقَدْ أُوتِيتُ جَدَلا ، وَلَكِنِّي قَدْ عَلِمْتُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ أَنِّي إِنْ حَدَّثْتُكَ الِيَوْمَ بِقَوْلٍ تَجِدُ عَلَيَّ فِيهِ وَهُوَ حَقٌّ ، فَإِنِّي أَرْجُو فِيهِ عُقْبَى اللَّهِ ، وَإِنْ حَدَّثْتُكَ الِيَوْمَ بِحَدِيثٍ تَرْضَى عَنِّي فِيهِ وَهُوَ كَذِبٌ أَوْشَكَ أَنْ يُطْلِعَكَ اللَّهُ عَلَيَّ ، وَاللَّهِ يَا نَبِيَّ اللَّهِ مَا كُنْتُ قَطُّ أَيْسَرَ ، وَلا أَخَفَّ حَاذًا مِنِّي ، حَيْثُ تَخَلَّفْتُ عَلَيْكَ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَمَّا هَذَا ، فَقَدْ صَدَقَكُمُ الْحَدِيثَ ، قُمْ حَتَّى يَقْضِيَ اللَّهُ فِيكَ " ، فَقُمْتُ فَثَارَ عَلَى أَثَرِي نَاسٌ مِنْ قَوْمِي يُؤَنِّبُونَنِي ، فَقَالُوا : وَاللَّهِ مَا نَعْلَمُكَ أَذْنَبْتَ ذَنْبًا قَطُّ قَبْلَ هَذَا ، فَهَلا اعْتَذَرْتَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعُذْرٍ يَرْضَاهُ عَنْكَ فِيهِ ، وَكَانَ اسْتِغْفَارُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَيَأْتِي مِنْ وَرَاءِ ذَلِكَ ، وَلَمْ تَقِفْ مَوْقِفًا لا نَدْرِي مَاذَا يُقْضَى لَكَ فِيهِ ، فَلَمْ يَزَالُوا يُؤَنِّبُونَنِي حَتَّى هَمَمْتُ أَنْ أَرْجِعَ ، فَأُكَذِّبَ نَفْسِي ، فَقُلْتُ : هَلْ قَالَ هَذَا الْقَوْلَ أَحَدٌ غَيْرِي ؟ قَالُوا : نَعَمْ ، قَالَهُ هِلالُ بْنُ أُمَيَّةَ وَمُرَارَةُ بْنُ رَبِيعَةَ ، فَذَكَرُوا رَجُلَيْنِ صَالِحَيْنِ شَهِدَا بَدْرًا ، لِيَ فِيهِمَا أُسُوَةٌ ، فَقُلْتُ : وَاللَّهِ لا أَرْجِعُ إِلَيْهِ فِي هَذَا أَبَدًا ، وَلا أُكَذِّبُ نَفْسِي ، وَنَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ كَلامِنَا أَيُّهَا الثَّلاثَةُ ، فَجَعَلْتُ أَخْرُجُ إِلَى السُّوقِ ، وَلا يُكَلِّمُنِي أَحَدٌ ، وَتَنَكَّرَ لَنَا النَّاسُ ، حَتَّى مَا هُمْ بِالَّذِينَ نَعْرِفُ ، وَتَنَكَّرَ لَنَا الْحِيطَانُ حَتَّى مَا هِيَ بِالْحِيطَانِ الَّتِي نَعْرِفُ ، وَتَنَكَّرَتْ لَنَا الأَرْضُ ، حَتَّى مَا هِيَ بِالأَرْضِ الَّتِي نَعْرِفُ ، وَكُنْتُ أَقُوَى أَصْحَابِي ، فَكُنْتُ أَخْرُجُ فَأَطُوفُ فِي الأَسُوَاقِ ، فَآتِي الْمَسْجِدَ ، وَآتِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأُسَلِّمَ عَلَيْهِ ، وَأَقُولُ : هَلْ حَرَّكَ شَفَتَيْهِ بِالسَّلامِ ، فَإِذَا قُمْتُ أُصَلِّي إِلَى سَارِيَةٍ ، وَأَقْبَلْتُ عَلَى صَلاتِي ، نَظَرَ إِلَيَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمُؤَخِرِ عَيْنَيْهِ ، وَإِذَا نَظَرْتُ إِلَيْهِ ، أَعْرَضَ عَنِّي ، وَاشْتَكَى صَاحِبَايَ ، فَجَعَلا يَبْكِيَانِ اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ ، وَلا يُطْلِعَانِ رُءُوسَهُمَا ، قَالَ : فَبَيْنَا أَنَا أَطُوفُ فِي الأَسُوَاقِ ، إِذَا رَجُلٌ نَصْرَانِيٌّ قَدْ جَاءَ بِطَعَامٍ لَهُ يَبِيعُهُ ، يَقُولُ : مَنْ يَدُلُّ عَلَى كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ، فَطَفِقَ النَّاسُ يُشِيرُونَ لَهُ إِلَيَّ ، فَأَتَانِي وأَتَى بِصَحِيفَةٍ مِنْ مَلِكِ غَسَّانَ ، فَإِذَا فِيهَا : أَمَّا بَعْدُ ، فَإِنَّهُ بَلَغَنِي أَنَّ صَاحِبَكَ قَدْ جَفَاكَ وَأَقْصَاكَ وَلَسْتَ بِدَارِ هَوَانٍ وَلا مَضِيَعَةٍ ، فَالْحَقْ بِنَا نُوَاسِكَ ، فَقُلْتُ : هَذَا أَيْضًا مِنَ الْبَلاءِ ، فَسَجَرْتُ لَهَا التَّنُّورَ ، فَأَحْرَقْتُهَا فِيهِ ، فَلَمَّا مَضَتْ أَرْبَعُونَ لَيْلَةً إِذَا رَسُولٌ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أَتَانِي ، فَقَالَ : اعْتَزَلِ امْرَأَتَكَ ، فَقُلْتُ : أُطَلِّقُهَا ؟ قَالَ : لا ، وَلَكِنْ لا تَقْرَبْهَا ، فَجَاءَتِ امْرَأَةُ هِلالِ بْنِ أُمَيَّةَ ، فَقَالَتْ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، إِنَّ هِلالَ بْنَ أُمَيَّةَ شَيْخٌ ضَعِيفٌ ، فَهَلْ تَأْذَنُ لِي أَنْ أَخْدُمَهُ ، قَالَ : " نَعَمْ ، وَلَكِنْ لا يَقْرَبَنَّكِ " ، قَالَتْ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، مَا بِهِ حَرَكَةٌ لِشَيْءٍ ، مَا زَالَ مُتَّكِئًا يَبْكِي اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ مُذْ كَانَ مِنْ أَمْرِهِ مَا كَانَ ، قَالَ كَعْبٌ : فَلَمَّا طَالَ عَلَيَّ الْبَلاءُ ، اقْتَحَمْتُ عَلَى أَبِي قَتَادَةَ حَائِطَهُ ، وَهُوَ ابْنُ عَمِّي ، فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ ، فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ ، فَقُلْتُ : أَنْشُدُكَ اللَّهَ يَا أَبَا قَتَادَةَ ، أَتَعْلَمُ أَنِّي أُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ ؟ فَسَكَتَ ، فَقُلْتُ : أَنْشُدُكَ اللَّهَ يَا أَبَا قَتَادَةَ ، أَتَعْلَمُ أَنِّي أُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ ؟ فَسَكَتَ ، فَقُلْتُ : أَنْشُدُكَ اللَّهَ يَا أَبَا قَتَادَةَ ، أَتَعْلَمُ أَنِّي أُحَبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ ؟ فَقَالَ : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ ، قَالَ : فَلَمْ أَمْلِكْ نَفْسِي أَنْ بَكَيْتُ ، ثُمَّ اقْتَحَمْتُ الْحَائِطَ خَارِجًا ، حَتَّى إِذَا مَضَتْ خَمْسُونَ لَيْلَةً مِنْ حِينَ نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ كَلامِنَا ، صَلَّيْتُ عَلَى ظَهْرِ بَيْتٍ لَنَا صَلاةَ الْفَجْرِ ، وَأَنَا فِي الْمَنْزِلَةِ الَّتِي قَالَ اللَّهُ ، قَدْ ضَاقَتْ عَلَيْنَا الأَرْضُ بِمَا رَحُبَتْ وَضَاقَتْ عَلَيْنَا أَنْفُسُنَا ، إِذْ سَمِعْتُ نِدَاءً مِنْ ذِرُوَةِ سَلْعٍ أَنْ أَبْشِرْ يَا كَعْبُ بْنَ مَالِكٍ ، فَخَرَرْتُ سَاجِدًا ، وَعَرَفْتُ أَنَّ اللَّهَ قَدْ جَاءَنَا بِالْفَرَجِ ، ثُمَّ جَاءَ رَجُلٌ يَرْكُضُ عَلَى فَرَسٍ يُبَشِّرُنِي ، فَكَانَ الصَّوْتُ أَسْرَعَ مِنْ فَرَسِهِ ، فَأَعْطَيْتُهُ ثَوْبَيَّ بِشَارَةً ، وَلَبِسْتُ ثَوْبَيْنِ آخَرِينَ ، وَكَانَتْ تَوْبَتُنَا نَزَلَتْ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُلُثَ اللَّيْلِ ، فَقَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، أَلا نُبَشِّرُ كَعْبَ بْنَ مَالِكٍ ، فَقَالَ : " إِذًا يَحْطِمُكُمُ النَّاسُ وَيَمْنَعُونَكُمُ النَّوْمَ سَائِرَ اللَّيْلَةِ " ، قَالَ : وَكَانَتْ أُمُّ سَلَمَةَ مُحْسِنَةً فِي شَأْنِي ، تُخْبِرُنِي بِأَمْرِي ، فَانْطَلَقْتُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَإِذَا هُوَ جَالِسٌ فِي الْمَسْجِدِ ، وَحَوْلَهُ الْمُسْلَمُونَ ، وَهُوَ يَسْتَنِيرُ كَاسْتِنَارِ الْقَمَرِ ، وَكَانَ إِذَا سُرَّ بِالأَمْرِ اسْتَنَارَ ، فَجِئْتُ فَجَلَسْتُ بَيْنَ يَدَيْهِ ، فَقَالَ : " يَا كَعْبُ بْنَ مَالِكٍ ، أَبْشِرْ بِخَيْرِ يَوْمٍ أَتَى عَلَيْكَ مُنْذُ وَلَدَتْكَ أُمُّكَ " ، قَالَ : فَقُلْتُ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، أَمِنْ عِنْدِ اللَّهِ أَمْ مِنْ عِنْدِكَ ؟ قَالَ : " بَلْ مِنْ عِنْدِ اللَّهِ " ، ثُمَّ تَلا عَلَيْهِمْ : لَقَدْ تَابَ اللَّهُ عَلَى النَّبِيِّ وَالْمُهَاجِرِينَ وَالأَنْصَارِ ، حَتَّى بَلَغَ هُوَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ ، قَالَ : وَفِينَا نَزَلَتِ اتَّقُوا اللَّهَ وَكُونُوا مَعَ الصَّادِقِينَ ، قَالَ : فَقُلْتُ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، إِنَّ مِنْ تَوْبَتِي أَنِّي لا أُحَدِّثُ إِلا صِدْقًا ، وَأَنْ أَنْخَلِعَ مِنْ مَالِي كُلِّهِ صَدَقَةً إِلَى اللَّهِ ، وَإِلَى رَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : " أَمْسِكْ عَلَيْكَ بَعْضَ مَالِكَ ، فَهُوَ خَيْرٌ لَكَ " ، قَالَ : فَقُلْتُ : فَإِنِّي أُمْسِكُ سَهْمِيَ الَّذِي بِخَيْبَرَ ، قَالَ : فَمَا أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيَّ مِنْ نِعْمَةٍ بَعْدَ الإِسْلامِ أَعْظَمَ فِي نَفْسِي مِنْ صِدْقِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ صَدَقْتُهُ أَنَا وَصَاحِبَايَ ، أَنْ لا نَكُونَ كَذَبْنَا ، فَهَلَكْنَا كَمَا هَلَكُوا ، وَمَا تَعَمَّدْتُ لِكَذْبَةٍ بَعْدُ ، وَإِنِّي لأَرْجُو أَنْ يَحْفَظَنِيَ اللَّهُ فِيمَا بَقِيَقَالَ الزُّهْرِيُّ : فَهَذَا مَا انْتَهَى إِلَيْنَا مِنْ حَدِيثِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبدالرحمن بن کعب اپنے والد کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کا بیان نقل کرتے ہیں کہ میں کبھی بھی کسی غزوہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پیچھے نہیں رہا، یہاں تک کہ غزوہ تبوک کا موقع آ گیا، البتہ میں غزوہ بدر میں شریک نہیں ہوا تھا، لیکن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے کسی شخص پر ناراضگی کا اظہار نہیں کیا تھا جو غزوہ بدر میں شریک نہیں ہوا تھا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دراصل قریش کے قافلے کی تلاش میں نکلے تھے اور قریش اپنے قافلے کی مدد کرنے کے لیے نکلے تھے، پہلے سے طے شدہ صورت حال کے بغیر دونوں لشکروں کا سامنا ہو گیا جس طرح اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے۔ اور مجھے اپنی زندگی کی قسم! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے غزوات میں لوگوں کے نزدیک سب سے زیادہ باعث شرف بدر ہے، لیکن میری یہ خواہش نہیں ہے کہ میں اس میں شریک ہوا ہوتا اس کے بدلے میں کہ مجھے شب عقبہ میں بیعت کرنے کا شرف حاصل ہے، جب ہم نے اسلام پر ثابت قدم رہنے کا عہد کیا تھا؛ اس کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جس بھی غزوہ میں شرکت کی میں پیچھے نہیں رہا، یہاں تک کہ غزوہ تبوک کا موقع آیا، وہ آخری غزوہ ہے جس میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے شرکت کی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو روانگی کی اطلاع دی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ارادہ کیا کہ وہ لوگ جنگ میں حصہ لینے کی پوری طرح تیاری کر لیں۔ یہ اس وقت کی بات ہے جب سائے پاکیزہ ہو گئے تھے اور پھل تیار ہو چکے تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ معمول تھا کہ جب بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کسی جنگ میں حصہ لیتے تھے تو اس کی سمت کا تعین نہیں کرتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ فرماتے تھے: «الْحَرْبُ خُدْعَةٌ» ”جنگ دھوکہ دینے کا نام ہے“، لیکن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ تبوک کے بارے میں یہ چاہتے تھے کہ لوگ اچھی طرح سے تیاری کر لیں، میں اس وقت پہلے سے زیادہ خوشحال تھا، میں نے اپنی دو سواریاں بھی تیار کر لی تھیں، میں اسی حالت میں رہا یہاں تک کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اگلے دن جانے کی تیاری کر لی، یہ جمعرات کے دن کی بات ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو جمعرات کے دن روانہ ہونا پسند تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم صبح کے وقت روانہ ہوئے، میں نے سوچا میں بازار جاتا ہوں اور سامان خریدتا ہوں پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے جا ملوں گا، میں اگلے دن بازار گیا وہاں میرا کوئی کام پورا نہیں ہوا، میں واپس آ گیا، میں نے سوچا میں ان شاء اللہ کل چلا جاؤں گا اور لوگوں سے جا ملوں گا، پھر میرا کوئی کام پھنس گیا، ایسا ہی ہوتا رہا یہاں تک کہ میرے لیے گناہ رکاوٹ بنتا چلا گیا اور میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پیچھے رہ گیا، پھر میں بازار میں چلتا پھرتا تھا اور مدینہ منورہ کے اطراف میں چلتا پھرتا تھا، مجھے اس بات کا بھی افسوس تھا کہ مجھے کوئی ایسا شخص نظر نہیں آتا تھا جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پیچھے رہ گیا ہو، صرف وہی شخص پیچھے رہا تھا جس کے بارے میں یہ خیال تھا کہ وہ منافق ہے، اور وہی شخص پیچھے رہ سکتا تھا جس کے بارے میں میری یہ رائے ہو گی کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مخفی رہ گیا۔ لوگوں کی تعداد بہت زیادہ تھی، آج کی طرح ان کے نام نوٹ نہیں ہوئے تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے رہ جانے والے تمام افراد اسی (80) کے لگ بھگ تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو تبوک پہنچنے تک میرا خیال نہیں آیا، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم تبوک پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”کعب بن مالک کا کیا حال ہے؟“ قوم کے ایک فرد نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اس کی دو چادروں نے اور اس کی خود پسندی نے اسے پیچھے کر دیا ہے۔ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے کہا: تم نے بہت غلط بات کہی ہے، اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ! اللہ کی قسم! ہمیں ان کے بارے میں صرف بھلائی کا علم ہے۔ راوی بیان کرتے ہیں کہ وہ لوگ ابھی اسی حالت میں تھے کہ دور سے سراب کی مانند ایک شخص آتا ہوا نظر آیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کاش کہ تم ابو خثیمہ ہو!“ تو وہ ابو خثیمہ ہی تھے۔ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ تبوک مکمل کر لیا اور واپس تشریف لائے اور مدینہ منورہ کے قریب پہنچے تو میں نے اس بات کے بارے میں سوچنا شروع کیا کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ناراضگی سے کیسے بچ سکتا ہوں، میں نے اپنے خاندان کے ہر سمجھ دار شخص سے اس بارے میں مدد لی، یہاں تک کہ جب یہ پتا چلا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کل صبح تشریف لے آئیں گے تو باطل مجھ سے دور ہو گیا اور مجھے یہ بات معلوم ہو گئی کہ میں صرف سچ بول کر ہی نجات حاصل کر سکتا ہوں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم چاشت کے وقت مدینہ منورہ میں داخل ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد میں دو رکعات ادا کیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب بھی کسی سفر سے تشریف لاتے تھے تو ایسا ہی کیا کرتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں تشریف لاتے تھے وہاں دو رکعات ادا کرتے تھے پھر تشریف فرما ہو جاتے تھے، پیچھے رہ جانے والے لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے قسمیں اٹھانے لگے اور عذر پیش کرنے لگے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے لیے دعائے مغفرت فرماتے، انہوں نے جو چیز ظاہر کی اسے قبول کرتے اور ان کے پوشیدہ معاملے کو اللہ کے سپرد کر دیتے۔ جب میں مسجد میں داخل ہوا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب مجھے دیکھا تو مسکرائے یوں جیسے کوئی شخص ناراضگی کے عالم میں مسکراتا ہے۔ میں آیا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بیٹھ گیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”کیا تم نے سواری نہیں خریدی تھی؟“ میں نے عرض کی: جی ہاں اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”پھر تم پیچھے کیوں رہ گئے؟“ میں نے عرض کی: اللہ کی قسم! اگر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بجائے کسی اور شخص کے سامنے بیٹھا ہوتا تو کوئی عذر پیش کر کے اس کی ناراضگی سے بچ جاتا کیونکہ مجھے بات چیت کرنے کا فن عطا کیا گیا ہے۔ اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ! میں یہ بات جانتا ہوں کہ آج اگر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کوئی ایسی بات کر لیتا ہوں جس کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مجھ پر غصہ آئے لیکن وہ بات سچ ہو، تو مجھے امید ہے کہ اللہ تعالیٰ آخرکار اس کو ٹھیک کرے گا اور اگر میں آج آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایسی بات کرتا ہوں جس کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھ سے راضی ہو جائیں لیکن وہ بات جھوٹ ہو، تو عنقریب میرے بارے میں اللہ تعالیٰ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع دے دے گا۔ اللہ کی قسم! اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ! اب جب میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پیچھے رہ گیا تھا تو میں اس سے پہلے کبھی اتنا خوشحال اور فارغ البال نہیں تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اس شخص نے تم لوگوں کے ساتھ سچی بات بیان کی ہے، تم اٹھ جاؤ جب تک اللہ تعالیٰ تمہارے بارے میں فیصلہ نہیں دے دیتا۔“ میں اٹھ گیا، میری قوم کے کچھ افراد میرے پیچھے آئے وہ مجھے ڈانٹ رہے تھے اور کہہ رہے تھے: اللہ کی قسم! ہمیں پتا ہے کہ اس سے پہلے تم نے کبھی کوئی گناہ نہیں کیا۔ تم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کوئی عذر پیش کر دیتے جس سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تم سے راضی ہو جاتے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بعد تمہارے لیے دعائے مغفرت کر دیتے، تم ایسی جگہ پر کھڑے نہ ہوتے جس کے بارے میں ہمیں اندازہ نہیں ہو پا رہا کہ تمہارے بارے میں کیا فیصلہ ہو گا؟ وہ لوگ مسلسل مجھے ٹوکتے رہے یہاں تک کہ میں نے یہ ارادہ کیا کہ میں واپس جا کر اپنی ہی بات کو جھٹلا دیتا ہوں، میں نے کہا: کیا میرے علاوہ کسی اور نے بھی اس طرح سچی بات کہی ہے؟ لوگوں نے جواب دیا: جی ہاں، سیدنا ہلال بن امیہ اور سیدنا مرارہ بن ربیعہ رضی اللہ عنہما نے بھی یہی بات کہی ہے۔ لوگوں نے دو ایسے افراد کا ذکر کیا تھا جو غزوہ بدر میں شریک ہو چکے تھے، میرے لیے ان دونوں کی پیروی میں نمونہ تھا، میں نے کہا: اللہ کی قسم! میں کبھی بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف اس بارے میں واپس نہیں جاؤں گا اور اپنی بات کو غلط قرار نہیں دوں گا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم تین آدمیوں سے بات چیت کرنے سے لوگوں کو منع کر دیا، میں بازار میں نکلتا تھا لیکن کوئی میرے ساتھ بات نہیں کرتا تھا، لوگ ہمیں پہچاننا چھوڑ گئے یہاں تک کہ ان میں کوئی ایسا شخص نہیں رہا جس کے ساتھ ہم بات چیت کر سکتے۔ باغات ہمارے لیے اجنبی ہو گئے یہاں تک کہ باغات میں کوئی ایسا شخص نہیں تھا جسے ہم جانتے، زمین ہمارے لیے اجنبی ہو گئی یہاں تک کہ زمین ہمیں اجنبی محسوس ہوتی تھی، میں اپنے ساتھیوں سے زیادہ طاقتور تھا میں گھر سے باہر نکلتا تھا، بازار کا چکر لگاتا تھا اور مسجد آ جاتا تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوتا تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کرتا تھا اور پھر دیکھتا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام کا جواب دیتے ہوئے ہونٹوں کو حرکت دی ہے؟ جب میں ستون کی طرف رخ کر کے نماز ادا کر رہا ہوتا تھا اور نماز کی طرف متوجہ ہوتا تھا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی آنکھوں کے گوشوں کے ذریعے میری طرف دیکھ لیتے تھے، جب میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف دیکھتا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھ سے منہ پھیر لیتے تھے، میرے دونوں ساتھی بیمار ہو گئے وہ رات دن روتے رہتے تھے وہ اپنا سر باہر نہیں نکالتے تھے۔ ایک مرتبہ میں بازار گھوم رہا تھا تو ایک عیسائی شخص وہاں کچھ فروخت کرنے کے لیے آیا ہوا تھا اور وہ یہ دریافت کر رہا تھا کہ کعب بن مالک تک مجھے کون پہنچا سکتا ہے؟ تو لوگوں نے میری طرف اشارہ کر دیا وہ غسان کے بادشاہ کا خط لے کر میرے پاس آیا اس میں یہ تحریر تھا: ”امابعد! مجھے یہ پتا چلا ہے کہ تمہارے آقا نے تمہارے ساتھ زیادتی کی ہے اور تمہیں پرے کر دیا ہے، تم بے عزتی کروانے کے لیے اور ضائع کیے جانے کے لیے نہیں ہو، تم ہم سے ملو ہم تمہاری خبر گیری کریں گے۔“ میں نے سوچا کہ یہ ایک اور مصیبت ہے، میں نے تنور جلایا اور خط اس میں جلا دیا، جب چالیس دن گزر گئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے ایک پیغام رساں میرے پاس آیا اور بولا: تم اپنی بیوی سے الگ رہو، میں نے دریافت کیا: کیا میں اسے طلاق دے دوں؟ اس نے جواب دیا: ”جی نہیں، لیکن تم اس کے قریب نہ جانا۔“ سیدنا ہلال بن امیہ رضی اللہ عنہ کی اہلیہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں، انہوں نے عرض کی: اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ! سیدنا ہلال بن امیہ رضی اللہ عنہ بوڑھے اور کمزور شخص ہیں، کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے اس کی اجازت دیں گے کہ میں ان کی خدمت کرتی رہوں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جی ہاں، لیکن وہ تمہارے قریب نہ آنے پائے۔“ اس نے عرض کی: اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ! جب سے ان کا یہ معاملہ ہوا ہے انہوں نے پہلے بھی ایسا نہیں کیا وہ بس بیٹھے دن رات روتے رہتے ہیں۔ سیدنا کعب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب میری آزمائش طویل ہو گئی تو میں سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ کے باغ میں ان سے ملنے گیا وہ میرے چچازاد تھے، میں نے انہیں سلام کیا انہوں نے جواب نہیں دیا، میں نے کہا: اے ابو قتادہ! میں آپ کو اللہ کا واسطہ دے کر دریافت کرتا ہوں کیا آپ یہ بات جانتے ہیں کہ میں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کرتا ہوں؟ وہ خاموش رہے، میں نے کہا: اے ابو قتادہ! میں آپ کو اللہ کا واسطہ دے کر دریافت کرتا ہوں کیا آپ یہ بات جانتے ہیں کہ میں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کرتا ہوں؟ وہ خاموش رہے، میں نے کہا: اے ابو قتادہ! آپ کو اللہ کا واسطہ دے کر دریافت کرتا ہوں کیا آپ یہ بات جانتے ہیں کہ میں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کرتا ہوں؟ تو انہوں نے کہا: «اللهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ» ”اللہ اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم زیادہ بہتر جانتے ہیں۔“ سیدنا کعب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ مجھے اپنے آپ پر قابو نہیں رہا میں رونے لگا اور میں باغ سے باہر آ گیا، یہاں تک کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لوگوں کو ہم سے بات چیت کرنے سے منع کرنے کو پچاس دن گزر گئے تو ایک دن میں اپنے گھر کی چھت پر فجر کی نماز ادا کر رہا تھا اور اس وقت میری یہ حالت تھی جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے کیا ہے کہ ہمارے لیے زمین اپنی تمام تر کشادگی کے باوجود تنگ ہو چکی تھی اور ہماری اپنی جان ہمارے لیے تنگ ہو چکی تھی، اسی دوران میں نے سلع پہاڑ کی چوٹی سے ایک شخص کی پکار سنی: اے کعب بن مالک! تمہیں خوشخبری ہو، میں سجدے میں گر گیا مجھے اندازہ ہو گیا کہ اللہ تعالیٰ نے فراخی عطا کر دی ہے، ایک شخص اپنے گھوڑے کو دوڑاتا ہوا مجھے خوش خبری دینے کے لیے آ رہا تھا لیکن دوسرے شخص کی آواز اس کے گھوڑے سے زیادہ تیزی سے آ گئی تھی، میں نے اس خوشخبری کی وجہ سے اپنے کپڑے اسے دے دیے اور خود دوسرے کپڑے پہن لیے۔ ہماری توبہ کے قبول ہونے کا حکم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایک تہائی رات گزر جانے کے بعد نازل ہوا تھا۔ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے دریافت کیا: اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا ہم کعب بن مالک کو خوشخبری نہ سنا دیں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس صورت میں لوگ تمہارے ہاں ہجوم کر لیں گے اور تمہیں ساری رات سونے نہیں دیں گے۔“ سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے میرے معاملے میں بڑی اچھائی کی تھی اور انہوں نے مجھے میرے معاملے کے بارے میں بتایا تھا۔ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت مسجد میں تشریف فرما تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اردگرد مسلمان بھی موجود تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ مبارک چاند کی طرح چمک رہا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی بات پر خوش ہوتے تھے تو وہ اسی طرح چمکتا تھا، میں آیا اور آ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بیٹھ گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے کعب! تمہیں ایک ایسے دن کے بارے میں خوش خبری ہو جو اس دن کے بعد آنے والے دنوں میں سب سے بہتر ہے جب تمہاری والدہ نے تمہیں جنم دیا تھا۔“ سیدنا کعب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے عرض کی: اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے“، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کے سامنے یہ آیت تلاوت فرمائی: ﴿لَقَد تَّابَ اللَّهُ عَلَى النَّبِيِّ وَالْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنصَارِ...﴾ [سورة التوبة: 117] یعنی ”اللہ تعالیٰ نے مہاجرین اور انصار پر فضل کیا۔“ یہ آیت یہاں تک ہے ﴿إِنَّهُ بِهِمْ رَءُوفٌ رَّحِيمٌ﴾ [سورة التوبة: 117] کہ ”وہ بہت زیادہ توبہ قبول کرنے والا اور رحم کرنے والا ہے۔“ سیدنا کعب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہمارے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی تھی: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَكُونُوا مَعَ الصَّادِقِينَ﴾ [سورة التوبة: 119] یعنی ”تم لوگ اللہ سے ڈرو اور سچوں کے ساتھ ہو جاؤ۔“ سیدنا کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کی: اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ! میری توبہ میں یہ بات بھی شامل ہے کہ میں ہمیشہ سچ بولوں گا اور یہ بات بھی شامل ہے کہ میں اپنا تمام مال اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں صدقہ کرتا ہوں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم اپنے کچھ مال کو اپنے پاس رہنے دو یہ تمہارے لیے زیادہ بہتر ہے۔“ سیدنا کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کی: پھر میں خیبر میں موجود اپنا حصہ اپنے پاس رہنے دیتا ہوں۔ سیدنا کعب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے اسلام کی نعمت عطا کرنے کے بعد کوئی ایسی نعمت عطا نہیں کی جو میرے نزدیک اس سے زیادہ بڑی ہو جو میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سچ بولا تھا، میں نے بھی اور میرے دونوں ساتھیوں نے بھی، کیونکہ اس کے نتیجے میں ہم نے جھوٹ بول کر ہلاکت کا شکار ہو جانا تھا جس طرح دوسرے لوگ ہلاکت کا شکار ہو گئے تھے، اس کے بعد میں نے کبھی بھی جانتے بوجھتے ہوئے جھوٹ نہیں بولا، مجھے یہ امید ہے کہ باقی کی زندگی میں بھی اللہ تعالیٰ مجھے جھوٹ بولنے سے محفوظ رکھے۔ (زہری کہتے ہیں: یہ وہ روایت ہے، جو سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کے واقعہ کے بارے میں ہم تک پہنچی ہے۔) [صحیح ابن حبان/كتاب الزكاة/حدیث: 3370]

3371

Sahih Ibn Hibban #3371

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ الْكَلاعِيُّ ، بِحِمْصَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ عُبَيْدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ ، عَنِ الزُّبَيْدِيِّ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ حُسَيْنِ بْنِ السَّائِبِ بْنِ أَبِي لُبَابَةَ ، أَنَّ جَدَّهُ أَبَا لُبَابَةَ ، حِينَ تَابَ اللَّهُ عَلَيْهِ فِي تَخَلُّفِهِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَفِيمَا كَانَ سَلَفَ قَبْلَ ذَلِكَ فِي أُمُورٍ وَجَدَ عَلَيْهِ فِيهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ،إِنِّي أَهْجُرُ دَارِيَ الَّتِي أَصَبْتُ فِيهَا الذَّنْبَ ، وَأَنْتَقِلُ إِلَيْكَ وَأُسَاكِنُكَ ، وَإِنِّي أَنْخَلِعُ مِنْ مَالِي كُلِّهِ صَدَقَةً إِلَى اللَّهِ وَإِلَى رَسُولِهِ ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يُجْزِئُكَ مِنْ ذَلِكَ الثُّلُثُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حصین بن سعد بیان کرتے ہیں کہ ان کے دادا سیدنا ابولبابہ رضی اللہ عنہ کے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے جانے کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ کو قبول کر لیا، اس سے پہلے بھی ایسے کچھ امور رونما ہو چکے تھے جس کی وجہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان سے ناراض تھے (تو جب ان کی توبہ قبول ہو گئی)، تو انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں اپنے اس علاقے کو چھوڑنا چاہتا ہوں جہاں میں نے گناہ کا ارتکاب کیا تھا اور میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منتقل ہونا چاہتا ہوں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہنا چاہتا ہوں۔ میں اپنے تمام مال کو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں صدقے کے طور پر پیش کرتا ہوں اور اس سے لاتعلق ہوتا ہوں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اس میں سے ایک تہائی (صدقہ کرنا) تمہارے لیے جائز ہے (یا تمہارے لیے کافی ہو گا)۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الزكاة/حدیث: 3371]

3372

Sahih Ibn Hibban #3372

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ مَوْهِبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ بْنِ النُّعْمَانِ الظَّفَرِيِّ ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : إِنِّي لَعِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، إِذْ جَاءَهُ رَجُلٌ بِمِثْلِ الْبَيْضَةِ مِنْ ذَهَبٍ ، قَدْ أَصَابَهَا مِنْ بَعْضِ الْمَغَازِي ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، خُذْ هَذِهِ مِنِّي صَدَقَةً ، فَوَاللَّهِ مَا أَصْبَحَ لِي مَالٌ غَيْرُهَا ، قَالَ : فَأَعْرَضَ عَنْهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَجَاءَهُ مِنْ شِقِّهِ الآخَرَ ، فَقَالَ لَهُ مِثْلَ ذَلِكَ ، فَأَعْرَضَ عَنْهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ جَاءَهُ مِنْ قِبَلِ وَجْهِهِ ، فَأَخَذَهَا مِنْهُ ، فَحَذَفَهُ بِهَا حَذَفَةً لَوْ أَصَابَهُ عَقَرَهُ ، أَوْ أَوْجَعَهُ ، ثُمَّ قَالَ : يَأْتِي أَحَدُكُمْ إِلَى جَمِيعِ مَا يَمْلِكُ فَيَتَصَدَّقُ بِهِ ، ثُمَّ يَقْعُدُ يَتَكَفَّفُ النَّاسَ ! إِنَّمَا الصَّدَقَةُ عَنْ ظَهْرِ غِنًى ، خُذْ عَنَّا مَالَكَ ، لا حَاجَةَ لَنَا بِهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھا، اسی دوران ایک شخص سونے کا انڈہ لے کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا جو کسی جنگ کے دوران اسے ملا تھا، اس نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اسے میری طرف سے صدقے کے طور پر قبول کر لیجئے۔ اللہ کی قسم! میرے پاس اس کے علاوہ اور کوئی مال نہیں ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منہ پھیر لیا، وہ دوسری طرف سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے اسی کی مانند بات کہی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پھر منہ پھیر لیا، پھر وہ سامنے کی طرف سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اس سے لیا اور پھر اسے یوں مارا کہ اگر وہ اسے لگ جاتا تو اسے زخمی کر دیتا یا اسے تکلیف پہنچاتا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم میں سے ایک شخص اپنے تمام مال کی طرف آتا ہے، تاکہ اسے صدقہ کر دے اور پھر خود بیٹھ جاتا ہے، تاکہ لوگوں سے مانگتا پھرے۔ صدقہ وہ ہوتا ہے، جو خوشحالی کے عالم میں کیا جائے، تم اپنا مال ہم سے لے لو ہمیں اس کی ضرورت نہیں ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الزكاة/حدیث: 3372]

3373

Sahih Ibn Hibban #3373

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفِيَانَ ، حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثٌ ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ بُجَيْدٍ ، عَنْ جَدَّتِهِ أُمِّ بُجَيْدٍ ، وَكَانَتْ مِمَّنْ بَايَعَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهَا قَالَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّالْمِسْكِينَ لَيَقُومُ عَلَى بَابِي فَمَا أَجِدُ لَهُ شَيْئًا أُعْطِيهِ إِيَّاهُ ، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنْ لَمْ تَجِدِي لَهُ شَيْئًا تُعْطِينَهُ إِيَّاهُ إِلا ظِلْفًا مُحْرَقًا ، فَادْفَعِيهِ إِلَيْهِ فِي يَدِهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ ام بجید رضی اللہ عنہا جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دستِ اقدس پر اسلام قبول کرنے والی خواتین میں سے ایک ہیں، ان کے بارے میں یہ بات منقول ہے کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! بعض اوقات کوئی غریب میرے دروازے پر کھڑا ہوتا ہے مجھے اسے دینے کے لیے کچھ نہیں ملتا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اگر تمہیں کوئی ایسی چیز نہیں ملتی جسے تم اسے دے سکو صرف جلا ہوا پایہ ملتا ہے، تو تم وہی اس کے ہاتھ میں دے دو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الزكاة/حدیث: 3373]

3374

Sahih Ibn Hibban #3374

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الأَنْصَارِيُّ ، أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنِ ابْنِ بُجَيْدٍ الأَنْصَارِيِّ ثُمَّ الحَارِثيِّ ، عَنْ جَدَّتِهِ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : رُدُّوا السَّائِلَ وَلَوْ بِظِلْفٍ مُحْرَقٍ "، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " رُدُّوا السَّائِلَ " قَصْدُ زَجْرٍ بِلَفْظِ الأَمْرِ ، يُرِيدُ بِهِ : لا تَرُدُّوا السَّائِلَ إِلا بِشَيْءٍ وَلَوْ بِظِلْفٍ مُحْرَقٍ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ ام بجید انصاریہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتی ہیں: ”مانگنے والے کو (کچھ دے کر) لوٹاؤ خواہ جلا ہوا پایہ ہی دو۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں): نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ”تم مانگنے والے کو لوٹاؤ“ اس کے ذریعے آپ کا مقصد یہ ہے: لفظی طور پر حکم دیا گیا ہے لیکن اصل مقصود منع کرنا ہے۔ آپ کی مراد یہ ہے: تم مانگنے والے کو کوئی چیز دے کر واپس لوٹاؤ، خواہ جلا ہوا پایہ ہی دو۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الزكاة/حدیث: 3374]

3375

Sahih Ibn Hibban #3375

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَحِيَى بْنِ زُهَيْرٍ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْلِمٍ الطُّوسِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ مَعْنٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيُّ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ سَأَلَ بِاللَّهِ فَأَعْطُوهُ ، وَمَنِ اسْتَعَاذَ بِاللَّهِ فَأَعِيذُوهُ ، وَمَنْ دَعَاكُمْ فَأَجِيبُوهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”جو شخص اللہ تعالیٰ کے نام پر مانگے اسے کچھ دو، اور جو اللہ کے نام پر پناہ مانگے اسے پناہ دو، اور جو شخص تمہاری دعوت کرے، تو اسے قبول کرو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الزكاة/حدیث: 3375]