Muslim99Muslim99

Sahih Ibn Hibban · Book 30 · Chapter 1

Book of Guarantee

Hadith 3296–3335

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

3296

Sahih Ibn Hibban #3296

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ قَحْطَبَةَ ، بِفَمِ الصُّلْحِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَيَمُرُّ بِالتَّمْرَةِ سَاقِطَةً ، فَلا يَمْنَعُهُ مِنْ أَخْذِهَا إِلا مَخَافَةُ الصَّدَقَةِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بعض اوقات کسی گری ہوئی کھجور کے پاس سے گزرتے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے اس اندیشے کے تحت نہیں اٹھاتے تھے کہ کہیں وہ زکوٰۃ کی نہ ہو۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الزكاة/حدیث: 3296]

3297

Sahih Ibn Hibban #3297

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحِيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ ، أَنَّ جُبَيْرَ بْنَ مُطْعَمٍ أَخْبَرَهُ ، أَنَّهُ جَاءَ هُوَ وَعُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ رَسُولَ اللَّهِ يُكَلَمَانِهِ فِيمَا قَسَمَ مِنْ خُمْسِ خَيْبَرَ لِبَنِي هَاشِمٍ ، وَبَنِي الْمطَّلِبِ ابْنَيْ عَبْدِ مَنَافٍ ، وَقَرَابَتُهُمْ مِثْلُ قَرَابَتِهِمْ ، فَقَالا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَسَمْتَ لإِخُوَانِنَا بَنِي الْمُطَّلِبِ ، وَبَنِي هَاشِمٍ ابْنَيْ عَبْدِ مَنَافٍ ، وَلَمْ تُعْطِنَا شَيْئًا ، فَقَالَ لَهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَمَا إِنَّ هَاشِمًا وَالْمُطَّلِبَ شَيْءٌ وَاحِدٌ " ، قَالَ جُبَيْرُ بْنُ مُطْعَمٍ : وَلَمْ يَقْسِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِبَنِي عَبْدِ شَمْسٍ ، وَلا لِبَنِي نَوْفَلٍ مِنْ ذَلِكَ الْخُمْسِ شَيْئًا ، كَمَا قَسَمَ لِبَنِي هَاشِمٍ وَبَنِي الْمُطَّلِبِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جبیر بن مطعم اور سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، تاکہ خیبر کے خمس کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو ہاشم اور بنو مطلب میں تقسیم کیا تھا (یہ دونوں عبد مناف کی اولاد ہیں) اس کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بات چیت کریں، کیونکہ ان لوگوں کی بھی وہی قرابت تھی جو ان لوگوں کی تھی، ان دونوں نے عرض کی: ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو مطلب اور بنو ہاشم سے تعلق رکھنے والے ہمارے بھائیوں میں (خیبر کا خمس) تقسیم کیا ہے، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں کوئی چیز عطا نہیں کی“، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”کیا ہاشم اور مطلب ایک ہی نہیں ہیں (کیونکہ وہ ایک باپ کی اولاد ہے)“؟ تو سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بنی عبد شمس اور بنو نوفل کو اس خمس میں سے کچھ بھی نہیں دیا جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو ہاشم اور بنو مطلب کو اس میں سے دیا تھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الزكاة/حدیث: 3297]

3298

Sahih Ibn Hibban #3298

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : لَيْسَ الْمِسْكِينُ بِالطَّوَافِ ، مَنْ تَرُدُّهُ الأَكْلَةُ وَالأَكْلَتَانِ ، وَاللُّقْمَةُ وَاللُّقْمَتَانِ ، وَالتَّمْرَةُ وَالتَّمْرَتَانِ ، وَلَكِنَّ الْمِسْكِينَ الَّذِي لا يَجِدُ غِنًى فَيُغْنِيهِ ، وَلا يَسْأَلُ النَّاسَ إِلْحَافًا ، وَيَسْتَحِيِي أَنْ يَسْأَلَ النَّاسَ إِلْحَافًا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”غریب وہ نہیں ہوتا جو کھانے کی ایک یا دو چیزیں لے کر یا ایک دو لقمے لے کر جائے یا ایک یا دو کھجوریں لے کر واپس چلا جائے بلکہ غریب وہ ہوتا ہے، جس کے پاس اپنی ضروریات کی تکمیل کے لیے نہ ہو اور وہ لوگوں سے لپٹ کر مانگتا بھی نہیں ہے وہ اس بات سے شرما جاتا ہے کہ لوگوں سے لپٹ کر مانگے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الزكاة/حدیث: 3298]

3299

Sahih Ibn Hibban #3299

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ فَارِسٍ الدَّلالُ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ ، حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ بْنُ عُثْمَانَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَأَمَرَ بِإِخْرَاجِ زَكَاةِ الْفِطْرِ أَنْ تُؤَدَّى قَبْلَ خُرُوجِ النَّاسِ ، وَأَنَّ عَبْدَ اللَّهِ كَانَ يُؤَدِّيهَا قَبْلَ ذَلِكَ بِيَوْمٍ أَوْ يَوْمَيْنِ "، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : كَانَ ابْنُ عُمَرَ يُعَجِّلُ الزَّكَاةَ قَبْلَ الْفِطْرِ بِيَوْمٍ أَوْ يَوْمَيْنِ ، وَيَسْتَقْبِلُ رَمَضَانَ بِصِيَامِ يَوْمٍ أَوْ يَوْمَيْنِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقہ فطر کی ادائیگی کا حکم دیا ہے کہ ”اسے لوگوں کے (نماز عید کے لیے) نکلنے سے پہلے ادا کر دیا جائے۔“ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما خود بھی (عید کے) ایک یا دو دن پہلے اسے ادا کر دیتے تھے۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:): سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما صدقہ فطر کو عید الفطر سے ایک یا دو دن پہلے ادا کر دیا کرتے تھے اور وہ رمضان شروع ہونے سے ایک یا دو دن پہلے روزے رکھنا شروع کر دیتے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الزكاة/حدیث: 3299]

3300

Sahih Ibn Hibban #3300

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الُوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَأَمَرَ بِصَدَقَةِ الْفِطْرِ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ ، أَوْ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ "، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ : فَجَعَلَ النَّاسُ عِدْلَهُ مُدَّيْنِ مِنْ حِنْطَةٍ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ”کھجور کا ایک صاع یا جو کا ایک صاع صدقہ فطر“ کے طور پر ادا کرنے کا حکم دیا ہے۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: لوگوں نے گندم کے دو مد اس کے برابر قرار دیے ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الزكاة/حدیث: 3300]

3301

Sahih Ibn Hibban #3301

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَفَرَضَ زَكَاةَ الْفِطْرِ مِنْ رَمَضَانَ عَلَى النَّاسِ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ ، أَوْ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ ، عَلَى كُلِّ حُرٍّ وَعَبْدٍ ، ذَكَرٍ وَأُنْثَى مِنَ الْمُسْلِمِينَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ”لوگوں پر کھجور کا ایک صاع یا جو کا ایک صاع صدقہ فطر کے طور پر ادا کرنا لازم قرار دیا ہے، جو ہر آزاد اور غلام، مذکر اور مؤنث مسلمان پر لازم ہے“۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الزكاة/حدیث: 3301]

3302

Sahih Ibn Hibban #3302

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلْمٍانَ بْنِ فَارِسٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ بْنُ عُثْمَانَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَفَرَضَ زَكَاةَ الْفِطْرِ مِنْ رَمَضَانَ عَلَى كُلِّ نَفْسٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ حُرٍّ أَوْ عَبْدٍ ، رَجُلٍ أَوِ امْرَأَةٍ ، صَغِيرٍ أَوْ كَبِيرٍ ، صَاعًا مِنْ تَمْرٍ ، أَوْ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ”ہر مسلمان آزاد یا غلام، مرد یا عورت، نابالغ یا بالغ پر کھجور کا ایک صاع یا جو کا ایک صاع صدقہ فطر کے طور پر ادا کرنا لازم قرار دیا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الزكاة/حدیث: 3302]

3303

Sahih Ibn Hibban #3303

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحِيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ السَّكَنِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَهْضَمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ نَافِعٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : فَرَضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَكَاةَ الْفِطْرِ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ ، أَوْ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ ، عَلَى الْحَرِّ وَالْعَبْدِ ، وَالذَّكَرِ وَالأُنْثَى مِنَ الْمُسْلِمِينَ ، وَأَمَرَ بِهَا أَنْ تُؤَدَّى قَبْلَ خُرُوجِ النَّاسِ إِلَى الصَّلاةِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ”کھجور کا ایک صاع یا جو کا ایک صاع صدقہ فطر کے طور پر ادا کرنا ہر آزاد اور غلام پر، مذکر اور مؤنث مسلمان پر لازم قرار دیا ہے“، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بارے میں یہ حکم دیا کہ ”لوگوں کے نمازِ عید کے لیے نکلنے سے پہلے اسے ادا کر دیا جائے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الزكاة/حدیث: 3303]

3304

Sahih Ibn Hibban #3304

أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ عُمَيْرِ بْنِ يُوسُفَ بْنِ جَوْصَا ، بِدِمَشْقَ ، وَعُمَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بُجَيْرٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالا : حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ عُبَيْدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو حَيُوَةَ شُرَيْحُ بْنُ يَزِيدَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَرْطَأَةُ بْنُ الْمُنْذِرِ ، عَنِ الْمُعَلَّى بْنِ إِسْمَاعِيلَ الْمَدَنِيِّ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَبِزَكَاةِ الْفِطْرِ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ ، أَوْ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ ، عَنْ كُلِّ صَغِيرٍ أَوْ كَبِيرٍ ، حُرٍّ أَوْ عَبْدٍ "، قَالَ ابْنُ عُمَرَ : ثُمَّ إِنَّ النَّاسَ جَعَلُوا عِدْلَ ذَلِكَ مُدَّيْنِ مِنْ قَمْحٍ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ”کھجور کا ایک صاع یا جو کا ایک صاع ہر چھوٹے یا بڑے، آزاد یا غلام مسلمان کی طرف سے صدقہ فطر کے طور پر ادا کرنے“ کا حکم دیا ہے۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: اس کے بعد لوگوں نے گندم کے دو مد اس کے برابر قرار دے دیے ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الزكاة/حدیث: 3304]

3305

Sahih Ibn Hibban #3305

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفِيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : كُنَّا نُخْرِجُ فِي صَدَقَةِ الْفِطْرِ إِذْ كَانَ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَاعًا مِنْ طَعَامٍ ، أَوْ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ ، أَوْ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ ، أَوْ صَاعًا مِنْ أَقِطٍ " ، وَلَمْ نَزَلْ كَذَلِكَ حَتَّى قَدِمَ عَلَيْنَا مُعَاوِيَةُ مِنَ الشَّامِ إِلَى الْمَدِينَةِ قَدْمَةً ، فَكَانَ فِيمَا كَلَّمَ بِهِ النَّاسَ : مَا أَرَى مُدَّيْنِ مِنْ سَمْرَاءِ الشَّامِ إِلا تَعْدِلُ صَاعًا مِنْ هَذِهِِ ، فَأَخَذَ النَّاسُ بِذَلِكَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان موجود تھے، تو ہم صدقہ فطر میں اناج کا ایک صاع یا کھجور کا ایک صاع یا جو کا ایک صاع یا پنیر کا ایک صاع دیا کرتے تھے، یہ معاملہ اسی طرح چلتا رہا، یہاں تک کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ (اپنے عہد حکومت میں) شام سے مدینہ منورہ آئے، انہوں نے اس بارے میں لوگوں سے بات چیت کرتے ہوئے یہ کہا: ”میں یہ سمجھتا ہوں کہ شام کی گندم کے دو مد اس صاع کے برابر ہوتے ہیں“، تو لوگوں نے اس بات کو اختیار کر لیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الزكاة/حدیث: 3305]

3306

Sahih Ibn Hibban #3306

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، فِيمَا انْتَخَبْتُ عَلَيْهِ مِنْ كِتَابِ الْكَبِيرِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَرْحٍ ، قَالَ : قَالَ أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ : وَذَكَرُوا عِنْدَهُصَدَقَةَ رَمَضَانَ ، فَقَالَ : لا أُخْرِجُ إِلا مَا كُنْتُ أُخْرِجُ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، صَاعَ تَمْرٍ ، أَوْ صَاعَ حِنْطَةٍ ، أَوْ صَاعَ شَعِيرٍ ، أَوْ صَاعَ أَقِطٍ " ، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ : أَوْ مُدَّيْنِ مِنْ قَمْحٍ ؟ فَقَالَ : " لا ، تِلْكَ قِيمَةُ مُعَاوِيَةَ ، لا أَقْبَلُهَا وَلا أَعْمَلُ بِهَا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے کہ لوگوں نے ان کے سامنے صدقہ فطر کا ذکر کیا، تو انہوں نے فرمایا: میں تو صدقہ فطر اسی طرح نکالوں گا جس طرح میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں نکالتا تھا یعنی کھجور کا ایک صاع یا گندم کا ایک صاع یا جو کا ایک صاع یا پنیر کا ایک صاع۔ حاضرین میں سے ایک صاحب نے ان سے کہا: یا پھر گندم کے دو مد؟ تو انہوں نے فرمایا: جی نہیں، یہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی مقرر کردہ قیمت ہے، میں اسے قبول نہیں کروں گا اور اس پر عمل بھی نہیں کروں گا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الزكاة/حدیث: 3306]

3307

Sahih Ibn Hibban #3307

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْمُقَدَّمِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحِيَى الْقَطَّانُ ، عَنِ ابْنِ عَجْلانَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عِيَاضٌ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : لا أُخْرِجُ أَبَدًا إِلا صَاعًا ، إِنَّاكُنَّا نُخْرِجُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَاعَ تَمْرٍ ، أَوْ صَاعَ شَعِيرٍ ، أَوْ صَاعَ زَبِيبٍ ، أَوْ صَاعَ أَقِطٍ ، يَعْنِي فِي صَدَقَةِ الْفِطْرِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں ہمیشہ صاع کی شکل میں ادائیگی کروں گا، جس طرح ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں کیا کرتے تھے، جو کھجور کا ایک صاع ہوتا تھا، جو کا ایک صاع ہوتا تھا یا کشمش کا ایک صاع ہوتا تھا یا پنیر کا ایک صاع ہوتا تھا، ان کی مراد یہ تھی کہ صدقہ فطر کے طور پر اسے ادا کرتے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الزكاة/حدیث: 3307]

3308

Sahih Ibn Hibban #3308

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، حَدَّثَنَا أَبُو الُوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَوْنِ بْنِ أَبِي جُحَيْفَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ الْمُنْذِرَ بْنَ جَرِيرٍ ، يُحَدِّثُ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ صَدْرِ النَّهَارِ ، فَجَاءَ قَوْمٌ حُفَاةٌ عُرَاةٌ مُجْتَابِي النِّمَارِ عَلَيْهِمْ سُيُوفٌ ، عَامَّتُهُمْ مِنْ مُضَرَ ، بَلْ كُلُّهُمْ مِنْ مُضَرَ ، فَرَأَيْتُ وَجْهَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَغَيَّرَ لِمَا رَأَى مِنْهُمْ مِنَ الْفَاقَةِ ، قَالَ : فَدَخَلَ ، فَأَمَرَ بِلالا ، فَأَذَّنَ ، ثُمَّ أَقَامَ ، فَخَرَجَ ، فَصَلَّى ، ثُمَّ قَالَ : يَأَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُمْ مِنْ نَفْسٍ وَاحِدَةٍ وَخَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَبَثَّ مِنْهُمَا رِجَالا كَثِيرًا وَنِسَاءً وَاتَّقُوا اللَّهَ الَّذِي تَسَاءَلُونَ بِهِ وَالأَرْحَامَ إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلَيْكُمْ رَقِيبًا ، اتَّقُوا اللَّهَ وَلْتَنْظُرْ نَفْسٌ مَا قَدَّمَتْ لِغَدٍ ، يَتَصَدَّقُ امْرُؤٌ مِنْ دِينَارِهِ ، وَمِنْ دِرْهَمِهِ ، وَمِنْ ثَوْبِهِ ، وَمِنْ صَاعِ بُرِّهِ ، وَمِنْ صَاعِ شَعِيرِهِ " ، حَتَّى ذَكَرَ شِقَّ تَمْرَةٍ ، فَجَاءَ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ بِصُرَّةٍ كَادَتْ تَعْجِزُ كَفَاهُ ، بَلْ قَدْ عَجَزَتْ ، ثُمَّ تَتَابَعَ النَّاسُ حَتَّى رَأَيْتُ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَوْمَيْنِ مِنَ الثِّيَابِ وَالطَّعَامِ ، فَلَقَدْ رَأَيْتُ وَجْهَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَهَلَّلَ حَتَّى كَأَنَّهُ مُذْهَبَةٌ ، ثُمَّ قَالَ :" مَنْ سَنَّ فِي الإِسْلامِ سُنَّةً حَسَنَةً ، فَعَمِلَ بِهَا مَنْ بَعْدَهُ ، كَانَ لَهُ أَجْرُهَا وَأَجْرُ مَنْ يَعْمَلُ بِهَا مِنْ بَعْدِهِ ، وَمَنْ سَنَّ سَنَّةً سَيِّئَةً ، فَعَمِلَ بِهَا مَنْ بَعْدَهُ ، كَانَ عَلَيْهِ وِزْرُهَا ، وَوِزْرُ مَنْ عَمِلَ بِهَا مِنْ بَعْدِهِ "، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : هَذَا الْخَبَرُ دَالٌ عَلَى أَنَّ قَوْلَ اللَّهِ جَلَّ وَعَلا : لا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى أَرَادَ بِهِ بَعْضَ الأَوْزَارِ لا الْكَلَّ ، إِذْ أَخْبَرَ الْمُبَيِّنُ عَنْ مُرَادِ اللَّهِ جَلَّ وَعَلا فِي كِتَابِهِ أَنَّ مَنْ سَنَّ فِي الإِسْلامِ سُنَّةً سَيِّئَةً ، فَعَمِلَ بِهَا مَنْ بَعْدَهُ ، كَانَ عَلَيْهِ وِزْرُهَا وَوِزْرُ مَنْ عَمِلَ بِهَا مِنْ بَعْدِهِ ، فَكَأَنَّ اللَّهَ جَلَّ وَعَلا قَالَ : لا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى إِلا مَا أَخْبَرَكُمْ رَسُولِي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهَا تَزِرُ ، وَالْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَقُلْ ذَلِكَ ، وَلا خَصَّ عُمُومَ الْخِطَابِ بِهَذَا الْقَوْلِ إِلا مِنَ اللَّهِ ، شَهِدَ اللَّهُ لَهُ بِذَلِكَ ، حَيْثُ قَالَ : وَمَا يَنْطِقُ عَنِ الْهَوَى إِنْ هُوَ إِلا وَحْيٌ يُوحَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَنَظِيرُ هَذَا قَوْلُهُ جَلَّ وَعَلا : وَاعْلَمُوا أَنَّمَا غَنِمْتُمْ مِنْ شَيْءٍ فَأَنَّ لِلَّهِ خُمُسَهُ ، فَهَذَا خَطَّابٌ عَلَى الْعُمُومِ ، كَقَوْلِهِ تَعَالَى : لا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى ، ثُمَّ قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ قَتَلَ قَتِيلا فَلَهُ سَلَبُهُ " ، فَأَخْبَرَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ السَّلَبَ لا يُخَمَّسُ ، وَأَنَّ الْقَلِيلَ يَكُونُ مُنْفَرِدًا بِهِ ، فَهَذَا تَخْصِيصُ بَيَانٍ لِذَلِكَ الْعُمُومِ الْمُطَلَقِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

منذر بن جریر اپنے والد (سیدنا جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ) کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ وہ لوگ دن چڑھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھے، کچھ لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے جن کے جسم پر نامناسب لباس تھا اور پاؤں میں جوتے نہیں تھے، انہوں نے کھالیں اوڑھی ہوئی تھیں اور تلواریں لٹکائی ہوئی تھیں، ان میں سے زیادہ تر لوگوں کا تعلق مُضَر قبیلے سے تھا بلکہ ان سب کا تعلق مُضَر قبیلے سے تھا، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا فقر و فاقہ ملاحظہ فرمایا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پریشانی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ اقدس پر مجھے نظر آئی۔ راوی کہتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم گھر میں تشریف لے گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا، انہوں نے اذان دی پھر انہوں نے اقامت کہی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھائی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”(ارشادِ باری تعالیٰ ہے:) ﴿يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُمْ مِنْ نَفْسٍ وَاحِدَةٍ وَخَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَبَثَّ مِنْهُمَا رِجَالًا كَثِيرًا وَنِسَاءً وَاتَّقُوا اللَّهَ الَّذِي تَسَاءَلُونَ بِهِ وَالْأَرْحَامَ إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلَيْكُمْ رَقِيبًا﴾ [سورة النساء: 1] ”اے لوگو! اپنے اس پروردگار سے ڈرو جس نے تمہیں ایک ہی جان سے پیدا کیا ہے اور اس سے اس کے جوڑے کو پیدا کیا اور پھر ان دونوں سے بہت زیادہ مردوں اور عورتوں کو پھیلا دیا، اس اللہ سے ڈرو جس کے وسیلے سے تم ایک دوسرے سے مانگتے ہو اور رشتہ داری کا خیال رکھو، بے شک اللہ تعالیٰ تمہارا نگران ہے“۔“ (ایک اور مقام پر ارشادِ باری تعالیٰ ہے:) ” ﴿اتَّقُوا اللَّهَ وَلْتَنْظُرْ نَفْسٌ مَا قَدَّمَتْ لِغَدٍ﴾ [سورة الحشر: 18] ”اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور ہر شخص اس بات کا جائزہ لے کہ اس نے آگے کے لیے کیا بھیجا ہے“۔“ (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے:) ”آدمی اپنے دینار میں سے، اپنے درہم میں سے، اپنے کپڑے میں سے، گندم کا ایک صاع، جو کا ایک صاع صدقہ کرے“، یہاں تک کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نصف کھجور کا تذکرہ کیا۔ (راوی بیان کرتے ہیں:) انصار سے تعلق رکھنے والا ایک شخص ایک تھیلی لے کر آیا جسے وہ بمشکل اٹھا رہا تھا بلکہ وہ اس سے اٹھائی نہیں جا رہی تھی، پھر لوگ یکے بعد دیگرے چیزیں لانے لگے، یہاں تک کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کپڑوں اور اناج کے دو ڈھیر دیکھے، تو میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک کو دیکھا کہ وہ سونے کی طرح دمک رہا تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جو شخص اسلام میں کسی اچھے طریقے کا آغاز کرے اور اس کے بعد اس پر عمل کیا جائے، تو اس شخص کو اس اچھے کام کا بھی اجر ملے گا اور اس کے بعد جو لوگ اس پر عمل کریں گے ان کا سا بھی اجر ملے گا، اور جو شخص کسی برے طریقے کا آغاز کرے اور اس کے بعد اس برے طریقے پر عمل کیا جائے، تو اسے اپنے برے عمل کا بھی گناہ ہوگا اور اس کے بعد جو لوگ اس برائی پر عمل کریں گے ان کا بھی اسے گناہ ہوگا“۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) یہ روایت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ﴿وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى﴾ [سورة الأنعام: 164] ”کوئی بوجھ اٹھانے والا دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا“ اس سے مراد بعض قسم کا بوجھ ہے، تمام اقسام کے بوجھ مراد نہیں ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ کی مراد کو بیان کرنے والی شخصیت (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ) نے یہ بات بتائی ہے کہ جو شخص اسلام میں برے طریقے کا آغاز کرتا ہے اور پھر اس کے بعد اس طریقے پر عمل کیا جاتا ہے، تو اس برائی کا بوجھ اس شخص پر بھی ہوگا۔ اس کے بعد جو شخص اس برائی پر عمل کرے گا اس کا بوجھ بھی اس شخص پر ہوگا، تو گویا اللہ تعالیٰ نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے کہ کوئی بوجھ اٹھانے والا کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا، ماسوائے اس کے جس کے بارے میں میرے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہیں یہ اطلاع دے دی ہے کہ وہ بوجھ اٹھائے گا، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات اللہ تعالیٰ کے حکم کے تحت ارشاد فرمائی ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خطاب کے عموم کو اللہ تعالیٰ کے حکم کے تحت مخصوص کیا ہے۔ اس بات کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے: ﴿وَمَا يَنْطِقُ عَنِ الْهَوَى * إِنْ هُوَ إِلَّا وَحْيٌ يُوحَى﴾ [سورة النجم: 3-4] ”یہ رسول اپنی خواہشِ نفس سے کلام نہیں کرتا، یہ صرف وہی کلام کرتا ہے جو اس کی طرف وحی کیا جاتا ہے“۔ اس کی نظیر اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے: ﴿وَاعْلَمُوا أَنَّمَا غَنِمْتُمْ مِنْ شَيْءٍ فَأَنَّ لِلَّهِ خُمُسَهُ﴾ [سورة الأنفال: 41] ”تم لوگ یہ بات جان لو کہ تم جو بھی غنیمت حاصل کرو گے اس کا پانچواں حصہ اللہ تعالیٰ کے لیے ہوگا“۔ تو یہ خطاب عمومی طور پر ہے جس طرح اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے: ﴿وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى﴾ [سورة الأنعام: 164] ”کوئی بوجھ اٹھانے والا کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا“۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی کہ ”جو شخص کسی کو قتل کرے گا تو اس مقتول کا سامان اس شخص کو مل جائے گا“۔ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہاں یہ اطلاع دی ہے کہ مقتول کے جسم پر موجود سامان مالِ خمس میں شامل نہیں ہوگا اور تھوڑا مال بھی اسی (قاتل) کو ملے گا، تو یہ اس مطلق عمومی حکم کی تخصیص ہو جائے گی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الزكاة/حدیث: 3308]

3309

Sahih Ibn Hibban #3309

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ الْكَلاعِيُّ ، بِحِمْصَ ، وَالْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ الْقَطَّانُ ، بِالرَّقَّةِ ، قَالا : حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عِيسَى ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : الصَّدَقَةُ تُطْفِئُ غَضَبَ الرَّبِّ ، وَتَدْفَعُ مِيتَةَ السُّوءِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”صدقہ پروردگار کے غضب کو بجھا دیتا ہے اور بری موت کو پرے کرتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الزكاة/حدیث: 3309]

3310

Sahih Ibn Hibban #3310

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفِيَانَ ، حَدَّثَنَا حِبَّانُ بْنُ مُوسَى ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ ، أَخْبَرَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ عِمْرَانَ ، أَنَّهُ سَمِعَ يَزِيدَ بْنَ أَبِي حَبِيبٍ ، أَنَّ أَبَا الْخَيْرِ حَدَّثَهُ ، أَنَّهُ سَمِعَ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : كُلُّ امْرِئٍ فِي ظِلِّ صَدَقَتِهِ حَتَّى يُقْضَى بَيْنَ النَّاسِ " ، أَوْ قَالَ : " حَتَّى يُحْكَمَ بَيْنَ النَّاسِ "، قَالَ يَزِيدُ : فَكَانَ أَبُو الْخَيْرِ لا يُخْطِئُهُ يَوْمٌ لا يَتَصَدَّقُ فِيهِ بِشَيْءٍ وَلَوْ كَعْكَةً ، وَلَوْ بَصَلَةً"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”(قیامت کے دن) ہر شخص اپنے صدقے کے سائے میں ہو گا، یہاں تک کہ لوگوں کے درمیان فیصلہ ہو جائے گا“ (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) ”یہاں تک کہ لوگوں کے درمیان فیصلہ کر دیا جائے گا“۔ یزید نامی راوی نے یہ بات بیان کی ہے کہ ابوالخیر نامی راوی روزانہ کوئی نہ کوئی چیز صدقہ کیا کرتے تھے، اگرچہ کوئی روٹی یا پیاز ہی صدقہ کریں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الزكاة/حدیث: 3310]

3311

Sahih Ibn Hibban #3311

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ ، أَخْبَرَنَا سُفِيَانُ الثَّوْرِيُّ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْقِلٍ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنِ اسْتَطَاعَ أَنْ يَتَّقِيَ النَّارَ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ فَلِيَفْعَلْ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”جو شخص (کوئی بھی چیز صدقہ کر کے) جہنم سے بچ سکتا ہو، اسے ایسا کرنا چاہیے، خواہ وہ نصف کھجور کے ذریعے ایسا کرے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الزكاة/حدیث: 3311]

3312

Sahih Ibn Hibban #3312

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ،أَيُّ الصَّدَقَةِ أَعْظَمُ ؟ قَالَ : أَنْ تَصَدَّقَ وَأَنْتَ صَحِيحٌ شَحِيحٌ تَخْشَى الْفَقْرَ وَتَأْمَلُ الْغِنَى ، وَلا تُمْهِلْ حَتَّى إِذَا بَلَغَتِ الْحُلْقُومَ ، قُلْتَ : لِفُلانٍ كَذَا وَلِفُلانٍ كَذَا ، أَلا وَقَدْ كَانَ لِفُلانٍ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اس نے عرض کیا: ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کون سا صدقہ زیادہ بڑا ہے؟“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ کہ تم ایسی حالت میں صدقہ کرو کہ تم تندرست بھی ہو، تمہیں (اپنے مال کے ساتھ) محبت بھی ہو اور تمہیں (مال خرچ کرنے کے نتیجے میں) غربت کا اندیشہ بھی ہو اور تمہیں خوشحال رہنے کی خواہش بھی ہو۔ تم (صدقہ کرنے کو) اتنا مؤخر نہ کر دینا کہ جان حلق تک پہنچ جائے اور پھر تم یہ کہو کہ فلاں کو اتنا ملے، فلاں کو اتنا ملے، حالانکہ وہ ویسے ہی فلاں کو مل جانا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الزكاة/حدیث: 3312]

3313

Sahih Ibn Hibban #3313

أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ دَاوُدَ بْنِ وَرْدَانَ ، بِمِصْرَ ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنِ ابْنِ عَجْلانَ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : مَثَلُ الْمنْفِقِ وَالْبَخِيلِ كَمَثَلِ رَجُلَيْنِ عَلَيْهِمَا جَنَّتَانِ مِنْ لَدُنْ تَرَاقِيهِمَا إِلَى ثَدِيَيْهِمَا ، فَأَمَّا الْمُنْفِقُ ، فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يُنْفِقَ مَادَتْ عَلَيْهِ ، وَاتَّسَعَتْ حَتَّى تَبْلُغَ قَدَمَيْهِ وَتَعْفُوَ أَثَرَهُ ، وَأَمَّا الْبَخِيلُ ، فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يُنْفِقَ أَخَذَتْ كُلُّ حَلْقَةٍ مَوْضِعَهَا وَلَزِمَتْ ، فَهُوَ يُرِيدُ أَنْ يُوَسِّعَهَا وَلا تَتَّسِعُ ، فَهُوَ يُرِيدُ أَنْ يُوَسِّعَهَا وَلا تَتَّسِعُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”خرچ کرنے والے اور کنجوس کی مثال ایسے آدمیوں کی طرح ہے جن کے جسم پر دو زرہیں ہوتی ہیں جو ان کی گردن سے لے کر سینے تک ہوتی ہیں، خرچ کرنے والا شخص جب خرچ کرنے کا ارادہ کرتا ہے، تو اس کی زرہ کھل جاتی ہے اور کشادہ ہو جاتی ہے، یہاں تک کہ (ڈھیلی ہو کے نیچے گر جاتی ہے) اور اس کے قدموں تک آ جاتی ہے اور اس کے پاؤں کے نشان کو ڈھانپ لیتی ہے؛ جہاں تک کنجوس شخص کا تعلق ہے جب وہ خرچ کرنے کا ارادہ کرتا ہے، تو اس زرہ کا ہر حلقہ اپنی جگہ پر جم جاتا ہے اور پختہ ہو جاتا ہے اور وہ اسے کشادہ کرنے کی کوشش کرتا ہے، لیکن وہ کشادہ نہیں ہوتی، وہ اسے کشادہ کرنے کی کوشش کرتا ہے، لیکن وہ کشادہ نہیں ہوتی۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الزكاة/حدیث: 3313]

3314

Sahih Ibn Hibban #3314

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفِيَانَ ، حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلانَ ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا طَلْحَةُ بْنُ يَحِيَى بْنِ طَلْحَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ بِنْتِ طَلْحَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَسْرَعُكُنَّ بِي لُحُوقًا أَطُوَلُكُنَّ يَدًا " ، قَالَتْ : فَكُنَّ يَتَطَاوَلْنَ أَيُّهُنَّ أَطُوَلُ يَدًا ، قَالَتْ : فَكَانَ أَطُوَلَنَا يَدًا زَيْنَبُ ، لأَنَّهَا كَانَتْ تَعْمَلُ بِيَدِهَا وَتَتَصَدَّقُ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم (یعنی ازواج مطہرات) میں سے مجھ سے سب سے پہلے وہ ملے گی، جس کے ہاتھ تم سب سے لمبے ہیں۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ازواج مطہرات نے اپنے ہاتھوں کی پیمائش کی کہ کس کا ہاتھ زیادہ لمبا ہے؟ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کا ہاتھ ہم سب سے لمبا تھا، کیونکہ وہ اپنے اس ہاتھ کے ذریعے خود کام کاج کرتی ہیں اور صدقہ و خیرات کرتی تھیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الزكاة/حدیث: 3314]

3315

Sahih Ibn Hibban #3315

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُدْرِكٍ السَّدُوسِيُّ ، حَدَّثَنَا يَحِيَى بْنُ حَمَّادٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ فِرَاسٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، قَالَ : حَدَّثَتْنِي عَائِشَةُ ، أَنَّ نِسَاءَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اجْتَمَعْنَ عِنْدَهُ لَمْ تُغَادِرْ مِنْهُنَّ وَاحِدَةٌ ، قَالَتْ : فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَيَّتُنَا أَسْرَعُ بِكَ لُحُوقًا ؟ فَقَالَ : أَطُوَلُكُنَّ يَدًا " ، قَالَ : فَأَخَذْنَ قَصَبَةً يَتَذَارَعْنَهَا ، فَمَاتَتْ سَوْدَةُ بِنْتُ زَمْعَةَ ، وَكَانَتْ كَثِيرَةَ الصَّدَقَةِ ، فَظَنَنَّا أَنَّهُ قَالَ : أَطُوَلُكُنَّ يَدًا بِالصَّدَقَةِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جمع تھیں اور ان میں سے کوئی بھی غیر موجود نہیں تھی، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سب سے پہلے ہم میں سے کون ملے گی؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کا ہاتھ زیادہ لمبا ہے“۔ راوی بیان کرتے ہیں کہ ازواجِ مطہرات نے ایک لکڑی لی اور اس کے ذریعے اپنے ہاتھوں کی پیمائش کرنے لگیں، تو سیدہ سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا کا انتقال پہلے ہوا کیونکہ وہ بکثرت صدقہ کیا کرتی تھیں (سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں) ہم نے یہ گمان کیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان کہ ”جس کا ہاتھ زیادہ لمبا ہو“ اس سے مراد یہ ہے کہ جو زیادہ صدقہ کرتی ہو۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الزكاة/حدیث: 3315]

3316

Sahih Ibn Hibban #3316

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفِيَانَ ، حَدَّثَنَا حِبَّانُ بْنُ مُوسَى ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي الْحُبَابِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَا مِنْ عَبْدٍ مُسْلِمٍ يَتَصَدَّقُ بِصَدَقَةٍ مِنْ كَسْبٍ طَيِّبٍ ، وَلا يَقْبَلُ اللَّهُ إِلا الطَّيِّبَ ، إِلا كَانَ اللَّهُ يَأْخُذُهَا بِيَمِينِهِ ، فَيُرَبِّيهَا لَهُ كَمَا يُرَبِّي أَحَدُكُمْ فَلُوَّهُ أَوْ فَصِيلَهُ حَتَّى تَبْلُغَ التَّمْرَةُ مِثْلَ أُحُدٍ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جو بھی مسلمان پاکیزہ کمائی میں سے صدقہ کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ صرف پاکیزہ چیز کو ہی قبول فرماتا ہے، تو اللہ تعالیٰ (اس صدقے کو) اپنے دستِ قدرت میں لے لیتا ہے اور اسے بڑھانا شروع کرتا ہے، جس طرح کوئی شخص اپنے جانور کے بچے کو پالتا پوستا ہے، یہاں تک کہ ایک کھجور احد پہاڑ جتنی ہو جاتی ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الزكاة/حدیث: 3316]

3317

Sahih Ibn Hibban #3317

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : إِنَّاللَّهَ لَيُرَبِّي لأَحَدِكُمُ التَّمْرَةَ وَاللُّقْمَةَ كَمَا يُرَبِّي أَحَدُكُمْ فَلُوَّهُ أَوْ فَصِيلَهُ حَتَّى يَكُونَ مِثْلَ أُحُدٍ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتی ہیں: ”بے شک اللہ تعالیٰ تم میں سے کسی ایک کی ایک کھجور یا ایک لقمے کو بڑھاتا ہے، جس طرح کوئی شخص اپنے جانور کے بچے کو پالتا پوستا ہے، یہاں تک کہ وہ (ایک لقمہ یا ایک کھجور احد پہاڑ کی مانند ہو جاتا ہے)۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الزكاة/حدیث: 3317]

3318

Sahih Ibn Hibban #3318

أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ سِنَانٍ الْقَطَّانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ مَوْلَى الْمَهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّأَحَدَكُمْ لَيَتَصَدَّقُ بِالتَّمْرَةِ إِذَا كَانَتْ مِنْ طَيِّبٍ ، وَلا يَقْبَلُ اللَّهُ إِلا الطَّيِّبَ ، فَيَجْعَلُهَا اللَّهُ فِي كَفَّهِ ، فَيُرَبِّيهَا كَمَا يُرَبِّي أَحَدُكُمْ فَلُوَّهُ ، أَوْ فَصِيلَهُ حَتَّى تَكُونَ فِي يَدِهِ جَلَّ وَعَلا مِثْلَ جَبَلٍ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”تم میں سے کوئی ایک شخص جب پاکیزہ کمائی میں سے کوئی کھجور صدقہ کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ صرف پاکیزہ کمائی کو ہی قبول کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اسے اپنے دستِ قدرت میں رکھتا ہے اور اسے بڑھانا شروع کرتا ہے، جس طرح کوئی شخص اپنے جانور کے بچے کو پالتا پوستا ہے، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کے دستِ قدرت میں وہ (ایک کھجور) پہاڑ کی مانند ہو جاتی ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الزكاة/حدیث: 3318]

3319

Sahih Ibn Hibban #3319

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَحِيَى بْنِ زُهَيْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ شُعَيْبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا وَرْقَاءُ ، عَنِ ابْنِ عَجْلانَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ أَبِي الْحُبَابِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ تَصَدَّقَ بِعِدْلِ تَمْرَةٍ مِنْ كَسْبٍ طَيِّبٍ ، وَلا يَصْعَدُ إِلَى اللَّهِ إِلا الطَّيِّبُ ، فَإِنَّ اللَّهَ يَتَقَبَّلُهَا بِيَمِينِهِ ، ثُمَّ يُرَبِّيهَا لِصَاحِبِهَا كَمَا يُرَبِّي أَحَدُكُمْ فَلُوَّهُ حَتَّى يَكُونَ مِثْلَ الْجَبَلِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”جو شخص پاکیزہ کمائی میں سے ایک کھجور جتنا صدقہ کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں تو صرف پاکیزہ چیز ہی پیش ہوتی ہے، تو اللہ تعالیٰ اسے اپنے دستِ قدرت میں لیتا ہے، پھر وہ اسے صدقہ کرنے والے کے لیے بڑھاتا ہے، جس طرح کوئی شخص اپنے جانور کے بچے کو پالتا پوستا ہے، یہاں تک کہ وہ (ایک کھجور) پہاڑ کی مانند ہو جاتی ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الزكاة/حدیث: 3319]

3320

Sahih Ibn Hibban #3320

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ جَنَّادٍ الْحَلَبِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ رُفَيْعٍ ، عَنْ حِزَامِ بْنِ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ ، قَالَ : خَطَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النِّسَاءَ ذَاتَ يَوْمٍ ، فَوَعَظَهُنَّ وَأَمَرَهُنَّ بِتَقُوَى اللَّهِ وَالطَّاعَةِ لأَزُوَاجِهِنَّ ، وَقَالَ : إِنَّمِنْكُنَّ مَنْ تَدْخُلُ الْجَنَّةَ ، وَجَمَعَ بَيْنَ أَصَابِعِهِ ، وَمِنْكُنَّ حَطَبُ جَهَنَّمَ ، وَفَرَّقَ بَيْنَ أَصَابِعِهِ " ، فَقَالَتِ الْمَارِدَةُ أَوِ الْمُرَادِيَّةُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَلَمْ ذَلِكَ ؟ قَالَ : " تَكْفُرْنَ الْعَشِيرَ ، وَتُكْثِرْنَ اللَّعْنَ ، وَتُسَوِّفْنَ الْخَيْرَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خواتین کو خطبہ دیتے ہوئے انہیں وعظ و نصیحت کی اور انہیں اللہ تعالیٰ سے ڈرنے اور شوہر کی فرمانبرداری کی ہدایت کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم میں سے کچھ خواتین جنت میں داخل ہوں گی۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلیوں کو جمع کر کے فرمایا: ”اور تم میں سے کچھ جہنم کا ایندھن بنیں گی۔“ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلیوں کو کشادہ کر لیا، تو مادریہ (شاید مراد قبیلے سے تعلق رکھنے والی) ایک خاتون نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اس کی وجہ کیا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم شوہر کی ناشکری کرتی ہو، تم لعنت بکثرت کرتی ہو اور بھلائی کی ناشکری کرتی ہو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الزكاة/حدیث: 3320]

3321

Sahih Ibn Hibban #3321

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ عِيَاضَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَرْحٍ ، أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ :يَخْرُجُ يَوْمَ الْفِطْرِ وَالأَضْحَى ، فَيُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ ، ثُمَّ يُسَلِّمُ ، فَيَنْصَرِفُ إِلَى النَّاسِ قَائِمًا فِي مُصَلاهُ ، ثُمَّ يَجْلِسُ فَيُقْبِلُ عَلَيْهِمْ ، وَيَقُولُ لِلنَّاسِ : تَصَدَّقُوا "، فَكَانَ أَكْثَرُ مَنْ يَتَصَدَّقُ النِّسَاءُ بِالْقُرْطِ وَالتِّبْرِ ، فَإِنْ كَانَ لَهُ حَاجَةٌ يَبْعَثُ عَلَى النَّاسِ وَإِلا انْصَرَفَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عیدالفطر اور عیدالاضحیٰ کے دن تشریف لے جاتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم دو رکعات ادا کرتے تھے، پھر سلام پھیرتے تھے، پھر عید گاہ میں لوگوں کی طرف رخ کر کے کھڑے ہو جاتے تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما ہوتے تھے اور لوگوں کی طرف رخ کرتے تھے اور لوگوں سے فرماتے: ”تم صدقہ و خیرات کرو۔“ تو زیادہ تر خواتین اپنی بالیاں اور انگوٹھیاں وغیرہ صدقہ کرتی تھیں۔ اگر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی مہم (روانہ کرنی ہوتی) تو اس کے بارے میں بات چیت کر لیتے، ورنہ واپس تشریف لے جاتے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الزكاة/حدیث: 3321]

3322

Sahih Ibn Hibban #3322

أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ ، بِبُسْتٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الُوَلِيدِ الْبُسْرِيُّ ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ عَطَاءٍ ، قَالَ : أَشْهَدُ عَلَى ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ شَهِدَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَنَّهُصَلَّى فِي يَوْمِ عِيدٍ ، ثُمَّ خَطَبَ ، ثُمَّ أَتَى النِّسَاءَ ، فَأَمَرَهُنَّ بِالصَّدَقَةِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عطاء بیان کرتے ہیں: میں سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے بارے میں گواہی دے کر یہ بات بیان کرتا ہوں کہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں گواہی دے کر یہ بات بیان کی ہے: ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے عید کے دن نماز ادا کی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیا، پھر خواتین کے پاس تشریف لائے اور انہیں صدقہ و خیرات کرنے کا حکم دیا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الزكاة/حدیث: 3322]

3323

Sahih Ibn Hibban #3323

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنِ الْحَكَمِ ، قَالَ : سَمِعْتُ ذَرًّا ، يُحَدِّثُ عَنْ وَائِلِ بْنِ مُهَانَةَ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ لِلنِّسَاءِ : تَصَدَّقْنَ فَإِنَّكُنَّ أَكْثَرُ أَهْلِ النَّارِ " ، قَالَتِ امْرَأَةٌ : لَيْسَتْ مِنْ عِلِيَةِ النِّسَاءِ : بِمَ ، أَوْ لِمَ ؟ قَالَ : " إِنَّكُنَّ تُكْثِرْنَ اللَّعْنَ ، وَتَكْفُرْنَ الْعَشِيرَ "، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : مَا مِنْ نَاقِصَاتِ الْعَقْلِ وَالدَّيْنِ أَغْلَبُ عَلَى الرِّجَالِ ذَوِي الأَمْرِ عَلَى أَمْرِهِمْ مِنَ النِّسَاءِ ، قِيلَ : وَمَا نُقْصَانُ عَقْلِهَا وَدِينِهَا ؟ قَالَ : أَمَّا نُقْصَانُ عَقْلِهَا ، فَإِنَّ شَهَادَةَ امْرَأَتَيْنِ بِشَهَادَةِ رَجُلٍ ، وَأَمَّا نُقْصَانُ دِينِهَا ، فَإِنَّهُ يَأْتِي عَلَى إِحْدَاهِنَّ كَذَا وَكَذَا مِنْ يَوْمٍ لا تُصَلِّي فِيهِ صَلاةً وَاحِدَةً """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خواتین سے فرمایا: ”تم صدقہ و خیرات کیا کرو، کیونکہ اہل جہنم میں اکثریت تمہاری ہے۔“ ایک خاتون نے، جو کسی بڑے خاندان کی نہیں تھی، اس نے دریافت کیا: اس کی وجہ کیا ہے؟ (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) کیوں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم لعنت بکثرت کرتی ہو اور شوہر کی ناشکری کرتی ہو۔“ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”عقل اور دین کے اعتبار سے ناقص خواتین لوگوں کے معاملات میں سمجھدار لوگوں پر غالب آ جاتی ہیں۔“ دریافت کیا گیا: ان خواتین کی عقل اور دین میں کیا کمی ہے؟ تو انہوں نے فرمایا: ”جہاں تک ان کی عقل کا تعلق ہے، اس کی صورت یہ ہے کہ دو خواتین کی گواہی ایک مرد کے برابر ہوتی ہے؛ جہاں تک ان کے دین کی کمی کا تعلق ہے، تو اس کی صورت یہ ہے کہ ہر عورت پر کچھ ایسے دن آتے ہیں جن میں وہ ایک بھی نماز ادا نہیں کر سکتی۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الزكاة/حدیث: 3323]

3324

Sahih Ibn Hibban #3324

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْعَبْدِيُّ ، أَخْبَرَنَا سُفِيَانُ الثَّوْرِيُّ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ أَبِي مُوسَى الأَشْعَرِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَطْعِمُوا الْجَائِعَ ، وَعُودُوا الْمَرِيضَ ، وَفُكُّوا الْعَانِيَ "، قَالَ سُفِيَانُ : الْعَانِي الأَسِيرُ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”بھوکے کو کھانا کھلاؤ، بیمار کی عیادت کرو اور قیدی کو رہا کرواؤ۔“ سفیان نامی راوی کہتے ہیں: (روایت کے متن میں استعمال ہونے والے لفظ) «الْعَانِي» سے مراد قیدی ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الزكاة/حدیث: 3324]

3325

Sahih Ibn Hibban #3325

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفِيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ أَبَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : خَرَجْتُ أَنَا ، وَالْحَسَنُ ، وَالْحُسَيْنُ ، وَأُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ ، يوم فطر ، وخرج رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْمُصَلَّى ، فَصَلَّى بِنَا ، ثُمَّ خَطَبَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، إِنَّهَذَا يَوْمُ صَدَقَةٍ فَتَصَدَّقُوا " ، قَالَ : فَجَعَلَ الرَّجُلُ يَنْزِعُ خَاتَمَهُ ، وَالرَّجُلُ يَنْزِعُ ثَوْبَهُ ، وَبِلالٌ يَقْبِضُ ، حَتَّى إِذَا لَمْ يَرَ أَحَدًا يُعْطِي شَيْئًا ، تَقَدَّمَ إِلَى النِّسَاءِ ، فَقَالَ : " يَا مَعْشَرَ النِّسَاءِ ، إِنَّ هَذَا يَوْمُ صَدَقَةٍ ، فَتَصَدَّقْنَ " ، فَجَعَلْتِ الْمَرْأَةُ تَنْزِعُ خُرْصَهَا وَخَاتَمَهَا ، وَجَعَلْتِ الْمَرْأَةُ تَنْزِعُ خُلْخَالَهَا ، وَبِلالٌ يَقْبِضُ ، حَتَّى إِذَا لَمْ يَرَ أَحَدًا يُعْطِي شَيْئًا أَقْبَلَ بِلالٌ وَأَقْبَلْنَا"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: میں، سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ، سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ اور سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما عیدالفطر کے دن نکلے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بھی عیدگاہ کی طرف تشریف لائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز پڑھائی، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: ”اے لوگو! یہ صدقہ کرنے کا دن ہے، تو تم لوگ صدقہ و خیرات کرو۔“ راوی کہتے ہیں: تو کسی نے اپنی انگوٹھی اتاری، کسی نے اپنا کپڑا اتارا (یعنی اضافی چادر اتاری)، سیدنا بلال رضی اللہ عنہ انہیں وصول کرتے رہے، یہاں تک کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ کوئی شخص ایسا نہیں رہا جس نے کچھ دینا ہوتا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم خواتین کی طرف بڑھ گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اے خواتین کے گروہ! یہ صدقہ کرنے کا دن ہے، تو تم صدقہ کرو۔“ تو کسی عورت نے اپنا ہار اتارا، کسی نے انگوٹھی اتاری، کسی نے اپنی پازیبیں اتاریں۔ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ انہیں وصول کرتے رہے، یہاں تک کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ملاحظہ کیا کہ کوئی دینے والا باقی نہیں رہا، تو سیدنا بلال رضی اللہ عنہ واپس آ گئے اور ہم بھی واپس آ گئے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الزكاة/حدیث: 3325]

3326

Sahih Ibn Hibban #3326

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، وَعِيسَى بْنُ يُونُسَ ، قَالا : حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ ، قَالَ : أَشْهَدُ بِاللَّهِ لَسَمِعْتُ أَبَا ذَرٍّ بِالرَّبَذَةِ ، يَقُولُ : كُنْتُ أَمْشِي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِحَرَّةِ الْمَدِينَةِ مُمْسِيًا ، فَاسْتَقْبَلَنَا أُحُدٌ ، فَقَالَ : يَا أَبَا ذَرٍّ ، مَا أُحِبُّ أَنَّ لِي أُحُدًا ذَهَبًا أُمْسِي ثَالِثَةً وَعِنْدِي مِنْهُ دِينَارٌ إِلا دِينَارٌ أَرْصُدُهُ لِدَيْنٍ ، إِلا أَنْ أَقُولَ بِهِ فِي عِبَادِ اللَّهِ هَكَذَا وَهَكَذَا " ، يَعْنِي مِنْ بَيْنِ يَدَيْهِ ، وَمِنْ خَلْفِهِ ، وَعَنْ يَمِينِهِ ، وَعَنْ شِمَالِهِ ، ثُمَّ قَالَ : " يَا أَبَا ذَرٍّ ، إِنَّ الْمُكْثِرِينَ هُمُ الأَقَلُّونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " ، ثُمَّ قَالَ لِي : " لا تَبْرَحْ حَتَّى آتِيَكَ " ، فَانْطَلَقَ ، ثُمَّ جَاءَ فِي سَوَادِ اللَّيْلِ ، فَسَمِعْتُ صَوْتًا ، فَخَشِيتُ أَنْ يَكُونَ ضِرَارَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَهَمَمْتُ أَنْ أَنْطَلِقَ ، ثُمَّ ذَكَرْتُ قَوْلَهُ ، فَجَلَسْتُ حَتَّى جَاءَ ، فَقُلْتُ لَهُ : إِنِّي أَرَدْتُ أَنْ آتِيَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، ثُمَّ ذَكَرْتُ قَوْلَكَ لِي ، وَسَمِعْتُ صَوْتًا ، قَالَ : " ذَاكَ جِبْرِيلُ جَاءَنِي ، فَأَخْبَرَنِي أَنَّمَنْ مَاتَ مِنْ أُمَّتِي لا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا دَخَلَ الْجَنَّةَ " ، فَقُلْتُ : وَإِنْ زَنَى ، وَإِنْ سَرَقَ ؟ فَقَالَ : " وَإِنْ زَنَى ، وَإِنْ سَرَقَ "، قَالَ جَرِيرٌ : قَالَ الأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، مِثْلَ ذَلِكَ ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : أُضْمِرَ فِي هَذَا الْخَبَرِ شَرْطَانِ : أَحَدُهُمَا : أَنَّ مَنْ مَاتَ لا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا دَخَلَ الْجَنَّةَ إِنْ تَفَضَّلُ اللَّهُ جَلَّ وَعَلا عَلَيْهِ بِالْعَفُوِ عَنْ جِنَايَاتِهِ الَّتِي لَهُ فِي دَارِ الدُّنِيَا ، لأَنَّ الْمَرْءَ لا يَخْلُو مِنَ ارْتِكَابِ بَعْضِ مَا حُظِرَ عَلَيْهِ فِي الدُّنِيَا ، أُضْمِرَ فِي الْخَبَرِ هَذَا الشَّرْطُ ، وَالشَّرْطُ الثَّانِي : مَنْ مَاتَ لا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا دَخَلَ الْجَنَّةَ ، يُرِيدُ بَعْدَ تَعْذِيبِهِ إِيَّاهُ فِي النَّارِ ، نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْهَا ، إِنْ لَمْ يَتَفَضَّلْ عَلَيْهِ بِالْعَفُوِ قَبْلَ ذَلِكَ ، لِئَلا يَبْقَى فِي النَّارِ مَعَ مَنْ أَشْرَكَ بِهِ فِي الدُّنِيَا ، فَهَذَانِ الشَّرْطَانِ مُضْمَرَانِ فِي هَذَا الْخَبَرِ ، لا أَنَّ كُلَّ مَنْ مَاتَ وَلا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا ، دَخَلَ الْجَنَّةَ لا مَحَالَةَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

زید بن وہب بیان کرتے ہیں: اللہ کے نام کی گواہی دے کر میں یہ بات بیان کرتا ہوں، میں نے ربذہ میں سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کو یہ بات بیان کرتے ہوئے سنا کہ ایک مرتبہ میں شام کے وقت مدینہ منورہ کے پتھریلے علاقے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چل رہا تھا، ہمارے سامنے احد پہاڑ آ گیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اے ابوذر! مجھے یہ بات پسند نہیں ہے کہ میرے پاس احد پہاڑ جتنا سونا ہو اور پھر اس سے تیسرے دن شام کے وقت میرے پاس ان میں سے ایک بھی دینار باقی ہو، ماسوائے اس دینار کے، جسے میں نے قرض کی واپسی کے لیے سنبھال کے رکھا ہو، میں اس سونے کے بارے میں اللہ کے بندوں کے بارے میں یہی کہتا رہوں گا کہ اسے اتنا دے دو، اسے اتنا دے دو، یعنی اپنے آگے، اپنے پیچھے، اپنے دائیں اور اپنے بائیں خرچ کرتا رہوں گا۔“ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اے ابوذر! (دنیا میں مال و دولت کے اعتبار سے) کثرت رکھنے والے لوگ قیامت کے دن (اجر و ثواب کے حوالے سے) کمی رکھنے والے ہوں گے۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے ارشاد فرمایا: ”تم اپنی جگہ پر رہنا، جب تک میں تمہارے پاس آتا نہیں ہوں۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے گئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم رات کی تاریکی پھیل جانے کے بعد تشریف لائے۔ میں نے ایک آواز سنی، مجھے یہ اندیشہ ہوا کہ کہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی نقصان نہ پہنچا ہو، میں روانہ ہونے لگا، پھر مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایت یاد آئی، تو میں اپنی جگہ بیٹھا رہا، یہاں تک کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خود ہی تشریف لے آئے؛ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں نے پہلے یہ ارادہ کیا کہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آتا ہوں، لیکن پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان مجھے یاد آ گیا، میں نے ایک آواز سنی تھی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ جبرائیل علیہ السلام تھے، وہ میرے پاس آئے، انہوں نے مجھے بتایا کہ میری امت کا جو بھی شخص ایسی حالت میں فوت ہو کہ وہ کسی کو اللہ کا شریک نہ ٹھہراتا ہو وہ جنت میں داخل ہو گا۔“ میں نے دریافت کیا: اگرچہ وہ زنا کرے یا وہ چوری کرے؟ انہوں نے کہا: ”اگرچہ وہ زنا کرے یا چوری کرے۔“ جریر نامی راوی کہتے ہیں: یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کی مانند منقول ہے۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) اس روایت میں دو وضاحتیں پوشیدہ ہیں۔ ان میں سے ایک یہ ہے: جو شخص ایسی حالت میں مر جاتا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو وہ جنت میں داخل ہو گا۔ اگر اللہ تعالیٰ اپنے فضل کے تحت اس کے ان گناہوں کو معاف کر دے جن کا ارتکاب اس نے دنیا میں کیا تھا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ آدمی اس دنیا میں کسی نہ کسی ممنوعہ چیز کا ارتکاب کر ہی لیتا ہے، تو اس روایت میں یہ شرط پوشیدہ ہو گی؛ اور دوسری شرط یہ ہے: کوئی شخص ایسی حالت میں انتقال کرتا ہے کہ وہ کسی کو اللہ کا شریک نہ ٹھہراتا ہو وہ جنت میں داخل ہو گا۔ اس سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اسے جہنم میں کچھ عرصہ کے لیے عذاب دے گا۔ ہم جہنم سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں۔ یہ اس وقت ہو گا جب اللہ تعالیٰ اپنے فضل کے تحت اسے معاف نہ کرے۔ اس کی وجہ یہ ہے تاکہ جہنم میں صرف وہی لوگ باقی رہ جائیں جو دنیا میں کسی کو اس کا شریک ٹھہراتے تھے، تو یہ دونوں شرطیں اس روایت میں پوشیدہ ہیں۔ اس سے یہ مراد نہیں ہے کہ ہر وہ شخص جو ایسی حالت میں انتقال کر جائے کہ وہ کسی کو اللہ کا شریک نہ ٹھہراتا ہو وہ لامحالہ طور پر جنت میں داخل ہو گا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الزكاة/حدیث: 3326]

3327

Sahih Ibn Hibban #3327

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَقْرَأُ : أَلْهَاكُمُ التَّكَاثُرُ " ، قَالَ :" يَقُولُ ابْنُ آدَمَ : مَالِي مَالِي ، وَهَلْ لَكَ مِنْ مَالِكَ إِلا مَا أَكَلْتَ فَأَفْنَيْتَ ، أَوْ لَبِسْتَ فَأَبْلَيْتَ ، أَوْ تَصَدَّقْتَ فَأَمْضَيْتَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

مطرف بن عبداللہ اپنے والد رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت یہ آیت ﴿أَلْهَاكُمُ التَّكَاثُرُ﴾ [سورة التكاثر: 1] ”کثرت تمہیں غافل کر دے گی“ تلاوت کر رہے تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آدم کا بیٹا کہتا ہے: میرا مال میرا مال، حالانکہ تمہارا مال صرف وہ ہے، جسے تم کھا کر فنا کر دو یا، جسے تم پہن کر پرانا کر دو، یا صدقہ کر کے آگے بھیج دو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الزكاة/حدیث: 3327]

3328

Sahih Ibn Hibban #3328

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفِيَانَ ، حَدَّثَنَا أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامٍ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ ، عَنِ الْعَلاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَقُولُ الْعَبْدُ : مَالِي ، وَإِنَّمَا لَهُ مِنْ مَالِهِ مَا أَكَلَ فَأَفْنَى ، أَوْ لَبِسَ فَأَبْلَى ، أَوْ تَصَدَّقَ فَأَمْضَى ، وَمَا سِوَاهُ ، فَهُوَ ذَاهِبٌ وَتَارِكُهُ لِلنَّاسِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”بندہ کہتا ہے: میرا مال، حالانکہ اس کے مال میں سے اس کا حصہ صرف وہ ہے جسے وہ کھا کر فنا کر دے یا پہن کر پرانا کر دے یا صدقہ کر کے آگے بھیج دے، اس کے علاوہ جو بھی ہے، تو آدمی چلا جائے گا اور اسے لوگوں کے لیے چھوڑ جائے گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الزكاة/حدیث: 3328]

3329

Sahih Ibn Hibban #3329

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سَلامُ بْنُ مِسْكِينٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ خُلَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْعَصَرِيِّ ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : مَا طَلَعَتْ شَمْسٌ قَطُّ إِلا بِجَنْبَتَيْهَا مَلَكَانَ يُنَادِيَانِ ، يُسْمِعَانِ مَنْ عَلَى الأَرْضِ غَيْرَ الثَّقَلَيْنِ : أَيُّهَا النَّاسُ ، هَلَمُوا إِلَى رَبِّكُمْ ، مَا قُلَّ وَكَفِي خَيْرٌ مِمَّا كَثُرَ وَأَلْهَى ، وَلا غَرَبَتْ إِلا بِجَنْبَتَيْهَا مَلَكَانَ يُنَادِيَانِ : اللَّهُمَّ أَعْطِ مُنْفِقًا خَلَفًا ، وَأَعْطِ مُمْسِكًا تَلَفًا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جب سورج نکلتا ہے، تو اس کے دونوں طرف دو فرشتے ہوتے ہیں جو یہ اعلان کرتے ہیں اور ان کی آواز انسانوں اور جنوں کے علاوہ تمام روئے زمین کو سنائی دیتی ہے: «يَا أَيُّهَا النَّاسُ، هَلُمُّوا إِلَىٰ رَبِّكُمْ، مَا قَلَّ وَكَفَىٰ خَيْرٌ مِمَّا كَثُرَ وَأَلْهَىٰ» ”اے لوگو! اپنے پروردگار کی طرف آؤ، جو چیز تھوڑی ہو اور کفایت کر جائے وہ اس سے بہتر ہے، جو زیادہ ہو اور غافل کر دے۔“ (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:) ”سورج جب غروب ہوتا ہے، تو دو فرشتے اس کے پہلوؤں میں یہ اعلان کرتے ہیں: «اللَّهُمَّ أَعْطِ مُنْفِقًا خَلَفًا، وَأَعْطِ مُمْسِكًا تَلَفًا» ”اے اللہ! (اپنی راہ) میں خرچ کرنے والے کو مزید دے اور نہ کرنے والے کا نقصان کر دے۔““ [صحیح ابن حبان/كتاب الزكاة/حدیث: 3329]

3330

Sahih Ibn Hibban #3330

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ سُوَيْدٍ ، قَالَ : قَالَ عَبْدُ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَيُّكُمْ مَالُهُ أَحَبُّ إِلَيْهِ مِنْ مَالِ وَارِثِهِ ؟ " ، قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا مِنَّا أَحَدٌ إِلا مَالُهُ أَحَبُّ إِلَيْهِ مِنْ مَالِ وَارِثِهِ ، قَالَ : " اعْلَمُوا مَا تَقُولُونَ " ، قَالُوا : مَا نَعْلَمُ إِلا ذَاكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " مَا مِنْكُمْ رَجُلٌ إِلا مَالُ وَارِثِهِ أَحَبُّ إِلَيْهِ مِنْ مَالِهِ " ، قَالُوا : كَيْفَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " إِنَّمَا مَالُ أَحَدِكُمْ مَا قَدَّمَ ، وَمَالُ وَارِثِهِ مَا أَخَّرَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم میں سے کون شخص ایسا ہے جسے اپنا مال اپنے وارث کے مال سے زیادہ محبوب ہو؟“ لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم میں سے ہر ایک شخص کو اپنے وارث کے مال کے مقابلے میں اپنا مال زیادہ محبوب ہو گا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم لوگ دیکھ لو کہ تم کیا کہہ رہے ہو؟“ لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم تو یہی سمجھتے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے ہر ایک کے نزدیک اس کے وارث کا مال اس کے اپنے مال سے زیادہ محبوب ہے۔“ لوگوں نے دریافت کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! وہ کیسے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کسی ایک شخص کا مال وہ ہے جسے وہ (صدقہ و خیرات کر کے) آگے بھیج دے اور اس کے وارث کا مال وہ ہے جسے وہ (مرنے کے بعد) پیچھے چھوڑ جائے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الزكاة/حدیث: 3330]

3331

Sahih Ibn Hibban #3331

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ الصُّوفِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الرُّومِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا النَّضْر بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو زُمَيْلٍ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ مَرْثَدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : إِنَّالأَكْثَرِينَ هُمُ الأَسْفَلُونَ ، إِلا مَنْ قَالَ بِالْمَالِ هَكَذَا وَهَكَذَا ، وَكَسَبُهُ مِنْ طَيِّبٍ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”(دنیا میں مال و دولت کے اعتبار سے) کثرت رکھنے والے لوگ ہی (قیامت کے دن) نچلے مرتبے کے ہوں گے، ماسوائے اس شخص کے جو اپنے مال کے بارے میں اس طرح اور اس طرح کہے (یعنی اسے صدقہ و خیرات کرے) اور اس نے حلال طور پر اسے کمایا ہو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الزكاة/حدیث: 3331]

3332

Sahih Ibn Hibban #3332

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَثَلُ الْبَخِيلِ وَالْمُتَصَدِّقِ كَمَثَلِ رَجُلَيْنِ عَلَيْهِمَا جُبَّتَانِ أَوْ جَنَّتَانِ مِنْ حَدِيدٍ مِنْ لَدُنْ ثُدِيِّهِمَا إِلَى تَرَاقِيهِمَا ، فَأَمَّا الْمنْفِقُ ، فَكُلَمَا تَصَدَّقَ وَحَدَّثَ نَفْسَهُ ذَهَبَتْ عَنْ جِلْدِهِ ، حَتَّى تَعْفُوَ أَثَرَهُ وَتَجُوزَ بَنَانَهُ ، وَالْبَخِيلُ كُلَمَا أَنْفَقَ شَيْئًا وَحَدَّثَ بِهِ نَفْسَهُ ، لَزِمَتْهُ وَعَضَّتْ كُلُّ حَلْقَةٍ مِنْهَا مَكَانَهَا ، فَهُوَ يُوَسِّعُهَا وَلا تَتَّسِعُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”کنجوسی کرنے والے اور صدقہ کرنے والے کی مثال دو ایسے آدمیوں کی طرح ہے جن پر لوہے کے بنے ہوئے دو جبے یا دو زرہیں ہوتی ہیں جو ان کے سینوں سے لے کر ان کی گردنوں تک ہوتی ہیں، خرچ کرنے والا شخص جب بھی صدقہ کرتا ہے اور اس کا ارادہ کرتا ہے، تو اس کی جلد سے وہ زرہ ہٹ جاتی ہے، یہاں تک کہ وہ اس کے پاؤں کے نشان کو ڈھانپ لیتی ہے اور انگلیوں کے پوروں پر آ جاتی ہے (یعنی نیچے گر جاتی ہے) اور کنجوس شخص جب بھی کوئی چیز خرچ کرنے کا ارادہ کرتا ہے اور وہ اس بارے میں سوچتا ہے، تو وہ زرہ اور مضبوط ہو جاتی ہے اور اس کا ہر حلقہ اپنی جگہ پر جم جاتا ہے، وہ اسے کشادہ کرنے کی کوشش کرتا ہے، لیکن وہ کشادہ نہیں ہوتی۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الزكاة/حدیث: 3332]

3333

Sahih Ibn Hibban #3333

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَمْرَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : إِنَّمَلَكًا بِبَابٍ مِنْ أَبُوَابِ الْجَنَّةِ ، يَقُولُ : مَنْ يُقْرِضِ الِيَوْمَ يُجْزَ غَدًا ، وَمَلَكٌ بِبَابٍ آخَرَ يَقُولُ : اللَّهُمَّ أَعْطِ مُنْفِقًا خَلَفًا ، وَأَعْطِ مُمْسِكًا تَلَفًا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جنت کے ایک دروازے پر ایک فرشتہ یہ کہتا ہے: کون شخص آج قرض دے گا کہ کل اس کو بدلہ دیا جائے؟ دوسرے دروازے پر فرشتہ یہ کہتا ہے: اے اللہ! (اپنی راہ میں) خرچ کرنے والے کو مزید عطا کر اور نہ کرنے والے کا (مال) ضائع کر دے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الزكاة/حدیث: 3333]

3334

Sahih Ibn Hibban #3334

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفِيَانَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ شُرَحْبِيلَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : لأَنْ يَتَصَدَّقَ الْمَرْءُ فِي حَيَاتِهِ وَصِحَّتِهِ بِدِرْهَمٍ خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَتَصَدَّقَ بِمِائَةِ دِرْهَمٍ عِنْدَ مَوْتِهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”آدمی اپنی زندگی اور صحت کے دوران ایک درہم صدقہ کر دے، یہ اس کے لیے اس سے زیادہ بہتر ہے کہ وہ مرنے کے قریب ایک سو درہم صدقہ کرے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الزكاة/حدیث: 3334]

3335

Sahih Ibn Hibban #3335

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ،أَيُّ الصَّدَقَةِ أَعْظَمُ ؟ قَالَ : أَنْ تَصَدَّقَ وَأَنْتَ صَحِيحٌ شَحِيحٌ ، تَخْشَى الْفَقْرَ وَتَأْمَلُ الْغِنَى ، وَلا تُمْهِلْ حَتَّى إِذَا بَلَغَتِ الْحُلْقُومَ ، قُلْتَ : لِفُلانٍ كَذَا وَلِفُلانٍ كَذَا ، أَلا وَقَدْ كَانَ لِفُلانٍ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اس نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کون سا صدقہ زیادہ بڑا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”یہ کہ تم ایسی حالت میں صدقہ کرو کہ تم تندرست ہو اور تمہیں مال کی قلت کا اندیشہ بھی ہو اور خوشحالی کی خواہش بھی ہو، تم اسے اتنی تاخیر سے نہ کرو کہ جان حلق تک پہنچ جائے، پھر تم یہ کہو کہ فلاں کو اتنا مل جائے اور فلاں کو اتنا مل جائے، حالانکہ وہ ویسے ہی فلاں کو مل جانا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الزكاة/حدیث: 3335]