Muslim99Muslim99

Sahih Ibn Hibban · Book 3 · Chapter 1

The Book of the Night Journey

Hadith 210–249

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

210

Sahih Ibn Hibban #210

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ الشَّرْقِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ زَاجٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ مَيْمُونٍ ، عَنْ مُعاِذْ بْنِ جَبَلٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَا حَقُّ اللَّهِ عَلَى الْعِبَادِ ؟ " قَالُوا : الِلَّهِ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ ، قَالَ : " أَنْ يَعْبُدُوهُ وَلا يُشْرِكُوا بِهِ " ، قَالَ : " فَمَا حَقُّهُمْ عَلَى اللَّهِ فَعَلُوا ذَلِكَ ؟ " قَالُوا : الِلَّهِ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ ، قَالَ : " يَغْفِرُ لَهُمْ وَلا يُعَذِّبُهُمْ "، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ الِلَّهِ عَنْهُ : فِي هَذَا الْخَبَرِ بَيَانٌ وَاضِحٌ بِأَنَّ الأَخْبَارَ الَّتِي ذَكَرْنَاهَا قَبْلُ كُلُّهَا مُخْتَصَرَةٌ غَيْرُ مُتَقَصَّاةٍ ، وَأَنَّ بَعْضَ شُعَبِ الإِيمَانِ أَتَى الْمَرْءُ بِهِ لا تُوجِبُ لَهُ الْجَنَّةَ فِي دَائِمِ الأَوْقَاتِ ، أَلا تَرَاهُ ، صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، جَعَلَ حَقَّ اللَّهِ عَلَى الْعِبَادِ أَنْ يَعْبُدُوهُ وَلا يُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا ؟ وَعِبَادَةُ اللَّهِ جَلَّ وَعَلا إِقْرَارٌ بِاللِّسَانِ ، وَتَصْدِيقٌ بِالْقَلْبِ ، وَعَمَلٌ بِالأَرْكَانِ ، ثُمَّ الْمُسْلِمُونَ لَمَّا سَأَلُوهُ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ حَقِّهِمْ عَلَى اللَّهِ ، فَقَالُوا : فَمَا حَقُّهُمْ عَلَى اللَّهِ فَعَلُوا ذَلِكَ ؟ وَلَمْ يَقُولُوا : فَمَا حَقُّهُمْ عَلَى اللَّهِ قَالُوا ذَلِكَ ، وَلا أَنْكَرَ عَلَيْهِمْ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذِهِ اللَّفْظَةَ ، فَفِيمَا قُلْنَا أَبْيَنُ الْبَيَانِ بِأَنَّ الْجَنَّةَ لا تَجِبُ لِمَنْ أَتَى بِبَعْضِ شُعَبِ الإِيمَانِ فِي كُلِّ الأَحْوَالِ ، بَلْ يُسْتَعْمَلُ كُلُّ خَبَرٍ فِي عُمُومِ مَا وَرَدَ خِطَابُهُ عَلَى حَسَبِ الْحَالِ فِيهِ ، عَلَى مَا ذَكَرْنَاهُ قَبْلُ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا معاذ بن جبل رضی الله عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا:اللہ تعالیٰ کا بندوں پر کیا حق ہے؟ لوگوں نے عرض کی: اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں۔ بی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: یہ کہ لوگاللہ تعالیٰ کی عبادت کریں اور کسی کو اس کا شریک نہ ٹھہرائیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب وہ لوگ ایسا کریں، تو پھر ان لوگوں کااللہ تعالیٰ پر کیا حق ہو گا؟ لوگوں نے عرض کی: اللہ اور اس کا رسول زیادہ بہتر جانتے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (یہ کہ)اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت کر دے اور ان کو عذاب نہ دے۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) اس روایت میں اس بات کا واضح بیان موجود ہے کہ وہ روایات جنہیں ہم اس سے پہلے ذکر کر چکے ہیں وہ مختصر ہیں وہ تفصیلی نہیں ہیں اور ایمان کے بعض شعبے ایسے ہیں کہ جب آدمی ان کا ارتکاب کرتا ہے، تو تمام اوقات میں اس کے لئے جنت واجب نہیں ہوتی۔ کیا آپ نے غور نہیں کیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بندوں پر اللہ حق قرار دیا ہے کہ وہ اس کی عبادت کریں اور کسی کو اس کا شریک نہ ٹھہرائیں۔ اور اللہ کی عبادت زبان کے ذریعے اقرار، دل کے ذریعے تصدیق اور اعضاء کے ذریعے عمل ہے۔ پھر مسلمانوں نے، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سےاللہ تعالیٰ پر اپنے حق کے بارے میں دریافت کیا انہوں نے دریافت کیا ان لوگوں کااللہ تعالیٰ پر کیا حق ہو گا جب وہ ایسا کریں۔ ان لوگوں نے یہ نہیں کہا: ان لوگوں کااللہ تعالیٰ پر کیا حق ہو گا جب وہ یہ کہہ دے۔ اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان الفاظ کا انکار بھی نہیں کیا۔ تو ہم نے جو یہ بات بیان کی ہے، اس میں اس بات کا واضح بیان موجود ہے کہ جنت اس شخص کے لئے واجب نہیں ہوتی ہے، جو ایمان کے کچھ شعبوں کو تمام حالتوں میں بجا لاتا ہے بلکہ ہر روایت کا اپنا عموم ہوتا ہے، اور اس کے حکم کا مخصوص پس منظر ہوتا ہے۔ جیسا کہ ہم پہلے یہ بات ذکر کر چکے ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الإيمان/حدیث: 210]""

211

Sahih Ibn Hibban #211

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ غِيَاثٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ ، عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : عَرَّسَ بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ ، فَافْتَرَشَ كُلُّ رَجُلٍ مِنَّا ذِرَاعَ رَاحِلَتِهِ ، قَالَ : فَانْتَبَهْتُ فِي بَعْضِ اللَّيْلِ ، فَنَاقَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْسَ قَدْامَهَا أَحَدٌ ، فَانْطَلَقْتُ أَطْلُبُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَمُعَاذْ بْنُ جَبَلٍ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ قَيْسٍ قَائِمَانِ ، فَقُلْتُ : أَيْنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ ، فَقَالا : لا نَدْرِي ، غَيْرَ أَنَّا سَمِعْنَا صَوْتًا بِأَعْلَى الْوَادِي ، فَمِثْلُ هَدِيرِ الرَّحَى ، قَالَ : فَلَبِثْنَا يَسِيرًا ، ثُمَّ أَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : إِنَّهُأَتَانِي مِنْ رَبِّي آتٍ ، فَيُخَيِّرُنِي بِأَنْ يَدْخُلَ نِصْفُ أُمَّتِي الْجَنَّةَ ، وَبَيْنَ الشَّفَاعَةِ ، وَإِنِّي اخْتَرْتُ الشَّفَاعَةَ " ، فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، نَنْشُدُكَ بِاللَّهِ وَالصُّحْبَةِ لَمَا جَعَلْتَنَا مِنْ أَهْلِ شَفَاعَتِكَ ؟ قَالَ : " فَأَنْتُمْ مِنْ أَهْلِ شَفَاعَتِي " ، قَالَ : فَلَمَّا رَكِبُوا ، قَالَ : " فَإِنِّي أُشْهِدُ مَنْ حَضَرَ أَنَّ شَفَاعَتِي لِمَنْ مَاتَ لا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا مِنْ أُمَّتِي """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عوف بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے رات کے وقت پڑاؤ کیا، ہم میں سے ہر شخص نے اپنی سواری کی بازو کو بچھا لیا (یعنی آرام کرنے لگا) راوی کہتے ہیں: رات کے کسی حصے میں، میں بیدار ہوا، میں نے دیکھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی کے سامنے کوئی موجود نہیں ہے۔ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو تلاش کرنے کے لئے نکلا تو مجھے سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ اور سیدنا عبداللہ بن قیس رضی اللہ عنہ کھڑے نظر آئے۔ میں نے دریافت کیا: اللہ کے رسول کہاں ہیں؟ ان دونوں نے جواب دیا: ہمیں نہیں معلوم، البتہ ہم نے وادی کے بالائی حصے کی طرف سے ایک آواز سنی ہے۔ وہ چکی چلنے کی آواز کی مانند تھی۔ راوی کہتے ہیں: ہم کچھ دیر وہیں ٹھہرے رہے، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے آپ نے ارشاد فرمایا: میرے پروردگار کی طرف سے ایک فرشتہ میرے پاس آیا اور اس نے مجھے میری اُمت کے نصف حصے کے حساب اور شفاعت کے بغیر جنت میں داخل ہو جانے (یا مطلق طور پر مجھے) شفاعت کرنے کے بارے میں اختیار دیا، تو میں نے شفاعت کو اختیار کر لیا۔ لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! ہم آپ کو اللہ کا واسطہ دے کر، اپنے ساتھ کا واسطہ دے کر یہ گزارش کرتے ہیں، آپ ہمیں بھی ان لوگوں میں شامل کر لیں، جو آپ کی شفاعت کے اہل ہوں گے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگ میری شفاعت کے اہل ہو گے۔ راوی بیان کرتے ہیں: جب وہ لوگ سوار ہوئے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میں یہاں موجود تمام لوگوں کو اس بات کا گواہ بناتا ہوں کہ میری شفاعت میری اُمت کے ہر فرد کو نصیب ہو گی، جو ایسی حالت میں مرے گا کہ وہ کسی کو اللہ کا شریک نہ سمجھتا ہو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الإيمان/حدیث: 211]

212

Sahih Ibn Hibban #212

ثُمَّ قَالَ : مَضَى شَطْرُ اللَّيْلِ أَوْ ثُلُثَاهُ ، يَنْزِلُ الِلَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا ، فَيَقُولُ : لا أَسْأَلُ عَنْ عِبَادِي غَيْرِي ، مَنْ ذَا الَّذِي يَسْأَلُنِي فَأُعْطِيَهُ ، مَنْ ذَا الَّذِي يَسْتَغْفِرُنِي فَأَغْفِرَ لَهُ ، مَنْ ذَا الَّذِي يَدْعُونِي فَأَسْتَجِيبَ لَهُ ، حَتَّى يَنْفَجِرَ الصُّبْحُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا رفاعہ بن عرابہ جہنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ مکہ سے واپس آ رہے تھے۔ لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت لینی شروع کی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اجازت عطا کرنا شروع کی، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”کیا وجہ ہے، اللہ کے رسول کی طرف والا درخت کا حصہ، تمہارے نزدیک دوسرے کے مقابلے میں زیادہ ناپسندیدہ ہے۔“ (یعنی تم لوگ میرے ساتھ نہیں چلنا چاہ رہے) راوی کہتے ہیں: حاضرین میں سے ہر شخص مجھے روتا ہوا نظر آیا۔ راوی کہتے ہیں: سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے یہ کہنا شروع کیا، میرے خیال میں اس کے بعد آپ سے جو شخص اجازت مانگے گا، وہ بے وقوف ہو گا۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے، آپ نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کی۔ آپ جب بھی قسم اٹھاتے تھے، تو یہ کہتے تھے: اس ذات کی قسم! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے۔“ (آپ نے فرمایا): ”میںاللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ تم میں سے جو شخص بھیاللہ تعالیٰ پر ایمان رکھتا ہو اس کے بعد وہ ٹھیک رہے۔ (یعنی اسلامی احکام پر عمل کرتا رہے) تو وہ شخص جنت میں داخل ہو گا۔ میرے پروردگار نے مجھ سے یہ وعدہ کیا ہے، وہ میری اُمت کے ستر ہزار افراد کو حساب اور عذاب کے بغیر جنت میں داخل کرے گا اور مجھے یہ امید ہے، وہ لوگ اس وقت تک جنت میں داخل نہیں ہوں گے، جب تک تم لوگ اور تمہارے نیک بیوی بچے جنت میں اپنے ٹھکانوں پر پہنچ نہیں جاتے۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی: ”جب نصف رات۔ (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) جب رات ہو جاتی ہے، تواللہ تعالیٰ آسمان دنیا کی طرف نزول کرتا ہے، اور فرماتا ہے: میں اپنے بندوں سے اپنے علاوہ کسی اور کے بارے میں دریافت نہیں کرتا۔ کون شخص ہے، جو مجھ سے مانگتا ہے، تو میں اسے عطا کروں۔ کون شخص ہے، جو مجھ سے مغفرت طلب کرے، تو میں اس کی مغفرت کر دوں۔ کون شخص ہے، جو مجھ سے دعا کرتا ہے، تو میں اس کی دعا قبول کروں۔“ (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:) ایسا صبح صادق تک ہوتا رہتا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الإيمان/حدیث: 212]

213

Sahih Ibn Hibban #213

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنُ بْنِ مُكْرَمٍ الْبَزَّارُ بِالْبَصْرَةِ ، حَدَّثَنَا خَلاّدُ بْنُ أَسْلَمَ ، حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ، وَسُلَيْمَانَ ، وَعَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ ، قَالُوا : سَمِعْنَا زَيْدَ بْنَ وَهْبٍ ، يُحَدِّثُ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَتَانِي جِبْرِيلُ ، فَبَشَّرَنِي أَنَّهُ مَنْ مَاتَ مِنْ أُمَّتِي لا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا دَخَلَ الْجَنَّةَ ، وَإِنْ زَنَى وَإِنْ سَرَقَ "قَالَ سُلَيْمَانُ : فَقُلْتُ لِزَيْدٍ : إِنَّمَا يُرْوَى هَذَا عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : قَوْلُهُ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ مَاتَ مِنْ أُمَّتِي لا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا دَخَلَ الْجَنَّةَ " يُرِيدُ بِهِ : إِلا أَنْ يَرْتَكِبَ شَيْئًا أَوْعَدْتُهُ عَلَيْهِ دُخُولَ النَّارِ ، وَلَهُ مَعْنًى آخَرُ : وَهُوَ أَنَّ مَنْ لَمْ يُشْرِكْ بِاللَّهِ شَيْئًا وَمَاتَ ، دَخَلَ الْجَنَّةَ لا مَحَالَةَ ، وَإِنْ عُذِّبَ قَبْلُ دُخُولِهِ إِيَّاهَا مُدَّةً مَعْلُومَةً"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ، روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: جبرائیل میرے پاس آئے اور انہوں نے مجھے یہ خوشخبری دی کہ میری اُمت کا جو بھی شخص ایسی حالت میں مرے گا کہ وہ کسی کو اللہ کا شریک نہ ٹھہراتا ہو، تو وہ جنت میں داخل ہو گا، اگرچہ اس نے زنا کا ارتکاب کیا ہو، اور اس نے چوری کی ہو۔“ سلیمان نامی راوی کہتے ہیں: میں نے زید نامی راوی سے کہا: یہ روایت تو سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نقل کی گئی ہے۔ امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان: ”میری امت کا جو شخص ایسی حالت میں مرے گا کہ وہ کسی کو اللہ کا شریک نہ ٹھہراتا ہو، تو وہ جنت میں داخل ہو گا۔“ اس سے مراد یہ ہے: اس نے کسی ایسی چیز کا ارتکاب نہ کیا ہو، جس کے حوالے سے میں نے جہنم میں داخل ہونے کی وعید سنائی ہو۔ اس کا دوسرا مطلب یہ ہو گا کہ جو شخص کسی کو اللہ کا شریک نہیں ٹھہراتا اور وہ اس حالت میں مر جاتا ہے وہ لامحالہ طور پر جنت میں داخل ہو گا، اگرچہ اس کے جنت میں داخل ہونے سے پہلے اسے ایک متعین مدت تک عذاب دیا جائے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الإيمان/حدیث: 213]

214

Sahih Ibn Hibban #214

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا ابْنُ ثَوْبَانَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ مَكْحُولٍ ، عَنْ مُعَاذْ بْنِ جَبَلٍ ، وَعَنْ عُمَيْرِ بْنِ هَانِئٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غَنْمٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ مُعَاذْ بْنَ جَبَلٍ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : قُلْتُ :حَدِّثْنِي بِعَمَلٍ يُدْخِلُنِي الْجَنَّةَ ، قَالَ : بَخٍ بَخٍ سَأَلْتَ عَنْ أَمْرٍ عَظِيمٍ ، وَهُوَ يَسِيرٌ لِمَنْ يَسَّرَهُ الِلَّهِ بِهِ ، تُقِيمُ الصَّلاةَ الْمَكْتُوبَةَ ، وَتُؤْتِي الزَّكَاةَ الْمَفْرُوضَةَ ، وَلا تُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا "قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ الِلَّهِ عَنْهُ : قَوْلُهُ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لا تُشْرِكْ بِاللَّهِ شَيْئًا " أَرَادَ بِهِ الأَمْرَ بِتَرْكِ الشِّرْكِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبدالرحمن بن غنم بیان کرتے ہیں: انہوں نے سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہوئے سنا، سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے عرض کی: آپ مجھے ایسے کسی عمل کے بارے میں بتائیے، جو مجھے جنت میں داخل کر دے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم نے بڑی چیز کے بارے میں دریافت کیا ہے اور یہ اس کے لئے آسان ہے، جس کے لئےاللہ تعالیٰ اسے آسان کر دے۔ ”تم فرض نمازیں ادا کرو، زکوۃ ادا کرو اور (کسی کو) اللہ کا شریک نہ ٹھہراؤ۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان: ”تم کسی کو اللہ کا شریک نہ ٹھہراؤ“ اس سے مراد شرک کو ترک کرنے کا حکم دینا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الإيمان/حدیث: 214]

215

Sahih Ibn Hibban #215

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَضْحَكُ الِلَّهِ إِلَى رَجُلَيْنِ يَقْتُلُ أَحَدُهُمَا الآخَرَ ، وَكِلاهُمَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ : يُقَاتِلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَيُقْتَلُ ، ثُمَّ يَتُوبُ الِلَّهِ عَلَى الْقَاتِلِ ، فَيُقَاتِلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَيُسْتَشْهَدُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”اللہ تعالیٰ ایسے دو آدمیوں پر مسکرا دیتا ہے، جن میں سے ایک دوسرے کو قتل کر دیتا ہے، اور وہ دونوں جنت میں داخل ہوں گے۔ ایک شخص اللہ کی راہ میں جہاد کرتے ہوئے قتل ہو جاتا ہے، پھراللہ تعالیٰ قاتل کو توبہ کی توفیق دیتا ہے، اور وہ بھی اللہ کی راہ میں جہاد کرتے ہوئے جام شہادت نوش کر لیتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الإيمان/حدیث: 215]

216

Sahih Ibn Hibban #216

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ الْكَلاعِيُّ بِحِمْصَ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ أَبَا هُرَيرَةَ ، قَالَ : لَمَّا تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ الِلَّهِ عَنْهُ بَعْدَهُ ، وَكَفَرَ مَنْ كَفَرَ مِنَ الْعَرَبِ ، قَالَ عُمَرُ : يَا أَبَا بَكْرٍ ، كَيْفَ تُقَاتِلُ النَّاسَ وَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا : لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ ، فَمَنْ قَالَ : لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ ، عَصَمَ مِنِّي مَالَهُ وَنَفْسَهُ إِلا بِحَقِّهِ ، وَحِسَابُهُ عَلَى اللَّهِ " ؟ قَالَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ الِلَّهِ عَنْهُ : وَاللَّهِ لأُقَاتِلَنَّ مَنْ فَرَّقَ بَيْنَ الصَّلاةِ وَالزَّكَاةِ ، فَإِنَّ الزَّكَاةَ مِنْ حَقِّ الْمَالِ ، وَوَاللَّهِ لَوْ مَنَعُونِي عَنَاقًا كَانُوا يُؤَدُّونَهُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، لَقَاتَلْتُهُمْ عَلَى مَنْعِهَا " قَالَ عُمَرُ : فَوَاللَّهِ مَا هُوَ إِلا أَنْ رَأَيْتُ أَنَّ اللَّهَ قَدْ شَرَحَ صَدْرَ أَبِي بَكْرٍ لِلْقِتَالِ عَرَفْتُ أَنَّهُ الْحَقُّ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبیداللہ بن عبداللہ بیان کرتے ہیں: سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے یہ بات بیان کی ہے: جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہو گیا اور آپ کے بعد سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ خلیفہ بنے، تو عربوں سے تعلق رکھنے والے کچھ لوگوں نے کفر کیا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اے سیدنا ابوبکر! آپ لوگوں کے ساتھ کیسے جنگ کریں گے؟ جبکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”مجھے اس بات کا حکم دیا گیا ہے، میں لوگوں کے ساتھ اس وقت تک جنگ کروں، جب تک وہ یہ اعتراف نہ کر لیں کہاللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے جو شخص یہ کہہ دے:اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے، تو وہ اپنے مال اور اپنی جان کو مجھ سے محفوظ کر لیں گے، البتہ اس کے حق کا معاملہ مختلف ہے، اس کا حساب اللہ کے ذمے ہو گا۔“ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ کی قسم! میں ایسے شخص کے ساتھ جنگ کروں گا، جو نماز اور زکوۃ کے درمیان فرق کرے گا۔ بے شک زکوۃ مال کا حق ہے اللہ کی قسم! اگر وہ مجھے کوئی ایسا بکری کا بچہ دینے سے انکار کریں، جو وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ادا کیا کرتے تھے، تو میں ان کے اس انکار کرنے پر بھی ان سے جنگ کروں گا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے اندازہ لگا لیا کہ جنگ کے حوالے سےاللہ تعالیٰ نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو شرح صدر عطا کیا ہے، اور مجھے یہ پتہ چل گیا کہ یہی بات درست ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الإيمان/حدیث: 216]

217

Sahih Ibn Hibban #217

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ عَقِيلٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيرَةَ ، قَالَ : لَمَّا تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَاسْتُخْلِفَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ الِلَّهِ عَنْهُ ، وَكَفَرَ مَنْ كَفَرَ مِنَ الْعَرَبِ ، قَالَ عُمَرُ رَضِيَ الِلَّهِ عَنْهُ لأَبِي بَكْرٍ : كَيْفَ تُقَاتِلُ النَّاسَ وَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا : لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ ، فَمَنْ قَالَ : لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ ، عَصَمَ مِنِّي مَالَهُ وَنَفْسَهُ إِلا بِحَقِّهِ ، وَحِسَابُهُ عَلَى اللَّهِ " ؟ قَالَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ الِلَّهِ عَنْهُ : وَاللَّهِ لأُقَاتِلَنَّ مَنْ فَرَّقَ بَيْنَ الصَّلاةِ وَالزَّكَاةِ ، فَإِنَّ الزَّكَاةَ حَقُّ الْمَالِ ، وَاللَّهِ لَوْ مَنَعُونِي عِقَالا كَانُوا يُؤَدُّونَهُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، لَقَاتَلْتُهُمْ عَلَى مَنْعِهِ ، قَالَ عُمَرُ : فَوَاللَّهِ مَا هُوَ إِلا أَنْ رَأَيْتُ اللَّهَ شَرَحَ صَدْرَ أَبِي بَكْرٍ لِلْقِتَالِ عَرَفْتُ أَنَّهُ الْحَقُّ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہو گیا اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ خلیفہ بن گئے اور عربوں سے تعلق رکھنے والے کچھ لوگوں نے کفر کیا، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہا: آپ ان لوگوں کے ساتھ کیسے جنگ کریں گے؟ جب کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”مجھے اس بات کا حکم دیا گیا ہے، میں لوگوں کے ساتھ اس وقت تک جنگ کرتا رہوں، جب تک وہ یہ نہیں کہہ دیتے کہاللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے، جو شخص یہ کہہ دے:اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے۔ وہ اپنے مال اور اپنی جان کو مجھ سے محفوظ کر لے گا، البتہ اس کے حق کا معاملہ مختلف ہے۔ اور اس شخص کا حساباللہ تعالیٰ کے ذمے ہو گا۔“ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: اللہ کی قسم! میں ایسے شخص کے ساتھ ضرور جنگ کروں گا، جو نماز اور زکوۃ کے درمیان فرق کرے گا۔ بے شک زکوۃ مال کا حق ہے۔ اللہ کی قسم! اگر وہ مجھے کوئی ایسی رسی دینے سے انکار کر دیں، جو وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ادا کیا کرتے تھے، تو میں ان کے اس انکار کرنے پر بھی ان سے جنگ کروں گا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اللہ کی قسم! میں نے اندازہ لگا لیا کہاللہ تعالیٰ نے جنگ کے حوالے سے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو شرح صدر عطا کیا ہے، اور مجھے یہ پتہ چل گیا کہ یہ موقف درست ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الإيمان/حدیث: 217]

218

Sahih Ibn Hibban #218

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ الْكَلاعِيُّ بِحِمْصَ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ ، أَنَّ أَبَا هُرَيرَةَ أَخْبَرَهُ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا : لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ ، فَمَنْ قَالَ : لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ ، فَقَدْ عَصَمَ مِنِّي نَفْسَهُ وَمَالَهُ إِلا بِحَقِّهِ ، وَحِسَابُهُ عَلَى اللَّهِ ، وَأَنْزَلَ الِلَّهِ فِي كِتَابِهِ ، فَذَكَرَ قَوْمًا اسْتَكْبَرُوا ، فَقَالَ : إِنَّهُمْ كَانُوا إِذَا قِيلَ لَهُمْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ يَسْتَكْبِرُونَ ، وَقَالَ : إِذْ جَعَلَ الَّذِينَ كَفَرُوا فِي قُلُوبِهِمُ الْحَمِيَّةَ حَمِيَّةَ الْجَاهِلِيَّةِ فَأَنْزَلَ اللَّهُ سَكِينَتَهُ عَلَى رَسُولِهِ وَعَلَى الْمُؤْمِنِينَ وَأَلْزَمَهُمْ كَلِمَةَ التَّقْوَى ، وَهِيَ : لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ ، وَمُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ "، اسْتَكْبَرَ عَنْهَا الْمُشْرِكُونَ يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”مجھے اس بات کا حکم دیا گیا ہے، میں لوگوں کے ساتھ اس وقت تک جنگ کرتا رہوں، جب تک وہ یہ نہیں کہہ دیتے کہاللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے، جو شخص یہ کہہ دے کہاللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے، وہ اپنی جان اور اپنے مال کو مجھ سے محفوظ کر لے گا، البتہ اس کے حق کا معاملہ مختلف ہے، اور اس شخص کا حساباللہ تعالیٰ کے ذمے ہو گا۔“ تواللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں آیت نازل کی۔اللہ تعالیٰ نے ایک ایسی قوم کا تذکرہ کیا جنہوں نے تکبر اختیار کیااللہ تعالیٰ نے فرمایا: ”بے شک یہ وہ لوگ ہیں، جب ان سے یہ کہا: جائے کہاللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے، تو یہ لوگ تکبر کرتے ہیں۔“اللہ تعالیٰ نے یہ بات بھی ارشاد فرمائی ہے: ”جن لوگوں کے دلوں میں کفر تھا، جب انہوں نے وہ ہٹ دھرمی اختیار کی جو زمانہ جاہلیت کی تھی تواللہ تعالیٰ نے اپنے رسول اور اہل ایمان پر سکینت نازل کی اور انہیں تقوی کے کلمے پر لازم کر دیا۔“ (سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:) یہاں تقویٰ کے کلمے سے مراد یہ کہنا ہے،اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے، اور سیدنا محمد، اللہ کے رسول ہیں۔ مشرکین نے حدیبیہ کے موقع پر اس بارے میں تکبر کا اظہار کیا تھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الإيمان/حدیث: 218]

219

Sahih Ibn Hibban #219

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيَمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَرْعَرَةَ ، حَدَّثَنَا حَرَمِيُّ بْنُ عُمَارَةَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ وَاقَدْ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَشْهَدُوا أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ ، وَيُقِيمُوا الصَّلاةَ ، وَيُؤْتُوا الزَّكَاةَ ، فَفَعَلُوا ذَلِكَ عَصَمُوا مَنَي دِمَاءَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ إِلا بِحَقِّ الإِسْلامِ ، وَحِسَابُهُمْ عَلَى اللَّهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ، روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”مجھے اس بات کا حکم دیا گیا ہے، میں لوگوں کے ساتھ اس وقت تک جنگ کرتا رہوں، جب تک وہ اس بات کی گواہی نہیں دیتے کہاللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے، اور میں اللہ کا رسول ہوں اور وہ نماز قائم کریں، اور زکوۃ ادا کریں جب وہ ایسا کر لیں گے، تو وہ اپنی جانیں اور مال مجھ سے محفوظ کر لیں گے، البتہ اسلام کے حق کا معاملہ مختلف، اور ان لوگوں کا حساباللہ تعالیٰ کے ذمہ ہو گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الإيمان/حدیث: 219]

220

Sahih Ibn Hibban #220

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ ، حَدَّثَنَا الدَّرَاوَرْدِيُّ ، عَنِ الْعَلاءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا : لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ ، وَآمَنُوا بِي وَبِمَا جِئْتُ بِهِ ، فَفَعَلُوا ذَلِكَ عَصَمُوا مَنَي دِمَاءَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ إِلا بِحَقِّهَا ، وَحِسَابُهُمْ عَلَى اللَّهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”مجھے اس بات کا حق دیا گیا ہے، میں ان لوگوں کے ساتھ اس وقت تک جنگ کرتا رہوں، جب تک وہ یہ اعتراف نہیں کر لیتے کہاللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے۔ وہ لوگ مجھ پر اور جو کچھ میں لے کر آیا ہوں اس پر ایمان نہیں لے آتے، جب وہ ایسا کریں گے، تو وہ اپنی جانیں اور اپنے مال محفوظ کر لیں گے، البتہ ان کے حق کا معاملہ مختلف ہے، اور ان لوگوں کا حساباللہ تعالیٰ کے ذمے ہو گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الإيمان/حدیث: 220]

221

Sahih Ibn Hibban #221

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيَمَ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ شُعَيْبٍ ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ ، حَدَّثَنِي الْمُطَّلِبُ بْنُ حَنْطَبٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَمْرَةَ الأَنْصَارِيِّ ، عَنْ أبيه ، قَالَ : كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةٍ ، فَأَصَابَ النَّاسَ مَخْمَصَةٌ شَدِيدَةٌ ، فَاسْتَأذْنُوا رَسُولَ اللَّهِ فِي نَحْرِ بَعْضِ ظَهْرِهِمْ ، فَقَالَ عُمَرُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَكَيْفَ بِنَا لَقِينَا عَدُوَّنَا جِيَاعًا رَجَّالَةً ؟ وَلَكِنْ إِنْ رَأَيْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنْ تَدْعُوَ النَّاسَ بِبَقِيَّةِ أَزْوِدَتِهِمْ ، فَجَاؤُوا بِهِ ، يَجِيءُ الرَّجُلُ بِالْحَفْنَةِ مِنَ الطَّعَامِ وَفَوْقَ ذَلِكَ ، وَكَانَ أَعْلاهُمُ الَّذِي جَاءَ بِالصَّاعِ مِنَ التَّمْرِ ، فَجَمَعَهُ عَلَى نِطَعٍ ، ثُمَّ دَعَا اللَّهَ بِمَا شَاءَ الِلَّهِ أَنْ يَدْعُوَ ، ثُمَّ دَعَا النَّاسَ بِأَوْعِيَتِهِمْ ، فَمَا بَقِيَ فِي الْجَيْشِ وِعَاءٌ إِلا مَمْلُوءٌ وَبَقِيَ مِثْلُهُ ، فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى بَدَتْ نَوَاجِذُهُ ، ثُمَّ قَالَ : أَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ ، وَأَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ ، وَأَشْهَدُ عِنْدَ اللَّهِ لا يَلْقَاهُ عَبْدٌ مُؤْمِنٌ بِهِمَا إِلا حَجَبَتَاهُ عَنِ النَّارِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ "أَبُو عَمْرَةَ الأَنْصَارِيُّ هَذَا : اسْمُهُ ثَعْلَبَةُ بْنُ عَمْرِو بْنِ مِحْصَنٍ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبدالرحمن بن ابوعمره انصاری اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: ہم ایک غزوہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، لوگوں کو لو شدید بھوک لاحق ہو گئی۔ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت مانگی کہ وہ اپنے سواری کے بعض جانور قربان کر دیں۔ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ! اگر ہم بھوک کے عالم میں پیادہ ہو کر دشمن کا سامنا کریں گے، تو پھر ہمارا کیا بنے گا۔ یا رسول اللہ! اگر آپ مناسب سمجھیں، تو آپ لوگوں کو کہیں، ان کے پاس جو کچھ بھی کھانے پینے کی چیز بچی ہوئی ہے، وہ لے آئیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ حکم دے دیا) تو لوگ وہ چیزیں لانے لگے، ایک شخص ایک مٹھی اناج یا اس سے زیادہ لے آیا۔ جو شخص سب سے زیادہ لے کر آیا تھا، وہ ایک صاع کھجور لے کر آیا تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سب کو ایک دسترخوان پر جمع کروایا، پھر جواللہ تعالیٰ کو منظور تھا، وہ آپ نےاللہ تعالیٰ سے دعا مانگی، پھر آپ نے لوگوں کو بلایا کہ وہ اپنے برتن لے آئیں اور آپ نے وہ اناج ان میں ڈالنا شروع کیا، تو لشکر میں موجود کوئی برتن ایسا باقی نہیں رہا، جو بھر نہ گیا ہو، اور وہ اناج پھر اتنا ہی باقی رہ گیا۔ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا دیئے یہاں تک کہ آپ کے اطراف کے دانت نظر آنے لگے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی: ”میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہاللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے، اور میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ میں اللہ کا رسول ہوں اور میںاللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ جو مومن بندہاللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں ان دو باتوں کے ہمراہ حاضر ہو گا، تو یہ دونوں چیزیں اس شخص کے لئے قیامت کے دن جہنم سے بچاؤ کا ذریعہ بن جائیں گی۔“ سیدنا ابوعمرہ انصاری کا نام ثعلبہ بن عمرو بن محصن ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الإيمان/حدیث: 221]""

222

Sahih Ibn Hibban #222

أَخْبَرَنَا وَصِيفُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ بِأَنْطَاكِيَةَ ، حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْمُرَادِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى الْمَازِنِيِّ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : يَدْخُلُ أَهْلُ الْجَنَّةِ الْجَنَّةَ ، وَيَدْخُلُ أَهْلُ النَّارِ النَّارَ ، ثُمَّ يَقُولُ جَلَّ وَعَلا : انْظُرُوا مَنَ وَجَدْتُمْ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِنْ خَرْدَلٍ مِنَ الإِيمَانِ فَأَخْرِجُوهُ " ، قَالَ : " فَيَخْرُجُونَ مِنْهَا حُمَمًا بَعْدَمَا امْتَحَشُوا ، فَيُلْقَوْنَ فِي نَهْرِ الْحَيَاةِ ، فَيَنْبُتُونَ فِيهِ كَمَا تَنْبُتُ الْحَبَّةُ إِلَى جَانِبِ السَّيْلِ " ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَلَمْ تَرَوْهَا كَيْفَ تَخْرُجُ صَفْرَاءَ مُلْتَوِيَةً """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”اہل جنت، جنت میں داخل ہو جائیں گے، اہل جہنم، جہنم میں داخل ہو جائیں گے، پھراللہ تعالیٰ فرمائے گا: تم ان لوگوں کا جائزہ لو جس شخص کے دل میں رائی کے دانے کے برابر بھی ایمان تمہیں مل جائے اسے (جہنم میں سے) نکال دو۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: تو وہ لوگ جہنم سے یوں نکلیں گے کہ وہ جلنے کے بعد کوئلہ ہو چکے ہوں گے۔ انہیں نہر حیات میں ڈالا جائے گا، تو وہ اس میں سے یوں پھوٹ پڑیں گے، جس طرح سیلابی پانی کے کنارے پر دانہ پھوٹ پڑتا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کیا تم نے اسے دیکھا نہیں ہے، وہ کس طرح زرد رنگ کا ہوتا ہے، اور ادھر ادھر لہرا رہا ہوتا ہے؟ [صحیح ابن حبان/كتاب الإيمان/حدیث: 222]

223

Sahih Ibn Hibban #223

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَّ مَحْمُودَ بْنَ الرَّبِيعِ الأَنْصَارِيَّ أَخْبَرَهُ ، أَنَّ عِتْبَانَ بْنَ مَالِكٍ وَهُوَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، مِمَّنْ شَهِدَ بَدْرًا مِنَ الأَنْصَارِ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي أَنْكَرْتُ بَصَرِي ، وَأَنَا أُصَلِّي لِقَوْمِي ، وَكَانَ الأَمْطَارُ ، سَالَ الْوَادِي الَّذِي بَيْنِي وَبَيْنَهُمْ ، وَلَمْ أَسْتَطِعْ أَنْ آتِيَ مَسْجِدَهُمْ ، فَأُصَلِّيَ لَهُمْ ، وَدِدْتُ أَنَّكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ تَأْتِي فَتُصَلِّي فِي بَيْتِي أَتَّخِذُهُ مُصَلًّى ، قَالَ : فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : سَأَفْعَلُ " ، قَالَ عِتْبَانُ : فَغَدَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ حِينَ ارْتَفَعَ النَّهَارُ ، فَاسْتَأْذَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَذِنْتُ لَهُ ، فَلَمْ يَجْلِسْ حَتَّى دَخَلَ الْبَيْتَ ، ثُمَّ قَالَ : " أَيْنَ تُحِبُّ أَنْ أُصَلِّيَ مِنْ بَيْتِكَ ؟ " قَالَ : فَأَشَرْتُ إِلَى نَاحِيَةٍ مِنَ الْبَيْتِ ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَبَّرَ ، وَقُمْنَا وَرَاءَهُ ، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ سَلَّمَ ، قَالَ : وَحَبَسْنَاهُ عَلَى خَزِيرَةٍ صَنَعْنَاهَا لَهُ ، قَالَ فَثَابَ رِجَالٌ مِنْ أَهْلِ الدَّارِ حَوْلَهُ ، حَتَّى اجْتَمَعَ فِي الْبَيْتِ رِجَالٌ ذَوُو عَدَدٍ ، قَالَ قَائِلٌ مِنْهُمْ : أَيْنَ مَالِكُ بْنُ الدُّخْشُنِ ؟ فَقَالَ بَعْضُهُمْ : ذَاكَ مُنَافِقٌ ، وَلا يُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لا تَقُلْ لَهُ ذَلِكَ ، أَلا تَرَاهُ قَدْ قَالَ : لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ ، يُرِيدُ بِذَلِكَ وَجْهَ اللَّهِ ؟ " قَالُوا : الِلَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ ، إِنَّمَا نَرَى وَجْهَهُ وَنَصِيحَتَهُ لِلْمُنَافِقِينَ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّاللَّهَ جَلَّ وَعَلا حَرَّمَ عَلَى النَّارِ مَنْ قَالَ : لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ ، يَبْتَغِي بِهِ وَجْهَ اللَّهِ "، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ : ثُمَّ سَأَلْتُ الْحُصَيْنَ بْنَ مُحَمَّدٍ الأَنْصَارِيَّ وَهُوَ أَحَدُ بَنِي سَالِمٍ ، وَهُوَ مِنْ سَرَاتِهِمْ عَنْ حَدِيثِ مَحْمُودِ بْنِ الرَّبِيعِ فَصَدَّقَهُ بِذَلِكَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا محمود بن ربیع انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی سیدنا عتبان بن مالک رضی اللہ عنہ، ان کا تعلق انصار سے ہے، اور انہیں غزوہ بدر میں شرکت کا شرف حاصل ہے، وہ ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! میری بینائی کمزور ہو گئی ہے۔ میں اپنے محلے کے لوگوں کو نماز پڑھاتا ہوں، جب بارش ہوتی ہے، تو نشیبی حصے میں میرے اور ان لوگوں کے درمیان پانی بہنے لگتا ہے، تو میں ان کی مسجد تک نہیں آ سکتا کہ انہیں جا کر نماز پڑھاؤں اس لئے یا رسول اللہ! میں یہ چاہتا ہوں کہ آپ (میرے ہاں) تشریف لائیں اور میرے گھر میں کسی جگہ آپ نماز ادا کریں، تاکہ میں اس جگہ کو جائے نماز بنا لوں۔ راوی بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میں عنقریب ایسا کروں گا۔ سیدنا عتبان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: اگلے دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ دن چڑھنے کے بعد تشریف لائے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اندر آنے کی اجازت طلب کی۔ میں نے آپ کی خدمت میں اجازت پیش کی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم گھر میں داخل ہونے کے بعد پہلے تشریف فرما نہیں ہوئے۔ آپ نے ارشاد فرمایا: تم اپنے گھر میں کہاں یہ پسند کرتے ہو کہ میں وہاں نماز ادا کروں؟ راوی کہتے ہیں: میں نے گھر کے ایک گوشے کی طرف اشارہ کیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم وہاں کھڑے ہوئے آپ نے تکبیر کی۔ ہم آپ کے پیچھے کھڑے ہو گئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعات نماز پڑھائی اور آپ نے سلام پھیر دیا۔ راوی کہتے ہیں: ہم نے آپ کو خزیرہ (مخصوص قسم کا کھانا) کھانے کے لئے روک لیا، جو ہم نے آپ کے لئے تیار کیا تھا۔ راوی کہتے ہیں، محلے کے کچھ لوگ بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارد گرد اکٹھے ہو گئے۔ یہاں تک کہ گھر میں متعدد افراد اکٹھے ہو گئے۔ ان میں سے ایک شخص نے کہا: مالک بن ذخشن کہاں ہے؟ تو کسی دوسرے نے کہا: وہ منافق ہے، وہ اللہ اور اس کے رسول سے محبت نہیں رکھتا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص سے فرمایا: تم اس کے بارے میں یہ بات نہ کہو، کیا تم نے اسے دیکھا نہیں ہے، اس نے یہ کہا: ہے،اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے۔ اس نےاللہ تعالیٰ کی رضا مندی کے لئے یہ کلمہ پڑھا ہے۔ لوگوں نے عرض کی: اللہ اور اس کا رسول زیادہ بہتر جانتے ہیں۔ ہم نے تو یہ بات نوٹ کی ہے، اس کی توجہ اور اس کی خیر خواہی منافقین کے لئے ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”بے شکاللہ تعالیٰ نے ایسے شخص پر جہنم کو حرام قرار دے دیا ہے، جواللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے حصول کے لئے ”لا الہ الا اللہ“ پڑھتا ہے۔“ ابن شہاب کہتے ہیں: میں نے حصین بن محمد انصاری سے سوال کیا: یہ بنو سالم سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب ہیں، اور ان کے اکابرین میں سے ہیں۔ ان سے میں نے سیدنا محمود بن ربیع رضی اللہ عنہ کی روایت کے بارے میں دریافت کیا: تو انہوں نے اس روایت کی تصدیق کی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الإيمان/حدیث: 223]""

224

Sahih Ibn Hibban #224

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْغَفَّارِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الزُّبَيْرِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيَمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ أَحَدٌ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ حَبَّةِ خَرْدَلٍ مِنْ كِبْرٍ ، وَلا يَدْخُلُ النَّارَ مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ حَبَّةُ خَرْدَلٍ مِنْ إِيمَانٍ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ، روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”جنت میں ایسا کوئی شخص داخل نہیں ہو گا، جس کے دل میں رائی کے دانے کے وزن جتنا تکبر ہو گا اور جہنم میں وہ شخص داخل نہیں ہو گا، جس کے دل میں رائی کے دانے جتنا ایمان ہو گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الإيمان/حدیث: 224]

225

Sahih Ibn Hibban #225

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْجُنَيْدِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَامِرُ بْنُ يَحْيَى ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَعَافِرِيِّ الْحُبُلِيِّ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّاللَّهَ سَيُخَلِّصُ رَجُلا مِنْ أُمَّتِي عَلَى رُءُوسِ الْخَلائِقِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، فَيَنْشُرُ عَلَيْهِ تِسْعَةً وَتِسْعِينَ سِجِلا ، كُلُّ سِجِلٍّ مَدُّ الْبَصَرِ ، ثُمَّ يَقُولُ لَهُ : أَتُنْكِرُ شَيْئًا مِنْ هَذَا ؟ أَظَلَمَكَ كَتَبَتِي الْحَافِظُونَ ؟ فَيَقُولُ : لا يَا رَبِّ ، فَيَقُولُ : أَفَلَكَ عُذْرٌ أَوْ حَسَنَةٌ ؟ فَيُبْهَتُ الرَّجُلُ وَيَقُولُ : لا يَا رَبِّ ، فَيَقُولُ : بَلَى ، إِنَّ لَكَ عِنْدَنَا حَسَنَةً ، وَإِنَّهُ لا ظُلْمَ عَلَيْكَ الْيَوْمَ ، فَيُخْرِجُ لَهُ بِطَاقَةً فِيهَا : أَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ ، فَيَقُولُ : احْضُرْ وَزْنَكَ ، فَيَقُولُ : يَا رَبِّ ، مَا هَذِهِ الْبِطَاقَةُ مَعَ هَذِهِ السِّجِلاتِ ؟ فَيَقُولُ : إِنَّكَ لا تُظْلَمُ ، قَالَ : فَتُوضَعُ السِّجِلاتُ فِي كِفَّةٍ ، وَالْبِطَاقَةُ فِي كِفَّةٍ ، فَطَاشَتَ السِّجِلاتُ ، وَثَقُلَتَ الْبِطَاقَةُ ، قَالَ : فَلا يَثْقُلُ اسْمَ اللَّهِ شَيْءٌ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ، روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”بے شکاللہ تعالیٰ قیامت کے دن میری امت کے ایک فرد کو تمام مخلوق میں سے الگ کرے گا، پھر اس کے سامنے ننانوے رجسٹر کھول دے گا۔ ان میں سے ہر ایک اتنا بڑا ہو گا جہاں تک نگاہ کام کرتی ہے۔ پھر ارشاد فرمائے گا: کیا تم اس میں سے کسی چیز کا انکار کرتے ہو؟ کیا نوٹ کرنے والے محافظ فرشتوں نے تمہارے ساتھ کوئی زیادتی کی ہے؟ وہ جواب دے گا: جی نہیں۔ اے میرے پروردگار!اللہ تعالیٰ فرمائے گا: کیا تمہارے پاس کوئی عذر ہے یا نیکی ہے؟ تو وہ شخص مبہوت ہو جائے گا اور عرض کرے گا: اے میرے پروردگار! جی نہیں۔اللہ تعالیٰ فرمائے گا: جی ہاں! تمہاری ایک نیکی ہمارے پاس ہے، اور آج کے دن تم پر کوئی ظلم نہیں کیا جائے گا۔ پھر اس شخص کے سامنے کاغذ کا ایک ٹکڑا نکالا جائے گا، جس میں یہ تحریر ہو گا۔ ”میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہاللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے، اور بے شک سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔“اللہ تعالیٰ فرمائے گا: میزان کے پاس آ جاؤ، وہ بندہ عرض کرے گا: اے میرے پروردگار! ان رجسٹروں کے مقابلے میں اس کاغذ کی کیا حیثیت ہے؟اللہ تعالیٰ فرمائے گا: تمہارے ساتھ کوئی زیادتی نہیں ہو گی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: تو وہ تمام رجسٹر ایک پلڑے میں رکھے جائیں گے اور وہ کاغذ کا ٹکڑا دوسرے پلڑے میں رکھا جائے گا، تو رجسٹروں والا پلڑا اوپر چلا جائے گا اور کاغذ کے ٹکڑے والا پلڑا بھاری ہو جائے گا۔ تواللہ تعالیٰ فرمائے گا (یا شاید نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی یا شاید کسی راوی کے یہ الفاظ ہیں) ”اللہ تعالیٰ کے اسم سے زیادہ وزنی اور کوئی چیز نہیں ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الإيمان/حدیث: 225]

226

Sahih Ibn Hibban #226

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ الْمَكِّيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، عَنْ شَرِيكٍ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ ، عَنِ الْمَعْرُورِ بْنِ سُوَيْدٍ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : قَالَ الِلَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى : يَا ابْنَ آدَمَلَوْ لَقِيتَنِي بِمِثْلِ الأَرْضِ خَطَايَا لا تُشْرِكُ بِي شَيْئًا ، لَقِيتُكَ بِمِلْءِ الأَرْضِ مَغْفِرَةً """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”اللہ تعالیٰ یہ فرماتا ہے: اے آدم کے بیٹے! اگر تم زمین جتنی خطائیں لے کر میری بارگاہ میں حاضر ہو، لیکن تم کسی کو میرے ساتھ شریک نہ ٹھہراتے ہو، تو میں زمین جتنی مغفرت کے ہمراہ تم سے ملاقات کروں گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الإيمان/حدیث: 226]

227

Sahih Ibn Hibban #227

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْجُنَيْدِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ صَالِحِ بْنِ صَالِحٍ الْهَمْدَانِيِّ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، قَالَ : رَأَيْتُ رَجُلا مِنْ أَهْلِ خُرَاسَانَ أَتَاهُ ، فَقَالَ : يَا أَبَا عَمْرٍو إِنَّ مَنْ قَبْلُنَا مِنْ أَهْلِ خُرَاسَانَ ، يَقُولُونَ : عَتَقَ الرَّجُلُ أَمَتَهُ ثُمَّ تَزَوَّجَهَا ، فَهُوَ كَالرَّاكِبِ بَدَنَتَهُ ، فَقَالَ الشَّعْبِيُّ ، حَدَّثَنِي أَبُو بُرْدَةَ ، عَنْ أبيه ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : ثَلاثَةٌ يُؤْتَوْنَ أَجْرَهُمْ مَرَّتَيْنِ : رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ آمَنَ بِنَبِيِّهِ ، ثُمَّ أَدْرَكَ النَّبِيَّ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَآمَنَ بِهِ وَاتَّبَعَهُ ، فَلَهُ أَجْرَانِ ، وَعَبْدٌ مَمْلُوكٌ يُؤَدِّي حَقَّ اللَّهِ جَلَّ وَعَلا عَلَيْهِ ، وَحَقَّ الَّذِي عَلَيْهِ لِمَوْلاهُ ، فَلَهُ أَجْرَانِ ، وَرَجُلٌ كَانَتْ لَهُ أَمَةٌ ، فَغَذَّاهَا فَأَحْسَنَ غِذَاءَهَا ، وَأَدَّبَهَا فَأَحْسَنَ أَدَبَهَا ، ثُمَّ أَعْتَقَهَا وَتَزَوَّجَهَا ، فَلَهُ أَجْرَانِ "قَالَ الشَّعْبِيُّ لِلْخُرَاسَانِيِّ : خُذْ هَذَا الْحَدِيثَ بِغَيْرِ شَيْءٍ ، فَقَدْ كَانَ الرَّجُلُ يَرْحَلُ إِلَى الْمَدِينَةِ فِيمَا هُوَ دُونَهُ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

صالح ہمدانی، امام شعبی کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں: میں نے خراسان سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کو دیکھا کہ وہ امام شعبی کے پاس آیا اور بولا: اے ابوعمرو! ہماری طرف اہل خراسان اس بات کے قائل ہیں، جب کوئی شخص اپنی کنیز کو آزاد کر کے پھر اس کے ساتھ شادی کرے، تو اس کی مثال ایسے شخص کی مانند ہے، جو اپنے قربانی کے جانور پر سوار ہو جاتا ہے، تو امام شعبی نے بتایا: ابوبردہ نے اپنے والد (سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ بات نقل کی ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”تین لوگ ایسے ہیں، جنہیں دگنا اجر عطا کیا جائے گا۔ اہل کتاب سے تعلق رکھنے والا وہ شخص جو اپنے نبی پر ایمان لائے، اور پھر وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ پا کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر بھی ایمان لے آئے اور آپ کی پیروی کرے، تو اسے دگنا اجر ملے گا۔ ایک وہ غلام جواللہ تعالیٰ کا اپنے ذمے حق ادا کرے اور اپنے ذمے اپنے آقا کا بھی حق ادا کرے اسے بھی دگنا اجر ملے گا۔ اور ایک وہ شخص جس کی کوئی کنیز ہو، وہ اسے اچھی خوراک فراہم کرے۔ اس کی اچھی تعلیم و تربیت کرے، پھر اسے آزاد کر کے اس کے ساتھ شادی کرے، تو اس کو دگنا اجر ملے گا۔“ امام شعبی نے خراسان کے رہنے والے اس شخص سے کہا: تم کسی معاوضے کے بغیر اس حدیث کو حاصل کر لو، ورنہ پہلے اس سے کم (مضمون والی) روایت کے لئے مدینہ منورہ تک سفر کر کے جانا پڑتا تھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الإيمان/حدیث: 227]

228

Sahih Ibn Hibban #228

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هُمَامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَحْسَنَ أَحَدُكُمْ إِسْلامَهُ ، فَكُلُّ حَسَنَةٍ يَعْمَلُهَا بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا إِلَى سَبْعِ مِائَةِ ضِعْفٍ ، وَكُلُّ سَيِّئَةٍ يَعْمَلُهَا يُكْتَبُ لَهُ مِثْلُهَا حَتَّى يَلْقَى اللَّهَ جَلَّ وَعَلا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نے روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”جب کسی شخص کا اسلام اچھا ہو جائے، تو وہ جو بھی نیکی کرتا ہے، اس کا اجر اسے دس گنا سے لے کر سات سو گنا تک ملتا ہے، اور ہر برائی جس کا وہ ارتکاب کرتا ہے، وہ ایک برائی کے طور پر نوٹ کی جاتی ہے، یہاں تک کہ وہ شخصاللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہو جاتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الإيمان/حدیث: 228]

229

Sahih Ibn Hibban #229

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْقَطَّانُ بِالرَّقَّةِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ شُعَيْبٍ ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ ، عَنْ قُرَّةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّمِنْ حُسْنِ إِسْلامِ الْمَرْءِ تَرْكُهُ مَا لا يَعْنِيهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”آدمی کے اسلام کی خوبی میں سے ایک چیز، لا یعنی چیزوں کو ترک کرنا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الإيمان/حدیث: 229]

230

Sahih Ibn Hibban #230

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ قَحْطَبَةَ بِفَمِّ الصِّلْحِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدَةُ بْنُ حُمَيْدٍ ، عَنْ بَيَانِ بْنِ بِشْرٍ ، عَنْ عَامِرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : الْمُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ ، وَالْمُهَاجِرُ مَنْ هَاجَرَ مَا نَهَى الِلَّهِ عَنْهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”مسلمان وہ ہے، جس کے ہاتھ اور زبان سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں، مہاجر وہ شخص ہے، جو ان چیزوں کو چھوڑ دے جس سےاللہ تعالیٰ نے منع کیا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الإيمان/حدیث: 230]

231

Sahih Ibn Hibban #231

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ بُرَيْدٍ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : إِنَّالْمُؤْمِنَ لِلْمُؤْمِنِ كَالْبُنْيَانِ يَشُدُّ بَعْضُهُ بَعْضًا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”بے شک ایک مومن دوسرے مومن کے لئے ایک عمارت کی مانند ہے، جس کا ایک حصہ دوسرے کو مضبوط کرتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الإيمان/حدیث: 231]

232

Sahih Ibn Hibban #232

أَخْبَرَنَا بَكْرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْوَهَّابِ الْقَزَّازُ ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ مُقَدْمٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ، عَنِ ابْنِ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَثَلُ الْمُؤْمِنِينَ فِيمَا بَيْنَهُمْ كَمَثَلِ الْبُنْيَانِ ، قَالَ : وَأَدْخَلَ أَصَابِعَ يَدِهِ فِي الأَرْضِ وَقَالَ : يُمْسِكُ بَعْضُهَا بَعْضًا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ، روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”اہل ایمان کی آپس میں مثال ایک عمارت کی مانند ہے۔“ راوی کہتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلیاں زمین میں داخل کر دیں اور ارشاد فرمایا: ”اس کا ایک حصہ دوسرے کو تھام کے رکھتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الإيمان/حدیث: 232]

233

Sahih Ibn Hibban #233

أَخْبَرَنَا ابْنُ قَحْطَبَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدَةُ بْنُ حُمَيْدٍ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ النَّخَعِيِّ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، قَالَ : سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : مَثَلُ الْمُؤْمِنِ مَثَلُ الْجَسَدِ ، اشْتَكَى مِنْهُ شَيْءٌ تَدَاعَى لَهُ سَائِرُ الْجَسَدِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”مومن کی مثال جسم کی مانند ہے، جب اس کا ایک حصہ تکلیف کا شکار ہوتا ہے، تو پورا جسم اس تکلیف کو محسوس کرتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الإيمان/حدیث: 233]

234

Sahih Ibn Hibban #234

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذِ الْعَنْبَرِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : لا يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ بِاللَّهِ حَتَّى يُحِبَّ لأَخِيهِ مَا يُحِبُّ لِنَفْسِهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”کوئی بھی شخصاللہ تعالیٰ پر اس وقت تک (کامل ایمان رکھنے والا) شمار نہیں ہو سکتا، جب تک وہ اپنے بھائی کے لئے وہ چیز پسند نہ کرے، جو وہ اپنے لئے پسند کرتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الإيمان/حدیث: 234]

235

Sahih Ibn Hibban #235

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي سَمِينَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ حُسَيْنٍ الْمُعَلِّمِ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : لا يَبْلُغُ عَبْدٌ حَقِيقَةَ الإِيمَانِ حَتَّى يُحِبَّ لِلنَّاسِ مَا يُحِبُّ لِنَفْسِهِ مِنَ الْخَيْرِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”بندہ ایمان کی حقیقت تک اس وقت تک نہیں پہنچ سکتا، جب تک وہ لوگوں کے لئے اس چیز کو پسند نہیں کرتا، جو بھلائی وہ اپنے لئے پسند کرتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الإيمان/حدیث: 235]

236

Sahih Ibn Hibban #236

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْهَاشِمِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ الرَّمَّاحِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ،لا تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ حَتَّى تُؤْمِنُوا ، وَلا تُؤْمِنُوا حَتَّى تَحَابُّوا ، أَلا أَدُلُّكُمْ عَلَى أَمْرٍ فَعَلْتُمُوهُ تَحَابَبْتُمْ ؟ أَفْشُوا السَّلامَ بَيْنَكُمْ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”اس ذات کی قسم! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے، تم لوگ اس وقت تک جنت میں داخل نہیں ہو گے، جب تک تم مومن نہیں ہو جاتے اور تم اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتے، جب تک ایک دوسرے سے محبت نہیں رکھتے۔ کیا میں ایسی چیز کے بارے میں تمہاری رہنمائی نہ کروں کہ جب وہ تم کر لو گے، تو تمہارے درمیان محبت پیدا ہو جائے گی، تم اپنے درمیان سلام کو پھیلاؤ۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الإيمان/حدیث: 236]

237

Sahih Ibn Hibban #237

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : ثَلاثٌ مَنْ كُنَّ فِيهِ وَجَدَ حَلاوَةَ الإِيمَانِ : مَنْ كَانَ الِلَّهِ وَرَسُولُهُ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِمَّا سِوَاهُمَا ، وَالرَّجُلُ يُحِبُّ الْقَوْمَ لا يُحِبُّهُمْ إِلا فِي اللَّهِ ، وَالرَّجُلُ إِنْ قُذِفَ فِي النَّارِ أَحَبُّ إِلَيْهِ مِنْ أَنْ يَرْجِعَ يَهُودِيًّا أَوْ نَصْرَانِيًّا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”تین چیزیں ایسی ہیں، جو کسی شخص میں ہوں گی، تو وہ ایمان کی حلاوت کو پا لے گا۔ وہ شخص کہ اللہ اور اس کا رسول، اس کے نزدیک ان دونوں کے علاوہ ہر چیز سے زیادہ محبوب ہوں۔ ایک وہ شخص جو کسی قوم کے ساتھ محبت رکھتا ہو، اور وہ صرف اللہ کی رضا کے لئے ان لوگوں سے محبت رکھتا ہو۔ اور ایک وہ شخص جسے آگ میں ڈالا جانا، اس سے زیادہ محبوب ہو کہ وہ دوبارہ یہودی یا عیسائی ہو جائے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الإيمان/حدیث: 237]

238

Sahih Ibn Hibban #238

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ أَبِي قِلابَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : ثَلاثٌ مَنْ كُنَّ فِيهِ وَجَدَ حَلاوَةَ الإِيمَانِ : أَنْ يَكُونَ الِلَّهِ وَرَسُولُهُ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِمَّا سِوَاهُمَا ، وَأَنْ يُحِبَّ الْمَرْءَ لا يُحِبُّهُ إِلا لِلَّهِ ، وَأَنْ يَكْرَهَ أَنْ يَعُودَ فِي الْكُفْرِ كَمَا يَكْرَهُ أَنْ تُوقَدْ لَهُ نَارٌ فَيُقْذَفَ فِيهَا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”تین خصوصیات جس شخص میں ہوں گی، وہ ایمان کی حلاوت کو پا لے گا۔ ایک یہ کہ اللہ اور اس کا رسول، اس کے نزدیک ان دونوں کے علاوہ ہر چیز سے زیادہ محبوب ہوں۔ (دوسری) یہ کہ وہ کسی شخص کے ساتھ محبت رکھتا ہو، اور وہ صرف اللہ کے لئے اس سے محبت رکھتا ہو۔ اور (تیسری) یہ کہ وہ کفر کی طرف واپس جانے کو اسی طرح ناپسند کرے، جس طرح وہ اس بات کو ناپسند کرتا ہے کہ آگ جلا کر اسے اس آگ میں ڈال دیا جائے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الإيمان/حدیث: 238]

239

Sahih Ibn Hibban #239

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : ثَلاثٌ كُلُّهُنَّ عَلَى الْمُسْلِمِ : عِيَادَةُ الْمَرِيضِ ، وَشُهُودُ الْجَنَازَةِ ، وَتَشْمِيتُ الْعَاطِسِ حَمِدَ اللَّهَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی الله عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”تین باتیں ہر مسلمان پر لازم ہیں، بیمار کی عیادت کرنا، جنازے میں شریک ہونا اور چھینکنے والا شخص جب ”الحمدللہ“ کہے، تو اسے جواب دینا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الإيمان/حدیث: 239]

240

Sahih Ibn Hibban #240

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى الْقَطَّانُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ أَفْلَحَ ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : لِلْمُسْلِمِ عَلَى الْمُسْلِمِ أَرْبَعُ خِلالٍ : يَعُودُهُ إِذَا مَرِضَ ، وَيَشْهَدُهُ إِذَا مَاتَ ، وَيُشَمِّتُهُ إِذَا عَطَسَ ، وَيُجِيبُهُ إِذَا دَعَاهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابومسعود رضی الله عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”ایک مسلمان کے دوسرے مسلمان پر چار حق ہیں۔ جب وہ بیمار ہو جائے، تو اس کی عیادت کرے، جب وہ فوت ہو جائے، تو اس کے جنازے میں شریک ہو، جب وہ چھینکے، تو وہ اسے چھینک کا جواب دے اور جب وہ اس کی دعوت کرے، تو وہ اس کی دعوت قبول کرے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الإيمان/حدیث: 240]

241

Sahih Ibn Hibban #241

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيَمَ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيرَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : حَقُّ الْمُسْلِمِ عَلَى الْمُسْلِمِ خَمْسٌ : رَدُّ السَّلامِ ، وَعِيَادَةُ الْمَرِيضِ ، وَاتِّبَاعُ الْجَنَائِزِ ، وَإِجَابَةُ الدَّعْوَةِ ، وَتَشْمِيتُ الْعَاطِسِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ایک مسلمان کے دوسرے مسلمان پر پانچ حق ہیں۔ سلام کا جواب دینا، بیمار کی عیادت کرنا، جنازے کے ساتھ جانا، دعوت کو قبول کرنا اور چھینکنے والے کا جواب دینا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الإيمان/حدیث: 241]

242

Sahih Ibn Hibban #242

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنِ الْعَلاءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : حَقُّ الْمُسْلِمِ عَلَى الْمُسْلِمِ سِتٌّ " ، قَالُوا : مَا هُنَّ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " إِذَا لَقِيَهُ سَلَّمَ عَلَيْهِ ، وَإِذَا دَعَاهُ أَجَابَهُ ، وَإِذَا اسْتَنْصَحَ نَصَحَهُ ، وَإِذَا عَطَسَ فَحَمِدَ اللَّهَ يُشَمِّتُهُ ، وَإِذَا مَرِضَ عَادَهُ ، وَإِذَا مَاتَ صَحِبَهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ””ایک مسلمان کے دوسرے مسلمان پر چھ حق ہیں۔ لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! وہ کون سے ہیں؟ آپ نے فرمایا: جب وہ اس سے ملاقات کرے، تو اسے سلام کرے اور جب وہ اس کی دعوت کرے، تو وہ اسے قبول کرے اور جب وہ اس سے خیر خواہی کا طلب گار ہو، تو اس کی خیر خواہی کرے اور جب وہ چھینک کراللہ تعالیٰ کی حمد بیان کرے، تو یہ اسے جواب دے، جب وہ بیمار ہو، تو اس کی عیادت کرے اور جب وہ فوت ہو جائے، تو یہ اس کے جنازے کے ساتھ جائے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الإيمان/حدیث: 242]

243

Sahih Ibn Hibban #243

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو عُمَرَ الضَّرِيرُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُسْلِمٍ الْقَسْمَلِيُّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : مَنْ يُخْبِرُنِي عَنْ شَجَرَةٍ مَثَلُهَا مَثَلُ الْمُؤْمِنِ ، أَصْلُهَا ثَابِتٌ وَفَرْعُهَا فِي السَّمَاءِ ، تُؤْتِي أُكُلَهَا كُلَّ حِينٍ بِإِذْنِ رَبِّهَا ؟ " قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : فَأَرَدْتُ أَنْ أَقُولَ : هِيَ النَّخْلَةُ ، فَمَنَعَنِي مَكَانُ أَبِي ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " هِيَ النَّخْلَةُ "، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لأَبِي ، فَقَالَ : لَوْ قُلْتَهَا كَانَ أَحَبَّ إِلَيَّ مِنْ كَذَا وَكَذَا ، أَحْسَبُهُ قَالَ : حُمْرِ النَّعَمِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”کون شخص مجھے ایسے درخت کے بارے میں بتائے گا، جس کی مثال بندہ مومن کی طرح ہے، جس کی بنیاد مضبوط ہے، اور اس کی شاخیں آسمان میں ہیں۔ وہ ہر وقت اپنے پروردگار کے اذن کے تحت پھل دیتا ہے۔“ سیدنا عبداللہ کہتے ہیں: میں نے یہ کہنے کا ارادہ کیا کہ یہ کھجور کا درخت ہے، لیکن اپنے والد صاحب کی موجودگی کی وجہ سے میں ایسا نہیں کر سکا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: یہ کھجور کا درخت ہے۔ (سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں بعد میں) میں نے اپنے والد سے اس بات کا تذکرہ کیا، تو انہوں نے فرمایا: اگر تم اس وقت یہ بات کہہ دیتے، تو میرے نزدیک اس چیز سے زیادہ محبوب تھا۔ راوی کہتے ہیں: میرا خیال ہے، روایت میں یہ الفاظ ہیں: سرخ اونٹوں سے زیادہ محبوب ہوتا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الإيمان/حدیث: 243]

244

Sahih Ibn Hibban #244

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، إِذْ أُتِيَ بِجُمَّارٍ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مِنَ الشَّجَرِ شَجَرَةٌ بَرَكَتُهَا كَالْمُسْلِمِ " ، قَالَ : فَأُرِيتُ أَنَّهَا النَّخْلَةُ ، ثُمَّ نَظَرْتُ إِلَى الْقَوْمِ ، فَأَنَا عَاشِرُ عَشَرَةٍ ، وَأَنَا أَحْدَثُ الْقَوْمِ ، فَسَكَتُّ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " هِيَ النَّخْلَةُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے۔ اسی دوران ”جمار“ (کھجور کے درخت کا گوند) لایا گیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ایک درخت ایسا ہے، جس کی برکت مسلمان کی مانند ہے۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: مجھے خیال آیا کہ وہ کھجور کا درخت ہو گا۔ پھر میں نے حاضرین کا جائزہ لیا، تو میں وہاں دس آدمیوں میں سے دسواں فرد تھا، اور میں وہاں سب سے کم سن تھا۔ اس لئے میں خاموش رہا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ کھجور کا درخت ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الإيمان/حدیث: 244]

245

Sahih Ibn Hibban #245

أَخْبَرَنَا أَبُو الطَّيِّبِ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الصَّيْرَفِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ أَبِي الْخَلِيلِ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا لأَصْحَابِهِ : أَخْبِرُونِي عَنْ شَجَرَةٍ مَثَلُهَا مَثَلُ الْمُؤْمِنِ " ، قَالَ : فَجَعَلَ الْقَوْمُ يَتَذَاكَرُونَ شَجَرًا مِنْ شَجَرِ الْوَادِي قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : وَأُلْقِيَ فِي نَفْسِي أَوْ رَوْعِي أَنَّهَا النَّخْلَةُ ، قَالَ : فَجَعَلْتُ أُرِيدُ أَنْ أَقُولَ ، فَأَرَى أَسْنَانًا مِنَ الْقَوْمِ ، فَأَهَابُ أَنْ أَتَكَلَّمَ ، فَلَمْ يَكْشِفُوا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " هِيَ النَّخْلَةُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب سے فرمایا: مجھے ایسے درخت کے بارے میں بتاؤ! جس کی مثال بندہ مومن کی طرح ہے۔ راوی کہتے ہیں: لوگ جنگلات کے مختلف درختوں کے بارے میں بات چیت کرنے لگے، سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میرے ذہن میں خیال آیا کہ وہ کھجور کا درخت ہو سکتا ہے۔ پہلے میں یہ بات کہنے لگا، لیکن جب میں نے حاضرین کی عمر کا جائزہ لیا، تو مجھے بات کرنے کی ہمت نہیں ہوئی، کوئی بھی شخص اس سوال کا جواب نہیں دے سکا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ کھجور کا درخت ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الإيمان/حدیث: 245]

246

Sahih Ibn Hibban #246

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّامِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ الْمَقَابِرِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ : وَأَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّمِنَ الشَّجَرِ شَجَرَةٌ لا يَسْقُطُ وَرَقُهَا وَإِنَّهَا مِثْلُ الْمُسْلِمِ ، فَحَدِّثُونِي مَا هِيَ ؟ " فَوَقَعَ النَّاسُ فِي شَجَرِ الْبَوَادِي ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : وَقَعَ فِي نَفْسِي أَنَّهَا النَّخْلَةُ ، فَاسْتَحْيَيْتُ ، ثُمَّ قَالُوا : حَدِّثْنَا مَا هِيَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " هِيَ النَّخْلَةُ "، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِعُمَرَ ، فَقَالَ : لأَنْ تَكُونَ قُلْتَ : هِيَ النَّخْلَةُ ، أَحَبَّ إِلَيَّ مِنْ كَذَا وَكَذَا"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ، روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”بے شک درختوں میں سے ایک درخت ایسا ہے، جس کے پتے گرتے نہیں ہیں اور اس کی مثال مسلمان کی مانند ہے، تم لوگ مجھے بتاؤ وہ کون سا درخت ہے؟ لوگ جنگلات کے مختلف درختوں کے بارے میں غور و فکر کرنے لگے۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میرے ذہن میں یہ آیا کہ یہ کھجور کا درخت ہے، لیکن مجھے شرم آ گئی۔ پھر لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! آپ بتائیے کہ وہ کون سا درخت ہے؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ کھجور کا درخت ہے۔ راوی کہتے ہیں) بعد میں، میں نے اس کا تذکرہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے کیا، تو انہوں نے فرمایا: اگر تم اس وقت یہ بات کہہ دیتے کہ یہ کھجور کا درخت ہے، تو یہ میرے نزدیک اس، اس چیز سے زیادہ محبوب ہوتی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الإيمان/حدیث: 246]

247

Sahih Ibn Hibban #247

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ قَحْطَبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ الْعَنْبَرِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ ، عَنْ وَكِيعِ بْنِ عُدُسٍ ، عَنْ عَمِّهِ أَبِي رَزِينٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَثَلُ الْمُؤْمِنِ مَثَلُ النَّحْلَةِ لا تَأْكُلُ إِلا طَيِّبًا ، وَلا تَضَعُ إِلا طَيِّبًا "، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : شُعْبَةُ وَاهُمْ فِي قَوْلِهِ : " عُدُسٍ " ، إِنَّمَا هُوَ " حُدُسٍ " كَمَا قَالَهُ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ وَأُولَئِكَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابورزین رضی اللہ عنہ، روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”مومن کی مثال کھجور کے درخت کی مانند ہے، جو صرف پاکیزہ چیز کھاتا ہے، اور جو صرف پاکیزہ چیز دیتا ہے۔“ امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں: شعبہ نامی راوی کو روایت میں راوی کا نام ”عدس“ نقل کرنے میں وہم ہوا ہے۔ اصل لفظ ”حدس“ ہے جیسا کہ حماد بن سلمہ اور دیگر حضرات نے یہ لفظ بیان کیا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الإيمان/حدیث: 247]""

248

Sahih Ibn Hibban #248

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عُمَرَ بْنِ شَقِيقٍ ، حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ الْفَضْلِ ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَا أَكْفَرَ رَجُلٌ رَجُلا قَطُّ إِلا بَاءَ أَحَدُهُمَا بِهَا إِنْ كَانَ كَافِرًا وَإِلا كَفَرَ بِتَكْفِيرِهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ، روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”جب بھی کوئی شخص کسی دوسرے شخص کو کافر قرار دے، تو وہ کفر، ان دونوں میں سے کسی ایک شخص کی طرف لوٹ آتا ہے۔ اگر وہ (دوسرا شخص) کافر ہو (تو ٹھیک ہے) ورنہ (پہلا شخص) اسے کافر قرار دینے کی وجہ سے کافر ہو جاتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الإيمان/حدیث: 248]

249

Sahih Ibn Hibban #249

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الأَنْصَارِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : أَيُّمَا رَجُلٌ قَالَ لأَخِيهِ كَافِرٌ ، فَقَدْ بَاءَ بِهِ أَحَدُهُمَا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ، نبی اکرم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جو شخص اپنے بھائی کو کافر کہے، تو یہ (کفر) ان دونوں میں سے کسی ایک کی طرف لوٹ آتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الإيمان/حدیث: 249]