Muslim99Muslim99

Sahih Ibn Hibban · Book 2 · Chapter 3

The Book of Revelation

Hadith 176–209

34 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

176

Sahih Ibn Hibban #176

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ هِشَامٍ الدَّسْتُوَائِيِّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ سَلامٍ ، عَنْ جَدِّهِ ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ ، قَالَ : قَالَ رَجُلٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ،مَا الإِيمَانُ ؟ قَالَ : سَرَّتْكَ حَسَنَاتُكَ ، وَسَاءَتْكَ سَيِّئَاتُكَ ، فَأَنْتَ مُؤْمِنٌ " ، قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَمَا الإِثْمُ ؟ قَالَ : " حَاكَ فِي قَلْبِكَ شَيْءٌ فَدَعْهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص نے عرض کی: یا رسول اللہ! ایمان سے مراد کیا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب تمہاری نیکیاں تمہیں اچھی لگیں اور تمہاری برائیاں تمہیں بری لگیں، تو تم مومن ہو۔ اس نے عرض کی: یا رسول اللہ! گناہ کیا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی چیز تمہارے دل میں کھٹکے، تو تم اسے چھوڑ دو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الإيمان/حدیث: 176]

177

Sahih Ibn Hibban #177

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذْ بْنِ مُعَاذْ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ السِّمْطِ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ طَلْحَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي ثُمَّ اسْتَكْتَمَنِي أَنْ أُحَدِّثَ بِهِ مَا عَاشَ مُعَاوِيَةُ ، فَذَكَرَ عَامِرٌ ، قَالَ : سَمِعْتُهُ وَهُوَ يَقُولُ : حَدَّثَنِي عَطَاءُ بْنُ يَسَارٍ ، وَهُوَ قَاضِي الْمَدِينَةِ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ مَسْعُودٍ وَهُوَ يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : سَيَكُونُ أُمَرَاءُ مِنْ بَعْدَي يَقُولُونَ مَا لا يَفْعَلُونَ ، وَيَفْعَلُونَ مَا لا يَأْمُرُونَ ، فَمَنْ جَاهَدَهُمْ بِيَدِهِ فَهُوَ مُؤْمِنٌ ، وَمَنْ جَاهَدَهُمْ بِلِسَانِهِ فَهُوَ مُؤْمِنٌ ، وَمَنْ جَاهَدَهُمْ بِقَلْبِهِ فَهُوَ مُؤْمِنٌ ، لا إِيمَانَ بَعْدَهُ "قَالَ عَطَاءٌ : فَحِينَ سَمِعْتُ الْحَدِيثَ مِنْهُ انْطَلَقْتُ بِهِ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ فَأَخْبَرْتُهُ ، فَقَالَ : أَنْتَ سَمِعْتَ ابْنَ مَسْعُودٍ يَقُولُ هَذَا ؟ كَالْمُدْخَلِ عَلَيْهِ فِي حَدِيثِهِ ، قَالَ عَطَاءٌ : فَقُلْتُ : هُوَ مَرِيضٌ فَمَا يَمْنَعُكَ أَنْ تَعُودَهُ ؟ ، قَالَ : فَانْطَلِقْ بِنَا إِلَيْهِ ، فَانْطَلَقَ وَانْطَلَقْتُ مَعَهُ ، فَسَأَلَهُ عَنْ شَكْوَاهُ ، ثُمَّ سَأَلَهُ عَنِ الْحَدِيثِ ، قَالَ : فَخَرَجَ ابْنُ عُمَرَ وَهُوَ يُقَلِّبُ كَفَّهُ وَهُوَ يَقُولُ : مَا كَانَ ابْنُ أُمِّ عَبْدٍ يَكْذِبُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عطاء بن یسار، جو مدینہ منورہ کے قاضی ہیں، وہ بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: عنقریب میرے بعد ایسے حکمران آئیں گے، جو وہ بات کہیں گے، جو وہ کرتے نہیں ہوں گے، اور وہ لوگ ایسے کام کریں گے، جن کا انہیں حکم نہیں دیا گیا ہو گا۔ تو جو شخص اپنے ہاتھ کے ذریعے ان کے ساتھ جہاد کرے گا، وہ مومن ہو گا اور جو اپنی زبان کے ذریعے ان کے ساتھ جہاد کرے گا، وہ مؤمن ہو گا اور جو شخص اپنی زبان کے ذریعے ان کے ساتھ جہاد کرے گا، وہ مؤمن ہو گا اور جو شخص اپنے دل کے ذریعے ان کے ساتھ جہاد کرے گا، وہ مومن ہو گا۔ اس کے بعد ایمان نہیں ہو گا۔ عطاء نامی راوی کہتے ہیں: جب میں نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی زبانی یہ حدیث سنی، تو میں یہ روایت لے کر سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ کے پاس گیا اور میں نے انہیں اس بارے میں بتایا تو انہوں نے دریافت کیا: کیا تم نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو یہ بات بیان کرتے ہوئے خود سنا ہے؟ عطاء کہتے ہیں: میں نے کہا: وہ بیمار ہیں۔ کیا وجہ ہے، آپ ان کی عیادت کے لئے نہیں جاتے، تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم ہمیں ان کے پاس لے جاؤ۔ جب سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ وہاں تشریف لے گئے، تو ان کے ساتھ میں بھی گیا سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے ان کی بیماری کے بارے میں دریافت کیا: پھر ان سے اس حدیث کے بارے میں دریافت کیا۔ راوی کہتے ہیں: جب سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ وہاں سے نکلے، تو وہ اپنی ہتھیلی پلیٹ رہے تھے اور یہ کہہ رہے تھے: ابن ام عبد (یعنی سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف جھوٹی بات منسوب نہیں کر سکتے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الإيمان/حدیث: 177]

178

Sahih Ibn Hibban #178

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ رِبْعِيٍّ ، عَنْ عَلِيٍّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : لا يُؤْمِنُ الْعَبْدُ حَتَّى يُؤْمِنَ بِأَرْبَعٍ : يَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ ، وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ ، وَيُؤْمِنُ بِالْبَعْثِ بَعْدَ الْمَوْتِ ، وَيُؤْمِنُ بِالْقَدْرِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا علی رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”بندہ اس وقت تک مومن نہیں ہوتا جب تک وہ چار چیزوں پر ایمان نہیں رکھتا۔ وہ اس بات کی گواہی دے کہاللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے، اور بے شک میں اللہ کا رسول ہوں، اور وہ مرنے کے بعد زندہ ہونے پر ایمان رکھے اور وہ تقدیر پر ایمان رکھے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الإيمان/حدیث: 178]

179

Sahih Ibn Hibban #179

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذْ بْنِ مُعَاذْ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : لا يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ ، حَتَّى أَكُونَ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ وَلَدِهِ وَوَالِدِهِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”کوئی بھی شخص اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتا، جب تک میں اس کے نزدیک، اس کی اولاد اس کے والدین اور تمام لوگوں سے زیادہ محبوب نہیں ہو جاتا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الإيمان/حدیث: 179]

180

Sahih Ibn Hibban #180

أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ دَاوُدَ بْنِ وَرْدَانَ بِمِصْرَ ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، عَنِ ابْنِ عَجْلانَ ، عَنِ الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : الْمُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ ، وَالْمُؤْمِنُ مَنْ آمَنَهُ النَّاسُ عَلَى دِمَائِهِمْ وَأَمْوَالِهِمْ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”مسلمان وہ ہے، جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں اور مومن وہ ہے کہ دوسرے اپنی جان اور مال کے حوالے سے اس سے امن میں رہیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الإيمان/حدیث: 180]

181

Sahih Ibn Hibban #181

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُصْعَبٍ بِخَبَرٍ غَرِيبٍ غَرِيبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ السِّنْجِيُّ سُلَيْمَانُ بْنُ مَعْبَدٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، عَنِ ابْنِ الْهَادِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : الإِيمَانُ سَبْعُونَ أَوِ اثْنَانِ وَسَبْعُونَ بَابًا ، أَرْفَعُهُ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ ، وَأَدْنَاهُ إِمَاطَةُ الأَذَى عَنِ الطَّرِيقِ ، وَالْحَيَاءُ شُعْبَةٌ مِنَ الإِيمَانِ "قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : الاقْتِصَارُ فِي هَذَا الْخَبَرِ عَلَى هَذَا الْعَدَدِ الْمَذْكُورِ فِي خَبَرِ ابْنِ الْهَادِ مِمَّا نَقُولُ فِي كُتُبِنَا : إِنَّ الْعَرَبَ تَذْكُرُ الْعَدَدَ لِلشَّيْءِ ، وَلا تُرِيدُ بِذِكْرِهَا ذَلِكَ الْعَدَدَ نَفْيًا عَمَّا وَرَاءَهُ ، وَلِهَذَا نَظَائِرُ نَوَّعْنَا لِهَذَا أَنْوَاعًا ، سَنَذْكُرُهَا بِفُصُولِهَا فِيمَا بَعْدَ أَنْ شَاءَ الِلَّهِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی الله عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”ایمان کے 70 (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) 72 دروازے ہیں، جن میں سب سے بلند ”لا الہ الا اللہ“ ہے ‘ اور سب سے کمتر راستے سے تکلیف دہ چیز کو ہٹانا ہے، اور حیاء ایمان کا ایک شعبہ ہے۔“ امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) اس روایت میں اس ذکر شده عدد پر، جو اکتفا کیا گیا ہے، جو ابن ہاد سے منقول روایت میں ہے، یہ ان صورتوں میں سے ہے، جس کے بارے میں ہم اپنی کتابوں میں یہ بات بیان کر چکے ہیں کہ بعض اوقات عرب کسی چیز کے لئے کوئی عدد ذکر کرتے ہیں، لیکن اس سے یہ مراد نہیں ہوتا کہ اس عدد کے علاوہ کی نفی کر دی جائے۔ اس کی کئی مثالیں موجود ہیں، اور ہم نے اس کی کئی انواع بیان کی ہیں۔ جن میں سے چند ایک کا ہم ان کی متعلقہ فصول میں بعد میں ذکر کریں گے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الإيمان/حدیث: 181]

182

Sahih Ibn Hibban #182

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مَعْنُ بْنُ عِيسَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى الْمَازِنِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يُدْخِلُ الِلَّهِ أَهْلَ الْجَنَّةِ الْجَنَّةَ ، يُدْخِلُ مَنْ يَشَاءُ بِرَحْمَتِهِ ، وَيُدْخِلُ أَهْلَ النَّارِ النَّارَ ، ثُمَّ يَقُولُ : أَخْرِجُوا مَنَ كَانَ فِي قَلْبِهِ حَبَّةُ خَرْدَلٍ مِنْ إِيمَانٍ ، فَيُخْرَجُونَ مِنْهَا حُمَمًا ، فَيُلْقَوْنَ فِي نَهْرٍ فِي الْجَنَّةِ ، فَيَنْبُتُونَ كَمَا تَنْبُتُ حَبَّةٌ فِي جَانِبِ السَّيْلِ ، أَلَمْ تَرَهَا صَفْرَاءَ مُلْتَوِيَةً ؟ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ، روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”اللہ تعالیٰ اہل جنت کو جنت میں داخل کر دے گا، وہ جسے چاہے گا اپنی رحمت کی وجہ سے داخل کرے گا۔ اور وہ اہل جہنم کو جہنم میں داخل کر دے گا، پھر وہ یہ فرمائے گا: اس شخص کو جہنم سے نکال دو، جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر بھی ایمان موجود ہے۔ تو ان لوگوں کو جہنم سے نکالا جائے گا اور وہ کوئلہ بن چکے ہوں گے۔ پھر انہیں جنت کی نہر میں ڈالا جائے گا، تو وہ اس میں سے یوں پھوٹ پڑیں گے، جس طرح سیلابی پانی کی گزرگاہ میں سے دانہ پھوٹتا ہے۔ کیا تم نے اسے دیکھا نہیں ہے، وہ زرد ہوتا ہے، اور ادھر ادھر جھکتا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الإيمان/حدیث: 182]

183

Sahih Ibn Hibban #183

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي رَجَاءِ بْنِ أَبِي عُبَيْدَةَ الْحَرَّانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا زُهِيَرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : مُيِّزَ أَهْلُ الْجَنَّةِ وَأَهْلُ النَّارِ ، يَدْخُلُ أَهْلُ الْجَنَّةِ الْجَنَّةَ وَأَهْلُ النَّارِ النَّارَ ، قَامَتِ الرُّسُلُ فَشَفَعُوا ، فَيُقَالُ : اذْهَبُوا فَمَنْ عَرَفْتُمْ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالَ قِيرَاطٍ مِنْ إِيمَانٍ فَأَخْرِجُوهُ ، فَيُخْرِجُونَ بَشَرًا كَثِيرًا ، ثُمَّ يُقَالُ : اذْهَبُوا فَمَنْ عَرَفْتُمْ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالَ خَرْدَلَةٍ مِنْ إِيمَانٍ فَأَخْرِجُوهُ ، فَيُخْرِجُونَ بَشَرًا كَثِيرًا ، ثُمَّ يَقُولُ جَلَّ وَعَلا : أَنَا الآنَ أُخْرِجُ بِنِعْمَتِي وَبِرَحْمَتِي ، فَيُخْرِجُ أَضْعَافَ مَا أَخْرَجُوا وَأَضْعَافَهُمْ ، قَدْ امْتَحَشُوا وَصَارُوا فَحْمًا ، فَيُلْقَوْنَ فِي نَهْرٍ ، أَوْ فِي نَهْرٍ مِنْ أَنْهَارِ الْجَنَّةِ ، فَتَسْقُطُ مُحَاشُّهُمْ عَلَى حَافَةِ ذَلِكَ النَّهَرِ ، فَيَعُودُونَ بِيضًا مِثْلَ الثَّعَارِيرِ ، فَيُكْتَبُ فِي رِقَابِهِمْ : عُتَقَاءُ اللَّهِ ، وَيُسَمَّوْنَ فِيهَا الْجَهَنَّمِيِّينَ "الثَّعَارِيرُ : الْقِثَّاءُ الصِّغَارُ ، قَالَهُ الشَّيْخُ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جب اہل جنت اور اہل جہنم کو ایک دوسرے سے نمایاں کر دیا جائے گا اور اہل جنت، جنت میں داخل ہو جائیں گے اور اہل جہنم، جہنم میں داخل ہو جائیں گے، تو رسول کھڑے ہوں گے اور وہ شفاعت کریں گے۔ تو یہ کہا: جائے گا: تم لوگ جاؤ اور جس شخص کے بارے میں تمہیں یہ لگتا ہے، اس کے دل میں ایک قیراط کے برابر ایمان ہے، تم اسے (جہنم سے نکال دو) تو وہ لوگ بہت زیادہ لوگوں کو نکال دیں گے، پھر یہ کہا: جائے گا: تم لوگ جاؤ اور جس کے بارے میں تمہیں یہ پتہ چلتا ہے، اس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر بھی ایمان ہے، تو تم اسے بھی نکال دو، تو وہ لوگ بہت سے لوگوں کو نکال دیں گے۔ (پھر)اللہ تعالیٰ فرمائے گا: اب میں اپنی نعمت اور رحمت کی وجہ سے (لوگوں کو جہنم سے) نکالوں گا۔ تو ان رسولوں نے جتنے لوگوں کو نکالا تھا،اللہ تعالیٰ اس سے کئی گنا زیادہ لوگوں کو جہنم سے نکالے گا۔ وہ لوگ جل کر کوئلہ ہو چکے ہوں گے، انہیں نہر میں ڈالا جائے گا۔ (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) جنت کی ایک نہر میں ڈالا جائے گا، تو ان کا جلا ہوا حصہ اس نہر کے کنارے پر گر پڑے گا اور وہ لوگ ”ثعاریر“ کی مانند سفید ہو جائیں گے، ان کی گردنوں پر یہ لکھا جائے گا: یہاللہ تعالیٰ کی طرف سے آزاد کئے ہوئے ہیں اور (جنت میں) ان کا نام جہنمی ہو گا۔ امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”ثعاریر“ ایک چھوٹی قسم کا پھول ہوتا ہے۔ یہ بات شیخ نے بیان کی ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الإيمان/حدیث: 183]

184

Sahih Ibn Hibban #184

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ يُوسُفَ بْنِ حَمْزَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ، عَنْ أَبِي مَسْلَمَةَ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَمَّا أَهْلُ النَّارِ الَّذِينَ هُمْ أَهْلُهَا ، فَإِنَّهُمْ لا يَمُوتُونَ فِيهَا وَلا يَحْيَوْنَ ، وَلَكِنْ نَاسٌ أَصَابَتْهُمُ النَّارُ بِذُنُوبِهِمْ ، أَوْ قَالَ : بِخَطَايَاهُمْ ، حَتَّى كَانُوا فَحْمًا إِذْنَ فِي الشَّفَاعَةِ ، فَجِيءَ بِهِمْ ضَبَائِرَ ضَبَائِرَ ، فَبُثُّوا عَلَى أَهْلِ الْجَنَّةِ ، ثُمَّ قِيلَ : يَا أَهْلَ الْجَنَّةِ ، أَفِيضُوا عَلَيْهِمْ ، قَالَ : فَيَنْبُتُونَ نَبَاتَ الْحَبَّةِ تَكُونُ فِي حَمِيلِ السَّيْلِ "، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ : كَأَنَّهُ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْبَادِيَةِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جہاں تک اہل جہنم کا تعلق ہے، تو وہ جہنم میں رہیں گے ان کو موت نہیں آئے گی اور وہ (ٹھیک طرح سے) زندہ نہیں ہوں گے۔“ لیکن کچھ لوگ ہوں گے جنہیں ان کے گناہوں کی وجہ سے آگ (کا عذاب پہنچے گا) راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) ان کی خطاؤں کی وجہ سے ہو گا یہاں تک کہ جب وہ کوئلہ ہو جائیں گے، تو پھر ان لوگوں کو گروہ در گروہ بلایا جائے گا۔ انہیں اہل جنت کے سامنے رکھا جائے گا اور یہ کہا: جائے گا: اے اہل جنت! تم ان پر پانی بہاؤ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: تو وہ یوں پھوٹ پڑیں گے، جس طرح سیلابی پانی کے راستے میں سے دانہ پھوٹ پڑتا ہے۔ حاضرین میں سے ایک صاحب نے کہا: یوں لگتا ہے، جیسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ویرانوں میں بھی رہے ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الإيمان/حدیث: 184]

185

Sahih Ibn Hibban #185

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيَمَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِم ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ ، قَالَ : قَالَ يَهُودِيٌّ لِعُمَرَ لَوْ عَلِمْنَا ، مَعْشَرَ الْيَهُودِ ، مَتَى نَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ لاتَّخَذْنَاهُ عِيدًا : الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ ، وَلَوْ نَعْلَمُ الْيَوْمَ الَّذِي نَزَلَتْ فِيهِ لاتَّخَذْنَاهُ عِيدًا ، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ الِلَّهِ عَنْهُ : قَدْ عَلِمْتُ الْيَوْمَ الَّذِي أُنْزِلَتْ فِيهِ ، وَاللَّيْلَةَ الَّتِي أُنْزِلَتْ ، يَوْمَ الْجُمُعَةِ ، وَنَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَفَاتٍ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

طارق بن شہاب کہتے ہیں: ایک یہودی نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے کہا: اگر ہم یہودیوں کو یہ پتہ چل جائے کہ یہ آیت کب نازل ہوئی تھی؟ تو ہم اس دن کو عید کا دن قرار دیں۔ ”آج کے دن میں نے تمہارے دین کو تمہارے لئے مکمل کر دیا ہے۔“ اور اگر اب بھی ہمیں اس دن کا پتہ چل جائے کہ جس دن یہ آیت نازل ہوئی تھی، تو ہم اس دن کو عید کا دن قرار دیں گے، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: مجھے اس دن کے بارے میں پتہ ہے، جس دن یہ آیت نازل ہوئی تھی اور اس رات کے بارے میں بھی پتہ ہے، جس میں یہ نازل ہوئی تھی: یہ جمعہ کا دن تھا، اور ہم اس وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عرفات میں موجود تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الإيمان/حدیث: 185]

186

Sahih Ibn Hibban #186

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيَمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ ، وَأَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، وَأَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَارِثِ بْنُ هِشَامٍ ، كلهم يحدثون ، عَنْ أَبِي هُرَيرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : لا يَزْنِي الزَّانِي حِينَ يَزْنِي وَهُوَ مُؤْمِنٌ ، وَلا يَسْرِقُ السَّارِقُ حِينَ يَسْرِقُ وَهُوَ مُؤْمِنٌ ، وَلا يَشْرَبُ الْخَمْرُ حِينَ يَشْرَبُهَا وَهُوَ مُؤْمِنٌ ، وَلا يَنْتَهِبُ نُهْبَةً ذَاتَ شَرَفٍ يَرْفَعُ الْمُسْلِمُونَ إِلَيْهَا أَبْصَارَهُمْ وَهُوَ حِينَ يَنْتَهِبُهَا مُؤْمِنٌ "فَقُلْتُ لِلزُّهْرِيِّ مَا هَذَا ؟ فَقَالَ : عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْبَلاغُ ، وَعَلَيْنَا التَّسْلِيمُ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”زنا کرنے والا شخص زنا کرتے ہوئے مومن نہیں رہتا، چوری کرنے والا شخص چوری کرتے ہوئے مومن نہیں رہتا، شراب پینے والا شخص شراب پیتے ہوئے مومن نہیں رہتا، ڈاکہ ڈالنے والا شخص جو کسی کی قیمتی چیز پر ڈاکہ ڈالتا ہے، جب کہ مسلمان اس کی طرف دیکھ رہے ہوں، تو وہ ڈاکہ ڈالتے وقت مومن نہیں رہتا۔“ راوی کہتے ہیں: میں نے زہری سے دریافت کیا: اس سے مراد کیا ہے؟ تو انہوں نے فرمایا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر تبلیغ کرنا لازم تھا، اور ہم پر اسے تسلیم کرنا لازم ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الإيمان/حدیث: 186]""

187

Sahih Ibn Hibban #187

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، وَابْنُ كَثِيرٍ ، قَالا : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ : ، قَالَ وَاقَدْ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ أَخْبَرَنِي عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ يُحَدِّثُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : لا تَرْجِعُوا بَعْدَي كُفَّارًا يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

واقد بن عبداللہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: انہوں نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہوئے سنا ہے: ”میرے بعد دوبارہ زمانہ کفر کی طرح نہ ہو جانا کہ ایک دوسرے کی گردنیں اڑانے لگو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الإيمان/حدیث: 187]

188

Sahih Ibn Hibban #188

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ ، أَنَّهُ قَالَ : صَلَّى لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلاةَ الصُّبْحِ بِالْحُدَيْبِيَةِ فِي إِثْرِ سَمَاءٍ كَانَتْ مِنَ اللَّيْلِ ، فَلَمَّا انْصَرَفَ أَقَبْلُ عَلَى النَّاسِ ، فَقَالَ : هَلْ تَدْرُونَ مَاذَا قَالَ رَبُّكُمْ ؟ " قَالُوا : الِلَّهِ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ ، قَالَ :" أَصْبَحَ مِنْ عِبَادِي مُؤْمِنٌ بِي وَكَافِرٌ ، فَأَمَّا مَنْ قَالَ : مُطِرْنَا بِفَضْلِ اللَّهِ وَبِرَحْمَتِهِ ، فَذَلِكَ مُؤْمِنٌ بِي ، كَافِرٌ بِالْكَوْكَبِ ، وَأَمَّا مَنْ قَالَ : مُطِرْنَا بِنَوْءِ كَذَا وَكَذَا ، فَذَلِكَ كَافِرٌ بِي ، مُؤْمِنٌ بِالْكَوَاكِبِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حدیبیہ میں صبح کی نماز پڑھائی اس سے پہلے رات کے وقت بارش ہو چکی تھی جب آپ نے نماز مکمل کی تو آپ لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور ارشاد فرمایا: کیا تم لوگ یہ بات جانتے ہو؟ تمہارے پروردگار نے کیا بات ارشاد فرمائی ہے؟ لوگوں نے عرض کی: اللہ اور اس کا رسول زیادہ بہتر جانتے ہیں۔ میرے کچھ بندے مجھ پر ایمان رکھتے ہیں اور کچھ بندے کافر ہیں، جو شخص یہ کہے:اللہ تعالیٰ کے فضل اور اس کی رحمت کی وجہ سے ہم پر بارش نازل ہوئی ہے، تو وہ مجھ پر ایمان رکھتا ہے، اور ستاروں کا انکار کرتا ہے، اور جو شخص یہ کہے: فلاں اور فلاں ستارے کی وجہ سے ہم پر بارش نازل ہوئی ہے، تو وہ شخص میرا انکار کرتا ہے، اور ستاروں پر ایمان رکھتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الإيمان/حدیث: 188]

189

Sahih Ibn Hibban #189

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنِ الشَّرِيدِ بْنِ سُوَيْدٍ الثَّقَفِيِّ ، قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ أُمِّي أَوْصَتْ أَنْ نُعْتِقُ عَنْهَا رَقَبَةً ، وَعِنْدِي جَارِيَةٌ سَوْدَاءُ ، قَالَ : ادْعُ بِهَا " ، فَجَاءَتْ ، فَقَالَ :" مَنْ رَبُّكِ ؟ " قَالَتِ : الِلَّهِ ، قَالَ : " مَنْ أَنَا ؟ " قَالَتْ : رَسُولُ اللَّهِ ، قَالَ : " أَعْتِقْهَا ، فَإِنَّهَا مُؤْمِنَةٌ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا شرید بن سوید ثقفی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! میری والدہ نے یہ وصیت کی تھی کہ ہم ان کی طرف سے ایک گردن آزاد کر دیں میرے پاس ایک سیاہ فام کنیز ہے۔ کیا میں اسے آزاد کر دوں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اسے بلاؤ! وہ کنیز آئی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: تمہارا پروردگار کون ہے؟ اس نے جواب دیا:اللہ تعالیٰ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: میں کون ہوں؟ اس نے جواب دیا:اللہ تعالیٰ کے رسول۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اسے آزاد کر دو۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الإيمان/حدیث: 189]

190

Sahih Ibn Hibban #190

أَخْبَرَنَا حَبَّانُ بْنُ إِسْحَاقَ بِالْبَصْرَةِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ يَعْقُوبَ الرُّخَامِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلالٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : الإِيمَانُ بِضْعٌ وَسَبْعُونَ بَابًا ، وَالْحَيَاءُ مِنَ الإِيمَانِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”ایمان کے ستر سے زیادہ دروازے ہیں اور حیاء، ایمان کا حصہ ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الإيمان/حدیث: 190]

191

Sahih Ibn Hibban #191

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ بِسْطَامٍ بِالأُبُلَّةِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ حَفْصٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ، عَنْ سُهِيَلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : الإِيمَانُ بِضْعٌ وَسَبْعُونَ شُعْبَةً ، أَعْلاهَا شَهَادَةُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ ، وَأَدْنَاهَا إِمَاطَةُ الأَذَى عَنِ الطَّرِيقِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ یہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”ایمان کے ستر سے زیادہ شعبے ہیں۔ ان میں سب سے بلند (شعبہ) اس بات کی گواہی دینا ہے کہا اللہ تعالیٰ کے سوا اور کوئی معبود نہیں ہے، اور کمتر (شعبہ) راستے سے تکلیف دہ چیز کو ہٹانا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الإيمان/حدیث: 191]

192

Sahih Ibn Hibban #192

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ الرِّفَاعِيُّ أَبُو هِشَامٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَمْرٍو الْفُقَيْمِيُّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَيْسَ الْمُؤْمِنُ بِالطَّعَّانِ ، وَلا اللِّعَانِ ، وَلا الْبَذِيءِ ، وَلا الْفَاحِشِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ، روایت کرتے ہیں: نبی اکرم منی اسلام نے ارشاد فرمایا ہے: ”مومن شخص طعنہ دینے والا، لعنت کرنے والا، بد زبانی کرنے والا، اور فحش گفتگو کرنے والا نہیں ہوتا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الإيمان/حدیث: 192]

193

Sahih Ibn Hibban #193

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ ، وَمَوْهَبُ بْنُ يَزِيدَ ، قَالا : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، أَنَّ دَرَّاجًا أَبَا السَّمْحِ حَدَّثَهُ ، عَنْ أَبِي الْهَيْثَمِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لا حَلِيمَ إِلا ذُو عَثْرَةٍ ، وَلا حَكِيمَ إِلا ذُو تَجْرِبَةٍ "قَالَ مَوْهَبٌ : قَالَ لِي أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ : أَيْشٍ كَتَبْتَ بِالشَّامِ ؟ فَذَكَرْتُ لَهُ هَذَا الْحَدِيثَ ، قَالَ : لَوْ لَمْ تَسْمَعْ إِلا هَذَا لَمْ تَذْهَبْ رِحْلَتُكَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ، روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”لغزش کے بغیر (کوئی) بردبار نہیں ہوتا اور تجربے کے بغیر (کوئی) دانش مند نہیں ہوتا۔“ موہب کہتے ہیں: امام أحمد بن حنبل نے مجھ سے کہا: کیا تم نے شام میں احادیث نوٹ کی ہیں؟ میں نے ان کے سامنے یہ روایت ذکر کی تو وہ بولے: اگر تم نے صرف یہی روایت وہاں سے سنی ہوئی ہو، تو تمہارا سفر بیکار نہیں گیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الإيمان/حدیث: 193]

194

Sahih Ibn Hibban #194

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الصَّبَّاحِ الْبَزَّارُ ، حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ فِي الْخُطْبَةِ : لا إِيمَانَ لِمَنْ لا أَمَانَةَ لَهُ ، وَلا دِينَ لِمَنْ لا عَهْدَ لَهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطبہ دیا۔ آپ نے ارشاد فرمایا: ”اس شخص کا ایمان نہیں ہوتا جس شخص میں امانت نہیں ہوتی اور اس شخص کا دین نہیں ہوتا، جس شخص کا عہد نہیں ہوتا۔ (یعنی جو عہد کو پورا نہیں کرتا)۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الإيمان/حدیث: 194]

195

Sahih Ibn Hibban #195

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيَمَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ : انْطَلَقَ النَّبِيُّ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، نَحْوَ بَقِيعِ الْغَرْقَدْ ، فَانْطَلَقْتُ خَلْفَهُ ، فَقَالَ : يَا أَبَا ذَرٍّ ! " ، فَقُلْتُ : لَبَّيْكَ ثُمَّ سَعْدَيْكَ ، وَأَنَا فِدَاؤُكَ ، فَقَالَ :" الْمُكْثِرُونَ هُمُ الْمُقِلُّونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، إِلا مَنْ قَالَ بِالْمَالِ هَكَذَا وَهَكَذَا ، عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ شِمَالِهِ " قَالَهَا ثَلاثًا ، ثُمَّ عَرَضَ لَنَا أُحُدٌ ، فَقَالَ : " يَا أَبَا ذَرٍّ ، مَا يَسُرُّنِي أَنَّهُ لآلِ مُحَمَّدٍ ذَهَبًا يُمْسِي مَعَهُمْ دِينَارٌ أَوْ مِثْقَالٌ " ، فَقُلْتُ : الِلَّهِ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ ، ثُمَّ عَرَضَ لَنَا وَادٍ ، فَاسْتَبْطَنَهُ النَّبِيُّ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَنَزَلَ فِيهِ ، وَجَلَسْتُ عَلَى شَفِيرِهِ ، فَظَنَنْتُ أَنَّ لَهُ حَاجَةً ، فَأَبْطَأَ عَلَيَّ وَسَاءَ ظَنِّي ، فَسَمِعْتُ مُنَاجَاةً ، فَقَالَ : " ذَلِكَ جِبْرِيلُ يُخْبِرُنِي لأُمَّتِي مَنْ شَهِدَ مِنْهُمْ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ دَخَلَ الْجَنَّةَ " ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَإِنْ زَنَى وَإِنْ سَرَقَ ؟ قَالَ : " وَإِنْ زَنَى ، وَإِنْ سَرَقَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ”بقیع غرقد“ کی طرف تشریف لے گئے۔ میں بھی آپ کے پیچھے چل پڑا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے ابوذر! میں نے عرض کی: میں حاضر ہوں، میں آپ پر قربان جاؤں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (دنیا میں مال و دولت کے اعتبار سے) کثرت رکھنے والے لوگ قیامت کے دن (اجر و ثواب کے اعتبار سے) قلت والے ہوں گے۔ ماسوائے اس شخص کے، جو اپنے مال کے بارے میں، اس طرح اور اس طرح کہتا ہے، اپنے دائیں طرف اور اپنے بائیں طرف (یعنی ہر طرف خرچ کرتا ہے) یہ بات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی، پھر ہمارے سامنے اُحد پہاڑ آ گیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اے ابوذر! مجھے یہ بات پسند نہیں ہے، محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر والوں کے پاس سونا ہو، اور پھر شام کے وقت ان کے پاس ایک دینار یا ایک مثقال سونا بھی باقی رہ جائے۔“ میں نے عرض کی: اللہ اور اس کا رسول زیادہ بہتر جانتے ہیں۔ پھر ہمارے سامنے ایک وادی آئی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس کے نشیبی حصے میں تشریف لے گئے۔ آپ نیچے اتر گئے ہیں اس کے کنارے پر بیٹھ گیا۔ میں نے یہ گمان کیا کہ شاید آپ قضائے حاجت کے لئے تشریف لے گئے ہیں۔ آپ کو واپس آنے میں تاخیر ہو گئی، تو مجھے برے خیال آنے لگے۔ پھر میں نے مناجات کی آواز سنی۔ (بعد میں، میں نے اس بارے میں دریافت کیا) تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ جبرائیل تھے، جو مجھے میری اُمت کے بارے میں یہ بتا رہے تھے کہ ان میں سے جو شخص بھی اس بات کی گواہی دے کہاللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے، اور سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں، تو وہ شخص جنت میں داخل ہو گا۔ (سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں) میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! اگرچہ اس نے زنا کا ارتکاب کیا ہو، یا اگرچہ اس نے چوری کی ہو؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگرچہ اسے زنا کا ارتکاب کیا ہو، یا اگرچہ اس نے چوری کی ہو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الإيمان/حدیث: 195]

196

Sahih Ibn Hibban #196

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ زُهِيَرٍ الْحَافِظُ بِتُسْتُرَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاءِ بْنِ كُرَيْبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو ، وَرَبِّ هَذِهِ الْبَنِيَّةِ يَعْنِي الْكَعْبَةَ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : الْمُهَاجِرُ مَنْ هَجَرَ السَّيِّئَاتِ ، وَالْمُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

امام شعبی بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا: اسی عمارت کے پروردگار کی قسم ہے۔ (انہوں نے خانہ کعبہ کے بارے میں یہ بات کہی) میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”مہاجر وہ شخص ہوتا ہے، جو گناہوں سے الگ ہو جاتا ہے۔ مسلمان وہ ہے، جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان سلامت رہیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الإيمان/حدیث: 196]

197

Sahih Ibn Hibban #197

أَخْبَرَنَا عَبْدَانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : أَسْلَمُ الْمُسْلِمِينَ إِسْلامًا مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر بن عبدالله رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”اسلام کے اعتبار سے مسلمانوں میں سے سب سے بہتر اسلام اس شخص کا ہے، جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان سلامت رہیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الإيمان/حدیث: 197]

198

Sahih Ibn Hibban #198

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ الضَّرِيرِ ، وَأُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامٍ ، قَالا : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ ثَوْبَانَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : مَنْ جَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بَرِيئًا مِنْ ثَلاثٍ دَخَلَ الْجَنَّةَ : الْكِبْرِ وَالْغُلُولِ وَالدَّيْنِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جو شخص قیامت کے دن ایسی حالت میں آئے گا کہ وہ تین چیزوں سے بری ہو گا، تو وہ جنت میں داخل ہو گا۔ (وہ تین چیزیں یہ ہیں) تکبر، خیانت اور قرض۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الإيمان/حدیث: 198]

199

Sahih Ibn Hibban #199

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي حَيْوَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ الْهَادِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيَمَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الصَّلْتِ ، عَنْ سُهِيَلِ بْنِ بَيْضَاءَ ، مِنْ بَنِي عَبْدِ الدَّارِ ، قَالَ : بَيْنَمَا نَحْنُ فِي سَفَرٍ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَجَلَسَ مَنْ كَانَ بَيْنَ يَدَيْهِ ، وَلَحِقَهُ مَنْ كَانَ خَلْفَهُ ، حَتَّى اجْتَمَعُوا ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّهُمَنْ شَهِدَ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ حَرَّمَهُ الِلَّهِ عَلَى النَّارِ ، وَأَوْجَبَ لَهُ الْجَنَّةَ "قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ الِلَّهِ عَنْهُ : هَذَا خَبَرٌ خَرَجَ خِطَابُهُ عَلَى حَسَبِ الْحَالِ ، وَهُوَ مِنَ الضَّرْبِ الَّذِي ذَكَرْتُ فِي كِتَابِ فُصُولُ السُّنَنِ ، أَنَّ الْخَبَرَ كَانَ خِطَابُهُ عَلَى حَسَبِ الْحَالِ لَمْ يَجُزْ أَنْ يُحْكَمَ بِهِ فِي كُلِّ الأَحْوَالِ ، وَكُلُّ خِطَابٍ كَانَ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى حَسَبِ الْحَالِ ، فَهُوَ عَلَى ضَرْبَيْنِ : أَحَدُهُمَا : وُجُودُ حَالَةٍ مِنْ أَجْلِهَا ذَكَرَ مَا ذَكَرَ لَمْ تُذْكَرْ تِلْكَ الْحَالَةُ مَعَ ذَلِكَ الْخَبَرِ ، وَالثَّانِي : أَسْئِلَةٌ سُئِلَ عَنْهَا النَّبِيُّ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَجَابَ عَنْهَا بِأَجْوِبَةٍ ، فَرُوِيَتْ عَنْهُ تِلْكَ الأَجْوِبَةُ مِنْ غَيْرِ تِلْكَ الأَسْئِلَةِ ، فَلا يَجُوزُ أَنْ يُحْكَمَ بِالْخَبَرِ كَانَ هَذَا نَعَتُهُ فِي كُلِّ الأَحْوَالِ دُونَ أَنْ يُضَمَّ مُجْمَلُهُ إِلَى مُفَسَّرِهِ ، وَمُخْتَصَرُهُ إِلَى مُتَقَصَّاهُ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا سہل بن بیضاء رضی اللہ عنہ جن کا تعلق بنو عبدالدار سے ہے، وہ بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر کر رہے تھے، تو آپ نے اپنے سے آگے والے لوگوں کو بٹھا دیا اور آپ سے پیچھے آنے والے لوگ آپ تک پہنچ گئے۔ جب لوگ اکٹھے ہو گئے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”بے شک جو شخص اس بات کی گواہی دے کہاللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے، تواللہ تعالیٰ اسے جہنم پر حرام کر دے گا اور اس کے لئے جنت کو واجب کر دے گا۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) اس روایت میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا خطاب حالت کے مخصوص پس منظر کے حوالے سے ہے، اور یہ اس قسم سے تعلق رکھتا ہے، جس کو میں نے کتاب ”مغول السنن“ میں ذکر کیا ہے۔ کہ جب کسی روایت میں خطاب کا مخصوص پس منظر ہو، تو اب یہ بات جائز نہیں ہے کہ تمام حالتوں میں اس کے مطابق فیصلہ دیا جائے، اور ہر وہ خطاب، جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مخصوص پس منظر کے ساتھ صادر ہوا ہو اس کی دو قسمیں ہوں گی ان میں سے ایک قسم یہ ہے: وہ کسی حالت کی موجودگی میں ہو گا، اور اسی کی وجہ سے اس چیز کو ذکر کیا گیا ہو۔ اس حالت کو اس خبر کے ہمراہ ذکر نہیں کیا گیا ہو گا۔ دوسری صورت یہ ہے: کچھ سوالات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیے گئے ہوں گے آپ نے ان کے جوابات عنایت کیے ہوں گے، تو ان جوابات کو روایت کر لیا گیا اور سوالات روایت نہیں ہو سکے، تو اب یہ بات جائز نہیں ہے کہ کوئی شخص اس روایت کی بنا پر فیصلہ دے، جو ہر حالت میں ہو۔ اس میں مجمل اور مفسر یا مختصر اور تفصیلی کا خیال نہ رکھا گیا ہو۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الإيمان/حدیث: 199]

200

Sahih Ibn Hibban #200

أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ الْعَسْكَرِيُّ بِالرَّقَّةِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْوَكِيلُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنَّ مُعَاذًا لَمَّا حَضَرَتْهُ الْوَفَاةُ ، قَالَ : اكْشِفُوا عَنِّي سِجْفَ الْقُبَّةِ ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : مَنْ شَهِدَ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ مُخْلِصًا مِنْ قَلْبِهِ دَخَلَ الْجَنَّةَ "قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ الِلَّهِ عَنْهُ : قَوْلُهُ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " دَخَلَ الْجَنَّةَ " يُرِيدُ بِهِ جَنَّةً دُونَ جَنَّةٍ لأَنَّهَا جِنَانٌ كَثِيرَةٌ ، فَمَنْ أَتَى بِالإِقْرَارِ الَّذِي هُوَ أَعْلَى شُعَبِ الإِيمَانِ ، وَلَمْ يُدْرِكِ الْعَمَلَ ثُمَّ مَاتَ ، أُدْخِلَ الْجَنَّةَ ، وَمَنْ أَتَى بَعْدَ الإِقْرَارِ مِنَ الأَعْمَالِ قَلَّ أَوْ كَثُرَ ، أُدْخِلَ الْجَنَّةَ ، جَنَّةً فَوْقَ تِلْكَ الْجَنَّةِ ، لأَنَّ مَنْ كَثُرَ عَمَلُهُ عَلَتْ دَرَجَاتُهُ ، وَارْتَفَعَتْ جَنَّتُهُ ، لا أَنَّ الْكُلَّ مِنَ الْمُسْلِمِينَ يَدْخُلُونَ جَنَّةً وَاحِدَةً ، وَإِنْ تَفَاوَتَتْ أَعْمَالُهُمْ وَتَبَايَنَتْ ، لأَنَّهَا جِنَانٌ كَثِيرَةٌ لا جَنَّةٌ وَاحِدَةٌ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: جب سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کا آخری وقت قریب آیا، تو انہوں نے فرمایا: خیمے کا پردہ ہٹا دو، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جو شخص خلوص دل کے ساتھ اس بات کی گواہی دے کہاللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے، وہ شخص جنت میں داخل ہو گا۔“ امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان: ”وہ جنت میں داخل ہو گا۔“ اس سے مراد یہ ہے: ایک جنت دوسرے سے مختلف ہوتی ہے، کیونکہ جنت کی مختلف قسمیں ہیں، تو جو شخص وہ اقرار کرتا ہے۔ ایمان کا سب سے بلند تر شعبہ ہے، اور وہ عمل تک نہیں پہنچا اور پھر انتقال کر جاتا ہے، تو وہ جنت میں داخل ہو گا۔ جو شخص اقرار کے بعد اعمال بھی بجا لاتا ہے خواہ وہ کم ہوں، یا زیادہ ہوں، وہ بھی جنت میں جائے گا۔ لیکن یہ وہ پہلے والی جنت سے اوپر ہو گی۔ کیونکہ اس کے عمل زیادہ ہیں، تو اس کے درجات بلند ہوں گے اور اس کی جنت بلند ہو گی ایسا نہیں ہے کہ تمام مسلمان ایک ہی جنت میں داخل ہوں گے۔ اگرچہ ان کے اعمال کے درمیان تفاوت اور تباین پایا جاتا ہو، کیونکہ جنت کی مختلف قسمیں ہیں۔ ایسا نہیں ہے کہ ایک ہی جنت ہو۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الإيمان/حدیث: 200]""

201

Sahih Ibn Hibban #201

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ يُوسُفَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ مُسْلِمٍ أَبِي بِشْرٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ حُمْرَانَ بْنَ أَبَانَ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : مَنْ مَاتَ وَهُوَ يَعْلَمُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ دَخَلَ الْجَنَّةَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جو شخص ایسی حالت میں مرے کہ وہ اس بات کا علم رکھتا ہو کہاللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے، وہ شخص جنت میں داخل ہو گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الإيمان/حدیث: 201]

202

Sahih Ibn Hibban #202

أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ دَاوُدَ بْنِ وَرْدَانَ بِالْفُسْطَاطِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، عَنِ ابْنِ عَجْلانَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ ، عَنِ ابْنِ مُحَيْرِيزٍ ، عَنِ الصُّنَابِحِيِّ ، قَالَ : دَخَلْتُ عَلَى عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ وَهُوَ فِي الْمَوْتِ ، فَبَكَيْتُ ، فَقَالَ لِي : مَهْ ، لِمَ تَبْكِي ؟ فَوَاللَّهِ لَئِنَ اسْتُشْهِدْتُ لأَشْهَدَنَّ لَكَ ، وَلَئِنْ شُفِّعْتَ لأَشْفَعَنَّ لَكَ ، وَلَئِنِ اسْتَطَعْتُ لأَنْفَعَنَّكَ ، ثُمّ قَالَ : وَاللَّهِ مَا مِنْ حَدِيثٍ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَكُمْ فِيهِ خَيْرٌ إِلا حَدَّثْتُكُمُوهُ ، إِلا حَدِيثًا وَاحِدًا وَسَوْفَ أُحَدِّثَكُمُوهُ الْيَوْمَ ، وَقَدْ أُحِيطَ بِنَفْسِي ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : مَنْ شَهِدَ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ حَرَّمَهُ الِلَّهِ عَلَى النَّارِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

صنابحی بیان کرتے ہیں: میں، سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا، اس وقت وہ قریب الموت تھے۔ میں رونے لگا، تو انہوں نے مجھ سے فرمایا: رک جاؤ تم کیوں رو رہے ہو؟ اللہ کی قسم! اگر مجھ سے گواہی طلب کی گئی، تو میں تمہارے بارے میں ضرور گواہی دوں گا اور اگر مجھے شفاعت کا موقع دیا گیا، تو میں تمہارے لئے شفاعت کروں گا اور اگر مجھ سے ہو سکا تو میں تمہیں فائدہ پہنچاؤں گا۔ پھر انہوں نے یہ بات بیان کی: اللہ کی قسم! میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی جو بھی حدیث سنی، جس میں تمہارے لئے بہتری تھی، وہ حدیث میں نے تمہارے سامنے بیان کر دی۔ صرف ایک حدیث بیان نہیں کی اور وہ میں آج تمہارے سامنے بیان کروں گا، کیونکہ اب میرا آخری وقت قریب آ گیا ہے۔ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جو شخص اس بات کی گواہی دے کہاللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے، اور بے شک سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے رسول ہیں۔اللہ تعالیٰ اسے جہنم پر حرام قرار دیدے گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الإيمان/حدیث: 202]

203

Sahih Ibn Hibban #203

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُسَدَّدَ بْنُ مُسَرْهَدٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي عَدِيٍّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ الصَّوَّافُ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي حُمَيْدُ بْنُ هِلالٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي هِصَّانُ بْنُ كَاهِنٍ ، قَالَ : جَلَسْتُ مَجْلِسًا فِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَمُرَةَ ، وَلا أَعْرِفُهُ ، فَقَالَ حَدَّثَنَا مُعَاذْ بْنُ جَبَلٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَا عَلَى الأَرْضِ نَفْسٌ تَمُوتُ لا تُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا ، وَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ يَرْجِعُ ذَلِكَ إِلَى قَلْبٍ مُوقِنٍ إِلا غُفِرَ لَهَا "، قُلْتُ : أَنْتَ سَمِعْتَهُ مِنْ مُعَاذْ ؟ قَالَ : فَعَنَّفَنِي الْقَوْمُ ، فَقَالَ : دَعُوهُ ، فَإِنَّهُ لَمْ يُسِئِ الْقَوْلَ ، نَعَمْ سَمِعْتُهُ مِنْ مُعَاذْ زَعَمَ أَنَّهُ سَمِعَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ، روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”زمین پر بسنے والا جو بھی شخص ایسی حالت میں مرے کہ وہ کسی کو اللہ کا شریک نہ ٹھہراتا ہو، اور وہ اس بات کی گواہی دے کہ میں اللہ کا رسول ہوں، اور یہ بات یقین رکھنے والے دل کی طرف لوٹتی ہو، تو اس شخص کی مغفرت ہو جاتی ہے۔“ راوی کہتے ہیں) میں نے دریافت کیا: کیا آپ نے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کی زبانی یہ بات سنی ہے؟ راوی کہتے ہیں، تو حاضرین نے مجھے گھور کر دیکھا لیکن انہوں نے کہا: تم لوگ اسے چھوڑ دو، اس نے غلط بات نہیں کی ہے۔ جی ہاں! میں نے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کی زبانی یہ بات سنی ہے۔ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے یہ بات بتائی تھی، انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی یہ بات سنی ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الإيمان/حدیث: 203]

204

Sahih Ibn Hibban #204

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ حُمْرَانَ بْنِ أَبَانَ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنِّي لأَعْلَمُ كَلِمَةً لا يَقُولُهَا عَبْدٌ حَقًّا مِنْ قَلْبِهِ فَيَمُوتُ عَلَى ذَلِكَ إِلا حَرَّمَهُ الِلَّهِ عَلَى النَّارِ : لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”میں ایک ایسے کلمے کے بارے میں جانتا ہوں، جو بھی بندہ سچے دل کے ساتھ اس کلمے کو پڑھ لے گا اور وہ اس پر مرے گا، تواللہ تعالیٰ اسے جہنم پر حرام قرار دے گا۔“ وہ کلمہ یہ ہے) ”لا اله الا الله“ [صحیح ابن حبان/كتاب الإيمان/حدیث: 204]

205

Sahih Ibn Hibban #205

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ إِسْحَاقَ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ ، عَنْ مِسْعَرِ بْنِ كِدَامٍ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ طَلْحَةَ ، عَنْ أُمِّهِ سُعْدَى الْمُرِّيَّةِ ، قَالَتْ : مَرَّ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ بِطَلْحَةَ بَعْدَ وَفَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : مَا لَكَ مُكْتَئِبًا ، أَسَاءَتْكَ إِمْرَةُ ابْنِ عَمِّكَ ؟ قَالَ : لا ، وَلَكِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : إِنِّي لأَعْلَمُ كَلِمَةً لا يَقُولُهَا عَبْدٌ عِنْدَ مَوْتِهِ إِلا كَانَتْ لَهُ نُورًا لِصَحِيفَتِهِ ، وَإِنَّ جَسَدَهُ وَرُوحَهُ لَيَجِدَانِ لَهَا رَوْحًا عِنْدَ الْمَوْتِ "، فَقُبِضَ وَلَمْ أَسْأَلْهُ ، فَقَالَ : مَا أَعْلَمُهُ إِلا الَّتِي أَرَادَ عَلَيْهَا عَمَّهُ ، وَلَوْ عَلِمَ أَنَّ شَيْئًا أَنْجَى لَهُ مِنْهَا لأَمَرَهُ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سعدی بن مریہ بیان کرتی ہیں: ایک مرتبہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرے، تو دریافت کیا: کیا وجہ ہے، آپ پریشان ہیں؟ کیا آپ کو اپنے چچازاد کی حکومت پسند نہیں ہے؟ تو سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: جی نہیں! لیکن میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”میں ایک ایسے کلمے کے بارے میں جانتا ہوں کہ جو بھی بندہ مرتے وقت اس کلمے کو پڑھے گا، تو یہ کلمہ اس کے صحیفے میں، اس کے لئے نور کی حیثیت رکھے گا۔ اور اس شخص کا جسم اور اس شخص کی روح مرنے کے وقت اس کلمے کی وجہ سے راحت محسوس کریں گے۔“ (سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا) پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہو گیا، لیکن میں آپ سے اس کلمے کے بارے میں دریافت نہیں کر سکا۔ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میرے خیال میں یہ وہی کلمہ ہو گا، جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے چچا (جناب ابوطالب) کو پڑھانا چاہتے تھے۔ اور اگر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بات کا علم ہوتا کہ کوئی اور کلمہ، اس کلمے سے زیادہ بہتر طور پر آپ کے چچا کے لئے نجات کا باعث بن سکتا ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں وہ کلمہ پڑھنے کا حکم دیتے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الإيمان/حدیث: 205]

206

Sahih Ibn Hibban #206

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ الْحَوْضِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ ، عَنِ الْبَرَاءِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : الْمُؤْمِنُ شَهِدَ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ ، وَعَرَفَ مُحَمَّدًا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي قَبْرِهِ ، فَذَلِكَ قَوْلُ اللَّهِ جَلَّ وَعَلا : يُثَبِّتُ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الآخِرَةِ إبراهِيَم"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا براء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”مومن اپنی قبر میں جب اس بات کی گواہی دے دیتا ہے،اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے، اور اللہ کے رسول سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو پہچان لیتا ہے، تواللہ تعالیٰ کے اس فرمان سے یہی مراد ہے۔ ”اللہ تعالیٰ، ایمان والوں کو ثابت قول پر ثابت قدم رکھے گا، دنیاوی زندگی میں بھی اور آخرت میں بھی۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الإيمان/حدیث: 206]

207

Sahih Ibn Hibban #207

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ صَالِحٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ ، عَنِ ابْنِ جَابِرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عُمَيْرُ بْنُ هَانِئٍ ، حَدَّثَنِي جُنَادَةُ بْنُ أَبِي أُمَيَّةَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عُبَادَةُ بْنُ الصَّامِتِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ شَهِدَ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ وَحْدَهُ لا شَرِيكَ لَهُ ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ ، وَأَنَّ عِيسَى عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ وَكَلِمَتُهُ أَلْقَاهَا إِلَى مَرْيَمَ وَرُوحٌ مِنْهُ ، وَأَنَّ الْجَنَّةَ وَالنَّارَ حَقٌّ ، أَدْخَلَهُ الِلَّهِ مِنْ أَيِّ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ الثَّمَانِيَةِ شَاءَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ، روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”جو شخص اس بات کی گواہی دے کہاللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے۔ وہی ایک معبود ہے، اس کا کوئی شریک نہیں ہے، اور سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور رسول ہیں۔ سیدنا عیسی علیہ السلام اللہ کے بندے، اس کے رسول اور اس کا کلمہ ہیں، جو اس نے سیدہ مریم رضی اللہ عنہا کی طرف القاء کیا تھا، اور اس کی طرف سے آنے والی روح ہیں، جنت اور جہنم حق ہیں، تواللہ تعالیٰ اسے جنت میں داخل کر دے گا کہ وہ جنت کے آٹھ دروازوں میں سے، جس میں سے چاہئے، جنت میں داخل ہو جائے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الإيمان/حدیث: 207]

208

Sahih Ibn Hibban #208

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي هَانِئٍ ، عَنْ أَبِي عَلِيٍّ الْجَنْبِيِّ ، عَنْ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَال : الِلَّهِمْ مَنْ آمَنَ بِكَ ، وَشَهِدَ أَنِّي رَسُولُكَ ، فَحَبِّبْ إِلَيْهِ لِقَاءَكَ ، وَسَهِّلْ عَلَيْهِ قَضَاءَكَ ، وَأَقْلِلْ لَهُ مِنَ الدُّنْيَا ، وَمَنْ لَمْ يُؤْمِنْ بِكَ وَلَمْ يَشْهَدْ أَنِّي رَسُولُكَ ، فَلا تُحَبِّبْ إِلَيْهِ لِقَاءَكَ ، وَلا تُسَهِّلْ عَلَيْهِ قَضَاءَكَ ، وَأَكْثِرْ لَهُ مِنَ الدُّنْيَا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”اے اللہ! جو شخص تجھ پر ایمان لائے، اور اس بات کی گواہی دے کہ میں تیرا رسول ہوں، تو اپنی بارگاہ میں حاضری اس کے لئے محبوب کر دے اور اپنے فیصلے (یعنی موت کو) اس کے لئے آسان کر دے اور دنیا کو اس کے لئے تھوڑا کر دے اور جو شخص تجھ پر ایمان نہ لائے، اور اس بات کی گواہی نہ دے کہ میں تیرا رسول ہوں، تو اپنی بارگاہ میں حاضری کو اس کے نزدیک محبوب نہ کرنا اور تو اپنے فیصلے (یعنی اس شخص کی موت) کو اس کے لئے آسان نہ کرنا اور اس کے لئے (دنیا کی) پریشانیاں اور مشکلات کو زیادہ کر دینا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الإيمان/حدیث: 208]

209

Sahih Ibn Hibban #209

أَخْبَرَنَا وَصِيفُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ بِأَنْطَاكِيَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ سُوَيْدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّأَهْلَ الْجَنَّةِ يَرَوْنَ أَهْلَ الْغُرَفِ ، كَمَا تَرَوْنَ الْكَوْكَبَ الدُّرِّيَّ الْغَابِرَ فِي الأُفُقِ مِنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ لِتَفَاضُلِ مَا بَيْنَهُمَا " ، قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، تِلْكَ مَنَازِلُ الأَنْبِيَاءِ لا يَبْلُغُهَا غَيْرُهُمْ ؟ قَالَ : " بَلَى وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، رِجَالٌ آمَنَوا بِاللَّهِ وَصَدَّقُوا الْمُرْسَلِينَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”اہل جنت بالا خانے میں (یعنی اپنے سے اوپر کے مرتبے میں رہنے والے لوگوں) کو یوں دیکھیں گے، جس طرح تم لوگ مشرق یا مغرب کے افق میں چمکتے ہوئے ستارے کو دیکھتے ہو، اس کی وجہ یہ ہے، ان دونوں درجات میں رہنے والے لوگوں کے درمیان اتنا فرق ہو گا۔“ لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! کیا یہ انبیاء کی مخصوص منازل ہوں گی؟ جہاں کوئی دوسرا نہیں پہنچ سکے گا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا: جی ہاں۔ اس ذات کی قسم! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے۔ کچھ لوگ ایسے ہیں، جواللہ تعالیٰ پر ایمان لائیں گے اور انہوں نے رسولوں کی تصدیق کی ہو گی۔ (تو انہیں اس کا یہ اجر و ثواب ملے گا) [صحیح ابن حبان/كتاب الإيمان/حدیث: 209]