Muslim99Muslim99

Sahih Ibn Hibban · Book 3 · Chapter 2

The Book of the Night Journey

Hadith 250–290

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

250

Sahih Ibn Hibban #250

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّامِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ الْمَقَابِرِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَيُّمَا امْرِئٍ قَالَ لأَخِيهِ : كَافِرٌ ، فَقَدْ بَاءَ بِهِ أَحَدُهُمَا إِنْ كَانَ كَمَا قَالَ ، وَإِلا رَجَعَتْ عَلَيْهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ، روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”جو بھی شخص اپنے بھائی کو کافر کہے، تو یہ کفر ان دونوں میں سے کسی ایک کی طرف لوٹ آتا ہے اگر وہ شخص ویسا ہی ہو جیسا کہ اس شخص نے کہا: ہے (تو ٹھیک ہے) ورنہ یہ (کفر) کہنے والے کی طرف لوٹ آئے گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الإيمان/حدیث: 250]

251

Sahih Ibn Hibban #251

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : كَلِمَتَانِ سَمِعْتُ إِحْدَاهُمَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَالأُخْرَى أَنَا أَقُولُهَا ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : لا يَلْقَى اللَّهَ عَبْدٌ يُشْرِكُ بِهِ إِلا أَدْخَلَهُ النَّارَ "، وَأَنَا أَقُولُ : لا يَلْقَى اللَّهَ عَبْدٌ لَمْ يُشْرِكْ بِهِ إِلا أَدْخَلَهُ الْجَنَّةَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: دو کلمات ہیں، جن میں سے ایک میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی سنا ہے، اور دوسری بات میں کہتا ہوں۔ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جو بھی بندہ ایسی حالت میںاللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہو کہ وہ کسی کو اللہ کا شریک نہ ٹھہراتا ہو، تواللہ تعالیٰ اسے جنت میں داخل کر دے گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الإيمان/حدیث: 251]

252

Sahih Ibn Hibban #252

أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيَمَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ بِبُسْتَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْمِقَدْامِ الْعِجْلِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَبْدِ الْغَافِرِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : لَيَأْخُذَنَّ رَجُلٌ بِيَدِ أَبِيهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يُرِيدُ أَنْ يُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ ، فَيُنَادَى : إِنَّ الْجَنَّةَ لا يَدْخُلُهَا مُشْرِكٌ ، إِنَّ اللَّهَ قَدْ حَرَّمَ الْجَنَّةَ عَلَى كُلِّ مُشْرِكٍ ، فَيَقُولُ : أَيْ رَبِّ ، أَيْ رَبِّ ، أَبِي ، قَالَ : فَيَتَحَوَّلُ فِي صُورَةٍ قَبِيحَةٍ وَرِيحٍ مُنْتِنَةٍ ، فَيَتْرُكُهُ "قَالَ أَبُو سَعِيدٍ : كَانَ أَصْحَابُ مُحَمَّدٍ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرَوْنَ أَنَّهُ إِبْرَاهِيَمُ ، وَلَمْ يَزِدْهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى ذَلِكَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”قیامت کے دن ایک شخص اپنے باپ کا ہاتھ پکڑ کر اسے جنت میں داخل کرنا چاہے گا، تو پکار کر یہ کہا: جائے گا: بے شک کوئی مشرک جنت میں داخل نہیں ہو گا۔ بے شکاللہ تعالیٰ نے جنت کو ہر مشرک کے لئے حرام قرار دیا ہے، تو وہ بندہ عرض کرے گا: اے میرے پروردگار! یہ میرا باپ ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: تو اس کا باپ انتہائی بدصورت اور انتہائی بدبودار ہو جائے گا، تو وہ شخص اسے چھوڑ دے گا۔ سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب یہ سمجھتے تھے: یہ سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے بارے میں ہے۔ تاہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے زیادہ الفاظ استعمال نہیں کئے۔ (جو اس روایت میں پہلے ذکر کر دیئے گئے ہیں) [صحیح ابن حبان/كتاب الإيمان/حدیث: 252]

253

Sahih Ibn Hibban #253

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ إِبْرَاهِيَمَ بْنِ فِيلٍ الْبَالِسِيُّ بِأَنْطَاكِيَةَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، قَالا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاءِ بْنِ كُرَيْبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيَمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ : الَّذِينَ آمَنُوا وَلَمْ يَلْبِسُوا إِيمَانَهُمْ بِظُلْمٍ ، قَالَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَيُّنَا لَمْ يَظْلِمْ نَفْسَهُ ؟ قَالَ : فَنَزَلَتْ : إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ ، قَالَ ابْنُ إِدْرِيسَ ، حَدَّثَنِيهِ أَبِي ، عَنْ أَبَانَ بْنِ تَغْلِبَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، ثُمَّ لَقِيتُ الأَعْمَشَ فَحَدَّثَنِي بِهِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: جب یہ آیت نازل ہوئی، ”وہ لوگ جو ایمان لائے، اور انہوں نے اپنے ایمان کے ساتھ ظلم کو شامل نہیں کیا۔“ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب نے عرض کی: ہم میں سے کون شخص ایسا ہے، جس نے اپنے اوپر ظلم نہ کیا ہو۔ راوی بیان کرتے ہیں، تو یہ آیت نازل ہوئی۔ ”بے شک شرک، عظیم ظلم ہے۔“ ابن ادریس نامی راوی کہتے ہیں: یہ روایت میرے والد نے مجھے ابان بن تغلب کے حوالے سے اعمش کے حوالے سے سنائی تھی۔ پھر میری ملاقات اعمش سے ہوئی، تو انہوں نے بھی مجھے یہ حدیث سنائی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الإيمان/حدیث: 253]

254

Sahih Ibn Hibban #254

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَرْبَعٌ مَنْ كُنَّ فِيهِ كَانَ مُنَافِقًا خَالِصًا ، وَمَنْ كَانَتْ فِيهِ خَصْلَةٌ مِنْهَا كَانَتْ فِيهِ خَصْلَةٌ مِنَ النِّفَاقِ حَتَّى يَدَعَهَا : إِذَا حَدَّثَ كَذَبَ ، وَإِذَا عَاهَدَ غَدَرَ ، وَإِذَا وَعَدَ أَخْلَفَ ، وَإِذَا خَاصَمَ فَجَرَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ، روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”چار عادات جس شخص میں ہوں گی، وہ خالص منافق ہو گا اور جس شخص میں ان میں سے کوئی ایک خصلت ہو گی، اس میں نفاق کی خصلت موجود ہو گی یہاں تک کہ وہ اسے ترک کر دے۔ (وہ عادات درج ذیل ہیں) جب وہ بات کرے، تو جھوٹ بولے: اور عہد کرے، تو اس کی خلاف ورزی کرے۔ جب وہ وعدہ کرے، تو اس کی خلاف ورزی کرے اور جب جھگڑا کرے، تو بدزبانی کا مظاہرہ کرے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الإيمان/حدیث: 254]

255

Sahih Ibn Hibban #255

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَرْبَعُ خِلالٍ مَنْ كُنَّ فِيهِ كَانَ مُنَافِقًا خَالِصًا : مَنْ إِذَا حَدَّثَ كَذَبَ ، وَإِذَا وَعَدَ أَخْلَفَ ، وَإِذَا عَاهَدَ غَدَرَ ، وَإِذَا خَاصَمَ فَجَرَ ، وَمَنْ كَانَتْ فِيهِ خَصْلَةٌ مِنْهُنَّ كَانَتْ فِيهِ خَصْلَةٌ مِنَ النِّفَاقِ "، أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ فِي عَقِبِهِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ، روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”چار خصلتیں جس شخص میں موجود ہوں گی وہ خالص منافق ہو گا۔ وہ شخص جب بات کرے، تو جھوٹ بولے: جب وعدہ کرے، تو اس کی خلاف ورزی کرے۔ جب عہد کرے، تو اس کی خلاف ورزی کرے اور جب جھگڑا کرے، تو بدزبانی کا مظاہرہ کرے اور جس شخص میں ان میں سے کوئی ایک خصلت موجود ہو گی، اس میں نفاق کی خصلت موجود ہو گی۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الإيمان/حدیث: 255]

257

Sahih Ibn Hibban #257

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ ، حَدَّثَنَا أَبُو نَصْرٍ التَّمَّارُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيرَةَ ، وَحَبِيبٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : ثَلاثٌ مَنْ كُنَّ فِيهِ فَهُوَ مُنَافِقٌ ، وَإِنْ صَامَ وَصَلَّى وَزَعَمَ أَنَّهُ مُسْلِمٌ : مَنْ إِذَا حَدَّثَ كَذَبَ ، وَإِذَا وَعَدَ أَخْلَفَ ، وَإِذَا ائْتُمِنَ خَانَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”تین خصلتیں جس شخص میں موجود ہوں، وہ منافق ہو گا، اگرچہ وہ روزہ رکھے، وہ نماز پڑھے، اور یہ دعویٰ کرے کہ وہ مسلمان ہے۔ وہ شخص کہ جب وہ بات کرے، تو جھوٹ بولے: اور جب وعدہ کرے، تو اس کے خلاف کرے اور جب اس کے سپرد امانت کی جائے تو خیانت کرے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الإيمان/حدیث: 257]

258

Sahih Ibn Hibban #258

أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ سِنَانٍ الْقَطَّانُ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ عُبَيْدَةَ بْنِ سَفِيَانَ ، عَنْ أَبِي الْجَعْدِ الضَّمْرِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ تَرَكَ الْجُمُعَةَ ثَلاثًا مِنْ غَيْرِ عُذْرٍ ، فَهُوَ مُنَافِقٌ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوجعد ضمری رضی اللہ عنہ، روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”جو شخص کسی عذر کے بغیر تین جمعہ ترک کر دے وہ منافق ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الإيمان/حدیث: 258]

259

Sahih Ibn Hibban #259

أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ دَاوُدَ بْنِ وَرْدَانَ ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، عَنِ ابْنِ عَجْلانَ ، عَنِ الْعَلاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالَ : دَخَلْتُ عَلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَا وَصَاحِبٌ لِي ، بَعْدَ الظُّهْرِ ، فَقَالَ : أَصَلَّيْتُمَا الْعَصْرَ ؟ قَالَ : فَقُلْنَا : لا ، قَالَ : فَصَلِّيَا عِنْدَكُمَا فِي الْحُجْرَةِ ، فَفَرَغْنَا وَطَوَّلَ هُوَ ، ثُمَّ انْصَرَفَ إِلَيْنَا ، فَكَانَ أَوَّلَ مَا كَلَّمَنَا بِهِ أَنْ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : تِلْكَ صَلاةُ الْمُنَافِقِينَ ، يُمْهِلُ أَحَدُهُمْ حَتَّى كَانَتِ الشَّمْسُ عَلَى قَرْنَيِ الشَّيْطَانِ ، قَامَ فَنَقَرَ أَرْبَعًا لا يَذْكُرُ اللَّهَ فِيهَا إِلا قَلِيلا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

علاء بن عبدالرحمن بیان کرتے ہیں: میں سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا، میں اور میرے ساتھ ایک اور صاحب تھے، ہم ظہر کے بعد ان کی خدمت میں حاضر ہوئے، تو انہوں نے دریافت کیا: کیا تم لوگوں نے عصر کی نماز پڑھ لی ہے؟ ہم نے جواب دیا: جی نہیں! تو انہوں نے فرمایا: تم دونوں حجرہ میں نماز ادا کر لو۔ ہم اس سے فارغ ہو گئے انہوں نے نماز طویل ادا کی جب وہ نماز پڑھ کر ہماری طرف متوجہ ہوئے، تو انہوں نے سب سے پہلے ہم سے یہ کہا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”یہ منافقین کی نماز ہے، اُن میں سے کوئی شخص نماز کو مؤخر کرتا رہتا ہے۔ یہاں تک کہ جب سورج شیطان کے دو سینگوں کے درمیان پہنچ جاتا ہے، تو وہ شخص اٹھ کر چار مرتبہ ٹھونگیں مارتا ہے، وہ نماز میںاللہ تعالیٰ کا ذکر، بہت کم کرتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الإيمان/حدیث: 259]

260

Sahih Ibn Hibban #260

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى بِالْمَوْصِلِ ، حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنَا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ وَحَدَّثَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ ، أَنَّ حَفْصَ بْنَ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَنَسٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَلا أُخْبِرُكُمْ بِصَلاةِ الْمُنَافِقِينَ ؟ يَدَعُ الْعَصْرَ حَتَّى كَانَتْ بَيْنَ قَرْنَيِ الشَّيْطَانِ ، أَوْ عَلَى قَرْنَيِ الشَّيْطَانِ ، قَامَ فَنَقَرَ كَنَقَرَاتِ الدِّيكِ لا يَذْكُرُ اللَّهَ فِيهِنَّ إِلا قَلِيلا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ، روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”کیا میں تمہیں منافقین کی نماز کے بارے میں نہ بتاؤں؟ وہ عصر کی نماز کو ادا نہیں کرتا۔ یہاں تک کہ جب سورج شیطان کے دو سینگوں کے درمیان (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) شیطان کے سینگ تک پہنچ جاتا ہے، تو وہ مرغ کی طرح ٹھونگے مارتا ہے۔ وہ اس نماز میں اللہ کا ذکر بہت تھوڑا سا کرتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الإيمان/حدیث: 260]

261

Sahih Ibn Hibban #261

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنِ الْعَلاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّهُ قَالَ : دَخَلْنَا عَلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ بَعْدَ الظُّهْرِ فَقَامَ يُصَلِّي الْعَصْرَ ، فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ صَلاتِهِ ذَكَرْنَا تَعْجِيلَ الصَّلاةِ أَوْ ذَكَرَهَا ، فَقَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : تِلْكَ صَلاةُ الْمُنَافِقِينَ ، تِلْكَ صَلاةُ الْمُنَافِقِينَ ثَلاثَ مَرَّاتٍ يَجْلِسُ أَحَدُهُمْ حَتَّى اصْفَرَّتِ الشَّمْسُ وَكَانَتْ بَيْنَ قَرْنَيِ الشَّيْطَانِ ، أَوْ عَلَى قَرْنَيِ الشَّيْطَانِ ، قَامَ فَنَقَرَ أَرْبَعًا لَمْ يَذْكُرِ اللَّهَ فِيهَا إِلا قَلِيلا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

علاء بن عبدالرحمن بیان کرتے ہیں: ہم لوگ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی خدمت میں ظہر کے بعد حاضر ہوئے، تو وہ عصر کی نماز ادا کر رہے تھے، جب وہ نماز پڑھ کر فارغ ہوئے، تو ہم نے یا شاید انہوں نے جلدی نماز ادا کرنے کا تذکرہ کیا، تو سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”یہ منافقین کی نماز ہے یہ منافقین کی نماز ہے۔“ یہ بات آپ نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی: ”ان میں سے کوئی ایک شخص بیٹھا رہتا ہے۔ یہاں تک کہ جب سورج زرد ہو جاتا ہے، اور وہ شیطان کے دو سینگوں کے درمیان پہنچ جاتا ہے۔ (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) شیطان کے دو سینگوں پر پہنچ جاتا ہے، تو وہ شخص اٹھ کر چار مرتبہ ٹھونگے مارتا ہے۔“ وہ اس نماز میںاللہ تعالیٰ کا ذکر بہت تھوڑا کرتا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الإيمان/حدیث: 261]

262

Sahih Ibn Hibban #262

أَخْبَرَنَا ابْنُ خُزَيْمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْعَلاءُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَعْقُوبَ ، أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ فِي دَارِهِ بِالْبَصْرَةِ حِينَ انْصَرَفَ مِنَ الظُّهْرِ ، قَالَ : وَدَارُهُ بِجَنْبِ الْمَسْجِدِ ، فَلَمَّا دَخَلْنَا عَلَيْهِ ، قَالَ : صَلَّيْتُمُ الْعَصْرَ ؟ قُلْنَا : إِنَّمَا انْصَرَفْنَا السَّاعَةَ مِنَ الظُّهْرِ ، قَالَ : فَصَلُّوا الْعَصْرَ ، فَقُمْنَا فَصَلَّيْنَا الْعَصْرَ ، فَلَمَّا انْصَرَفْنَا ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : تِلْكَ صَلاةُ الْمُنَافِقِينَ ، يَجْلِسُ يَرْقُبُ الشَّمْسَ حَتَّى كَانَتْ بَيْنَ قَرْنَيِ الشَّيْطَانِ ، قَامَ فَنَقَرَهَا أَرْبَعًا ، لا يَذْكُرُ اللَّهَ فِيهَا إِلا قَلِيلا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

علاء بن عبدالرحمن بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ وہ ظہر کی نماز ادا کرنے کے بعد بصرہ میں سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے گھر گئے، راوی بیان کرتے ہیں: سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کا گھر مسجد کے پہلو میں تھا جب وہ ان کی خدمت میں حاضر ہوئے، تو انہوں نے دریافت کیا: کیا تم نے عصر کی نماز ادا کر لی ہے؟ ہم نے جواب دیا: ہم تو ابھی ظہر کی نماز پڑھ کے آئے ہیں، تو سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم لوگ عصر کی نماز ادا کر لو! تو ہم نے عصر کی نماز ادا کر لی جب ہم نماز پڑھ کر فارغ ہوئے، تو انہوں نے فرمایا: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”یہ منافقین کی نماز ہے (منافق شخص) بیٹھا ہوا سورج کو دیکھتا رہتا ہے۔ یہاں تک کہ جب وہ شیطان کے دو سینگوں کے درمیان پہنچ جاتا ہے، تو وہ شخص اٹھ کر چار مرتبہ ٹھونگے مارتا ہے۔ وہ اس نماز میںاللہ تعالیٰ کا ذکر بہت تھوڑا سا کرتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الإيمان/حدیث: 262]

263

Sahih Ibn Hibban #263

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بُجَيْرٍ الْهَمْدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلانَ ، عَنِ الْعَلاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَعْقُوبَ مَوْلَى الْحُرَقَةِ ، أَنَّهُ قَالَ : دَخَلْتُ عَلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ وَصَاحِبٌ لِي بَعْدَ الظُّهْرِ ، فَقَالَ : أَصَلَّيْتُمُ الْعَصْرَ ؟ قَالَ : فَقُلْنَا : لا ، قَالَ : فَصَلِّيَا عِنْدَنَا فِي الْحُجْرَةِ ، فَفَرَغْنَا ، وَطَوَّلَ هُوَ ، وَانْصَرَفَ إِلَيْنَا ، فَكَانَ أَوَّلَ مَا كَلَّمَنَا بِهِ أَنْ قَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : تِلْكَ صَلاةُ الْمُنَافِقِينَ ، يَقْعُدُ أَحَدُهُمْ حَتَّى كَانَتْ عَلَى قَرْنِ الشَّيْطَانِ ، أَوْ بَيْنَ قَرْنَيِ الشَّيْطَانِ ، قَامَ فَنَقَرَ أَرْبَعًا لا يَذْكُرُ اللَّهَ فِيهَا إِلا قَليِلا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

علاء بن عبدالرحمن بیان کرتے ہیں: میں اور میرا ایک ساتھی ظہر کی نماز کے بعد سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے، تو انہوں نے دریافت کیا: کیا تم نے عصر کی نماز ادا کر لی ہے؟ ہم نے جواب دیا: جی نہیں۔ انہوں نے فرمایا: تم ہمارے ہاں حجرے میں نماز ادا کر لو، جب ہم نماز پڑھ کر فارغ ہوئے، تو سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے طویل نماز ادا کی۔ نماز پڑھ کر فارغ ہونے کے بعد وہ ہماری طرف متوجہ ہوئے، تو انہوں نے سب سے پہلی بات ہمارے ساتھ یہ کی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”یہ منافقین کی نماز ہے۔ ان میں سے کوئی ایک شخص بیٹھا رہتا ہے۔ یہاں تک کہ جب سورج شیطان کے سینگ پر راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) شیطان کے دو سینگوں کے درمیان پہنچ جاتا ہے، تو وہ شخص اٹھ کر چار مرتبہ ٹھونگے مارتا ہے، وہ ان رکعات میںاللہ تعالیٰ کا ذکر بہت تھوڑا سا کرتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الإيمان/حدیث: 263]

264

Sahih Ibn Hibban #264

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا عُتْبَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْيَحْمَدِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سُوقَةَ ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ ، أَنَّهُ كَانَ يَقُصُّ بِمَكَّةَ وَعِنْدَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَفْوَانَ وَنَاسٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ عُبَيْدُ بْنُ عُمَيْرٍ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : مَثَلُ الْمُنَافِقِ كَمَثَلِ الشَّاةِ بَيْنَ الْغَنَمَيْنِ ، إِنْ مَالَتْ إِلَى هَذَا الْجَانِبِ نُطِحَتْ ، وَإِنْ مَالَتْ إِلَى هَذَا الْجَانِبِ نُطِحَتْ "، قَالَ ابْنُ عُمَرَ : لَيْسَ هَكَذَا ، فَغَضِبَ عُبَيْدُ بْنُ عُمَيْرٍ ، وَقَالَ : تَرُدُّ عَلَيَّ ؟ قَالَ : إِنِّي لَمْ أَرُدَّ عَلَيْكَ ، إِلا أَنِّي شَهِدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ قَالَ : فَقَالَ : عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَفْوَانَ : فَكَيْفَ قَالَ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ ؟ قَالَ : " بَيْنَ الرَّبِيضَيْنِ " ، قَالَ : يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، بَيْنَ الرَّبِيضَيْنِ ، وَبَيْنَ الْغَنَمَيْنِ سَوَاءٌ ، قَالَ : كَذَا سَمِعْتُ ، كَذَا سَمِعْتُ ، كَذَا سَمِعْتُ ، وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ سَمِعَ شَيْئًا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَعْدُهُ ، وَلَمْ يَقْصُرْ دُونَهُ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابوجعفر نامی راوی بیان کرتے ہیں: عبید بن عمیر مکہ مکرمہ میں تقریر کر رہے تھے۔ ان کے پاس سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عبداللہ بن صفوان رضی اللہ عنہ اور دیگر صحابہ کرام بھی موجود تھے، عبید بن عمیر نے یہ بتایا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”منافق کی مثال دو ریوڑوں کے درمیان والی بکری کی مانند ہے اگر وہ اس ریوڑ کی طرف جاتی ہے، تو اسے سینگ مارے جاتے ہیں، اگر وہ اس ریوڑ کی طرف جاتی ہے، تو اسے سینگ مارے جاتے ہیں۔“ تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ایسا نہیں ہے۔ اس پر عبید بن عمیر غصے میں آ گئے اور بولے: آپ میری بات کو مسترد کر رہے ہیں؟ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں تمہاری بات کو مسترد نہیں کر رہا، لیکن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب یہ بات ارشاد فرمائی تھی اس وقت میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھا۔ ارشاد فرمایا اس پر عبداللہ بن صفوان نے دریافت کیا: اے ابوعبدالرحمن! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا تھا؟ تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ریوڑ کے لئے) لفظ ”ربیضین“ استعمال کیا تھا (جب کہ تم نے لفظ ”غنمین“ استعمال کیا ہے) تو عبید بن عمیر یا شاید عبدالله بن صفوان بولے: اے ابوعبدالرحمن! ربیضین اور غنمین دونوں کا مطلب ایک ہی ہے۔ تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے، تو اسی طرح سنا ہے، میں نے، تو اسی طرح سنا ہے۔ میں نے تو اسی طرح سنا ہے۔ (راوی بیان کرتے ہیں) سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی کوئی لفظ سنتے، تو آپ رضی اللہ عنہ اس میں کوئی اضافہ یا کوئی کمی نہیں کرتے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الإيمان/حدیث: 264]

265

Sahih Ibn Hibban #265

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الذُّهْلِيُّ ، حَدَّثَنَا الْمُقْرِئُ ، حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ عِمْرَانَ التُّجِيبِيُّ ، عَنْ أَبِي يُونُسَ مَوْلَى أَبِي هُرَيرَةَ وَاسْمُهُ سُلَيْمُ بْنُ جُبَيْرٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيرَةَ ، أَنَّهُ قَالَ فِي هَذِهِ الآيَةِ : إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تُؤَدُّوا الأَمَانَاتِ إِلَى أَهْلِهَا إِلَى قَوْلِهِ : إِنَّ اللَّهَ كَانَ سَمِيعًا بَصِيرًا : رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَضَعُ إِبْهَامَهُ عَلَى إِذْنِهِ ، وَأُصْبَعَهُ الدَّعَّاءَ عَلَى عَيْنِهِ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : أَرَادَ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِوَضْعِهِ أُصْبُعَهُ عَلَى أُذُنِهِ وَعَيْنِهِ تَعْرِيفَ النَّاسِ أَنَّ اللَّهَ جَلَّ وَعَلا لا يَسْمَعُ بِالأُذُنِ الَّتِي لَهَا سِمَاخٌ وَالْتِوَاءٌ ، وَلا يُبْصِرُ بِالْعَيْنِ الَّتِي لَهَا أَشْفَارٌ وَحَدَقٌ وَبَيَاضٌ ، جَلَّ رَبُّنَا وَتَعَالَى عَنْ أَنْ يُشَبَّهَ بِخَلْقِهِ فِي شَيْءٍ مِنَ الأَشْيَاءِ ، بَلْ يَسْمَعُ وَيُبْصِرُ بِلا آلَةٍ كَيْفَ يَشَاءُ

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے، انہوں نے اس آیت کے بارے میں یہ بات ارشاد فرمائی ہے: (ارشاد باری تعالیٰ ہے) ”بے شکاللہ تعالیٰ تم لوگوں کو یہ حکم دیتا ہے، تم امانتیں ان کے اہل لوگوں کو ادا کر دو۔“ یہ آیت یہاں تک ہے۔ ”بے شکاللہ تعالیٰ سننے والا اور دیکھنے والا ہے۔“ (سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں) میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نے اپنا انگوٹھا اپنے کان پر رکھا اور اپنی انگلی جس کے ذریعے نماز کے دوران اشارہ کیا جاتا ہے اسے اپنی آنکھ پر رکھا۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنی انگلی کو اپنے کانوں اور اپنی آنکھوں پر رکھنے کا مطلب یہ ہے: آپ لوگوں کے سامنے اس بات کو واضح کریں کہاللہ تعالیٰ اس کان کی وجہ سے نہیں سنتا جس میں سوراخ اور موڑ ہوتا ہے۔ اور اس آنکھ کی مدد سے نہیں دیکھتا ہے، جس میں پتلیاں اور ڈیلا اور سفیدی ہوتی ہے۔ ہمارا پروردگار اس بات سے بلند و برتر ہے کہ اسے اس کی مخلوق میں سے کسی چیز کے ساتھ مشابہ قرار دیا جائے بلکہ وہ کسی آلے کے بغیر سنتا اور دیکھتا ہے جیسے وہ چاہتا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الإيمان/حدیث: 265]

266

Sahih Ibn Hibban #266

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، قَال : حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنِ الْعَلاءِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّاللَّهَ لا يَنَامُ ، وَلا يَنْبَغِي لَهُ أَنْ يَنَامَ ، يَخْفِضُ الْقِسْطَ وَيَرْفَعُهُ ، يُرْفَعُ إِلَيْهِ عَمَلُ النَّهَارِ قَبْلُ اللَّيْلِ ، وَعَمَلُ اللَّيْلِ قَبْلُ النَّهَارِ ، حِجَابُهُ النُّورُ ، لَوْ كُشِفَ طَبَقُهَا أَحْرَقَ سُبُحَاتُ وَجْهِهِ كُلَّ شَيْءٍ أَدْرَكَهُ بَصَرُهُ ، وَاضِعٌ يَدَهُ لِمُسِيءِ اللَّيْلِ لِيَتُوبَ بِالنَّهَارِ ، وَلُمُسِيءِ النَّهَارِ لِيَتُوبَ بِاللَّيْلِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ مِنْ مَغْرِبِهَا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ، روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”بے شکاللہ تعالیٰ سوتا نہیں ہے، اور یہ اس کی شان کے لائق بھی نہیں ہے، کہ وہ سو جائے، وہ پلڑے کو اوپر نیچے کرتا رہتا ہے۔ دن کے اعمال، رات ہونے سے پہلے اور رات کے اعمال دن ہونے سے پہلے اس کی بارگاہ میں پیش کر دیئے جاتے ہیں۔ اس کا حجاب نور ہے۔ اگر اس کے ایک پردے کو ہٹا دیا جائے، تو اس کی ذات کے انوار ہر اس چیز کو جلا دیں، جو اس کی بصارت کے دائرے میں ہیں۔ اس نے اپنا دست رحمت رات کے وقت گناہ کرنے والے شخص کے لئے پھیلایا ہوا ہے، تاکہ دن میں اس کی توبہ قبول کرے اور دن میں گناہ کرنے والے شخص کے لئے پھیلایا ہوا ہے، تاکہ رات میں اس کی توبہ قبول کرے۔“ (ایسا اس وقت تک ہوتا رہے گا) جب تک سورج مغرب سے طلوع نہیں ہو جاتا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الإيمان/حدیث: 266]

267

Sahih Ibn Hibban #267

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيَمَ ، مَوْلَى ثَقِيفٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شَبَابَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا وَرْقَاءُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : قَالَ الِلَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى :كَذَّبَنِي ابْنُ آدَمَ وَلَمْ يَكُنْ لَهُ أَنْ يُكَذِّبَنِي ، وَيَشْتُمُنِي ابْنُ آدَمَ وَلَمْ يَكُنْ يَنْبَغِي لَهُ أَنْ يَشْتُمَنِي ، فَأَمَّا تَكْذِيبُهُ إِيَّايَ فَقَوْلُهُ : لَنْ يُعِيدَنِي كَمَا بَدَأَنِي ، أَوَ لَيْسَ أَوَّلُ خَلْقٍ بِأَهْوَنَ عَلَيَّ مِنْ إِعَادَتِهِ ، وَأَمَّا شَتْمُهُ إِيَّايَ فَقَوْلُهُ : اتَّخَذَ الِلَّهِ وَلَدًا ، وَأَنَا الِلَّهِ الأَحَدُ الصَّمَدُ ، لَمْ أَلِدْ وَلَمْ أُولَدْ ، وَلَمْ يَكُنْ لِي كُفُوًا أَحَدٌ "قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ الِلَّهِ عَنْهُ : فِي قَوْلِهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَوَ لَيْسَ أَوَّلُ خَلْقٍ بِأَهْوَنَ عَلَيَّ مِنْ إِعَادَتِهِ " ، فِيهِ الْبَيَانُ الْوَاضِحُ أَنَّ الصِّفَاتِ الَّتِي تُوقِعُ النَّقْصَ عَلَى مَنْ وُجِدَتْ فِيهِ ، غَيْرُ جَائِزٍ إِضَافَةُ مِثْلِهَا إِلَى اللَّهِ جَلَّ وَعَلا ، إِذِ الْقِيَاسُ كَانَ يُوجِبُ أَنْ يُطْلِقَ بَدَلَ هَذِهِ اللَّفْظَةِ " بِأَهْوَنَ عَلَيَّ " ، بِأَصْعَبَ عَلَيَّ ، فَتَنَكَّبَ لَفْظَةَ التَّصْعِيبِ إِذْ هِيَ مِنْ أَلْفَاظِ النَّقْصِ ، وَأُبْدِلَتْ بِلَفْظِ التَّهْوِينِ الَّذِي لا يَشُوبُهُ ذَلِكَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ابن آدم مجھے جھوٹا قرار دیتا ہے۔ حالانکہ اسے اس بات کا حق نہیں ہے کہ مجھے جھوٹا قرار دے۔ ابن آدم مجھے برا کہتا ہے، حالانکہ اسے اس کا حق نہیں ہے کہ وہ مجھے برا کہے، جہاں تک اس کے میری تکذیب کرنے کا تعلق ہے، تو اس سے مراد اس کا یہ کہنا ہے،اللہ تعالیٰ مجھے دوبارہ پیدا نہیں کرے گا، جس طرح اس نے مجھے پہلے پیدا کیا ہے۔ تو کیا اسے دوبارہ پیدا کرنے کے مقابلے میں پہلی مرتبہ پیدا کرنا میرے لئے زیادہ آسان نہیں ہے؟ جہاں تک اس کے مجھے برا کہنے کا تعلق ہے، تو اس سے مراد اس کا یہ کہنا ہے،اللہ تعالیٰ کی اولاد ہے، حالانکہ میںاللہ تعالیٰ ہوں، میں یکتا ہوں۔ میں بے نیاز ہوں۔ میں نے کسی کو جنم نہیں دیا ہے، اور مجھے جنم نہیں دیا گیا اور کوئی میرا ہمسر نہیں ہو سکتا۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان: ”کیا پہلی مرتبہ پیدا کرنااللہ تعالیٰ کے لئے دوبارہ پیدا کرنے کے مقابلے میں زیادہ آسان نہیں تھا۔“ اس میں اس بات کا واضح بیان موجود ہے کہ وہ صفات، جو اس شخص میں نقص واقع کر دیں جس میں وہ صفت پائی جاتی ہے، تو یہ بات جائز نہیں ہے کہ اس کی مثل کواللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کیا جائے، کیونکہ قیاس اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ یہ بات لازم ہو کہ ”میرے لیے زیادہ آسان“ کے بجائے ”میرے لیے زیادہ مشکل“ کے الفاظ ہونے چاہیے تھے۔ لیکن مشکل ہونے کے لفظ کو اس لیے ترک کیا گیا، کیونکہ یہ نقص کے الفاظ میں سے ہے، اور اس کی جگہ آسان ہونے کے لفظ کو بدلے کے طور پر لایا گیا جس میں نقص کا پہلو نہیں پایا جاتا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الإيمان/حدیث: 267]

268

Sahih Ibn Hibban #268

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْقَوَارِيرِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَرَمِيُّ بْنُ عُمَارَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : يُلْقَى فِي النَّارِ فَتَقُولُ : هَلْ مِنْ مَزِيدٍ ؟ حَتَّى يَضَعَ الرَّبُّ جَلَّ وَعَلا قَدْمَهُ فِيهَا ، فَتَقُولُ : قَطْ قَط، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : هَذَا الْخَبَرُ مِنَ الأَخْبَارِ الَّتِي أُطْلِقَتْ بِتَمْثِيلِ الْمُجَاوَرَةِ ، وَذَلِكَ أَنَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يُلْقَى فِي النَّارِ مِنَ الأُمَمِ وَالأَمْكِنَةِ الَّتِي عُصِيَ الِلَّهِ عَلَيْهَا ، فَلا تَزَالُ تَسْتَزِيدُ حَتَّى يَضَعَ الرَّبُّ جَلَّ وَعَلا مَوْضِعًا مِنَ الْكُفَّارِ وَالأَمْكِنَةِ فِي النَّارِ ، فَتَمْتَلِئُ فَتَقُولُ : قَطْ قَطْ ، تُرِيدُ : حَسْبِي حَسْبِي ، لأَنَّ الْعَرَبَ تُطْلِقُ فِي لُغَتِهَا اسْمَ الْقَدْمِ عَلَى الْمَوْضِعِ ، قَالَ الِلَّهِ جَلَّ وَعَلا : لَهُمْ قَدْمُ صِدْقٍ عِنْدَ رَبِّهِمْ ، يُرِيدُ : مَوْضِعَ صِدْقٍ ، لا أَنَّ اللَّهَ جَلَّ وَعَلا يَضَعُ قَدْمَهُ فِي النَّارِ ، جَلَّ رَبُّنَا وَتَعَالَى عَنْ مِثْلِ هَذَا وَأَشْبَاهِهِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی الله عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جہنم میں لوگوں کو ڈالا جائے گا، تو جہنم کہے گی: کیا اور لوگ ہیں؟ یہاں تک کہ پروردگار اپنا قدم اس پر رکھ دے گا، تو وہ کہے گی: بس، بس۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) یہ ان روایات میں سے ایک ہے، جس میں مجاور ت کی مثال کا اطلاق کیا گیا ہے، اور اس کی صورت یہ ہے: قیامت کے دن کچھ لوگوں اور جگہوں کو جہنم میں ڈال دیا جائیگا وہ جگہیں جہاںاللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی جاتی تھی جہنم مزید کے حصول کا تقاضا کرتی رہے گی، یہاں تک کہ پروردگار کفار اور جگہوں میں سے ایک جگہ جہنم میں ڈال دے گا، تو وہ بھر جائے گی۔ تو جہنم کہے گی: بہت ہے بہت ہے اس سے مراد یہ ہے: یہ میرے لئے کافی ہے یہ میرے لیے کافی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے: عرب بعض اوقات لفظ ”قدم“ کو اپنی لغت میں ”جگہ“ کے لئے استعمال کرتے ہیں جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے۔ ”ان کے لئے ان کے پروردگار کی بارگاہ میں سچائی کا مقام ہو گا“ اس سے مراد سچائی کا مقام ہے اس سے یہ مراد نہیں ہے کہاللہ تعالیٰ اپنا پاؤں جہنم میں رکھ دے گا۔ ہمارا پروردگار اس سے اور اس جیسی دیگر چیزوں سے بلند و برتر ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الإيمان/حدیث: 268]

269

Sahih Ibn Hibban #269

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ ، بِنَسَا ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ ، قال : حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قال : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ قال : أخبرنا ثَابِتٌ عَنْ أَبِي رَافِعٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يقول اللَّهُ جَلَّ وعلا للعبد يَوْمَ الْقِيَامَةِيَا ابْنَ آدَمَ مَرِضْتُ فَلَمْ تَعُدْنِي فَيَقُولُ يَا رَبِّ وَكَيْفَ أَعُودُكَ وَأَنْتَ رَبُّ الْعَالَمِينَ قَالَ أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ عَبْدِي فُلَانًا مَرِضَ فَلَمْ تَعُدْهُ أَمَا عَلِمْتَ أَنَّكَ لَوْ عُدْتَهُ لَوَجَدْتَنِي وَيَقُولُ يَا ابْنَ آدَمَ اسْتَسْقَيْتُكَ فَلَمْ تَسْقِنِي فَيَقُولُ يَا رَبِّ كَيْفَ أَسْقِيكَ وَأَنْتَ رَبُّ الْعَالَمِينَ فَيَقُولُ أَمَا عَلِمْتَ أَنَّكَ لَوْ سَقَيْتَهُ لَوَجَدْتَ ذَلِكَ عِنْدِي يَا ابْنَ آدَمَ اسْتَطْعَمْتُكَ فَلَمْ تُطْعِمْنِي فيقول يَا رَبِّ وَكَيْفَ أُطْعِمُكَ وَأَنْتَ رَبُّ الْعَالَمِينَ فيقول ألم تعلم أن عبدي فلانا اسْتَطْعَمَكَ فَلَمْ تُطْعِمْهُ أَمَا إِنَّكَ لَوْ أَطْعَمْتَهُ وَجَدْتَ ذَلِكَ عِنْدِي

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اپنے بندے سے فرمائے گا: اے آدم کے بیٹے! میں بیمار ہوا، لیکن تم نے میری عبادت نہیں کی بندہ عرض کرے گا: اے میرے پروردگار! میں تیری عیادت کسی طرح کر سکتا ہوں؟ جب کہ تو تمام جہانوں کا پروردگار ہے، تواللہ تعالیٰ فرمائے گا: کیا تم یہ بات نہیں جانتے تھے: میرا فلاں بندہ بیمار ہوا ہے، اور تم نے اس کی عیادت نہیں کی؟ کیا تم یہ بات نہیں جانتے تھے: اگر تم اس کی عیادت کر لیتے، تو اس کا اجر و ثواب میرے پاس پا لیتے؟اللہ تعالیٰ فرمائے گا: اے آدم کے بیٹے! میں نے تم سے پینے کے لئے پانی مانگا تھا، تو تم نے مجھے پانی نہیں دیا۔ بندہ عرض کرے گا: اے میرے پروردگار! میں تجھے کیسے پانی پلا سکتا ہوں؟ جبکہ تو تمام جہانوں کا پروردگار ہے، تواللہ تعالیٰ فرمائے گا: کیا تم یہ بات نہیں جانتے تھے: اگر تم اس شخص کو پانی پلا دیتے۔ (تو اس کا اجر و ثواب) میرے پاس پا لیتے۔ اے آدم کے بیٹے! میں نے تم سے کھانے کے لئے مانگا تھا، تو تم نے مجھے کھانے کے لئے نہیں دیا۔ بندہ عرض کرے گا: اے میرے پروردگار! میں تجھے کیسے کھلا سکتا ہوں، جبکہ تو تمام جہانوں کا پروردگار ہے۔ تواللہ تعالیٰ فرمائے گا: کیا تم یہ بات نہیں جانتے کہ میرے فلاں بندے نے تم سے کھانے کے لئے مانگا تھا، تو تم نے اسے کھانے کے لئے نہیں دیا تھا، اگر تم اسے کھانے کے لئے دے دیتے، تو تم اس کا (اجر و ثواب) میرے پاس پا لیتے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الإيمان/حدیث: 269]

270

Sahih Ibn Hibban #270

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيَمُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ ابْنِ عَجْلانَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ أَبِي الْحُبَابِ ، عَنْ أَبِي هُرَيرَةَ ، قَالَ : قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا تَصَدَّقَ عَبْدٌ بِصَدَقَةٍ مِنْ كَسْبٍ طَيِّبٍ وَلا يَقَبْلُ الِلَّهِ إِلا طَيِّبًا ، وَلا يَصْعَدُ إِلَى السَّمَاءِ إِلا طَيِّبٌ إِلا كَأَنَّمَا يَضَعُهَا فِي يَدِ الرَّحْمَنِ ، فَيُرَبِّيهَا لَهُ كَمَا يُرَبِّي أَحَدُكُمْ فَلُوَّهُ وَفَصِيلَهُ ، حَتَّى إِنَّ اللُّقْمَةَ أَوِ التَّمْرَةَ لَتَأْتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِثْلَ الْجَبَلِ الْعَظِيمِ "قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ الِلَّهِ عَنْهُ : قَوْلُهُ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِلا كَأَنَّمَا يَضَعُهَا فِي يَدِ الرَّحْمَنِ " يُبَيِّنُ لَكَ أَنَّ هَذِهِ الأَخْبَارَ أُطْلِقَتْ بِأَلْفَاظِ التَّمْثِيلِ دُونَ وُجُودِ حَقَائِقِهَا ، أَوِ الْوُقُوفِ عَلَى كَيْفِيَّتِهَا ، إِذْ لَمْ يَتَهِيَأْ مَعْرِفَةُ الْمُخَاطَبِ بِهَذِهِ الأَشْيَاءِ إِلا بِالأَلْفَاظِ الَّتِي أُطْلِقَتْ بِهَا"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: سیدنا ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”جب بھی کوئی بندہ حلال کمائی میں سے کوئی چیز صدقہ کرتا ہے، ویسےاللہ تعالیٰ صرف حلال چیز کو ہی قبول کرتا ہے، اور آسمان کی طرف صرف حلال چیز ہی بلند ہوتی ہے، تو اس کے ساتھ یوں ہوتا ہے، جیسے پروردگار اس صدقے کو اپنے ہاتھ میں لے لیتا ہے، اور پھر اسے بڑھانا شروع کرتا ہے، جس طرح کوئی شخص اپنے جانور کے بچے کو پالتا پوستا ہے، یہاں تک کہ وہ ایک لقمہ یا ایک کھجور قیامت کے دن جب آئیں گے، تو وہ بڑے پہاڑ کی مانند ہوں گے۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ رحمۃ الله علیہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان: ”بالکل اسی طرح جس طرح اس نے اس کو رحمن کے ہاتھ میں رکھ دیا ہے۔“ یہ بات آپ کے لئے اس بات کو بیان کرتی ہے کہ ان روایات میں مثال کے الفاظ کا استعمال ہوا ہے اس کی حقیقت کا موجود ہونا مراد نہیں ہے یا اس کی کیفیت پر وقوف کرنا مراد نہیں ہے، کیونکہ مخاطب شخص کو ان چیزوں کی معرفت صرف ان الفاظ کے ذریعے ہو سکتی ہے جن پر اس کا اطلاق کیا جاتا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الإيمان/حدیث: 270]""

271

Sahih Ibn Hibban #271

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ أَبِي عَمْرٍو ، عَنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ حَنْطَبٍ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : اضْمَنُوا لِي سِتًّا أَضْمَنْ لَكُمُ الْجَنَّةَ : اصْدُقُوا حَدَّثْتُمْ ، وَأَوْفُوا وَعَدْتُمْ ، وَأَدُّوا ائْتُمِنْتُمْ ، وَاحْفَظُوا فُرُوجَكُمْ ، وَغُضُّوا أَبْصَارَكُمْ ، وَكُفُّوا أَيْدِيَكُمْ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”تم مجھے چھ باتوں کی ضمانت دو، میں تمہیں، جنت کی ضمانت دوں گا، جب تم بات کرو، تو سچ بولو، جب تم وعدہ کرو، تو اسے پورا کرو، جب تمہارے سپرد امانت کی جائے، تو اسے ادا کرو۔ اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرو، اپنی نگاہوں کو جھکا کر رکھو، اور اپنے ہاتھوں کو تھام کے رکھو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 271]

272

Sahih Ibn Hibban #272

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مَعْشَرٍ بِحَرَّانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، وَمَنْصُورٍ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : لا يَزَالُ الرَّجُلُ يَصْدُقُ وَيَتَحَرَّى الصِّدْقَ حَتَّى يُكْتَبَ عِنْدَ اللَّهِ صِدِّيقًا ، وَلا يَزَالُ يَكْذِبُ وَيَتَحَرَّى الْكَذِبَ حَتَّى يُكْتَبَ عِنْدَ اللَّهِ كَذَّابًا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”آدمی سچ بولتا رہتا ہے، اور سچ بولنے کی کوشش کرتا رہتا ہے۔ یہاں تک کہاللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں اسے سچا لکھ دیا جاتا ہے، اور کوئی شخص جھوٹ بولتا رہتا ہے، اور جھوٹ بولنے کی کوشش کرتا رہتا ہے۔ یہاں تک کہاللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں اسے جھوٹا نوٹ کر لیا جاتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 272]

273

Sahih Ibn Hibban #273

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّالصِّدْقَ لَيَهْدِي إِلَى الْبِرِّ ، وَإِنَّ الْبِرَّ يَهْدِي إِلَى الْجَنَّةِ ، وَإِنَّ الرَّجُلَ لَيَصْدُقُ حَتَّى يُكْتَبَ عِنْدَ اللَّهِ صِدِّيقًا ، وَإِنَّ الْكَذِبَ يَهْدِي إِلَى الْفُجُورِ ، وَإِنَّ الْفُجُورَ يَهْدِي إِلَى النَّارِ ، وَإِنَّ الرَّجُلَ لَيَكْذِبُ حَتَّى يُكْتَبَ عِنْدَ اللَّهِ كَذَّابًا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ، روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”بے شک سچائی نیکی کی طرف لے جاتی ہے، اور بے شک نیکی جنت کی طرف لے جاتی ہے۔ آدمی سچ بولتا ہے یہاں تک کہاللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں اسے سچا نوٹ کر لیا جاتا ہے، اور جھوٹ گناہ کی طرف لے جاتا ہے، اور گناہ جہنم کی طرف لے جاتا ہے۔ بے شک آدمی جھوٹ بولتا ہے، یہاں تک کہاللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں اسے جھوٹا نوٹ کر لیا جاتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 273]

274

Sahih Ibn Hibban #274

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيَمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : عَلَيْكُمْ بِالصِّدْقِ فَإِنَّ الصِّدْقَ يَهْدِي إِلَى الْبِرِّ ، وَإِنَّ الْبِرَّ يَهْدِي إِلَى الْجَنَّةِ ، وَإِنَّ الرَّجُلَ لَيَصْدُقُ حَتَّى يُكْتَبَ عِنْدَ اللَّهِ صِدِّيقًا ، وَإِنَّ الْكَذِبَ يَهْدِي إِلَى الْفُجُورِ ، وَإِنَّ الْفُجُورَ يَهْدِي إِلَى النَّارِ ، وَإِنَّ الرَّجُلَ لَيَكْذِبُ حَتَّى يُكْتَبَ عِنْدَ اللَّهِ كَذَّابًا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ، روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”تم پر سچ کو اختیار کرنا لازم ہے، کیونکہ سچ نیکی کی طرف لے جاتا ہے، اور نیکی جنت کی طرف لے جاتی ہے۔ آدمی سچ بولتا رہتا ہے۔ یہاں تک کہاللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں اسے سچا نوٹ کر لیا جاتا ہے، اور جھوٹ گناہ کی طرف لے جاتا ہے، اور گناہ جہنم کی طرف لے جاتا ہے۔ آدمی جھوٹ بولتا ہے۔ یہاں تک کہاللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں اسے جھوٹا نوٹ کر لیا جاتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 274]

275

Sahih Ibn Hibban #275

أَخْبَرَنَا السَّامِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ الْبَزَّارُ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَلا لا يَمْنَعَنَّ أَحَدَكُمْ مَخَافَةُ النَّاسِ أَنْ يَقُولَ بِالْحَقِّ رَآهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ، روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”خبردار! لوگوں کا خوف کسی بھی شخص کو حق بات کہنے سے منع نہ کرے، جب کہ آدمی اسے دیکھ لے۔ کہ یہاں حق بات کہنا بنتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 275]

276

Sahih Ibn Hibban #276

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْجُعْفِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ الْمُحَارِبِيُّ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ وَاقَدْ الْعُمَرِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنِ الْتَمَسَ رِضَى اللَّهِ بِسَخَطِ النَّاسِ رَضِيَ الِلَّهِ عَنْهُ ، وَأَرْضَى النَّاسَ عَنْهُ ، وَمَنِ الْتَمَسَ رِضَا النَّاسِ بِسَخَطِ اللَّهِ سَخَطَ الِلَّهِ عَلَيْهِ ، وَأَسْخَطَ عَلَيْهِ النَّاسَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”جو شخص لوگوں کی ناراضگی کے ہمراہاللہ تعالیٰ کی رضا مندی تلاش کرتا ہےاللہ تعالیٰ اس سے راضی ہو جاتا ہے، اور لوگوں کو اس سے راضی کر دیتا ہے، اور جو شخصاللہ تعالیٰ کی ناراضگی کے ساتھ، لوگوں کی رضامندی تلاش کرتا ہے، تواللہ تعالیٰ اس سے ناراض ہوتا ہے، اور لوگوں کو بھی اس سے ناراض کر دیتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 276]

277

Sahih Ibn Hibban #277

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيَمُ بْنُ يَعْقُوبَ الْجُوزَجَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ وَاقَدْ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ عَائِشَةَ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : مَنْ أَرْضَى اللَّهَ بِسَخَطِ النَّاسِ كَفَاهُ الِلَّهِ ، وَمَنْ أَسْخَطَ اللَّهَ بِرِضَا النَّاسِ وَكَلَهُ الِلَّهِ إِلَى النَّاسِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”جو شخص لوگوں کی ناراضگی کے ساتھ،اللہ تعالیٰ کو راضی کر لیتا ہے،اللہ تعالیٰ اس کے لئے کافی ہو جاتا ہے، اور جو شخص لوگوں کی رضا مندی کی وجہ سےاللہ تعالیٰ کو ناراض کرتا ہے، تواللہ تعالیٰ اسے لوگوں کے سپرد کر دیتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 277]

278

Sahih Ibn Hibban #278

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : لا يَمْنَعَنَّ أَحَدَكُمْ مَخَافَةُ النَّاسِ أَنْ يَتَكَلَّمَ بِحَقٍّ رَآهُ أَوْ عَرَفَه "، قَالَ أَبُو سَعِيدٍ : فَمَا زَالَ بِنَا الْبَلاءُ حَتَّى قَصَرْنَا وَإِنَّا لَنَبْلُغُ فِي الشَّرِّ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”لوگوں کا خوف کسی بھی شخص کو حق بات کہنے سے منع نہ کرے، جب آدمی اسے دیکھے یا یہ بات جان لے کہ (یہاں حق بات کہنا بنتا ہے)“ سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ہم پر مسلسل آزمائشیں وارد ہوتی رہیں۔ یہاں تک کہ ہم سے کوتاہی ہوئی۔ اب ہم بری صورتحال کا شکار ہو چکے ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 278]

279

Sahih Ibn Hibban #279

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ إِسْحَاقَ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ ، عَنْ مِسْعَرٍ ، عَنْ أَبِي حَصِينٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ عَاصِمٍ الْعَدَوِيِّ ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ ، قَالَ : خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ تِسْعَةٌ : خَمْسَةٌ وَأَرْبَعَةٌ ، أَحَدُ الْفَرِيقَيْنِ مِنَ الْعَرَبِ ، وَالآخَرُ مِنَ الْعَجَمِ ، فَقَالَ : اسْمَعُوا ، أَوْ هَلْ سَمِعْتُمْ ، إِنَّهُيَكُونُ بَعْدَي أُمَرَاءُ ، فَمَنْ دَخَلَ عَلَيْهِمْ ، فَصَدَّقَهُمْ بِكَذِبِهِمْ ، وَأَعَانَهُمْ عَلَى ظُلْمِهِمْ ، فَلَيْسَ مِنِّي ، وَلَسْتُ مِنْهُ ، وَلَيْسَ بِوَارِدٍ عَلَيَّ الْحَوْضَ ، وَمَنْ لَمْ يُصَدِّقْهُمْ بِكَذِبِهِمْ ، وَلَمْ يُعِنْهُمْ عَلَى ظُلْمِهِمْ ، فَهُوَ مِنِّي وَأَنَا مِنْهُ ، وَهُوَ وَارِدٌ عَلَيَّ الْحَوْضَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے، ہم نو افراد تھے، جن میں سے پانچ ایک قسم کے تھے اور چار دوسری قسم کے تھے۔ ان دونوں میں سے ایک گروہ عربی تھا، اور دوسرے عجمی تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ ”تم لوگ غور سے سنو (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) کیا تم لوگ سن رہے ہو؟ میرے بعد حکمران آئیں گے، جو شخص ان کے پاس جائے گا اور ان کے جھوٹ کی تصدیق کرے گا اور ان کے ظلم میں ان کی مدد کرے گا، اس کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں ہو گا۔ میرا اس سے کوئی تعلق نہیں ہو گا۔ وہ میرے حوض پر نہیں آ سکے گا۔ اور جو شخص ان کے جھوٹ کی تصدیق نہیں کرے گا، ان کے ظلم میں ان کی مدد نہیں کرے گا، اس کا مجھ سے تعلق ہو گا اور میرا اس سے تعلق ہو گا اور وہ میرے حوض پر میرے پاس آ سکے گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 279]

280

Sahih Ibn Hibban #280

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ الأَشْعَثِ السِّجِسْتَانِيُّ أَبُو بَكْرٍ بِبَغْدَادَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَقَّاصٍ ، قَالَ : مَرَّ بِهِ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ لَهُ شَرَفٌ ، وَهُوَ جَالِسٌ بِسُوقِ الْمَدِينَةِ ، فَقَالَ عَلْقَمَةُ : يَا فُلانُ ، إِنَّ لَكَ حُرْمَةً ، وَإِنَّ لَكَ حَقًّا ، وَإِنِّي قَدْ رَأَيْتُكَ تَدْخُلُ عَلَى هَؤُلاءِ الأُمَرَاءِ فَتَكَلَّمُ عِنْدَهُمْ ، وَإِنِّي سَمِعْتُ بِلالَ بْنَ الْحَارِثِ الْمُزَنِيَّ صَاحِبَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّأَحَدَكُمْ لَيَتَكَلَّمُ بِالْكَلِمَةِ مِنْ رِضْوَانِ اللَّهِ ، مَا يَظُنُّ أَنْ تَبْلُغَ مَا بَلَغَتْ ، فَيَكْتُبُ الِلَّهِ لَهُ بِهَا رِضْوَانَهُ إِلَى يَوْمِ يَلْقَاهُ ، وَإِنَّ أَحَدَكُمْ لَيَتَكَلَّمُ بِالْكَلِمَةِ مِنْ سَخَطِ اللَّهِ ، مَا يَظُنُّ أَنْ تَبْلُغَ مَا بَلَغَتْ ، فَيَكْتُبُ الِلَّهِ لَهُ بِهَا سَخَطَهُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ "قَالَ عَلْقَمَةُ : انْظُرْ وَيْحَكَ مَاذَا تَقُولُ ، وَمَاذَا تَكَلَّمُ بِهِ ، فَرُبَّ كَلامٌ قَدْ مَنَعَنِي مَا سَمِعْتُهُ مِنْ بِلالِ بْنِ الْحَارِثِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

علقمہ بن وقاص کے بارے میں یہ بات منقول ہے۔ ایک مرتبہ ان کے پاس سے مدینہ منورہ کا رہنے والا ایک شخص گزرا، جو صاحب حیثیت تھا (یا کوئی سرکاری اہلکار تھا) علقمہ اس وقت مدینہ منورہ کے بازار میں بیٹھے ہوئے تھے۔ علقمہ نے کہا: اے فلاں! تمہارے کچھ حقوق بھی ہیں اور تمہارے کچھ فرائض بھی ہیں۔ میں نے دیکھا ہے، تم ان حکمرانوں کے پاس آتے جاتے رہتے ہو، ان کے ساتھ بات چیت کرتے رہتے ہو۔ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی سیدنا بلال بن حارث مزنی رضی اللہ عنہ کو یہ بات بیان کرتے ہوئے سنا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”بے شک تم میں سے کوئی ایک شخصاللہ تعالیٰ کی رضا مندی سے متعلق ایک بات کہتا ہے، اس کو یہ اندازہ نہیں ہوتا کہ یہ بات کہاں تک جائے گی، تواللہ تعالیٰ اس بات کی وجہ سے اس دن تک کے لئے اس سے رضا مندی نوٹ کر لیتا ہے، جب وہاللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہو گا۔ اور ایک شخصاللہ تعالیٰ کی ناراضگی سے متعلق کوئی بات کہتا ہے۔ اس کو یہ اندازہ نہیں ہوتا کہ وہ بات کہاں تک جائے گی، لیکناللہ تعالیٰ اس بات کی وجہ سے قیامت کے دن تک کے لئے اس شخص کے لئے ناراضگی نوٹ کر لیتا ہے۔“ علقمہ نے فرمایا: تمہارا ستیاناس ہو، تم اس بات کا جائزہ لیا کرو، تم کیا کہتے ہو، اور کس بارے میں کلام کر رہے ہو؟ کیونکہ جب سے میں نے سیدنا بلال بن حارث رضی اللہ عنہ کی زبانی یہ حدیث سنی ہے، میں کئی باتیں بیان نہیں کرتا ہوں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 280]

281

Sahih Ibn Hibban #281

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيَمَ الْحَنْظَلِيُّ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ جَدِّي ، قَالَ : سَمِعْتُ بِلالَ بْنَ الْحَارِثِ الْمُزَنِيَّ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّأَحَدَكُمْ لَيَتَكَلَّمُ بِالْكَلِمَةِ مِنْ رِضْوَانِ اللَّهِ ، مَا يَظُنُّ أَنَّهَا تَبْلُغُ مَا بَلَغَتْ ، فَيَكْتُبُ الِلَّهِ لَهُ بِهَا رِضْوَانَهُ إِلَى يَوْمِ يَلْقَاهُ ، وَإِنَّ أَحَدَكُمْ لَيَتَكَلَّمُ بِالْكَلِمَةِ مِنْ سَخَطِ اللَّهِ ، مَا يَظُنُّ أَنَّهَا تَبْلُغُ مَا بَلَغَتْ ، فَيَكْتُبُ الِلَّهِ بِهَا سَخَطَهُ إِلَى يَوْمِ يَلْقَاهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا بلال بن حارث مزنی رضی اللہ عنہ، روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”بے شک تم میں سے کوئی ایک شخصاللہ تعالیٰ کی رضا مندی سے متعلق کوئی ایک بات کہتا ہے، اس شخص کو یہ اندازہ نہیں ہوتا کہ یہ بات کہاں تک پہنچ جائے گی، لیکناللہ تعالیٰ اس بات کی وجہ سے، اس دن تک کے لئے، اس شخص کے بارے میں رضامندی کو نوٹ کر لیتا ہے، جس دن وہ شخصاللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہو گا۔ اور کوئی شخصاللہ تعالیٰ کی ناراضگی سے متعلق کوئی بات کہتا ہے: اس کو یہ اندازہ نہیں ہوتا کہ یہ بات کہاں تک پہنچ جائے گی؟ لیکناللہ تعالیٰ اس بات کی وجہ سے، اس شخص کے بارے میں، اس دن تک کے لئے، اپنی ناراضگی تحریر کر دیتا ہے، جب وہ شخصاللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہو گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 281]

282

Sahih Ibn Hibban #282

أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ سَلْمٍ الأَصْبَهَانِيُّ ، قَال : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِصَامِ بْنِ يَزِيدَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي حَصِينٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ عَاصِمٍ الْعَدَوِيِّ ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ ، قَالَ : خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ تِسْعَةٌ ، وَبَيْنَنَا وِسَادَةٌ مِنْ أَدَمٍ ، فَقَالَ : سَيَكُونُ مِنْ بَعْدَي أُمَرَاءُ ، فَمَنْ دَخَلَ عَلَيْهِمْ ، فَصَدَّقَهُمْ بِكَذِبِهِمْ ، وَأَعَانَهُمْ عَلَى ظُلْمِهِمْ ، فَلَيْسَ مِنِّي وَلَسْتُ مِنْهُ ، وَلا يَرِدُ عَلَيَّ الْحَوْضَ ، وَمَنْ لَمْ يَدْخُلْ عَلَيْهِمْ ، وَلَمْ يُصَدِّقْهُمْ بِكَذِبِهِمْ ، وَلَمْ يُعِنْهُمْ عَلَى ظُلْمِهِمْ ، فَهُوَ مِنِّي وَأَنَا مِنْهُ ، وَسَيَرِدُ عَلَيَّ الْحَوْضَ "أَبُو حَصِينٍ : عُثْمَانُ بْنُ عَاصِمٍ ، قَالَهُ الشَّيْخُ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے، ہم اس وقت نو افراد تھے۔ ہمارے درمیان چمڑے کا بنا ہوا تکیہ موجود تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے بعد عنقریب کچھ حکمران آئیں گے، جو شخص ان کے پاس جائے گا، ان کے جھوٹ کی تصدیق کرے گا، ان کے ظلم میں ان کی مدد کرے گا۔ اس کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں ہو گا اور میرا اس سے کوئی تعلق نہیں ہو گا اور وہ میرے حوض پر میرے پاس نہیں آ سکے گا۔ اور جو شخص ان کے ہاں نہیں جائے گا، ان کے جھوٹ میں ان کی تصدیق نہیں کرے گا۔ ان کے ظلم میں ان کی مدد نہیں کرے گا۔ اس کا مجھ سے تعلق ہو گا اور میرا اس سے تعلق ہو گا اور وہ عنقریب میرے حوض پر میرے پاس آئے گا۔“ ابوحصین نامی راوی کا نام عثمان بن عاصم ہے۔ یہ بات شیخ نے بیان کی ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 282]

283

Sahih Ibn Hibban #283

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيَمَ الْحَنْظَلِيُّ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا الْمُلائِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي حَصِينٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ عَاصِمٍ الْعَدَوِيِّ ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ ، قَالَ : خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَنَحْنُ جُلُوسٌ عَلَى وِسَادَةٍ مِنْ أَدَمٍ ، فَقَالَ : سَيَكُونُ بَعْدَي أُمَرَاءُ ، فَمَنْ دَخَلَ عَلَيْهِمْ ، وَصَدَّقَهُمْ بِكَذِبِهِمْ ، وَأَعَانَهُمْ عَلَى ظُلْمِهِمْ ، فَلَيْسَ مِنِّي وَلَسْتُ مِنْهُ ، وَلَيْسَ يَرِدُ عَلَيَّ الْحَوْضَ ، وَمَنْ لَمْ يُصَدِّقْهُمْ بِكَذِبِهِمْ ، وَلَمْ يُعِنْهُمْ عَلَى ظُلْمِهِمْ ، فَهُوَ مِنِّي وَأَنَا مِنْهُ ، وَهُوَ وَارِدٌ عَلَيَّ الْحَوْضَ "الْمُلائِيُّ هُوَ أَبُو نُعَيْمٍ الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے، ہم اس وقت چمڑے کے بنے ہوئے تکیے پر بیٹھے ہوئے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”عنقریب میرے بعد کچھ حکمران آئیں گے، جو شخص ان کے ہاں جائے گا اور ان کے جھوٹ میں ان کی تصدیق کرے گا اور ان کے ظلم میں ان کی مدد کرے گا، اس کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں ہو گا، اور میرا اس سے کوئی تعلق نہیں ہو گا، اور وہ میرے حوض پر میرے پاس نہیں آ سکے گا، اور جو شخص ان کے جھوٹ میں ان کی تصدیق نہیں کرے گا۔ ان کے ظلم میں ان کی مدد نہیں کرے گا۔ اس کا مجھ سے تعلق ہو گا اور میرا اس سے تعلق ہو گا اور وہ میرے حوض پر میرے پاس آئے گا۔“ امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ملائی نامی راوی ابونعیم فضل بن دکین ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 283]""

284

Sahih Ibn Hibban #284

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذْ بْنِ مُعَاذْ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ أَبِي صَغِيرَةَ أَبُو يُونُسَ الْقُشَيْرِيُّ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خَبَّابٍ ، عَنْ أبيه ، قَالَ : كُنَّا قُعُودًا عَلَى بَابِ النَّبِيِّ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَخَرَجَ عَلَيْنَا ، فَقَالَ : اسْمَعُوا " ، قُلْنَا : قَدْ سَمِعْنَا ، قَالَ : " اسْمَعُوا " ، قُلْنَا : قَدْ سَمِعْنَا ، قَالَ : " اسْمَعُوا " ، قُلْنَا : قَدْ سَمِعْنَا ، قَالَ : " إِنَّهُسَيَكُونُ بَعْدَي أُمَرَاءُ ، فَلا تُصَدِّقُوهُمْ بِكَذِبِهِمْ ، وَلا تُعِينُوهُمْ عَلَى ظُلْمِهِمْ ، فَإِنَّهُ مَنْ صَدَّقَهُمْ بِكَذِبِهِمْ ، وَأَعَانَهُمْ عَلَى ظُلْمِهِمْ ، لَمْ يَرِدْ عَلَيَّ الْحَوْضَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبدالله بن جناب اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: ”ایک مرتبہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دروازے پر بیٹھے ہوئے تھے۔ آپ ہمارے پاس تشریف لائے، آپ نے فرمایا: تم لوگ غور سے سنو! ہم نے عرض کی: ہم سننے کے تیار ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم غور سے سنو! ہم نے عرض کی: ہم سننے کے لئے تیار ہیں۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم غور سے سنو! ہم نے عرض کی: ہم سننے کے لئے تیار ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عنقریب میرے بعد کچھ حکمران آئیں گے تو تم ان کی تصدیق نہ کرنا اور ان کے ظلم میں ان کی مدد نہ کرنا، کیونکہ جو شخص ان کے جھوٹ کی تصدیق کرے گا اور ان کے ظلم میں ان کی مدد کرے گا، وہ میرے حوض تک نہیں آ سکے گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 284]

285

Sahih Ibn Hibban #285

أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ سَلْمٍ الأَصْبَهَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِصَامِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ مُرَّةَ بْنِ عَجْلانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي حَصِينٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ عَاصِمٍ الْعَدَوِيِّ ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ ، قَالَ : خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَنَحْنُ تِسْعَةٌ وَبَيْنَنَا وِسَادَةٌ مِنْ أَدَمٍ ، فَقَالَ : إِنَّهُسَيَكُونُ بَعْدَي أُمَرَاءُ ، فَمَنْ دَخَلَ عَلَيْهِمْ ، وَصَدَّقَهُمْ بِكَذِبِهِمْ ، وَأَعَانَهُمْ عَلَى ظُلْمِهِمْ ، فَلَيْسَ مِنِّي وَلَسْتُ مِنْهُ ، وَلا يَرِدُ عَلَيَّ الْحَوْضَ ، وَمَنْ لَمْ يَدْخُلْ عَلَيْهِمْ ، وَلَمْ يُصَدِّقْهُمْ بِكَذِبِهِمْ ، وَلَمْ يُعِنْهُمْ عَلَى ظُلْمِهِمْ ، فَهُوَ مِنِّي وَأَنَا مِنْهُ ، وَسَيَرِدُ عَلَيَّ الْحَوْضَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے، ہم لوگ اس وقت نو افراد تھے ہمارے درمیان چھڑے کا بنا ہوا تکیہ موجود تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”عنقریب میرے بعد کچھ ایسے حکمران آئیں گے، جو شخص ان کے پاس جائے گا، ان کے جھوٹ کی تصدیق کرے گا۔ ان کے ظلم میں ان کی مدد کرے گا، اس کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں ہو گا اور میرا اس سے کچھ تعلق نہیں ہو گا، وہ شخص میرے حوض پر میرے پاس نہیں آ سکے گا۔ اور جو شخص ان کے ہاں نہیں جائے گا اور ان کے جھوٹ میں ان کی تصدیق نہیں کرے گا۔ ان کے ظلم میں ان کی مدد نہیں کرے گا۔ اس کا مجھ سے تعلق ہو گا اور میرا اس سے تعلق ہو گا اور وہ عنقریب میرے حوض پر میرے پاس آئے گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 285]

286

Sahih Ibn Hibban #286

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْمُقَدَّمِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : سَيَكُونُ مِنْ بَعْدَي أُمَرَاءُ يَغْشَاهُمْ غَوَاشٍ مِنَ النَّاسِ ، فَمَنْ صَدَّقَهُمْ بِكَذِبِهِمْ ، وَأَعَانَهُمْ عَلَى ظُلْمِهِمْ ، فَأَنَا مِنْهُ بَرِيءٌ ، وَهُوَ مِنِّي بَرِيءٌ ، وَمَنْ لَمْ يُصَدِّقْهُمْ بِكَذِبِهِمْ ، وَلَمْ يُعِنْهُمْ عَلَى ظُلْمِهِمْ ، فَأَنَا مِنْهُ وَهُوَ مِنِّي """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”عنقریب میرے بعد کچھ حکمران آئیں گے جن کے ہاں لوگ آئیں جائیں گے، تو جو شخص ان کے جھوٹ میں ان کی تصدیق کرے گا اور ان کے ظلم میں ان کی مدد کرے گا۔ میں اس سے بری الذمہ ہوں اور وہ مجھ سے لاتعلق ہے۔ اور جو شخص ان کے جھوٹ کی تصدیق نہیں کرے گا اور ان کے ظلم میں ان کی مدد نہیں کرے گا، میرا اس سے تعلق ہے، اور اس کا مجھ سے تعلق ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 286]

287

Sahih Ibn Hibban #287

أَخْبَرَنَا بَكْرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ سَعِيدٍ الطَّاحِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَلْقَمَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ : كُنَّا مَعَهُ جُلُوسًا فِي السُّوقِ ، فَمَرَّ بِهِ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ لَهُ شَرَفٌ ، فَقَالَ لَهُ : يَا ابْنَ أَخِي ، إِنَّ لَكَ حَقًّا ، وَإِنَّكَ لَتَدْخُلُ عَلَى هَؤُلاءِ الأُمَرَاءِ ، وَتَكَلَّمُ عِنْدَهُمْ ، وَإِنِّي سَمِعْتُ بِلالَ بْنَ الْحَارِثِ صَاحِبَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : إِنَّالْعَبْدَ لَيَتَكَلَّمُ بِالْكَلِمَةِ ، وَلا يَرَاهَا بَلَغَتْ حَيْثُ بَلَغَتْ ، فَيَكْتُبُ الِلَّهِ لَهُ بِهَا رِضَاهُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ ، وَإِنَّ الْعَبْدَ لَيَتَكَلَّمُ بِالْكَلِمَةِ لا يَرَاهَا بَلَغَتْ حَيْثُ بَلَغَتْ ، يَكْتُبُ الِلَّهِ بِهَا سَخَطَهُ إِلَى يَوْمِ يَلْقَاهُ "فَانْظُرْ يَا ابْنَ أَخِي مَا تَقُولُ ، وَمَا تَكَلَّمُ ، فَرُبَّ كَلامٍ كَثِيرٍ قَدْ مَنَعَنِي مَا سَمِعْتُ مِنْ بِلالِ بْنِ الْحَارِثِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

محمد بن عمرو بن علقمہ اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں: ایک مرتبہ ہم ان کے ساتھ بازار میں بیٹھے ہوئے تھے۔ ان کے پاس سے مدینہ منورہ کا رہنے والا ایک صاحب حیثیت شخص گزرا، تو وہ علقمہ بن وقاص نے اس سے کہا: تمہارا ایک حق ہے (کہ میں تمہیں یہ بات بتاؤں) تم ان حکمرانوں کے ہاں آتے جاتے ہو۔ ان سے بات چیت کرتے ہو۔ میں نے سیدنا بلال بن حارث رضی اللہ عنہ جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ہیں، ان کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”بندہ کوئی بات کرتا ہے، اسے یہ اندازہ نہیں ہوتا کہ یہ بات کہاں تک جائے گی؟اللہ تعالیٰ اس بات کی وجہ سے قیامت کے دن تک کے لئے اس بندے کے بارے میں رضامندی تحریر کر دیتا ہے۔ اور ایک بندہ کوئی بات کہتا ہے، اور اسے یہ اندازہ نہیں ہوتا کہ یہ بات کہاں تک جائے گی؟ لیکن اس بات کی وجہ سےاللہ تعالیٰ قیامت کے دن تک کے لئے اس شخص کے بارے میں ناراضگی نوٹ کر لیتا ہے۔“ تو اے میرے بھتیجے! تم اس بات کا جائزہ لو کہ تم کیا کہتے ہو، اور کیا بات کرتے ہو؟ میں نے جب سے سیدنا بلال بن حارث رضی اللہ عنہ کی زبانی یہ بات سنی ہے، تب سے میں نے (غیر محتاط) باتیں کرنا ترک کر دی ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 287]

288

Sahih Ibn Hibban #288

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، وَاللَّفْظُ لِلْحَسَنِ ، قَالا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُتَوَكِّلِ هُوَ ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَمْزَةَ بْنِ يُوسُفَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ : قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلامٍ : إِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى لَمَّا أَرَادَ هُدَى زَيْدِ بْنِ سَعْنَةَ ، قَالَ زَيْدُ بْنُ سَعْنَةَ : إِنَّهُلَمْ يَبْقَ مِنْ عَلامَاتَ النُّبُوَّةِ شَيْءٌ إِلا وَقَدْ عَرَفْتُهَا فِي وَجْهِ مُحَمَّدٍ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ نَظَرْتُ إِلَيْهِ ، إِلا اثْنَتَيْنِ لَمْ أَخْبُرْهُمَا مِنْهُ : يَسْبِقُ حِلْمُهُ جَهْلَهُ ، وَلا يَزِيدُهُ شِدَّةُ الْجَهْلِ عَلَيْهِ إِلا حِلْمًا ، فَكُنْتُ أَتَلَطَّفُ لَهُ لأَنْ أُخَالِطَهُ فَأَعْرِفَ حِلْمَهُ وَجَهْلَهُ ، قَالَ : فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْحُجُرَاتِ ، وَمَعَهُ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ ، فَأَتَاهُ رَجُلٌ عَلَى رَاحِلَتِهِ كَالْبَدَوِيِّ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَرْيَةُ بَنِي فُلانٍ قَدْ أَسْلَمُوا وَدَخَلُوا فِي الإِسْلامِ ، وَكُنْتُ أَخْبَرْتُهُمْ أَنَّهُمْ إِنْ أَسْلَمُوا أَتَاهُمُ الرِّزْقُ رَغَدًا ، وَقَدْ أَصَابَهُمْ شِدَّةٌ وَقَحْطٌ مِنَ الْغَيْثِ ، وَأَنَا أَخْشَى يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَنْ يَخْرُجُوا مَنَ الإِسْلامِ طَمَعًا كَمَا دَخَلُوا فِيهِ طَمَعًا ، فَإِنْ رَأَيْتَ أَنْ تُرْسِلَ إِلَيْهُمْ مَنْ يُغِيثُهُمْ بِهِ فَعَلْتَ ، قَالَ : فَنَظَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى رَجُلٍ جَانِبَهُ ، أُرَاهُ عُمَرُ ، فَقَالَ : مَا بَقِيَ مِنْهُ شَيْءٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ زَيْدُ بْنُ سَعْنَةَ : فَدَنَوْتُ إِلَيْهِ فَقُلْتُ لَهُ : يَا مُحَمَّدُ ، هَلْ لَكَ أَنْ تَبِيعَنِي تَمْرًا مَعْلُومًا مِنْ حَائِطِ بَنِي فُلانٍ إِلَى أَجْلِ كَذَا وَكَذَا ؟ فَقَالَ : لا ، يَا يَهُودِيُّ ، وَلَكِنْ أَبِيعُكَ تَمْرًا مَعْلُومًا إِلَى أَجْلِ كَذَا وَكَذَا ، وَلا أُسَمِّي حَائِطَ بَنِي فُلانٍ " ، قُلْتُ : نَعَمْ ، فَبَايَعَنِي صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَطْلَقْتُ هُمْيَانِي ، فَأَعْطَيْتُهُ ثَمَانِينَ مِثْقَالا مِنْ ذَهَبٍ فِي تَمْرٍ مَعْلُومٍ إِلَى أَجْلِ كَذَا وَكَذَا ، قَالَ : فَأَعْطَاهَا الرَّجُلَ وَقَالَ : " اعْجَلْ عَلَيْهِمْ وأَغِثْهُمْ بِهَا " ، قَالَ زَيْدُ بْنُ سَعْنَةَ : فَلَمَّا كَانَ قَبْلُ مَحَلِّ الأَجَلِ بِيَوْمَيْنِ أَوْ ثَلاثَةٍ ، خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي جَنَازَةِ رَجُلٍ مِنَ الأَنْصَارِ وَمَعَهُ أَبُو بَكْرٍ ، وَعُمَرُ ، وَعُثْمَانُ وَنَفَرٌ مِنْ أَصْحَابِهِ ، فَلَمَّا صَلَّى عَلَى الْجَنَازَةِ دَنَا مِنْ جِدَارٍ فَجَلَسَ إِلَيْهِ ، فَأَخَذْتُ بِمَجَامِعِ قَمِيصِهِ ، وَنَظَرْتُ إِلَيْهِ بِوَجْهٍ غَلِيظٍ ، ثُمَّ قُلْتُ : أَلا تَقْضِينِي يَا مُحَمَّدُ حَقِّي ؟ فَوَاللَّهِ مَا عَلِمْتُكُمْ بَنِي عَبْدَ الْمُطَّلِبِ بِمَطْلٍ ، وَلَقَدْ كَانَ لِي بِمُخَالَطَتِكُمْ عِلْمٌ ، قَالَ : وَنَظَرْتُ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ وَعَيْنَاهُ تَدُورَانِ فِي وَجْهِهِ كَالْفَلَكِ الْمُسْتَدِيرِ ، ثُمَّ رَمَانِي بِبَصَرِهِ وَقَالَ : أَيْ عَدُوَّ اللَّهِ ، أَتَقُولُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا أَسْمَعُ ، وَتَفْعَلُ بِهِ مَا أَرَى ؟ فَوَالَّذِي بَعَثَهُ بِالْحَقِّ ، لَوْلا مَا أُحَاِذْرُ فَوْتَهُ لَضَرَبْتُ بِسَيْفِي هَذَا عُنُقَكَ ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْظُرُ إِلَى عُمَرَ فِي سُكُونٍ وَتُؤَدَةٍ ، ثُمَّ قَالَ : " إِنَّا كُنَّا أَحْوَجَ إِلَى غَيْرِ هَذَا مِنْكَ يَا عُمَرُ ، أَنْ تَأْمُرَنِي بِحُسْنِ الأَدَاءِ ، وَتَأْمُرَهُ بِحُسْنِ التِّبَاعَةِ ، اذْهَبْ بِهِ يَا عُمَرُ فَاقْضِهِ حَقَّهُ ، وَزِدْهُ عِشْرِينَ صَاعًا مِنْ غَيْرِهِ مَكَانَ مَا رُعْتَهُ " ، قَالَ زَيْدٌ : فَذَهَبَ بِي عُمَرُ فَقَضَانِي حَقِّي ، وَزَادَنِي عِشْرِينَ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ ، فَقُلْتُ : مَا هَذِهِ الزِّيَادَةُ ؟ قَالَ : أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أَزِيدَكَ مَكَانَ مَا رُعْتُكَ ، فَقُلْتُ : أَتَعْرِفُنِي يَا عُمَرُ ؟ قَالَ : لا ، فَمَنْ أَنْتَ ؟ قُلْتُ : أَنَا زَيْدُ بْنُ سَعْنَةَ ، قَالَ : الْحَبْرُ ؟ قُلْتُ : نَعَمْ ، الْحَبْرُ ، قَالَ : فَمَا دَعَاكَ أَنْ تَقُولَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا قُلْتَ ، وَتَفْعَلُ بِهِ مَا فَعَلْتَ ، فَقُلْتُ : يَا عُمَرُ كُلُّ عَلامَاتَ النُّبُوَّةِ قَدْ عَرَفْتُهَا فِي وَجْهِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ نَظَرْتُ إِلَيْهِ إِلا اثْنَتَيْنِ لَمْ أَخْتَبِرْهُمَا مِنْهُ : يَسْبِقُ حِلْمُهُ جَهْلَهُ ، وَلا يَزِيدُهُ شِدَّةُ الْجَهْلِ عَلَيْهِ إِلا حِلْمًا ، فَقَدْ اخْتَبَرْتُهُمَا ، فَأُشْهِدُكَ يَا عُمَرُ أَنِّي قَدْ رَضِيتُ بِاللَّهِ رَبًّا ، وَبِالإِسْلامِ دِينًا ، وَبِمُحَمَّدٍ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَبِيًّا ، وَأُشْهِدُكَ أَنَّ شَطْرَ مَالِي فَإِنِّي أَكْثَرُهَا مَالا صَدَقَةٌ عَلَى أُمَّةِ مُحَمَّدٍ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ عُمَرُ : أَوْ عَلَى بَعْضِهِمْ ، فَإِنَّكَ لا تَسَعُهُمْ كُلَّهُمْ ، قُلْتُ : أَوْ عَلَى بَعْضِهِمْ ، فَرَجَعَ عُمَرُ وَزَيْدٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ زَيْدٌ : أَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَآمَنَ بِهِ وَصَدَّقَهُ ، وَشَهِدَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَشَاهِدَ كَثِيرَةًثُمَّ تُوُفِّيَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ مُقْبِلا غَيْرَ مُدْبِرٍ رَحِمَ الِلَّهِ زَيْدًا ، قَالَ : فَسَمِعْتُ الْوَلِيدَ ، يَقُولُ : حَدَّثَنِي بِهَذَا كُلِّهِ مُحَمَّدُ بْنُ حَمْزَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلامٍ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: جباللہ تعالیٰ نے زید بن سعنہ کو ہدایت عطا کرنے کا ارادہ کیا، تو زید بن سعنہ نے کہا: نبوت کی جتنی بھی علامات باقی رہ گئی ہیں، وہ سب میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے میں پہچان لی ہیں۔ جب میں نے آپ کی زیارت کی صرف دو باتیں باقی رہ گئی ہیں، وہ میں آپ کی شخصیت میں نہیں جان سکا۔ ایک یہ کہ آپ کے مزاج میں بردباری اور (برداشت) کا عنصر کتنا ہے؟ دوسرا یہ کہ جب آپ کے ساتھ بد تمیزی کا مظاہرہ کیا جائے، تو آپ زیادہ بردباری کا مظاہرہ کرتے ہیں؟ تو میں یہ چاہتا ہوں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نرمی سے پیش آؤں، ان کے ساتھ ملتا رہوں تاکہ مجھے آپ کی بردباری کا اندازہ ہو سکے۔ راوی بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے حجرے سے باہر تشریف لائے آپ کے ساتھ سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ ایک شخص جو دیکھنے میں دیہاتی لگ رہا تھا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اس نے عرض کی: یا رسول اللہ! فلاں بستی کے لوگوں نے اسلام قبول کر لیا ہے۔ میں نے انہیں بتایا تھا کہ اگر انہوں نے اسلام قبول کر لیا، تواللہ تعالیٰ انہیں زیادہ رزق عطا کرے گا۔ اب انہیں قحط سالی لاحق ہو گئی ہے، بارش نہیں ہوئی، مجھے یہ اندیشہ ہے، یا رسول اللہ! جس طرح وہ لالچ کی وجہ سے اسلام میں داخل ہوئے تھے، کہیں اسی طرح لالچ کی وجہ سے اسلام سے خارج نہ ہو جائیں، اگر آپ مناسب سمجھیں، تو ان کی طرف کوئی ایسی چیز بھیج دیں، جو ان کی امداد کر سکے۔ راوی کہتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پہلو میں موجود ایک شخص کی طرف دیکھا، میرا خیال ہے، وہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ تھے، تو انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! میرے پاس تو ایسی کوئی چیز نہیں ہے۔ زید بن سعنہ کہتے ہیں: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب ہوا، میں نے آپ کی خدمت میں عرض کی: اے سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا آپ بنوفلاں کے باغ کی متعین کھجوریں فلاں عرصے تک ادائیگی کی شرط پر مجھے فروخت کرتے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جی نہیں۔ اے یہودی میں تمہیں متعین کھجوریں فلاں، فلاں عرصے تک فروخت کر دوں گا، لیکن میں بنوفلاں کے باغ کا تعین نہیں کروں گا۔ میں نے جواب دیا: ٹھیک ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے ساتھ سودا کر لیا۔ میں نے اپنے تھیلے کو کھولا اور اس میں سے 80 مثقال سونا نکال کر آپ کو دے دیا، جو کھجوروں کی متعین تعداد کے عوض میں تھا، جس کی ادائیگی فلاں، فلاں مدت تک تھی۔ راوی بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ سونا اس شخص کو دیا اور کہا: تم جلدی سے ان کے پاس جاؤ اور اس کے ذریعے ان کی مدد کرو۔ سیدنا زید بن سعنہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: جب متعین مدت پوری ہونے کا وقت قریب آیا، تو ابھی اس میں دو یا تین دن باقی تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کسی انصاری کے جنازے میں شریک ہونے کے لئے تشریف لائے، آپ کے ساتھ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ اور دیگر کچھ صحابہ کرام بھی تھے۔ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز جنازہ ادا کر لی، تو آپ ایک دیوار کے قریب ہو کر بیٹھ گئے۔ میں نے آپ کی قمیص کے دامن کو پکڑا اور سخت نظروں سے آپ کی طرف دیکھتے ہوئے کہا: اے سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کیا آپ میرا حق مجھے ادا نہیں کریں گے؟ اللہ کی قسم! آپ یعنی عبدالمطلب کی اولاد کی طرف سے مجھے ٹال مٹول کرنے کا علم نہیں ہے؟ کیونکہ میں آپ لوگوں کے لین دین کو جانتا ہوں۔ راوی کہتے ہیں: میں نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی طرف دیکھا، تو ان کی آنکھیں غصے سے اُبل رہی تھیں۔ انہوں نے میری طرف گھور کے دیکھا اور بولے: اے اللہ کے دشمن! کیا تم اللہ کے رسول کے ساتھ یہ بات کر رہے ہو؟ جو میں سن رہا ہوں اور یہ طریقہ اختیار کر رہے ہو، جو میں دیکھ رہا ہوں؟ اس ذات کی قسم! جس نے انہیں حق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے، اگر ان کا احترام پیش نظر نہ ہوتا، تو میں اس تلوار کے ذریعے تمہاری گردن اڑا دیتا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نرمی اور مہربانی کے ساتھ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی طرف دیکھا اور ارشاد فرمایا: ”اے عمر! تمہاری طرف سے اس سے مختلف رد عمل سامنے آنے کی زیادہ ضرورت تھی، تم مجھے اچھے طریقے سے ادائیگی کرنے کا کہتے اور اس کو اچھے طریقے سے تقاضا کرنے کا کہتے۔ اے عمر! اسے ساتھ لے جاؤ۔ اس کا حق اسے ادا کر دو اور تم نے جو اسے ڈانٹا ہے، اس کے بدلے میں اسے میں صاع کھجوریں زیادہ دینا۔ سیدنا زید بن سعنہ رضی اللہ عنہ کرتے ہیں: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ مجھے ساتھ لے گئے، انہوں نے میرا حق ادا کر دیا اور مزید بیس صاع کھجوریں عطا کیں، تو میں نے دریافت کیا: یہ اضافی ادائیگی کس لئے ہے؟ تو انہوں نے بتایا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یہ ہدایت کی تھی کہ میں نے تمہیں، جو ڈانٹا ہے، اس کی جگہ میں تمہیں یہ اضافی ادائیگی کروں۔ میں نے دریافت کیا: اے عمر! تم مجھے پہچانتے ہو؟ انہوں نے جواب دیا: جی نہیں! تم کون ہو؟ میں نے کہا: میں زید بن سعنہ ہوں۔ انہوں نے دریافت کیا: یہودیوں کا بڑا عالم؟ میں نے جواب دیا: جی ہاں۔ یہودیوں کا بڑا عالم۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا: تم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اس طریقے کے ساتھ بات چیت اور اس طرح کا طرز عمل کیوں کیا؟ میں نے جواب دیا: اے عمر! میں نے اللہ کے رسول کے چہرے میں تمام علامات نبوت دیکھ لی تھیں، جب میں نے آپ کی زیارت کی تھی، صرف دو چیزیں باقی رہ گئی تھیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں مجھے یہ پتہ نہیں چل سکا تھا۔ ایک یہ کہ آپ کے مزاج میں بردباری کتنی ہے؟ دوسرا یہ کہ جب آپ کے ساتھ بدتمیزی کا مظاہرہ کیا جائے، تو آپ بردباری اور تحمل کا مظاہرہ کرتے ہیں؟ تو میں نے ان دونوں کا علم بھی حاصل کر لیا ہے۔ اے عمر! اب میں آپ کو گواہ بنا کر یہ کہتا ہوں کہ میںاللہ تعالیٰ کے پروردگار ہونے، اسلام کے دین ہونے اور سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے نبی ہونے سے راضی ہوں۔ (یعنی ان پر ایمان رکھتا ہوں) اور میں آپ کو گواہ بنا کر یہ کہتا ہوں: میرا نصف مال، حالانکہ یہودیوں میں سے، سب سے زیادہ مال میرے پاس ہے۔ یہ سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی اُمت کے لئے صدقہ ہے۔ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم یہ کہو کہ ان میں سے کچھ لوگوں کے لئے ہے، کیونکہ تم ان سب کو پورا نہیں کر سکتے، تو میں نے کہا: ان میں سے بعض لوگوں کے لئے ہے۔ پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اور سیدنا زید نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، تو سیدنا زید نے عرض کی: میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہاللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے، اور سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ (راوی کہتے ہیں:) پھر سیدنا زید بن سعنہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لے آئے۔ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تصدیق کی وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بہت سے غزوات میں شریک ہوئے اور پھر غزوہ تبوک کے دوران دشمن کا سامنا کرتے ہوئے انہوں نے انتقال کیا۔اللہ تعالیٰ زید پر رحم کرے۔ انہوں نے یہ بات بیان کی ہے میں نے ولید کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے مجھے یہ تمام روایت محمد بن حمزہ نے اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کے حوالے سے سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ کے حوالے سے بیان کی ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 288]

289

Sahih Ibn Hibban #289

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ يُوسُفَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ الْعَسْكَرِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا عَمْرٍو الشَّيْبَانِيَّ ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ ، قَالَ : أَتَى رَجُلٌ النَّبِيَّ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهُ ، فَقَالَ : مَا عِنْدِي مَا أُعْطِيكَ ، لَكِنِ ائْتِ فُلانًا " ، قَالَ : فَأَتَى الرَّجُلَ ، فَأَعْطَاهُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ :" مَنْ دَلَّ عَلَى خَيْرٍ فَلَهُ مِثْلُ أَجْرِ فَاعِلِهِ أَوْ عَامِلِهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابومسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اس نے آپ سے مدد طلب کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے پاس ایسی کوئی چیز نہیں ہے، جو میں تمہیں دوں، تم فلاں شخص کے پاس چلے جاؤ۔ (راوی بیان کرتے ہیں) وہ اس شخص کے پاس آیا اس نے اسے عطیہ دے دیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جو شخص بھلائی کے بارے میں رہنمائی کرے، تو اس کو اس بھلائی کو کرنے والے (راوی کو شک ہے، شاید یہ الفاظ ہیں) اس پر عمل کرنے والے کی مانند اجر ملتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 289]

290

Sahih Ibn Hibban #290

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيَمَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ بْنِ هَانِئٍ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ عُثْمَانَ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : دَخَلَ عَلَيَّ النَّبِيُّ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَعَرَفْتُ فِي وَجْهِهِ أَنْ قَدْ حَضَرَهُ شَيْءٌ ، فَتَوَضَّأَ ، وَمَا كَلَّمَ أَحَدًا ، ثُمَّ خَرَجَ ، فَلَصِقْتُ بِالْحُجْرَةِ أَسْمَعُ مَا يَقُولُ ، فَقَعَدَ عَلَى الْمِنْبَرِ ، فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ، ثُمَّ قَالَ : يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، إِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى يَقُولُ لَكُمْ :مُرُوا بِالْمَعْرُوفِ ، وَانْهَوْا عَنِ الْمُنْكَرِ ، قَبْلُ أَنْ تَدْعُونِي ، فَلا أُجِيبُكُمْ ، وَتَسْأَلُونِي فَلا أُعْطِيكُمْ ، وَتَسْتَنْصِرُونِي فَلا أَنْصُرُكُمْ "، فَمَا زَادَ عَلَيْهِنَّ حَتَّى نَزَلَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے ہاں تشریف لائے، تو آپ کے چہرے سے مجھے اندازہ ہو گیا کہ آپ کا مزاج ٹھیک نہیں ہے۔ آپ نے وضو کیا آپ نے کسی کے ساتھ کوئی بات چیت نہیں کی۔ پھر باہر تشریف لے گئے۔ میں حجرے کے دروازے) کے پاس ہو گئی، تاکہ میں یہ سنوں کہ آپ کیا ارشاد فرماتے ہیں: آپ منبر پر تشریف فرما ہوئے، آپ نےاللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کی پھر آپ نے ارشاد فرمایا: اے لوگو! بے شک اللہ تبارک و تعالیٰ نے تمہیں یہ حکم دیا ہے، تم لوگ نیکی کا حکم دو اور برائی سے منع کرو۔ اس سے پہلے کہ تم لوگ مجھ سے دعا مانگو اور میں تمہاری دعا قبول نہ کروں، تم لوگ مجھ سے کچھ مانگو اور میں تمہیں عطا نہ کروں، تم لوگ مجھ سے مدد، مانگو اور میں تمہاری مدد نہ کروں۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف یہی کلمات ارشاد فرمائے، اور پھر منبر سے نیچے تشریف لے آئے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 290]