Muslim99Muslim99

Sahih Ibn Hibban · Book 29 · Chapter 4

Book of Transfer of Debt

Hadith 3249–3288

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

3249

Sahih Ibn Hibban #3249

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا الُوَلِيدُ ، حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنَّ أَعْرَابِيًّا سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْهِجْرَةِ ، فَقَالَ : وَيْحَكَ ، إِنَّشَأْنَ الْهِجْرَةِ شَدِيدٌ ، فَهَلْ لَكَ مِنْ إِبِلٍ ؟ " قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : " فَهَلْ تُؤَدِّي صَدَقَتَهَا ؟ " قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : " فَاعْمَلْ مِنْ وَرَاءِ الْبِحَارِ ، فَإِنَّ اللَّهَ لَنْ يَتِرَكَ مِنْ عَمَلِكَ شَيْئًا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دیہاتی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہجرت کے بارے میں دریافت کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تمہارا ستیاناس ہو! ہجرت کا معاملہ بہت سخت ہے، کیا تمہارے پاس اونٹ ہیں؟“ اس نے عرض کی: جی ہاں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”کیا تم ان کی زکوٰۃ دیتے ہو؟“ اس نے عرض کی: جی ہاں! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم سمندروں کے پرے بھی عمل کر لو، تو اللہ تعالیٰ تمہارے عمل میں سے کوئی بھی چیز چھوڑے گا نہیں (یعنی ہر چیز کا تمہیں بدلہ دے گا)۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الزكاة/حدیث: 3249]

3250

Sahih Ibn Hibban #3250

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا الْمُقْرِئُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عَلِيٍّ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ مَرُوَانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : شَرُّ مَا فِي الرَّجُلِ شُحٌّ هَالِعٌ ، وَجُبْنٌ خَالِعٌ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”آدمی میں سب سے بری چیز وہ کنجوسی ہے، جو غمگین کر دے اور وہ بزدلی ہے، جو حواس رخصت کر دے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الزكاة/حدیث: 3250]

3251

Sahih Ibn Hibban #3251

أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ سِنَانَ الْقَطَّانُ ، بِوَاسِطَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ بَيَانَ السُّكَّرِيُّ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ صَفُوَانِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ ، عَنِ الْقَعْقَاعِ بْنِ اللَّجْلاجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لا يَجْتَمِعُ غُبَارٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَدُخَانُ جَهَنَّمَ فِي جَوْفِ عَبْدٍ ، وَلا يَجْتَمِعُ الشُّحُّ وَالإِيمَانُ فِي قَلْبِ عَبْدٍ أَبَدًا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”اللہ کی راہ میں اڑنے والا غبار اور جہنم کا دھواں ایک بندے کے اندر اکٹھے نہیں ہو سکتے اور کنجوسی اور ایمان ایک بندے کے دل میں کبھی اکٹھے نہیں ہو سکتے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الزكاة/حدیث: 3251]

3252

Sahih Ibn Hibban #3252

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْعَبْدِيُّ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا سُفِيَانُ الثَّوْرِيُّ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ ، قَالَ : آكُلُ الرِّبَا وَمُوكِلُهُ وَكَاتِبُهُ وَشَاهِدَاهُ إِذَا عَلِمُوا بِهِ ، وَالُوَاشِمَةُ وَالْمُسْتَوْشِمَةُ لِلْحُسْنِ ، وَلاوِي الصَّدَقَةِ ، وَالْمُرْتَدُّ أَعْرَابِيًّا بَعْدَ هِجْرَتِهِ مَلْعُونُونَ عَلَى لِسَانِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”سود کھانے والا، اسے کھلانے والا، اسے لکھنے والا، اس کے دونوں گواہ جب یہ عمل کریں، اور جسم گودنے والی عورت اور خوبصورتی کے لیے گودوانے والی عورت، اور زکوٰۃ میں خیانت کرنے والا، اور ہجرت کرنے کے بعد مرتد ہونے والا دیہاتی، یہ سب سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی، قیامت کے دن ملعون ہوں گے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الزكاة/حدیث: 3252]

3253

Sahih Ibn Hibban #3253

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ بْنِ إِسْحَاقَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ يَحِيَى الْحَسَّانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُهَيْلُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : مَا مِنْ عَبْدٍ لَهُ مَالٌ لا يُؤَدِّي زَكَاتَهُ إِلا جَمَعَ اللَّهُ لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يُحْمَى عَلَيْهِ صَفَائِحُ مِنْ نَارِ جَهَنَّمَ ، يُكُوَى بِهَا جَبِينُهُ وَظَهْرُهُ ، حَتَّى يَقْضِيَ اللَّهُ بَيْنَ عِبَادِهِ فِي يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهُ خَمْسِينَ أَلْفَ سَنَةٍ مِمَّا تَعُدُّونَ ، ثُمَّ يَرَى سَبِيلَهُ إِمَّا إِلَى جُنَّةٍ وَإِمَّا إِلَى نَارٍ ، وَمَا مِنْ صَاحِبِ إِبِلٍ لا يُؤَدِّي زَكَاتَهَا إِلا بُطِحَ لَهَا بِقَاعٍ قَرْقَرٍ أَوْفَرَ مَا كَانَتْ تَسِيرُ عَلَيْهِ ، كُلَمَا مَضَى عَلَيْهِ أُخْرَاهَا ، رُدَّتْ عَلَيْهِ أُولاهَا ، حَتَّى يَحْكُمَ اللَّهُ بَيْنَ عِبَادِهِ فِي يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهُ خَمْسِينَ أَلْفَ سَنَةٍ ، ثُمَّ يَرَى سَبِيلَهُ إِمَّا إِلَى جُنَّةٍ وَإِمَّا إِلَى نَارٍ ، وَمَا مِنْ صَاحِبِ غَنَمٍ لا يُؤَدِّي زَكَاتَهَا إِلا بُطِحَ لَهَا بِقَاعٍ قَرْقَرٍ كَأَوْفَرِ مَا كَانَتْ ، فَتَطَؤُهُ بِأَظْلافِهَا ، وَتَنْطَحُهُ بِقُرُونِهَا ، لَيْسَ فِيهَا عَقْصَاءُ وَلا جَلْحَاءُ ، كُلَمَا مَضَتْ عَلَيْهِ أُخْرَاهَا ، رُدَّتْ عَلَيْهِ أُولاهَا ، حَتَّى يَحْكُمَ اللَّهُ بَيْنَ عِبَادِهِ فِي يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهُ خَمْسِينَ أَلْفَ سَنَةٍ ، ثُمَّ يَرَى سَبِيلَهُ إِمَّا إِلَى جُنَّةٍ وَإِمَّا إِلَى نَارٍ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جس بھی بندے کے پاس مال موجود ہو، جس کی وہ زکاۃ ادا نہ کرتا ہو، تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کے لیے (مال کو جمع کرے گا اور اسے تختیوں کی شکل میں جہنم کی آگ سے گرم کیا جائے گا، جس کے ذریعے اس کی پیشانی اور پشت کو داغا جائے گا اور ایسا اس وقت تک ہوتا رہے گا، جس وقت تک اللہ اپنے بندوں کے درمیان فیصلہ نہیں کر دیتا جو ایک ایسے دن میں ہو گا جس کی مقدار پچاس ہزار سال جتنی ہو گی جو تمہاری گنتی کے حساب سے ہیں، پھر اس کے بعد وہ شخص اپنا راستہ دیکھ لے گا جو جنت کی طرف جاتا ہو گا یا جہنم کی طرف جاتا ہو گا اور جو شخص اونٹوں کی زکاۃ ادا نہیں کرے گا اسے اونٹوں کے سامنے کھلے میدان میں ڈال دیا جائے گا، وہ اونٹ پہلے سے زیادہ موٹے تازے ہوں گے، وہ اونٹ اس پر سے گزریں گے، جب آخری اس پر سے گزر جائے گا، تو پہلا دوبارہ اس پر آئے گا اور ایسا اس وقت تک ہوتا رہے گا، جب تک اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے درمیان فیصلہ نہیں کر دے گا جو ایسے دن میں ہو گا، جس کی مقدار پچاس (50) ہزار سال کے برابر ہو گی، پھر وہ شخص اپنا راستہ دیکھے گا جو یا تو جنت کی طرف جاتا ہو گا یا جہنم کی طرف جاتا ہو گا؛ بکریوں کا جو بھی مالک ان کی زکاۃ ادا نہیں کرتا ہو گا اسے ان بکریوں کے سامنے ایک کھلے میدان میں ڈال دیا جائے گا، وہ بکریاں پہلے سے زیادہ موٹی تازی ہوں گی، وہ اپنے پاؤں کے ذریعے اسے روندیں گی اور اپنے سینگوں کے ذریعے اسے ماریں گی، ان میں کوئی بکری ٹیڑھے سینگ والی یا بغیر سینگ کے نہیں ہو گی، جب ان میں سے آخری اس پر سے گزر جائے گی، تو پہلے والی واپس اس پر آئے گی اور ایسا اس وقت تک ہوتا رہے گا، جب تک اللہ تعالیٰ اس دن میں اپنے بندوں کے درمیان فیصلہ نہیں کرتا جس دن کی مقدار پچاس ہزار سال ہے، پھر وہ شخص اپنا راستہ دیکھ لے گا جو یا جنت کی طرف جاتا ہو گا یا جہنم کی طرف جاتا ہو گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الزكاة/حدیث: 3253]

3254

Sahih Ibn Hibban #3254

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنِ الْعَلاءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَأْتِي الْمَالُ الَّذِي لَمْ يُعْطَ الْحَقُّ مِنْهَا ، فَتَطَأُ الإِبِلُ سَيِّدَهَا بِأَخْفَافِهَا ، وَيَأْتِي الْبَقَرُ وَالْغَنَمُ فَتَطَأُ صَاحِبَهَا بِأَظْلافِهَا ، وَتَنْطَحُهُ بِقُرُونِهَا ، وَيَأْتِي الْكَنْزُ شُجَاعًا أَقْرَعَ ، فَيَلْقَى صَاحِبَهُ ، فَيَفِرُّ مِنْهُ ، ثُمَّ يَسْتَقْبِلُهُ وَيَفِرُّ مِنْهُ ، فَيَقُولُ : مَا لِي وَمَا لَكَ ؟ ! فَيَقُولُ : أَنَا كَنْزُكَ أَنَا كَنْزُكَ ، فَيتَلَقَّاهُ صَاحِبُهُ بِيَدِهِ فَيَلْقَمُ يَدَهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”وہ مال (قیامت کے دن) آئے گا جس کی زکاۃ ادا نہیں کی گئی ہوگی، تو (اس میں سے) اونٹ اپنے آقا کو اپنے پاؤں کے ذریعے روندے گا، گائے اور بکریاں آئیں گی، اپنے مالک کو اپنے پاؤں کے ذریعے روندیں گی اور اپنے سینگوں کے ذریعے ماریں گی۔ خزانہ ایک گنجے سانپ کی شکل میں آئے گا اور اپنے مالک کے پیچھے جائے گا، وہ مالک اس سے بھاگے گا، پھر وہ اس کے سامنے آ جائے گا، پھر وہ اس سے بھاگے گا، تو وہ کہے گا: میرا تمہارا کیا واسطہ ہے؟ تو وہ خزانہ کہے گا: میں تمہارا خزانہ ہوں، میں تمہارا خزانہ ہوں، پھر اس کا مالک اپنا ہاتھ اس کی طرف کرے گا تو وہ اس کے ہاتھ کو چبا جائے گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الزكاة/حدیث: 3254]

3255

Sahih Ibn Hibban #3255

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَدِينِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : مَا مِنْ صَاحِبِ إِبِلٍ لا يَفْعَلُ فِيهَا خَيْرًا إِلا جَاءَتْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَكْثَرَ مَا كَانَتْ ، وَأُقْعِدَ لَهَا بِقَاعٍ قَرْقَرٍ تَسْتَنُّ عَلَيْهِ بِقَوَائِمِهَا وَأَخْفَافِهَا ، وَلا صَاحِبِ بَقَرٍ إِلا جَاءَتْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَكْثَرَ مَا كَانَتْ ، وَأُقْعِدَ لَهَا بِقَاعٍ قَرْقَرٍ تَنْطَحُهُ بِقُرُونِهَا ، وَتَطَؤُهُ بِأَظْلافِهَا ، لَيْسَ فِيهَا جَمَّاءُ وَلا مُكَسَّرٌ قَرْنُهَا ، وَلا صَاحِبِ كَنْزٍ لا يَفْعَلُ فِيهِ حَقَّهُ إِلا جَاءَ كَنْزُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ شُجَاعًا أَقْرَعَ يَتْبَعُهُ فَاغِرًا فَاهُ ، فَإِذَا أَتَاهُ فَرَّ مِنْهُ ، فَيُنَادِيهِ رَبُّهُ : كَنْزُكَ الَّذِي خَبَّأْتَهُ ، فَإِذَا رَأَى أَنْ لا بُدُّ لَهُ مِنْهُ ، سَلَكَ يَدَهُ فِي فِيهِ ، فَيَقْضَمُهَا قَضْمَ الْفَحْلِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”اونٹوں کا جو بھی مالک ان کے بارے میں بھلائی نہیں کرے گا (یعنی ان کی زکاۃ ادا نہیں کرے گا)، تو وہ قیامت کے دن پہلے سے زیادہ (صحت مند ہو کر) آئیں گے، اس شخص کو ان کے سامنے ایک کھلے میدان میں بٹھا دیا جائے گا، وہ اپنی ٹانگوں اور پاؤں کے ذریعے اسے ماریں گے۔ گائے کا مالک (جو ان کی زکاۃ ادا نہیں کرے گا)، تو وہ گائے قیامت کے دن پہلے سے زیادہ (صحت مند ہو کر) آئیں گی، اس شخص کو ان کے سامنے ایک کھلے میدان میں بٹھا دیا جائے گا، وہ اپنے سینگوں کے ذریعے اسے ماریں گی اور پاؤں کے ذریعے اسے روندیں گی، ان میں کوئی ایسی گائے نہیں ہو گی جو بغیر سینگ کے ہو یا جس کا سینگ ٹوٹا ہوا ہو۔ خزانے کا جو بھی مالک (اس کی زکاۃ ادا نہیں کرے گا)، تو وہ خزانہ قیامت کے دن گنجے سانپ کی شکل میں آئے گا اور اپنا منہ کھول کر اس کے پیچھے جائے گا، جب وہ اس کے قریب آئے گا، تو یہ اس سے بھاگے گا، تو اس کا پروردگار اسے پکارے گا: یہ وہ تمہارا خزانہ ہے جسے تم نے سنبھال کر رکھا ہوا تھا، جب وہ شخص یہ دیکھے گا کہ اب وہ اس سے نہیں بچ سکتا تو وہ اپنا ہاتھ اس کے منہ کی طرف بڑھائے گا، تو وہ سانپ اس کے ہاتھ کو یوں چبا لے گا جس طرح اونٹ کوئی چیز چباتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الزكاة/حدیث: 3255]

3256

Sahih Ibn Hibban #3256

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُصْعَبُ بْنُ الْمِقْدَامِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا دَاوُدُ الطَّائِيُّ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنِ الْمَعْرُورِ بْنِ سُوَيْدٍ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ،لا يَمُوتُ رَجُلٌ فَيَدَعُ إِبِلا أَوْ بَقَرًا أَوْ غَنَمًا لَمْ يُؤَدِّ زَكَاتَهَا إِلا مُثِّلَتْ لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَعْظَمَ مَا تَكُونُ وَأَسْمَنَهُ ، تَنْطَحُهُ بِقُرُونِهَا ، وَتَطَؤُهُ بِأَخْفَافِهَا ، كُلَمَا ذَهَبَ أُخْرَاهَا رَجَعَ أُولاهَا كَذَلِكَ حَتَّى يَقْضِيَ اللَّهُ بَيْنَ النَّاسِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”اس ذات کی قسم! جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے، جو شخص مرتے ہوئے اونٹ یا گائے یا بکریاں چھوڑ جائے جس کی اس نے زکوٰۃ ادا نہ کی ہو، تو قیامت کے دن انہیں پہلے سے بڑے اور پہلے سے بھاری بھرکم وجود میں اٹھایا جائے گا، وہ اپنے سینگوں کے ذریعے اسے ماریں گے اور پاؤں کے ذریعے اسے روندیں گے، جب ان میں سے آخری چلا جائے گا، تو پہلے والا پھر آ جائے گا اور ایسا اس وقت تک ہوتا رہے گا، جب تک اللہ تعالیٰ لوگوں کے درمیان فیصلہ نہیں کر دے گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الزكاة/حدیث: 3256]

3257

Sahih Ibn Hibban #3257

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفِيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ سَالْمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ ثَوْبَانَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : مَنْ تَرَكَ بَعْدَهُ كَنْزًا مُثِّلَ لَهُ شُجَاعًا أَقْرَعَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ لَهُ زَبِيبَتَانِ يَتْبَعُهُ ، فَيَقُولُ : مَنْ أَنْتَ ؟ فَيَقُولُ : أَنَا كَنْزُكَ الَّذِي خَلَّفْتَ بَعْدَكَ ، فَلا يَزَالُ يَتْبَعُهُ حَتَّى يُلْقِمَهُ يَدَهُ فَيَقْضِمُهَا ، ثُمَّ يَتْبَعُهُ سَائِرَ جَسَدِهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جو شخص اپنے بعد خزانہ چھوڑ کر جائے گا، تو قیامت کے دن اس خزانے کو ایک گنجے سانپ کی شکل دے دی جائے گی، جس کے «ذُو زَبِيبَتَيْنِ» (اس سے مراد اطراف سے نکلے ہوئے دانت ہیں یا آنکھ کے اوپر موجود دو سیاہ نقطے ہیں) ہوں گے، وہ اس شخص کے پیچھے جائے گا، وہ شخص دریافت کرے گا: ”تم کون ہو؟“ وہ کہے گا: ”میں تمہارا وہ خزانہ ہوں جسے تم اپنے پیچھے چھوڑ آئے تھے“، پھر وہ خزانہ مسلسل اس کے پیچھے رہے گا، یہاں تک کہ وہ شخص اپنا ہاتھ اس کی طرف بڑھائے گا، وہ خزانہ اس کے ہاتھ کو چبا لے گا اور پھر اس کے بعد اس کے پورے وجود کو نگل لے گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الزكاة/حدیث: 3257]

3258

Sahih Ibn Hibban #3258

أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ دَاوُدَ بْنِ وَرْدَانَ ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، عَنِ ابْنِ عَجْلانَ ، عَنِ الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : يَكُونُ كَنْزُ أَحَدِكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ شُجَاعًا أَقْرَعَ ، يَتْبَعُ صَاحِبَهُ وَهُوَ يَتَعَوَّذُ مِنْهُ ، فَلا يَزَالُ يَتْبَعُهُ حَتَّى يُلْقِمَهُ أُصْبُعَهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”تم میں سے کسی ایک شخص کا خزانہ قیامت کے دن گنجے سانپ کی شکل میں آئے گا، وہ اپنے مالک کے پیچھے جائے گا، وہ مالک اس سے بچنے کی کوشش کرے گا، لیکن وہ اس کے پیچھے رہے گا، یہاں تک کہ وہ اپنی انگلیاں اس (سانپ) کے منہ میں دے دے گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الزكاة/حدیث: 3258]

3259

Sahih Ibn Hibban #3259

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ هِشَامٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الأَسَدِيُّ ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ ، عَنْ أَبِي الْعَلاءِ ، عَنِ الأَحْنَفِ بْنِ قَيْسٍ ، قَالَ : قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ ، فَبَيْنَا أَنَا فِي حَلْقَةٍ وَفِيهَا مَلأٌ مِنْ قُرَيْشٍ إِذْ جَاءَ رَجُلٌ ، أَخْشَنُ الثِّيَابِ ، أَخْشَنُ الْجَسَدِ ، أَخْشَنُ الُوَجْهِ ، فَقَامَ عَلَيْهِمْ ، فَقَالَ : بَشِّرِ الْكَنَّازِينَ بِرَضْفٍ يُحْمَى عَلَيْهِمْ فِي نَارِ جَهَنَّمَ ، فَيُوضَعُ عَلَى حَلَمَةِ ثَدِيِ أَحَدِهِمْ ، حَتَّى يَخْرُجَ مِنْ نُغْضِ كَتِفِهِ ، وَيُوضَعَ عَلَى نُغْضِ كَتِفِهِ حَتَّى يَخْرُجَ مِنْ حَلَمَةَ ثَدِيهِ ، فَوَضَعُوا رُؤُوسَهُمْ ، فَمَا رَأَيْتُ أَحَدًا مِنْهُمْ ، رَجَعَ إِلَيْهِ شَيْئًا ، قَالَ : وَأَدْبَرَ ، فَاتَّبَعْتُهُ حَتَّى جَلَسَ إِلَى سَارِيَةٍ ، فَقُلْتُ : مَا رَأَيْتُ هَؤُلاءِ إِلا كَرِهُوا مَا قُلْتَ لَهُمْ ، قَالَ : إِنَّ هَؤُلاءِ لا يَعْقِلُونَ ، إِنَّ خَلِيلِي أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعَانِي ، فَقَالَ : يَا أَبَا ذَرٍّ " فَأَجَبْتُهُ ، قَالَ : " أَتَرَى أُحُدًا " ، قَالَ : فَنَظَرْتُ مَا عَلَيَّ مِنَ الشَّمْسِ ، وَأَنَا أَظُنُّهُ يَبْعَثُنِي لِحَاجَةٍ لَهُ ، فقلتُ : أَرَاهُ ، فَقَالَ :" مَا يَسُرُّنِي أَنَّ لِي مِثْلَهُ ذَهَبًا أُنْفِقُهُ كُلَّهُ غَيْرَ ثَلاثَةِ دَنَانِيرَ "، ثُمَّ هَؤُلاءِ يَجْمَعُونَ الدُّنِيَا لا يَعْقِلُونَ شَيْئًا ، قَالَ : قُلْتُ : مَا لَكَ وَلإِخُوَانِكَ قُرَيْشٍ ؟ قَالَ : لا وَرَبِّكَ لا أَسْأَلُهُمْ دُنِيَا وَلا أَسْتَفْتِيهِمْ فِي دِينِي حَتَّى أَلْحَقَ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

احنف بن قیس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں مدینہ منورہ آیا، میں ایک حلقے میں بیٹھا ہوا تھا جس میں قریش کے کچھ افراد بھی تھے، اسی دوران ایک صاحب وہاں آئے جنہوں نے کھردرے کپڑے پہنے ہوئے تھے، ان کا جسم بھی کھردرا تھا اور چہرہ بھی کھردرا تھا، وہ ان لوگوں کے پاس آ کر کھڑے ہوئے اور بولے: خزانے جمع کرنے والوں کو انگاروں کی اطلاع دے دو جنہیں ان کے لیے جہنم کی آگ میں بھڑکایا جا رہا ہے اور پھر اسے ان میں سے کسی ایک شخص کے سینے پر رکھا جائے گا، یہاں تک کہ وہ انگارہ اس کے کندھے کی طرف سے نکل جائے گا اور اسے اس شخص کے کندھے پر رکھا جائے گا، تو وہ اس کے سینے سے نکل جائے گا، تو لوگوں نے اپنے سر جھکا لیے اور میں نے کسی شخص کو نہیں دیکھا جس نے انہیں کوئی جواب دیا ہو، پھر وہ صاحب چلے گئے اور میں ان صاحب کے پیچھے گیا، وہ ایک ستون کے پاس جا کر بیٹھ گئے، میں نے کہا: میں نے دیکھا ہے کہ ان سب لوگوں نے آپ کی اس بات کو ناپسند کیا ہے جو آپ نے ان سے کہی ہے، تو اس شخص نے کہا: یہ لوگ عقل نہیں رکھتے ہیں، میرے خلیل سیدنا ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلوایا اور فرمایا: ”اے ابوذر!“ میں نے کہا: میں حاضر ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم نے احد کو دیکھا ہے؟“ سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے اس بات کا جائزہ لیا کہ دھوپ کتنی تیز ہے، میرا یہ خیال تھا کہ شاید نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے کسی کام سے مجھے بھیجنا چاہتے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”مجھے یہ بات پسند نہیں ہے کہ میرے پاس اس (احد پہاڑ) جتنا سونا ہو اور میں اس سب کو خرچ نہ کر دوں، لیکن تین دینار خرچ نہ کروں (یعنی میں اسے بھی خرچ کر دوں گا)“۔ (سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نے فرمایا) یہ لوگ ہیں کہ یہ دنیا جمع کیے جا رہے ہیں، انہیں کسی چیز کی عقل نہیں ہے۔ راوی کہتے ہیں میں نے دریافت کیا: آپ کا اور آپ کے قریشی بھائیوں کا کیا واسطہ ہے؟ انہوں نے فرمایا: جی نہیں، تمہارے پروردگار کی قسم! میں ان لوگوں سے دنیا نہیں مانگوں گا اور نہ ہی اپنے دین کے بارے میں ان سے کوئی مسئلہ دریافت کروں گا، یہاں تک کہ میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہو جاؤں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الزكاة/حدیث: 3259]

3260

Sahih Ibn Hibban #3260

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الأَشْهَبِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا خُلَيْدٌ الْعَصَرِيُّ ، عَنِ الأَحْنَفِ بْنِ قَيْسٍ ، قَالَ : كُنْتُ فِي نَفَرٍ مِنْ قُرَيْشٍ ، فَمَرَّ أَبُو ذَرٍّ وَهُوَ يَقُولُ : بَشِّرِ الْكَنَّازِينَ فِي ظُهُورِهِمْ بِكَيٍّ يَخْرُجُ مِنْ جُنُوبِهِمْ ، وَبِكَيٍّ مِنْ قِبَلِ قَفَاهُمْ يَخْرُجُ مِنْ جِبَاهِهِمْ ، ثُمَّ تَنَحَّى ، فَقَعَدَ "، فَقُلْتُ : مَنْ هَذَا ؟ قَالُوا : أَبُو ذَرٍّ ، فَقُمْتُ إِلَيْهِ ، فَقُلْتُ : مَا شَيْءٌ سَمِعْتُكَ تَقُولُهُ قُبَيْلُ ؟ قَالَ : مَا قُلْتُ إِلا شَيْئًا سَمِعْتُهُ مِنْ نَبِيِّهِمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : قُلْتُ : فَمَا تَقُولُ فِي هَذَا الْعَطَاءِ ؟ قَالَ : خُذْهُ ، فَإِنَّ فِيهِ الِيَوْمَ مَعُونَةً ، فَإِذَا كَانَ ثَمَنًا لِدِينِكَ فَدَعْهُ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

احنف بن قیس کہتے ہیں: میں قریش کے کچھ افراد کے پاس بیٹھا ہوا تھا، سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ وہاں سے گزرے، انہوں نے فرمایا: ”خزانے جمع کرنے والوں کو یہ اطلاع دے دو کہ ان کی پشتوں کو اس چیز کے ذریعے داغا جائے گا جو ان کے پہلو سے نکل جائے گی اور اس چیز کے ذریعے داغا جائے گا جو ان کی گدی کی طرف ڈالی جائے گی، تو سامنے کی طرف سے نکل جائے گی۔“ پھر وہ ایک طرف ہٹ کر بیٹھ گئے۔ میں نے دریافت کیا: یہ کون ہے؟ لوگوں نے بتایا: یہ سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ ہیں۔ میں اٹھ کر ان کے پاس گیا، میں نے کہا: ابھی تھوڑی دیر پہلے میں نے آپ کو جو بات بیان کرتے ہوئے سنا ہے وہ کیا چیز ہے؟ انہوں نے فرمایا: ”میں نے صرف وہی بات بیان کی ہے، جو میں نے ان کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی سنی ہے۔“ میں نے دریافت کیا: پھر آپ اس تنخواہ کے بارے میں کیا کہتے ہیں؟ تو انہوں نے فرمایا: تم اسے حاصل کر لو، کیونکہ اب اس کے ذریعے ضروریات پوری کی جاتی ہیں، لیکن جب یہ تمہارے دین کی قیمت بنے، تو تم اسے چھوڑ دو۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الزكاة/حدیث: 3260]

3261

Sahih Ibn Hibban #3261

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ ، قال : حدَّثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنِ الْعَلاءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَأْتِي الْمَالُ الَّذِي لا يُعْطَى فِيهِ الْحَقُّ تَطَأُ الإِبِلُ سَيِّدَهَا بِأَخْفَافِهَا ، وَيَأْتِي الْبَقَرُ وَالْغَنَمُ فَتَطَأُ صَاحِبَهَا بِأَظْلافِهَا ، وَتَنْطَحُهُ بِقُرُونِهَا ، وَيَأْتِي الْكَنْزُ شُجَاعًا أَقْرَعَ ، فَيَلْقَى صَاحِبَهُ ، فَيَفِرُّ مِنْهُ صَاحِبُهُ ، ثُمَّ يَسْتَقْبِلُهُ وَيَفِرُّ مِنْهُ ، وَيَقُولُ : مَا لِي وَلَكَ ؟ فَيَقُولُ : أَنَا كَنْزُكَ ، فَيَلْقَمُ يَدَهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”وہ مال آئے گا جس کا حق (یعنی زکوٰۃ) نہیں ادا کیا گیا ہو گا، اونٹ اپنے مالک کو اپنے پاؤں کے ذریعے روندے گا۔ گائے اور بکریاں آئیں گی، اپنے مالک کو اپنے پاؤں کے ذریعے روندیں گی اور سینگوں کے ذریعے ماریں گی۔ خزانہ گنجے سانپ کی شکل میں آئے گا اور اپنے مالک کے پیچھے جائے گا، اس کا مالک اس سے بھاگے گا، وہ پھر اس کے سامنے آ جائے گا، پھر اس سے بھاگے گا اور یہ کہے گا: میرا تمہارے ساتھ کیا واسطہ ہے؟ تو وہ کہے گا: میں تمہارا خزانہ ہوں، پھر وہ اس کے ہاتھ کو چبا لے گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الزكاة/حدیث: 3261]

3262

Sahih Ibn Hibban #3262

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الأَنْصَارِيُّ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ عَمِّهِ أَبِي سُهَيْلِ بْنُ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَهْلِ نَجْدٍ ثَائِرَ الرَّأْسِ يُسْمَعُ دَوِيُّ صَوْتِهِ وَلا يُفْقَهُ مَا يَقُولُ ، حَتَّى دَنَا ، فَإِذَا هُوَ يَسْأَلُ عَنِ الإِسْلامِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : خَمْسُ صَلَوَاتٍ فِي الِيَوْمِ وَاللَّيْلَةِ " ، قَالَ : هَلْ عَلَيَّ غَيْرُهَا ؟ قَالَ : " لا إِلا أَنْ تَطَوَّعَ " ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَصِيَامُ شَهْرِ رَمَضَانَ " ، فَقَالَ : هَلْ عَلَيَّ غَيْرُهُ ؟ قَالَ : " لا إِلا أَنْ تَطَوَّعَ " ، قَالَ : وَذَكَرَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الزَّكَاةَ ، فَقَالَ : هَلْ عَلَيَّ غَيْرُهَا ؟ قَالَ : " لا إِلا أَنْ تَطَوَّعَ " ، قَالَ : فَأَدْبَرَ الرَّجُلُ وَهُوَ يَقُولُ : وَاللَّهِ لا أَزِيدُ عَلَى هَذَا وَلا أَنْقُصُ مِنْهُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَفْلَحَ إِنْ صَدَقَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نجد سے تعلق رکھنے والا ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا جس کے بال بکھرے ہوئے تھے، اس کی آواز کی بھنبھناہٹ سنائی دیتی تھی، لیکن وہ کیا کہہ رہا ہے یہ سمجھ نہیں آتا تھا، جب وہ قریب ہوا، تو پتہ چلا کہ وہ اسلام کے بارے میں دریافت کر رہا ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”دن اور رات میں پانچ نمازیں (فرض ہیں)۔“ اس نے دریافت کیا: کیا اس کے علاوہ بھی مجھ پر (کوئی نماز ادا کرنا) فرض ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جی نہیں، البتہ اگر تم نوافل ادا کرو (تو یہ بہتر ہیں)۔“ راوی کہتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رمضان کے مہینے کے روزے رکھنا (فرض ہے)۔“ اس نے دریافت کیا: کیا ان کے علاوہ (کوئی اور روزے بھی) مجھ پر لازم ہیں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جی نہیں، البتہ اگر تم نفل (روزے رکھو، تو یہ بہتر ہیں)۔“ راوی بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے سامنے زکوٰۃ کا تذکرہ کیا، تو اس نے دریافت کیا: اس کے علاوہ (کوئی ادائیگی) بھی مجھ پر لازم ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جی نہیں، البتہ اگر تم نفلی طور پر (صدقہ و خیرات کرو، تو یہ بہتر ہیں)۔“ راوی کہتے ہیں: پھر وہ شخص چلا گیا، وہ یہ کہہ رہا تھا: اللہ کی قسم! میں اس میں کوئی اضافہ نہیں کروں گا اور اس میں کوئی کمی بھی نہیں کروں گا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اگر اس نے سچ کہا، تو یہ کامیاب ہو گیا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الزكاة/حدیث: 3262]

3263

Sahih Ibn Hibban #3263

أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْعُمَرِيُّ ، بِالْمَوْصِلِ ، حَدَّثَنَا مُعَلَّى بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ :تُوُفِّيَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الصُّفَّةِ ، فَوَجَدُوا فِي شَمْلَتِهِ دِينَارَيْنِ ، فَذَكَرُوا ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : كَيَّتَانِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ (بن مسعود رضی اللہ عنہ) بیان کرتے ہیں: اہل صفہ سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب کا انتقال ہو گیا، تو لوگوں کو ان کی چادر میں دو دینار ملے، لوگوں نے اس بات کا تذکرہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”یہ دونوں داغ لگانے والے ہیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الزكاة/حدیث: 3263]

3264

Sahih Ibn Hibban #3264

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ ، عَنْ يَحِيَى الْقَطَّانِ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنَ الأَكُوَعِ ، قَالَ : كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأُتِيَ بِجِنَازَةٍ ، فَقَالُوا : صَلِّ عَلَيْهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : هَلْ تَرَكَ عَلَيْهِ دَيْنًا ؟ " ، قَالُوا : لا ، قَالَ : " فَهَلْ تَرَكَ مِنْ شَيْءٍ ؟ " قَالُوا : ثَلاثَةُ دَنَانِيرَ ، قَالَ : " ثَلاثُ كَيَّاتٍ " ، ثُمَّ أُتِيَ بِالثَّانِيَةِ ، فَقَالُوا : يَا نَبِيَّ اللَّهِ صَلِّ عَلَيْهَا ، قَالَ : " هَلْ تَرَكَ مِنْ دَيْنٍ ؟ " قَالُوا : نَعَمْ ، قَالَ : " فَهَلْ تَرَكَ مِنْ شَيْءٍ ؟ " قَالُوا : لا ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ يُقَالُ لَهُ أَبُو قَتَادَةَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ عَلَيَّ دَيْنُهُ ، قَالَ : " فَصَلَّى عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ موجود تھا، ایک جنازہ لایا گیا، لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی نماز جنازہ ادا کریں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا اس نے کوئی قرض چھوڑا ہے؟“ انہوں نے جواب دیا: جی نہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا اس نے کوئی چیز چھوڑی ہے؟“ انہوں نے جواب دیا: تین دینار۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تین ایسی چیزیں جن سے داغ لگایا جائے گا۔“ ایک اور جنازہ آیا، لوگوں نے عرض کی: اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی نماز جنازہ ادا کیجیے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا اس نے کوئی قرض چھوڑا ہے؟“ انہوں نے جواب دیا: جی ہاں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا اس نے کوئی چیز چھوڑی ہے؟“ لوگوں نے جواب دیا: جی نہیں۔ انصار میں سے ایک صاحب جن کا نام سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ تھا، انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اس کے قرض کی ادائیگی میرے ذمے ہے۔ راوی کہتے ہیں: تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی نماز جنازہ ادا کی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الزكاة/حدیث: 3264]

3265

Sahih Ibn Hibban #3265

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمَقَدَّمِيُّ ، حَدَّثَنَا فُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي يَحِيَى الأَسْلَمِيُّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَسِّمُ ذَهَبًا ، إِذْ أَتَاهُ رَجُلٌ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَعْطِنِي ، فَأَعْطَاهُ ، ثُمَّ قَالَ : زِدْنِي ، فَزَادَهُ ثَلاثَ مَرَّاتٍ ، ثُمَّ وَلَّى مُدْبِرًا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَأْتِينِي الرَّجُلُ فَيَسْأَلُنِي فَأُعْطِيهِ ، ثُمَّ يَسْأَلُنِي فَأُعْطِيهِ ، ثَلاثَ مَرَّاتٍ ، ثُمَّ وَلَّى مُدْبِرًا وَقَدْ جَعَلَ فِي ثَوْبِهِ نَارًا إِذَا انْقَلَبَ إِلَى أَهْلِهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سونا تقسیم کر رہے تھے، اسی دوران ایک شخص آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اس نے عرض کی: ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے بھی دیجئے۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے عطا کر دیا، پھر اس نے کہا: ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے مزید دیجئے،“ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے مزید عطا کیا، ایسا تین مرتبہ ہوا، پھر وہ منہ پھیر کر چلا گیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ایک شخص میرے پاس آتا ہے اور مجھ سے مانگتا ہے، میں اسے عطا کر دیتا ہوں، وہ پھر مجھ سے مانگتا ہے، تو میں اسے عطا کر دیتا ہوں، ایسا تین مرتبہ ہوتا ہے، پھر وہ شخص مڑ کر چلا جاتا ہے، حالانکہ اس نے اپنے کپڑے میں آگ ڈالی ہوئی ہوتی ہے، اس وقت جب وہ اپنے گھر واپس جا رہا ہوتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الزكاة/حدیث: 3265]

3266

Sahih Ibn Hibban #3266

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بُجَيْرٍ الْبُجَيْرِيُّ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، بِبُسْتَ ، قَالا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، قَالا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الأَنْصَارِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ ثُمَامَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، أَنَّ أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ لَمَا اسْتُخْلِفَ كَتَبَ لَهُ حِينَ وَجَّهَهُ إِلَى الِيَمَنِ هَذَا الْكِتَابَ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ ، هَذِهِفَرِيضَةُ الصَّدَقَةِ الَّتِي فَرَضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمُسْلِمِينَ الَّتِي أَمَرَ اللَّهُ بِهَا رَسُولَهُ ، فَمَنْ سُئِلَهَا مِنَ الْمُسْلِمِينَ عَلَى وَجْهِهَا فَلِيُعْطِهَا ، وَمَنْ سُئِلَ فَوْقَهَا ، فَلا يُعْطِهَا ، فِي أَرْبَعَةٍ وَعِشْرِينَ مِنَ الإِبِلِ فَمَا دُونَهَا : الْغَنَمُ ، فِي كُلِّ خَمْسٍ شَاةٌ ، فَإِذَا بَلَغَتْ خَمْسًا وَعِشْرِينَ إِلَى خَمْسٍ وَثَلاثِينَ ، فَفِيهَا ابْنَةُ مَخَاضٍ ، فَإِنْ لَمْ يَكُنْ بِنْتُ مَخَاضٍ ، فَابْنُ لَبُونٍ ذَكَرٌ ، فَإِذَا بَلَغَتْ سِتًّا وَثَلاثِينَ إِلَى خَمْسٍ وَأَرْبَعِينَ ، فَفِيهَا ابْنَةُ لَبُونٍ ، فَإِذَا بَلَغَتْ سِتًّا وَأَرْبَعِينَ إِلَى سِتِّينَ ، فَفِيهَا حِقَّةٌ طَروقَةُ الْجَمَلِ ، فَإِذَا بَلَغَتْ وَاحِدَةً وَسِتِّينَ إِلَى خَمْسٍ وَسَبْعِينَ ، فَفِيهَا جَذَعَةٌ ، فَإِذَا بَلَغَتْ سِتًّا وَسَبْعِينَ إِلَى تِسْعِينَ ، فَفِيهَا ابْنَتَا لَبُونٍ ، فَإِذَا بَلَغَتْ إِحْدَى وَتِسْعِينَ إِلَى عِشْرِينَ وَمِائَةٍ ، فَفِيهَا حِقَّتَانِ طَرُوقَتَا الْجَمَلِ ، فَإِذَا زَادَتْ عَلَى عِشْرِينَ وَمِئَةٍ ، فَفِي كُلِّ أَرْبَعِينَ ابْنَةُ لَبُونٍ ، وَفِي كُلِّ خَمْسِينَ حِقَّةٌ ، وَإِنَّ مَنْ بَلَغَتْ عِنْدَهُ مِنَ الإِبِلِ صَدَقَةُ الْجَذَعَةِ وَلَيْسَتْ عِنْدَهُ جَذَعَةٌ ، وَعِنْدَهُ حِقَّةٌ ، فَإِنَّهَا تُقْبَلُ مِنْهُ الْحِقَّةُ ، وَيَجْعَلُ مَعَهَا شَاتَيْنِ ، أَوْ عِشْرِينَ دِرْهَمًا ، وَمَنْ بَلَغَتْ عِنْدَهُ صَدَقَةُ الْحِقَّةِ ، وَلَيْسَتْ عِنْدَهُ حِقَّةٌ وَعِنْدَهُ جَذَعَةٌ ، فَإِنَّهَا تُقْبَلُ مِنْهُ الْجَذَعَةُ ، وَيُعْطِيهِ الْمُصَّدِّقُ عِشْرِينَ دِرْهَمًا أَوْ شَاتَيْنِ ، وَمَنْ بَلَغَتْ صَدَقَتُهُ الْحِقَّةُ وَلَيْسَتْ عِنْدَهُ إِلا ابْنَةُ لَبُونٍ ، فَإِنَّهَا تُقْبَلُ مِنْهُ ، وَيُعْطِي شَاتَيْنِ أَوْ عِشْرِينَ دِرْهَمًا ، وَمَنْ بَلَغَتْ صَدَقَتُهُ ابْنَةَ لَبُونٍ وَلَيْسَتْ عِنْدَهُ إِلا حِقَّةٌ ، فَإِنَّهَا تُقْبَلُ مِنْهُ الْحِقَّةُ ، وَيُعْطِيهِ الْمُصَّدِّقُ عِشْرِينَ دِرْهَمًا أَوْ شَاتَيْنِ ، وَمَنْ بَلَغَتْ صَدَقَتُهُ ابْنَةَ لَبُونٍ وَلَيْسَتْ عِنْدَهُ ، فَإِنَّهَا تُقْبَلُ مِنْهُ ابْنَةُ مَخَاضٍ ، وَيُعْطِي مَعَهَا عِشْرِينَ دِرْهَمًا أَوْ شَاتَيْنِ ، وَمَنْ بَلَغَتْ صَدَقَتُهُ ابْنَةَ مَخَاضٍ وَلَيْسَتْ عِنْدَهُ ، وَعِنْدَهُ ابْنَةُ لَبُونٍ ، فَإِنَّهَا تُقْبَلُ مِنْهُ ابْنَةُ لَبُونٍ ، وَيُعْطِيهِ الْمُصَّدِّقُ عِشْرِينَ دِرْهَمًا أَوْ شَاتَيْنِ ، وَمَنْ لَمْ يَكُنْ عِنْدَهُ ابْنَةُ مَخَاضٍ ، وَعِنْدَهُ ابْنُ لَبُونٍ ، فَإِنَّهُ يُقْبَلُ مِنْهُ وَلَيْسَ مَعَهُ شَيْءٌ ، وَمَنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ إِلا أَرْبَعَةٌ مِنَ الإِبِلِ ، فَلَيْسَ فِيهَا صَدَقَةٌ إِلا أَنْ يَشَاءَ رَبُّهَا ، فَإِذَا بَلَغَتْ خَمْسًا مِنَ الإِبِلِ ، فَفِيهَا شَاةٌ ، وَصَدَقَةُ الْغَنَمِ فِي كُلِّ سَائِمَتِهَا إِذَا كَانَتْ أَرْبَعِينَ إِلَى عِشْرِينَ وَمِائَةٍ ، شَاةٌ ، فَإِذَا زَادَتْ عَلَى عِشْرِينَ وَمِئَةٍ ، إِلَى أَنْ تَبْلُغَ مِائَتَيْنِ ، فَفِيهَا شَاتَانِ ، فَإِنْ زَادَتْ عَلَى الْمِئَتَيْنِ إِلَى ثَلاثِ مِائَةٍ ، فَفِيهَا ثَلاثُ شِياه ، فَإِذَا زَادَتْ عَلَى ثَلاثِ مِئَةٍ ، فَفِي كُلِّ مِئَةٍ شَاةٌ ، وَلا يَخْرُجُ فِي الصَّدَقَةِ هَرِمَةٌ ، وَلا ذَاتُ عُوَارٍ ، وَلا تَيْسٌ إِلا أَنْ يَشَاءَ الْمُصَّدِّقُ ، وَلا يُجْمَعُ بَيْنَ مُتَفَرِّقٍ ، وَلا يُفَرَّقُ بَيْنَ مُجْتَمِعٍ خَشِيَةَ الصَّدَقَةِ ، وَمَا كَانَ مِنْ خَلِيطَيْنِ ، فَإِنَّهُمَا يَتَرَاجَعَانِ بينهما بِالسَّوِيَّةِ ، وَإِذَا كَانَتْ سَائِمَةُ الرَّجُلِ نَاقِصَةً مِنْ أَرْبَعِينَ شَاةً شَاةً وَاحِدَةً ، فَلَيْسَ فِيهَا صَدَقَةٌ إِلا أَنْ يَشَاءَ رَبُّهَا ، وَفِي الرِّقَةِ رُبْعُ الْعُشْرِ ، فَإِذَ لَمْ يَكُنْ مَالٌ إِلا تِسْعِينَ وَمِئَةً ، فَلَيْسَ فِيهَا صَدَقَةٌ إِلا أَنْ يَشَاءَ رَبُّهَا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو خلیفہ مقرر کیا گیا، تو انہوں نے جب سیدنا انس رضی اللہ عنہ کو یمن بھیجا، تو انہیں یہ خط لکھ کر دیا: «بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ» ”اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے۔ یہ زکوٰۃ کی فرضیت کا وہ حکم نامہ ہے جو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں پر فرض قرار دیا تھا اور جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا تھا۔ مسلمانوں میں سے جس کسی سے اس کے مطابق مطالبہ کیا جائے، تو وہ ادائیگی کرے اور جس سے اس سے زیادہ کا مطالبہ کیا جائے، تو وہ ادائیگی نہ کرے۔ چوبیس (24) یا اس سے کم اونٹوں میں سے ہر پانچ اونٹوں میں ایک بکری کی ادائیگی لازم ہے۔ جب ان کی تعداد پچیس (25) ہو جائے، تو پینتیس (35) تک میں ایک بنتِ مخاض کی ادائیگی لازم ہے، اگر بنتِ مخاض نہ ہو، تو ایک ابنِ لبون مذکر کی ادائیگی لازم ہے۔ جب ان کی تعداد چھتیس (36) سے لے کر پینتالیس (45) تک ہو، تو ان میں ایک بنتِ لبون کی ادائیگی لازم ہے۔ جب ان کی تعداد چھیالیس (46) سے لے کر ساٹھ (60) تک ہو، تو اس میں ایک حقہ کی ادائیگی لازم ہے، جسے جفتی کے لیے دیا جا سکے۔ جب اس کی تعداد اکسٹھ (61) سے لے کر پچھتر (75) تک ہو، تو اس میں جزعہ کی ادائیگی لازم ہے۔ جب ان کی تعداد چھہتر (76) سے لے کر نوے (90) تک ہو، تو اس میں دو بنتِ لبون کی ادائیگی لازم ہے۔ جب ان کی تعداد اکیانوے (91) سے لے کر ایک سو بیس (120) تک ہو، تو اس میں دو حقہ کی ادائیگی لازم ہے جنہیں جفتی کے لیے دیا جا سکے۔ جب ان کی تعداد ایک سو بیس (120) سے زیادہ ہو جائے، تو ہر چالیس (40) میں ایک بنتِ لبون کی اور ہر پچاس (50) میں ایک حقہ کی ادائیگی لازم ہو گی۔ جس شخص کے پاس اتنے اونٹ ہوں کہ اس پر زکوٰۃ کے طور پر جزعہ کی ادائیگی لازم ہو اور اس کے پاس جزعہ نہ ہو بلکہ اس کے پاس حقہ ہو، تو اس سے حقہ وصول کر لیا جائے گا اور وہ شخص اس کے ہمراہ دو بکریاں یا بیس (20) درہم دے گا۔ اور جس شخص کے پاس اتنے اونٹ ہوں کہ اس پر حقہ کی ادائیگی لازم ہو اور اس کے پاس حقہ نہ ہو بلکہ اس کے پاس جزعہ ہو، تو اس سے جزعہ وصول کر لیا جائے گا اور زکوٰۃ وصول کرنے والا شخص اسے یا تو بیس (20) درہم دے گا یا دو بکریاں دے گا۔ اور جس شخص کے پاس اتنے اونٹ ہوں کہ اس پر حقہ کی ادائیگی لازم ہو، لیکن اس کے پاس حقہ نہ ہو بلکہ اس کے پاس بنتِ لبون ہو، تو اس سے بنتِ لبون کو وصول کیا جائے گا اور وہ شخص دو بکریاں یا بیس (20) درہم دے گا۔ اور جس شخص کے پاس اتنے اونٹ ہوں کہ زکوٰۃ کے طور پر بنتِ لبون کی ادائیگی لازم ہو اور وہ اس کے پاس نہ ہو بلکہ اس کے پاس حقہ ہو، تو اس سے حقہ کو وصول کر لیا جائے گا اور زکوٰۃ وصول کرنے والا اسے بیس (20) درہم یا دو بکریاں دے گا۔ جس شخص کے پاس اتنے اونٹ ہوں کہ ان کی زکوٰۃ بنتِ لبون بنتی ہو اور اس کے پاس بنتِ لبون نہ ہو، تو اس سے بنتِ مخاض کو قبول کیا جائے گا اور وہ شخص اس کے ہمراہ بیس (20) درہم یا دو بکریاں دے گا۔ جس شخص کے پاس اتنے اونٹ ہوں کہ اس کی زکوٰۃ ایک بنتِ مخاض بنتی ہو اور وہ اس کے پاس نہ ہو بلکہ اس کے پاس بنتِ لبون ہو، تو اس سے بنتِ لبون کو قبول کیا جائے گا اور زکوٰۃ لینے والا شخص اسے بیس (20) درہم یا دو بکریاں ادا کرے گا۔ جس شخص کے پاس بنتِ مخاض نہ ہو بلکہ اس کے پاس ابنِ لبون ہو، تو اس سے وہی وصول کیا جائے گا اور اس کے ہمراہ کوئی چیز نہیں لی جائے گی۔ اور جس شخص کے پاس صرف چار اونٹ ہوں، تو ان میں زکوٰۃ لازم نہیں ہوتی، البتہ اگر ان کا مالک چاہے (تو کوئی ادائیگی کر سکتا ہے)۔ اونٹوں کی تعداد پانچ ہو، تو ان میں ایک بکری کی ادائیگی لازم ہو گی۔ اور سائمہ بکریوں میں چالیس (40) سے لے کر ایک سو بیس (120) تک میں ایک بکری کی ادائیگی لازم ہو گی۔ جب ایک سو بیس (120) سے زیادہ ہوں، تو دو سو (200) تک میں دو بکریوں کی ادائیگی لازم ہو گی۔ اگر دو سو سے زیادہ ہوں، تو تین سو (300) تک میں تین بکریوں کی ادائیگی لازم ہو گی۔ اگر تین سو سے زیادہ بکریاں ہوں، تو ہر ایک سو میں سے ایک بکری کی ادائیگی لازم ہو گی۔ زکوٰۃ میں بوڑھے، کانے اور کمزور جانور کو وصول نہیں کیا جائے گا، البتہ اگر زکوٰۃ وصول کرنے والا چاہے، تو ایسا کر سکتا ہے۔ اور (زکوٰۃ سے بچنے کے لیے) متفرق مال کو اکٹھا نہیں کیا جائے گا اور اکٹھے مال کو متفرق نہیں کیا جائے گا۔ اور جو مال دو آدمیوں کی مشترکہ ملکیت ہو، تو ان دونوں سے برابری کی بنیاد پر وصولی کی جائے گی۔ اور جب کسی شخص کی سائمہ بکریاں چالیس سے کم ہوں خواہ ایک بھی کم ہو، تو اس میں زکوٰۃ لازم نہیں ہو گی، البتہ اگر ان کا مالک چاہے تو (کوئی ادائیگی کر سکتا ہے)۔ چاندی میں عشر کے چوتھائی حصے (یعنی اڑھائی فیصد) کی ادائیگی بھی لازم ہو گی۔ اگر مال صرف ایک سو نوے (190) درہم ہو، تو اس میں زکوٰۃ لازم نہیں ہو گی، البتہ اگر اس کا مالک چاہے، تو ادائیگی کر سکتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الزكاة/حدیث: 3266]

3267

Sahih Ibn Hibban #3267

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : لا جَلَبَ ، وَلا جَنَبَ ، وَلا شِغَارَ ، وَمَنِ انْتَهَبَ نُهْبَةً ، فَلَيْسَ مِنَّا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ” «جَلَبَ»، «جَنَبَ»، «شِغَارَ» کی کوئی حیثیت نہیں ہے اور جو شخص اچک کر کوئی چیز لیتا ہے اس کا ہم سے کوئی تعلق نہیں ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الزكاة/حدیث: 3267]

3268

Sahih Ibn Hibban #3268

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ ، وَالْحَسَنُ بْنُ سُفِيَانَ ، قَالا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ حِسَابٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، وَأَيُّوبُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحِيَى ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسِ ذَوْدٍ صَدَقَةٌ ، وَلا فِيمَا دُونَ خَمْسِ أَوَاقٍ صَدَقَةٌ ، وَلا فِيمَا دُونَ خَمْسَةِ أَوْسُقٍ صَدَقَةٌ "، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : هَذَا الْخَبَرُ يُبَيِّنُ بِأَنَّ الْمُرَادَ مِنْ قَوْلِهِ : خُذْ مِنْ أَمْوَالِهِمْ صَدَقَةً تُطَهِّرُهُمْ أَرَادَ بِهِ بَعْضَ الْمَالِ ، إِذِ اسْمُ الْمَالِ وَاقِعٌ عَلَى مَا دُونَ الْخَمْسِ مِنَ الذَّوْدِ ، وَالْخَمْسِ مِنَ الأَوَاقِ ، وَالْخَمْسِ مِنَ الأَوْسُقِ ، وَقَدْ نَفِي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِيجَابَ الصَّدَقَةِ عَنْ مَا دُونَ الَّذِي حَدَّ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”پانچ اونٹوں سے کم میں زکوٰۃ لازم نہیں ہوتی، پانچ اوقیہ (سے کم چاندی) میں زکوٰۃ لازم نہیں ہوتی، اور پانچ وسق سے کم (اناج میں) زکوٰۃ لازم نہیں ہوتی۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں): اس روایت میں اس بات کو بیان کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿خُذْ مِنْ أَمْوَالِهِمْ صَدَقَةً تُطَهِّرُهُمْ وَتُزَكِّيهِمْ بِهَا﴾ [سورة التوبة: 103] ”تم ان کے اموال میں سے زکوٰۃ کو وصول کر کے انہیں پاک و صاف کر دو“ کے ذریعے بعض مال مراد ہے، کیونکہ لفظ مال کا اطلاق اس چیز پر بھی ہوتا ہے جو پانچ اونٹوں، پانچ اوقیہ چاندی یا پانچ وسق اناج سے کم ہو، لیکن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مخصوص حد سے کم میں زکوٰۃ لازم ہونے کی نفی کی ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الزكاة/حدیث: 3268]

3269

Sahih Ibn Hibban #3269

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ صَالِحٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ ، عَنْ يَحِيَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَعْدِ بْنِ زُرَارَةَ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ، قَالَ : بَعَثَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى صَدَقَةِ بَلِيَّ وَعُذْرَةَ ، فَمَرَرْتُ بِرَجُلٍ مِنْ بَلِيَّ ، لَهُ ثَلاثُونَ بَعِيرًا ، فَقُلْتُ لَهُ : إِنَّعَلَيْكَ فِي إِبِلِكَ هَذِهِ بِنْتَ مَخَاضٍ ، قَالَ : ذَاكَ مَا لَيْسَ فِيهِ ظَهْرٌ وَلا لَبَنٌ ، وَإِنِّي لأَكْرَهُ أَنْ أُقْرِضُ اللَّهَ شَرَّ مَالِي ، فَتَخَيَّرْهُ ، فَقَالُ لَهُ أُبَيُّ : مَا كُنْتُ لآخُذَ فَوْقَ مَا عَلَيْكَ ، وَهَذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأْتِهِ ، فَأَتَاهُ ، فَقَالَ نَحُوًا مِمَّا قَالَ لأَبِيٍّ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : هَذَا مَا عَلَيْكَ ، فَإِنْ جِئْتَ بِفَوْقِهِ ، قَبِلْنَاهُ مِنْكَ " ، قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هَذِهِ نَاقَةٌ عَظِيمَةٌ سَمِينَةٌ ، فَمَنْ يَقْبِضُهَا ؟ فَأَمَرَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ يَقْبِضُهَا ، وَدَعَا لَهُ فِي مَالِهِ بِالْبَرَكَةِ، قَالَ عُمَارَةُ : فَضَرَبَ الدَّهْرُ ضَرْبَةً ، فَوَلانِي مَرُوَانُ صَدَقَةَ بَلِيَّ وَعُذْرَةَ فِي زَمَنِ مُعَاوِيَةَ ، فَمَرَرْتُ بِهَذَا الرَّجُلِ ، فَصَدَقْتُ مَالَهُ ثَلاثِينَ حِقَّةً ، فِيهَا فَحْلُهَا عَلَى أَلْفٍ وَخَمْسِ مِائَةِ بَعِيرٍ ، قَالَ ابْنَ إِسْحَاقَ : قُلْتُ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ : مَا فَحْلُهَا ؟ قَالَ : فِي السُّنَّةِ إِذَا بَلَغَ صَدَقَةُ الرَّجُلِ ثَلاثُونَ حِقَّةً أُخِذَ مَعَهَا فَحْلُهَا"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلی اور عذرہ قبیلے سے زکاۃ وصول کرنے کے لیے بھیجا، میرا گزر بلی قبیلے سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کے پاس سے ہوا جس کے پاس تیس (30) اونٹ تھے، میں نے اس سے کہا: تمہارے ان اونٹوں میں تم پر بنت مخاض کی ادائیگی لازم ہو گی، اس نے کہا: یہ تو ایک ایسا جانور ہے جس پر سواری بھی نہیں کی جا سکتی اور یہ دودھ بھی نہیں دیتا، مجھے یہ بات پسند نہیں ہے کہ میں اللہ تعالیٰ کو اپنا برا مال پیش کروں، تمہیں اس بارے میں اختیار ہے (کہ تم کوئی دوسرا جانور لے لو)۔ سیدنا ابی رضی اللہ عنہ نے اس سے فرمایا: میں تم سے اس سے زیادہ وصولی نہیں کر سکتا جو تم پر لازم ہے، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما ہیں، تم ان کی خدمت میں چلے جاؤ۔ وہ شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اس نے وہی بات کہی جو اس نے سیدنا ابی رضی اللہ عنہ سے کہی تھی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”یہ وہ چیز ہے، جو تم پر لازم ہے، اگر تم اس سے زیادہ لے آتے ہو، تو ہم اسے تمہاری طرف سے قبول کر لیں گے۔“ اس نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ ایک موٹی تازی اونٹنی ہے، کون اسے قبضے میں لے گا؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہدایت کی، تو ایک شخص نے اسے قبضے میں لے لیا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کے مال میں اس کے لیے برکت کی دعا کی۔ عمارہ نامی راوی کہتے ہیں: اس کے بعد ایک طویل عرصہ گزر گیا، مروان (جو مدینہ منورہ کا گورنر تھا) اس نے مجھے بلی اور عذرہ قبیلے سے زکاۃ وصول کرنے کے لیے بھیجا، یہ سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت کی بات ہے، میرا گزر اس شخص کے پاس سے ہوا، تو میرے حساب سے اس کے مال کی زکاۃ تیس (30) حقے بنتی تھی جس میں ایک نر جانور بھی ہو اور اس کے اونٹوں کی تعداد ایک ہزار پانچ سو تھی۔ ابن اسحاق کہتے ہیں: میں نے عبداللہ بن ابوبکر نامی راوی سے دریافت کیا: نر جانور ہونے سے مراد کیا ہے؟ انہوں نے فرمایا: سنت یہ ہے کہ جب کسی شخص کی زکاۃ تیس (30) حقہ تک پہنچ جائے، تو اس کے ہمراہ ایک نر جانور بھی لیا جائے گا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الزكاة/حدیث: 3269]

3270

Sahih Ibn Hibban #3270

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ يَحِيَى بْنِ سَعِيدٍ الأُمَوِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنِي يَحِيَى بْنُ سَعِيدٍ الأَنْصَارِيُّ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ سَعْدَ بْنَ عُبَادَةَ مُصَدِّقًا ، وَقَالَ : إِيَّاكَ يَا سَعْدُ أَنْ تَجِيءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِبَعِيرٍ لَهُ رُغَاءٌ " ، فَقَالَ : لا أَجِدُهُ وَلا أَجِيءُ بِهِ ، فَأَعْفَاهُ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کو زکوٰۃ وصول کرنے کے لیے بھیجا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اے سعد! اس چیز سے بچنے کی کوشش کرنا کہ تم قیامت کے دن ایسا اونٹ ساتھ لے کر آؤ جو آواز نکال رہا ہو۔“ انہوں نے عرض کی: نہ تو میں اسے پاتا ہوں اور نہ ہی میں اسے لے کر آؤں گا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں یہ ذمہ داری نہیں دی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الزكاة/حدیث: 3270]

3271

Sahih Ibn Hibban #3271

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي غَيْلانَ ، أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، وَعَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْمَاجِشُونِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ سُلَيْمَانَ بْنَ يَسَارٍ ، يُحَدِّثُ عَنْ عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : لَيْسَ عَلَى الْمُسْلِمِ فِي فَرَسِهِ ، وَلا عَبْدِهِ ، صَدَقَةٌ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”مسلمان پر اس کے گھوڑے اور غلام میں زکوۃ لازم نہیں ہوتی۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الزكاة/حدیث: 3271]

3272

Sahih Ibn Hibban #3272

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُحَمَّدٍ الدَّغُولِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِدْرِيسَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرِيَمَ ، حَدَّثَنَا نَافِعُ بْنُ يَزِيدَ ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ رَبِيعَةَ ، عَنْ عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : لا صَدَقَةَ عَلَى الرَّجُلِ فِي فَرَسِهِ وَعَبْدِهِ ، إِلا زَكَاةَ الْفِطْرِ "، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : فِي هَذَا الْخَبَرِ دَلِيلٌ عَلَى أَنَّ الْعَبْدَ لا يَمْلِكُ ، إِذِ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْجَبَ زَكَاةَ الْفِطْرِ الَّتِي تَجِبُ عَلَى الْعَبْدِ عَلَى مَالِكِهِ عَنْهُ دُونَهُ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”آدمی پر اس کے گھوڑے اور غلام میں زکاۃ لازم نہیں ہوتی، البتہ (غلام میں) صدقہ فطر لازم ہوتا ہے۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) اس روایت میں اس بات کی دلیل موجود ہے کہ غلام (کسی بھی چیز کا) مالک نہیں ہوتا، کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقہ فطر کو غلام پر لازم قرار دیا ہے، لیکن اس کی ادائیگی اس پر لازم نہیں ہے، بلکہ اس کے مالک پر لازم ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الزكاة/حدیث: 3272]

3273

Sahih Ibn Hibban #3273

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُشْكَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شَبَابَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا وَرْقَاءُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الأَعْرَجُ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ عَلَى الصَّدَقَةِ ، فَمَنَعَ ابْنُ جَمِيلٍ ، وَخَالِدُ بْنُ الُوَلِيدِ ، وَالْعَبَّاسُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَا يَنْقِمُ ابْنُ جَمِيلٍ إِلا أَنْ كَانَ فَقِيرًا ، فَأَغْنَاهُ اللَّهُ ، وَأَمَّا خَالِدٌ ، فَإِنَّكُمْ تَظْلِمُونَ خَالِدًا ، لَقَدِ احْتَبَسَ أَدْرَاعَهُ وَأَعْتَادَهُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، وَأَمَّا الْعَبَّاسُ ، فَعَمُّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَهُوَ عَلَيَّ وَمِثْلُهَا " ، ثُمَّ قَالَ : " أَمَا شَعَرْتَ أَنَّ عَمَّ الرَّجُلِ صِنُوُ الرَّجُلِ أَوْ صِنُوُ أَبِيهِ "، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَأَمَّا خَالِدٌ فَإِنَّكُمْ تَظْلِمُونَ خَالِدًا ، قَدِ احْتَبَسَ أَدْرَاعَهُ وَأَعْتَادَهُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ " ، يُرِيدُ : إِنَّكُمْ تَظْلِمُونَهُ أَنَّهُ حَبَسَ مَالَهُ مِنَ الأَدْرَاعِ وَالأَعْتَادِ حَتَّى لَمْ يَبْقَ لَهُ مَالٌ تَجِبُ عَلَيْهِ الصَّدَقَةُ ، وَقَوْلُهُ فِي شَأْنِ الْعَبَّاسِ : " هُوَ عَلَيَّ وَمِثْلُهَا " يُرِيدُ أَنَّ صَدَقَتَهُ عَلَيَّ أَنِّي ضَامِنٌ عَنْهُ ، وَمِثْلُهَا مَعَهَا مِنْ صَدَقَةٍ ثَانِيَةٍ مِنَ الْعَامِ الْمُقْبِلِ ، وَقَدْ رَوَى شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ هَذَا الْخَبَرَ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، وَقَالَ فِي شَأْنِ الْعَبَّاسِ : " فَهِيَ عَلَيْهِ صَدَقَةٌ وَمِثْلُهَا مَعَهَا " ، وَيُشْبِهُ أَنْ يَكُونَ مَعْنَاهُ : فَهِيَ لَهُ صَدَقَةٌ ، لأَنَّ الْعَرَبَ فِي لُغَتِهَا تَقُولُ : " عَلَيْهِ " بِمَعْنَى لَهُ ، قَالَ اللَّهُ : أُولَئِكَ لَهُمُ اللَّعْنَةُ وَلَهُمْ سُوءُ الدَّارِ يُرِيدُ : عَلَيْهِمُ اللَّعْنَةُ ، وَالْعَبَّاسُ لَمْ يَحِلَّ لَهُ أَخَذُ الصَّدَقَةِ مِنْ وَجْهَيْنِ ، أَحَدُهُمَا : أَنَّهُ كَانَ غَنِيًّا لا يَحِلُّ لَهُ أَخَذُ الصَّدَقَةِ الْفَرِيضَةِ ، وَالأُخْرَى : أَنَّهُ كَانَ مِنْ صِبَيَةِ بَنِي هَاشِمٍ ، فَكَيْفَ يَتْرُكُ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَدَقَتَهُ عَلَيْهِ ، وَهُوَ لا يَحِلُّ لَهُ أَخَذُهَا ، وَيَمْنَعُهَا مِنْ أَهْلِهَا مِنَ الْفُقَرَاءِ ؟ وَقَدْ رَوَى مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ هَذَا الْخَبَرَ ، وَقَالَ فِي شَأْنِ الْعَبَّاسِ : " فَهِيَ لَهُ وَمِثْلُهَا مَعَهَا " يُرِيدُ : فَهِيَ لَهُ عَلَيَّ ، كَمَا قَالَ وَرْقَاءُ بْنُ عُمَرَ فِي خَبَرِهِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو زکاۃ وصول کرنے کے لیے بھیجا، تو ابن جمیل، خالد بن ولید اور سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہم نے زکاۃ دینے سے انکار کر دیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابن جمیل کو صرف اس بات کا غصہ ہے کہ وہ غریب تھا اور اللہ تعالیٰ نے اسے خوش حال کر دیا ہے، جہاں تک کہ خالد کا تعلق ہے تو تم نے خالد کے ساتھ زیادتی کی ہے، اس نے تو پہلے ہی اپنی زرہیں اور ساز و سامان اللہ کی راہ میں مخصوص کر لیا ہے اور جہاں تک عباس کا تعلق ہے تو وہ اللہ کے رسول کے چچا ہیں، تو ان کی زکاۃ کی ادائیگی اور اس کی مانند مزید ادائیگی میرے ذمے ہے“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”کیا تم یہ بات نہیں جانتے کہ آدمی کا چچا آدمی کی جگہ ہوتا ہے (راوی کو شک ہے کہ شاید یہ الفاظ ہیں) آدمی کے باپ کی جگہ ہوتا ہے؟“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں): نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان: ”جہاں تک خالد کا تعلق ہے، تو تم لوگوں نے خالد کے ساتھ زیادتی کی ہے کیونکہ اس نے اپنی زرہیں اور ساز و سامان کو اللہ کی راہ میں مخصوص کر دیا ہے“، اس کے ذریعے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد یہ ہے: تم لوگ اس کے ساتھ زیادتی کر رہے ہو کیونکہ اس نے اپنے مال میں سے زرہیں اور دیگر ساز و سامان کو روک رکھا ہے یہاں تک کہ اس کے پاس کوئی مال باقی نہیں رہا جس پر زکاۃ کی ادائیگی لازم ہو اور سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ کہنا کہ ”اس کی مثل کی ادائیگی میرے ذمے ہے“، اس کے ذریعے آپ کی مراد یہ ہے: ان کی زکاۃ کی ادائیگی میرے ذمے ہے اور میں ان کی طرف سے ضامن ہوں اور اس کے ہمراہ اس کی مانند صدقے کا بھی ضامن ہوں جو اگلے سال ان پر لازم ہو گا۔ شعیب بن ابوحمزہ نے یہ روایت ابوزناد کے حوالے سے نقل کی ہے، انہوں نے سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ الفاظ نقل کیے ہیں کہ یہ چیز ان پر لازم ہے اور اس کے ہمراہ اس کی مانند لازم ہے، تو اس بات کا امکان موجود ہے کہ اس کا مطلب یہ ہوا کہ یہ چیز ان کے لیے صدقہ ہے کیونکہ عرب اپنے محاورے میں یہ کہتے ہیں ”اس پر لازم ہے“، تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ ”اس کو ملے گی“۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے: ﴿أُولَٰئِكَ لَهُمُ اللَّعْنَةُ وَلَهُمْ سُوءُ الدَّارِ﴾ [سورة الرعد: 25] ، ”یہ وہ لوگ ہیں کہ ان کے لیے لعنت ہے اور ان کے لیے برا ٹھکانہ ہے“۔ اس سے مراد یہ ہے: ان لوگوں پر لعنت ہے۔ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کے لیے زکاۃ لینا جائز نہیں تھا۔ اس کی دو وجہیں ہیں۔ ایک وجہ یہ ہے: وہ خوشحال شخص تھے، ان کے لیے فرض زکاۃ کو لینا جائز نہیں تھا۔ دوسری وجہ یہ ہے: وہ سیدنا ہاشم کی اولاد میں سے ہیں، تو یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ذمے لازم زکاۃ کو ترک کر دیں جبکہ ان کے لیے زکاۃ کو لینا جائز نہیں ہے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے خاندان کے غریب افراد کو زکاۃ دینے سے منع کر دیں۔ جیسا کہ موسیٰ بن عقبہ نے ابوزناد کے حوالے سے یہ روایت نقل کی ہے جس میں سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ الفاظ ہیں: ”تو یہ ان کو ملے گی اور اس کی مانند اس کے ہمراہ انہیں ملے گی۔“ اس کے ذریعے مراد یہ ہے: ان کی طرف سے اس کی ادائیگی میرے ذمے ہے، جس طرح ورقاء بن عمر نامی راوی نے اپنی روایت میں یہ الفاظ نقل کیے ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الزكاة/حدیث: 3273]

3274

Sahih Ibn Hibban #3274

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي أَوْفِي ، يَقُولُ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَتَاهُ رَجُلٌ بِصَدَقَةِ مَالِهِ ، صَلَّى عَلَيْهِ ، فَأَتَيْتُ بِصَدَقَةِ مَالِي ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى آلِ أَبِي أَوْفِي """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابن ابی اوفی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں جب کوئی شخص اپنے مال کی زکاۃ لے کر آتا تھا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس کے لیے دعائے رحمت کیا کرتے تھے۔ میں اپنے مال کی زکاۃ لے کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى آلِ أَبِي أَوْفَى» ”اے اللہ! ابواوفی کی آل پر رحمت نازل کر۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الزكاة/حدیث: 3274]

3275

Sahih Ibn Hibban #3275

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، وَسُفِيَانُ ، وَمَالِكٌ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحِيَى بْنِ عُمَارَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : لَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسَةِ أَوَاقٍ صَدَقَةٌ ، وَلا فِيمَا دُونَ خَمْسَةِ أَوْسُقٍ صَدَقَةٌ ، وَلا فِيمَا دُونَ خَمْسِ ذَوْدٍ صَدَقَةٌ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”پانچ اوقیہ سے کم (چاندی) میں زکاۃ لازم نہیں ہوتی اور نہ ہی پانچ وسق سے کم (اناج) میں زکاۃ لازم ہوتی ہے اور نہ ہی پانچ سے کم اونٹوں میں زکاۃ لازم ہوتی ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الزكاة/حدیث: 3275]

3276

Sahih Ibn Hibban #3276

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ بْنِ إِسْحَاقَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ يَحِيَى الْحَسَّانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ يَحِيَى الْمَازِنِيُّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لا يَحِلُّ فِي الْبُرِّ وَالتَّمْرِ زَكَاةٌ حَتَّى يَبْلُغَ خَمْسَةَ أَوْسُقٍ ، وَلا يَحِلُّ فِي الُوَرِقِ زَكَاةٌ حَتَّى يَبْلُغَ خَمْسَ أَوَاقٍ ، وَلا يَحِلُّ فِي الإِبِلِ زَكَاةٌ حَتَّى يَبْلُغَ خَمْسَ ذَوْدٍ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”گندم اور کھجور میں اس وقت تک زکوۃ لازم نہیں ہوتی جب تک وہ پانچ وسق نہ ہو جائے، چاندی میں اس وقت تک زکوۃ لازم نہیں ہوتی جب تک اس کی تعداد پانچ اوقیہ نہ ہو جائے اور اونٹوں میں اس وقت تک زکوۃ لازم نہیں ہوتی جب تک وہ پانچ اونٹ نہ ہو جائیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الزكاة/حدیث: 3276]

3277

Sahih Ibn Hibban #3277

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفِيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حِبَّانُ بْنُ مُوسَى ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا سُفِيَانُ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحِيَى بْنِ حِبَّانَ ، عَنْ يَحِيَى بْنِ عُمَارَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : لَيْسَ فِي حَبٍّ وَلا تَمْرٍ دُونَ خَمْسَةِ أَوْسُقٍ صَدَقَةٌ ، وَلَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسِ ذَوْدٍ صَدَقَةٌ ، وَلَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسِ أَوَاقٍ صَدَقَةٌ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”پانچ وسق سے کم اناج اور کھجوروں میں زکوٰۃ لازم نہیں ہوتی۔ پانچ سے کم اونٹوں میں زکوٰۃ لازم نہیں ہوتی۔ پانچ اوقیہ سے کم (چاندی میں) زکوٰۃ لازم نہیں ہوتی۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الزكاة/حدیث: 3277]

3278

Sahih Ibn Hibban #3278

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نَافِعٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ صَالِحٍ التَّمَّارِ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ عَتَّابِ بْنِ أُسَيْدٍ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَيَبْعَثُ عَلَى النَّاسِ مَنْ يَخْرِصُ كُرُومَهُمْ وَثِمَارَهُمْ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عتاب بن اسید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کی طرف کسی شخص کو بھیجتے تھے جو ان کے پھلوں اور پیداوار کا حساب لگا لیتا تھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الزكاة/حدیث: 3278]

3279

Sahih Ibn Hibban #3279

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نَافِعٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ صَالِحٍ التَّمَّارِ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ عَتَّابِ بْنِ أُسَيْدٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : الْكَرْمُ يُخْرَصُ كَمَا يُخْرَصُ النَّخْلُ ، ثُمَّ تُؤَدَّى زَكَاتُهُ زَبِيبًا كَمَا تُؤَدَّى زَكَاةُ النَّخْلِ تَمْرًا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عتاب بن اسید رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”انگور کے درخت کا اندازہ لگایا جائے گا، جس طرح کھجور کے درخت کا اندازہ لگایا جاتا ہے اور پھر انگور کی شکل میں اس کی زکوٰۃ ادا کر دی جائے گی، جس طرح کھجور کے درخت کی زکوٰۃ کھجور کی شکل میں ادا کی جاتی ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الزكاة/حدیث: 3279]

3280

Sahih Ibn Hibban #3280

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، حَدَّثَنَا أَبُو الُوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، أَخْبَرَنَا خُبَيْبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ مَسْعُودِ بْنِ نِيَارٍ يُحَدِّثُ ، قَالَ : جَاءَنَا سَهْلُ بْنُ أَبِي حَثْمَةَ إِلَى مَسْجِدِنَا فَحَدَّثَنَا ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : إِذَا خَرَصْتُمْ ، فَخُذُوا ، وَدَعُوا الثُّلُثَ ، فَإِنْ لَمْ تَدْعُوا الثُّلُثْ ، فَدَعُوا الرُّبُعَ "، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : لِهَذَا الْخَبَرِ مَعْنَيَانِ ، أَحَدُهُمَا : أَنْ يُتْرَكَ الثُّلُثُ أَوِ الرُّبُعُ مِنَ الْعُشْرِ ، وَالثَّانِي : أَنْ يُتْرَكَ ذَلِكَ مِنْ نَفْسِ التَّمْرِ قَبْلَ أَنْ يُعَشَّرَ إِذَا كَانَ ذَلِكَ حَائِطًا كَبِيرًا يَحْتَمِلُهُ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبدالرحمن بن مسعود بیان کرتے ہیں کہ سیدنا سہل بن ابوحثمہ رضی اللہ عنہ ہماری اس مسجد میں تشریف لائے، انہوں نے ہمیں یہ حدیث بیان کی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”جب تم پیداوار کا اندازہ لگاؤ، تو وصولی کر لو اور ایک تہائی حصے کو چھوڑ دو، اگر تم ایک تہائی کو نہیں چھوڑتے، تو چوتھے حصے کو چھوڑ دو۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں): اس روایت کے دو مفہوم ہو سکتے ہیں، ایک یہ ہے کہ وہ عشر میں سے ایک تہائی یا ایک چوتھائی کو ترک کر دے اور دوسرا مفہوم یہ ہے کہ وہ عشر لینے سے پہلے کھجوروں میں سے ہی اسے ترک کر دے جبکہ وہ باغ بڑا ہو۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الزكاة/حدیث: 3280]

3281

Sahih Ibn Hibban #3281

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفِيَانَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مِنْهَالٍ الضَّرِيرُ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ ، وَسَعِيدٌ ، جميعا ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحِيَى ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَيْسَ فِي الْفِضَّةِ شَيْءٌ حَتَّى يَبْلُغَ خَمْسَ أَوَاقٍ ، وَلَيْسَ فِي التَّمْرِ شَيْءٌ حَتَّى يَبْلُغَ خَمْسَةَ أَوْسُقٍ ، وَلَيْسَ فِي الإِبِلِ شَيْءٌ حَتَّى يَبْلُغَ خَمْسَةً مِنَ الذَّوْدِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”چاندی میں اس وقت تک زکاۃ لازم نہیں ہوتی جب تک وہ پانچ اوقیہ تک نہ پہنچ جائے۔ کھجور میں اس وقت تک زکاۃ لازم نہیں ہوتی جب تک وہ پانچ وسق نہ ہو جائے۔ اونٹوں میں اس وقت تک زکاۃ لازم نہیں ہوتی جب تک وہ پانچ اونٹ نہ ہو جائیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الزكاة/حدیث: 3281]

3282

Sahih Ibn Hibban #3282

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحِيَى الُوَاسِطِيُّ ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ يَحِيَى بْنِ سَعِيدٍ الأَنْصَارِيِّ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحِيَى الأَنْصَارِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسِ أَوَاقٍ صَدَقَةٌ ، وَلَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسِ ذَوْدٍ صَدَقَةٌ ، وَلَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسِ أَوْسُقٍ صَدَقَةٌ ، وَالُوَسْقُ سِتُّونَ صَاعًا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”پانچ اوقیہ سے کم (چاندی میں) زکاۃ لازم نہیں ہوتی، پانچ اونٹوں سے کم میں زکاۃ لازم نہیں ہوتی اور پانچ وسق سے کم (غلے میں) زکاۃ لازم نہیں ہوتی۔“ (راوی کہتے ہیں) ایک وسق ساٹھ (60) صاع کا ہوتا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الزكاة/حدیث: 3282]

3283

Sahih Ibn Hibban #3283

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ ، حَدَّثَنَا سُفِيَانُ ، عَنْ حَنْظَلَةَ بْنِ أَبِي سُفِيَانَ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : الُوَزْنُ وَزْنُ مَكَّةَ ، وَالْمِكِيَالُ مِكِيَالُ أَهْلِ الْمَدِينَةِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”وزن کرتے ہوئے اہل مکہ کے وزن کا اعتبار کیا جائے گا اور ماپتے ہوئے اہل مدینہ کے پیمانے کا اعتبار کیا جائے گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الزكاة/حدیث: 3283]

3284

Sahih Ibn Hibban #3284

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحِيَى الذُّهْلِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمْزَةَ الزُّبَيْرِيُّ ، قَالَ ابْنُ خُزَيْمَةَ ، وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْهَاشِمِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو مَرُوَانَ الْعُثْمَانِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ ، عَنِ الْعَلاءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قِيلَ لَهُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، صَاعُنَا أَصْغَرُ الصِّيعَانِ ، وَمُدُّنَا أَصْغَرُ الأَمْدَادِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي صَاعِنَا ، وَبَارِكْ لَنَا فِي قَلِيلِنَا وَكَثِيرِنَا ، وَاجْعَلْ لَنَا مَعَ الْبَرَكَةِ بَرَكَتَيْنِ "، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : فِي تَرْكِ إِنْكَارِ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَيْثُ قَالُوا : صَاعُنَا أَصْغَرُ الصِّيعَانِ بَيَانٌ وَاضِحٌ أَنَّ صَاعَ أَهْلِ الْمَدِينَةِ أَصْغَرُ الصِّيعَانِ ، وَلَمْ يَخْتَلِفْ أَهْلُ الْعِلْمِ مِنْ لَدُنِ الصَّحَابَةِ إِلَى يَوْمِنَا هَذَا فِي الصَّاعِ وَقَدْرِهِ إِلا مَا قَالَهُ الْحِجَازِيُّونَ وَالْعِرَاقِيُّونَ ، فَزَعَمَ الْحِجَازِيُّونَ أَنَّ الصَّاعَ خَمْسَةُ أَرْطَالٍ وَثُلُثٌ ، وَقَالَ الْعِرَاقِيُّونَ : الصَّاعُ ثَمَانِيَةُ أَرْطَالٍ ، فَلَمَّا لَمْ نَجِدْ بَيْنَ أَهْلِ الْعِلْمِ خِلافًا فِي قَدْرِ الصَّاعِ إِلا مَا وَصَفْنَا ، صَحَّ أَنَّ صَاعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ خَمْسَةَ أَرْطَالٍ وَثُلُثًا ، إِذْ هُوَ أَصْغَرُ الصِّيعَانِ ، وَبَطَلَ قَوْلُ مَنْ زَعَمَ أَنَّ الصَّاعَ ثَمَانِيَةُ أَرْطَالٍ مِنْ غَيْرِ دَلِيلٍ ثَبَتَ لَهُ عَلَى صِحَّتِهِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی گئی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہمارا صاع سب سے چھوٹا صاع ہے اور ہمارا مد سب سے چھوٹا مد ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ” «اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي صَاعِنَا، وَبَارِكْ لَنَا فِي قَلِيلِنَا وَكَثِيرِنَا، وَاجْعَلْ مَعَ الْبَرَكَةِ بَرَكَتَيْنِ» ”اے اللہ! تو ہمارے لیے ہمارے صاع میں برکت رکھ دے، ہمارے لیے ہمارے تھوڑے اور زیادہ میں برکت رکھ دے اور ہمارے لیے اس برکت کے ہمراہ مزید دو برکتیں رکھ دے۔““ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ان حضرات کے الفاظ پر انکار نہ کرنا جب انہوں نے یہ کہا: ”ہمارا صاع سب سے چھوٹا صاع ہے“ تو یہ اس بات کا واضح بیان ہے کہ اہل مدینہ کا صاع تمام صاعوں میں سب سے چھوٹا ہے، چنانچہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے زمانے سے لے کر ہمارے اس دور تک اہل علم میں اس بارے میں کوئی اختلاف نہیں ہے جو اس صاع اور اس کی مقدار کے بارے میں ہے، البتہ اہل حجاز اور اہل عراق کی رائے مختلف ہے۔ اہل حجاز یہ کہتے ہیں کہ ایک صاع پانچ رطل اور ایک تہائی رطل کا ہوتا ہے جبکہ اہل عراق یہ کہتے ہیں کہ یہ ایک صاع آٹھ رطل کا ہوتا ہے، تو ہمیں اہل علم کے درمیان صاع کی مقدار کے بارے میں کوئی اختلاف معلوم نہیں ہوتا ماسوائے اس کے جو ہم نے ذکر کیا ہے، تو یہ بات مستند طور پر ثابت ہو جائے گی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا صاع پانچ رطل اور ایک رطل کے ایک تہائی حصے کا تھا کیونکہ یہ سب سے چھوٹا صاع ہے اور اس شخص کا موقف غلط ثابت ہو جائے گا جو اس بات کا قائل ہے کہ ایک صاع آٹھ رطل کا ہوتا ہے، اس نے کسی دلیل کے بغیر یہ بات بیان کی ہے جس کا مستند ہونا ثابت ہو۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الزكاة/حدیث: 3284]

3285

Sahih Ibn Hibban #3285

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحِيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَالْمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : فَرَضَ فِيمَا سَقَتِ السَّمَاءُ وَالأَنْهَارُ وَالْعُيُونُ ، أَوْ مَا كَانَ عَثَرِيًّا الْعُشْرَ ، وَفِيمَا سُقِيَ بِالنَّضْحِ نِصْفُ الْعُشْرِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سالم بن عبداللہ اپنے والد (سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما) کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: جو (زمین یا پیداوار) بارش کے پانی یا نہر یا چشمے کے ذریعے سیراب ہوتی ہے یا جو عشری زمین ہو اس میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ”دسویں حصے کی ادائیگی“ لازم قرار دی ہے اور جسے اونٹ پر پانی لا کر سیراب کیا جاتا ہے اس میں ”نصف عشر کی ادائیگی“ لازم قرار دی ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الزكاة/حدیث: 3285]

3286

Sahih Ibn Hibban #3286

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفِيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ الْحِزَامِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نَافِعٍ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : مَا كَانَ بَعْلا ، أَوْ يُسْقَى بِنَهَرٍ ، أَوْ عَثَرِيًّا يُؤْخَذُ مِنْ كُلِّ عَشَرَةٍ وَاحِدٌ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جو «بَعْلٌ» ہو یا جسے نہر کے ذریعے سیراب کیا جاتا ہو، جو «عُشْرِيٌّ» ہو اس میں ہر دس میں سے ایک کی وصولی کی جائے گی۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الزكاة/حدیث: 3286]

3287

Sahih Ibn Hibban #3287

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحِيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَالْمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : فَرَضَ فِيمَا سَقَتِ السَّمَاءُ وَالأَنْهَارُ وَالْعُيُونُ الْعُشْرَ ، وَفِيمَا سُقِيَ بِالنَّضْحِ نِصْفَ الْعُشْرِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ جو (زمین یا پیداوار) بارش یا نہر یا چشمے کے ذریعے سیراب ہوتی ہے، اس میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ”عشر کی ادائیگی لازم قرار دی ہے“ اور جسے اونٹ پر پانی لا کر سیراب کیا جاتا ہے، اس میں ”نصف عشر کی ادائیگی لازم قرار دی ہے“۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الزكاة/حدیث: 3287]

3288

Sahih Ibn Hibban #3288

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ الصُّوفِيُّ ، بِبَغْدَادَ ، حَدَّثَنَا يَحِيَى بْنُ مَعِينٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرِيَمَ ، عَنِ الدَّرَاوَرْدِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، وَعَبْدِ اللَّهِ ، أخيه ، كلاهما عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَأَمَرَ لِلْمَسْجِدِ مِنْ كُلِّ حَائِطٍ بِقَنَا "، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : عَبْدُ اللَّهِ هَذَا : هُوَ عَبْدُ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ حَفْصِ بْنِ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ مِنْ عُبَّادِ أَهْلِ الْمَدِينَةِ ، قَدْ غَلَبَ عَلَيْهِ التَّقَشُّفُ وَالْعِبَادَةُ حَتَّى كَانَ يَقْلِبُ الأَخْبَارَ ، وَلا يَعْلَمُ ، فَلَمَّا كَثُرَ ذَلِكَ مِنْهُ فِي أَخْبَارِهِ ، بَطَلَ الاحْتِجَاجُ بِآثَارِهِ ، وَاعْتِمَادُنَا فِي هَذَا الْخَبَرِ عَلَى أَخِيهِ عُبَيْدِ اللَّهِ دُونَهُ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد کے بارے میں یہ حکم دیا تھا کہ: ”ہر باغ میں سے (پھل کا) ایک خوشہ اس میں رکھا جائے۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) عبداللہ نامی یہ راوی عبداللہ بن عمر بن حفص بن عاصم بن عمر بن خطاب ہیں، یہ اہل مدینہ کے عبادت گزار لوگوں میں سے ایک ہیں۔ ان پر دنیا سے بے رغبتی اور عبادت کا رنگ غالب تھا، اس لیے یہ روایات کو الٹ پلٹ دیا کرتے تھے اور انہیں اس بات کا پتہ نہیں چلتا تھا، چنانچہ جب ان کی نقل کردہ روایات میں اس نوعیت کی غلطیوں کی کثرت سامنے آئی تو ان کی نقل کردہ روایات سے استدلال کرنا باطل ہو جائے گا، اس لیے اس روایت کے بارے میں ہمارا اعتماد ان کے بھائی عبیداللہ کی نقل کردہ روایت پر ہوگا ان پر نہیں ہوگا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الزكاة/حدیث: 3288]