Muslim99Muslim99

Sahih Ibn Hibban · Book 29 · Chapter 3

Book of Transfer of Debt

Hadith 3209–3248

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

3209

Sahih Ibn Hibban #3209

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، وَفَاطِمَةَ بِنْتِ الْمُنْذِرِ ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ ، وَكَانَتْ إِذَا أَنْفَقَتْ شَيْئًا تُحْصِي ، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَنْفِقِي وَلا تُحْصِي ، فَيُحْصِيَ اللَّهُ عَلَيْكِ ، وَلا تُوعِي فَيُوعِيَ اللَّهُ عَلَيْكِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ اسماء بنت ابوبکر رضی اللہ عنہما بیان کرتی ہیں کہ وہ جب کوئی چیز خرچ کرتی تھیں تو اس کی گنتی کیا کرتی تھیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم گنتی کیے بغیر خرچ کیا کرو، ورنہ اللہ تعالیٰ بھی تمہیں گن کر عطا کرے گا اور تم (رقم کی تھیلی کا) منہ بند نہ رکھا کرو، ورنہ اللہ تعالیٰ بھی تمہیں دیتے ہوئے (رقم کی تھیلی کا) منہ بند کر لے گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الزكاة/حدیث: 3209]

3210

Sahih Ibn Hibban #3210

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ يُوسُفَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عَلِيٍّ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبِي ، أَنَّهُ سَمِعَ عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَا عَمْرُو ،نِعْمَ الْمَالُ الصَّالِحُ مَعَ الرَّجُلِ الصَّالِحِ "، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : سَمِعَ هَذَا الْخَبَرَ عَلِيُّ بْنُ رَبَاحٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، وَسَمِعَهُ مِنْ أَبِي الْقَيْسِ بَدَلَ عَمْرٍو ، عَنْ عَمْرٍو ، فَالطَّرِيقَانِ جَمِيعًا مَحْفُوظَانِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اے عمرو! سب سے اچھا مال وہ نیک مال ہے، جو نیک آدمی کے پاس ہو۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) علی بن رباح نامی راوی نے یہ روایت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ سے سنی ہے اور انہوں نے یہ روایت ابوقیس کے حوالے سے سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ سے سنی ہے، اس کے دونوں طرق محفوظ ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الزكاة/حدیث: 3210]

3211

Sahih Ibn Hibban #3211

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عَلِيٍّ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَا عَمْرُو ،اشْدُدْ عَلَيْكَ سِلاحَكَ وَثِيَابَكَ " ، قَالَ : فَفَعَلْتُ ، ثُمَّ أَتَيْتُهُ ، فَوَجَدْتُهُ يَتَوَضَّأُ ، فَرَفَعَ رَأْسَهُ ، فَصَعَّدَ فِيَّ النَّظَرَ وَصَوَّبَهُ ، قَالَ : " يَا عَمْرُو ، إِنِّي أُرِيدُ أَنْ أَبْعَثَكَ وَجْهًا ، فَيُسَلِّمُكَ اللَّهُ وَيُغْنِمَكَ ، وَأَزْغُبُ لَكَ مِنَ الْمَالِ زَغْبَةً صَالِحَةً " ، قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ لَمْ أُسْلِمْ رَغْبَةً فِي الْمَالِ ، إِنَّمَا أَسْلَمْتُ رَغْبَةً فِي الْجِهَادِ وَالْكَيْنُونَةِ مَعَكَ ، قَالَ : " يَا عَمْرُو ، نِعِمَّا بِالْمَالِ الصَّالِحِ مَعَ الرَّجُلِ الصَّالِحِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اے عمرو! تم اپنے ہتھیار اور کپڑوں کو اپنے اوپر باندھ لو۔“ راوی کہتے ہیں: میں نے ایسا ہی کیا، پھر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو وضو کرتے ہوئے پایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سرِ مبارک اٹھایا اور میرا نیچے سے لے کر اوپر تک جائزہ لیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اے عمرو! میں تمہیں ایک مہم پر روانہ کرنا چاہتا ہوں، اللہ تعالیٰ تمہیں سلامت رکھے اور تمہیں مالِ غنیمت عطا فرمائے اور میں تمہیں مالِ غنیمت میں سے حصہ بھی دوں گا۔“ راوی کہتے ہیں: میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں نے مال کی دلچسپی کی خاطر اسلام قبول نہیں کیا، میں نے تو جہاد میں حصہ لینے کے لیے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ رہنے کے لیے اسلام قبول کیا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اے عمرو! «نِعِمَّا بِالْمَالِ الصَّالِحِ لِلرَّجُلِ الصَّالِحِ» ”وہ مال بہت اچھا ہے، جو پاک ہو اور نیک آدمی کے پاس ہو۔““ [صحیح ابن حبان/كتاب الزكاة/حدیث: 3211]

3212

Sahih Ibn Hibban #3212

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفِيَانَ ، حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الُوَلِيدِ النَّرْسِيُّ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي وَجَعِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ : يَا عَائِشَةُ ، مَا فَعَلْتِ الذَّهَبُ ؟ " ، قَالَتْ : قُلْتُ : هِيَ عِنْدِي ، قَالَ : " فَأْتِينِي بِهَا " ، وَهِيَ بَيْنَ السَّبْعَةِ وَالْخَمْسَةِ ، فَجِئْتُ ، فَوَضَعْتُهَا فِي كَفِّهِ ، ثُمَّ قَالَ :" مَا ظَنُّ مُحَمَّدٍ بِاللَّهِ لَوْ لَقِيَ اللَّهَ وَهَذِهِ عِنْدَهُ ، أَنْفِقِيهَا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ جس بیماری کے دوران نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوا اس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اے عائشہ! اس سونے کا کیا ہوا؟“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں میں نے عرض کی: وہ میرے پاس ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے میرے پاس لے کر آؤ۔“ وہ سات یا پانچ (اوقیہ) تھا، میں اسے لے کر آئی، میں نے اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہتھیلی پر رکھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”محمد کا اللہ تعالیٰ کے بارے میں کیا گمان ہو گا اگر وہ ایسی حالت میں اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہو کہ یہ (سونا) اس کے پاس ہو؟ تم اسے خرچ کر دو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الزكاة/حدیث: 3212]

3213

Sahih Ibn Hibban #3213

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْجُنَيْدِ ، بِبُسْتَ ، حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ مُضَرَ ، عَنْ مُوسَى بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ ، قَالَ : دَخَلْتُ أَنَا وَعُرُوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، عَلَى عَائِشَةَ ، فَقَالَتْ : لَوْ رَأَيْتُمَا نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ فِي مَرَضٍ لَهُ وَكَانَتْ لَهُ عِنْدِي سِتَّةُ دَنَانِيرَ أَوْ سَبْعَةٌ ، قَالَتْ : فَأَمَرَنِي أَنْ أُفَرِّقَهَا ، فَشَغَلَنِي وَجَعُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى عَافَاهُ اللَّهُ ، قَالَتْ : ثُمَّ سَأَلَنِي عَنْهَا ، فَقُلْتُ : لا وَاللَّهِ قَدْ كَانَ شَغَلَنِي وَجَعُكَ ، قَالَتْ : فَدَعَا بِهَا فَوَضَعَهَا فِي كَفِّهِ ، ثُمَّ قَالَ : مَا ظَنُّ نَبِيِّ اللَّهِ لَوْ لَقِيَ اللَّهَ وَهُوَ عِنْدَهُ ؟ ! """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابوامامہ بن سہل بیان کرتے ہیں کہ میں اور عروہ بن زبیر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئے، انہوں نے فرمایا: کاش تم اس دن اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھتے جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیمار تھے، اس وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے چھ یا شاید سات دینار میرے پاس موجود تھے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ہدایت کی کہ میں انہیں خرچ کر دوں، لیکن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری کی وجہ سے میں ایسا نہ کر سکی، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طبیعت بہتر فرمائی۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے بارے میں مجھ سے دریافت فرمایا، تو میں نے عرض کی: جی نہیں، اللہ کی قسم! آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری کی وجہ سے میں انہیں خرچ نہیں کر سکی۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں منگوایا اور انہیں اپنی ہتھیلی پر رکھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اللہ کے نبی کا کیا گمان ہو گا اگر وہ ایسی حالت میں اللہ کی بارگاہ میں حاضر ہو کہ یہ اس کے پاس ہوں؟“ [صحیح ابن حبان/كتاب الزكاة/حدیث: 3213]

3214

Sahih Ibn Hibban #3214

أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ الْمِنْهَالِ الضَّرِيرُ ، حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ الْقَيْسِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : مَا يَسُرُّنِي أَنَّ أُحُدًا لِي ذَهَبًا يَأْتِي عَلَيَّ ثَلاثٌ ، وَعِنْدِي مِنْهُ دِينَارٌ غَيْرَ شَيْءٍ أَرْصُدُهُ فِي دَيْنٍ عَلَيَّ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”مجھے یہ بات پسند نہیں ہے کہ میرے پاس احد پہاڑ جتنا سونا ہو اور پھر تین دن گزرنے کے بعد ان میں سے ایک دینار بھی میرے پاس ہو، ماسوائے اس کے جسے میں نے قرض کی ادائیگی کے لیے سنبھال کر رکھا ہو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الزكاة/حدیث: 3214]

3215

Sahih Ibn Hibban #3215

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفِيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا تَمِيمُ بْنُ الْمُنْتَصِرِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ الأَزْرَقُ ، عَنْ شَرِيكٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : إِنَّالدُّنِيَا خَضِرَةٌ حُلُوَةٌ ، فَمَنْ أَعْطَيْنَاهُ مِنْهَا شَيْئًا بِطِيبِ نَفْسٍ مِنَّا ، وَحَسَنِ طُعْمَةٍ مِنْهُ ، مِنْ غَيْرِ شَرِهِ نَفْسٍ ، بُورِكَ لَهُ فِيهِ ، وَمَنْ أَعْطَيْنَاهُ مِنْهَا شَيْئًا بِغَيْرِ طِيبِ نَفْسٍ مِنَّا ، وَحَسَنِ طُعْمَةٍ مِنْهُ ، وَإِشْرَافِ نَفْسٍ ، كَانَ غَيْرَ مُبَارَكٍ لَهُ فِيهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتی ہیں: ”بے شک دنیا سر سبز اور میٹھی ہے، ہم اس میں سے جو چیز اپنی خوشی کے ساتھ اور لینے والے کے لالچ کے بغیر اسے دیں جس میں اس کے نفس کی برائی نہ ہو، تو اس چیز میں اس شخص کے لیے برکت رکھی جائے گی اور جسے ہم اپنی خوشی کے بغیر اسے دیں اور اس میں اس کا لالچ بھی شامل ہو، تو اس کے لیے اس میں برکت نہیں ہو گی۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الزكاة/حدیث: 3215]

3216

Sahih Ibn Hibban #3216

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحِيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ الْحَارِثِ ، يَقُولُ : حَدَّثَنِي دَرَّاجٌ أَبُو السَّمْحِ ، عَنِ ابْنِ حُجَيْرَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِذَا أَدَّيْتَ زَكَاةَ مَالِكَ ، فَقَدْ قَضَيْتَ مَا عَلَيْكَ فِيهِ ، وَمَنْ جَمَعَ مَالا حَرَامًا ، ثُمَّ تَصَدَّقَ بِهِ ، لَمْ يَكُنْ لَهُ فِيهِ أَجْرٌ ، وَكَانَ إِصْرُهُ عَلَيْهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”جب تم اپنے مال کی زکوۃ ادا کر دو، تو تم نے اپنے ذمے لازم فرض کو ادا کر دیا اور جو شخص حرام طور پر مال کو جمع کرتا ہے اور پھر اسے صدقہ کرتا ہے، اسے اس کا اجر نہیں ملتا، البتہ اس کا وبال اس کے ذمے ہوتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الزكاة/حدیث: 3216]

3217

Sahih Ibn Hibban #3217

أَخْبَرَنَا الْرِيَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي الأَحُوَصِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : نَحْنُ الآخِرُونَ وَالأَوَّلُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، وَإِنَّ الأَكْثَرِينَ هُمُ الأَسْفَلُونَ ، إِلا مَنْ قَالَ هَكَذَا وَهَكَذَا عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ يَسَارِهِ ، وَمِنْ خَلْفِهِ وَبَيْنَ يَدَيْهِ ، وَيَحْثِي بِثَوْبِهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”(دنیا میں آنے کے حساب سے) ہم آخر والے ہیں، لیکن قیامت کے دن پہلے والے ہوں گے، (دنیا میں مال و دولت کے اعتبار سے) کثرت والے لوگ (آخرت میں اجر و ثواب کے اعتبار سے) کم حیثیت کے مالک ہوں گے، ماسوائے اس شخص کے جو اپنے دائیں طرف، اپنے بائیں طرف، اپنے پیچھے اور اپنے آگے اس طرح اور اس طرح کہے اور اپنے کپڑے کو پھیلائے (یعنی اللہ کی راہ میں اپنا مال خرچ کرے)۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الزكاة/حدیث: 3217]

3218

Sahih Ibn Hibban #3218

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، بِالْمَوْصِلِ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ حَمَّادٍ سَجَّادَةٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ أَبِي حُصَيْنٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : تَعِسَ عَبْدُ الدِّينَارِ ، وَعَبْدُ الدِّرْهَمِ ، وَعَبْدُ الْقَطِيفَةِ ، وَعَبْدُ الْخَمِيصَةِ ، إِنْ أُعْطِيَ رَضِيَ ، وَإِنْ مُنِعَ سَخِطَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”دینار کا بندہ، درہم کا بندہ، چادر کا بندہ اور قمیص کا بندہ برباد ہو جائے کہ اگر اسے کچھ دیا جائے تو وہ راضی رہتا ہے اور اگر نہ دیا جائے تو وہ ناراض ہو جاتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الزكاة/حدیث: 3218]

3219

Sahih Ibn Hibban #3219

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ الْخَلِيلِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي هِلالُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ أُسَامَةَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : قَلْبُ ابْنِ آدَمَ شَابٌّ عَلَى حُبِّ اثْنَتَيْنِ : طُولِ الْعُمُرِ وَالْمَالِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”انسان کا دل دو چیزوں کی محبت میں ہمیشہ جوان رہتا ہے: لمبی زندگی اور مال۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الزكاة/حدیث: 3219]

3220

Sahih Ibn Hibban #3220

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحِيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَّ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ ، وَسَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ ، حدثاه أَنَّ حَكِيمَ بْنَ حِزَامٍ ، قَالَ : سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَعْطَانِي ، ثُمَّ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَعْطَانِي ، ثُمَّ سَأَلْتُهُ فَأَعْطَانِي ، ثُمَّ سَأَلْتُ فَأَعْطَانِي ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَا حَكِيمَ بْنَ حِزَامٍ ، إِنَّهَذَا الْمَالَ حُلُوَةٌ خَضِرَةٌ ، فَمَنْ أَخَذَهُ بِسَخَاوَةِ نَفْسٍ بُورِكَ لَهُ فِيهِ ، وَمَنْ أَخَذَهُ بِإِشْرَافِ نَفْسٍ ، لَمْ يُبَارَكْ لَهُ فِيهِ ، وَكَانَ كَالَّذِي يَأْكُلُ وَلا يَشْبَعُ ، وَالِيَدُ الْعُلِيَا خَيْرٌ مِنَ الِيَدِ السُّفْلَى "، قَالَ حَكِيمُ : فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ لا أَرْزَأُ أَحَدًا بَعْدَكَ شَيْئًا حَتَّى أُفَارِقَ الدُّنِيَا ، قَالَ عُرْوَةُ ، وَسَعِيدٌ : فَكَانَ أَبُو بَكْرٍ يَدْعُو حَكِيمًا فَيُعْطِيهِ الْعَطَاءَ فَيَأْبَى ، ثُمَّ كَانَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ يُعْطِيهِ فَيَأْبَى ، فَيَقُولُ عُمَرُ : إِنِّي أُشْهِدُكُمْ يَا مَعْشَرَ الْمُسْلِمِينَ عَلَى حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ أَنِّي أَعْرِضُ عَلَيْهِ حَقَّهُ الَّذِي قُسِمَ لَهُ مِنْ هَذَا الْفَيْءِ فَيَأْبَى يَأْخُذُهُ ، قَالَ : فَلَمْ يَرْزَأْ حَكِيمٌ أَحَدًا مِنَ النَّاسِ بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى تُوُفِّيَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ مانگا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے عطا کر دیا، پھر میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مانگا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر عطا کر دیا، میں نے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے مانگا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر عطا کر دیا، میں نے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے مانگا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر عطا کر دیا، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اے حکیم بن حزام! «إِنَّ هَذَا الْمَالَ خَضِرَةٌ حُلْوَةٌ» ”یہ مال مزیدار اور سرسبز ہے“، جو شخص مزاج کی سخاوت کے ہمراہ اسے حاصل کرتا ہے اس کے لیے اس میں برکت رکھی جاتی ہے اور جو شخص لالچ کے ہمراہ اسے حاصل کرتا ہے اس کے لیے اس میں برکت نہیں رکھی جاتی اور اس کی مثال ایسے شخص کی مانند ہوتی ہے، جو کھانے کے باوجود سیر نہیں ہوتا اور «الْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنَ الْيَدِ السُّفْلَى» ”اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے“۔“ سیدنا حکیم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اس ذات کی قسم! جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو حق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد میں مرتے دم تک کسی سے کوئی چیز نہیں مانگوں گا۔ عروہ اور سعید رحمہما اللہ بیان کرتے ہیں: سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے (اپنے عہد خلافت میں) سیدنا حکیم رضی اللہ عنہ کو بلایا اور انہیں کچھ ادائیگی کرنا چاہی، تو انہوں نے وہ لینے سے انکار کر دیا، پھر سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے (اپنے عہد خلافت میں) انہیں کچھ دینا چاہا، تو انہوں نے اس سے بھی انکار کر دیا، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اسے مسلمانوں کے گروہ میں حکیم بن حزام کے بارے میں تم لوگوں کو گواہ بنا رہا ہوں کہ میں نے ان کا حق ان کے سامنے رکھا تھا جو مال غنیمت میں سے ان کا حصہ بنتا ہے، تو انہوں نے اسے لینے سے انکار کر دیا۔ راوی بیان کرتے ہیں: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے (وصالِ ظاہری کے بعد) سیدنا حکیم رضی اللہ عنہ نے مرتے دم تک کسی سے کچھ نہیں مانگا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الزكاة/حدیث: 3220]

3221

Sahih Ibn Hibban #3221

أَخْبَرَنَا ابْنُ خُزَيْمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي مَسْلَمَةَ سَعِيدِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : إِنَّالدُّنِيَا خَضِرَةٌ حُلُوَةٌ ، وَإِنَّ اللَّهَ سَيُخْلِفُكُمْ فِيهَا لِيَنْظُرَ كَيْفَ تَعْمَلُونَ ، فَاتَّقُوا الدُّنِيَا ، وَاتَّقُوا النِّسَاءَ ، فَإِنَّ أَوَّلَ فِتْنَةِ بَنِي إِسْرَائِيلَ كَانَتِ النِّسَاءَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”بے شک دنیا سرسبز اور میٹھی ہے اور اللہ تعالیٰ نے تمہیں اس میں رکھا ہے تاکہ اس بات کو ظاہر کرے کہ تم لوگ کیا عمل کرتے ہو، تو تم لوگ دنیا سے بچو اور خواتین سے بچو، کیونکہ بنی اسرائیل کا سب سے پہلا فتنہ (خواتین کی وجہ سے ہوا تھا)۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الزكاة/حدیث: 3221]

3222

Sahih Ibn Hibban #3222

أَخْبَرَنَا أَبُو عَرُوبَةَ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ الْعَطَّارُ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ حَيَّانَ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ بُرْقَانَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الأَصَمِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَا أَخْشَى عَلَيْكُمْ بَعْدِي الْفَقْرَ ، وَلَكِنِّي أَخْشَى عَلَيْكُمُ التَّكَاثُرُ ، وَمَا أَخْشَى عَلَيْكُمُ الْخَطَأَ ، وَلَكِنِّي أَخْشَى عَلَيْكُمُ الْعَمْدَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”مجھے اپنے بعد تمہارے بارے میں غربت کا اندیشہ نہیں ہے بلکہ مجھے تمہارے بارے میں (مال و دولت کی) کثرت کا اندیشہ ہے اور مجھے تمہارے بارے میں (غلطی سے کیے جانے والے گناہوں) کا اندیشہ نہیں ہے بلکہ مجھے تمہارے بارے میں جان بوجھ کر کیے (جانے والے گناہوں) کا اندیشہ ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الزكاة/حدیث: 3222]

3223

Sahih Ibn Hibban #3223

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْذِرِ بْنِ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي دَاوُدَ الْبُرُلُّسِيُّ ، حَدَّثَنَا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عِيَاضٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : لِكُلِّ أُمَّةٍ فِتْنَةٌ ، وَإِنَّ فِتْنَةَ أُمَّتِي الْمَالُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا کعب بن عیاض رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”ہر امت کی ایک آزمائش ہوتی ہے، میری امت کی آزمائش مال ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الزكاة/حدیث: 3223]

3224

Sahih Ibn Hibban #3224

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحِيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ يَزِيدَ بْنَ أَبِي حَبِيبٍ ، أَنَّ أَبَا الْخَيْرِ حَدَّثَهُ ، أَنَّهُ سَمِعَ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ الْجُهَنِيَّ ، يَقُولُ : آخِرُ مَا خَطَبَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ صَلَّى عَلَى شُهَدَاءِ أُحُدٍ ، ثُمَّ رَقِيَ الْمِنْبَرَ ، فَحَمِدَ اللَّهَ ، وَأَثْنَى عَلَيْهِ ، ثُمَّ قَالَ : إِنِّي لَكُمْ فَرَطٌ ، وَأَنَا عَلَيْكُمْ شَهِيدٌ ، وَأَنَا أَنْظُرُ إِلَى حَوْضِي الآنَ فِي مَقَامِي هَذَا ، وَإِنِّي وَاللَّهِ مَا أَخَافُ أَنْ تُشْرِكُوا بَعْدِي ، وَلَكِنِّي أُرِيتُ أَنِّي أُعْطِيتُ مَفَاتِيحَ خَزَائِنِ الأَرْضِ ، فَأَخَافُ عَلَيْكُمْ أَنْ تَنَافَسُوا فِيهَا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں جو آخری خطبہ دیا تھا، اس میں یہ ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے شہدائے احد کی نماز جنازہ ادا کی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر چڑھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی، پھر ارشاد فرمایا: ”بے شک میں تمہارا پیش رو ہوں گا اور میں تمہارا گواہ ہوں گا، اور میں اس وقت بھی اپنی اس جگہ پر کھڑے ہوئے اپنے حوض کو دیکھ رہا ہوں، اللہ کی قسم! مجھے یہ اندیشہ نہیں ہے کہ تم لوگ میرے بعد شرک کرو گے، بلکہ مجھے یہ بات دکھائی گئی ہے کہ مجھے زمین کے خزانوں کی چابیاں عطا کر دی گئی ہیں، تو مجھے تمہارے بارے میں یہ اندیشہ ہے کہ تم دنیا کی طرف راغب ہو جاؤ گے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الزكاة/حدیث: 3224]

3225

Sahih Ibn Hibban #3225

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا هِشَامُ الدَّسْتُوَائِيُّ ، عَنْ يَحِيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ هِلالِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : إِنَّأَخُوَفَ مَا أَخَافُ عَلَيْكُمْ مَا يُخْرِجُ اللَّهُ مِنْ زِينَةِ الدُّنِيَا وَزَهْرَتِهَا " ، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَوَ يَأْتِي الْخَيْرُ بِالشَّرِّ ؟ فَسَكَتَ عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَرَأَيْنَا أَنَّهُ يُنَزَّلُ عَلَيْهِ ، فَقِيلَ لَهُ : مَا شَأْنُكَ تُكَلِّمُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلا يُكَلِّمُكَ ؟ فَسُرِّيَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَجَعَلَ يَمْسَحُ عَنْهُ الرُّحَضَاءَ ، وَقَالَ : " أَيْنَ السَّائِلُ ؟ " وَرَأَيْنَا أَنَّهُ حَمِدَهُ ، فَقَالَ : " إِنَّ الْخَيْرَ لا يَأْتِي بِالشَّرِّ ، وَإِنَّ مِمَّا يُنْبِتُ الرَّبِيعُ يَقْتُلُ أَوْ يُلِمُّ حَبَطًا ، أَلَمْ تَرَ إِلَى آكِلَةِ الْخَضِرِ ، أَكَلَتْ حَتَّى امْتَلأَتْ خَاصِرَتَاهَا ، اسْتَقْبَلَتْ عَيْنَ الشَّمْسِ ، فَثَلَطَتْ وَبَالَتْ ، ثُمَّ رَتَعَتْ ، وَإِنَّ الْمَالَ حُلُوَةٌ خَضِرَةٌ ، وَنِعْمَ صَاحِبُ الْمُسْلِمِ هُوَ إِنْ وَصَلَ الرَّحِمَ ، وَأَنْفَقَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، وَمَثَلُ الَّذِي يَأْخُذُهُ بِغَيْرِ حَقِّهُ ، كَمَثَلِ الَّذِي يَأْكُلُ وَلا يَشْبَعُ ، وَيَكُونُ عَلَيْهِ شَهِيدًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: ”تمہارے بارے میں مجھے سب سے زیادہ اندیشہ اس بات کا ہے کہ اللہ تعالیٰ دنیا کی زیب و زینت، آرائش و زیبائش کو ظاہر کر دے گا۔“ ایک صاحب نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا بھلائی برائی کو لے کر آئے گی؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے، ہمیں یہ اندازہ ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہو رہی ہے، اس شخص سے کہا گیا: کیا وجہ ہے کہ تم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں گزارش کی ہے، لیکن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہارے ساتھ بات نہیں کی؟ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ کیفیت ختم ہوئی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پسینے کو پونچھا اور دریافت کیا: ”سوال کرنے والا کون شخص ہے؟“ جس سے ہمیں اندازہ ہوا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی تعریف کی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”بھلائی برائی کو نہیں لے کر آئے گی، لیکن بہار میں جو چیز اُگتی ہے وہ کسی کو مار دیتی ہے اور کسی کو موٹا تازہ کر دیتی ہے۔ کیا تم نے دیکھا نہیں سبزہ کھانے والا جانور کھاتا ہے، یہاں تک کہ جب اس کا پیٹ پھول جاتا ہے، تو وہ دھوپ میں آ جاتا ہے، وہاں لید کرتا ہے، پیشاب کرتا ہے، پھر چلتا ہے، بے شک مال میٹھا اور سرسبز ہے اور مسلمان کا بہترین ساتھی ہے، اگر مسلمان صلہ رحمی سے کام لے اور اسے اللہ کی راہ میں خرچ کرے، اور جو شخص ناحق طور پر اسے حاصل کرتا ہے اس کی مثال ایسے شخص کی مانند ہے جو کھانے کے باوجود سیر نہیں ہوتا اور یہ (مال) قیامت کے دن اس شخص کے خلاف گواہ ہو گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الزكاة/حدیث: 3225]

3226

Sahih Ibn Hibban #3226

أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ دَاوُدَ بْنِ وَرْدَانَ ، بِالْفُسْطَاطِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ يَقُولُ : قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَخَطَبَ النَّاسَ ، فَقَالَ : لا وَاللَّهِمَا أَخْشَى عَلَيْكُمْ أَيُّهَا النَّاسُ إِلا مَا يُخْرِجُ اللَّهُ لَكُمْ مِنْ زُهْرَةِ الدُّنِيَا " ، فَقَالَ رَجُلٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَيَأْتِي الْخَيْرُ بِالشَّرِّ ؟ فَصَمَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَاعَةً ، ثُمَّ قَالَ : " كَيْفَ قُلْتَ " ؟ قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَهَلْ يَأْتِي الْخَيْرُ بِالشَّرِّ ؟ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ الْخَيْرَ لا يَأْتِي إِلا بِخَيْرٍ ، وَلَكِنْ هُوَ أَنَّ كُلَّ مَا يُنْبِتُ الرَّبِيعُ يَقْتُلُ حَبَطًا ، أَوْ يُلِمُّ إِلا آكِلَةَ الْخَضِرِ أَكَلَتْ حَتَّى إِذَا امْتَلأَتْ خَاصِرَتَاهَا ، اسْتَقْبَلْتِ الشَّمْسَ ، فَثَلَطَتْ ، وَبَالَتْ ، ثُمَّ اجْتَرَّتْ فَعَادَتْ ، فَأَكَلَتْ ، فَمَنْ أَخَذَ مَالا بِحَقِّهِ يُبَارَكُ لَهُ ، وَمَنْ أَخَذَ مَالا بِغَيْرِ حَقِّهِ ، فَمَثَلُهُ كَمَثَلِ الَّذِي يَأْكُلُ وَلا يَشْبَعُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: ”اللہ کی قسم! اے لوگو! مجھے تمہارے بارے میں سب سے زیادہ اندیشہ یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ دنیا کی آرائش و زیبائش تمہارے سامنے ظاہر کر دے گا۔“ ایک شخص نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا بھلائی برائی لے کر آئے گی؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کچھ دیر کے لیے خاموش رہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”تم نے کیا کہا ہے؟“ اس شخص نے عرض کی: میں نے یہ گزارش کی ہے، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا بھلائی برائی کو لے کر آئے گی؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”بے شک بھلائی صرف بھلائی ہی لاتی ہے۔ لیکن اس کی مثال اسی طرح ہے، جس طرح بہار کا موسم (زیادہ کھانے والے جانور) کو مار دیتا ہے یا ہلاکت کے قریب کر دیتا ہے، البتہ سبزہ کھانے والے جانور کا معاملہ مختلف ہے، یہاں تک کہ جب اس کا پیٹ بھر جاتا ہے، وہ دھوپ میں آ جاتا ہے، تو وہاں وہ لید کرتا ہے، پیشاب کرتا ہے، پھر چرتا ہے اور واپس آتا ہے، تو جو شخص مال کو اس کے حق کے ہمراہ حاصل کرتا ہے، تو اس کے لیے اس میں برکت رکھی جاتی ہے اور جو شخص مال کو ناحق طور پر حاصل کرتا ہے، اس کی مثال ایسے شخص کی مانند ہے، جو کھانے کے باوجود سیر نہیں ہوتا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الزكاة/حدیث: 3226]

3227

Sahih Ibn Hibban #3227

أَخْبَرَنَا ابْنُ سَلْمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ حَدَّثَنَا الُوَلِيدُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي يَحِيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ هِلالِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ النَّاسَ ، فَقَالَ : إِنَّمِمَّا أَتَخَوَّفُ عَلَيْكُمْ مَا يُفْتَحُ عَلَيْكُمْ مِنْ زُهْرَةِ الدُّنِيَا وَزِينَتِهَا " ، فَقَامَ رَجُلٌ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَيَأْتِي الْخَيْرُ بِالشَّرِّ ؟ قَالَ أَبُو سَعِيدٍ : فَرَأَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْزِلُ عَلَيْهِ ، فَلُمْنَا الرَّجُلَ حِينَ يُكَلِّمُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلا يُكَلِّمُهُ ، فَلَمَّا جُلِّيَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، جَعَلَ يَمْسَحُ الرُّحَضَاءَ عَنْ وَجْهِهِ وَهُوَ يَقُولُ : " أَيْنَ السَّائِلُ ؟ " ، فَكَأَنَّهُ قَدْ حَمِدَهُ ، فَقَالَ : " إِنَّ الْخَيْرَ لا يَأْتِي بِالشَّرِّ ، وَإِنَّ مِمَّا يُنْبِتُ الرَّبِيعُ مَا يَقْتُلُ حَبَطًا ، أَوْ يُلِمُّ إِلا آكِلَةَ الْخَضِرِ أَكَلَتْ حَتَّى إِذَا هِيَ امْتَلأَتْ خَاصِرَتَاهَا ، اسْتَقْبَلَتْ عَيْنَ الشَّمْسِ ، فَثَلَطَتْ وَبَالَتْ ، وَإِنَّ هَذَا الْمَالَ نِعْمَ صَاحِبُ الْمُسْلِمِ لِمَنْ أَخَذَهُ بِحَقِّهِ ، فَأَعْطَى مِنْهُ الِيَتِيمَ وَالْمِسْكِينَ وَالسَّائِلَ ، وَمَنْ أَخَذَهُ بِغَيْرِ حَقِّهِ ، كَانَ كَالَّذِي يَأْكُلُ وَلا يَشْبَعُ ، ثُمَّ يَكُونُ عَلَيْهِ شَهِيدًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: ”تمہارے بارے میں سب سے زیادہ اندیشہ مجھے اس بات کا ہے کہ تمہارے سامنے دنیا کی چمک اور زیب و زینت کو کھول دیا جائے گا“، تو ایک صاحب کھڑے ہوئے انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا بھلائی برائی کو لے کر آئے گی؟ سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہونا شروع ہوئی، تو ہم نے اس شخص کو ملامت کی کہ اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں گزارش کی تھی، لیکن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کوئی جواب نہیں دیا، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ کیفیت ختم ہوئی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے چہرے سے پسینے کو پونچھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”سوال کرنے والا شخص کہاں ہے؟“ تو گویا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کی تعریف کی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”بے شک بھلائی برائی کو نہیں لے کر آتی، لیکن موسم بہار جو کچھ اگاتا ہے وہ کسی کو مار دیتا ہے اور کسی کو ہلاکت کے قریب کر دیتا ہے، البتہ سبزہ کھانے والے جانور کا حکم مختلف ہے، وہ کھاتا ہے، یہاں تک کہ اس کا پیٹ پھول جاتا ہے، تو وہ دھوپ میں آ جاتا ہے وہاں وہ لید کرتا ہے اور پیشاب کرتا ہے، تو یہ مال مسلمان کا بہترین ساتھی ہے، لیکن اس شخص کا جو اسے حق کے ساتھ حاصل کرے اور اس میں سے یتیم، مسکین اور مانگنے والے کو دے اور جو شخص اسے ناحق طور پر حاصل کرتا ہے اس کی مثال ایسے شخص کی مانند ہے، جو کھانے کے باوجود سیر نہیں ہوتا اور یہ (مال) قیامت کے دن اس کے خلاف گواہ ہو گا“۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الزكاة/حدیث: 3227]

3228

Sahih Ibn Hibban #3228

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُجَاهِدُ بْنُ مُوسَى الْمَخَرِّمِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ الأَزْرَقُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي زَائِدَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَعْدِ بْنِ زُرَارَةَ ، عَنِ ابْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَا ذِئْبَانِ جَائِعَانِ أُرْسِلا فِي غَنَمٍ بِأَفْسَدَ لَهَا مِنْ حِرْصِ الرَّجُلِ عَلَى الْمَالِ وَالشَّرَفِ لِدِينِهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کے صاحب زادے اپنے والد کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان نقل کرتے ہیں: ”دو بھوکے بھیڑیوں کو اگر بکریوں کے ریوڑ میں چھوڑ دیا جائے، تو وہ اسے اتنا نقصان نہیں پہنچاتے جتنا مال اور شرف کا لالچ انسان کے دین کو نقصان پہنچاتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الزكاة/حدیث: 3228]

3229

Sahih Ibn Hibban #3229

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ الْبَزَّارُ ، وَسَعِيدُ بْنُ الرَّبِيعِ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ حِسَابٍ ، وَعَبْدُ الُوَاحِدِ بْنُ غِيَاثٍ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : يَهْرَمُ ابْنُ آدَمَ ، وَتَشِبُّ فِيهِ اثْنَتَانِ : الْحِرْصُ عَلَى الْمَالِ ، وَالْحِرْصُ عَلَى الْعُمُرِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”آدمی بوڑھا ہو جاتا ہے، لیکن اس کے اندر دو چیزیں ہمیشہ جوان رہتی ہیں: مال کا لالچ (اور لمبی) عمر کا لالچ۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الزكاة/حدیث: 3229]

3230

Sahih Ibn Hibban #3230

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : قَلْبُ الْكَبِيرِ شَابَ عَلَى حُبِّ اثْنَتَيْنِ : عَلَى حُبِّ الْحَيَاةِ ، وَحُبِّ الْمَالِ "، قَالَ ابْنُ عَرَفَةَ : وَأَنَا وَاحِدٌ مِنْهُمْ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”بڑی عمر کے شخص کا دل بھی دو چیزوں کی محبت میں جوان رہتا ہے، زندگی کی محبت میں اور مال کی محبت میں۔“ ابن عرفہ نامی راوی کہتے ہیں: میں بھی ان لوگوں میں سے ایک ہوں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الزكاة/حدیث: 3230]

3231

Sahih Ibn Hibban #3231

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَطَاءً ، يَقُولُ : سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : لَوْ أَنَّ لابْنِ آدَمَ مِلْءَ وَادٍ مَالا ، لأَحَبَّ أَنْ يَكُونَ لَهُ مِثْلُهُ ، وَلا يَمْلأُ نَفْسَ ابْنِ آدَمَ إِلا التُّرَابُ ، وَاللَّهُ يَتُوبُ عَلَى مِنْ تَابَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”اگر کسی آدمی کو مال سے بھری ہوئی وادی مل جائے، تو اس کی یہ خواہش ہو گی کہ اسے اتنی ہی اور مل جائے، انسان کا پیٹ صرف مٹی بھرتی ہے اور جو شخص توبہ کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کی توبہ کو قبول کرتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الزكاة/حدیث: 3231]

3232

Sahih Ibn Hibban #3232

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ قَحْطَبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيِّ بْنِ بَحْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي سُفِيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَوْ أَنَّ لابْنِ آدَمَ وَادِيَيْنِ مِنْ نَخْلٍ ، لابْتَغَى إِلَيْهِ ثَالِثًا ، وَلا يَمْلأُ جَوْفَ ابْنِ آدَمَ إِلا التُّرَابُ ، وَيَتُوبُ اللَّهُ عَلَى مَنْ تَابَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”اگر آدمی کے پاس کھجوروں کے باغ کی دو وادیاں ہوں، تو وہ تیسری کا طلبگار ہوگا، آدمی کے پیٹ کو صرف مٹی بھر سکتی ہے اور جو شخص توبہ کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کی توبہ کو قبول کرتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الزكاة/حدیث: 3232]

3233

Sahih Ibn Hibban #3233

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي شُعَيْبٍ الْحَرَّانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ أَعِيَنَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي سُفِيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : لَوْ كَانَ لابْنِ آدَمَ وَادٍ مِنْ نَخْلٍ ، لَتَمَنَّى إِلَيْهِ مِثْلَهُ ، وَلا يَمْلأُ جَوْفَ ابْنِ آدَمَ إِلا التُّرَابُ "، لَمْ يُحَدِّثْ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي شُعَيْبٍ إِلا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، تَفَرَّدَ الأَعْمَشُ بِقَوْلِهِ مِنْ نَخْلٍ ، قَالَهُ الشَّيْخُ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”اگر آدمی کے پاس کھجوروں کے باغات کی ایک وادی ہو، تو وہ اس کی مانند اور کی آرزو کرے گا، اور آدمی کے پیٹ کو صرف مٹی ہی بھر سکتی ہے۔“ احمد بن ابو شعیب کے حوالے سے صرف عمر بن سعید نے یہ روایت نقل کی ہے اور روایت کے الفاظ میں کھجوروں کے باغ کا ذکر کرنے میں اعمش نامی راوی منفرد ہے، یہ بات شیخ نے بیان کی ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الزكاة/حدیث: 3233]

3234

Sahih Ibn Hibban #3234

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْذِرِ بْنِ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ مُسْلِمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : لَوْ أَنَّ لابْنِ آدَمَ وَادِيًا مَالا ، لأُحِبَّ أَنَّ لَهُ مِثْلَهُ ، وَلا يَمْلأُ نَفْسَ ابْنِ آدَمَ إِلا التُّرَابُ ، وَيَتُوبُ اللَّهُ عَلَى مَنْ تَابَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”اگر آدمی کے پاس مال کی ایک وادی ہو، تو وہ اس بات کا آرزومند ہوگا کہ اس کی مانند اسے اور مل جائے، آدمی کے نفس کو صرف مٹی بھر سکتی ہے اور جو شخص توبہ کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کی توبہ کو قبول کرتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الزكاة/حدیث: 3234]

3235

Sahih Ibn Hibban #3235

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ : لَوْ أَنَّ لابْنِ آدَمَ وَادِيًا مِنْ ذَهَبٍ أَحَبَّ أَنْ يَكُونَ لَهُ وَادٍ آخَرُ ، وَلا يَمْلأُ فَاهَ إِلا التُّرَابُ ، وَاللَّهُ يَتُوبُ عَلَى مَنْ تَابَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”اگر آدمی کے پاس سونے کی ایک وادی ہو، تو وہ اس بات کا آرزومند ہو گا کہ اسے ایک اور وادی بھی مل جائے، اس کے منہ کو صرف مٹی بھر سکتی ہے اور جو شخص توبہ کرتا ہے، تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ کو قبول کرتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الزكاة/حدیث: 3235]

3236

Sahih Ibn Hibban #3236

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفِيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ النَّضْرِ الأَحُوَلُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبِي ، قَالَ : حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : لَوْ كَانَ لابْنِ آدَمَ وَادِيَانِ مِنْ مَالٍ ، لابْتَغَى وَادِيًا ثَالِثًا ، وَلا يَمْلأُ جَوْفَ ابْنِ آدَمَ إِلا التُّرَابُ ، ثُمَّ يَتُوبُ اللَّهُ عَلَى مَنْ تَابَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”اگر آدمی کے پاس مال کی دو وادیاں ہوں، تو وہ تیسری کے حصول کا خواہش مند ہوگا، آدمی کے پیٹ کو صرف مٹی بھر سکتی ہے اور جو شخص توبہ کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کی توبہ کو قبول کرتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الزكاة/حدیث: 3236]

3237

Sahih Ibn Hibban #3237

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الشَّيْبَانِيِّ ، عَنْ يَزِيدَ بنِ الأَصَمِّ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى عُمَرَ يَسْأَلُهُ ، فَجَعَلَ يَنْظُرُ إِلَى رَأْسِهِ مَرَّةً وَإِلَى رِجْلَيْهِ أُخْرَى لِمَا يَرَى بِهِ مِنَ الْبُؤْسِ ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ : كَمْ مَالُكَ ؟ قَالَ : أَرْبَعُونَ مِنَ الإِبِلِ ، قَالَ : فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : فَقُلْتُ : صَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ ، لَوْ كَانَ لابْنِ آدَمَ وَادِيَانِ مِنْ ذَهَبٍ ، لابْتَغَى إِلَيْهِمَا الثَّالِثَ ، وَلا يَمْلأُ جَوْفَ ابْنِ آدَمَ إِلا التُّرَابُ ، وَيَتُوبُ اللَّهُ عَلَى مَنْ تَابَ "قَالَ : فَقَالَ لِي عُمَرُ : مَا تَقُولُ ؟ قَالَ : قُلْتُ : هَكَذَا أَقْرَأَنِيهَا أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ ، قَالَ : فَقُمْ بِنَا إِلَيْهِ ، قَالَ : فَأَتَاهُ ، فَقَالَ : مَا يَقُولُ هَذَا ؟ قَالَ أُبَيٌّ : هَكَذَا أَقْرَأَنِيهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور ان سے کچھ مانگا، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ اس کے سر کی طرف دیکھا اور دوسری مرتبہ اس کے پاؤں کی طرف دیکھا (یعنی اس کی خستہ حالی کو ملاحظہ کیا)، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس سے دریافت کیا: تمہارے پاس کتنا مال ہے؟ اس نے جواب دیا: چالیس اونٹ ہیں۔ راوی کہتے ہیں کہ اس پر سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: میں نے کہا: اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے سچ فرمایا ہے: ”اگر آدمی کے پاس سونے کی دو وادیاں ہوں، تو وہ ان کے ساتھ تیسری کا آرزومند ہو گا، آدمی کا پیٹ صرف مٹی ہی بھر سکتی ہے اور جو شخص توبہ کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول فرماتا ہے۔“ راوی کہتے ہیں: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے مجھ سے دریافت کیا: تم کیا کہتے ہو؟ راوی کہتے ہیں: میں نے جواب دیا: سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے اسی طرح میرے سامنے بیان کیا تھا، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم میرے ساتھ اٹھ کر ان کی طرف چلو۔ راوی کہتے ہیں: پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ان کے پاس آئے اور دریافت کیا کہ انہوں نے کیا بیان کیا ہے؟ تو سیدنا ابی رضی اللہ عنہ نے بتایا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے سامنے اسی طرح ارشاد فرمایا تھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الزكاة/حدیث: 3237]

3238

Sahih Ibn Hibban #3238

أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ ، بِبُسْتَ ، وَالْحَسَنُ بْنُ سُفِيَانَ الشَّيْبَانِيُّ ، بِنَسَا ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْعَبَّاسِ الْمُزَنِيُّ ، بِجُرْجَانَ ، وَعُمَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بُجَيْرٍ الْهَمْدَانِيُّ بِصُغْدٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُعَافَى بْنِ أَبِي حَنْظَلَةَ ، بِصَيْدَا ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ اللَّخْمِيُّ ، بِعَسْقَلانَ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلْمٍ ، بِبَيْتِ الْمَقْدِسِ ، وَعُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ الطَّائِيُّ ، بِمَنْبِجَ ، وَالْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ الْقَطَّانُ ، بِالرَّقَّةِ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ فَيَّاضٍ ، بِدِمَشْقَ ، فِي آخَرِينَ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ خَالِدٍ الأَزْرَقُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الُوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنِ ابْنِ جَابِرٍ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي الْمُهَاجِرِ ، عَنْ أُمِّ الدَّرْدَاءِ ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّالرِّزْقَ لَيَطْلُبُ الْعَبْدَ كَمَا يَطْلُبُهُ أَجَلُهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ ام درداء رضی اللہ عنہا سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتی ہیں: ”رزق بندے کو اسی طرح تلاش کرتا ہے، جس طرح موت اسے تلاش کرتی ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الزكاة/حدیث: 3238]

3239

Sahih Ibn Hibban #3239

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ ، حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحِيَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلالٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : لا تَسْتَبْطِئُوا الرِّزْقَ ، فَإِنَّهُ لَنْ يَمُوتَ الْعَبْدُ حَتَّى يَبْلُغَهُ آخِرُ رِزْقٍ هُوَ لَهُ ، فَأَجْمِلُوا فِي الطَّلَبِ : أَخَذِ الْحَلالِ ، وَتَرَكِ الْحَرَامِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”رزق کی طرف جلد بازی نہ کرو، کیونکہ بندہ اس وقت تک نہیں مرتا جب تک اس کے نصیب کا آخری رزق اس تک نہیں پہنچ جاتا اور اس کی طلب میں اس چیز کا خیال رکھو کہ حلال حاصل کرو اور حرام کو چھوڑ دو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الزكاة/حدیث: 3239]

3240

Sahih Ibn Hibban #3240

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفِيَانَ ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَرُوَانَ ، عَنْ هُزَيْلِ بْنِ شُرَحْبِيلَ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : جَاءَ سَائِلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَإِذَا تَمْرَةٌ عَائِرَةٌ ، فَأَعْطَاهُ إِيَّاهَا ، وَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : خُذْهَا ، لَوْ لَمْ تَأْتِهَا لأَتَتْكَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ایک سائل نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، وہاں ایک کھجور پڑی ہوئی تھی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ اسے عطا کر دی اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم اسے حاصل کر لو، اگر تم اس کے پاس نہ آتے، تو وہ تمہارے پاس آ جاتی۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الزكاة/حدیث: 3240]

3241

Sahih Ibn Hibban #3241

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الُوَلِيدُ بْنُ شُجَاعٍ السَّكُونِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلالٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : لا تَسْتَبْطِئُوا الرِّزْقَ ، فَإِنَّهُ لَمْ يَكُنْ عَبْدٌ يَمُوتُ حَتَّى يَبْلُغَهُ آخِرُ رِزْقٍ هُوَ لَهُ ، فَأَجْمِلُوا فِي الطَّلَبِ فِي الْحَلالِ ، وَتَرْكِ الْحَرَامِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”رزق کی طرف جلدی نہ کرو، کیونکہ بندہ اس وقت تک نہیں مرتا جب تک اس کے نصیب کا آخری رزق بھی اس تک نہیں پہنچ جاتا اور حلال کو طلب کرو اور حرام کو ترک کر دو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الزكاة/حدیث: 3241]

3242

Sahih Ibn Hibban #3242

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، عَنْ سَلامِ بْنِ شُرَحْبِيلٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ حَبَّةَ ، وَسَوَاءً ، ابْنِي خَالِدٍ ، يَقُولانِ : أَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَعْمَلُ عَمَلا يَبْنِي بِنَاءً ، فَلَمَّا فَرَغَ دَعَانَا ، فَقَالَ : لا تَنَافَسَا فِي الرِّزْقِ مَا هُزَّتْ رُءُوسُكُمَا ، فَإِنَّ الإِنْسَانَ تَلِدُهُ أُمُّهُ وَهُوَ أَحْمَرُ لَيْسَ عَلَيْهِ قِشْرٌ ، ثُمَّ يُعْطِيهِ اللَّهُ وَيَرْزُقُهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حبہ بن خالد اور سواء بن خالد رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت کوئی تعمیر کر رہے تھے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم فارغ ہوئے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بلوایا اور فرمایا: ”تم رزق کی طرف اس طرح سے مائل نہ ہو جانا کہ اس کے نتیجے میں تمہارے سر گھوم جائیں (یا جب تک تمہارا سر گھومتا ہے یعنی جب تک تم زندہ ہو تم مکمل طور پر رزق کی طرف ہی متوجہ نہ رہنا)، کیونکہ جب انسان کو اس کی ماں جنم دیتی ہے، تو وہ سرخ رنگ کا ہوتا ہے، اس کے اوپر کھال بھی نہیں ہوتی، پھر بھی اللہ تعالیٰ اسے عطا کرتا ہے اور اسے رزق دیتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الزكاة/حدیث: 3242]

3243

Sahih Ibn Hibban #3243

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ الضَّرِيرُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ ، قَالَ : أَتَيْنَا خَبَّابًا نَعُودُهُ ، فَقَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : إِنَّالرَّجُلَ لَيُؤْجَرُ فِي نَفَقَتِهِ كُلِّهَا إِلا فِي هَذَا التُّرَابِ "، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : مَعْنَى هَذَا الْخَبَرِ : لا يُؤْجَرُ إِذَا أَنْفَقَ فِي التُّرَابِ فَضْلا عَمَّا يَحْتَاجُ إِلَيْهِ مِنَ الْبِنَاءِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

قیس بن ابوحازم بیان کرتے ہیں: ہم سیدنا خباب رضی اللہ عنہ کی عیادت کرنے کے لیے ان کی خدمت میں حاضر ہوئے، تو انہوں نے بتایا: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”آدمی جو کچھ بھی خرچ کرتا ہے اسے اس کا اجر ملے گا ماسوائے اس کے جو اس مٹی میں ہو (یعنی جو تعمیرات وغیرہ کی جائے)۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) اس روایت کا مطلب یہ ہے: جب کوئی شخص مٹی میں وہ چیز خرچ کرے جو اس کی بنیادی ضروریات سے اضافی ہو تو اس پر اسے اجر نہیں دیا جائے گا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الزكاة/حدیث: 3243]

3244

Sahih Ibn Hibban #3244

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفِيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ ، عَنِ الْعَلاءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَقُولُ الْعَبْدُ مَالِي ، وَإِنَّمَا لَهُ مِنْ مَالِهِ ثَلاثَةٌ : مَا أَكَلَ فَأَفْنَى ، أَوْ مَا أَعْطَى فَأَبْقَى ، أَوْ لَبِسَ فَأَبْلَى ، وَمَا سِوَى ذَلِكَ ، فَهُوَ ذَاهِبٌ وَتَارِكُهُ لِلنَّاسِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”بندہ یہ کہتا ہے یہ میرا مال ہے، حالانکہ اس کے مال سے اس کو تین چیزیں ملتی ہیں: وہ چیز جسے وہ کھا کر فنا کر دے، اور جسے (اللہ کی راہ میں) دے کر باقی رکھے، اور جسے پہن کر پرانا کر دے، اس کے علاوہ جو بھی ہے وہ رخصت ہونے والا ہے، جسے وہ لوگوں کے لیے چھوڑ جائے گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الزكاة/حدیث: 3244]

3245

Sahih Ibn Hibban #3245

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْعَبْدِيُّ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ ، عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الأَنْصَارِيِّ ، أَنَّ رَجُلا أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : حَدِّثْنِي بِعَمَلٍ يُدْخِلُنِي الْجَنَّةَ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اعْبُدِ اللَّهَ لا تُشْرِكْ بِهِ شَيْئًا ، وَتُقِيمُ الصَّلاةَ ، وَتُؤْتِي الزَّكَاةَ ، وَتَصِلُ الرَّحِمَ ذَرْهَا "، يَعْنِي النَّاقَةَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اس نے عرض کی: مجھے کسی ایسے عمل کے بارے میں بتائیے جو مجھے جنت میں داخل کر دے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم اللہ کی عبادت کرو، تم کسی کو اس کا شریک نہ ٹھہراؤ، تم نماز قائم کرو، زکوٰۃ ادا کرو، صلہ رحمی کرو اور اب اسے چھوڑ دو۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد یہ تھی کہ اونٹنی کو چھوڑ دو۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الزكاة/حدیث: 3245]

3246

Sahih Ibn Hibban #3246

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عَمْرٍو الرَّبَالِيِّ ، حَدَّثَنَا بَهْزُ بْنُ أَسَدٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ ، وَأَبُوهُ عُثْمَانُ ، أَنَّهُمَا سَمِعَا مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ يُحَدِّثُ ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الأَنْصَارِيِّ ، أَنَّ رَجُلا قَالَ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، أَخْبِرْنِي بِعَمَلٍ يُدْخِلُنِي الْجَنَّةَ ، فَقَالَ الْقَوْمُ : مَالَهُ مَالَهِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَرَبٌ مَالَهُ " ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ :" تَعْبُدُ اللَّهَ لا تُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا ، وَتُقِيمُ الصَّلاةَ ، وَتُؤْتِي الزَّكَاةَ ، وَتَصِلُ الرَّحِمَ ذَرْهَا "، قَالَ : كَأَنَّهُ كَانَ عَلَى رَاحِلَتِهِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے عرض کی: ”اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے ایسے عمل کے بارے میں بتائیے جو مجھے جنت میں داخل کر دے۔“ لوگوں نے کہا: اس کا مال، اس کا مال۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «أَرَبٌ مَالُهُ» ”اسے ایک ضرورت درپیش ہے“، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم اللہ کی عبادت کرو، تم کسی کو اس کا شریک نہ ٹھہراؤ، تم نماز قائم کرو، تم زکاۃ ادا کرو، تم صلہ رحمی کرو۔“ اور فرمایا: ”اب اسے چھوڑ دو۔“ راوی کہتے ہیں کہ گویا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت سواری پر سوار تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الزكاة/حدیث: 3246]

3247

Sahih Ibn Hibban #3247

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى بْنِ يَحِيَى بْنِ عِيسَى بْنِ هِلالٍ التَّمِيمِيُّ ، بِالْمَوْصِلِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ ، حَدَّثَنَا فُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلْمٍانَ الأَغَرُّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَا مِنْ عَبْدٍ يَعْبُدُ اللَّهَ لا يُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا ، وَيُقِيمُ الصَّلاةَ ، وَيُؤْتِي الزَّكَاةَ ، وَيَصُومُ رَمَضَانَ ، وَيَجْتَنِبُ الْكَبَائِرَ إِلا دَخَلَ الْجَنَّةَ "، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : لِسَلْمَانَ الأَغَرِّ ابْنَانِ : أَحَدُهُمَا عَبْدُ اللَّهِ ، وَالآخَرُ : عُبَيْدُ اللَّهِ ، وَجَمِيعًا حَدَّثَا عَنْ أَبِيهِمَا ، وَهَذَا عَبْدُ اللَّهِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جو بندہ بھی اللہ کی عبادت کرتا ہو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو، وہ نماز قائم کرتا ہو، زکاۃ ادا کرتا ہو، رمضان کے روزے رکھتا ہو اور کبیرہ گناہوں سے اجتناب کرتا ہو، تو وہ جنت میں داخل ہو جائے گا۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) سلمان اغر نامی راوی کے دو بیٹے ہیں، ان میں سے ایک عبداللہ ہے اور دوسرا عبیداللہ ہے اور ان دونوں نے اپنے والد کے حوالے سے یہ روایت نقل کی ہے، یہاں اس کا راوی عبداللہ ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الزكاة/حدیث: 3247]

3248

Sahih Ibn Hibban #3248

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنِ الْعَلاءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : مَا نَقَصَتْ صَدَقَةٌ مِنْ مَالٍ ، وَلا زَادَ اللَّهُ عَبْدًا بِعَفُوٍ إِلا عِزًّا ، وَلا تَوَاضَعَ أَحَدٌ لِلَّهِ إِلا رَفَعَهُ اللَّهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”صدقہ مال میں کوئی کمی نہیں کرتا اور معاف کرنے کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ بندے کی عزت میں اضافہ کرتا ہے اور جو شخص اللہ تعالیٰ کے لیے عاجزی اختیار کرتا ہے اللہ تعالیٰ اسے سربلندی عطا کرتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الزكاة/حدیث: 3248]