Muslim99Muslim99

Sahih Ibn Hibban · Book 29 · Chapter 2

Book of Transfer of Debt

Continuation of the Book of Prayer

9 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

3200

Sahih Ibn Hibban #3200

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سِمَاكٍ الْحَنَفِيِّ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ ، يَقُولُ : صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْبَيْتِ ، وَسَيَأْتِي مَنْ يَنْهَى عَنْ ذَلِكَ وَابْنُ عَبَّاسٍ جَالِسٌ إِلَى جَنْبِهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سماک حنفی بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو یہ کہتے ہوئے سنا: ”نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خانہ کعبہ کے اندر نماز ادا کی ہے اور عنقریب وہ شخص آ جائے گا جو اس سے منع کرے گا“ (راوی کہتے ہیں) سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اس وقت ان کے پہلو میں بیٹھے ہوئے تھے۔ [صحیح ابن حبان/تتمة كتاب الصلاة/حدیث: 3200]

3201

Sahih Ibn Hibban #3201

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي عَوْنٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ عِيسَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى ، عَنْ حَنْظَلَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْبَيْتِ بَيْنَ السَّارِيَتَيْنِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خانہ کعبہ کے اندر دو ستونوں کے درمیان نماز ادا کی تھی۔ [صحیح ابن حبان/تتمة كتاب الصلاة/حدیث: 3201]

3202

Sahih Ibn Hibban #3202

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي حَسَّانُ بْنُ عَطِيَّةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا نَافِعٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْفَتْحِ الْكَعْبَةَ وَمَعَهُ بِلالٌ ، وَعُثْمَانُ بْنُ طَلْحَةَ ، فَأَغْلَقُوا عَلَيْهِمُ الْبَابَ مِنْ دَاخِلٍ ، فَلَمَّا خَرَجُوا ، سَأَلْتُ بِلالا ، قُلْتُ : أَيْنَ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ : رَأَيْتُهُ صَلَّى عَلَى وَجْهِهِ حِينَ دَخَلَ بَيْنَ الْعَمُودَيْنِ عَنْ يَمِينِهِ "، ثُمَّ لُمْتُ نَفْسِي أَنْ لا أَكُونَ سَأَلْتُهُ كَمْ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ فتحِ مکہ کے موقع پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خانہ کعبہ کے اندر تشریف لے گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ اور سیدنا عثمان بن طلحہ رضی اللہ عنہ بھی تھے، ان حضرات نے داخل ہونے والوں کے لیے دروازہ بند کر دیا، جب یہ حضرات باہر تشریف لائے تو میں نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا، میں نے کہا: ”نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کہاں نماز ادا کی تھی؟“ انہوں نے جواب دیا: ”میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اندر تشریف لانے کے بعد سامنے کی طرف رخ کر کے دائیں طرف موجود دو ستونوں کے درمیان نماز ادا کی تھی۔“ (سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں:) پھر میں نے اپنے آپ کو یہ ملامت کی کہ میں نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ سے یہ دریافت کیوں نہیں کیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کتنی رکعات ادا کی تھیں۔ [صحیح ابن حبان/تتمة كتاب الصلاة/حدیث: 3202]

3203

Sahih Ibn Hibban #3203

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْبَيْتَ وَمَعَهُ أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ ، وَبِلالٌ ، وَعُثْمَانُ بْنُ طَلْحَةَ ، فَأَجَافُوا الْبَابَ عَلَيْهِمْ طَوِيلا ، ثُمَّ فُتِحَ ، فَكُنْتُ أَوْلَ مَنْ دَخَلَ ، فَلَقِيتُ بِلالا ، فَقُلْتُ :أَيْنَ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ فَقَالَ : بَيْنَ الْعَمُودَيْنِ الْمُقَدَّمَيْنِ "، فَنَسِيتُ أَنْ أَسْأَلَهُ كَمْ صَلَّى"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خانہ کعبہ کے اندر تشریف لے گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما، سیدنا بلال رضی اللہ عنہ اور سیدنا عثمان بن طلحہ رضی اللہ عنہ تھے، ان حضرات نے دروازے کو کافی دیر بند رکھا پھر اسے کھول دیا گیا، تو سب سے پہلے میں اندر داخل ہوا، میری ملاقات سیدنا بلال رضی اللہ عنہ سے ہوئی، تو میں نے دریافت کیا: ”نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کہاں نماز ادا کی ہے؟“ انہوں نے جواب دیا: ”سامنے والے دو ستونوں کے درمیان۔“ (سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں:) مجھے یہ خیال نہیں رہا کہ میں ان سے یہ دریافت کروں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کتنی رکعات ادا کی ہیں۔ [صحیح ابن حبان/تتمة كتاب الصلاة/حدیث: 3203]

3204

Sahih Ibn Hibban #3204

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ الْكَعْبَةَ هُوَ وَأُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ ، وَعُثْمَانُ بْنُ طَلْحَةَ ، وَبِلالُ بْنُ رَبَاحٍ مَعَهُ ، فَأَغْلَقَهَا عَلَيْهِ وَمَكَثَ فِيهَا ، قَالَ ابْنُ عُمَرَ : فَسَأَلْتُ بِلالا حِينَ خَرَجَ ،أَيْنَ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ : جَعَلَ عَمُودًا عَنْ يَسَارِهِ ، وَعَمُودَيْنِ عَنْ يَمِينِهِ ، وَثَلاثَةَ أَعْمِدَةٍ وَرَاءَهُ " ، وَكَانَ الْبَيْتُ يَوْمَئِذٍ عَلَى سِتَّةِ أَعْمِدَةٍ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ، سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ، سیدنا عثمان بن طلحہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا بلال رضی اللہ عنہ خانہ کعبہ کے اندر داخل ہوئے، تو ان حضرات نے دروازے کو بند کر دیا، وہ اندر ٹھہرے رہے۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے، تو میں نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کہاں نماز ادا کی ہے؟ تو انہوں نے بتایا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ستون کو اپنے بائیں طرف رکھا اور دو ستونوں کو اپنے دائیں طرف رکھا اور تین ستونوں کو اپنے پیچھے کی طرف رکھا۔ (راوی بیان کرتے ہیں:) ان دنوں خانہ کعبہ کے اندر چھ ستون ہوتے تھے۔ [صحیح ابن حبان/تتمة كتاب الصلاة/حدیث: 3204]

3205

Sahih Ibn Hibban #3205

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ أَبِي الشَّعْثَاءِ ، قَالَ : رَأَيْتُ ابْنَ عُمَرَ ،دَاخِلَ الْبَيْتِ حَتَّى إِذَا كَانَ بَيْنَ السَّارِيَتَيْنِ صَلَّى أَرْبَعًا ، فَقُمْتُ إِلَى جَنْبِهِ فَلَمَّا صَلَّى ، قُلْتُ : أَيْنَ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ : هَاهُنَا "، أَخْبَرَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ ، أَنَّهُ رَأَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : سَمِعَ هَذَا الْخَبَرَ ابْنُ عُمَرَ عَنْ بِلالٍ ، وَأُسَامَةِ بْنِ زَيْدٍ ، لأَنَّهُمَا كَانَا مَعَ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْكَعْبَةِ فَمَرَّةً أَدَّى الْخَبَرَ عَنْ بِلالٍ ، وَمَرَّةً أُخْرَى عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ فَالطَّرِيقَانِ جَمِيعًا مَحْفُوظَانِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابوشعثاء بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو دیکھا کہ وہ خانہ کعبہ کے اندر تشریف لے گئے، یہاں تک کہ جب وہ دو ستونوں کے درمیان پہنچے، تو انہوں نے چار رکعات ادا کیں۔ میں ان کے پاس کھڑا ہو گیا، جب انہوں نے نماز ادا کر لی، تو میں نے دریافت کیا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کہاں نماز ادا کی تھی؟ انہوں نے جواب دیا: ”یہاں۔“ مجھے سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما نے یہ بات بتائی ہے، انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو (یہاں) نماز ادا کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں): سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے یہ روایت سیدنا بلال رضی اللہ عنہ اور سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما سے سنی ہے؛ کیونکہ خانہ کعبہ میں یہ دونوں حضرات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ موجود تھے، تو ایک مرتبہ انہوں نے یہ روایت سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نقل کر دی اور دوسری مرتبہ یہ روایت سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کے حوالے سے نقل کر دی، تو اس کے دونوں طرق محفوظ ہیں۔ [صحیح ابن حبان/تتمة كتاب الصلاة/حدیث: 3205]

3206

Sahih Ibn Hibban #3206

أَخْبَرَنَا رَوْحُ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ بِبَلَدِ الْمَوْصِلِ قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الأَذْرَمِيُّ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يُصَلِّي وَبَيْنَهُ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ مِقْدَارُ ثَلاثَةِ أَذْرُعٍ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز ادا کر رہے ہوتے تھے جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور قبلہ کے درمیان تین بالشت کا فاصلہ ہوتا تھا۔ [صحیح ابن حبان/تتمة كتاب الصلاة/حدیث: 3206]

3207

Sahih Ibn Hibban #3207

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَطَاءٌ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ الْكَعْبَةَ وَفِيهَا سِتُّ سَوَارٍ ، فَقَامَ عِنْدَ كُلِّ سَارِيَةٍ وَدَعَا وَلَمْ يُصَلِّ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خانہ کعبہ کے اندر تشریف لے گئے، اس میں چھ ستون تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہر ستون کے پاس کھڑے ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا مانگی، وہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز ادا نہیں کی۔ [صحیح ابن حبان/تتمة كتاب الصلاة/حدیث: 3207]

3208

Sahih Ibn Hibban #3208

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَيَّانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ بْنُ مَخْلَدٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ : قُلْتُ لِعَطَاءٍ : أَسَمِعْتَ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ : إِنَّمَا أُمِرْتُمْ بِالطَّوَافِ وَلَمْ تُؤْمَرُوا بِدُخُولِهِ ؟ قَالَ : لَمْ يَكُنْ يَنْهَى عَنْ دُخُولِهِ ، وَلَكِنْ سَمِعْتُهُ يَقُولُ : أَخْبَرَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَلَمَّا دَخَلَ الْبَيْتَ ، دَعَا فِي نَوَاحِيهِ كُلِّهَا وَلَمْ يُصَلِّ فِيهِ ، حَتَّى خَرَجَ ، فَصَلَّى عِنْدَ الْبَابِ ، وَقَالَ : هَاهُنَا قِبْلَةٌ " فَصَلِّهِ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : هَذَانِ خَبَرَانِ قَدْ عَوَّلَ أَئِمَّتُنَا رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَيْهِمْ وَرِضْوَانُهُ عَلَى الْكَلامِ فِيهِمَا عَلَى النَّفْيِ وَالإِثْبَاتِ ، وَزَعَمُوا أَنَّ بِلالا ، أَثْبَتَ صَلاةَ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْكَعْبَةِ ، وَابْنُ عَبَّاسٍ ، يَنْفِيهَا ، وَالْحَكَمُ الْمُثْبِتُ لِلشَّيْءِ أَبَدًا ، لا لِمَنْ يَنْفِيهِ ، وَهَذَا شَيْءٌ يَلْزَمُنَا فِي قِصَّةِ أُحُدٍ فِي نَفْيِ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، الصَّلاةَ عَلَى شُهَدَاءِ أُحُدٍ ، وَغَسْلَهُمْ فِي ذَلِكَ الْيَوْمِ ، وَالأَشْبَهُ عِنْدِي فِي الْفَصْلِ بَيْنَ هَذَيْنِ الْخَبَرَيْنِ بِأَنْ يُجْعَلا فِي فِعْلَيْنِ مُتَبَايِنَيْنِ ، فَيُقَالُ : إِنَّ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا فَتَحَ مَكَّةَ دَخَلَ الْكَعْبَةَ فَصَلَّى فِيهَا عَلَى مَا ، رَوَاهُ أَصْحَابُ ابْنِ عُمَرَ ، عَنْ بِلالٍ ، وَأُسَامَةِ بْنِ زَيْدٍ ، وَكَانَ ذَلِكَ يَوْمَ الْفَتْحِ ، كَذَلِكَ قَالَهُ حَسَّانُ بْنُ عَطِيَّةَ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، وَيُجْعَلُ نَفْيُ ابْنِ عَبَّاسٍ صَلاةَ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْكَعْبَةِ فِي حَجَّتِهِ الَّتِي حَجَّ فِيهَا ، حَتَّى يَكُونَ فِعْلانِ فِي حَالَتَيْنِ مُتَبَايِنَتَيْنِ ، لأَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ نَفَى الصَّلاةَ فِي الْكَعْبَةِ عَنِ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَزَعَمَ أَنَّ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ أَخْبَرَهُ بِذَلِكَ ، وَأَخْبَرَ أَبُو الشَّعْثَاءِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى فِي الْبَيْتِ ، وَزَعَمَ أَنَّ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ أَخْبَرَهُ بِذَلِكَ ، فَإِنْ حُمِلَ الْخَبَرَانِ عَلَى مَا وَصَفْنَا فِي الْمَوْضِعَيْنِ الْمُتَبَايِنَيْنِ بَطَلَ التَّضَادُّ بَيْنَهُمَا ، وَصَحَّ اسْتِعْمَالُ كُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابن جریج بیان کرتے ہیں: میں نے عطاء سے دریافت کیا: کیا آپ نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے: ”تم لوگوں کو (خانہ کعبہ کا) طواف کرنے کا حکم دیا گیا ہے، تمہیں اس کے اندر داخل ہونے کا حکم نہیں دیا گیا“؟ تو عطاء نے جواب دیا: سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اس کے اندر جانے سے منع نہیں کرتے تھے، تاہم میں نے انہیں یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے، وہ کہتے ہیں: سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما نے مجھے بتایا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب خانہ کعبہ کے اندر تشریف لے گئے تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے تمام گوشوں میں دعا مانگی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے اندر نماز ادا نہیں کی تھی، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خانہ کعبہ کے دروازے کے قریب نماز ادا کر کے یہ ارشاد فرمایا: ”قبلہ اس طرف ہے، تم اس کی طرف رخ کر کے نماز ادا کرو۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) ان دونوں روایات کی ہمارے ائمہ نے یہ تاویل بیان کی ہے کہ ان دونوں میں مذکور کلام کو نفی اور اثبات پر محمول کیا جائے گا، ان حضرات نے یہ بات بیان کی ہے کہ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے خانہ کعبہ کے اندر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز ادا کرنے کے اثبات کا ذکر کیا ہے اور سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے اس کی نفی کی ہے، تو کسی چیز کو ثابت کرنے کا حکم اسے بدل دیتا ہے جو اس کی نفی کر رہا ہو۔ اور واقعۂ احد میں یہ چیز ہم پر لازم ہوتی ہے کہ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے غزوۂ احد کی نمازِ جنازہ ادا کرنے اور اس دن میں ان حضرات کو غسل دینے کی نفی کی ہے اور میرے نزدیک زیادہ مناسب یہ ہے کہ ان دونوں روایات میں فصل کیا جائے کہ ان دونوں میں مذکورہ فعل کو دو مختلف صورتوں پر محمول کیا جائے اور یہ بات کہی جائے کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ فتح کیا تھا اور خانہ کعبہ کے اندر تشریف لے گئے تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں نماز ادا کی تھی، جیسا کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے شاگردوں نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ اور سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کے حوالے سے یہ بات نقل کی ہے اور یہ فتحِ مکہ کے دن کی بات ہے، جس کا ذکر حسان بن عطیہ نے نافع کے حوالے سے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے کیا ہے، جبکہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے نماز ادا کرنے کی نفی کو اس صورتِ حال پر محمول کیا جائے کہ وہ یہ کہتے ہیں کہ سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما نے انہیں اس بارے میں بتایا ہے، جبکہ ابوالشعثاء نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے حوالے سے یہ بات نقل کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خانہ کعبہ کے اندر نماز ادا کی تھی اور وہ یہ کہتے ہیں کہ سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما نے انہیں اس بارے میں بتایا تھا۔ سو جب اس روایت کو اس صورتِ حال پر محمول کیا جائے گا جس کا ذکر ہم نے کیا ہے، جو دو مختلف موقعوں کی بات ہے، تو اس صورت میں ان کے درمیان تضاد ختم ہو جائے گا اور ان میں سے ہر ایک کو مخصوص صورتِ حال پر محمول کیا جا سکے گا۔ [صحیح ابن حبان/تتمة كتاب الصلاة/حدیث: 3208]