Muslim99Muslim99

Sahih Ibn Hibban · Book 29 · Chapter 1

Book of Transfer of Debt

Hadith 3182–3199

18 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

3182

Sahih Ibn Hibban #3182

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَسْبَاطُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : لَعَنَ اللَّهُ قَوْمًا اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسَاجِدَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اللہ تعالیٰ ان لوگوں پر لعنت کرے جنہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو مساجد بنا لیا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 3182]

3183

Sahih Ibn Hibban #3183

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْعَبْدِيُّ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ نُبَيْحٍ الْعَنَزِيِّ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّهُ قَالَ : فِي قَتْلَى أُحُدٍ حَمَلُوا قَتْلاهُمْ ، فَنَادَى مُنَادِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَنْرُدُّوا الْقَتْلَى إِلَى مَصَارِعِهِمْ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما احد کے مقتولین کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں: کچھ لوگوں نے اپنے مقتولین کو وہاں سے منتقل کر دیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے اعلان کرنے والے نے یہ اعلان کیا: ”مقتولین کو ان کی قتل گاہ کی طرف واپس لے آئیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 3183]

3184

Sahih Ibn Hibban #3184

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنِ الأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ نُبَيْحٍ الْعَنَزِيِّ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْمَدِينَةِ إِلَى الْمُشْرِكِينَ لِيُقَاتِلَهُمْ ، فَقَالَ لِي أَبِي عَبْدِ اللَّهِ : يَا جَابِرُ ، لا عَلَيْكَ أَنْ تَكُونَ فِي نُظَّارِ أَهْلِ الْمَدِينَةِ ، حَتَّى تَعْلَمَ إِلَى مَا يَصِيرُ أَمْرُنَا ، فَإِنِّي وَاللَّهِ لَوْلا أَنِّي أَتْرُكُ بَنَاتٍ لِي بَعْدِي لأَحْبَبْتُ أَنْ تُقْتَلَ بَيْنَ يَدَيَّ ، فَبَيْنَما أَنَا فِي النَّظَّارِينَ ، إِذْ جَاءَ ابْنُ عَمَّتِي بِأَبِي وَخَالِي ، عَادَلَهُمَا عَلَى نَاضِحٍ ، فَدَخَلَ بِهِمَا الْمَدِينَةَ ، لِيَدْفِنَهُمَا فِي مَقَابِرِنَا ، إِذْ لَحِقَ رَجُلٌ يُنَادِي : أَلا إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَيَأْمُرُكُمْ أَنْ تَرْجِعُوا بِالْقَتْلَى ، فَتَدْفِنُوهَا فِي مَصَارِعِهَا حَيْثُ قُتِلَتْ " ، قَالَ : فَرَجَعْنَاهُمَا مَعَ الْقَتْلَى حَيْثُ قُتِلَتْ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : فَرَجَعْنَاهُمَا أُضْمِرَ فِي : فَدَفَنَّاهُمَا"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ سے مشرکین کی طرف جانے کے لیے روانہ ہوئے تاکہ ان کے ساتھ جنگ کریں، تو میرے والد سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے مجھ سے فرمایا: اے جابر! تم پر کوئی حرج نہیں ہوگا اگر تم مدینہ میں رک جانے والے لوگوں میں شامل رہو، یہاں تک کہ تمہیں پتا چل جائے ہمارا کیا بنا، کیونکہ اللہ کی قسم! اگر میں اپنے بعد بیٹیاں نہ چھوڑتا، تو مجھے یہ بات پسند تھی کہ تم میرے سامنے شہید ہو جاتے (سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں)، تو میں مدینہ منورہ میں ہی رک گیا، اسی دوران میری پھوپھی کا بیٹا میرے والد اور میرے ماموں کی لاش لے کر آیا، وہ اونٹ پر رکھ کر انہیں لایا تھا، وہ انہیں لے کر مدینہ منورہ آگیا تھا تاکہ ان دونوں کو ہمارے قبرستان میں دفن کرے، اسی دوران ایک شخص نے یہ اعلان کیا: ”خبردار! بے شک نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تم لوگوں کو یہ حکم دے رہے ہیں کہ تم مقتولین کو واپس لے جاؤ اور انہیں میدان میں اسی جگہ دفن کرو جہاں وہ شہید کیے گئے تھے“۔ راوی کہتے ہیں: تو ہم نے ان دونوں صاحبان کو بھی مقتولین کے ہمراہ وہیں لٹا دیا جہاں وہ شہید ہوئے تھے۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں): روایت کے یہ الفاظ کہ: ہم ان دونوں کو واپس لے آئے، اس سے مراد یہ ہے کہ ہم نے انہیں وہاں دفن کیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 3184]

3185

Sahih Ibn Hibban #3185

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَهْمٍ الأَنْطَاكِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ الْفَزَارِيُّ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَالِكِ بْنِ يَخَامِرَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ جُرِحَ جُرْحًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، جَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يَدْمَى ، اللَّوْنُ لَوْنُ دَمٍ ، وَالرِّيحُ رِيحِ مِسْكٍ ، وَمَنْ جُرِحَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ طُبِعَ بِطَابَعِ الشُّهَدَاءِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”جو شخص اللہ کی راہ میں زخمی ہو جائے، تو جب وہ قیامت کے دن آئے گا، تو اس کا خون بہہ رہا ہوگا، جس کا رنگ خون جیسا ہوگا اور خوشبو مشک کی خوشبو جیسی ہو گی اور جو شخص اللہ کی راہ میں زخمی ہو جائے اس پر شہداء کی مہر لگا دی جاتی ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 3185]

3186

Sahih Ibn Hibban #3186

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ تَعُدُّونَ الشُّهَدَاءَ فِيكُمْ ؟ " قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَنْ قُتِلَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَهُوَ شَهِيدٌ قَالَ : " إِنَّ شُهَدَاءَ أُمَّتِي إِذًا لَقَلِيلٌ " قَالُوا : مَنْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ :" مَنْ قُتِلَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، فَهُوَ شَهِيدٌ ، وَمَنْ مَاتَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَهُوَ شَهِيدٌ ، وَمَنْ مَاتَ فِي الطَّاعُونِ فَهُوَ شَهِيدٌ ، وَمَنْ مَاتَ فِي بَطْنٍ فَهُوَ شَهِيدٌ "، قَالَ سُهَيْلٌ : وَأَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مِقْسَمٍ ، قَالَ : أَشْهَدُ عَلَى أَبِيكَ ، أَنَّهُ زَادَ فِي الْحَدِيثِ الْخَامِسَ وَمَنْ غَرِقَ فَهُوَ شَهِيدٌ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم لوگ اپنے درمیان کسے شہید شمار کرتے ہو؟“ لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! جو شخص اللہ کی راہ میں قتل ہو جائے وہ شہید ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اس صورت میں میری امت کے شہداء تھوڑے ہوں گے۔“ لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! پھر کون (شہید ہیں؟) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جو اللہ کی راہ میں قتل ہو جائے وہ شہید ہے، جو اللہ کی راہ میں مر جائے وہ شہید ہے، جو شخص طاعون کی وجہ سے مر جائے وہ شہید ہے، جو شخص پیٹ کی بیماری کی وجہ سے مر جائے وہ شہید ہے۔“ سہیل نامی راوی نے یہ بات بیان کی ہے کہ عبیداللہ بن مقسم نے مجھے بتایا: میں تمہارے والد کے حوالے سے گواہی دے کر یہ بات بیان کرتا ہوں کہ انہوں نے حدیث میں پانچویں شخص کا بھی تذکرہ کیا تھا کہ: ”جو شخص ڈوب کر مر جائے وہ شہید ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 3186]

3187

Sahih Ibn Hibban #3187

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ تَعُدُّونَ الشُّهَدَاءَ فِيكُمْ ؟ " قَالُوا :مَنْ قُتِلَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَهُوَ شَهِيدٌ ، قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَمَنْ مَاتَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَهُوَ شَهِيدٌ ، وَمَنْ مَاتَ فِي طَاعُونٍ فَهُوَ شَهِيدٌ "، قَالَ : وَحَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مِقْسَمٍ ، أَنَّهُ قَالَ : وَأَشْهَدُ عَلَى أَبِيكَ ، أَنَّهُ زَادَ : " وَمَنْ غَرِقَ فَهُوَ شَهِيدٌ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”تم اپنے درمیان کسے شہید قرار دیتے ہو؟“ لوگوں نے عرض کی: وہ شخص جو اللہ کی راہ میں قتل ہو جائے وہ شہید ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جو شخص اللہ کی راہ میں (جہاد یا حج کے لیے جاتے ہوئے) مر جائے وہ شہید ہے، جو شخص طاعون کی وجہ سے مر جائے وہ شہید ہے۔“ راوی بیان کرتے ہیں کہ عبیداللہ بن مقسم نے مجھے یہ حدیث بیان کی ہے، وہ یہ کہتے ہیں: میں تمہارے والد کے بارے میں گواہی دے کر یہ بات بیان کرتا ہوں کہ انہوں نے حدیث میں یہ الفاظ بھی نقل کیے ہیں: ”(جو شخص ڈوب) کر مر جائے وہ شہید ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 3187]

3188

Sahih Ibn Hibban #3188

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ سُمَيٍّ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : الشَّهِيدُ خَمْسَةٌ : الْمَبْطُونُ ، وَالْمَطْعُونُ ، وَالْغَرِقُ ، وَصَاحِبُ الْهَدْمِ ، وَالشَّهِيدُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”شہید پانچ قسم کے ہیں: پیٹ کی بیماری سے مرنے والا، طاعون کی بیماری سے مرنے والا، ڈوب کر مرنے والا، ملبے کے نیچے آ کر مرنے والا اور اللہ کی راہ میں (جنگ کے دوران قتل) ہو کر شہید ہونے والا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 3188]

3189

Sahih Ibn Hibban #3189

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الأَنْصَارِيُّ ، أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَابِرِ بْنِ عَتِيكٍ ، عَنْ عَتِيكِ بْنِ الْحَارِثِ ، وَهُوَ جَدُّ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَبُو أُمِّهِ ، أَنَّ جَابِرَ بْنَ عَتِيكٍ ، أَخْبَرَهُ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَ يَعُودُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ ثَابِتٍ ، فَوَجَدَهُ قَدْ غُلِبَ عَلَيْهِ ، فَصَاحَ بِهِ ، فَلَمْ يُجِبْهُ ، فَاسْتَرْجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَقَالَ : غُلِبْنَا عَلَيْكَ يَا أَبَا الرَّبِيعِ " فَصَاحَ النِّسْوَةُ وَبَكَيْنَ ، وَجَعَلَ ابْنُ عَتِيكٍ يُسَكِّتُهُنَّ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " دَعْهُنَّ فَإِذَا وَجَبَ فَلا تَبْكِيَنَّ بَاكِيَةٌ " ، قَالُوا : وَمَا الْوُجُوبُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " إِذَا مَاتَ " قَالَتِ ابْنَتُهُ : وَاللَّهِ إِنِّي كُنْتُ لأَرْجُو أَنْ تَكُونَ شَهِيدًا فَإِنَّكَ كُنْتَ قَدْ قَضَيْتَ جِهَازَكَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ اللَّهَ قَدْ أَوْقَعَ أَجْرَهُ عَلَى قَدْرِ نِيَّتِهِ ، وَمَا تَعُدُّونَ الشَّهَادَةَ ؟ " قَالُوا : الْقَتْلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ :" الشَّهَادَةُ سَبْعٌ سِوَى الْقَتْلِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ : الْمَبْطُونُ شَهِيدٌ ، وَالْغَرِيقُ شَهِيدٌ ، وَصَاحِبُ ذَاتِ الْجَنْبِ شَهِيدٌ ، وَالْمَطْعُونُ شَهِيدٌ ، وَصَاحِبُ الْحَرِيقِ شَهِيدٌ ، وَالَّذِي يَمُوتُ تَحْتَ الْهَدْمِ شَهِيدٌ ، وَالْمَرْأَةُ تَمُوتُ بِجَمْعٍ شَهِيدٌ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر بن عتیک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا عبداللہ بن ثابت رضی اللہ عنہ کی عیادت کرنے کے لیے تشریف لائے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ایسی حالت میں پایا کہ وہ مغلوب ہو چکے تھے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بلند آواز میں پکارا، لیکن انہوں نے کوئی جواب نہیں دیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے «إِنَّا لِلّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ» پڑھا اور فرمایا: ”اے ابوربیع! تمہارا معاملہ ہمارے بس سے باہر ہے“، تو خواتین نے بلند آواز سے رونا شروع کر دیا، سیدنا جابر بن عتیک رضی اللہ عنہ انہیں خاموش کروانے لگے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”انہیں کرنے دو، جب وہ واجب ہو جائے، تو پھر کوئی رونے والی نہ روئے“، لوگوں نے دریافت کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! واجب ہونے سے مراد کیا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب ان کا انتقال ہو جائے“، ان کی صاحبزادی نے کہا: اللہ کی قسم! مجھے یہ امید ہے کہ آپ شہید ہوں گے، کیونکہ آپ نے اپنی تیاری مکمل کی ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”بے شک اللہ تعالیٰ اس کی نیت کے مطابق اس کا اجر عطا کرے گا، تم لوگ کسے شہادت شمار کرتے ہو؟“ لوگوں نے عرض کی: اللہ کی راہ میں قتل ہونے کو، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اللہ کی راہ میں قتل ہونے کے علاوہ بھی شہادت کی سات قسمیں ہیں: پیٹ کی بیماری سے مرنے والا شہید ہے، ڈوب کر مرنے والا شہید ہے، نمونیے کی بیماری سے مرنے والا شہید ہے، طاعون سے مرنے والا شہید ہے، جل کر مرنے والا شہید ہے، ملبے کے نیچے آنے والا شہید ہے اور زچگی کے وقت مرنے والی عورت شہید ہے“۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 3189]

3190

Sahih Ibn Hibban #3190

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الأَنْصَارِيُّ ، أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَابِرِ بْنِ عَتِيكٍ ، عَنْ عَتِيْكِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ عَتِيكٍ وَهُوَ جَدُّ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَبُو أُمِّهِ ، أَنَّ جَابِرَ بْنَ عَتِيكٍ أَخْبَرَهُ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَ يَعُودُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ ثَابِتٍ ، فَوَجَدَهُ قَدْ غُلِبَ عَلَيْهِ ، فَصَاحَ بِهِ ، فَلَمْ يُجِبْهُ ، فَاسْتَرْجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَقَالَ : غُلِبْنَا عَلَيْكَ يَا أَبَا الرَّبِيعِ " ، فَصَاحَتِ النِّسْوَةُ وَبَكَيْنَ ، وَجَعَلَ ابْنُ عَتِيكٍ يُسَكِّتُهُنَّ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " دَعْهُنَّ فَإِذَا وَجَبَ فَلا تَبْكِيَنَّ بَاكِيَةٌ " ، قَالُوا : وَمَا الْوُجُوبُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " إِذَا مَاتَ " ، قَالَتْ ابْنَتُهُ : وَاللَّهِ إِنِّي كُنْتُ لأَرْجُو أَنْ تَكُونَ شَهِيدًا ، فَإِنَّكَ كُنْتَ قَدْ قَضَيْتَ جِهَازَكَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ : " إِنَّ اللَّهَ قَدْ أَوْقَعَ أَجْرَهُ عَلَى قَدْرِ نِيَّتِهِ ، وَمَا تَعُدُّونَ الشَّهَادَةُ ؟ " قَالُوا : الْقَتْلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ :" الشَّهَادَةُ سَبْعٌ سِوَى الْقَتْلِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ : الْمَبْطُونُ شَهِيدٌ ، وَالْغَرِيقُ شَهِيدٌ ، وَصَاحِبُ ذَاتِ الْجَنْبِ شَهِيدٌ ، وَالْمَطْعُونُ شَهِيدٌ ، وَصَاحِبُ الْحَرِيقُ شَهِيدٌ ، وَالَّذِي يَمُوتُ تَحْتَ الْهَدْمِ شَهِيدٌ ، وَالْمَرْأَةُ تَمُوتُ بِجُمْعٍ شَهِيدٌ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر بن عتیک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا عبداللہ بن ثابت رضی اللہ عنہ کی عیادت کرنے کے لیے تشریف لائے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ایسی حالت میں پایا کہ انہیں اپنا ہوش نہیں تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بلند آواز میں پکارا، تو انہوں نے کوئی جواب نہیں دیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے «إِنَّا لِلّٰهِ وَإِنَّآ إِلَيْهِ رَاجِعُونَ» ”بے شک ہم اللہ ہی کے لیے ہیں اور ہم اسی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں“ پڑھا اور ارشاد فرمایا: ”اے ابوربیع! تمہارا معاملہ ہمارے بس سے باہر ہے۔“ تو خواتین نے بلند آواز سے رونا شروع کر دیا۔ سیدنا جابر بن عتیک رضی اللہ عنہ نے انہیں خاموش کروانے کی کوشش کی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انہیں رونے دو، جب وہ واجب ہو جائے، تو پھر کوئی نہ روئے۔“ لوگوں نے دریافت کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! واجب ہونے سے مراد کیا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب اس کا انتقال ہو جائے۔“ ان کی صاحب زادی نے کہا: اللہ کی قسم! مجھے یہ امید ہے کہ یہ شہید ہوں گے، کیونکہ انہوں نے اپنی تیاری مکمل کر لی تھی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ اس کی نیت کے مطابق اسے اجر عطا کرے گا۔ تم لوگ کسے شہادت شمار کرتے ہو؟“ لوگوں نے عرض کی: اللہ کی راہ میں قتل ہونے کو۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اس کے علاوہ بھی سات قسمیں ہیں: پیٹ کی بیماری سے مرنے والا شہید ہے، ڈوب کر مرنے والا شہید ہے، نمونیے کی بیماری سے مرنے والا شہید ہے، طاعون سے مرنے والا شہید ہے، جل کر مرنے والا شہید ہے، ملبے کے نیچے آ کر مرنے والا شہید ہے اور زچگی کے وقت فوت ہونے والی عورت شہید ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 3190]

3191

Sahih Ibn Hibban #3191

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ الْخَلالُ ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ عُبَيْدٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ ثَوْبَانَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ مَكْحُولٍ ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ يَخَامِرَ السَّكْسَكِيِّ ، أَنَّ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ جُرِحَ جُرْحًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، جَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ رِيحُهُ كَرِيحِ الْمِسْكِ ، لَوْنُهُ لَوْنَ الزَّعْفَرَانِ ، عَلَيْهِ طَابَعُ الشُّهَدَاءِ ، وَمَنْ سَأَلَ اللَّهَ الشَّهَادَةَ مُخْلِصًا ، أَعْطَاهُ اللَّهُ أَجْرَ شَهِيدٍ ، وَإِنَّ مَاتَ عَلَى فِرَاشِهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”جس شخص کو اللہ کی راہ میں زخمی کر دیا جائے، تو جب وہ قیامت کے دن آئے گا، تو اس کی خوشبو مشک کی خوشبو کی مانند ہو گی اور اس کا رنگ زعفران کے رنگ کی مانند ہو گا، اس پر شہدا کی مہر لگی ہوئی ہو گی اور جو شخص خلوص کے ساتھ اللہ تعالیٰ سے شہادت کا سوال کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اسے شہید کا اجر عطا کرتا ہے، اگرچہ وہ شخص اپنے بستر پر فوت ہو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 3191]

3192

Sahih Ibn Hibban #3192

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ شُرَيْحٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ : مَنْ سَأَلَ اللَّهَ الشَّهَادَةَ بِصِدْقٍ ، بَلَّغَهُ اللَّهُ مَنَازِلَ الشُّهَدَاءِ وَإِنْ مَاتَ عَلَى فِرَاشِهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سہل بن ابو امامہ اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا رضی اللہ عنہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جو شخص صدقِ دل سے اللہ تعالیٰ سے شہادت مانگتا ہے، اللہ تعالیٰ اسے شہداء کے مرتبے پر فائز کرے گا، اگرچہ وہ شخص اپنے بستر پر فوت ہو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 3192]

3193

Sahih Ibn Hibban #3193

وَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ حَمَلَ عَلَيْنَا السِّلاحَ فَلَيْسَ مِنَّا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

امام زین العابدین رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے ہمیں یہ حدیث بیان کی، ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے ہاں موجود تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کچھ اصحاب بھی موجود تھے، اسی دوران ایک شخص آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اس نے عرض کی: ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اتنی کھجوروں کا صدقہ (یعنی زکات) کتنا ہو گا؟“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اتنا۔“ اس نے عرض کی: ”فلاں صاحب نے میرے ساتھ زیادتی کی ہے، انہوں نے مجھ سے اتنی اتنی وصولی کر لی ہے۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اس وقت کیا عالم ہو گا، جب تم پر ایسے حکمران مسلط ہوں گے جو تمہارے ساتھ اس سے زیادہ زیادتی کریں گے؟“ تو لوگ اس بات پر پریشان ہو گئے، ان میں سے ایک صاحب نے عرض کی: ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اس وقت ہمارا کیا بنے گا، جب کوئی شخص اپنے اونٹوں میں یا جانوروں میں یا کھیت میں یا باغ میں موجود نہیں ہو گا اور وہ اپنے مال کی زکات ادا کرے گا، اس کے ساتھ زیادتی ہو جائے گی، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! تو اسے کیا کرنا چاہیے؟“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جو شخص اپنی خوشی کے ساتھ اپنے مال کی زکات ادا کرے اور اس کا مقصد اللہ تعالیٰ کی رضا کا حصول ہو، آخرت کا حصول ہو اور وہ اس میں سے کوئی چیز غائب نہ کرے اور وہ نماز قائم کرے اور زکات ادا کرے اور پھر اس کے ساتھ زیادتی ہو، تو وہ اپنا اسلحہ پکڑے اور لڑائی کرتے ہوئے مارا جائے، تو وہ شہید ہو گا۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) اس روایت کا مطلب یہ ہے: جب زکات وصولی یا اس جیسی کسی اور صورتحال میں کسی شخص کے خلاف زیادتی کی جائے اور پھر اس شخص کے ہمراہ مسلمان موجود ہوں جو اس بارے میں اس کا ساتھ دیں اور اس میں کفایت بھی موجود ہو اور ان کا مقصد دنیاوی فائدے کا حصول نہ ہو۔ اس سے مراد یہ نہیں ہے کہ آدمی اپنے آپ کو ہلاکت کا شکار کر لے، کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ سے یہ فرمایا تھا: ”تم اطاعت و فرمانبرداری سے کام لو، اگرچہ ناک کان کٹا ہوا حبشی (حکمران ہو)۔“ اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات بھی ارشاد فرمائی ہے: ”جو شخص ہم پر ہتھیار اٹھاتا ہے، اس کا ہم سے کوئی تعلق نہیں ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 3193]

3194

Sahih Ibn Hibban #3194

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى السَّخْتِيَانِيُّ بِجُرْجَانَ ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَوْفٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : مَنْ قُتِلَ دُونَ مَالِهِ فَهُوَ شَهِيدٌ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا سعید بن زید رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جو شخص اپنے مال کی حفاظت کرتے ہوئے مارا جائے وہ شہید ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 3194]

3195

Sahih Ibn Hibban #3195

قَالَ مَعْمَرٌ : وَبَلَغَنِي عَنِ الزُّهْرِيِّ فِي هَذَا الْحَدِيثِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ قُتِلَ دُونَ مَالِهِ فَهُوَ شَهِيدٌ "قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : رَوَى هَذَا الْخَبَرَ أَصْحَابُ الزُّهْرِيِّ الثِّقَاتُ الْمُتْقِنُونَ ، فَاتَّفَقُوا كُلُّهُمْ عَلَى رِوَايَتِهِمْ هَذَا الْخَبَرَ عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَوْفٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ ، خَلا مَعْمَرًا وَحْدَهُ ، فَإِنَّهُ أُدْخِلَ بَيْنَ طَلْحَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ وَبَيْنَ سَعِيدِ بْنِ زَيْدِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَهْلٍ ، وَأَخَافُ أَنْ يَكُونَ ذَلِكَ وَهْمًا ، وَقَدْ قَالَ مَعْمَرٌ فِي هَذَا الْخَبَرِ بَلَغَنِي عَنِ الزُّهْرِيِّ ، فَيُشَبِّهُ أَنْ يَكُونَ سَمِعَهُ مِنْ بَعْضِ أَصْحَابِهِ عَنِ الزُّهْرِيِّ فَالْقَلْبُ إِلَى رِوَايَةِ أُولَئِكَ أَمْيَلُ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا سعید بن زید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا: ”جو شخص ظلم کے طور پر ایک بالشت زمین ہتھیائے گا، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن سات زمینوں کا طوق اس کے گلے میں ڈالے گا۔“ معمر نامی راوی بیان کرتے ہیں: زہری کے حوالے سے یہ حدیث ہم تک پہنچی ہے، جس میں یہ الفاظ ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جو شخص اپنے مال کی حفاظت کرتے ہوئے مارا جائے، وہ شہید ہے۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) اس روایت کو زہری کے ثقہ اور متقن شاگردوں نے نقل کیا ہے اور ان سب کا اس روایت کو زہری کے حوالے سے طلحہ بن عبداللہ کے واسطے سے سیدنا سعید بن زید رضی اللہ عنہ سے نقل کرنے پر اتفاق ہے۔ صرف معمر نے اختلاف کیا ہے، انہوں نے طلحہ بن عبداللہ اور سیدنا سعید بن زید رضی اللہ عنہ کے درمیان عبدالرحمن بن سہل نامی راوی کا ذکر کیا ہے۔ مجھے یہ اندیشہ ہے کہ انہیں اس بارے میں وہم ہوا ہے کیونکہ معمر نے اس روایت میں یہ الفاظ نقل کیے ہیں کہ جسے زہری کے حوالے سے یہ روایت پہنچی ہے، تو اس بات کا امکان موجود ہے کہ انہوں نے یہ روایت زہری کے کسی شاگرد سے سنی ہو۔ اس لیے ذہن دوسرے حضرات کی طرف زیادہ مائل ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 3195]

3196

Sahih Ibn Hibban #3196

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ سَلَمَةَ بْنَ الأَكْوَعِ ، قَالَ : لَمَّا كَانَ يَوْمَ خَيْبَرَ قَاتَلَ أَخِي قِتَالا شَدِيدًا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَارْتَدَّ عَلَيْهِ سَيْفُهُ فَقَتَلَهُ ، فَقَالَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ذَلِكَ : رَجُلٌ مَاتَ بِسِلاحِهِ وَشَكُّوا فِي بَعْضِ أَمْرِهِ ، قَالَ سَلَمَةُ : فَقَفَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ خَيْبَرَ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، ائْذَنْ لِي أَنْ أَرْجُزَ بِكَ ، فَأَذِنَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ : أَعْلَمُ مَا تَقُولُ : وَاللَّهِ لَوْلا اللَّهُ مَا اهْتَدَيْنَا وَلا تَصَدَّقْنَا وَلا صَلَّيْنَا فَأَنْزِلَنْ سَكِينَةً عَلَيْنَا وَثَبِّتِ الأَقْدَامَ إِنْ لاقَيْنَا وَالْمُشْرِكُونَ قَدْ بَغَوْا عَلَيْنَا فَلَمَّا قَضَيْتُ رَجَزِي ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ قَالَ هَذَا ؟ " قُلْتُ : أَخِي ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَرْحَمُهُ اللَّهُ " ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّنَاسًا أَبَوْا الصَّلاةَ عَلَيْهِ ، يَقُولُونَ : رَجُلٌ مَاتَ بِسِلاحِهِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " رَجُلٌ مَاتَ جَاهِدًا مُجَاهِدًا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: غزوہ خیبر کے موقع پر میرے بھائی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ (جنگ میں حصہ لیتے ہوئے) شدید لڑائی کی، ان کی تلوار پلٹ کر انہیں لگی اور وہ شہید ہو گئے، ان کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب نے یہ کہا: چونکہ یہ شخص اپنے ہتھیار کے ذریعے مرا ہے، اس لیے ان کے معاملے کے بارے میں لوگوں کو شک ہو گیا۔ سیدنا سلمہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خیبر سے واپس تشریف لا رہے تھے، تو میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے اجازت دیجئے کہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے رجز پڑھوں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اجازت دے دی، تو سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: دھیان رکھنا تم کیا پڑھ رہے ہو (تو میں نے پڑھنا شروع کیا): اللہ کی قسم! اگر اللہ کی ذات نہ ہوتی، تو ہم ہدایت حاصل نہ کرتے، ہم صدقہ و خیرات نہ کرتے اور ہم نماز نہ پڑھتے (اے اللہ)، تو ہم پر سکینت نازل کر اور اگر ہم (دشمن کا سامنا کریں)، تو ہمیں ثابت قدم رکھنا، مشرکوں نے ہمارے خلاف محاذ آرائی کی ہے۔ جب میں نے اپنا رجز مکمل کیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”یہ اشعار کس نے کہے ہیں؟“ میں نے جواب دیا: میرے بھائی نے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ اس پر رحم کرے۔“ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کچھ لوگوں نے اس کی نماز جنازہ ادا نہیں کی، وہ یہ کہتے ہیں: اس شخص کا انتقال اپنے اسلحے کے ذریعے ہوا ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”وہ ایک ایسا شخص ہے، جو جہاد کرتے ہوئے مجاہد ہونے کے عالم میں فوت ہوا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 3196]

3197

Sahih Ibn Hibban #3197

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ أَخْبَرَهُ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، كَانَ يَجْمَعُ بَيْنَ الرَّجُلَيْنِ مِنْ قَتْلَى أُحُدٍ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ ، وَيَقُولُ : أَيُّهُمَا أَكْثَرُ أَخْذًا لِلْقُرْآنِ ؟ " فَإِذَا أُشِيرَ إِلَى أَحَدِهِمَا ، قَدَّمَهُ فِي اللَّحْدِ ، قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَنَا شَهِيدٌ عَلَى هَؤُلاءِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " وَأَمَرَ بِدَفْنِهِمْ بِدِمَائِهِمْ ، وَلَمْ يُصَلِّ عَلَيْهِمْ ، وَلَمْ يُغَسَّلُوا"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم شہدائے احد میں سے دو آدمیوں کو ایک کپڑے میں اکٹھا کرتے تھے اور دریافت فرماتے تھے: ”ان میں سے کسے زیادہ قرآن آتا ہے؟“ جب ان میں سے کسی ایک کی طرف اشارہ کیا جاتا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے لحد میں آگے کی طرف رکھتے تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”قیامت کے دن میں ان سب لوگوں کا گواہ ہوں گا۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان حضرات کو ان کے خون سمیت دفن کیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی نمازِ جنازہ ادا نہیں کی تھی اور ان لوگوں کو غسل نہیں دیا گیا تھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 3197]

3198

Sahih Ibn Hibban #3198

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادِ زُغْبَةَ ، فَقَالَ أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ يَزِيدِ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، خَرَجَ يَوْمًا فَصَلَّى عَلَى أَهْلِ أُحُدٍ صَلاتَهُ عَلَى الْمَيِّتِ ، ثُمَّ انْصَرَفَ إِلَى الْمِنْبَرِ ، فَقَالَ : إِنِّي فَرَطٌ لَكُمْ ، وَأَنَا شَهِيدٌ عَلَيْكُمْ ، وَإِنِّي وَاللَّهِ لأَنْظُرُ إِلَى حَوْضِي الآنَ ، وَإِنِّي قَدْ أُعْطِيتُ مَفَاتِيحَ خَزَائِنِ الأَرْضِ ، أَوْ مَفَاتِيحَ الأَرْضِ ، وَاللَّهِ مَا أَخَافُ عَلَيْكُمْ أَنْ تُشْرِكُوا بَعْدِي ، وَلَكِنِّي أَخَافُ أَنْ تَتَنَافَسُوا فِيهَا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے شہداءِ احد پر اسی طرح نماز ادا کی جس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نمازِ جنازہ ادا کرتے تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم منبر کی طرف تشریف لائے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میں تمہارا پیش رو ہوں، میں تمہارا گواہ ہوں، اللہ کی قسم! میں اس وقت بھی اپنے حوض کو دیکھ رہا ہوں، مجھے زمین کے خزانوں کی چابیاں عطا کی گئی ہیں (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) زمین کی چابیاں عطا کی گئی ہیں، اللہ کی قسم! مجھے تمہارے بارے میں یہ اندیشہ نہیں ہے کہ تم لوگ میرے بعد شرک کرو گے، لیکن مجھے یہ اندیشہ ہے کہ تم دنیا کی طرف راغب ہو جاؤ گے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 3198]

3199

Sahih Ibn Hibban #3199

أَخْبَرَنَا أَبُو عَرُوبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ وَهْبِ بْنِ أَبِي كَرِيمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحِيمِ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى عَلَى قَتْلَى أُحُدٍ ، ثُمَّ انْصَرَفَ وَقَعَدَ عَلَى الْمِنْبَرِ ، فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ، ثُمَّ قَالَ : أَيُّهَا النَّاسُ ،إِنِّي بَيْنَ أَيْدِيكُمْ فَرَطٌ ، وَإِنِّي عَلَيْكُمْ لِشَهِيدٌ ، وَإِنِّي وَاللَّهِ مَا أَخَافُ عَلَيْكُمْ أَنْ تُشْرِكُوا بَعْدِي ، وَلَكِنِّي قَدْ أُعْطِيتُ اللَّيْلَةَ مَفَاتِيحَ خَزَائِنِ الأَرْضِ وَالسَّمَاءِ ، وَأَخَافُ عَلَيْكُمْ أَنْ تَتَنَافَسُوا فِيهَا " ، ثُمَّ دَخَلَ ، فَلَمْ يَخْرُجْ مِنْ بَيْتِهِ حَتَّى قَبَضَهُ اللَّهُ جَلَّ وَعَلا، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : خَصَّ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الشُّهَدَاءَ الَّذِي قُتِلُوا فِي الْمَعْرَكَةِ ، بِتَرْكِ الصَّلاةِ عَلَيْهِمْ وَفَرَّقَ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ سَائِرِ الْمَوْتَى ، فَإِنَّ سَائِرَ الْمَوْتَى يُغَسَّلُونَ ، وَيُصَلَّى عَلَيْهِمْ ، وَمَنْ قُتِلَ فِي الْمَعْرَكَةِ مِنَ الشُّهَدَاءِ لا يُصَلَّى عَلَيْهِمْ ، وَيُدْفَنُ بِدَمِهِ مِنْ غَيْرِ غُسْلٍ ، فَأَمَّا خَبَرُ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ فَصَلَّى عَلَى قَتْلَى أُحُدٍ لَيْسَ يُضَادُّ خَبَرَ جَابِرٍ الَّذِي ذَكَرْنَاهُ ، إِذِ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ إِلَى أُحُدٍ ، فَدَعَا لِشُهَدَاءِ أُحُدٍ كَمَا كَانَ يَدْعُو لِلْمَوْتَى فِي الصَّلاةِ عَلَيْهِمْ ، وَالْعَرَبُ تُسَمِّي الدُّعَاءَ صَلاةً ، فَصَارَ خُرُوجُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى شُهَدَاءِ أُحُدٍ ، وَزِيَارَتُهُ إِيَّاهُمْ وَدُعَاؤُهُ لَهُمْ سُنَّةً ، لِمَنْ بَعْدَهُ مِنْ أُمَّتِهِ أَنْ يَزُورُوا شُهَدَاءَ أُحُدٍ يَدْعُونَ لَهُمْ كَمَا يَدْعُونَ لِلْمَيِّتِ فِي الصَّلاةِ عَلَيْهِ ، وَفِي خَبَرِ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ الَّذِي ذَكَرْنَاهُ ، ثُمَّ دَخَلَ فَلَمْ يَخْرُجْ مِنْ بَيْتِهِ حَتَّى قَبَضَهُ اللَّهُ جَلَّ وَعَلا ، أَبْيَنُ الْبَيَانِ بِأَنَّ هَذِهِ الصَّلاةَ كَانَتْ دُعَاءً لَهُمْ ، وَزِيَادَةً قَصَدَ بِهَا إِيَّاهُمْ لَمَّا قَرُبَ خُرُوجُهُ مِنَ الدُّنْيَا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَلَوْ كَانَتِ الصَّلاةُ الَّتِي ذَكَرَهَا عُقْبَةُ بْنُ عَامِرٍ كَالصَّلاةِ عَلَى الْمَوْتَى سَوَاءً ، لَلَزِمَ مَنْ قَالَ بِهَذَا جَوَازُ الصَّلاةِ عَلَى الْقَبْرِ وَلَوْ بَعْدَ سَبْعِ سِنِينَ ، لأَنَّ أُحُدًا كَانَتْ سَنَةَ ثَلاثٍ مِنَ الْهِجْرَةِ ، وَخُرُوجُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَيْثُ صَلَّى عَلَيْهِمْ قُرْبَ خُرُوجِهِ مِنَ الدُّنْيَا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ وَقْعَةِ أُحُدٍ بِسَبْعِ سِنِينَ ، فَلَمَّا وَافَقْنَا مَنِ احْتَجَّ بِهَذَا الْخَبَرِ عَلَى أَنَّ الصَّلاةَ عَلَى الْقُبُورِ غَيْرُ جَائِزَةٍ بَعْدَ سَبْعِ سِنِينَ ، صَحَّ أَنَّ تِلْكَ الصَّلاةَ كَانَتْ دُعَاءً لا الصَّلاةَ عَلَى الْمَوْتَى ، سَوَاءً ضِدَّ قَوْلِ مَنْ زَعَمَ أَنَّ أَصْحَابَ الْحَدِيثِ يَرْوُونَ مَا لا يَعْقِلُونَ ، وَيَتَكَلَّمُونَ بِمَا لا يَفْهَمُونَ ، وَيَرَوُونَ الْمُتَضَادَّ مِنَ الأَخْبَارِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے شہداءِ اُحد کی نمازِ جنازہ ادا کی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم واپس تشریف لائے اور منبر پر تشریف فرما ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کی، پھر ارشاد فرمایا: ”اے لوگو! میں تمہارے آگے پیش رو ہوں گا اور میں تمہارا گواہ ہوں گا، اللہ کی قسم! بے شک مجھے تمہارے بارے میں یہ اندیشہ نہیں ہے کہ تم میرے بعد شرک کرو گے، لیکن گزشتہ رات مجھے زمین اور آسمان کے خزانوں کی چابیاں عطا کر دی گئی ہیں، تو مجھے یہ اندیشہ ہے کہ تم دنیا کی طرف راغب ہو جاؤ گے“ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم گھر میں تشریف لے گئے، اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم گھر سے باہر تشریف نہیں لائے، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی (روح مبارکہ) کو قبض کر لیا۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے شہداء کا خصوصیت کے ساتھ ذکر کیا ہے، وہ لوگ جو جنگ میں شہید ہوئے تھے کہ آپ نے ان کی نمازِ جنازہ ادا نہیں کی۔ اس بارے میں ان لوگوں اور دیگر مرحومین کے درمیان فرق کیا ہے؟ کیونکہ دیگر تمام مرحومین کو غسل بھی دیا جاتا ہے اور ان کی نمازِ جنازہ بھی ادا کی جاتی ہے، لیکن جو لوگ جنگ کے دوران شہید ہوتے ہیں، نہ ان کی نمازِ جنازہ ادا کی جاتی ہے اور انہیں غسل دیے بغیر ان کے خون میں دفن کیا جاتا ہے، جہاں تک سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کی نقل کردہ روایت کا تعلق ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے گئے اور آپ نے شہداءِ اُحد کی نمازِ جنازہ ادا کی، تو یہ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کی نقل کردہ روایت کے خلاف نہیں ہے جسے ہم ذکر کر چکے ہیں، کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اُحد تشریف لے گئے تھے اور بعد میں شہداءِ اُحد کے لیے دعا کی تھی، جس طرح آپ نمازِ جنازہ کے دوران دیگر مرحومین کے لیے دعا کیا کرتے تھے، تو عرب دعا کے لیے بھی لفظ «الصَّلَاةُ» ”نماز“ استعمال کر لیتے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا شہداءِ اُحد کی طرف جانا، ان کی زیارت کرنا اور ان کے لیے دعا کرنا آپ کے بعد آپ کی امت کے لیے سنت ہے کہ وہ شہداءِ اُحد کی زیارت کریں اور ان کے لیے دعا کریں جس طرح نمازِ جنازہ میں میت کے لیے دعا کی جاتی ہے۔ اسی طرح سیدنا زید بن ابی انیسہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول وہ روایت جسے ہم ذکر کر چکے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اندر تشریف لے گئے اور اس کے بعد آپ اپنے گھر سے باہر تشریف نہیں لائے، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کی (روح مبارکہ کو) قبض کر لیا، یہ اس بات کا واضح بیان موجود ہے کہ نماز دراصل ان کے لیے دعا تھی جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بطورِ خاص ان حضرات کے لیے کی، کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دنیا سے تشریف لے جانے کا وقت قریب آ چکا تھا۔ اگر سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول اس روایت میں لفظ «الصَّلَاةُ» ”نماز“ سے مراد دیگر مرحومین کی نمازِ جنازہ کی طرح نماز ہوتی تو یہ بات لازم آتی کہ جو شخص اس بات کا قائل ہے، وہ قبر پر نمازِ جنازہ ادا کرنے کو جائز تسلیم کر لے، خواہ سات سال بعد ایسا کیا جائے، کیونکہ غزوۂ اُحد ہجرت کے تیسرے سال پیش آیا تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان حضرات کے لیے دعا کرنے کے لیے اس وقت تشریف لے گئے تھے جب آپ کا دنیا سے رخصتی کا وقت قریب آ گیا تھا، تو یہ چیز غزوۂ اُحد کے سات سال بعد پیش آئی تھی، تو جو شخص اس روایت کے ذریعے یہ استدلال کرتا ہے کہ سات سال گزرنے کے بعد قبر پر نمازِ جنازہ ادا کرنا جائز نہیں ہے، اس سے یہ بات ثابت ہو جائے گی کہ یہ «الصَّلَاةُ» ”نماز“ اصل میں دعا تھی، مرحومین کے لیے نمازِ جنازہ نہیں تھی، خواہ یہ بات اس شخص کے موقف کے خلاف ہو جو اس بات کا قائل ہے کہ محدثین وہ روایت نقل کر دیتے ہیں جس کی انہیں سمجھ نہیں ہوتی اور وہ بات بیان کرتے ہیں جن کا انہیں فہم نہیں ہوتا اور متضاد روایات نقل کر دیتے ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 3199]