Muslim99Muslim99

Sahih Ibn Hibban · Book 28 · Chapter 3

Book of Interdiction

Hadith 3148–3181

34 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

3148

Sahih Ibn Hibban #3148

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارِ بْنِ الرَّيَّانِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةِ بْنِ مُصَرِّفٍ ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادِ بْنِ الْهَادِ ، عَنِ أَسْمَاءَ بِنْتِ عُمَيْسٍ ، أَنَّهَا قَالَتْ : لَمَّا أُصِيبَ جَعْفَرُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : تَسَلَّمِي ثَلاثًا ، ثُمَّ اصْنَعِي بَعْدُ مَا شِئْتِ "، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " تَسَلَّمِي ثَلاثًا " لَفْظَةُ أَمْرٍ قُرِنَتْ بِعَدَدٍ مَوْصُوفٍ قُصِدَ بِهِ الْحَسْمُ عَمَّا لا يَحِلُّ اسْتِعْمَالٌ فِي ذَلِكَ الْعَدَدِ ، قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اصْنَعِي بَعْدُ مَا شِئْتِ " لَفْظَةُ أَمْرٍ قُصِدَ بِهِ الإبَاحَةُ فِي ظَاهِرِ الْخَطَّابِ ، مُرَادُهَا الزَّجْرُ عَنِ اسْتِعْمَالِ مَا أَمَرَ بِهِ ، يُرِيدُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَوْلِهِ مَا وَصَفْتُ التَّسْلِيمَ لأَمْرِ اللَّهِ جَلَّ وَعَلا فِي الأَيَّامِ الثَّلاثِ وَقَبْلَهَا وَبَعْدَهَا"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ جب سیدنا جعفر بن ابوطالب رضی اللہ عنہ شہید ہو گئے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: ”تم تین دن تک سوگ مناؤ، اس کے بعد تم جو چاہو کرو۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں): نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان: ”تم تین دن تک سوگ مناؤ۔“ اس میں لفظی طور پر امر کا صیغہ ہے، جو ایک عدد کے ساتھ موصوف ہے، اس چیز کے ذریعے مراد یہ ہے کہ اتنی تعداد سے زائد میں جس چیز کا استعمال جائز نہیں ہے اس سے منع کیا جائے، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان: ”تم اس کے بعد جو چاہو کرو۔“ یہاں پر الفاظ امر کے ہیں، اس سے بظاہر یہ لگتا ہے کہ یہ اباحت کے لیے ہیں لیکن اس سے مراد اس چیز پر عمل کرنے سے منع کرنا ہے جس کا حکم دیا گیا ہے، تو ان الفاظ کے ذریعے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد یہ ہے کہ تم ان تین دنوں میں اور اس کے بعد ان تمام امور کو اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق انجام دو۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 3148]

3149

Sahih Ibn Hibban #3149

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُبَيْدَةُ بْنُ حُمَيْدٍ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَيْسَ مِنَّا مَنْ ضَرَبَ الْخُدُودَ ، وَشَقَّ الْجُيُوبَ ، وَدَعَا بِدَعْوَى الْجَاهِلِيَّةِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”وہ ہم میں سے نہیں ہے، جو گال پیٹے، گریبان پھاڑے اور زمانہ جاہلیت کی سی چیخ و پکار کرے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 3149]

3150

Sahih Ibn Hibban #3150

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : قَرَأْتُ عَلَى الْفُضَيْلِ ، عَنْ أَبِي حَرِيزٍ ، أَنَّ أَبَا بُرْدَةَ حَدَّثَهُ ، أَنَّ أَبَا مُوسَى حِينَ حَضَرَهُ الْمَوْتُ قَالَ إِذَا انْطَلَقْتُمْ بِجِنَازَتِي ، فَأَسْرِعُوا الْمَشْيَ وَلا تُتْبِعُونِي بِجَمْرٍ ، وَلا تَجْعَلُوا عَلَى لَحْدِي شَيْئًا يَحُولُ بَيْنِي وَبَيْنَ التُّرَابِ ، وَلا تَجْعَلُوا عَلَى قَبْرِي بِنَاءً ، وَأُشْهِدُكُمْ أَنِّي بَرِيءٌ مِنْ كُلِّ حَالِقَةٍ أَوْ سَالِقَةٍ أَوْ خَارِقَةٍ " ، قَالُوا : سَمِعْتَ فِيهِ شَيْئًا ؟ قَالَ : نَعَمْ ، مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابوبردہ بیان کرتے ہیں کہ جب سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کا آخری وقت قریب آیا، تو انہوں نے ارشاد فرمایا: جب تم میرے جنازے کو لے کر چلو، تو اسے تیزی سے لے کر چلنا اور اس کے ساتھ آگ نہ لے جانا اور میری لحد پر کوئی چیز نہ رکھنا جو میرے اور مٹی کے درمیان حائل ہو اور میری قبر پر کوئی عمارت تعمیر نہ کرنا اور میں تم لوگوں کو گواہ بنا کر یہ کہہ رہا ہوں کہ میں ”سرمونڈنے والی عورت اور چیخ و پکار کرنے والی عورت اور (گریبان پھاڑنے والی عورت سے لاتعلق ہوں)۔“ لوگوں نے دریافت کیا: کیا آپ نے اس بارے میں کوئی چیز سن رکھی ہے؟ انہوں نے جواب دیا: جی ہاں! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی (سن رکھی ہے)۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 3150]

3151

Sahih Ibn Hibban #3151

أَخْبَرَنَا زَكَرِيَّا بْنُ مُسْلِمٍ بِفَرْهَاذْجِرْدَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْجُعْفِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَوْفٍ ، عَنْ خَالِدٍ الأَحْدَبِ ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ مُحْرِزٍ ، قَالَ : لَمَّا حَضَرَ أَبُو مُوسَى ، صَاحُوا عَلَيْهِ ، فَقَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَيْسَ مِنَّا مَنْ سَلَقَ ، وَلا خَرَقَ وَلا حَلَقَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

صفوان بن محرز بیان کرتے ہیں: جب سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کا آخری وقت قریب آیا اور لوگوں نے ان پر چیخ کر رونا شروع کیا، تو انہوں نے فرمایا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”وہ ہم میں سے نہیں ہے، جو (مصیبت کے وقت) چیخ و پکار کرے اور جو (گریبان) کو پھاڑے اور جو سر منڈوائے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 3151]

3152

Sahih Ibn Hibban #3152

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ ، أَنَّ الْقَاسِمَ بْنَ مُخَيْمِرَةَ ، حَدَّثَهُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو بُرْدَةَ بْنُ أَبِي مُوسَى ، قَالَ : وَجِعَ أَبُو مُوسَى ، وَجَعَلَ يُغْمَى عَلَيْهِ ، وَرَأْسُهُ فِي حِجْرِ امْرَأَةٍ مِنْ أَهْلِهِ ، فَصَاحَتِ امْرَأَةٌ ، فَلَمْ يَسْتَطِعْ أَنْ يَرُدَّ عَلَيْهَا شَيْئًا ، فَلَمَّا أَفَاقَ ، قَالَ : أَنَا بَرِيءٌ مِمَّنْ بَرِئَ مِنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَبَرِئَ مِنَ الْحَالِقَةِ ، وَالسَّالِقَةِ ، وَالشَّاقَّةِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابوبردہ بن سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیمار ہو گئے اور ان پر بے ہوشی طاری ہوئی، تو اس وقت ان کا سر اپنی بیوی کی گود میں تھا، اس خاتون نے چیخ کر رونا شروع کیا، سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ اسے کچھ نہیں کہہ سکے، جب ان کی طبیعت ذرا سنبھلی تو انہوں نے فرمایا: میں اس سے لاتعلق ہوں جس سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم لاتعلق ہیں، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ”سرمنڈوانے والی عورت، (مصیبت کے وقت) چیخ و پکار کرنے والی عورت اور (گریبان) چاک کرنے والی عورت“ سے لاتعلق ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 3152]

3153

Sahih Ibn Hibban #3153

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَلادٍ الْبَاهِلِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عَوْفٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ عُتَيٍّ ، قَالَ : رَأَيْتُ أُبَيًّا رَأَى رَجُلا تَعَزَّى بِعَزَاءِ الْجَاهِلِيَّةِ ، فَأَعَضَّهُ وَلَمْ يَكُنْ ، ثُمَّ قَالَ : قَدْ أَرَى فِي أَنْفُسِكُمْ ، أَوْ فِي نَفْسِكَ ، إِنِّي لَمْ أَسْتَطِعْ إِذَا سَمِعْتُهَا أَنْ لا أَقُولَهَا ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : مَنْ تَعَزَّى بِعَزَاءِ الْجَاهِلِيَّةِ فَأَعِضُّوهُ وَلا تَكْنُوا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عُتَی بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا ابی رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ انہوں نے ایک شخص کو زمانہ جاہلیت کے سے انداز میں چیخ و پکار کرتے ہوئے سنا، تو اسے سختی سے روکا، حالانکہ وہ ایسا نہیں کیا کرتے تھے، پھر انہوں نے فرمایا: میں یہ سمجھتا ہوں کہ تمہیں اس حوالے سے کچھ الجھن ہوئی ہے، لیکن جب میں نے اسے سنا، تو میں یہ کہنے سے نہیں رک سکا، کیونکہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جو شخص زمانہ جاہلیت کی طرح چیخ و پکار کرے، تو تم لوگ اسے سختی سے روکو اور اشارے سے نہ روکو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 3153]

3154

Sahih Ibn Hibban #3154

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا خَالِدٌ عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدَ ، عَنْ أَبِي حَرْبِ بْنِ أَبِي الأَسْوَدِ ، عَنْ عَبْدِ الأَعْلَى النَّخَعِيِّ ، أَنَّ أَبَا مُوسَى الأَشْعَرِيَّ ، قَالَ : يَا أُمَّ عَبْدِ اللَّهِ ، أَلا أُخْبِرُكِ بِمَا لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَتْ : بَلَى ، قَالَ : لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ حَلَقَ ، أَوْ خَرَقَ ، أَوْ سَلَقَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے ام عبداللہ! کیا میں نے تمہیں یہ نہیں بتایا تھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کس پر لعنت کی ہے؟ انہوں نے جواب دیا: جی ہاں، تو سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ”اس پر لعنت کی ہے، جو سر منڈوائے یا (گریبان) پھاڑ دے یا چیخ و پکار کرے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 3154]

3155

Sahih Ibn Hibban #3155

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ عَمْرَةَ ، أَنَّهَا سَمِعَتْ عَائِشَةَ ، تَقُولُ : لَمَّا جَاءَ نَعْيُ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، وَزَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَوَاحَةَ ، جَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يُعْرَفُ فِي وَجْهِهِ الْحُزْنُ ، قَالَتْ عَائِشَةُ : وَأَنَا أَطَّلِعُ مِنْ شَقِّ الْبَابِ ، فَأَتَاهُ رَجُلٌ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّنِسَاءَ جَعْفَرٍ قَدْ كَثُرَ بُكَاؤُهُنَّ ، فَأَمَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَنْهَاهُنَّ ، قَالَتْ عَائِشَةُ : فَذَهَبَ الرَّجُلُ ، ثُمَّ جَاءَ ، فَقَالَ : قَدْ نَهَيْتُهُنَّ وَإِنَّهُنَّ لَمْ يَطِعْنَنِي ، حَتَّى كَانَ فِي الثَّالِثَةِ ، فَزَعَمَتْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : احْثُ فِي أَفْوَاهِهِنَّ التُّرَابَ " ، قَالَتْ عَائِشَةُ : فَقُلْتُ : أَرْغَمَ اللَّهُ بِأَنْفِكَ ، مَا أَنْتَ بِفَاعِلٍ مَا يَذْكُرُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: جب سیدنا جعفر بن ابوطالب رضی اللہ عنہ، سیدنا زید بن حارث رضی اللہ عنہ اور سیدنا عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کی شہادت کی اطلاع آئی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما ہوئے، شدید غم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے سے پہچانا جا سکتا تھا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میں دروازے کی جھری میں سے جھانک رہی تھی، ایک شخص آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اس نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ کے گھر کی خواتین بکثرت رو رہی ہیں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کو یہ ہدایت کی کہ وہ ان خواتین کو ایسا کرنے سے روکے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: وہ شخص چلا گیا، پھر وہ آیا اور بولا: میں نے انہیں منع کیا ہے، لیکن وہ میری بات نہیں مان رہی ہیں، ایسا تین مرتبہ ہوا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان کے منہ پر مٹی ڈال دو۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میں نے (دل ہی دل میں) کہا: اللہ تعالیٰ تمہاری ناک کو خاک آلود کرے، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم جو فرما رہے ہیں تم وہ کرتے کیوں نہیں ہو۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 3155]

3156

Sahih Ibn Hibban #3156

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْهُذَلِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ جَابِرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مَكْحُولٌ ، وَغَيْرُهُ ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَعَنَ الْخَامِشَةَ وَجْهَهَا ، وَالشَّاقَّةَ جَيْبَهَا ، وَالدَّاعِيَةَ بِالْوَيْلِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ”اپنے چہرے کو نوچنے والی، اپنے گریبان کو چیرنے والی اور بربادی کی چیخ و پکار کرنے والی عورت پر لعنت کی ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 3156]

3157

Sahih Ibn Hibban #3157

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي وَهْبُ بْنُ كَيْسَانَ ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ عَمْرٍو ، أَخْبَرَهُ ، أَنَّ سَلَمَةَ بْنَ الأَزْرَقِ ، قَالَ : كُنْتُ جَالِسًا مَعَ ابْنِ عُمَرَ ، فَأُتِيَ بِجِنَازَةٍ يُبْكَى عَلَيْهَا ، فَعَابَ ذَلِكَ ابْنُ عُمَرَ ، وَانْتَهَرَهُنَّ ، فَقَالَ سَلَمَةُ بْنُ الأَزْرَقِ : أَشْهَدُ عَلَى أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنِّي سَمِعْتُهُ يَقُولُ : مُرَّ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِجِنَازَةٍ ، وَأَنَا مَعَهُ ، وَمَعَهُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ، وَنِسَاءٌ يَبْكِينَ عَلَيْهَا ، فَزَجَرَهُنَّ ، وَانْتَهَرَهُنَّ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : دَعْهُنَّ يَا عُمَرُ ، فَإِنَّالْعَيْنَ دَامِعَةٌ ، وَالنَّفْسَ مُصَابَةٌ ، وَالْعَهْدَ قَرِيبٌ "، قَالَ ابْنُ عُمَرَ : فَاللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سلمہ بن ازرق بیان کرتے ہیں: میں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا، اسی دوران وہاں ایک جنازہ لایا گیا جس پر رویا جا رہا تھا، تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اس پر اعتراض کیا اور ان خواتین کو جھڑکا۔ سلمہ بن ازرق نے کہا: میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس موجود تھا، میں نے انہیں یہ کہتے ہوئے سنا: ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے ایک جنازہ گزرا، میں اس وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بھی تھے، خواتین اس میت پر رو رہی تھیں، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں جھڑکا اور انہیں ڈانٹا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے عمر! انہیں کرنے دو، کیونکہ آنکھ آنسو بہا رہی ہے، جسم کو تکلیف لاحق ہے اور (افسوس ناک واقعہ) قریب ہی رونما ہوا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 3157]

3158

Sahih Ibn Hibban #3158

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَازِمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَاصِمٌ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ ، عَنْ أَسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ، قَالَ : أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَتَيْتُهُ بِابْنَةِ زَيْنَبَ وَنَفْسُهَا تَقَعْقَعُ كَأَنَّهَا فِي شَنٍّ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لِلَّهِ مَا أَخَذَ ، وَلَهُ مَا أَعْطَى ، وَكُلٌّ إِلَى أَجَلٍ " قَالَ : فَدَمَعَتْ عَيْنَاهُ ، فَقَالَ لَهُ سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ أَتَرِقُّ ، أَوْلَمْ تَنْهَ عَنِ الْبُكَاءِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّمَا هِيَ رَحْمَةٌ جَعَلَهَا اللَّهُ فِي قُلُوبِ عِبَادِهِ ، وَإِنَّمَا يَرْحَمُ اللَّهَ مِنْ عِبَادِهِ الرُّحَمَاءَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا، میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کے ہاں آیا جو آخری سانسیں لے رہی تھیں، ان کی سانس اکھڑی ہوئی تھی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اللہ تعالیٰ جو واپس لے لے وہ بھی اسی کی ملکیت ہے اور جو عطا کر دے وہ بھی اسی کی ملکیت، اور ہر چیز کا ایک طے شدہ وقت ہے۔“ راوی بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے۔ سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم رو رہے ہیں؟ کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رونے سے منع نہیں کیا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”یہ وہ رحمت ہے، جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے دلوں میں رکھا ہے اور اللہ تعالیٰ اپنے رحم کرنے والے بندوں پر ہی رحم کرتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 3158]

3159

Sahih Ibn Hibban #3159

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عِيسَى الْمِصْرِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْحَارِثِ الأَنْصَارِيِّ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، قَالَ : اشْتَكَى سَعْدٌ شَكْوَى ، فَأَتَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُهُ مَعَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، وَسَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، فَلَمَّا دَخَلَ وَجَدَهُ فِي غَشِيَتِهِ ، فَقَالَ : قَدْ قَضَى يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَبَكَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَلَمَّا بَكَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، بَكَوْا ، فَقَالَ : أَلا تَسْمَعُونَ إِنَّاللَّهَ جَلَّ وَعَلا لا يُعَذِّبِ بِدَمْعِ الْعَيْنِ ، وَلا بِحُزْنِ الْقَلْبِ ، وَلَكِنْ يُعَذِّبُ بِهَذَا أَوْ يَرْحَمُ " وَأَشَارَ إِلَى لِسَانِهِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سعید بن حارث انصاری بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے یہ بات بیان کی ہے کہ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ زخمی ہو گئے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ، سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ اور سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے ہمراہ ان کی عیادت کرنے کے لیے آئے، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ہاں تشریف لائے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ایسی حالت میں پایا کہ ان پر غشی طاری تھی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا گیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا ان کا انتقال ہو گیا ہے؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رونے لگے۔ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رونے لگے، تو لوگ بھی رونے لگے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”کیا تم لوگوں نے یہ بات نہیں سنی ہے کہ اللہ تعالیٰ آنکھ کے رونے کی وجہ سے یا دل کے غمگین ہونے کی وجہ سے عذاب نہیں دے گا بلکہ وہ اس کی وجہ سے عذاب دے گا یا رحم کرے گا۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زبان کی طرف اشارہ کر کے یہ بات ارشاد فرمائی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 3159]

3160

Sahih Ibn Hibban #3160

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ الْقَيْسِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : لَمَّا تُوُفِّيَ ابْنُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، صَاحَ أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَيْسَ هَذَا مِنَّا ، لَيْسَ لِصَارِخٍ حَظٌّ ، الْقَلْبُ يَحْزَنُ ، وَالْعَيْنُ تَدْمَعُ ، وَلا نَقُولُ مَا يُغْضِبُ الرَّبَّ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صاحب زادے کا وصال ہوا، تو سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما بلند آواز میں چیخے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”یہ ہم میں سے نہیں ہے، چیخنے والے کا کوئی حصہ نہیں ہے، دل غمگین ہوتا ہے، آنکھ آنسو بہاتی ہے اور ہم ایسی کوئی بات نہیں کہتے جو پروردگار کو غضب ناک کر دے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 3160]

3161

Sahih Ibn Hibban #3161

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا الْفِرْيَابِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ ، عَنِ إسْمَاعِيلَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ كَرِيمَةَ بِنْتِ الْحَسْحَاسِ ، قَالَتْ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : ثَلاثٌ هِيَ الْكُفْرُ بِاللَّهِ : النِّيَاحَةُ ، وَشَقُّ الْجَيْبِ ، وَالطَّعْنُ فِي النَّسَبِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تین چیزیں اللہ تعالیٰ کا کفر کرنے کے مترادف ہیں: نوحہ کرنا، گریبان پھاڑنا اور نسب میں طعن کرنا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 3161]

3162

Sahih Ibn Hibban #3162

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْقَطَّانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ يَزِيدَ السَّيَّارِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْتُقَصَّصَ الْقُبُورُ "قَالَ : " وَكَانُوا يُسَمَّوْنَ الْجِصَّ : الْقَصَّةَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ”قبروں پر چونا لگانے سے منع کیا ہے“۔ راوی بیان کرتے ہیں: وہ لوگ چونے کے لیے لفظ «الْقَصَّة» استعمال کرتے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 3162]

3163

Sahih Ibn Hibban #3163

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنْيُبْنَى عَلَى الْقَبْرِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ”اس بات سے منع فرمایا ہے کہ قبر پر عمارت بنائی جائے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 3163]

3164

Sahih Ibn Hibban #3164

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، وَعَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى ، قَالا : نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْتَجْصِيصِ الْقُبُورِ ، وَالْكِتَابِ عَلَيْهَا ، وَالْبِنَاءِ عَلَيْهَا ، وَالْجُلُوسِ عَلَيْهَا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ اور سلیمان بن موسیٰ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ”قبروں پر چونا لگانے، ان پر تحریر کرنے، ان پر عمارت بنانے اور ان پر بیٹھنے سے منع کیا ہے“۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 3164]

3165

Sahih Ibn Hibban #3165

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْذِرِ بْنِ سَعِيدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ مُسْلِمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ : نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْتَقْصِيصِ الْقُبُورِ ، وَأَنْ يُبْنَى عَلَيْهَا أَوْ يُجْلَسَ عَلَيْهَا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ”قبروں پر چونا لگانے، ان پر عمارت بنانے اور ان پر بیٹھنے سے منع کیا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 3165]

3166

Sahih Ibn Hibban #3166

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحُسَيْنِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُهَيْلٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لأَنَّ يَجْلِسَ أَحَدُكُمْ عَلَى جَمْرَةٍ فَتُحْرِقَ ثِيَابَهُ حَتَّى تَخْلُصَ إِلَيْهِ خَيْرٌ مِنْ أَنْ يَقْعُدَ عَلَى قَبْرٍ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم میں سے کوئی ایک شخص ایسے انگارے پر بیٹھ جائے جو اس کے کپڑے کو جلا کر اس کے جسم تک پہنچ جائے، یہ اس کے لیے اس سے زیادہ بہتر ہے کہ وہ قبر پر بیٹھے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 3166]

3167

Sahih Ibn Hibban #3167

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ عَمْرَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : كَسْرُ عَظْمِ الْمَيِّتِ كَكَسْرِهِ حَيًّا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتی ہیں: ”مردہ کی ہڈی کو توڑنا زندہ شخص کی ہڈی توڑنے کی مانند ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 3167]

3168

Sahih Ibn Hibban #3168

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ الْقَطَّانِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَكِيمُ بْنُ سَيْفٍ الرَّقِّيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنِّي نَهَيْتُكُمْ عَنْ ثَلاثٍ : عَنْ زِيَارَةِ الْقُبُورِ ، وَعَنْ لُحُومِ الأَضَاحِي أَنْ تُمْسِكُوهَا فَوْقَ ثَلاثَةِ أَيَّامٍ ، وَعَنِ الظُّرُوفِ إِلا مَا كَانَ فِي سِقَاءٍ ، وَقَدْ رُخِّصَ لِمُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي زِيَارَةِ قَبْرِ أُمِّهِ ، وَإِنَّمَا نَهَيْتُكُمْ عَنْ أَنْ تُمْسِكُوا لُحُومَ الأَضَاحِي فَوْقَ ثَلاثَةِ أَيَّامٍ ، لِيُوَسِّعَ ذُو السَّعَةِ مِنْكُمْ عَلَى مَنْ لَمْ يُضَحِّ ، وَنَهَيْتُكُمْ عَنِ الظُّرُوفِ إِلا مَا كَانَ مِنْ سِقَاءٍ ، فَلا يُحِلُّ ظَرْفٌ شَيْئًا وَلا يُحَرِّمُهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سلیمان بن بریدہ اپنے والد رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”میں نے تمہیں تین چیزوں سے منع کیا تھا: قبروں کی زیارت کرنے سے، قربانی کا گوشت تین دن سے زیادہ استعمال کرنے سے اور کچھ مخصوص قسم کے برتنوں سے، ماسوائے اس کے جو پینے کے لیے ہو، اب محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی والدہ کی قبر کی زیارت کی اجازت دے دی گئی ہے، میں نے تمہیں اس بات سے منع کیا تھا کہ تین دن سے زیادہ قربانی کا گوشت نہیں رکھنا، اس کی وجہ یہ تھی کہ تم میں سے جو شخص گنجائش والا ہے وہ اس شخص کو بھی گوشت دے جس نے قربانی نہیں کی ہے اور میں نے تمہیں مخصوص قسم کے برتنوں سے منع کیا تھا ماسوائے اس کے جو پینے کے لیے ہوں، تو برتن کسی بھی چیز کو حلال یا حرام نہیں کرتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 3168]

3169

Sahih Ibn Hibban #3169

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ كَيْسَانَ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : زَارَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْرَ أُمِّهِ ، فَبَكَى وَأَبْكَى مَنْ حَوْلَهُ ، ثُمَّ قَالَ : اسْتَأْذَنْتُ رَبِّي أَنْ أَزُورَ قَبْرَهَا فَأَذِنَ لِي ، فَاسْتَأْذَنَتْهُ أَنْ أَسْتَغْفِرَ لَهَا ، فَلَمْ يَأْذَنْ لِي ، فَزُورُوَا الْقُبُورَ فَإِنَّهَا تُذَكِّرُكُمُ الْمَوْتَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی والدہ کی قبر کی زیارت کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم رو پڑے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے آس پاس کے لوگوں کو بھی رلا دیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میں نے اپنے پروردگار سے اجازت مانگی کہ میں ان کی قبر کی زیارت کروں، تو اس نے مجھے اجازت دے دی، میں نے اس سے اجازت مانگی کہ میں ان کے لیے دعائے مغفرت کروں، تو اس نے مجھے اجازت نہیں دی، تم لوگ قبروں کی زیارت کرو، کیونکہ یہ تمہیں موت کی یاد دلائیں گی۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 3169]

3170

Sahih Ibn Hibban #3170

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، وَأَبُو دَاوُدَ ، قَالا : حَدَّثَنَا الأَسْوَدُ بْنُ شَيْبَانَ ، حَدَّثَنِي خَالِدُ بْنُ سُمَيْرٍ ، حَدَّثَنِي بَشِيرُ بْنُ نَهِيكٍ ، حَدَّثَنَا بَشِيرُ بْنُ الْخَصَاصِيَةَ ، وكان اسمه في الجاهلية زحم بن معبد ، فقال له رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَا اسْمُكَ ؟ " قَالَ : زَحْمٌ ، قَالَ : " أَنْتَ بَشِيرٌ " فَكَانَ اسْمُهُ بَيْنَمَا أَنَا أَمْشِي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : " يَا ابْنَ الْخَصَاصِيَةِ ،مَا أَصْبَحْتَ تَنْقِمُ عَلَى اللَّهِ ؟ " قُلْتُ : مَا أَصْبَحْتُ أَنْقِمُ عَلَى اللَّهِ شَيْئًا ، كُلُّ خَيْرٍ فَعَلَ اللَّهُ بِي ، فَأَتَى عَلَى قُبُورِ الْمُشْرِكِينَ ، فَقَالَ : " سَبَقَ هَؤُلاءِ خَيْرًا كَثِيرًا " ثَلاثَ مَرَّاتٍ ، ثُمَّ أَتَى عَلَى قُبُورِ الْمُسْلِمِينَ ، فَقَالَ : " لَقَدْ أَدْرَكَ هَؤُلاءِ خَيْرًا كَثِيرًا " ثَلاثَ مَرَّاتٍ ، فَبَيْنَمَا هُوَ يَمْشِي إِذْ حَانَتْ مِنْهُ نَظْرَةٌ ، فَإِذَا هُوَ بِرَجُلٍ يَمْشِي بَيْنَ الْقُبُورِ وَعَلَيْهِ نَعْلانِ ، فَنَادَاهُ : " يَا صَاحِبَ السِّبْتِيَّتَيْنِ أَلْقِ سِبْتِيَّتَيْكَ " فَنَظَرَ فَلَمَّا عَرَفَ الرَّجُلُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، خَلَعَ نَعْلَيْهِ ، فَرَمَى بِهِمَا، قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ : كُنْتُ أَكُونَ مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ ، فِي الْجَنَائِزِ ، فَلَمَّا بَلَغَ الْمَقَابِرَ حَدَّثَتْهُ بِهَذَا الْحَدِيثِ ، فَقَالَ : حَدِيثٌ جَيِّدٌ ، وَرَجُلٌ ثِقَةٌ ، ثُمَّ خَلَعَ نَعْلَيْهِ فَمَشَى بَيْنَ الْقُبُورِ ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : يُشْبِهُ أَنْ تَكُونَ تِلْكَ مِنْ جِلْدِ مَيْتَةٍ لَمْ تُدْبَغْ ، فَكَرِهَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لُبْسَ جِلْدِ الْمَيْتَةِ ، وَفِي قَوْلِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّهُ لَيَسْمَعُ خَفْقَ نِعَالِهِمْ إِذَا وَلَّوْا عَنْهُ " ، دَلِيلٌ عَلَى إِبَاحَةِ دُخُولِ الْمَقَابِرِ بِالنِّعَالِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

بشیر بن نہیک بیان کرتے ہیں: سیدنا بشیر بن خصاصیہ رضی اللہ عنہ نے مجھے یہ حدیث بیان کی ہے، ان کا نام زمانہ جاہلیت میں «زَحْمُ بْنُ مَعْبَدٍ» تھا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے دریافت کیا: ”تُمھارا نام کیا ہے؟“ انہوں نے جواب دیا: زحم۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تُم «بَشِيرٌ» (بشیر) ہو۔“ تو پھر یہی ان کا نام ہو گیا، وہ بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جا رہا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے خصاصیہ کے صاحب زادے! کیا تم نے ایسی حالت میں صبح کی ہے کہ تمہیں اللہ تعالیٰ سے کوئی ناراضگی ہے؟“ میں نے عرض کی: میں نے ایسی حالت میں صبح نہیں کی کہ مجھے اللہ تعالیٰ سے کوئی ناراضگی ہو، اللہ تعالیٰ نے ہر قسم کی بھلائی مجھے عطا کر دی ہے، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کچھ مشرکین کی قبروں کے پاس تشریف لے گئے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ لوگ بہت زیادہ بھلائی سے آگے چلے گئے ہیں۔“ یہ بات آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسلمانوں کی قبروں کے پاس تشریف لائے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انہوں نے بہت زیادہ بھلائی حاصل کر لی ہے۔“ یہ بات آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی، اسی دوران آپ صلی اللہ علیہ وسلم چلتے رہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نظر پڑی تو ایک شخص قبروں کے درمیان چل رہا تھا، اس نے جوتے پہنے ہوئے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بلند آواز میں پکارا: ”اے جوتوں والے شخص! اپنے جوتے اتار دو۔“ اس شخص نے دیکھا، جب اس شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو پہچان لیا، تو اس نے اپنے جوتے اتار کر ایک طرف رکھ دیئے۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:): اس بات کا امکان موجود ہے کہ وہ جوتے کسی مردار کی کھال کے بنے ہوئے ہوں جس کی دباغت نہ کی گئی ہو، اس لیے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مردار کی کھال کو پہننے کو ناپسند کیا ہو اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان: ”وہ ان لوگوں کے جوتوں کی آہٹ سنتا ہے جب وہ اسے چھوڑ کر واپس جاتے ہیں۔“ اس میں اس بات کی دلیل موجود ہے کہ جوتے پہن کر قبرستان میں داخل ہونا مباح ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 3170]

3171

Sahih Ibn Hibban #3171

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الأَنْصَارِيُّ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنِ الْعَلاءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ الْمَقْبَرَةَ فَقَالَ : السَّلامُ عَلَيْكُمْ دَارَ قَوْمٍ مُؤْمِنِينَ ، وَإِنَّا إِنْ شَاءَ اللَّهُ بِكُمْ لَلاحِقُونَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم قبرستان میں داخل ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ پڑھا: «السَّلَامُ عَلَيْكُمْ دَارَ قَوْمٍ مُؤْمِنِينَ، وَإِنَّا إِنْ شَاءَ اللهُ بِكُمْ لَاحِقُونَ» ”اے مومنوں کی قوم کی آبادی والو! تم پر سلام ہو بیشک ہم بھی اگر اللہ نے چاہا، تو تم سے آ ملیں گے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 3171]

3172

Sahih Ibn Hibban #3172

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ شَرِيكِ بْنِ أَبِي نَمِرٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُلَّمَا كَانَتْ لَيْلَتُهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَخْرُجُ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ إِلَى الْبَقِيعِ فَيَقُولُ : السَّلامُ عَلَيْكُمْ دَارَ قَوْمٍ مُؤْمِنِينَ ، وَأَتَانَا وَإِيَّاكُمْ مَا تُوعَدُونَ غَدًا مُؤَجَّلُونَ ، وَإِنَّا إِنْ شَاءَ اللَّهُ بِكُمْ لاحِقُونَ ، اللَّهُمَّ اغْفِرْ لأَهْلِ بَقِيعِ الْغَرْقَدِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ جب بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ان کے ہاں رات ٹھہرنے کی باری ہوتی تھی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رات کے آخری حصے میں بقیع کی طرف تشریف لے جاتے تھے اور یہ کہتے تھے: «السَّلَامُ عَلَيْكُمْ دَارَ قَوْمٍ مُؤْمِنِينَ، وَأَتَاكُمْ مَا تُوعَدُونَ غَدًا مُؤَجَّلُونَ، وَإِنَّا إِنْ شَاءَ اللهُ بِكُمْ لَاحِقُونَ، اللهُمَّ اغْفِرْ لِأَهْلِ بَقِيعِ الْغَرْقَدِ» ”اے مومنوں کی قوم کی بستی کے رہنے والو! تم پر سلام ہو، تمہارے پاس وہ چیز آگئی ہے جس کا تم سے وعدہ کیا گیا تھا، کل (قیامت) تک کے لیے تمہیں مہلت دی گئی ہے اور اگر اللہ نے چاہا تو ہم بھی تم سے آ ملیں گے، اے اللہ! تمام اہل بقیع کی مغفرت کر دے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 3172]

3173

Sahih Ibn Hibban #3173

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا خَرَجُوا إِلَى الْمَقَابِرِ يُعَلِّمُهُمْ أَنْ يَقُولُوا : السَّلامُ عَلَى أَهْلِ الدَّارِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُسْلِمِينَ ، وَإِنَّا إِنْ شَاءَ اللَّهُ بِكُمْ لَلاحِقُونَ ، أَنْتُمْ لَنَا فَرَطٌ ، وَنَحْنُ لَكُمْ تَبَعٌ ، نَسْأَلُ اللَّهَ لَنَا وَلَكُمُ الْعَافِيَةَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سلیمان بن بریدہ اپنے والد (بریدہ رضی اللہ عنہ) کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب قبرستان تشریف لے جاتے تھے، تو لوگوں کو یہ تعلیم دیتے تھے کہ وہ یہ پڑھیں: «السَّلَامُ عَلَيْكُمْ أَهْلَ الدِّيَارِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُسْلِمِينَ، وَإِنَّا إِنْ شَاءَ اللهُ بِكُمْ لَاحِقُونَ، أَنْتُمْ لَنَا فَرَطٌ وَنَحْنُ لَكُمْ تَبَعٌ، نَسْأَلُ اللهَ لَنَا وَلَكُمُ الْعَافِيَةَ» ”اے مومنوں اور مسلمانوں کی بستی والوں پر سلام ہو، اگر اللہ نے چاہا تو ہم بھی تم سے آ ملیں گے، تم ہمارے پیش رو ہو اور ہم تمہارے بعد آئیں گے، ہم اپنے لیے اور تمہارے لیے اللہ تعالیٰ سے عافیت مانگتے ہیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 3173]

3174

Sahih Ibn Hibban #3174

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ خَلادٍ الْبَاهِلِيُّ ، وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالا : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ : أَتَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْرَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُبَيِّ ابْنِ سَلُولٍ ، بَعْدَمَا أُدْخِلَ حُفْرَتَهُ فَأَمَرَ بِهِ فَأُخْرِجَ ، فَوَضَعَهُ عَلَى رُكْبَتِهِ ، وَنَفَثَ عَلَيْهِ مِنْ رِيقِهِ ، وَأَلْبَسَهُ قَمِيصَهُ "وَاللَّهُ أَعْلَمُ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عبداللہ بن ابی کی قبر کے پاس تشریف لائے، یہ اسے قبر میں داخل کر دیے جانے کے بعد کی بات ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے اسے باہر نکالا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنے گھٹنے پر رکھا، اپنا لعابِ دہن اس پر ڈالا اور اسے اپنی قمیص پہنائی، باقی اللہ بہتر جانتا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 3174]

3175

Sahih Ibn Hibban #3175

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى الْقَطَّانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي نَافِعٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أُبَيٍّ لَمَّا مَاتَ جَاءَ ابْنُهُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ :أَعْطِنِي قَمِيصَكَ حَتَّى أُكَفِّنَهُ فِيهِ ، وَصَلِّ عَلَيْهِ ، وَاسْتَغْفِرْ ، قَالَ : فَأَعْطَاهُ قَمِيصَهُ ، وَقَالَ : إِذَا فَرَغْتَ فَآذِنِّي حَتَّى أُصَلِّيَ عَلَيْهِ " فَلَمَّا فَرَغَ آذَنَهُ ، فَلَمَّا أَرَادَ أَنْ يُصَلِّيَ عَلَيْهِ جَذَبَهُ عُمَرُ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِ ، وَقَالَ : أَلَيْسَ قَدْ نَهَاكَ اللَّهُ أَنْ تُصَلِّيَ عَلَى الْمُنَافِقِينَ ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَنَا بَيْنَ خِيَرَتَيْنِ قَالَ اللَّهُ : اسْتَغْفِرْ لَهُمْ أَوْ لا تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ " قَالَ : فَنَزَلَتْ : وَلا تُصَلِّ عَلَى أَحَدٍ مِنْهُمْ مَاتَ أَبَدًا وَلا تَقُمْ عَلَى قَبْرِهِ قَالَ : فَتَرَكَ الصَّلاةَ عَلَيْهِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: جب عبداللہ بن ابی کا انتقال ہو گیا، تو اس کا بیٹا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اس نے عرض کی: آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی قمیض مجھے عطا کیجیے، تاکہ میں اسے (یعنی اپنے باپ کو) اس میں کفن دوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی نماز جنازہ بھی ادا کیجیے اور اس کے لیے دعائے مغفرت بھی کیجیے۔ راوی کہتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی قمیض اسے عطا کر دی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جب تم (غسل اور کفن دے کر) فارغ ہو جاؤ، تو مجھے اطلاع دے دینا، تاکہ میں اس کی نماز جنازہ پڑھاؤں۔“ جب وہ فارغ ہوا اور اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع دی اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس کا جنازہ پڑھنے کے لیے اٹھنے لگے، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کھینچا اور عرض کی: کیا اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بات سے منع نہیں کیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم منافقین کی نماز جنازہ ادا کریں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے دو باتوں کے درمیان اختیار دیا گیا ہے، اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا ہے: ﴿اسْتَغْفِرْ لَهُمْ أَوْ لَا تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ﴾ [سورة التوبة: 80] ”تم ان کے لیے دعائے مغفرت کرو یا تم ان کے لیے دعائے مغفرت نہ کرو۔““ راوی بیان کرتے ہیں: تو اس موقع پر یہ آیت نازل ہوئی: ﴿وَلَا تُصَلِّ عَلَىٰ أَحَدٍ مِّنْهُم مَّاتَ أَبَدًا وَلَا تَقُمْ عَلَىٰ قَبْرِهِ﴾ [سورة التوبة: 84] ”اب تم کبھی بھی ان (منافقین میں سے) کسی کی بھی نماز جنازہ ادا نہ کرنا اور اس کی قبر پر کھڑے نہ ہونا۔“ راوی کہتے ہیں: تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی نماز جنازہ ادا نہیں کی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 3175]

3176

Sahih Ibn Hibban #3176

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ : سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنِ إِسْحَاقَ ، يَقُولُ : حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِ ، يَقُولُ : لَمَّا تُوُفِّيَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُبَيٍّ ، أَتَى ابْنُهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُبَيِّ بْنِ سَلُولٍ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هَذَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُبَيٍّ قَدْ وَضَعْنَاهُ ، فَصَلِّ عَلَيْهِ ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَلَمَّا قَامَ يُصَلِّي عَلَيْهِ ، قُمْتُ فِي صَدْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقُلْتُ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ،أَتُصَلِّي عَلَى عَدُوِّ اللَّهِ الْقَائِلِ يَوْمَ كَذَا كَذَا وَكَذَا ، وَالْقَائِلِ يَوْمَ كَذَا كَذَا وَكَذَا ، أُعَدِّدُ أَيَّامَهُ الْخَبِيثَةَ ؟ فَتَبَسَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : عَنِّي يَا عُمَرُ " ، حَتَّى إِذَا أَكْثَرْتُ قَالَ : " عَنِّي يَا عُمَرُ ، فَإِنِّي قَدْ خُيِّرْتُ ، فَاخْتَرْتُ ، إِنَّ اللَّهَ يَقُولُ : اسْتَغْفِرْ لَهُمْ أَوْ لا تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ وَلَوْ أَعْلَمُ أَنِّي زِدْتُ عَلَى السَّبْعِينَ غُفِرَ لَهُ ، لَزِدْتُ " قَالَ عُمَرُ : فَعَجَبًا لِجُرْأَتِي عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَاللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ ، فَلَمَّا قَالَ لِي ذَلِكَ ، انْصَرَفْتُ عَنْهُ ، فَصَلَّى عَلَيْهِ ، ثُمَّ مَشَى مَعَهُ ، فَقَامَ عَلَى حُفْرَتِهِ حَتَّى دُفِنَ ، ثُمَّ انْصَرَفَ ، فَوَاللَّهِ مَا لَبِثَ إِلا يَسِيرًا حَتَّى أَنْزَلَ اللَّهُ جَلَّ وَعَلا : وَلا تُصَلِّ عَلَى أَحَدٍ مِنْهُمْ مَاتَ أَبَدًا ، وَلا تَقُمْ عَلَى قَبْرِهِ فَمَا صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى مُنَافِقٍ بَعْدَ ذَلِكَ ، وَلا قَامَ عَلَى قَبْرِهِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا: جب عبداللہ بن ابی کا انتقال ہو گیا، تو اس کا بیٹا عبداللہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اس نے عرض کی: یا رسول اللہ! یہ عبداللہ بن ابی ہے، جسے ہم نے (میت کی چارپائی پر) رکھ دیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی نماز جنازہ ادا کیجیے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی نماز جنازہ ادا کرنے کے لیے اٹھے، تو میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آ کر کھڑا ہو گیا، میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے اس دشمن کی نماز جنازہ ادا کریں گے جس نے فلاں دن یہ، یہ بات کہی تھی اور فلاں دن یہ، یہ بات کہی تھی؟ میں نے اس کے متعدد خبیث دن گنوا دیے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا دیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے چھوڑ دو اے عمر!“ جب میں نے زیادہ تکرار کی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”مجھے چھوڑ دو اے عمر، کیونکہ مجھے اختیار دیا گیا ہے، میں نے (اپنی پسندیدہ صورت کو) اختیار کر لیا ہے“ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے: ﴿اسْتَغْفِرْ لَهُمْ أَوْ لَا تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ﴾ [سورة التوبة: 80] ”تم ان کے لیے دعائے مغفرت کرو یا ان کے لیے دعائے مغفرت نہ کرو۔“ (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:) ”اگر مجھے یہ پتا ہو کہ میں ستر مرتبہ سے زیادہ دعائے مغفرت کروں، تو اس کی مغفرت ہو جائے گی، تو میں اس سے زیادہ مرتبہ کر لوں گا۔“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اب میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اپنی جرات پر حیران ہوتا ہوں، بہرحال اللہ اور اس کا رسول زیادہ بہتر جانتے تھے، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یہ بات کہی، تو میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سے ہٹ گیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی نماز جنازہ ادا کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے جنازے کے ہمراہ گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی قبر کے کنارے کھڑے ہو گئے، یہاں تک کہ اسے دفن کر دیا گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم واپس تشریف لائے۔ اللہ کی قسم! اس کے تھوڑے ہی عرصے بعد اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کر دی: ﴿وَلَا تُصَلِّ عَلَىٰ أَحَدٍ مِّنْهُم مَّاتَ أَبَدًا وَلَا تَقُمْ عَلَىٰ قَبْرِهِ﴾ [سورة التوبة: 84] ”ان میں سے جس کسی کا بھی انتقال ہو، تو تم نے اس کی نماز جنازہ کبھی ادا نہیں کرنی اور نہ ہی اس کی قبر پر کھڑے ہونا ہے۔“ اس کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی منافق کی نماز جنازہ ادا نہیں کی اور نہ ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کسی منافق کی قبر پر کھڑے ہوئے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 3176]

3177

Sahih Ibn Hibban #3177

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْمُفَضَّلُ بْنُ فَضَالَةَ ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ سَيْفٍ الْمَعَافِرِيِّ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ : قَبَرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا ، فَلَمَّا فَرَغْنَا ، انْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَانْصَرَفْنَا مَعَهُ ، فَلَمَّا حَاذَى بَابَهُ ، وَتَوَسَّطَ الطَّرِيقَ ، إِذَا نَحْنُ بِامْرَأَةٍ مُقْبِلَةٍ ، فَلَمَّا دَنَتْ إِذَا هِيَ فَاطِمَةُ ، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَا أَخْرَجَكِ يَا فَاطِمَةُ مِنْ بَيْتِكِ ؟ " قَالَتْ : أَتَيْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَهْلَ هَذَا الْبَيْتِ ، فَعَزَّيْنَا مَيِّتَهُمْ ، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَعَلَّكِ بَلَغْتِ مَعَهُمُ الْكُدَى ؟ " قَالَتْ : مُعَاذَ اللَّهِ ، وَقَدْ سَمِعْتُكَ تَذْكُرُ فِيهَا مَا تَذْكُرُ قَالَ :" لَوْ بَلَغْتِ مَعَهُمُ الْكُدَى مَا رَأَيْتِ الْجَنَّةَ حَتَّى يَرَاهَا جَدُّكَ أَبُو أَبِيكِ " ، فَسَأَلْتُ رَبِيعَةَ عَنِ الْكُدَى ، فَقَالَ : " الْقُبُورُ "، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِفَاطِمَةَ : " لَوْ بَلَغْتِ مَعَهُمُ الْكُدَى مَا رَأَيْتِ الْجَنَّةَ " يُرِيدُ مَا رَأَيْتِ الْجَنَّةَ الْعَالِيَةَ الَّتِي يَدْخُلُهَا مَنْ لَمْ يَرْتَكِبْ مَا نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْهُ ، لأَنَّ فَاطِمَةَ عَلِمَتِ النَّهْيَ قَبْلَ ذَلِكَ ، وَالْجَنَّةُ هِيَ جَنَّاتٌ كَثِيرَةٌ لا جُنَّةٌ وَاحِدَةٌ ، وَالْمُشْرِكُ لا يَدْخُلُ جَنَّةً مِنَ الْجِنَّانِ أَصْلا لا عَالِيَةً وَلا سَافِلَةً وَلا مَا بَيْنَهُمَا"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ کسی کو دفن کیا، جب ہم فارغ ہوئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم واپس روانہ ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ہم بھی واپس آ رہے تھے، جب ہم راستے کے درمیان میں پہنچے تو وہاں سامنے سے ایک خاتون آ رہی تھی، جب وہ خاتون قریب ہوئی تو وہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا تھیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے دریافت کیا: ”اے فاطمہ! تم اپنے گھر سے کیوں باہر آئی ہو؟“ انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں اس گھر والوں کے ہاں گئی تھی، میں نے ان کی میت پر ان سے افسوس کیا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے دریافت کیا: ”شاید تم لوگوں کے ہمراہ کدیٰ (قبرستان) تک بھی گئی ہوگی؟“ انہوں نے عرض کی: اللہ کی پناہ! میں نے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بارے میں ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہوا ہے (تو میں وہاں تک کیسے جا سکتی ہوں؟)۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اگر تم ان لوگوں کے ہمراہ کدیٰ تک گئی ہوتی، تو تم جنت کو اس وقت تک نہ دیکھتی جب تک تمہارا دادا یعنی تمہارے باپ کا باپ اسے نہ دیکھتا۔“ راوی بیان کرتے ہیں: میں نے اپنے استاد سے دریافت کیا: کدیٰ سے مراد کیا ہے؟ انہوں نے جواب دیا: قبرستان۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں): نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے یہ کہنا کہ ”اگر تم ان کے ساتھ کدی کے ساتھ گئی ہوتی تو تم جنت کو نہ دیکھتی“، اس سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد یہ ہے: تم جنت کے اس بلند درجے کو نہ دیکھتی جہاں وہ لوگ داخل ہوتے ہیں جنہوں نے ایسی کسی چیز کا ارتکاب نہیں کیا ہوتا جس سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے منع کیا ہو۔ اس کی وجہ یہ ہے: سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا اس سے پہلے اس بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ممانعت سے واقف تھیں اور جنت کے کئی درجات ہیں ایک درجہ نہیں ہے اور مشرک شخص سرے سے جنت میں داخل ہی نہیں ہو گا نہ اوپر کے مرتبے والی جنت میں اور نہ ہی نیچے کے مرتبے والی جنت میں اور نہ ہی درمیان والی میں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 3177]

3178

Sahih Ibn Hibban #3178

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْجُنَيْدِ ، حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ عُمَرِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَعَنَ اللَّهُ زَائِرَاتِ الْقُبُورِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”اللہ تعالیٰ نے قبرستان جانے والی عورتوں پر لعنت کی ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 3178]

3179

Sahih Ibn Hibban #3179

أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ بِبُسْتَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُحَادَةَ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَائِرَاتِ الْقُبُورِ ، وَالْمُتَّخِذَاتِ عَلَيْهَا الْمَسَاجِدَ ، وَالسُّرُجَ "، أَبُو صَالِحٍ مِيزَانٌ ثِقَةٌ ، وَلَيْسَ بِصَاحِبِ الْكَلْبِيِّ ذَاكَ اسْمُهُ بَاذَامُ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ”قبرستان جانے والی عورتوں اور قبروں پر سجدہ گاہ بنانے یا چراغ لگانے والی عورتوں پر لعنت فرمائی ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 3179]

3180

Sahih Ibn Hibban #3180

أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُحَادَةٍ ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا صَالِحٍ يُحَدِّثُ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : لَعَنَ رَسُولُ اللَّهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَائِرَاتِ الْقُبُورِ ، وَالْمُتَّخِذَاتِ عَلَيْهَا الْمَسَاجِدَ وَالسُّرُجَ "، أَبُو صَالِحٍ هَذَا : اسْمُهُ مِيزَانٌ ، بَصْرِيٌّ ثِقَةٌ ، وَلَيْسَ بِصَاحِبِ مُحَمَّدِ بْنِ السَّائِبِ الْكَلْبِيِّ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ”قبرستان جانے والی عورتوں، قبروں پر مساجد بنانے والی عورتوں اور چراغ (جلانے والی عورتوں) پر لعنت کی ہے۔“ ابوصالح میزان نامی راوی ثقہ ہیں، یہ کلبی کا شاگرد نہیں ہے، اس کا نام باذام ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 3180]

3181

Sahih Ibn Hibban #3181

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الأَنْصَارِيُّ ، أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ : لَمَّا كَانَ مَرَضُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ذَكَرَ بَعْضُ نِسَائِهِ كَنِيسَةً رَأَيَاهَا بِأَرْضِ الْحَبَشَةِ ، وَكَانَتْ أُمُّ سَلَمَةَ ، وَأُمُّ حَبِيبَةَ قَدْ أَتَتَا أَرْضَ الْحَبَشَةِ ، فَذَكَرْنَ كَنِيسَةً رَأَيْنَهَا بِأَرْضِ الْحَبَشَةِ يُقَالُ لَهَا مَارِيَةُ ، وَذَكَرْنَ مِنْ حُسْنِهَا وَتَصَاوِيرَ فِيهَا ، فَرَفَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأْسَهُ ، فَقَالَ : إِنَّأُولَئِكَ إِذَا مَاتَ مِنْهُمُ الرَّجُلُ الصَّالِحُ بَنَوْا عَلَى قَبْرِهِ مَسْجِدًا ، ثُمَّ صَوَّرُوا فِيهِ تِلْكَ الصُّوَرَ ، وَأُولَئِكَ شِرَارُ الْخَلْقِ عِنْدَ اللَّهِ تَعَالَى """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بیمار ہوئے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواجِ مطہرات میں سے کسی نے ایک گرجے کا ذکر کیا جو انہوں نے حبشہ کی سرزمین پر دیکھا تھا۔ سیدہ ام سلمہ اور سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہما حبشہ گئی تھیں، انہوں نے ایک گرجے کا ذکر کیا جو انہوں نے حبشہ کی سرزمین پر دیکھا تھا جس کا نام ماریہ تھا، انہوں نے اس گرجے کی خوبصورتی اور اس میں موجود تصویروں کا تذکرہ کیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سر مبارک اٹھایا اور ارشاد فرمایا: ”ان لوگوں کا یہ معمول تھا کہ جب ان میں سے کوئی نیک آدمی فوت ہو جاتا، تو وہ اس کی قبر پر مسجد بنا دیتے تھے اور پھر وہ اس میں یہ تصویریں لگا دیتے تھے، یہ لوگ اللہ تعالیٰ کے نزدیک بدترین مخلوق ہیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 3181]