Sahih Ibn Hibban #3148
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارِ بْنِ الرَّيَّانِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةِ بْنِ مُصَرِّفٍ ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادِ بْنِ الْهَادِ ، عَنِ أَسْمَاءَ بِنْتِ عُمَيْسٍ ، أَنَّهَا قَالَتْ : لَمَّا أُصِيبَ جَعْفَرُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : تَسَلَّمِي ثَلاثًا ، ثُمَّ اصْنَعِي بَعْدُ مَا شِئْتِ "، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " تَسَلَّمِي ثَلاثًا " لَفْظَةُ أَمْرٍ قُرِنَتْ بِعَدَدٍ مَوْصُوفٍ قُصِدَ بِهِ الْحَسْمُ عَمَّا لا يَحِلُّ اسْتِعْمَالٌ فِي ذَلِكَ الْعَدَدِ ، قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اصْنَعِي بَعْدُ مَا شِئْتِ " لَفْظَةُ أَمْرٍ قُصِدَ بِهِ الإبَاحَةُ فِي ظَاهِرِ الْخَطَّابِ ، مُرَادُهَا الزَّجْرُ عَنِ اسْتِعْمَالِ مَا أَمَرَ بِهِ ، يُرِيدُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَوْلِهِ مَا وَصَفْتُ التَّسْلِيمَ لأَمْرِ اللَّهِ جَلَّ وَعَلا فِي الأَيَّامِ الثَّلاثِ وَقَبْلَهَا وَبَعْدَهَا"
اردو ترجمہ · UrduUnverified translation
سیدہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ جب سیدنا جعفر بن ابوطالب رضی اللہ عنہ شہید ہو گئے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: ”تم تین دن تک سوگ مناؤ، اس کے بعد تم جو چاہو کرو۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں): نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان: ”تم تین دن تک سوگ مناؤ۔“ اس میں لفظی طور پر امر کا صیغہ ہے، جو ایک عدد کے ساتھ موصوف ہے، اس چیز کے ذریعے مراد یہ ہے کہ اتنی تعداد سے زائد میں جس چیز کا استعمال جائز نہیں ہے اس سے منع کیا جائے، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان: ”تم اس کے بعد جو چاہو کرو۔“ یہاں پر الفاظ امر کے ہیں، اس سے بظاہر یہ لگتا ہے کہ یہ اباحت کے لیے ہیں لیکن اس سے مراد اس چیز پر عمل کرنے سے منع کرنا ہے جس کا حکم دیا گیا ہے، تو ان الفاظ کے ذریعے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد یہ ہے کہ تم ان تین دنوں میں اور اس کے بعد ان تمام امور کو اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق انجام دو۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 3148]