Muslim99Muslim99

Sahih Ibn Hibban · Book 28 · Chapter 2

Book of Interdiction

Hadith 3108–3147

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

3108

Sahih Ibn Hibban #3108

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ أَخْزَمَ ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ ، حَدَّثَنَا عِمْرَانُ الْقَطَّانُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : لابْنِ آدَمَ ثَلاثَةٌ أَخِلاءُ : أَمَّا خَلِيلٌ ، فَيَقُولُ : مَا أَنْفَقَتْ فَلَكَ ، وَمَا أَمْسَكَتْ فَلَيْسَ لَكَ ، فَهَذَا مَالُهُ ، وَأَمَّا خَلِيلٌ فَيَقُولُ : أَنَا مَعَكَ فَإِذَا أَتَيْتَ بَابَ الْمَلِكِ تَرَكْتُكَ وَرَجَعْتُ ، فَذَلِكَ أَهْلُهُ وَحَشَمُهُ ، وَأَمَّا خَلِيلٌ ، فَيَقُولُ : أَنَا مَعَكَ حَيْثُ دَخَلْتَ وَحَيْثُ خَرَجْتَ ، فَهَذَا عَمَلُهُ ، فَيَقُولُ : أَنْ كُنْتَ لأَهْوَنَ الثَّلاثَةِ عَلَيَّ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”ابن آدم کے تین دوست ہیں، جہاں تک ایک دوست کا تعلق ہے، تو وہ یہ کہتا ہے: تم جو خرچ کرو گے اس کا تمہیں اجر مل جائے گا اور جو تم خرچ نہیں کرو گے اس کا تمہیں کچھ نہیں ملے گا، یہ اس کا مال ہے۔ ایک دوست یہ کہتا ہے: میں تمہارے ساتھ ہوں، جب تم بادشاہ (یعنی خالق حقیقی) کے دروازے پر آؤ گے (یعنی جب تم مر جاؤ گے)، تو میں تمہیں چھوڑ دوں گا اور واپس آ جاؤں گا، یہ اس کے اہل خانہ اور جاہ و حشم ہیں۔ اور ایک دوست یہ کہتا ہے: میں تمہارے ساتھ ہوں، تم جہاں بھی داخل ہو گے اور جہاں سے نکلو گے، یہ اس کا عمل ہے۔ تو وہ بندہ یہ کہتا ہے: تم تو میرے نزدیک ان تینوں میں سب سے کم حیثیت کے مالک تھے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 3108]

3109

Sahih Ibn Hibban #3109

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ قَحْطَبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي الصِّدِّيقِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ كَانَإِذَا وَضَعَ الْمَيِّتَ فِي الْقَبْرِ قَالَ : بِسْمِ اللَّهِ وَعَلَى مِلَّةِ رَسُولِ اللَّهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ معمول تھا کہ جب میت کو قبر میں رکھ دیا جاتا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ پڑھتے تھے: «بِسْمِ اللّٰهِ وَعَلٰى مِلَّةِ رَسُولِ اللّٰهِ» ”اللہ تعالیٰ کے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے اور اللہ کے رسول کے دین پر (ایمان رکھتے ہوئے ہم اسے سپرد خاک کرتے ہیں)۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 3109]

3110

Sahih Ibn Hibban #3110

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَبِي الصِّدِّيقِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : إِذَا وَضَعْتُمْ مَوْتَاكُمْ فِي اللَّحْدِ ، فَقُولُوا : بِسْمِ اللَّهِ وَعَلَى سُنَّةِ رَسُولِ اللَّهِ "، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : أَبُو الصِّدِّيقِ بَكْرُ بْنُ قَيْسٍ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جب تم اپنے مردوں کو لحد میں رکھ دو، تو یہ پڑھو: «بِسْمِ اللهِ وَعَلَى سُنَّةِ رَسُولِ اللهِ» ”اللہ تعالیٰ کے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کے مطابق (ہم اسے دفن کرتے ہیں)۔““ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) ابوصدیق نامی راوی کا نام بکر بن قیس ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 3110]

3111

Sahih Ibn Hibban #3111

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنِ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مِهْرَانَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : إِنَّالْعَبْدَ إِذَا وُضِعَ عَلَى سَرِيرِهِ يَقُولُ : قَدِّمُونِي قَدِّمُونِي ، وَإِنَّ الْعَبْدَ إِذَا وُضِعَ عَلَى سَرِيرِهِ يَقُولُ : يَا وَيْلَتِي أَيْنَ تَذْهَبُونَ بِي ؟ " يُرِيدُ : الْمُسْلِمَ وَالْكَافِرَ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهِ عَنْهُ : رَوَى هَذَا الْخَبَرَ سَعِيدٌ الْمَقْبُرِيُّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مِهْرَانَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، فَالطَّرِيقَانِ جَمِيعًا مَحْفُوظَانِ ، وَمَتْنُ خَبَرِ أَبِي سَعِيدٍ أَتَمُّ مِنْ خَبَرِ أَبِي هُرَيْرَةَ قَدْ ذَكَرْنَاهُ فِي أَوْلِ هَذَا الْبَابِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جب بندے کو چارپائی پر رکھا جاتا ہے، تو وہ یہ کہتا ہے: مجھے آگے لے جاؤ، مجھے آگے لے جاؤ! اور جب بندے کو چارپائی پر رکھا جاتا ہے، تو وہ یہ کہتا ہے: ہائے افسوس! تم لوگ مجھے کہاں لے جا رہے ہو؟ (راوی کہتے ہیں) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد مسلمان اور کافر (بندہ) تھا۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ روایت سعید مقبری نے اپنے والد کے حوالے سے سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ سے نقل کی ہے اور عبدالرحمن بن مہران کے حوالے سے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے نقل کی ہے، تو اس کے دونوں طرق محفوظ ہیں۔ سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول روایت کا متن سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول روایت سے زیادہ مکمل ہے، اسے ہم اس باب کے آغاز میں ذکر کر چکے ہیں)۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 3111]

3112

Sahih Ibn Hibban #3112

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ الصَّبَّاحِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ صَفِيَّةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : لِلْقَبْرِ ضَغْطَةٌ لَوْ نَجَا مِنْهَا أَحَدٌ ، لَنَجَا مِنْهَا سَعْدُ بْنُ مُعَاذٍ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتی ہیں: ”قبر (ہر مردے کو) بھینچتی ہے، اگر کسی کو اس سے نجات ملنا ہوتی، تو سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کو اس سے نجات مل جاتی۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 3112]

3113

Sahih Ibn Hibban #3113

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ غِيَاثٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ عَمْرٍو ، يُحَدِّثُ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : إِنَّالْمَيِّتَ إِذَا وُضِعَ فِي قَبْرِهِ إِنَّهُ يَسْمَعُ خَفْقَ نِعَالِهِمْ حِينَ يُوَلُّونَ عَنْهُ ، فَإِنْ كَانَ مُؤْمِنًا ، كَانَتِ الصَّلاةُ عِنْدَ رَأْسِهِ ، وَكَانَ الصِّيَامُ عَنْ يَمِينِهِ ، وَكَانَتِ الزَّكَاةُ عَنْ شِمَالِهِ ، وَكَانَ فِعْلُ الْخَيْرَاتِ مِنَ الصَّدَقَةِ وَالصِّلَةِ وَالْمَعْرُوفِ وَالإِحْسَانِ إِلَى النَّاسِ : عِنْدَ رِجْلَيْهِ ، فَيُؤْتَى مِنْ قِبَلِ رَأْسِهِ ، فَتَقُولُ الصَّلاةُ : مَا قِبَلِي مَدْخَلٌ ، ثُمَّ يُؤْتَى عَنْ يَمِينِهِ ، فَيَقُولُ الصِّيَامُ : مَا قِبَلِي مَدْخَلٌ ، ثُمَّ يُؤْتَى عَنْ يَسَارِهِ ، فَتَقُولُ الزَّكَاةُ : مَا قِبَلِي مَدْخَلٌ ، ثُمَّ يُؤْتِي مِنْ قِبَلِ رِجْلَيْهِ ، فَتَقُولُ فَعَلُ الْخَيْرَاتِ مِنَ الصَّدَقَةِ وَالصِّلَةِ وَالْمَعْرُوفِ وَالإِحْسَانِ إِلَى النَّاسِ : مَا قِبَلِي مَدْخَلٌ ، فَيُقَالُ لَهُ : اجْلِسْ فَيَجْلِسُ ، وَقَدْ مُثِّلَتْ لَهُ الشَّمْسُ وَقَدْ أُدْنِيَتْ لِلْغُرُوبِ ، فَيُقَالُ لَهُ : أَرَأَيْتَكَ هَذَا الرَّجُلَ الَّذِي كَانَ فِيكُمْ مَا تَقُولُ فِيهِ ، وَمَاذَا تَشَهَّدُ بِهِ عَلَيْهِ ؟ فَيَقُولُ : دَعُونِي حَتَّى أُصَلِّيَ ، فَيَقُولُونَ : إِنَّكَ سَتَفْعَلُ ، أَخْبَرَنِي عَمَّا نَسْأَلُكُ عَنْهُ ، أَرَأَيْتَكَ هَذَا الرَّجُلَ الَّذِي كَانَ فِيكُمْ مَا تَقُولُ فِيهِ ، وَمَاذَا تَشَهَّدُ عَلَيْهِ ؟ قَالَ : فَيَقُولُ : مُحَمَّدٌ أَشْهَدُ أَنَّهُ رَسُولُ اللَّهِ ، وَأَنَّهُ جَاءَ بِالْحَقِّ مِنْ عِنْدِ اللَّهِ ، فَيُقَالُ لَهُ : عَلَى ذَلِكَ حَيِيتَ وَعَلَى ذَلِكَ مِتَّ ، وَعَلَى ذَلِكَ تُبْعَثُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ ، ثُمَّ يُفْتَحُ لَهُ بَابٌ مِنْ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ ، فَيُقَالُ لَهُ : هَذَا مَقْعَدُكَ مِنْهَا ، وَمَا أَعَدَّ اللَّهُ لَكَ فِيهَا ، فَيَزْدَادُ غِبْطَةً وَسُرُورًا ، ثُمَّ يُفْتَحُ لَهُ بَابٌ مِنْ أَبْوَابِ النَّارِ ، فَيُقَالُ لَهُ : هَذَا مَقْعَدُكَ مِنْهَا وَمَا أَعَدَّ اللَّهُ لَكَ فِيهَا لَوْ عَصَيْتَهُ ، فَيَزْدَادُ غِبْطَةً وَسُرُورًا ، ثُمَّ يُفْسَحُ لَهُ فِي قَبْرِهِ سَبْعُونَ ذِرَاعًا ، وَيُنَوَّرُ لَهُ فِيهِ ، وَيُعَادُ الْجَسَدُ لِمَا بَدَأَ مِنْهُ ، فَتَجْعَلُ نَسْمَتُهُ فِي النَّسَمِ الطِّيِّبِ وَهِيَ طَيْرٌ يَعْلُقُ فِي شَجَرِ الْجَنَّةِ ، قَالَ : فَذَلِكَ قَوْلُهُ تَعَالَى : يُثَبِّتُ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الآخِرَةِ إِلَى آخِرِ الآيَةِ " ، قَالَ : " وَإِنَّ الْكَافِرَ إِذَا أُتِيَ مِنْ قِبَلِ رَأْسِهِ ، لَمْ يُوجَدْ شَيْءٌ ، ثُمَّ أُتِيَ عَنْ يَمِينِهِ ، فَلا يُوجَدُ شَيْءٌ ، ثُمَّ أُتِيَ عَنْ شِمَالِهِ ، فَلا يُوجَدُ شَيْءٌ ، ثُمَّ أُتِيَ مِنْ قِبَلِ رِجْلَيْهِ ، فَلا يُوجَدُ شَيْءٌ ، فَيُقَالُ لَهُ : اجْلِسْ ، فَيَجْلِسُ خَائِفًا مَرْعُوبًا ، فَيُقَالُ لَهُ : أَرَأَيْتَكَ هَذَا الرَّجُلَ الَّذِي كَانَ فِيكُمْ مَاذَا تَقُولُ فِيهِ ؟ وَمَاذَا تَشَهَّدُ بِهِ عَلَيْهِ ؟ فَيَقُولُ : أَيُّ رَجُلٍ ؟ فَيُقَالُ : الَّذِي كَانَ فِيكُمْ ، فَلا يَهْتَدِي لاسْمِهِ حَتَّى يُقَالَ لَهُ : مُحَمَّدٌ ، فَيَقُولُ : مَا أَدْرِي ، سَمِعْتُ النَّاسَ قَالُوا قَوْلا ، فَقُلْتُ كَمَا قَالَ النَّاسُ ، فَيُقَالُ لَهُ : عَلَى ذَلِكَ حَيِيتَ ، وَعَلَى ذَلِكَ مِتَّ ، وَعَلَى ذَلِكَ تُبْعَثُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ ، ثُمَّ يُفْتَحُ لَهُ بَابٌ مِنْ أَبْوَابِ النَّارِ ، فَيُقَالُ لَهُ : هَذَا مَقْعَدُكَ مِنَ النَّارِ ، وَمَا أَعَدَّ اللَّهُ لَكَ فِيهَا ، فَيَزْدَادُ حَسْرَةً وَثُبُورًا ، ثُمَّ يُفْتَحُ لَهُ بَابٌ مِنْ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ ، فَيُقَالُ لَهُ : ذَلِكَ مَقْعَدُكَ مِنَ الْجَنَّةِ ، وَمَا أَعَدَّ اللَّهُ لَكَ فِيهِ لَوْ أَطَعْتَهُ فَيَزْدَادُ حَسْرَةً وَثُبُورًا ، ثُمَّ يُضَيَّقُ عَلَيْهِ قَبْرُهُ حَتَّى تَخْتَلِفَ فِيهِ أَضْلاعُهُ ، فَتِلْكَ الْمَعِيشَةُ الضَّنْكَةُ الَّتِي قَالَ اللَّهُ : فَإِنَّ لَهُ مَعِيشَةً ضَنْكًا وَنَحْشُرُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَعْمَى """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جب میت کو قبر میں رکھ دیا جاتا ہے، تو وہ لوگوں کے جوتوں کی چاپ بھی سنتا ہے، یہاں تک کہ لوگ اسے چھوڑ کر چلے جاتے ہیں۔ اگر وہ شخص مومن ہوتا ہے، تو نماز اس کے سرہانے آ جاتی ہے اور روزہ اس کے دائیں طرف ہوتا ہے، زکوٰۃ اس کے بائیں طرف ہوتی ہے اور صدقہ و خیرات، صلہ رحمی، بھلائی، لوگوں کے ساتھ احسان وغیرہ کرنے جیسی نیکیاں اس کے پاؤں کے پاس آتی ہیں۔ (فرشتے) اس کے سر کی طرف سے آنے کی کوشش کرتے ہیں، تو نماز کہتی ہے: تم میری طرف سے داخل نہیں ہو سکتے۔ پھر وہ اس کے دائیں طرف سے آتے ہیں، تو روزہ کہتا ہے: تم میری طرف سے داخل نہیں ہو سکتے۔ پھر وہ اس کے بائیں طرف سے آنے کی کوشش کرتے ہیں، تو زکوٰۃ کہتی ہے: میری طرف سے داخل نہیں ہو سکتے۔ پھر وہ اس کے پاؤں کی طرف سے آتے ہیں، تو صدقہ، صلہ رحمی، بھلائی اور لوگوں کے ساتھ احسان جیسی نیکیاں یہ کہتی ہیں: ہماری طرف سے داخل نہیں ہو سکتے۔ پھر اس میت سے یہ کہا جاتا ہے: تم بیٹھ جاؤ۔ وہ بیٹھ جاتا ہے، اسے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے سورج غروب ہونے کے قریب ہے۔ اس سے دریافت کیا جاتا ہے: ان صاحب کے بارے میں تمہاری کیا رائے ہے، جو تمہارے درمیان موجود تھے، تم ان کے بارے میں کیا کہتے ہو اور تم ان کے بارے میں کیا گواہی دیتے ہو؟ وہ کہتا ہے: تم لوگ مجھے موقع دو، تاکہ میں نماز ادا کر لوں۔ تو فرشتے کہتے ہیں: تم ایسا کر لو گے، تم ہمیں اس چیز کے بارے میں بتاؤ جس کے بارے میں ہم نے دریافت کیا ہے: یہ صاحب جو تمہارے درمیان موجود تھے ان کے بارے میں تمہاری کیا رائے ہے، تم ان کے بارے میں کیا کہتے ہو اور تم ان کے بارے میں کیا گواہی دیتے ہو۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: وہ شخص کہتا ہے: یہ سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، میں یہ گواہی دیتا ہوں کہ یہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اور یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے حق لے کر آئے تھے۔ تو اس سے کہا جاتا ہے: تم اسی اعتقاد پر زندہ رہے اور اسی اعتقاد پر تم نے انتقال کیا اور اسی اعتقاد پر تمہیں زندہ کیا جائے گا، اگر اللہ نے چاہا۔ پھر اس شخص کے لیے جنت کا ایک دروازہ کھولا جاتا ہے اور اس سے کہا جاتا ہے: یہ تمہارا جنت کا ٹھکانہ ہے اور وہ چیز ہے، جو جنت میں اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے تیار کی ہے، تو اس شخص کے رشک اور سرور میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ پھر اس کے سامنے جہنم کا دروازہ کھولا جاتا ہے اور اس سے کہا جاتا ہے: اگر تم اس (رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی) نافرمانی کرتے، تو تمہارا ٹھکانہ یہ ہونا تھا اور اس میں اللہ تعالیٰ نے ان چیزوں کو تمہارے لیے تیار رکھنا تھا، تو اس شخص کے رشک اور سرور میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ پھر اس کے لیے ستر بالشت تک قبر کو کشادہ کر دیا جاتا ہے اور اس کے لیے قبر میں روشنی کر دی جاتی ہے، اس کے جسم کو اسی حالت میں لوٹا دیا جاتا ہے، جس سے اس کا آغاز ہوا تھا اور پھر اس کو پاکیزہ جسم میں رکھ دیا جاتا ہے، جو ایک پرندے کی شکل میں ہوتا ہے، جو جنت کے درخت سے لٹکا ہوا ہوتا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: اللہ تعالیٰ کے اس فرمان سے یہی مراد ہے: ﴿يُثَبِّتُ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ﴾ [سورة إبراهيم: 27] ”اللہ تعالیٰ ایمان والوں کو ثابت قول پر دنیاوی زندگی میں بھی اور آخرت میں بھی ثابت قدم رکھتا ہے“ یہ آیت آخر تک ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: جب کافر شخص کے سرہانے کی طرف سے آیا جاتا ہے (یعنی فرشتہ اس کے پاس آنے کی کوشش کرتا ہے)، تو وہاں کوئی چیز نہیں ہوتی۔ پھر دائیں طرف سے آیا جاتا ہے، تو وہاں بھی کوئی چیز نہیں ہوتی۔ پھر بائیں طرف سے آیا جاتا ہے، تو وہاں بھی کوئی چیز نہیں ہوتی۔ پھر پاؤں کی طرف سے آیا جاتا ہے، تو وہاں بھی کچھ نہیں ہوتا، تو اس سے کہا جاتا ہے: تم بیٹھ جاؤ۔ تو وہ خوف زدہ اور مرعوب ہو کر بیٹھ جاتا ہے۔ اس سے کہا جاتا ہے: ان صاحب کے بارے میں تمہاری کیا رائے ہے؟ جو تمہارے درمیان موجود تھے، تم ان کے بارے میں کیا کہتے ہو اور تم اس کے بارے میں کس بات کی گواہی دیتے ہو؟ تو وہ دریافت کرتا ہے: کون سے صاحب؟ تو اس سے کہا جاتا ہے: وہ جو تمہارے درمیان تھے، لیکن اسے ان کے نام کے بارے میں نہیں بتایا جاتا، یہاں تک کہ اسے کہا جاتا ہے: ہم سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم (کے بارے میں پوچھ رہے ہیں)۔ تو وہ شخص کہتا ہے: مجھے نہیں معلوم، میں نے لوگوں کو ایک بات کہتے ہوئے سنا تھا، تو میں نے بھی وہی بات کہہ دی جو لوگ کہتے تھے۔ تو اس سے کہا جاتا ہے: تم اسی اعتقاد پر زندہ رہے اور اسی اعتقاد پر مرے اور اگر اللہ نے چاہا، تو اسی اعتقاد پر زندہ ہو گے۔ پھر اس کے لیے جہنم کا ایک دروازہ کھولا جاتا ہے اور اس سے کہا جاتا ہے: یہ جہنم میں تمہارا ٹھکانہ ہے اور وہ چیز ہے، جسے اللہ تعالیٰ نے جہنم میں تمہارے لیے تیار کیا ہے، تو اس کی حسرت اور افسوس میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ پھر اس کے لیے جنت کا ایک دروازہ کھولا جاتا ہے اور یہ کہا جاتا ہے: اگر تم اس (رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی) بات مان لیتے، تو یہ جنت تمہارا ٹھکانہ ہونی تھی اور اس میں اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے جو کچھ تیار کیا ہے وہ تمہیں ملنا تھا، تو اس کی حسرت اور افسوس میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ پھر اس کے لیے قبر کو تنگ کیا جاتا ہے، یہاں تک کہ اس کی پسلیاں ایک دوسرے میں پیوست ہو جاتی ہیں۔ یہ وہ گھٹن والی زندگی ہے، جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے: ﴿فَإِنَّ لَهُ مَعِيشَةً ضَنكًا وَنَحْشُرُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَعْمَىٰ﴾ [سورة طه: 124] ”بے شک اس کے لیے گھٹن والی زندگی ہے اور ہم قیامت کے دن اسے نابینا بنا کر اٹھائیں گے۔“ ” [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 3113]

3114

Sahih Ibn Hibban #3114

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ الطَّائِيُّ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ الْمُنْذِرِ ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ ، أَنَّهَا قَالَتْ : أَتَيْتُ عَائِشَةَ حِينَ خَسَفَتِ الشَّمْسُ ، فَإِذَا النَّاسُ قِيَامٌ يُصَلُّونَ ، وَإِذَا هِيَ قَائِمَةٌ تُصَلِّي ، فَقُلْتُ : مَا لِلنَّاسِ ؟ فَأَشَارَتْ بِيَدِهَا إِلَى السَّمَاءِ ، وَقَالَتْ : سُبْحَانَ اللَّهِ فَقُلْتُ : آيَةٌ ؟ فَأَشَارَتْ : أَيْ نَعَمْ ، قَالَتْ : فَقُمْتُ حَتَّى تَجَلانِي الْغَشْيُ ، فَجَعَلْتُ أُصُبُّ الْمَاءَ فَوْقَ رَأْسِي ، فَلَمَّا انْصَرَفَ حَمِدَ اللَّهَ رَسُولَ اللَّهِ ، وَأَثْنَى عَلَيْهِ ، ثُمَّ قَالَ : مَا مِنْ شَيْءٍ كُنْتُ لَمْ أَرَهُ إِلا قَدْ رَأَيْتُهُ فِي مَقَامِي هَذَا حَتَّى الْجَنَّةَ وَالنَّارَ ، وَلَقَدْ أُوحِيَ إِلَيَّ أَنَّكُمْ تُفْتَنُونَ فِي الْقُبُورِ مِثْلَ أَوْ قَرِيبًا مِنْ فِتْنَةِ الدَّجَّالِ " ، لا أَدْرِي أَيَّ ذَلِكَ قَالَتْ أَسْمَاءُ يُؤْتَى أَحَدُكُمْ ، فَيُقَالُ لَهُ : " مَا عِلْمُكَ بِهَذَا الرَّجُلِ ؟ فَأَمَّا الْمُؤْمِنُ أَوِ الْمُوقِنُ فَلا أَدْرِي أَيَّ ذَلِكَ قَالَتْ أَسْمَاءُ فَيَقُولُ : " مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ جَاءَنَا بِالْبَيِّنَاتِ وَالْهُدَى ، فَأَجَبْنَا وَآمَنَّا وَاتَّبَعْنَا ، فَيُقَالُ لَهُ : نَمْ صَالِحًا قَدْ عَلِمْنَا إِنْ كُنْتَ لَمُؤْمِنًا ، وَأَمَّا الْمُنَافِقُ أَوِ الْمُرْتَابُ " ، لا أَدْرِي أَيَّ ذَلِكَ قَالَتْ أَسْمَاءُ فَيَقُولُ : " لا أَدْرِي ، سَمِعْتُ النَّاسَ يَقُولُونَ شَيْئًا فَقُلْتُهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ اسماء بنت ابوبکر رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: جب سورج گرہن ہوا، تو میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئی، وہاں لوگ کھڑے ہوئے نماز ادا کر رہے تھے اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بھی کھڑی ہوئی نماز ادا کر رہی تھیں، میں نے کہا: ”لوگوں کو کیا ہوا ہے؟“ تو انہوں نے اپنے ہاتھ کے ذریعے آسمان کی طرف اشارہ کیا اور «سُبْحَانَ اللَّهِ» ”اللہ پاک ہے“ کہا، میں نے کہا: ”کیا کوئی نشانی نمودار ہوئی ہے؟“ تو انہوں نے اشارے سے جواب دیا: ”جی ہاں۔“ سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میں بھی کھڑی ہوئی، یہاں تک کہ مجھ پر بے ہوشی طاری ہونے لگی، تو میں اپنے سر پر پانی انڈیلنے لگی۔ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز مکمل کر لی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ہر وہ چیز جو میں نے پہلے نہیں دیکھی تھی وہ میں نے اس جگہ پر کھڑے ہوئے دیکھ لی ہے، یہاں تک کہ جنت اور جہنم کو بھی دیکھ لیا اور میری طرف یہ بات وحی کی گئی ہے کہ تم لوگوں کو قبروں میں آزمائش میں مبتلا کیا جائے گا جو دجال کی آزمائش کی مانند ہو گی (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) یا اس کے قریب ہو گی (راوی کہتے ہیں: مجھے نہیں معلوم سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا نے کیا لفظ بیان کیا تھا) تم میں سے کسی ایک کے پاس (فرشتہ) آئے گا اور اس سے دریافت کیا جائے گا: ان صاحب کے بارے میں تمہارا علم کیا ہے؟ تو اگر وہ ایمان رکھنے والا شخص ہو گا (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) یا یقین رکھنے والا شخص ہو گا (راوی کہتے ہیں: مجھے نہیں معلوم تھا سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا نے کیا لفظ بیان کیا تھا) تو وہ یہ کہے گا: یہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں جو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، یہ ہمارے پاس واضح دلائل اور ہدایت لے کر آئے تھے، ہم نے ان کی دعوت کو قبول کیا، ہم ان پر ایمان لائے اور ہم نے ان کی پیروی کی، تو اس شخص سے یہ کہا جائے گا: تم اچھی حالت میں سو جاؤ، ہمیں پتہ تھا تم ایمان رکھتے ہو، اور اگر وہ شخص منافق ہو گا یا شک کا شکار ہو گا (راوی کہتے ہیں: مجھے نہیں معلوم کہ سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا نے کیا لفظ استعمال کیا تھا) تو وہ یہ کہے گا: مجھے نہیں معلوم، میں نے لوگوں کو ایک بات کہتے ہوئے سنا تھا، تو میں نے بھی وہی بات کہہ دی۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 3114]

3115

Sahih Ibn Hibban #3115

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عِيسَى الْمِصْرِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي حُيَيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمَعَافِرِيُّ ، أَنَّ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيَّ ، حَدَّثَهُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ،ذَكَرَ فَتَّانَيِ الْقَبْرِ ، فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ : أَتُرَدُّ عَلَيْنَا عُقُولُنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ فَقَالَ : نَعَمْ ، كَهَيْئَتِكُمُ الْيَوْمَ " ، قَالَ : فَبِفِيهِ الْحَجَرُ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قبر کی آزمائش کا ذکر کیا، تو سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا ہماری عقول ہمیں لوٹائی جائیں گی؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ہاں، جس طرح تم لوگ آج ہو“، تو انہوں نے عرض کی: اس کے منہ پر پابندی ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 3115]

3116

Sahih Ibn Hibban #3116

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُوسَى بِعَسْكَرِ مُكْرَمٍ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ قَحْطَبَةَ بْنِ مَرْزُوقٍ بِفَمِ الصِّلْحِ ، قَالا : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ حَفْصٍ الأُبُلِّيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِذَا دَخَلَ الْمَيِّتُ الْقَبْرَ ، مُثِّلَتْ لَهُ الشَّمْسُ عِنْدَ غُرُوبِهَا ، فَيَقُولُ : دَعُونِي أُصَلِّي """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”جب میت قبر میں داخل ہوتی ہے، تو اسے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے سورج غروب ہونے کے قریب ہے، تو وہ یہ کہتا ہے: مجھے نماز پڑھ لینے دو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 3116]

3117

Sahih Ibn Hibban #3117

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُعَاذٍ الْعَقَدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاقَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي سَعِيدٌ الْمَقْبُرِيُّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِذَا قُبِرَ أَحَدُكُمْ أَوِ الإِنْسَانُ ، أَتَاهُ مَلَكَانِ أَسْوَدَانِ أَزْرَقَانِ ، يُقَالُ لأَحَدِهِمَا : الْمُنْكَرُ وَالآخَرُ : النَّكِيرُ ، فَيَقُولانِ لَهُ : مَا كُنْتَ تَقُولُ فِي هَذَا الرَّجُلِ مُحَمَّدٍ ؟ فَهُوَ قَائِلٌ مَا كَانَ يَقُولُ ، فَإِنْ كَانَ مُؤْمِنًا قَالَ : هُوَ عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ ، أَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ ، فَيَقُولانِ لَهُ : إِنْ كُنَّا لِنَعْلَمُ إِنَّكَ لَتَقُولُ ذَلِكَ ، ثُمَّ يَفْسَحُ لَهُ فِي قَبْرِهِ سَبْعُونَ ذِرَاعًا فِي سَبْعِينَ ذِرَاعًا ، وَيُنَوَّرُ لَهُ فِيهِ ، فَيُقَالُ لَهُ : نَمْ فَيَنَامُ كَنَوْمَةِ الْعَرُوسِ الَّذِي لا يُوقِظُهُ إِلا أَحَبُّ أَهْلِهِ إِلَيْهِ ، حَتَّى يَبْعَثَهُ اللَّهُ مِنْ مَضْجَعِهِ ذَلِكَ ، وَإِنْ كَانَ مُنَافِقًا قَالَ : لا أَدْرِي كُنْتُ أَسْمَعُ النَّاسَ يَقُولُونَ شَيْئًا ، فَكُنْتُ أَقُولُهُ ، فَيَقُولانِ لَهُ : إِنْ كُنَّا لَنَعْلَمُ أَنَّكَ تَقُولُ ذَلِكَ ، ثُمَّ يُقَالُ لِلأَرْضِ : الْتَئِمِي عَلَيْهِ ، فَتَلْتَئِمُ عَلَيْهِ حَتَّى تَخْتَلِفَ فِيهَا أَضْلاعُهُ ، فَلا يَزَالُ مُعَذَّبًا حَتَّى يَبْعَثَهُ اللَّهُ مِنْ مَضْجَعِهِ ذَلِكَ "، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَيْهِ : خَبَرُ الأَعْمَشِ ، عَنِ الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ زَاذَانَ ، عَنِ الْبَرَاءِ ، سَمِعَهُ الأَعْمَشُ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عُمَارَةَ ، عَنِ الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو ، وَزَاذَانُ لَمْ يَسْمَعْهُ مِنَ الْبَرَاءِ فَلِذَلِكَ لَمْ أُخَرِّجْهُ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جب تم میں سے کسی ایک کو (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) یا انسان کو قبر میں (دفنا دیا جاتا ہے)، تو اس کے پاس دو سیاہ اور زرد رنگ کے فرشتے آتے ہیں، ان میں سے ایک کو منکر کہا جاتا ہے اور دوسرے کو نکیر کہا جاتا ہے، وہ دونوں اس (مردے) سے کہتے ہیں: تم ان صاحب سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں کیا کہتے ہو؟ تو وہ وہی کہتا ہے جو (دنیا میں) کہا کرتا تھا، اگر وہ مومن ہو تو یہ کہتا ہے: یہ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں اور میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے اور بے شک سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں، تو وہ دونوں فرشتے اس سے کہتے ہیں: ہمیں معلوم تھا کہ تم یہی کہو گے، پھر وہ اس کے لیے اس کی قبر کو ستر ضرب ستر بالشت تک کشادہ کر دیتے ہیں اور اس کے لیے قبر کو روشن کر دیتے ہیں اور اس سے کہا جاتا ہے: تم سو جاؤ، تو وہ یوں سو جاتا ہے جس طرح دلہن سوتی ہے جسے صرف وہی بیدار کرتا ہے جو اس کے نزدیک سب سے زیادہ محبوب ہو یعنی اس کا شوہر، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ (قیامت کے دن) اس کے اس بستر سے اسے اٹھائے گا، اور اگر وہ منافق ہو تو وہ یہ کہتا ہے: مجھے نہیں معلوم، میں لوگوں کو کوئی بات کہتے ہوئے سنتا تھا تو وہی بات کہہ دیتا تھا، تو فرشتے اسے کہتے ہیں: ہمیں معلوم تھا کہ تم یہی کہو گے، پھر زمین سے کہا جاتا ہے: اسے دبوچ لو، تو وہ اسے یوں دبوچتی ہے کہ اس کی پسلیاں ایک دوسرے میں پیوست ہو جاتی ہیں اور اس شخص کو مسلسل عذاب ہوتا رہے گا یہاں تک کہ اللہ اسے اس کی قبر سے اٹھائے گا۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں): اعمش نے منہال بن عمرو کے حوالے سے، انہوں نے زاذان کے حوالے سے اور انہوں نے سیدنا براء رضی اللہ عنہ سے جو روایت نقل کی ہے، اعمش نے وہ روایت حسن کے حوالے سے، انہوں نے عمارہ کے حوالے سے، انہوں نے منہال بن عمرو اور زاذان کے حوالے سے نقل کی ہے، لیکن انہوں نے یہ روایت سیدنا براء رضی اللہ عنہ سے نہیں سنی ہے، اس لیے میں نے اس روایت کو نقل نہیں کیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 3117]

3118

Sahih Ibn Hibban #3118

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ زُهَيْرٍ بِتُسْتَرَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمُخَرِّمِيُّ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ ، عَنِ السُّدِّيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّالْمَيِّتَ لَيَسْمَعُ خَفْقَ نِعَالِهِمْ إِذَا وَلَّوْا مُدْبِرِينَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”بے شک میت لوگوں کے قدموں کی چاپ بھی سنتی ہے جب وہ لوگ واپس جاتے ہیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 3118]

3119

Sahih Ibn Hibban #3119

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فِي قَوْلِهِ جَلَّ وَعَلا : فَإِنَّ لَهُ مَعِيشَةً ضَنْكًا قَالَ : عَذَابُ الْقَبْرِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کے ایک فرمان کے بارے میں فرمایا ہے (ارشادِ باری تعالیٰ ہے): ﴿فَإِنَّ لَهُ مَعِيشَةً ضَنكًا﴾ [سورة طه: 124] ”تو اس کے لیے تنگ زندگی ہو جاتی ہے۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس سے مراد قبر کا عذاب ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 3119]

3120

Sahih Ibn Hibban #3120

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ الشَّيْبَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ النَّرْسِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : إِنَّالْعَبْدَ إِذَا وُضِعَ فِي قَبْرِهِ ، وَتَوَلَّوْا عَنْهُ أَصْحَابُهُ حَتَّى إِنَّهُ لَيَسْمَعُ قَرْعَ نِعَالِهِمْ ، أَتَاهُ مَلَكَانِ فَيُقْعِدَانِهِ فَيَقُولانِ : مَا كُنْتَ تَقُولُ فِي هَذَا الرَّجُلِ ؟ فِي مُحَمَّدٍ فَأَمَّا الْمُؤْمِنُ فَيَقُولُ : أَشْهَدُ أَنَّهُ عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ ، فَيُقَالُ لَهُ : انْظُرْ إِلَى مَقْعَدِكَ مِنَ النَّارِ قَدْ أَبْدَلَكَ اللَّهُ مَقْعَدًا مِنَ الْجَنَّةِ " قَالَ قَتَادَةُ : وَذُكِرَ لَنَا أَنَّهُ يَفْسَحُ لَهُ فِي قَبْرِهِ سَبْعُونَ ذِرَاعًا ، وَيُمْلأُ عَلَيْهِ خَضِرًا إِلَى يَوْمِ يَبْعَثُونَ ، ثُمَّ رَجَعَ إِلَى حَدِيثِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : " وَأَمَّا الْكَافِرُ وَالْمُنَافِقُ ، فَيُقَالُ لَهُ : مَا كُنْتَ تَقُولُ فِي هَذَا الرَّجُلِ ؟ فَيَقُولُ : لا أَدْرِي ، كُنْتُ أَقُولُ مَا يَقُولُ النَّاسُ ، فَيُقَالُ : لا دَرَيْتَ ، وَلا تَلَيْتَ ، ثُمَّ يُضْرَبُ بِمِطْرَاقٍ مِنْ حَدِيدٍ ضَرْبَةً بَيْنَ أُذُنَيْهِ ، فَيَصِيحُ صَيْحَةً يَسْمَعُهَا مَنْ عَلَيْهَا غَيْرَ الثَّقَلَيْنِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جب بندے کو قبر میں رکھ دیا جاتا ہے اور اس کے ساتھی اسے چھوڑ کر چلے جاتے ہیں، تو وہ ان کے جوتوں کی آہٹ بھی سنتا ہے، اس کے پاس دو فرشتے آتے ہیں، وہ اسے بٹھاتے ہیں اور یہ کہتے ہیں: ان صاحب (یعنی سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم ) کے بارے میں تم کیا کہتے ہو؟ اگر وہ مومن ہو، تو وہ کہتا ہے: میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ یہ اللہ کے بندے اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، تو اس سے کہا جاتا ہے: اپنے جہنم کے ٹھکانے کو دیکھو، اللہ تعالیٰ نے اس کی جگہ تمہیں جنت کا ٹھکانہ عطا کر دیا ہے۔“ قتادہ نامی راوی نے یہ بات ذکر کی ہے کہ ہمارے سامنے یہ بات ذکر کی گئی کہ اس شخص کے لیے قبر کو ستر بالشت تک کشادہ کر دیا جاتا ہے اور اس کے لیے قیامت کے دن تک سبزہ بھر دیا جاتا ہے۔ اس کے بعد قتادہ واپس سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی حدیث کی طرف آئے، جس میں یہ الفاظ ہیں (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا): ”جہاں تک کافر اور منافق کا تعلق ہے، تو اس سے یہ کہا جاتا ہے: تم ان صاحب کے بارے میں کیا کہتے ہو؟ تو وہ جواب دیتا ہے: مجھے نہیں معلوم، میں وہی بات کہتا تھا جو لوگ کہتے تھے، تو اس سے کہا جاتا ہے: نہ تو تم نے علم حاصل کیا اور نہ ہی (قرآن کی) تلاوت کی، پھر اس کے دونوں کانوں کے درمیان لوہے سے بنا ہوا گرز مارا جاتا ہے، جس کے نتیجے میں وہ چیخ مارتا ہے، جسے انسانوں اور جنات کے علاوہ زمین پر موجود ہر چیز سنتی ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 3120]

3121

Sahih Ibn Hibban #3121

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ ، قَالَ : سَمِعْتُ دَرَّاجًا أَبَا السَّمْحِ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ أَبَا الْهَيْثَمِ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يُسَلَّطُ عَلَى الْكَافِرِ فِي قَبْرِهِ تِسْعَةٌ وَتِسْعُونَ تِنِّينًا تَنْهَشُهُ وَتَلْدَغُهُ ، حَتَّى تَقُومَ السَّاعَةُ ، فَلَوْ أَنَّ تِنِّينًا مِنْهَا نَفَخَتْ فِي الأَرْضِ مَا أَنْبَتَتْ خَضِرًا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”کافر پر اس کی قبر میں ننانوے اژدھے مسلط کیے جاتے ہیں جو اسے نوچتے ہیں اور اسے کاٹتے ہیں، اور ایسا قیامت تک ہوتا رہے گا، اگر ان میں سے کوئی ایک اژدہا زمین پر پھونک مار دے، تو زمین سبزہ پیدا نہ کرے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 3121]

3122

Sahih Ibn Hibban #3122

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، أَنَّ أَبَا السَّمْحِ ، حَدَّثَهُ ، عَنِ ابْنِ حُجَيْرَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : إِنَّالْمُؤْمِنَ فِي قَبْرِهِ لَفِي رَوْضَةٍ خَضْرَاءَ ، وَيُرْحَبُ لَهُ قَبْرُهُ سَبْعُونَ ذِرَاعًا ، وَيُنَوَّرُ لَهُ كَالْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ أَتَدْرُونَ فِيمَا أُنْزِلَتْ هَذِهِ الآيَةُ : فَإِنَّ لَهُ مَعِيشَةً ضَنْكًا وَنَحْشُرُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَعْمَى أَتَدْرُونَ مَا الْمَعِيشَةُ الضَّنْكَةُ ؟ " قَالُوا : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ قَالَ : " عَذَابُ الْكَافِرِ فِي قَبْرِهِ ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، إِنَّهُ يُسَلَّطَ عَلَيْهِ تِسْعَةٌ وَتِسْعُونَ تِنِّينًا ، أَتَدْرُونَ مَا التِّنِّينُ ؟ سَبْعُونَ حَيَّةً ، لِكُلِّ حَيَّةٍ سَبْعُ رُؤوسٍ يِلْسَعُونَهُ ، وَيَخْدِشُونَهُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”مومن کی قبر ایک سرسبز باغ ہوتی ہے، اس کے لیے قبر کو ستر گز تک کشادہ کر دیا جاتا ہے اور اس کے لیے قبر کو یوں روشن کر دیا جاتا ہے، جس طرح چودھویں رات کا چاند ہوتا ہے، کیا تم لوگ یہ بات جانتے ہو یہ آیت ﴿فَإِنَّ لَهُ مَعِيشَةً ضَنكًا وَنَحْشُرُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَعْمَىٰ﴾ [سورة طه: 124] کس کے بارے میں نازل ہوئی ہے؟“ لوگوں نے عرض کی: اللہ اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم زیادہ بہتر جانتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس سے مراد قبر میں کافر کو دیا جانے والا عذاب ہے۔ اس ذات کی قسم! جس کے دستِ قدرت میں میری جان ہے، اس پر ننانوے اژدھے مسلط کیے جائیں گے، کیا تم جانتے ہو، ان میں سے ایک اژدہا کیا ہو گا؟ وہ ستر سانپوں جتنا ہو گا جن میں سے ہر ایک سانپ کے سات سر ہوں گے جس کے ذریعے وہ اسے کاٹیں گے اور نوچیں گے اور ایسا قیامت تک ہوتا رہے گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 3122]

3123

Sahih Ibn Hibban #3123

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّهَا سَمِعَتْ عَائِشَةَ ، وَذُكِرَ لَهَا أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ ، يَقُولُ : إِنَّ الْمَيِّتَ لَيُعَذَّبُ بِبُكَاءِ الْحَيِّ ، قَالَتْ عَائِشَةُ : يَغْفِرُ اللَّهُ لأَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَمَا إِنَّهُ لَمْ يَكْذِبْ وَلَكِنَّهُ نَسِيَ أَوْ أَخْطَأَ ، إِنَّمَا مَرَّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى يَهُودِيَّةٍ يُبْكَى عَلَيْهَا ، فَقَالَ : إِنَّهُمْ يَبْكُونَ عَلَيْهَا وَإِنَّهَا لَتُعَذَّبُ فِي قَبْرِهَا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عمرہ بنت عبدالرحمن بیان کرتی ہیں کہ انہوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو سنا، ان کے سامنے یہ بات ذکر کی گئی کہ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہما یہ کہتے ہیں کہ میت کو زندہ شخص کے رونے کی وجہ سے عذاب دیا جاتا ہے، تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: اللہ تعالیٰ ابوعبدالرحمن (یعنی سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما) کی مغفرت کرے، انہوں نے جھوٹ نہیں کہا ہے، لیکن وہ بھول گئے ہیں یا ان سے غلطی ہوئی ہے، ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک یہودی عورت کے پاس سے گزرے تھے جس پر رویا جا رہا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ لوگ اس عورت پر رو رہے ہیں اور اس عورت کو اس کی قبر میں عذاب ہو رہا ہے“۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 3123]

3124

Sahih Ibn Hibban #3124

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ عَوْنِ بْنِ أَبِي جُحَيْفَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الأَنْصَارِيِّ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَسَمِعَ صَوْتًا حِينَ غَرَبَتِ الشَّمْسُ ، فَقَالَ : هَذِهِ أَصْوَاتُ الْيَهُودِ تُعَذَّبُ فِي قُبُورِهَا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا براء بن عازب، سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہما کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں: ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سورج غروب ہونے کے وقت ایک آواز سنی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ یہودیوں کی آواز ہے جنہیں ان کی قبروں میں عذاب دیا جا رہا ہے“۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 3124]

3125

Sahih Ibn Hibban #3125

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ أُمِّ مُبَشِّرٍ ، قَالَتْ : دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَنَا فِي حَائِطٍ مِنْ حَوَائِطِ بَنِي النَّجَّارِ ، فِيهِ قُبُورٌ مِنْهُمْ ، وَهُوَ يَقُولُ : اسْتَعِيذُوا بِاللَّهِ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ " فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَلِلْقَبْرِ عَذَابٌ ؟ قَالَ : " نَعَمْ ، وَإِنَّهُمْ لَيُعَذَّبُونَ فِي قُبُورِهِمْ تَسْمَعُهُ الْبَهَائِمُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ ام مبشر رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے ہاں تشریف لائے، میں اس وقت بنو نجار کے ایک باغ میں تھی جس میں ان کی کچھ قبریں تھیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ فرما رہے تھے: ”قبر کے عذاب سے اللہ کی پناہ مانگو۔“ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا قبر میں عذاب ہو گا؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جی ہاں، ان لوگوں کو قبر میں عذاب دیا جاتا ہے، جسے جانور بھی سنتے ہیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 3125]

3126

Sahih Ibn Hibban #3126

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّامِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ الْمَقَابِرِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ دَخَلَ حَائِطًا مِنْ حَوَائِطِ بَنِي النَّجَّارِ ، فَسَمِعَ صَوْتًا مِنْ قَبْرٍ ، قَالَ : مَتَى دُفِنَ صَاحِبُ هَذَا الْقَبْرِ ؟ " فَقَالُوا : فِي الْجَاهِلِيَّةِ ، فَسُرَّ بِذَلِكَ ، وَقَالَ :" لَوْلا أَنْ لا تَدَافَنُوا ، لَدَعَوْتُ اللَّهَ أَنْ يُسْمِعَكُمْ عَذَابَ الْقَبْرِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وسلم بنو نجار کے ایک باغ میں داخل ہوئے، وہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک قبر میں سے آواز سنی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”اس مردے کو کب دفن کیا گیا تھا؟“ لوگوں نے بتایا: زمانہ جاہلیت میں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس بات پر خوش ہو گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر یہ اندیشہ نہ ہو کہ تم ایک دوسرے کو دفن کرنا چھوڑ دو گے، تو میں اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کرتا کہ وہ تمہیں قبر کے عذاب (کی آواز) سنائے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 3126]

3127

Sahih Ibn Hibban #3127

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَازِمٍ ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَسَنَةَ ، قَالَ : خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَفِي يَدِهِ كَهَيْئَةِ الدَّرَقَةِ ، فَوَضَعَهَا ، ثُمَّ بَالَ إِلَيْهَا فَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ : انْظُرُوا إِلَيْهِ يَبُولُ كَمَا تَبُولُ الْمَرْأَةُ ، قَالَ : فَسَمِعَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : وَيْحَكَ ،مَا عَلِمْتَ مَا أَصَابَ صَاحِبَ بَنِي إِسْرَائِيلَ ؟ كَانُوا إِذَا أَصَابَهُمْ شَيْءٌ مِنَ الْبَوْلِ ، قَرَضُوا بِالْمَقَارِيضِ فَنَهَاهُمْ ، فَعُذِّبَ فِي قَبْرِهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبدالرحمن بن حسنہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دست اقدس میں ڈھال نما کوئی چیز تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے رکھا اور اس کی طرف رخ کر کے پیشاب کیا۔ حاضرین میں سے کسی نے کہا: ان کی طرف دیکھو، یہ یوں پیشاب کر رہے ہیں جس طرح عورت پیشاب کرتی ہے۔ راوی کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی بات سن لی اور ارشاد فرمایا: ”تمہارا ستیاناس ہو! کیا تمہیں معلوم نہیں ہے کہ بنی اسرائیل سے تعلق رکھنے والے شخص کے ساتھ کیا ہوا تھا؟ ان لوگوں کا یہ معمول تھا کہ جب ان کے جسم پر پیشاب لگ جاتا تھا، تو وہ اسے قینچی کے ذریعے کاٹ دیتے تھے، ایک شخص نے انہیں اس سے منع کیا، تو اسے اس کی قبر میں عذاب دیا گیا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 3127]

3128

Sahih Ibn Hibban #3128

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : مَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى قَبْرَيْنِ ، فَقَالَ : إِنَّهُمَا لَيُعَذَّبَانِ ، وَمَا يُعَذَّبَانِ فِي كَبِيرٍ " ، ثُمَّ قَالَ : " بَلَى ، أَمَا أَحَدُهُمَا ، فَكَانَ يَسْعَى بِالنَّمِيمَةِ ، وَأَمَّا الآخَرُ ، فَكَانَ لا يَسْتَنْزِهُ مِنْ بَوْلِهِ " ، ثُمَّ أَخَذَ عُودًا ، فَكَسَرَهُ بِاثْنَيْنِ ، ثُمَّ غَرَزَ كُلَّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا عَلَى قَبْرٍ ، ثُمَّ قَالَ : " لَعَلَّهُ يُخَفِّفُ عَنْهُمَا الْعَذَابَ مَا لَمْ يَيْبَسَا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دو قبروں کے پاس سے گزرے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ان دونوں کو عذاب ہو رہا ہے اور ان دونوں کو (بظاہر) کسی بڑی وجہ سے عذاب نہیں ہو رہا۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جی ہاں! جہاں تک ان میں سے ایک کا تعلق ہے، تو یہ چغلی کیا کرتا تھا اور جہاں تک دوسرے کا تعلق ہے، تو یہ پیشاب سے نہیں بچتا تھا۔“ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لکڑی لی، پھر اسے دو حصوں میں تقسیم کیا اور ان میں سے ہر ایک کی قبر پر اسے گاڑھ دیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میں نے ایسا اس لیے کیا ہے، تاکہ جب تک یہ دونوں خشک نہیں ہو جاتیں ان دونوں کے عذاب میں تخفیف ہو جائے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 3128]

3129

Sahih Ibn Hibban #3129

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مَعْشَرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِقَبْرَيْنِ ، فَقَالَ : إِنَّهَذَيْنِ يُعَذَّبَانِ فِي غَيْرِ كَبِيرٍ : فِي النَّمِيمَةِ وَالْبَوْلِ " ، ثُمَّ دَعَا بِجَرِيدَةٍ فَكَسَرَهَا ، فَوَصَلَهَا عَلَيْهِمَا ، وَقَالَ : " عَسَى أَنْ يُخَفَّفَ عَنْهُمَا مَا لَمْ يَيْبَسَا "، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : سَمِعَ هَذَا الْخَبَرَ مُجَاهِدٌ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، وَسَمِعَهُ عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، فَالطَّرِيقَانِ جَمِيعًا مَحْفُوظَانِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دو قبروں کے پاس سے گزرے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ان دونوں کو (بظاہر) کسی بڑی وجہ سے عذاب نہیں ہو رہا، انہیں چغلی کرنے اور پیشاب (سے نہ بچنے) کی وجہ سے عذاب ہو رہا ہے۔“ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شاخ منگوائی، اسے توڑا اور ان دونوں کی قبروں پر لگا دیا اور ارشاد فرمایا: ”(میں نے ایسا اس لیے کیا ہے)، تاکہ جب تک یہ دونوں خشک نہیں ہوتیں ان کے عذاب میں تخفیف ہو جائے۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) مجاہد نے یہ روایت سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے بھی سنی ہے اور انہوں نے یہ روایت طاؤس کے حوالے سے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے سنی ہے، تو اس کے دونوں طرق محفوظ ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 3129]

3130

Sahih Ibn Hibban #3130

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : إِنَّأَحَدَكُمْ إِذَا مَاتَ عُرِضَ عَلَيْهِ مَقْعَدُهُ بِالْغَدَاةِ وَالْعَشِيِّ ، إِنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ ، فَمَنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ ، وَإِنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ النَّارِ ، فَمَنْ أَهْلِ النَّارِ ، يُقَالُ : هَذَا مَقْعَدُكَ حَتَّى يَبْعَثَكَ اللَّهُ إِلَيْهِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جب کوئی شخص فوت ہو جاتا ہے، تو اس کا ٹھکانہ صبح و شام اس کے سامنے پیش کیا جاتا ہے، اگر وہ اہل جنت میں سے ہو، تو اہل جنت کا ٹھکانہ پیش کیا جاتا ہے اور اگر وہ اہل جہنم میں سے ہو، تو اہل جہنم کا ٹھکانہ پیش کیا جاتا ہے اور اسے یہ کہا جاتا ہے: یہ تمہارا ٹھکانہ ہے، قیامت کے دن اللہ تعالیٰ تمہیں اس کی طرف بھیج دے گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 3130]

3131

Sahih Ibn Hibban #3131

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : لَوْلا أَنْ لا تَدَافَنُوا لَدَعَوْتُ اللَّهَ أَنْ يُسْمِعَكُمْ عَذَابَ الْقَبْرِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”اگر اس بات کا اندیشہ نہ ہو کہ تم ایک دوسرے کو دفن کرنا چھوڑو گے، تو میں اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کرتا کہ وہ تمہیں قبر کا عذاب سنائے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 3131]

3132

Sahih Ibn Hibban #3132

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ عُمَرَ لَمَّا طُعِنَ عَوَّلَتْ عَلَيْهِ حَفْصَةُ ، فَقَالَ لَهَا عُمَرُ : يَا حَفْصَةُ ، أَمَا سَمِعْتِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : إِنَّالْمُعَوَّلَ عَلَيْهِ يُعَذَّبُ " ؟ فَقَالَتْ : بَلَى"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ زخمی ہوئے، تو سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے ان پر واویلہ کیا، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا: اے حفصہ! کیا تم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے نہیں سنا ہے: ”جس پر واویلہ کیا جائے اسے عذاب دیا جائے گا“؟ تو سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے جواب دیا: جی ہاں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 3132]

3133

Sahih Ibn Hibban #3133

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّالْكَافِرَ لِيَزْدَادَ عَذَابًا بِبَعْضِ بُكَاءِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”کافر کے گھر والوں کے اس پر رونے کی وجہ سے کافر کے عذاب میں اضافہ ہوتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 3133]

3134

Sahih Ibn Hibban #3134

أَخْبَرَنَا أَبُو عَرُوبَةَ بِخَبَرٍ غَرِيبٍ بِحَرَّانَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صُبَيْحٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّالْمَيِّتَ يُعَذَّبُ بِبُكَاءِ الْحَيِّ "، فَقُلْتُ لِمُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ مَنْ قَالَهُ ؟ قَالَ عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

محمد بن سیرین روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”زندہ شخص کے رونے کی وجہ سے میت کو عذاب دیا جاتا ہے۔“ راوی کہتے ہیں: میں نے محمد بن سیرین سے دریافت کیا: یہ حدیث کس نے بیان کی ہے؟ انہوں نے جواب دیا: سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے بیان کی ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 3134]

3135

Sahih Ibn Hibban #3135

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ النَّرْسِيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى الْقَطَّانُ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : الْمَيِّتُ يُعَذَّبُ بِبُكَاءِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”میت کے گھر والوں کے اس پر رونے کی وجہ سے میت کو عذاب دیا جاتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 3135]

3136

Sahih Ibn Hibban #3136

فَذَكَرَ ذَلِكَ لِعَائِشَةَ ، فَقَالَتْ : وَاللَّهِ مَا تَحَدِّثُونَ عَنْ كَذَّابِينَ وَلا مُكَذَّبَيْنِ ، وَإِنَّ لَكُمْ فِي الْقُرْآنِ مَا يَكْفِيَكُمْ عَنْ ذَلِكَ : وَلا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى ، وَلَكِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : إِنَّاللَّهَ يَزِيدُ الْكَافِرَ بِبُكَاءِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابن ابی ملیکہ بیان کرتے ہیں: میں سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے ابان کے جنازے میں شریک ہوا، وہاں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما تشریف لائے اور بیٹھ گئے، پھر سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما تشریف لائے اور بیٹھ گئے۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: کیا تم انہیں رونے سے روکتے نہیں ہو؟ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”بے شک میت کے گھر والوں کے اس پر رونے کی وجہ سے میت کو عذاب دیا جاتا ہے۔“ تو سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے انہیں جواب دیتے ہوئے کہا: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بھی اس طرح کی بات ارشاد فرمایا کرتے تھے۔ (سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بتایا) ہم لوگ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے ہمراہ روانہ ہوئے، جب ہم بیداء کے مقام پر پہنچے، تو وہاں ایک درخت کے سائے میں ایک سوار موجود تھا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما! جا کر دیکھو یہ سوار کون ہے؟ میں وہاں آیا، تو وہ سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ تھے، ان کے ساتھ ان کی بیوی بھی تھیں، انہوں نے مجھ سے فرمایا: میرے پاس صہیب کو بلا کر لاؤ۔ پھر وہ ان کے ساتھ ہو لیے، یہاں تک کہ مدینہ منورہ تشریف لے آئے۔ وہاں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ زخمی ہوئے، تو سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ نے کہا: ہائے میرا بھائی! ہائے میرا ساتھی! تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے صہیب! تم نہ روؤ، کیونکہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”میت کے اہل خانہ کے اس پر رونے کی وجہ سے میت کو عذاب دیا جاتا ہے۔“ پھر انہوں نے اس بات کا تذکرہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے کیا، تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: اللہ کی قسم! تم لوگ جھوٹے لوگوں کی طرف سے یا جن کو جھٹلایا گیا ہو ان کی طرف سے بات بیان نہیں کر رہے، لیکن تمہارے لیے وہ دلیل کافی ہے جو قرآن میں ہے اور اس بارے میں ہے (ارشاد باری تعالیٰ ہے): ﴿وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى﴾ [سورة الإسراء: 15] ”کوئی وزن اٹھانے والا کسی دوسرے کا وزن نہیں اٹھاتا۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ارشاد فرمایا تھا: ”بے شک اللہ تعالیٰ کافر شخص کے اہل خانہ کے اس پر رونے کی وجہ سے کافر کے عذاب میں اضافہ کر دیتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 3136]

3137

Sahih Ibn Hibban #3137

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ لَمَّا مَاتَ رَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ قَالَ لَهُمْ لا تَبْكُوا ، فَإِنَّ بُكَاءَ الْحَيِّ عَذَابٌ لِلْمَيِّتِ ، قَالَتْ عَمْرَةُ : فَسَأَلْتُ عَائِشَةَ ، فَقَالَتْ : يَرْحَمُهُ اللَّهُ ، إِنَّمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيَهُودِيَّةٍ وَأَهْلُهَا يَبْكُونَ عَلَيْهَا : إِنَّهُمْ لَيَبْكُونَ ، وَإِنَّهَا لَتُعَذَّبُ فِي قَبْرِهَا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبداللہ بن ابوبکر اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ جب سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا، تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے ان کے گھر والوں سے کہا: تم لوگ نہ روؤ، کیونکہ زندہ کے رونے کی وجہ سے میت کو عذاب ہوتا ہے۔ عمرہ نامی خاتون بیان کرتی ہیں کہ میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے اس بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا: اللہ تعالیٰ ان پر (یعنی سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما پر) رحم کرے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک یہودی عورت اور اس پر رونے والے اس کے اہل خانہ کے بارے میں یہ فرمایا تھا: ”یہ لوگ رو رہے ہیں اور اس عورت کو اس کی قبر میں عذاب دیا جا رہا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 3137]

3138

Sahih Ibn Hibban #3138

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الأَنْصَارِيُّ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : كُلُّ ابْنِ آدَمَ يَأْكُلُهُ التُّرَابُ إِلا عَجْبَ الذَّنَبِ ، مِنْهُ خُلِقَ ، وَفِيهِ يُرَكَّبُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”ابنِ آدم کے وجود کو مٹی کھا جاتی ہے سوائے ریڑھ کی ہڈی کے مخصوص مقام کے، اسی سے اس کی تخلیق ہوئی ہے اور اسی سے اسے دوبارہ زندہ کیا جائے گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 3138]

3139

Sahih Ibn Hibban #3139

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : فِي الإِنْسَانِ عَظْمٌ لا تَأْكُلُهُ الأَرْضُ أَبَدًا ، مِنْهُ يُرَكَّبُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " ، قَالُوا : وَأَيُّ عَظْمٍ هُوَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " عَجْبُ الذَّنَبِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”انسان کے جسم میں ایک ہڈی کا مخصوص حصہ ہے، جسے زمین کبھی نہیں کھاتی، اسی سے اسے قیامت کے دن زندہ کیا جائے گا۔“ لوگوں نے دریافت کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! وہ کون سی ہڈی ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ریڑھ کی ہڈی کا مخصوص مقام۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 3139]

3140

Sahih Ibn Hibban #3140

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، أَنَّ دَرَّاجًا أَبَا السَّمْحِ ، حَدَّثَهُ ، عَنْ أَبِي الْهَيْثَمِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَأْكُلُ التُّرَابُ كُلَّ شَيْءٍ مِنَ الإِنْسَانِ إِلا عَجْبَ ذَنْبِهِ " ، قِيلَ : وَمَا هُوَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " مِثْلُ حَبَّةِ خَرْدَلٍ ، مِنْهُ يَنْشَأُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”انسان کے پورے وجود کو مٹی کھا جاتی ہے سوائے ریڑھ کی ہڈی کے مخصوص مقام کے۔“ عرض کی گئی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ کیا چیز ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ رائی کے دانے جتنی چیز ہے، جس کے ذریعے اسے دوبارہ زندہ کیا جائے گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 3140]

3141

Sahih Ibn Hibban #3141

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، حَدَّثَنَا رِبْعِيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : ثَلاثٌ مِنْ عَمَلِ الْجَاهِلِيَّةِ لا يَتْرُكُهُنَّ أَهْلُ الإِسْلامِ : النِّيَاحَةُ ، وَالاسْتِسْقَاءُ بِالأَنْوَاءِ ، وَالتَّعَايُرُ "، رِبْعِيٌّ هُوَ أَخُو إِسْمَاعِيلَ بْنِ عُلَيَّةَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”تین کام زمانہ جاہلیت کا عمل ہیں جنہیں اہل اسلام نے ترک نہیں کیا: نوحہ کرنا، ستاروں کی مدد سے بارش نازل ہونے کی توقع کرنا اور ایک دوسرے کو عار دلانا۔“ ربعی، اسماعیل بن علیہ کا بھائی ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 3141]

3142

Sahih Ibn Hibban #3142

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، عَنْ ذَكْوَانَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : أَرْبَعٌ مِنَ الْجَاهِلِيَّةِ لَنْ يَدَعَهَا النَّاسُ : النِّيَاحَةُ ، وَالتَّعَايُرُ ، أَوِ التَّعَايُرُ فِي الأَنْسَابِ ، وَمُطِرْنَا بِنَوْءِ كَذَا وَكَذَا ، وَالْعَدْوَى : جَرِبَ بَعِيرٌ فِي مِئَةِ بَعِيرٍ ، فَمَنْ أَعْدَى الأَوْلَ ؟ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”زمانہ جاہلیت سے تعلق رکھنے والے چار کام ایسے ہیں جنہیں لوگوں نے چھوڑا نہیں ہے: نوحہ کرنا، ایک دوسرے کو عار دلانا (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) نسب کے حوالے سے ایک دوسرے کو عار دلانا، یہ کہنا کہ فلاں ستارے سے ہم پر بارش نازل ہوئی ہے اور (بیماری کے) متعدی ہونے کا یقین رکھنا؛ ایک سو اونٹوں میں سے ایک اونٹ پہلے خارش زدہ ہوتا ہے، تو پہلے اونٹ کو کس نے خارش زدہ کیا ہے؟“ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 3142]

3143

Sahih Ibn Hibban #3143

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ الْقَيْسِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ سَلامٍ ، عَنْ أَبِي سَلامٍ ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ الأَشْعَرِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : أَرْبَعٌ فِي أُمَّتِي مِنْ أَهْوَاءِ الْجَاهِلِيَّةِ لا يَتْرُكُونَهُنَّ : الْفَخْرُ فِي الأَحْسَابِ ، وَالطَّعْنُ فِي الأَنْسَابِ ، وَالاسْتِسْقَاءُ بِالنُّجُومِ ، وَالنِّيَاحَةُ ، وَالنَّائِحَةُ إِذَا لَمْ تَتُبْ قَبْلَ مَوْتِهَا يُقَامُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَيْهَا سِرْبَالٌ مِنْ قَطِرَانٍ وَدِرْعٌ مِنْ جَرَبٍ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابومالک اشعری رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”میری امت میں چار چیزیں زمانہ جاہلیت کی خرابیاں ہیں جنہیں انہوں نے ترک نہیں کیا: حسب میں فخر کرنا، نسب میں طعن کرنا، ستاروں کی مدد سے بارش نازل ہونے کی توقع رکھنا اور نوحہ کرنا۔ اور نوحہ کرنے والی عورت اگر مرنے سے پہلے توبہ نہیں کرے گی، تو اسے قیامت کے دن اس حالت میں اٹھایا جائے گا کہ اس کے جسم پر تارکول کی قمیض ہوگی اور خارش کی اوڑھنی ہوگی۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 3143]

3144

Sahih Ibn Hibban #3144

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ ، قَالَ : قَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ : لَمَّا مَاتَ أَبُو سَلَمَةَ قُلْتُ : غَرِيبٌ فِي أَرْضِ غُرْبَةٍ ، لأَبْكِيَنَّ بُكَاءً يُتَحَدَّثُ عَنْهُ ، وَكُنْتُ قَدْ هَيَّأْتُ الْبُكَاءُ عَلَيْهِ ، إِذْ أَقْبَلَتِ امْرَأَةٌ مِنَ الْمُسْعِدَاتِ تُرِيدُ أَنْ تُسْعِدَنِي ، فَاسْتَقْبَلَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ : تُرِيدِينَ أَنْ تُدْخِلِي الشَّيْطَانَ بَيْتًا أَخْرَجَهُ اللَّهُ مِنْهُ ؟ " قَالَتْ : فَكَفَفْتُ عَنِ الْبُكَاءِ ، وَلَمْ أَبْكِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبید بن عمیر بیان کرتے ہیں کہ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے یہ بات بیان کی ہے کہ جب سیدنا ابوسلمہ رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا، تو میں نے کہا: یہ ایک غریب الوطن شخص تھے جو اپنے وطن سے دور انتقال کر گئے ہیں، میں ان پر اس طرح روؤں گی کہ اس کا چرچا کیا جائے گا، میں نے ان پر رونے کے لیے خود کو تیار بھی کر لیا، پھر ایک عورت آئی جو رونے میں ساتھ دیا کرتی تھی، اس کا بھی یہی ارادہ تھا کہ وہ میرا ساتھ دے گی، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لائے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”کیا تم یہ چاہتی ہو کہ شیطان کو ایسے گھر میں داخل کر دو جس سے اللہ تعالیٰ نے اسے باہر نکال دیا ہے؟“ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: تو میں رونے سے رک گئی اور میں روئی نہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 3144]

3145

Sahih Ibn Hibban #3145

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ حَفْصَةَ ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ ، قَالَتْ : لَمَّا نَزَلَتْ : إِذَا جَاءَكَ الْمُؤْمِنَاتُ يُبَايِعْنَكَ إِلَى قَوْلِهِ : وَلا يَعْصِينَكَ فِي مَعْرُوفٍ ، قَالَتْ : كَانَ مِنْهُ النِّيَاحَةُ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِلا آلَ فُلانٍ فَإِنَّهُمْ قَدْ كَانُوا أَسْعَدُونِي فِي الْجَاهِلِيَّةِ ، فَلا بُدَّ لِي مِنْ أَنْ أُسْعِدَهُمْ ، فَقَالَ : إِلا آلَ فُلانٍ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: جب یہ آیت نازل ہوئی ﴿جب مومن خواتین تمہارے پاس بیعت کرنے کے لیے آئیں﴾ [سورة الممتحنة: 12] ، یہ آیت یہاں تک ہے ﴿اور وہ معروف کے بارے میں تمہاری نافرمانی نہیں کریں گی﴾ [سورة الممتحنة: 12] ، سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: ان میں سے ایک چیز نوحہ کرنا ہے، میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے صرف فلاں خاتون کے ساتھ نوحہ کرنے کی اجازت دے دیں، کیونکہ اس نے زمانہ جاہلیت میں میرا ساتھ دیا تھا اس لیے میرے لیے یہ ضروری ہے کہ میں بھی اس کا ساتھ دوں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”صرف ان کے لیے (تم نوحہ کر لینا)۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 3145]

3146

Sahih Ibn Hibban #3146

أَخْبَرَنَا ابْنُ خُزَيْمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : أَخَذَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، عَلَى النِّسَاءِ حَيْثُ بَايَعَهُنَّ أَنْ لا يَنُحْنَ ، فَقُلْنَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ نِسَاءً أَسْعَدْنَنَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ ، فَنُسْعِدُهُنَّ فِي الإِسْلامِ ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لا إِسْعَادَ فِي الإِسْلامِ ، وَلا شِغَارَ فِي الإِسْلامِ ، وَلا عَقْرَ فِي الإِسْلامِ ، وَلا جَلَبَ ، وَلا جَنَبَ وَمَنِ انْتَهَبَ فَلَيْسَ مِنَّا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خواتین سے بیعت لیتے ہوئے یہ عہد بھی لیتے تھے کہ وہ نوحہ نہیں کریں گی۔ خواتین نے عرض کی: ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! زمانہ جاہلیت میں کچھ خواتین نے ہمارا ساتھ دیا تھا، تاکہ ہم اسلام قبول کرنے کے بعد ان کا ساتھ دیں،“ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اسلام میں (نوحہ کرنے میں) ساتھ دینے کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ اسلام میں شغار کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ اسلام میں عقر (یعنی مرحومین کی قبروں پر اونٹ قربان کرنے) کی کوئی حیثیت نہیں ہے اور جلب اور جنب کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ اور جو شخص کوئی چیز اچک لے اس کا ہم سے کوئی تعلق نہیں ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 3146]

3147

Sahih Ibn Hibban #3147

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بِحَرَّانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ عَمْرَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : لَمَّا جَاءَ نَعْيُ زَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ ، وَجَعْفَرٍ ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَوَاحَةَ ، جَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يُعْرَفُ فِي وَجْهِهِ الْحُزْنُ ، فَأَتَاهُ رَجُلٌ ، فَقَالَ :هَذِهِ نِسَاءُ جَعْفَرٍ يَنُحْنَ عَلَيْهِ ، وَقَدْ أَكْثَرْنَ بُكَاءَهُنَّ ، قَالَ : فَأَمَرَهُ أَنْ يَنْهَاهُنَّ ، فَمَكَثَ شَيْئًا ثُمَّ رَجَعَ ، فَذَكَرَ أَنَّهُ نَهَاهُنَّ ، فَأَبَيْنَ أَنْ يُطِعْنَهُ ، فَأَمَرَهُ الثَّانِيَةَ أَنْ يَنْهَاهُنَّ ، قَالَ : فَذَكَرَ أَنَّهُ قَدْ غَلَبْنَهُ قَالَ : فَاحْثُ فِي وُجُوهِهِنَّ التُّرَابَ "، قَالَتْ عَمْرَةُ : فَقَالَتْ عَائِشَةُ عِنْدَ ذَلِكَ : أَرْغَمَ اللَّهُ بِآنَافِهِنَّ ، وَاللَّهِ مَا تَرَكْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَمَا أَنْتَ بِفَاعِلٍ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: جب سیدنا زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ، سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کے انتقال کی اطلاع آئی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے پر غم کے اثرات نمایاں تھے۔ ایک شخص آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اس نے عرض کی: سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ کے گھر کی خواتین ان پر نوحہ کر رہی ہیں اور بہت زیادہ رو رہی ہیں۔ راوی کہتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کو یہ ہدایت کی کہ وہ خواتین کو اس سے منع کر دے۔ کچھ دیر بعد وہ شخص واپس آیا اور یہ بات ذکر کی کہ اس نے انہیں منع کیا ہے، لیکن ان خواتین نے اس کی بات ماننے سے انکار کر دیا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دوبارہ یہ ہدایت کی کہ وہ انہیں منع کر دے۔ راوی کہتے ہیں: پھر اس نے آ کر یہ بات ذکر کی کہ وہ خواتین اس پر غالب آ گئی ہیں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم ان کے چہروں پر مٹی ڈال دو۔“ عمرہ کہتی ہیں کہ اس موقع پر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے یہ فرمایا: اللہ تعالیٰ تمہاری ناک خاک آلود کرے! اللہ کی قسم! تم اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو چھوڑتے بھی نہیں ہو اور جو (وہ تمہیں حکم دے رہے ہیں) اس پر عمل بھی نہیں کرتے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 3147]