Muslim99Muslim99

Sahih Ibn Hibban · Book 28 · Chapter 1

Book of Interdiction

Hadith 3067–3107

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

3067

Sahih Ibn Hibban #3067

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ زُرَيْعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ ، عَنْ سَمُرَةَ ، قَالَ : صَلَّيْتُ وَرَاءَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، عَلَى امْرَأَةٍ مَاتَتْ فِي نِفَاسِهَا ، فَقَامَ عَلَيْهَا فِي الصَّلاةِ وَسَطَهَا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتدا میں ایک خاتون کی نمازِ جنازہ ادا کی جو بچے کی ولادت کے وقت فوت ہو گئی تھی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نمازِ جنازہ میں اس کے وسط کے مقابلے میں کھڑے ہوئے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 3067]

3068

Sahih Ibn Hibban #3068

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الأَنْصَارِيُّ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَنَعَى لِلنَّاسِ النَّجَاشِيَّ فِي الْيَوْمِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ ، وَخَرَجَ بِهِمْ إِلَى الْمُصَلَّى فَصَفَّ بِهِمْ وَكَبَّرَ أَرْبَعَ تَكْبِيرَاتٍ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نجاشی کے انتقال کی اطلاع لوگوں کو اسی دن دے دی تھی جس دن ان کا انتقال ہوا تھا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو لے کر عیدگاہ تشریف لے گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی صفیں بنوائیں اور (نماز جنازہ میں) چار تکبیریں کہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 3068]

3069

Sahih Ibn Hibban #3069

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنُ أَبِي لَيْلَى ، قَالَ : كَانَ زَيْدُ بْنُ أَرْقَمَ ،يُكَبِّرُ عَلَى جَنَائِزِنَا أَرْبَعًا ، ثُمَّ يُكَبِّرُ خَمْسًا ، فَسَأَلْنَاهُ عَنْ ذَلِكَ ، فَقَالَ : كَبَّرَهَا ، أَوْ كَبَّرَهُنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ بیان کرتے ہیں: سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ ہمارے جنازوں (کی نمازوں میں) چار تکبیریں کہا کرتے تھے، پھر وہ پانچ تکبیریں کہنے لگے، ہم نے ان سے اس بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے بتایا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ”یہ (یعنی پانچویں تکبیر) راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں یہ (پانچ تکبیریں) بھی کہی ہیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 3069]

3070

Sahih Ibn Hibban #3070

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ فِي الصَّلاةِ عَلَى الْجَنَائِزِ : اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِحَيِّنَا وَمَيِّتِنَا ، وَشَاهِدِنَا وَغَائِبِنَا ، وَصَغِيرِنَا وَكَبِيرِنَا ، وَذَكَرِنَا وَأُنْثَانَا ، اللَّهُمَّ مَنْ أَحْيَيْتَهُ مِنَّا فَأَحْيِهِ عَلَى الإِيمَانِ ، وَمَنْ تَوَفَّيْتَهُ مِنَّا فَتَوَفَّهُ عَلَى الإِسْلامِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز جنازہ میں یہ دعا پڑھا کرتے تھے: «اللّٰهُمَّ اغْفِرْ لِحَيِّنَا وَمَيِّتِنَا، وَشَاهِدِنَا وَغَائِبِنَا، وَصَغِيْرِنَا وَكَبِيْرِنَا، وَذَكَرِنَا وَأُنْثَانَا، اللّٰهُمَّ مَنْ أَحْيَيْتَهُ مِنَّا فَأَحْيِهِ عَلَى الْإِيْمَانِ، وَمَنْ تَوَفَّيْتَهُ مِنَّا فَتَوَفَّهُ عَلَى الْإِسْلَامِ» ”اے اللہ! ہمارے زندوں کی، مردوں کی، موجود لوگوں کی، غیر موجود لوگوں کی، کم سن افراد کی، بڑی عمر کے لوگوں کی، ہمارے مردوں کی اور ہماری خواتین کی مغفرت کر دے، اے اللہ! تو ہم میں سے جسے زندگی دے اسے ایمان پر زندہ رکھنا اور جسے ہم میں سے موت دے اسے اسلام پر موت دینا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 3070]

3071

Sahih Ibn Hibban #3071

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحْرِزُ بْنُ عَوْنٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَوْفٍ ، قَالَ : صَلَّيْتُ خَلْفَ ابْنِ عَبَّاسٍ عَلَى جَنَازَةٍ ،فَقَرَأَ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ ، وَجَهَرَ حَتَّى أَسْمَعَنَا ، فَلَمَّا انْصَرَفَتْ أَخَذْتُ بِيَدِهِ فَسَأَلْتُهُ عَنْ ذَلِكَ ، فَقَالَ : سُنَّةٌ وَحَقٌّ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

طلحہ بن عبداللہ بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی اقتدا میں ایک نمازِ جنازہ ادا کی، تو انہوں نے اس میں سورہ فاتحہ کی تلاوت کی اور اسے بلند آواز میں پڑھا، یہاں تک کہ ہم تک آواز آئی، جب انہوں نے نماز مکمل کی، تو میں نے ان کا ہاتھ پکڑا اور ان سے اس بارے میں دریافت کیا، تو انہوں نے فرمایا: ”یہ سنت ہے اور حق ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 3071]

3072

Sahih Ibn Hibban #3072

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ شُعَيْبٍ الْبَلْخِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ أَبِي مُزَاحِمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : شَهِدْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ،صَلَّى عَلَى جَنَازَةٍ فَقَرَأَ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ ، فَلَمَّا انْصَرَفَ ، قُلْتُ لَهُ : أَتَقْرَأُ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ ؟ قَالَ : نَعَمْ يَا ابْنَ أَخِي ، سُنَّةٌ وَحَقٌّ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

طلحہ بن عبداللہ بیان کرتے ہیں کہ میں سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس موجود تھا، انہوں نے ایک نمازِ جنازہ ادا کرتے ہوئے سورہ فاتحہ کی تلاوت کی، جب وہ نماز پڑھ کر فارغ ہوئے تو میں نے ان سے دریافت کیا: ”کیا آپ نے سورہ فاتحہ کی تلاوت کی ہے؟“ انہوں نے فرمایا: ”جی ہاں! اے میرے بھتیجے! یہ سنت اور حق ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 3072]

3073

Sahih Ibn Hibban #3073

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ إِذَا صَلَّى عَلَى جَنَازَةٍ ، يَقُولُ : اللَّهُمَّ عَبْدُكَ ، وَابْنُ عَبْدِكَ كَانَ يَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُكَ وَرَسُولُكَ ، وَأَنْتَ أَعْلَمُ بِهِ مِنِّي ، إِنْ كَانَ مُحْسِنًا فَزِدْ فِي إِحْسَانِهِ ، وَإِنْ كَانَ مُسِيئًا فَاغْفِرْ لَهُ ، وَلا تَحْرِمْنَا أَجْرَهُ ، وَلا تَفْتِنَّا بَعْدَهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز جنازہ ادا کرتے تھے، تو یہ دعا پڑھتے تھے: «اللَّهُمَّ إِنَّهُ عَبْدُكَ وَابْنُ عَبْدِكَ، كَانَ يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُكَ وَرَسُولُكَ، وَأَنْتَ أَعْلَمُ بِهِ، اللَّهُمَّ إِنْ كَانَ مُحْسِنًا فَزِدْ فِي إِحْسَانِهِ، وَإِنْ كَانَ مُسِيئًا فَاغْفِرْ لَهُ، اللَّهُمَّ لَا تَحْرِمْنَا أَجْرَهُ، وَلَا تَفْتِنَّا بَعْدَهُ» ”اے اللہ! (یہ مرحوم) تیرا بندہ ہے، تیرے بندے کا بیٹا ہے، یہ اس بات کی گواہی دیتا تھا کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے اور سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم تیرے بندے اور تیرے رسول ہیں، تو اس کے بارے میں مجھ سے زیادہ جانتا ہے، اگر یہ اچھا ہے، تو اس کی اچھائی میں اضافہ کر دے اور اگر یہ برا ہے، تو اس کی مغفرت کر دے اور ہمیں اس کے اجر سے محروم نہ رکھنا اور اس کے بعد ہمیں آزمائش کا شکار نہ کرنا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 3073]

3074

Sahih Ibn Hibban #3074

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُعَافَى الْعَابِدُ بِصَيدَا ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ الْقُرَشِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنْ مَرْوَانَ بْنِ جُنَاحٍ ، عَنْ يُونُسَ بْنِ مَيْسَرَةَ بْنِ حَلْبَسٍ ، عَنْ وَاثِلَةَ بْنِ الأَسْقَعِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ صَلَّى عَلَى رَجُلٍ فَقَالَ : اللَّهُمَّ إِنَّ فُلانَ بْنَ فُلانٍ فِي ذِمَّتِكَ ، وَحَبْلِ جِوَارِكَ فَأَعِذْهُ مِنْ فِتْنَةِ الْقَبْرِ ، وَعَذَابِ النَّارِ ، أَنْتَ أَهْلُ الْوَفَاءِ وَالْحَقِّ ، اللَّهُمَّ فَاغْفِرْ لَهُ وَارْحَمْهُ إِنَّكَ أَنْتَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کی نمازِ جنازہ ادا کرتے ہوئے یہ دعا مانگی: «اللَّهُمَّ إِنَّ فُلَانَ بْنَ فُلَانٍ فِي ذِمَّتِكَ، وَحَبْلِ جِوَارِكَ، فَقِهِ مِنْ فِتْنَةِ الْقَبْرِ، وَعَذَابِ النَّارِ، وَأَنْتَ أَهْلُ الْوَفَاءِ وَالْحَقِّ، فَاغْفِرْ لَهُ، وَارْحَمْهُ، إِنَّكَ أَنْتَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ» ”اے اللہ! بے شک فلاں بن فلاں (یعنی یہ مرحوم) تیرے ذمے اور تیرے جوارِ رحمت میں ہے، تو تو اسے قبر کی آزمائش سے اور جہنم کے عذاب سے محفوظ رکھنا، تو (ذمے کو) پورا کرنے کا زیادہ اہل ہے، اے اللہ! تو اس کی مغفرت کر دے، تو اس پر رحم کر، بے شک تو مغفرت کرنے والا رحم کرنے والا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 3074]

3075

Sahih Ibn Hibban #3075

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ عُبَيْدٍ ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ الْحَضْرَمِيِّ ، سَمِعَهُ يَقُولُ : سَمِعْتَ عَوْفَ بْنَ مَالِكٍ الأَشْجَعِيَّ ، يَقُولُ : صَلَّى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى جَنَازَةٍ فَحَفِظْتُ مِنْ دُعَائِهِ وَهُوَ يَقُولُ : اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ ، وَارْحَمْهُ ، وَاعْفُ عَنْهُ ، وَأَكْرِمْ مَنْزِلِهِ ، وَأَوْسَعْ مُدْخَلَهُ ، وَاغْسِلْهُ بِالْمَاءِ وَالثَّلْجِ وَالْبَرَدِ ، وَنَقِّهِ مِنَ الْخَطَايَا كَمَا يُنَقَّى الثَّوْبُ الأَبْيَضُ مِنَ الدَّنَسِ ، وَأَبْدِلْهُ بِدَارِهِ دَارًا خَيْرًا مِنْ دَارِهِ ، وَأَهْلا خَيْرًا مِنْ أَهْلِهِ ، وَزَوْجَةً خَيْرًا مِنْ زَوْجَتِهِ ، وَأَدْخِلْهُ الْجَنَّةَ ، وَأَعِذْهُ مِنَ النَّارِ ، وَمَنْ عَذَابِ الْقَبْرِ " ، حَتَّى تَمَنَّيْتُ أَنْ أَكُونَ ذَلِكَ الْمَيِّتَ، قَالَ ابْنُ وَهْبٍ : وَحَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَ هَذَا الْحَدِيثِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک نمازِ جنازہ ادا کی، تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا کو یاد کر لیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دعا پڑھی: «اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ وَارْحَمْهُ وَعَافِهِ وَاعْفُ عَنْهُ وَأَكْرِمْ نُزُلَهُ وَوَسِّعْ مُدْخَلَهُ وَاغْسِلْهُ بِالْمَاءِ وَالثَّلْجِ وَالْبَرَدِ وَنَقِّهِ مِنَ الْخَطَايَا كَمَا نَقَّيْتَ الثَّوْبَ الْأَبْيَضَ مِنَ الدَّنَسِ وَأَبْدِلْهُ دَارًا خَيْرًا مِنْ دَارِهِ وَأَهْلًا خَيْرًا مِنْ أَهْلِهِ وَزَوْجًا خَيْرًا مِنْ زَوْجِهِ وَأَدْخِلْهُ الْجَنَّةَ وَأَعِذْهُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ وَمِنْ عَذَابِ النَّارِ» ”اے اللہ! تو اس کی مغفرت کر دے، تو اس پر رحم کر، تو اس سے درگزر کر، تو اس کے ٹھکانے کو اچھا کر دے، تو اس کی قبر کو کشادہ کر دے، تو اسے پانی، اولوں اور برف کے ذریعے دھو دے، تو اسے گناہوں سے یوں صاف کر دے جس طرح سفید کپڑے کو میل سے صاف کیا جاتا ہے، تو اس کے گھر کی جگہ اسے ایک ایسا گھر عطا کر دے جو اس کے گھر سے زیادہ بہتر ہو اور ایسے اہل خانہ عطا کر دے جو اس کے اہل خانہ سے زیادہ بہتر ہوں اور ایسی بیوی عطا کر دے جو اس کی بیوی سے زیادہ بہتر ہو اور اسے جنت میں داخل کر دے اور اسے جہنم سے محفوظ رکھنا اور قبر کے عذاب سے محفوظ رکھنا۔“ (راوی بیان کرتے ہیں:)، یہاں تک کہ میں نے یہ آرزو کی کہ کاش وہ میت میں ہوتا۔ ابن وہب نامی راوی نے یہ بات بیان کی ہے یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ سیدنا عوف بن مالک رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 3075]

3076

Sahih Ibn Hibban #3076

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُوسَى بْنِ الْفَضْلِ بْنِ مَعْدَانَ بِحَرَّانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ هِشَامٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : إِذَا صَلَّيْتُمْ عَلَى الْمَيِّتِ فَأَخْلِصُوا لَهُ الدُّعَاءَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جب تم میت کی نماز جنازہ ادا کرو، تو صرف اسی کے لیے دعا مانگو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 3076]

3077

Sahih Ibn Hibban #3077

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ سَهْلٍ الأَعْرَجُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، وَأَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، وَسَلْمَانَ الأَغَرِ مَوْلَى جُهَيْنَةَ ، كُلُّهُمْ حَدَّثُونِي ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : إِذَا صَلَّيْتُمْ عَلَى الْجَنَازَةِ فَأَخْلِصُوا لَهَا الدُّعَاءَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جب تم نماز جنازہ ادا کرو، تو صرف میت کے لیے دعا مانگو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 3077]

3078

Sahih Ibn Hibban #3078

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : مَنْ شَهِدَ الْجَنَازَةَ حَتَّى يُصَلَّى عَلَيْهَا فَلَهُ قِيرَاطٌ ، وَمَنْ شَهِدَهَا حَتَّى تُدْفَنَ فَلَهُ قِيرَاطَانِ " قِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَمَا الْقِيرَاطَانِ ؟ قَالَ : " مِثْلُ جَبَلَيْنِ عَظِيمَيْنِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جو شخص جنازے میں شریک ہو، یہاں تک کہ اس کی نماز جنازہ ادا کر لی جائے، تو اس شخص کو ایک قیراط ثواب ملتا ہے اور جو شخص اس کے دفن ہونے تک اس کے ساتھ رہے اسے دو قیراط ثواب ملتا ہے۔“ عرض کی گئی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! دو قیراط کتنے ہوتے ہیں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دو بڑے پہاڑوں جتنے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 3078]

3079

Sahih Ibn Hibban #3079

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا الْمُقْرِئُ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو صَخْرٍ ، أَنَّ يَزِيدَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُسَيْطٍ ، حَدَّثَهُ ، أَنَّ دَاوُدَ بْنَ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، حَدَّثَهُ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ كَانَ قَاعِدًا مَعَ ابْنِ عُمَرَ فَاطَّلَعَ صَاحِبُ الْمَقْصُورَةِ ، قَالَ : يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، أَلا تَسْمَعُ مَا يَقُولُ أَبُو هُرَيْرَةَ ؟ إِنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : مَنْ تَبِعَ جَنَازَةً مِنْ بَيْتِهَا حَتَّى يُصَلَّى عَلَيْهَا ، ثُمَّ تَبِعَهَا حَتَّى يَدْفِنَهَا كَانَ لَهُ قِيرَاطَانِ كُلُّ قِيرَاطٍ مِثْلُ أُحُدٍ ، وَمَنْ رَجَعَ عَنْهَا بَعْدَمَا يُصَلِّي وَلَمْ يَتْبَعْهَا كَانَ لَهُ قِيرَاطٌ مِثْلُ أُحُدٍ "فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ : اذْهَبْ إِلَى عَائِشَةَ ، فَسَلْهَا عَنْ قَوْلِ أَبِي هُرَيْرَةَ ثُمَّ ارْجِعْ إِلَيَّ فَأَخْبَرَنِي بِمَا قَالَتْ : قَالَ : وَأَخَذَ ابْنُ عُمَرَ قَبْضَةً مِنْ حَصَاةٍ فَجَعَلَ يُقَلِّبُهَا بِيَدِهِ حَتَّى رَجَعَ الرَّسُولُ ، فَقَالَ : قَالَتْ : صَدَقَ أَبُو هُرَيْرَةَ ، فَرَمَى ابْنُ عُمَرَ الْحَصَى إِلَى الأَرْضِ مِنْ يَدِهِ ، وَقَالَ : لَقَدْ فَرَّطْنَا فِي قَرَارِيطَ كَثِيرَةٍ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

داود بن عامر اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ وہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے، اسی دوران گھر کا مالک سامنے آیا اور بولا: اے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما! کیا آپ نے سنا نہیں کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کیا بیان کرتے ہیں؟ وہ یہ کہتے ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جو شخص میت کے گھر سے جنازے کے ساتھ جائے، یہاں تک کہ اس کی نماز جنازہ ادا کر لی جائے، پھر وہ اس کے ساتھ رہے، یہاں تک کہ اسے دفن کر دیا جائے، تو اس شخص کو دو قیراط ثواب ملتا ہے جن میں سے ہر ایک قیراط احد پہاڑ جتنا ہوتا ہے، اور جو شخص نماز جنازہ ادا کرنے کے بعد واپس آ جائے اور جنازے کے ساتھ نہ رہے، تو اسے ایک قیراط جتنا ثواب ملتا ہے، جو احد پہاڑ جتنا ہوتا ہے۔“ تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: تم سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس جاؤ اور ان سے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے اس قول کے بارے میں دریافت کرو اور پھر میرے پاس واپس آ کر مجھے بتانا کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کیا جواب دیا ہے؟ راوی کہتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے مٹھی میں کنکریاں لیں اور انہیں اپنے ہاتھ میں الٹنے پلٹنے لگے، یہاں تک کہ قاصد واپس آیا اور اس نے بتایا: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے یہ فرمایا ہے کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ٹھیک کہا ہے، تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کنکریاں اپنے ہاتھ سے زمین کی طرف پھینکیں اور بولے: پھر تو ہم نے بہت سے قیراط ضائع کر دیے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 3079]

3080

Sahih Ibn Hibban #3080

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ خَلْفٍ الْوَاسِطِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ الأَزْرَقُ ، عَنْ عَوْفٍ ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنِ اتَّبَعَ جَنَازَةَ مُسْلِمٍ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا حَتَّى يُصَلِّيَ عَلَيْهَا ، ثُمَّ يَقْعُدُ حَتَّى يُوضَعَ فِي قَبْرِهِ ، فَإِنَّهُ يَرْجِعُ وَلَهُ قِيرَاطَانِ مِنَ الأَجْرِ وَهُمَا مِثْلُ أُحُدٍ ، وَمَنْ صَلَّى عَلَيْهَا ثُمَّ رَجَعَ قَبْلَ أَنْ يُوضَعَ فِي الْقَبْرِ ، فَلَهُ قِيرَاطٌ "، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : " قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَهُمَا مِثْلُ أُحُدٍ " ، يُرِيدُ بِهِ أَحَدَهُمَا"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”جو شخص ایمان کی حالت میں ثواب کی امید رکھتے ہوئے مسلمان کے جنازے کے ساتھ جاتا ہے، یہاں تک کہ اس کی نماز جنازہ ادا کر لی جائے، پھر وہ بیٹھا رہتا ہے یہاں تک کہ اس (میت کو) قبر میں رکھ دیا جائے اور جب وہ شخص واپس آتا ہے، تو اسے دو قیراط اجر ملتا ہے، یہ دونوں قیراط احد پہاڑ جتنے ہوتے ہیں اور جو شخص میت کی نماز جنازہ ادا کرنے کے بعد اس کے دفن ہونے سے پہلے واپس آ جائے اسے ایک قیراط ملتا ہے۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان کہ وہ دونوں اُحد کی مانند ہوتے ہیں، اس سے مراد یہ ہے کہ ان دونوں میں سے ہر ایک اُحد (پہاڑ جتنا) ہوتا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 3080]

3081

Sahih Ibn Hibban #3081

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا الثَّقَفِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ أَبِي قِلابَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : مَا مِنْ أَحَدٍ يَمُوتُ يُصَلِّي عَلَيْهِ أُمَّةٌ يَبْلُغُونَ أَنْ يَكُونُوا مِائَةً فَيَشْفَعُونَ إِلا شُفِّعُوا فِيهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتی ہیں: ”جب کوئی شخص فوت ہو اور ایک گروہ اس کی نماز جنازہ ادا کرے جن کی تعداد ایک سو ہو، تو وہ اگر اس کے بارے میں شفاعت کریں (یعنی دعائے مغفرت کریں)، تو ان کی سفارش قبول ہوتی ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 3081]

3082

Sahih Ibn Hibban #3082

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عِيسَى الْمِصْرِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو صَخْرٍ حُمَيْدُ بْنُ زِيَادٍ ، عَنْ شَرِيكِ بْنِ أَبِي نَمِرٍ ، عَنْ كُرَيْبٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّهُ مَاتَ ابْنٌ لَهُ بِقُدَيْدٍ ، أَوْ بِعُسْفَانَ ، فَقَالَ : يَا كُرَيْبُ ، انْظُرْ مَا اجْتَمَعَ لَهُ مِنَ النَّاسِ قَالَ : فَخَرَجْتُ ، فَإِذَا نَاسٌ قَدِ اجْتَمَعُوا ، فَأَخْبَرْتُهُ ، فَقَالَ : يَكُونُونَ أَرْبَعِينَ ؟ قَالَ : قُلْتُ : نَعَمْ ، قَالَ : اخْرُجُوا بِهِ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَمُوتُ فَيَقُومُ عَلَى جَنَازَتِهِ أَرْبَعُونَ رَجُلا لا يُشْرِكُونَ بِاللَّهِ شَيْئًا إِلا شَفَّعَهُمُ اللَّهُ فِيهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے بارے میں یہ بات منقول ہے کہ ان کے ایک بیٹے کا قدید یا شاید عسفان کے مقام پر انتقال ہو گیا، تو انہوں نے فرمایا: اے کریب! تم اس بات کا جائزہ لو کہ اس کی نمازِ جنازہ کے لیے کتنے لوگ اکٹھے ہو چکے ہیں۔ راوی کہتے ہیں: میں باہر نکلا وہاں کچھ لوگ اکٹھے ہو چکے تھے، میں نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو اس بارے میں بتایا، تو انہوں نے دریافت کیا: کیا چالیس لوگ ہیں؟ میں نے جواب دیا: جی ہاں، تو سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: اس کی میت کو باہر نکالو، کیونکہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جس مسلمان کا انتقال ہو جائے اور اس کی نمازِ جنازہ چالیس ایسے افراد ادا کریں جو کسی کو اللہ کا شریک نہ ٹھہراتے ہوں، تو اللہ تعالیٰ اس میت کے بارے میں ان لوگوں کی شفاعت کو قبول کرتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 3082]

3083

Sahih Ibn Hibban #3083

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ حَكِيمٍ ، عَنْ خَارِجَةَ بْنِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ ، عَنْ عَمِّهِ يَزِيدَ بْنِ ثَابِتٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَصَلَّى عَلَى قَبْرِ فُلانَةَ ، فَكَبَّرَ أَرْبَعًا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا یزید بن ثابت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فلاں خاتون کی قبر پر (اس کی) نماز جنازہ ادا کی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چار مرتبہ تکبیر کہی تھی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 3083]

3084

Sahih Ibn Hibban #3084

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّامِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ الشَّهِيدِ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَصَلَّى عَلَى قَبْرِ امْرَأَةٍ قَدْ دُفِنَتْ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک خاتون کے دفن ہو جانے کے بعد اس کی قبر پر نماز جنازہ ادا کی تھی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 3084]

3085

Sahih Ibn Hibban #3085

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ الْعَدَوِيُّ أَبُو ذَرٍ بِبُخَارَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُهَيْلٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، عَنْ سُفْيَانَ ، وَذَكَرَ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ ، آخَرُ مَعَهُ عَنْ سُلَيْمَانَ الشَّيْبَانِيِّ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ،صَلَّى عَلَى قَبْرٍ بَعْدَمَا دُفِنَ "، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : قَالَ أَخْبَرَنَا أَبُو ذَرٍّ ، عَنْ سُفْيَانَ ، وَابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنِ الشَّيْبَانِيِّ وَأَنَا أَهَابُهُ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے (ایک میت کے) دفن ہو جانے کے بعد اس کی قبر پر نماز جنازہ ادا کی تھی۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں): ابوذر نامی راوی نے سفیان اور ابن جریج کے حوالے سے شیبانی کے حوالے سے اس روایت کو نقل کیا ہے اور میں (اس سند کے ساتھ اس روایت کو نقل کرنے سے) ڈرتا ہوں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 3085]

3086

Sahih Ibn Hibban #3086

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَجُلا كَانَ يَلْتَقِطُ الأَذَى مِنَ الْمَسْجِدِ ، فَمَاتَ ، فَفَقَدَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : مَا فَعَلَ فُلانٌ ؟ " قَالُوا : مَاتَ ، قَالَ : " هَلا كُنْتُمْ آذَنْتُمُونِي بِهِ " فَكَأَنَّهُمُ اسْتَخَفُّوا شَأْنَهُ ، قَالَ لأَصْحَابِهِ : " انْطَلِقُوا ، فَدُلُّونِي عَلَى قَبْرِهِ " فَذَهَبَ فَصَلَّى عَلَيْهِ ، ثُمَّ قَالَ : " إِنَّهَذِهِ الْقُبُورَ مَمْلُوءَةٌ ظُلْمَةً عَلَى أَهْلِهَا ، وَإِنَّ اللَّهَ يُنَوِّرُهَا عَلَيْهِمْ بِصَلاتِي """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص مسجد میں صفائی کیا کرتا تھا، اس کا انتقال ہو گیا، ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے غیر موجود پا کر اس کے بارے میں دریافت کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”فلاں کا کیا حال ہے؟“ لوگوں نے بتایا کہ اس کا انتقال ہو گیا ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم لوگوں نے مجھے اطلاع کیوں نہیں دی؟“ لوگوں نے اس کے معاملے کو کم تر سمجھا تھا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ساتھیوں سے فرمایا: ”تم لوگ چلو اور اس کی قبر کی طرف میری رہنمائی کرو۔“ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کی نماز جنازہ ادا کی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”یہ قبریں اپنے اہل کے لیے تاریک ہوتی ہیں، تو میرے ان پر نماز جنازہ ادا کرنے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ ان کے لیے انہیں روشن کر دیتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 3086]

3087

Sahih Ibn Hibban #3087

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ حَكِيمٍ الأَنْصَارِيُّ ، عَنْ خَارِجَةَ بْنِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ ، عَنْ عَمِّهِ يَزِيدَ بْنِ ثَابِتٍ ، وَكَانَ أَكْبَرَ مِنْ زَيْدٍ ، قَالَ : خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا وَرَدْنَا الْبَقِيعَ ، إِذَا هُوَ بِقَبْرٍ ، فَسَأَلَ عَنْهُ ، فَقَالُوا : فُلانَةُ ، فَعَرَفَهَا ، فَقَالَ : أَلا آذَنْتُمُونِي بِهَا ؟ " قَالُوا : كُنْتُ قَائِلا صَائِمًا قَالَ : " فَلا تَفْعَلُوا ، لا أَعْرِفَنَّمَا مَاتَ مِنْكُمْ مَيِّتٌ مَا كُنْتُ بَيْنَ أَظْهُرِكُمْ إِلا آذَنْتُمُونِي بِهِ ، فَإِنَّ صَلاتِي عَلَيْهِ رَحْمَةٌ " قَالَ : ثُمَّ أَتَى الْقَبْرَ ، فَصَفَفْنَا خَلْفَهُ ، وَكَبَّرَ عَلَيْهِ أَرْبَعًا، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : قَدْ يَتَوَهَّمُ غَيْرُ الْمُتَبَحِّرِ فِي صِنَاعَةِ الْعِلْمِ أَنَّ الصَّلاةَ عَلَى الْقَبْرِ غَيْرُ جَائِزَةٍ لِلَّفْظَةِ الَّتِي فِي خَبَرِ أَبِي هُرَيْرَةَ : " فَإِنَّ اللَّهَ يُنَوِّرُهَا عَلَيْهِمْ رَحْمَةً بِصَلاتِي " ، وَاللَّفْظَةِ الَّتِي فِي خَبَرِ يَزِيدَ بْنِ ثَابِتٍ : " فَإِنَّ صَلاتِي عَلَيْهِمْ رَحْمَةٌ " ، وَلَيْسَتِ الْعِلَّةُ مَا يَتَوَهَّمُ الْمُتَوَهِّمُونَ فِيهِ أَنَّ إِبَاحَةَ هَذِهِ السُّنَّةِ لِلْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، خَاصَّةً دُونَ أُمَّتِهِ ، إِذَا لَوْ كَانَ ذَلِكَ لَزَجَرَهُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، عَنْ أَنْ يَصْطَفُّوا خَلْفَهُ ، وَيُصَلُّوا مَعَهُ عَلَى الْقَبْرِ ، فَفِي تَرْكِ إِنْكَارِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى مَنْ صَلَّى عَلَى الْقَبْرِ أَبْيَنُ الْبَيَانِ لِمَنْ وَفَّقَهُ اللَّهُ لِلْرَشَادِ وَالسَّدَادِ أَنَّهُ فِعْلٌ مُبَاحٌ لَهُ وَلأُمَّتِهِ مَعًا دُونَ أَنْ يَكُونَ ذَلِكَ بِالْفِعْلِ لَهُ دُونَ أُمَّتِهِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا یزید بن ثابت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ روانہ ہوئے، جب ہم بقیع کے مقام پر پہنچے، تو وہاں ایک قبر موجود تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس قبر کے بارے میں دریافت کیا، تو لوگوں نے بتایا: فلاں خاتون کی ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس خاتون کی شناخت ہو گئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے اس کی (وفات) کے بارے میں مجھے بتایا کیوں نہیں؟“ لوگوں نے عرض کی: آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت روزے کی حالت میں آرام فرما رہے تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم لوگ ایسا نہ کرو، جب تک میں تمہارے درمیان موجود ہوں تم میں سے جس شخص کا بھی انتقال ہوتا ہے تم اس کے بارے میں مجھے اطلاع دو، کیونکہ میرا اس کے لیے نماز جنازہ ادا کرنا رحمت ہو گا۔“ راوی بیان کرتے ہیں: پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم قبر پر تشریف لائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پیچھے صفیں بنوائیں اور اس پر (نماز جنازہ ادا کرتے ہوئے) چار مرتبہ تکبیریں کہیں۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:): جو شخص علم حدیث میں مہارت نہیں رکھتا وہ اس غلط فہمی کا شکار ہوا کہ قبر پر نماز جنازہ ادا کرنا جائز نہیں ہے، ان الفاظ کی وجہ سے جو سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول روایت میں ہیں: ”بے شک اللہ تعالیٰ میرے نماز جنازہ ادا کرنے کی وجہ سے ان کی قبروں کو ان کے لیے روشن کر دیتا ہے۔“ اور ان الفاظ کی وجہ سے جو سیدنا یزید بن ثابت رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول روایت میں ہیں: ”میرا ان کی نماز جنازہ ادا کرنا رحمت ہے۔“ حالانکہ علت وہ نہیں ہے، جو غلط فہمی کا شکار ان افراد کو غلط فہمی ہوئی کہ اس سنت کا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے مباح ہونا آپ کی خصوصیت ہے یا آپ کی اُمت کے لیے نہیں ہے، کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو اس بات سے منع کر دیتے کہ وہ آپ کے پیچھے صفیں قائم کریں اور آپ کی اقتدا میں قبر پر نماز جنازہ ادا کریں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنے پیچھے قبر پر نماز جنازہ ادا کرنے والے پر انکار نہ کرنا اس بات کا واضح بیان موجود ہے، لیکن یہ اس شخص کے لیے بیان ہے جسے اللہ تعالیٰ نے ہدایت اور سیدھے راستے کی توفیق عطا کی ہو کہ یہ ایک مباح فعل ہے، جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے بھی مباح ہے، آپ کی اُمت کے لیے بھی مباح ہے، ایسا نہیں ہے کہ یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے مباح ہو اور آپ کی اُمت کے لیے نہ ہو۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 3087]

3088

Sahih Ibn Hibban #3088

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الشَّيْبَانِيِّ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي مَنْصَلَّى مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى قَبْرٍ مَنْبُوذٍ فَصَفَّهُمْ خَلْفَهُقُلْتُ : مَنْ أَخْبَرَكَ ؟ " قَالَ : ابْنُ عَبَّاسٍ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

امام شعبی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: مجھے اس شخصیت نے یہ بات بتائی ہے، جس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ قبر پر نماز جنازہ ادا کی تھی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پیچھے ان لوگوں کی صفیں بنوائی تھیں۔ راوی کہتے ہیں: میں نے دریافت کیا: آپ کو کس نے یہ بتایا ہے؟ تو انہوں نے جواب دیا: سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 3088]

3089

Sahih Ibn Hibban #3089

أَخْبَرَنَا أَبُو عَرُوبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحَرَّانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : انْتَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى قَبْرٍ مَنْبُوذٍ فَصَلَّى عَلَيْهِ ، وَصَلَّيْنَا مَعَهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم قبر کے پاس تشریف لائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی نماز جنازہ ادا کی، ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتدا میں نماز جنازہ ادا کی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 3089]

3090

Sahih Ibn Hibban #3090

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُحَمَّدٍ الدَّغَوَلِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الذُّهْلِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : أَتَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى قَبْرٍ مَنْبُوذٍ ، فَصَلَّى عَلَيْهِ وَصَلَّيْنَا مَعَهُ "، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : فِي هَذَا الْخَبَرِ بَيَانٌ وَاضِحٌ أَنَّ صَلاةَ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْقَبْرِ إِنَّمَا كَانَتْ عَلَى قَبْرٍ مَنْبُوذٍ ، وَالْمَنْبُوذُ نَاحِيَةٌ ، فَدَلَّتْكَ هَذِهِ اللَّفْظَةُ عَلَى أَنَّ الصَّلاةَ عَلَى الْقَبْرِ جَائِزَةٌ إِذَا كَانَ جَدِيدًا فِي نَاحِيَةٍ لَمْ تُنْبَشْ ، أَوْ فِي وَسَطِ قُبُورٍ لَمْ تُنْبَشْ ، فَأَمَّا الْقُبُورُ الَّتِي نُبِشَتْ ، وَقُلِبَ تُرَابُهَا صَارَ تُرَابُهَا نَجِسًا ، لا تَجُوزُ الصَّلاةُ عَلَى النَّجَاسَةِ إِلا أَنْ يَقُومَ الإِنْسَانُ عَلَى شَيْءٍ نَظِيفٍ ، ثُمَّ يُصَلِّي عَلَى الْقَبْرِ الْمَنْبَوشِ دُونَ الْمَنْبُوذِ الَّذِي لَمْ يَنْبِشْ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک الگ تھلگ قبر کے پاس تشریف لائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر نماز جنازہ ادا کی اور ہم نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتدا میں نماز جنازہ ادا کی۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں): اس روایت میں اس بات کا واضح بیان موجود ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا قبر پر نماز جنازہ ادا کرنا ایک ایسی قبر کے بارے میں تھا جو ایک گوشے میں تھی، لفظ «مَنْبُوذ» کا مطلب گوشہ ہے، تو یہ الفاظ آپ کی رہنمائی اس بات کی طرف کریں گے کہ قبر پر نماز جنازہ ادا کرنا جائز ہے جبکہ وہ نئی ہو اور کسی ایسے گوشے میں ہو جسے اکھاڑا نہ گیا ہو یا قبروں کے درمیان میں ہو جسے اکھاڑا نہ گیا ہو، جہاں تک ان قبروں کا تعلق ہے جنہیں اکھاڑ دیا جاتا ہے اور ان کی مٹی کو الٹ پلٹ دیا جاتا ہے تو ان کی مٹی نجس ہو جاتی ہے اور نجاست والی چیز پر نماز ادا کرنا جائز نہیں ہے، البتہ اگر آدمی کسی پاک و صاف چیز پر کھڑا ہو اور پھر قبر پر نماز جنازہ ادا کرے، وہ قبر جو اکھیڑ دی گئی ہو (تو اس کا حکم مختلف ہے) اور یہ حکم اس کے علاوہ ہے جو کسی گوشے میں ہوتی ہے اور اکھیڑی نہیں ہوتی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 3090]

3091

Sahih Ibn Hibban #3091

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنِ الشَّيْبَانِيِّ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى قَبْرِ رَجُلٍ بَعْدَمَا دُفِنَ بِلَيْلَةٍ ، قَامَ هُوَ وَأَصْحَابُهُ ، وَكَانَ قَدْ سَأَلَ عَنْهُ ، قَالُوا : فُلانٌ دُفِنَ الْبَارِحَةَ ، فَصَلُّوا عَلَيْهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کی قبر پر نماز جنازہ ادا کی جسے رات کے وقت دفن کر دیا گیا تھا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کھڑے ہوئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کے بارے میں دریافت کیا تو لوگوں نے بتایا: فلاں شخص کو گزشتہ رات دفن کیا گیا تھا، تو ان لوگوں نے اس کی (قبر پر) نماز جنازہ ادا کی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 3091]

3092

Sahih Ibn Hibban #3092

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدِ بْنِ أَبِي عَوْنٍ الرَّيَّانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ حَكِيمِ بْنِ عَبَّادِ بْنِ حُنَيْفٍ ، عَنْ خَارِجَةَ بْنِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ ، عَنْ عَمِّهِ يَزِيدَ بْنِ ثَابِتٍ ، وَكَانَ أَكْبَرَ مِنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ ، وَكَانَ قَدْ شَهِدَ بَدْرًا ، وَزَيْدٌ لَمْ يَشْهَدْ بَدْرًا ، قَالَ : خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْبَقِيعِ ، فَرَأَى قَبْرًا جَدِيدًا ، فَصَفَفْنَا خَلْفَهُ ، وَكَبَّرَ عَلَيْهِ أَرْبَعًا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا یزید بن ثابت رضی اللہ عنہ جو سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے عمر میں بڑے ہیں اور انہیں غزوہ بدر میں شرکت کا شرف حاصل ہے، حالانکہ سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کو غزوہ بدر میں شرکت کا شرف حاصل نہیں ہے (سیدنا یزید بن ثابت رضی اللہ عنہ) بیان کرتے ہیں: ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ بقیع کی طرف گئے، وہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک نئی قبر ملاحظہ فرمائی، ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے صفیں بنا لیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس (کی نماز جنازہ ادا کرتے ہوئے) چار مرتبہ تکبیریں کہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 3092]

3093

Sahih Ibn Hibban #3093

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي عَوْنٍ ، حَدَّثَنَا خَلِيلُ بْنُ عَمْرٍو بَغْدَادِيٌّ ، ثِقَةٌ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، أَنَّرَجُلا كَانَتْ لَهُ جِرَاحَةٌ ، فَأَتَى قَرْنًا لَهُ فَأَخَذَ مِشْقَصًا ، فَذَبَحَ بِهِ نَفْسَهُ ، فَلَمْ يُصَلِّ عَلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص زخمی ہو گیا، وہ اپنے ترکش کے پاس آیا، اس نے ایک تیر کو لیا اور اس کے ذریعے خودکشی کر لی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی نماز جنازہ ادا نہیں کی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 3093]

3094

Sahih Ibn Hibban #3094

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنَّ رَجُلا مِنْ أَسْلَمَ ، جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَاعْتَرَفَ بِالزِّنَى ، فَأَعْرَضَ عَنْهُ حَتَّى شَهِدَ عَلَى نَفْسِهِ أَرْبَعَ مَرَّاتٍ ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَبِكَ جُنُونٌ ؟ " قَالَ : لا ، قَالَ : " فَهَلْ أَحْصَنْتَ ؟ " قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : فَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهَ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَرُجِمَ فِي الْمُصَلَّى ، فَلَمَّا أَذْلَقَتْهُ الْحِجَارَةُ ، فَرَّ ، فَأُدْرِكَ وَخَرَّ حَتَّى مَاتَ ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " خَيْرًا " وَلَمْ يُصَلِّ عَلَيْهِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اسلم قبیلے سے تعلق رکھنے والا ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اس نے زنا کرنے کا اعتراف کیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے رخ پھیر لیا، یہاں تک کہ اس نے اپنے بارے میں چار مرتبہ یہ گواہی دی (کہ اس نے زنا کا ارتکاب کیا ہے)، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے دریافت کیا: ”کیا تم پاگل ہو؟“ اس نے عرض کی: جی نہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”کیا تم شادی شدہ ہو؟“ اس نے عرض کی: جی ہاں۔ راوی کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے تحت اسے سنگسار کر دیا گیا، جب اسے پتھر لگے تو وہ بھاگا، لیکن اسے پکڑ لیا گیا (اور پتھر مارے گئے)، یہاں تک کہ وہ گر گیا اور اس کا انتقال ہو گیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بارے میں اچھے کلمات کہے، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی نماز جنازہ ادا نہیں کی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 3094]

3095

Sahih Ibn Hibban #3095

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي عَوْنٍ قَالَ : حَدَّثَنَا خَلِيلُ بْنُ عَمْرٍو الْبَغْدَادِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، أَنَّرَجُلا كَانَتْ بِهِ جِرَاحَةٌ ، فَأَتَى قَرْنًا لَهُ ، فَأَخَذَ مِشْقَصًا ، فَذَبَحَ بِهِ نَفْسَهُ فَلَمْ يُصَلِّ عَلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص زخمی ہو گیا، وہ اپنے ترکش کے پاس آیا، اس نے ایک تیر لیا اور اس کے ذریعے خودکشی کر لی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی نماز جنازہ ادا نہیں کی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 3095]

3096

Sahih Ibn Hibban #3096

أَخْبَرَنَا حَاجِبُ بْنُ أَرَّكِينَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ الْفَلاسُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ ، قَالَ : سَمِعْتُ شُعْبَةَ ، يَقُولُ : السَّاعَةَ يَخْرُجُ السَّاعَةَ يَخْرُجُ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَصَلَّى عَلَى النَّجَاشِيِّ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نجاشی کی نماز جنازہ ادا کی تھی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 3096]

3097

Sahih Ibn Hibban #3097

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذِ بْنِ مُعَاذٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : صَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى النَّجَاشِيِّ لَمَّا بَلَغَهُ وَفَاتُهُ "، وَكُنْتُ فِي الصَّفِّ الثَّانِي"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نجاشی کی نماز جنازہ ادا کی تھی جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کے انتقال کی اطلاع ملی تھی، میں اس وقت دوسری صف میں موجود تھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 3097]

3098

Sahih Ibn Hibban #3098

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَنَعَى لِلنَّاسِ النَّجَاشِيَّ ، فِي الْيَوْمِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ ، وَخَرَجَ إِلَى الْمُصَلَّى ، فَصَفَّ بِهِمْ وَكَبَّرَ أَرْبَعَ تَكْبِيرَاتٍ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو نجاشی کے انتقال کی اطلاع اسی دن دے دی تھی جس دن اس کا انتقال ہوا تھا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عیدگاہ تشریف لے گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کی صفیں بنوائیں اور (نماز جنازہ میں) چار تکبیریں کہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 3098]

3099

Sahih Ibn Hibban #3099

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلانَ بِأَذَنَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الزِّمَّانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : إِنَّأَخًا لَكُمْ قَدْ مَاتَ ، فَقُومُوا فَصَلُّوا عَلَيْهِ " ، قَالَ : فَصَفَفْنَا عَلَيْهِ صَفَّيْنِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”تمہارے بھائی کا انتقال ہو گیا ہے، تم لوگ اٹھو اور اس کی نماز جنازہ ادا کر لو۔“ راوی بیان کرتے ہیں: تو ہم نے اس کے لیے دو صفیں بنائیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 3099]

3100

Sahih Ibn Hibban #3100

أَخْبَرَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى السَّاجِيُّ بِالْبَصْرَةِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ،صَلَّى عَلَى النَّجَاشِيِّ ، وَكَبَّرَ عَلَيْهِ أَرْبَعًا "، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : الْعِلَّةُ فِي صَلاةِ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى النَّجَاشِيِّ ، وَهُوَ بِأَرْضِهِ ، أَنَّ النَّجَاشِيَّ أَرْضُهُ بِحِذَاءِ الْقِبْلَةِ ، وَذَاكَ أَنَّ بَلَدَ الْحَبَشَةِ إِذَا قَامَ إِنْسَانٌ بِالْمَدِينَةِ ، كَانَ وَرَاءَ الْكَعْبَةِ ، وَالْكَعْبَةُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ بِلادِ الْحَبَشَةِ ، فَإِذَا مَاتَ الْمَيِّتُ ، وَدُفِنَ ، ثُمَّ عَلِمَ الْمَرْءُ فِي بَلَدٍ آخَرَ بِمَوْتِهِ ، وَكَانَ بَلَدُ الْمَدْفُونِ بَيْنَ بَلَدِهِ وَالْكَعْبَةِ وَرَاءَ الْكَعْبَةِ ، جَازَ لَهُ الصَّلاةُ عَلَيْهِ ، فَأَمَّا مَنْ مَاتَ وَدُفِنَ فِي بَلَدٍ ، وَأَرَادَ الْمُصَلِّي عَلَيْهِ الصَّلاةَ فِي بَلَدِهِ ، وَكَانَ بَلَدُ الْمَيِّتِ وَرَاءَهُ ، فُمَسْتَحِيلٌ حِينَئِذٍ الصَّلاةُ عَلَيْهِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نجاشی کی نماز جنازہ ادا کی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر چار تکبیریں کہی تھیں۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے نجاشی کی نماز جنازہ ادا کرنے میں علت یہ تھی کہ جبکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے علاقے میں موجود تھے تو نجاشی کی سرزمین قبلہ کے قریب تھی، اس کی وجہ یہ ہے کہ جب انسان مدینہ منورہ میں کھڑا ہو تو حبشہ کا شہر کعبہ کی دوسری طرف ہو گا اور کعبہ، مدینہ منورہ اور حبشہ کی سرزمین کے درمیان میں ہو گا، تو جب کوئی میت فوت ہو جائے اور اسے دفن کر دیا جائے، پھر آدمی کو کسی دوسرے شہر میں اس کی موت کے بارے میں پتا چلے اور مدفون شخص کا شہر آدمی کے شہر اور خانہ کعبہ کے درمیان ہو، یعنی خانہ کعبہ کی دوسری طرف ہو تو آدمی کے لیے اس شخص کی نماز جنازہ ادا کرنا جائز ہوتا ہے، لیکن جب کوئی شخص فوت ہو کر کسی شہر میں دفن ہو جائے اور نمازی اپنے شہر میں رہتے ہوئے نماز جنازہ ادا کرنا چاہے اور میت کا شہر اس سے پیچھے کی طرف ہو تو یہ بات ناممکن ہو گی کہ اس کی نماز جنازہ ادا کی جائے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 3100]

3101

Sahih Ibn Hibban #3101

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، وأبي سلمة ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ،نَعَى النَّجَاشِيَّ يَوْمَ تُوُفِّيَ ، وَقَالَ : اسْتَغْفِرُوا لأَخِيكُمْ " ، ثُمَّ خَرَجَ بِالنَّاسِ إِلَى الْمُصَلَّى ، فَصَفُّوا وَرَاءَهُ ، وَكَبَّرَ أَرْبَعَ تَكْبِيرَاتٍ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نجاشی کے انتقال کی اطلاع اسی دن دے دی تھی جس دن اس کا انتقال ہوا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم لوگ اپنے بھائی کے لیے دعائے مغفرت کرو۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو لے کر عید گاہ تشریف لے گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پیچھے صفیں بنوائیں اور چار تکبیریں کہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 3101]

3102

Sahih Ibn Hibban #3102

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، حَدَّثَنِي أَبُو قِلابَةَ ، عَنْ عَمِّهِ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّأَخَاكُمْ النَّجَاشِيَّ تُوُفِّيَ ، فَقُومُوا فَصَلُّوا عَلَيْهِ ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَصَفُّوا خَلْفَهُ ، وَكَبَّرَ أَرْبَعًا وَهُمْ لا يَظُنُّونَ إِلا أَنَّ جَنَازَتَهُ بَيْنَ يَدَيْهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں یہ اطلاع دی: ”تمہارے بھائی نجاشی کا انتقال ہو گیا ہے، تم لوگ اٹھو اور اس کی نماز جنازہ ادا کرو۔“ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پیچھے صفیں بنوائیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چار تکبیریں کہیں۔ لوگ یہی گمان کر رہے تھے جیسے اس کا جنازہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 3102]

3103

Sahih Ibn Hibban #3103

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ الْقُطَيْعِيُّ ، قَالَ : حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ : إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، خَطَبَ يَوْمًا ، فَذَكَرَ رَجُلا مِنْ أَصْحَابِهِ كُفِّنَ فِي كَفَنٍ غَيْرِ طَائِلٍ ، وَدُفِنَ لَيْلافَزَجَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّ يُقْبَرَ الرَّجُلُ لَيْلا إِلا أَنْ يُضْطَرَّ الإِنْسَانُ إِلَى ذَلِكَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ایک دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب میں سے ایک صاحب کا ذکر کیا جنہیں چھوٹا سا کفن دیا گیا تھا اور انہیں رات کے وقت دفن کر دیا گیا تھا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع کیا کہ ”کسی شخص کو رات کے وقت دفن کیا جائے، البتہ اگر انسان اس بارے میں مجبور ہو جائے (تو حکم مختلف ہے)“۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 3103]

3104

Sahih Ibn Hibban #3104

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ مُكْرَمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ أَبَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُبَيْدَةُ بْنُ حُمَيْدٍ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ أَبِي عَيَّاشٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِذَا تَبِعَ أَحَدُكُمُ الْجَنَازَةَ فَلا يَجْلِسْ حَتَّى تُوضَعَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”جب کوئی شخص جنازے کے ساتھ جائے، تو وہ اس وقت تک نہ بیٹھے جب تک جنازے کو (لحد میں) رکھ نہ دیا جائے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 3104]

3105

Sahih Ibn Hibban #3105

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَإِذَا كَانَ مَعَ الْجَنَازَةِ لَمْ يَجْلِسْ حَتَّى تُوضَعَ فِي اللَّحْدِ ، أَوْ حَتَّى تُدْفَنَ "، شَكَّ أَبُو مُعَاوِيَةَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی جنازے کے ساتھ جاتے تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت تک تشریف فرما نہیں ہوتے تھے جب تک اسے لحد میں رکھ نہیں دیا جاتا تھا (جہاں ابومعاویہ نامی راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) اسے دفن نہیں کر دیا جاتا تھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 3105]

3107

Sahih Ibn Hibban #3107

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْجُنَيْدِ بِبُسْتَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَتْبَعُ الْمَيِّتَ ثَلاثَةٌ ، فَيَرْجِعُ اثْنَانِ وَيَبْقَى وَاحِدٌ : يَتْبَعُهُ أَهْلُهُ وَمَالُهُ وَعَمَلُهُ ، فَيَرْجِعُ أَهْلُهُ وَمَالُهُ ، وَيَبْقَى عَمَلُهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”میت کے ساتھ تین چیزیں جاتی ہیں، ان میں سے دو واپس آ جاتی ہیں اور ایک ساتھ رہ جاتی ہے؛ اس کے اہل خانہ، اس کا مال اور اس کا عمل ساتھ جاتے ہیں، اس کے اہل خانہ اور اس کا مال واپس آ جاتے ہیں اور اس کا عمل ساتھ رہ جاتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 3107]