Muslim99Muslim99

Sahih Ibn Hibban · Book 27 · Chapter 3

Book of Sales

Hadith 3033–3066

34 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

3033

Sahih Ibn Hibban #3033

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ السَّامِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ أَيُّوبَ ، وَهِشَامٍ ، وَحَبِيبٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ ، قَالَتْ : تُوُفِّيَتِ ابْنَةٌ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : اغْسِلْنَهَا بِالْمَاءِ ، وَالسِّدْرِ ثَلاثًا ، أَوْ خَمْسًا ، أَوْ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ إِنَّ رَأَيْتُنَّ ذَلِكَ ، وَاجْعَلْنَ فِي آخِرِهِنَّ شَيْئًا مِنْ كَافُورٍ ، فَإِذَا فَرَغْتُنَّ فَآذِنَّنِي " ، فَآذَنَّاهُ ، فَأَلْقَى إِلَيْنَا حِقْوَهُ ، وَقَالَ : " أَشْعِرْنَهَا إِيَّاهُ " ، قَالَ أَيُّوبُ ، وَقَالَتْ حَفْصَةُ : " اغْسِلْنَهَا ثَلاثًا ، أَوْ خَمْسًا ، أَوْ سَبْعًا ، وَاجْعَلْنَ لَهَا ثَلاثَةَ قُرُونٍ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی کا انتقال ہوا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم اسے پانی اور بیری کے پتوں کے ذریعے تین مرتبہ یا پانچ مرتبہ یا، اگر تم مناسب سمجھو، تو اس سے زیادہ مرتبہ غسل دینا اور آخر میں کچھ کافور بھی ملا دینا، جب تم فارغ ہو جاؤ، تو مجھے اطلاع دینا۔“ ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع دی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی چادر ہمیں دی اور ارشاد فرمایا: ”یہ اس کے جسم پر لپیٹ دو۔“ ایوب نامی راوی نے یہ بات بیان کی ہے، حفصہ نامی راوی خاتون نے اس میں یہ الفاظ نقل کیے ہیں: ”تم اسے تین مرتبہ یا پانچ مرتبہ یا سات مرتبہ غسل دینا اور اس کی تین چوٹیاں بنا دینا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 3033]

3034

Sahih Ibn Hibban #3034

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الصَّبَّاحِ الْبَزَّارُ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ الْكَرِيمِ ، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَقِيلِ بْنِ مَعْقِلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ وَهْبِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، قَالَ : هَذَا مَا سَأَلْتُ عَنْهُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، فَذَكَرَ أَحَادِيثَ ، فَقَالَ : إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطَبَ يَوْمًا ، فَذَكَرَ رَجُلا مِنْ أَصْحَابِهِ ، قُبِضَ ، فَكُفِّنَ فِي كَفَنٍ غَيْرِ طَائِلٍ ، وَقُبِّرَ لَيْلا ، فَزَجَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنْ يُقْبَرَ الرَّجُلُ بِلَيْلٍ ، أَوْ يُصَلَّى عَلَيْهِ إِلا أَنْ يُضْطَرَّ إِلَى ذَلِكَ ، وَقَالَ : إِذَا وَلِيَ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ ، فَلْيُحْسِنْ كَفَنَهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

وہب بن منبہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: یہ وہ چیز ہے جس کے بارے میں میں نے سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے دریافت کیا، تو انہوں نے کچھ احادیث بیان کیں، انہوں نے یہ بتایا کہ ایک دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دے رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب میں سے ایک صاحب کا ذکر کیا جن کا انتقال ہو گیا تھا اور انہیں زیادہ بڑا کفن نہیں دیا گیا تھا اور رات کے وقت ہی دفنا دیا گیا تھا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع کیا کہ کسی شخص کو رات کے وقت دفن کیا جائے یا کسی کی رات کے وقت نماز جنازہ ادا کی جائے، البتہ مجبوری کا معاملہ مختلف ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جب کوئی شخص اپنے بھائی (کے کفن دفن کے معاملات) کا نگران بنے، تو وہ اسے اچھا کفن دے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 3034]

3035

Sahih Ibn Hibban #3035

أَخْبَرَنَا حَامِدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شُعَيْبٍ ، حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْمَاعِيلَ الْمُؤَدِّبُ ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ عَطَاءٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ الْفَضْلِ بْنِ الْعَبَّاسِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَكُفِّنَ فِي ثَوْبَيْنِ سَحُولِيَّيْنِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سیدنا فضل بن عباس رضی اللہ عنہما کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دو «سَحُولِيّ» ”سحولی“ کپڑوں میں کفن دیا گیا تھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 3035]

3036

Sahih Ibn Hibban #3036

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا الْمَقْرِئُ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ ، حَدَّثَنِي جَعْفَرُ بْنُ رَبِيعَةَ ، عَنْ مُجَاهِدِ بْنِ وَرْدَانَ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : كُنْتُ عِنْدَ أَبِي بَكْرٍ حِينَ حَضَرَتْهُ الْوَفَاةُ ، فَتَمَثَّلْتُ بِهَذَا الْبَيْتِ : مَنْ لا يَزَالُ دَمْعُهُ مُقَنَّعًا يُوشِكُ أَنْ يَكُونَ مَدْفُوقًا فَقَالَ : يَا بُنَيَّةُ ، لا تَقُولِي هَكَذَا ، وَلَكِنْ قُولِي : وَجَاءَتْ سَكْرَةُ الْمَوْتِ بِالْحَقِّ ذَلِكَ مَا كُنْتَ مِنْهُ تَحِيدُ ، ثُمَّ قَالَ :فِي كَمْ كُفِّنَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ فَقُلْتُ : فِي ثَلاثَةِ أَثْوَابٍ " ، فَقَالَ : كَفِّنُونِي فِي ثَوْبَيَّ هَذَيْنِ ، وَاشْتَرُوا إِلَيْهِمَا ثَوْبًا جَدِيدًا ، فَإِنَّ الْحَيَّ أَحْوَجُ إِلَى الْجَدِيدِ مِنَ الْمَيِّتِ ، وَإِنَّمَا هِيَ لِلْمِهْنَةِ أَوْ لِلْمُهْلَةِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میں اس وقت سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس موجود تھی جب ان کا آخری وقت قریب آیا، تو میں نے یہ شعر پڑھا: ”جس کے آنسو ہمیشہ رکے رہتے ہیں، عنقریب وہ اچھل کر نکل آئیں گے۔“ تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اے میری بیٹی! تم یہ نہ کہو بلکہ تم یہ پڑھو (جو قرآن کی آیت ہے) ﴿وَجَاءَتْ سَكْرَةُ الْمَوْتِ بِالْحَقِّ ذَلِكَ مَا كُنْتَ مِنْهُ تَحِيدُ﴾ [سورة ق: 19] ”موت کی مدہوشی حق کے ساتھ آ گئی ہے، یہ وہ چیز ہے جس سے تم بچنا چاہتے تھے۔““ پھر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا: ”نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو کتنے کپڑوں میں کفن دیا گیا تھا؟“ میں نے جواب دیا: ”تین کپڑوں میں۔“ تو انہوں نے فرمایا: ”مجھے میرے ان دو کپڑوں میں کفن دے دینا اور ان دونوں کے ساتھ نیا کپڑا خرید لینا، کیونکہ زندہ شخص نئے کپڑے کا مرحوم کے مقابلے میں زیادہ محتاج ہوتا ہے، یہ کام کاج کے کپڑے ہیں (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) مہلت کے کپڑے ہیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 3036]

3037

Sahih Ibn Hibban #3037

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ،كُفِّنَ فِي ثَلاثَةِ أَثْوَابٍ بِيضٍ سُحُولِيَّةٍ لَيْسَ فِيهَا قَمِيصٌ وَلا عِمَامَةٌ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو تین سفید «سُحُولِيَّة» ”سحولی“ کپڑوں میں کفن دیا گیا، اس کفن میں قمیص یا عمامہ شامل نہیں تھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 3037]

3038

Sahih Ibn Hibban #3038

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِذَا وُضِعَتِ الْجَنَازَةُ وَاحْتَمَلَهَا الرِّجَالُ عَلَى أَعْنَاقِهِمْ ، فَإِنْ كَانَتْ صَالِحَةً قَالَتْ : قَدِّمُونِي ، وَإِنْ كَانَتْ غَيْرَ صَالِحَةٍ قَالَتْ : يَا وَيْلَهَا أَيْنَ يَذْهَبُونَ بِهَا ، يَسْمَعُ صَوْتَهَا كُلُّ شَيْءٍ إِلا الإِنْسَانَ ، وَلَوْ سَمِعَهَا الإِنْسَانُ لَصَعِقَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جب جنازہ (چارپائی پر) رکھ دیا جائے اور لوگ اسے گردن (یعنی کندھوں پر) اٹھا لیں، تو اگر وہ (مرحوم) نیک ہو تو وہ کہتا ہے: تم مجھے آگے لے جاؤ! اور اگر وہ نیک نہ ہو تو وہ کہتا ہے: ہائے افسوس! یہ لوگ اسے کہاں لے جا رہے ہیں؟ اس کی آواز کو انسان کے علاوہ ہر چیز سنتی ہے اور اگر انسان اسے سن لے تو بے ہوش ہو کر گر جائے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 3038]

3039

Sahih Ibn Hibban #3039

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ زُغْبَةَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِذَا وُضِعَتِ الْجَنَازَةُ ، وَاحْتَمَلَهَا الرِّجَالُ عَلَى أَعْنَاقِهِمْ ، فَإِنْ كَانَتْ صَالِحَةً قَالَتْ : قَدِّمُونِي ، وَإِنْ كَانَتْ غَيْرَ صَالِحَةٍ ، قَالَتْ : يَا وَيْلَهَا أَيْنَ يَذْهَبُونَ بِهَا ، يَسْمَعُ صَوْتَهَا كُلُّ شَيْءٍ إِلا الإِنْسَانَ ، وَلَوْ سَمِعَهَا الإِنْسَانُ لَصَعِقَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”جب جنازہ (چارپائی پر) رکھ دیا جاتا ہے اور لوگ اسے اپنے کندھوں پر اٹھا لیتے ہیں، اگر وہ نیک ہو تو وہ کہتا ہے: «قَدِّمُونِي» ”تم مجھے آگے لے جاؤ“ اور اگر وہ نیک نہ ہو تو وہ کہتا ہے: «يَا وَيْلَهَا، أَيْنَ يَذْهَبُونَ بِهَا؟» ”ہائے افسوس! یہ لوگ اسے کہاں لے جا رہے ہیں؟“ اس کی آواز کو انسان کے علاوہ ہر چیز سنتی ہے، اگر انسان اسے سن لے تو بے ہوش ہو کر گر جائے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 3039]

3040

Sahih Ibn Hibban #3040

أَخْبَرَنَا حَامِدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شُعَيْبٍ الْبَلْخِيُّ بِبَغْدَادَ ، حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ أَبِي مُزَاحِمٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ أَبِي الشَّعْثَاءِ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ سُوَيْدٍ ، عَنِ الْبَرَاءِ ، قَالَ : أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَبِاتِّبَاعِ الْجَنَائِزِ ، وَعِيَادَةِ الْمَرْضَى ، وَتَشْمِيتِ الْعَاطِسِ ، وَإِبْرَارِ الْمُقْسِمِ ، وَنُصْرَةِ الْمَظْلُومِ ، وَإِفْشَاءِ السَّلامِ ، وَإِجَابَةِ الدَّاعِي "، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : الأَمْرُ بِاتِّبَاعِ الْجَنَائِزِ ، وَعِيَادَةِ الْمَرْضَى ، أَمْرٌ لِطَلَبِ الثَّوَابِ دُونَ أَنْ يَكُونَ حَتْمًا ، وَالأَمْرُ بِتَشْمِيتِ الْعَاطِسِ ، وَإِبْرَارِ الْمُقْسِمِ ، لَفْظٌ عَامٌ مُرَادُهُمَا الْخُصُوصُ ، وَذَلِكَ أَنَّ الْعَاطِسَ لا يَجِبُ أَنْ يُشَمَّتَ إِلا إِذَا حَمِدَ اللَّهَ ، وَإِبْرَارُ الْمُقْسِمِ فِي بَعْضِ الأَحْوَالِ دُونَ الْكُلِّ ، وَالأَمْرُ بِنُصْرَةِ الْمَظْلُومِ ، وَإِجَابَةِ الدَّاعِي أَمْرَا حَتْمٍ فِي الْوَقْتِ دُونَ الْوَقْتِ ، وَالأَمْرِ بِإِفْشَاءِ السَّلامِ أَمْرٌ بِلَفْظِ الْعُمُومِ ، وَالْمُرَادُ مِنْهُ اسْتِعْمَالُهُ مَعَ الْمُسْلِمِينَ دُونَ غَيْرِهِمْ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا براء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ”جنازے کے ساتھ جانے، بیمار کی عیادت کرنے، چھینکنے والے کو جواب دینے، قسم اٹھانے والے کی قسم پوری کروانے، مظلوم کی مدد کرنے، سلام کو پھیلانے اور دعوت قبول کرنے“ کا حکم دیا ہے۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) جنازے کے ساتھ جانے، بیمار کی عیادت کرنے کا حکم ثواب طلب کرنے کے لیے ہے، یہ لازمی حکم نہیں ہے، جبکہ چھینکنے والے کو جواب دینے اور قسم پوری کروانے کا حکم اس کے الفاظ عام ہیں لیکن اس کی مراد مخصوص ہے اور وہ یوں کہ چھینکنے والے کو جواب دینا اسی وقت لازم ہوتا ہے جب وہ اللہ کی حمد بیان کرے اور قسم پوری کروانا بعض صورتوں میں لازم ہوتا ہے، ہر صورت میں لازم نہیں ہوتا، جبکہ مظلوم کی مدد کرنا اور دعوت کو قبول کرنا یہ ایسا حکم ہے جو کسی وقت میں لازم ہوتا ہے اور کسی وقت میں لازم نہیں ہوتا، جبکہ سلام کو پھیلانے کا حکم لفظی طور پر عام ہے لیکن اس سے مراد یہ ہے کہ مسلمانوں کے ساتھ ایسا کیا جائے، مسلمانوں کے علاوہ (غیر مسلموں کے ساتھ) ایسا نہ کیا جائے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 3040]

3041

Sahih Ibn Hibban #3041

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عُثْمَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَطِيَّةَ ، عَنْ جَدَّتِهِ أُمِّ عَطِيَّةَ ، قَالَتْ : لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ ، جَمَعَ نِسَاءَ الأَنْصَارِ فِي بَيْتٍ ، فَأَرْسَلَ إِلَيْنَا عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ، فَقَامَ عَلَى الْبَابِ فَسَلَّمَ عَلَيْنَا ، فَرَدَدْنَا عَلَيْهِ السَّلامَ ، ثُمَّ قَالَ : أَنَا رَسُولُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْكُنَّ ، قَالَتْ : فَقُلْنَا مَرْحَبًا بِرَسُولِ اللَّهِ ، وَبِرَسُولِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : تُبَايِعْنَنِي عَلَى أَنْ لا تُشْرِكْنَ بِاللَّهِ شَيْئًا ، وَلا تَزْنِينَ ، وَلا تَسْرِقْنَ . . . الآيَةُ " ؟ قَالَتْ : فَقُلْنَا : نَعَمْ ، قَالَتْ : فَمَدَّ يَدَهُ مِنْ خَارِجِ الْبَيْتِ ، وَمَدَدْنَا أَيْدِيَنَا مِنْ دَاخِلِ الْبَيْتِ ، ثُمَّ قَالَ : اللَّهُمَّ اشْهَدْ ، قَالَتْ : " وَأَمَرَنَا بِالْعِيدِ ، وَأَنْ نُخْرِجَ فِيهِ الْحُيَّضَ وَالْعُتَّقَ ، وَلا جُمُعَةَ عَلَيْنَا ، وَنَهَانَا عَنِ اتِّبَاعِ الْجَنَازَةِ " ، قَالَ إِسْمَاعِيلُ : فَسَأَلْتُ جَدَّتِي عَنْ قَوْلِهِ : وَلا يَعْصِينَكَ فِي مَعْرُوفٍ ، قَالَتْ : " نَهَانَا عَنِ النِّيَاحَةِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے، تو انصار کی کچھ خواتین ایک گھر میں جمع ہوئیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو ہمارے پاس بھیجا، وہ دروازے پر کھڑے ہوئے، انہوں نے ہمیں سلام کیا، ہم نے سلام کا جواب دیا، پھر انہوں نے بتایا کہ میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا پیغام رساں ہوں جو تمہاری طرف آیا ہوں۔ سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: ہم نے کہا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے پیغام رساں کو خوش آمدید، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: آپ خواتین یہ بیعت کریں کہ آپ کسی کو اللہ کا شریک نہیں ٹھہرائیں گی اور زنا نہیں کریں گی اور چوری نہیں کریں گی (انہوں نے یہ آیت پڑھی)۔ سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: ہم نے جواب دیا: جی ہاں۔ سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: انہوں نے گھر کے باہری حصے کی طرف سے ہاتھ بڑھایا اور ہم نے گھر کے اندرونی حصے سے اپنے ہاتھ بڑھائے، پھر انہوں نے کہا: اے اللہ! تو گواہ ہو جا۔ سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں عید کے بارے میں یہ حکم دیا تھا کہ ”ہم اس موقع پر بالغ اور آزاد خواتین کو بھی باہر لے کر آئیں، البتہ ہم خواتین پر جمعہ پڑھنا لازم نہیں ہے“ اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں جنازے کے ساتھ جانے سے منع کیا تھا۔ اسماعیل نامی راوی کہتے ہیں: میں نے اپنی دادی (سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا) سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿وَلَا يَعْصِينَكَ فِي مَعْرُوفٍ﴾ [سورة الممتحنة: 12] ”اور وہ نیکی کے کام میں تمہاری نافرمانی نہیں کریں گی“ کے بارے میں دریافت کیا، تو انہوں نے بتایا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ”نوحہ کرنے“ سے منع کیا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 3041]

3042

Sahih Ibn Hibban #3042

أَخْبَرَنَا حَامِدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شُعَيْبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : أَسْرِعُوا بِجَنَائِزِكُمْ ، فَإِنْ تَكُ خَيْرًا تُقَدِّمُونَهَا إِلَيْهِ ، وَإِنَّ تَكُ شَرًّا تَضَعُونَهَا عَنْ رِقَابِكُمْ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان کا پتہ چلا ہے: ”اپنے جنازوں کو تیزی سے (قبرستان) لے جاؤ، کیونکہ اگر وہ نیک ہوں گے تو تم انہیں بھلائی کی طرف لے کر جاؤ گے اور اگر وہ برے ہوں گے تو تم اس برائی کو اپنی گردنوں سے اتار دو گے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 3042]

3043

Sahih Ibn Hibban #3043

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عُيَيْنَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : شَهِدْتُ جَنَازَةَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ ، وَخَرَجَ زِيَادٌ يَمْشِي بَيْنَ يَدَيْ سَرِيرِهِ ، وَرِجَالٌ يُسْتَقْبَلُونَ السَّرِيرَ ، وَيُدَاسُونَ عَلَى أَعْقَابِهِمْ يَقُولُونَ : رُوَيْدًا رُوَيْدًا بَارِكَ اللَّهُ فِيكُمْ ، حَتَّى إِذَا كُنَّا فِي بَعْضِ الْمِرْبَدِ ، لَحِقَنَا أَبُو بَكْرَةَ عَلَى بَغْلَةٍ ، فَلَمَّا رَأَى أُولَئِكَ وَمَا يَصْنَعُونَ ، حَمَلَ عَلَيْهِمْ بِبَغْلَتِهِ ، وَأَهْوَى إِلَيْهِمْ بِسَوْطِهِ ، وَقَالَ : خَلُّوا فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، لَقَدْ رَأَيْتُنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ،وَإِنَّا نَكَادُ أَنْ نَرْمُلَ بِهَا رَمَلا " ، قَالَ : فَجَاءَ الْقَوْمُ ، وَأَسْرَعُوا الْمَشْيَ ، وَأَسْرَعَ زِيَادٌ الْمَشْيَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عیینہ بن عبدالرحمن بیان کرتے ہیں کہ میں سیدنا عبدالرحمن بن سمرہ رضی اللہ عنہ کے جنازے میں شریک ہوا، (اس وقت کا گورنر) زیاد ان کی چارپائی کے آگے چل رہا تھا اور کچھ لوگوں نے اپنا رخ چارپائی کی طرف کیا ہوا تھا اور وہ الٹے قدموں چلتے ہوئے یہ کہہ رہے تھے: ”ہٹو، ہٹو! اللہ تعالیٰ تمہیں برکت نصیب کرے“۔ جب ہم راستے میں کسی جگہ پر پہنچے، تو ہماری ملاقات سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے ہوئی جو اپنے خچر پر سوار تھے، جب انہوں نے ان لوگوں کے طرزِ عمل کو دیکھا، تو انہوں نے اپنے خچر کا رخ ان لوگوں کی طرف کیا اور اپنے درے کے ذریعے ان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: ”راستہ چھوڑ دو، اس ذات کی قسم جس کے دستِ قدرت میں میری جان ہے! مجھے اپنے بارے میں یہ بات یاد ہے کہ جب ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہوتے تھے، تو ہم تقریباً دوڑتے ہوئے (تیزی سے) چلتے تھے“۔ راوی بیان کرتے ہیں کہ پھر لوگ آئے اور انہوں نے تیزی سے چلنا شروع کیا اور زیاد نے بھی تیزی سے چلنا شروع کیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 3043]

3044

Sahih Ibn Hibban #3044

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ عُيَيْنَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ ، قَالَ : لَقَدْ رَأَيْتُنَا وَأَنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ،يَكَادُ أَنْ يُرْمَلَ بِالْجَنَائِزِ رَمَلا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ مجھے اپنے بارے میں یہ بات یاد ہے کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا اور جنازوں کے ساتھ اس طرح چلا جاتا تھا جیسے دوڑا جاتا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 3044]

3045

Sahih Ibn Hibban #3045

أَخْبَرَنَا حَامِدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شُعَيْبٍ الْبَلْخِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَبَا بَكْرٍ ، وَعُمَرَ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِمَايَمْشُونَ أَمَامَ الْجَنَازَةِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سالم اپنے والد (سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما) کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو جنازے کے آگے چلتے ہوئے دیکھا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 3045]

3046

Sahih Ibn Hibban #3046

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ النَّرْسِيُّ ، وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْكُوفِيُّ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَبَا بَكْرٍ ، وَعُمَرَ كَانُوايَمْشُونَ أَمَامَ الْجَنَازَةِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سالم اپنے والد (سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما) کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ جنازے کے آگے چلا کرتے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 3046]

3047

Sahih Ibn Hibban #3047

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ الْفَارِسِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ ، غَيْرَ مَرَّةٍ أَشْهَدُ لَكَ عَلَيْهِ قَالَ : أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَبَا بَكْرٍ ، وَعُمَرَ يَمْشُونَ أَمَامَ الْجَنَازَةِ "، فَقِيلَ لِسُفْيَانَ : فِيهِ " وَعُثْمَانَ ؟ " قَالَ : لا أَحْفَظُهُ ، قِيلَ لَهُ : فَإِنَّ بَعْضَ النَّاسِ لا يَقُولُهُ إِلا عَنْ سَالِمٍ ، فَقَالَ : حَدَّثَنَاهُ الزُّهْرِيُّ غَيْرَ مَرَّةٍ أَشْهَدُ لَكَ عَلَيْهِ ، وَقِيلَ لَهُ : فَإِنَّ ابْنَ جُرَيْجٍ ، يَقُولُهُ كَمَا تَقُولُهُ ، وَيَزِيدُ فِيهِ عُثْمَانَ ، فَقَالَ سُفْيَانُ : لَمْ أَسْمَعْهُ ذَكَرَ عُثْمَانَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سالم اپنے والد (سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما) کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو جنازے کے آگے چلتے ہوئے دیکھا ہے۔ سفیان نامی راوی سے کہا گیا: روایت میں یہ الفاظ ہیں اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو بھی دیکھا ہے، تو انہوں نے جواب دیا: مجھے یہ الفاظ یاد نہیں ہیں۔ ان سے کہا گیا: بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ یہ روایت سالم سے منقول ہے، تو انہوں نے بتایا: زہری نے یہ روایت کئی مرتبہ ہمیں بیان کی ہے اور میں تمہارے سامنے گواہی دے کر یہ بات کہتا ہوں۔ ان سے کہا گیا: ابن جریج اس روایت کو اسی طرح بیان کرتے ہیں جس طرح آپ بیان کرتے ہیں، لیکن وہ اس میں سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کا ذکر بھی کرتے ہیں، تو سفیان نے کہا: میں نے انہیں سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کا ذکر کرتے ہوئے نہیں سنا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 3047]

3048

Sahih Ibn Hibban #3048

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ الْكَلاعِيُّ بِحِمْصَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ كَانَيَمْشِي بَيْنَ يَدَيِ الْجَنَازَةِ ، قَالَ : وَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَمْشِي بَيْنَ يَدَيْهَا ، وَأَبَا بَكْرٍ ، وَعُمَرَ ، وَعُثْمَانَ "، قَالَ الزُّهْرِيُّ : وَكَذَلِكَ السُّنَّةُ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سالم بن عبداللہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما جنازے کے آگے چلا کرتے تھے اور یہ بات بیان کرتے تھے کہ: ”نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ بھی جنازے کے آگے چلا کرتے تھے۔“ امام زہری رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ سنت بھی یہی ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 3048]

3049

Sahih Ibn Hibban #3049

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ الثَّقَفِيُّ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ حَيَّةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : الرَّاكِبُ فِي الْجَنَازَةِ خَلْفَ الْجَنَازَةِ ، وَالْمَاشِي حَيْثُ شَاءَ مِنْهَا ، وَالطِّفْلُ يُصَلَّى عَلَيْهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جنازے کے ساتھ سوار ہو کر چلنے والا جنازے کے پیچھے چلے گا اور پیدل چلنے والا جہاں چاہے گا چلے گا اور (نابالغ) بچے کی نمازِ جنازہ ادا کی جائے گی۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 3049]

3050

Sahih Ibn Hibban #3050

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مِقْسَمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، إِذْ مَرَّتْ بِنَا جَنَازَةٌ ، فَقَامَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَلَمَّا ذَهَبْنَا لِنَحْمِلَ ، إِذَا هِيَ جَنَازَةُ يَهُودِيٍّ ، قَالَ : إِنَّلِلْمَوْتِ فَزَعًا ، فَإِذَا رَأَيْتُمْ جَنَازَةً فَقُومُوا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، ایک جنازہ ہمارے پاس سے گزرا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس کے لیے کھڑے ہو گئے، جب ہم اسے کندھا دینے کے لیے آگے بڑھے، تو وہ ایک یہودی کا جنازہ تھا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”موت کی مخصوص گھبراہٹ ہوتی ہے، جب تم جنازے کو دیکھا کرو، تو کھڑے ہو جایا کرو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 3050]

3051

Sahih Ibn Hibban #3051

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ الرَّمَادِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : إِذَا رَأَيْتُمُ الْجَنَازَةَ ، فَقُومُوا حَتَّى تُخَلِّفَكُمْ أَوْ تُوضَعَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جب تم جنازے کو دیکھو تو کھڑے ہو جاؤ، یہاں تک کہ وہ آگے گزر جائے یا اسے (زمین پر) رکھ دیا جائے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 3051]

3052

Sahih Ibn Hibban #3052

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ الْعَدَوِيِّ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : إِذَا رَأَيْتُمُ الْجَنَازَةَ فَقُومُوا لَهَا حَتَّى تُخَلِّفَكُمْ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عامر بن ربیعہ عدوی رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جب تم جنازے کو دیکھو، تو اس کے لیے کھڑے ہو جاؤ، یہاں تک کہ وہ آگے گزر جائے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 3052]

3053

Sahih Ibn Hibban #3053

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْمُقْرِئُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي رَبِيعَةُ بْنُ سَيْفٍ الْمَعَافِرِيُّ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ : سَأَلَ رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ،تَمُرُّ بِنَا جَنَازَةُ الْكَافِرِ أَفَنَقُومُ لَهَا ؟ قَالَ : نَعَمْ فَقُومُوا لَهَا ، فَإِنَّكُمْ لَسْتُمْ تَقُومُونَ لَهَا ، إِنَّمَا تَقُومُونَ إِعْظَامًا لِلَّذِي يَقْبِضُ الأَرْوَاحَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا، اس نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہمارے پاس سے بعض اوقات کسی کافر کا جنازہ بھی گزرتا ہے، تو کیا ہم اس کے لیے بھی کھڑے ہو جائیں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جی ہاں! تم اس کے لیے کھڑے ہو جاؤ، کیونکہ تم اس میت کے لیے کھڑے نہیں ہو رہے، بلکہ تم اس کے احترام میں کھڑے ہو رہے ہو جو روح کو قبض کرتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 3053]

3054

Sahih Ibn Hibban #3054

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الأَنْصَارِيُّ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ وَاقِدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ الأَنْصَارِيِّ ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ، عَنْ مَسْعُودِ بْنِ الْحَكَمِ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَيَقُومُ فِي الْجَنَازَةِ ، ثُمَّ جَلَسَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا علی بن ابو طالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: پہلے (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ معمول تھا) آپ صلی اللہ علیہ وسلم جنازے کو دیکھ کر کھڑے ہو جاتے تھے (بعد میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ معمول اختیار کیا) کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے رہتے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 3054]

3055

Sahih Ibn Hibban #3055

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ وَاقِدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ مَسْعُودِ بْنِ الْحَكَمِ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، قَالَ : قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْجَنَائِزِ حَتَّى تُوضَعَ ، ثُمَّ قَعَدَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جنازے کو دیکھ کر کھڑے ہو جاتے تھے، یہاں تک کہ جب اسے (زمین پر) رکھ دیا جاتا تھا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھتے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 3055]

3056

Sahih Ibn Hibban #3056

أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ سِنَانٍ الْقَطَّانُ بِوَاسِطَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاءِ بْنِ كُرَيْبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ : حَدَّثَنَا وَاقِدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ ، قَالَ : شَهِدْتُ جَنَازَةً فِي بَنِي سَلِمَةَ ، فَقُمْتُ ، فَقَالَ لِي نَافِعُ بْنُ جُبَيْرٍ ، اجْلِسْ ، فَإِنِّي سَأُخْبِرُكَ فِي هَذَا بِثَبْتٍ ، حَدَّثَنِي مَسْعُودُ بْنُ الْحَكَمِ ، أَنَّهُ سَمِعَ عَلِيًّا ، بِرَحْبَةِ الْكُوفَةِ يَقُولُ لِلنَّاسِ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَيَأْمُرُنَا بِالْقِيَامِ فِي الْجَنَازَةِ ، ثُمَّ جَلَسَ بَعْدَ ذَلِكَ ، وَأَمَرَ بِالْجُلُوسِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

واقد بن عمرو بیان کرتے ہیں کہ میں بنو سلمہ کے محلے میں ایک جنازے میں شریک ہوا، میں کھڑا ہو گیا تو نافع بن جبیر نے مجھ سے کہا کہ تم بیٹھ جاؤ، کیونکہ میں تمہیں اس بارے میں ایک مستند روایت سناتا ہوں، مسعود بن حکم نے مجھے یہ حدیث بیان کی ہے کہ انہوں نے کوفہ کے میدان میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو لوگوں سے یہ کہتے ہوئے سنا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ”ہمیں جنازے کے لیے قیام کرنے کا پہلے حکم دیا تھا، اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم (جنازے کو دیکھ کر) بیٹھے رہتے تھے اور (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بھی) بیٹھے رہنے کا حکم دیا“۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 3056]

3057

Sahih Ibn Hibban #3057

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِيهِ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ،إِذَا دُعِيَ إِلَى جَنَازَةٍ سَأَلَ عَنْهَا ، فَإِنْ أُثْنِيَ عَلَيْهَا خَيْرًا قَامَ فَصَلَّى ، وَإِنْ أُثْنِيَ عَلَيْهَا شَرًّا قَالَ لأَهْلِهَا : شَأْنُكُمْ بِهَا " ، وَلَمْ يُصَلِّ عَلَيْهَا، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : تَرْكُ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى مَنْ وَصَفْنَا نَعَتَهُ ، كَانَ ذَلِكَ قَصْدَ التَّأْدِيبِ مِنْهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لأُمَّتِهِ ، كَيْلا يَرْتَكِبُوا مِثْلَ ذَلِكَ الْفِعْلِ ، لا أَنَّ الصَّلاةَ غَيْرُ جَائِزَةٍ عَلَى مَنْ أَتَى مِثْلَ مَا أَتَى مَنْ لَمْ يُصَلِّ عَلَيْهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن ابی قتادہ اپنے والد (سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ) کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو کسی جنازے (کی نماز پڑھنے کے لیے) بلایا جاتا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بارے میں دریافت فرماتے تھے، اگر اس کی اچھی تعریف بیان کی جاتی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی نماز جنازہ ادا کر لیتے تھے اور اگر اس کی برائی بیان کی جاتی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے گھر والوں سے فرماتے تھے: ”اسے تم خود سنبھال لو“، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی نماز جنازہ ادا نہیں کرتے تھے۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کی نماز جنازہ ادا نہیں کی تھی جس کی صفت ہم نے ذکر کی ہے۔ اس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا مقصد یہ تھا کہ آپ اپنی امت کو اس حوالے سے ادب سکھائیں تاکہ وہ اس فعل کے ارتکاب سے بچیں۔ اس سے یہ مراد نہیں ہے کہ ایسے شخص کی نماز جنازہ ادا کرنا جائز ہی نہیں ہوتا جس میں وہ خاصیت پائی جاتی ہو جس خامی کے حامل فرد کی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز جنازہ ادا نہیں کی تھی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 3057]

3058

Sahih Ibn Hibban #3058

أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ سِنَانٍ الْقَطَّانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِجِنَازَةٍ لِيُصَلِّيَ عَلَيْهَا ، فَقَالَ : أَعَلَيْهِ دَيْنٌ ؟ " قَالُوا : نَعَمْ دِينَارَيْنِ ، قَالَ : " تَرَكَ لَهُمَا وَفَاءً ؟ " قَالُوا : لا ، قَالَ : " فَصَلُّوا عَلَى صَاحِبِكُمْ " قَالَ أَبُو قَتَادَةَ : هُمَا إِلَيَّ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَصَلَّى عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن ابوقتادہ رضی اللہ عنہما اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں جنازہ لایا گیا، تاکہ اس کی نماز جنازہ ادا کی جائے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”کیا اس کے ذمے قرض ہے؟“ لوگوں نے جواب دیا: جی ہاں، دو دینار ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”کیا اس نے اس کی ادائیگی کے لیے کوئی چیز چھوڑی ہے؟“ لوگوں نے جواب دیا: جی نہیں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اپنے ساتھی کی نماز جنازہ ادا کر لو۔“ سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ان دونوں کی ادائیگی میرے ذمے ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی نماز جنازہ ادا فرمائی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 3058]

3059

Sahih Ibn Hibban #3059

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ بْنِ رِبْعِيٍّ ، قَالَ : أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، بِجِنَازَةٍ لِيُصَلِّيَ عَلَيْهَا ، وَقَالَ : عَلَيْهِ دَيْنٌ ؟ " قَالُوا : عَلَيْهِ دِينَارَانِ ، فَقَالَ : " صَلُّوا عَلَى صَاحِبِكُمْ " قَالَ أَبُو قَتَادَةَ : إِلَيَّ يَا رَسُولَ اللَّهِ هُمَا عَلَيَّ ، فَتَقَدَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى عَلَيْهِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوقتادہ بن ربعی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک جنازہ لایا گیا، تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی نماز جنازہ ادا کریں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”کیا اس کے ذمے قرض ہے؟“ لوگوں نے عرض کی: اس کے ذمے دو دینار قرض ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اپنے ساتھی کی نماز جنازہ ادا کر لو۔“ سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ان دونوں (دیناروں) کی ادائیگی میرے ذمے ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم آگے بڑھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی نماز جنازہ ادا کی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 3059]

3060

Sahih Ibn Hibban #3060

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ رَجُلا أُتِيَ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، لِيُصَلِّيَ عَلَيْهِ ، فَقَالَ : صَلُّوا عَلَى صَاحِبِكُمْ فَإِنَّ عَلَيْهِ دَيْنًا " ، فَقَالَ أَبُو قَتَادَةَ : أَنَا أَكْفُلُ بِهِ قَالَ : " بِالْوَفَاءِ ؟ " قَالَ : بِالْوَفَاءِ ، فَصَلَّى عَلَيْهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَكَانَ عَلَيْهِ ثَمَانِيَةَ عَشَرَ ، أَوْ سَبْعَةَ عَشَرَ دِرْهَمًا"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبداللہ بن ابی قتادہ اپنے والد (رضی اللہ عنہ) کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: ایک شخص (کی میت) کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لایا گیا، تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی نماز جنازہ ادا کریں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم لوگ اپنے ساتھی کی نماز جنازہ ادا کر لو، کیونکہ اس کے ذمے قرض ہے“، تو سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے عرض کی: میں اس کا ذمہ دار بنتا ہوں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”پوری ادائیگی کا؟“ انہوں نے عرض کی: پوری ادائیگی کا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کی نماز جنازہ ادا کی۔ راوی بیان کرتے ہیں: اس شخص کے ذمے اٹھارہ یا شاید سترہ درہم قرض تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 3060]

3061

Sahih Ibn Hibban #3061

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : نَفْسُ الْمُؤْمِنِ مُعَلَّقَةٌ مَا كَانَ عَلَيْهِ دَيْنٌ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”مومن کی جان اس وقت تک لٹکی رہتی ہے جب تک اس کے ذمے قرض رہتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 3061]

3062

Sahih Ibn Hibban #3062

أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ سَلْمٍ الأَصْبَهَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِصَامِ بْنِ يَزِيدَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ،إِذَا ذَكَرَ السَّاعَةَ احْمَرَّتْ وَجْنَتَاهُ ، وَاشْتَدَّ غَضَبُهُ ، وَعَلا صَوْتُهُ كَأَنَّهُ مُنْذِرُ جَيْشٍ ، قَالَ : صُبِّحْتُمْ مُسِّيتُمْ " قَالَ : وَكَانَ يَقُولُ : " أَنَا أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ ، وَمَنْ تَرَكَ مَالا ، فَلأَهْلِهِ ، وَمَنْ تَرَكَ دَيْنًا أَوْ ضَيَاعًا ، فَعَلَيَّ وَإِلَيَّ ، فَأَنَا أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

امام جعفر صادق رحمہ اللہ اپنے والد (امام باقر رحمہ اللہ) کے حوالے سے سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب قیامت کا ذکر کرتے تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے رخسار سرخ ہو جایا کرتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا جوش زیادہ ہو جاتا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز بلند ہو جاتی تھی، یوں جیسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کسی لشکر سے ڈراتے ہوئے یہ فرما رہے ہوں کہ ”وہ عنقریب تم پر حملہ کر دے گا۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ فرمایا کرتے تھے: ”میں مومنین کی جان سے زیادہ ان کے قریب ہوں، جو شخص مال چھوڑ کر جائے گا وہ اس کے اہل خانہ کو ملے گا اور جو شخص قرض یا بال بچے چھوڑ کر جائے گا اس کی ادائیگی میرے ذمے ہو گی یا وہ میرے سپرد ہوں گے، کیونکہ میں مومنین کے زیادہ قریب ہوں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 3062]

3063

Sahih Ibn Hibban #3063

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : كَانَ الرَّجُلُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا مَاتَ وَعَلَيْهِ دَيْنٌ سَأَلَ : هَلْ لَهُ وَفَاءٌ ؟ " فَإِذَا قِيلَ : نَعَمْ ، صَلَّى عَلَيْهِ ، وَإِذَا قِيلَ : كَلا ، قَالَ : " صَلُّوا عَلَى صَاحِبِكُمْ " فَلَمَّا فَتْحَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْفُتُوحَ قَالَ : " أَنَا أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ ، مَنْ تَرَكَ دَيْنًا فَعَلَيَّ ، وَمَنْ تَرَكَ مَالا فَلِلْوَارِثِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں جب کسی شخص کا انتقال ہوتا اور اس کے ذمے قرض ہوتا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دریافت کرتے تھے: ”کیا اس نے قرض کی ادائیگی کے لیے کچھ چھوڑا ہے؟“ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بتایا جاتا: جی ہاں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی نماز جنازہ ادا کر لیتے تھے اور اگر یہ بتایا جاتا: جی نہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ فرماتے تھے: ”تم لوگ اپنے ساتھی کی نماز جنازہ ادا کر لو۔“ جب اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو فتوحات عطا کیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میں مومنین کی اپنی جان سے زیادہ ان کے قریب ہوں، جو شخص قرض چھوڑ کر جائے گا، تو اس کی ادائیگی میرے ذمے ہو گی اور جو شخص مال چھوڑ کر جائے گا، تو وہ اس کے وارث کو ملے گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 3063]

3064

Sahih Ibn Hibban #3064

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَلا يُصَلِّي عَلَى رَجُلٍ مَاتَ وَعَلَيْهِ دَيْنٌ ، فَأُتِيَ بِمَيِّتٍ فَقَالَ : أَعَلَيْهِ دَيْنٌ ؟ " فَقَالُوا : نَعَمْ دِينَارَانِ ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " صَلُّوا عَلَى صَاحِبِكُمْ " ، فَقَالَ أَبُو قَتَادَةَ : هُمَا عَلَيَّ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَصَلَّى عَلَيْهِ ، فَلَمَّا فَتْحَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ قَالَ : " أَنَا أَوْلَى بِكُلِّ مُؤْمِنٍ مِنْ نَفْسِهِ ، فَمَنْ تَرَكَ دَيْنًا فَعَلَيَّ وَمَنْ تَرَكَ مَالا فَلِوَرَثَتِهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایسے شخص کی نماز جنازہ ادا نہیں کرتے تھے جس کا ایسی حالت میں انتقال ہوا ہو کہ اس کے ذمے قرض ہو، ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک میت لائی گئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”کیا اس کے ذمے قرض ہے؟“ لوگوں نے جواب دیا: جی ہاں، دو دینار ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم لوگ اپنے ساتھی کی نماز جنازہ ادا کر لو۔“ تو سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ان کی ادائیگی میں اپنے ذمے لیتا ہوں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی نماز جنازہ ادا کی، جب اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو فتوحات عطا کر دیں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میں ہر مومن کی جان سے زیادہ اس کے قریب ہوں، تو جو شخص قرض چھوڑ کر جائے گا اس کی ادائیگی میرے ذمے ہو گی اور جو شخص مال چھوڑ کر جائے گا وہ اس کے ورثاء کو ملے گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 3064]

3065

Sahih Ibn Hibban #3065

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ الْقُطَيْعِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : وَاللَّهِمَا صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى سَهْلِ بْنِ بَيْضَاءَ إِلا فِي الْمَسْجِدِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: اللہ کی قسم! اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا سہل بن بیضاء رضی اللہ عنہ کی نماز جنازہ مسجد میں ہی ادا کی تھی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 3065]

3066

Sahih Ibn Hibban #3066

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي الضَّحَّاكُ بْنُ عُثْمَانَ ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، أَنَّ عَائِشَةَ ، لَمَّا تُوُفِّيَ سَعْدٌ ، قَالَتْ : ادْخُلُوا بِهِ الْمَسْجِدَ حَتَّى أُصَلِّيَ عَلَيْهِ ، فَأُنْكِرَ ذَلِكَ عَلَيْهَا ، فَقَالَتْ : وَاللَّهِ لَقَدْصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى ابْنِ بَيْضَاءَ فِي الْمَسْجِدِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں یہ بات منقول ہے: جب سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا، تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: تم ان کی میت کو مسجد میں لے آؤ، تاکہ میں بھی ان کی نماز جنازہ ادا کر لوں۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی اس بات پر انکار کیا گیا، تو انہوں نے فرمایا: اللہ کی قسم! اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا سہل بن بیضاء رضی اللہ عنہ کی نماز جنازہ مسجد میں ادا کی تھی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 3066]