Muslim99Muslim99

Sahih Ibn Hibban · Book 27 · Chapter 2

Book of Sales

Hadith 2993–3032

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

2993

Sahih Ibn Hibban #2993

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ السَّامِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : أَكْثِرُوا ذِكْرَ هَاذِمِ اللَّذَّاتِ ، فَمَا ذَكَرَهُ عَبْدٌ قَطُّ وَهُوَ فِي ضِيقٍ إِلا وَسَعَهُ عَلَيْهِ ، وَلا ذَكَرُهُ وَهُوَ فِي سَعَةٍ إِلا ضَيِّقَهُ عَلَيْهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”لذتوں کو ختم کرنے والی چیز کو کثرت سے یاد کرو، جو بھی بندہ تنگی کے عالم میں اسے یاد کرتا ہے، یہ اس کے لیے کشادہ ہو جاتی ہے اور جو بھی شخص گنجائش کے عالم میں اسے یاد کرتا ہے، یہ اس کے لیے تنگی کر دیتی ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 2993]

2994

Sahih Ibn Hibban #2994

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَوْنٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَكْثِرُوا ذِكْرَ هَاذِمِ اللَّذَّاتِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”لذتوں کو ختم کرنے والی چیز (یعنی موت) کو کثرت سے یاد کرو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 2994]

2995

Sahih Ibn Hibban #2995

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْجُنَيْدِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي رِزْمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يُكْثِرُ أَنْ يَقُولَ : أَكْثِرُوا مِنْ ذِكْرِ هَاذِمِ اللَّذَّاتِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اکثر یہ ارشاد فرمایا کرتے تھے: ”لذتوں کو ختم کرنے والی چیز کو کثرت سے یاد کرو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 2995]

2996

Sahih Ibn Hibban #2996

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بِسْطَامٍ بِالأُبُلَّةِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي السَّفَرِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ : مَرَّ بِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَنَا وَأُمِّي نُصْلِحُ خُصًّا لَنَا ، فَقَالَ : مَا هَذَا يَا عَبْدَ اللَّهِ ؟ " قَالَ : قُلْتُ : خُصٌّ لَنَا نُصْلِحُهُ ، فَقَالَ : " الأَمْرُ أَسْرَعُ مِنْ ذَلِكَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس سے گزرے، اس وقت میں اور میری والدہ اپنے لیے چھپر بنا رہے تھے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”اے عبداللہ! یہ کیا ہے؟“ میں نے عرض کی: ہم اپنے چھپر کو درست کر رہے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت اس سے زیادہ تیزی سے آ جائے گی۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 2996]

2997

Sahih Ibn Hibban #2997

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي السَّفَرِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ : مَرَّ بِنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَنَحْنُ نُصْلِحُ خُصًّا لَنَا ، فَقَالَ : مَا هَذَا ؟ " فَقُلْنَا : خُصٌّ لَنَا وَهِيَ ، فَنَحْنُ نُصْلِحُهُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا أَرَى الأَمْرَ إِلا أَعْجَلَ مِنْ ذَلِكَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس سے گزرے، ہم اس وقت اپنا چھپر درست کر رہے تھے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”یہ کیا ہے؟“ ہم نے عرض کی: یہ ہمارا چھپر ہے اور ہم اسے ٹھیک کر رہے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میں یہ سمجھتا ہوں قیامت اس سے بھی زیادہ جلدی آ جائے گی۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 2997]

2998

Sahih Ibn Hibban #2998

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْجُنَيْدِ بِبُسْتَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ ، أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : هَذَا ابْنُ آدَمَ ، وَهَذَا أَجَلُهُ " وَوَضَعَ يَدَهُ عِنْدَ قَفَاهُ ، ثُمَّ بَسَطَ يَدَهُ ، فَقَالَ : " وَثَمَّ أَمَلُهُ وَثَمَّ أَمَلُهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”یہ آدم کا بیٹا ہے اور یہ اس کی موت ہے۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دستِ مبارک اپنی گدی پر رکھا اور پھر اپنے ہاتھ کو آگے لائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اور یہاں اس کی امید ہے اور یہاں اس کی امید ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 2998]

2999

Sahih Ibn Hibban #2999

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ ، قَالَ : أَتَيْنَا خَبَّابًا نَعُودُهُ ، وَقَدِ اكْتَوَى فِي بَطْنِهِ سَبْعًا ، وَقَالَ : لَوْلا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَنَهَى أَنْ نَدْعُوَ بِالْمَوْتِلَدَعَوْتُ بِهِ ، ثُمَّ ذَكَرَ مَنْ مَضَى مِنْ أَصْحَابِهِ ، أَنَّهُمْ مَضَوْا لَمْ يَأْكُلُوا مِنْ أُجُورِهِمْ شَيْئًا ، وَإِنَّمَا بَقِينَا بَعْدَهُمْ حَتَّى نِلْنَا مِنَ الدُّنْيَا مَا لا يَدْرِي أَحَدُنَا مَا يَصْنَعُ بِهِ إِلا أَنْ يُنْفِقَهُ فِي التُّرَابِ ، وَإِنَّ الْمُسْلِمَ لَيُؤْجَرُ فِي كُلِّ شَيْءٍ إِلا نَفَقَتَهُ فِي التُّرَابِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

قیس بن ابوحازم بیان کرتے ہیں: ہم لوگ سیدنا خباب رضی اللہ عنہ کی عیادت کرنے کے لیے ان کی خدمت میں حاضر ہوئے، انہوں نے اپنے پیٹ پر سات داغ لگوائے تھے۔ انہوں نے یہ بات ارشاد فرمائی: اگر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع نہ کیا ہوتا کہ ہم موت کی دعا کریں، تو میں اس کے لیے دعا کرتا۔ پھر انہوں نے اپنے (دنیا سے) رخصت ہو جانے والے ساتھیوں کا ذکر کیا کہ یہ حضرات تشریف لے گئے اور انہوں نے اپنے اجر میں سے (دنیاوی فائدے کے طور پر) کچھ بھی نہیں پایا، اور ان کے بعد ہم باقی رہ گئے اور ہم نے دنیا بھی حاصل کی، ہم میں سے کسی ایک کو یہ سمجھ نہیں آتی تھی کہ وہ اس کے ساتھ کیا کرے؟ سوائے اس کے کہ وہ اس (مال و دولت کو) مٹی میں خرچ کرے (یعنی تعمیرات کرے) اور ”مسلمان کو اس کی ہر چیز میں اجر دیا جائے گا، سوائے اس چیز کے، جو اس نے مٹی میں خرچ کیا ہو (یعنی تعمیرات پر خرچ کیا ہو)۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 2999]

3000

Sahih Ibn Hibban #3000

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو مَرْوَانَ الْعُثْمَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : لا يَتَمَنَّيَنَّ أَحَدُكُمُ الْمَوْتَ ، إِمَّا مُحْسِنًا فَلَعَلَّهُ يَزْدَادُ خَيْرًا ، وَإِمَّا مُسِيئًا فَلَعَلَّهُ يَسْتَعْتِبُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”تم میں سے کوئی بھی شخص موت کی آرزو ہرگز نہ کرے، کیونکہ اگر وہ نیک ہو گا، تو ہو سکتا ہے اس کی بھلائی میں اضافہ ہو اور اگر وہ گنہگار ہو گا، تو ہو سکتا ہے وہ توبہ کر لے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 3000]

3001

Sahih Ibn Hibban #3001

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لا يَتَمَنَّيَنَّ أَحَدُكُمُ الْمَوْتَ لِضُرٍّ نَزَلَ بِهِ ، فَإِنْ كَانَ لا بُدَّ مُتَمَنِّيًا ، فَلْيَقُلِ : اللَّهُمَّ أَحْيِنِي مَا كَانَتِ الْحَيَاةُ خَيْرًا لِي ، وَتَوَفَّنِي مَا كَانَتِ الْوَفَاةُ خَيْرًا لِي """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”تم میں سے کوئی بھی شخص کسی پیش آنے والی پریشانی کی وجہ سے موت کی آرزو ہرگز نہ کرے، اگر اس نے ضرور یہ آرزو کرنی ہو، تو پھر وہ یہ کہے: «اللَّهُمَّ أَحْيِنِي مَا كَانَتِ الْحَيَاةُ خَيْرًا لِي، وَتَوَفَّنِي إِذَا كَانَتِ الْوَفَاةُ خَيْرًا لِي» ”اے اللہ! جب تک زندگی میرے حق میں بہتر ہو، تو مجھے زندہ رکھ اور جب موت میرے حق میں بہتر ہو، تو مجھے موت دے دینا۔“” [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 3001]

3002

Sahih Ibn Hibban #3002

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ السَّخْتِيَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ خَلادٍ الْبَاهِلِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى الْقَطَّانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو عُثْمَانَ ، عَنْ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اقْرَؤُوا عَلَى مَوْتَاكُمْ يس "، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : قَوْلُهُ : " اقْرَؤُوا عَلَى مَوْتَاكُمْ يس " أَرَادَ بِهِ مَنْ حَضَرَتْهُ الْمَنِيَّةُ لا أَنَّ الْمَيِّتَ يُقْرَأُ عَلَيْهِ وَكَذَلِكَ قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَقِّنُوا مَوْتَاكُمْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا معقل بن یسار رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”اپنے قریب المرگ لوگوں پر سورہ یسین کی تلاوت کرو۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان: ”تم اپنے مردوں پر اسے پڑھو“ اس سے مراد یہ ہے کہ جس شخص کا آخری وقت قریب آ چکا ہو اس پر سورہ یسین پڑھو، اس کی وجہ یہ ہے کہ مردوں پر تلاوت نہیں کی جاتی، اسی طرح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان: ”تم اپنے مردوں کو «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰه» کی تلقین کرو“ (یعنی قریب المرگ لوگوں کو اس کی تلقین کرو)۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 3002]

3003

Sahih Ibn Hibban #3003

أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ الأَنْمَاطِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُمَارَةُ بْنُ غَزِيَّةَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عُمَارَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَقِّنُوا مَوْتَاكُمْ قَوْلَ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”اپنے قریب المرگ لوگوں کو «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللهُ» ”اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں“ پڑھنے کی تلقین کرو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 3003]

3004

Sahih Ibn Hibban #3004

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الشَّرْقِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الذُّهْلِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْفَارِسِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الثَّوْرِيُّ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ هِلالِ بْنِ يَسَافٍ ، عَنِ الأَغَرِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَقِّنُوا مَوْتَاكُمْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ ، فَإِنَّهُ مَنْ كَانَ آخِرُ كَلِمَتِهِ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ عِنْدَ الْمَوْتِ ، دَخَلَ الْجَنَّةَ يَوْمًا مِنَ الدَّهْرِ ، وَإِنْ أَصَابَهُ قَبْلَ ذَلِكَ مَا أَصَابَهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”اپنے قریب المرگ لوگوں کو «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ» ”اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں“ پڑھنے کی تلقین کرو، کیونکہ جس شخص کا مرنے کے قریب آخری کلمہ «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ» ”اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں“ ہو وہ آخر کار جنت میں داخل ہو گا اگرچہ اس سے پہلے اسے جس قسم کے بھی (عذاب کا سامنا کرنا پڑے)۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 3004]

3005

Sahih Ibn Hibban #3005

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْعَبْدِيُّ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِذَا حَضَرْتُمُ الْمَيِّتَ ، فَقُولُوا خَيْرًا ، فَإِنَّ الْمَلائِكَةَ تُؤَمِّنُ عَلَى مَا تَقُولُونَ " ، قَالَتْ : فَلَمَّا مَاتَ أَبُو سَلَمَةَ ، قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا أَقُولُ ؟ قَالَ : " قُولِي : اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ ، وَأَعْقِبْنَا عُقْبَى صَالِحَةً " ، قَالَتْ : فَأَعْقَبَنِي اللَّهُ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی: ”جب تم کسی میت کے پاس جاؤ، تو اچھی بات کہو، کیونکہ تم لوگ جو کہتے ہو فرشتے اس پر آمین کہتے ہیں۔“ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ جب (میرے سابقہ شوہر) سیدنا ابوسلمہ رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا، تو میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اب میں کیا پڑھوں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم یہ کہو: «اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَنَا وَلَهُ وَأَعْقِبْنِي مِنْهُ عُقْبَى حَسَنَةً» ”اے اللہ! تو اس کی مغفرت کر اور ہمیں اس کی جگہ اچھا بدل عطا کر۔““ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: تو اللہ تعالیٰ نے مجھے ان کی جگہ سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم (بطور شوہر) عطا کر دیے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 3005]

3006

Sahih Ibn Hibban #3006

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، عَنْ أَبِي يَحْيَى بْنِ سُلَيْمَانَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ السَّبَّاقِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : كُنَّا نَعْزِمُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ،إِذَا حُضِرَ الْمَيِّتُ ، آذَنَّاهُ ، فَحَضَرَهُ وَاسْتَغْفَرَ لَهُ حَتَّى يُقْبَضَ " ، فَإِذَا قُبِضَ انْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَمَنْ مَعَهُ ، فَرُبَّمَا طَالَ ذَلِكَ مِنْ حَبْسِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَلَمَّا خَشِينَا مَشَقَّةَ ذَلِكَ ، قَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ لِبَعْضٍ : وَاللَّهِ لَوْ كُنَّا لا نُؤْذِنُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، بِأَحَدٍ حَتَّى يُقْبَضَ ، فَإِذَا قُبِضَ آذَنَّاهُ ، فَلَمْ يَكُنْ فِي ذَلِكَ مَشَقَّةٌ عَلَيْهِ وَلا حَبْسٌ ، قَالَ : فَفَعَلْنَا فَكُنَّا لا نُؤْذِنُهُ إِلا بَعْدَ أَنْ يَمُوتَ ، " فَيَأْتِيهِ فَيُصَلِّي عَلَيْهِ وَيَسْتَغْفِرُ لَهُ ، فَرُبَّمَا انْصَرَفَ عِنْدَ ذَلِكَ ، وَرُبَّمَا مَكَثَ حَتَّى يُدْفَنَ الْمَيِّتُ " ، قَالَ : وَكُنَّا عَلَى ذَلِكَ حِينًا ، ثُمَّ قُلْنَا : وَاللَّهِ لَوْ أَنَّا لا نُحْضِرُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَحَمَلْنَا إِلَيْهِ جَنَائِزَ مَوْتَانَا حَتَّى " يُصَلِّيَ عَلَيْهَا عِنْدَ بَيْتِهِ " ، لَكَانَ ذَلِكَ أَرْفَقَ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَيْسَرَ عَلَيْهِ فَفَعَلْنَا ذَلِكَ فَكَانَ الأَمْرُ إِلَى الْيَوْمِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ پہلے ہم لوگوں کا یہ معمول تھا کہ جب کسی شخص کا آخری وقت قریب آتا تو ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی اطلاع دے دیتے تھے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس شخص کے پاس تشریف لاتے تھے اور اس کے لیے دعائے مغفرت کرتے رہتے تھے، یہاں تک کہ جب اس کا انتقال ہو جاتا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھی واپس تشریف لے جایا کرتے تھے، بعض اوقات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو خاصی دیر رکنا پڑتا تھا، ہمیں اس حوالے سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے دشواری کا اندیشہ ہوا تو کسی نے دوسرے سے کہا: ”اللہ کی قسم! اب ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو کسی بھی شخص کے بارے میں اس وقت تک اطلاع نہیں دیں گے جب تک اس کا انتقال نہیں ہو جاتا، جب اس کا انتقال ہو جائے گا تو ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بات کی اطلاع دیں گے تاکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس حوالے سے مشقت کا سامنا نہ کرنا پڑے اور خاصی دیر تک رکنا نہ پڑے۔“ راوی کہتے ہیں کہ ہم نے ایسا ہی کیا، اس کے بعد ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو متعلقہ شخص کے انتقال کے بعد اطلاع دینے لگے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس شخص کے پاس تشریف لاتے، اس کے لیے دعائے رحمت کرتے، اس کے لیے دعائے مغفرت کرتے، بعض اوقات آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسی وقت واپس تشریف لے جاتے اور بعض اوقات آپ صلی اللہ علیہ وسلم ٹھہرے رہتے یہاں تک کہ میت کو دفن کیا جاتا۔ راوی کہتے ہیں کہ ہم ایک عرصے تک ایسا ہی کرتے رہے، پھر ہم نے سوچا: ”اللہ کی قسم! اب ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں بلوائیں گے بلکہ اپنے مردوں کے جنازے اٹھا کر لے جایا کریں گے تاکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر کے پاس ہی اس کی نماز جنازہ ادا کر لیں، یہ چیز نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے زیادہ آسانی اور سہولت کا باعث ہوگی“، تو پھر ہم نے ایسا ہی کرنا شروع کر دیا اور اس کے بعد آج تک ایسا ہی ہوتا آ رہا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 3006]

3007

Sahih Ibn Hibban #3007

أَخْبَرَنَا أَبُو عَرُوبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ بَكَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحِيمِ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ ، عَنْ وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ ، عَنْ مَعْبَدِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ ، قَالَ : كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، إِذْ طَلَعَتْ جَنَازَةٌ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مُسْتَرِيحٌ وَمُسْتَرَاحٌ مِنْهُ " ، قُلْنَا : مَا يَسْتَرِيحُ وَيُسْتَرَاحُ مِنْهُ ؟ فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْمُؤْمِنُ يَمُوتُ وَيَسْتَرِيحُ مِنْ أَوْصَابِ الدُّنْيَا وَبَلائِهَا وَمُصِيبَاتِهَا ، وَالْكَافِرُ يَمُوتُ فَيَسْتَرِيحُ مِنْهُ الْعِبَادُ وَالْبِلادُ وَالشَّجَرُ وَالدَّوَابُّ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے اسی دوران ایک جنازہ سامنے آیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”یا تو اس نے راحت حاصل کر لی ہے یا پھر اس سے راحت حاصل کر لی گئی ہے۔“ ہم نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اس نے کیا راحت حاصل کی ہو گی یا اس سے کیسے راحت حاصل کی گئی ہو گی؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جب مومن کا انتقال ہوتا ہے، تو وہ دنیا کی تکلیفوں، پریشانیوں اور مصیبتوں سے راحت حاصل کر لیتا ہے اور جب کافر کا انتقال ہوتا ہے، تو لوگ، شہر، درخت اور جانور اس سے راحت حاصل کرتے ہیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 3007]

3008

Sahih Ibn Hibban #3008

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ أَحَبَّ لِقَاءَ اللَّهِ ، أَحَبَّ اللَّهُ لِقَاءَهُ ، وَمَنْ لَمْ يُحِبَّ لِقَاءَ اللَّهِ لَمْ يُحِبَّ اللَّهُ لِقَاءَهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”جو شخص اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضری کو پسند کرتا ہے، اللہ تعالیٰ بھی اس کی حاضری کو پسند کرتا ہے اور جو شخص اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضری کو پسند نہیں کرتا، اللہ تعالیٰ بھی اس کی حاضری کو پسند نہیں کرتا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 3008]

3009

Sahih Ibn Hibban #3009

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ سُرَيْجٍ النَّقَّالُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : مَنْ أَحَبَّ لِقَاءَ اللَّهِ ، أَحَبَّ اللَّهُ لِقَاءَهُ ، وَمَنْ كَرِهَ لِقَاءَ اللَّهِ ، كَرِهَ اللَّهُ لِقَاءَهُ " ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ : إِنَّا نَكْرَهُ الْمَوْتَ ، فَذَاكَ كَرَاهِيَتُنَا لِقَاءَ اللَّهِ ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لا ، وَلَكِنَّ الْمُؤْمِنَ إِذَا حُضِرَ فَبُشِّرَ بِمَا أَمَامَهُ أَحَبَّ لِقَاءَ اللَّهِ ، وَأَحَبَّ اللَّهُ لِقَاءَهُ ، وَإِنَّ الْكَافِرَ إِذَا حُضِرَ ، فَبُشِّرَ بِمَا أَمَامَهُ كَرِهَ لِقَاءَ اللَّهِ ، وَكَرِهَ اللَّهُ لِقَاءَهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ، سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جو شخص اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضری کو پسند کرتا ہے، اللہ تعالیٰ بھی اس کی حاضری کو پسند کرتا ہے اور جو شخص اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضری کو ناپسند کرتا ہے، اللہ تعالیٰ بھی اس کی حاضری کو ناپسند کرتا ہے“، تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی: ہم تو موت کو پسند نہیں کرتے ہیں، تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ ہم اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضری کو پسند نہیں کرتے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جی نہیں! جب مومن کا آخری وقت قریب آتا ہے، تو اسے آگے (ملنے والی نعمتوں) کے بارے میں خوشخبری دی جاتی ہے، تو وہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضری کو پسند کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ بھی اس کی حاضری کو پسند کرتا ہے اور جب کافر کا آخری وقت قریب آتا ہے، تو اسے آگے (ملنے والے عذاب وغیرہ) کے بارے میں بتایا جاتا ہے، تو وہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضری کو ناپسند کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ بھی اس کی حاضری کو ناپسند کرتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 3009]

3010

Sahih Ibn Hibban #3010

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ الْبُرْسَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى ، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ أَحَبَّ لِقَاءَ اللَّهِ ، أَحَبَّ اللَّهُ لِقَاءَهُ ، وَمَنْ كَرِهَ لِقَاءَ اللَّهِ ، كَرِهَ اللَّهُ لِقَاءَهُ " ، قَالَتْ : فَقُلْتُ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، كَرَاهِيَةُ الْمَوْتِ ؟ فَكُلُّنَا نَكْرَهُ الْمَوْتَ ، قَالَ : " لَيْسَ كَذَلِكَ ، وَلَكِنَّ الْمُؤْمِنَ إِذَا بُشِّرَ بِرَحْمَةِ اللَّهِ وَرِضْوَانِهِ وَجَنَّتِهِ أَحَبَّ لِقَاءَ اللَّهِ ، وَأَحَبَّ اللَّهُ لِقَاءَهُ ، وَإِنَّ الْكَافِرَ إِذَا بُشِّرَ بِعَذَابِ اللَّهِ وَسَخَطِهِ كَرِهَ لِقَاءَ اللَّهِ ، وَكَرِهَ اللَّهُ لِقَاءَهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جو شخص اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضری کو پسند کرتا ہے اللہ تعالیٰ بھی اس کی حاضری کو پسند کرتا ہے اور جو شخص اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضری کو ناپسند کرتا ہے اللہ تعالیٰ بھی اس کی حاضری کو ناپسند کرتا ہے۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میں نے عرض کی: اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا اس سے مراد موت کو ناپسند کرنا ہے؟ ہم میں سے ہر ایک موت کو ناپسند کرتا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایسا نہیں ہے بلکہ جب مومن کو اللہ تعالیٰ کی رحمت، اس کی رضا مندی اور جنت کے حوالے سے خوشخبری دی جاتی ہے، تو وہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضری کو پسند کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ بھی اس کی حاضری کو پسند کرتا ہے اور جب کافر کو اللہ تعالیٰ کے عذاب اور اس کی ناراضگی کے بارے میں بتایا جاتا ہے، تو وہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضری کو ناپسند کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ بھی اس کی حاضری کو ناپسند کرتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 3010]

3011

Sahih Ibn Hibban #3011

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ ، عَنْ يَحْيَى الْقَطَّانِ ، عَنِ الْمُثَنَّى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ دَخَلَ فَرَأَى ابْنًا لَهُ يَرْشَحُ جَبِينُهُ ، فَقَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : يَمُوتُ الْمُؤْمِنُ بِعَرَقِ الْجَبِينِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبداللہ بن بریدہ رحمہ اللہ اپنے والد (سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں کہ وہ (گھر میں) داخل ہوئے، تو انہوں نے اپنے بیٹے کو دیکھا کہ (موت کے قریب) اس کی پیشانی سے پسینہ پھوٹ رہا تھا، تو انہوں نے بتایا: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: «الْمُؤْمِنُ يَمُوتُ بِعَرَقِ الْجَبِينِ» ”مومن کا انتقال پیشانی کے پسینے کے ہمراہ ہوتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 3011]

3012

Sahih Ibn Hibban #3012

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الأَنْصَارِيُّ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَلْحَلَةَ ، عَنْ مَعْبَدِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ بْنِ رِبْعِيٍّ ، أَنَّهُ كَانَ يُحَدِّثُ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، مُرَّ عَلَيْهِ بِجِنَازَةٍ فَقَالَ : مُسْتَرِيحٌ وَمُسْتَرَاحٌ مِنْهُ " فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَنِ الْمُسْتَرِيحُ وَالْمُسْتَرَاحُ مِنْهُ ؟ فَقَالَ : " الْعَبْدُ الْمُؤْمِنُ يَسْتَرِيحُ مِنْ نَصَبِ الدُّنْيَا وَأَذَاهَا إِلَى رَحْمَةِ اللَّهِ ، وَالْمُسْتَرَاحُ مِنْهُ الْعَبْدُ الْفَاجِرُ يَسْتَرِيحُ مِنْهُ الْعِبَادُ وَالْبِلادُ وَالشَّجَرُ وَالدَّوَابُّ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوقتادہ بن ربعی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے ایک جنازہ گزرا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”یہ راحت حاصل کرنے والا ہے یا اس سے راحت حاصل کر لی گئی ہے۔“ لوگوں نے عرض کی: کون شخص راحت حاصل کرنے والا ہے اور کون وہ ہے، جس سے راحت حاصل کر لی گئی ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مومن بندہ دنیا کی پریشانیوں اور تکلیفوں سے راحت حاصل کر کے اللہ تعالیٰ کی رحمت کی طرف چلا جاتا ہے اور جس سے راحت حاصل کی جائے وہ کافر بندہ ہے، جس سے لوگ، شہر، درخت اور جانور راحت حاصل کرتے ہیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 3012]

3013

Sahih Ibn Hibban #3013

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي الْجَوْزَاءِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : الْمُؤْمِنُ إِذَا حَضَرَهُ الْمَوْتُ حَضَرَتْهُ مَلائِكَةُ الرَّحْمَةِ ، فَإِذَا قُبِضَتْ نَفْسُهُ جُعِلَتْ فِي حَرِيرَةٍ بَيْضَاءَ ، فَيُنْطَلَقُ بِهَا إِلَى بَابِ السَّمَاءِ ، فَيَقُولُونَ : مَا وَجَدْنَا رِيحًا أَطْيَبَ مِنْ هَذِهِ ، فَيُقَالَ : دَعُوهُ يَسْتَرِيحُ ، فَإِنَّهُ كَانَ فِي غَمٍّ ، فَيُسْأَلُ مَا فَعَلَ فُلانٌ ؟ مَا فَعَلَ فُلانٌ ؟ مَا فَعَلَتْ فُلانَةُ ؟ وَأَمَّا الْكَافِرُ فَإِذَا قُبِضَتْ نَفْسُهُ ، وَذُهِبَ بِهَا إِلَى بَابِ الأَرْضِ ، يَقُولُ خَزَنَةُ الأَرْضِ : مَا وَجَدْنَا رِيحًا أَنْتَنَ مِنْ هَذِهِ ، فَتَبْلُغُ بِهَا إِلَى الأَرْضِ السُّفْلَى """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جب مومن کا آخری وقت قریب آتا ہے، تو رحمت کے فرشتے اس کے پاس آتے ہیں، جب اس کی جان قبض کر لی جاتی ہے، تو اسے سفید رنگ کے کپڑے میں رکھا جاتا ہے، فرشتے اسے لے کر آسمان کے دروازے کی طرف جاتے ہیں، وہ (یعنی پہلے آسمان کے فرشتے) یہ کہتے ہیں: ہم نے اس سے زیادہ پاکیزہ بو کبھی محسوس نہیں کی، تو یہ کہا جاتا ہے: اسے چھوڑ دو، اس نے راحت حاصل کر لی ہے، کیونکہ پہلے یہ غم (کی دنیا) میں تھا، تو دریافت کیا جاتا ہے: فلاں نے کیا عمل کیا؟ فلاں نے کیا عمل کیا؟ اور فلاں عورت نے کیا عمل کیا؟ اور جب کافر شخص کی جان قبض کی جاتی ہے، تو اسے لے کر زمین کے دروازے پر آیا جاتا ہے، زمین کے نگران کہتے ہیں: ہم نے اس سے زیادہ بدبودار کوئی چیز محسوس نہیں کی، پھر وہ اسے لے کر زمین کے سب سے نچلے طبقے تک جاتے ہیں۔“ سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ”اہلِ ایمان کی روحیں ’جابیتین‘ میں اکٹھی ہوتی ہیں اور کفار کی روحیں ’برہوت‘ میں اکٹھی ہوتی ہیں جو ’حضرموت‘ میں شورزدہ زمین ہے۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) اس روایت کو معاذ بن ہشام نے اپنے والد کے حوالے سے، قتادہ سے، قسامہ بن زہیر کے حوالے سے، سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اسی کی مانند مرفوع روایت کے طور پر نقل کیا ہے۔ جابیتین یمن میں ہے اور برہوت یمن کا نواحی علاقہ ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 3013]

3014

Sahih Ibn Hibban #3014

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ أَخْزَمَ ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ قَسَامَةَ بْنِ زُهَيْرٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّالْمُؤْمِنَ إِذَا قُبِضَ أَتَتْهُ مَلائِكَةُ الرَّحْمَةِ بِحَرِيرَةٍ بَيْضَاءَ ، فَتَقُولُ : اخْرُجِي إِلَى رَوْحِ اللَّهِ ، فَتَخْرُجُ كَأَطْيَبِ رِيحِ مِسْكٍ حَتَّى إِنَّهُمْ لِيُنَاوِلُهُ بَعْضُهُمْ بَعْضًا يَشُمُّونَهُ ، حَتَّى يَأْتُونَ بِهِ بَابَ السَّمَاءِ ، فَيَقُولُونَ : مَا هَذِهِ الرِّيحُ الطَّيِّبَةُ الَّتِي جَاءَتْ مِنَ الأَرْضِ ؟ وَلا يَأْتُونَ سَمَاءً إِلا قَالُوا مِثْلَ ذَلِكَ ، حَتَّى يَأْتُونَ بِهِ أَرْوَاحَ الْمُؤْمِنِينَ فَلَهُمْ أَشَدُّ فَرَحًا بِهِ مِنْ أَهْلِ الْغَائِبِ بِغَائِبِهِمْ ، فَيَقُولُونَ : مَا فَعَلَ فُلانٌ ؟ فَيَقُولُونَ : دَعُوهُ حَتَّى يَسْتَرِيحَ ، فَإِنَّهُ كَانَ فِي غَمِّ الدُّنْيَا ، فَيَقُولُ : قَدْ مَاتَ ، أَمَا أمَاتَكُمْ ؟ فَيَقُولُونَ : ذُهِبَ بِهِ إِلَى أُمِّهِ الْهَاوِيَةِ ، وَأَمَّا الْكَافِرُ فَيَأْتِيهُ مَلائِكَةُ الْعَذَابِ بِمُسْحٍ ، فَيَقُولُونَ : اخْرُجِي إِلَى غَضِبِ اللَّهِ ، فَتَخْرُجُ كَأَنْتَنِ رِيحِ جِيفَةٍ فَتَذْهَبُ بِهِ إِلَى بَابِ الأَرْضِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جب مومن کی روح قبض ہوتی ہے تو رحمت کے فرشتے سفید کپڑا لے کر اس کے پاس آتے ہیں اور یہ کہتے ہیں: (اس جسم سے نکل کر) اللہ تعالیٰ کی مہربانی کی طرف آ جاؤ، تو وہ جان یوں نکلتی ہے جیسے وہ سب سے پاکیزہ مشک کی خوشبو ہو، یہاں تک کہ وہ فرشتے اسے ایک دوسرے کو پکڑاتے ہیں اور اسے سونگھتے ہیں، یہاں تک کہ وہ اسے لے کر آسمان کے دروازے تک آتے ہیں تو (آسمان والے) فرشتے یہ کہتے ہیں: اتنی پاکیزہ خوشبو کس چیز کی ہے جو زمین کی طرف سے آئی ہے؟ وہ فرشتے جس بھی آسمان پر آتے ہیں وہاں یہی جملہ کہا جاتا ہے، یہاں تک کہ وہ اسے لے کر مومنین کی ارواح کے پاس آ جاتے ہیں، تو وہ لوگ اس سے مل کر یوں خوش ہوتے ہیں جیسے کسی غیر موجود شخص کے گھر والے اسے مل کر خوش ہوتے ہیں، وہ یہ کہتے ہیں: فلاں کا کیا حال ہے؟ تو دوسرے لوگ یہ کہتے ہیں: اسے چھوڑ دو تاکہ یہ آرام کر لے، کیونکہ یہ دنیا کے غموں میں مبتلا تھا، تو وہ (مردہ) یہ کہتا ہے: اس کا تو انتقال ہو چکا ہے، کیا وہ تمہارے پاس نہیں آیا؟ تو وہ لوگ اسے کہتے ہیں: اسے اس کے ٹھکانے ھاویہ کی طرف لے جایا گیا ہو گا (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:) جہاں تک کافر شخص کا تعلق ہے، تو عذاب کے فرشتے موٹی کھردری چادر لے کر اس کے پاس آتے ہیں اور کہتے ہیں: تم نکل کر اللہ کے غضب کی طرف جاؤ، تو وہ جان یوں نکلتی ہے جیسے انتہائی بدبودار مردار ہوتا ہے، تو وہ اسے لے کر زمین کے دروازے کی طرف آتے ہیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 3014]

3015

Sahih Ibn Hibban #3015

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : لا يَتَمَنَّى أَحَدُكُمُ الْمَوْتَ وَلا يَدْعُو بِهِ قَبْلَ أَنْ يَأْتِيَهُ ، إِنَّهُ إِذَا مَاتَ انْقَطَعَ عَمَلُهُ ، وَإِنَّهُ لا يَزِيدُ الْمُؤْمِنَ عُمُرُهُ إِلا خَيْرًا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”کوئی بھی شخص موت کی آرزو نہ کرے اور نہ ہی اس کے آنے سے پہلے اس کے بارے میں دعا مانگے، کیونکہ جب وہ انتقال کر جائے گا، تو اس کا عمل منقطع ہو جائے گا اور مومن کی عمر صرف بھلائی میں اضافہ کرتی ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 3015]

3016

Sahih Ibn Hibban #3016

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ هَاجِكٍ الْهَرَوِيُّ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنِ الْعَلاءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : إِذَا مَاتَ الإِنْسَانُ انْقَطَعَ عَمَلُهُ إِلا مِنْ ثَلاثٍ : صَدَقَةٍ جَارِيَةٍ ، أَوْ عِلْمٍ يُنْتَفَعُ بِهِ ، أَوْ وَلَدٍ صَالِحٍ يَدْعُو لَهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جب انسان مر جاتا ہے تو اس کا عمل منقطع ہو جاتا ہے، صرف تین اعمال (کا اجر و ثواب منقطع نہیں ہوتا): صدقہ جاریہ یا وہ علم جس سے نفع حاصل کیا جائے یا وہ نیک اولاد جو اس کے لیے دعا کرتی ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 3016]

3017

Sahih Ibn Hibban #3017

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْهَرَوِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُلَيَّةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ أَبَى عُثْمَانَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : قَدِمَ الطُّفَيْلُ بْنُ عَمْرٍو الدَّوْسِيُّ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَكَّةَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هَلُمَّ إِلَى حِصْنٍ وَعَدَدٍ وَعِدَّةٍ ، قَالَ أَبُو الزُّبَيْرِ : حِصْنٌ فِي رَأْسِ الْجَبَلِ لا يُؤْتَى إِلا فِي مِثْلِ الشِّرَاكِ ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَمَعَكَ مَنْ وَرَاءَكَ ؟ " قَالَ : لا أَدْرِي ، فَأَعْرَضَ عَنْهُ ، فَلَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ ، قَدِمَ الطُّفَيْلُ بْنُ عَمْرٍو مُهَاجِرًا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَمَعَهُ رَجُلٌ مِنْ رَهْطِهِ ، فَحُمَّ ذَلِكَ الرَّجُلُ حِمَّى شَدِيدَةً ، فَجَزِعَ ، فَأَخَذَ شَفْرَةً ، فَقَطَعَ بِهَا رَوَاجِبَهُ فَتَشَخَّبَتْ حَتَّى مَاتَ ، فَدُفِنَ ، ثُمَّ إِنَّهُ جَاءَ فِيمَا يَرَى النَّائِمُ مِنَ اللَّيْلِ إِلَى الطُّفَيْلِ بْنِ عَمْرٍو فِي شَارَةٍ حَسَنَةٍ وَهُوَ مُخَمِّرٌ يَدَهُ ، فَقَالَ لَهُ الطُّفَيْلُ : أَفُلانٌ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : كَيْفَ فَعَلْتَ ؟ قَالَ : صَنَعَ بِي رَبِّي خَيْرًا ، غَفَرَ لِي بِهِجْرَتِي إِلَى نَبِيِّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : فَمَا فَعَلَتْ يَدَاكَ ؟ قَالَ : قَالَ لِي رَبِّي : لَنْ نُصْلِحَ مِنْكَ مَا أَفْسَدْتَ مِنْ نَفْسِكَ ، قَالَ : فَقَصَّ الطُّفَيْلُ رُؤْيَاهُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عليه وسلم ، فَرَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَيْهِ :" اللَّهُمَّ وَلِيَدَيْهِ فَاغْفِرْ ، اللَّهُمَّ وَلِيَدَيْهِ فَاغْفِرْ ، اللَّهُمَّ وَلِيَدَيْهِ فَاغْفِرْ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا طفیل بن عمرو دوسی رضی اللہ عنہ مکہ مکرمہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس طرف تشریف لائیں جہاں قلعہ بھی ہے اور لوگوں کی تعداد بھی ہے اور متعدد (قسم کا ساز و سامان) بھی ہے، یہاں ابوزبیر نامی راوی نے یہ بات بیان کی ہے کہ وہ قلعہ ایک پہاڑ کی چوٹی پر تھا جہاں انتہائی مشکل سے پہنچا جا سکتا تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے دریافت کیا: ”تمہارے پیچھے جو لوگ ہیں کیا وہ تمہارے ساتھ ہیں؟“ انہوں نے جواب دیا: مجھے نہیں معلوم، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے اعراض کیا۔ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے، تو سیدنا طفیل بن عمرو رضی اللہ عنہ بھی ہجرت کر کے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، ان کے ہمراہ ان کے قبیلے کا ایک شخص موجود تھا، اس شخص کو شدید بخار ہو گیا اور وہ گریہ وزاری کرنے لگا، اس نے چھری لی اور اس کے ذریعے اپنی رگ کاٹی جس سے اس کا خون بہنے لگا، یہاں تک کہ اس کا انتقال ہو گیا، اسے دفن کر دیا گیا، پھر رات کو خواب میں ایک شخص سیدنا طفیل بن عمرو رضی اللہ عنہ کے پاس آیا جو انتہائی عمدہ حلیے میں تھا اور اس نے اپنے ہاتھ کو ڈھانپا ہوا تھا، طفیل نے اس سے دریافت کیا: تم فلاں ہو؟ اس نے جواب دیا: جی ہاں۔ سیدنا طفیل رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا: تمہارا کیا حال ہے؟ اس نے بتایا: میرے پروردگار نے میرے ساتھ عمدہ سلوک کیا ہے اور میرے اس کے نبی کی طرف ہجرت کرنے کی وجہ سے میری مغفرت کر دی ہے۔ سیدنا طفیل رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا: تمہارے ہاتھ کا کیا ہوا؟ تو اس نے بتایا: میرے پروردگار نے مجھ سے فرمایا: ہم تمہاری اس چیز کو ہرگز ٹھیک نہیں کریں گے جسے تم نے خود خراب کر دیا ہے۔ راوی کہتے ہیں: سیدنا طفیل رضی اللہ عنہ نے یہ خواب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سنایا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں ہاتھ بلند کیے (اور یہ دعا کی): «اللَّهُمَّ وَلِيَدَيْهِ فَاغْفِرْ» ”اے اللہ! تو اس کے دونوں ہاتھوں کی بھی مغفرت کر دے“، «اللَّهُمَّ وَلِيَدَيْهِ فَاغْفِرْ» ”اے اللہ! تو اس کے دونوں ہاتھوں کی بھی مغفرت کر دے“، «اللَّهُمَّ وَلِيَدَيْهِ فَاغْفِرْ» ”اے اللہ! تو اس کے دونوں ہاتھوں کی بھی مغفرت کر دے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 3017]

3018

Sahih Ibn Hibban #3018

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ الْكَلاعِيُّ بِحِمْصَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ عُبَيْدٍ الْمَذْحِجِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِذَا مَاتَ صَاحِبُكُمْ فَدَعُوهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”جب تمہارا ساتھی انتقال کر جائے، تو تم لوگ اسے چھوڑ دو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 3018]

3019

Sahih Ibn Hibban #3019

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ الصُّوفِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ هَاشِمٍ ، وَوَكِيعٌ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِذَا مَاتَ صَاحِبُكُمْ فَدَعُوهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”جب تمہارا ساتھی انتقال کر جائے، تو تم اسے چھوڑ دو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 3019]

3020

Sahih Ibn Hibban #3020

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاءِ بْنِ كُرَيْبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ أَبِي أَنَسٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اذْكُرُوا مَحَاسِنَ مَوْتَاكُمْ وَكُفُّوا عَنْ مَسَاوِئِهِمْ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”اپنے مرحومین کی اچھی چیزوں کا ذکر کرو اور ان کی برائیوں (کو بیان کرنے) سے باز آ جاؤ۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 3020]

3021

Sahih Ibn Hibban #3021

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ أَبَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْثَرٌ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، قَالَ : قَالَتْ عَائِشَةَ : مَا فَعَلَ يَزِيدُ بْنُ قَيْسٍ عَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ ؟ قَالُوا : قَدْ مَاتَ ، قَالَتْ : فَأَسْتَغْفِرُ اللَّهَ ، فَقَالُوا لَهَا : مَا لَكَ لَعَنْتِيهِ ، ثُمّ قُلْتِ : أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ ؟ قَالَتْ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : لا تَسُبُّوا الأَمْوَاتَ ، فَإِنَّهُمْ أَفْضَوْا إِلَى مَا قَدَّمُوا "، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : مَاتَتْ عَائِشَةُ سَنَةَ سَبْعٍ وَخَمْسِينَ ، وَوُلِدَ مُجَاهِدٌ سَنَةَ إِحْدَى وَعِشْرِينَ فِي خِلافَةِ عُمَرَ ، فَدَلَكَ هَذَا عَلَى أَنَّ مَنْ زَعَمَ أَنَّ مُجَاهِدًا لَمْ يَسْمَعْ مِنْ عَائِشَةَ كَانَ وَاهِمًا فِي قَوْلِهِ ذَلِكَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں منقول ہے کہ انہوں نے دریافت کیا: یزید بن قیس کے ساتھ کیا ہوا؟ اللہ تعالیٰ اس پر لعنت کرے۔ لوگوں نے بتایا: وہ مر گیا ہے، تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: میں اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کرتی ہوں۔ لوگوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے دریافت کیا: کیا وجہ ہے کہ پہلے آپ نے اس پر لعنت کی تھی اور پھر آپ نے یہ کہا ہے کہ میں اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کرتی ہوں؟ تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بتایا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”تم لوگ مردوں کو برا نہ کہو، کیونکہ وہ اس چیز کی طرف چلے گئے ہیں جو انہوں نے آگے بھیجا تھا۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا انتقال 57 ہجری میں ہوا اور مجاہد کی پیدائش سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں 21 ہجری میں ہوئی، تو یہ چیز تمہاری رہنمائی اس بات کی طرف کرے گی کہ جو شخص اس بات کا قائل ہو کہ مجاہد نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے احادیث کا سماع نہیں کیا، اسے اپنی اس رائے میں وہم ہوا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 3021]

3022

Sahih Ibn Hibban #3022

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا الْمُلائِيُّ ، وَأَبُو دَاوُدَ الْحَفَرِيُّ ، قَالا : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلاقَةَ ، أَنَّهُ سَمِعَ الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لا تَسُبُّوا الأَمْوَاتَ ، فَتُؤْذُوا الأَحْيَاءَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم لوگ مردوں کو برا کہہ کر زندہ لوگوں کو اذیت نہ پہنچاؤ۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 3022]

3023

Sahih Ibn Hibban #3023

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ ، عَنِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ :مَرُّوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِجِنَازَةٍ ، فَأَثْنَوْا عَلَيْهَا شَرًّا ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : وَجَبَتْ " ، وَمَرُّوا بِأُخْرَى ، فَأَثْنَوْا عَلَيْهَا خَيْرًا ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَجَبَتْ " ، فَقَالَ عُمَرُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا وَجَبَتْ ؟ قَالَ : " مَرُّوا بِتِلْكَ ، فَأَثْنَوْا عَلَيْهَا شَرًّا ، فَوَجَبَتِ النَّارُ ، وَمَرُّوا بِهَذِهِ ، فَأَثْنَوْا عَلَيْهَا خَيْرًا فَوَجَبَتِ الْجَنَّةُ ، وَأَنْتُمْ شُهَدَاءُ اللَّهِ فِي الأَرْضِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ لوگ ایک جنازہ لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے گزرے، تو اس کی برائی بیان کی گئی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”واجب ہو گئی۔“ پھر لوگ دوسرا جنازہ لے کر گزرے، تو لوگوں نے اس کی تعریف کی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”واجب ہو گئی۔“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا چیز واجب ہو گئی؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ لوگ اسے لے کر گزرے اور انہوں نے اس کی برائی بیان کی، تو جہنم واجب ہو گئی؛ یہ لوگ اسے لے کر گزرے اور انہوں نے اس کی تعریف بیان کی، تو جنت واجب ہو گئی، تم لوگ زمین میں اللہ کے گواہ ہو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 3023]

3024

Sahih Ibn Hibban #3024

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ :مُرَّ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، بِجِنَازَةٍ فَأُثْنِيَّ عَلَيْهَا خَيْرًا مِنْ مَنَاقِبِ الْخَيْرِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : وَجَبَتْ ، أَنْتُمْ شُهُودُ اللَّهِ فِي الأَرْضِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے ایک جنازہ گزرا، تو بھلائی کے مناقب کے حوالے سے اس کی اچھی تعریف بیان کی گئی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”واجب ہوگئی، تم لوگ زمین میں اللہ کے گواہ ہو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 3024]

3025

Sahih Ibn Hibban #3025

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ حِسَابٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ :مُرَّ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، بِجِنَازَةٍ ، فَأُثْنِيَ عَلَيْهَا خَيْرًا ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : وَجَبَتْ " ، ثُمَّ مُرَّ عَلَيْهِ بِجِنَازَةٍ ، فَأُثْنِيَ عَلَيْهَا شَرًّا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَجَبَتْ " فَقِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قُلْتَ لِهَذَا : " وَجَبَتْ " وَقُلْتَ لِهَذَا : " وَجَبَتْ ؟ " فَقَالَ : " شَهَادَةُ الْقَوْمِ ، وَالْمُؤْمِنُونَ شُهَدَاءُ اللَّهِ فِي الأَرْضِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے ایک جنازہ گزرا، اس کی اچھائی کے ہمراہ تعریف کی گئی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”واجب ہوگئی۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے ایک اور جنازہ گزرا، اس کی برائی بیان کی گئی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”واجب ہوگئی۔“ عرض کی گئی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے لیے بھی فرمایا ”واجب ہوگئی“ اور اس کے لیے بھی فرمایا ”واجب ہوگئی“، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”لوگوں کی گواہی کی وجہ سے (میں نے ایسا کہا ہے)، اہل ایمان زمین میں اللہ کے گواہ ہیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 3025]

3026

Sahih Ibn Hibban #3026

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُمَرَ الْوَكِيعِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَمُوتُ فَيَشْهَدُ لَهُ أَرْبَعَةُ أَهْلِ أَبْيَاتٍ مِنْ جِيرَتِهِ الأَدْنَيْنَ ، أَنَّهُمْ لا يَعْلَمُونَ إِلا خَيْرًا ، إِلا قَالَ اللَّهُ جَلَّ وَعَلا : قَدْ قَبِلْتُ عِلْمَكُمْ فِيهِ ، وَغَفَرْتُ لَهُ مَا لا تَعْلَمُونَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جو بھی مسلمان فوت ہو جائے اور اس کے قریبی پڑوسیوں میں سے چار گھر کے افراد اس کے حق میں یہ گواہی دیں کہ وہ لوگ اس کے بارے میں بھلائی کا علم رکھتے ہیں، تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: اس شخص کے بارے میں، میں نے تم لوگوں کے علم کو قبول کیا اور میں نے اس کی ان چیزوں کی مغفرت کر دی جن سے تم واقف نہیں ہو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 3026]

3027

Sahih Ibn Hibban #3027

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ : مَاتَ رَجُلٌ ، فَمَرُّوا بِجَنَازَتِهِ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَثْنَوْا عَلَيْهَا شَرًّا ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : وَجَبَتْ " ، وَمَرُّوا بِأُخْرَى ، فَأَثْنَوْا عَلَيْهَا خَيْرًا ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَجَبَتْ " فَسَأَلَهُ عُمَرُ عَنْ ذَلِكَ ، فَقَالَ :" أَنْتُمْ شُهُودُ اللَّهِ فِي الأَرْضِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص کا انتقال ہو گیا، لوگ اس کا جنازہ لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے گزرے، لوگوں نے اس کی برائی بیان کی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”واجب ہو گئی۔“ پھر لوگ ایک دوسرے جنازے کو لے کر گزرے، لوگوں نے اس کی تعریف بیان کی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”واجب ہو گئی۔“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں دریافت کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم لوگ زمین میں اللہ کے گواہ ہو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 3027]

3028

Sahih Ibn Hibban #3028

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الطَّالَقَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْمُقْرِئُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِي الْفُرَاتِ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ ، عَنْ أَبِي الأَسْوَدِ الدِّيلِيِّ ، قَالَ : أتيت المدينة وَقَدْ وَقَعَ بِهَا مَرَضٌ ، فَهُمْ يَمُوتُونَ مَوْتًا ذَرِيعًا ، فَجَلَسْتُ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، فَمَرَّتْ بِهِ جَنَازَةٌ ، فَأُثْنِيَ عَلَى صَاحِبِهَا خَيْرًا ، فَقَالَ عُمَرُ : وَجَبَتْ ، ثُمَّ مُرَّ بِأُخْرَى فَأُثْنِيَ عَلَى صَاحِبُهَا شَرًّا ، فَقَالَ عُمَرُ : أَتَيْتُ الْمَدِينَةَ قَالَ أَبُو الأَسْوَدِ : وَمَا وَجَبَتْ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ؟ قَالَ : كَمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَيُّمَا مُسْلِمٍ يَشْهَدُ لَهُ أَرْبَعَةٌ بِخَيْرٍ إِلا أَدْخَلَهُ اللَّهُ الْجَنَّةَ " قَالَ : قُلْنَا : وَثَلاثَةٌ قَالَ : " وَثَلاثَةٌ " قَالَ : فَقُلْنَا : وَاثْنَانِ قَالَ : " وَاثْنَانِ " ، وَلَمْ نَسْأَلَهُ عَنِ الْوَاحِدِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابوالاسود دِیلی بیان کرتے ہیں: میں مدینہ منورہ آیا وہاں وباء پھیلی ہوئی تھی جس کی وجہ سے بڑی تیزی سے اموات ہو رہی تھیں، میں سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا ان کے پاس سے ایک جنازہ گزرا اس مرحوم کی اچھی تعریف بیان کی گئی، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: «وَجَبَتْ» ”واجب ہو گئی“ پھر ایک اور جنازہ گزرا اس مرحوم کی برائی بیان کی گئی، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: «وَجَبَتْ» ”واجب ہو گئی۔“ ابوالاسود نے دریافت کیا: اے امیر المؤمنین! کیا چیز واجب ہو گئی؟ تو انہوں نے بتایا: یہ بالکل اسی طرح ہے، جس طرح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تھا: ”جس بھی مسلمان کے بارے میں چار افراد اچھائی کی گواہی دے دیں، اللہ تعالیٰ اسے جنت میں داخل کر دے گا“، تو ہم نے عرض کی: اگر تین دے دیں؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اگر تین دے دیں، تو بھی (یہ اجر و ثواب حاصل ہو گا)۔“ راوی کہتے ہیں: ہم نے عرض کیا: اگر دو دے دیں؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر دو دے دیں (تو بھی یہ اجر و ثواب حاصل ہو گا)۔“ (سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں) ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک شخص کے بارے میں دریافت نہیں کیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 3028]

3029

Sahih Ibn Hibban #3029

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى الْقَطَّانُ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي عَائِشَةَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، وَعَائِشَةَ أَنَّأَبَا بَكْرٍ قَبَّلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مَيِّتٌ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بوسہ دیا تھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 3029]

3030

Sahih Ibn Hibban #3030

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْبُخَارِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي أَخِي ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلالٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي عَتِيقٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : دَخَلَ أَبُو بَكْرٍ الْمَسْجِدَ وَعُمَرُ يُكَلِّمُ النَّاسَ حِينَ دَخَلَ بَيْتَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّذِي تُوُفِّيَ فِيهِ ، وَهُوَ بَيْتُ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ،فَكَشَفَ عَنْ وَجْهِهِ بُرْدَ حِبَرَةٍ كَانَ مُسَجًّى بِهِ ، فَنَظَرَ إِلَى وَجْهِهِ ، ثُمَّ أَكَبَّ عَلَيْهِ ، فَقَبَّلَهُ ، وَقَالَ : بِأَبِي أَنْتَ ، فَوَاللَّهِ لا يَجْمَعُ اللَّهُ عَلَيْكَ مَوْتَتَيْنِ ، لَقَدْ مِتَّ الْمُوتَةَ الَّتِي لا تَمُوتُ بَعْدَهَا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ مسجد میں داخل ہوئے، اس وقت سیدنا عمر رضی اللہ عنہ لوگوں کے ساتھ بات چیت کر رہے تھے۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اس گھر کے اندر تشریف لے گئے جہاں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوا تھا۔ یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا گھر تھا۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک سے «حِبَرَة» کی بنی ہوئی چادر ہٹائی جس کے ذریعے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ڈھانپ دیا گیا تھا، انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک کی طرف دیکھا، پھر وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر جھکے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بوسہ دیا اور یہ بات ارشاد فرمائی: میرے والد آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر قربان ہوں، اللہ کی قسم! اللہ تعالیٰ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر دو مرتبہ موت کو جمع نہیں کرے گا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ موت پا لی ہے، جس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو موت نہیں آئے گی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 3030]

3031

Sahih Ibn Hibban #3031

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، عَنْ قُطْبَةَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِذَا جَمَّرْتُمُ الْمَيِّتَ فَأَوْتِرُوا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”جب تم میت کی (لحد میں) پتھر لگاؤ، تو طاق تعداد میں لگاؤ۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 3031]

3032

Sahih Ibn Hibban #3032

قَالَ : وَقَالَتْ حَفْصَةُ ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ :اغْسِلْنَهَا مَرَّتَيْنِ ، أَوْ ثَلاثًا ، أَوْ خَمْسًا ، أَوْ سَبْعًا ، قَالَتْ أُمُّ عَطِيَّةَ : وَمَشَطْتُهَا ثَلاثَةَ قُرُونٍ ، وَكَانَ فِيهِ أَنَّهُ قَالَ : ابْدَأْنَ بِمَيَامِنِهَا وَمَوَاضِعِ الْوُضُوءِ "، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : الأَمْرُ بِغُسْلِ الْمَيِّتِ فَرْضٌ ، وَالشَّرْطُ الَّذِي قُرِنَ بِهِ هُوَ الْعَدَدُ الْمَذْكُورُ فِي الْخَبَرِ قُصِدَ بِتَعْيِينِهِ النَّدْبُ لا الْحَتْمُ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے، ہم اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی کو غسل دینے لگی تھیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اسے پانی اور بیری کے ساتھ تین مرتبہ یا پانچ مرتبہ یا اس سے زیادہ مرتبہ، اگر تم مناسب سمجھو، غسل دینا اور آخر میں کافور بھی شامل کر لینا (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) کچھ کافور شامل کر لینا، جب تم اس سے فارغ ہو جاؤ، تو تم مجھے اطلاع دے دینا۔“ سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: جب ہم فارغ ہوئے اور ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع دی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی چادر ہمیں دی اور فرمایا: ”یہ اس کے جسم پر لپیٹ دو۔“ حفصہ نامی خاتون نے سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا کے حوالے سے روایت میں یہ الفاظ نقل کیے ہیں: ”تم اسے دو مرتبہ یا تین مرتبہ یا پانچ مرتبہ یا سات مرتبہ غسل دینا۔“ سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میں نے اس صاحبزادی کی تین چٹیا بنا دیں۔ اس روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ارشاد فرمایا تھا: ”تم اس کے دائیں طرف کے اعضاء اور وضو کے مقامات سے (غسل کا آغاز کرنا)۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) میت کو غسل دینے کا حکم فرض ہے اور وہ شرط جو اس کے ہمراہ ذکر کی گئی ہے، یعنی اس روایت میں مذکور عدد کو متعین طور پر ذکر کرنے سے مقصود استحباب کا بیان ہے، یہ لازم نہیں ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 3032]