Muslim99Muslim99

Sahih Ibn Hibban · Book 27 · Chapter 1

Book of Sales

Hadith 2953–2992

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

2953

Sahih Ibn Hibban #2953

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زَيْدِ بْنِ الْخَطَّابِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ خَرَجَ إِلَى الشَّامِ ، حَتَّى إِذَا كَانَ بِسَرْغَ ، لَقِيَهُ أُمَرَاءُ الأَجْنَادِ أَبُو عُبَيْدَةُ بْنُ الْجَرَّاحِ وَأَصْحَابُهُ ، فَأَخْبَرُوهُ أَنَّ الْوَبَاءَ قَدْ وَقَعَ بِالشَّامِ ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : فَقَالَ عُمَرُ : ادْعُ لِيَ الْمُهَاجِرِينَ الأَوْلِينَ ، فَدَعَوْتُهُمْ ، فَاسْتَشَارَهُمْ ، وَأَخْبَرَهُمْ أَنَّ الْوَبَاءَ قَدْ وَقَعَ بِالشَّامِ فَاخْتَلَفُوا ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ : خَرَجْتَ لأَمْرٍ فَلا أَنْ تَرْجِعَ عَنْهُ ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ : مَعَكَ بَقِيَّةُ النَّاسِ وَأَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَلا نَرَى أَنْ تُقْدِمَهُمْ عَلَى هَذَا الْوَبَاءِ ، فَقَالَ : ارْتَفِعُوا عَنِّي ، ثُمَّ قَالَ : ادْعُ لِيَ الأَنْصَارَ فَدَعَوْتُهُمْ ، فَاسْتَشَارَهُمْ فَسَلَكُوا سَبِيلَ الْمُهَاجِرِينَ وَاخْتَلَفُوا كَاخْتِلافِهِمْ ، فَقَالَ : ارْتَفِعُوا عَنِّي ، ثُمَّ قَالَ : ادْعُ لِي مَنْ كَانَ هَا هُنَا مِنْ مَشْيَخَةِ قُرَيْشٍ مِنْ مُهَاجِرَةِ الْفَتْحِ ، فَدَعَوْتُهُمْ ، فَلَمْ يَخْتَلِفْ عَلَيْهِ رَجُلانِ ، وَقَالُوا : نَرَى أَنْ تَرْجِعَ بِالنَّاسِ وَلا تُقْدِمَهُمْ عَلَى هَذَا الْوَبَاءِ ، فَنَادَى عُمَرُ فِي النَّاسِ إِنِّي مُصْبِحٌ عَلَى ظَهْرٍ ، فَأَصْبِحُوا عَلَيْهِ ، فَقَالَ أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ : أَفِرَارًا مِنْ قَدْرِ اللَّهِ ؟ فَقَالَ عُمَرُ : لَوْ غَيْرُكَ قَالَهَا يَا أَبَا عُبَيْدَةَ ، وَكَانَ عُمَرُ يَكْرَهُ خِلافَهُ نَفِرُ مِنْ قَدَرِ اللَّهِ إِلَى قَدَرِ اللَّهِ ، أَرَأَيْتَ لَوْ كَانَ لَكَ إِبِلٌ فَهَبَطَتْ وَادِيًا لَهُ عُدْوَتَانِ إِحْدَاهُمَا خِصِبَةٌ ، وَالأُخْرَى جَدْبَةٌ ، أَلَيْسَ إِنْ رَعَيْتَ الْخِصْبَةَ رَعَيْتَهَا بِقَدَرِ اللَّهِ ، وَإِنْ رَعَيْتَ الْجَدْبَةَ رَعَيْتَهَا بِقَدَرِ اللَّهِ ، قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : فَجَاءَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ ، وَكَانَ مُتَغَيِّبًا فِي بَعْضِ حَاجَتِهِ ، فَقَالَ : إِنَّ عِنْدِي مِنْ هَذَا عِلْمًا ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : إِذَا سَمِعْتُمْ بِهِ بِأَرْضٍ فَلا تَقْدُمُوا عَلَيْهِ ، وَإِذَا وَقَعَ بِأَرْضٍ وَأَنْتُمْ بِهَا فَلا تَخْرُجُوا فِرَارًا مِنْهُ "، قَالَ : فَحَمِدَ اللَّهَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ثُمَّ انْصَرَفَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شام جانے کے لیے روانہ ہوئے، جب وہ ”سرغ“ کے مقام پر پہنچے تو وہاں ان کی ملاقات لشکر کے امیر سیدنا ابوعبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں سے ہوئی، انہوں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو بتایا کہ شام میں وبا پھیل چکی ہے۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میرے پاس مہاجرینِ اولین کو بلا کر لاؤ۔ میں ان لوگوں کو بلا کر لایا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے مشورہ کیا اور انہیں یہ بتایا کہ شام میں وبا پھیل چکی ہے، تو ان لوگوں میں اس بارے میں اختلاف ہو گیا۔ ان میں سے بعض حضرات کا یہ کہنا تھا کہ آپ جس کام کے لیے نکلے ہیں ہم یہ مناسب نہیں سمجھتے کہ آپ اسے چھوڑ کر واپس چلے جائیں، جبکہ بعض کا یہ کہنا تھا کہ آپ کے ساتھ گنے چنے لوگ اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب موجود ہیں، اس لیے ہم یہ مناسب نہیں سمجھتے کہ آپ کو وبائی علاقے میں جانا چاہیے۔ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: آپ لوگ میرے پاس سے اٹھ جائیں۔ پھر انہوں نے فرمایا: میرے پاس انصار کو بلا کر لاؤ۔ میں انہیں بلا کر لایا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے مشورہ کیا تو وہ بھی مہاجرین کے راستے پر چلے اور ان کے درمیان بھی مہاجرین کی طرح اختلاف ہو گیا۔ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: آپ لوگ میرے پاس سے اٹھ جائیں۔ پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم میرے پاس قریش کے ان بوڑھوں کو بلا کر لاؤ جو فتح مکہ کے موقع پر ہجرت کر کے آئے تھے۔ میں نے ان لوگوں کو بلایا تو اس بارے میں ان کے دو آدمیوں کے درمیان بھی کوئی اختلاف نہیں ہوا، انہوں نے یہی کہا کہ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ آپ کو لوگوں کو لے کر واپس جانا چاہیے اور اس وبائی علاقے میں نہیں جانا چاہیے۔ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے لوگوں میں یہ اعلان کر دیا کہ ہم کل روانہ ہو جائیں گے آپ لوگ تیاری کر لیں۔ تو سیدنا ابوعبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا آپ اللہ تعالیٰ کی تقدیر سے فرار اختیار کرنا چاہتے ہیں؟ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اگر آپ کے علاوہ کسی اور نے یہ بات کہی ہوتی (تو اتنا افسوس نہ ہوتا) اے ابوعبیدہ! سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو ان کا یہ اختلاف کرنا پسند نہیں آیا، (انہوں نے فرمایا) ہم اللہ کی تقدیر سے بھاگتے ہوئے اللہ کی تقدیر کی طرف جا رہے ہیں، آپ کا کیا خیال ہے اگر آپ کے پاس اونٹ ہوں اور آپ انہیں کسی ایسی وادی میں لے کر اتریں جس کے ایک طرف سرسبز و شاداب جگہ اور دوسری طرف خشک سالی ہو، تو کیا ایسا نہیں ہے کہ اگر آپ انہیں سرسبز جگہ پر چراتے ہیں تو یہ بھی اللہ کی تقدیر کے مطابق ہے اور اگر آپ انہیں خشک جگہ پر چرنے کے لیے چھوڑتے ہیں تو آپ انہیں اللہ تعالیٰ کی تقدیر کے مطابق چراتے ہیں؟ تو سیدنا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ نے کہا: جی ہاں۔ راوی بیان کرتے ہیں: پھر سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ آئے، وہ اس وقت کسی کام کے سلسلے میں موجود نہیں تھے، انہوں نے بتایا کہ اس بارے میں میرے پاس علم موجود ہے، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جب تم اس کے بارے میں سنو کہ یہ کسی سرزمین پر ہے، تو تم وہاں نہ جاؤ اور جب یہ کسی ایسی سرزمین پر واقع ہو جائے جہاں تم موجود ہو، تو تم وہاں سے فرار اختیار کرتے ہوئے نکلو نہیں۔“ راوی کہتے ہیں: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس پر اللہ کی حمد بیان کی اور وہاں سے واپس آ گئے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 2953]

2954

Sahih Ibn Hibban #2954

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، عَنْ أَسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ذَكَرَالطَّاعُونَ فَقَالَ : بَقِيَّةُ رِجْزٍ ، وَعَذَابٌ أُرْسِلَ عَلَى طَائِفَةٍ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ ، فَإِذَا وَقَعَ بِأَرْضٍ ، وَأَنْتُمْ بِهَا فَلا تَهْرَبُوا مِنْهُ ، وَإِذَا كَانَ بِأَرْضٍ فَلا تَهْبِطُوا عَلَيْهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے طاعون کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ”یہ ایک عذاب کا بقیہ حصہ ہے، یہ وہ عذاب ہے جو بنی اسرائیل کے گروہ کی طرف بھیجا گیا تھا؛ جب یہ کسی سرزمین پر واقع ہو اور تم لوگ وہاں موجود ہو تو تم لوگ وہاں سے بھاگو نہیں، اور جب کسی دوسری سرزمین پر واقع ہو تو تم وہاں جاؤ نہیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 2954]

2955

Sahih Ibn Hibban #2955

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي عِيسَى الأُسْوَارِيِّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : عُودُوَا الْمَرْضَى ، وَاتَّبَعُوا الْجَنَائِزَ تُذَكِّرُكُمُ الآخِرَةَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”بیماروں کی عیادت کرو، جنازوں کے ساتھ جاؤ، یہ تمہیں آخرت کی یاد دلائیں گے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 2955]

2956

Sahih Ibn Hibban #2956

أَخْبَرَنَا حَامِدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شُعَيْبٍ الْبَلْخِيُّ بِبَغْدَادَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْحَكَمِ بْنِ ثَوْبَانَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ عَادَ مَرِيضًا لَمْ يَزَلْ يَخُوضُ الرَّحْمَةَ حَتَّى يَجْلِسَ ، فَإِذَا جَلَسَ ، غُمِرَ فِيهَا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”جو شخص بیمار کی عیادت کرتا ہے، تو وہ جب تک وہاں بیٹھا رہے رحمت میں غوطہ زن رہتا ہے اور جب تک وہ بیٹھا رہے وہ اس میں ڈوبا رہتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 2956]

2957

Sahih Ibn Hibban #2957

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الصَّيْرَفِيُّ بِالْبَصْرَةِ غُلامُ طَالُوتَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، عَنْ أَبِي قِلابَةَ ، عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ ، عَنْ ثَوْبَانَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : إِنَّالْمُسْلِمَ إِذَا عَادَ أَخَاهَ الْمُسْلِمَ لَمْ يَزَلْ فِي مَخْرَفَةِ الْجَنَّةِ حَتَّى يَرْجِعَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جب کوئی مسلمان اپنے مسلمان بھائی کی عیادت کرتا ہے، تو وہ واپس آنے تک جنت کے باغ میں رہتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 2957]

2958

Sahih Ibn Hibban #2958

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ يَعْلَى بْنُ عَطَاءٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَسَارٍ ، أَنَّ عَمْرَو بْنَ حُرَيْثٍ زَارَ الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ ، فَقَالَ لَهُ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ : يَا عَمْرُو ، أَتَزُورُ حَسَنًا وَفِي النَّفْسِ مَا فِيهَا ؟ قَالَ : نَعَمْ يَا عَلِيُّ ، لَسْتَ بِرَبِّ قَلْبِي تَصْرِفُهُ حَيْثُ شِئْتَ ، فَقَالَ عَلِيٌّ : أَمَا أَنَّ ذَلِكَ لا يَمْنَعُنِي مِنْ أَنْ أُؤَدِّيَ إِلَيْكَ النَّصِيحَةَ ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : مَا مِنِ امْرِئٍ مُسْلِمٍ يَعُودُ مُسْلِمًا إِلا ابْتَعَثَ اللَّهُ سَبْعِينَ أَلْفَ مَلَكٍ يُصَلُّونَ عَلَيْهِ فِي أَيِّ سَاعَاتِ النَّهَارِ كَانَ حَتَّى يُمْسِيَ وَأَيِّ سَاعَاتِ اللَّيْلِ كَانَ حَتَّى يُصْبِحَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبداللہ بن یسار بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمرو بن حریث رضی اللہ عنہ، سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما کی عیادت کرنے کے لیے گئے، تو سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا: اے عمرو! کیا تم حسن سے ملنے کے لیے آئے ہو حالانکہ تمہارے ذہن میں کچھ اور ہے؟ تو سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ نے عرض کی: اے سیدنا علی رضی اللہ عنہ! جی ہاں (میں سیدنا حسن رضی اللہ عنہما سے ملنے آیا ہوں)، آپ پروردگار نہیں ہیں کہ میرے دل کو جیسے چاہیں پھیر دیں، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں صرف تمہیں ایک نصیحت کرنا چاہتا تھا، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جب بھی کوئی مسلمان کسی مسلمان کی عیادت کرنے کے لیے جاتا ہے، تو اللہ تعالیٰ ستر ہزار فرشتوں کو بھیجتا ہے جو اس شخص کے لیے دعائے رحمت کرتے رہتے ہیں، خواہ وہ دن کی کسی بھی گھڑی میں (عیادت کے لیے جائے) اور وہ فرشتے شام تک ایسا کرتے ہیں، اور اگر وہ رات کی کسی بھی گھڑی میں جائے، تو صبح تک (دعائے رحمت کرتے رہتے ہیں)۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 2958]

2959

Sahih Ibn Hibban #2959

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا خَالِدٌ ، عَنْ خَالِدٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَدَخَلَ عَلَى أَعْرَابِيٍّ يَعُودُهُ ، فَقَالَ : لا بَأْسَ ، طَهُورٌ إِنْ شَاءَ اللَّهُ " ، فَقَالَ : كَلا ، بَلْ حِمَّى تَفُورُ عَلَى شَيْخٍ كَبِيرٍ تُورِدُهُ الْقُبُورَ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فَنَعَمْ إِذًا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک دیہاتی کی عیادت کرنے کے لیے اس کے پاس تشریف لے گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «لَا بَأْسَ طَهُورٌ إِنْ شَاءَ اللَّهُ» ”کوئی پریشانی کی بات نہیں ہے، اگر اللہ نے چاہا، تو یہ طہارت کے حصول کا ذریعہ ہو گا““ تو وہ بولا: جی نہیں بلکہ یہ بخار ہے، جو ایک بوڑھے شخص پر بھڑک رہا ہے اور اسے قبر تک پہنچا دے گا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو پھر ایسا ہی ہو گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 2959]

2960

Sahih Ibn Hibban #2960

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الصَّلْتُ بْنُ مَسْعُودٍ الْجَحْدَرِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنِ أَنَسٍ ، أَنَّ غُلامًا يَهُودِيًّا كَانَ يَخْدُمُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَمَرِضَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لأَصْحَابِهِ : اذْهَبُوا بِنَا إِلَيْهِ نَعُودُهُ " ، فَأَتَوْهُ وَأَبُوهُ قَاعِدٌ عَلَى رَأْسِهِ ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ :" قُلْ : لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ أَشْفَعُ لَكَ بِهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ " ، فَجَعَلَ الْغُلامُ يَنْظُرُ إِلَى أَبِيهِ ، فَقَالَ لَهُ أَبُوهُ : انْظُرْ مَا يَقُولُ لَكَ أَبُو الْقَاسِمِ ، فَقَالَ : أَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْحَمْدُ للَّهِ الَّذِي أَنْقَذَهُ مِنْ نَارِ جَهَنَّمَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک یہودی لڑکا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کیا کرتا تھا، وہ بیمار ہو گیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ساتھیوں سے فرمایا: ”تم لوگ میرے ساتھ اس کی عیادت کرنے کے لیے چلو۔“ وہ لوگ اس کے پاس آئے، اس کا باپ اس کے سرہانے بیٹھا ہوا تھا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: ”تم یہ کہہ دو کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے، میں اس کی وجہ سے قیامت کے دن تمہاری شفاعت کروں گا۔“ اس لڑکے نے اپنے باپ کی طرف دیکھنا شروع کیا، تو اس کے باپ نے اس سے کہا: تم اس بات کا جائزہ لو کہ سیدنا ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم تمہیں کیا کہہ رہے ہیں (یعنی ان کی بات مان لو)، تو اس لڑکے نے کہا: میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے اور میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص ہے، جس نے اسے جہنم کی آگ سے بچا لیا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 2960]

2961

Sahih Ibn Hibban #2961

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ غِيَاثٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي سِنَانٍ ، عَنْ عُثْمَانِ بْنِ أَبِي سَوْدَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : إِذَا عَادَ الْمُسْلِمُ أَخَاهُ الْمُسْلِمَ ، أَوْ زَارَهُ ، قَالَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى : طِبْتَ وَطَابَ مَمْشَاكَ ، وَتَبَوَّأْتَ مَنْزِلا فِي الْجَنَّةِ "، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : أَبُو سِنَانٍ هَذَا هُوَ الشَّيْبَانِيُّ اسْمُهُ سَعِيدُ بْنُ سِنَانٍ ، وَأَبُو سِنَانٍ الْكُوفِيُّ اسْمُهُ ضِرَارُ بْنُ مُرَّةَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جب کوئی مسلمان اپنے مسلمان بھائی کی عیادت کرتا ہے یا اس سے ملنے کے لیے جاتا ہے، تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: تم پاکیزہ رہو اور تمہارا چلنا پاکیزہ رہے، تم نے جنت میں اپنے رہنے کی جگہ بنا لی ہے۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) ابوسنان نامی یہ راوی شیبانی ہے اور اس کا نام سعید بن سنان ہے، جبکہ ابوسنان کوفی نامی راوی کا نام ضرار بن مرہ ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 2961]

2962

Sahih Ibn Hibban #2962

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْوَلِيدِ الْكِنْدِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَالِكٍ النُّكْرِيِّ ، عَنْ أَبِي الْجَوْزَاءِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : كُنْتُ أُعَوِّذُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِدُعَاءِ كَانَ جِبْرِيلُ يُعَوِّذُهُ بِهِ إِذَا مَرِضَ : أَذْهِبِ الْبَأْسَ رَبَّ النَّاسِ ، تَنْزِلُ الشِّفَاءَ لا شَافِيَ إِلا أَنْتَ ، اشْفِ شِفَاءً لا يُغَادِرُ سَقَمًا " ، فَلَمَّا كَانَ فِي مَرَضِهِ الَّذِي تُوُفِّيَ فِيهِ ، جَعَلْتُ أَدْعُو بِهَذَا الدُّعَاءِ ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " ارْفَعِي يَدَكِ فَإِنَّهَا كَانَتْ تَنْفَعُنِي فِي الْمُدَّةِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو وہی دعا پڑھ کر دم کیا کرتی تھی جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بیمار ہونے پر سیدنا جبرائیل علیہ السلام آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پڑھ کر دم کیا کرتے تھے (وہ یہ ہے) «أَذْهِبِ الْبَاسَ رَبَّ النَّاسِ، اشْفِ وَأَنْتَ الشَّافِي، لَا شِفَاءَ إِلَّا شِفَاؤُكَ، شِفَاءً لَا يُغَادِرُ سَقَمًا» ”تو تکلیف کو لے جا! اے لوگوں کے پروردگار، تو شفا نازل کر دے، تیرے علاوہ اور کوئی شفا عطا کرنے والا نہیں ہے، تو ایسی شفا عطا کر دے، جو بیماری کو نہ رہنے دے۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب اس بیماری میں مبتلا ہوئے جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال ہوا تھا، تو میں یہ دعا پڑھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دم کرنے لگی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم اپنا ہاتھ اٹھا لو، کیونکہ یہ ایک طویل عرصہ مجھے فائدہ دیتی رہی ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 2962]

2963

Sahih Ibn Hibban #2963

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَإِذَا اشْتَكَى ، قَرَأَ عَلَى نَفْسِهِ بِالْمُعَوِّذَاتِ ، وَيَنْفُثُ ، فَلَمَّا اشْتَدَّ وَجَعُهُ كُنْتُ أَقْرَأُ عَلَيْهِ وَأَمْسَحُ عَنْهُ بِيَدِهِ رَجَاءَ بَرَكَتِهَا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب بیمار ہوتے تھے، تو «الْمُعَوِّذَاتِ» ”معوذات“ پڑھ کر اپنے اوپر دم کرتے تھے اور پھونک مارتے تھے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تکلیف زیادہ ہو گئی، تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر پڑھ کر دم کرنا شروع کیا اور میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دستِ مبارک کی برکت کی امید رکھتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا دستِ مبارک ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر پھیرتی تھی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 2963]

2964

Sahih Ibn Hibban #2964

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الذُّهْلِيُّ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عُثْمَانُ بْنُ صَالِحٍ السَّهْمِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي نَافِعُ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ الثَّقَفِيِّ ، أَنَّهُ شَكَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَجَعًا يَجِدُهُ مُنْذُ أَسْلَمَ ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : ضَعْ يَدَكَ عَلَى الَّذِي تَأْلَمَ مِنْ جَسَدِكَ ، وَقُلْ : بِسْمِ اللَّهِ ثَلاثًا ، وَقُلْ : أَعُوذُ بِاللَّهِ وَقُدْرَتِهِ مِنْ شَرِّ مَا أَجِدُ وَأُحَاذِرُ ، سَبْعَ مَرَّاتٍ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

نافع بن جبیر، سیدنا عثمان بن ابوالعاص ثقفی رضی اللہ عنہ کے بارے میں نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اس تکلیف (یعنی بیماری) کی شکایت کی جو انہیں اسلام قبول کرنے کے بعد لاحق ہوئی تھی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”تم اپنا ہاتھ اس جگہ پر رکھو جہاں تمہیں اپنے جسم میں تکلیف محسوس ہوتی ہے اور تین مرتبہ «بِسْمِ اللّٰهِ» پڑھو اور سات مرتبہ یہ پڑھو: «أَعُوذُ بِاللّٰهِ وَقُدْرَتِهِ مِنْ شَرِّ مَا أَجِدُ وَأُحَاذِرُ» ”میں اللہ تعالیٰ اور اس کی قدرت کی پناہ مانگتا ہوں اس چیز کے شر سے جسے میں پا رہا ہوں اور جس سے بچنا چاہتا ہوں۔““ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 2964]

2965

Sahih Ibn Hibban #2965

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ خُصَيْفَةَ ، أَنَّ عَمْرَو بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبٍ السُّلَمِيَّ أَخْبَرَهُ ، أَنَّ نَافِعَ بْنَ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ أَخْبَرَهُ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ ، أَنَّهُ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ عُثْمَانُ : وَبِي وَجَعٌ قَدْ كَادَ يُهْلِكُنِي ، قَالَ : فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : امْسَحْ بِيَمِينِكَ سَبْعَ مَرَّاتٍ ، وَقُلْ : أَعُوذُ بِعِزَّةِ اللَّهِ وَقُدْرَتِهِ مِنْ شَرِّ مَا أَجِدُ "، قَالَ : فَقُلْتُ ذَلِكَ ، فَأَذْهَبَ اللَّهُ مَا كَانَ بِي فَلَمْ أَزَلْ آمُرُ بِهِ أَهْلِي وَغَيْرَهُمْ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عثمان بن ابوالعاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: مجھے ایسی تکلیف لاحق ہوئی جو مجھے ہلاکت کا شکار کر دے گی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”تم اپنا دایاں ہاتھ سات مرتبہ (تکلیف کی جگہ پر) پھیرو اور یہ پڑھو: «أَعُوذُ بِعِزَّةِ اللهِ وَقُدْرَتِهِ مِنْ شَرِّ مَا أَجِدُ» ”میں جو چیز پا رہا ہوں میں اس کے شر سے اللہ تعالیٰ کی عزت اور اس کی قدرت کی پناہ مانگتا ہوں۔“”سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے اسے پڑھا، تو اللہ تعالیٰ نے میری تکلیف کو ختم کر دیا، اس کے بعد میں ہمیشہ اپنے اہل خانہ اور دوسرے لوگوں کو اسی کی تلقین کرتا ہوں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 2965]

2966

Sahih Ibn Hibban #2966

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الطَّاهِرِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : لا يَتَمَنَّى أَحَدُكُمُ الْمَوْتَ لِضُرٍّ نَزَلَ بِهِ فِي الدُّنْيَا ، وَلَكِنْ لِيَقُلِ : اللَّهُمَّ أُحْيِنِي مَا كَانَتِ الْحَيَاةُ خَيْرًا لِي ، وَتَوَفَّنِي إِذَا كَانَتِ الْوَفَاةُ خَيْرًا لِي وَأَفْضَلَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”کوئی بھی شخص کسی دنیاوی تکلیف کے لاحق ہونے کی وجہ سے موت کی آرزو ہرگز نہ کرے بلکہ اسے یہ کہنا چاہیے: «اللَّهُمَّ أَحْيِنِي مَا كَانَتِ الْحَيَاةُ خَيْرًا لِي، وَتَوَفَّنِي إِذَا كَانَتِ الْوَفَاةُ خَيْرًا لِي» ”اے اللہ! جب تک زندگی میرے حق میں بہتر ہے، تو مجھے زندہ رکھ اور جب موت میرے حق میں بہتر اور افضل ہو، تو مجھے موت دے دینا۔“” [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 2966]

2967

Sahih Ibn Hibban #2967

أَخْبَرَنَا ابْنُ سَلْمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي نَافِعُ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ الثَّقَفِيِّ ، أَنَّهُ شَكَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَجَعًا يَجِدُهُ فِي جَسَدِهِ مُنْذُ أَسْلَمَ ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : ضَعْ يَدَكَ عَلَى الَّذِي تَأْلَمَ مِنْ جَسَدِكَ ، وَقُلْ ، بِسْمِ اللَّهِ ثَلاثًا ، وَقُلْ سَبْعَ مَرَّاتٍ : أَعُوذُ بِاللَّهِ وَقُدْرَتِهِ مِنْ شَرِّ مَا أَجِدُ وَأُحَاذِرُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عثمان بن ابوالعاص ثقفی رضی اللہ عنہ کے بارے میں منقول ہے کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اس تکلیف کی شکایت کی جو انہیں اسلام قبول کرنے کے دن سے لے کر اپنے جسم میں محسوس ہو رہی تھی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”تم اپنے جسم پر، جس جگہ تکلیف محسوس ہوتی ہے وہاں اپنا ہاتھ رکھو اور تین مرتبہ «بِسْمِ اللهِ» ”اللہ کے نام سے“ پڑھو اور سات مرتبہ یہ پڑھو: «أَعُوذُ بِاللهِ وَقُدْرَتِهِ مِنْ شَرِّ مَا أَجِدُ وَأُحَاذِرُ» ”میں جو چیز پا رہا ہوں اور جس سے بچنا چاہتا ہوں، اس کے شر سے اللہ تعالیٰ کی اور اس کی قدرت کی پناہ مانگتا ہوں“۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 2967]

2968

Sahih Ibn Hibban #2968

أَخْبَرَنَا السَّخْتِيَانِيُّ ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، حَدَّثَنَا ابْنُ ثَوْبَانَ ، أَخْبَرَنِي عُمَيْرُ بْنُ هَانِئٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ جُنَادَةَ بْنَ أَبِي أُمَيَّةَ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ عُبَادَةَ بْنَ الصَّامِتِ يُحَدِّثُ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّ جِبْرِيلَ رَقَاهُ وَهُوَ يُوعَكُ ، فَقَالَ :بِسْمِ اللَّهِ أَرْقِيكَ مِنْ كُلِّ دَاءٍ يُؤْذِيكَ ، وَمَنْ كُلِّ حَاسِدٍ إِذَا حَسَدَ ، وَمَنْ كُلِّ عَيْنٍ وُسُمٍّ ، وَاللَّهُ يَشْفِيكَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں: جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بیمار ہوتے تھے، تو سیدنا جبرائیل علیہ السلام یہ پڑھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دم کرتے تھے: «بِسْمِ اللهِ أَرْقِيكَ، مِنْ كُلِّ شَيْءٍ يُؤْذِيكَ، مِنْ حَسَدِ حَاسِدٍ، وَمِنْ كُلِّ عَيْنٍ وَسَمٍّ، اللهُ يَشْفِيكَ» ”اللہ تعالیٰ کے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے میں آپ کو دم کر رہا ہوں ہر اس بیماری کے لیے جو آپ کو تکلیف دے اور حاسد کے حسد سے (بچنے کے لیے) اور ہر آنکھ (یعنی لگنے والی نظر) اور زہر سے (بچنے کے لیے) اللہ تعالیٰ آپ کو شفا عطا کرے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 2968]

2969

Sahih Ibn Hibban #2969

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ الْيَشْكُرِيِّ ، عَنِ الْمَعْرُورِ بْنِ سُوَيْدٍ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : قَالَتْ أُمُّ حَبِيبَةَ : اللَّهُمَّ بَارِكَ لِي فِي زَوْجِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَبِي أبي سُفْيَانَ ، وَأَخِي مُعَاوِيَةَ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَقَدْسَأَلْتِ اللَّهَ عَنْ آجَالٍ مَضْرُوبَةٍ ، وَآثَارٍ مَبْلُوغَةٍ ، وَأَرْزَاقٍ مَقْسُومَةٍ ، لا يُعَجَّلُ مِنْهَا شَيْءٌ قَبْلَ حِلِّهِ ، فَلَوْ سَأَلْتِ اللَّهَ أَنْ يُعِيذَكِ مِنْ عَذَابِ النَّارِ ، أَوْ عَذَابِ الْقَبْرِ كَانَ خَيْرًا ، أَوْ كَانَ أَفْضَلَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے دعا کی: اے اللہ! میرے شوہر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ، میرے والد سیدنا ابوسفیان رضی اللہ عنہ اور میرے بھائی معاویہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے مجھے برکت نصیب کر (یعنی انہیں لمبی زندگی دے)، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم نے اللہ تعالیٰ سے ایسی چیز کے بارے میں سوال کیا ہے، جس کا وقت طے ہے اور جس کے نشانات تک پہنچا جائے گا اور جس کا رزق تقسیم ہو چکا ہے، ان میں سے کوئی بھی چیز اپنے مخصوص وقت سے پہلے تقسیم نہیں ہو سکتی۔ اگر تم اللہ تعالیٰ سے یہ دعا مانگتی کہ وہ تمہیں جہنم کے عذاب سے یا قبر کے عذاب سے بچائے، تو یہ زیادہ بہتر ہوتا (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) یہ افضل تھا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 2969]

2970

Sahih Ibn Hibban #2970

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنِ خَلادٍ الْبَاهِلِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى الْقَطَّانُ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، عَنْ مُسْلِمٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، كَانَإِذَا عَادَ الْمَرِيضَ مَسَحَهُ بِيَمِينِهِ ، وَقَالَ : أَذْهِبِ الْبَاسَ رَبَّ النَّاسِ ، وَاشْفِ أَنْتَ الشَّافِي ، اشْفِ شِفَاءً لا يُغَادِرُ سَقَمًا "، قَالَ : فَحَدَّثْتُ بِهِ مَنْصُورًا ، فَحَدَّثَنِي عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ بِنَحْوِهِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کسی بیمار کی عیادت کرتے تھے، تو اپنا دست مبارک اس پر پھیرتے اور یہ فرماتے تھے: «أَذْهِبِ الْبَاسَ رَبَّ النَّاسِ، وَاشْفِ أَنْتَ الشَّافِي، لَا شِفَاءَ إِلَّا شِفَاؤُكَ، شِفَاءً لَا يُغَادِرُ سَقَمًا» ”تکلیف کو دور کر دے، اے لوگوں کے پروردگار! تو ہی شفا عطا کرنے والا ہے، تو ایسی شفا عطا کر دے، جو بیماری کو نہ رہنے دے۔“ راوی کہتے ہیں: میں نے یہ روایت منصور رحمہ اللہ کو سنائی، تو انہوں نے ابراہیم رحمہ اللہ، مسروق رحمہ اللہ کے حوالے سے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے حوالے سے اسی کی مانند روایت بیان کی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 2970]

2971

Sahih Ibn Hibban #2971

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ،إِذَا أَتَى مَرِيضًا أَوْ أُتِيَ بِمَرِيضٍ ، قَالَ : أَذْهِبِ الْبَاسَ رَبَّ النَّاسِ ، اشْفِ أَنْتَ الشَّافِي ، لا شِفَاءَ إِلا شِفَاؤُكَ شِفَاءً لا يُغَادِرُ سَقَمًا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کسی بیمار کے پاس تشریف لاتے یا آپ کی خدمت میں جب کسی بیمار کو لایا جاتا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ پڑھ کر (دم کرتے تھے): «أَذْهِبِ الْبَاسَ رَبَّ النَّاسِ، وَاشْفِ أَنْتَ الشَّافِي، لَا شِفَاءَ إِلَّا شِفَاؤُكَ، شِفَاءً لَا يُغَادِرُ سَقَمًا» ”تو بیماری کو لے جا، اے لوگوں کے پروردگار! تو شفا عطا کر دے، تو ہی شفا عطا کرنے والا ہے، شفا صرف وہی ہے جو تو عطا کرے، تو ایسی شفا عطا کر جو بیماری کو نہ رہنے دے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 2971]

2972

Sahih Ibn Hibban #2972

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْجُنَيْدِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يُوسُفَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ،إِذَا أُتِيَ بِالْمَرِيضِ يَدْعُو ، وَيَقُولُ : أَذْهِبِ الْبَاسَ رَبَّ النَّاسِ اشْفِ أَنْتَ الشَّافِي ، لا شِفَاءَ إِلا شِفَاؤُكَ شِفَاءً لا يُغَادِرُ سَقَمًا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں جب کسی بیمار کو لایا جاتا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا پڑھتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ کہتے تھے: «أَذْهِبِ الْبَاسَ رَبَّ النَّاسِ، وَاشْفِ أَنْتَ الشَّافِي، لَا شِفَاءَ إِلَّا شِفَاؤُكَ، شِفَاءً لَا يُغَادِرُ سَقَمًا» ”تو تکلیف کو دور کر دے اے لوگوں کے پروردگار، تو شفا عطا کر دے، تو شفا عطا کرنے والا ہے۔ شفا صرف وہی ہے جو تو عطا کرے، تو ایسی شفا عطا کر جو بیماری کو نہ رہنے دے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 2972]

2973

Sahih Ibn Hibban #2973

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَبْدِ رَبِّهِ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ عَمْرَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، كَانَ مِمَّا يَقُولُ لِلْمَرِيضِ يَقُولُ بِبُزَاقِهِ بِإِصْبَعِهِ : بِسْمِ اللَّهِ تُرْبَةُ أَرْضِنَا بَرِيقَةِ بَعْضِنَا يُشْفَى سَقِيمُنَا بِإِذْنِ رَبَّنَا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بیمار کو جو دم کیا کرتے تھے اس میں یہ بھی تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی انگلی پر اپنا لعابِ دہن لگاتے اور یہ پڑھتے تھے: «بِسْمِ اللّٰهِ، تُرْبَةُ أَرْضِنَا، بِرِيقَةِ بَعْضِنَا، يُشْفَى سَقِيمُنَا، بِإِذْنِ رَبِّنَا» ”اللہ تعالیٰ کے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے ہماری زمین کی مٹی ہم میں سے ایک فرد کے لعاب کے ہمراہ ہے اور ہمارے پروردگار کے اذن کے تحت ہمارے بیمار کو شفا نصیب ہو جائے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 2973]

2974

Sahih Ibn Hibban #2974

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حُيَيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، كَانَإِذَا جَاءَ الرَّجُلَ يَعُودُهُ ، قَالَ : اللَّهُمَّ اشْفِ عَبْدَكَ ، يَنْكَأُ لَكَ عَدُوًّا ، أَوْ يَمْشِي لَكَ إِلَى صَلاةٍ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی شخص کے پاس اس کی عیادت کرنے کے لیے تشریف لاتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا کرتے: «اللَّهُمَّ اشْفِ عَبْدَكَ، يَنْكَأُ لَكَ عَدُوًّا، أَوْ يَمْشِي لَكَ إِلَى صَلَاةٍ» ”اے اللہ! تو اپنے بندے کو شفا عطا کر، تاکہ وہ تیرے لیے دشمن کی آنکھ پھوڑ دے یا وہ تیرے لیے نماز کی طرف چل کے جائے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 2974]

2975

Sahih Ibn Hibban #2975

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ بِبَيْتِ الْمَقْدِسِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ عَبْدِ رَبِّهِ بْنِ سَعِيدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مِنْهَالُ بْنُ عَمْرٍو ، قَالَ : أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ،إِذَا عَادَ مَرِيضًا جَلَسَ عِنْدَ رَأْسِهِ ، ثُمَّ قَالَ سَبْعَ مِرَارٍ : أَسْأَلُ اللَّهَ الْعَظِيمَ ، رَبَّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ ، أَنْ يَشْفِيكَ "، فَإِنْ كَانَ فِي أَجَلِهِ تَأْخِيرٌ ، عُوفِيَ مِنْ وَجَعِهِ ذَلِكَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی بیمار کی عیادت کرتے تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے سرہانے بیٹھ جاتے تھے پھر سات مرتبہ یہ پڑھتے تھے: «أَسْأَلُ اللَّهَ الْعَظِيمَ رَبَّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ أَنْ يَشْفِيَكَ» ”میں عظیم اللہ سے، جو عظیم عرش کا پروردگار ہے، یہ سوال کرتا ہوں کہ وہ تمہیں شفا عطا کرے۔“ تو اگر اس کے آخری وقت میں تاخیر ہوتی، تو اسے اس بیماری میں عافیت نصیب ہو جاتی تھی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 2975]

2976

Sahih Ibn Hibban #2976

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا النَّضْرُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ حَاطِبٍ ، يَقُولُ : انْصَبَّتْ عَلَى يَدَيْ مَرَقَةٌ ، فَأَحْرَقَتْهَا ، فَذَهَبَتْ بِي أُمِّي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَتَيْنَاهُ وَهُوَ فِي الرَّحْبَةِ ، فَأَحْفَظُ أَنَّهُ قَالَ : أَذْهِبِ الْبَاسَ رَبَّ النَّاسِ " ، وَأَكْثَرُ عِلْمِي أَنَّهُ قَالَ : " أَنْتَ الشَّافِي لا شَافِيَ إِلا أَنْتَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا محمد بن حاطب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میرے ہاتھ پر سالن گر گیا، اس نے اسے جلا دیا۔ میری والدہ مجھے لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت کھلی جگہ پر تشریف فرما تھے مجھے یہ بات یاد ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ پڑھا تھا: «أَذْهِبِ الْبَاسَ رَبَّ النَّاسِ» ”تو تکلیف کو دور کر دے اے لوگوں کے پروردگار۔“ اور میرا غالب علم یہی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ پڑھا تھا: «اشْفِ أَنْتَ الشَّافِي» ”تو شفا عطا کرنے والا ہے صرف، تو ہی شفا عطا کر سکتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 2976]

2977

Sahih Ibn Hibban #2977

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى زَحْمَوَيْهِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ حَاطِبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ جَدِّهِ مُحَمَّدِ بْنِ حَاطِبٍ ، عَنْ أُمِّهِ أُمِّ جَمِيلٍ بِنْتِ الْمُجَلِّلِ ، قَالَتْ : أَقْبَلْتُ بِكَ مِنْ أَرْضِ الْحَبَشَةِ ، حَتَّى إِذَا كُنْتَ مِنَ الْمَدِينَةِ ، عَلَى لَيْلَةٍ أَوْ لَيْلَتَيْنِ طَبَخْتُ لَكَ طَبْخَةً فَفَنِيَ الْحَطَبُ ، فَخَرَجْتُ أَطْلُبُهُ ، فَتَنَاوَلْتَ الْقَدْرَ ، فَانْكَفَأَتْ عَلَى ذِرَاعِكَ ، فَأَتَيْتُ بِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هَذَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاطِبٍ ، وَهُوَ أَوْلُ مَنْ سُمِّيَ بِكَ ، قَالَتْ : فَتَفَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فِي فِيكَ ، وَمَسَحَ عَلَى رَأْسِكَ وَدَعَا لَكَ وَقَالَ : أَذْهِبِ الْبَاسَ رَبَّ النَّاسِ ، وَاشْفِ أَنْتَ الشَّافِي لا شِفَاءَ ، إِلا شِفَاؤُكَ شِفَاءً لا يُغَادِرُ سَقَمًا "، قَالَتْ : فَمَا قُمْتُ بِكَ مِنْ عِنْدَهُ إِلا وَقَدْ بَرِئَتْ يَدُكَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا محمد بن حاطب رضی اللہ عنہ اپنی والدہ سیدہ ام جمیل بنت مجلل رضی اللہ عنہا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: میں تمہیں لے کر حبشہ کی سرزمین سے آئی، ابھی مدینہ منورہ آئے ہوئے ایک یا دو راتیں گزری تھیں کہ میں نے تمہارے لیے کھانا تیار کیا، لکڑیاں ختم ہو گئیں، میں لکڑیوں کی تلاش میں نکلی، تم نے ہنڈیا کو پکڑا اور اپنی کلائی کے اوپر انڈیل لیا، میں تمہیں لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی، میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ محمد بن حاطب ہے اور یہ پہلا بچہ ہے، جس کا نام آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اسم مبارک پر رکھا گیا ہے، سیدہ ام جمیل رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا لعابِ دہن تمہارے منہ میں ڈالا، تمہارے سر پر دستِ مبارک پھیرا اور تمہارے لیے دعا کی اور یہ کہا: «أَذْهِبِ الْبَأْسَ رَبَّ النَّاسِ، وَاشْفِ أَنْتَ الشَّافِي، لَا شِفَاءَ إِلَّا شِفَاؤُكَ، شِفَاءً لَا يُغَادِرُ سَقَمًا» ”اے لوگوں کے پروردگار! تو تکلیف کو دور کر دے، تو شفا عطا کر دے، تو ہی شفا عطا کرنے والا ہے، شفا صرف وہی ہے، جو تو عطا کرے، ایسی شفا عطا کر دے جو بیماری کو نہ رہنے دے۔“ سیدہ ام جمیل رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: ابھی میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت سے تمہیں لے کر اٹھی نہیں تھی کہ تمہارا ہاتھ ٹھیک ہو گیا تھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 2977]

2978

Sahih Ibn Hibban #2978

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ عَبْدِ رَبِّهِ بْنِ سَعِيدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي الْمِنْهَالُ بْنُ عَمْرٍو ، قَالَ : أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَإِذَا عَادَ الْمَرِيضَ جَلَسَ عِنْدَ رَأْسِهِ ، ثُمَّ قَالَ سَبْعَ مَرَّاتٍ : أَسْأَلُ اللَّهَ الْعَظِيمَ رَبَّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ ، أَنْ يَشْفِيَكَ "، فَإِنْ كَانَ فِي أَجَلِهِ تَأْخِيرٌ عُوفِيَ مِنْ وَجَعِهِ ذَلِكَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی بیمار کی عیادت کرتے تھے، تو اس کے سرہانے تشریف فرما ہوتے اور پھر سات مرتبہ یہ پڑھتے تھے: «أَسْأَلُ اللَّهَ الْعَظِيمَ، رَبَّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ، أَنْ يَشْفِيَكَ» ”میں اللہ عظیم سے، جو عظیم عرش کا پروردگار ہے، یہ سوال کرتا ہوں کہ وہ تمہیں شفا عطا کرے۔“ تو اگر اس کا آخری وقت قریب آنے میں تاخیر ہوتی، تو اسے اس بیماری سے عافیت نصیب ہو جاتی تھی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 2978]

2979

Sahih Ibn Hibban #2979

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : مَنْ عَمَّرَهُ اللَّهُ سِتِّينَ سَنَةً فَقَدْ أَعْذَرَ إِلَيْهِ فِي الْعُمْرِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جسے اللہ تعالیٰ ساٹھ سال کی عمر عطا کر دے، تو عمر کے حوالے سے اس کے لیے کوئی عذر باقی نہیں رہنے دیتا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 2979]

2980

Sahih Ibn Hibban #2980

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ بْنِ إِسْحَاقَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْمُحَارِبِيُّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَعْمَارُ أُمَّتِي مَا بَيْنَ السِّتِّينَ إِلَى السَّبْعِينَ ، وَأَقَلُّهُمْ مَنْ يَجُوزُ ذَلِكَ "، قَالَ ابْنُ عَرَفَةَ : وَأَنَا مِنَ الأَقَلِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”میری امت کی (اوسط) عمریں ساٹھ سال سے لے کر ستر سال تک ہوں گی اور بہت کم لوگ ہوں گے جو انہیں عبور کریں گے۔“ ابن عرفہ نامی راوی کہتے ہیں: میں ان کم لوگوں میں سے ہوں (یعنی میری عمر ستر سال سے زیادہ ہو چکی ہے)۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 2980]

2981

Sahih Ibn Hibban #2981

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُوسَى بِعَسْكَرِ مُكْرَمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الْعُقَيْلِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيُّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : أَلا أُنَبِّئُكُمْ بِخِيَارِكُمْ " ، قَالُوا : بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ :" خِيَارُكُمْ أَطْوَلُكُمْ أَعْمَارًا ، وَأَحْسَنُكُمْ أَعْمَالا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”کیا میں تمہیں تمہارے بہترین لوگوں کے بارے میں نہ بتاؤں؟“ لوگوں نے عرض کی: جی ہاں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارے بہترین وہ لوگ ہیں جن کی عمریں طویل ہوں اور ان کے عمل اچھے ہوں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 2981]

2982

Sahih Ibn Hibban #2982

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، وَابْنُ أَبِي حَازِمٍ ، يزيد أحدهما عَنْ صَاحِبِهِ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْهَادِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَدِمَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلانِ مِنْ بَلِيٍّ ، فَكَانَ إِسْلامُهُمَا جَمِيعًا وَاحِدًا ، وَكَانَ أَحَدُهُمَا أَشَدَّ اجْتِهَادًا مِنَ الآخَرِ ، فَغَزَا الْمُجْتَهِدُ فَاسْتُشْهِدَ ، وَعَاشَ الآخَرُ سَنَةً حَتَّى صَامَ رَمَضَانَ ، ثُمَّ مَاتَ ، فَرَأَى طَلْحَةُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ خَارِجًا خَرَجَ مِنَ الْجَنَّةِ ، فَأَذِنَ لِلَّذِي تُوُفِّيَ آخِرَهُمَا ، ثُمَّ خَرَجَ فَأَذِنَ لِلَّذِي اسْتُشْهِدَ ، ثُمَّ رَجَعَ إِلَى طَلْحَةَ ، فَقَالَ : ارْجِعْ فَإِنَّهُ لَمْ يَأْنِ لَكَ ، فَأَصْبَحَ طَلْحَةُ يُحَدِّثُ بِهِ النَّاسَ ، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَحَدَّثُوهُ الْحَدِيثَ ، وَعَجِبُوا ، قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، كَانَأَشَدَّ الرَّجُلَيْنِ اجْتِهَادًا ، وَاسْتُشْهِدَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، وَدَخَلَ هَذَا الْجَنَّةَ قَبْلَهُ ! فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَلَيْسَ قَدْ مَكَثَ هَذَا بَعْدَهُ بِسَنَةٍ ؟ " قَالُوا : نَعَمْ ، قَالَ : " وَأَدْرَكَ رَمَضَانَ فَصَامَهُ ، وَصَلَّى كَذَا وَكَذَا فِي الْمَسْجِدِ فِي السَنَةِ ؟ " قَالُوا : بَلَى ، قَالَ : " فَلَمَّا بَيْنَهُمَا أَبْعَدُ مِمَّا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالأَرْضِ "، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : مَاتَ أَبُو سَلَمَةَ سَنَةَ أَرْبَعٍ وَتِسْعِينَ ، وَقُتِلَ طَلْحَةُ سَنَةَ سِتٍّ وَثَلاثِينَ يَوْمَ الْجَمَلِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ «بَلِیّ» نامی علاقے سے تعلق رکھنے والے دو آدمی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، ان دونوں نے ایک ساتھ اسلام قبول کیا، ان دونوں میں سے ایک دوسرے کے مقابلے میں زیادہ کوشش کرنے والا تھا، اس کوشش کرنے والے نے جنگ میں حصہ لیا اور جامِ شہادت نوش کر لیا، دوسرا شخص مزید ایک سال تک زندہ رہا یہاں تک کہ اس نے رمضان کے روزے بھی رکھے پھر اس کا انتقال ہوا۔ ایک مرتبہ سیدنا طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ نے خواب میں دیکھا کہ ایک شخص جنت سے باہر آیا، اس نے اس شخص کو جنت میں جانے کی اجازت دی جس کا انتقال ان دونوں افراد میں سے بعد میں ہوا تھا، پھر وہ شخص جنت سے باہر آیا اور اس نے اسے اندر جانے کی اجازت دی جو شہید ہوا تھا، پھر وہ سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ کی طرف واپس آیا اور بولا: ”تم ابھی واپس چلے جاؤ ابھی تمہارا وقت نہیں آیا۔“ اگلے دن سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ نے اس بارے میں لوگوں سے بات چیت کی، اس بات کی اطلاع نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ملی، لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بارے میں بتایا اور اپنی حیرانگی کا اظہار کیا، ان لوگوں نے عرض کی: ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! وہ شخص تو ان دونوں میں سے زیادہ کوشش کرنے والا تھا اور وہ اللہ کی راہ میں شہید بھی ہوا تھا، لیکن یہ (دوسرے والا) اس سے پہلے جنت میں داخل ہو گیا؟“ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”کیا اس نے اس کے بعد ایک سال تک زندگی بسر نہیں کی تھی؟“ لوگوں نے عرض کی: ”جی ہاں۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس شخص نے رمضان کا مہینہ پایا تھا اور اس میں روزے رکھے تھے اور سال بھر میں مسجد میں اتنی اتنی نمازیں ادا نہیں کی تھیں؟“ لوگوں نے عرض کی: ”جی ہاں۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسی لیے ان دونوں کے درمیان اس سے زیادہ فرق ہے جتنا آسمان اور زمین کے درمیان فاصلہ ہے۔“ ابوسلمہ نامی راوی کا انتقال 94 ہجری میں ہوا تھا جبکہ سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ جنگِ جمل کے موقع پر سن 36 ہجری میں شہید ہوئے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 2982]

2983

Sahih Ibn Hibban #2983

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ الصُّوفِيُّ بِبَغْدَادَ ، حَدَّثَنَا الْهَيْثَمُ بْنُ خَارِجَةَ وَكَانَ يُسَمَّى شُعْبَةَ الصَّغِيرَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حِمْيَرٍ ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ عَجْلانَ ، عَنْ سُلَيْمِ بْنِ عَامِرٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ شَابَ شَيْبَةً فِي الإِسْلامِ ، كَانَتْ لَهُ نُورًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”جو شخص اسلام میں بوڑھا ہو جائے (یعنی جس مسلمان کے سفید بال آ جائیں)، تو یہ اس کے لیے قیامت کے دن نور ہوں گے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 2983]

2984

Sahih Ibn Hibban #2984

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَحْمُودِ بْنِ عَدِيٍّ بِنَسَا ، قَالَ : حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ زَنْجَوَيْهِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ أَبِي نَجِيحٍ السُّلَمِيِّ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : مَنْ شَابَ شَيْبَةً فِي سَبِيلِ اللَّهِ كَانَتْ لَهُ نُورًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابونجیح سلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جو شخص اللہ کی راہ میں بوڑھا ہو جائے (یعنی اس کے سفید بال آ جائیں)، تو یہ چیز اس کے لیے قیامت کے دن نور ہو گی۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 2984]

2985

Sahih Ibn Hibban #2985

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ السَّامِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : لا تَنْتِفُوا الشَّيْبَ فَإِنَّهُ نُورٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، وَمَنْ شَابَ شَيْبَةً فِي الإِسْلامِ كُتِبَ لَهُ بِهَا حَسَنَةٌ ، وَحُطَّ عَنْهُ بِهَا خَطِيئَةٌ ، وَرُفِعَ لَهُ بِهَا دَرَجَةٌ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”تم سفید بالوں کو نہ اکھاڑو، کیونکہ یہ قیامت کے دن نور ہوں گے اور جو شخص اسلام میں بوڑھا ہو جائے (یعنی اس کے سفید بال آ جائیں)، تو اس کے لیے ان کے عوض میں نیکیاں لکھی جائیں گی، ان کے عوض میں اس کے گناہ معاف ہوں گے اور ان کے عوض میں اس کے درجات بلند ہوں گے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 2985]

2986

Sahih Ibn Hibban #2986

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ بْنِ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدَ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : لَمَّا رَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ تَبُوكَ سُئِلَ عَنِ السَّاعَةِ ، فَقَالَ : لا يَأْتِي عَلَى النَّاسِ مِائَةُ سَنَةٍ وَعَلَى ظَهْرِ الأَرْضِ نَفْسٌ مَنْفُوسَةٌ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تبوک سے واپس تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے قیامت کے بارے میں دریافت کیا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اس وقت روئے زمین پر موجود کوئی شخص آج سے ٹھیک ایک سو سال بعد زندہ نہیں ہو گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 2986]

2987

Sahih Ibn Hibban #2987

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي عَوْنٍ ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ قَبْلَ أَنْ يَمُوتَ بِشَهْرٍ : تَسْأَلُونِي عَنِ السَّاعَةِ وَإِنَّمَا عِلْمُهَا عِنْدَ اللَّهِ ، وَأُقْسِمُ بِاللَّهِ : مَا عَلَى ظَهْرِ الأَرْضِ نَفْسٌ مَنْفُوسَةٌ الْيَوْمَ يَأْتِي عَلَيْهَا مِائَةُ سَنَةٍ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو وصال سے ایک ماہ پہلے یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا: ”تم لوگ مجھ سے قیامت کے بارے میں دریافت کرتے ہو، اس کا علم اللہ کے پاس ہے اور میں اللہ کے نام کی قسم اٹھا کر یہ کہتا ہوں کہ آج روئے زمین پر جو بھی شخص موجود ہے، وہ آج سے ایک سو سال بعد زندہ نہیں ہو گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 2987]

2988

Sahih Ibn Hibban #2988

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ ، حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ الْقَيْسِيُّ ، حَدَّثَنَا مُبَارَكُ بْنُ فَضَالَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ الْحَسَنَ يُحَدِّثُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : تَسْأَلُونِي عَنِ السَّاعَةِ ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا عَلَى الأَرْضِ نَفْسٌ مَنْفُوسَةٌ يَأْتِي عَلَيْهَا مِائَةُ سَنَةٍ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”تم لوگ مجھ سے قیامت کے بارے میں دریافت کرتے ہو، اس ذات کی قسم! جس کے دستِ قدرت میں میری جان ہے، اس وقت روئے زمین پر موجود کوئی بھی زندہ شخص آج سے ایک سو سال بعد زندہ نہیں ہو گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 2988]

2989

Sahih Ibn Hibban #2989

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحِيمِ الْبَرْقِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُفَيْرٍ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ خَالِدِ بْنِ مُسَافِرٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَالِمٍ ، وأبي بكر بن سليمان بن أبي حثمة ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، قَالَ : صَلَّى لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، صَلاةَ الْعِشَاءِ فِي آخِرِ حَيَاتِهِ ، فَلَمَّا سَلَّمَ قَامَ ، فَقَالَ : رَأَيْتُمْ لَيْلَتَكُمْ هَذِهِ ؟ فَإِنَّ عَلَى رَأْسِ مِائَةِ سَنَةٍ لا يَبْقَى مِنْهَا مِمَّنْ هُوَ عَلَى ظَهْرِ الأَرْضِ أَحَدٌ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی حیات کے آخری دور میں ہمیں عشاء کی نماز پڑھائی، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تمہیں اپنی اس آج کی رات کے بارے میں پتہ ہے؟ آج سے ٹھیک ایک سو سال بعد ایسا کوئی شخص باقی نہیں ہو گا جو اس وقت روئے زمین پر موجود ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 2989]

2990

Sahih Ibn Hibban #2990

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : مَا مِنْكُمْ مِنْ نَفْسٍ مَنْفُوسَةٍ يَأْتِي عَلَيْهَا مِائَةُ سَنَةٍ وَهِيَ حَيَّةٌ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”تم میں سے جو شخص بھی آج زندہ ہے، ایک سو سال گزرنے کے بعد ان میں سے کوئی بھی زندہ نہیں ہو گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 2990]

2991

Sahih Ibn Hibban #2991

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا مُبَارَكُ بْنُ فَضَالَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ الْحَسَنَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : تَسْأَلُونَنِي عَنِ السَّاعَةِ ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا عَلَى الأَرْضِ نَفْسٌ مَنْفُوسَةٌ الْيَوْمَ تَأْتِي عَلَيْهَا مِائَةُ سَنَةٍ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”تم لوگ مجھ سے قیامت کے بارے میں دریافت کرتے ہو۔ اس ذات کی قسم! جس کے دستِ قدرت میں میری جان ہے، آج روئے زمین پر موجود کوئی بھی زندہ شخص ایک سو سال کے بعد زندہ نہیں ہوگا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 2991]

2992

Sahih Ibn Hibban #2992

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَحْمُودِ بْنِ سُلَيْمَانَ السَّعْدِيُّ ، حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلانَ ، وَيَحْيَى بْنُ أَكْثَمَ ، قَالا : حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَكْثِرُوا ذِكْرَ هَاذِمِ اللَّذَّاتِ الْمَوْتِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”لذتوں کو ختم کرنے والی چیز موت کو کثرت سے یاد کرو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 2992]