Sahih Ibn Hibban #2919
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ السَّلامِ بِبَيْرُوتَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَلْفٍ الدَّارِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مَعْمَرُ بْنُ يَعْمُرَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ سَلامٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو قِلابَةَ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ نَسِيبٍ أَخْبَرَهُ ، أَنَّ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْهُ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، طَرَقَهُ وَجَعٌ فَجَعَلَ يَشْتَكِي وَيَتَقَلَّبُ عَلَى فِرَاشِهِ ، فَقَالَتْ لَهُ عَائِشَةُ : لَوْ صَنَعَ هَذَا بَعْضُنَا لَوَجِدْتَ عَلَيْهِ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّالصَّالِحِينَ قَدْ يُشَدَّدُ عَلَيْهِمْ ، وَإِنَّهُ لا يُصِيبُ مُؤْمِنًا نَكْبَةٌ مِنْ شَوْكَةٍ فَمَا فَوْقَهَا إِلا حُطَّتْ عَنْهُ بِهَا خَطِيئَةٌ ، وَرُفِعَ لَهُ بِهَا دَرَجَةٌ "، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ وَاهِمٌ فِي قَوْلِهِ : عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نَسِيبٍ ، إِنَّمَا هُوَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ نَسِيبُ بْنُ سِيرِينَ ، فَسَقَطَ عَلَيْهِ الْحَارِثُ فَقَالَ : عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نَسِيبٍ"
اردو ترجمہ · UrduUnverified translation
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو تکلیف لاحق ہوئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم بے چین ہوتے تھے اور اپنے بستر پر پہلو بدلتے تھے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی کہ اگر یہ ہم میں سے کسی نے کیا ہوتا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر ناراضی کا اظہار کرتے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”نیک لوگوں پر شدت لاحق ہوتی ہے، مومن شخص کو جو کانٹا بھی لگتا ہے یا اس کے علاوہ جو تکلیف ہوتی ہے، تو اس کی وجہ سے اس کے گناہ کو مٹا دیا جاتا ہے اور اس کی وجہ سے اس کے درجے کو بلند کیا جاتا ہے۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) عیسیٰ بن ابوکثیر نے راوی کا نام عبداللہ بن نسیب نقل کرتے ہوئے غلطی کی ہے، اصل نام عبداللہ بن حارث ہے اور یہ ابن سیرین کے بھانجے ہیں، تو لفظ حارث وہ نقل نہیں کر سکے اور انہوں نے لفظ عبداللہ بن نسیب ذکر کر دیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 2919]