Muslim99Muslim99

Sahih Ibn Hibban · Book 26 · Chapter 3

Book of Endowments

Hadith 2919–2952

34 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

2919

Sahih Ibn Hibban #2919

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ السَّلامِ بِبَيْرُوتَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَلْفٍ الدَّارِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مَعْمَرُ بْنُ يَعْمُرَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ سَلامٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو قِلابَةَ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ نَسِيبٍ أَخْبَرَهُ ، أَنَّ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْهُ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، طَرَقَهُ وَجَعٌ فَجَعَلَ يَشْتَكِي وَيَتَقَلَّبُ عَلَى فِرَاشِهِ ، فَقَالَتْ لَهُ عَائِشَةُ : لَوْ صَنَعَ هَذَا بَعْضُنَا لَوَجِدْتَ عَلَيْهِ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّالصَّالِحِينَ قَدْ يُشَدَّدُ عَلَيْهِمْ ، وَإِنَّهُ لا يُصِيبُ مُؤْمِنًا نَكْبَةٌ مِنْ شَوْكَةٍ فَمَا فَوْقَهَا إِلا حُطَّتْ عَنْهُ بِهَا خَطِيئَةٌ ، وَرُفِعَ لَهُ بِهَا دَرَجَةٌ "، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ وَاهِمٌ فِي قَوْلِهِ : عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نَسِيبٍ ، إِنَّمَا هُوَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ نَسِيبُ بْنُ سِيرِينَ ، فَسَقَطَ عَلَيْهِ الْحَارِثُ فَقَالَ : عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نَسِيبٍ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو تکلیف لاحق ہوئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم بے چین ہوتے تھے اور اپنے بستر پر پہلو بدلتے تھے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی کہ اگر یہ ہم میں سے کسی نے کیا ہوتا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر ناراضی کا اظہار کرتے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”نیک لوگوں پر شدت لاحق ہوتی ہے، مومن شخص کو جو کانٹا بھی لگتا ہے یا اس کے علاوہ جو تکلیف ہوتی ہے، تو اس کی وجہ سے اس کے گناہ کو مٹا دیا جاتا ہے اور اس کی وجہ سے اس کے درجے کو بلند کیا جاتا ہے۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) عیسیٰ بن ابوکثیر نے راوی کا نام عبداللہ بن نسیب نقل کرتے ہوئے غلطی کی ہے، اصل نام عبداللہ بن حارث ہے اور یہ ابن سیرین کے بھانجے ہیں، تو لفظ حارث وہ نقل نہیں کر سکے اور انہوں نے لفظ عبداللہ بن نسیب ذکر کر دیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 2919]

2920

Sahih Ibn Hibban #2920

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الطَّالَقَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ ، عَنِ الْعَلاءِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ سَعْدٍ ، قَالَ : سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ،أَيُّ النَّاسِ أَشَدُّ بَلاءً ؟ قَالَ : الأَنْبِيَاءُ ، ثُمَّ الأَمْثَلُ فَالأَمْثَلُ ، يُبْتَلَى النَّاسُ عَلَى قَدْرِ دِينِهِمْ ، فَمَنْ ثَخُنَ دِينُهُ ، اشْتَدَّ بَلاؤُهُ ، وَمَنْ ضَعُفَ دِينُهُ ضَعُفَ بَلاؤُهُ ، وَإِنَّ الرَّجُلَ لِيُصِيبَهُ الْبَلاءُ حَتَّى يَمْشِيَ فِي النَّاسِ مَا عَلَيْهِ خَطِيئَةٌ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا گیا: سب سے زیادہ آزمائش کس کو لاحق ہوتی ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انبیاء کو، پھر درجہ بدرجہ (نیک لوگوں کو)، لوگوں کو ان کے دین کے حساب سے آزمائش میں مبتلا کیا جاتا ہے، جس کا دین مضبوط ہوتا ہے اس کی آزمائش شدید ہوتی ہے، جس کا دین کمزور ہوتا ہے اس کی آزمائش بھی کمزور ہوتی ہے، آدمی آزمائش میں مبتلا رہتا ہے، یہاں تک کہ وہ لوگوں کے درمیان چلتا ہے، تو اس پر کوئی گناہ نہیں ہوتا (یعنی آزمائش کی وجہ سے اس کے گناہ معاف ہو جاتے ہیں)۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 2920]

2921

Sahih Ibn Hibban #2921

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ بَهْدَلَةَ ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ،مَنْ أَشَدُّ النَّاسِ بَلاءً ؟ قَالَ : الأَنْبِيَاءُ ، ثُمَّ الأَمْثَلُ فَالأَمْثَلُ ، يُبْتَلَى الْعَبْدُ عَلَى حَسَبِ دِينِهِ ، فَمَا يَبْرَحُ بِالْعَبْدِ حَتَّى يَمْشِيَ عَلَى الأَرْضِ وَمَا عَلَيْهِ خَطِيئَةٌ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

مصعب بن سعد رحمہ اللہ اپنے والد رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں، انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! سب سے زیادہ شدید آزمائش کسے لاحق ہوتی ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انبیاء کو پھر درجہ بدرجہ (نیک لوگوں کو) بندے کو اس کے دین کے حساب سے آزمائش میں مبتلا کیا جاتا ہے اور وہ آزمائش مسلسل بندے کے ساتھ رہتی ہے، یہاں تک کہ وہ زمین پر ایسی حالت میں چلتا ہے کہ اس پر کوئی گناہ نہیں ہوتا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 2921]

2922

Sahih Ibn Hibban #2922

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا الْقَوَارِيرِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو مَعْشَرٍ الْبَرَاءُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شَدَّادُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي الْوَازِعِ جَابِرِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الْمُغَفَّلِ ، يَقُولُ : أَتَى رَجُلٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي لأُحِبُّكَ ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّالْبَلايَا أَسْرَعُ إِلَى مَنْ يُحِبُّنِي مِنَ السَّيْلِ إِلَى مُنْتَهَاهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اس نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اللہ کی قسم! میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کرتا ہوں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: ”جو شخص مجھ سے محبت کرتا ہے، آزمائشیں اس کی طرف اس سے زیادہ تیزی سے آتی ہیں جتنی تیزی سے سیلابی پانی اپنی منزل کی طرف بڑھتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 2922]

2923

Sahih Ibn Hibban #2923

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، أَنَّ بَكْرَ بْنَ سَوَادَةَ حَدَّثَهُ ، أَنَّ يَزِيدَ بْنَ أَبِي يَزِيدَ حَدَّثَهُ ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ رَجُلا تَلا هَذِهِ الآيَةَ : مَنْ يَعْمَلْ سُوءًا يُجْزَ بِهِ ، فَقَالَ : إِنَّا لَنُجْزَى بِكُلِّ مَا عَلِمْنَا ، هَلَكْنَا إِذَا ، فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : نَعَمْ ، يُجْزَى بِهِ فِي الدُّنْيَا مِنْ مُصِيبَةٍ فِي جَسَدِهِ مِمَّا يُؤْذِيهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ایک شخص نے یہ آیت ﴿مَنْ يَعْمَلْ سُوءًا يُجْزَ بِهِ﴾ [سورة النساء: 123] تلاوت کی: ”جو شخص برائی کرے گا اسے اس کا بدلہ مل جائے گا۔“ اس شخص نے کہا: کیا ہم جو بھی عمل کریں گے ہمیں ان سب کا بدلہ ملے گا؟ اس صورت میں تو ہم ہلاکت کا شکار ہو جائیں گے، اس بات کی اطلاع نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ملی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جی ہاں! آدمی کو دنیا میں آزمائش کی شکل میں اس کا بدلہ مل جائے گا، وہ آزمائش جو اس کے جسم کو لاحق ہوتی ہے اور اسے تکلیف پہنچاتی ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 2923]

2924

Sahih Ibn Hibban #2924

أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ بِبُسْتَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ بْنِ مُسَاوِرٍ الْمَرْوَزِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَا يَزَالُ الْبَلاءُ بِالْمُؤْمِنِ وَالْمُؤْمِنَةِ فِي جَسَدِهِ ، وَفِي مَالِهِ وَوَلَدِهِ حَتَّى يَلْقَى اللَّهَ وَمَا عَلَيْهِ مِنْ خَطِيئَةٍ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”مومن مرد اور مومن عورت کے جسم کے حوالے سے اور مال اور اولاد کے حوالے سے انہیں مسلسل آزمائشیں پیش آتی رہتی ہیں، یہاں تک کہ جب وہ اللہ کی بارگاہ میں حاضر ہوتا ہے، تو اس کا کوئی گناہ نہیں ہوتا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 2924]

2925

Sahih Ibn Hibban #2925

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَا مِنْ سَقَمٍ ، وَلا وَجَعٍ يُصِيبُ الْمُؤْمِنَ ، إِلا كَانَ كَفَّارَةٌ لِذَنْبِهِ حَتَّى الشَّوْكَةُ يُشَاكُهَا وَالنَّكْبَةُ يُنْكَبُهَا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جو بھی بیماری یا تکلیف مومن کو لاحق ہوتی ہے، تو یہ اس کے گناہ کا کفارہ بن جاتی ہے، یہاں تک کہ جو کانٹا اسے لگتا ہے یا جو نوکیلی چیز اسے لگتی ہے (تو یہ کفارہ بن جاتے ہیں)۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 2925]

2926

Sahih Ibn Hibban #2926

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنِ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنِ أَبِي زُهَيْرٍ ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّهُ قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، كَيْفَ الصَّلاحُ بَعْدَ هَذِهِ الآيَةِ : مَنْ يَعْمَلْ سُوءًا يُجْزَ بِهِ ، فَقَالَ : رَحِمَكَ اللَّهُ يَا أَبَا بَكْرٍ ، أَلَسْتَ تَمْرَضُ ؟ أَلَسْتَ تَنْصَبُ ؟ أَلَسْتَ يُصِيبُكَ اللأْوَاءُ ؟ فَذَاكَ مَا تُجْزَوْنَ بِهِ "، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي زُهَيْرٍ هَذَا أَبُوهُ مِنَ الصَّحَابَةِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے، انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اس آیت کے بعد بہتری کیسے ہو سکتی ہے؟ (ارشاد باری تعالیٰ ہے:) ﴿مَنْ يَعْمَلْ سُوءًا يُجْزَ بِهِ﴾ [سورة النساء: 123] ”جو شخص برائی کرے گا اسے اس کا بدلہ دے دیا جائے گا۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اے ابوبکر! اللہ تعالیٰ تم پر رحم کرے، کیا تم بیمار نہیں ہوتے ہو؟ کیا تمہیں تکلیف لاحق نہیں ہوتی ہے؟ کیا تمہیں پریشانیاں لاحق نہیں ہوتی ہیں؟ یہ وہ چیز ہے، جس کا تمہیں بدلہ دیا جائے گا۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) ابوبکر بن ابوزہیر نامی راوی کے والد صحابی ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 2926]

2927

Sahih Ibn Hibban #2927

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مَعْشَرٍ بِحَرَّانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ وَهْبِ بْنِ أَبِي كَرِيمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحِيمِ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : مَا يَمْرَضُ مُؤْمِنٌ وَلا مُؤْمِنَةٌ ، وَلا مُسْلِمٌ وَلا مَسْلَمَةٌ إِلا حَطَّ اللَّهُ بِذَلِكَ خَطَايَاهُ كَمَا تَنْحَطُّ الْوَرَقَةُ عَنِ الشَّجَرَةِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جو بھی مومن مرد یا عورت بیمار ہوتے ہیں یا (راوی کا شک ہے یا شاید یہ الفاظ ہیں) مسلمان مرد یا عورت بیمار ہوتے ہیں، تو اللہ تعالیٰ اس وجہ سے ان کے گناہوں کو مٹا دیتا ہے یوں جس طرح درخت اپنے پتے گراتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 2927]

2928

Sahih Ibn Hibban #2928

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ كَعْبٍ ، قَالَ : حَدَّثَتْنِي زَيْنَبُ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنَّ رَجُلا مِنَ الْمُسْلِمِينَ ، قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ،أَرَأَيْتَ هَذِهِ الأَمْرَاضَ الَّتِي تُصِيبُنَا مَاذَا لَنَا مِنْهَا ؟ فَقَالَ : كَفَّارَاتٌ " فَقَالَ : أَيْ رَسُولَ اللَّهِ ، وَإِنْ قَلَّتْ ، قَالَ : " وَإِنْ شَوْكَةً فَمَا فَوْقَهَا "قَالَ : فَدَعَا عَلَى نَفْسِهِ أَنْ لا يُفَارِقَهُ الْوَعْكُ حَتَّى يَمُوتَ ، وَأَنْ لا يَشْغَلَهُ عَنْ حَجٍّ وَلا عَنْ عُمْرَةٍ وَلا جِهَادٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، وَلا صَلاةٍ مَكْتُوبَةٍ فِي جَمَاعَةٍ ، قَالَ : فَمَا مَسَّ إِنْسَانٌ جَسَدَهُ إِلا وَجَدَ حَرَّهَا حَتَّى مَاتَ ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : زَيْنَبُ هَذِهِ هِيَ بِنْتُ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ ، وَالَّذِي دَعَا عَلَى نَفْسِهِ هُوَ أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک مسلمان نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ کا کیا خیال ہے یہ بیماریاں جو ہمیں لاحق ہوتی ہیں ہمیں ان کا کیا فائدہ ہو گا؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ کفارہ بن جاتی ہیں۔“ انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اگر یہ تھوڑی ہو؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگرچہ کانٹا لگے یا اس سے بھی کم ہو۔“ راوی کہتے ہیں: اس شخص نے اپنے لیے یہ دعا کی کہ اسے مرتے دم تک بخار رہے، لیکن وہ بخار اس کے لیے حج یا عمرے یا اللہ کی راہ میں جہاد یا باجماعت نماز میں رکاوٹ نہ بنے۔ راوی بیان کرتے ہیں: جو بھی شخص اس کے جسم کو ہاتھ لگاتا تھا اسے اس کی تپش محسوس ہوتی تھی، یہاں تک کہ اس شخص کا انتقال ہو گیا۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) زینب نامی راوی خاتون زینب بنت کعب بن مالک ہیں اور جن صاحب نے اپنے بارے میں دعا کی تھی وہ سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 2928]

2929

Sahih Ibn Hibban #2929

أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَاصِمٍ الأَنْصَارِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي الْحَوَارِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ ، عَنِ الْعَوَّامِ بْنِ حَوْشَبٍ ، عَنِ إِبْرَاهِيمَ السَّكْسَكِيِّ ، وَعَنْ مِسْعَرٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ إِبْرَاهِيمَ السَّكْسَكِيَّ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ بْنِ أَبِي مُوسَى ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِذَا سَافَرَ ابْنُ آدَمَ أَوْ مَرِضَ ، كَتَبَ اللَّهُ لَهُ مِنَ الأَجْرِ مِثْلَ مَا كَانَ يَعْمَلُ وَهُوَ مُقِيمٌ صَحِيحٌ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”جب انسان سفر کرتا ہے یا بیمار ہوتا ہے، تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے وہی اجر لکھ دیتا ہے، جو وہ مقیم ہونے یا تندرستی کے عالم میں عمل کیا کرتا تھا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 2929]

2930

Sahih Ibn Hibban #2930

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ مَاهَانَ ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، قَالَ أَبُو بِشْرِ أَخْبَرَنِي ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَقُولُ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى : إِذَا أَخَذْتُ كَرِيمَتَيْ عَبْدِي ، فَصَبَرَ وَاحْتَسَبَ ، لَمْ أَرْضَ لَهُ ثَوَابًا دُونَ الْجَنَّةِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: جب میں اپنے بندے کی دو محبوب چیزوں (یعنی بینائی) کو قبض کر لیتا ہوں اور وہ صبر سے کام لیتا ہے اور ثواب کی امید رکھتا ہے، تو میں اس کے لیے جنت سے کم ثواب پر راضی نہیں ہوتا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 2930]

2931

Sahih Ibn Hibban #2931

أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو بِالْفُسْطَاطِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْعَلاءِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَالِمٍ ، عَنِ الزُّبَيْدِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا لُقْمَانُ بْنُ عَامِرٍ ، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ جَبَلَةَ ، عَنِ الْعِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْنِي عَنْ رَبِّهِ ، قَالَ : إِذَا سَلَبْتُ مِنْ عَبْدِي كَرِيمَتَيْهِ وَهُوَ بِهِمَا ضَنِينٌ ، لَمْ أَرْضَ لَهُ ثَوَابًا دُونَ الْجَنَّةِ إِذَا حَمِدَنِي عَلَيْهِمَا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پروردگار کا یہ فرمان نقل کیا ہے: ”جب میں اپنے بندے کی دو پسندیدہ چیزوں (یعنی دونوں آنکھوں کی بینائی) کو سلب کر لیتا ہوں اور وہ ان دونوں کا خواہش مند ہوتا ہے، تو جب وہ اس پر میری حمد بیان کرتا ہے، تو میں اس کے لیے جنت سے کم ثواب پر راضی نہیں ہوتا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 2931]

2932

Sahih Ibn Hibban #2932

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ فَرُّوخٍ الْبَغْدَادِيُّ بِالرَّافِقَةِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ السَّكَنِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَهْضَمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : لا يَذْهَبُ اللَّهُ بِحَبِيبَتَيْ عَبْدٍ فَيَصْبِرُ وَيَحْتَسِبُ إِلا أَدْخَلَهُ اللَّهُ الْجَنَّةَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جب بھی اللہ تعالیٰ کسی بندے کی دو محبوب چیزوں (یعنی بینائی) کو رخصت کر دیتا ہے اور وہ بندہ صبر سے کام لیتا ہے اور ثواب کی امید رکھتا ہے، تو اللہ تعالیٰ اسے جنت میں داخل کرے گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 2932]

2933

Sahih Ibn Hibban #2933

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، وَالْحَوْضِيُّ ، قَالا : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ جَامِعِ بْنِ شَدَّادٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ يَسَارٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ صُرَدٍ ، وَخَالِدِ بْنِ عُرْفُطَةَ ، أنهما بلغهما أَنَّ رَجُلا مَاتَ بِبَطْنٍ ، فَقَالَ أَحَدُهُمَا : أَلَمْ يَبْلُغْكُمْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : مَنْ قَتَلَهُ بَطْنُهُ لَمْ يُعَذَّبْ فِي قَبْرِهِ "، قَالَ الآخَرُ : صَدَقْتَ ، وَقَالَ الْحَوْضِيُّ : بَلَى"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سلیمان بن صرد اور خالد بن عرفطہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ انہیں یہ بات پتہ چلی ہے کہ ایک شخص کا بیماری کی وجہ سے انتقال ہو گیا، تو ان دونوں میں سے ایک شخص نے کہا: کیا آپ لوگوں تک یہ بات نہیں پہنچی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”جو شخص پیٹ کی بیماری کی وجہ سے انتقال کر جائے اسے قبر میں عذاب نہیں ہوتا۔“ تو دوسرے صاحب نے کہا: آپ نے سچ کہا ہے، تو حوضی نامی راوی نے کہا: جی ہاں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 2933]

2934

Sahih Ibn Hibban #2934

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي حُيَيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمَعَافِرِيُّ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ : تُوُفِّيَ رَجُلٌ بِالْمَدِينَةِ ، فَصَلَّى عَلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : يَا لَيْتَهُ مَاتَ فِي غَيْرِ مَوْلِدِهِ " ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ النَّاسِ : لِمَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " إِنَّالرَّجُلَ إِذَا مَاتَ فِي غَيْرِ مَوْلِدِهِ قِيسَ لَهُ مِنْ مَوْلِدِهِ إِلَى مُنْقَطَعِ أَثَرِهِ فِي الْجَنَّةِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: مدینہ منورہ میں ایک شخص کا انتقال ہو گیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی نماز جنازہ پڑھائی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”کاش اس کا انتقال اپنی جائے پیدائش کی بجائے کسی اور جگہ پر ہوا ہوتا۔“ حاضرین میں سے ایک صاحب نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! وہ کیوں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جب کسی شخص کا انتقال اپنی جائے پیدائش کی بجائے کسی اور جگہ پر ہوتا ہے، تو اس کے لیے اس کی جائے پیدائش سے لے کر (انتقال کی جگہ تک) زمین کی پیمائش کر دی جاتی ہے اور اسے جنت میں اتنی جگہ دی جاتی ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 2934]

2935

Sahih Ibn Hibban #2935

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : أَتَتِ الْحُمَّى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَاسْتَأْذَنَتْ عَلَيْهِ ، فَقَالَ : مَنْ أَنْتِ ؟ " فَقَالَتْ : أَنَا أُمُّ مِلْدَمٍ ، قَالَ : " انْهَدِي إِلَى قُبَاءَ ، فَأْتِهِمْ " قَالَ : فَأَتَتْهُمْ ، فَحُمُّوا ، أَوْ لَقُوا مِنْهَا شِدَّةً ، فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا تَرَى مَا لَقِينَا مِنَ الْحُمَّى ، قَالَ : " إِنْ شِئْتُمْ دَعَوْتُ اللَّهَ ، فَكَشَفَهَا عَنْكُمْ ، وَإِنْ شِئْتُمْ كَانَتْ طَهُورًا " ، قَالُوا : بَلْ تَكُونُ طَهُورًا"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: بخار نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہونے کی اجازت طلب کی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”تم کون ہو؟“ اس نے جواب دیا: میں اُم ملدم ہوں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم قباء کی طرف جاؤ اور وہاں چلے جاؤ۔“ راوی کہتے ہیں: وہ وہاں چلا گیا، ان لوگوں کو بخار رہنے لگا (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) ان لوگوں کو اس کی وجہ سے شدت کا سامنا کرنا پڑا، انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ملاحظہ کی ہے کہ ہمیں کتنا بخار رہنے لگا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تم لوگ چاہو، تو میں اللہ تعالیٰ سے دعا کر دیتا ہوں وہ اسے تم سے دور کر دے گا اور اگر تم چاہو، تو یہ تمہارے لیے طہارت کے حصول کا ذریعہ بن جائے گا،“ تو ان لوگوں نے عرض کی: اسے طہارت کے حصول کا ذریعہ رہنے دیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 2935]

2936

Sahih Ibn Hibban #2936

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ الْقَطَّانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : إِذَا اشْتَكَى الْمُؤْمِنُ أَخْلَصَهُ ذَلِكَ كَمَا يُخْلِصُ الْكِيرُ خَبَثَ الْحَدِيدِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتی ہیں: ”جو کوئی مومن بیمار ہوتا ہے (تو وہ بیماری) اسے یوں نکھار دیتی ہے، جس طرح بھٹی لوہے کے زنگ کو نکھار دیتی ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 2936]

2937

Sahih Ibn Hibban #2937

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ ، وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالا : حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنِ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ سُوَيْدٍ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : دَخَلْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَمَسِسْتُهُ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّكَ لَتُوعَكُ وَعْكًا شَدِيدًا ، فَقَالَ : أَجَلْ إِنِّي أُوعَكُ مَا يُوعَكُ رَجُلانِ مِنْكُمْ " ، قُلْتُ : إِنَّ لَكَ أَجْرَيْنِ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَجَلْ " ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ،مَا عَلَى الأَرْضِ مُسْلِمٌ يُصِيبُهُ أَذًى مِنْ مَرَضٍ فَمَا سِوَاهُ ، إِلا حَطَّ اللَّهُ عَنْهُ خَطَايَاهُ كَمَا تَحُطُّ الشَّجَرَةُ وَرَقَهَا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، میں نے آپ کو چھوا، میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ کو تو انتہائی تیز بخار ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جی ہاں! مجھے اس طرح بخار ہوتا ہے، جس طرح تم میں سے دو آدمیوں کو ہوتا ہے۔“ میں نے عرض کی: اس کی وجہ سے آپ کو دو اجر ملتے ہیں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جی ہاں!“ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اس ذات کی قسم! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے، روئے زمین پر موجود جس بھی مسلمان کو بیماری یا اس کے علاوہ کوئی اور تکلیف لاحق ہوتی ہے، تو اللہ تعالیٰ اس شخص کے گناہوں کو یوں ختم کر دیتا ہے، جس طرح درخت اپنے پتے گراتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 2937]

2938

Sahih Ibn Hibban #2938

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْقَوَارِيرِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ الصَّوَّافُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، دَخَلَ عَلَى أُمِّ السَّائِبِ ، أَوْ أُمِّ الْمُسَيَّبِ ، وَهِيَ تُرَفْرِفُ فَقَالَ : مَا لَكِ يَا أُمَّ السَّائِبِ ، أَوْ يَا أُمَّ الْمُسَيَّبِ ، تَرَفْرِفِينَ ؟ " قَالَتِ : الْحُمَّى لا بَارِكَ اللَّهُ فِيهَا ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ :" لا تَسُبِّي الْحُمَّى فَإِنَّهَا تُذْهِبُ خَطَايَا ابْنِ آدَمَ كَمَا يُذْهِبُ الْكِيرُ خَبَثَ الْحَدِيدِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ اُم سائب (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) ام مسیب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں، وہ کپکپا رہی تھیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”اے ام سائب (راوی کو شک ہے کہ شاید یہ الفاظ ہیں) اے ام مسیب! تمہیں کیا ہوا ہے، تم کیوں کپکپا رہی ہو؟“ انہوں نے عرض کی: بخار ہے، اللہ تعالیٰ اس میں برکت نہ رکھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم بخار کو برا نہ کہو کیونکہ یہ انسان کے گناہوں کو یوں ختم کر دیتا ہے، جس طرح بھٹی لوہے کے میل کو ختم کر دیتی ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 2938]

2939

Sahih Ibn Hibban #2939

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، أَنَّ عَائِشَةَ ، أَخْبَرَتْهُ أَنَّهَا دَخَلَتْ عَلَيْهَا امْرَأَةٌ مَعَهَا ابْنَتَانِ لَهَا تَسْتَطْعِمُ ، قَالَتْ : فَلَمْ تَجِدْ عِنْدِي إِلا تَمْرَةً وَاحِدَةً ، فَأَعْطَيْتُهَا إِيَّاهَا ، فَأَخَذَتْهَا ، فَشَقَّتْهَا بَيْنَ ابْنَتَيْهَا وَلَمْ تَأْكُلْ مِنْهَا شَيْئًا ، قَالَتْ : ثُمَّ قَامَتْ فَخَرَجَتْ ، وَدَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَخْبَرْتُهُ خَبَرَهَا ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنِ ابْتُلِيَ بِشَيْءٍ مِنْ هَذِهِ الْبَنَاتِ ، فَأَحْسَنَ صُحْبَتَهُنَّ كُنَّ لَهُ سِتْرًا مِنَ النَّارِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: ایک خاتون ان کے ہاں آئی جس کے ساتھ اس کی دو بیٹیاں بھی تھیں، اس عورت نے کھانے کے لیے کچھ مانگا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میرے پاس اسے صرف ایک کھجور ملی، وہ میں نے اسے دے دی، اس نے اس کھجور کو لیا اور اسے دو حصوں میں تقسیم کر کے اپنی بیٹیوں کو دے دیا، اس نے خود کچھ نہیں کھایا پھر وہ اٹھی اور چلی گئی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے ہاں تشریف لائے، میں نے آپ کو اس عورت کے بارے میں بتایا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص کو ان بیٹیوں کے حوالے سے آزمائش میں مبتلا کیا جائے اور وہ شخص ان کے ساتھ اچھا سلوک کرے، تو یہ بیٹیاں اس کے لیے جہنم سے بچاؤ کا ذریعہ بن جاتی ہیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 2939]

2940

Sahih Ibn Hibban #2940

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحُسَيْنِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْحَسَنُ ، قَالَ : قَالَ صَعْصَعَةُ بْنُ مُعَاوِيَةَ عَمُّ الأَحْنَفِ بْنِ قَيْسٍ : أَتَيْتُ أَبَا ذَرٍ بِالرَّبَذَةِ ، فَقُلْتُ : يَا أَبَا ذَرٍّ ، مَا مَالُكَ ؟ فَقَالَ : مَالِي عَمَلِي ، قُلْتُ : حَدِّثَنَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدِيثًا سَمِعْتُهُ مِنْهُ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : مَا مِنْ مُسْلِمَيْنِ يَمُوتُ لَهُمَا ثَلاثَةٌ مِنَ الْوَلَدِ لَمْ يَبْلُغُوا الْحِنْثَ ، إِلا أَدْخَلَهُمَا اللَّهُ الْجَنَّةَ بِفَضْلِ رَحْمَتِهِ إِيَّاهُمْ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

صعصعہ بن معاویہ بیان کرتے ہیں: میں ربذہ کے مقام پر سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا، میں نے کہا: اے سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ! آپ کا مال کیا ہے؟ انہوں نے جواب دیا: میرا مال میرا عمل ہے، میں نے کہا: آپ ہمیں کوئی ایسی حدیث سنائیے جو آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی سنی ہو، تو انہوں نے بتایا: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جس بھی مسلمان کے تین بچے بالغ ہونے سے پہلے فوت ہو جائیں، تو اللہ تعالیٰ ان دونوں (یعنی بچے کے ماں باپ) کو ان بچوں پر اپنی رحمت کے فضل کی وجہ سے جنت میں داخل کرے گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 2940]

2941

Sahih Ibn Hibban #2941

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الدَّرَاوَرْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُهَيْلُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ نِسْوَةَ مِنَ الأَنْصَارِ قُلْنَ لَهُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّا لا نَسْتَطِيعُ أَنْ نَأْتِيكَ مَعَ الرِّجَالِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَوْعِدُكُنَّ بَيْتُ فُلانَةَ " فَجَاءَ فَتَحَدَّثَ مَعَهُنَّ ، ثُمَّ قَالَ :" لا يَمُوتُ لإِحْدَاكُنَّ ثَلاثَةٌ مِنَ الْوَلَدِ فَتَحْتَسِبُهُ إِلا دَخَلَتِ الْجَنَّةَ " فَقَالَتِ امْرَأَةٌ مِنْهُنَّ : وَاثْنَتَيْنِ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " وَاثْنَتَيْنِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ کچھ انصاری خواتین نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی: ہم مردوں کے ہمراہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر نہیں ہو سکتی ہیں (آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں وعظ و نصیحت کیا کیجیے)، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”فلاں خاتون کے گھر میں تم سے ملاقات ہو گی۔“ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم وہاں تشریف لائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم خواتین کے ساتھ بات چیت کرتے رہے، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم میں سے کسی کے بھی تین بچے فوت ہو جائیں اور وہ اس پر ثواب کی امید رکھے تو وہ جنت میں داخل ہو گی۔“ ان میں سے ایک خاتون نے عرض کی: جس کے دو ہوں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کے دو (بچے فوت) ہوں (اسے بھی یہ اجر و ثواب حاصل ہو گا)۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 2941]

2942

Sahih Ibn Hibban #2942

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : لا يَمُوتُ لأَحَدٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ ثَلاثَةٌ مِنَ الْوَلَدِ فَتَمَسَّهُ النَّارُ إِلا تَحِلَّةَ الْقَسَمِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جس بھی مسلمان کے تین بچے فوت ہو جائیں، تو آگ اسے قسم پوری کرنے کے لیے چھوئے گی۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 2942]

2943

Sahih Ibn Hibban #2943

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ بِبَيْتِ الْمَقْدِسِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الأَشَجِّ ، أَنَّ عِمْرَانَ بْنَ نَافِعٍ حَدَّثَهُ ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنِ أَنَسٍ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : مَنِ احْتَسَبَ ثَلاثَةً مِنْ صُلْبِهِ دَخَلَ الْجَنَّةَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جو شخص اپنی اولاد میں سے تین بچوں (کے انتقال پر) ثواب کی امید رکھے وہ جنت میں داخل ہو گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 2943]

2944

Sahih Ibn Hibban #2944

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شَبَابَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الأَصْفهَانِيِّ ، عَنْ ذَكْوَانَ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : قَالَ النِّسَاءُ : غَلَبَنَا عَلَيْكَ الرِّجَالُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَاجْعَلْ لَنَا يَوْمًا ، فَوَعَدَهُنَّ يَوْمًا ، فَجِئْنَ ، فَوَعَظَهُنَّ ، فَقَالَ لَهُنَّ فِيمَا قَالَ : مَا مِنْكُنَّ امْرَأَةٌ تُقَدِّمُ ثَلاثَةً مِنْ وَلَدِهَا إِلا كَانُوا لَهَا حِجَابًا مِنَ النَّارِ " ، قَالَتِ امْرَأَةٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَاثْنَيْنِ ؟ وَقَدْ مَاتَ لَهَا اثْنَانِ ، فَقَالَ لَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَاثْنَانِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ خواتین نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! مرد ہم سے آگے نکل گئے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے لیے بھی کوئی دن مقرر کیجیے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ساتھ ایک دن کا وعدہ کر لیا، وہ خواتین حاضر ہوئیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں وعظ و نصیحت کی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں جو بات ارشاد فرمائی اس میں یہ بات بھی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس بھی عورت کے تین بچے فوت ہو جائیں، تو وہ اس عورت کے لیے جہنم سے رکاوٹ بن جائیں گے“ ایک خاتون نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اگر دو ہوں؟ (راوی کہتے ہیں) اس عورت کے دو بچے فوت ہو چکے تھے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: ”اگر دو ہوں (تو بھی یہی اجر و ثواب حاصل ہو گا)“ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 2944]

2945

Sahih Ibn Hibban #2945

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ فِطْرٍ ، عَنْ شُرَحْبِيلَ بْنِ سَعْدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَا مِنْ مُسْلِمٍ لَهُ ابْنَتَانِ ، فَيُحْسِنُ إِلَيْهِمَا مَا صَحِبَتَاهُ ، أَوْ صَحِبَهُمَا إِلا أَدْخَلَتَاهُ الْجَنَّةَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”جس مسلمان کی دو بیٹیاں ہوں اور وہ ان کے ساتھ اچھا سلوک کرے (یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے)، تو وہ دونوں بیٹیاں اسے جنت میں داخل کر دیں گی۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 2945]

2946

Sahih Ibn Hibban #2946

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُوسَى بِعَسْكَرِ مُكْرَمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الْعُقَيْلِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : مَنْ مَاتَ لَهُ ثَلاثَةٌ مِنَ الْوَلَدِ دَخَلَ الْجَنَّةَ " ، قَالَ : قُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَابْنَانِ ؟ قَالَ : " وَابْنَانِ "، قَالَ مَحْمُودٌ : قُلْتُ لِجَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، إِنِّي لأَرَاكُمْ لَوْ قُلْتُمْ وَاحِدًا ، لَقَالَ وَاحِدًا قَالَ : وَاللَّهِ أَظُنُّ ذَلِكَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جس شخص کے تین بچے فوت ہو جائیں وہ جنت میں داخل ہو گا۔“ راوی کہتے ہیں: ہم نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اگر دو بچے ہوں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر دو ہوں (تو بھی یہی اجر و ثواب حاصل ہو گا)۔“ محمود نامی راوی کہتے ہیں: میں نے سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے دریافت کیا: میرا خیال ہے آپ لوگوں کو یہ بھی پوچھنا چاہیے تھا اگر ایک ہو، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ بھی فرما دیتے، اگر ایک ہو (تو بھی یہ اجر و ثواب حاصل ہو گا) تو سیدنا جابر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: اللہ کی قسم! میرا بھی یہی خیال ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 2946]

2947

Sahih Ibn Hibban #2947

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا نُوحُ بْنُ حَبِيبٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : كَانَ رَجُلٌ يَخْتَلِفُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَ بُنَيٍّ لَهُ فَفَقَدَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالُوا : مَاتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لأَبِيهِ : أَمَا يَسُرُّكَ أَلا تَأْتِي بَابًا مِنْ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ إِلا وَجَدْتَهُ يَنْتَظِرُكَ ؟ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

معاویہ بن قرہ رحمہ اللہ اپنے والد (سیدنا قرہ رضی اللہ عنہ) کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: ایک شخص اپنے بیٹے کے ہمراہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا کرتا تھا، ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے غیر موجود پا کر اس کے بارے میں دریافت کیا، تو لوگوں نے بتایا: اس (بچے) کا انتقال ہو چکا ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے والد سے فرمایا: ”کیا تمہیں یہ بات پسند نہیں ہے کہ تم جنت کے جس بھی دروازے پر آؤ گے، تو اسے اپنا انتظار کرتے ہوئے پاؤ گے؟“ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 2947]

2948

Sahih Ibn Hibban #2948

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ الصُّوفِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو نَصْرٍ التَّمَّارُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي سِنَانٍ ، قَالَ : دَفَنْتُ ابْنِي وَمَعِي أَبُو طَلْحَةَ الْخَوْلانِيُّ عَلَى شَفِيرِ الْقَبْرِ ، فَلَمَّا أَرَدْتُ الْخُرُوجَ أَخَذَ بِيَدِي فَأَخْرَجَنِي ، وَقَالَ : أَلا أُبَشِّرُكَ ؟ حَدَّثَنِي الضَّحَّاكُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَرْزَبٍ ، عَنْ أَبِي مُوسَى الأَشْعَرِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِذَا مَاتَ وَلَدُ الْعَبْدِ الْمُؤْمِنِ قَالَ اللَّهُ لِلْمَلائِكَةِ : قَبَضْتُمْ وَلَدَ عَبْدِي ؟ قَالُوا : نَعَمْ ، قَالَ : قَبَضْتُمْ ثَمَرَةَ فُؤَادِهِ ؟ قَالُوا : نَعَمْ ، قَالَ : فَمَا قَالَ ؟ قَالُوا : اسْتَرْجَعَ وَحَمِدَكَ ، قَالَ : أَبَنُوا لَهُ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ ، وَسَمُّوهُ بَيْتَ الْحَمْدِ "، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : أَبُو طَلْحَةَ الْخَوْلانِيُّ هَذَا اسْمُهُ نُعَيْمُ بْنُ زِيَادٍ مِنْ سَادَاتِ أَهْلِ الشَّامِ ، رَوَى عَنْهُ مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ، وَأَهْلُ بَلَدِهِ ، وَأَبُو سِنَانٍ هَذَا هُوَ الشَّيْبَانِيُّ قَدِمَ الْبَصْرَةَ ، فَكَتَبَ عَنْهُ الْبَصْرِيُّونَ ، اسْمُهُ سَعِيدُ بْنُ سِنَانٍ وَأَبُو سِنَانٍ الْكُوفِيُّ ضِرَارُ بْنُ مُرَّةَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابوسنان نامی راوی کہتے ہیں: میں نے اپنے بیٹے کو دفن کیا، میرے ساتھ ابوطلحہ خولانی قبر کے کنارے پر موجود تھے، جب میں قبر سے باہر آنے لگا تو انہوں نے میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے باہر نکالا اور بولے: کیا میں تمہیں خوشخبری نہ سناؤں؟ مجھ تک یہ حدیث پہنچی ہے کہ سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کیا ہے: ”جب کسی مومن بندے کے بیٹے کا انتقال ہو جائے تو اللہ تعالیٰ فرشتوں سے یہ فرماتا ہے: تم نے میرے بندے کے بچے کی جان قبض کر لی ہے؟ فرشتے عرض کرتے ہیں: جی ہاں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: کیا تم نے اس کے دل کے پھل (یعنی جگر کے ٹکڑے) کو قبضے میں لے لیا ہے؟ فرشتے کہتے ہیں: جی ہاں۔ اللہ تعالیٰ دریافت فرماتا ہے: پھر اس بندے نے کیا کہا؟ فرشتے کہتے ہیں: اس نے «إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ» ”بے شک ہم اللہ ہی کے لیے ہیں اور ہم اسی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں“ پڑھا اور تیری حمد بیان کی، تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: تم اس شخص کے لیے جنت میں گھر بنا دو اور اس کا نام ”بیت الحمد“ رکھو۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ابوطلحہ خولانی نامی راوی کا نام نعیم بن زیاد ہے اور یہ اہل شام کے سرداروں میں سے ہیں۔ ان سے معاویہ بن صالح اور ان کے شہر کے دیگر افراد نے روایات نقل کی ہیں۔ ابوسنان نامی راوی شیبانی ہیں۔ یہ بصرہ تشریف لائے تھے۔ اہل بصرہ نے ان کے حوالے سے احادیث نوٹ کی تھیں۔ ان کا نام سعید بن سنان ہے جبکہ ابوسنان کوفی نامی راوی کا نام ضرار بن مرہ ہے)۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 2948]

2949

Sahih Ibn Hibban #2949

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ السَّامِيُّ ، وَأَخْبَرَنَا ابْنُ خُزَيْمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، قَالَ : يَزِيدُ أَخْبَرَنَا ، وَقَالَ إِبْرَاهِيمُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ أَصَابَتْهُ مُصِيبَةٌ فَلْيَقُلْ : إِنَّا لِلَّهِ وَأَنَا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ ، اللَّهُمَّ عِنْدَكَ أَحْتَسِبُ مُصِيبَتِي ، فَأْجُرْنِي فِيهَا ، وَأَبْدِلْنِي بِهَا خَيْرًا مِنْهَا " ، فَلَمَّا مَاتَ أَبُو سَلَمَةَ قُلْتُهَا ، فَجَعَلْتُ كُلَّمَا بَلَغْتُ : أَبْدَلَنِي خَيْرًا مِنْهَا ، قُلْتُ فِي نَفْسِي : وَمَنْ خَيْرٌ مِنْ أَبِي سَلَمَةَ ؟ فَلَمَّا انْقَضَتْ عِدَّتُهَا ، بَعَثَ إِلَيْهَا أَبُو بَكْرٍ يَخْطُبُهَا ، فَلَمْ تَزَوَّجْهُ ، ثُمَّ بَعَثَ إِلَيْهَا عُمَرُ يَخْطُبُهَا ، فَلَمْ تَزَوَّجْهُ ، فَبَعَثَ إِلَيْهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ يَخْطُبُهَا عَلَيْهِ قَالَتْ : أَخْبِرْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنِّي امْرَأَةٌ غَيْرَى ، وَأَنِّي امْرَأَةٌ مُصْبِيَةٌ ، وَلَيْسَ أَحَدٌ مِنْ أَوْلِيَائِي شَاهِدًا ، فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ ، فَقَالَ : " ارْجِعْ إِلَيْهَا ، فَقُلْ لَهَا : أَمَّا قَوْلُكِ : إِنِّي امْرَأَةٌ غَيْرَى ، فَأَسْأَلُ اللَّهَ أَنْ يُذْهِبَ غَيْرَتَكِ ، وَأَمَّا قَوْلُكِ : إِنِّي امْرَأَةٌ مُصْبِيَةٌ ، فَتُكْفَيْنَ صِبْيَانَكِ ، وَأَمَّا قَوْلُكِ : إِنَّهُ لَيْسَ أَحَدٌ مِنْ أَوْلِيَائِكِ شَاهِدًا ، فَلَيْسَ مِنْ أَوْلِيَائِكِ شَاهِدٌ وَلا غَائِبٌ يَكْرَهُ ذَلِكَ " ، فَقَالَتْ لابْنِهَا : يَا عُمَرُ ، قُمْ فَزَوِّجْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَزَوَّجَهُ ، فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَأْتِيهَا لِيَدْخُلَ بِهَا ، فَإِذَا رَأَتْهُ أَخَذَتِ ابْنَتَهَا زَيْنَبَ ، فَجَعَلَتْهَا فِي حِجْرِهَا ، فَيَنْقَلِبُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَعَلِمَ بِذَلِكَ عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ ، وَكَانَ أَخَاهَا مِنَ الرَّضَاعَةِ ، فَجَاءَ إِلَيْهَا ، فَقَالَ : أيْنَ هَذِهِ الْمَقْبُوحَةُ الَّتِي قَدْ آذَيْتِ بِهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ فَأَخَذَهَا فَذَهَبَ بِهَا ، فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَدَخَلَ عَلَيْهَا فَجَعَلَ يَضْرِبُ بِبَصَرِهِ فِي جَوَانِبِ الْبَيْتِ ، وَقَالَ : " مَا فَعَلَتْ زَيْنَبُ ؟ " قَالَتْ : جَاءَ عَمَّارٌ فَأَخَذَهَا فَذَهَبَ بِهَا ، فَبَنَى بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَقَالَ : " إِنِّي لا أَنْقُصُكِ مِمَّا أَعْطَيْتُ فُلانَةَ رَحَائَيْنِ ، وَجَرَّتَيْنِ ، وَمِرْفَقَةً حَشْوُهَا لِيفٌ " ، وَقَالَ : " إِنْ سَبَّعْتُ لَكِ سَبَّعْتُ لِنِسَائِي "، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : لَفْظُ الإِسْنَادِ لإِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَجَّاجِ ، وَالْمَتْنُ لِيَزِيدَ بْنِ هَارُونَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جسے کوئی مصیبت لاحق ہو وہ یہ دعا پڑھ لے: «إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ، اللَّهُمَّ عِنْدَكَ أَحْتَسِبُ مُصِيبَتِي، فَأْجُرْنِي فِيهَا، وَأَبْدِلْ لِي بِهَا خَيْرًا مِنْهَا» ”بے شک ہم اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں اور بے شک ہم نے اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے؛ اے اللہ! میں اپنی مصیبت کے ثواب کی امید تیری بارگاہ میں رکھتی ہوں، تو مجھے اس کا اجر عطا کرنا اور اس (فوت شدہ چیز) کی جگہ مجھے بہتر بدل عطا کر دینا۔““ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: جب سیدنا ابوسلمہ رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا، میں نے یہ دعا پڑھ لی اور میں نے یہی کہا کہ: ”تو مجھے اس سے بہتر عطا کرنا“، پھر میں نے سوچا سیدنا ابوسلمہ رضی اللہ عنہ سے بہتر اور کون ہو سکتا ہے؟ جب سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی عدت گزر گئی، تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے انہیں نکاح کا پیغام بھیجا، لیکن انہوں نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ شادی نہیں کی، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں نکاح کا پیغام بھیجا، انہوں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ بھی شادی نہیں کی، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہما کو اپنے پیغام کے ہمراہ ان کی طرف بھیجا، تو انہوں نے عرض کی: ”آپ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو بتا دیں میں ایک غصے والی عورت ہوں اور میں مصیبت کا شکار عورت ہوں (یعنی بیوہ ہو چکی ہوں) اور میرے اولیاء میں سے کوئی یہاں موجود نہیں ہے۔“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بارے میں بتایا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”تم اس کے پاس واپس جاؤ اور اس سے کہو: جہاں تک تمہارے یہ کہنے کا تعلق ہے کہ میں ایک غصے والی عورت ہوں، تو میں اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کروں گا کہ وہ تمہارا غصہ ختم کر دے، جہاں تک تمہارے یہ کہنے کا تعلق ہے کہ تم مصیبت کا شکار عورت ہو (یعنی بیوہ ہو چکی ہو)، تو تمہارے بچے تمہارے لیے کفایت کر جائیں گے اور جہاں تک تمہارے یہ کہنے کا تعلق ہے کہ تمہارے اولیاء میں سے کوئی یہاں موجود نہیں ہے، تو تمہارے موجود یا غیر موجود اولیاء میں سے کوئی بھی اس کو ناپسند نہیں کرے گا۔“ تو سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے اپنے بیٹے سے کہا: ”اے عمر! تم اٹھو اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ (میری) شادی کر دو۔“ تو انہوں نے ان کی شادی کروا دی؛ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ہاں تشریف لائے تاکہ ان کے ہاں رات بسر کریں، جب سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، تو انہوں نے اپنی بیٹی زینب کو پکڑا اور اسے اپنی گود میں بٹھا لیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم واپس تشریف لے گئے؛ اس بات کی اطلاع سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما کو ملی جو ان کے رضائی بھائی تھے، تو وہ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے اور بولے: ”وہ لڑکی کہاں ہے جس کی وجہ سے تم نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو تکلیف پہنچائی ہے؟“ پھر انہوں نے اس بچی کو لیا اور اپنے ساتھ لے گئے، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے گھر کے کناروں میں نظر ڈالی اور دریافت کیا: ”تم نے زینب کے ساتھ کیا کیا ہے؟“ تو سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے بتایا کہ سیدنا عمار رضی اللہ عنہما آئے تھے، انہوں نے اس بچی کو پکڑا اور اپنے ساتھ لے گئے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے ہاں رات بسر کی؛ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میں نے فلاں (زوجہ کو) جو کچھ دیا ہے اس میں تمہارے لیے کوئی کمی نہیں کروں گا؛ دو چکیاں ہیں، دو تھیلے ہیں اور ایک گدّا جس میں پتے بھرے ہوئے ہیں۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اگر میں سات دن تمہارے پاس رہوں گا، تو دوسری ازواجِ مطہرات کے پاس بھی سات دن رہوں گا۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) سند کے الفاظ ابراہیم بن حجاج کے نقل کردہ ہیں اور متن کے الفاظ یزید بن ہارون کے نقل کردہ ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 2949]

2950

Sahih Ibn Hibban #2950

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنِ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ سُوَيْدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَا تَعُدُّونَ الرَّقُوبَ فِيكُمْ ؟ " قَالَ : قُلْنَا : الَّذِي لا يُولَدُ لَهُ ، قَالَ : " لَيْسَ ذَلِكَ بِالرَّقُوبِ ، وَلَكِنِ الَّذِي لا يُقَدِّمُ مِنْ وَلَدِهِ شَيْئًا " ، قَالَ : " فَمَا تَعُدُّونَ الصُّرَعَةَ فِيكُمْ ؟ " قُلْنَا : الَّذِي لا يَصْرَعُهُ الرِّجَالُ ، قَالَ : " لَيْسَ ذَاكَ ، وَلَكِنِ الَّذِي يَمْلِكُ نَفْسَهُ عِنْدَ الْغَضَبِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم اپنے درمیان «الرَّقُوبَ» ”رقوب“ کسے سمجھتے ہو؟“ راوی کہتے ہیں: ہم نے عرض کی: وہ شخص جس کی کوئی اولاد نہ ہو، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ «الرَّقُوبُ» نہیں ہے بلکہ «الرَّقُوبُ» وہ ہے، جس کے کسی بچے کا انتقال نہ ہوا ہو۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”تم اپنے درمیان پہلوان کسے سمجھتے ہو؟“ ہم نے عرض کی: جسے کوئی شخص پچھاڑ نہ سکے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ وہ نہیں ہے بلکہ (پہلوان وہ ہے) جو غضب کے عالم میں اپنے اوپر قابو رکھے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 2950]

2951

Sahih Ibn Hibban #2951

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْعَبْدِيُّ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ خُمَيْرٍ ، عَنْ شُرَحْبِيلَ بْنِ شُفْعَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، أَنَّ الطَّاعُونَ وَقَعَ بِالشَّامِ ، فَقَالَ : إِنَّهُ رِجْزٌ ، فَتَفَرَّقُوا عَنْهُ ، فَقَالَ شُرَحْبِيلُ بْنُ حَسَنَةَ ، إِنِّي صَحِبْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَعَمْرٌو أَضَلُّ مِنْ حِمَارِ أَهْلِهِ ، أَوْ جَمَلِ أَهْلِهِ ، وَقَالَ : إِنَّهَارَحْمَةٌ رَبِّكُمْ ، وَدَعْوَةٌ نَبِيِّكُمْ ، وَمَوْتُ الصَّالِحِينَ قَبْلَكُمْ ، فَاجْتَمِعُوا لَهُ وَلا تَفَرَّقُوا عَنْهُ "، فَسَمِعَ ذَلِكَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ فَقَالَ : صَدَقَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کے بارے میں منقول ہے کہ ایک مرتبہ شام میں طاعون کی وبا پھیل گئی، تو سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ گندگی ہے، تو لوگ اس جگہ سے منتقل ہونے لگے، تو سیدنا شرحبیل بن حسنہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہا ہوں اور عمرو اپنے گھر کے گدھے (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) اپنے گھر کے اونٹ سے زیادہ گمراہ ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”یہ تمہارے پروردگار کی رحمت، تمہارے نبی کی دعا اور تم سے پہلے نیک لوگوں کی موت کا ذریعہ ہے، تو تم لوگ اس کے لیے اکٹھے رہو اور اسے چھوڑ کر منتشر نہ ہو۔“ سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے یہ بات سنی، تو انہوں نے فرمایا: انہوں نے سچ کہا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 2951]

2952

Sahih Ibn Hibban #2952

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ سَمِعَهُ يَسْأَلُ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ : هَلْ سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الطَّاعُونِ ؟ فَقَالَ أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : الطَّاعُونُ رِجْزٌ أُرْسِلَ عَلَى بَنِي إِسْرَائِيلَ ، أَوْ عَلَى مَنْ قَبْلَكُمْ ، فَإِذَا سَمِعْتُمْ بِهِ بِأَرْضٍ فَلا تَقْدُمُوا عَلَيْهِ ، وَإِذَا وَقَعَ بِأَرْضٍ ، وَأَنْتُمْ بِهَا فَلا تَخْرُجُوا فِرَارًا مِنْهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عامر بن سعد رحمہ اللہ اپنے والد (سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ) کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ انہوں نے اپنے والد کو سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما سے یہ دریافت کرتے ہوئے سنا کہ کیا آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی طاعون کے بارے میں کوئی بات سنی ہے؟ تو سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما نے بتایا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”طاعون ایک خرابی ہے، جو بنی اسرائیل کی طرف (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں: تم سے پہلے لوگوں کی طرف) بھیجی گئی تھی، تو جب تم کسی سرزمین کے بارے میں سنو کہ وہاں یہ ہے، تو تم وہاں نہ جاؤ اور جب یہ کسی ایسی سرزمین پر واقع ہو جائے جہاں تم موجود ہو، تو تم وہاں سے فرار اختیار کرتے ہوئے نکلو نہیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 2952]