Muslim99Muslim99

Sahih Ibn Hibban · Book 26 · Chapter 2

Book of Endowments

Hadith 2878–2918

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

2878

Sahih Ibn Hibban #2878

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ مِنْ أَصْلِ كِتَابِهِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الأَزْهَرِ وَكَتَبْتُهُ مِنْ أَصْلِهِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ نَوْفَلٍ وَكَانَ يَتِيمًا فِي حِجْرِ عُرْوَةِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، وَمَرْوَانُ بْنُ الْحَكَمِ يَسْأَلُهُ عَنْ صَلاةِ الْخَوْفِ ، فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : كُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي تِلْكَ الْغَزَاةِ " ، قَالَ :" فَصَدَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّاسَ ، صَدْعَيْنِ ، قَامَتْ مَعَهُ طَائِفَةٌ ، وَطَائِفَةٌ أُخْرَى مِمَّا يَلِي الْعَدُوَّ ، وَظُهُورُهُمْ إِلَى الْقِبْلَةِ ، فَكَبَّرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَكَبَّرُوا جَمِيعًا الَّذِينَ مَعَهُ وَالَّذِينَ يُقَاتِلُونَ الْعَدُوَّ ، ثُمَّ رَكَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَةً وَاحِدَةً ، فَرَكَعَ مَعَهُ الطَّائِفَةُ الَّتِي تَلِيهِ ، ثُمَّ سَجَدَ وَسَجَدَتِ الطَّائِفَةُ الَّتِي تَلِيهِ ، وَالآخَرُونَ قِيَامٌ مُقَابِلِي الْعَدُوِّ ، ثُمَّ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَخَذْتِ الطَّائِفَةُ الَّتِي صَلَّتْ مَعَهُ أَسْلِحَتَهُمْ ، ثُمَّ مَشَوَا الْقَهْقَرَى عَلَى أَدْبَارِهِمْ حَتَّى قَامُوا مِمَّا يَلِي الْعَدُوَّ ، وَأَقْبَلَتِ الطَّائِفَةُ الَّتِي كَانَتْ مُقَابَلَةَ الْعَدُوِّ ، فَرَكَعُوا وَسَجَدُوا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَائِمٌ كَمَا هُوَ ، ثُمَّ قَامُوا ، فَرَكَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، رَكْعَةً أُخْرَى فَرَكَعُوا مَعَهُ ، وَسَجَدَ وَسَجَدُوا مَعَهُ ، ثُمَّ أَقْبَلَتِ الطَّائِفَةُ الَّتِي كَانَتْ تُقَابِلُ الْعَدُوَّ فَرَكَعُوا وَسَجَدُوا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَاعِدٌ وَمَنْ مَعَهُ ثُمَّ كَانَ السَّلامُ ، فَسَلَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَسَلَّمُوا جَمِيعًا ، فَقَامَ الْقَوْمُ وَقَدْ شَرَكُوهُ فِي الصَّلاةِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عروہ بن زبیر رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو سنا، مروان بن حکم نے ان سے نمازِ خوف کے بارے میں دریافت کیا تو سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بتایا: میں اس جنگ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ موجود تھا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا، ایک گروہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے کھڑا ہو گیا اور دوسرا گروہ دشمن کے مدمقابل کھڑا ہو گیا، ان لوگوں کی پشت قبلہ کی طرف تھی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تکبیر کہی تو ان سب لوگوں نے تکبیر کہی، وہ بھی جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کھڑے ہوئے تھے اور وہ بھی جو دشمن کے مدمقابل کھڑے ہوئے تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع کیا تو جو گروہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ رکوع کیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سجدے میں گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس والا گروہ بھی سجدے میں چلا گیا، جبکہ دوسرا گروہ دشمن کے مدمقابل کھڑا رہا، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے تو جس گروہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ایک رکعت ادا کی تھی انہوں نے اپنا اسلحہ لیا اور الٹے قدموں چلتے ہوئے دشمن کے مدمقابل آ کر کھڑے ہو گئے اور وہ گروہ جو دشمن کے مدمقابل کھڑا ہوا تھا وہ آگے آ گیا، ان لوگوں نے رکوع کیا اور سجدہ کیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پہلی حالت میں ہی کھڑے رہے، پھر وہ لوگ کھڑے ہو گئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ رکوع کیا، ان لوگوں نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ رکوع کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ کیا تو انہوں نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ سجدہ کیا، پھر وہ گروہ آ گیا جو دشمن کے مدمقابل تھا، پھر انہوں نے رکوع اور سجدہ کیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ والے افراد بیٹھے رہے، پھر سلام کا وقت آیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا اور ان سب لوگوں نے بھی سلام پھیر دیا، تو ان سب نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ نماز ادا کی تھی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2878]

2879

Sahih Ibn Hibban #2879

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلاةَ الْخَوْفِ ، بِإِحْدَى الطَّائِفَتَيْنِ رَكْعَةً ، وَالطَّائِفَةُ الأُخْرَى مُوَاجِهَةُ الْعَدُوِّ ، ثُمَّ انْصَرَفُوا ، فَقَامُوا مَقَامَ أَصْحَابِهِمْ مُقْبِلِينَ عَلَى الْعَدُوِّ ، وَجَاءَ أُولَئِكَ فَصَلَّى بِهِمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، رَكْعَةً ، ثُمَّ سَلَّمَ بِهِمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَمَضَى هَؤُلاءِ ، فَقَامُوا مَقَامَ أَصْحَابِهِمْ مُقْبِلِينَ عَلَى الْعَدُوِّ ، وَجَاءَ أُولَئِكُ ، فَصَلَّى بِهِمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَةً ، ثُمَّ سَلَّمَ بِهِمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَقَضَى هَؤُلاءِ رَكْعَةً وَهَؤُلاءِ رَكْعَةً """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نمازِ خوف پڑھائی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک گروہ کو ایک رکعت پڑھائی اور دوسرا گروہ دشمن کے مدمقابل موجود رہا، پھر وہ لوگ واپس آ گئے اور آ کر دشمن کی طرف رُخ کر کے کھڑے ہو گئے، وہ لوگ آئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کو بھی ایک رکعت پڑھائی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سب سمیت سلام پھیر دیا، پھر یہ لوگ چلے گئے اور اپنے ساتھیوں کی جگہ دشمن کی طرف رُخ کر کے کھڑے ہو گئے، پھر وہ آئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کو بھی ایک رکعت پڑھائی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سب سمیت سلام پھیر دیا، تو ان لوگوں نے بھی اور ان لوگوں نے بھی ایک، ایک رکعت ادا کی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2879]

2880

Sahih Ibn Hibban #2880

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ الْكَلاعِيُّ بِحِمْصَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ عُبَيْدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ حَرْبٍ ، عَنِ الزُّبَيْدِيِّ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَقَامَ النَّاسُ مَعَهُ ، فَكَبَّرَ وَكَبَّرُوا مَعَهُ ، ثُمَّ رَكَعَ وَرَكَعَ مَعَهُ نَاسٌ مِنْهُمْ ، ثُمَّ سَجَدَ وَسَجَدُوا ، ثُمَّ قَامَ إِلَى الرَّكْعَةِ الثَّانِيَةِ ، فَتَأَخَّرَ الَّذِينَ سَجَدُوا مَعَهُ يَحْرُسُونَ إِخْوَانَهُمْ ، وَأَتَتِ الطَّائِفَةُ الأُخْرَى ، فَرَكَعُوا مَعَ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَسَجَدُوا ، وَالنَّاسُ كُلُّهُمْ فِي صَلاةٍ يُكَبِّرُونَ وَلَكِنْ يَحْرُسُ بَعْضُهُمْ بَعْضًا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ لوگ بھی کھڑے ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تکبیر کہی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ لوگوں نے بھی تکبیر کہی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم رکوع میں چلے گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ان میں سے کچھ لوگ رکوع میں چلے گئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدے میں گئے، تو وہ لوگ بھی سجدے میں چلے گئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم دوسری رکعت کے لیے کھڑے ہوئے، تو وہ لوگ پیچھے ہٹ گئے جنہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ سجدہ کیا تھا، وہ اپنے بھائیوں کی حفاظت کرنے لگے، دوسرا گروہ آ گیا، ان لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ رکوع کیا اور سجدہ کیا، تو ان سب لوگوں نے نماز ادا کی، وہ تکبیر بھی کہتے رہے اور ایک دوسرے کی حفاظت بھی کرتے رہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2880]

2881

Sahih Ibn Hibban #2881

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ ، عَنْ أَشْعَثَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ،صَفَّهُمْ صَفَّيْنِ ، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ بِالصَّفِّ الَّذِي يَلِيهِ ، ثُمَّ سَلَّمَ ، وَتَأَخَّرُوا ، وَتَقَدَّمَ الآخَرُونَ ، فَصَلَّى بِهِمْ رَكْعَتَيْنِ ، ثُمَّ سَلَّمَ ، فَكَانَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ وَلِلْمُسْلِمِينَ رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کی دو صفیں بنا دیں، جو صف آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دو رکعات پڑھائیں، پھر انہوں نے سلام پھیر دیا اور وہ پیچھے ہٹ گئے، اور دوسرے لوگ آگے آ گئے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بھی دو رکعات پڑھائیں، پھر انہوں نے بھی سلام پھیر دیا، تو یوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی چار رکعات ہوئیں اور ان مسلمانوں نے دو دو رکعات ادا کیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2881]

2882

Sahih Ibn Hibban #2882

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ الْيَشْكُرِيِّ ، أَنَّهُ سَأَلَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ إِقْصَارِ الصَّلاةِ فِي الْخَوْفِ ، أَيْنَ أُنْزِلَ وَأَيْنَ هُوَ ؟ فَقَالَ : خَرَجْنَا نَتَلَقَّى عِيرًا لِقُرَيْشٍ أَتَتْ مِنَ الشَّامِ ، حَتَّى إِذَا كُنَّا بِنَخْلٍ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَسَيْفُهُ مَوْضُوعٌ ، فَقَالَ :أَنْتَ مُحَمَّدٌ ؟ قَالَ : نَعَمْ " ، قَالَ : أَمَا تَخَافُنِي ؟ قَالَ : " لا " ، قَالَ : فَمَنْ يَمْنَعُكَ مِنِّي ؟ قَالَ : " اللَّهُ يَمْنَعُنِي مِنْكَ " ، قَالَ : فَسَلَّ سَيْفَهُ ، وَتَهَدَّدَهُ الْقَوْمُ وَأَوْعَدُوهُ ، فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، النَّاسَ بِالرَّحِيلِ وَبِأَخْذِ السِّلاحِ ، ثُمَّ نَادَى بِالصَّلاةِ ، فَصَلَّتْ طَائِفَةٌ خَلْفَهُ ، وَطَائِفَةٌ تَحْرُسُ مُقْبِلِينَ عَلَى الْعَدُوِّ ، فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالطَّائِفَةِ الَّتِي مَعَهُ رَكْعَتَيْنِ ، وَأَقْبَلَتِ الطَّائِفَةُ الأُخْرَى ، فَقَامَتْ فِي مَصَافِّ الَّذِينَ صَلَّوْا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَحَرَسَتِ الطَّائِفَةُ الَّذِينَ صَلَّوْا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَهُمْ مُقْبِلُونَ عَلَى الْعَدُوِّ ، فَصَلَّى بِهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، رَكْعَتَيْنِ ، فَصَارَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعًا وَلأَصْحَابِهِ رَكْعَتَيْنِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سلیمان یشکری سے مروی ہے، انہوں نے سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے خوف کے عالم میں نماز مختصر ادا کرنے کے بارے میں دریافت کیا کہ اس کا حکم کہاں نازل ہوا تھا اور یہ صورتِ حال کہاں درپیش آئی تھی؟ انہوں نے بتایا: ہم لوگ قریش کے ایک قافلے کا پیچھا کرتے ہوئے نکلے جو شام جا رہا تھا، جب ہم نخل کے مقام پر پہنچے تو ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اس نے تلوار لٹکائی ہوئی تھی، اس نے کہا: کیا آپ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ہیں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جی ہاں۔“ اس نے دریافت کیا: کیا آپ مجھ سے ڈرتے نہیں ہیں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جی نہیں۔“ اس نے دریافت کیا: آپ کو مجھ سے کون بچائے گا؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ مجھے تم سے بچائے گا۔“ راوی کہتے ہیں: اس شخص نے اپنی تلوار کھینچ لی، لوگوں نے اسے ڈانٹا اور اسے جھڑکا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو وہاں سے روانگی کا اور اسلحہ اختیار کرنے کا حکم دیا، پھر نماز کے لیے اذان دی گئی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پیچھے موجود گروہ کو نماز پڑھائی اور ایک گروہ دشمن کی طرف رخ کر کے حفاظت کرتا رہا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ساتھ والے گروہ کو دو رکعات پڑھائیں، پھر دوسرا گروہ آ کر اس جگہ کھڑا ہو گیا جہاں وہ لوگ کھڑے تھے جنہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ نماز ادا کی تھی اور وہ دشمن کی طرف رخ کر کے حفاظت کے فرائض سر انجام دینے لگے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کو بھی دو رکعات پڑھائیں، تو یوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی چار رکعات ہو گئیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھیوں نے دو رکعات ادا کیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2882]

2883

Sahih Ibn Hibban #2883

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَاتَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، مُحَارِبَ خَصَفَةَ بِنَخْلٍ ، فَرَأَوْا مِنَ الْمُسْلِمِينَ غُرَّةً ، فَجَاءَهُ رَجُلٌ مِنْهُمْ ، يُقَالُ لَهُ : عَوْفُ بْنُ الْحَارِثِ ، أَوْ غَوْرَثُ بْنُ الْحَارِثِ ، حَتَّى قَامَ عَلَى رَأْسِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، بِالسَّيْفِ ، فَقَالَ :مَنْ يَمْنَعُكَ مِنِّي ؟ قَالَ : اللَّهُ " ، قَالَ : فَسَقَطَ السَّيْفُ مِنْ يَدِهِ ، فَأَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ السَّيْفَ ، فَقَالَ لَهُ : " مَنْ يَمْنَعُكَ مِنِّي " ، قَالَ : كُنَّ خَيْرًا مِنِّي ، قَالَ : " تَشَهَّدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ ؟ " قَالَ : لا ، وَلَكِنْ أُعَاهِدُكَ عَلَى أَنْ لا أُقَاتِلَكَ وَلا أَكُونَ مَعَ قَوْمٍ يُقَاتِلُونَكَ ، قَالَ : فَخَلَّى سَبِيلَهُ ، فَجَاءَ إِلَى أَصْحَابِهِ ، فَقَالَ : جِئْتُكُمْ مِنْ عِنْدِ خَيْرِ النَّاسِ ، فَلَمَّا كَانَ عِنْدَ الظُّهْرِ أَوِ الْعَصْرِ ، شَكَّ أَبُو عَوَانَةَ ، أَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، بِصَلاةِ الْخَوْفِ قَالَ : فَكَانَ النَّاسُ طَائِفَتَيْنِ : طَائِفَةً بِإِزَاءِ الْعَدُوِّ ، وَطَائِفَةً يُصَلُّونَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَصَلَّى بِالطَّائِفَةِ الَّذِينَ مَعَهُ رَكْعَتَيْنِ ، ثُمَّ انْصَرَفُوا ، فَكَانُوا مَكَانَ أُولَئِكَ ، وَجَاءَ أُولَئِكَ فَصَلَّوْا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، رَكْعَتَيْنِ ، فَكَانَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعُ رَكَعَاتٍ وَلِلْقَوْمِ رَكْعَتَانِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نخل کے مقام پر موجود ”محارب خصفہ“ میں لڑائی کی، ان لوگوں نے مسلمانوں کو غافل دیکھا تو ان کا ایک شخص آیا جس کا نام عوف بن حارث یا شاید غورث بن حارث تھا، وہ تلوار لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سرہانے آ کر کھڑا ہو گیا اور دریافت کیا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مجھ سے کون بچائے گا؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «اللهُ» ”اللہ تعالیٰ۔“ راوی کہتے ہیں: اس کے ہاتھ سے تلوار گر گئی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تلوار کو پکڑا اور دریافت کیا: ”تمہیں مجھ سے کون بچائے گا؟“ اس نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھ سے بہتر ہو جائیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم اس بات کی گواہی دیتے ہو کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے؟“ اس نے کہا: جی نہیں، میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ یہ عہد کرتا ہوں کہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جنگ نہیں کروں گا اور نہ ہی اس قوم کے ساتھ رہوں گا جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جنگ کرے گی۔ راوی کہتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے چھوڑ دیا، وہ اپنے ساتھیوں کے پاس آیا اور بولا: میں سب سے بہتر شخص کے پاس سے تمہارے پاس آیا ہوں۔ جب ظہر یا شاید عصر کا وقت ہوا، یہ شک ابوعوانہ نامی راوی کو ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نمازِ خوف کا حکم دیا، راوی بیان کرتے ہیں: لوگوں کے دو گروہ بن گئے، ایک گروہ دشمن کے مدمقابل ہو گیا اور ایک گروہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز ادا کرنے لگا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ساتھ والے گروہ کو دو رکعات پڑھائیں، پھر ان لوگوں نے نماز ختم کر دی اور وہ ان لوگوں کی جگہ پر آ گئے اور وہ لوگ آ کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتدا میں نماز ادا کرنے لگے، انہوں نے دو رکعات ادا کیں، یوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی چار رکعات ہوئیں اور ان لوگوں کی دو رکعات ہوئیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2883]

2884

Sahih Ibn Hibban #2884

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : أَقْبَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، حَتَّى إِذْ كُنَّا بِذَاتِ الرِّقَاعِ ، نُودِيَ : الصَّلاةُ جَامِعَةٌ ،فَصَلَّى بِطَائِفَةٍ رَكْعَتَيْنِ ، ثُمَّ تَأَخَّرُوا ، وَصَلَّى بِالطَّائِفَةِ الأُخْرَى رَكْعَتَيْنِ ، فَكَانَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعُ رَكَعَاتٍ ، وَلِلْقَوْمِ رَكْعَتَانِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ آئے یہاں تک کہ جب ہم ذات الرقاع کے مقام پر پہنچے، تو اعلان کیا گیا: ”باجماعت نماز ہونے لگی ہے“، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک گروہ کو دو رکعات پڑھائیں، پھر وہ پیچھے ہٹ گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسرے گروہ کو دو رکعات پڑھائیں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی چار رکعات ہوئیں اور ان لوگوں کی دو رکعات ہوئیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2884]

2885

Sahih Ibn Hibban #2885

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو يَحْيَى مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ صَاعِقَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، وَمَالِكٌ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ صَالِحِ بْنِ خَوَّاتٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ ، أَنَّهُ قَالَ : فِي صَلاةِ الْخَوْفِ تَقُومُ طَائِفَةٌ وَرَاءَ الإِمَامِ وَطَائِفَةٌ خَلْفَهُ ، فَيُصَلِّي بِالَّذِينَ خَلْفَهُ رَكْعَةً وَسَجْدَتَيْنِ ، ثُمَّ يَقْعُدُ مَكَانَهُ حَتَّى يَقْضُوا رَكْعَةً وَسَجْدَتَيْنِ ، ثُمَّ يَتَحَوَّلُونَ إِلَى مَكَانِ أَصْحَابِهِمْ ، ثُمَّ يَتَحَوَّلُ أَصْحَابُهُمْ إِلَى مَكَانِ هَؤُلاءِ ، فَيُصَلِّي بِهِمْ رَكْعَةً وَسَجْدَتَيْنِ ، ثُمَّ يَقْعُدُ مَكَانَهُ حَتَّى يُصَلُّوا رَكْعَةً وَسَجْدَتَيْنِ ، ثُمَّ يُسَلِّمُ "، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، فِي عَقِبِهِ قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ صَالِحِ بْنِ خَوَّاتٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَ هَذَا"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا سہل بن ابوحثمہ رضی اللہ عنہ نمازِ خوف کے بارے میں بیان کرتے ہیں: ”ایک گروہ امام کے سامنے کھڑا ہوگا، دوسرا گروہ امام کے پیچھے کھڑا ہوگا، امام اس گروہ کو ایک رکعت اور دو سجدے پڑھائے گا جو اس کے پیچھے کھڑا ہے، پھر وہ اپنی جگہ پر بیٹھا رہے گا، یہاں تک کہ وہ لوگ (دوسری رکعت کا) ایک رکوع اور دو سجدے ادا کر لیں گے، پھر وہ لوگ اپنے ساتھیوں کی جگہ پر چلے جائیں گے اور ان کے ساتھی اس جگہ پر آ جائیں گے، امام انہیں ایک رکوع اور دو سجدے پڑھائے گا، امام اپنی جگہ بیٹھا رہے گا، یہاں تک کہ وہ لوگ بھی ایک رکوع اور دو سجدے ادا کر لیں گے، تو امام سلام پھیر دے گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2885]

2887

Sahih Ibn Hibban #2887

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ قَحْطَبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : فِي صَلاةِ الْخَوْفِ يَقُومُ الإِمَامِ وَطَائِفَةٌ مِنَ النَّاسِ مَعَهُ فَيَسْجُدُونَ سَجْدَةً وَاحِدَةً ، وَتَكُونُ طَائِفَةٌ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ الْعَدُوِّ ، ثُمَّ يَنْصَرِفُ الَّذِينَ سَجَدُوا سَجْدَةً مَعَ الإِمَامِ ، وَيَكُونَونَ مَكَانَ الَّذِينَ لَمْ يُصَلُّوا ، وَيَجِيءُ أُولَئِكَ فَيُصَلُّونَ مَعَ إِمَامِهِمْ سَجْدَةً وَاحِدَةً ، ثُمَّ يَنْصَرِفُ إِمَامُهُمْ ، فَيُصَلِّي كُلُّ وَاحِدٍ مِنَ الطَّائِفَتَيْنِ بِصَلاتِهِ سَجْدَةً وَاحِدَةً ، فَإِنْ كَانَ خَوْفًا أَشَدَّ مِنْ ذَلِكَ فَرِجَالا أَوْ رُكْبَانًا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نمازِ خوف کے بارے میں یہ بات ارشاد فرمائی: ”امام کھڑا ہو گا، اس کے ہمراہ ایک گروہ کھڑا ہو گا، وہ لوگ بھی ایک رکعت ادا کر لیں گے اور دوسرا گروہ ان کے اور دشمن کے درمیان رہے گا، پھر وہ لوگ واپس چلے جائیں گے جنہوں نے امام کے ہمراہ ایک رکعت ادا کی اور ان لوگوں کی جگہ چلے جائیں گے جنہوں نے نماز ادا نہیں کی، پھر وہ لوگ آئیں گے اور امام کے ہمراہ ایک رکعت ادا کریں گے، پھر امام اپنی نماز ختم کر دے گا، دونوں گروہوں میں سے ہر ایک گروہ الگ سے ایک رکعت ادا کرے گا، اگر خوف اس سے زیادہ شدید ہو، تو پیادہ یا سواری کی حالت میں نماز ادا کر لی جائے گی۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2887]

2888

Sahih Ibn Hibban #2888

أَخْبَرَنَا ابْنُ خُزَيْمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحِيمِ الْبَرْقِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ الْهَادِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي شُرَحْبِيلُ أَبُو سَعْدٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صَلاةِ الْخَوْفِ قَالَ : قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَطَائِفَةٌ مِنْ خَلْفِهِ ، وَطَائِفَةٌ مِنْ وَرَاءِ الَّتِي خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قُعُودٌ وَوُجُوهُهُمْ كُلُّهُمْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَكَبَّرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَكَبَّرَتِ الطَّائِفَتَانِ ، فَرَكَعَ وَرَكَعَتِ الطَّائِفَةُ الَّتِي خَلْفَهُ وَالأُخْرَى قُعُودٌ ، ثُمَّ سَجَدَ وَسَجَدُوا أَيْضًا وَالآخَرُونَ قُعُودٌ ، ثُمَّ قَامَ فَقَامُوا وَنَكَصُوا خَلْفَهُمْ حَتَّى كَانُوا مَكَانَ أَصْحَابِهِمْ قُعُودًا ، وَأَتَتِ الطَّائِفَةُ الأُخْرَى فَصَلَّى بِهِمْ رَكْعَةً وَسَجْدَتَيْنِ وَالآخَرُونَ قُعُودٌ ، ثُمَّ سَلَّمَ ، فَقَامَتِ الطَّائِفَتَانِ كِلْتَاهُمَا ، فَصَلُّوا لأَنْفُسِهِمْ رَكْعَةً وَسَجْدَتَيْنِ "، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : هَذِهِ الأَخْبَارُ لَيْسَ بَيْنَهُمَا تَضَادٌ وَلا تَهَاتُرٌ ، وَلَكِنَّ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، صَلَّى صَلاةَ الْخَوْفِ مِرَارًا فِي أَحْوَالٍ مُخْتَلِفَةٍ بِأَنْوَاعٍ مُتَبَايِنَةٍ عَلَى حَسَبِ مَا ذَكَرْنَاهَا ، أَرَادَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهِ تَعْلِيمِ أُمَّتِهِ صَلاةَ الْخَوْفِ ، أَنَّهُ مُبَاحٌ لَهُمْ أَنْ يُصَلُّوا أَيَّ نَوْعٍ مِنَ الأَنْوَاعِ التِّسْعَةِ الَّتِي صَلاهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْخَوْفِ عَلَى حَسَبِ الْحَاجَةِ إِلَيْهَا ، وَالْمَرْءُ مُبَاحُ لَهُ أَنْ يُصَلِّيَ مَا شَاءَ عِنْدَ الْخَوْفِ مِنْ هَذِهِ الأَنْوَاعِ الَّتِي ذَكَرْنَاهَا ، إِذْ هِيَ مِنَ اخْتِلافِ الْمُبَاحِ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَكُونَ بَيْنَهَا تَضَادٌ أَوْ تَهَاتُرٌ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے نمازِ خوف کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے، ایک گروہ آپ کے پیچھے کھڑا ہو گیا اور ایک گروہ ان کے پیچھے کھڑا ہو گیا، جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے کھڑے تھے وہ لوگ بیٹھے ہوئے تھے، ان سب کے چہرے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف تھے، آپ نے تکبیر کہی، ان دونوں گروہوں نے تکبیر کہی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع کیا، آپ کے پیچھے والے گروہ نے بھی رکوع کیا اور دوسرے لوگ بیٹھے رہے، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ کیا تو ان لوگوں نے سجدہ کیا اور دوسرے لوگ بیٹھے رہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے وہ لوگ بھی کھڑے ہوئے اور وہ پیچھے ہٹتے ہوئے ان لوگوں کی جگہ پر آ گئے جہاں ان کے ساتھی بیٹھے ہوئے تھے، پھر دوسرا گروہ آ گیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کو بھی ایک رکوع اور دو سجدے پڑھائے اور دوسرے لوگ بیٹھے رہے، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا تو دونوں گروہ کھڑے ہوئے انہوں نے انفرادی طور پر ایک رکعت ادا کی۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) ان روایات میں کوئی تضاد اور اختلاف نہیں پایا جاتا بلکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نمازِ خوف مختلف مواقع پر مختلف طریقوں سے کئی مرتبہ ادا کی تھی جس کا ذکر ہم نے کیا ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا اس سے ارادہ یہ تھا کہ آپ اپنی امت کو نمازِ خوف کے طریقے کی تعلیم دیں کیونکہ ان کے لیے یہ بات مباح ہے کہ وہ ان نو طریقوں میں سے کسی بھی طریقے کے مطابق نماز ادا کر سکتے ہیں جس طرح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خوف کے عالم میں نماز ادا کی تھی، یعنی صورت حال کے مطابق جو بھی طریقہ مناسب ہو، آدمی کے لیے یہ بات مباح ہے کہ وہ خوف کے عالم میں ان طریقوں میں سے جس طریقے کے مطابق چاہے نماز ادا کرے جن طریقوں کا ہم نے ذکر کیا ہے، یہ مباح اختلاف کی قسم سے تعلق رکھتے ہیں، ان روایات میں کوئی تضاد یا کوئی اختلاف نہیں ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2888]

2889

Sahih Ibn Hibban #2889

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ الْكَلاعِيُّ بِحِمْصَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، قَالَ : وَلا أَعْلَمُ إِلا أَنَّ أَبَا عَمْرٍو حَدَّثَنَا بِحَدِيثٍ ، حَدَّثَنَا بِهِ شَيْبَانُ أَبُو مُعَاوِيَةَ ، وَغَيْرُهُ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ جَاءَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ الْخَنْدَقِ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ،مَا كِدْتُ أُصَلِّي الْعَصْرَ حَتَّى كَادَتِ الشَّمْسُ أَنْ تَغْرُبَ وَذَلِكَ بَعْدَمَا أَفْطَرَ الصَّائِمُ قَالَ : وَاللَّهِ مَا صَلَّيْنَاهَا بَعْدُ " ، قَالَ : فَنَزَلَ إِلَى بُطْحَانَ وَأَنَا مَعَهُ فَتَوَضَّأَ ، ثُمَّ صَلَّى الْعَصْرَ بَعْدَمَا غَرَبَتِ الشَّمْسُ وَبَعْدَمَا أَفْطَرَ الصَّائِمُ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ غزوہ خندق کے موقع پر سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں ابھی تک عصر کی نماز ادا نہیں کر سکا، یہاں تک کہ سورج غروب ہو گیا۔ یہ اس کے بعد کی بات ہے جب روزہ دار افطاری کر لیتا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اللہ کی قسم! ہم بھی ابھی تک یہ نماز ادا نہیں کر سکے۔“ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم «بُطْحَانَ» کے مقام پر رکے اور میں آپ کے ساتھ تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سورج غروب ہو جانے کے بعد اور اس کے بعد جب روزہ دار افطار کر لیتا ہے، عصر کی نماز ادا کی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2889]

2890

Sahih Ibn Hibban #2890

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْمَقْبُرِيُّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : حُبِسْنَا يَوْمَ الْخَنْدَقِ حَتَّى كَانَ بَعْدَ الْمَغْرِبِ ، وَذَلِكَ قَبْلَ أَنْ يَنْزِلَ فِي الْقِتَالِ ، فَلَمَّا كُفِينَا الْقِتَالَ ، وَذَلِكَ قَوْلُ اللَّهِ جَلَّ وَعَلا : وَكَفَى اللَّهُ الْمُؤْمِنِينَ الْقِتَالَ وَكَانَ اللَّهُ قَوِيًّا عَزِيزًا أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِلالافَأَقَامَ الظُّهْرَ ، فَصَلَّى كَمَا كَانَ يُصَلِّيهَا فِي وَقْتِهَا ، ثُمَّ أَقَامَ الْعَصْرَ ، فَصَلاهَا كَمَا كَانَ يُصَلِّيهَا فِي وَقْتِهَا ، ثُمَّ أَقَامَ الْمَغْرِبَ ، فَصَلَّى كَمَا كان يُصَلِّيهَا فِي وَقْتِهَا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبدالرحمن بن ابوسعید خدری رحمہ اللہ اپنے والد (سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ) کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ غزوہ خندق کے موقع پر ہم (لڑائی میں) مصروف رہے، یہاں تک کہ مغرب کے بعد کا وقت ہو گیا، یہ جنگ کے بارے میں حکم نازل ہونے سے پہلے کی بات ہے۔ جب جنگ کے حوالے سے ہماری کفایت ہو گئی (اس سے مراد اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:) ﴿وَكَفَى اللَّهُ الْمُؤْمِنِينَ الْقِتَالَ وَكَانَ اللَّهُ قَوِيًّا عَزِيزًا﴾ [سورة الأحزاب: 25] ”جنگ میں اللہ تعالیٰ مومنین کے لیے کافی ہے، اللہ تعالیٰ طاقت ور اور غالب ہے۔“ (مغرب ہو جانے کے بعد) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا، انہوں نے ظہر کے لیے اقامت کہی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نماز اسی طرح ادا کی جس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے اس کے وقت میں ادا کرتے تھے، پھر انہوں نے عصر کے لیے اقامت کہی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نماز اسی طرح ادا کی جس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے اس کے وقت میں ادا کرتے تھے، پھر انہوں نے مغرب کے لیے اقامت کہی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نماز اسی طرح ادا کی جس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے وقت میں ادا کرتے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2890]

2891

Sahih Ibn Hibban #2891

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْحَارِثِ الْمَرْوَزِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ يَوْمَ الْخَنْدَقِ : شَغَلُونَا عَنِ صَلاةِ الْعَصْرِ ، مَلأَ اللَّهُ قُبُورَهُمْ وَبُيُوتَهُمْ نَارًا " ، قَالَ : وَلَمْ يُصَلِّهَا يَوْمَئِذٍ حَتَّى غَابَتِ الشَّمْسُ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ غزوہ خندق کے موقع پر میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”ان لوگوں نے ہمیں عصر کی نماز ادا کرنے نہیں دی، «مَلَأَ اللّٰهُ قُبُوْرَهُمْ وَبُيُوْتَهُمْ نَارًا» ”اللہ تعالیٰ ان کی قبروں اور گھروں کو آگ سے بھر دے۔““ راوی بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم وہ نماز اس دن سورج غروب ہونے تک ادا نہیں کر سکے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2891]

2892

Sahih Ibn Hibban #2892

ثُمَّ تَذَاكَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَحَمْزَةُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ الدُّنْيَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : الدُّنْيَا خَضِرَةٌ حُلْوَةٌ ، فَمَنْ أَخَذَهَا بِحَقِّهَا بُورِكَ لَهُ فِيهَا ، وَرُبَّ مُتَخَوِّضٍ فِيمَا شَاءَتْ نَفْسُهُ فِي مَالِ اللَّهِ وَمَالِ رَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، لَهُ النَّارُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ خولہ بنت قیس رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے ہاں تشریف لائے، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کھانا پیش کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دستِ مبارک اس میں رکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو وہ گرم محسوس ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «حَسِّ» (یعنی ”اوئی“)۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اگر ابنِ آدم کو سردی لگتی ہے تو وہ یہ کہتا ہے: «حَسِّ» (یعنی ”اوئی“)، اگر اسے گرمی لگتی ہے تو وہ یہ کہتا ہے: «حَسِّ» (یعنی ”اوئی“)۔“ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا حمزہ بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ دنیا کا تذکرہ کرنے لگے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”دنیا سرسبز اور میٹھی ہے، جو شخص اس کے حق کے ہمراہ اسے حاصل کرے گا، اس کے لیے اس میں برکت رکھی جائے گی اور کئی لوگ ایسے ہیں جو اللہ اور اس کے رسول کے مال کو حاصل کرنا چاہتے ہیں، تو ان کو قیامت کے دن جہنم ملے گی۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 2892]

2893

Sahih Ibn Hibban #2893

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عن مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ آدَمَ ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى ، عَنْ أَبِي عَامِرٍ الْخَزَّازِ ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، عَنِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ :خَدَمْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَشَرَ سِنِينَ ، فَمَا قَالَ لِي : لَمْ فَعَلْتَ كَذَا وَلَمْ تَفْعَلْ كَذَا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے دس سال نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی ”اف“ نہیں کہا اور کبھی یہ نہیں فرمایا: ”یہ کیوں کیا ہے؟“ اور ”یہ کیوں نہیں کیا؟“ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 2893]

2894

Sahih Ibn Hibban #2894

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخٍ ، أَخْبَرَنَا سَلامُ بْنُ مِسْكِينٍ ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ :خَدَمْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، عَشَرَ سِنِينَ ، فَمَا قَالَ لِي : أُفٍّ قَطُّ " ، وَلا قَالَ لِي : " أَلا صَنَعْتَ كَذَا وَكَذَا ، وَلَمْ تَصْنَعْ كَذَا وَكَذَا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے دس سال نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کی، آپ نے کبھی مجھے ”اف“ نہیں کہا اور کبھی یہ نہیں فرمایا: ”تم نے یہ نہیں کیا؟“ ”یہ کیوں نہیں کیا ہے؟“ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 2894]

2895

Sahih Ibn Hibban #2895

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ حَمَّادٍ سَجَّادَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ،مَرَّ بِامْرَأَةٍ عِنْدَ قَبْرٍ تَبْكِي ، فَقَالَ : يَا هَذِهِ ، اصْبِرِي " ، فَقَالَتْ : إِنَّكَ لا تَدْرِي مَا مُصَابِي ، فَقِيلَ لَهَا بَعْدَ ذَلِكَ : هَذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَتَتْهُ ، فَقَالَتْ : لَمْ أَعْرِفْكَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک خاتون کے پاس سے گزرے جو قبر کے پاس بیٹھی رو رہی تھی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے عورت! صبر سے کام لو۔“ اس نے کہا کہ آپ نہیں جانتے مجھے کیا مصیبت لاحق ہوئی ہے، بعد میں اس خاتون کو بتایا گیا کہ وہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم تھے، وہ خاتون نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور اس نے عرض کی کہ میں آپ کو پہچانی نہیں تھی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 2895]

2896

Sahih Ibn Hibban #2896

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ صُهَيْبٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : عَجَبًا لأَمْرِ الْمُؤْمِنِ إِنَّ أَمْرَهُ كُلَّهُ خَيْرٌ ، إِنْ أَصَابَتْهُ سَرَّاءُ شَكَرَ ، وَإِنَّ أَصَابَتْهُ ضَرَّاءُ صَبَرَ ، وَكَانَ خَيْرًا لَهُ ، وَلَيْسَ ذَلِكَ لأَحَدٍ إِلا لِلْمُؤْمِنِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”بندہ مومن کے بارے میں حیرت ہوتی ہے، اس کا معاملہ ہر حالت میں بہتر ہوتا ہے؛ اگر اسے خوشخبری ملتی ہے تو وہ شکر کرتا ہے، اگر اسے پریشانی لاحق ہوتی ہے تو وہ صبر سے کام لیتا ہے اور یہ بھی اس کے لیے بہتر ہوتی ہے، یہ خصوصیت صرف مومن کو حاصل ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 2896]

2897

Sahih Ibn Hibban #2897

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ بَيَانِ بْنِ بِشْرٍ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ خَبَّابِ بْنِ الأَرَتِّ ، قَالَ : أَتَيْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَهُوَ مُتَوَسِّدٌ بُرْدَةً فِي ظِلِّ الْكَعْبَةِ وَقَدْ لَقِينَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ شِدَّةً ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَلا تَدْعُو اللَّهَ لَنَا ، فَجَلَسَ مُغْضَبًا مُحْمَرًّا وَجْهُهُ ، فَقَالَ : إِنَّمَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ لِيُسْأَلُ الْكَلِمَةَ فَمَا يُعْطِيهَا ، فَيُوضَعُ عَلَيْهِ الْمِنْشَارِ ، فَيَشُقُّ بِاثْنَيْنِ ، مَا يَصْرِفُهُ عَنْ دِينِهِ ، وَإِنْ كَانَ أَحَدُهُمْ لَيُمْشَطُ مَا دُونَ عِظَامِهِ مِنْ لَحْمٍ أَوْ عَصَبٍ بِأَمْشَاطِ الْحَدِيدِ ، وَمَا يَصْرِفُهُ ذَاكَ عَنْ دِينِهِ ، وَلَكِنَّكُمْ تَعْجَلُونَ ، وَلَيُتِمَّنَّ اللَّهُ هَذَا الأَمْرَ حَتَّى يَسِيرَ الرَّاكِبُ مِنْ صَنْعَاءَ إِلَى حَضْرَمَوْتَ لا يَخَافُ إِلا اللَّهَ وَالذِّئْبَ عَلَى غَنَمِهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا خباب بن ارت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت خانہ کعبہ کے سائے میں چادر کے ساتھ ٹیک لگا کر بیٹھے ہوئے تھے۔ ہمیں مشرکین کی طرف سے تکالیف کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا۔ میں نے عرض کی: کیا آپ اللہ تعالیٰ سے ہمارے لیے دعا نہیں کریں گے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم غضب کی حالت میں سیدھے ہو کر بیٹھ گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ سرخ ہو گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم سے پہلے لوگوں سے کلمے کا مطالبہ کیا جاتا تھا، اگر وہ اسے پورا نہیں کرتا تھا تو آرے کو اس کے سر پر رکھ کر اسے دو حصوں میں چیر دیا جاتا تھا لیکن یہ چیز بھی انہیں ان کے دین سے نہیں پھیر سکی، اور بعض اوقات کسی شخص پر (لوہے کی بنی ہوئی) کنگھی پھیری جاتی تھی جو اس کے گوشت اور پٹھوں میں سے گزر کر اس کی ہڈیوں تک پہنچ جاتی تھی لیکن یہ چیز بھی انہیں ان کے دین سے نہیں پھیر سکی۔ البتہ تم لوگ جلد بازی کا اظہار کر رہے ہو، اللہ تعالیٰ اس معاملے کو ضرور پورا کرے گا یہاں تک کہ ایک سوار صنعاء سے چل کر حضرموت تک جائے گا اور اسے صرف اللہ کا خوف ہو گا یا اپنی بکریوں کے حوالے سے بھیڑیے کا خوف ہو گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 2897]

2898

Sahih Ibn Hibban #2898

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنَا نَافِعُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنْ عَقِيلٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : إِنَّأَيُّوبَ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَبِثَ فِي بَلائِهِ ثَمَانَ عَشْرَةَ سَنَةً ، فَرَفَضَهُ الْقَرِيبُ وَالْبَعِيدُ إِلا رَجُلَيْنِ مِنْ إِخْوَانِهِ كَانَا مِنْ أَخَصِّ إِخْوَانِهِ ، كَانَا يَغْدُوَانِ إِلَيْهِ وَيَرُوحَانِ ، فَقَالَ أَحَدُهُمَا لِصَاحِبِهِ : تَعْلَمُ وَاللَّهِ لَقَدْ أَذْنَبَ أَيُّوبُ ذَنْبًا مَا أَذْنَبَهُ أَحَدٌ مِنَ الْعَالَمِينَ قَالَ لَهُ صَاحِبُهُ : وَمَا ذَاكَ ؟ قَالَ : مُنْذُ ثَمَانَ عَشْرَةَ سَنَةً لَمْ يَرْحَمْهُ اللَّهُ ، فَيَكْشِفُ مَا بِهِ ، فَلَمَّا رَاحَ إِلَيْهِ لَمْ يَصْبِرِ الرَّجُلُ حَتَّى ذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ ، فَقَالَ أَيُّوبُ : لا أَدْرِي مَا تَقُولُ غَيْرَ أَنَّ اللَّهَ يَعْلَمُ أَنِّي كُنْتُ أَمُرُّ عَلَى الرَّجُلَيْنِ يَتَنَازَعَانِ فَيَذْكُرَانِ اللَّهَ ، فَأَرْجِعُ إِلَى بَيْتِي فَأُكَفِّرُ عَنْهُمَا كَرَاهِيَةَ أَنْ يُذْكَرَ اللَّهُ إِلا فِي حَقٍّ ، قَالَ : وَكَانَ يَخْرُجُ إِلَى حَاجَتِهِ ، فَإِذَا قَضَى حَاجَتَهُ أَمْسَكَتِ امْرَأَتُهُ بِيَدِهِ فَلَمَّا كَانَ ذَاتَ يَوْمٍ ، أَبْطَأَ عَلَيْهَا ، فَأَوْحَى اللَّهُ إِلَى أَيُّوبَ فِي مكانِهِ ارْكُضْ بِرِجْلِكَ هَذَا مُغْتَسَلٌ بَارِدٌ وَشَرَابٌ فَاسْتَبْطَأَتْهُ فَبَلَغَتْهُ ، فَأَقْبَلَ عَلَيْهَا قَدْ أَذْهِبِ اللَّهُ مَا بِهِ مِنَ الْبَلاءِ فَهُوَ أَحْسَنُ مَا كَانَ ، فَلَمَّا رَأَتْهُ قَالَتْ : أَيْ بَارِكَ اللَّهُ فِيكَ ، هَلْ رَأَيْتَ نَبِيَّ اللَّهِ هَذَا الْمُبْتَلَى ، وَاللَّهِ عَلَى ذَلِكَ مَا رَأَيْتُ أَحَدًا كَانَ أَشْبَهَ بِهِ مِنْكَ إِذْ كَانَ صَحِيحًا قَالَ : فَإِنِّي أَنَا هُوَ ، وَكَانَ لَهُ أَنْدَرَانِ : أَنْدَرُ الْقَمْحِ ، وَأَنْدَرُ الشَّعِيرِ ، فَبَعَثَ اللَّهُ سَحَابَتَيْنِ ، فَلَمَّا كَانَتْ إِحْدَاهُمَا عَلَى أَنْدَرِ الْقَمْحِ ، أَفْرَغَتْ فِيهِ الذَّهَبَ حَتَّى فَاضَتْ ، وَأَفْرَغَتِ الأُخْرَى عَلَى أَنْدَرِ الشَّعِيرِ الْوَرِقَ حَتَّى فَاضَتْ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”اللہ کے نبی سیدنا ایوب علیہ السلام اٹھارہ سال تک بیماری میں مبتلا رہے، ہر قریبی اور دور کے شخص نے ان سے لاتعلقی اختیار کر لی، سوائے دو آدمیوں کے جو ان کے انتہائی قریبی دوست تھے۔ وہ صبح و شام ان کے پاس جایا کرتے تھے۔ ان میں سے ایک اپنے ساتھی سے کہتا تھا: تم یہ بات جانتے ہو، اللہ کی قسم! ایوب نے کسی ایسے گناہ کا ارتکاب کیا ہے، جو تمام جہانوں میں سے کسی نے نہیں کیا۔ اس کے ساتھی نے اس سے کہا: وہ کیا ہے؟ وہ بولا: اٹھارہ سال ہو گئے ہیں، اللہ تعالیٰ کو ان پر رحم نہیں آیا ورنہ اللہ تعالیٰ ان کی تکلیف کو ختم کر دیتا۔ جب وہ شخص سیدنا ایوب علیہ السلام کے پاس گیا تو اس سے صبر نہیں ہوا، اس نے سیدنا ایوب علیہ السلام کے سامنے اس بات کا تذکرہ کر دیا، تو سیدنا ایوب علیہ السلام نے فرمایا: مجھے نہیں معلوم تم کیا کہہ رہے ہو، البتہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ یہ بات جانتا ہے، میں دو آدمیوں کے پاس سے گزرا جو آپس میں جھگڑ رہے تھے اور وہ دونوں اللہ تعالیٰ کا ذکر کر رہے تھے، میں اپنے گھر واپس آ گیا اور میں نے ان دونوں کی طرف سے کفارہ دیا، اس بات کو ناپسند کرتے ہوئے کہ اللہ تعالیٰ کا ذکر ناحق طور پر کیا جائے۔ راوی کہتے ہیں: پھر وہ قضائے حاجت کے لیے گئے، جب انہوں نے اپنی حاجت مکمل کر لی، تو ان کی بیوی نے ان کے ہاتھ کو پکڑا، پھر ایک دن وہ اس عورت کے پاس نہیں آئے، تو اللہ تعالیٰ نے سیدنا ایوب علیہ السلام پر اس جگہ وحی نازل کی: ﴿ارْكُضْ بِرِجْلِكَ ۖ هَٰذَا مُغْتَسَلٌ بَارِدٌ وَشَرَابٌ﴾ [سورة ص: 42] ”تم اپنا پاؤں مارو تو یہاں سے غسل کرنے اور پینے کے لیے ٹھنڈا (پانی پھوٹ پڑے گا)۔“ وہ عورت کچھ تاخیر سے ان کے پاس آئی، جب سیدنا ایوب علیہ السلام نے اس کی طرف رخ کیا، تو ان کی بیماری ختم ہو چکی تھی اور وہ پہلے کی طرح خوبصورت (اور تندرست تھے)۔ جب اس عورت نے انہیں دیکھا تو بولی: اے (صاحب!) اللہ تعالیٰ آپ کو برکت دے، کیا آپ نے بیماری میں مبتلا اللہ تعالیٰ کے نبی (سیدنا ایوب علیہ السلام) کو دیکھا ہے؟ اللہ تعالیٰ کی قسم! میں نے آپ سے زیادہ ان سے مشابہت رکھنے والا شخص نہیں دیکھا، یعنی جب وہ تندرست تھے، سیدنا ایوب علیہ السلام نے فرمایا: وہ میں ہی ہوں۔ سیدنا ایوب علیہ السلام کے دو گودام تھے، ایک گودام گندم کا تھا اور دوسرا گودام جَو کا تھا، اللہ تعالیٰ نے دو بادل بھیجے، ان میں سے ایک گندم والے گودام پر آیا اور اس نے اس پر سونے کی بارش کی یہاں تک کہ وہ (گودام سونے سے) بھر گیا اور دوسرے بادل نے جَو کے گودام پر چاندی کی بارش کی یہاں تک کہ وہ (گودام چاندی سے) بھر گیا (یعنی سیدنا ایوب علیہ السلام پھر سے خوب مالدار ہو گئے)۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 2898]

2899

Sahih Ibn Hibban #2899

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ زُهَيْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مِسْكِينٍ الْيَمَامِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ بَكْرٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو عَبْدِ رَبٍّ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَا بَقِيَ مِنَ الدُّنْيَا إِلا بَلاءٌ وَفِتْنَةٌ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”دنیا میں اب صرف آزمائش اور فتنہ ہی باقی رہ گئے ہیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 2899]

2900

Sahih Ibn Hibban #2900

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ بَهْدَلَةَ ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ،مَنْ أَشَدُّ النَّاسِ بَلاءً ؟ قَالَ : الأَنْبِيَاءُ ، ثُمَّ الأَمْثَلُ فَالأَمْثَلُ ، وَيُبْتَلَى الْعَبْدُ عَلَى حَسَبِ دِينِهِ ، فَمَا يَبْرَحُ الْبَلاءُ بِالْعَبْدِ حَتَّى يَدَعَهُ يَمْشِي عَلَى الأَرْضِ ، وَمَا عَلَيْهِ خَطِيئَةٌ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

مصعب بن سعد رحمہ اللہ اپنے والد (سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ) کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! سب سے زیادہ آزمائش کا سامنا کن لوگوں کو کرنا پڑتا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انبیاء کو، پھر اس کے بعد درجہ بدرجہ (نیک لوگوں کو)، بندے کو اس کے دین کے حساب سے آزمائش میں مبتلا کیا جاتا ہے اور آزمائش مسلسل بندے کے ساتھ رہتی ہے، یہاں تک کہ اسے ایسی حالت میں کر دیتی ہے کہ وہ زمین پر چلتا ہے اور اس پر کوئی گناہ نہیں ہوتا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 2900]

2901

Sahih Ibn Hibban #2901

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْجُنَيْدِ ، حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ،أَيُّ النَّاسِ أَشَدُّ بَلاءً ؟ قَالَ : الأَنْبِيَاءُ ، ثُمَّ الأَمْثَلُ ، فَالأَمْثَلُ ، يُبْتَلَى الرَّجُلُ عَلَى حَسَبِ دِينِهِ ، فَإِنْ كَانَ دِينُهُ صُلْبًا اشْتَدَّ بَلاؤُهُ ، وَإِنْ كَانَ فِي دِينِهِ رِقَّةٌ ، ابْتُلِيَ عَلَى حَسَبِ دِينِهِ ، فَمَا يَبْرَحُ الْبَلاءُ بِالْعَبْدِ حَتَّى يَتْرُكَهُ يَمْشِي عَلَى الأَرْضِ وَمَا عَلَيْهِ خَطِيئَةٌ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

مصعب بن سعد اپنے والد (رضی اللہ عنہ) کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ میں نے عرض کی: ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! لوگوں میں سب سے زیادہ آزمائش کا شکار کون لوگ ہوتے ہیں؟“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انبیاء، پھر درجہ بدرجہ (مذہبی لوگ)، آدمی کو اس کے دین کے حساب سے آزمائش میں مبتلا کیا جاتا ہے، اگر اس کا دین مضبوط ہو تو اس کی آزمائش شدید ہوتی ہے اور اگر اس کے دین میں کمزوری ہو تو اس کے دین کے حساب سے ہی آزمائش میں مبتلا کیا جاتا ہے، اور آدمی مسلسل آزمائش کا شکار ہوتا رہتا ہے، یہاں تک کہ وہ آزمائش انسان کو ایسی حالت میں کر دیتی ہے کہ وہ زمین پر چل رہا ہوتا ہے اور اس پر کوئی گناہ نہیں ہوتا (یعنی اس کے سب گناہ معاف ہو چکے ہوتے ہیں)۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 2901]

2902

Sahih Ibn Hibban #2902

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ الْقَيْسِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنِ أَنَسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : وُلِدَ لِيَ اللَّيْلَةَ غُلامٌ ، فَسَمَّيْتُهُ بِأَبِي إِبْرَاهِيمَ " ، ثُمَّ دَفَعَهُ إِلَى امْرَأَةِ قَيْنٍ بِالْمَدِينَةِ ، فَأَتْبَعَهُ ، فَانْتَهَى إِلَى أَبَى سَيْفٍ وَهُوَ يَنْفُخُ فِي كِيرِهِ ، وَالْبَيْتُ مَمْتَلِئٌ دُخَانًا ، فَأَسْرَعْتُ الْمَشْيَ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقُلْتُ : يَا أَبَا سَيْفٍ جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ ، فَأَمْسَكَ ، فَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ بِالصَّبِيِّ ، فَضَمَّهُ إِلَيْهِ ، وَقَالَ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَقُولَ قَالَ : فَلَقَدْ رَأَيْتُهُ بَعْدَ ذَلِكَ وَهُوَ يَكِيدُ بِنَفْسِهِ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَعَيْنَاهُ تَدْمَعُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "تَدْمَعُ الْعَيْنُ وَيَحْزَنُ الْقَلْبُ ، وَلا نَقُولُ إِلا مَا يَرْضَى رَبَّنَا وَإِنَّا بِكَ يَا إِبْرَاهِيمُ لَمَحْزُونُونَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”میرے ہاں گزشتہ رات بچے کی پیدائش ہوئی ہے، میں نے اپنے جدِ امجد کے نام پر اس کا نام ابراہیم رکھا ہے۔“ (راوی بیان کرتے ہیں:) پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں مدینہ منورہ کے ایک سنار کی بیوی کے سپرد کیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس تشریف لے گئے، جس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم ابوسیف کے گھر پہنچے وہ اس وقت اپنی بھٹی میں آگ لگا رہا تھا، پورا گھر دھوئیں سے بھرا ہوا تھا، میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے تیزی سے چلتا ہوا گیا اور میں نے بتایا: اے ابوسیف! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لا رہے ہیں، تو وہ رک گیا، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بچے کو بلوایا اور اسے اپنے ساتھ چمٹا لیا اور جو اللہ کو منظور تھا وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا۔ راوی بیان کرتے ہیں: اس کے بعد میں نے دیکھا کہ وہ بچہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آخری سانس لے رہا تھا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”آنکھوں سے آنسو جاری ہیں، دل غمگین ہے اور ہم وہی کہتے ہیں جس سے ہمارا پروردگار راضی ہے اور اے ابراہیم! ہم تمہاری وجہ سے غمگین ہیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 2902]

2903

Sahih Ibn Hibban #2903

أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ صُلَيْحٍ بِوَاسِطَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ بَيَانَ السُّكَّرِيُّ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِهِ مَرَّ بِرِيحٍ طَيْبَةٍ ، فَقَالَ : يَا جِبْرِيلُ ،مَا هَذِهِ الرِّيحُ ؟ " قَالَ : هَذِهِ رِيحُ مَاشِطَةِ بِنْتِ فِرْعَوْنَ وَأَوْلادِهَا ، بَيْنَمَا هِيَ تَمْشُطُ بِنْتَ فِرْعَوْنَ ، إِذْ سَقَطَ الْمِدْرَى مِنْ يَدَهَا ، فَقَالَتْ : بِسْمِ اللَّهِ ، فَقَالَتْ بِنْتُ فِرْعَوْنَ : أَبِي ؟ قَالَتْ : بَلْ ، رَبِّي وَرَبُّكِ اللَّهُ ، قَالَتْ : وَإِنَّ لَكَ رَبًا غَيْرَ أَبِي ؟ قَالَتْ : نَعَمْ ، اللَّهُ ، قَالَتْ : فَأُخْبِرُ بِذَلِكَ أَبِي ، قَالَتْ : نَعَمْ ، فَأَخْبَرْتُهُ ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهَا فَقَالَ : أَلَكَ رَبٌّ غَيْرِي ؟ قَالَتْ : نَعَمْ ، رَبِّي وَرَبُّكَ اللَّهُ ، فَأَمَرَ بِنُقْرَةٍ مِنْ نُحَاسٍ ، فَأُحْمِيَتْ ، فَقَالَتْ لَهُ : إِنَّ لِي إِلَيْكَ حَاجَةً قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : فَجَعَلَ يُلْقِي وَلَدَهَا وَاحِدًا وَاحِدًا ، حَتَّى انْتَهَوْا إِلَى وَلَدٍ لَهَا رَضِيعٍ ، فَقَالَ : يَا أُمَّتَاهُ اثْبُتِي ، فَإِنَّكَ عَلَى الْحَقِّ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ معراج کی رات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر ایک پاکیزہ خوشبو کے پاس سے ہوا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”اے جبرائیل! یہ کس چیز کی خوشبو ہے؟“ انہوں نے بتایا: ”یہ فرعون کی بیٹی کو کنگھی کرنے والی عورت اور اس کی اولاد کی خوشبو ہے۔ ایک مرتبہ وہ فرعون کی بیٹی کو کنگھی کر رہی تھی، اسی دوران اس کے ہاتھ سے کنگھی گر گئی، تو اس نے (کنگھی کو اٹھاتے ہوئے) «بِسْمِ اللّٰهِ» ”اللہ کے نام سے“ کہا۔ فرعون کی بیٹی نے دریافت کیا: کیا میرے والد؟ اس عورت نے جواب دیا: جی نہیں، بلکہ میرا اور تمہارا پروردگار اللہ تعالیٰ ہے۔ فرعون کی بیٹی نے دریافت کیا: کیا میرے باپ کے علاوہ بھی تمہارا کوئی پروردگار ہے؟ اس عورت نے جواب دیا: جی ہاں، اللہ تعالیٰ ہے۔ فرعون کی بیٹی نے کہا: کیا میں یہ بات اپنے والد کو بتا دوں؟ اس عورت نے جواب دیا: جی ہاں، تو فرعون کی بیٹی نے فرعون کو یہ بات بتا دی، فرعون نے اس عورت کو بلوایا اور اس سے دریافت کیا: کیا میرے علاوہ بھی تمہارا کوئی پروردگار ہے؟ اس عورت نے جواب دیا: جی ہاں، میرا اور تمہارا پروردگار اللہ تعالیٰ ہے، تو فرعون نے سیسہ پگھلانے کا حکم دیا، اسے پگھلا دیا گیا، اس عورت نے اس سے کہا: مجھے تم سے ایک کام ہے، اس نے جواب دیا: ٹھیک ہے۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”پھر وہ اس کے بچوں کو ایک ایک کر کے (آگ میں) ڈالتا رہا یہاں تک کہ اس کے دودھ پیتے بچے کی باری آئی، تو اس بچے نے کہا: اے امی جان! آپ ثابت قدم رہیے گا، آپ حق پر ہیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 2903]

2904

Sahih Ibn Hibban #2904

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : مَرَرْتُ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِي بِرَائِحَةٍ طَيْبَةٍ ، فَقُلْتُ : مَا هَذَا يَا جِبْرِيلُ ؟ ، فَقَالَ : هَذِهِ مَاشِطَةُ بِنْتِ فِرْعَوْنَ ، كَانَتْ تَمْشُطُهَا فَوَقَعَ الْمُشْطُ مِنْ يَدَهَا ، فَقَالَتْ : بِسْمِ اللَّهِ ، فَقَالَتْ بِنْتُ فِرْعَوْنَ : أَبِي ؟ قَالَتْ : رَبِّي وَرَبُّكِ وَرَبُّ أَبِيكِ ، قَالَتْ : أَقُولُ لَهُ ؟ قَالَتْ : قُولِي ، فَقَالَتْ : فَقَالَ لَهَا : أَلَكِ مِنْ رَبٍّ غَيْرِي ؟ قَالَتْ : رَبِّي وَرَبُّكَ الَّذِي فِي السَّمَاءِ ، قَالَتْ : فَأَحْمَى لَهَا نُقْرَةً مِنْ نُحَاسٍ ، وَقَالَتْ لَهُ : إِنَّ لِي إِلَيْكَ حَاجَةً ، قَالَ : وَمَا حَاجَتُكِ ؟ قَالَتْ : حَاجَتِي أَنْ تَجْمَعَ بَيْنَ عِظَامِي وَبَيْنَ عِظَامِ وَلَدِي ، قَالَ : ذَلِكَ لَكِ لَمَّا لَكِ عَلَيْنَا مِنَ الْحَقِّ ، فَأَلْقَى وَلَدَهَا فِي النُّقْرَةِ وَاحِدًا وَاحِدًا ، وَكَانَ آخِرَهُمْ صَبِيٌّ ، فَقَالَ : يَا أُمَّتَاهُ فَإِنَّكِ عَلَى الْحَقِّ "، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : أَرْبَعَةٌ تَكَلَّمُوا وَهُمْ صِغَارٌ : ابْنُ مَاشِطَةِ ابْنَةِ فِرْعَوْنَ ، وَصَبِيُّ جُرَيْجٍ ، وَعِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ ، وَالرَّابِعُ لا أَحْفَظُهُ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی: ”جس رات مجھے معراج کروائی گئی، تو میرا گزر ایک پاکیزہ خوشبو کے پاس سے ہوا، میں نے دریافت کیا: اے جبرائیل! یہ کس چیز کی خوشبو ہے؟ انہوں نے بتایا: یہ فرعون کی بیٹی کے بال سنوارنے والی عورت کی خوشبو ہے، ایک مرتبہ وہ بال سنوار رہی تھی کہ اس کے ہاتھ سے کنگھی گر گئی، تو اس نے کہا: «بِسْمِ اللّٰهِ» ”اللہ کے نام سے (برکت حاصل کرتے ہوئے میں اسے اٹھاتی ہوں)“، فرعون کی بیٹی نے کہا: کیا میرے والد؟ اس نے جواب دیا: نہیں، بلکہ وہ جو میرا، تمہارا اور تمہارے باپ کا پروردگار ہے۔ فرعون کی لڑکی نے کہا: میں ان سے (یعنی اپنے باپ سے) یہ کہوں گی؟ اس عورت نے کہا: تم کہہ دینا۔ اس لڑکی نے (فرعون کو بتا دیا)، تو فرعون نے اس عورت سے دریافت کیا: کیا تمہارا میرے علاوہ کوئی اور پروردگار ہے؟ اس عورت نے جواب دیا: میرا اور تمہارا پروردگار وہ ہے، جو آسمان میں ہے۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”پھر اس عورت کے لیے پگھلا ہوا سیسہ گرم کیا گیا، اس عورت نے فرعون سے کہا: مجھے تم سے ایک کام ہے، فرعون نے دریافت کیا: تمہیں کیا کام ہے؟ اس عورت نے کہا: میری یہ خواہش ہے کہ تم میری اور میری اولاد کی ہڈیوں کو اکٹھا کر دینا۔ فرعون نے کہا: ایسا ہی ہو گا، کیونکہ تمہارا ہم پر کچھ حق بھی ہے۔ پھر فرعون نے اس کے بچوں کو ایک ایک کر کے اس سیسے میں ڈالنا شروع کیا، ان کے آخر میں ایک چھوٹا بچہ آیا، تو اس بچے نے کہا: اے امی جان! آپ حق پر ہیں۔“ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: چار بچوں نے کم سنی میں کلام کیا تھا: فرعون کی بیٹی کے بال سنوارنے والی عورت کے بیٹے نے، وہ بچہ جس کے ساتھ جریج کا واقعہ ہوا تھا، سیدنا عیسیٰ بن مریم نے، اور (راوی کہتے ہیں) چوتھے بچے کے بارے میں مجھے یاد نہیں ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 2904]

2905

Sahih Ibn Hibban #2905

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَبُو عَامِرٍ ، عَنْ زُهَيْرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَلْحَلَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، وأبي سعيد ، عن النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : لا يُصِيبُ الْمَرْءَ الْمُؤْمِنَ مِنْ نَصَبٍ ، وَلا وَصَبٍ ، وَلا هَمٍّ ، وَلا حُزْنٍ ، وَلا غَمٍّ ، وَلا أَذًى حَتَّى الشَّوْكَةُ يُشَاكُهَا ، إِلا كَفَّرَ اللَّهُ عَنْهُ بِهَا خَطَايَاهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ اور سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”مومن بندے کو جو بھی تکلیف، پریشانی، غم اور اذیت لاحق ہوتی ہے، یہاں تک کہ اسے جو کانٹا چبھتا ہے، تو اللہ تعالیٰ اس کی وجہ سے بھی اس کے گناہوں کو ختم کر دیتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 2905]

2906

Sahih Ibn Hibban #2906

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا وَائِلٍ يُحَدِّثُ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : مَا مِنْ مُسْلِمٍ يُشَاكُ شَوْكَةً فَمَا فَوْقَهَا ، إِلا رُفَعَهُ اللَّهُ بِهَا دَرَجَةً ، وَحَطَّ بِهَا عَنْهُ خَطِيئَةً """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا یہ بات بیان کرتی ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”مسلمان کو جو بھی کانٹا لگے یا اس سے اوپر (جو بھی تکلیف لاحق ہو)، تو اللہ تعالیٰ اس کی وجہ سے اس شخص کے درجے کو بلند کرتا ہے اور اس کی وجہ سے اس شخص کے گناہ کو معاف کر دیتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 2906]

2907

Sahih Ibn Hibban #2907

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي صَعْصَعَةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ يُرِدِ اللَّهُ بِهِ خَيْرًا يُصِبْ مِنْهُ "، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : ابْنُ أَبِي صَعْصَعَةَ هَذَا : هُوَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي صَعْصَعَةَ مِنْ سَادَاتِ أَهْلِ الْمَدِينَةِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اللہ تعالیٰ جس شخص کے بارے میں بھلائی کا ارادہ کر لے اسے آزمائش میں مبتلا کرتا ہے۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ابن ابوصعصعہ نامی راوی محمد بن عبداللہ بن عبدالرحمن بن صعصعہ ہے، جو اہل مدینہ کے سرداروں میں سے ہے)۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 2907]

2908

Sahih Ibn Hibban #2908

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاءِ بْنِ كُرَيْبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ هُوَ الْبَجَلِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو زُرْعَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّالرَّجُلَ لِتَكُونَ لَهُ عِنْدَ اللَّهِ الْمَنْزِلَةُ ، فَمَا يَبْلُغُهَا بِعَمَلٍ ، فَلا يَزَالُ اللَّهُ يَبْتَلِيهِ بِمَا يَكْرَهُ حَتَّى يُبَلِّغَهُ إِيَّاهَا "، اسْمُ أَبِي زُرْعَةَ كُنْيَتُهُ ، وَقَدْ قِيلَ : اسْمُهُ هَرِمٌ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”ایک شخص کا اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں ایک خاص مرتبہ ہوتا ہے جہاں تک وہ کسی عمل کے ذریعے نہیں پہنچ سکتا، تو اللہ تعالیٰ اسے مسلسل ناپسندیدہ صورت حال میں مبتلا رکھتا ہے، یہاں تک کہ اس شخص کو اس مرتبے تک پہنچا دیتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 2908]

2909

Sahih Ibn Hibban #2909

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَبْدَةُ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، قَالا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبِهَا لَمَمٌ ، فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَشْفِيَنِي ، قَالَ : إِنْ شِئْتِ دَعَوْتُ اللَّهَ لَكِ فَشَفَاكَ ، وَإِنْ شِئْتِ فَاصْبِرِي وَلا حِسَابَ عَلَيْكِ "، فَقَالَتْ : بَلْ أَصْبِرُ وَلا حِسَابَ عَلَيَّ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک خاتون نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اسے مرگی کی شکایت تھی۔ اس نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کیجیے کہ وہ مجھے شفا عطا کرے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تم چاہو، تو میں تمہارے لیے اللہ تعالیٰ سے دعا کر دیتا ہوں وہ تمہیں شفا نصیب کر دے گا اور اگر تم چاہو، تو صبر سے کام لو، تو تم سے حساب نہیں لیا جائے گا۔“ اس نے عرض کی: میں صبر سے کام لیتی ہوں، تاکہ مجھ سے حساب نہ لیا جائے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 2909]

2910

Sahih Ibn Hibban #2910

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي زُهَيْرٍ الثَّقَفِيِّ عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ ، أَنَّهُ قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ،كَيْفَ الصَّلاحُ بَعْدَ هَذِهِ الآيَةِ : لَيْسَ بِأَمَانِيِّكُمْ وَلا أَمَانِيِّ أَهْلِ الْكِتَابِ مَنْ يَعْمَلْ سُوءًا يُجْزَ بِهِ وَكُلُّ شَيْءٍ عَمِلْنَا جُزِينَا بِهِ ؟ فَقَالَ : غَفَرَ اللَّهُ لَكَ يَا أَبَا بَكْرٍ ، أَلَسْتَ تَمْرَضُ ؟ أَلَسْتَ تَحْزَنُ ؟ أَلَسْتَ تُصِيبُكَ اللأْوَاءُ ؟ " قَالَ : قُلْتُ : بَلَى ، قَالَ : " هُوَ مَا تُجْزَوْنَ بِهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے، انہوں نے عرض کی: اس آیت ﴿لَّيْسَ بِأَمَانِيِّكُمْ وَلَا أَمَانِيِّ أَهْلِ الْكِتَابِ ۗ مَن يَعْمَلْ سُوءًا يُجْزَ بِهِ﴾ [سورة النساء: 123] ”نہ وہ تمہاری آرزوؤں کے مطابق ہے نہ اہل کتاب کی آرزوؤں کے مطابق ہے، جو شخص برا عمل کرے گا اسے اس کا بدلہ مل جائے گا“ کے بعد بہتری کیسے ہو سکتی ہے؟ (سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے عرض کی:) تو کیا ہم جو بھی عمل کریں گے ہمیں اس کا بدلہ ملے گا؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے ابوبکر! اللہ تعالیٰ تمہاری مغفرت فرمائے، کیا تم بیمار نہیں ہوتے ہو؟ کیا تم غمگین نہیں ہوتے ہو؟ کیا تمہیں پریشانیاں لاحق نہیں ہوتی ہیں؟“ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے عرض کی: جی ہاں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ وہ چیز ہے، جس کی تم لوگوں کو جزا دی جائے گی۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 2910]

2911

Sahih Ibn Hibban #2911

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُغَفَّلِ ، أَنَّ رَجُلا لَقِيَ امْرَأَةَ كَانَتْ بَغِيًّا فِي الْجَاهِلِيَّةِ ، فَجَعَلَ يُلاعِبُهَا حَتَّى بَسَطَ يَدَهُ إِلَيْهَا ، فَقَالَتْ : مَهْ ، فَإِنَّ اللَّهَ قَدْ أَذْهَبَ بِالشِّرْكِ وَجَاءَ بِالإِسْلامِ ، فَتَرَكَهَا وَوَلَّى فَجَعَلَ يَلْتَفِتُ خَلْفَهُ وَيَنْظُرُ إِلَيْهَا حَتَّى أَصَابَ وَجْهُهُ حَائِطًا ، ثُمَّ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَالدَّمُ يَسِيلُ عَلَى وَجْهِهِ ، فَأَخْبَرَهُ بِالأَمْرِ ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَنْتَ عَبْدٌ أَرَادَ اللَّهُ بِكَ خَيْرًا " ثُمَّ قَالَ : " إِنَّاللَّهَ جَلَّ وَعَلا إِذَا أَرَادَ بِعَبْدٍ خَيْرًا ، عَجَّلَ عُقُوبَةَ ذَنْبِهِ ، وَإِذَا أَرَادَ بِعَبْدٍ شَرًّا أَمْسَكَ عَلَيْهِ ذَنْبَهُ ، حَتَّى يُوَافِيَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ كَأَنَّهُ عَائِرٌ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ زمانہ جاہلیت میں ایک شخص کی ایک فاحشہ عورت کے ساتھ ملاقات ہوئی، اس نے اس کے ساتھ خوش فعلیاں شروع کیں، یہاں تک کہ اپنا ہاتھ اس عورت کی طرف بڑھایا، تو اس عورت نے کہا: رک جاؤ، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے شرک کو رخصت کر دیا ہے اور اسلام آ گیا ہے، اس شخص نے اس عورت کو چھوڑ دیا اور منہ پھیر کر چلا گیا، وہ مڑ کر اپنے پیچھے دیکھتا رہا اور وہ عورت بھی اس کی طرف دیکھتی رہی، یہاں تک کہ اس شخص کا چہرہ ایک دیوار پر لگ گیا، پھر وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو اس کے چہرے سے خون بہہ رہا تھا، اس نے سارا واقعہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم ایک ایسے بندے ہو، جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے بھلائی کا ارادہ کیا ہے“، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”بیشک اللہ تعالیٰ جب کسی بندے کے بارے میں بھلائی کا ارادہ کر لے، تو اس کے گناہ کی سزا اسے جلدی (یعنی دنیا میں ہی) دے دیتا ہے اور جب کسی بندے کے بارے میں برا ارادہ کرے، تو اسے گناہ کرنے دیتا ہے، یہاں تک کہ قیامت کے دن اس کا پورا بدلہ اسے دے گا، یوں جیسے وہ «عائر» (یعنی گناہ سے پاک) ہے“۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 2911]

2912

Sahih Ibn Hibban #2912

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، خَرَجَ يُرِيدُ الشَّامَ ، فَلَمَّا دَنَا ، بَلَغَهُ أَنَّ بِهَا الطَّاعُونَ ، فَحَدَّثَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ : إِنَّهَذَا الْوَجَعَ عَذَابٌ عُذِّبَ بِهِ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ ، فَإِذَا كَانَ بِأَرْضٍ لَسْتُمْ بِهَا ، فَلا تَهْبِطُوا عَلَيْهِ ، وَإِذَا كَانَ بِأَرْضٍ وَأَنْتُمْ بِهَا ، فَلا تَخْرُجُوا فِرَارًا مِنْهُ "، فَرَجَعَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بِالنَّاسِ ذَلِكَ الْعَامَ ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : إِخْبَارُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، عَنِ الأَنْبِيَاءِ وَالأُمَمِ السَّالِفَةِ عَلَى ثَلاثَةِ أَضْرُبٍ : ضَرْبٌ قَصَدَ بِهِ الْمَدْحَ لأَشْيَاءَ مَعْلُومَةٍ ، أَرَادَ مِنْ هَذِهِ الأُمَّةِ اسْتِعْمَالَ تِلْكَ الأَشْيَاءِ ، وَالضَّرْبُ الثَّانِي قَصَدَ بِهِ الذَّمَّ ، أَرَادَ بِهِ انْزِجَارُ هَذِهِ الأُمَّةِ عَنِ ارْتِكَابِ مِثْلِهَا ، وَالضَّرْبُ الثَّالِثُ قَصَدَ بِهِ الْوَصْفَ ، أَرَادَ بِهِ اعْتِبَارَ هَذِهِ الأُمَّةِ بِتِلْكَ الأَوْصَافِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبداللہ بن عامر بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شام جانے کے لیے روانہ ہوئے، جب وہ شام کے قریب پہنچے تو انہیں اطلاع ملی کہ وہاں طاعون کی وبا پھیل چکی ہے، تو سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے انہیں یہ حدیث بیان کی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”بے شک یہ تکلیف ایک عذاب ہے، جس کے ذریعے تم سے پہلے لوگوں کو عذاب دیا گیا، جب یہ کسی ایسی سرزمین پر واقع ہو جہاں تم موجود نہیں ہو تو تم وہاں نہ جاؤ اور جب یہ ایسی سرزمین پر واقع ہو جہاں تم موجود ہو تو تم وہاں سے فرار اختیار کرتے ہوئے نہ نکلو۔“ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اس سال لوگوں کو لے کر واپس آ گئے۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا انبیاء کرام اور سابقہ امتوں کے بارے میں اطلاع دینا تین نوعیت کا ہے۔ پہلی قسم یہ ہے کہ آپ نے کچھ متعین چیزوں کی تعریف کی ہو اور اس کا مقصد یہ ہو کہ یہ امت ان چیزوں پر عمل کرے، دوسری قسم یہ ہے کہ آپ نے کچھ چیزوں کی مذمت بیان کی ہو اور آپ کی مراد یہ ہو کہ یہ امت اس نوعیت کے کاموں کے ارتکاب سے بچ جائے اور تیسری قسم یہ ہے کہ آپ نے کوئی صفت بیان کی ہو اور آپ کا ارادہ یہ ہو کہ یہ امت اس صفت سے عبرت حاصل کرے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 2912]

2913

Sahih Ibn Hibban #2913

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لا يَزَالُ الْبَلاءُ بِالْمُؤْمِنِ وَالْمُؤْمِنَةِ فِي جَسَدِهِ ، وَمَالِهِ ، وَنَفْسِهِ حَتَّى يَلْقَى اللَّهَ وَمَا عَلَيْهِ مِنْ خَطِيئَةٍ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”مومن مرد اور مومن عورت کے جسم، مال اور جان کے حوالے سے آزمائش درپیش رہتی ہے، یہاں تک کہ جب وہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہوتا ہے، تو اس کا کوئی گناہ نہیں ہوتا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 2913]

2914

Sahih Ibn Hibban #2914

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، قَالَ : كَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ ، يُكْثِرُ أَنْ يُحَدِّثَ بِهَذَا الْحَدِيثِ ، أَنَّ ابْنَةً لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، حَضَرَتْهَا الْوَفَاةُ ، فَأَخَذَهَا فَجَعَلَهَا بَيْنَ يَدَيْهِ ، ثُمَّ احْتَضَنَهَا وَهِيَ تُنْزَعُ حَتَّى خَرَجَ نَفَسُهَا وَهُوَ يَبْكِي ، فَوَضَعَهَا فَصَاحَتْ أُمُّ أَيْمَنَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لا تَبْكِي " فَقَالَتْ : أَلا أَرَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَبْكِي ؟ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "إِنَّ أَبْكِ فَإِنَّمَا هِيَ رَحْمَةٌ ، الْمُؤْمِنُ بِكُلِّ خَيْرٍ تَخْرُجُ نَفْسُهُ مِنْ بَيْنَ جَنْبَيْهِ وَهُوَ يَحْمَدُ اللَّهَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے بارے میں یہ بات منقول ہے، وہ بکثرت یہ حدیث بیان کیا کرتے تھے: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک صاحبزادی کا آخری وقت قریب آیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں لیا اور اپنے دونوں ہاتھوں میں رکھ لیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اپنے ساتھ چمٹا لیا، اس وقت ان پر نزع کا عالم طاری تھا، یہاں تک کہ ان کا انتقال ہو گیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت رو رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس صاحبزادی کو رکھا، تو سیدہ ام ایمن رضی اللہ عنہا نے بلند آواز میں چیخ ماری۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نہ روؤ۔“ انہوں نے عرض کی: کیا میں اللہ کے رسول کو روتے ہوئے نہیں دیکھ رہی ہوں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میرا رونا رحمت ہے، مومن کی ہر صورت بہتر ہوتی ہے، اس کے دونوں پہلوؤں سے جان نکلتی ہے، تو وہ اس وقت اللہ کی حمد بیان کر رہا ہوتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 2914]

2915

Sahih Ibn Hibban #2915

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : مَثَلُ الْمُؤْمِنِ كَالزَّرْعِ لا تَزَالُ الرِّيحُ تُفِيئُهُ ، وَلا يَزَالُ الْمُؤْمِنُ يُصِيبُهُ الْبَلاءُ ، وَمَثَلُ الْمُنَافِقِ كَالشَّجَرَةِ الأَرْزِ لا تَهْتَزُّ حَتَّى تُسْتَحْصَدَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”مومن کی مثال کھیت کی طرح ہے، جسے مسلسل ہوا ادھر ادھر جھکاتی رہتی ہے، اسی طرح مومن کو بھی ہمیشہ آزمائش لاحق رہتی ہے اور منافق کی مثال اخروٹ کے درخت کی طرح ہے، جو لہراتا نہیں ہے، یہاں تک کہ (ایک ہی مرتبہ) اسے جڑ سے اکھاڑ لیا جاتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 2915]

2916

Sahih Ibn Hibban #2916

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ ، حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : دَخَلَ أَعْرَابِيٌّ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَخَذَتْكَ أُمُّ مِلْدَمٍ ؟ " قَالَ : وَمَا أُمُّ مِلْدَمٍ ؟ قَالَ : " حَرٌّ يَكُونُ بَيْنَ الْجِلْدِ وَاللَّحْمِ " قَالَ : وَمَا وَجَدْتُ هَذَا قَطُّ ، قَالَ : " فَهَلْ وَجَدْتَ هَذَا الصُّدَاعَ ؟ " قَالَ : وَمَا الصُّدَاعُ ؟ قَالَ : " عِرْقٌ يَضْرِبُ عَلَى الإِنْسَانِ فِي رَأْسِهِ " قَالَ : وَمَا وَجَدْتَ هَذَا قَطُّ ، فَلَمَّا وَلَّى قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ أَحَبَّ أَنْ يَنْظُرَ إِلَى رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ النَّارِ فَلْيَنْظُرْ إِلَى هَذَا "، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " مَنْ أَحَبَّ أَنْ يَنْظُرَ إِلَى رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ النَّارِ فَلْيَنْظُرْ إِلَى هَذَا " لَفْظَةُ إِخْبَارٍ عَنْ شَيْءٍ مُرَادُهَا الزَّجْرُ عَنِ الرُّكُونِ إِلَى ذَلِكَ الشَّيْءِ ، وَقِلَّةِ الصَّبْرِ عَلَى ضِدِّهِ ، وَذَلِكَ أَنَّ اللَّهَ جَلَّ وَعَلا جَعَلَ الْعِلَلَ فِي هَذِهِ الدُّنْيَا وَالْغُمُومِ وَالأَحْزَانِ سَبَبَ تَكْفِيرِ الْخَطَايَا عَنِ الْمُسْلِمِينَ ، فَأَرَادَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، إِعْلامَ أُمَّتِهِ أَنَّ الْمَرْءَ لا يَكَادُ يَتَعَرَّى عَنْ مُقَارَفَةِ مَا نَهَى اللَّهُ عَنْهُ فِي أَيَّامِهِ وَلَيَالِيهِ وَإِيجَابِ النَّارِ لَهُ بِذَلِكَ ، إِنْ لَمْ يُتَفَضَّلَ عَلَيْهِ بِالْعَفْوِ ، فَكَأَنَّ كُلَّ إِنْسَانٍ مُرْتَهَنٌ بِمَا كَسَبَتْ يَدَاهُ ، وَالْعِلَلُ تُكَفَّرُ بَعْضُهَا عَنْهُ فِي هَذِهِ الدُّنْيَا ، لا أَنَّ مَنْ عُوفِيَ فِي هَذِهِ الدُّنْيَا يَكُونُ مِنْ أَهْلِ النَّارِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دیہاتی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”کیا تمہیں «أُمُّ مِلْدَم» نے جکڑ لیا ہے؟“ اس نے دریافت کیا: «أُمُّ مِلْدَم» کیا ہوتا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ ایک تپش ہے، جو جلد اور گوشت کے درمیان ہوتی ہے۔“ اس نے کہا: مجھے تو یہ صورت حال کبھی لاحق نہیں ہوئی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”کیا تمہیں «صُدَاع» کی شکایت ہے؟“ اس نے دریافت کیا: «صُدَاع» کیا ہوتا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ ایک رگ ہے، جو آدمی کے سر میں آدمی پر ضرب لگاتی ہے۔“ اس نے کہا: مجھے یہ صورت حال کبھی درپیش نہیں آئی۔ جب وہ شخص چلا گیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص کسی جہنمی کو دیکھنا چاہے وہ اس شخص کو دیکھ لے۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان: ”جو شخص اہل جہنم سے تعلق رکھنے والے کسی شخص کی طرف دیکھنا چاہتا ہو وہ اس شخص کو دیکھ لے،“ اس میں لفظی طور پر ایک چیز کے بارے میں اطلاع دی گئی ہے لیکن اس سے مراد یہ ہے کہ اس چیز کی طرف مائل ہونے سے منع کیا جائے اور اس کی متضاد چیز پر صبر کی کمی (سے منع کیا جائے)۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس دنیا میں غم اور پریشانیاں رکھی ہیں تاکہ یہ مسلمانوں کے گناہوں کا کفارہ بن جائیں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی امت کو یہ اطلاع دینا چاہتے ہیں کہ آدمی دن اور رات میں بعض اوقات ان چیزوں سے اجتناب نہیں کرتا جن چیزوں سے اللہ تعالیٰ نے منع کیا ہے اور اس وجہ سے اس کے لیے جہنم واجب ہو جاتی ہے، وہ اس کے بعد معافی نہیں مانگتا، تو ہر شخص اپنے عمل کے بدلے میں رہن ہوتا ہے اور یہ علتیں اس دنیا میں اس کے بعض گناہوں کا کفارہ بن جاتی ہیں۔ اس سے یہ مراد نہیں ہے کہ جس شخص کو اس دنیا میں عافیت نصیب ہو جائے وہ جہنمی ہوتا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 2916]

2917

Sahih Ibn Hibban #2917

أَخْبَرَنَا أَبُو عَرُوبَةَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرٍو الْبَجَلِيُّ ، أَخْبَرَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ، أَخْبَرَنَا الأَعْمَشُ ، عَنْ شَقِيقٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ رَجُلا قَالَ لِشَيْءٍ قَسَمَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَا عَدْلَ فِي هَذَا ؟ قَالَ : فَقُلْتُ : وَاللَّهِ لأُخْبِرَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ، فَأَخْبَرْتُهُ ، فَقَالَ : يَرْحَمُ اللَّهُ مُوسَى ، قَدْ كَانَ يُصِيبُهُ أَشَدُّ مِنْ هَذَا ، ثُمَّ يَصْبِرُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی چیز تقسیم کی، تو ایک شخص نے کسی چیز کے بارے میں یہ کہا کہ اس میں انصاف سے کام نہیں لیا گیا۔ راوی کہتے ہیں: میں نے کہا: اللہ کی قسم! میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بارے میں ضرور بتاؤں گا، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اللہ تعالیٰ سیدنا موسیٰ علیہ السلام پر رحم کرے، انہیں اس سے زیادہ تکلیف پہنچائی گئی، لیکن پھر بھی انہوں نے صبر سے کام لیا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 2917]

2918

Sahih Ibn Hibban #2918

أَخْبَرَنَا أَبُو عَرُوبَةَ بِحَرَّانَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، قَالَ : قَالَتْ عَائِشَةُ مَا رَأَيْتُ الْوَجَعَ عَلَى أَحَدٍ أَشَدَّ مِنْهُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابووائل بیان کرتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے یہ بات بیان کی ہے: میں نے کسی کو (بیماری کے دوران) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ تکلیف کا شکار نہیں دیکھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 2918]