Muslim99Muslim99

Sahih Ibn Hibban · Book 26 · Chapter 1

Book of Endowments

Hadith 2838–2877

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

2838

Sahih Ibn Hibban #2838

ثُمَّ قَالَ : لَقَدْعُرِضَتْ عَلَيَّ الْجَنَّةُ حَتَّى لَوْ شِئْتُ لَتَعَاطَيْتُ قِطْفًا مِنْ قُطُوفِهَا ، وَعُرِضَتْ عَلَيَّ النَّارُ ، حَتَّى جَعَلْتُ أَتَّقِيهَا حَتَّى خَشِيتُ أَنْ تَغْشَاكُمْ ، فَجَعَلْتُ أَقُولُ : أَلَمْ تَعِدْنِي أَنْ لا تُعَذِّبَهُمْ وَأَنَا فِيهِمْ ، رَبِّ أَلَمْ تَعِدْنِي أَنْ لا تُعَذِّبَهُمْ وَهُمْ يَسْتَغْفِرِونَكَ " ، قَالَ : " فَرَأَيْتُ فِيهَا الْحَمَيرِيَةَ السَّوْدَاءَ صَاحِبَةَ الْهِرَّةِ كَانَتْ حَبَسَتْهَا ، فَلَمْ تُطْعِمْهَا وَلَمْ تَسْقِهَا ، وَلَمْ تَتْرُكْهَا تَأْكُلُ مِنْ خَشَاشِ الأَرْضِ ، فَرَأَيْتُهَا كُلَّمَا أَدْبَرَتْ نُهِشَتْ فِي النَّارِ ، وَرَأَيْتُ فِيهَا صَاحِبَ بَدَنَتَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَخَا دَعْدَعٍ ، يُدْفَعُ فِي النَّارِ بِقَضِيبَيْنِ ذِي شُعْبَتَيْنِ ، وَرَأَيْتُ صَاحِبَ الْمِحْجَنِ ، فَرَأَيْتُهُ فِي النَّارِ عَلَى مِحْجَنِهِ مُتَوَكِّئًا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں سورج گرہن ہو گیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز ادا کرنے کے لیے کھڑے ہوئے، یوں محسوس ہوتا تھا جیسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم رکوع میں جائیں گے ہی نہیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم رکوع میں چلے گئے تو یوں محسوس ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سر کو اٹھائیں گے ہی نہیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سر کو اٹھایا اور گریہ و زاری اور رونا شروع کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ فرما رہے تھے: ”اے میرے پروردگار! کیا تو نے مجھ سے یہ وعدہ نہیں کیا تھا کہ تو ان لوگوں کو اس وقت تک عذاب نہیں دے گا جب تک میں ان کے درمیان موجود ہوں؟ کیا تو نے مجھ سے یہ وعدہ نہیں کیا تھا کہ تو ان لوگوں کو اس وقت تک عذاب نہیں دے گا جب تک ہم تجھ سے مغفرت طلب کرتے رہیں گے؟“ ﴿وَمَا كَانَ اللَّهُ لِيُعَذِّبَهُمْ وَأَنْتَ فِيهِمْ ۚ وَمَا كَانَ اللَّهُ مُعَذِّبَهُمْ وَهُمْ يَسْتَغْفِرُونَ﴾ [سورة الأنفال: 33] جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز ادا کر لی تو سورج روشن ہو گیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی اور یہ بات ارشاد فرمائی: ”بے شک سورج اور چاند اللہ تعالیٰ کی دو نشانیاں ہیں، جب یہ دونوں گرہن ہو جائیں تو اللہ کے ذکر کی طرف جاؤ۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ارشاد فرمایا: ”میرے سامنے جنت کو پیش کیا گیا یہاں تک کہ اگر میں چاہتا تو اس کا کوئی گچھا حاصل کر سکتا تھا اور میرے سامنے جہنم کو پیش کیا گیا یہاں تک کہ میں نے اس سے بچنے کی کوشش کی، مجھے یہ اندیشہ ہوا کہیں وہ تمہیں اپنی لپیٹ میں نہ لے، تو میں نے یہ کہنا شروع کیا: اے میرے پروردگار! کیا تو نے مجھ سے یہ وعدہ نہیں کیا تھا کہ تو اس وقت تک عذاب نہیں دے گا جب تک میں ان کے درمیان موجود ہوں؟ اے میرے پروردگار! کیا تو نے مجھ سے یہ وعدہ نہیں کیا تھا کہ تو انہیں اس وقت تک عذاب نہیں دے گا جب تک ہم تجھ سے مغفرت طلب کرتے رہیں گے۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے اس میں ایک سیاہ فام حمیری عورت کو دیکھا جو بلی کی مالک تھی، اس نے اس بلی کو باندھ دیا تھا اور اسے کھانے کے لیے کچھ نہیں دیتی تھی اور پینے کے لیے کچھ نہیں دیتی تھی، اس نے اسے چھوڑا بھی نہیں تھا کہ وہ خود ہی کچھ کھا لیتی، تو میں نے اس عورت کو دیکھا، وہ جب بھی آتی تھی اس کے چہرے کو نوچ لیا جاتا تھا، میں نے جہنم میں (دعدع قبیلے سے تعلق رکھنے والے) اس شخص کو بھی دیکھا جو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے قربانی کے دو جانوروں کا نگران تھا، اسے دو کناروں والی دو ڈنڈیوں کے ذریعے جہنم میں ڈالا جا رہا تھا، میں نے لاٹھی والے شخص کو بھی دیکھا، میں نے اسے جہنم میں دیکھا، وہ اپنی لاٹھی سے ٹیک لگائے ہوئے تھا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2838]

2839

Sahih Ibn Hibban #2839

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُعَافَى الْعَابِدُ بِصَيدَا ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ بِحِمْصَ ، وَعُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ بِصُغْدَ ، وَأَحْمَدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ يُوسُفَ بِدِمَشْقَ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي كَثِيرُ بْنُ عَبَّاسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَيَوْمَ كَسَفَتَ الشَّمْسُ صَلَّى أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ فِي رَكْعَتَيْنِ ، وَأَرْبَعَ سَجَدَاتٍ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ جس دن سورج گرہن ہوا، اس دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعات میں چار مرتبہ رکوع کیا اور چار مرتبہ سجدہ کیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2839]

2840

Sahih Ibn Hibban #2840

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ بِبَيْتِ الْمَقْدِسِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، أَنَّ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَتْهُ ، أَنَّ عَائِشَةَ حَدَّثَتْهَا ، أَنَّ يَهُودِيَّةً أَتَتْهَا ، فَقَالَتْ : أَجَارَكِ اللَّهُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّ النَّاسَ لَيُفْتَنُونَ فِي الْقَبْرِ ؟ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : عَائِذٌ بِاللَّهِ " ، قَالَتْ عَائِشَةُ : ثُمَّ إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ مَخْرَجًا فَخَسَفَتِ الشَّمْسُ ، فَخَرَجْنَا إِلَى الْحُجْرَةِ ، وَاجْتَمَعَ إِلَيْنَا النِّسَاءُ ، وَأَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَذَلِكَ ضَحْوَةً ، فَقَامَ يُصَلِّي فَقَامَ قِيَامًا طَوِيلا ، ثُمَّ رَكَعَ رُكُوعًا ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ ، فَقَامَ دُونَ الْقِيَامِ الأَوْلِ ، ثُمَّ رَكَعَ دُونَ رُكُوعِهِ ، ثُمَّ سَجَدَ ، ثُمَّ قَامَ الثَّانِيَةَ ، وَصَنَعَ مِثْلَ ذَلِكَ إِلا أَنَّ رُكُوعَهُ دُونَ الرَّكْعَةِ الأُولَى ، ثُمَّ سَجَدَ وَتَجَلَّتِ الشَّمْسُ ، فَلَمَّا انْصَرَفَ قَعَدَ عَلَى الْمِنْبَرِ ، فَقَالَ : فِيمَا يَقُولُ : " إِنَّالنَّاسَ يُفْتَنُونَ فِي قُبُورِهِمْ كَفِتْنَةِ الدَّجَّالِ " ، قَالَتْ عَائِشَةُ : فَكُنَّا نَسْمَعُهُ بَعْدَ ذَلِكَ بِتَعَوُّذٍ مِنْ فِتْنَةِ الْقَبْرِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ایک خاتون ان کے پاس آئیں اور بولیں: اللہ تعالیٰ تمہیں قبر کے عذاب سے نجات عطا کرے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی: کیا لوگوں کو قبر میں آزمائش میں مبتلا کیا جائے گا؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں اس بات سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لے گئے، اسی دوران سورج گرہن ہو گیا تو ہم لوگ حجرے کی طرف آئے، خواتین ہمارے پاس اکٹھی ہوئیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے، یہ چاشت کے وقت کی بات ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر نماز ادا کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے طویل قیام کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سر کو اٹھایا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قیام کیا لیکن یہ پہلے والے قیام سے کم تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع کیا یہ پہلے والے رکوع سے کم تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم دوسری رکعت ادا کرنے کے لیے کھڑے ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی طرح اسے ادا کیا البتہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا رکوع پہلے والے رکوع سے کم تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدے میں چلے گئے، اسی دوران سورج روشن ہو گیا، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز مکمل کر لی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر تشریف فرما ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبے کے دوران یہ بات بھی ارشاد فرمائی: ”لوگ اپنی قبروں میں ایسی آزمائش میں مبتلا ہوں گے جو دجال کی آزمائش جیسی ہو گی۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: اس کے بعد میں نے ہمیشہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو قبر کے عذاب سے پناہ مانگتے ہوئے سنا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2840]

2841

Sahih Ibn Hibban #2841

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حِبَّانُ بْنُ مُوسَى ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : انْكَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الصَّلاةِ ، فَقَرَأَ بِسُورَةِ طَوِيلَةٍ ، ثُمَّ رَكَعَ نَحْوًا مِنْ قِيَامِهِ ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ ، فَافْتَتَحَ بِسُورَةٍ أُخْرَى ، حَتَّى إِذَا فَرَغَ مِنْهَا رَكَعَ ثَانِيَةً ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ وَسَجَدَ ، ثُمَّ قَامَ إِلَى الرَّكْعَةِ الثَّانِيَةِ ، فَقَرَأَ أَيْضًا بِسُورَةٍ ، وَقَامَ دُونَ الْقِرَاءَةِ الأُولَى ، ثُمَّ رَكَعَ فَكَانَ رُكُوعُهُ دُونَ الأَوْلِ ، ثُمَّ سَجَدَ فَلَمَّا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ السُّجُودِ ، قَالَ : مَا مِنْ شَيْءٍ تُوعَدُونَهُ إِلا وَقَدْ رَأَيْتُهُ فِي مَقَامِي هَذَا ، وَلَقَدْ رَأَيْتُنِي أُرِيدُ أَنْ آخُذَ قِطْفًا مِنَ الْجَنَّةِ حِينَ رَأَيْتُمُونِي أَتَقَدَّمُ ، وَلَقَدْ رَأَيْتُ جَهَنَّمَ يَحْطِمُ بَعْضُهَا بَعْضًا حِينَ رَأَيْتُمُونِي تَأَخَّرْتُ ، وَرَأَيْتُ عَمْرَو بْنَ لُحَيٍّ وَهُوَ الَّذِي سَيَّبَ السَّوَائِبَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں سورج گرہن ہو گیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز ادا کرنے کے لیے کھڑے ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے طویل سورت کی تلاوت کی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے قیام جتنا طویل رکوع کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سر اٹھایا اور دوسری سورت کی تلاوت شروع کر دی، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے پڑھ کر فارغ ہوئے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسری مرتبہ رکوع کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سر اٹھایا اور سجدے میں چلے گئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم دوسری رکعت کے لیے کھڑے ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں بھی ایک سورت کی تلاوت کی لیکن یہ پہلی والی قرأت سے کچھ کم تھی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم رکوع میں چلے گئے لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ رکوع پہلے والے رکوع سے کم تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدے میں چلے گئے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدے سے سر اٹھایا، تو یہ بات ارشاد فرمائی: ”تم لوگوں سے جس بھی چیز کا وعدہ کیا گیا ہے وہ میں نے اپنی اس جگہ پر کھڑے ہوئے دیکھ لی ہے اور میں نے یہ چاہا، میں جنت کا ایک گچھا حاصل کروں، یہ اس وقت ہوا جب تم نے مجھے آگے بڑھتے ہوئے دیکھا اور میں نے جہنم کو بھی دیکھا، اس کا ایک حصہ دوسرے حصے کو نگل رہا ہے، یہ اس وقت ہوا تھا جب تم نے مجھے پیچھے ہٹتے ہوئے دیکھا تھا، میں نے (جہنم میں) عمرو بن لحی کو بھی دیکھا، یہ وہ شخص تھا جس نے بتوں کے نام پر جانور دینے کا آغاز کیا تھا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2841]

2842

Sahih Ibn Hibban #2842

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ الْقُرَشِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ نَمِرٍ ، ، أَنَّهُ سَأَلَ الزُّهْرِيَّ ، عَنْ سُنَّةِ صَلاةِ الْكُسُوفِ ، فَقَالَ : أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : انْكَسَفَتِ الشَّمْسُ ، فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلا ، فَنَادَى أَنَّ الصَّلاةَ جَامِعَةٌ ، فَاجْتَمَعَ النَّاسَ ، فَصَلَّى بِهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَكَبَّرَ ، ثُمَّ قَرَأَ قِرَاءَةً طَوِيلَةً ، ثُمَّ كَبَّرَ ، فَرَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلا مِثْلَ قِيَامِهِ أَوْ أَطْوَلَ ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ " ، ثُمَّ قَرَأَ قِرَاءَةً طَوِيلَةً هِيَ أَدْنَى مِنَ الْقِيَامِ الأَوْلِ ، ثُمَّ كَبَّرَ ، فَرَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلا ، وَهُوَ أَدْنَى مِنَ الرُّكُوعِ الأَوْلِ ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَقَالَ : " سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ " ، ثُمَّ كَبَّرَ ، فَسَجَدَ سُجُودًا طَوِيلا وَهُوَ أَدْنَى مِنْ رُكُوعِهِ أَوْ أَطْوَلُ ، ثُمَّ كَبَّرَ ، فَرَفَعَ رَأْسَهُ ، ثُمَّ كَبَّرَ وَسَجَدَ ، ثُمَّ كَبَّرَ فَقَامَ ، فَقَرَأَ قِرَاءَةً طَوِيلَةً هِيَ أَدْنَى مِنَ الْقِرَاءَةِ الأُولَى ، ثُمَّ كَبَّرَ ، فَرَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلا هُوَ أَدْنَى مِنَ الرُّكُوعِ الأَوْلِ ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ ، فَقَالَ : " سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ " ، ثُمَّ قَرَأَ قِرَاءَةً طَوِيلَةً هِيَ أَدْنَى مِنَ الْقِرَاءَةِ الأُولَى فِي الْقِيَامِ الثَّانِي ، ثُمَّ كَبَّرَ فَرَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلا دُونَ الرُّكُوعِ الأَوْلِ ، ثُمَّ كَبَّرَ ، فَرَفَعَ رَأْسَهُ ، فَقَالَ : " سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ " ، ثُمَّ كَبَّرَ ، فَسَجَدَ أَدْنَى مِنْ سُجُودِهِ الأَوْلِ ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ ، ثُمَّ تَشَهَّدَ ، ثُمَّ سَلَّمَ ، وَقَامَ فِيهِمْ ، فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ، ثُمَّ قَالَ : " إِنَّالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ لا يَنْخَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلا لِحَيَاتِهِ ، وَلَكِنَّهُمَا آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ ، فَإِنْ خُسِفَ بِهِمَا أَوْ بِأَحَدِهِمَا فَافْزَعُوا إِلَى اللَّهِ وَالصَّلاةِ "، قَالَ الزُّهْرِيُّ : فَقُلْتُ لِعُرْوَةَ : وَاللَّهِ مَا صَنَعَ هَذَا أَخُوكَ عَبْدُ اللَّهِ حِينَ انْكَسَفَتِ الشَّمْسُ وَهُوَ بِالْمَدِينَةِ ، وَمَا صَلَّى إِلا رَكْعَتَيْنِ مِثْلَ صَلاةِ الصُّبْحِ ، قَالَ : أَجَلْ ، كَذَلِكَ صَنَعَ ، وَأَخْطَأَ السُّنَّةَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبدالرحمن بن نمر بیان کرتے ہیں: انہوں نے زہری سے نماز کسوف کے طریقے کے بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے بتایا، عروہ بن زبیر نے مجھے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے حوالے سے یہ روایت بیان کی ہے، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: سورج گرہن ہو گیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو حکم دیا، اس نے یہ اعلان کیا کہ باجماعت نماز ہونے لگی ہے، لوگ اکٹھے ہوئے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کو نماز پڑھائی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تکبیر کہی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے طویل قرأت کی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تکبیر کہی اور طویل رکوع کیا جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قیام جتنا تھا یا شاید اس سے کچھ زیادہ لمبا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سر کو اٹھایا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے «سَمِعَ اللّٰهُ لِمَنْ حَمِدَهُ» ”اللہ تعالیٰ نے اس کی پکار سن لی جس نے اس کی تعریف کی“ کہا: پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے طویل قرأت کی لیکن یہ پہلے قیام سے کچھ کم تھی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تکبیر کہی اور طویل رکوع کیا لیکن یہ پہلے والے رکوع سے کم تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سر اٹھایا اور «سَمِعَ اللّٰهُ لِمَنْ حَمِدَهُ» ”اللہ تعالیٰ نے اس کی پکار سن لی جس نے اس کی تعریف کی“ کہا: پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تکبیر کہی اور سجدے میں چلے گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے طویل سجدے کیے لیکن یہ رکوع سے کچھ کم تھے یا شاید کچھ طویل تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تکبیر کہی اور سر اٹھایا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تکبیر کہی اور سجدے میں چلے گئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تکبیر کہی اور کھڑے ہو گئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قرأت کی اور طویل قرأت کی لیکن یہ پہلی والی قرأت سے کم تھی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تکبیر کہی اور طویل رکوع کیا لیکن یہ پہلے والے رکوع سے کم تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سر اٹھایا اور «سَمِعَ اللّٰهُ لِمَنْ حَمِدَهُ» ”اللہ تعالیٰ نے اس کی پکار سن لی جس نے اس کی تعریف کی“ پڑھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے طویل قرأت کی لیکن یہ دوسرے قیام کی پہلی قرأت سے کچھ کم تھی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تکبیر کہی اور طویل رکوع کیا لیکن یہ پہلے والے رکوع سے کم تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تکبیر کہی پھر سر کو اٹھایا اور «سَمِعَ اللّٰهُ لِمَنْ حَمِدَهُ» ”اللہ تعالیٰ نے اس کی پکار سن لی جس نے اس کی تعریف کی“ پڑھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سر کو اٹھایا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تکبیر کہی پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ کیا لیکن یہ پہلے والے سجدوں سے کم تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سر کو اٹھایا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تشہد پڑھا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کے درمیان کھڑے ہوئے، اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کی پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”بے شک سورج اور چاند کسی کے مرنے یا جینے کی وجہ سے گرہن نہیں ہوتے ہیں، بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کی دو نشانیاں ہیں، اگر ان دونوں کو یا ان دونوں میں سے کسی ایک کو گرہن لگ جائے، تو اللہ (کے ذکر) اور نماز کی طرف آؤ۔“ زہری کہتے ہیں: میں نے عروہ سے کہا: اللہ کی قسم! آپ کے بھائی سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے تو اس طرح نہیں کیا تھا جب وہ مدینہ منورہ میں تھے اور سورج گرہن ہوا تھا، انہوں نے صرف دو رکعات ادا کی تھیں جو صبح کی نماز کی مانند ہوتی ہیں، تو عروہ نے کہا: جی ہاں، انہوں نے اسی طرح کیا تھا، انہوں نے سنت کے برخلاف کیا تھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2842]

2843

Sahih Ibn Hibban #2843

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قال : أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : انْكَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَطَالَ الْقِيَامَ ، ثُمَّ رَكَعَ ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ ، فَقَامَ دُونَ قِيَامِهِ الأَوْلِ ، ثُمَّ رَكَعَ ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ ، فَقَامَ دُونَ قِيَامِهِ الأَوْلِ ، ثُمَّ رَكَعَ ثَلاثَ رَكَعَاتٍ ، ثُمَّ سَجَدَ ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ ، فَقَامَ ، فَرَكَعَ ثَلاثَ رَكَعَاتٍ قَامَ فِيهِنَّ دُونَ قِيَامِهِ الأَوْلِ ، ثُمَّ سَجَدَ ، ثُمَّ انْصَرَفَ وَقَدْ تَجَلَّتِ الشَّمْسُ ، فَقَالَ : إِنَّالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ لا يَنْكَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلا لِحَيَاتِهِ ، وَهُمَا آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ ، فَإِذَا رَأَيْتُمْ كُسُوفَهُمَا فَصَلُّوا حَتَّى يَنْجَلِيَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں سورج گرہن ہو گیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز ادا کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے طویل قیام کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سر اٹھایا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قیام کیا جو پہلے قیام سے کم تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم رکوع میں چلے گئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سر کو اٹھایا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قیام کیا جو پہلے والے قیام سے کم تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع کیا، تو یہ تین رکوع ہو گئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدے میں چلے گئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے سر کو اٹھایا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ رکوع کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے درمیان جو قیام کیا تھا وہ پہلے والے قیام سے کم ہوتا تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدے میں چلے گئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز مکمل کی تو اس دوران سورج روشن ہو چکا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بے شک سورج اور چاند کسی کے مرنے یا جینے کی وجہ سے گرہن نہیں ہوتے، یہ دونوں اللہ تعالیٰ کی دو نشانیاں ہیں، جب تم انہیں گرہن کی حالت میں دیکھو تو نماز ادا کرتے رہو یہاں تک کہ گرہن ختم ہو جائے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2843]

2844

Sahih Ibn Hibban #2844

أَخْبَرَنَا ابْنُ خُزَيْمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى الْقَطَّانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَطَاءٌ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : انْكَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَذَلِكَ يَوْمَ مَاتَ فِيهِ إِبْرَاهِيمُ ، فَقَالَ النَّاسُ : إِنَّمَا انْكَسَفَتِ الشَّمْسُ لِمَوْتِ إِبْرَاهِيمَ ، فَقَامَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَصَلَّى بِالنَّاسِ سِتَّ رَكَعَاتٍ وَأَرْبَعَ سَجَدَاتٍ ، كَبَّرَ ، ثُمَّ قَرَأَ ، فَأَطَالَ الْقِرَاءَةَ ، ثُمَّ رَكَعَ نَحْوًا مِمَّا قَامَ ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ ، فَقَرَأَ دُونَ الْقِرَاءَةِ الأُولَى ، ثُمَّ رَكَعَ نَحْوًا مِمَّا قَرَأَ ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ ، فَقَرَأَ دُونَ الْقِرَاءَةِ الثَّانِيَةِ ، ثُمَّ رَكَعَ نَحْوًا مِمَّا قَرَأَ ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ ، ثُمَّ قَامَ ، فَصَلَّى ثَلاثَ رَكَعَاتٍ قَبْلَ أَنْ يَسْجُدَ لَيْسَ فِيهَا رَكْعَةٌ إِلا الَّتِي قَبْلَهَا أَطْوَلُ مِنَ الَّتِي بَعْدَهَا إِلا أَنَّ رُكُوعَهُ نَحْوًا مِنْ قِيَامِهِ ، ثُمَّ تَأَخَّرَ فِي صَلاتِهِ ، فَتَأَخَّرَتِ الصُّفُوفُ مَعَهُ ، ثُمَّ تَقَدَّمَ ، فَتَقَدَّمْتُ الصُّفُوفُ مَعَهُ فَقَضَى الصَّلاةَ وَقَدْ أَضَاءَتِ الشَّمْسُ ، ثُمَّ قَالَ : أَيُّهَا النَّاسُ ، إِنَّالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ لا يَنْكَسِفَانِ لِمَوْتِ بَشَرٍ ، فَإِذَا رَأَيْتُمْ شَيْئًا مِنْ ذَلِكَ فَصَلُّوا حَتَّى يَنْجَلِيَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں سورج گرہن ہو گیا، یہ اس دن کی بات ہے، جس دن سیدنا ابراہیم رضی اللہ عنہ (یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صاحب زادے) کا انتقال ہوا تھا، لوگوں نے کہا: سیدنا ابراہیم رضی اللہ عنہ کے انتقال کی وجہ سے سورج گرہن ہوا ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو چھ رکوع اور چار سجدوں کے ہمراہ نماز پڑھائی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تکبیر کہی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قرأت کی اور طویل قرأت کی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع کیا جو اتنا لمبا تھا جتنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا قیام تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سر کو اٹھایا اور قرأت شروع کر دی لیکن یہ پہلی والی قرأت سے کم تھی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع کیا جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس (دوسری) قرأت جتنا تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے سر کو اٹھایا، پھر قرأت کی جو دوسری قرأت سے کچھ کم تھی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تقریباً اتنا ہی لمبا رکوع کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے سر کو اٹھایا، پھر دو مرتبہ سجدہ کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر نماز ادا کی جس میں تین مرتبہ رکوع کیا جو سجدے میں جانے سے پہلے تھا، اس میں سے ہر ایک رکوع اپنے سے پہلے والے رکوع سے کم تھا، البتہ آپ کا رکوع آپ کے قیام جتنا ہوتا تھا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے دوران پیچھے بھی ہٹے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ لوگوں کی صفیں بھی پیچھے ہٹ گئیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم آگے بڑھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ لوگوں کی صفیں بھی آگے بڑھ گئیں، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز مکمل کی تو سورج روشن ہو چکا تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”بے شک سورج اور چاند اللہ تعالیٰ کی دو نشانیاں ہیں، یہ کسی انسان کے مرنے کی وجہ سے گرہن نہیں ہوتے ہیں، جب تم ان میں سے کوئی چیز دیکھو تو نماز ادا کرو یہاں تک کہ گرہن ختم ہو جائے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2844]

2845

Sahih Ibn Hibban #2845

وَقَالَ : يَا أُمَّةَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَاللَّهِمَا مِنْ أَحَدٍ أَغْيَرُ مِنَ اللَّهِ أَنْ يَزْنِي عَبْدُهُ أَوْ تَزْنِي أُمَّتُهُ ، يَا أُمَّةَ مُحَمَّدٍ وَاللَّهِ لَوْ تَعْلَمُونَ مَا أَعْلَمُ لَضَحِكْتُمْ قَلِيلا ، وَلَبَكَيْتُمْ كَثِيرًا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں سورج گرہن ہو گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو نماز پڑھائی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قیام کیا اور طویل قیام کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم رکوع میں چلے گئے اور طویل رکوع کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوبارہ قیام کیا تو طویل قیام کیا لیکن یہ پہلے والے قیام سے کم تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع کیا اور طویل رکوع کیا لیکن یہ پہلے والے رکوع سے کم تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سر اٹھایا اور سجدے میں چلے گئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسری رکعت بھی اسی طرح ادا کی جس طرح پہلی رکعت ادا کی تھی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز مکمل کی تو سورج روشن ہو چکا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو خطبہ دیتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”بے شک سورج اور چاند اللہ تعالیٰ کی دو نشانیاں ہیں، یہ کسی کے مرنے یا جینے کی وجہ سے گرہن نہیں ہوتے ہیں، جب تم انہیں دیکھو تو اللہ تعالیٰ سے دعا کرو، اس کی کبریائی بیان کرو اور صدقہ و خیرات کرو۔“ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی امت! اللہ کی قسم! کسی کو بھی اتنا غصہ نہیں آتا جتنا اللہ تعالیٰ کو اس بات پر آتا ہے جب اس کا کوئی بندہ زنا کا ارتکاب کرے یا اس کی کوئی کنیز زنا کا ارتکاب کرے۔ اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی امت! اللہ کی قسم! جو میں جانتا ہوں اگر وہ تم لوگ جان لو تو تم تھوڑا ہنسا کرو اور زیادہ رویا کرو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2845]

2846

Sahih Ibn Hibban #2846

يَا أُمَّةَ مُحَمَّدٍ ، إِنْأَحَدٌ أَغْيَرَ مِنَ اللَّهِ أَنْ يَزْنِيَ عَبْدُهُ أَوْ تَزْنِيَ أُمَّتُهُ ، يَا أُمَّةَ مُحَمَّدٍ لَوْ تَعْلَمُونَ مَا أَعْلَمُ لَضَحِكْتُمْ قَلِيلا وَلَبَكَيْتُمْ كَثِيرًا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں سورج گرہن ہو گیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز ادا کرنے کے لیے کھڑے ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انتہائی طویل قیام کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم رکوع میں چلے گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انتہائی طویل رکوع کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سر کو اٹھایا اور طویل قیام کیا لیکن یہ پہلے والے قیام سے کم تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع کیا اور طویل رکوع کیا لیکن یہ پہلے والے رکوع سے کم تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سر اٹھایا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدے میں جانے کے لیے جھک گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم دوسری رکعت میں کھڑے ہوئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے طویل قیام کیا یہ پہلے والے قیام سے کم تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم رکوع میں چلے گئے اور طویل رکوع کیا لیکن یہ پہلے والے رکوع سے کم تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سر اٹھایا اور طویل قیام کیا لیکن یہ پہلے قیام سے کم تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم رکوع میں چلے گئے اور طویل رکوع کیا لیکن یہ پہلے رکوع سے کم تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سر اٹھایا اور سجدہ کے لیے جھک گئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (نماز سے فارغ ہونے کے بعد) فرمایا: ”اے لوگو! بے شک سورج اور چاند اللہ تعالیٰ کی دو نشانیاں ہیں، کسی کے مرنے یا جینے کی وجہ سے گرہن نہیں ہوتے ہیں، جب تم انہیں (گرہن کی حالت میں) دیکھو تو نماز ادا کرو، صدقہ و خیرات کرو (اور اللہ تعالیٰ کی) کبریائی کا اعتراف کرو۔ اے محمد کی امت! کسی کو بھی اتنا غصہ نہیں آتا جتنا اللہ تعالیٰ کو اس بات پر آتا ہے، جب اس کا کوئی بندہ زنا کا ارتکاب کرے یا اس کی کوئی کنیز زنا کا ارتکاب کرے۔ اے محمد کی امت! اگر تم وہ بات جان لو جو میں جانتا ہوں، تو تم تھوڑا ہنسا کرو اور زیادہ رویا کرو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2846]

2847

Sahih Ibn Hibban #2847

أَخْبَرَنَا ابْنُ خُزَيْمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَسْرُوقِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ بُرَيْدٍ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ : خَسَفَتِ الشَّمْسُ زَمَنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَامَ فَزِعًا ، ثُمَّ قَالَ : إِنَّهَذِهِ الآيَاتُ الَّتِي يُرْسِلُ اللَّهُ لا تَكُونُ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلا لِحَيَاتِهِ ، وَلَكِنَّ اللَّهَ يُرْسِلُهَا يُخَوِّفُ بِهَا عِبَادَهُ ، فَإِذَا رَأَيْتُمْ مِنْهَا شَيْئًا ، فَافْزَعُوا إِلَى ذِكْرِهِ وَاسْتِغْفَارِهِ "، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " فَافْزَعُوا إِلَى ذِكْرِهِ " : يُرِيدُ بِهِ إِلَى صَلاةِ الْكُسُوفِ لأَنَّ الصَّلاةَ تُسَمَّى ذِكْرًا ، أَوْ فِيهَا ذِكْرُ اللَّهِ ، فَسَمَّى الصَّلاةَ ذِكْرًا"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں سورج گرہن ہو گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم گھبراہٹ کے عالم میں اٹھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”یہ وہ نشانیاں ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ بھیجتا ہے، یہ کسی کے مرنے یا جینے کی وجہ سے ظاہر نہیں ہوتی ہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ انہیں بھیجتا ہے تاکہ ان کے ذریعے اپنے بندوں کو خوف دلائے، جب تم ان میں سے کسی چیز کو دیکھو تو اللہ کے ذکر اور اس سے مغفرت طلب کرنے کی طرف آؤ۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان کہ ”تم اس کے ذکر کی طرف آؤ“ اس سے آپ کی مراد نماز کسوف ہے، کیونکہ نماز کے لیے لفظ ذکر استعمال ہوتا ہے یا پھر یہ کہ اس میں اللہ کا ذکر ہوتا ہے، اس لیے نماز کے لیے لفظ ذکر استعمال ہوا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2847]

2848

Sahih Ibn Hibban #2848

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ ، عَنْ حَيَّانَ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ : كُنْتُ أَرْمِي بَأْسَهُمٍ بِالْمَدِينَةِ ، إِذْ خَسَفَتْ فَنَبَذْتُهَا " ، فَقُلْتُ : " وَاللَّهِ لأَنْظُرَنَّ مَا يُحَدِّثُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فِي كُسُوفِ الشَّمْسِ " قَالَ : " فَأَتَيْتُهُ وَهُوَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ،قَائِمٌ فِي الصَّلاةِ رَافِعٌ يَدَيْهِ ، قَالَ : فَجَعَلَ يُسَبِّحُ ، وَيَحْمَدُ ، وَيُكَبِّرُ ، وَيُهَلِّلُ ، وَيَدْعُو ، حَتَّى حَسَرَ ، فَلَمَّا حَسَرَ عَنْهَا قَرَأَ سُورَتَيْنِ وَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبدالرحمن بن سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں مدینہ منورہ میں تیر اندازی کر رہا تھا اسی دوران سورج گرہن ہو گیا میں نے تیر ایک طرف رکھے میں نے سوچا: اللہ کی قسم! آج میں اس بات کا ضرور جائزہ لوں گا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سورج گرہن کے بارے میں کیا کرتے ہیں۔ راوی کہتے ہیں: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اس وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز ادا کر رہے تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھ بلند کیے ہوئے تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم «سُبْحَانَ اللّٰهِ وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ وَاللّٰهُ أَكْبَرُ وَلَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ» ”اللہ پاک ہے، تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں، اللہ سب سے بڑا ہے اور اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں“ پڑھ رہے تھے دعا مانگ رہے تھے یہاں تک کہ جب گرہن ختم ہوا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو سورتوں کی تلاوت کی پھر دو رکعات ادا کیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2848]

2849

Sahih Ibn Hibban #2849

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ نَمِرٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ،جَهَرَ بِالْقِرَاءَةِ فِي صَلاةِ الْكُسُوفِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نمازِ کسوف میں بلند آواز میں قرأت کی تھی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2849]

2850

Sahih Ibn Hibban #2850

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ نَمِرٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : كَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ،فَصَلَّى بِهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ فِي رَكْعَتَيْنِ ، وَأَرْبَعَ سَجَدَاتٍ ، وَجَهَرَ بِالْقِرَاءَةِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانۂ اقدس میں سورج گرہن ہو گیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو نماز پڑھاتے ہوئے دو رکعات میں چار مرتبہ رکوع کیا اور چار سجدے کیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلند آواز میں قراءت کی تھی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2850]

2851

Sahih Ibn Hibban #2851

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنِ الأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ الْعَبْدِيِّ ، عَنْ ثَعْلَبَةَ بْنِ عَبَّادٍ ، عَنْ سَمُرَةَ ، قَالَ : صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْكُسُوفِ لا نَسْمَعُ لَهُ صَوْتًا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں کسوف کے موقع پر نماز پڑھائی، ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز نہیں سنی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2851]

2852

Sahih Ibn Hibban #2852

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي ثَعْلَبَةُ بْنُ عَبَّادٍ الْعَبْدِيُّ ، أَنَّهُ شَهِدَ خِطْبَةَ يَوْمًا لِسَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ ، فَذَكَرَ فِي خُطْبَتِهِ حَدِيثًا ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ سَمُرَةُ : بَيْنمَا أَنَا يَوْمًا وَغُلامٌ مِنَ الأَنْصَارِ نَرْمِي غَرَضًا لَنَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، حَتَّى إِذَا كَانَتِ الشَّمْسُ قَدْرَ رُمْحَيْنِ أَوْ ثَلاثَةٍ فِي عَيْنِ النَّاظِرِ مِنَ الأُفُقِ اسْوَدَّتْ ، فَقَالَ أَحَدُنَا لِصَاحِبِهِ : انْطَلَقَ بِنَا إِلَى الْمَسْجِدِ فَوَاللَّهِ لَتُحْدِثَنَّ هَذِهِ الشَّمْسُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فِي أُمَّتِهِ ، حَدِيثًا قَالَ : فَدَفَعْنَا إِلَى الْمَسْجِدِ ، فَوَافَقْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَإِذَا هُوَ بَارَزٌ حِينَ خَرَجَ إِلَى النَّاسِ قَالَ : فَتَقَدَّمَ ، فَصَلَّى بِنَا كَأَطْوَلِ مَا قَامَ بِنَا فِي صَلاةٍ قَطُّ لا نَسْمَعُ لَهُ صَوْتًا ، ثُمَّ سَجَدَ كَأَطْوَلِ مَا سَجَدْنَا قَطُّ لا نَسْمَعُ لَهُ صَوْتًا ، ثُمَّ قَعَدَ فِي الرَّكْعَةِ الثَّانِيَةِ مِثْلَ ذَلِكَ " ، قَالَ : فَوَافَقَ تَجَلِّي الشَّمْسُ جُلُوسَهُ فِي الرَّكْعَةِ الثَّانِيَةِ ، فَسَلَّمَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ثعلبہ بن عباد عبدی کے بارے میں یہ بات منقول ہے کہ وہ سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ کے خطبے میں موجود تھے، تو انہوں نے اپنے خطبے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے ایک حدیث بیان کی، سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ نے یہ بات بیان کی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں ایک مرتبہ میں اور انصار سے تعلق رکھنے والا ایک لڑکا نشانے بازی کر رہے تھے یہاں تک کہ سورج دو نیزوں جتنا یا شاید تین نیزوں جتنا ہو گیا اور دیکھنے والے کو افق سیاہ محسوس ہونے لگا (یعنی سورج گرہن ہو گیا) تو ہم میں سے ایک نے اپنے ساتھی سے کہا: ہم مسجد کی طرف چلتے ہیں، اللہ کی قسم! سورج کی یہ حالت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے کوئی نیا حکم لے کر آئے گی۔ راوی کہتے ہیں: ہم لوگ مسجد کی طرف آئے وہاں ہمیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ملے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کی طرف تشریف لائے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم آگے بڑھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز پڑھانا شروع کی، جو سب سے طویل نماز تھی جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں پڑھائی تھی لیکن ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز نہیں سنی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ کیا جو سب سے طویل سجدہ تھا جو ہم نے کسی بھی نماز میں کیا تھا لیکن ہمیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز سنائی نہیں دی، پھر دوسری رکعت بھی اسی طرح ادا کرنے کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ گئے۔ راوی کہتے ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دوسری رکعت میں بیٹھنے کے ساتھ ہی سورج روشن ہو گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیر دیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2852]

2853

Sahih Ibn Hibban #2853

فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، رَأَيْنَاكَ تَنَاوَلْتَ شَيْئًا فِي مَقَامِكَ هَذَا ، ثُمَّ رَأَيْنَاكَ تَكَعْكَعْتَ ، فَقَالَ : إِنِّيرَأَيْتَ الْجَنَّةَ ، أَوْ أُرِيتُ الْجَنَّةَ ، فَتَنَاوَلْتُ مِنْهَا عُنْقُودًا ، وَلَوْ أَخَذْتُهُ لأَكَلْتُمْ مِنْهُ مَا بَقِيَتِ الدُّنْيَا ، وَرَأَيْتُ النَّارَ فَلَمْ أَرَ كَالْيَوْمِ مَنْظَرًا قَطُّ ، وَرَأَيْتُ أَكْثَرَ أَهْلِهَا النِّسَاءَ " قَالُوا : بِمَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " بِكُفْرِهِنَّ " قِيلَ : يَكْفُرْنَ بِاللَّهِ ؟ قَالَ : " يَكْفُرْنَ الْعَشِيرَ ، وَيَكْفُرْنَ الإِحْسَانَ ، لَوْ أَحْسَنْتَ إِلَى إِحْدَاهُنَّ الدَّهْرَ ، ثُمَّ رَأَتْ مِنْكَ شَيْئًا قَالَتْ : وَاللَّهِ مَا رَأَيْتُ مِنْكَ خَيْرًا قَطُّ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں سورج گرہن ہو گیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز ادا کی اور لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتدا میں نماز ادا کی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے طویل قیام کیا جو سورہ بقرہ کی تلاوت جتنا تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے طویل رکوع کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سر اٹھایا اور طویل قیام کیا لیکن یہ پہلے قیام سے کم تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم رکوع میں چلے گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے طویل رکوع کیا، یہ پہلے رکوع سے کم تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدے میں چلے گئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے طویل قیام کیا لیکن یہ پہلے قیام سے کم تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے طویل رکوع کیا لیکن یہ پہلے رکوع سے کم تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدے میں چلے گئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز مکمل کی تو سورج روشن ہو چکا تھا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”بے شک سورج اور چاند اللہ تعالیٰ کی دو نشانیاں ہیں، یہ کسی کے مرنے یا جینے کی وجہ سے گرہن نہیں ہوتے، جب تم انہیں (گرہن کی حالت میں) دیکھو تو اللہ کا ذکر کرو۔“ لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی جگہ سے کوئی چیز پکڑنے کے لیے (آگے ہوئے تھے)، پھر ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم پیچھے ہٹے تھے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میں نے جنت کو دیکھا تھا (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں:) مجھے جنت دکھائی گئی، تو میں نے اس میں سے انگوروں کا ایک گچھا پکڑنے کی کوشش کی، اگر میں اسے پکڑ لیتا تو تم اسے رہتی دنیا تک کھاتے رہتے، اور میں نے جہنم کو دیکھا، میں نے آج جیسا (ہیبت ناک) منظر کبھی نہیں دیکھا، میں نے دیکھا اس میں اکثریت خواتین کی تھی“، لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اس کی کیا وجہ ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کی وجہ کفر ہے“، عرض کی گئی: کیا وہ اللہ کا کفر کرتی ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ شوہر کی ناشکری کرتی ہیں اور احسان کا انکار کرتی ہیں، اگر تم ان میں سے کسی ایک کے ساتھ ایک زمانے تک اچھائی کرتے رہو پھر اسے تمہاری طرف سے کوئی ناگوار صورت حال دیکھنی پڑے تو وہ یہی کہے گی: اللہ کی قسم! میں نے کبھی تمہاری طرف سے کوئی بھلائی نہیں دیکھی۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2853]

2854

Sahih Ibn Hibban #2854

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : كُنَّانَرَى الآيَاتِ فِي زَمَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَرَكَاتٍ ، وَأَنْتُمْ تَرَوْنَهَا تَخْوِيفًا "، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : خَبَرُ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، صَلَّى فِي كُسُوفِ الشَّمْسِ ثَمَانِيَ رَكَعَاتٍ وَأَرْبَعَ سَجَدَاتٍ ، لَيْسَ بِصَحِيحٍ لأَنَّ حَبِيبًا لَمْ يَسْمَعْ مِنْ طَاوُسٍ هَذَا الْخَبَرَ ، وَكَذَلِكَ خَبَرُ عَلِيٍّ رِضْوَانُ اللَّهُ عَلَيْهِ ، أَنَّهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، صَلَّى فِي صَلاةِ الْكُسُوفِ هَذَا النَّحْوَ ، لأَنَا لا نَحْتَجَّ بِحَنَشٍ وَأَمْثَالِهِ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ ، وَكَذَلِكَ أَغْضَيْنَا عَنْ إِمْلائِهِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں (ظاہر ہونے والی) نشانیوں کو برکت کا نشان سمجھتے تھے جبکہ تم انہیں خوف دلانے والی چیز سمجھتے ہو۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) حبیب بن ابوثابت نے طاؤس کے حوالے سے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے حوالے سے یہ روایت نقل کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سورج گرہن کی نماز میں آٹھ رکوع کیے تھے اور چار سجدے کیے تھے۔ یہ روایت صحیح نہیں ہے کیونکہ حبیب نے طاؤس کے حوالے سے یہ روایت نہیں سنی ہے۔ اسی طرح سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول یہ روایت کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نمازِ کسوف اس طرح ادا کی تھی وہ بھی درست نہیں ہے کیونکہ ہم حنش اور اس جیسے راویوں کی احادیث سے استدلال نہیں کرتے ہیں۔ اسی طرح ہم ان کی املا کروائی ہوئی روایت سے بھی چشم پوشی کرتے ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2854]

2855

Sahih Ibn Hibban #2855

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ الْمُنْذِرِ ، عَنِ أَسْمَاءَ ، قَالَتْ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ،يَأْمُرُ بِالْعَتَاقَةِ فِي صَلاةِ الْكُسُوفِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نمازِ کسوف (کے بعد والے خطبے) کے دوران غلام آزاد کرنے کا حکم دیا تھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2855]

2856

Sahih Ibn Hibban #2856

ثُمَّ قَالَ : أَمَا بَعْدُ فَإِنَّ رِجَالايَزْعُمُونَ أَنَّ كُسُوفَ هَذِهِ الشَّمْسِ ، وَكُسُوفَ هَذَا الْقَمَرِ ، وَزَوَالِ هَذِهِ النُّجُومِ عَنْ مَطَالِعِهَا لِمَوْتِ رِجَالٍ عُظَمَاءَ مِنْ أَهْلِ الأَرْضِ ، وَإِنَّهُمْ كَذَبُوا ، وَلَكِنَّهَا آيَاتُ اللَّهِ يَعْتَبِرُ بِهَا عِبَادُهُ لَيَنْظُرَ مَنْ يُحَدِّثُ مِنْهُمْ تَوْبَةً ، وَإِنِّي وَاللَّهِ لَقَدْ رَأَيْتُ مَا أَنْتُمْ لاقُونَ فِي أَمْرِ دُنْيَاكُمْ ، وَأَخِرَتِكُمْ مُذْ قُمْتُ أُصَلِّي ، وَإِنَّهُ وَاللَّهِ مَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَخْرُجَ ثَلاثُونَ كَذَّابًا أَحَدُهُمُ الأَعْوَرُ الدَّجَّالُ مَمْسُوحُ عَيْنِ الْيُسْرَى ، كَأَنَّهَا عَيْنُ أَبِي تِحْيَى شَيْخٍ مِنَ الأَنْصَارِ ، بَيْنَهُ وَبَيْنَ حُجْرَةِ عَائِشَةَ خَشَبَةٌ ، وَإِنَّهُ مَتَى يَخْرُجُ ، فَإِنَّهُ سَوْفَ يَزْعُمُ أَنَّهُ اللَّهُ ، فَمَنْ آمَنَ بِهِ وَصَدَّقَهُ ، وَاتَّبَعَهُ ، فَلَيْسَ يَنْفَعُهُ عَمِلٌ صَالِحٌ مِنْ عَمِلٍ سَلَفَ ، وَإِنَّهُ سَيَظْهَرُ عَلَى الأَرْضِ كُلِّهَا غَيْرَ الْحَرَمِ ، وَبَيْتِ الْمَقْدِسِ ، وَإِنَّهُ يَسُوقُ الْمُسْلِمِينَ إِلَى بَيْتِ الْمَقْدِسِ ، فَيُحَاصَرُونَ حِصَارًا شَدِيدًا " ، قَالَ الأَسْوَدُ : وَظَنِّي أَنَّهُ قَدْ حَدَّثَنِي ، أَنَّ عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ يَصِيحُ فِيهِ ، فَيَهْزِمُهُ اللَّهُ وَجُنُودَهُ ، حَتَّى إِنَّ أَصْلَ الْحَائِطِ ، أَوْ جِذْمَ الشَّجَرَةِ لَيُنَادِي : يَا مُؤْمِنُ هَذَا كَافِرٌ ، مُسْتَتِرٌ بِي ، تَعَالَ فَاقْتُلْهُ ، وَلَنْ يَكُونَ ذَلِكَ كَذَلِكَ حَتَّى تَرَوْا أُمُورًا عِظَامًا يَتَفَاقَمُ شَأْنُهَا فِي أَنْفُسِكُمْ ، وَتَسَاءَلُونَ بَيْنَكُمْ : هَلْ كَانَ نَبِيِّكُمْ ذِكْرُ لَكُمْ مِنْهَا ذِكْرًا ، وَحَتَّى تَزُولَ جِبَالٌ عَنْ مَرَاتِبِهَا ، قَالَ : ثُمَّ عَلَى إِثْرِ ذَلِكَ الْقَبْضُ، ثُمَّ قَبَضَ أَطْرَافَ أَصَابِعِهِ ، ثُمَّ قَالَ مَرَّةً أُخْرَى : وَقَدْ حَفِظْتُ مَا قَالَ ، فَذَكَرَ هَذَا فَمَا قَدَّمَ كَلِمَةً عَنْ مَنْزِلِهَا وَلا أَخَّرَ أُخْرَى """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ ایک مرتبہ وہ خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے، تو انہوں نے اپنے خطبے کے دوران نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے حدیث بیان کی، سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ نے یہ بات بیان کی کہ ایک مرتبہ میں اور انصار سے تعلق رکھنے والا ایک لڑکا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں نشانے بازی کر رہے تھے، اسی دوران سورج طلوع ہوا تو وہ دیکھنے والے کو ایک نیزے جتنا یا دو نیزے جتنا محسوس ہو رہا تھا، باقی سیاہ تھا، ہم میں سے ایک نے اپنے ساتھی سے کہا: ہم اللہ کے رسول کی مسجد کی طرف چلتے ہیں، اللہ کی قسم! سورج کی یہ حالت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کے لیے کوئی نیا حکم لے کر آئے گی، ہم لوگ مسجد کی طرف آئے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت گھر سے تشریف لائے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے، نماز ادا کرنا شروع کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز پڑھائی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں جتنی بھی نمازیں پڑھائی تھیں وہ ان میں سے سب سے طویل تھی، ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز نہیں سنی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسری رکعت بھی اسی طرح ادا کی، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بیٹھنے کے دوران ہی گرہن ختم ہو گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا، نماز مکمل کی، پھر اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کی اور اس بات کی گواہی دی کہ «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ» ”اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے بندے اور رسول ہیں“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اے لوگو! میں ایک انسان ہوں، جسے رسول کے طور پر مبعوث کیا گیا، میں تمہیں اللہ کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں، اگر تم لوگ یہ بات جانتے ہو کہ میں نے اپنے پروردگار کے پیغام کی تبلیغ میں کوئی کوتاہی کی ہے، تو تم مجھے اس بارے میں بتاؤ۔“ لوگوں نے عرض کی: ہم اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پروردگار کے پیغام کو پہنچا دیا ہے اور اپنی امت کی خیر خواہی کی ہے اور جو چیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذمے تھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ادا کر دیا ہے، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”کچھ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ سورج کا گرہن ہونا، چاند کا گرہن یا ان ستاروں کا اپنے مطلع سے گرنا زمین سے تعلق رکھنے والے کسی بڑے آدمی کے انتقال کی وجہ سے ہوتا ہے، یہ لوگ غلط سمجھتے ہیں، بلکہ یہ اللہ کی نشانیاں ہیں، جن کے ذریعے اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو عبرت دلاتا ہے تاکہ وہ لوگ توبہ کی طرف آئیں۔ اللہ کی قسم! تم نے اپنے دنیا اور آخرت کے معاملے میں جس بھی صورت حال کا سامنا کرنا ہے وہ میں نے ابھی یہاں نماز ادا کرنے کے دوران کھڑے ہوئے دیکھ لی ہے، اللہ کی قسم! قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی جب تک تم میں تیس کذابوں کا ظہور نہیں ہو گا، جن میں سے ایک کانا دجال ہو گا، اس کی بائیں آنکھ نہیں ہو گی، وہ ابو تحییٰ کی آنکھ کی مانند ہو گی (یہ انصار کا ایک بوڑھا تھا، اس کے اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرے کے درمیان ایک لکڑی تھی) دجال کا جب بھی ظہور ہو گا، تو وہ یہی دعویٰ کرے گا کہ وہ اللہ ہے، اور جو اس کی تصدیق کرے گا اور پیروی کرے گا، تو اس کے پہلے کا کوئی بھی نیک عمل اسے فائدہ نہیں دے گا اور عنقریب دجال تمام روئے زمین پر غالب آ جائے گا، صرف حرم کی حدود اور بیت المقدس پر قبضہ نہیں کر سکے گا، وہ مسلمانوں کو بیت المقدس کی طرف جانے پر مجبور کر دے گا، وہ لوگ شدید محاصرہ کریں گے۔“ اسود نامی راوی بیان کرتے ہیں: میرا خیال ہے روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں کہ اسی دوران سیدنا عیسیٰ بن مریم علیہ السلام ان کے درمیان آئیں گے، تو اللہ تعالیٰ دجال کو اور اس کے لشکروں کو پسپا کر دے گا، یہاں تک کہ دیوار کی بنیاد اور درخت کا تنا بھی یہ پکار کر کہیں گے: ”اے مومن! یہ کافر ہے، جو میرے پیچھے چھپا ہوا ہے، تم آگے آؤ اور اسے قتل کر دو۔“ اور ایسا اس وقت تک نہیں ہو گا، جس وقت تک تم عظیم امور نہیں دیکھو گے، جو تمہیں پریشان کر دیں گے، تم ایک دوسرے سے پوچھو گے: کیا تمہارے نبی نے اس کا ذکر تمہارے سامنے کیا تھا؟ وہ ایسی آزمائش ہو گی کہ پہاڑ اپنی جگہ سے ہل جائیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر اس کے بعد قبض ہوگا۔“ پھر انہوں نے اپنی انگلیوں کے کناروں کو بند کیا، پھر انہوں نے دوسری مرتبہ یہ کہا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو بات ارشاد فرمائی تھی وہ میں نے دیکھی ہے، پھر انہوں نے یہی چیز ذکر کی اور اس میں کوئی ایک لفظ بھی اپنی جگہ سے پہلے یا بعد میں بیان نہیں کیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2856]

2857

Sahih Ibn Hibban #2857

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ شَرِيكِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي نَمِرٍ ، عَنِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّهُ قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هَلَكَتِ الْمَوَاشِي ، وَتَقَطَّعَتِ السُّبُلُ ، فَادْعُ اللَّهَ ، فَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : فَمُطِرْنَا مِنَ الْجُمُعَةِ إِلَى الْجُمُعَةِ ، قَالَ : فَجَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، تَهَدَّمَتِ الْبُيُوتُ ، وَهَلَكَتِ الْمَوَاشِي ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : اللَّهُمَّ عَلَى رُؤُوسِ الْجِبَالِ ، وَالآكَامِ ، وَبُطُونِ الأَوْدِيَةِ ، وَمَنَابِتِ الشَّجَرِ "، قَالَ : فَانْجَابَتْ عَنِ الْمَدِينَةِ انْجِيَابَ الثَّوْبِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اس نے عرض کی: ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! مویشی ہلاکت کا شکار ہو رہے ہیں، سفر کرنا ممکن نہیں رہا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ سے دعا کیجیے۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی، راوی کہتے ہیں: ایک جمعے سے لے کر اگلے جمعے تک ہم پر بارش ہوتی رہی، راوی کہتے ہیں: پھر ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اس نے عرض کی: ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! گھر گر رہے ہیں، مویشی ہلاکت کا شکار ہو رہے ہیں۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی: «اللَّهُمَّ عَلَى الآكَامِ وَالظِّرَابِ، وَبُطُونِ الأَوْدِيَةِ، وَمَنَابِتِ الشَّجَرِ» ”اے اللہ! پہاڑوں کی چوٹیوں پر اور نشیبی علاقوں میں اور جنگلات میں بارش ہو۔“ راوی کہتے ہیں: مدینہ منورہ سے بادل یوں چھٹ گیا جس طرح کپڑا پھٹ جاتا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2857]

2858

Sahih Ibn Hibban #2858

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، وَعُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى الصَّنْعَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَخْطُبُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ ، فَقَامَ إِلَيْهِ النَّاسُ فَصَاحُوا فَقَالُوا : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، قَحِطَ الْمَطَرُ ، وَاحْمَرَّ الشَّجَرُ ، وَهَلَكَتِ الْبَهَائِمُ ، فَادْعُ اللَّهَ أَنْ يَسْقِيَنَا ، فَقَالَ : اللَّهُمَّ اسْقِنَا " قَالَ : وَايْمُ اللَّهِ مَا نَرَى فِي السَّمَاءِ قَزَعَةً مِنْ سَحَابٍ ، قَالَ : فَنَشَأَتْ سَحَابَةٌ ، فَانْتَشَرَتْ ، ثُمَّ إِنَّهَا مَطَرَتْ ، فَنَزَلَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَصَلَّى ، وَانْصَرَفَ فَلَمْ تَزَلْ تُمْطِرُ إِلَى الْجُمُعَةِ الأُخْرَى ، فَلَمَّا قَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَخْطُبُ ، صَاحُوا وَقَالُوا : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، تَهَدَّمَتِ الْبُيُوتُ ، وَانْقَطَعَتِ السُّبُلُ ، فَادْعُ اللَّهَ يَحْبِسْهَا عَنَّا ، قَالَ : فَتَبَسَّمَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَقَالَ : " اللَّهُمَّ حَوَالَيْنَا ، وَلا عَلَيْنَا "، قَالَ : فَتَقَشَّعَتْ عَنِ الْمَدِينَةِ فَجَعَلَتْ تُمْطِرُ حَوْلَهَا ، وَمَا تَقْطُرُ بِالْمَدِينَةِ قَطْرَةً ، قَالَ : فَنَظَرْتُ إِلَى الْمَدِينَةِ ، وَإِنَّهَا لَفِي مِثْلِ الإِكْلِيلِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن خطبہ دے رہے تھے کہ کچھ لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کھڑے ہوئے، انہوں نے بلند آواز سے کہا: اے اللہ کے نبی! بارش کا قحط پڑ گیا ہے، درخت سیاہ ہو گئے ہیں اور جانور ہلاکت کا شکار ہو رہے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ سے دعا کیجیے کہ وہ ہم پر بارش نازل کر دے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی: «اللَّهُمَّ أَغِثْنَا» ”اے اللہ! ہم پر بارش نازل کر دے۔“ راوی کہتے ہیں: اللہ کی قسم! ہمیں آسمان میں بادل کا کوئی بھی ٹکڑا نظر نہیں آ رہا تھا۔ راوی کہتے ہیں: اسی دوران ایک ٹکڑا نمودار ہوا اور وہ پھیلنا شروع ہوا، پھر بارش شروع ہو گئی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم منبر سے نیچے تشریف لائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز ادا کی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز مکمل کی، اس کے بعد اگلے جمعے تک بارش ہوتی رہی، پھر جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے تو لوگوں نے بلند آواز میں عرض کی: اے اللہ کے نبی! گھر گر رہے ہیں اور سفر کرنا ممکن نہیں رہا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ سے دعا کیجیے کہ وہ ہم سے بارش کو روک دے۔ راوی کہتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا دیے، پھر فرمایا: «اللَّهُمَّ حَوَالَيْنَا وَلَا عَلَيْنَا» ”اے اللہ! ہمارے آس پاس ہو، ہم پر نہ ہو۔“ راوی کہتے ہیں: مدینہ منورہ سے بادل چھٹ گیا اور مدینہ منورہ کے اردگرد بارش ہوتی رہی اور مدینہ منورہ پر بارش کا ایک قطرہ بھی نہیں پڑا۔ راوی کہتے ہیں: میں نے مدینہ منورہ کو دیکھا تو وہ تاج کی مانند تھا (یعنی اس سے بادل چھٹ چکا تھا)۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2858]

2859

Sahih Ibn Hibban #2859

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّامِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ الْمَقَابِرِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ ، عَنِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : قَحِطَ الْمَطَرُ عَامًا ، فَقَامَ بَعْضُ الْمُسْلِمِينَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ قَحِطَ الْمَطَرُ ، وَأَجْدَبَتِ الأَرْضُ ، وَهَلَكَ الْمَالُ ، قَالَ : فَرَفَعَ يَدَيْهِ ، وَمَا نَرَى فِي السَّمَاءِ سَحَابَةً ، فَمَدَّ يَدَيْهِ حَتَّى رَأَيْتُ بَيَاضَ إِبْطَيْهِ ، يَسْتَسْقِي اللَّهَ ، فَمَا صَلَّيْنَا الْجُمُعَةَ حَتَّى أَهَمَّ الشَّابَّ الْقَرِيبَ الدَّارِ الرُّجُوعُ إِلَى أَهْلِهِ ، فَدَامَتْ جُمُعَةً ، فَلَمَّا كَانَتِ الْجُمُعَةُ الَّتِي تَلِيهَا قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، تَهَدَّمَتِ الْبُيُوتُ ، وَاحْتَبَسَ الرُّكْبَانُ ، قَالَ : فَتَبَسَّمَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، لِسُرْعَةِ مَلالَةِ بْنِ آدَمَ وَقَالَ بِيَدَيْهِ : اللَّهُمَّ حَوَالَيْنَا ، وَلا عَلَيْنَا "، قَالَ : فَتَكَشَّفَتْ عَنِ الْمَدِينَةِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ ایک سال تک بارش نہیں ہوئی تو بعض مسلمان نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں کھڑے ہوئے، انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! بارش نہیں ہوئی، زمین خشک ہو گئی ہے اور کھیتیاں ہلاکت کا شکار ہو رہی ہیں۔ راوی کہتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھ بلند کیے، ہمیں آسمان میں کوئی بادل نظر نہیں آ رہا تھا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھ پھیلائے یہاں تک کہ ہمیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بغلوں کی سفیدی نظر آ گئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ سے بارش کے لیے دعا کی، ابھی ہم نے جمعہ ادا نہیں کیا تھا (کہ اتنی تیز بارش شروع ہو گئی) کہ وہ نوجوان جس کا گھر مسجد کے قریب تھا اس نے یہ ارادہ کیا کہ وہ اپنے گھر چلا جائے، پھر پورا ہفتہ بارش ہوتی رہی، جب اس کے بعد والا جمعہ آیا تو ایک شخص نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! گھر گر رہے ہیں اور سفر کرنا ممکن نہیں رہا۔ راوی کہتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ابنِ آدم کے جلد ملال پر مسکرا دیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھ بلند کر کے دعا کی: «اللَّهُمَّ حَوَالَيْنَا وَلَا عَلَيْنَا» ”اے اللہ! ہمارے آس پاس ہو ہم پر نہ ہو۔“ راوی کہتے ہیں: مدینہ منورہ سے بادل چھٹ گیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2859]

2860

Sahih Ibn Hibban #2860

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ زُهَيْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا طَاهِرُ بْنُ خَالِدِ بْنِ نِزَارٍ الأَيْلِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ مَبْرُورٍ ، عَنْ يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ الأَيْلِيِّ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : شَكَا النَّاسُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَحْطَ الْمَطَرُ ، فَأَمَرَ بِالْمِنْبَرِ ، فَوُضِعَ لَهُ فِي الْمُصَلَّى ، وَوَعَدَ النَّاسَ يَوْمًا يَخْرُجُونَ فِيهِ ، قَالَتْ عَائِشَةُ : فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، حِينَ بَدَا حَاجِبُ الشَّمْسِ ، فَقَعَدَ عَلَى الْمِنْبَرِ ، فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَيْ عَلَيْهِ ، ثُمَّ قَالَ : إِنَّكُمْ شَكَوْتُمْ جَدْبَ جِنَانِكُمْ ، وَاحْتِبَاسَ الْمَطَرِ عَنْ إِبَّانِ زَمَانِهِ عَنْكُمْ ، وَقَدْ أَمَرَكُمُ اللَّهُ أَنْ تَدَعُوهُ ، وَوَعَدَكُمْ أَنْ يَسْتَجِيبَ لَكُمْ " ، ثُمَّ قَالَ : " الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ ، لا إِلَهَ إِلا أَنْتَ ، تَفْعَلُ مَا تُرِيدُ ، اللَّهُمَّ أَنْتَ اللَّهُ لا إِلَهَ إِلا أَنْتَ ، الْغَنِيُّ وَنَحْنُ الْفُقَرَاءُ ، أَنْزِلْ عَلَيْنَا الْغَيْثَ ، وَاجْعَلْ مَا أَنْزَلْتَ لَنَا قُوَّةً ، وَبَلاغًا إِلَى خَيْرٍ " ، ثُمَّ رَفَعَ يَدَيْهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى رَأَيْنَا بَيَاضَ إِبْطَيْهِ ، ثُمَّ حَوَّلَ إِلَى النَّاسِ ظَهْرَهُ ، وَقَلَبَ أَوْ حَوَّلَ رِدَاءَهُ وَهُوَ رَافِعٌ يَدَيْهِ ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ ، وَنَزَلَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ ، فَأَنْشَأَ اللَّهُ سَحَابًا فَرَعَدَتْ ، وَأَبْرَقَتْ ، وَأَمْطَرَتْ بِإِذْنِ اللَّهِ ، فَلَمْ نَلْبَثْ فِي مَسْجِدِهِ حَتَّى سَأَلَتِ السُّيُولُ ، فَلَمَّا رَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، لَثَقَ الثِّيَابِ عَلَى النَّاسِ ، ضَحِكَ حَتَّى بَدَتْ نَوَاجِذُهُ ، وَقَالَ : " أَشْهَدُ أَنَّ اللَّهَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ ، وَإِنِّي عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ کچھ لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بارش نہ ہونے کی شکایت کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منبر کے بارے میں حکم دیا، اسے عیدگاہ میں رکھا گیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کے ساتھ ایک دن کا وعدہ کیا کہ اس دن وہ لوگ آئیں؛ تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ جیسے ہی سورج نکلا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم روانہ ہوئے اور منبر پر تشریف فرما ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم نے اپنے باغات کے خشک ہونے کی شکایت کی اور ایک طویل عرصے سے بارش نہ ہونے کی شکایت کی، اللہ تعالیٰ نے تم لوگوں کو یہ حکم دیا ہے کہ تم لوگ اس سے دعا مانگو اور اس نے تم سے یہ وعدہ کیا ہے کہ وہ تمہاری دعا کو قبول کرے گا۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ پڑھا: « ﴿الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ ۝ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ ۝ مٰلِكِ يَوْمِ الدِّيْنِ﴾ [سورة الفاتحة: 2-4] لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ، يَفْعَلُ مَا يُرِيْدُ، اللّٰهُمَّ أَنْتَ اللّٰهُ لَا إِلٰهَ إِلَّا أَنْتَ الْغَنِيُّ وَنَحْنُ الْفُقَرَاءُ، أَنْزِلْ عَلَيْنَا الْغَيْثَ، وَاجْعَلْ مَا أَنْزَلْتَ لَنَا قُوَّةً وَبَلَاغًا إِلَى حِيْنٍ» ”ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص ہے جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے، جو بڑا مہربان ہے نہایت رحم کرنے والا ہے، قیامت کے دن کا مالک ہے، تیرے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے، تو جو چاہتا ہے وہ کرتا ہے، اے اللہ! تو ہی وہ اللہ ہے، تیرے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے، تو بے نیاز ہے اور ہم تیرے محتاج ہیں، تو ہم پر بارش نازل کر اور جو تو نے ہم پر نازل کیا ہے اسے قوت بنا دے اور بھلائی کی طرف پہنچانے والا بنا دے۔“ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں ہاتھ بلند کیے یہاں تک کہ ہم نے آپ کی بغلوں کی سفیدی دیکھ لی، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی پشت کو لوگوں کی طرف کیا اور اپنی چادر کو الٹا دیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھ بلند کیے ہوئے تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کی طرف رخ کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم منبر سے نیچے اتر آئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعات نماز ادا کی تو اللہ تعالیٰ نے بادل کو پیدا کیا، اور وہ کڑکا، بجلی چمکی اور بارش شروع ہو گئی، یہ اللہ کے حکم سے ہوا، ابھی ہم مسجد میں ہی تھے کہ نالیاں بہنی شروع ہو گئیں، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ لوگوں نے کپڑے اپنے اوپر کر لیے ہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا دیے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اطراف کے دانت نظر آنے لگے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ بے شک اللہ تعالیٰ ہر شے پر قدرت رکھتا ہے اور میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2860]

2861

Sahih Ibn Hibban #2861

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا الأَنْصَارِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ ثُمَامَةَ ، عَنِ أَنَسٍ ، قَالَ : كَانُوا إِذَا قَحَطُوا عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، اسْتَسْقَوْا بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَيَسْتَسْقِي لَهُمْ فَيُسْقَوْنَ ، فَلَمَّا كَانَ بَعْدَ وَفَاةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فِي إِمَارَةِ عُمَرَ ، قَحَطُوا ، فَخَرَجَ عُمَرُ بِالْعَبَّاسِ يَسْتَسْقِي بِهِ ، فَقَالَ :" اللَّهُمَّ إِنَّا كُنَّا إِذَا قَحَطْنَا عَلَى عَهْدِ نَبِيِّكَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَاسْتَسْقُينَا بِهِ ، فَسَقَيْتَنَا ، وإِنا نَتَوَسَّلُ إِلَيْكَ الْيَوْمَ بِعَمِّ نَبِيِّكَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَاسْقِنَا قَالَ : فَسُقُوا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانۂ اقدس میں جب قحط پڑ جاتا تھا، تو لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وسیلے سے بارش کی دعا کیا کرتے تھے؛ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بھی ان لوگوں کے لیے بارش کی دعا کرتے تھے، تو ان لوگوں کو بارش عطا ہو جاتی تھی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے عہدِ خلافت میں قحط آیا، تو سیدنا عمر، سیدنا عباس رضی اللہ عنہما کو ساتھ لے کر نکلے تاکہ ان کے وسیلے سے بارش کی دعا کریں، انہوں نے یہ کہا: «اللَّهُمَّ إِنَّا كُنَّا نَتَوَسَّلُ إِلَيْكَ بِنَبِيِّنَا فَتَسْقِينَا، وَإِنَّا نَتَوَسَّلُ إِلَيْكَ بِعَمِّ نَبِيِّنَا فَاسْقِنَا» ”اے اللہ! پہلے تیرے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں جب ہم قحط کا شکار ہوتے تھے، تو ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وسیلے سے بارش کی دعا کرتے تھے، تو تو ہمیں سیراب کر دیتا تھا؛ اب ہم تیرے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا کے وسیلے سے تیری بارگاہ میں دعا کرتے ہیں، تو ہمیں سیراب کر دے۔“ راوی کہتے ہیں: ان لوگوں کو سیراب کر دیا گیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2861]

2862

Sahih Ibn Hibban #2862

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى الْقَطَّانُ ، قَالَ : سَمِعْتُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي هِشَامُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كِنَانَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : أَرْسَلَنِي أَمِيرٌ مِنَ الأُمَرَاءِ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَسْأَلُهُ عَنْصَلاةِ الاسْتِسْقَاءِ ، فَقَالَ : خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، مُتَبَذِّلا مُتَمَسْكِنًا مُتَضَرِّعًا مُتَوَاضِعًا ، وَلَمْ يَخْطُبْ خُطْبَتَكُمْ هَذِهِ ، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ كَمَا يُصَلِّي فِي الْعِيدِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ہشام بن اسحاق اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ ایک گورنر نے مجھے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس بھیجا تاکہ میں ان سے نمازِ استسقاء کے بارے میں دریافت کروں، تو انہوں نے بتایا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم معمولی کپڑوں میں عاجزی، انکساری اور تواضع کا اظہار کرتے ہوئے نکلے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تم لوگوں کی طرح خطبہ نہیں دیا بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعت نماز ادا کی جیسے عید کے موقع پر نماز ادا کرتے ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2862]

2863

Sahih Ibn Hibban #2863

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ الضَّرِيرُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ،لا يَرْفَعُ يَدَيْهِ فِي شَيْءٍ مِنَ الدُّعَاءِ إِلا فِي الاسْتِسْقَاءِ ، فَإِنَّهُ كَانَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ حَتَّى يُرَى بَيَاضُ إِبْطَيْهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دعا مانگتے ہوئے دونوں ہاتھ بلند نہیں کرتے تھے، البتہ بارش کی دعا مانگتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا کیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں ہاتھ اتنے بلند کیے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بغلوں کی سفیدی نظر آنے لگی تھی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2863]

2864

Sahih Ibn Hibban #2864

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْخَطَّابِ الْبَلَدِيُّ الزَّاهِدُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ ، عَنْ عَمِّهِ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَاسْتَسْقَى فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ ، وَجَهَرَ بِالْقِرَاءَةِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عباس بن تمیم اپنے چچا رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نمازِ استسقاء ادا کرتے ہوئے دو رکعات ادا فرمائی تھیں اور بلند آواز میں قرأت فرمائی تھی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2864]

2865

Sahih Ibn Hibban #2865

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ ، عَنْ عَمِّهِ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ،خَرَجَ يَسْتَسْقِي ، فَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ ، وَلَّى ظَهْرَهُ النَّاسَ ، وَقَلَبَ رِدَاءَهُ ، وَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ جَهَرَ فِيهِمَا بِالْقِرَاءَةِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عباس بن تمیم رحمہ اللہ اپنے چچا رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نمازِ استسقاء ادا کرنے کے لیے تشریف لے گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبلہ کی طرف رخ کیا اور پشت لوگوں کی طرف کر لی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چادر کو پلٹ دیا اور دو رکعات ادا کیں جن میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلند آواز میں قرأت کی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2865]

2866

Sahih Ibn Hibban #2866

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَبَّادُ بْنُ تَمِيمٍ الْمَازِنِيُّ ، أَنَّهُ سَمِعَ عَمَّهُ ، وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَوْمًا يَسْتَسْقِي ، فَحَوَّلَ إِلَى النَّاسِ ظَهْرَهُ ، وَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ وَحَوَّلَ رِدَاءَهُ وَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عباد بن تمیم رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے اپنے چچا رضی اللہ عنہ سے سنا جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ہیں، وہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نمازِ استسقاء ادا کرنے کے لیے تشریف لے گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کی طرف پشت کر لی اور قبلہ کی طرف رخ کیا، اور پھر چادر کو الٹایا اور دو رکعات ادا کیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2866]

2867

Sahih Ibn Hibban #2867

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الذُّهْلِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمْزَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ ، عَنْ عَمِّهِ ، قَالَ : اسْتَسْقَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَعَلَيْهِ خَمِيصَةٌ سَوْدَاءُ ، فَأَرَادَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنْ يَأْخُذَ بِأَسْفَلِهَا فَيَجْعَلُهُ أَعْلاهَا ، فَلَمَّا ثَقُلَتْ عَلَيْهِ قَلْبِهَا عَلَى عَاتِقِهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عباد بن تمیم رحمہ اللہ اپنے چچا رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بارش کی دعا مانگتے ہوئے سیاہ چادر اوڑھی ہوئی تھی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے نیچے والے حصے کو اوپر کرنا چاہا جب ایسا کرنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے دشوار ہوا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے کندھے پر ہی اسے الٹ دیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2867]

2868

Sahih Ibn Hibban #2868

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْجُنَيْدِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الأَخْنَسِ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : فَرَضَ اللَّهُ جَلَّ وَعَلا الصَّلاةَ عَلَى لِسَانِ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فِي الْحَضَرِ أَرْبَعًا ، وَفِي السَّفَرِ رَكْعَتَيْنِ ، وَفِي الْخَوْفِ رَكْعَةً """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ”اللہ تعالیٰ نے تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی نماز کا حکم فرض قرار دیا ہے، جو حضر میں چار رکعات ہوں گی، سفر میں دو رکعات ہوں گی اور خوف کے عالم میں ایک رکعت ہو گی۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2868]

2869

Sahih Ibn Hibban #2869

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ يَزِيدَ الْفَقِيرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَصَلَّى بِهِمْ صَلاةَ الْخَوْفِ ، فَقَامَ صَفٌّ بَيْنَ يَدَيْهِ ، وَصَفٌّ خَلْفَهُ ، فَصَلَّى بِهِمْ رَكْعَةً وَسَجْدَتَيْنِ ، وَجَاءَ أُولَئِكَ حَتَّى قَامُوا ، فَقَامَ هَؤُلاءِ فَصَلَّى بِهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، رَكْعَةً وَسَجْدَتَيْنِ ، فَكَانَتْ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَتَانِ ، وَلَهُمْ رَكْعَةٌ وَاحِدَةٌ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو نمازِ خوف پڑھائی، ایک صف آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے کھڑی ہو گئی اور ایک صف آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے کھڑی ہو گئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو ایک رکعت اور دو سجدے پڑھائے، پھر وہ لوگ آئے اور آ کر کھڑے ہو گئے اور یہ لوگ کھڑے رہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بھی ایک رکوع اور دو سجدے یعنی ایک رکعت پڑھائی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی دو رکعات ہوئیں اور ان میں سے ہر ایک کی ایک رکعت ہوئی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2869]

2870

Sahih Ibn Hibban #2870

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ السَّرِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الرُّكَيْنِ بْنِ الرَّبِيعِ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ حَسَّانَ ، قَالَ : أَتَيْتُ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ ، فَسَأَلْتُهُ عَنْ صَلاةِ الْخَوْفِ ، فَقَالَ : صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصَفٌّ خَلْفَهُ ، وَصَفٌّ بِإِزَاءِ الْعَدُوِّ ، فَصَلَّى بِهِمْ رَكْعَةً ، ثُمَّ ذَهَبُوا إِلَى مَصَافِّ إِخْوَانِهِمْ ، وَجَاءَ الآخَرُونَ فَصَلَّى بِهِمْ رَكْعَةً ، ثُمَّ سَلَّمَ ، فَكَانَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَتَانِ ، وَلِكُلِّ طَائِفَةٍ رَكْعَةٌ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

قاسم بن حسان بیان کرتے ہیں کہ میں سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور میں نے ان سے نمازِ خوف کے بارے میں دریافت کیا، انہوں نے بتایا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھائی، ایک صف آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے کھڑی ہو گئی اور ایک صف دشمن کے مقابلے میں کھڑی ہو گئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کو ایک رکعت پڑھائی، پھر یہ لوگ اپنے بھائیوں کی جگہ پر جا کر کھڑے ہو گئے اور دوسرے لوگ آ گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بھی ایک رکعت پڑھائی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیر دیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی دو رکعتیں ہوئیں اور ہر ایک گروہ کی ایک رکعت ہوئی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2870]

2871

Sahih Ibn Hibban #2871

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي الْجَهْمِ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ،صَلَّى بِذِي قَرَدٍ ، فَصَفَّ النَّاسُ خَلْفَهُ صَفَّيْنِ ، صَفٌّ خَلْفَهُ ، وَصَفٌّ مُوَازِي الْعَدُوِّ ، فَصَلَّى بِالصَّفِّ الَّذِي يَلِيهِ رَكْعَةً ، ثُمَّ رَجَعَ هَؤُلاءِ إِلَى مَصَافِّ هَؤُلاءِ ، وَجَاءَ هَؤُلاءِ إِلَى مَصَافِّ هَؤُلاءِ ، فَصَلَّى بِهِمْ رَكْعَةً ، وَلَمْ يَقْضُوا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے «ذِی قَرَد» کے مقام پر نماز پڑھائی، لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے دو صفیں بنا لیں، ایک صف آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے رہی اور دوسری صف دشمن کے مدمقابل رہی، جو صف آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب تھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ایک رکعت پڑھائی، پھر یہ لوگ اپنے ساتھیوں کی جگہ پر چلے گئے، وہ لوگ ان لوگوں کی جگہ پر آ گئے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بھی ایک رکعت پڑھائی اور ان لوگوں نے نماز کی قضا نہیں کی (یعنی دوسری رکعت ادا نہیں کی)۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2871]

2872

Sahih Ibn Hibban #2872

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْهُنَائِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ شَقِيقٍ الْعُقَيْلِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، نَزَلَ بَيْنَ ضُجْنَانَ وَعُسْفَانَ ، فَحَاصَرَ الْمُشْرِكِينَ ، قَالَ : فَقَالُوا : إِنَّ لِهَؤُلاءِ صَلاةً هِيَ أَحَبُّ إِلَيْهِمْ مِنْ أَبْنَائِهِمْ وَأَبْكَارِهِمْ يَعْنُونَ : الْعَصْرَ ، فَأَجْمِعُوا أَمْرَكُمْ ، ثُمَّ مِيلُوا عَلَيْهِمْ مَيْلَةً وَاحِدَةً ، قَالَ : فَجَاءَ جِبْرِيلُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ،فَأَمَرَهُ أَنْ يَقْسِمَ أَصْحَابَهُ شَطْرَيْنِ ، وَيُصَلِّيَ بِالطَّائِفَةِ الأُولَى رَكْعَةً ، وَيَأْخُذُ الطَّائِفَةُ الأُخْرَى حِذْرَهُمْ ، وَأَسْلِحَتَهُمْ ، فَإِذَا صَلَّى بِهِمْ رَكْعَةً تَأَخَّرُوا وَتَقَدَّمَ الآخَرُونَ ، فَصَلَّى بِهِمْ رَكْعَةً ، وَأَخَذَ هَؤُلاءِ الآخَرُونَ حِذْرَهُمْ وَأَسْلِحَتَهُمْ ، فَكَانَتْ لِكُلِّ طَائِفَةٍ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، رَكْعَةٌ رَكْعَةٌ "

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ضجنان اور عسفان کے درمیان پڑاؤ کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مشرکین کا محاصرہ کیا ہوا تھا، راوی کہتے ہیں: ان مشرکین نے یہ کہا: ”ان لوگوں کے نزدیک یہ نماز ان کے بیٹوں اور کنواریوں سے زیادہ محبوب ہے“ ان کی مراد عصر کی نماز تھی، ”تو تم لوگ تیاری رکھو اور ان پر ایک ہی مرتبہ حملہ کر دینا۔“ راوی کہتے ہیں: سیدنا جبرائیل علیہ السلام نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہا: ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ساتھیوں کو دو حصوں میں تقسیم کر دیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم پہلے گروہ کو ایک رکعت پڑھائیں اور دوسرا گروہ اپنے ہتھیار تیار رکھے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں ایک رکعت پڑھا دیں، تو وہ لوگ پیچھے ہٹ جائیں اور دوسرا گروہ آگے آ جائے، تو انہیں بھی ایک رکعت پڑھائیں، یہ لوگ اپنے ہتھیار اور ساز و سامان تیار رکھیں“ تو اس طرح ہر ایک گروہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں ایک ایک رکعت ادا کی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2872]

2873

Sahih Ibn Hibban #2873

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الأَزْهَرِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، صَلاةَ الْخَوْفِ بِذَاتِ الرِّقَاعِ " قَالَتْ : " فَصَدَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّاسَ صَدْعَيْنِ ، فَصَفَّتْ طَائِفَةٌ وَرَاءَهُ ، وَقَامَتْ طَائِفَةٌ ، وِجَاهَ الْعَدُوِّ " ، قَالَتْ : " فَكَبَّرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَكَبَّرَتِ الطَّائِفَةُ الَّذِينَ صَفُّوا خَلْفَهُ ، ثُمَّ رَكَعُوا وَرَكَعُوا ، ثُمَّ سَجَدَ وَسَجَدُوا ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَرَفَعُوا ، ثُمَّ مَكَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسًا ، وَسَجَدُوا لأَنْفُسِهِمِ السَّجْدَةَ الثَّانِيَةَ ، ثُمَّ قَامُوا فَنَكَصُوا عَلَى أَعْقَابِهِمْ يَمْشُونَ الْقَهْقَرَى ، حَتَّى قَامُوا مِنْ وَرَائِهِمْ ، وَأَقْبَلَتِ الطَّائِفَةُ الأُخْرَى فَصَفُّوا خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَكَبِّرُوا ، ثُمَّ رَكَعُوا لأَنْفُسِهِمْ ، ثُمَّ سَجَدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، السَّجْدَةَ الثَّانِيَةَ فَسَجَدُوا مَعَهُ ، ثُمَّ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، مِنْ رَكْعَتِهِ وَسَجَدُوا لأَنْفُسِهِمِ السَّجْدَةَ الثَّانِيَةَ ، ثُمَّ قَامَتِ الطَّائِفَتَانِ جَمِيعًا ، فَصَفُّوا خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَرَكَعَ بِهِمْ رَكْعَةً وَرَكَعُوا جَمِيعًا ، ثُمَّ سَجَدَ فَسَجَدُوا جَمِيعًا ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَرَفَعُوا مَعَهُ ، كُلُّ ذَلِكَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، سَرِيعًا جِدًّا ، لا يَأْلُو أَنْ يُخَفِّفَ مَا اسْتَطَاعَ ، ثُمَّ سَلَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَلَّمُوا ، ثُمَّ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَدْ شَرَكَهُ النَّاسُ فِي صَلاتِهِ كُلِّهَا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ذاتِ رقاع کے مقام پر نمازِ خوف ادا کی تھی، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو دو گروہوں میں تقسیم کر دیا، ایک گروہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے کھڑا ہو گیا اور دوسرا گروہ دشمن کے مقابلے میں کھڑا ہو گیا؛ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تکبیر کہی تو جس گروہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے صف بنائی ہوئی تھی ان لوگوں نے بھی تکبیر کہی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم رکوع میں گئے تو وہ لوگ بھی رکوع میں گئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدے میں گئے تو وہ لوگ بھی سجدے میں گئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سر اٹھایا تو وہ لوگ بھی اٹھ گئے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی جگہ بیٹھے رہے اور ان لوگوں نے خود ہی دوسری مرتبہ سجدہ کیا اور پھر وہ لوگ کھڑے ہو گئے، اپنی ایڑیوں کے بل چلتے ہوئے پیچھے چلے گئے یہاں تک کہ وہ پیچھے جا کر کھڑے ہو گئے اور دوسرا گروہ آگے آ گیا، انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے صف بنا لی، ان لوگوں نے تکبیر کہی پھر ان لوگوں نے بذاتِ خود ایک رکعت ادا کی، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسرا سجدہ کیا تو انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ سجدہ کیا، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس رکعت سے کھڑے ہو گئے، ان لوگوں نے دوسرا سجدہ بذاتِ خود کیا، پھر دونوں گروہ کھڑے ہو گئے، ان لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے صف بنا لی، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رکوع میں گئے تو وہ سب بھی رکوع میں چلے گئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدے میں گئے تو وہ سب بھی سجدے میں چلے گئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سر اٹھایا تو ان لوگوں نے بھی سر اٹھا لیا، ان میں سے ہر ایک عمل کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انتہائی تیزی سے کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حوالے سے کوئی کوتاہی نہیں کی، جہاں تک ہو سکے مختصر طور پر (رکوع اور سجدہ کیا)، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا تو ان لوگوں نے بھی سلام پھیر دیا، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے تو تمام لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز میں شرکت کی تھی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2873]

2874

Sahih Ibn Hibban #2874

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَصَلَّى بِأَصْحَابِهِ صَلاةَ الْخَوْفِ ، فَرَكَعَ بِهِمَا جَمِيعًا ، ثُمَّ سَجَدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَالصَّفُّ الَّذِي يَلُونَهُ وَالآخَرُونَ قِيَامٌ حَتَّى نَهَضَ ، ثُمَّ سَجَدَ أُولَئِكَ بِأَنْفُسِهِمْ سَجْدَتَيْنِ ، ثُمَّ تَأَخَّرَ الصَّفُّ الْمُتَقَدِّمُ فَرَكَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَالصَّفُّ الَّذِينَ يَلُونَهُ ، فَلَمَّا رَفَعُوا رُؤُوسَهُمْ ، سَجَدَ أُولَئِكَ سَجْدَتَيْنِ كُلُّهُمْ قَدْ رَكَعَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَسَجَدَتْ لأَنْفُسِهِمْ سَجْدَتَيْنِ ، وَكَانَ الْعَدُوُّ مِمَّا يَلِي الْقِبْلَةَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب کو نمازِ خوف پڑھائی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سب کے ساتھ رکوع کیا، پھر جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سجدے میں گئے تو وہ سب بھی سجدے میں گئے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب موجود تھے جبکہ دوسرے لوگ کھڑے رہے، پھر جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے تو ان لوگوں نے بذاتِ خود دو مرتبہ سجدہ کیا، پھر آگے والی صف پیچھے ہٹ گئی، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رکوع میں گئے تو وہ صف بھی رکوع میں گئی جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب کھڑی ہوئی تھی، ان لوگوں نے اپنا سر اٹھایا اور ان لوگوں نے دو سجدے کیے، تو ان سب نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ رکوع کیا، ان سب لوگوں نے بذاتِ خود دو سجدے کیے، اس وقت دشمن قبلہ کی سمت میں موجود تھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2874]

2875

Sahih Ibn Hibban #2875

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ أَبِي عَيَّاشٍ الزُّرَقِيِّ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعُسْفَانَ ، وَالْمُشْرِكُونَ بِضُجْنَانَ ، فَلَمَّاصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ رَآهُ الْمُشْرِكُونَ يَرْكَعُ وَيَسْجُدُ ، فَأْتَمَرُوا عَلَى أَنْ يُغِيرُوا عَلَيْهِ ، فَلَمَّا حَضَرَتِ الْعَصْرُ صَفَّ النَّاسُ خَلْفَهُ صَفَّيْنِ ، فَكَبَّرَ وَكَبَّرُوا جَمِيعًا ، وَرَكَعَ وَرَكَعُوا جَمِيعًا ، وَسَجَدَ وَسَجَدَ الصَّفُّ الَّذِينَ يَلُونَهُ ، وَقَامَ الصَّفُّ الثَّانِي بِسِلاحِهِمْ مُقْبِلِينَ عَلَى الْعَدُوِّ بِوُجُوهِهِمْ ، فَلَمَّا رَفَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأْسَهُ ، سَجَدَ الصَّفُّ الثَّانِي فَلَمَّا رَفَعُوا رُؤوسَهُمْ رَكَعَ وَرَكَعُوا جَمِيعًا ، وَسَجَدَ وَسَجَدَ الصَّفُّ الَّذِينَ يَلُونَهُ ، وَقَامَ الصَّفُّ الثَّانِي بِسِلاحِهِمْ مُقْبِلِينَ عَلَى الْعَدُوِّ بِوُجُوهِهِمْ ، فَلَمَّا رَفَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، رَأْسَهُ سَجَدَ الصَّفُّ الثَّانِي "، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : أَبُو عَيَّاشٍ الزُّرَقِيُّ اخْتُلِفَ فِي اسْمِهِ ، مِنْهُمْ مَنْ قَالَ : إِنَّهُ زَيْدُ بْنُ النُّعْمَانِ ، وَمِنْهُمْ مَنْ قَالَ : إِنَّهُ زَيْدُ بْنُ الصَّامِتِ ، وَمِنْهُمْ مَنْ قَالَ : عُبَيْدُ بْنُ مُعَاوِيَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ : عُبَيْدُ بْنُ مُعَاذِ بْنِ الصَّامِتِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوعیاش زرقی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عسفان کے مقام پر موجود تھے، جبکہ مشرکین ضجنان کے مقام پر موجود تھے۔ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر کی نماز ادا کی تو مشرکین نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو رکوع اور سجدہ کرتے دیکھا تو انہوں نے آپس میں یہ مشورہ کیا کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر حملہ کر دیں گے۔ جب عصر کی نماز کا وقت ہوا، تو لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے دو صفیں بنا لیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تکبیر کہی تو سب لوگوں نے بھی تکبیر کہی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع کیا، تو سب لوگوں نے رکوع کیا۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سجدے میں گئے، تو وہ صف سجدے میں گئی جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب کھڑی ہوئی تھی اور دوسری صف اپنے ہتھیار لے کر دشمن کی طرف رخ کر کے کھڑی رہی۔ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سر اٹھایا، تو دوسری صف نے بھی سجدہ کر لیا۔ جب ان لوگوں نے اپنا سر اٹھا لیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع کیا، تو ان سب لوگوں نے رکوع کیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ کیا، تو اس صف نے سجدہ کیا جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب کھڑی ہوئی تھی اور دوسری صف اپنے ہتھیار لے کر دشمن کی طرف رخ کر کے کھڑی رہی۔ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سر اٹھایا، تو دوسری صف نے بھی سجدہ کیا۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) ابوعیاش زرقی نامی راوی کے نام کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ بعض حضرات نے یہ کہا ہے کہ ان کا نام زید بن نعمان ہے اور بعض حضرات نے یہ کہا ہے کہ زید بن صامت ہے۔ بعض نے یہ کہا ہے کہ عبید بن معاویہ بن صامت ہے جبکہ بعض نے یہ کہا ہے کہ عبید بن معاذ بن صامت ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2875]

2876

Sahih Ibn Hibban #2876

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو عَيَّاشٍ الزُّرَقِيُّ ، قَالَ : كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعُسْفَانَ وَعَلَى الْمُشْرِكِينَ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ ، قَالَ : فَصَلَّيْنَا الظُّهْرَ ، فَقَالَ الْمُشْرِكُونَ : لَقَدْ كَانُوا عَلَى حَالٍ لَوْ أَرَدْنَا لأَصَبْنَاهُمْ غُرَّةً ، أَوْ لأَصَبْنَاهُمْ غَفْلَةً ، قَالَ : فَأُنْزِلَتْ آيَةُ الْقَصْرِ ، بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ ،فَأَخَذَ النَّاسُ السِّلاحَ ، وَصَفُّوا خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، صَفَّيْنِ مُسْتَقْبِلِي الْعَدُوِّ ، وَالْمُشْرِكُونَ مُسْتَقْبِلَوهُمْ ، فَكَبَّرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَكَبَّرُوا جَمِيعًا ، وَرَكَعَ وَرَكَعُوا جَمِيعًا ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ وَرَفَعُوا جَمِيعًا ، ثُمَّ سَجَدَ وَسَجَدَ الصَّفُّ الَّذِي يَلِيهِ ، وَقَامَ الأَخَرُ يَحْرُسُونَهُمْ ، فَلَمَّا فَرَغَ هَؤُلاءِ مِنْ سُجُودِهِمْ سَجَدَ هَؤُلاءِ ، ثُمَّ نَكَصَ الصَّفُّ الَّذِي يَلِيهِ ، وَتَقَدَّمَ الآخَرُونَ فَقَامُوا مَقَامَهُمْ ، فَرَكَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَكَعُوا جَمِيعًا ، ثُمَّ رَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَرَفَعُوا جَمِيعًا ، ثُمَّ سَجَدَ وَسَجَدَ الصَّفُّ الَّذِي يَلِيهِ ، وَقَامَ الآخَرُونَ يَحْرُسُونَهُمْ ، فَلَمَّا فَرَغَ هَؤُلاءِ مِنْ سُجُودِهِمْ سَجَدَ الآخَرُونَ ، ثُمَّ اسْتَوُوا مَعَهُ فَقَعَدُوا جَمِيعًا ، ثُمَّ سَلَّمَ عَلَيْهِمْ جَمِيعًا ، صَلاهَا بِعُسْفَانَ وَصَلاهَا يَوْمَ بَنِي سُلَيْمٍ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوعیاش زرقی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ عسفان کے مقام پر موجود تھے، مشرکین کے سالار خالد بن ولید تھے۔ راوی کہتے ہیں: ہم نے ظہر کی نماز ادا کی، مشرکین نے یہ کہا کہ یہ لوگ ایسی حالت میں تھے اگر ہم چاہتے تو ان پر حملہ کر سکتے تھے (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں:) ان کی غفلت میں ان پر حملہ کر سکتے تھے۔ راوی کہتے ہیں: ظہر اور عصر کے درمیان قصر نماز کے حکم سے متعلق آیت نازل ہو گئی، لوگوں نے اپنے ہتھیار پکڑ لیے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے صف بنا لی، انہوں نے دو صفیں بنائیں، ان کا رُخ دشمن کی طرف تھا اور مشرکین کا رخ ان کی طرف تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تکبیر کہی، ان سب لوگوں نے تکبیر کہی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع کیا، ان سب لوگوں نے رکوع کیا، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سر اٹھایا، تو ان سب نے سر اٹھایا، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ کیا، تو اس صف نے سجدہ کیا جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب موجود تھی اور دوسرے لوگ ان کی حفاظت کرتے رہے، جب یہ لوگ سجدہ کر کے فارغ ہوئے، تو ان لوگوں نے سجدہ کیا، پھر وہ والی صف پیچھے ہٹ گئی جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب موجود تھی، دوسرے لوگ آگے آ گئے اور ان لوگوں کی جگہ پر کھڑے ہو گئے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع کیا، تو ان سب لوگوں نے رکوع کیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سر اٹھایا، تو ان سب نے سر اٹھایا، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ کیا، تو اس صف نے سجدہ کیا جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب موجود تھی اور دوسرے لوگ کھڑے ان کی حفاظت کرتے رہے، جب یہ لوگ سجدہ کر کے فارغ ہوئے، تو دوسرے لوگوں نے سجدہ کیا، پھر یہ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ سیدھے ہوئے اور یہ سب لوگ بیٹھ گئے، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سب سمیت سلام پھیرا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عسفان کے مقام پر یہ نماز پڑھائی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو سلیم کے ساتھ مقابلے کے دن یہ نماز پڑھائی تھی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2876]

2877

Sahih Ibn Hibban #2877

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ : غَزَوْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَوْمًا مِنْ جُهَيْنَةَ ، فَقَاتَلُوا قِتَالا شَدِيدًا ، فَلَمَّا صَلَّيْنَا الظُّهْرَ ، قَالُوا : لَوْ مِلْنَا عَلَيْهِمْ مَيْلَةً قَطَعْنَاهُمْ ، فَأَخْبَرَ جِبْرِيلُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، بِذَلِكَ فَذَكَرَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ذَلِكَ ، فَقَالَ : قَالُوا : بَيْنَنَا وَبَيْنَهُمْ صَلاةٌ هِيَ أَحَبُّ إِلَيْهِمْ مِنَ الأُولَى ، فَلَمَّا حَضَرَتِ الصَّلاةُ ، صَفَفْنَا صَفَّيْنِ وَالْمُشْرِكُونَ بَيْنَنَا وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ ، فَكَبَّرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَبَّرْنَا مَعَهُ ، فَرَكَعَ وَرَكَعْنَا مَعَهُ ، وَسَجَدَ وَسَجَدَ الصَّفُّ الأَوْلُ مَعَهُ ، فَلَمَّا قَامَ سَجَدَ الصَّفُّ الثَّانِي ، ثُمَّ تَقَدَّمُوا فَقَامُوا مَقَامَ الصَّفِّ الأَوْلِ وَتَأَخَّرَ الصَّفُّ الأَوْلُ ، فَكَبَّرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَبَّرْنَا مَعَهُ ، ثُمَّ رَكَعَ وَرَكَعْنَا مَعَهُ ، ثُمَّ سَجَدَ وَسَجَدَ الصَّفُّ الأَوْلُ مَعَهُ ، ثُمَّ قَعَدَ فَسَجَدَ الصَّفُّ الثَّانِي ، ثُمَّ جَلَسُوا جَمِيعًا ، فَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "، قَالَ أَبُو الزُّبَيْرِ : عَنْ جَابِرٍ كَمَا يُصَلِّي أُمَرَاؤُكُمْ هَؤُلاءِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ جہینہ قبیلے کے گروہ کے خلاف جنگ میں حصہ لیا، انہوں نے انتہائی شدید لڑائی کی۔ جب ہم ظہر کی نماز ادا کرنے لگے، تو انہوں نے کہا: اگر ہم ایک ہی مرتبہ ان پر حملہ کر دیں، تو ہم انہیں ختم کر دیں گے۔ سیدنا جبرائیل علیہ السلام نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بارے میں بتا دیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے سامنے اس بات کا تذکرہ کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا: ”وہ لوگ کہہ رہے ہیں، ہمارے اور ان کے درمیان یہ نماز ہے، جو ان کے نزدیک ہر چیز سے زیادہ محبوب ہے۔“ جب نماز کا وقت ہوا، تو ہم نے دو صفیں بنا لیں، مشرکین ہمارے اور قبلہ کے درمیان تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تکبیر کہی، ہم نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتدا میں تکبیر کہی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم رکوع میں گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ہم بھی رکوع میں گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ کیا، تو پہلی صف نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ سجدہ کیا، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو گئے، تو دوسری صف نے سجدہ کیا، پھر وہ لوگ آگے بڑھ گئے اور پہلی صف والوں کی جگہ آ کر کھڑے ہو گئے، پہلی صف والے پیچھے ہٹ گئے، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تکبیر کہی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ہم نے بھی تکبیر کہی، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ہم نے بھی رکوع کیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ پہلی صف والوں نے سجدہ کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ گئے، پھر دوسری صف والوں نے سجدہ کیا، پھر یہ سب لوگ بیٹھ گئے اور پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سب سمیت سلام پھیرا۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) ابوزبیر نامی راوی نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں جس طرح تمہارے یہ امراء نماز ادا کرتے ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2877]