Sahih Ibn Hibban #2838
ثُمَّ قَالَ : لَقَدْعُرِضَتْ عَلَيَّ الْجَنَّةُ حَتَّى لَوْ شِئْتُ لَتَعَاطَيْتُ قِطْفًا مِنْ قُطُوفِهَا ، وَعُرِضَتْ عَلَيَّ النَّارُ ، حَتَّى جَعَلْتُ أَتَّقِيهَا حَتَّى خَشِيتُ أَنْ تَغْشَاكُمْ ، فَجَعَلْتُ أَقُولُ : أَلَمْ تَعِدْنِي أَنْ لا تُعَذِّبَهُمْ وَأَنَا فِيهِمْ ، رَبِّ أَلَمْ تَعِدْنِي أَنْ لا تُعَذِّبَهُمْ وَهُمْ يَسْتَغْفِرِونَكَ " ، قَالَ : " فَرَأَيْتُ فِيهَا الْحَمَيرِيَةَ السَّوْدَاءَ صَاحِبَةَ الْهِرَّةِ كَانَتْ حَبَسَتْهَا ، فَلَمْ تُطْعِمْهَا وَلَمْ تَسْقِهَا ، وَلَمْ تَتْرُكْهَا تَأْكُلُ مِنْ خَشَاشِ الأَرْضِ ، فَرَأَيْتُهَا كُلَّمَا أَدْبَرَتْ نُهِشَتْ فِي النَّارِ ، وَرَأَيْتُ فِيهَا صَاحِبَ بَدَنَتَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَخَا دَعْدَعٍ ، يُدْفَعُ فِي النَّارِ بِقَضِيبَيْنِ ذِي شُعْبَتَيْنِ ، وَرَأَيْتُ صَاحِبَ الْمِحْجَنِ ، فَرَأَيْتُهُ فِي النَّارِ عَلَى مِحْجَنِهِ مُتَوَكِّئًا """
اردو ترجمہ · UrduUnverified translation
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں سورج گرہن ہو گیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز ادا کرنے کے لیے کھڑے ہوئے، یوں محسوس ہوتا تھا جیسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم رکوع میں جائیں گے ہی نہیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم رکوع میں چلے گئے تو یوں محسوس ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سر کو اٹھائیں گے ہی نہیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سر کو اٹھایا اور گریہ و زاری اور رونا شروع کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ فرما رہے تھے: ”اے میرے پروردگار! کیا تو نے مجھ سے یہ وعدہ نہیں کیا تھا کہ تو ان لوگوں کو اس وقت تک عذاب نہیں دے گا جب تک میں ان کے درمیان موجود ہوں؟ کیا تو نے مجھ سے یہ وعدہ نہیں کیا تھا کہ تو ان لوگوں کو اس وقت تک عذاب نہیں دے گا جب تک ہم تجھ سے مغفرت طلب کرتے رہیں گے؟“ ﴿وَمَا كَانَ اللَّهُ لِيُعَذِّبَهُمْ وَأَنْتَ فِيهِمْ ۚ وَمَا كَانَ اللَّهُ مُعَذِّبَهُمْ وَهُمْ يَسْتَغْفِرُونَ﴾ [سورة الأنفال: 33] جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز ادا کر لی تو سورج روشن ہو گیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی اور یہ بات ارشاد فرمائی: ”بے شک سورج اور چاند اللہ تعالیٰ کی دو نشانیاں ہیں، جب یہ دونوں گرہن ہو جائیں تو اللہ کے ذکر کی طرف جاؤ۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ارشاد فرمایا: ”میرے سامنے جنت کو پیش کیا گیا یہاں تک کہ اگر میں چاہتا تو اس کا کوئی گچھا حاصل کر سکتا تھا اور میرے سامنے جہنم کو پیش کیا گیا یہاں تک کہ میں نے اس سے بچنے کی کوشش کی، مجھے یہ اندیشہ ہوا کہیں وہ تمہیں اپنی لپیٹ میں نہ لے، تو میں نے یہ کہنا شروع کیا: اے میرے پروردگار! کیا تو نے مجھ سے یہ وعدہ نہیں کیا تھا کہ تو اس وقت تک عذاب نہیں دے گا جب تک میں ان کے درمیان موجود ہوں؟ اے میرے پروردگار! کیا تو نے مجھ سے یہ وعدہ نہیں کیا تھا کہ تو انہیں اس وقت تک عذاب نہیں دے گا جب تک ہم تجھ سے مغفرت طلب کرتے رہیں گے۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے اس میں ایک سیاہ فام حمیری عورت کو دیکھا جو بلی کی مالک تھی، اس نے اس بلی کو باندھ دیا تھا اور اسے کھانے کے لیے کچھ نہیں دیتی تھی اور پینے کے لیے کچھ نہیں دیتی تھی، اس نے اسے چھوڑا بھی نہیں تھا کہ وہ خود ہی کچھ کھا لیتی، تو میں نے اس عورت کو دیکھا، وہ جب بھی آتی تھی اس کے چہرے کو نوچ لیا جاتا تھا، میں نے جہنم میں (دعدع قبیلے سے تعلق رکھنے والے) اس شخص کو بھی دیکھا جو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے قربانی کے دو جانوروں کا نگران تھا، اسے دو کناروں والی دو ڈنڈیوں کے ذریعے جہنم میں ڈالا جا رہا تھا، میں نے لاٹھی والے شخص کو بھی دیکھا، میں نے اسے جہنم میں دیکھا، وہ اپنی لاٹھی سے ٹیک لگائے ہوئے تھا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2838]