Muslim99Muslim99

Sahih Ibn Hibban · Book 25 · Chapter 3

Book of Lost and Found

Hadith 2804–2837

34 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

2804

Sahih Ibn Hibban #2804

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الثَّقَفِيُّ ، حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ خَيْثَمَةَ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ ، قَالَ : قَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : اتَّقُوا النَّارَ " ، ثُمَّ أَعْرَضَ وَأَشَاحَ قَالَ : ثُمَّ قَالَ : " اتَّقُوا النَّارَ " ، ثُمَّ أَعْرَضَ وَأَشَاحَ حَتَّى رَأَيْنَا أَنَّهُ يَرَاهَا ، ثُمَّ قَالَ :" اتَّقُوا النَّارَ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ ، فَإِنْ لَمْ تَجِدُوا ، فَبِكَلِمَةٍ طَيْبَةٍ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور آپ نے ارشاد فرمایا: ”جہنم سے بچنے کی کوشش کرو۔“ پھر آپ نے اپنا منہ پھیر لیا اور خود کو بچانے کی کوشش کی، پھر آپ نے ارشاد فرمایا: ”تم جہنم سے بچو۔“ پھر آپ نے اپنا منہ پھیر لیا اور اپنے آپ کو بچانے کی کوشش کی، یہاں تک کہ ہمیں یوں محسوس ہوا جیسے آپ اسے دیکھ رہے ہیں اور آپ نے ارشاد فرمایا: ”جہنم سے بچنے کی کوشش کرو، خواہ وہ نصف کھجور کے ذریعے ہو، اگر یہ بھی نہیں ملتی، تو پاکیزہ بات کے ذریعے (جہنم سے بچنے کی کوشش کرو)۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2804]

2805

Sahih Ibn Hibban #2805

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ ، وَشَيْبَانُ ، قَالا : حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنِ أنَسٍ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ،يَنْزِلُ مِنَ الْمِنْبَرِ ، فَتُقَامُ الصَّلاةُ ، فَيَجِيءُ إِنْسَانٌ ، فَيُكَلِّمُهُ فِي حَاجَةٍ ، فَيَقُومُ مَعَهُ حَتَّى يَقْضِيَ حَاجَتَهُ ، ثُمَّ يَتَقَدَّمُ فَيُصَلِّي """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم منبر سے نیچے اترے، نماز کے لیے اقامت کہی جا چکی تھی، ایک شخص آیا اور اپنے کسی کام کے سلسلے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بات چیت کرنے لگا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس کے ساتھ کھڑے رہے یہاں تک کہ اس شخص نے اپنی حاجت مکمل کر لی، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم آگے بڑھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھائی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2805]

2806

Sahih Ibn Hibban #2806

أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ دَاوُدَ بْنِ وَرْدَانَ بِالْفُسْطَاطِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ الْهَيْثَمِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ ، قَالَ : قُلْتُ لأَبِي هُرَيْرَةَ : إِنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِ ، إِذْ كَانَ بِالْعِرَاقِ ،يَقْرَأُ فِي صَلاةِ الْجُمُعَةِ سُورَةَ الْجُمُعَةِ ، و إِذَا جَاءَكَ الْمُنَافِقُون سورة المنافقون آية 1 َ ، فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : كَذَلِكَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَرَأَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

امام جعفر صادق رحمہ اللہ اپنے والد (امام محمد باقر رحمہ اللہ) کے حوالے سے نقل کرتے ہیں، عبید اللہ بن ابورافع بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہا کہ سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ جب عراق میں تھے، تو وہ جمعہ کی نماز میں سورۃ الجمعہ اور سورۃ المنافقون کی تلاوت کیا کرتے تھے، تو سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بھی اسی طرح تلاوت کیا کرتے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2806]

2807

Sahih Ibn Hibban #2807

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ ضَمْرَةَ بْنِ سَعِيدٍ الْمَازِنِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، أَنَّ الضَّحَّاكَ بْنَ قَيْسٍ ، سَأَلَ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ : مَاذَا كَانَ يَقْرَأُ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ،يَوْمَ الْجُمُعَةِ عَلَى إِثْرِ سُورَةِ الْجُمُعَةِ ؟ فَقَالَ : كَانَ يَقْرَأُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِ هَلْ أَتَاكَ حَدِيثُ الْغَاشِيَةِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبید اللہ بن عبد اللہ بیان کرتے ہیں کہ ضحاک بن قیس نے سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما سے سوال کیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن سورہ جمعہ کے بعد کون سی سورت کی تلاوت کرتے تھے؟ تو انہوں نے بتایا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سورہ غاشیہ کی تلاوت کرتے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2807]

2808

Sahih Ibn Hibban #2808

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ مَعْبَدِ بْنِ خَالِدٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ سَمُرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، كَانَيَقْرَأُ فِي صَلاةِ الْجُمُعَةِ بِ سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الأَعْلَى ، وَ هَلْ أَتَاكَ حَدِيثُ الْغَاشِيَةِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کی نماز میں سورہ الأعلىٰ اور سورہ الغاشیہ کی تلاوت کرتے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2808]

2809

Sahih Ibn Hibban #2809

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الشَّرْقِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الأَزْهَرِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ ، عَنِ أنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : كُنَّانُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، الْجُمُعَةَ ، ثُمَّ نَرْجِعُ ، فَنَقِيلُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتدا میں جمعہ کی نماز ادا کرتے تھے، پھر ہم واپس جا کر قیلولہ کرتے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2809]

2810

Sahih Ibn Hibban #2810

أَخْبَرَنَا ابْنُ زُهَيْرٍ بِتُسْتَرَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ أَبِي بُكَيْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي بُكَيْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنِ أنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : كُنَّانَقِيلُ بَعْدَ الْجُمُعَةِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم جمعہ کے بعد قیلولہ کیا کرتے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2810]

2811

Sahih Ibn Hibban #2811

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا ثَوْرُ بْنُ يَزِيدَ ، حَدَّثَنَا رَاشِدُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ لُحَيٍّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُرْطٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَفْضَلُ الأَيَّامِ عِنْدَ اللَّهِ يَوْمُ النَّحْرِ ، وَيَوْمُ الْقَرِّ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن قرط رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے افضل دن قربانی کا دن ہے اور اس سے اگلا دن ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2811]

2812

Sahih Ibn Hibban #2812

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ثَوَابُ بْنُ عُتْبَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، كَانَلا يَخْرُجُ يَوْمَ الْفِطْرِ حَتَّى يَطْعَمَ ، وَلا يَطْعَمُ يَوْمَ النَّحْرِ حَتَّى يَنْحَرَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن بریدہ اپنے والد (سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ) کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عیدالفطر کے دن اس وقت تک (گھر سے) تشریف نہیں لے جاتے تھے جب تک کچھ کھا نہیں لیتے تھے اور قربانی کے دن اس وقت تک کچھ نہیں کھاتے تھے جب تک قربانی نہیں کر لیتے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2812]

2813

Sahih Ibn Hibban #2813

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَيُفْطِرُ عَلَى تَمَرَاتٍ ، ثُمَّ يَغْدُو """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم (عید الفطر) کے دن کھجوریں کھا کر پھر (عید گاہ کی طرف) تشریف لے جاتے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2813]

2814

Sahih Ibn Hibban #2814

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الثَّقَفِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ سَهْلِ بْنِ الْمُغِيرَةِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُتْبَةُ بْنُ حُمَيْدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَنَسٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ : مَا خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَوْمَ فِطْرٍ حَتَّى يَأْكُلَ تَمَرَاتٍ ثَلاثًا ، أَوْ خَمْسًا ، أَوْ سَبْعًا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عیدالفطر کے دن اس وقت تک تشریف نہیں لے جاتے تھے جب تک تین یا پانچ یا سات کھجوریں نہیں کھا لیتے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2814]

2815

Sahih Ibn Hibban #2815

أَخْبَرَنَا ابْنُ خُزَيْمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مَعْبَدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ،إِذَا خَرَجَ إِلَى الْعِيدَيْنِ رَجَعَ فِي غَيْرِ الطَّرِيقِ الَّذِي خَرَجَ مِنْهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب عیدین کے لیے تشریف لے جاتے تھے، تو واپسی پر اس سے مختلف راستے سے آتے تھے جس سے آپ گئے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2815]

2816

Sahih Ibn Hibban #2816

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ ، عَنْ حَفْصَةَ ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ ، قَالَتْ : أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْنُخْرِجَهُنَّ يَوْمَ الْفِطْرِ ، وَيَوْمَ الأَضْحَى ، يَعْنِي : أَبْكَارَ الْعَوَاتِقِ ، وَذَوَاتِ الْخُدُورِ ، وَالْحُيَّضَ ، فَقُلْتُ : أَرَأَيْتَ إِحْدَاهُنَّ لا يَكُونُ لَهَا جِلْبَابٌ ؟ قَالَ : فَتُلْبِسُهَا أُخْتُهَا مِنْ جِلْبَابِهَا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں یہ حکم دیا تھا: ”ہم عیدالفطر کے دن اور عیدالاضحی کے دن خواتین کو بھی ساتھ لے جائیں یعنی کنواری لڑکیوں کو بھی اور پردہ دار خواتین کو بھی اور حیض والی خواتین کو بھی۔“ (سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں) میں نے عرض کی: آپ کا کیا خیال ہے اگر کسی عورت کے پاس چادر نہ ہو؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو اس کی بہن اپنی چادر میں سے اسے بھی اوڑھا دے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2816]

2817

Sahih Ibn Hibban #2817

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى الْوَاسِطِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ ، عَنْ حَفْصَةَ ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ ، قَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ،يُخْرِجُ الْعَوَاتِقَ ، وَذَوَاتِ الْخُدُورِ ، وَالْحُيَّضَ يَوْمَ الْعِيدِ ، فَأَمَّا الْحُيَّضُ ، فَيَعْتَزِلْنَ الْمُصَلَّى ، وَيَشْهَدْنَ الْخَيْرَ وَدَعْوَةَ الْمُسْلِمِينَ ، فَقَالَتْ إِحْدَاهُنَّ : فَإِنْ لَمْ يَكُنْ لإِحْدَانَا جِلْبَابٌ ؟ قَالَ : لِتُعِرْهَا جِلْبَابِهَا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عید کے دن کنواری لڑکیوں، پردہ دار خواتین اور حیض والی خواتین کو بھی (عیدگاہ کی طرف) لے جاتے تھے، جہاں تک حیض والی خواتین کا تعلق ہے وہ نماز سے الگ رہتی تھیں، وہ بھلائی اور مسلمانوں کی دعا میں شریک ہوتی تھیں۔ کسی خاتون نے عرض کی: اگر ہم میں سے کسی کے پاس چادر نہ ہو؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی دوسری عورت اسے اپنی چادر دے دے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2817]

2818

Sahih Ibn Hibban #2818

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي عَوْنٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ،خَرَجَ يَوْمَ فِطْرٍ ، أَوْ أَضْحًى ، فَصَلَّى بِالنَّاسِ رَكْعَتَيْنِ ، ثُمَّ انْصَرَفَ ، وَلَمْ يُصَلِّ قَبْلَهَا وَلا بَعْدَهَا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عید الفطر یا شاید عید الاضحی کے دن تشریف لے گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو دو رکعات پڑھائیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز مکمل کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پہلے یا اس کے بعد کوئی (نفل نماز) ادا نہیں کی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2818]

2819

Sahih Ibn Hibban #2819

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ : صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعِيدَ غَيْرَ مَرَّةٍ ، وَلا مَرَّتَيْنِ بِغَيْرِ أَذَانٍ وَلا إِقَامَةٍ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتدا میں عید کی نماز ایک یا دو مرتبہ سے زیادہ ادا کی ہے، وہ کسی اذان اور اقامت کے بغیر ادا کی جاتی تھی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2819]

2820

Sahih Ibn Hibban #2820

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ ضَمْرَةَ بْنِ سَعِيدٍ الْمَازِنِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ سَأَلَ أَبَا وَاقِدٍ اللَّيْثِيَّ : مَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ،يَقْرَأُ فِي الْفِطْرِ وَالأَضْحَى ؟ قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ بِ ق وَالْقُرْآنِ الْمَجِيدِ ، و اقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَانْشَقَّ الْقَمَرُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبیداللہ بن عبداللہ بیان کرتے ہیں: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابو واقد لیثی رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عید الفطر اور عید الاضحی کے دن کون سی سورت کی تلاوت کرتے تھے؟ انہوں نے بتایا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سورہ الکہف اور سورہ ﴿اقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ﴾ [سورة القمر: 1] کی تلاوت کرتے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2820]

2821

Sahih Ibn Hibban #2821

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْجُنَيْدِ ، قَالَ : قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْتَشِرِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ سَالِمٍ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ،يَقْرَأُ فِي الْعِيدَيْنِ : بِ سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الأَعْلَى ، وَ هَلْ أَتَاكَ حَدِيثُ الْغَاشِيَةِ "

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عیدین میں سورہ الاعلیٰ اور سورہ غاشیہ کی تلاوت کرتے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2821]

2822

Sahih Ibn Hibban #2822

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، عَنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْتَشِرِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ سَالِمٍ ، مَوْلَى النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فِي الْجُمُعَةِ بِ سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الأَعْلَى ، وَ هَلْ أَتَاكَ حَدِيثُ الْغَاشِيَةِ ، فَإِذَا اجْتَمَعَ الْعِيدُ وَالْجُمُعَةُ فِي يَوْمٍ وَاحِدٍ ، قَرَأَ بِهِمَا جَمِيعًا فِي الْجُمُعَةِ وَالْعِيدِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن جمعہ کی نماز میں ﴿سورة الأعلى﴾ اور ﴿سورة الغاشية﴾ کی تلاوت کرتے تھے اور جب عید اور جمعہ ایک ہی دن آ جاتے تو جمعہ اور عید دونوں نمازوں میں انہی دو سورتوں کی تلاوت کرتے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2822]

2823

Sahih Ibn Hibban #2823

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَابِسٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، وَقِيلَ لَهُ : أَشَهِدْتَ الْخُرُوجَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْعِيدِ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، وَلَوْلا مَكَانِي مِنْهُ مَا شَهِدْتُهُ مَعَهُ مِنَ الصِّغَرِ ،خَرَجَ حَتَّى أَتَى الْعِلْمَ الَّذِي عِنْدَ دَارِ كَثِيرِ بْنِ الصَّلْتِ ، فَصَلَّى ، ثُمَّ خَطَبَ ، ثُمَّ أَتَى النِّسَاءَ وَمَعَهُ بِلالٌ ، فَوَعَظَهُنَّ ، وَذَكَّرَهُنَّ ، وَأَمَرَهُنَّ بِالصَّدَقَةِ ، فَرَأَيْتُهُنَّ يَرْمِيَنَّ بِأَيْدِيهِنَّ ، وَيَقْذِفْنَهُ فِي ثَوْبِ بِلالٍ ، ثُمَّ انْطَلَقَ هُوَ وَبِلالٌ إِلَى بَيْتِهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبدالرحمن بن عابس بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو سنا، ان سے دریافت کیا گیا: کیا آپ عید کے دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ شریک ہوئے ہیں؟ انہوں نے جواب دیا: جی ہاں! اگر مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا قربِ خاص حاصل نہ ہوتا تو کم سن ہونے کی وجہ سے میں آپ کے ساتھ شریک نہ ہو پاتا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے گئے یہاں تک کہ آپ کثیر بن صلت کے گھر کے پاس موجود نشان تک آئے، وہاں آپ نے نماز ادا کی، پھر آپ نے خطبہ دیا، پھر آپ خواتین کے پاس تشریف لائے، آپ کے ساتھ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ تھے، آپ نے خواتین کو وعظ و نصیحت کی، آپ نے انہیں صدقہ کرنے کا حکم دیا، تو میں نے خواتین کو دیکھا، وہ اپنے ہاتھوں کے ذریعے صدقے کی چیزیں سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کے کپڑے میں ڈال رہی تھیں، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا بلال رضی اللہ عنہ گھر کی طرف تشریف لے گئے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2823]

2824

Sahih Ibn Hibban #2824

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، وَابْنُ كَثِيرٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ أَيُّوبَ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَطَاءً يُحَدِّثُ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : أَشْهَدُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ قَالَ عَطَاءٌ : أَشْهَدُ عَلَى ابْنِ عَبَّاسٍ : أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَخَرَجَ يَوْمَ فِطْرٍ فِي أَصْحَابِهِ ، فَصَلَّى ، ثُمَّ خَطَبَ ، ثُمَّ أَتَى النِّسَاءَ فَأَمَرَهُنَّ بِالصَّدَقَةِ ، فَجَعَلْنَ يُلْقِينَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں گواہی دے کر یہ بات بیان کرتا ہوں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اصحاب کے ہمراہ عید الفطر کے دن تشریف لے گئے، آپ نے نماز ادا کی، پھر آپ نے خطبہ دیا، پھر آپ خواتین کے پاس تشریف لائے، آپ نے انہیں صدقہ کرنے کا حکم دیا، تو انہوں نے صدقہ ڈالنا شروع کیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2824]

2825

Sahih Ibn Hibban #2825

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ،خَطَبَ يَوْمَ الْعِيدِ عَلَى رَاحِلَتِهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عید کے دن اپنے پاؤں پر (یعنی زمین پر) کھڑے ہو کر خطبہ دیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2825]

2826

Sahih Ibn Hibban #2826

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ أَبِي شَيْخٍ بِكَفَرْتُوثَا مِنْ دِيَارِ رَبِيعَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مَيْمُونُ بْنُ الأُصْبَغِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ مَسْعَدَةَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَيُصَلِّي الْفِطْرَ وَالأَضْحَى ، ثُمَّ يَخْطُبُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پہلے عیدالفطر اور عیدالاضحیٰ کی نماز ادا کر لیتے تھے، پھر خطبہ دیتے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2826]

2827

Sahih Ibn Hibban #2827

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ بْنُ قُدَامَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ عِلاقَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ ، يَقُولُ : انْكَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَوْمَ مَاتَ إِبْرَاهِيمُ ، فَقَالَ النَّاسُ : إِنَّمَا انْكَسَفَتْ لِمَوْتِ إِبْرَاهِيمَ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ ، لا يَنْكَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلا لِحَيَاتِهِ ، فَإِذَا رَأَيْتُمُوهَا فَادْعُوا وَصَلُّوا ، حَتَّى تَنْجَلِيَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں سورج گرہن ہو گیا، یہ اس دن کی بات ہے (جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صاحبزادے) سیدنا ابراہیم رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا تھا، لوگوں نے کہا: یہ گرہن سیدنا ابراہیم رضی اللہ عنہ کے انتقال کی وجہ سے ہوا ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”بے شک سورج اور چاند اللہ کی دو نشانیاں ہیں، یہ کسی کے مرنے یا کسی کے جینے کی وجہ سے گرہن نہیں ہوتے ہیں، جب تم انہیں (گرہن کی حالت میں) دیکھو تو دعا مانگو اور نماز ادا کرو یہاں تک کہ وہ روشن ہو جائیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2827]

2828

Sahih Ibn Hibban #2828

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ ، حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَهُ عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّهُ كَانَ يُخْبِرُ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَنَّالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ لا يَخْسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلا لِحَيَاتِهِ ، وَلَكِنَّهُمَا آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ ، فَإِذَا رَأَيْتُمُوهُمَا فَصَلُّوا "، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : الأَمْرُ بِالصَّلاةِ عِنْدَ كُسُوفِ الشَّمْسِ وَالْقَمَرِ ، أُرِيدَ بِهِ أَحَدُهُمَا ، لأَنَّهُمَا لا يَنْكَسِفَانِ لِوَقْتٍ وَاحِدٍ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں، (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے:) ”بے شک سورج اور چاند کسی کے مرنے یا جینے کی وجہ سے گرہن نہیں ہوتے ہیں، بلکہ یہ دونوں اللہ تعالیٰ کی نشانیاں ہیں۔ جب تم ان دونوں کو (گرہن کی حالت میں) دیکھو تو نماز ادا کرو۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) سورج یا چاند گرہن کے وقت نماز ادا کرنے کا حکم ہونے سے مراد یہ ہے کہ ان دونوں میں سے کسی ایک کو گرہن ہو، تو بھی نماز ادا کی جائے گی۔ ایسا نہیں ہے کہ جب ان دونوں کو ایک ہی وقت میں گرہن ہو، تو اس وقت نماز ادا کرنے کا حکم ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2828]

2829

Sahih Ibn Hibban #2829

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ : انْكَسَفَتْ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَامَ وَقُمْنَا مَعَهُ ، ثُمَّ قَالَ : أَيُّهَا النَّاسُ ، إِنَّالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ ، فَإِذَا انْكَسَفَ أَحَدُهُمَا ، فَافْزَعُوا إِلَى الْمَسَاجِدِ "، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : أَمَرَ فِي هَذَا الْخَبَرِ بِالصَّلاةِ عِنْدَ كُسُوفِ الشَّمْسِ وَالْقَمَرِ ، وَهُوَ الْمَقْصُودُ ، فَأَطْلَقَ هَذَا الْمَقْصُودَ عَلَى سَبَبِهِ وَهُوَ الْمَسَاجِدُ ، لأَنَّ الصَّلاةَ تَتَّصِلُ فِيهَا لا أَنَّ الْمَسَاجِدَ يُسْتَغْنَى بِحُضُورِهَا عِنْدَ كُسُوفِ الشَّمْسِ أَوِ الْقَمَرِ دُونَ الصَّلاةِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں سورج گرہن ہو گیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے، آپ کی اقتداء میں ہم بھی کھڑے ہوئے، پھر آپ نے ارشاد فرمایا: ”اے لوگو! بے شک سورج اور چاند اللہ تعالیٰ کی دو نشانیاں ہیں، ان دونوں میں سے کسی ایک کو گرہن لگ جائے، تو تم مساجد کی طرف آؤ (یعنی نماز کسوف ادا کرو)۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) اس روایت میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سورج یا چاند گرہن کے وقت نماز ادا کرنے کا حکم دیا ہے اور یہی مقصود ہے، تو یہاں مقصود کو اس کے سبب پر مطلق طور پر ذکر کیا گیا ہے اور وہ مساجد ہیں، کیونکہ نماز مسجد میں ادا کی جاتی ہے، ایسا نہیں ہے کہ سورج یا چاند گرہن کے وقت صرف مسجد میں آ جانا کافی ہو گا، جبکہ نماز ادا نہ کی جائے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2829]

2830

Sahih Ibn Hibban #2830

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ أَخْزَمَ ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : صَلاةُ الآيَاتِ سِتُّ رَكَعَاتٍ ، وَأَرْبَعُ سَجَدَاتٍ "، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : يُرِيدُ بِهِ أَنَّ صَلاةَ الآيَاتِ يَجِبُ أَنْ تُصَلَّى رَكْعَتَيْنِ ، فِي كُلِّ رَكْعَةٍ ثَلاثُ رُكُوعَاتٍ ، وَسَجْدَتَانِ ، وَتَفْسِيرُهُ فِي خَبَرِ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ ، عَنْ عَطَاءٍ عَنْ جَابِرٍ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتی ہیں: ”نشانی ظاہر ہونے پر ادا کی جانے والی نماز میں چھ رکوع ہوں گے اور چار سجدے ہوں گے۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) اس سے آپ کی مراد یہ ہے کہ نشانیاں ظاہر ہونے کے وقت ادا کی جانے والی نماز میں یہ بات ضروری ہے کہ آدمی دو رکعات ادا کرے، جن میں سے ہر ایک رکعت میں تین مرتبہ رکوع کرے اور دو سجدے کرے۔ اس کی وضاحت عبدالملک بن ابوسلیمان کی عطاء کے حوالے سے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے نقل کردہ روایت ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2830]

2831

Sahih Ibn Hibban #2831

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُعَافَى الْعَابِدُ بِصَيدَا ، وَأَحْمَدُ بْنُ عُمَيْرِ بْنِ جَوْصَا ، بِدِمَشْقَ ، قَالا : حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ الْقُرَشِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي كَثِيرُ بْنُ عَبَّاسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ،صَلَّى يَوْمَ كَسَفَتِ الشَّمْسُ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ فِي رَكْعَتَيْنِ ، وَأَرْبَعَ سَجَدَاتٍ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: جس دن سورج گرہن ہوا تھا اس دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز ادا کرتے ہوئے دو رکعات میں چار رکوع کیے اور چار سجدے کیے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2831]

2832

Sahih Ibn Hibban #2832

فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، رَأَيْنَاكَ تَنَاوَلْتَ شَيْئًا فِي مَقَامِكَ هَذَا ، ثُمَّ رَأَيْنَاكَ تَكَعْكَعْتَ ، قَالَ : إِنِّيرَأَيْتُ الْجَنَّةَ ، أَوْ أُرِيتُ الْجَنَّةَ ، فَتَنَاوَلْتُ مِنْهَا عُنْقُودًا ، وَلَوْ أَخَذْتُهُ لأَكَلْتُمْ مِنْهُ مَا بَقِيَتِ الدُّنْيَا ، وَرَأَيْتُ النَّارَ ، فَلَمْ أَرَ كَالْيَوْمِ مَنْظَرًا قَطُّ ، وَرَأَيْتُ أَكْثَرَ أَهْلِهَا النِّسَاءَ " قَالُوا : بِمَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " بِكُفْرِهِنَّ " قِيلَ : يَكْفُرْنَ بِاللَّهِ ؟ قَالَ : " يَكْفُرْنَ الْعَشِيرَ ، وَيَكْفُرْنَ الإِحْسَانَ ، لَوْ أَحْسَنْتَ إِلَى إِحْدَاهُنَّ الدَّهْرَ ، ثُمَّ رَأَتْ مِنْكَ شَيْئًا قَالَتْ : وَاللَّهِ مَا رَأَيْتُ مِنْكَ خَيْرًا قَطُّ "، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : أَنْوَاعُ صَلاةِ الْكُسُوفِ سَنَذْكُرُهَا فِيمَا بَعْدُ بِالتَّفْصِيلِ فِي الْقِسْمِ الْخَامِسِ فِي نَوْعِ الأَفْعَالِ الَّتِي هِيَ مِنِ اخْتِلافِ الْمُبَاحِ إِنَّ شَاءَ اللَّهُ ذَلِكَ وَيَسَّرَهُ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں سورج گرہن ہو گیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز ادا کی، لوگوں نے آپ کی اقتدا میں نماز ادا کی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے طویل قیام کیا جو تقریباً سورہ بقرہ کی تلاوت جتنا تھا، پھر آپ رکوع میں گئے۔ آپ نے طویل رکوع کیا، پھر آپ نے سر اٹھایا اور آپ نے طویل قیام کیا لیکن یہ پہلے والے قیام سے کم تھا، پھر آپ نے طویل رکوع کیا لیکن یہ پہلے والے رکوع سے کم تھا، پھر آپ نے سجدہ کیا، پھر آپ نے طویل قیام کیا لیکن یہ پہلے والے قیام سے کم تھا، پھر آپ نے طویل رکوع کیا لیکن یہ پہلے والے رکوع سے کم تھا، پھر آپ نے سر اٹھایا اور طویل قیام کیا لیکن یہ پہلے والے قیام سے کم تھا، پھر آپ نے طویل رکوع کیا لیکن یہ پہلے والے رکوع سے کم تھا، پھر آپ سجدے میں چلے گئے، پھر آپ نے نماز ختم کی تو سورج روشن ہو چکا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”بے شک سورج اور چاند اللہ تعالیٰ کی دو نشانیاں ہیں، یہ کسی کے مرنے یا جینے کی وجہ سے گرہن نہیں ہوتے، جب تم انہیں (گرہن کی حالت) میں دیکھو تو اللہ کا ذکر کرو۔“ لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! ہم نے آپ کو دیکھا، آپ اپنی جگہ سے کوئی چیز پکڑنے کے لیے بڑھے تھے، پھر ہم نے آپ کو دیکھا کہ آپ پیچھے ہٹے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میں نے جنت کو دیکھا (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں: مجھے جنت دکھائی گئی) تو میں اس میں سے انگوروں کا ایک گچھا حاصل کرنے لگا، اگر میں اسے لے لیتا تو تم رہتی دنیا تک اسے کھاتے رہتے، اور میں نے جہنم کو دیکھا، میں نے آج کی طرح کا (ہیبت ناک) منظر کبھی نہیں دیکھا، میں نے دیکھا کہ جہنم میں اکثریت خواتین کی ہے۔“ لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اس کی وجہ کیا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کی وجہ ان کا کفر ہے۔“ عرض کی گئی: کیا وہ اللہ کا انکار کرتی ہیں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ شوہر کی ناشکری کرتی ہیں اور احسان کا انکار کرتی ہیں، اگر تم ان میں سے کسی ایک کے ساتھ ایک زمانے تک بھلائی کرتے رہو اور پھر اسے تمہاری طرف سے ناگوار صورتحال دیکھنی پڑے تو وہ یہی کہتی ہے: اللہ کی قسم! میں نے تمہاری طرف سے کبھی کوئی بھلائی نہیں دیکھی۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نمازِ کسوف کی مختلف قسموں کا تعلق ہم عنقریب تفصیل کے ساتھ پانچویں قسم میں افعال سے تعلق رکھنے والی نوع میں کریں گے جو افعال مباح اختلاف کی قسم سے تعلق رکھتے ہیں، اگر اللہ نے چاہا اور یہ آسان کیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2832]

2833

Sahih Ibn Hibban #2833

أَخْبَرَنَا بَكْرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ سَعِيدٍ الْعَابِدُ ، حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ نَصْرٍ ، قَالَ : خَبَّرَنَا نُوحُ بْنُ قَيْسٍ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ ، قَالَ : انْكَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ لا يَنْكَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ ، وَلا لِحَيَاتِهِ ، فَإِذَا رَأَيْتُمْ شَيْئًا مِنْ ذَلِكَ فَصَلُّوا ، حَتَّى تَنْجَلِيَ ، أَوْ يُحَدِّثَ اللَّهُ أَمْرًا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانۂ اقدس میں سورج گرہن ہو گیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”بے شک سورج اور چاند کسی کے مرنے یا جینے کی وجہ سے گرہن نہیں ہوتے، جب تم ان میں سے کسی کو (گرہن کی حالت میں) دیکھو تو نماز ادا کرو یہاں تک کہ وہ روشن ہو جائے یا اللہ تعالیٰ کوئی نیا فیصلہ دے دے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2833]

2834

Sahih Ibn Hibban #2834

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ الْقَيْسِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُبَارَكُ بْنُ فَضَالَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ ، قَالَ : كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جُلُوسًا ، فَانْكَسَفَتِ الشَّمْسُ ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَزِعًا يَجُرُّ ثَوْبَهُ حَتَّى دَخَلَ الْمَسْجِدِ ، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ ، فَلَمْ يَزَلْ يُصَلِّيهَا ، حَتَّى انْجَلَتْ ، وَكَانَ ذَلِكَ عِنْدَ مَوْتِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ النَّاسُ : إِنَّمَا انْكَسَفَتِ الشَّمْسُ لِمَوْتِ إِبْرَاهِيمَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، إِنَّالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ ، لا يَنْكَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ ، فَإِذَا رَأَيْتُمْ ذَلِكَ ، فَادْعُوا حَتَّى يَكْشِفَ مَا بِكُمْ "، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، " فَادْعُوا " : أَرَادَ بِهِ فَصَلُّوا ، إِذِ الْعَرَبُ تُسَمِّي الصَّلاةَ دُعَاءً"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، سورج گرہن ہو چکا تھا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم گھبرا کر کھڑے ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی چادر کو گھسیٹتے ہوئے مسجد میں داخل ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعات نماز ادا کیں، ابھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز ادا کر ہی رہے تھے کہ اسی دوران گرہن ختم ہو گیا۔ یہ گرہن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صاحبزادے سیدنا ابراہیم رضی اللہ عنہ کے انتقال کے موقع پر ہوا تھا، اس لیے کچھ لوگوں نے یہ کہا: ابراہیم کے انتقال کی وجہ سے سورج گرہن ہوا ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اے لوگو! بے شک سورج اور چاند اللہ تعالیٰ کی دو نشانیاں ہیں، یہ کسی کے مرنے کی وجہ سے گرہن نہیں ہوتے، جب تم انہیں (گرہن کی حالت میں) دیکھو تو دعا مانگو یہاں تک کہ وہ گرہن ختم ہو جائے۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ”تم لوگ دعا مانگو“ اس سے آپ کی مراد یہ ہے کہ تم لوگ نماز ادا کرو کیونکہ عرب بعض اوقات نماز کے لیے لفظِ دعا استعمال کر لیتے ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2834]

2835

Sahih Ibn Hibban #2835

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ ، قَالَ : كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَسَفَتِ الشَّمْسُ ، فَقَامَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، عَجْلانًا إِلَى الْمَسْجِدِ فَجَرَ إِزَارَهُ ، أَوْ ثَوْبَهُ ، وَثَّابَ إِلَيْهِ النَاسٌ ، فَصَلَّى بِهِمْ رَكْعَتَيْنِ نَحْوَ مَا تُصَلُّونَ ، ثُمَّ جُلِّيَ عَنْهَا ، فَأَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَثَّابَ إِلَيْهِ النَّاسُ ، فَقَالَ : إِنَّالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ يُخَوِّفُ بِهِمَا عِبَادَهُ ، وَإِنَّهُمَا لا يَنْكَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ مِنَ النَّاسِ ، وَكَانَ ابْنُهُ تُوُفِّيَ ، فَإِذَا رَأَيْتُمْ مِنْهَا شَيْئًا ، فَصَلُّوا حَتَّى يَكْشِفَ مَا بِكُمْ "، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : قَوْلُ أَبِي بَكْرَةَ : فَصَلَّى بِهِمْ رَكْعَتَيْنِ نَحْوَ مَا تُصَلُّونَ ، أَرَادَ بِهِ تُصَلُّونَ صَلاةَ الْكُسُوفِ رَكْعَتَيْنِ فِي أَرْبَعِ رَكَعَاتٍ ، وَأَرْبَعِ سَجَدَاتٍ عَلَى حَسَبِ مَا تَقَدَّمَ ذِكْرُنَا لَهُ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھے کہ سورج گرہن ہو گیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جلدی کے عالم میں مسجد کے اندر تشریف لے گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے تہبند کو (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے کپڑے کو گھسیٹ رہے تھے، لوگ بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اردگرد اکٹھے ہو گئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کو دو رکعات نماز پڑھائی جس طرح تم لوگ نماز ادا کرتے ہو، سورج گرہن ختم ہو گیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے، لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اردگرد اکٹھے ہو گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”بے شک سورج اور چاند اللہ تعالیٰ کی دو نشانیاں ہیں، جن کے ذریعے اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو خوف دلاتا ہے، یہ دونوں کسی کے مرنے کی وجہ سے گرہن نہیں ہوتے ہیں۔“ (راوی کہتے ہیں) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صاحبزادے کا انتقال ہوا تھا، (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:) ”جب تم ان میں سے کوئی چیز (یعنی کسی کو گرہن کی حالت میں) دیکھو تو نماز ادا کرتے رہو یہاں تک کہ گرہن ختم ہو جائے۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کا یہ کہنا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کو دو رکعات پڑھائیں جس طرح تم لوگ نماز ادا کرتے ہو، اس سے ان کی مراد یہ ہے کہ جس طرح تم لوگ نماز کسوف میں دو رکعات ادا کرتے ہو، جس میں چار رکوع اور چار سجدے ہوتے ہیں، جیسا کہ ہم اس سے پہلے ذکر کر چکے ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2835]

2836

Sahih Ibn Hibban #2836

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا بُرَيْدٌ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ : كَسَفَتِ الشَّمْسُ زَمَنَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَامَ فَزِعًا ، خَشِينَا أَنْ تَكُونَ السَّاعَةُ ، حَتَّى أَتَى الْمَسْجِدَ ، فَقَامَ فَصَلَّى بِأَطْوَلِ قِيَامٍ ، وَرُكُوعٍ ، وَسُجُودٍ مَا رَأَيْتُهُ يَفْعَلُ فِي صَلاةٍ قَطُّ ، ثُمَّ قَالَ : إِنَّهَذِهِ الآيَاتِ الَّتِي يُرْسِلُ اللَّهُ لا تَكُونُ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلا لِحَيَاتِهِ ، وَلَكِنَّ اللَّهَ يُرْسِلُهَا يُخَوِّفُ بِهَا عِبَادَهُ ، فَإِذَا رَأَيْتُمْ مِنْهَا شَيْئًا ، فَافْزَعُوا إِلَى ذِكْرِهِ ، وَدُعَائِهِ ، وَاسْتِغْفَارِهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں سورج گرہن ہو گیا تو آپ گھبرا کر کھڑے ہوئے، ہمیں یہ اندیشہ ہوا کہ قیامت آنے والی ہے، آپ مسجد میں تشریف لائے، آپ کھڑے ہوئے اور آپ نے طویل قیام، رکوع اور سجدے والی نماز ادا کی، میں نے آپ کو کسی نماز میں اتنا طویل قیام، رکوع اور سجدہ کرتے ہوئے نہیں دیکھا، پھر آپ نے (خطبہ دیتے ہوئے) ارشاد فرمایا: ”بیشک یہ نشانیاں ہیں، جو اللہ تعالیٰ بھیجتا ہے، یہ کسی کے مرنے یا جینے کی وجہ سے نمودار نہیں ہوتی ہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ انہیں بھیجتا ہے، تاکہ ان کے ذریعے اپنے بندوں کو خوف دلائے، تو جب تم ان میں سے کسی کو دیکھو تو اللہ کے ذکر، اس سے دعا مانگنے اور اس سے مغفرت طلب کرنے کی طرف جاؤ۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2836]

2837

Sahih Ibn Hibban #2837

أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ التَّاجِرُ الْمَرْوَزِيُّ بِمَرْوَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْكَرِيمِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ السُّكَّرِيُّ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَشْعَثُ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَنَّهُصَلَّى فِي كُسُوفِ الشَّمْسِ وَالْقَمَرِ رَكْعَتَيْنِ مِثْلَ صَلاتِكُمْ "، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : قَوْلُ أَبِي بَكْرَةَ : " رَكْعَتَيْنِ مِثْلَ صَلاتِكُمْ " ، أَرَادَ بِهِ مِثْلَ صَلاتِكُمْ فِي الْكُسُوفِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سورج گرہن اور چاند گرہن کی نماز میں دو رکعات ادا کی تھیں، جو تمہاری نماز کی مانند تھیں۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کا یہ کہنا کہ ”تمہاری نماز کی مانند دو رکعات“ اس سے ان کی مراد یہ ہے جس طرح تم لوگ نمازِ کسوف ادا کرتے ہو۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2837]