Muslim99Muslim99

Sahih Ibn Hibban · Book 25 · Chapter 2

Book of Lost and Found

Hadith 2764–2803

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

2764

Sahih Ibn Hibban #2764

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الأَسْوَدِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَقَرَأَ سُورَةَ النَّجْمِ فَسَجَدَ ، فَمَا بَقِيَ أَحَدٌ مِنَ الْقَوْمِ إِلا سَجَدَ ، إِلا رَجُلٌ وَاحِدٌ أَخَذَ كَفًّا مِنْ حَصًى فَوَضَعَهُ عَلَى جَبْهَتِهِ " ، وَقَالَ : يَكْفِينِي، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : فَلَقَدْ رَأَيْتُهُ بَعْدُ قُتِلَ كَافِرًا"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ﴿سورة النجم﴾ کی تلاوت کی تو سجدہ تلاوت کیا، حاضرین میں سے ہر شخص نے سجدہ تلاوت کیا صرف ایک شخص نے نہیں کیا، اس نے مٹھی میں کنکریاں لیں اور اپنی پیشانی کے ساتھ لگا دیں اور بولا: ”میرے لیے اتنا ہی کافی ہے۔“ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ بعد میں، میں نے اس شخص کو دیکھا، وہ کافر ہونے کے عالم میں قتل ہوا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2764]

2765

Sahih Ibn Hibban #2765

أَخْبَرَنَا ابْنُ سَلْمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي هِلالٍ ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : قَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ص وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ ، فَلَمَّا بَلَغَ السَّجْدَةَ نَزَلَ فَسَجَدَ ، وَسَجَدَ النَّاسُ مَعَهُ ، فَلَمَّا كَانَ يَوْمٌ آخَرُ قَرَأَهَا ، فَلَمَّا بَلَغَ السَّجْدَةَ تَنَشَّزَ النَّاسُ لِلسُّجُودِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّمَاهِيَ تَوْبَةُ نَبِيٍّ ، وَلَكِنِّي رَأَيْتُكُمْ تَنَشَّزْتُمْ لِلسُّجُودِ " ، فَنَزَلَ فَسَجَدَ وَسَجَدُوا"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سورہ ﴿ص﴾ [سورة ص: 1] کی تلاوت کی، آپ اس وقت منبر پر موجود تھے، جب آپ سجدے کے مقام پر پہنچے تو منبر سے نیچے اترے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ تلاوت کیا اور آپ کے ہمراہ لوگوں نے بھی سجدہ کیا۔ جب اگلا دن آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قرأت کی اور جب سجدہ تلاوت کے مقام پر پہنچے تو لوگ سجدہ کرنے کے لیے تیار ہو گئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”یہ ایک نبی کی توبہ کا واقعہ ہے، لیکن میں دیکھ رہا ہوں تم لوگ سجدہ کرنے کے لیے تیار ہو۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم منبر سے نیچے اترے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ کیا اور لوگوں نے بھی سجدہ کیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2765]

2766

Sahih Ibn Hibban #2766

أَخْبَرَنَا ابْنُ خُزَيْمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، وَالأَشَجُّ ، قَالا : حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ ، عَنِ الْعَوَّامِ بْنِ حَوْشَبٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، قَالَ : قُلْتُ لابْنِ الْعَبَّاسِ :سَجْدَةُ ( ص ) مِنْ أَيْنَ أَخَذْتَهَا ؟ قَالَ : فَتَلا عَلَيَّ : ( وَمِنْ ذُرِّيَّتِهِ دَاوُدَ وَسُلَيْمَانَ وَأَيُّوبَ حَتَّى بَلَغَ إِلَى قَوْلِهِ : أُولَئِكَ الَّذِينَ هَدَى اللَّهُ فَبِهُدَاهُمُ اقْتَدِهْ ) ، قَالَ : كَانَ دَاوُدُ سَجَدَ فِيهَا ، فَلِذَلِكَ سَجَدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

مجاہد بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے دریافت کیا کہ سورة ص میں سجدہ تلاوت موجود ہونے کا حکم آپ نے کہاں سے حاصل کیا ہے؟ تو انہوں نے میرے سامنے یہ آیت تلاوت کی: ﴿اس کی ذریت میں مسلمان داؤد سلیمان اور ایوب ہیں﴾ [سورة الأنعام: 84] ، یہ آیت انہوں نے یہاں تک تلاوت کی: ﴿یہ وہ لوگ ہیں، جنہیں اللہ تعالیٰ نے ہدایت عطا کی تو تم ان کی ہدایت کی پیروی کرو﴾ [سورة الأنعام: 90] ، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بتایا: سیدنا داؤد علیہ السلام نے اس جگہ پر سجدہ کیا تھا، اسی وجہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی (اس آیت پر) سجدہ کیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2766]

2767

Sahih Ibn Hibban #2767

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ مُوسَى ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ مِينَاءَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : سَجَدْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي إِذَا السَّمَاءُ انْشَقَّتْ وَ اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم نے سورہ انشقاق اور سورہ علق میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتدا میں سجدہ تلاوت کیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2767]

2768

Sahih Ibn Hibban #2768

أَخْبَرَنَا ابْنُ خُزَيْمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ خُنَيْسٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي حَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ ، قَالَ : قَالَ لِيَ ابْنُ جُرَيْجٍ : يَا حَسَنُ ، حَدَّثَنِي جَدُّكَ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي يَزِيدَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي رَأَيْتُ فِي هَذِهِ اللَّيْلَةِ فِيمَا يَرَى النَّائِمُ كَأَنِّي أُصَلِّي خَلْفَ شَجَرَةٍ ، فَرَأَيْتُ كَأَنِّي قَرَأْتُ سَجْدَةً ، فَرَأَيْتُ الشَّجَرَةَ كَأَنَّهَا تَسْجُدُ لِسُجُودِي ، فَسَمِعْتُهَا وَهِيَ سَاجِدَةٌ وَهِيَ تَقُولُ : اللَّهُمَّ اكْتُبْ لِي عِنْدَكَ بِهَا أَجْرًا ، وَاجْعَلْهَا لِي عِنْدَكَ ذُخْرًا ، وَضَعْ عَنِّي بِهَا وِزْرًا ، وَاقْبَلْهَا مِنِّي كَمَا تَقَبَّلْتَ مِنْ عَبْدِكَ دَاوُدَ ، قَالَ : قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَرَأَ السَّجْدَةَ فَسَمِعْتُهُ وَهُوَ سَاجِدٌ يَقُولُ مِثْلَ مَا قَالَ الرَّجُلُ عَنْ كَلامِ الشَّجَرَةِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حسن بن محمد کہتے ہیں، ابن جریج نے مجھ سے کہا: اے حسن! تمہارے دادا عبیداللہ بن ابی یزید نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے حوالے سے یہ حدیث مجھے بیان کی ہے، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اس نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں نے گزشتہ رات خواب دیکھا ہے، گویا میں ایک درخت کے پیچھے نماز ادا کر رہا ہوں، میں نے دیکھا کہ میں نے آیتِ سجدہ تلاوت کی، پھر میں نے درخت کو دیکھا وہ بھی میرے سجدے کی طرح سجدہ کر رہا ہے، میں نے اسے سجدے کی حالت میں یہ کہتے ہوئے سنا: «اللَّهُمَّ اكْتُبْ لِي بِهَا عِنْدَكَ أَجْرًا، وَضَعْ عَنِّي بِهَا وِزْرًا، وَاجْعَلْهَا لِي عِنْدَكَ ذُخْرًا، وَتَقَبَّلْهَا مِنِّي كَمَا تَقَبَّلْتَهَا مِنْ عَبْدِكَ دَاوُدَ» ”اے اللہ! تو اس کے عوض میں اپنی بارگاہ میں میرے لیے اجر لکھ لے اور اسے اپنی بارگاہ میں ذخیرے کے طور پر رکھ دے اور اس کی وجہ سے میرے گناہ کو ختم کر دے اور اسے میری طرف سے اسی طرح قبول کر لے جس طرح تو نے اپنے بندے سیدنا داؤد علیہ السلام سے قبول کیا تھا“۔ راوی کہتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بتایا: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیتِ سجدہ تلاوت کی تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سجدے کی حالت میں وہی کلمات پڑھتے ہوئے سنا جو اس شخص نے درخت کے کلام کے حوالے سے بیان کیے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2768]

2769

Sahih Ibn Hibban #2769

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى ، وَعُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنِ ابْنِ قُسَيْطٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ ، قَالَ : قَرَأْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّجْمَ فَلَمْ يَسْجُدْ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سورۂ نجم کی تلاوت کی لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ تلاوت نہیں کیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2769]

2770

Sahih Ibn Hibban #2770

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ ، حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنِ الْعَلاءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : لا تَطْلُعُ الشَّمْسُ وَلا تَغْرُبُ عَلَى يَوْمٍ أَفْضَلَ مِنْ يَوْمِ الْجُمُعَةِ ، وَمَا مِنْ دَابَّةٍ إِلا وَهِيَ تَفْزَعُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ ، إِلا هَذَيْنِ الثَّقَلَيْنِ : الْجِنِّ ، وَالإِنْسِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”سورج کسی ایسے دن پر طلوع نہیں ہوتا اور غروب نہیں ہوتا جو جمعہ کے دن سے افضل ہو، ہر جانور جمعہ کے دن خوفزدہ رہتا ہے صرف یہ دو گروہ جن اور انسان (خوف زدہ نہیں ہوتے)۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2770]

2771

Sahih Ibn Hibban #2771

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ ، أَنَّ بَشِيرَ بْنَ أَبِي عَمْرٍو الْخَوْلانِيَّ ، أَخْبَرَهُ ، أَنَّ الْوَلِيدَ بْنَ قَيْسٍ التُّجِيبِيَّ ، حَدَّثَهُ ، أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ حَدَّثَهُ ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : خَمْسٌ مَنْ عَمِلَهُنَّ فِي يَوْمٍ كَتَبَهُ اللَّهُ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ : مَنْ عَادَ مَرِيضًا ، وَشَهِدَ جَنَازَةً ، وَصَامَ يَوْمًا ، وَرَاحَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ ، وَأَعْتَقَ رَقَبَةً """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”پانچ چیزیں ایسی ہیں کہ جو شخص ایک ہی دن میں ان پر عمل کر لے، تو اللہ تعالیٰ اسے اہل جنت میں لکھ لیتا ہے: جو شخص بیمار کی عیادت کرے، جنازے میں شریک ہو، ایک دن کا روزہ رکھے، جمعہ کے لیے جائے اور غلام کو آزاد کرے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2771]

2772

Sahih Ibn Hibban #2772

قَالَ : قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : ثُمَّ لَقِيتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَلامٍ ، فَحَدَّثْتُهُ بِمَجْلِسِي مَعَ كَعْبِ الأَحْبَارِ ، وَمَا حَدَّثَتْهُ فِي يَوْمِ الْجُمُعَةِ ، فَقُلْتُ لَهُ : قَالَ كَعْبٌ : وَذَلِكَ فِي كُلِّ سَنَةٍ يَوْمٌ ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلامٍ : كَذَبَ كَعْبٌ ، قُلْتُ : ثُمَّ قَرَأَ التَّوْرَاةَ ، فَقَالَ : بَلْ هِيَ فِي كُلِّ جُمُعَةٍ ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلامٍ : صَدَقَ كَعْبٌ ، ثُمّ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلامٍ : قَدْ عَلِمْتُ أَيَّةَ سَاعَةٍ هِيَ ؟ قَالَ : ثُمَّ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : فَقُلْتُ لَهُ : فَأَخْبِرْنِي بِهَا وَلا تَضِنَّنَ عَلَيَّ ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلامٍ : هِيَ آخِرُ سَاعَةٍ فِي يَوْمِ الْجُمُعَةِ ، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : وَكَيْفَ تَكُونُ آخِرَ سَاعَةٍ مِنْ يَوْمِ الْجُمُعَةِ ، وَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لا يُصَادِفُهَا عَبْدٌ مُسْلِمٌ وَهُوَ يُصَلِّي " ، وَتِلْكَ سَاعَةٌ لا يُصَلَّى فِيهَا ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلامٍ : أَلَمْ يَقُلْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "مَنْ جَلَسَ يَنْتَظِرُ الصَّلاةَ فَهُوَ فِي صَلاةٍ ، حَتَّى يُصَلِّيَهَا "، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : بَلَى ، قَالَ : فَهُوَ ذَاكَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ بیان کرتے ہیں: میں کوہِ طور کی زیارت کے لیے روانہ ہوا تو میری ملاقات کعب الاحبار سے ہوئی، میں ان کے ساتھ بیٹھ گیا، انہوں نے مجھے تورات کے بارے میں کچھ باتیں بتائیں اور میں نے انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث کے بارے میں بتایا، میں نے انہیں جو احادیث بیان کی تھیں ان میں یہ بات بھی تھی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جن دنوں پر سورج طلوع ہوتا ہے ان میں سب سے بہتر دن جمعہ کا دن ہے، جمعہ کے دن سیدنا آدم علیہ السلام کو پیدا کیا گیا، اسی دن انہیں زمین پر اتارا گیا، اسی دن ان کا انتقال ہوا، اسی دن ان کی توبہ قبول ہوئی اور اسی دن قیامت قائم ہو گی، ہر جانور جمعہ کے دن (گھبراہٹ کی وجہ سے) چیختا ہے اس وقت سے جب صبح (صادق) ہوتی ہے یہاں تک کہ جب سورج نکل آئے (تو وہ چیخنا بند کر دیتا ہے)، وہ ایسا قیامت کے خوف کی وجہ سے کرتا ہے البتہ جنوں اور انسانوں کا معاملہ مختلف ہے، اس دن میں ایک گھڑی ایسی ہے جس میں اگر مسلمان بندہ نماز ادا کر رہا ہو اور وہ اللہ تعالیٰ سے جو بھی چیز مانگے گا تو اللہ تعالیٰ وہ چیز اسے عطا کر دے گا۔“ اس پر کعب الاحبار نے کہا: یہ خصوصیت پورے سال میں صرف کسی ایک دن میں ہوتی ہے؟ میں نے کہا: نہیں! بلکہ ہر جمعے میں ہوتی ہے، پھر کعب نے تورات کی تلاوت کی تو یہ بات بیان کی کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے سچ فرمایا ہے۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میری ملاقات سیدنا بصرہ بن ابوبصرہ غفاری رضی اللہ عنہ سے ہوئی۔ انہوں نے دریافت کیا: تم کہاں سے آ رہے ہو۔ میں نے کہا: کوہ طور سے۔ انہوں نے فرمایا: اگر میں تمہارے اس کی طرف جانے سے پہلے تم سے مل لیتا تو (تمہیں بتاتا) تم اس کی طرف نہ جاؤ کیونکہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے۔ ”صرف تین مساجد کی طرف سفر کیا جا سکتا ہے۔ مسجد الحرام اور میری یہ مسجد اور مسجد ایلیاء (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں:) مسجد بیت المقدس۔“ راوی بیان کرتے ہیں: سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے یہ بات بیان کی ہے، پھر میری ملاقات سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ سے ہوئی تو میں نے کعب الاحبار کے ساتھ اپنی ملاقات کے بارے میں ان کے سامنے ذکر کیا اور جمعہ کے دن کے بارے میں بھی انہیں بتایا تو میں نے ان سے کہا: کعب نے تو یہ کہا: ہے، یہ گھڑی سال میں صرف ایک دن ہوتی ہے، تو سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے کہا: کعب نے غلط کہا: ہے میں نے کہا: پھر انہوں نے تورات کی تلاوت کی تو یہ بات بیان کی، یہ گھڑی ہر جمعہ میں ہوتی ہے، تو عبداللہ بن سلام نے کہا: کعب نے یہ بات ٹھیک کہی ہے، پھر عبداللہ بن سلام نے فرمایا: میں یہ بات جانتا ہوں وہ کونسی گھڑی ہے۔ راوی کہتے ہیں: پھر سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے ان سے کہا: آپ مجھے اس کے بارے میں بتائیں آپ اس حوالے سے میرے ساتھ بخل سے کام نہ لیجئے، تو سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے فرمایا: وہ جمعہ کے دن کی آخری گھڑی ہے، تو سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جمعہ کے دن کی آخری گھڑی کیسے ہو سکتی ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”اس وقت میں جو مسلمان بندہ نماز ادا کر رہا ہو۔“ تو اس گھڑی میں تو کوئی نماز ادا نہیں کی جاتی، تو سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد نہیں فرمائی۔ ”جو شخص بیٹھ کر نماز کا انتظار کر رہا ہو وہ نماز کی حالت میں شمار ہوتا ہے یہاں تک کہ وہ اسے ادا کر لے۔“ تو سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جی ہاں۔ تو سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے فرمایا: یہ وہی ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2772]""

2773

Sahih Ibn Hibban #2773

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : فِي الْجُمُعَةِ سَاعَةٌ لا يُوَافِقُهَا مُسْلِمٌ قَائِمٌ يُصَلِّي يَسْأَلُ اللَّهَ فِيهَا خَيْرًا ، إِلا أَعْطَاهُ إِيَّاهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”جمعہ میں ایک گھڑی ایسی ہے جس میں کوئی مسلمان بندہ کھڑا ہو کر نماز ادا کر رہا ہو، تو وہ اس گھڑی میں اللہ تعالیٰ سے جو مانگتا ہے اللہ تعالیٰ وہ چیز اسے عطا کر دیتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2773]

2774

Sahih Ibn Hibban #2774

أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ عَبْدُ الْكَبِيرِ بْنُ عُمَرَ الْخَطَّابِيُّ بِالْبَصْرَةِ ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَنَا الْعَلاءُ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : عَلَى كُلِّ بَابٍ مِنْ أَبْوَابِ الْمَسْجِدِ مَلَكَانِ ، يَكْتُبَانِ الأَوْلَ فَالأَوْلَ ، فَكَرَجُلٍ قَدَّمَ بَدَنَةً ، وَكَرَجُلٍ قَدَّمَ بَقَرَةً ، وَكَرَجُلٍ قَدَّمَ شَاةً ، وَكَرَجُلٍ قَدَّمَ طَيْرًا ، وَكَرَجُلٍ قَدَّمَ بَيْضَةً ، فَإِذَا قَعَدَ الإِمَامُ طُوِيَتِ الصُّحُفُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”(جمعہ کے دن) مسجد کے ہر دروازے پر دو فرشتے بیٹھ جاتے ہیں جو پہلے آنے والوں کے نام نوٹ کرتے ہیں، تو ان کی مثال یوں ہے: کسی شخص نے اونٹ کی قربانی کی پھر کسی ایک شخص نے گائے کی قربانی کی پھر کسی ایک شخص نے بکری کی قربانی کی پھر کسی ایک شخص نے پرندے کی قربانی کی پھر جیسے اس نے انڈا صدقہ کیا، پھر جب امام منبر پر (بیٹھ جاتا) ہے، تو صحیفے لپیٹ لیے جاتے ہیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2774]

2775

Sahih Ibn Hibban #2775

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ بِمَنْبِجَ ، أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ سُمَيٍّ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : مَنِ اغْتَسَلَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ غُسْلَ الْجَنَابَةِ ، ثُمَّ رَاحَ فَكَأَنَّمَا قَرَّبَ بَدَنَةً ، وَمَنْ رَاحَ فِي السَّاعَةِ الثَّانِيَةِ ، فَكَأَنَّمَا قَرَّبَ بَقَرَةً ، وَمَنْ رَاحَ فِي السَّاعَةِ الثَّالِثَةِ فَكَأَنَّمَا قَرَّبَ كَبْشًا ، وَمَنْ رَاحَ فِي السَّاعَةِ الرَّابِعَةِ ، فَكَأَنَّمَا قَرَّبَ دَجَاجَةً ، وَمَنْ رَاحَ فِي السَّاعَةِ الْخَامِسَةِ ، فَكَأَنَّمَا قَرَّبَ بَيْضَةً ، فَإِذَا خَرَجَ الإِمَامُ ، حَضَرَتِ الْمَلائِكَةُ يَسْتَمِعُونَ الذِّكْرَ "، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : فِي هَذَا الْخَبَرِ بَيَانٌ وَاضِحٌ بِأَنَّ اسْمَ الرَّوَاحِ يَقَعُ عَلَى جَمِيعِ سَاعَاتِ النَّهَارِ ضِدَّ قَوْلِ مَنْ زَعَمَ أَنَّ الرَّوَاحَ لا يَكُونُ إِلا بَعْدَ الزَّوَالِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جو شخص جمعہ کے دن غسلِ جنابت کی طرح کا غسل کرے اور پھر روانہ ہو جائے، تو گویا اس نے اونٹ کی قربانی کی، جو شخص دوسری گھڑی میں جائے اس نے گائے کی قربانی کی، جو شخص تیسری گھڑی میں جائے اس نے دنبے کی قربانی کی، جو شخص چوتھی گھڑی میں جائے اس نے مرغی کی قربانی کی، جو شخص پانچویں گھڑی میں جاتا ہے گویا اس نے انڈہ صدقہ کیا، جب امام آ جائے، تو فرشتے مسجد میں آ کر (ذکر یعنی خطبے کو) سنتے ہیں۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) اس روایت میں اس بات کا واضح بیان موجود ہے کہ لفظ «رَوَاح» (جانے) کا اطلاق دن کی تمام گھڑیوں پر ہوتا ہے، یہ بات اس شخص کے موقف کے خلاف ہے جو اس بات کا قائل ہے کہ لفظ «رَوَاح» کا اطلاق صرف زوال کے بعد جانے پر ہوتا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2775]

2776

Sahih Ibn Hibban #2776

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ وَدِيعَةَ أَبِو وَدِيعَةَ ، عَنْ سَلْمَانَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : مَنِ اغْتَسَلَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَتَطَهَّرَ مَا اسْتَطَاعَ مِنْ طُهْرٍ ، ثُمَّ ادَّهَنَ مِنْ دُهْنِهِ ، أَوْ طِيبِ بَيْتِهِ ، ثُمَّ رَاحَ إِلَى الْجُمُعَةِ ، وَلَمْ يُفَرِّقْ بَيْنَ اثْنَيْنِ ، ثُمَّ صَلَّى مَا بَدَا لَهُ ، فَإِذَا خَرَجَ الإِمَامُ أَنْصَتَ غُفِرَ لَهُ مَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْجُمُعَةِ الأُخْرَى """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جو شخص جمعہ کے دن غسل کرے اور جہاں تک ممکن ہو اچھی طرح پاکیزگی حاصل کرے، پھر وہ تیل لگائے یا اپنے گھر میں موجود خوشبو لگائے، پھر جمعہ کے لیے جائے اور دو آدمیوں کے درمیان فرق نہ کرے، پھر جتنا مناسب سمجھے نماز (یعنی سنتیں، یا نوافل) ادا کرے، پھر جب امام آ جائے تو خاموشی (کے ساتھ اس کا خطبہ سنے)، تو اس شخص کے اس جمعے اور اگلے جمعے تک کے درمیانی گناہوں کی مغفرت ہو جاتی ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2776]

2777

Sahih Ibn Hibban #2777

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ أَبِي سَلَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، وَيَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْهُمْ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطَبَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ ، فَرَأَى عَلَيْهِمْ ثِيَابَ النِّمَارِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَا عَلَى أَحَدِكُمْ إِنْ وَجَدَ سَعَةً أَنْ يَتَّخِذَ ثَوْبَيْنِ لِجُمُعَتِهِ سِوَى ثَوْبَيْ مِهْنَتِهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جمعہ کے دن خطبہ دیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کے جسموں پر کام کاج والے کپڑے دیکھے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم میں سے کسی پر کوئی (حرج) نہیں ہوگا اگر اس کے پاس گنجائش ہو، تو وہ جمعہ کے لیے دو کپڑے پہن لے جو اس کے کام کاج (یعنی محنت مزدوری) کے کپڑوں کے علاوہ ہوں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2777]

2778

Sahih Ibn Hibban #2778

أَخْبَرَنَا ابْنُ خُزَيْمَةَ ، حَدَّثَنَا الدَّوْرَقِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، وأبي أمامة بن سهل بن حنيف ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، وَأَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالا : سَمِعْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : مَنِ اغْتَسَلَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَاسْتَنَّ ، وَمَسَّ مِنْ طِيبٍ إِنْ كَانَ عِنْدَهُ ، وَلَبِسَ مِنْ أَحْسَنِ ثِيَابِهِ ، ثُمَّ جَاءَ إِلَى الْمَسْجِدِ ، وَلَمْ يَتَخَطَّ رِقَابَ النَّاسِ ، ثُمَّ رَكَعَ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَرْكَعَ ، ثُمَّ أَنْصَتَ إِذَا خَرَجَ إِمَامُهُ حَتَّى يُصَلِّيَ ، كَانَتْ كَفَّارَةً مَا بَيْنَهَا وَبَيْنَ الْجُمُعَةِ الَّتِي كَانَتْ قَبْلَهَا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ اور سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جو شخص جمعہ کے دن غسل کرے، مسواک کرے اور خوشبو لگائے، اگر وہ اس کے پاس ہو، اور عمدہ کپڑے پہنے، پھر وہ مسجد کی طرف جائے اور لوگوں کی گردنیں نہ پھلانگے، پھر جتنا اللہ کو منظور ہو اتنے نوافل ادا کرے، پھر خاموش رہے جب امام آ جائے، یہاں تک کہ وہ نماز ادا کر لے، تو یہ چیز اس کے اس جمعہ اور اس سے پہلے کے جمعہ کے درمیان (گناہوں) کا کفارہ بن جاتی ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2778]

2779

Sahih Ibn Hibban #2779

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ تَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ الْوُضُوءَ ، ثُمَّ أَتَى الْجُمُعَةَ ، فَسَمِعَ وَأَنْصَتَ غُفِرَ لَهُ مَا بَيْنَ الْجُمُعَةِ إِلَى الْجُمُعَةِ ، وَزِيَادَةُ ثَلاثَةِ أَيَّامٍ ، وَمَنْ مَسَّ الْحَصَى ، فَقَدْ لَغَا "، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : قَدْ يَتَوَهَّمُ مَنْ لَمْ يَسْبُرْ صِنَاعَةَ الْحَدِيثِ أَنَّ الْجُمُعَةَ إِلَى الْجُمُعَةِ ثَمَانِيَةُ أَيَّامٍ وَلَيْسَ كَذَلِكَ ، لأَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، لَمْ يَقُلْ غُفِرَ لَهُ مِنَ الْجُمُعَةِ إِلَى الْجُمُعَةِ ، فَوَقْتُ الْجُمُعَةِ زَوَالُ الشَّمْسِ ، فَمِنْ زَوَالِ الشَّمْسِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ إِلَى زَوَالِ الشَّمْسِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ الأُخْرَى سَبْعَةُ أَيَّامٍ ، وَقَوْلُهُ : " زِيَادَةُ ثَلاثَةِ أَيَّامٍ " تَمَامُ الْعَشْرِ ، قَالَ اللَّهُ جَلَّ وَعَلا : مَنْ جَاءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهُ عَشْرُ أَمْثَالِهَا ، وَهَذَا مِمَّا نَقُولُ فِي كُتُبِنَا : إِنَّ الْمَرْءَ قَدْ يَعْمَلُ طَاعَةَ اللَّهِ جَلَّ وَعَلا ، فَيَغْفِرُ اللَّهُ لَهُ بِهَا ذَنُوبًا لَمْ يَكْتَسِبْهَا بَعْدُ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”جو شخص وضو کرتے ہوئے اچھی طرح وضو کرے پھر جمعہ کے لیے آئے اور (خطبے) کو سنے خاموش رہے، تو اس شخص کے اس جمعے سے لے کر آگے جمعے تک اور مزید تین دن کے (گناہوں) کی مغفرت ہو جاتی ہے اور جو شخص کنکریوں کو چھوتا ہے وہ لغو کا مرتکب ہوتا ہے“۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) جو شخص علم حدیث میں مہارت نہیں رکھتا، وہ اس غلط فہمی کا شکار ہوا کہ ایک جمعے سے دوسرے جمعے تک آٹھ دن بنتے ہیں، حالانکہ ایسا نہیں ہے کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد نہیں فرمائی ہے کہ ایک جمعہ سے لے کر دوسرے جمعے تک کے (آٹھ دن ہیں بلکہ یہ کہ) اس کے گناہوں کی مغفرت ہو جاتی ہے۔ تو جمعے کا وقت سورج ڈھلنے کے بعد ہوتا ہے، تو جمعہ کے دن سورج ڈھلنے کے بعد سے اگلے جمعے کے سورج ڈھلنے تک سات دن بنتے ہیں اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان کہ اس کے علاوہ مزید تین دن تو اس طرح دس دن پورے ہو جاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے: ﴿مَنْ جَاءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهُ عَشْرُ أَمْثَالِهَا﴾ [سورة الأنعام: 160] ”جو شخص نیکی کرتا ہے تو وہ دس گنا بن جاتی ہے“۔ یہ وہ بات ہے جس کے بارے میں ہم نے اپنی کتابوں میں یہ بات نقل کی ہے کہ آدمی جب اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری کے متعلق عمل کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کی وجہ سے اس کے ان گناہوں کی مغفرت کر دیتا ہے جن کا ارتکاب وہ بعد میں نہیں کرتا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2779]

2780

Sahih Ibn Hibban #2780

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنِ اغْتَسَلَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ ، فَأَحْسَنَ غُسْلَهُ وَلَبِسَ مِنْ صَالِحِ ثِيَابِهِ ، وَمَسَّ مِنْ طِيبِ بَيْتِهِ أَوْ دُهْنِهِ ، غُفِرَ لَهُ مَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْجُمُعَةِ الأُخْرَى ، وَزِيَادَةُ ثَلاثَةِ أَيَّامٍ مِنَ الَّتِي بَعْدَهَا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”جو شخص جمعہ کے دن غسل کرے اور اچھی طرح غسل کرے، پھر عمدہ کپڑے پہنے، اپنے گھر میں موجود خوشبو لگائے یا تیل لگائے، تو اس شخص کے اس جمعے اور اگلے جمعے کے درمیانی، مزید اس کے بعد تین دن کے (گناہوں) کی مغفرت ہو جاتی ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2780]

2781

Sahih Ibn Hibban #2781

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ الشَّيْبَانِيُّ ، حَدَّثَنَا حِبَّانُ بْنُ مُوسَى ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا الأَوْزَاعِيُّ ، عَنْ حَسَّانَ بْنِ عَطِيَّةَ ، حَدَّثَنِي أَبُو الأَشْعَثِ الصَّنْعَانِيُّ ، عَنْ أَوْسِ بْنِ أَوْسٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : مَنْ غَسَّلَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَاغْتَسَلَ ، ثُمَّ بَكَّرَ ، وَابْتَكَرَ ، وَمَشَى فَدَنَا ، وَاسْتَمَعَ ، وَأَنْصَتَ ، وَلَمْ يَلْغُ ، كَتَبَ اللَّهُ لَهُ بِكُلِّ خُطْوَةٍ يَخْطُوهَا عَمَلَ سَنَةٍ صِيَامَهَا وَقِيَامَهَا "، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : قَوْلُهُ : " مَنْ غَسَّلَ " : يُرِيدُ غَسَلَ رَأْسَهُ ، " وَاغْتَسَلَ " : يُرِيدُ اغْتَسَلَ بِنَفْسِهِ ، لأَنَّ الْقَوْمَ كَانَتْ لَهُمْ جُمَمٌ احْتَاجُوا إِلَى تَعَاهُدِهَا ، بَكَّرَ وَابْتَكَرَ : يُرِيدُ بِهِ بَكَّرَ إِلَى الْغُسْلِ ، وَابْتَكَرَ إِلَى الْجُمُعَةِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا اوس بن اوس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جو شخص جمعہ کے دن غسل کرتے ہوئے اچھی طرح غسل کرے، پھر وہ جلدی جائے اور پیدل چل کر جائے اور (امام کے) قریب ہو اور غور سے خطبہ سنے اور خاموش رہے اور کسی لغو حرکت کا مرتکب نہ ہو، تو اللہ تعالیٰ اس کے ہر ایک قدم کے عوض میں اسے ایک سو سال کے (نفلی) روزوں اور نوافل کا ثواب عطا کرتا ہے۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ”جو شخص غسل دے“ اس سے آپ کی مراد یہ ہے کہ وہ شخص اپنے سر کو دھوئے، اور ”وہ شخص غسل کرے“ اس سے آپ کی مراد یہ ہے کہ وہ شخص اپنے جسم کو دھوئے، کیونکہ لوگوں کے بال بڑے ہوتے تھے، تو انہیں اہتمام کے ساتھ ان کو دھونے کی ضرورت پیش آتی تھی، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان کہ ”وہ شخص جلدی جائے اور جلدی کرے“ اس سے مراد یہ ہے کہ وہ غسل کے لیے جلدی کرے اور جمعے کے لیے جلدی جائے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2781]

2782

Sahih Ibn Hibban #2782

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ الزُّهْرِيُّ ، عَنْ طَاوُسٍ الْيَمَانِيِّ ، قَالَ : قُلْتُ لابْنِ عَبَّاسٍ : زَعَمُوا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : اغْتَسِلُوا يَوْمَ الْجُمُعَةِ ، وَاغْسِلُوا رُؤُوسَكُمْ إِلا أَنْ تَكُونُوا جُنُبًا ، وَمَسُّوا مِنَ الطِّيبِ "، قَالَ : فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : أَمَّا الطِّيبُ فَلا أَدْرِي ، وَأَمَّا الْغُسْلُ فَنَعَمْ ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : قَوْلُهُ " إِلا أَنْ تَكُونُوا جُنُبًا " ، فِيهِ دَلِيلٌ عَلَى أَنَّ الاغْتِسَالَ مِنَ الْجَنَابَةِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ بَعْدَ انْفِجَارِ الصُّبْحِ يُجْزِئُ عَنِ الاغْتِسَالِ لِلْجُمُعَةِ ، وَفِيهِ دَلِيلٌ عَلَى أَنَّ غُسْلَ يَوْمِ الْجُمُعَةِ لَيْسَ بِفَرْضٍ ، إِذْ لَوْ كَانَ فَرْضًا لَمْ يُجْزِئْ أَحَدُهُمَا عَنِ الآخَرِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

طاؤس یمانی بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا: لوگ یہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”تم لوگ جمعہ کے دن غسل کرو اور اپنے سر کو دھو لو، ماسوائے اس کے کہ تم جنبی ہو، اور تم خوشبو بھی لگاؤ۔“ تو سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: جہاں تک خوشبو کا تعلق ہے تو اس کے بارے میں مجھے معلوم نہیں ہے، البتہ جہاں تک غسل کا تعلق ہے تو یہ بات ٹھیک ہے۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ہے کہ: ”ماسوائے اس کے کہ تم جنبی ہو“ اس میں اس بات کی دلیل موجود ہے کہ جمعہ کے دن غسل جنابت کرنا جبکہ وہ صبح صادق ہو جانے کے بعد ہو، یہ جمعہ کے لیے غسل کرنے کی جگہ کافی ہو گا۔ اس میں اس بات کی دلیل موجود ہے کہ جمعہ کے دن غسل کرنا فرض نہیں ہے؛ کیونکہ اگر یہ فرض ہوتا تو ان دونوں میں سے کوئی ایک غسل دوسرے کی جگہ کافی نہ ہوتا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2782]

2783

Sahih Ibn Hibban #2783

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ زَبِيدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ عُمَرَ ، قال : صَلاةُ السَّفَرِ ، وَصَلاةُ الْفِطْرِ ، وَصَلاةُ الأَضْحَى ، وَصَلاةُ الْجُمُعَةِ رَكْعَتَانِ تَمَامٌ ، غَيْرُ قَصْرٍعَلَى لِسَانِ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”سفر کی نماز، عید الفطر کی نماز، عید الاضحی کی نماز اور جمعہ کی نماز دو رکعات ہوتی ہیں اور یہ مکمل نماز ہے، اس میں قصر نہیں ہے، یہ بات تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی ثابت ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2783]

2784

Sahih Ibn Hibban #2784

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : نَحْنُ السَّابِقُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بَيْدَ أَنَّهُمْ أُوتُوا الْكِتَابَ مِنْ قَبْلِنَا ، وَأُوتِينَاهُ مِنْ بَعْدِهُمْ ، فَهَذَا يَوْمُهُمُ الَّذِي فُرِضَ عَلَيْهِمْ ، فَاخْتَلَفُوا فِيهِ ، فَهَدَانَا اللَّهُ لَهُ ، فَهُمْ لَنَا فِيهِ تَبَعٌ ، الْيَهُودُ غَدًا ، وَالنَّصَارَى بَعْدَ غَدٍ "، سَمِعْتُ مُوسَى بْنَ مُحَمَّدٍ الذُّهْلِيَّ بِأَنْطَاكِيَةَ يَقُولُ : سَمِعْتُ الْمُزَنِيَّ يَقُولُ : " بَيْدَ " : مِنْ أَجْلِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”ہم قیامت کے دن سبقت لے جانے والے ہوں گے، اس کی وجہ یہ ہے کہ ان لوگوں کو ہم سے پہلے کتاب دی گئی اور ہمیں ان کے بعد دی گئی اور یہ وہ دن ہے جو ان لوگوں پر فرض قرار دیا گیا تو انہوں نے اس کے بارے میں اختلاف کیا، تو اللہ تعالیٰ نے اس کی طرف ہماری رہنمائی کی تو اس دن کے حوالے سے وہ لوگ ہمارے پیروکار ہیں، یہودیوں کا دن کل کا (یعنی ہفتے کا ہے) اور عیسائیوں کا دن پرسوں کا (یعنی اتوار کا ہے)۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2784]

2785

Sahih Ibn Hibban #2785

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي سَلامٍ ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ مِينَاءَ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، وَابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّهُمَا شَهِدَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ : لَيَنْتَهِيَنَّ قَوْمٌ عَنْ وَدْعِهِمُ الْجُمُعَاتِ ، أَوْ لَيَخْتِمَنَّ اللَّهُ عَلَى قُلُوبِهِمْ ، وَلَيَكُونُنَّ مِنَ الْغَافِلِينَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اور سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں گواہی دے کر یہ بات بیان کرتے ہیں کہ آپ نے منبر پر یہ بات ارشاد فرمائی: ”یا تو لوگ جمعے کو ترک کرنے سے باز آ جائیں گے یا پھر اللہ تعالیٰ ان کے دلوں پر مہر لگا دے گا اور وہ لوگ غافلین میں شامل ہو جائیں گے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2785]

2786

Sahih Ibn Hibban #2786

أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ سِنَانٍ الْقَطَّانُ إِمْلاءً ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ الْجَحْدَرِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَلْقَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُبَيْدَةُ بْنُ سُفْيَانَ الْحَضْرَمِيُّ ، عَنْ أَبِي الْجَعْدِ الضَّمْرِيِّ ، وَكَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ تَرَكَ الْجُمُعَةَ ثَلاثَ مَرَّاتٍ تَهَاوُنًا بِهَا ، طَبَعَ اللَّهُ عَلَى قَلْبِهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابو جعد ضمری رضی اللہ عنہ صحابیِ رسول ہیں، وہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جو شخص جمعے کو کم تر سمجھتے ہوئے اسے تین مرتبہ ترک کر دے گا، تو اللہ تعالیٰ اس کے دل پر مہر لگا دے گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2786]

2787

Sahih Ibn Hibban #2787

أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ دَاوُدَ بْنِ وَرْدَانَ بِالْفُسْطَاطِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، عَنِ ابْنِ عَجْلانَ ، عَنِ الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : إِنَّالْعَبْدَ إِذَا أَخْطَأَ خَطِيئَةً نُكِتَ فِي قَلْبِهِ نُكْتَةٌ ، فَإِنْ هُوَ نَزَعَ وَاسْتَغْفَرَ وَتَابَ ، صُقِلَتْ ، فَإِنْ عَادَ زِيدَ فِيهَا ، وَإِنْ عَادَ زِيدَ فِيهَا حَتَّى تَعْلُوَ فِيهِ ، فَهُوَ الرَّانُ الَّذِي ذَكَرَ اللَّهُ جَلَّ وَعَلا : كَلا بَلْ رَانَ عَلَى قُلُوبِهِمْ مَا كَانُوا يَكْسِبُونَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جب بندہ کوئی غلطی کرتا ہے، تو اس کے دل پر ایک نکتہ لگا دیا جاتا ہے، اگر وہ اس سے الگ ہو جائے اور مغفرت طلب کر لے اور توبہ کر لے، تو وہ نکتہ صاف ہو جاتا ہے، البتہ اگر وہ دوبارہ وہی غلطی کرتا ہے، تو اس میں اضافہ ہو جاتا ہے، یہاں تک کہ (وہ سیاہی) اس کے دل پر غالب آ جاتی ہے، یہ وہ «الرَّانُ» (زنگ) ہے، جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے کیا ہے: ﴿كَلَّا بَلْ رَانَ عَلَى قُلُوبِهِمْ مَا كَانُوا يَكْسِبُونَ﴾ [سورة المطففين: 14] ”بلکہ ان کے دلوں پر زنگ لگ گیا ہے اس وجہ سے جو وہ کماتے ہیں۔““ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2787]

2788

Sahih Ibn Hibban #2788

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ هَمَّامٍ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، حَدَّثَنِي قُدَامَةُ بْنُ وَبَرَةَ ، رَجُلٌ مِنْ بَنِي عُجَيْفٍ ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : مَنْ فَاتَتْهُ الْجُمُعَةُ ، فَلْيَتَصَدَّقْ بِدِينَارٍ ، فَإِنْ لَمْ يَجِدْ ، فَبِنِصْفِ دِينَارٍ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جس شخص کا جمعہ فوت ہو جائے اسے ایک دینار صدقہ کرنا چاہیے، اگر وہ (اتنا) نہ پائے، تو اسے نصف دینار صدقہ کرنا چاہیے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2788]

2789

Sahih Ibn Hibban #2789

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ بْنِ عُبَيْدٍ ، أَخْبَرَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ قُدَامَةَ بْنِ وَبَرَةَ ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ تَرَكَ الْجُمُعَةَ مِنْ غَيْرِ عُذْرٍ ، فَلْيَتَصَدَّقْ بِدِينَارٍ ، فَإِنْ لَمْ يَجِدْ فَبِنِصْفِ دِينَارٍ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”جو شخص کسی عذر کے بغیر جمعے کو ترک کر دے اسے ایک دینار صدقہ کرنا چاہیے، اگر وہ دستیاب نہ ہو، تو نصف دینار کرنا چاہیے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2789]

2790

Sahih Ibn Hibban #2790

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ مُعَاوِيَةَ بْنَ صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي الزَّاهِرِيَّةِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ ، قَالَ : كُنْتُ جَالِسًا إِلَى جَنْبِ الْمِنْبَرِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ ، فَجَاءَ رَجُلٌ يَتَخَطَّى رِقَابَ النَّاسِ ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ النَّاسَ ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اجْلِسْ فَقَدْ آذَيْتَ وَآنَيْتَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں جمعہ کے دن منبر کے پہلو پر بیٹھا ہوا تھا، اسی دوران ایک شخص آیا اور لوگوں کی گردنیں پھلانگنے لگا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو خطبہ دے رہے تھے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: ”تم بیٹھ جاؤ، تم نے اذیت پہنچائی ہے اور تم دیر سے آئے ہو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2790]

2791

Sahih Ibn Hibban #2791

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ يُونُسٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبْجَرَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ وَاصِلِ بْنِ حَيَّانَ ، قَالَ : قَالَ أَبُو وَائِلٍ ، خطبنا عمار بن ياسر ، فأوجز وأبلغ ، فلما نزل قلنا : يا أبا اليقظان ، لقد أبلغت وأوجزت ، فلو كنت تنفست ، فقال : إني سمعت رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : أَنَّطُولِ صَلاةِ الرَّجُلِ وَقِصَرَ خُطْبَتِهِ مَئِنَّةٌ مِنْ فِقْهِ الرَّجُلِ ، فَأَطِيلُوا الصَّلاةَ ، وَاقْصُرُوا الْخُطْبَةَ ، وَإِنَّ مِنَ الْبَيَانِ سِحْرًا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابووائل بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما نے ہمیں مختصر اور بلیغ خطبہ دیا، جب وہ منبر سے اترے تو ہم نے کہا: اے ابویقظان! آپ نے بلیغ اور مختصر خطبہ دیا ہے، اگر آپ مزید (خطبہ) دیتے (تو مناسب ہوتا) تو انہوں نے فرمایا: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”آدمی کا نماز کو طویل ادا کرنا اور خطبے کو مختصر دینا آدمی کے سمجھدار ہونے کی نشانی ہے، تو تم لوگ نماز کو طویل ادا کرو اور خطبہ مختصر دیا کرو کیونکہ بعض بیان جادو ہوتے ہیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2791]

2792

Sahih Ibn Hibban #2792

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِذَا نَعَسَ أَحَدُكُمْ فِي مَجْلِسِهِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ ، فَلْيَتَحَوَّلْ مِنْهُ إِلَى غَيْرِهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”جب جمعہ کے دن کسی شخص کو اپنی جگہ پر بیٹھے اونگھ آ جائے، تو اسے دوسری جگہ چلے جانا چاہیے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2792]

2793

Sahih Ibn Hibban #2793

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي ابْنُ الْمُسَيَّبِ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِذَا قُلْتَ لِصَاحِبِكَ : أَنْصِتْ وَالإِمَامُ يَخْطُبُ فَقَدْ لَغَوْتَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”جب تم نے امام کے خطبے کے دوران اپنے ساتھی سے کہا: تم خاموش رہو، تو تم نے لغو حرکت کی۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2793]

2794

Sahih Ibn Hibban #2794

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ، وَعَبْدُ الأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ ، قَالا : حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ الْقُمِّيُّ ، عَنْ عِيسَى بْنِ جَارِيَةَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : دَخَلَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ ، الْمَسْجِدَ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ فَجَلَسَ إِلَى جَنْبِ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ، فَسَأَلَهُ عَنْ شَيْءٍ ، أَوْ كَلَّمَهُ عَنْ شَيْءٍ ، فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ ، فَظَنَّ ابْنُ مَسْعُودٍ أَنَّهَا مَوْجِدَةٌ ، فَلَمَّا انْفَتَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ صَلاتِهِ ، قَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ : يَا أُبَيُّ مَا مَنَعَكَ أَنْ تَرُدَّ عَلَيَّ ؟ قَالَ : إِنَّكَلَمْ تَحْضُرْ مَعَنَا الْجُمُعَةَ ، قَالَ : بِمَ ؟ قَالَ : تَكَلَّمْتَ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ ، فَقَامَ ابْنُ مَسْعُودٍ ، فَدَخَلَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ ، فَقَالَ لَهُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : صَدَقَ أُبَيُّ ، أَطِعْ أُبَيًّا "، هَذَا لَفْظُ عَبْدِ الأَعْلَى"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ مسجد میں داخل ہوئے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت خطبہ دے رہے تھے، وہ سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کے پہلو میں بیٹھ گئے۔ انہوں نے ان سے کسی چیز کے بارے میں دریافت کیا یا ان سے کسی چیز کے بارے میں کوئی بات کی، تو سیدنا ابی رضی اللہ عنہ نے انہیں جواب نہیں دیا۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ یہ سمجھے کہ شاید سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کسی بات پر ناراض ہیں، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ کر فارغ ہوئے، تو سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے ابی! کیا وجہ ہے کہ تم نے مجھے جواب نہیں دیا؟ تو سیدنا ابی رضی اللہ عنہ نے کہا: تم ہمارے ساتھ جمعے میں شریک نہیں ہوئے۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا: وہ کیوں؟ سیدنا ابی رضی اللہ عنہ نے کہا: اس کی وجہ یہ ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے خطبہ دینے کے دوران تم نے کلام کیا تھا، تو سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اٹھے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر آپ کے سامنے اس بات کا تذکرہ کیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”ابی نے ٹھیک کہا ہے، تم ابی کی بات مان لو۔“ روایت کے یہ الفاظ عبدالاعلیٰ کے نقل کردہ ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2794]

2795

Sahih Ibn Hibban #2795

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ وَمَالِكٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : إِذَا قَالَ الرَّجُلُ لِصَاحِبِهِ : أَنْصِتْ وَالإِمَامُ يَخْطُبُ ، فَقَدْ لَغَا "، قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ : وَأَخْبَرَنِي ابْنُ شِهَابٍ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَارِظٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، مِثْلَهُ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جب کوئی شخص اپنے ساتھی سے یہ کہے: تم خاموش رہو، اور امام اس وقت خطبہ دے رہا ہو، تو اس شخص نے لغو حرکت کی۔“ ابن جریج بیان کرتے ہیں: یہی روایت ایک اور سند کے ساتھ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2795]

2796

Sahih Ibn Hibban #2796

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَبَّانُ بْنُ هِلالٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَاصِمُ بْنُ كُلَيْبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : كُلُّ خِطْبَةٍ لَيْسَ فِيهَا تَشَهَّدٌ ، فَهِيَ كَالْيَدِ الْجَذْمَاءِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”ہر وہ خطبہ جس میں کلمہ شہادت نہ ہو اس کی مثال کٹے ہوئے ہاتھ کی مانند ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2796]

2797

Sahih Ibn Hibban #2797

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا الْمَخْزُومِيُّ الْمُغِيرَةُ بْنُ سَلَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ كُلَيْبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ : كُلُّ خِطْبَةٍ لَيْسَ فِيهَا تَشَهَّدٌ ، فَهِيَ كَالْيَدِ الْجَذْمَاءِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”ہر وہ کلمہ جس میں کلمہ شہادت نہ ہو اس کی مثال کٹے ہوئے ہاتھ کی مانند ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2797]

2798

Sahih Ibn Hibban #2798

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الأَحْمَسِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ ، عَنْ تَمِيمِ بْنِ طَرَفَةَ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ ، أَنَّ رَجُلا خَطَبَ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ :مَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَقَدْ رَشَدَ ، وَمَنْ يَعْصِهِمَا فَقَدْ غَوَى ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : بِئْسَ الْخَطِيبُ ، قُلْ : وَمَنْ يَعْصِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے خطبہ دیا، اس نے یہ کہا: ”جس نے اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کی اس نے ہدایت پائی اور جس نے ان دونوں کی نافرمانی کی وہ گمراہ ہو گیا“ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم کتنے برے خطیب ہو! تم یہ کہو: جس شخص نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2798]

2799

Sahih Ibn Hibban #2799

أَخْبَرَنَا ابْنُ خُزَيْمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي ، وَشُعَيْبٌ ، قَالا : حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلالٍ ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنَّهُ قَالَ : خَطَبَنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَرَأَ : ص ، فَلَمَّا مَرَّ بِالسَّجْدَةِ نَزَلَ فَسَجَدَ ، فَسَجَدْنَا مَعَهُ ، وَقَرَأَهَا مَرَّةً أُخْرَى ، فَلَمَّا بَلَغَ السَّجْدَةَ تَيَسَّرْنَا لِلسُّجُودِ ، فَلَمَّا رَآنَا ، قَالَ : إِنَّمَا هِيَ تَوْبَةُ نَبِيٍّ ، وَلَكِنِّي أَرَاكُمْ قَدِ اسْتَعْدَتُّمْ لِلسُّجُودِ " ، فَنَزَلَ ، فَسَجَدَ ، فَسَجَدْنَا مَعَهُ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : الصَّوَابُ : قَدِ اسْتَعْدَدْتُمْ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطبہ دیتے ہوئے ﴿ص﴾ [سورة ص] کی تلاوت کی، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیتِ سجدہ تلاوت کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم منبر سے نیچے اترے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ہم نے بھی سجدہ کیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دوسری مرتبہ تلاوت کیا، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدے کے مقام پر پہنچے تو ہم لوگ سجدہ کرنے کے لیے تیار تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں دیکھا تو ارشاد فرمایا: ”یہ ایک نبی کی توبہ کا واقعہ ہے، لیکن میں نے تمہیں دیکھا ہے کہ تم سجدہ کرنے کے لیے تیار ہو“، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم منبر سے نیچے اترے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ہم نے بھی سجدہ کیا۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) درست لفظ یہ ہے: «اسْتَعْدَدْتُمْ» (یعنی ”تم ایسا کرنے کے لیے مستعد ہو“)۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2799]

2800

Sahih Ibn Hibban #2800

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنِ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي قَيْسُ بْنُ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : جَاءَ أَبِي وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَخْطُبُ ، فَقَامَ فِي الشَّمْسِ ، فَأَمَرَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَتَحَوَّلَ إِلَى الظِّلِّ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

قیس بن ابوحازم اپنے والد (سیدنا ابوحازم رضی اللہ عنہ) کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ میرے والد (مسجد میں) آئے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت خطبہ دے رہے تھے، (میرے والد) دھوپ میں کھڑے ہو گئے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ ”وہ سائے میں آ جائیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2800]

2801

Sahih Ibn Hibban #2801

أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْحَسَنِ الْعَطَّارُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذِ بْنِ مُعَاذٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالَ : سَأَلْتُ جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ ، كَيْفَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ ؟ قَالَ : كَانَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ،يَخْطُبُ ، ثُمَّ يَقْعُدُ قَعْدَةً ، ثُمَّ يَقُومُ فَيَخْطُبُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سماک بن حرب رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے سوال کیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کس طرح خطبہ دیا کرتے تھے؟ انہوں نے بتایا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پہلے خطبہ دیتے تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کچھ دیر کے لیے بیٹھ جاتے تھے، پھر کھڑے ہو کر خطبہ دیتے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2801]

2802

Sahih Ibn Hibban #2802

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْجُنَيْدِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ : كُنْتُ أُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانَتْصَلاتُهُ قَصْدًا ، وَخُطْبَتُهُ قَصْدًا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتدا میں نماز ادا کرتا رہا ہوں، آپ کی نماز بھی درمیانی ہوتی تھی اور خطبہ بھی درمیانہ ہوتا تھا (نہ زیادہ مختصر ہوتے تھے نہ زیادہ طویل ہوتے تھے)۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2802]

2803

Sahih Ibn Hibban #2803

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ الْقَطَّانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْوَزَّانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَيَخْطُبُ عَلَى الْمِنْبَرِ ، ثُمَّ يَجْلِسُ ، ثُمَّ يَقُومُ فَيَخْطُبُ ، فَيَجْلِسُ بَيْنَ الْخُطْبَتَيْنِ يَقْرَأُ مِنْ كِتَابِ اللَّهِ ، وَيُذَكِّرُ النَّاسَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر خطبہ دیتے تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما ہو جاتے تھے، پھر کھڑے ہو کر خطبہ دیتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم دو خطبوں کے درمیان بیٹھتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم (خطبے کے دوران) اللہ تعالیٰ کی کتاب (کی آیات) تلاوت کرتے تھے اور لوگوں کو وعظ و نصیحت کرتے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2803]