Muslim99Muslim99

Sahih Ibn Hibban · Book 25 · Chapter 1

Book of Lost and Found

Hadith 2724–2763

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

2724

Sahih Ibn Hibban #2724

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ قَزَعَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : لا تُسَافِرِ الْمَرْأَةُ يَوْمَيْنِ مِنَ الدَّهْرِ إِلا وَمَعَهَا زَوْجُهَا ، أَوْ ذُو مَحْرَمٍ مِنْهَا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”کوئی بھی عورت دو دن کا سفر نہ کرے مگر یہ کہ اس کا شوہر یا کوئی محرم اس کے ساتھ ہو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2724]

2725

Sahih Ibn Hibban #2725

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : لا يَحِلُّ لامْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ أَنْ تُسَافِرَ مَسِيرَةَ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ إِلا مَعَ ذِي مَحْرَمٍ مِنْهَا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھنے والی کسی بھی عورت کے لیے یہ بات جائز نہیں ہے کہ وہ ایک دن اور ایک رات کی مسافت کا سفر کرے مگر یہ کہ اس کے ساتھ اس کا محرم ہو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2725]

2726

Sahih Ibn Hibban #2726

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : لا يَحِلُّ لامْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخَرِ أَنْ تُسَافِرَ يَوْمًا وَاحِدًا لَيْسَ مَعَهَا ذُو مَحْرَمٍ "، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : سَمِعَ هَذَا الْخَبَرَ سَعِيدٌ الْمَقْبُرِيُّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، وَسَمِعَهُ مِنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، فَالطَّرِيقَانِ جَمِيعًا مَحْفُوظَانِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھنے والی کسی بھی عورت کے لیے یہ بات جائز نہیں ہے، وہ ایک دن کا ایسا سفر کرے جس میں اس کے ساتھ کوئی محرم نہ ہو۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) سعید مقبری نے یہ روایت سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے بھی سنی اور انہوں نے یہ روایت اپنے والد کے حوالے سے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے بھی سنی ہے تو اس کے دونوں طرق محفوظ ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2726]

2727

Sahih Ibn Hibban #2727

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ السَّامِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : لا تُسَافِرِ الْمَرْأَةُ بَرِيدًا إِلا مَعَ ذِي مَحْرَمٍ "، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : سَمِعَ هَذَا الْخَبَرَ سُهَيْلُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، وَسَمِعَهُ مِنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، فَالطَّرِيقَانِ جَمِيعًا مَحْفُوظَانِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”کوئی بھی عورت ایک برید کا سفر بھی محرم کے بغیر نہ کرے۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) سہیل بن ابوصالح نے اپنے والد کے حوالے سے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے یہ حدیث سنی ہے اور انہوں نے یہ روایت سعید مقبری کے حوالے سے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے بھی سنی ہے، تو اس کے دونوں طرق محفوظ ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2727]

2728

Sahih Ibn Hibban #2728

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : لا يَحِلُّ لامْرَأَةٍ مَسْلَمَةٍ تُسَافِرُ مَسِيرَةَ لَيْلَةٍ إِلا وَمَعَهَا رَجُلٌ ذُو حُرْمَةٍ مِنْهَا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”کسی مسلمان عورت کے لیے یہ بات جائز نہیں ہے کہ وہ ایک رات کا سفر کرے مگر یہ کہ اس کا کوئی محرم مرد اس کے ساتھ ہونا چاہیے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2728]

2729

Sahih Ibn Hibban #2729

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : لا تُسَافِرُ الْمَرْأَةُ إِلا وَمَعَهَا ذُو مَحْرَمٍ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”عورت سفر نہ کرے البتہ اگر اس کا محرم اس کے ساتھ ہو (تو یہ جائز ہے)“۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2729]

2730

Sahih Ibn Hibban #2730

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ عِيَاضٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : لا تُسَافِرُ الْمَرْأَةُ ثَلاثَةَ أَيَّامٍ إِلا وَمَعَهَا ذُو مَحْرَمٍ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”کوئی عورت تین دن کا سفر نہ کرے مگر یہ، اس کا محرم اس کے ساتھ ہو (تو یہ جائز ہے)۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2730]

2731

Sahih Ibn Hibban #2731

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، سَمِعَ أَبَا مَعْبَدٍ ، سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ ، سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : لا يَخْلُوَنَّ رَجُلٌ بِامْرَأَةٍ ، وَلا تُسَافِرُ إِلا وَمَعَهَا ذُو مَحْرَمٍ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”(کسی نامحرم) عورت کے ساتھ تنہائی میں ہرگز نہ رہو اور عورت سفر نہ کرے البتہ اگر اس کے ساتھ اس کا محرم ہو (تو یہ جائز ہے)۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2731]

2732

Sahih Ibn Hibban #2732

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، عَنِ ابْنِ عَجْلانَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لا يَحِلُّ لامْرَأَةٍ تُسَافِرُ إِلا مَعَ ذِي مَحْرَمٍ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”کسی عورت کے لیے سفر پر جانا جائز نہیں ہے البتہ اگر محرم ساتھ ہو (تو جائز ہے)۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2732]

2733

Sahih Ibn Hibban #2733

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ : حَدَّثَتْنِي عَمْرَةُ بِنْتُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّ عَائِشَةَ أُخْبِرَتْ ، أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ ، قَالَ : نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَالْمَرْأَةَ أَنْ تُسَافِرَ إِلا وَمَعَهَا ذُو مَحْرَمٍ "، قَالَتْ عَمْرَةُ : فَالْتَفَتَتْ عَائِشَةُ إِلَى بَعْضِ النِّسَاءِ فَقَالَتْ : " مَا لِكُلِّكُمْ ذُو مَحْرَمٍ " ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : لَمْ تَكُنْ عَائِشَةُ بِالْمُتَّهِمَةِ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ فِي الرِّوَايَةِ ، لأَنَّ أَصْحَابَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُلُّهُمْ عُدُولٌ ثِقَاتٌ ، وَإِنَّمَا أَرَادَتْ عَائِشَةُ بِقَوْلِ : مَا لِكُلِّكُمْ ذُو مَحْرَمٍ ، تُرِيدُ أَنْ لَيْسَ لِكُلِّكُمْ ذُو مَحْرَمٍ تُسَافِرُ مَعَهُ ، فَاتَّقُوا اللَّهَ وَلا تُسَافِرْ وَاحِدَةٌ مِنْكُنَّ إِلا بِذِي مَحْرَمٍ يَكُونُ مَعَهَا"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو یہ بات پتہ چلی کہ سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے یہ بات بیان کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خاتون کو اس بات سے منع کیا ہے کہ ”وہ سفر پر جائے، البتہ اگر اس کے ہمراہ اس کا محرم ہو (تو جائز ہے)۔“ عمرہ نامی خاتون بیان کرتی ہیں: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بعض خواتین کی طرف توجہ کی اور فرمایا: کیا تم سب کے ہمراہ محرم نہیں ہے؟ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس روایت کے بارے میں سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ پر الزام عائد نہیں کیا، کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام صحابہ رضی اللہ عنہم عادل اور ثقہ ہیں۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے اس قول ”کیا تم میں سے ہر ایک کے ساتھ محرم نہیں ہے“ سے ان کی مراد یہ ہے کہ تم میں سے ہر ایک کے ساتھ محرم نہیں ہوتا کہ تم اس کے ساتھ سفر کر سکو، تم اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور تم میں سے کوئی بھی عورت محرم کے بغیر سفر نہ کرے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2733]

2734

Sahih Ibn Hibban #2734

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْجُنَيْدِ ، بِبُسْتَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ مُضَرَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَّ عَمْرَةَ بِنْتَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَتْهُ ، أَنَّهَا كَانَتْ عِنْدَ عَائِشَةَ ، تَقُولُ لِعَائِشَةَ : إِنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ ، يُخْبِرُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ : لا يَحِلُّ لامْرَأَةٍ تُسَافِرُ فَوْقَ ثَلاثَةِ أَيَّامٍ إِلا مَعَ ذِي مَحْرَمٍ "، قَالَتْ عَمْرَةُ : فَالْتَفَتَتْ إِلَيْنَا عَائِشَةُ ، فَقَالَتْ : " مَا كُلُّهُنَّ لَهَا ذُو مَحْرَمٍ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عمرہ بنت عبدالرحمن بیان کرتی ہیں کہ وہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس موجود تھیں، انہوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے یہ کہا: سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے یہ بات بیان کی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”کسی بھی عورت کے لیے تین دن سے زیادہ سفر کرنا جائز نہیں ہے، البتہ اگر اس کا محرم ساتھ ہو (تو جائز ہے)۔“ عمرہ نامی خاتون بیان کرتی ہیں: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ہماری طرف توجہ کی اور دریافت کیا: کیا ان سب کے ہمراہ محرم نہیں ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2734]

2735

Sahih Ibn Hibban #2735

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أُمَيَّةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خَالِدٍ ، أَنَّهُ قَالَ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ : إِنَّا نَجِدُ صَلاةَ الْحَضَرِ وَصَلاةَ الْخَوْفِ ، وَلا نَجْدُ صَلاةَ السَّفَرِ فِي الْقُرْآنِ ، فَقَالَ لَهُ عَبْدُ اللَّهِ : ابْنَ أَخِي ، إِنَّاللَّهَ جَلَّ وَعَلا بَعَثَ إِلَيْنَا مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلا نَعْلَمُ شَيْئًا ، فَإِنَّمَا نَفْعَلُ كَمَا رَأَيْنَاهُ يَفْعَلُ "، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : أَبَاحَ اللَّهُ جَلَّ وَعَلا قَصْرَ الصَّلاةِ عِنْدَ وُجُودِ الْخَوْفِ فِي كِتَابِهِ حَيْثُ يَقُولُ : فَلَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَنْ تَقْصُرُوا مِنَ الصَّلاةِ إِنْ خِفْتُمْ أَنْ يَفْتِنَكُمُ الَّذِينَ كَفَرُوا ، وَأَبَاحَ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَصْرَ الصَّلاةِ فِي السَّفَرِ عِنْدَ وُجُودِ الأَمْنِ بِغَيْرِ الشَّرْطِ الَّذِي أَبَاحَ اللَّهُ جَلَّ وَعَلا قَصْرَ الصَّلاةِ بِهِ ، فَالْفِعْلانِ جَمِيعًا مُبَاحَانِ مِنَ اللَّهِ ، أَحَدُهُمَا إِبَاحَةٌ فِي كِتَابِهِ ، وَالآخَرُ إِبَاحَةٌ عَلَى لِسَانِ رَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

امیہ بن عبداللہ بیان کرتے ہیں، انہوں نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے کہا: ہم حضر کی نماز اور نمازِ خوف کا ذکر پاتے ہیں لیکن ہمیں قرآن میں سفر کی نماز کا ذکر نہیں ملتا۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہما نے ان سے فرمایا: ”اے میرے بھتیجے! بے شک اللہ تعالیٰ نے سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو ہماری طرف مبعوث کیا، ہمیں کسی بھی چیز کا علم نہیں تھا، ہم ویسا ہی کرتے ہیں جس طرح ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کرتے ہوئے دیکھا ہے۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) اللہ تعالیٰ نے خوف کی موجودگی میں نماز کے قصر کرنے کو مباح قرار دیا ہے، جس کا ذکر اس کی کتاب میں ہے، اس نے فرمایا ہے: ﴿فَلَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَنْ تَقْصُرُوا مِنَ الصَّلَاةِ إِنْ خِفْتُمْ أَنْ يَفْتِنَكُمُ الَّذِينَ كَفَرُوا﴾ [سورة النساء: 101] ”تم لوگوں پر کوئی گناہ نہیں ہو گا اگر تم نماز کو قصر کر دیتے ہو، جب تم خوف کے عالم میں ہو (اور خوف یہ ہو) کہ کافر لوگ تم کو آزمائش کا شکار کر دیں گے۔“ جبکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سفر کے دوران نماز کے قصر کرنے کو مباح قرار دیا ہے، اس وقت جب امن کی صورت حال درپیش ہو، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی شرط کے بغیر ایسا کیا ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے نماز کو قصر کرنے کے لیے شرط قرار دیا تھا، تو یہ دونوں فعل اللہ کی طرف سے مباح ہیں، جن میں سے ایک کی اباحت کا ذکر اس کی کتاب میں ہے اور دوسری کی اباحت کا ذکر اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی ذکر ہوا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2735]

2736

Sahih Ibn Hibban #2736

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الأَنْصَارِيُّ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ : فُرِضَتِ الصَّلاةُ رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ فِي الْحَضَرِ وَالسَّفَرِ ، فَأُقِرَّتْ صَلاةُ السَّفَرِ وَزِيدَ فِي الْحَضَرِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: پہلے نماز حضر اور سفر دونوں حالتوں میں دو، دو رکعت فرض ہوئی تھی، پھر سفر کی نماز کو اپنی حالت میں برقرار رکھا گیا اور حضر کی نماز میں اضافہ کر دیا گیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2736]

2737

Sahih Ibn Hibban #2737

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، بِحَرَّانَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا النُّفَيْلِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ : أَوَّلُ مَا فُرِضَتِ الصَّلاةُ فِي الْحَضَرِ وَالسَّفَرِ رَكْعَتَيْنِ ، ثُمَّ زِيدَ فِي صَلاةِ الْحَضَرِ ، وَأُقِرَّتْ فِي السَّفَرِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: جب نماز فرض ہوئی تھی، تو حضر اور سفر کے دوران دو دو رکعت ہی فرض ہوئی تھی، پھر حضر کی نماز میں اضافہ کر دیا گیا، اور سفر کی نماز کو اس کی اسی حالت میں برقرار رکھا گیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2737]

2738

Sahih Ibn Hibban #2738

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مَعْشَرٍ ، بِحَرَّانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الصَّبَّاحِ الْعَطَّارُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مَحْبُوبُ بْنُ الْحَسَنِ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : فُرِضَتْ صَلاةُ السَّفَرِ وَالْحَضَرِ رَكْعَتَيْنِ ، فَلَمَّا أَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْمَدِينَةِ زِيدَ فِي صَلاةِ الْحَضَرِ رَكْعَتَانِ رَكْعَتَانِ ، وَتُرِكَتْ صَلاةُ الْفَجْرِ لِطُولِ الْقِرَاءَةِ ، وَصَلاةُ الْمَغْرِبِ لأَنَّهَا وِتْرُ النَّهَارِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: سفر اور حضر کی نماز دو، دو رکعت کی شکل میں فرض ہوئی تھیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دو، دو رکعات ادا کرتے رہے (پھر بعد میں نماز کی رکعات کی تعداد میں اضافہ ہوا لیکن) فجر کی نماز کو طویل قرأت کی وجہ سے ترک کر دیا گیا اور مغرب کی نماز کو اس لیے ترک کر دیا گیا کیونکہ وہ دن کے وتر ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2738]

2739

Sahih Ibn Hibban #2739

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي عَمَّارٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَابَيْهِ ، عَنْ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ ، قَالَ : قُلْتُ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ : قَوْلُ اللَّهِ جَلَّ وَعَلا : فَلَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَنْ تَقْصُرُوا مِنَ الصَّلاةِ إِنْ خِفْتُمْ ، فَقَدْ أَمِنَ النَّاسُ ، فَقَالَ عُمَرُ : عَجِبْتُ مِمَّا عَجِبْتَ مِنْهُ ، فَسَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : صَدَقَةٌ تَصَدَّقَ اللَّهُ بِهَا عَلَيْكُمْ ، فَاقْبَلُوا صَدَقَةَ اللَّهِ "، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : ابْنُ أَبِي عَمَّارٍ هَذَا هُوَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ ، مِنْ ثِقَاتِ أَهْلِ مَكَّةَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

یعلی بن امیہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے کہا: اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا ہے: ﴿تم لوگوں پر کوئی گناہ نہیں ہے﴾ [سورة النساء: 101] یعنی اس حوالے سے کہ تم اگر (دشمن کی طرف سے) اندیشے کا شکار ہو، تو تم نماز کو قصر کر لو لیکن اب تو لوگ امن کی حالت میں آ چکے ہیں، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں بھی اس بات پر حیران ہوا جس بات پر تم حیران ہوئے ہو، میں نے اس بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا، تو آپ نے ارشاد فرمایا: ”یہ ایک صدقہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے تم پر کیا ہے، تم لوگ اللہ تعالیٰ کے صدقے کو قبول کر لو۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) ابن ابوعمار نامی راوی عبدالرحمن بن عبداللہ بن عمار ہے، یہ اہل مکہ سے تعلق رکھنے والے ثقہ راویوں میں سے ایک ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2739]

2740

Sahih Ibn Hibban #2740

أَخْبَرَنَا ابْنُ خُزَيْمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي عَمَّارٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَابَيْهِ ، عَنْ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ ، قَالَ : قُلْتُ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ : عَجِبْتُ لِلنَّاسِ وَقَصْرِهُمُ الصَّلاةَ ، وَقَدْ قَالَ اللَّهُ : فَلَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَنْ تَقْصُرُوا مِنَ الصَّلاةِ إِنْ خِفْتُمْ أَنْ يَفْتِنَكُمُ الَّذِينَ كَفَرُوا ، وَقَدْ ذَهَبَ هَذَا ، فَقَالَ عُمَرُ : عَجِبْتُ مِمَّا عَجِبْتَ مِنْهُ ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : هُوَ صَدَقَةٌ تَصَدَّقَ اللَّهُ بِهَا عَلَيْكُمْ ، فَاقْبَلُوا رُخْصَتُهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

یعلی بن امیہ بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے کہا: مجھے اس بات پر حیرت ہوتی ہے، وہ نماز قصر ادا کرتے ہیں، جبکہ اللہ تعالیٰ نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ﴿لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَنْ تَقْصُرُوا مِنَ الصَّلَاةِ إِنْ خِفْتُمْ أَنْ يَفْتِنَكُمُ الَّذِينَ كَفَرُوا﴾ [سورة النساء: 101] ”تم پر کوئی گناہ نہیں ہے۔“ یہ اس وقت ہے، جب تم لوگوں کو اس بات کا اندیشہ ہو، کافر لوگ تمہیں آزمائش کا شکار کر دیں گے تو اس وقت اگر تم نماز قصر کرتے ہو (تو تمہیں کوئی گناہ نہیں ہو گا) لیکن اب یہ صورتحال رخصت ہو چکی ہے، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں بھی اس بات پر حیران ہوا تھا جس بات پر تم حیران ہوئے ہو، میں نے اس بات کا تذکرہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: «صَدَقَةٌ تَصَدَّقَ اللهُ بِهَا عَلَيْكُمْ، فَاقْبَلُوا صَدَقَتَهُ» ”یہ وہ صدقہ ہے، جو اللہ تعالیٰ نے تم لوگوں پر کیا ہے، تو تم اس کی عطا کردہ رخصت کو قبول کرو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2740]

2741

Sahih Ibn Hibban #2741

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ ، حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَابَيْهِ ، عَنْ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ ، قَالَ : قُلْتُ لِعُمَرَ : إِقْصَارُ النَّاسِ الصَّلاةَ ، وَإِنَّمَا قَالَ اللَّهُ جَلَّ وَعَلا : أَنْ يَفْتِنَكُمُ الَّذِينَ كَفَرُوا ، فَقَدْ ذَهَبَ ذَاكَ ، فَقَالَ : عَجِبْتُ مِنْهُ حَتَّى سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : صَدَقَةٌ تَصَدَّقَ اللَّهُ بِهَا عَلَيْكُمْ ، فَاقْبَلُوا صَدَقَتَهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

یعلی بن امیہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے کہا: لوگ قصر نماز پڑھتے ہیں جبکہ اللہ تعالیٰ نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ﴿اگر تمہیں یہ اندیشہ ہو، کافر لوگ تمہیں آزمائش کا شکار کر دیں گے﴾ [سورة النساء: 101] ، تو یہ صورت حال تو اب رخصت ہو چکی ہے، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں بھی اس بات پر حیران ہوا تھا یہاں تک کہ میں نے اس بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”یہ ایک صدقہ ہے، جو اللہ تعالیٰ نے تم لوگوں پر کیا ہے، تم اس کے صدقے کو قبول کر لو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2741]

2742

Sahih Ibn Hibban #2742

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ ، حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا الدَّرَاوَرْدِيُّ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ ، عَنْ حَرْبِ بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : إِنَّاللَّهَ يُحِبُّ أَنْ تُؤْتَى رُخَصُهُ كَمَا يَكْرَهُ أَنْ تُؤْتَى مَعْصِيَتُهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”بے شک اللہ تعالیٰ اس بات کو پسند کرتا ہے، اس کی عطا کردہ رخصت پر عمل کیا جائے، جس طرح وہ اس بات کو ناپسند کرتا ہے، اس کی نافرمانی کا ارتکاب کیا جائے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2742]

2743

Sahih Ibn Hibban #2743

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي قِلابَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : صَلَّيْتُ الظُّهْرَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْمَدِينَةِ أَرْبَعًا ، وَصَلَّيْتُ مَعَهُ الْعَصْرَ بِذِي الْحُلَيْفَةِ رَكْعَتَيْنِ ، وَكَانَ مُسَافِرًا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتدا میں مدینہ منورہ میں ظہر کی نماز میں چار رکعات ادا کی ہیں اور آپ کی اقتدا میں ذوالحلیفہ میں عصر کی نماز کی دو رکعات ادا کی ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت سفر کر رہے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2743]

2744

Sahih Ibn Hibban #2744

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْجُنَيْدِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي قِلابَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَصَلَّى الظُّهْرَ بِالْمَدِينَةِ أَرْبَعًا ، وَصَلَّى الْعَصْرَ بِذِي الْحُلَيْفَةِ رَكْعَتَيْنِ "، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَنَسٌ : وَسَمِعَهُمْ يَصْرُخُونَ بِهِمَا الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ میں ظہر کی چار رکعات ادا کیں اور آپ نے ذوالحلیفہ میں عصر کی دو رکعات ادا کیں۔ راوی بیان کرتے ہیں کہ سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے ہمیں بتایا تھا کہ انہوں نے لوگوں کو بلند آواز میں حج اور عمرے کا تلبیہ پڑھتے ہوئے سنا تھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2744]

2745

Sahih Ibn Hibban #2745

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَزِيدَ الْهُنَائِيِّ ، قَالَ : سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ عَنْ قَصْرِ الصَّلاةِ ، فَقَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَإِذَا خَرَجَ مَسِيرَةَ ثَلاثَةِ أَمْيَالٍ ، أَوْ ثَلاثَةِ فَرَاسِخَ ، شُعْبَةُ الشَّاكُّ ، صَلَّى رَكْعَتَيْنِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

یحییٰ بن یزید ہنائی بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے قصر نماز کے بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب تین میل (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں:) تین فرسخ کے سفر کے لیے روانہ ہوتے تھے۔ یہ شک شعبہ نامی راوی کو ہے، تو دو رکعات ادا کرتے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2745]

2746

Sahih Ibn Hibban #2746

أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْجُنَيْدِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ مُضَرَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ بِالْمَدِينَةِ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ ، ثُمَّ خَرَجَ إِلَى بَعْضِ أَسْفَارِهِ فَصَلَّى لَنَا عِنْدَ الشَّجَرَةِ رَكْعَتَيْنِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں مدینہ منورہ میں ظہر کی چار رکعات ادا کی ہیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سفر کے لیے روانہ ہوئے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے شجرہ کے قریب ہمیں دو رکعات پڑھائی تھیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2746]

2747

Sahih Ibn Hibban #2747

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ الْقَطَّانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْوَزَّانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي قِلابَةَ ، عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَصَلَّى الظُّهْرَ بِالْمَدِينَةِ أَرْبَعًا ، وَصَلَّى الْعَصْرَ بِذِي الْحُلَيْفَةِ رَكْعَتَيْنِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ میں ظہر کی چار رکعات پڑھائی تھیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ذوالحلیفہ میں عصر کی دو رکعات پڑھائی تھیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2747]

2748

Sahih Ibn Hibban #2748

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، وَإِبْرَاهِيمَ بْنِ مَيْسَرَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَصَلَّى الظُّهْرَ بِالْمَدِينَةِ أَرْبَعًا ، وَصَلَّى الْعَصْرَ بِذِي الْحُلَيْفَةِ رَكْعَتَيْنِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ میں ظہر کی چار رکعات ادا کیں اور ذوالحلیفہ میں عصر کی دو رکعات ادا کی تھیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2748]

2749

Sahih Ibn Hibban #2749

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّامِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَأَقَامَ بِتَبُوكَ عِشْرِينَ يَوْمًا يَقْصُرُ الصَّلاةَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تبوک میں بیس دن قیام کیا، آپ اس دوران قصر نماز ادا کرتے رہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2749]

2750

Sahih Ibn Hibban #2750

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يُوسُفَ الصَّيْرَفِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ ، عَنْ عَاصِمٍ الأَحْوَلِ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَقَدِمَ مَكَّةَ ، فَأَقَامَ بِهَا سَبْعَ عَشْرَةَ لَيْلَةً يَقْصُرُ الصَّلاةَ "، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : " مَنْ أَقَامَ سَبْعَ عَشْرَةَ قَصَرَ الصَّلاةَ ، وَمَنْ أَقَامَ أَكْثَرَ أَتَمَّ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ مکرمہ تشریف لائے، آپ نے وہاں سترہ دن قیام کیا، آپ اس دوران قصر نماز ادا کرتے رہے۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جو شخص کسی جگہ سترہ دن قیام کرے، تو وہ قصر نماز ادا کرے اور جو شخص اس سے زیادہ قیام کرے گا وہ مکمل نماز ادا کرے گا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2750]

2751

Sahih Ibn Hibban #2751

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي إِسْحَاقَ ، قَالَ : سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ عَنْ قَصْرِ الصَّلاةِ ، فَقَالَ : سَافَرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْمَدِينَةِ إِلَى مَكَّةَ ،فَصَلَّى بِنَا رَكْعَتَيْنِ حَتَّى رَجَعْنَا " ، فَسَأَلْتُهُ : هَلْ أَقَامَ ؟ قَالَ : " نَعَمْ ، أَقَمْنَا بِمَكَّةَ عَشْرًا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

یحییٰ بن ابواسحاق بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے قصرِ نماز کے بارے میں دریافت کیا، تو انہوں نے بتایا: ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ مدینہ منورہ سے مکہ مکرمہ تک سفر کیا، تو ہمارے واپس آنے تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں دو رکعات پڑھاتے رہے۔ راوی کہتے ہیں: میں نے ان سے دریافت کیا: کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہاں اقامت اختیار کی تھی؟ انہوں نے جواب دیا: جی ہاں! ہم نے مکہ میں دس دن قیام کیا تھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2751]

2752

Sahih Ibn Hibban #2752

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : أَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِتَبُوكَ عِشْرِينَ يَوْمًا يَقْصُرُ الصَّلاةَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تبوک میں بیس (۲۰) دن قیام کیا تھا اور آپ (اس دوران) قصر نماز ادا کرتے رہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2752]

2753

Sahih Ibn Hibban #2753

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ النَّرْسِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى الْقَطَّانُ ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سُرَاقَةَ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَلا يُصَلِّي فِي السَّفَرِ قَبْلَهَا وَلا بَعْدُ " ، يُرِيدُ قَبْلَ الْفَرَائِضِ وَلا بَعْدَهَا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سفر کے دوران اس سے پہلے یا اس کے بعد کوئی نماز ادا نہیں کی۔ (راوی کہتے ہیں:) اس سے مراد یہ تھی کہ آپ نے فرائض سے پہلے یا اس کے بعد کوئی (سنت یا نفل نماز) ادا نہیں کی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2753]

2754

Sahih Ibn Hibban #2754

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْجُنَيْدِ إِمْلاءً ، قَالَ : حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : خَرَجْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْمَدِينَةِ إِلَى مَكَّةَ ،فَلَمْ يَزَلْ يَقْصُرُ حَتَّى رَجَعَ ، وَأَقَامَ بِهَا عَشْرًا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ مدینہ منورہ سے مکہ مکرمہ کے لیے نکلا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم واپس تشریف لانے تک مسلسل قصر نماز ادا کرتے رہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہاں (یعنی مکہ مکرمہ میں) دس دن قیام کیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2754]

2755

Sahih Ibn Hibban #2755

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ مُوسَى بْنِ سَلَمَةَ ، قَالَ : سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، قُلْتُ :أَكُونُ بِمَكَّةَ فَكَيْفَ أُصَلِّي ؟ قَالَ : صَلِّ رَكْعَتَيْنِ سُنَّةَ أَبِي الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

موسیٰ بن سلمہ بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے سوال کیا، میں نے کہا: اگر میں مکہ میں موجود ہوں، تو میں کیسے نماز ادا کروں؟ انہوں نے فرمایا: ”تم دو رکعات ادا کرو جو سیدنا ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2755]

2756

Sahih Ibn Hibban #2756

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَامِرِ بْنِ زُرَارَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ حَارِثَةَ بْنِ وَهْبٍ الْخُزَاعِيِّ ، قَالَ : صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَكَّةَ الصَّلَوَاتِ رَكْعَتَيْنِ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ أَكْثَرَ مَا كَانَ النَّاسُ وَآمَنَهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا حارثہ بن وہب خزاعی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے حجۃ الوداع کے موقع پر مکہ مکرمہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتدا میں دو رکعات ادا کیں، حالانکہ اس وقت لوگوں کی تعداد زیادہ تھی اور وہ زیادہ امن کی حالت میں تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2756]

2757

Sahih Ibn Hibban #2757

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ حَارِثَةَ بْنِ وَهْبٍ ، قَالَ : صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَوْصَلَّى بِنَا بِمِنًى ، وَنَحْنُ أَوْفَرَ مَا كُنَّا رَكْعَتَيْنِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا حارثہ بن وہب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتدا میں نماز پڑھی (راوی کو شک ہے) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منیٰ میں ہمیں نماز پڑھائی، اس وقت ہماری تعداد زیادہ تھی لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں دو رکعات پڑھائی تھیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2757]

2758

Sahih Ibn Hibban #2758

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَصَلَّى صَلاةَ الْمُسَافِرِ بِمِنًى رَكْعَتَيْنِ ، وَأَبُو بَكْرٍ ، وَعُمَرُ ، وَعُثْمَانُ رَكْعَتَيْنِ صَدْرًا مِنْ خِلافَتِهِ ، ثُمَّ أَتَمَّهَا أَرْبَعًا "

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سالم بن عبداللہ اپنے والد (سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما) کا یہ بیان نقل کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے منیٰ میں مسافر کی نماز کی طرح دو رکعات پڑھائی تھیں۔ سیدنا ابوبکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما نے اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے اپنے عہدِ خلافت کے ابتدائی حصے میں بھی دو رکعات پڑھائی تھیں، بعد میں وہ وہاں چار رکعات پڑھنے لگے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2758]

2759

Sahih Ibn Hibban #2759

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو السَّائِبِ سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِذَا قَرَأَ ابْنُ آدَمَ السَّجْدَةَ فَسَجَدَ ، اعْتَزَلَ الشَّيْطَانُ يَبْكِي ، وَيَقُولُ : يَا وَيْلَهُ أُمِرَ ابْنُ آدَمَ السُّجُودَ فَسَجَدَ ، فَلَهُ الْجَنَّةُ ، وَأُمِرْتُ بِالسُّجُودِ فَأَبَيْتُ فَلِيَ النَّارُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جب ابن آدم آیتِ سجدہ تلاوت کرتا ہے، تو شیطان روتا ہوا الگ ہو جاتا ہے، وہ یہ کہتا ہے: ہائے افسوس! ابن آدم کو سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا، اس نے سجدہ کر لیا تو اسے جنت مل جائے گی اور مجھے سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا، میں نے انکار کیا تو مجھے جہنم ملے گی۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2759]

2760

Sahih Ibn Hibban #2760

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا فُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَيَقْرَأُ الْقُرْآنَ ، فَيَأْتِي عَلَى السَّجْدَةِ فَيَسْجُدُ ، وَنَسْجُدُ مَعَهُ لِسُجُودِهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم قرآن کی تلاوت کرتے ہوئے جب آیت سجدہ پر پہنچتے تو سجدہ تلاوت کرتے تھے اور آپ کے ہمراہ ہم بھی سجدہ کیا کرتے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2760]

2761

Sahih Ibn Hibban #2761

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ الطَّائِيُّ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ مَوْلَى الأَسْوَدِ بْنِ سُفْيَانَ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ قَرَأَ بِهِمْ : إِذَا السَّمَاءُ انْشَقَّتْ فَسَجَدَ فِيهَا ، فَلَمَّا انْصَرَفَ أَخْبَرَهُمْ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَجَدَ فِيهَا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے کہ انہوں نے لوگوں کے سامنے سورۃ الانشقاق تلاوت کی تو اس میں سجدہ تلاوت کیا، جب وہ یہ کر کے فارغ ہوئے تو انہوں نے لوگوں کو بتایا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ”بھی اس میں سجدہ تلاوت کیا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2761]

2762

Sahih Ibn Hibban #2762

أَخْبَرَنَا الصُّوفِيُّ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ قُسَيْطٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ ، قَالَ : قَرَأْتُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّجْمَ فَلَمْ يَسْجُدْ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں سورہ نجم کی تلاوت کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ تلاوت کیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2762]

2763

Sahih Ibn Hibban #2763

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عُمَرَ بْنِ شَقِيقٍ ، وَعُمَرُ بْنُ يَزِيدَ السَّيَّارِيُّ ، قَالا : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَسَجَدَ فِي النَّجْمِ ، وَسَجَدَ مَعَهُ الْمُسْلِمُونَ وَالْمُشْرِكُونَ وَالْجِنُّ وَالإِنْسُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سورۃ النجم میں سجدہ تلاوت کیا، آپ کے ہمراہ مسلمانوں، مشرکین، جنات اور انسانوں نے بھی سجدہ تلاوت کیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2763]