Muslim99Muslim99

Sahih Ibn Hibban · Book 24 · Chapter 3

Book of Siyar

Hadith 2690–2723

34 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

2690

Sahih Ibn Hibban #2690

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خَالِدٍ الْقُرَشِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْعَلاءِ بْنِ زَبْرٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ مُسْلِمَ بْنَ مِشْكَمٍ أَبَا عُبَيْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ : حَدَّثَنَا أَبُو ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيُّ ، قَالَ : كَانَ النَّاسُ إِذَا نَزَلُوا مَنْزِلا تَفَرَّقُوا فِي الشِّعَابِ وَالأَوْدِيَةِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّ تَفَرُّقَكُمْ فِي هَذِهِ الشِّعَابِ وَالأَوْدِيَةِ إِنَّمَا ذَلِكُمْ مِنَ الشَّيْطَانِ "، قَالَ : فَلَمْ يَنْزِلُوا بَعْدُ مَنْزِلا إِلا انْضَمَّ بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ حَتَّى لَوْ بُسِطَ عَلَيْهِمْ ثَوْبٌ لَعَمَّهُمْ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ لوگ جب کسی جگہ پڑاؤ کرتے تھے، تو وہ گھاٹیوں اور نشیبی علاقوں میں مختلف جگہ بکھر جاتے تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تمہارا اس طرح گھاٹیوں اور نشیبی علاقوں میں بکھر جانا شیطان کی طرف سے ہے۔“ راوی بیان کرتے ہیں کہ اس کے بعد لوگ جب بھی کسی جگہ پڑاؤ کرتے تھے، تو وہ ایک جگہ یوں اکٹھے رہتے تھے کہ اگر ان پر کوئی کپڑا بچھایا جائے، تو وہ ان سب پر آ جائے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2690]

2691

Sahih Ibn Hibban #2691

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ يُوسُفَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ الْمُخَرِّمِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شَبَابَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي وَرْقَاءُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : كَانُوايَحُجُّونَ وَلا يَتَزَوَّدُونَ " ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ : وَتَزَوَّدُوا فَإِنَّ خَيْرَ الزَّادِ التَّقْوَى "

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ پہلے لوگ حج پر جاتے تھے تو زادِ راہ ساتھ لے کر نہیں جاتے تھے، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی: ﴿وَتَزَوَّدُوا فَإِنَّ خَيْرَ الزَّادِ التَّقْوَىٰ﴾ [سورة البقرة: 197] ”اور تم زادِ راہ بھی ساتھ رکھو، بے شک سب سے بہتر زادِ راہ پرہیزگاری ہے“۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2691]

2692

Sahih Ibn Hibban #2692

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ ، أَنَّ سَعِيدًا الْمَقْبُرِيَّ ، حَدَّثَهُ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَجُلا جَاءَهُ وَهُوَ يُرِيدُ سَفَرًا ، فَسَلَّمَ عَلَيْهِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أُوصِيكَ بِتَقْوَى اللَّهِ ، وَالتَّكْبِيرِ عَلَى كُلِّ شَرَفٍ " ، حَتَّى إِذَا أَدْبَرَ الرَّجُلُ قَالَ : " اللَّهُمَّ ازْوِ لَهُ الأَرْضَ ، وَهَوِّنْ عَلَيْهِ السَّفَرَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، وہ سفر پر جانا چاہتا تھا، اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میں تمہیں اللہ تعالیٰ کا تقویٰ اختیار کرنے کی اور ہر بلندی پر چڑھتے ہوئے «اللَّهُ أَكْبَرُ» ”اللہ سب سے بڑا ہے“ کہنے کی تلقین کرتا ہوں۔“ راوی کہتے ہیں کہ جب وہ شخص چلا گیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی: «اللَّهُمَّ اطْوِ لَهُ الْأَرْضَ، وَهَوِّنْ عَلَيْهِ السَّفَرَ» ”اے اللہ! اس کے لیے زمین کو لپیٹ دے اور اس کے لیے سفر کو آسان کر دے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2692]

2693

Sahih Ibn Hibban #2693

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُحَمَّدٍ الدَّغَوْلِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو زُرْعَةَ الرَّازِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَائِذٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْهَيْثَمُ بْنُ حُمَيْدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْمُطْعِمُ بْنُ الْمِقْدَامِ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، قَالَ : خَرَجْتُ إِلَى الْعِرَاقِ أَنَا وَرَجُلٌ مَعِي ، فَشَيَّعَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، فَلَمَّا أَرَادَ أَنْ يُفَارِقَنَا ، قَالَ : إِنَّهُ لَيْسَ مَعِي شَيْءٌ أُعْطِيكُمَا ، وَلَكِنْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : إِذَا اسْتَوْدَعَ اللَّهُ شَيْئًا حَفِظَهُ ، وَإِنِّي أَسْتَوْدِعُ اللَّهَ دِينَكُمَا وَأَمَانَتَكُمَا ، وَخَوَاتِيمَ عَمَلِكُمَا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

مجاہد بیان کرتے ہیں: میں عراق کے لیے روانہ ہونے لگا تھا اور میرے ساتھ ایک اور شخص تھا، سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ہمیں رخصت کرنے کے لیے ہمارے ساتھ آئے، جب وہ ہم سے جدا ہونے لگے تو انہوں نے فرمایا: میرے پاس ایسی کوئی چیز نہیں ہے جو میں تمہیں دوں، لیکن میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات فرماتے ہوئے سنا ہے: «إِنَّ اللَّهَ إِذَا اسْتُودِعَ شَيْئًا حَفِظَهُ» ”جب کوئی شخص اللہ تعالیٰ کو کوئی چیز ودیعت کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی حفاظت کرتا ہے،“ تو میں «أَسْتَوْدِعُ اللَّهَ دِينَكُمْ وَأَمَانَتَكُمْ وَخَوَاتِيمَ أَعْمَالِكُمْ» ”تمہارے دین، تمہاری امانت اور تم دونوں کے عمل کے خاتمے کو اللہ تعالیٰ کو ودیعت کرتا ہوں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2693]

2694

Sahih Ibn Hibban #2694

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ حَمْزَةَ بْنِ عَمْرٍو الأَسْلَمِيَّ ، حَدَّثَهُ ، أَنَّ أَبَاهُ حَمْزَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : عَلَى ظَهْرِ كُلِّ بَعِيرٍ شَيْطَانٌ ، فَإِذَا رَكِبْتُمُوهَا فَسَمُّوا اللَّهَ ، وَلا تَقْصُرُوا عَنْ حَاجَاتِكُمْ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا حمزہ بن عمرو اسلمی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”ہر اونٹ کی پشت پر شیطان ہوتا ہے، جب تم اس پر سوار ہو، تو اللہ کا نام لو اور اپنی حاجت کے حوالے سے کوئی کوتاہی نہ کرو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2694]

2695

Sahih Ibn Hibban #2695

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ السَّامِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْبَارِقِيِّ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَإِذَا سَافَرَ فَرَكِبَ رَاحِلَتَهُ كَبَّرَ ثَلاثًا ، ثُمَّ قَالَ : سُبْحَانَ الَّذِي سَخَّرَ لَنَا هَذَا وَمَا كُنَّا لَهُ مُقْرِنِينَ ، يَقْرَأُ الآيَتَيْنِ ، ثُمَّ يَقُولُ : اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ فِي سَفَرِي هَذَا الْبِرَّ وَالتَّقْوَى ، وَمِنَ الْعَمَلِ مَا تَرْضَى ، اللَّهُمَّ هَوِّنْ عَلَيْنَا السَّفَرَ ، وَاطْوِ لَنَا الأَرْضَ ، اللَّهُمَّ أَنْتَ الصَّاحِبُ فِي السَّفَرِ ، وَالْخَلِيفَةُ فِي الأَهْلِ ، اللَّهُمَّ اصْحَبْنَا فِي سَفَرِنَا فَاخْلُفْنَا فِي أَهْلِنَا " ، وَكَانَ إِذَا رَجَعَ قَالَ : " آيِبُونَ تَائِبُونَ لِرَبِّنَا حَامِدُونَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سفر پر روانہ ہونے کے وقت جب اپنی سواری پر سوار ہوتے تو تین مرتبہ تکبیر «اللّٰهُ أَكْبَرُ، اللّٰهُ أَكْبَرُ، اللّٰهُ أَكْبَرُ» کہتے تھے، پھر یہ پڑھتے تھے: ﴿سُبْحَانَ الَّذِي سَخَّرَ لَنَا هَذَا وَمَا كُنَّا لَهُ مُقْرِنِينَ﴾ [سورة الزخرف: 13] ”پاک ہے وہ ذات جس نے ہمارے لیے اس (سواری کو) مسخر کر دیا ورنہ ہم اس پر قابو پانے والے نہیں تھے۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دو آیات تلاوت کرتے تھے اور پھر یہ کہتے تھے: «اللَّهُمَّ إِنَّا نَسْأَلُكَ فِي سَفَرِنَا هَذَا الْبِرَّ وَالتَّقْوَى، وَمِنَ الْعَمَلِ مَا تَرْضَى، اللَّهُمَّ هَوِّنْ عَلَيْنَا سَفَرَنَا هَذَا، وَاطْوِ عَنَّا بُعْدَهُ، اللَّهُمَّ أَنْتَ الصَّاحِبُ فِي السَّفَرِ، وَالْخَلِيفَةُ فِي الْأَهْلِ، اللَّهُمَّ اصْحَبْنَا فِي سَفَرِنَا وَاخْلُفْنَا فِي أَهْلِنَا» ”اے اللہ! میں اپنے اس سفر کے دوران نیکی اور پرہیزگاری کا تجھ سے سوال کرتا ہوں اور ایسے عمل کا بھی جس سے تو راضی ہو جائے۔ اے اللہ! ہمارے لیے سفر کو آسان کر دے اور ہمارے لیے زمین کو لپیٹ دے۔ اے اللہ! تو ہی سفر میں ساتھی ہے اور (ہماری غیر موجودگی میں) گھر والوں کا نگران ہے۔ اے اللہ! تو ہمارے اس سفر میں ہمارے ساتھ رہنا اور ہمارے گھر والوں کا بھی خیال رکھنا۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب واپس آتے تھے، تو یہ کہتے تھے: «آيِبُونَ تَائِبُونَ عَابِدُونَ لِرَبِّنَا حَامِدُونَ» ”ہم رجوع کرنے والے ہیں اور توبہ کرنے والے ہیں اور اپنے پروردگار کی حمد بیان کرنے والے ہیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2695]

2696

Sahih Ibn Hibban #2696

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ أَبُو الرَّبِيعِ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، أَنَّ أَبَا الزُّبَيْرَ ، أَخْبَرَهُ ، أَنَّ عَلِيًّا الأَسَدِيَّ ، أَخْبَرَهُ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ عَلَّمَهُ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَإِذَا اسْتَوَى عَلَى بَعِيرِهِ خَارِجًا إِلَى سَفَرٍ كَبَّرَ ثَلاثًا ، وَقَالَ : سُبْحَانَ الَّذِي سَخَّرَ لَنَا هَذَا وَمَا كُنَّا لَهُ مُقْرِنِينَ ، اللَّهُمَّ إِنَّا نَسْأَلُكَ فِي سَفَرِنَا هَذَا الْبِرَّ وَالتَّقْوَى ، وَمِنَ الْعَمَلِ مَا تَرْضَى ، اللَّهُمَّ هَوِّنْ عَلَيْنَا سَفَرَنَا هَذَا ، وَاطْوِ عَنَّا بُعْدَهُ ، اللَّهُمَّ أَنْتَ الصَّاحِبُ فِي السَّفَرِ ، وَالْخَلِيفَةُ فِي الأَهْلِ ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ وَعْثَاءِ السَّفَرِ ، وَكَآبَةِ الْمَنْظَرِ ، وَسُوءِ الْمُنْقَلَبِ فِي الأَهْلِ وَالْمَالِ وَالْوَلَدِ " ، فَإِذَا رَجَعَ قَالَهُنَّ ، وَزَادَ فِيهِنَّ : " آيِبُونَ تَائِبُونَ عَابِدُونَ لِرَبِّنَا حَامِدُونَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

علی اسدی بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے انہیں یہ تعلیم دی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی سفر پر روانہ ہونے کے وقت اپنی سواری پر سوار ہوتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم تین مرتبہ تکبیر کہتے اور پھر یہ پڑھتے تھے: ﴿سُبْحَانَ الَّذِي سَخَّرَ لَنَا هَذَا وَمَا كُنَّا لَهُ مُقْرِنِينَ﴾ [سورة الزخرف: 13] ”پاک ہے وہ ذات جس نے (اس سواری کو) ہمارے لیے مسخر کیا ورنہ ہم اسے قابو میں لانے والے نہیں تھے۔“ «اللَّهُمَّ إِنَّا نَسْأَلُكَ فِي سَفَرِنَا هَذَا الْبِرَّ وَالتَّقْوَى، وَمِنَ الْعَمَلِ مَا تَرْضَى، اللَّهُمَّ هَوِّنْ عَلَيْنَا سَفَرَنَا هَذَا، وَاطْوِ عَنَّا بُعْدَهُ، اللَّهُمَّ أَنْتَ الصَّاحِبُ فِي السَّفَرِ، وَالْخَلِيفَةُ فِي الْأَهْلِ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ وَعْثَاءِ السَّفَرِ، وَكَآبَةِ الْمَنْظَرِ، وَسُوءِ الْمُنْقَلَبِ فِي الْمَالِ وَالْأَهْلِ» ”اے اللہ! ہم تجھ سے اس سفر میں نیکی اور پرہیزگاری کا سوال کرتے ہیں اور ایسے عمل کا سوال کرتے ہیں جس سے تو راضی ہو جائے۔ اے اللہ! ہمارے لیے اس سفر کو آسان کر دے اور ہمارے لیے اس کی مسافت کو سمیٹ دے۔ اے اللہ! سفر میں تو ہی ساتھی ہے اور گھر والوں کا تو ہی نگران ہے۔ اے اللہ! میں سفر کی مشقت، (سفر کے دوران یا واپسی پر) کسی ناپسندیدہ منظر کو دیکھنے اور واپسی پر اپنے اہل خانہ، مال یا اولاد کے بارے میں کسی برے منظر سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔“ راوی بیان کرتے ہیں کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم واپس تشریف لاتے تھے، تو یہی کلمات پڑھتے تھے اور ان میں یہ الفاظ زائد پڑھتے تھے: «آيِبُونَ تَائِبُونَ عَابِدُونَ لِرَبِّنَا حَامِدُونَ» ”(ہم) رجوع کرنے والے ہیں، توبہ کرنے والے ہیں، عبادت کرنے والے ہیں اور اپنے پروردگار کی حمد بیان کرنے والے ہیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2696]

2697

Sahih Ibn Hibban #2697

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو نَوْفَلٍ عَلِيُّ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ السَّبِيعِيِّ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ رَبِيعَةَ الأَسَدِيِّ ، قَالَ : رَكِبَ عَلِيٌّ دَابَّةً ، فَقَالَ : بِسْمِ اللَّهِ " ، فَلَمَّا اسْتَوَى عَلَيْهَا ، قَالَ : " الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَكْرَمَنَا ، وَحَمَلَنَا فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ ، وَرَزَقَنَا مِنَ الطَّيِّبَاتِ ، وَفَضَّلَنَا عَلَى كَثِيرٍ مِمَّنْ خَلَقَهُ تَفْضِيلا : سُبْحَانَ الَّذِي سَخَّرَ لَنَا هَذَا وَمَا كُنَّا لَهُ مُقْرِنِينَ ، وَإِنَّا إِلَى رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُونَ " ، ثُمَّ كَبَّرَ ثَلاثًا ، ثُمَّ قَالَ : " اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي ، إِنَّهُ لا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ غَيْرُكَ "، ثُمَّ قَالَ : فَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَ هَذَا ، وَأَنَا رِدْفُهُ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

علی بن ربیعہ اسدی بیان کرتے ہیں: سیدنا علی رضی اللہ عنہ سواری پر سوار ہوئے تو آپ نے «بِسْمِ اللهِ» ”اللہ کے نام سے“ پڑھی، پھر جب آپ اس پر سوار ہو گئے، تو آپ نے یہ پڑھا: ” «الْحَمْدُ لِلّٰهِ» ”ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص ہے“، ﴿وَلَقَدْ كَرَّمْنَا بَنِي آدَمَ وَحَمَلْنَاهُمْ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ وَرَزَقْنَاهُم مِّنَ الطَّيِّبَاتِ وَفَضَّلْنَاهُمْ عَلَىٰ كَثِيرٍ مِّمَّنْ خَلَقْنَا تَفْضِيلًا﴾ [سورة الإسراء: 70] ”جس نے ہمیں عزت عطا کی، ہمیں خشکی اور سمندری راستوں پر چلنے کا موقع دیا۔ ہمیں پاکیزہ رزق عطا کیا، اور ہمیں اپنی مخلوق میں سے بہت سے لوگوں پر فضیلت دی۔“ ﴿سُبْحَانَ الَّذِي سَخَّرَ لَنَا هَذَا وَمَا كُنَّا لَهُ مُقْرِنِينَ * وَإِنَّا إِلَى رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُونَ﴾ [سورة الزخرف: 13-14] ”پاک ہے وہ ذات جس نے ہمارے لیے (اس سواری کو) مسخر کیا ورنہ ہم تو اسے قابو میں نہیں کر سکتے تھے۔ بے شک ہم اپنے پروردگار کی طرف لوٹا دیے جائیں گے۔“ پھر انہوں نے تین مرتبہ «اللهُ أَكْبَرُ» ”تکبیر“ کہی، پھر یہ کہا: «اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي، فَإِنَّهُ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ» ”اے اللہ! تو میری مغفرت کر دے، بے شک تیرے علاوہ کوئی اور گناہوں کی مغفرت نہیں کر سکتا۔“ پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ایسا ہی کیا تھا اور میں اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے سوار تھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2697]

2698

Sahih Ibn Hibban #2698

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْجُنَيْدِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ رَبِيعَةَ ، قَالَ : شَهِدْتُ عَلِيًّا أُتِيَ بِدَابَّةٍ لِيَرْكَبَهَا ، فَلَمَّا وَضَعَ رِجْلَهُ فِي الرِّكَابِ ، قَالَ : بِسْمِ اللَّهِ ، فَلَمَّا اسْتَوَى عَلَى ظَهْرِهِ ، قَالَ : الْحَمْدُ لِلَّهِ ثَلاثًا ، ثُمَّ قَالَ : ( سُبْحَانَ الَّذِي سَخَّرَ لَنَا هَذَا وَمَا كُنَّا لَهُ مُقْرِنِينَ ) إِلَى قَوْلِهِ : ( وَإِنَّا إِلَى رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُونَ ) ، ثُمَّ قَالَ : الْحَمْدُ لِلَّهِ ثَلاثًا ، اللَّهُ أَكْبَرُ ثَلاثًا ، سُبْحَانَكَ إِنِّي ظَلَمْتُ نَفْسِي ، فَاغْفِرْ لِي ، إِنَّهُ لا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلا أَنْتَ ، ثُمَّ ضَحِكَ ، قُلْتُ : مِنْ أَيِّ شَيْءٍ ضَحِكْتَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ؟ قَالَ : رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَنَعَ كَمَا صَنَعْتُ ثُمَّ ضَحِكَ ، فَقُلْتُ : مِنْ أَيِّ شَيْءٍ ضَحِكْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : إِنَّ رَبَّكَ لَيَعْجَبُ مِنْ عَبْدِهِ إِذَا قَالَ : رَبِّ اغْفِرْ لِي ذُنُوبِي ، قَالَ :عَلِمَ عَبْدِي أَنَّهُ لا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ غَيْرِي """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

علی بن ربیعہ بیان کرتے ہیں: میں اس وقت سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس موجود تھا جب ایک جانور لایا گیا تاکہ وہ اس پر سوار ہوں، جب انہوں نے اپنا پاؤں رکاب میں رکھا تو «بِسْمِ اللهِ» ”اللہ کے نام سے“ پڑھی، جب وہ اس جانور کی پشت پر سیدھے بیٹھ گئے، تو انہوں نے تین مرتبہ «الْحَمْدُ لِلّٰهِ» ”تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں“ کہا، پھر یہ پڑھا: ﴿سُبْحَانَ الَّذِي سَخَّرَ لَنَا هَذَا وَمَا كُنَّا لَهُ مُقْرِنِينَ * وَإِنَّا إِلَى رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُونَ﴾ [سورة الزخرف: 13-14] ”پاک ہے وہ ذات جس نے ہمارے لیے (اس سواری کو) مسخر کیا ورنہ ہم اس پر قابو نہیں پا سکتے تھے“ یہ آیت یہاں تک ہے، ”بے شک ہم اپنے پروردگار کی طرف لوٹا دیے جائیں گے۔“ پھر انہوں نے تین مرتبہ «الْحَمْدُ لِلّٰهِ» ”تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں“ پھر تین مرتبہ «اللهُ أَكْبَرُ» ”اللہ سب سے بڑا ہے“ کہا: «سُبْحَانَكَ إِنِّي ظَلَمْتُ نَفْسِي فَاغْفِرْ لِي فَإِنَّهُ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ» ”(اے اللہ) تو پاک ہے میں نے اپنے اوپر ظلم کیا ہے، تو میری مغفرت کر دے، گناہوں کی مغفرت صرف تو ہی کر سکتا ہے“ پھر وہ مسکرا دیے، میں نے دریافت کیا: اے امیر المؤمنین! آپ کس بات پر مسکرائے ہیں؟ تو انہوں نے فرمایا: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، آپ نے اسی طرح کیا جس طرح میں نے کیا ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا دیے تو میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ کس بات پر مسکرائے ہیں؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تمہارا پروردگار اس بندے سے خوش ہوتا ہے، جب وہ یہ کہتا ہے: اے میرے پروردگار! تو میری مغفرت کر دے، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میرا بندہ یہ بات جانتا ہے، میرے علاوہ کوئی اور گناہوں کی مغفرت نہیں کر سکتا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2698]

2699

Sahih Ibn Hibban #2699

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ فَارِسٍ ، حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عِيسَى الْبِسْطَامِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ : ثَلاثُ دَعَوَاتٍ مُسْتَجَابَاتٌ لا شَكَّ فِيهِنَّ : دَعْوَةُ الْمَظْلُومِ ، وَدَعْوَةُ الْمُسَافِرِ ، وَدَعْوَةُ الْوَالِدِ عَلَى وَلَدِهِ "، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : اسْمُ أَبِي جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

امام محمد الباقر رحمہ اللہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”تین طرح کی دعاؤں کے مستجاب ہونے کے بارے میں کوئی شک نہیں ہے: مظلوم کی دعا، مسافر کی دعا اور والد کی اپنی اولاد کے لیے کی گئی دعا۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) امام ابوجعفر نامی راوی کا نام محمد بن علی بن حسین بن علی بن ابوطالب ہے یعنی (یہ امام باقر ہیں) [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2699]

2700

Sahih Ibn Hibban #2700

أَخْبَرَنَا ابْنُ سَلْمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، أَنَّ يَزِيدَ بْنَ أَبِي حَبِيبٍ ، وَالْحَارِثَ بْنَ يَعْقُوبَ ، حَدَّثَاهُ ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الأَشَجِّ ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، عَنْ خَوْلَةَ بِنْتِ حَكِيمٍ السُّلَمِيَّةِ ، أَنَّهَا سَمِعَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : إِذَا نَزَلَ أَحَدُكُمْ مَنْزِلا فَلْيَقُلْ : أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّاتِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ ، فَإِنَّهُ لا يَضُرُّهُ شَيْءٌ حَتَّى يَرْتَحِلَ مِنْهُ "، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ هُوَ أَخُو بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الأَشَجِّ ، وَالْحَارِثُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الأَشَجِّ ، وَالْحَارِثُ بْنُ يَعْقُوبَ هُوَ وَالِدُ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ مِصْرِيٌّ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ، سیدہ خولہ بنت حکیم رضی اللہ عنہا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں، انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جب کوئی شخص کسی جگہ پر پڑاؤ کرے اور یہ کلمات پڑھ لے: «أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللهِ التَّامَّاتِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ» ”میں اللہ تعالیٰ کے مکمل کلمات کی پناہ مانگتا ہوں اس چیز کے شر سے جسے اس نے پیدا کیا ہے“، (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:) تو جب تک وہ شخص وہاں سے روانہ نہیں ہو جاتا، اسے کوئی چیز نقصان نہیں پہنچائے گی“۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) یعقوب بن عبداللہ نامی راوی بکیر بن عبداللہ بن اشج کے بھائی ہیں، اور حارث نامی راوی حارث بن یعقوب بن عبداللہ بن اشج ہے، حارث بن یعقوب نامی راوی عمرو بن حارث مصری کا باپ ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2700]

2701

Sahih Ibn Hibban #2701

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الطَّاهِرِ بْنُ السَّرْحِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ بِلالٍ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ كَانَإِذَا سَافَرَ وَجَاءَ سَحَرًا يَقُولُ : سَمِعَ سَامِعٌ بِحَمْدِ اللَّهِ وَحُسْنِ بَلائِهِ ، رَبَّنَا صَاحِبْنَا ، فَأَفْضِلْ عَلَيْنَا عَائِذٌ بِاللَّهِ مِنَ النَّارِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب سفر کرتے اور سحری کے وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لاتے تو یہ کہتے تھے: «سَمِعَ سَامِعٌ بِحَمْدِ اللهِ وَحُسْنِ بَلَائِهِ عَلَيْنَا، رَبَّنَا صَاحِبْنَا وَأَفْضِلْ عَلَيْنَا، عَائِذًا بِاللهِ مِنَ النَّارِ» ”سننے والے نے اللہ تعالیٰ کی حمد کو سن لیا اور اس کی آزمائش کی خوبی کو بھی۔ اے ہمارے پروردگار! تو ہمارے ساتھ رہ اور ہم پر اپنا فضل کر! ہم جہنم سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2701]

2702

Sahih Ibn Hibban #2702

أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْحَسَنِ الْعَطَّارُ ، بِالْبَصْرَةِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْفُضَيْلُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْجَحْدَرِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْفُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ يُرِيدُ سَفَرًا ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَوْصِنِي ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أُوصِيكَ بِتَقْوَى اللَّهِ ، وَالتَّكْبِيرِ عَلَى كُلِّ شَرَفٍ " ، فَلَمَّا وَلَّى الرَّجُلُ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اللَّهُمَّ ازْوِ لَهُ الأَرْضَ ، وَهَوِّنْ عَلَيْهِ السَّفَرَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص سفر پر جانا چاہتا تھا، اس نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! مجھے نصیحت کیجیے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: ”میں تمہیں اللہ تعالیٰ کا تقویٰ اختیار کرنے اور ہر بلندی پر چڑھتے ہوئے «اللَّهُ أَكْبَرُ» ”اللہ اکبر“ کہنے کی تلقین کرتا ہوں۔“ جب وہ شخص چلا گیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی: «اللَّهُمَّ اطْوِ لَهُ الْأَرْضَ، وَهَوِّنْ عَلَيْهِ السَّفَرَ» ”اے اللہ! اس کے لیے زمین کو لپیٹ دے اور اس کے سفر کو آسان کر دے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2702]

2703

Sahih Ibn Hibban #2703

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِذَا سَافَرْتُمْ فِي الْخِصْبِ فَأَعْطُوا الإِبِلَ حَقَّهَا ، وَإِذَا سَافَرْتُمْ فِي السَّنَةِ فَأَسْرِعُوا السَّيْرَ عَلَيْهَا ، وَإِذَا عَرَّسْتُمْ فَاجْتَنِبُوا الطَّرِيقَ ، فَإِنَّهَا مَأْوَى الْهَوَامِّ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جب تم شادابی کے زمانے میں سفر کرو تو اونٹ کو اس کا حق دو (یعنی اس کو چرنے کا موقع دو) اور جب تم قحط سالی کے زمانے میں سفر کرو تو تیزی سے سفر کرو اور جب تم رات کے وقت پڑاؤ کرو، تو راستے میں پڑاؤ کرنے سے اجتناب کرو کیونکہ وہ حشرات الارض کا ٹھکانہ ہوتے ہیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2703]

2704

Sahih Ibn Hibban #2704

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : لَوْ يَعْلَمُ النَّاسُ مَا فِي الْوَحْدَةِ مَا سَارَ رَاكِبٌ بِلَيْلٍ أَبَدًا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”اگر ان لوگوں کو پتا چل جائے، اکیلے سفر کرنے میں (کتنا نقصان ہے) تو کبھی کوئی سوار رات کے وقت اکیلا سفر نہ کرے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2704]

2705

Sahih Ibn Hibban #2705

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : إِذَا سَافَرْتُمْ فِي الْخِصْبِ فَأَعْطُوا الإِبِلَ حَقَّهَا ، وَإِذَا سَافَرْتُمْ فِي السَّنَةِ فَأَسْرِعُوا السَّيْرَ ، وَإِذَا عَرَّسْتُمْ بِاللَّيْلِ فَاجْتَنِبُوا الطَّرِيقَ ، فَإِنَّهَا مَأْوَى الْهَوَامِّ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جب تم شادابی کے علاقے میں سفر کرو تو اونٹوں کو ان کا حق دو (یعنی انہیں چرنے کا موقع دو)، جب تم بنجر جگہ پر سفر کرو تو تیزی سے سفر کرو اور جب تم رات کے وقت پڑاؤ کرو تو راستے میں پڑاؤ کرنے سے اجتناب کرو کیونکہ وہ حشرات الارض کا ٹھکانہ ہوتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2705]

2706

Sahih Ibn Hibban #2706

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ أَبَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ عَامَ الْفَتْحِ إِلَى مَكَّةَ فِي رَمَضَانَ حَتَّى بَلَغَ كُرَاعَ الْغَمِيمِ ، قَالَ : فَصَامَ النَّاسُ وَهُمْ مُشَاةٌ وَرُكْبَانٌ ، فَقِيلَ لَهُ : إِنَّ النَّاسَ قَدْ شَقَّ عَلَيْهِمُ الصَّوْمُ ، إِنَّمَا يَنْظُرُونَ مَا تَفْعَلُ ، فَدَعَا بِقَدَحٍ ، فَرَفَعَهُ إِلَى فِيهِ حَتَّى نَظَرَ النَّاسُ ، ثُمَّ شَرِبَ ، فَأَفْطَرَ بَعْضُ النَّاسِ وَصَامَ بَعْضٌ ، فَقِيلَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّ بَعْضَهُمْ صَامَ ، فَقَالَ : أُولَئِكَ الْعُصَاةُ " ، وَاجْتَمَعَ الْمُشَاةُ مِنْ أَصْحَابِهِ ، فَقَالُوا : نَتَعَرَّضُ لِدَعَوَاتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدِ اشْتَدَّ السَّفَرُ ، وَطَالَتِ الْمَشَقَّةُ ، فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ :" اسْتَعِينُوا بِالنَّسْلِ ، فَإِنَّهُ يَقْطَعُ عَلَيْكُمُ الأَرْضِ ، وَتَخِفُّونَ لَهُ "، قَالَ : فَفَعَلْنَا ، فَخَفَفْنَا لَهُ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا امام جعفر صادق رحمہ اللہ اپنے والد (امام محمد باقر رحمہ اللہ) کے حوالے سے سیدنا جابر رضی اللہ عنہما کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ فتح مکہ کے سال نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے مہینے میں مکہ کی طرف روانہ ہوئے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم «كُرَاعِ الْغَمِيمِ» ”کراع الغمیم“ کے مقام پر پہنچے، تو راوی بیان کرتے ہیں کہ ان لوگوں نے روزہ رکھا ہوا تھا، کچھ پیدل چل رہے تھے اور کچھ سوار تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی گئی کہ لوگوں کے لیے روزہ رکھنا دشواری کا باعث ہو رہا ہے اور لوگ اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کیا کرتے ہیں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پیالہ منگوایا اور اس کو اپنے منہ کی طرف بلند کیا یہاں تک کہ لوگوں نے دیکھ لیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پی لیا، اس کے بعد کچھ لوگوں نے روزہ ختم کر دیا اور کچھ لوگ بدستور روزے کی حالت میں رہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی گئی کہ بعض لوگوں نے ابھی بھی روزہ رکھا ہوا ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «أُولَئِكَ الْعُصَاةُ» ”وہ لوگ نافرمان ہیں“۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے پیدل چلنے والے لوگ اکٹھے ہوئے اور انہوں نے کہا: ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعاؤں کے درپے ہو رہے ہیں جبکہ سفر شدت اختیار کر چکا ہے اور مشقت طویل ہو گئی ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: «عَلَيْكُمْ بِالنَّسَلِ، فَإِنَّهُ يَقْطَعُ الْأَرْضَ، وَيُهَوِّنُ السَّيْرَ» ”تم لوگ تیزی سے چلنے کے ذریعے مدد حاصل کرو کیونکہ وہ زمین کے نشان کو منقطع کر دیتی ہے، یہ تم لوگوں کے لیے آسان ہو گا“۔ راوی کہتے ہیں: ہم نے ایسا ہی کیا، تو ہمارے لیے یہ آسان ہو گیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2706]

2707

Sahih Ibn Hibban #2707

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَإِذَا قَفَلَ مِنْ غَزْوٍ أَوْ حَجٍّ أَوْ عُمْرَةٍ ، كَبَّرَ عَلَى كُلِّ شَرَفٍ فِي الأَرْضِ ثَلاثَ تَكْبِيرَاتٍ ، ثُمَّ يَقُولُ : لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ وَحْدَهُ لا شَرِيكَ لَهُ ، لَهُ الْمُلْكُ ، وَلَهُ الْحَمْدُ ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ ، آيِبُونَ تَائِبُونَ عَابِدُونَ ، سَاجِدُونَ ، لِرَبِّنَا حَامِدُونَ ، صَدَقَ اللَّهُ وَعْدَهُ ، وَنَصَرَ عَبْدَهُ ، وَهَزَمَ الأَحْزَابَ وَحْدَهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی غزوے یا حج یا عمرے سے واپس آتے تھے، تو آپ ہر بلندی پر چڑھتے ہوئے تین مرتبہ تکبیر کہتے تھے، پھر یہ پڑھتے تھے: «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيْكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ، آيِبُونَ تَائِبُونَ عَابِدُونَ سَاجِدُونَ لِرَبِّنَا حَامِدُونَ، صَدَقَ اللّٰهُ وَعْدَهُ، وَنَصَرَ عَبْدَهُ، وَهَزَمَ الْأَحْزَابَ وَحْدَهُ» ”اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں، وہی ایک معبود ہے، اس کا کوئی شریک نہیں ہے، بادشاہی اسی کے لیے مخصوص ہے، حمد اسی کے لیے مخصوص ہے اور وہ ہر شے پر قدرت رکھتا ہے، (ہم) رجوع کرنے والے ہیں، توبہ کرنے والے ہیں، عبادت کرنے والے ہیں، سجدہ کرنے والے ہیں، اپنے پروردگار کی حمد بیان کرنے والے ہیں، اللہ تعالیٰ نے اپنے وعدے کو سچ ثابت کیا، اس نے اپنے بندے کی مدد کی اور (دشمن کے) لشکروں کو تنہا پسپا کر دیا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2707]

2708

Sahih Ibn Hibban #2708

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ سُمَيٍّ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : السَّفَرُ قِطْعَةٌ مِنَ الْعَذَابِ ، يَمْنَعُ أَحَدَكُمْ نَوْمَهُ وَطَعَامَهُ وَشَرَابَهُ ، فَإِذَا قَضَى أَحَدُكُمْ نَهْمَتَهُ مِنْ سَفَرِهِ ، فَلْيُعَجِّلِ الرُّجُوعَ إِلَى أَهْلِهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ” «السَّفَرُ قِطْعَةٌ مِنَ الْعَذَابِ» ”سفر عذاب کا ایک ٹکڑا ہے“، یہ آدمی کو (صحیح طریقے سے) سونے، کھانے اور پینے سے روک دیتا ہے، تو جب کوئی شخص سفر کے حوالے سے اپنے مقصد کو پورا کر لے، تو اسے جلدی اپنے گھر واپس آ جانا چاہیے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2708]

2709

Sahih Ibn Hibban #2709

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ ، قَالَ : قُرِئَ عَلَى حَفْصِ بْنِ مَيْسَرَةَ ، وَأَنَا أَسْمَعُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي مَرْوَانَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ كَعْبًا حَلَفَ لَهُ بِالَّذِي فَلَقَ الْبَحْرَ لِمُوسَى ، أَنَّ صُهَيْبًا ، حَدَّثَهُ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَكُنْيَرَى قَرْيَةً يُرِيدُ دُخُولَهَا إِلا قَالَ حِينَ يَرَاهَا : اللَّهُمَّ رَبَّ السَّمَاوَاتِ السَّبْعِ وَمَا أَظْلَلْنَ ، وَرَبَّ الأَرَضِينَ السَّبْعِ وَمَا أَقْلَلْنَ ، وَرَبَّ الرِّيَاحِ وَمَا ذَرَيْنَ ، وَرَبَّ الشَّيَاطِينِ وَمَا أَضْلَلْنَ ، نَسْأَلُكَ خَيْرَ هَذِهِ الْقَرْيَةِ وَخَيْرَ أَهْلِهَا ، وَنَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّهَا وَشَرِّ أَهْلِهَا وَشَرِّ مَا فِيهَا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عطاء بن ابومروان اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ کعب الاحبار رحمہ اللہ نے ان کے سامنے اس ذات کی قسم اٹھا کر یہ بات بیان کی جس ذات نے سیدنا موسیٰ رضی اللہ عنہ کے لیے دریا کو چیر دیا تھا، سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ نے انہیں یہ حدیث بیان کی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی بستی میں داخل ہونے کا ارادہ کرتے تھے، تو جیسے ہی اس بستی کو دیکھتے تو اسے دیکھ کر یہ پڑھتے تھے: «اللَّهُمَّ رَبَّ السَّمَاوَاتِ السَّبْعِ وَمَا أَظْلَلْنَ، وَرَبَّ الْأَرَضِينَ السَّبْعِ وَمَا أَقْلَلْنَ، وَرَبَّ الرِّيَاحِ وَمَا ذَرَيْنَ، وَرَبَّ الشَّيَاطِينِ وَمَا أَضْلَلْنَ، نَسْأَلُكَ خَيْرَ هَذِهِ الْقَرْيَةِ وَخَيْرَ أَهْلِهَا، وَنَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّهَا وَشَرِّ أَهْلِهَا وَشَرِّ مَا فِيهَا» ”اے اللہ! اے سات آسمانوں اور جن پر انہوں نے سایہ کیا ہوا ہے ان سب چیزوں کے پروردگار! اے سات زمینوں اور جن کے نیچے وہ ہیں ان کے پروردگار! اے ہواؤں اور جنہیں وہ اڑاتی ہیں ان کے پروردگار! اے شیاطین اور جنہیں وہ گمراہ کرتے ہیں ان کے پروردگار! ہم تجھ سے اس بستی کی بھلائی اور اس بستی کے رہنے والوں کی بھلائی کا سوال کرتے ہیں اور ہم اس بستی کے شر، اس بستی کے رہنے والوں کے شر اور اس میں موجود شر سے تیری پناہ مانگتے ہیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2709]

2710

Sahih Ibn Hibban #2710

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّامِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ الْمَقَابِرِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي حُمَيْدٌ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَإِذَا قَدِمَ مِنْ سَفَرٍ ، فَنَظَرَ إِلَى جُدُرَاتِ الْمَدِينَةِ أَوْضَعَ رَاحِلَتَهُ ، وَإِنْ كَانَ عَلَى دَابَّةٍ حَرَّكَهَا مِنْ حُبِّهَا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب سفر سے واپس تشریف لاتے اور مدینہ منورہ کی دیواروں کو دیکھتے تو اپنی سواری کو تیز کر دیتے تھے اور اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کسی جانور پر سوار ہوتے تھے، تو اسے حرکت دیتے تھے، ایسا آپ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ کی محبت کی وجہ سے کیا کرتے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2710]

2711

Sahih Ibn Hibban #2711

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَبُو إِسْحَاقَ ، عَنِ الرَّبِيعِ ، عَنِ الْبَرَاءِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَإِذَا قَدِمَ مِنْ سَفَرٍ قَالَ : آيِبُونَ تَائِبُونَ عَابِدُونَ لِرَبِّنَا حَامِدُونَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا براء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب سفر سے واپس تشریف لاتے تھے، تو یہ پڑھتے تھے: «آيِبُونَ تَائِبُونَ عَابِدُونَ لِرَبِّنَا حَامِدُونَ» ”(ہم) رجوع کرنے والے ہیں، توبہ کرنے والے ہیں، عبادت کرنے والے ہیں اور اپنے پروردگار کی حمد بیان کرنے والے ہیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2711]

2712

Sahih Ibn Hibban #2712

أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُبَارَكِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الْعِجْلِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، عَنْ فِطْرٍ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، قَالَ : سَمِعْتُ الْبَرَاءَ ، يَقُولُ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَإِذَا رَجَعَ مِنْ سَفَرٍ قَالَ : آيِبُونَ ، تَائِبُونَ ، لِرَبِّنَا حَامِدُونَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا براء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب سفر سے واپس تشریف لاتے تھے، تو یہ پڑھتے تھے: «آيِبُونَ تَائِبُونَ لِرَبِّنَا حَامِدُونَ» ”(ہم) رجوع کرنے والے ہیں، توبہ کرنے والے ہیں اور اپنے پروردگار کی حمد بیان کرنے والے ہیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2712]

2713

Sahih Ibn Hibban #2713

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ نُبَيْحٍ الْعَنَزِيِّ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : إِذَا دَخَلَ أَحَدُكُمْ لَيْلا ، فَلا يَطْرُقْ أَهْلَهُ طُرُوقًا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب کوئی شخص رات کے وقت (اپنے شہر میں) داخل ہو، تو وہ رات کے وقت اپنی بیوی کے پاس نہ جائے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2713]

2714

Sahih Ibn Hibban #2714

أَخْبَرَنَا حَامِدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شُعَيْبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ سَيَّارٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزَاةٍ ، فَلَمَّا قَدِمْنَا قَالَ : أَمْهِلُوا حَتَّى تَمْتَشِطَ الشَّعِثَةُ ، وَتَسْتَحِدَّ الْمَغِيبَةُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ایک غزوے میں شریک ہونے کے لیے گئے تھے، جب ہم واپس آئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم لوگ رک جاؤ تاکہ بکھرے ہوئے بالوں والی عورت اپنے بالوں میں کنگھی کر لے اور جس عورت (کا شوہر کافی عرصے سے گھر سے دور تھا) وہ خود کو بنا سنوار لے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2714]

2715

Sahih Ibn Hibban #2715

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، أَخْبَرَنَا مُحَارِبُ بْنُ دِثَارٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ : كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ ، قَالَ : فَلَمَّا أَتَى الْمَدِينَةَ أَمَرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْيَأْتِيَ الْمَسْجِدَ فَيُصَلِّيَ رَكْعَتَيْنِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ سفر پر گئے ہوئے تھے۔ راوی بیان کرتے ہیں کہ جب وہ مدینہ منورہ آئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں یہ ہدایت فرمائی کہ ”وہ مسجد میں آ کر دو رکعات ادا کر لیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2715]

2716

Sahih Ibn Hibban #2716

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ الْبَزَّارُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَخْرُجَ فِي سَفَرِهِ ، قَالَ : اللَّهُمَّ أَنْتَ الصَّاحِبُ فِي السَّفَرِ ، وَالْخَلِيفَةُ فِي الأَهْلِ ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الضِّبْنَةِ فِي السَّفَرِ ، وَالْكَآبَةِ فِي الْمُنْقَلَبِ ، اللَّهُمَّ اقْبِضْ لَنَا الأَرْضَ ، وَهَوِّنْ عَلَيْنَا السَّفَرَ " ، فَإِذَا أَرَادَ الرُّجُوعَ ، قَالَ : " آيِبُونَ تَائِبُونَ عَابِدُونَ لِرَبِّنَا سَاجِدُونَ " ، فَإِذَا دَخَلَ بَيْتَهُ ، قَالَ : " تَوْبًا تَوْبًا ، لِرَبِّنَا أَوْبًا ، لا يُغَادِرُ عَلَيْنَا حَوْبًا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب سفر پر جانے کا ارادہ کرتے تو یہ دعا پڑھتے تھے: «اللَّهُمَّ أَنْتَ الصَّاحِبُ فِي السَّفَرِ، وَالْخَلِيفَةُ فِي الْأَهْلِ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ وَعْثَاءِ السَّفَرِ، وَكَآبَةِ الْمُنْقَلَبِ، اللَّهُمَّ اطْوِ لَنَا الْأَرْضَ، وَهَوِّنْ عَلَيْنَا السَّفَرَ» ”اے اللہ! سفر میں تو ہی ساتھی ہے اور (میری غیر موجودگی میں) گھر والوں کا تو ہی نگران ہے۔ اے اللہ! میں سفر کی مشقت اور واپسی پر کسی پریشان صورتحال کا سامنا کرنے سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔ اے اللہ! ہمارے لیے زمین کو لپیٹ دے اور ہمارے لیے سفر کو آسان کر دے۔“ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم واپسی کا ارادہ کرتے تھے، تو یہ پڑھتے تھے: «آيِبُونَ تَائِبُونَ عَابِدُونَ لِرَبِّنَا حَامِدُونَ» ”ہم رجوع کرنے والے ہیں، توبہ کرنے والے ہیں، عبادت کرنے والے ہیں اور اپنے پروردگار کی حمد بیان کرنے والے ہیں۔“ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر میں داخل ہوتے تھے، تو یہ پڑھتے تھے: «تَوْبًا تَوْبًا، لِرَبِّنَا أَوْبًا، لَا يُغَادِرُ عَلَيْنَا حَوْبًا» ”توبہ کرتے ہوئے، توبہ کرتے ہوئے، اپنے پروردگار کی طرف رجوع کرتے ہوئے (ہم گھر آئے ہیں)، وہ ہمارا کوئی گناہ باقی نہ رہنے دے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2716]

2717

Sahih Ibn Hibban #2717

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مَعْشَرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : خَرَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزَاةٍ ، فَقَالَ : تَزَوَّجْتَ ؟ " قُلْتُ : نَعَمْ ، قَالَ : " بِكْرًا أَمْ ثَيِّبًا ؟ " قُلْتُ : بَلْ ثَيِّبًا ، قَالَ :" فَهَلا جَارِيَةً تُلاعِبُهَا وَتُلاعِبُكَ ؟ " قُلْتُ : إِنَّ لِي أَخَوَاتٍ ، فَأَحْبَبْتُ أَنْ أَتَزَوَّجَ امْرَأَةً تَجْمَعُهُنَّ وَتُمَشِّطُهُنَّ وَتَقُومُ عَلَيْهِنَّ ، قَالَ : " أَمَا إِنَّكَ قَادِمٌ ، فَإِذَا قَدِمْتَ فَالْكَيْسَ الْكَيْسَ "، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : الْكَيْسُ أَرَادَ بِهِ الْجِمَاعَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ایک غزوے میں شریک ہونے کے لیے روانہ ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”کیا تم نے شادی کر لی ہے؟“ میں نے عرض کی: جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”کنواری کے ساتھ یا ثیبہ کے ساتھ؟“ میں نے عرض کی: بلکہ ثیبہ (یعنی بیوہ یا طلاق یافتہ کے ساتھ کی ہے)۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے کسی لڑکی کے ساتھ شادی کیوں نہیں کی تاکہ تم اس کے ساتھ خوش طبعی کرتے یا وہ تمہارے ساتھ خوش طبعی کرتی؟“ میں نے عرض کی: میری بہنیں ہیں، میں نے اس بات کو پسند کیا کہ میں کسی ایسی عورت کے ساتھ شادی کروں جو ان کی دیکھ بھال کرے، ان کی کنگھی کرے اور ان کا خیال رکھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اب تم واپس جا رہے ہو، تو جب تم گھر واپس جاؤ تو سمجھداری کا مظاہرہ کرنا۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) لفظ «الْكَيْس» (سمجھداری کا مظاہرہ کرنے) سے مراد صحبت کرنا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2717]

2718

Sahih Ibn Hibban #2718

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ ذَكْوَانَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لا تُسَافِرِ الْمَرْأَةُ فَوْقَ ثَلاثَةِ أَيَّامٍ إِلا مَعَ ذِي مَحْرَمٍ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”کوئی بھی عورت محرم کے بغیر تین دن سے زیادہ کا سفر نہ کرے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2718]

2719

Sahih Ibn Hibban #2719

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لا تُسَافِرِ الْمَرْأَةُ سَفَرًا يَكُونُ ثَلاثَةَ أَيَّامٍ فَصَاعِدًا إِلا مَعَ أَبِيهَا أَوِ ابْنِهَا أَوْ أَخِيهَا أَوْ زَوْجِهَا ، أَوْ ذِي مَحْرَمٍ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”کوئی بھی عورت ایسا سفر نہ کرے جو تین دن یا اس سے زیادہ پر مشتمل ہو مگر یہ، وہ اپنے باپ کے ساتھ یا بیٹے کے ساتھ یا بھائی کے ساتھ یا شوہر کے ساتھ یا کسی محرم عزیز کے ساتھ (اس سے زیادہ کا سفر کر سکتی ہیں)۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2719]

2720

Sahih Ibn Hibban #2720

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَزِيعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَسَّانُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ الصَّائِغُ ، قَالَ : قَالَ نَافِعٌ مَوْلَى ابْنِ عُمَرَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : لا يَحِلُّ لامْرَأَةٍ أَنْ تُسَافِرَ ثَلاثَةً إِلا وَمَعَهَا ذُو مَحْرَمٍ تَحْرُمُ عَلَيْهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”کسی بھی عورت کے لیے یہ بات جائز نہیں، وہ تین دن کا سفر کرے ماسوائے اس کے، اس کے ہمراہ کوئی ایسا محرم ہو جو اس کے لیے ہمیشہ کے لیے حرام ہو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2720]

2721

Sahih Ibn Hibban #2721

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، قَالَ : أَخْبَرَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُهَيْلُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لا يَحِلُّ لامْرَأَةٍ تُسَافِرُ ثَلاثًا إِلا وَمَعَهَا ذُو مَحْرَمٍ مِنْهَا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”کسی عورت کے لیے یہ بات جائز نہیں ہے کہ وہ تین دن کا سفر کرے، ماسوائے اس کے کہ اس کے ہمراہ کوئی محرم ہو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2721]

2722

Sahih Ibn Hibban #2722

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَمَّالُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ ، عَنِ الضَّحَّاكِ بْنِ عُثْمَانَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : لا يَحِلُّ لامْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ أَنْ تُسَافِرَ مَسِيرَةَ ثَلاثِ لَيَالٍ إِلا وَمَعَهَا ذُو مَحْرَمٍ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھنے والی کسی بھی عورت کے لیے یہ بات جائز نہیں ہے کہ وہ تین راتوں کی مسافت کا سفر کرے مگر یہ کہ اس کے ہمراہ محرم ہونا چاہیے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2722]

2723

Sahih Ibn Hibban #2723

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْمُقَدَّمِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ قَزَعَةَ مَوْلَى زِيَادٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : لا تُسَافِرُ الْمَرْأَةُ يَوْمَيْنِ وَلَيْلَتَيْنِ إِلا مَعَ زَوْجٍ ، أَوْ ذِي مَحْرَمٍ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”کوئی بھی عورت دو دن اور دو راتوں کا سفر نہ کرے، البتہ اگر اس کا شوہر یا کوئی محرم ساتھ ہو (تو جائز ہے)۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2723]