Muslim99Muslim99

Sahih Ibn Hibban · Book 24 · Chapter 2

Book of Siyar

Hadith 2650–2689

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

2650

Sahih Ibn Hibban #2650

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، قَالَ : سِرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزَاةٍ ، فَلَمَّا كَانَ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ عَرَّسَ ، فَمَا اسْتَيْقَظَ حَتَّى أَيْقَظَنَا حَرُّ الشَّمْسِ ، فَجَعَلَ الرَّجُلُ يَقُومُ دَهِشًا فَزِعًا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : ارْكَبُوا " ، فَرَكِبَ وَرَكِبْنَا ، فَسَارَ حَتَّى ارْتَفَعَتِ الشَّمْسُ ، ثُمَّ نَزَلَ ، فَأَمَرَ بِلالا فَأَذَّنَ ، وَفَرَغَ الْقَوْمُ مِنْ حَاجَاتِهِمْ ، وَتَوَضَّئُوا ، وَصَلَّوَا الرَّكْعَتَيْنِ ، ثُمَّ أَقَامَ ، فَصَلَّى بِنَا ، فَقُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَلا نَقْضِيهَا لِوَقْتِهَا مِنَ الْغَدِ ؟ قَالَ :" يَنْهَاكُمْ رَبُّكُمْ عَنِ الرِّبَا وَيَقْبَلُهُ مِنْكُمْ ؟ ! """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ایک غزوے میں سفر کر رہے تھے، جب رات کا آخری حصہ آیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑاؤ کر لیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیدار نہیں ہوئے، یہاں تک کہ سورج کی تپش نے ہم لوگوں کو بیدار کیا، ہر شخص گھبرا کر اور پریشان ہو کر کھڑا ہو گیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم لوگ سوار ہو جاؤ“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سوار ہوئے اور ہم بھی سوار ہوئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کچھ دیر چلتے رہے، جب سورج بلند ہو گیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سواری سے اترے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا، انہوں نے اذان دی۔ لوگ اپنی حاجات پوری کر کے فارغ ہوئے، انہوں نے وضو کیا، انہوں نے دو رکعات (سنت) ادا کیں، پھر سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے اقامت کہی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز پڑھائی، ہم نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا ہم کل اس کے وقت میں اس کی قضا نہ کریں؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارے پروردگار نے تمہیں سود سے منع کیا ہے، تو کیا وہ خود اسے قبول کرے گا؟“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2650]

2651

Sahih Ibn Hibban #2651

أَخْبَرَنَا ابْنُ خُزَيْمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ كَيْسَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : عَرَّسْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَلَمْ نَسْتَيْقِظْ حَتَّى طَلَعَتِ الشَّمْسُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لِيَأْخُذْ كُلُّ إِنْسَانٍ بِرَأْسِ رَاحِلَتِهِ ، فَإِنَّ هَذَا لَمَنْزِلٌ حَضَرَنَا فِيهِ الشَّيْطَانُ " ، فَفَعَلْنَا ، فَدَعَا بِالْمَاءِ فَتَوَضَّأَ ، ثُمَّ صَلَّى سَجْدَتَيْنِ ، ثُمَّ أُقِيمَتِ الصَّلاةُ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ رات کے وقت پڑاؤ کیا۔ ہم بیدار نہیں ہوئے یہاں تک کہ سورج نکل آیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ہر شخص اپنی سواری کا سر پکڑ لے (اور یہاں سے روانہ ہو جائے) کیونکہ یہ ایک ایسی پڑاؤ کی جگہ ہے جہاں شیطان ہمارے پاس آ گیا تھا۔“ ہم نے ایسا ہی کیا (کچھ آگے جانے کے بعد) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی منگوایا۔ آپ نے وضو کیا، آپ نے دو رکعت (سنت) ادا کی اور پھر نماز ادا کی گئی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2651]

2652

Sahih Ibn Hibban #2652

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مَحْفُوظُ بْنُ أَبِي تَوْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ كَيْسَانَ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَنَامَ عَنْ رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ ، فَصَلاهَا بَعْدَمَا طَلَعَتِ الشَّمْسُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فجر کی دو رکعات کی ادائیگی کے وقت سوئے رہ گئے تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سورج نکلنے کے بعد انہیں ادا کیا تھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2652]

2653

Sahih Ibn Hibban #2653

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنِ الأَزْرَقِ بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ ذَكْوَانَ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ : صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعَصْرَ ، ثُمَّ دَخَلَ بَيْتِي فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، صَلَّيْتَ صَلاةً لَمْ تَكُنْ تُصَلِّيهَا ، فَقَالَ : قَدِمَ عَلَيَّ مَالٌ ، فَشَغَلَنِي عَنْ رَكْعَتَيْنِ كُنْتُ أَرْكَعُهُمَا قَبْلَ الْعَصْرِ ، فَصَلَّيْتُهُمَا الآنَ " ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَفَنَقْضِيهِمَا إِذَا فَاتَتْنَا ؟ قَالَ : " لا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عصر کی نماز ادا کرنے کے بعد میرے ہاں تشریف لائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعات ادا کیں۔ میں نے عرض کی: آج آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ کیسی نماز ادا کی ہے، جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پہلے ادا نہیں کی؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے پاس کچھ مال آیا تھا تو میں مصروفیت کی وجہ سے ان دو رکعات کو عصر سے پہلے ادا نہیں کر سکا جیسے پہلے ادا کرتا تھا، ان دونوں کو میں نے اب ادا کر لیا ہے۔“ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اگر ہم سے یہ رکعات فوت ہو جائیں، تو ہم ان کی قضا کریں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جی نہیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2653]

2654

Sahih Ibn Hibban #2654

حَدَّثَنَا شَبَابُ بْنُ صَالِحٍ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ قَحْطَبَةَ ، قَالا : حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا خَالِدٌ ، عَنْ خَالِدٍ ، عَنْ أَبِي قِلابَةَ ، عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَلَّمَ فِي ثَلاثِ رَكَعَاتٍ مِنَ الْعَصْرِ ، فَقَالَ لَهُ الْخِرْبَاقُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ،أَنَسِيتَ أَمْ قُصِرَتِ الصَّلاةُ ؟ فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَصَدَقَ الْخِرْبَاقُ ؟ " فَقَالُوا : نَعَمْ . فَقَامَ فَصَلَّى رَكْعَةً ، ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ ، ثُمَّ سَلَّمَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کی نماز میں تین رکعات ادا کرنے کے بعد سلام پھیر دیا۔ سیدنا خرباق رضی اللہ عنہ نے آپ کی خدمت میں عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا آپ بھول گئے ہیں؟ یا پھر نماز مختصر ہو گئی ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا خرباق ٹھیک کہہ رہا ہے؟“ لوگوں نے عرض کی: جی ہاں! تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور ایک رکعت ادا کی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو مرتبہ سجدہ سہو کیا اور پھر سلام پھیر دیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2654]

2655

Sahih Ibn Hibban #2655

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي رِزْمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَيْسَانَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَسَمَّى سَجْدَتَيِ السَّهْوِ : الْمُرْغِمَتَيْنِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سہو کے دو سجدوں کو ”(شیطان کو) رسوا کرنے والی دو چیزوں“ کا نام دیا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2655]

2656

Sahih Ibn Hibban #2656

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ زُهَيْرٍ ، بِتُسْتُرَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ ، عَنْ مَنْصُورِ بْنِ الْمُعْتَمِرِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيِّ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ قَيْسٍ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلاةً زَادَ فِيهَا ، أَوْ نَقَصَ مِنْهَا ، فَلَمَّا أَتَمَّ قُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَحَدَثَ فِي الصَّلاةِ شَيْءٌ ؟ قَالَ : فَثَنَى رِجْلَهُ فَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ ، ثُمَّ قَالَ : لَوْ حَدَثَ فِي الصَّلاةِ شَيْءٌ لأَخْبَرْتُكُمْ بِهِ ، وَلَكِنْ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ ، أَنْسَى كَمَا تَنْسَوْنَ ، فَإِذَا نَسِيتُ فَذَكِّرُونِي ،وَإِذَا أَحَدُكُمْ شَكَّ فِي صَلاتِهِ فَلْيَتَحَرَّى الصَّوَابَ وَلْيَبْنِ عَلَيْهِ ، ثُمَّ لْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایک نماز پڑھائی۔ آپ نے اس میں کچھ اضافہ کیا یا شاید کچھ کمی کر دی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز مکمل کی تو ہم نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا نماز کے بارے میں کوئی نیا حکم آیا ہے؟ راوی کہتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ایک ٹانگ بچھائی، آپ نے دو مرتبہ سجدہ سہو کیا۔ پھر آپ نے ارشاد فرمایا: ”اگر نماز کے بارے میں کوئی نیا حکم آیا ہوتا تو میں تمہیں اس کے بارے میں بتا دیتا، لیکن میں بھی ایک انسان ہوں، میں اسی طرح بھول جاتا ہوں، جس طرح تم بھول جاتے ہو اور جب میں بھول جاؤں، تو تم مجھے یاد کروا دو اور جب کسی انسان کو اپنی نماز کے بارے میں شک ہو، تو وہ درست چیز کے بارے میں اندازہ لگانے کی کوشش کرے اس پر بنیاد قائم کرے اور پھر (آخر میں) دو مرتبہ سجدہ سہو کر لے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2656]

2657

Sahih Ibn Hibban #2657

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَحْمُودٍ السَّعْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ صَالِحٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مِسْعَرُ بْنُ كِدَامٍ ، عَنْ مَنْصُورِ بْنِ الْمُعْتَمِرِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، أَنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ ، قَالَ : صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَزَادَ ، أَوْ نَقَصَ ، فَقِيلَ لَهُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هَلْ حَدَثَ فِي الصَّلاةِ شَيْءٌ ؟ قَالَ : لَوْ حَدَثَ شَيْءٌ لَنَبَّأْتُكُمُوهُ ، وَلَكِنْ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ ، أَنْسَى كَمَا تَنْسَوْنَ ،فَأَيُّكُمْ شَكَّ فِي صَلاتِهِ فَلْيَنْظُرْ أَحْرَى ذَلِكَ إِلَى الصَّوَابِ ، فَلْيُتِمَّ عَلَيْهِ ، ثُمَّ يَقُومُ ، فَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ "، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُغِيرَةِ هَذَا خَتَنُ ابْنِ الْمُبَارَكِ عَلَى ابْنَتِهِ ، ثِقَةٌ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز پڑھاتے ہوئے کچھ اضافہ کر دیا یا شاید کمی کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی گئی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا نماز کے بارے میں کوئی نیا حکم آیا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اگر کوئی نیا حکم آیا ہوتا تو میں تم لوگوں کو اس بارے میں بتا دیتا، لیکن میں بھی ایک انسان ہوں، میں اسی طرح بھول جاتا ہوں جس طرح تم بھول جاتے ہو، پس تم میں سے جس شخص کو اپنی نماز کے بارے میں شک ہو، تو وہ اس بات کا جائزہ لے کہ کون سی صورت درست ہونے کے زیادہ قریب ہے اور پھر اسی کی بنیاد پر وہ اپنی نماز کو مکمل کرے اور پھر دو مرتبہ سجدہ سہو کر لے۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) ابراہیم بن مغیرہ نامی راوی عبداللہ بن مبارک کا داماد ہے اور یہ ثقہ ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2657]

2658

Sahih Ibn Hibban #2658

أَخْبَرَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى السَّاجِيُّ ، بِالْبَصْرَةِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، قَالا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ صَلَّى الظُّهْرَ خَمْسًا ، فَقِيلَ :زِيدَ فِي الصَّلاةِ شَيْءٌ ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : وَمَا ذَاكَ ؟ " قَالُوا : إِنَّكَ صَلَّيْتَ خَمْسًا ، فَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ بَعْدَمَا سَلَّمَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں: آپ نے ظہر کی نماز میں پانچ رکعات پڑھا دیں، آپ کی خدمت میں عرض کی گئی: کیا نماز میں کچھ اضافہ ہو گیا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”کیا ہوا ہے؟“ انہوں نے عرض کی: آپ نے پانچ رکعات پڑھائی ہیں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرنے کے بعد دو مرتبہ سجدہ سہو کیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2658]

2659

Sahih Ibn Hibban #2659

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ الأُمَوِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : إِذَا شَكَّ أَحَدُكُمْ فِي صَلاتِهِ ، فَلْيَتَحَرَّ الصَّوَابَ ، ثُمَّ لْيُسَلِّمْ ، ثُمَّ لْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جب کسی شخص کو اپنی نماز کے بارے میں شک ہو، تو وہ درست صورت کا اندازہ لگانے کی کوشش کرے اور پھر سلام پھیرے اور پھر دو مرتبہ سجدہ سہو کر لے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2659]

2660

Sahih Ibn Hibban #2660

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حِبَّانُ بْنُ مُوسَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنْ مِسْعَرٍ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَزَادَ أَوْ نَقَصَ ، وَقِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هَلْ حَدَثَ فِي الصَّلاةِ شَيْءٌ ؟ فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَوْ حَدَثَ شَيْءٌ لَنَبَّأْتُكُمُوهُ ، وَلَكِنِّي إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ ، أَنْسَى كَمَا تَنْسَوْنَ ،فَأَيُّكُمْ شَكَّ فِي صَلاتِهِ ، فَلْيَنْظُرْ أَحْرَى ذَلِكَ إِلَى الصَّوَابِ ، وَلْيُتِمَّ عَلَيْهِ ، ثُمَّ لْيُسَلِّمْ ، وَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز پڑھاتے ہوئے کچھ اضافہ کر دیا یا کچھ کمی کر دی تو عرض کی گئی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا نماز کے بارے میں کوئی نیا حکم آ گیا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اگر کوئی نیا حکم آیا ہوتا تو میں تمہیں اس کے بارے میں بتا دیتا، لیکن میں ایک انسان ہوں، میں بھی اسی طرح بھول جاتا ہوں جس طرح تم بھول جاتے ہو، تو تم میں سے جس کسی کو بھی اپنی نماز کے بارے میں شک ہو، تو وہ اس بات کا جائزہ لے کہ کون سی صورت درست ہونے کے زیادہ قریب ہے اور وہ اسی کی بنیاد پر نماز کو مکمل کرے، پھر وہ سلام پھیرے اور دو مرتبہ سجدہ سہو کر لے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2660]

2661

Sahih Ibn Hibban #2661

أَخْبَرَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى السَّاجِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سُوَيْدٍ ، قَالَ :صَلَّى بِنَا عَلْقَمَةُ الظُّهْرَ خَمْسًا ، فَقَالَ لَهُ إِبْرَاهِيمُ ، فَقَالَ : وَأَنْتَ يَا أَعْوَرُ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : فَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ "، ثُمَّ حَدَّثَ عَلْقَمَةُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَ ذَلِكَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابراہیم بن سوید رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: علقمہ رحمہ اللہ نے ہمیں ظہر کی نماز میں پانچ رکعات پڑھا دیں تو ابراہیم رحمہ اللہ نے ان سے کہا: (آپ نے غلطی کی ہے) انہوں نے فرمایا: اے کانے! کیا تم بھی یہ کہتے ہو؟ ابراہیم رحمہ اللہ نے جواب دیا: جی ہاں! تو راوی بیان کرتے ہیں: انہوں نے دو مرتبہ سجدہ سہو کیا، پھر علقمہ رحمہ اللہ نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کی مانند حدیث بیان کی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2661]

2662

Sahih Ibn Hibban #2662

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، قَالَ : قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلاةً ، قَالَ إِبْرَاهِيمُ : لا أَدْرِي أَزَادَ نَقَصَ ، فَلَمَّا سَلَّمَ قِيلَ لَهُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَحَدَثَ فِي الصَّلاةِ شَيْءٌ ؟ قَالَ : لا ، وَمَا ذَاكَ ؟ " قَالُوا : صَلَّيْتَ كَذَا وَكَذَا ، قَالَ : فَثَنَى رِجْلَهُ ، وَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ ، وَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ ، ثُمَّ سَلَّمَ ، فَلَمَّا أَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ قَالَ : " إِنَّهُ لَوْ حَدَثَ فِي الصَّلاةِ شَيْءٌ أَنْبَأْتُكُمْ بِهِ ، وَلَكِنِّي إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِثْلُكُمْ ، أَنْسَى كَمَا تَنْسَوْنَ ، فَإِذَا نَسِيتُ فَذَكِّرُونِي ،وَإِذَا شَكَّ أَحَدُكُمْ فِي صَلاتِهِ ، فَلْيَتَحَرَّ الصَّوَابَ ، وَلْيُتِمَّ عَلَيْهِ ، ثُمَّ لْيُسَلِّمْ ، ثُمَّ لْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

علقمہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے یہ بات بیان کی ہے کہ ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھائی۔ ابراہیم (نامی راوی) بیان کرتے ہیں: مجھے نہیں معلوم کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں اضافہ کیا تھا یا کوئی کمی کی تھی۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا تو آپ کی خدمت میں عرض کی گئی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا نماز کے بارے میں کوئی نیا حکم آیا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جی نہیں، کیا ہوا ہے؟“ لوگوں نے عرض کی: آپ نے اس اس طرح نماز پڑھائی ہے۔ راوی کہتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ٹانگ کو بچھایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبلہ کی طرف رخ کیا، دو مرتبہ سجدہ سہو کیا، پھر سلام پھیر دیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہماری طرف متوجہ ہوئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اگر نماز کے بارے میں کوئی نیا حکم آیا ہوتا تو میں تم لوگوں کو اس بارے میں بتا دیتا، لیکن میں بھی تم لوگوں کی طرح ایک انسان ہوں، میں بھی اسی طرح بھول جاتا ہوں جس طرح تم لوگ بھول جاتے ہو؛ تو جب میں بھول جاؤں تو تم لوگ مجھے یاد کروا دیا کرو۔ جب کسی شخص کو اپنی نماز کے بارے میں شک ہو تو وہ درست اندازہ لگانے کی کوشش کرے، اسی کی بنیاد پر نماز کو مکمل کرے، پھر سلام پھیر کر دو مرتبہ سجدہ سہو کرے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2662]

2663

Sahih Ibn Hibban #2663

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ صَالِحٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ ، فَلَمْ يَدْرِ ثَلاثًا صَلَّى أَمْ أَرْبَعًا ، فَلْيُصَلِّ رَكْعَةً ، وَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ قَبْلَ السَّلامِ ، فَإِنْ كَانَتْ ثَالِثَةً شَفَعَتْهَا السَّجْدَتَانِ ، وَإِنْ كَانَتْ رَابِعَةً فَالسَّجْدَتَانِ تَرْغِيمٌ لِلشَّيْطَانِ "، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : رَوَى هَذَا الْخَبَرَ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ صَالِحٍ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جب کوئی شخص نماز ادا کرے اور اسے یہ پتا نہ چلے کہ اس نے تین رکعات ادا کی ہیں یا چار رکعات، تو وہ ایک رکعت ادا کر لے اور سلام پھیرنے سے پہلے دو مرتبہ سجدہ سہو کر لے، اگر وہ تین رکعات تھیں تو دو سجدے انہیں جفت کر دیں گے اور اگر وہ چار تھیں تو یہ دو سجدے شیطان کو رسوا کر دیں گے۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) اس روایت کو امام أحمد بن حنبل نے صفوان بن صالح کے حوالے سے نقل کیا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2663]

2664

Sahih Ibn Hibban #2664

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُصْعَبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ ، عَنِ ابْنِ عَجْلانَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِذَا شَكَّ أَحَدُكُمْ فِي صَلاتِهِ ، فَلْيُلْقِ الشَّكَّ ، وَلْيَبْنِ عَلَى الْيَقِينِ ، فَإِنِ اسْتَيْقَنَ التَّمَامَ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ ، فَإِنْ كَانَتْ صَلاتُهُ تَامَّةً كَانَتِ الرَّكْعَةُ نَافِلَةً ، وَالسَّجْدَتَانِ نَافِلَةً ، وَإِنْ كَانَتْ نَاقِصَةً كَانَتِ الرَّكْعَةُ تَمَامًا لِصَلاتِهِ ، وَالسَّجْدَتَانِ تُرْغِمَانِ أَنْفَ الشَّيْطَانِ "، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : قَدْ يَتَوَهَّمُ مَنْ لَمْ يُحْكِمْ صِنَاعَةَ الأَخْبَارِ ، وَلا تَفَقَّهَ مِنْ صَحِيحِ الآثَارِ ، أَنَّ التَّحَرِّيَ فِي الصَّلاةِ وَالْبِنَاءَ عَلَى الْيَقِينِ وَاحِدٌ ، وَلَيْسَ كَذَلِكَ ، لأَنَّ التَّحَرِّيَ هُوَ أَنْ يَشُكَّ الْمَرْءُ فِي صَلاتِهِ ، فَلا يَدْرِي مَا صَلَّى ، فَإِذَا كَانَ كَذَلِكَ عَلَيْهِ أَنْ يَتَحَرَّى الصَّوَابَ ، وَلْيَبْنِ عَلَى الأَغْلَبِ عِنْدَهُ ، وَيَسْجُدْ سَجْدَتَيِ السَّهْوِ بَعْدَ السَّلامِ عَلَى خَبَرِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، وَالْبِنَاءُ عَلَى الْيَقِينِ : هُوَ أَنْ يَشُكَّ الْمَرْءُ فِي الثِّنْتَيْنِ وَالثَّلاثِ ، أَوِ الثَّلاثِ وَالأَرْبَعِ ، فَإِذَا كَانَ كَذَلِكَ عَلَيْهِ أَنْ يَبْنِيَ عَلَى الْيَقِينِ وَهُوَ الأَقَلُّ ، وَلْيُتِمَّ صَلاتَهُ ، ثُمَّ يَسْجُدْ سَجْدَتَيِ السَّهْوِ قَبْلَ السَّلامِ عَلَى خَبَرِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، وَأَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، سُنَّتَانِ غَيْرُ مُتَضَادَّتَيْنِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”جب کسی شخص کو اپنی نماز کے بارے میں شک ہو جائے، تو وہ شک کو ایک طرف رکھے اور یقین پر بنا قائم کرے، اگر اسے نماز مکمل ہونے کا یقین ہو، تو دو مرتبہ سجدہ سہو کر لے، اگر اس کی نماز مکمل ہوئی، تو یہ رکعت نفل ہو جائے گی اور دو سجدے بھی نفل ہو جائیں گے اور اگر اس کی نماز نامکمل تھی، تو وہ رکعت اس کی نماز کو مکمل کر دے گی اور یہ دو سجدے شیطان کی ناک کو خاک آلود کر دیں گے۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) جو شخص علم حدیث میں مہارت نہیں رکھتا اور مستند روایات کی سمجھ بوجھ نہیں رکھتا، وہ اس غلط فہمی کا شکار ہوا کہ نماز کے بارے میں تحری کرنا اور یقین پر بنا قائم کرنا ایک ہی چیز ہے حالانکہ ایسا نہیں ہے۔ تحری یہ ہے کہ آدمی کو اپنی نماز میں شک لاحق ہو جائے تو یہ پتا نہ چلے کہ اس نے کتنی نماز ادا کی ہے، جب اس طرح کی صورت حال درپیش ہو، تو یہ بات لازم ہو گی کہ وہ درست صورت کے بارے میں تحری کرے جو اس کے نزدیک غالب گمان ہو۔ اس پر بنا قائم کر لے اور سلام پھیرنے کے بعد دو مرتبہ سجدہ سہو کر لے۔ جیسا کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول روایت میں یہ بات ہے۔ اور یقین پر بنا قائم کرنے کی صورت یہ ہے کہ آدمی کو دو یا تین رکعات، یا تین یا چار رکعات کے بارے میں شک ہوتا ہے۔ تو جب اس طرح کی صورت حال ہو گی تو وہ یقین پر بنا قائم کرے اور وہ سب سے کم مقدار ہے، پھر وہ اپنی نماز کو مکمل کر کے سلام پھیرنے سے پہلے دو مرتبہ سجدہ سہو کر لے گا، جیسا کہ سیدنا عبدالرحمن بن عوف اور سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہما سے منقول روایت میں یہ بات مذکور ہے، یہ دونوں طریقے سنت ہیں اور ان دونوں میں کوئی تضاد نہیں ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2664]

2665

Sahih Ibn Hibban #2665

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ الضَّرِيرُ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ عِيَاضٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ ، فَلَمْ يَدْرِ ثَلاثًا صَلَّى أَمْ أَرْبَعًا ، فَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ ، وَإِذَا أَتَى أَحَدَكُمُ الشَّيْطَانُ فَقَالَ : إِنَّكَ قَدْ أَحْدَثْتَ ، فَلْيَقُلْ : كَذَبْتَ ، إِلا مَا سَمِعَ صَوْتَهُ بِأُذُنِهِ ، أَوْ وَجَدَ رِيحَهُ بِأَنْفِهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”جب کوئی شخص نماز ادا کرے اور اسے یہ اندازہ نہ ہو پائے کہ اس نے تین رکعات ادا کی ہیں یا چار ادا کی ہیں، تو وہ جب بیٹھا ہوا ہو تو اس وقت دو مرتبہ سجدہ سہو کر لے کیونکہ شیطان کسی شخص کے پاس آتا ہے اور یہ کہتا ہے کہ تم بے وضو ہو گئے ہو، تو اس آدمی کو یہ کہنا چاہیے کہ تم جھوٹ کہہ رہے ہو، البتہ اگر وہ اپنے کانوں کے ذریعے (ہوا خارج ہونے کی) آواز سن لے یا اپنی ناک کے ذریعے (ہوا خارج ہونے کی) بو محسوس کر لے (تو اس کا حکم مختلف ہے)۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2665]

2666

Sahih Ibn Hibban #2666

أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ ، بِبُسْتَ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ هِلالٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : إِذَا جَاءَ أَحَدَكُمُ الشَّيْطَانُ فَقَالَ : إِنَّكَ قَدْ أَحْدَثْتَ ، فَلْيَقُلْ فِي نَفْسِهِ : كَذَبْتَ ، حَتَّى يَسْمَعَ صَوْتًا بِأُذُنِهِ ، أَوْ يَجِدَ رِيحًا بِأَنْفِهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جب شیطان تم میں سے کسی ایک کے پاس آئے اور یہ کہے: تم بے وضو ہو گئے ہو، تو اسے اپنے ذہن میں یہ کہنا چاہیے: تم جھوٹ کہہ رہے ہو، جب تک آدمی اپنے کان کے ذریعے (ہوا خارج ہونے کی) آواز نہیں سنتا یا اپنی ناک کے ذریعے اس کی بو کو محسوس نہیں کرتا (اس وقت تک اسے دوبارہ وضو نہیں کرنا چاہیے)۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2666]

2667

Sahih Ibn Hibban #2667

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُصْعَبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الْكِنْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ ، عَنِ ابْنِ عَجْلانَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِذَا شَكَّ أَحَدُكُمْ فِي صَلاتِهِ فَلْيُلْقِ الشَّكَّ ، وَلْيَبْنِ عَلَى الْيَقِينِ ، فَإِنِ اسْتَيْقَنَ التَّمَامَ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ ، فَإِنْ كَانَتْ صَلاتُهُ تَامَّةً كَانَتِ الرَّكْعَةُ نَافِلَةً ، وَالسَّجْدَتَانِ نَافِلَةً ، وَإِنْ كَانَتْ نَاقِصَةً كَانَتِ الرَّكْعَةُ تَمَامًا بِصَلاتِهِ ، وَالسَّجْدَتَانِ تُرْغِمَانِ أَنْفَ الشَّيْطَانِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”جب کسی شخص کو اپنی نماز کے بارے میں شک ہو جائے، تو وہ شک کو ایک طرف رکھے اور یقین پر بنیاد قائم کرے، جب اسے نماز مکمل ہونے کا یقین ہو جائے، تو دو مرتبہ سجدہ سہو کر لے۔ اگر اس کی نماز مکمل ہوگی، تو وہ ایک رکعت نفل ہوگی اور دو سجدے بھی نفل ہوں گے، اور اگر اس کی نماز ناقص تھی، تو وہ رکعت اس کی نماز کو مکمل کر دے گی اور دو سجدے شیطان کی ناک کو خاک آلود کر دیں گے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2667]

2668

Sahih Ibn Hibban #2668

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ فَلَمْ يَدْرِ ثَلاثًا صَلَّى أَمْ أَرْبَعًا ، فَلْيُصَلِّ رَكْعَةً ، وَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ قَبْلَ السَّلامِ ، فَإِنْ كَانَتْ رَابِعَةً فَالسَّجْدَتَانِ تَرْغِيمًا لِلشَّيْطَانِ ، وَإِنْ كَانَتْ خَامِسَةً شَفَعَتْهَا السَّجْدَتَانِ "قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : وَهِمَ فِي هَذَا الإِسْنَادِ الدَّرَاوَرْدِيُّ حَيْثُ قَالَ : عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، وَإِنَّمَا هُوَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، وَكَانَ إِسْحَاقُ يُحَدِّثُ مِنْ حِفْظِهِ كَثِيرًا ، فَلَعَلَّهُ مِنْ وَهْمِهِ أَيْضًا"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جب کوئی شخص نماز ادا کرے اور اسے یہ پتا نہ چل سکے اس نے تین رکعات ادا کی ہیں، یا چار ادا کی ہیں، تو اسے ایک رکعت ادا کرنی چاہیے اور سلام پھیرنے سے پہلے دو مرتبہ سجدہ سہو کر لینا چاہیے، اگر وہ چوتھی رکعت ہو گی تو دو سجدے شیطان کو رسوا کر دیں گے اور اگر وہ پانچویں رکعت ہو گی تو دو سجدے اسے جفت بنا دیں گے۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) دراوردی نامی راوی کو اس کی سند میں وہم ہوا ہے۔ انہوں نے یہ کہا ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے حوالے سے منقول ہے، حالانکہ یہ روایت سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول ہے۔ سعد بن ابراہیم نامی راوی چونکہ اکثر اپنے حافظے کے حوالے سے احادیث بیان کیا کرتے تھے تو ہو سکتا ہے کہ یہ ان کو وہم ہوا ہو۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2668]

2669

Sahih Ibn Hibban #2669

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الْعِجْلِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلالٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِذَا شَكَّ أَحَدُكُمْ ، فَلَمْ يَدْرِ كَمْ صَلَّى ثَلاثًا أَوْ أَرْبَعًا ، فَلْيَقُمْ فَلْيُصَلِّ رَكْعَةً يُتِمُّ رُكُوعَهَا وَسُجُودَهَا ، ثُمَّ يَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ ، فَإِنْ كَانَ قَدْ صَلَّى خَمْسًا ، شَفَعَ بِالسَّجْدَتَيْنِ ، وَإِنْ كَانَ قَدْ صَلَّى أَرْبَعًا كَانَتِ السَّجْدَتَانِ تَرْغِيمًا لِلشَّيْطَانِ "، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : خَبَرُ ابْنِ مَسْعُودٍ ، وَأَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، مِمَّا قَدْ يُوهِمُ عَالِمًا مِنَ النَّاسِ أَنَّ التَّحَرِّيَ فِي الصَّلاةِ وَالْبِنَاءَ عَلَى الْيَقِينِ وَاحِدٌ ، وَحُكْمَاهُمَا مُخْتَلِفَانِ ، لأَنَّ فِي خَبَرِ ابْنِ مَسْعُودٍ فِي ذِكْرِ التَّحَرِّي أَمَرَ بِسَجْدَتَيِ السَّهْوِ بَعْدَ السَّلامِ ، وَفِي خَبَرِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ فِي الْبِنَاءِ عَلَى الْيَقِينِ : أَمَرَ بِسَجْدَتَيِ السَّهْوِ قَبْلَ السَّلامِ ، وَالْفَصْلُ بَيْنَ التَّحَرِّي وَالْبِنَاءِ عَلَى الْيَقِينِ : أَنَّ الْبِنَاءَ عَلَى الْيَقِينِ هُوَ أَنْ يَشُكَّ الْمَرْءُ فِي صَلاتِهِ ، فَلا يَدْرِي ثَلاثًا صَلَّى أَمْ أَرْبَعًا ، فَإِذَا كَانَ كَذَلِكَ فَلْيَبْنِ عَلَى مَا اسْتَيْقَنَ وَهُوَ الثَّلاثُ ، وَيُتِمَّ صَلاتَهُ ، وَيَسْجُدْ سَجْدَتَيِ السَّهْوِ قَبْلَ السَّلامِ ، وَأَمَّا التَّحَرِّي : فَهُوَ أَنْ يَدْخُلَ الْمَرْءُ فِي صَلاتِهِ ، ثُمَّ اشْتَغَلَ بِقَلْبِهِ بِبَعْضِ أَسْبَابِ الدِّينِ أَوِ الدُّنْيَا حَتَّى مَا يَدْرِي أَيَّ شَيْءٍ صَلَّى أَصْلا ، فَإِذَا كَانَ ذَلِكَ تَحَرَّى عَلَى الأَغْلَبِ عِنْدَهُ ، وَيَبْنِي عَلَى مَا صَحَّ لَهُ مِنَ التَّحَرِّي مِنْ صَلاتِهِ ، وَيُتِمُّهَا ، وَيَسْجُدُ سَجْدَتَيِ السَّهْوِ بَعْدَ السَّلامِ حَتَّى يَكُونَ مُسْتَعْمِلا لِلْخَبَرَيْنِ مَعًا"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”جب کسی شخص کو شک ہو جائے اور اسے یہ پتہ نہ چلے کہ اس نے تین رکعات ادا کی ہیں یا چار، تو اسے اٹھ کر ایک رکعت ادا کرنی چاہیے، اس میں رکوع اور سجدے کو مکمل ادا کرے، پھر جب وہ بیٹھا ہوا ہو تو دو مرتبہ سجدہ سہو کر لے، اگر اس نے پانچ رکعات ادا کی تھیں تو دو سجدے انہیں جفت بنا دیں گے اور اگر وہ چار رکعات ادا کر چکا تھا تو یہ دو سجدے شیطان کو رسوا کر دیں گے۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) سیدنا عبداللہ بن مسعود اور سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہما کے حوالے سے منقول روایت وہ روایت ہے جس نے عالم شخص کو اس غلط فہمی کا شکار کیا کہ نماز کے دوران تحری کرنا اور یقین پر بنا قائم کرنا ایک ہی چیز ہے، حالانکہ ان دونوں کا حکم مختلف ہے؛ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے منقول روایت میں تحری کا حکم ہے جس میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرنے کے بعد دو مرتبہ سجدہ سہو کرنے کا حکم دیا ہے، جبکہ سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول روایت میں یقین پر بنا قائم کرنے کا حکم ہے جس میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرنے سے پہلے سجدہ سہو کرنے کا حکم دیا ہے، تو تحری کرنے اور یقین پر بنا قائم کرنے کے درمیان فرق ہے، کیونکہ یقین پر بنا قائم کرنے سے مراد یہ ہے کہ جس شخص کو اپنی نماز کے بارے میں شک ہو جائے اور اس کو یہ پتہ نہ چل سکے کہ اس نے تین رکعات ادا کی ہیں یا چار؟ جب اس طرح کی صورت حال درپیش ہو، پھر وہ اس چیز پر بنا قائم کرے گا جس کا اس کو یقین ہو اور وہ تین رکعات ہوں، پھر وہ اپنی نماز کو مکمل کرے، پھر سلام پھیرنے سے پہلے دو مرتبہ سجدہ سہو کر لے گا، جہاں تک تحری کا تعلق ہے، تو اس کی صورت یہ ہے کہ آدمی نماز شروع کرتا ہے، پھر اس کا ذہن کسی دنیاوی یا دینی معاملے میں مشغول ہو جاتا ہے یہاں تک کہ اسے یہ پتہ نہیں چل پاتا کہ اس نے کتنی نماز ادا کی ہے؟ جب اس طرح کی صورت حال درپیش ہو، تو وہ غالب گمان کے مطابق تحری کر لے گا اور تحری کے نتیجے میں جو چیز اس کے لیے ثابت ہو گی اس پر بنا قائم کرے اور پھر اپنی نماز کو مکمل کر کے سلام پھیرنے کے بعد دو مرتبہ سجدہ سہو کرے گا، اس صورت میں ان دونوں روایات پر ایک ساتھ عمل ہو جائے گا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2669]

2670

Sahih Ibn Hibban #2670

أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْكَبِيرِ بْنُ عُمَرَ الْخَطَّابِيُّ ، بِالْبَصْرَةِ ، أَبُو سَعِيدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ ثَوَابٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الأَنْصَارِيُّ ، عَنْ أَشْعَثَ ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، عَنْ أَبِي قِلابَةَ ، عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَصَلَّى بِهِمْ ، فَسَجَدَ سَجْدَتَيِ السَّهْوِ ، ثُمَّ تَشَهَّدَ وَسَلَّمَ "، تَفَرَّدَ بِهِ الأَنْصَارِيُّ ، مَا رَوَى ابْنُ سِيرِينَ ، عَنْ خَالِدٍ غَيْرَ هَذَا الْحَدِيثِ ، وَخَالِدٌ تِلْمِيذُهُ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کو نماز پڑھائی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو مرتبہ سجدہ سہو کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تشہد پڑھا اور سلام پھیر دیا۔ اس روایت کو نقل کرنے میں انصاری نامی راوی منفرد ہے، ابن سیرین رحمہ اللہ نے خالد کے حوالے سے اس حدیث کے علاوہ اور کوئی روایت نقل نہیں کی ہے، ویسے خالد ان کے شاگرد ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2670]

2671

Sahih Ibn Hibban #2671

أَخْبَرَنَا شَبَابُ بْنُ صَالِحٍ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ قَحْطَبَةَ ، قَالا : حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا خَالِدٌ ، عَنْ خَالِدٍ ، عَنْ أَبِي قِلابَةَ ، عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَلَّمَ فِي ثَلاثِ رَكَعَاتٍ مِنَ الْعَصْرِ ، فَقَالَ لَهُ الْخِرْبَاقُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ،أَنَسِيتَ أَمْ قُصِرَتِ الصَّلاةُ ؟ فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَصَدَقَ الْخِرْبَاقُ ؟ " فَقَالُوا : نَعَمْ ، فَقَامَ فَصَلَّى رَكْعَةً ، ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ ، ثُمَّ سَلَّمَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کی نماز میں تین رکعات پڑھنے کے بعد سلام پھیر دیا، تو سیدنا خرباق رضی اللہ عنہ نے آپ کی خدمت میں عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا آپ بھول گئے ہیں؟ یا پھر نماز مختصر ہو گئی ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”کیا خرباق ٹھیک کہہ رہا ہے؟“ انہوں نے عرض کی: جی ہاں! آپ کھڑے ہوئے، آپ نے ایک رکعت ادا کی، آپ نے دو مرتبہ سجدہ سہو کیا، پھر سلام پھیر دیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2671]

2672

Sahih Ibn Hibban #2672

أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْكَبِيرِ بْنُ عُمَرَ الْخَطَّابِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ ثَوَابٍ الْحُصْرِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الأَنْصَارِيُّ ، عَنْ أَشْعَثَ ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، عَنْ أَبِي قِلابَةَ ، عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَصَلَّى بِهِمْ ، فَسَجَدَ سَجْدَتَيِ السَّهْوِ ، ثُمَّ تَشَهَّدَ وَسَلَّمَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں نماز پڑھاتے ہوئے دو مرتبہ سجدہ سہو کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تشہد پڑھا پھر سلام پھیر دیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2672]

2673

Sahih Ibn Hibban #2673

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي عَوْنٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ خَتَنُ الْمُقْرِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، عَنْ أَبِي قِلابَةَ ، عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَصَلَّى صَلاةَ الظُّهْرِ أَوِ الْعَصْرِ ثَلاثَ رَكَعَاتٍ ، فَقِيلَ لَهُ ، فَقَالَ : أَكَذَلِكَ ؟ " قَالُوا : نَعَمْ ، فَصَلَّى رَكْعَةً ، ثُمَّ تَشَهَّدَ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيِ السَّهْوِ ، ثُمَّ سَلَّمَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر یا عصر کی نماز میں تین رکعات پڑھائیں (اور سلام پھیر دیا) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اس بارے میں گزارش کی گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”کیا اسی طرح سے؟“ لوگوں نے عرض کی: ”جی ہاں۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک رکعت پڑھی پھر تشہد پڑھا اور سلام پھیر دیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو مرتبہ سجدہ سہو کیا، پھر سلام پھیرا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2673]

2674

Sahih Ibn Hibban #2674

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ : سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ أَيُّوبَ ، يُحَدِّثُ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ حُدَيْجٍ ، قَالَ : صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَغْرِبَ ، فَسَهَا ، فَسَلَّمَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ ، ثُمَّ انْصَرَفَ " ، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّكَ سَهَوْتَ فَسَلَّمْتَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ ،" فَأَمَرَ بِلالا ، فَأَقَامَ الصَّلاةَ ، ثُمَّ أَتَمَّ تِلْكَ الرَّكْعَةَ "، وَسَأَلْتُ النَّاسَ عَنِ الرَّجُلِ الَّذِي قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّكَ سَهَوْتَ ، فَقِيلَ لِي : تَعْرِفُهُ ؟ فَقُلْتُ : لا ، إِلا أَنْ أُرَاهُ ، وَمَرَّ بِي رَجُلٌ ، فَقُلْتُ : هُوَ هَذَا ، فَقَالُوا : هَذَا طَلْحَةُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا معاویہ بن حدیج رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں مغرب کی نماز ادا کی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سہو ہوا اور آپ نے دو رکعات ادا کرنے کے بعد سلام پھیر دیا۔ جب آپ نے نماز مکمل کی تو ایک صاحب نے آپ کی خدمت میں عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ کو سہو ہو گیا ہے، آپ نے دو رکعات پڑھنے کے بعد سلام پھیر دیا ہے، تو آپ نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا، انہوں نے نماز کے لیے اقامت کہی، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس ایک رکعت کو مکمل کیا۔ میں نے لوگوں سے اس شخص کے بارے میں دریافت کیا جس نے یہ عرض کی تھی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ کو سہو ہو گیا ہے۔ مجھ سے دریافت کیا گیا: کیا آپ اسے جانتے ہیں؟ میں نے جواب دیا: جی نہیں، البتہ اگر میں انہیں (دیکھوں گا، تو پہچان جاؤں گا)، پھر ایک صاحب میرے پاس سے گزرے تو میں نے بتایا: یہ وہ صاحب ہیں، انہوں نے بتایا: یہ سیدنا طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2674]

2675

Sahih Ibn Hibban #2675

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِحْدَى صَلاتَيِ الْعَشِيِّ ، وَأَظُنُّ أَنَّهَا الظُّهْرُ رَكْعَتَيْنِ ، ثُمَّ قَامَ إِلَى خَشَبَةٍ فِي قِبْلَةِ الْمَسْجِدِ ، فَوَضَعَ يَدَيْهِ عَلَيْهَا ، إِحْدَاهُمَا عَلَى الأُخْرَى ، وَخَرَجَ سَرَعَانُ النَّاسِ ، وَقَالُوا : قُصِرَتِ الصَّلاةُ ، وَفِي الْقَوْمِ أَبُو بَكْرٍ ، وَعُمَرُ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِمَا ، فَهَابَا أَنْ يُكَلِّمَاهُ ، قَالَ : وَفِي الْقَوْمِ رَجُلٌ إِمَّا قَصِيرُ الْيَدَيْنِ ، وَإِمَّا طَوِيلُهُمَا ، يُقَالُ لَهُ : ذُو الْيَدَيْنِ ، فَقَالَ : أَقُصِرَتِ الصَّلاةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَمْ نَسِيتَ ؟ فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَمْ تُقْصَرِ الصَّلاةُ وَلَمْ أَنَسَ " ، فَقَالَ : بَلْ نَسِيتَ ، فَقَالَ : " أَصَدَقَ ذُو الْيَدَيْنِ ؟ " فَقَالُوا : نَعَمْ ، فَصَلَّى بِنَا رَكْعَتَيْنِ ، ثُمَّ سَلَّمَ ، ثُمَّ كَبَّرَ ، وَسَجَدَ مِثْلَ سُجُودِهِ أَوْ أَطْوَلَ ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ وَكَبَّرَ ، ثُمَّ كَبَّرَ وَسَجَدَ مِثْلَ سُجُودِهِ أَوْ أَطْوَلَ ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ وَكَبَّرَ، قَالَ : وَنُبِّئْتُ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ أَنَّهُ قَالَ : " ثُمَّ سَلَّمَ " ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : هَذِهِ الأَخْبَارُ الثَّلاثَةُ قَدْ تُوهِمُ غَيْرَ الْمُتَبَحِّرِ فِي صِنَاعَةِ الْعِلْمِ أَنَّهَا مُتَضَادَّةٌ ، لأَنَّ فِي خَبَرِ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ ذَا الْيَدَيْنِ : هُوَ الَّذِي أَعْلَمَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَلِكَ ، وَفِي خَبَرِ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ أَنَّ الْخِرْبَاقَ قَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَلِكَ ، وَفِي خَبَرِ مُعَاوِيَةَ بْنِ حُدَيْجٍ ، أَنَّ طَلْحَةَ بْنَ عُبَيْدِ اللَّهِ قَالَ لَهُ ذَلِكَ ، وَلَيْسَ بَيْنَ هَذِهِ الأَحَادِيثِ تَضَادٌّ وَلا تَهَاتُرٌ ، وَذَلِكَ أَنَّ خَبَرَ ذِي الْيَدَيْنِ : سَلَّمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الرَّكْعَتَيْنِ مِنْ صَلاةِ الظُّهْرِ أَوِ الْعَصْرِ ، وَخَبَرَ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ : أَنَّهُ سَلَّمَ مِنَ الرَّكْعَةِ الثَّالِثَةِ مِنْ صَلاةِ الظُّهْرِ أَوِ الْعَصْرِ ، وَخَبَرَ مُعَاوِيَةَ بْنِ حُدَيْجٍ : أَنَّهُ سَلَّمَ مِنَ الرَّكْعَتَيْنِ مِنْ صَلاةِ الْمَغْرِبِ ، فَدَلَّ مِمَّا وَصَفْنَا عَلَى أَنَّهَا ثَلاثَةُ أَحْوَالٍ مُتَبَايِنَةٍ فِي ثَلاثِ صَلَوَاتٍ لا فِي صَلاةٍ وَاحِدَةٍ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں دوپہر کی نمازوں میں سے کوئی ایک نماز پڑھائی، میرا خیال ہے وہ ظہر کی نماز تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں دو رکعات پڑھائیں (اور پھر سلام پھیر دیا)، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں قبلہ کی سمت رکھی ہوئی لکڑی کے پاس آ کر کھڑے ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھ اس پر رکھ دیے، ان دونوں میں سے ایک ہاتھ دوسرے پر تھا۔ جلد باز لوگ (مسجد) سے باہر چلے گئے، وہ یہ کہہ رہے تھے: نماز مختصر ہو گئی ہے۔ حاضرین میں سیدنا ابوبکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما موجود تھے لیکن انہوں نے رعب کی وجہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں گزارش نہیں کی۔ راوی بیان کرتے ہیں کہ حاضرین میں سے ایک صاحب تھے جن کے ہاتھ شاید چھوٹے تھے یا شاید لمبے تھے، انہیں ذوالیدین کہا جاتا تھا۔ انہوں نے عرض کی: ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا نماز مختصر ہو گئی ہے یا آپ بھول گئے ہیں؟“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”نماز مختصر نہیں ہوئی اور میں بھی بھولا نہیں ہوں۔“ انہوں نے عرض کی: شاید آپ بھول گئے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”کیا ذوالیدین ٹھیک کہہ رہا ہے؟“ لوگوں نے عرض کی: جی ہاں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں دو رکعات پڑھائیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تکبیر کہی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے عام سجدوں کی مانند یا شاید اس سے کچھ طویل سجدہ کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سر اٹھایا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تکبیر کہی اور اپنے عام سجدوں کی مانند تھا یا شاید اس سے کچھ طویل سجدہ کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سر اٹھایا اور تکبیر کہی۔ راوی بیان کرتے ہیں: مجھے یہ بات بتائی گئی ہے، سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ روایت منقول ہے اور اس میں یہ الفاظ بھی ہیں: پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیر دیا۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) یہ تینوں روایات اس شخص کو غلط فہمی کا شکار کرتی ہیں جو علمِ حدیث میں مہارت نہیں رکھتا اور وہ اس بات کا قائل ہے کہ یہ ایک دوسرے کی متضاد ہیں۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول روایت میں یہ بات ہے کہ سیدنا ذوالیدین رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بات کی اطلاع دی تھی، جبکہ سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول روایت میں یہ بات مذکور ہے کہ سیدنا خرباق رضی اللہ عنہ نے یہ بات کہی تھی۔ جبکہ سیدنا معاویہ بن خدیج رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول روایت میں یہ بات ہے کہ سیدنا طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بارے میں بتایا تھا۔ حالانکہ ان روایات میں کوئی تضاد اور کوئی اختلاف نہیں ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ سیدنا ذوالیدین رضی اللہ عنہ کے بارے میں منقول روایت میں یہ بات مذکور ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر یا عصر کی نماز میں دو رکعات پڑھنے کے بعد سلام پھیر دیا تھا۔ جبکہ سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول روایت میں یہ بات مذکور ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر یا عصر کی نماز میں تیسری رکعت پڑھنے کے بعد سلام پھیر دیا تھا، جبکہ سیدنا معاویہ بن خدیج رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول روایت میں یہ بات مذکور ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مغرب کی دو رکعات پڑھنے کے بعد سلام پھیر دیا تھا۔ تو جو چیز ہم نے ذکر کی ہے وہ اس بات کی طرف ہماری رہنمائی کرتی ہے کہ یہ تین مختلف مواقع پر تین مختلف نمازوں کے واقعات ہیں۔ ایسا نہیں ہے کہ ایک ہی نماز کے بارے میں یہ تینوں روایات مذکور ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2675]

2676

Sahih Ibn Hibban #2676

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْجُنَيْدِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ مُضَرَ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ رَبِيعَةَ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَالِكِ بْنِ بُحَيْنَةَ ، قَالَ : صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ ، فَقَامَ وَعَلَيْهِ جُلُوسٌ ، فَلَمَّا كَانَ فِي آخِرِ صَلاتِهِ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ظہر نماز پڑھائی، (دو رکعات ادا کرنے کے بعد) جب آپ پر بیٹھنا لازم تھا تو آپ بیٹھنے کی بجائے کھڑے ہو گئے، نماز کے آخر میں جب آپ بیٹھے ہوئے تھے تو آپ نے دو مرتبہ سجدہ سہو کیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2676]

2677

Sahih Ibn Hibban #2677

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الأَعْرَجِ ، عَنِ ابْنِ بُحَيْنَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَقَامَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ ، فَقَامَ النَّاسُ مَعَهُ ، فَلَمَّا جَلَسَ فِي أَرْبَعٍ انْتَظَرَ النَّاسُ تَسْلِيمَهُ ، كَبَّرَ ثُمَّ سَجَدَ ، ثُمَّ كَبَّرَ ، ثُمَّ سَجَدَ قَبْلَ أَنْ يُسَلِّمَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابن بحینہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دو رکعات ادا کرنے کے بعد بیٹھنے کی بجائے کھڑے ہو گئے۔ لوگ بھی آپ کے ہمراہ کھڑے ہو گئے، جب آپ چار رکعات ادا کرنے کے بعد بیٹھے اور لوگ آپ کے سلام پھیرنے کے منتظر تھے، تو آپ نے تکبیر کہی، پھر آپ سجدے میں چلے گئے، پھر آپ نے تکبیر کہی، پھر آپ سجدے میں چلے گئے، ایسا آپ کے سلام پھیرنے سے پہلے ہوا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2677]

2678

Sahih Ibn Hibban #2678

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ هُرْمُزَ الأَعْرَجِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُحَيْنَةَ الأَسَدِيِّ حَلِيفِ بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ فِي صَلاةِ الظُّهْرِ وَعَلَيْهِ جُلُوسٌ ، فَلَمَّا أَتَمَّ صَلاتَهُ ، سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ قَبْلَ أَنْ يُسَلِّمَ ، وَسَجَدَهُمَا النَّاسُ مَعَهُ مَكَانَ مَا نَسِيَ مِنَ الْجُلُوسِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن بحینہ رضی اللہ عنہ جو بنو عبدالمطلب کے حلیف ہیں، وہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ظہر کی نماز میں (دو رکعات ادا کرنے کے بعد) کھڑے ہو گئے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر بیٹھنا لازم تھا، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز مکمل کی تو جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے ہوئے تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرنے سے پہلے دو مرتبہ سجدہ سہو کیا۔ لوگوں نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ سجدہ کیا، یہ اس کے بدلے میں تھے جو بیٹھنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھول گئے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2678]

2679

Sahih Ibn Hibban #2679

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ ، قَالَ : سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ الأَنْصَارِيَّ ، يَقُولُ : أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ الأَعْرَجُ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ بُحَيْنَةَ أَخْبَرَهُ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ فِي ثِنْتَيْنِ مِنَ الظُّهْرِ ، فَلَمْ يَجْلِسْ ، فَلَمَّا قَضَى صَلاتَهُ ، سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ ، ثُمَّ سَلَّمَ بَعْدَ ذَلِكَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن بحینہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ظہر کی نماز میں دو رکعات ادا کرنے کے بعد کھڑے ہو گئے، آپ بیٹھے نہیں، جب آپ نے اپنی نماز مکمل کی تو آپ نے دو مرتبہ سجدہ سہو کیا اور پھر اس کے بعد سلام پھیرا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2679]

2680

Sahih Ibn Hibban #2680

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُحَمَّدٍ الدَّغَوْلِيُّ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الذُّهْلِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الأَعْرَجِ ، وَابْنِ حِبَّانَ ، عَنِ ابْنِ بُحَيْنَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَصَلَّى ، فَقَامَ فِي الشَّفْعِ الَّذِي يُرِيدُ أَنْ يَجْلِسَ ، فَسَبَّحْنَا فَمَضَى ، فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ صَلاتِهِ ، سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابن بحینہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز ادا کی، آپ دو رکعات ادا کرنے کے بعد کھڑے ہو گئے، جب آپ نے بیٹھنا تھا ہم نے «سُبْحَانَ اللّٰهِ» ”اللہ پاک ہے“ کہا، لیکن آپ نے نماز جاری رکھی، جب آپ نماز پڑھ کر فارغ ہوئے، تو جب آپ بیٹھے ہوئے تھے، تو آپ نے دو مرتبہ سجدہ سہو کر لیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2680]

2681

Sahih Ibn Hibban #2681

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ الْقَطَّانُ ، بِالرَّقَّةِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَكِيمُ بْنُ سَيْفٍ الرَّقِّيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَة ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَصَلَّى بِهِمْ خَمْسَ صَلَوَاتٍ ، فَلَمَّا سَلَّمَ ، قِيلَ لَهُ ذَلِكَ ، فَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ ، فَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں پانچ رکعات پڑھا دیں، جب آپ نے سلام پھیرا تو آپ کی خدمت میں اس بارے میں عرض کی گئی، تو آپ نے قبلہ کی طرف رخ کیا اور بیٹھنے کے دوران ہی دو مرتبہ سجدہ سہو کر لیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2681]

2682

Sahih Ibn Hibban #2682

أَخْبَرَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى السَّاجِيُّ ، بِالْبَصْرَةِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ مُثَنَّى ، قَالا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ صَلَّى الظُّهْرَ خَمْسًا ، فَقِيلَ :زِيدَ فِي الصَّلاةِ شَيْءٌ ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : وَمَا ذَاكَ ؟ " قَالَ : إِنَّكَ صَلَّيْتَ خَمْسًا ، فَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ بَعْدَمَا سَلَّمَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر کی نماز میں پانچ رکعات پڑھا دیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی گئی: کیا نماز میں اضافہ ہو گیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا ہوا ہے؟“ لوگوں نے عرض کی: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانچ رکعات پڑھا دی ہیں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرنے کے بعد دو مرتبہ سجدہ سہو کیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2682]

2683

Sahih Ibn Hibban #2683

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَمِّي جُوَيْرِيَةُ بْنُ أَسْمَاءَ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَهُ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : يَأْتِي الشَّيْطَانُ أَحَدَكُمْ وَهُوَ فِي صَلاتِهِ لِيُلْبِسَ عَلَيْهِ حَتَّى لا يَدْرِيَ كَمْ صَلَّى ، فَإِذَا وَجَدَ أَحَدُكُمْ ذَلِكَ فَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”شیطان تم میں سے کسی ایک کے پاس آتا ہے، وہ شخص اس وقت نماز ادا کر رہا ہوتا ہے، شیطان اس لیے آتا ہے تاکہ اس کی نماز اس کے لیے مشتبہ کر دے، یہاں تک کہ آدمی کو یہ پتا نہیں چلتا کہ اس نے کتنی نماز ادا کی ہے؛ جب کسی شخص کو اس طرح کی صورتحال کا سامنا کرنا پڑے تو جب وہ بیٹھا ہوا ہو، تو وہ دو مرتبہ سجدہ سہو کر لے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2683]

2684

Sahih Ibn Hibban #2684

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ ، وَأَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ ، وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ، قَالَ : صَلَّى لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ أَوِ الْعَصْرِ ، فَسَلَّمَ فِي رَكْعَتَيْنِ مِنْ أَحَدِهِمَا ، فَقَالَ لَهُ ذُو الشِّمَالَيْنِ بْنُ عَبْدِ عَمْرِو بْنِ نَضْلَةَ الْخُزَاعِيُّ ، حَلِيفُ بَنِي زُهْرَةَ : أَقُصِرَتِ الصَّلاةُ أَمْ نَسِيتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَمْ أَنَسَ ، وَلَمْ تُقْصَرْ " ، فَقَالَ ذُو الشِّمَالَيْنِ : كَانَ بَعْضُ ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَأَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى النَّاسِ ، وَقَالَ : " أَصَدَقَ ذُو الْيَدَيْنِ ؟ " قَالُوا : نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَتَمَّ الصَّلاةَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ظہر یا عصر کی نماز پڑھائی تو دو رکعات ادا کرنے کے بعد سلام پھیر دیا۔ سیدنا ذوشمالین بن عبد عمرو بن نضلہ خزاعی رضی اللہ عنہ جو بنوزہرہ کے حلیف ہیں انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا نماز مختصر ہو گئی ہے، یا آپ بھول گئے ہیں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نہیں بھولا ہوں اور یہ بھی مختصر نہیں ہوئی ہے“، تو سیدنا ذوشمالین رضی اللہ عنہ نے عرض کی: ان میں سے کچھ تو ہوا ہے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور دریافت کیا: ”کیا ذوشمالین ٹھیک کہہ رہا ہے؟“ لوگوں نے عرض کی: جی ہاں، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور اپنی نماز کو مکمل کیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2684]

2685

Sahih Ibn Hibban #2685

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، وأبي بكر بن سليمان بن أبي حثمة عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَالظُّهْرَ أَوِ الْعَصْرَ فَسَلَّمَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ ، فَقَالَ ذُو الشِّمَالَيْنِ بْنُ عَبْدِ عَمْرٍو ، وَكَانَ حَلِيفًا لِبَنِي زُهْرَةَ : أَخُفِّفَتِ الصَّلاةُ ، أَمْ نَسِيتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ فَقَالَ : رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَا يَقُولُ ذُو الْيَدَيْنِ ؟ " فَقَالُوا : صَدَقَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، قَالَ : فَأَتَمَّ بِهِمُ الرَّكْعَتَيْنِ اللَّتَيْنِ نَقَصَهُمَا ، ثُمَّ سَلَّمَ، قَالَ الزُّهْرِيُّ : كَانَ هَذَا قَبْلَ بَدْرٍ ، ثُمَّ اسْتَحْكَمَتِ الأُمُورُ بَعْدُ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر یا شاید عصر کی نماز ادا کرتے ہوئے دو رکعات پڑھنے کے بعد سلام پھیر دیا، تو سیدنا ذوشمالین بن عبد عمرو رضی اللہ عنہ جو بنوزہرہ کے حلیف ہیں انہوں نے عرض کی: ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا نماز مختصر ہو گئی ہے، یا آپ بھول گئے ہیں؟“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”ذوالیدین کیا کہہ رہا ہے؟“ لوگوں نے عرض کی: ”اے اللہ کے نبی! یہ ٹھیک کہہ رہا ہے۔“ راوی کہتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو وہ دو رکعات پڑھائیں جو رہ گئی تھیں اور پھر آپ نے سلام پھیرا۔ زہری رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: یہ بدر سے پہلے کا واقعہ ہے کیونکہ اس کے بعد امور مستحکم ہو گئے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2685]

2686

Sahih Ibn Hibban #2686

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ أَبِي تَمِيمَةَ السَّخْتِيَانِيِّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ انْصَرَفَ مِنَ اثْنَتَيْنِ ، فَقَالَ لَهُ ذُو الْيَدَيْنِ :أَقُصِرَتِ الصَّلاةُ أَمْ نَسِيتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَصَدَقَ ذُو الْيَدَيْنِ ؟ " فَقَالَ النَّاسُ : نَعَمْ ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى اثْنَتَيْنِ أُخْرَتَيْنِ ، ثُمَّ سَلَّمَ ، ثُمَّ كَبَّرَ ، فَسَجَدَ مِثْلَ سُجُودِهِ أَوْ أَطْوَلَ ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ ، ثُمَّ كَبَّرَ ، فَسَجَدَ مِثْلَ سُجُودِهِ أَوْ أَطْوَلَ ، ثُمَّ رَفَعَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعات ادا کرنے کے بعد سلام پھیر دیا۔ سیدنا ذوالیدین رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی: ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا نماز مختصر ہو گئی ہے؟“ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”کیا ذوالیدین ٹھیک کہہ رہا ہے؟“ لوگوں نے عرض کی: ”جی ہاں“، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے باقی دو رکعات بھی ادا کیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تکبیر کہی اور اپنے عام سجدوں کی مانند یا اس سے کچھ طویل سجدہ کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے سر کو اٹھایا، پھر تکبیر کہی اور اپنے عام سجدوں کی مانند یا اس سے کچھ طویل سجدہ کیا، پھر اپنے (سر کو) اٹھایا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2686]

2687

Sahih Ibn Hibban #2687

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ضَمْضَمُ بْنُ جَوْسٍ الْهِفَّانِيُّ ، قَالَ لِي أَبُو هُرَيْرَةَ : صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِحْدَى صَلاتَيِ الْعَشِيِّ ، فَلَمْ يُصَلِّ بِنَا إِلا رَكْعَتَيْنِ ، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ يُقَالُ لَهُ : ذُو الْيَدَيْنِ ، مِنْ خُزَاعَةَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ،أَقُصِرَتِ الصَّلاةُ أَمْ نَسِيتَ ؟ فَقَالَ : كُلُّ ذَلِكَ لَمْ يَكُنْ " ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّمَا صَلَّيْتَ بِنَا رَكْعَتَيْنِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا يَقُولُ ذُو الْيَدَيْنِ ؟ " وَأَقْبَلَ عَلَى الْقَوْمِ ، فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، لَمْ تُصَلِّ بِنَا إِلا رَكْعَتَيْنِ ، فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ فَصَلَّى الرَّكْعَتَيْنِ الْبَاقِيَتَيْنِ ، ثُمَّ سَلَّمَ ، ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ضمضم بن جوس ہفانی بیان کرتے ہیں: سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے مجھے بتایا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں شام کی ایک نماز پڑھائی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں صرف دو رکعات پڑھائیں (اور سلام پھیر دیا)، ایک صاحب نے جن کا نام ذوالیدین تھا، جن کا تعلق خزاعہ قبیلے سے تھا، انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا نماز مختصر ہو گئی ہے یا آپ بھول گئے ہیں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دونوں میں سے کچھ بھی نہیں ہوا ہے۔“ انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ نے ہمیں دو رکعات پڑھائی ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”ذوالیدین کیا کہہ رہا ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم حاضرین کی طرف متوجہ ہوئے، لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ نے ہمیں صرف دو رکعات پڑھائی ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبلہ کی طرف رخ کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے باقی رہ جانے والی دو رکعات ادا کیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیٹھنے کے دوران دو مرتبہ سجدہ سہو کیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2687]

2688

Sahih Ibn Hibban #2688

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِحْدَى صَلاتَيِ الْعَشِيِّ ، إِمَّا قَالَ : الظُّهْرَ ، وَإِمَّا قَالَ : الْعَصْرَ ، قَالَ : وَأَكْبَرُ ظَنِّي أَنَّهَا الْعَصْرُ ، فَصَلَّى بِنَا رَكْعَتَيْنِ ، ثُمَّ سَلَّمَ ، وَتَقَدَّمَ إِلَى خَشَبَةٍ فِي مُقَدَّمِ الْمَسْجِدِ ، فَوَضَعَ يَدَيْهِ عَلَيْهَا ، إِحْدَاهُمَا عَلَى الأُخْرَى ، وَخَرَجَ سَرَعَانُ النَّاسِ فَجَعَلُوا يَقُولُونَ : قُصِرَتِ الصَّلاةُ ، وَفِي الْقَوْمِ أَبُو بَكْرٍ ، وَعُمَرُ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِمَا ، فَهَابَا أَنْ يَسْأَلا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ ، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ يُقَالُ لَهُ ذُو الْيَدَيْنِ : أَقُصِرَتِ الصَّلاةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَمْ نَسِيتَ ؟ قَالَ : مَا قُصِرَتِ الصَّلاةُ ، وَلا نَسِيتُ " ، قَالَ : بَلْ نَسِيتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " أَكَذَلِكَ ؟ " قَالُوا : نَعَمْ ، قَالَ : فَرَجَعَ فَصَلَّى بِنَا رَكْعَتَيْنِ ، ثُمَّ سَلَّمَ ، ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ ، فَأَطَالَ نَحْوًا مِنْ سُجُودِهِ ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ ، ثُمَّ سَجَدَ الثَّانِيَةَ ، فَأَطَالَ نَحْوًا مِنْ سُجُودِهِ ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ، فَقِيلَ لِمُحَمَّدٍ : ثُمَّ سَلَّمَ ؟ قَالَ : لَمْ أَحْفَظْ ذَلِكَ مِنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، وَأُنْبِئْتُ أَنَّ عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ ، قَالَ : ثُمَّ سَلَّمَ ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : أَخْبَارُ ذِي الْيَدَيْنِ مَعْنَاهَا : أَنَّ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَكَلَّمَ فِي صَلاتِهِ عَلَى أَنَّ الصَّلاةَ قَدْ تَمَّتْ لَهُ ، وَأَنَّهُ قَدْ أَدَّى فَرْضَهُ الَّذِي عَلَيْهِ ، وَذُو الْيَدَيْنِ قَدْ تَوَهَّمَ أَنَّ الصَّلاةَ قَدْ رُدَّتْ إِلَى الْفَرِيضَةِ الأُولَى ، فَتَكَلَّمَ عَلَى أَنَّهُ فِي غَيْرِ الصَّلاةِ ، وَأَنَّ صَلاتَهُ قَدْ تَمَّتْ ، فَلَمَّا اسْتَثْبَتَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَصْحَابَهُ ، كَانَ مِنَ اسْتِثْبَاتِهِ عَلَى يَقِينٍ أَنَّهُ قَدْ أَتَمَّ صَلاتَهُ ، وَأَمَّا جَوَابُ الصَّحَابَةِ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِمْ لَهُ أَنْ : نَعَمْ ، فَكَانَ الْوَاجِبُ عَلَيْهِمْ أَنْ يُجِيبُوهُ ، وَإِنْ كَانُوا فِي نَفْسِ الصَّلاةِ ، لِقَوْلِ اللَّهِ جَلَّ وَعَلا : يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اسْتَجِيبُوا لِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاكُمْ لِمَا يُحْيِيكُمْ ، فَأَمَّا الْيَوْمَ ، فَقَدِ انْقَطَعَ الْوَحْيُ ، وَأُقِرَّتِ الْفَرَائِضُ ، فَإِنْ تَكَلَّمَ الإِمَامُ وَعِنْدَهُ أَنَّ الصَّلاةَ قَدْ تَمَّتْ بَعْدَ السَّلامِ لَمْ تَبْطُلْ صَلاتُهُ ، وَإِنْ سَأَلَ الْمَأْمُومِينَ فَأَجَابُوهُ بَطَلَتْ صَلاتُهُمْ ، وَإِنْ سَأَلَ بَعْضَ الْمَأْمُومِينَ الإِمَامَ عَنْ ذَلِكَ ، بَطَلَتْ صَلاتُهُ لاسْتِحْكَامِ الْفَرَائِضِ ، وَانْقِطَاعِ الْوَحْيِ ، وَالْعِلَّةُ فِي سَهْوِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صَلاتِهِ أَنَّهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بُعِثَ مُعَلِّمًا قَوْلا وَفِعْلا ، فَكَانَتِ الْحَالُ تَطْرَأُ عَلَيْهِ فِي بَعْضِ الأَحْوَالِ ، وَالْقَصْدُ فِيهِ إِعْلامُ الأُمَّةِ مَا يَجِبُ عَلَيْهِمْ عِنْدَ حُدُوثِ تِلْكَ الْحَالَةِ بِهِمْ بَعْدَهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں دوپہر کی ایک نماز پڑھائی (راوی کہتے ہیں) شاید انہوں نے ظہر کی نماز کا ذکر کیا تھا یا عصر کا ذکر کیا تھا، لیکن میرا غالب گمان یہ ہے، وہ عصر کی نماز تھی۔ راوی کہتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں دو رکعات پڑھائیں اس کے بعد سلام پھیر دیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں آگے کی طرف رکھی ہوئی لکڑی کی طرف بڑھ گئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھ اس پر رکھ دیے ان میں سے ایک ہاتھ دوسرے پر تھا۔ جلد باز لوگ (مسجد سے) باہر نکل گئے وہ یہ کہہ رہے تھے نماز مختصر ہو گئی ہے۔ حاضرین میں سیدنا ابوبکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما بھی موجود تھے لیکن انہیں اس بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے گزارش کرنے کی جرات نہیں ہوئی، ایک صاحب جن کا نام ذوالیدین رضی اللہ عنہ تھا انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا نماز مختصر ہو گئی ہے یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھول گئے ہیں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نماز مختصر نہیں ہوئی اور میں بھی بھولا نہیں ہوں۔“ انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شاید آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھول گئے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”کیا اسی طرح ہے؟“ لوگوں نے عرض کی: جی ہاں۔ راوی کہتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم واپس آئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں دو رکعات پڑھائیں پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا پھر دو مرتبہ سجدہ سہو کیا جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے عام سجدوں جتنا طویل تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سر اٹھایا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسری مرتبہ سجدہ کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عام سجدوں جتنا طویل سجدہ کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سر اٹھایا۔ محمد بن سیرین رحمہ اللہ نامی راوی سے دریافت کیا گیا: روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں: پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیر دیا، تو انہوں نے بتایا: سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے مجھے یہ الفاظ یاد نہیں ہیں، البتہ مجھے یہ بات بتائی گئی ہے کہ سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیر دیا۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) سیدنا ذوالیدین رضی اللہ عنہ کی اطلاع کا مطلب یہ ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کے دوران کلام کیا تھا، اس بنیاد پر کہ ان کی نماز مکمل ہو چکی ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ فرض ادا کر لیا ہے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذمے لازم تھا۔ سیدنا ذوالیدین رضی اللہ عنہ یہ سمجھے کہ شاید نماز اپنے پہلے والے فرض کی طرف لوٹا دی گئی ہے، انہوں نے اس صورت میں کلام کر دیا کہ وہ نماز کی حالت میں نہیں ہیں اور نماز مکمل ہو چکی ہے۔ لیکن جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب سے تصدیق چاہی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بات کا یقین ہو گیا تو پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی نماز کو مکمل کر لیا۔ جہاں تک صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جواب دینے کا تعلق ہے کہ انہوں نے جی ہاں کہا: تو اب ان لوگوں پر یہ بات لازم تھی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو جواب دیتے اگرچہ وہ نماز ادا کر رہے ہوتے۔ اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اسْتَجِيبُوا لِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاكُمْ لِمَا يُحْيِيكُمْ﴾ [سورة الأنفال: 24] ”اے ایمان والو! اللہ اور اس کے رسول کی پکار پر جواب دو جب وہ تمہیں بلائیں تاکہ یہ چیز تم کو زندگی دے۔“ جہاں تک آج کے دن کا تعلق ہے، تو اب وحی کا سلسلہ منقطع ہو چکا ہے اور فرض برقرار ہو چکے ہیں۔ تو جب امام کلام کرے اور اس کا خیال یہ ہو کہ سلام پھیرنے کے بعد اس کی نماز مکمل ہو چکی ہے تو اس کی نماز باطل نہیں ہو گی۔ لیکن اگر وہ مقتدیوں سے سوال کرتا ہے اور مقتدی اس کو جواب دیتے ہیں، تو ان لوگوں کی نماز باطل ہو جائے گی اور اگر امام نے بعض مقتدیوں سے اس بارے میں دریافت کیا، تو امام کی نماز بھی باطل ہو جائے گی، کیونکہ اب فرائض مستحکم ہو چکے ہیں اور وحی کا سلسلہ منقطع ہو چکا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے نماز کے دوران سہو لاحق ہونے میں علت یہ تھی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو تعلیم دینے والا بنا کر بھیجا گیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم قولی طور پر بھی اور عملی طور پر بھی تعلیم دیتے تھے۔ تو بعض اوقات آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایسی کیفیت طاری ہو جاتی تھی، جس کا مقصد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کو اطلاع دینا ہوتا تھا کہ اس طرح کی صورتحال درپیش ہونے پر ان پر کیا چیز لازم ہو گی؟ یعنی وہ صورت حال جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ان کو پیش آئے گی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2688]

2689

Sahih Ibn Hibban #2689

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي رِزْمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَيْسَانَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَسَمَّى سَجْدَتَيِ السَّهْوِ الْمُرْغِمَتَيْنِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سہو کے دو سجدوں کو ”(شیطان کو) رسوا کرنے والی دو چیزوں“ کا نام دیا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2689]