Muslim99Muslim99

Sahih Ibn Hibban · Book 23 · Chapter 2

Book of Hudud

Hadith 2536–2575

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

2536

Sahih Ibn Hibban #2536

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا عَبَّاسٌ الْجُرَيْرِيُّ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : أَوْصَانِي خَلِيلِي أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِثَلاثٍ الْوِتْرُ قَبْلَ النَّوْمِ ، وَصَلاةُ الضُّحَى رَكْعَتَيْنِ ، وَصَوْمُ ثَلاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ”میرے خلیل سیدنا ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے تین چیزوں کی تلقین کی تھی: سونے سے پہلے وتر ادا کرنے کی، چاشت کے وقت دو رکعات ادا کرنے کی اور ہر مہینے میں تین روزے رکھنے کی۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2536]

2537

Sahih Ibn Hibban #2537

أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ سِنَانٍ الْقَطَّانُ ، بِوَاسِطَ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُنَيْنٍ ، عَنْ أَبِي مُرَّةَ مَوْلَى أُمِّ هَانِئٍ ، قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو : وَقَدْ رَأَيْتُ أَبَا مُرَّةَ ، وَكَانَ شَيْخًا كَبِيرًا قَدْ أَدْرَكَ أُمَّ هَانِئٍ ، عَنْ أُمِّ هَانِئٍ ، قَالَتْ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْفَتْحِ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي أَجَرْتُ حَمَوَيَّ ، فَزَعَمَ ابْنُ أُمِّي ، تَعْنِي عَلِيًّا ، أَنَّهُ قَاتِلُهُ ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : قَدْ أَجَرْنَا مَنْ أَجَرْتِ يَا أُمَّ هَانِئٍ " ، قَالَتْ : وَصَبَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَاءً فَاغْتَسَلَ ، ثُمَّ الْتَحَفَ بِثَوْبٍ عَلَيْهِ ، وَخَالَفَ بَيْنَ طَرَفَيْهِ ، فَصَلَّى الضُّحَى ثَمَانَ رَكَعَاتٍ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

محمد بن عمرو بیان کرتے ہیں: میں نے ابومرہ کو دیکھا ہے، وہ ایک عمر رسیدہ شخص تھے، انہیں سیدہ ام ہانی رضی اللہ عنہا کی زیارت کا شرف حاصل تھا، وہ سیدہ ام ہانی رضی اللہ عنہا کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں، وہ بیان کرتی ہیں: فتح مکہ کے موقع پر میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں نے اپنے دو دیوروں کو پناہ دی ہے اور میرے بھائی یعنی سیدنا علی رضی اللہ عنہ انہیں قتل کرنا چاہتے ہیں، سیدہ ام ہانی رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ام ہانی! جسے تم نے پناہ دی ہے، ہم بھی اسے پناہ دیتے ہیں۔“ سیدہ ام ہانی رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی انڈیلا اور غسل کیا، پھر کپڑے کو لحاف کے طور پر لپیٹ لیا، اس کے کنارے مخالف سمت میں (کندھوں) پر ڈال لیے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چاشت کے وقت آٹھ رکعات ادا کیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2537]

2538

Sahih Ibn Hibban #2538

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ ، أَنَّ أَبَاهُ قَالَ : سَأَلْتُ وَحَرَصْتُ عَلَى أَنْ أَجِدَ أَحَدًا مِنَ النَّاسِ يُخْبِرُنِي ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبَّحَ سُبْحَةَ الضُّحَى ، فَلَمْ أَجِدْ أَحَدًا يُخْبِرُنِي عَنْ ذَلِكَ غَيْرَ أُمِّ هَانِئٍ بِنْتِ أَبِي طَالِبٍ ، أَخْبَرَتْنِي : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَأَتَى بَعْدَ ارْتِفَاعِ النَّهَارِ يَوْمَ الْفَتْحِ ، فَأَمَرَ بِثَوْبٍ ، فَسُتِرَ عَلَيْهِ ، فَاغْتَسَلَ ثُمَّ قَامَ فَرَكَعَ ثَمَانِيَ رَكَعَاتٍ ، لا أَدْرِي أَقِيَامُهُ فِيهَا أَطْوَلُ أَمْ رُكُوعُهُ أَمْ سُجُودُهُ ، كُلُّ ذَلِكَ مُتَقَارِبَةٌ "، قَالَتْ : " فَلَمْ أَرَهُ سَبَّحَهَا قَبْلُ وَلا بَعْدُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبید اللہ بن عبد اللہ بن حارث اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: میں نے اس بارے میں تحقیق کی اور مجھے اس بات کی بڑی جستجو تھی کہ مجھے کوئی ایسا شخص ملے جو مجھے اس بارے میں بتائے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے چاشت کی نماز ادا کی ہے، تو مجھے صرف سیدہ ام ہانی رضی اللہ عنہا ملیں جنہوں نے مجھے اس بارے میں بتایا، انہوں نے مجھے بتایا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ کے دن، دن چڑھ جانے کے بعد تشریف لائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے تحت آپ کے پردے کے لیے کپڑا لٹکا دیا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے غسل کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اٹھ کر آٹھ رکعات ادا کیں، میں اندازہ نہیں کر سکتی کہ ان میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا قیام زیادہ طویل تھا یا رکوع زیادہ طویل تھا یا سجدہ زیادہ طویل تھا، یہ سب ایک دوسرے کے قریب قریب تھے؛ سیدہ ام ہانی رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میں نے اس سے پہلے یا اس کے بعد کبھی بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس وقت میں نوافل ادا کرتے ہوئے نہیں دیکھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2538]

2539

Sahih Ibn Hibban #2539

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنِ الْقَاسِمِ الشَّيْبَانِيِّ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ ، أَنَّهُ رَأَى قَوْمًا يُصَلُّونَ الضُّحَى فِي مَسْجِدِ قُبَاءَ ، فَقَالَ : لَقَدْ عَلِمُوا أَنَّ الصَّلاةَ فِي غَيْرِ هَذِهِ السَّاعَةِ أَفْضَلُ ، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : صَلاةُ الأَوَّابِينَ حِينَ تَرْمَضُ الْفِصَالُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ انہوں نے مسجدِ قباء میں کچھ لوگوں کو چاشت کے وقت نماز ادا کرتے ہوئے دیکھا تو یہ بات ارشاد فرمائی: یہ لوگ یہ بات جانتے ہیں کہ اس وقت کے علاوہ کسی اور وقت میں نماز ادا کرنا زیادہ فضیلت رکھتا ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”نیک لوگوں کی نماز اس وقت ہوتی ہے، جب (اونٹ کے) بچوں کے لیے ریت گرم ہو جائے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2539]

2540

Sahih Ibn Hibban #2540

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ الْخَلِيلِ ، حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ وَاقِدٍ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : فِي الإِنْسَانِ ثَلاثُ مِائَةٍ وَسِتُّونَ مَفْصِلا ، عَلَى كُلِّ مَفْصِلٍ صَدَقَةٌ " ، قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَمَنْ يُطِيقُ ذَلِكَ ؟ قَالَ : " تُنَحِّي الأَذَى ، وَإِلا فَرَكْعَتَيِ الضُّحَى """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن بریدہ رحمہ اللہ اپنے والد (سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ) کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”انسان میں تین سو ساٹھ (360) جوڑ ہوتے ہیں اور ہر جوڑ پر صدقہ کرنا لازم ہے۔“ ہم نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کون اس کی طاقت رکھتا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم تکلیف دہ چیز کو پرے کر دو، ورنہ چاشت کے وقت دو رکعات ادا کر لو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2540]

2541

Sahih Ibn Hibban #2541

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ ، عَنِ الْعَلاءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَإِذَا النَّاسُ فِي رَمَضَانَ يُصَلُّونَ فِي نَاحِيَةِ الْمَسْجِدِ ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَا هَؤُلاءِ ؟ " فَقِيلَ :نَاسٌ لَيْسَ مَعَهُمْ قُرْآنٌ ، وَأُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ يُصَلِّي بِهِمْ ، وَهُمْ يُصَلُّونَ بِصَلاتِهِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَصَابُوا ، أَوْ نِعْمَ مَا صَنَعُوا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو لوگ رمضان کے مہینے میں مسجد کے ایک گوشے میں نماز ادا کر رہے تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”یہ کون لوگ ہیں؟“ عرض کی گئی: یہ کچھ لوگ ہیں جنہیں قرآن نہیں آتا، سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ انہیں نماز پڑھا رہے ہیں اور وہ ان کی نماز کی پیروی کر رہے ہیں۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”انہوں نے ٹھیک کیا ہے“ (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) ”انہوں نے جو کیا ہے وہ عمدہ ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2541]

2542

Sahih Ibn Hibban #2542

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى فِي الْمَسْجِدِ ذَاتَ لَيْلَةٍ فَصَلَّى بِصَلاتِهِ نَاسٌ ، ثُمَّ صَلَّى مِنَ الْقَابِلَةِ فَكَثُرَ النَّاسُ ، ثُمَّ اجْتَمَعُوا مِنَ اللَّيْلَةِ الثَّالِثَةِ أَوِ الرَّابِعَةِ ، فَلَمْ يَخْرُجْ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَلَمَّا أَصْبَحَ قَالَ : قَدْ رَأَيْتُ الَّذِي صَنَعْتُمْ ، فَلَمْ يَمْنَعْنِي مِنَ الْخُرُوجِ إِلَيْكُمْ إِلا أَنِّي خَشِيتُ أَنْ تُفْرَضَ عَلَيْكُمْ "، وَذَلِكَ فِي رَمَضَانَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ایک رات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد میں نماز ادا کی، کچھ لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کی پیروی میں نماز ادا کی، اگلی رات جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز ادا کی تو لوگوں کی تعداد زیادہ ہو گئی، تیسری یا چوتھی رات میں بہت سے لوگ اکٹھے ہو گئے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف نہیں لے گئے، جب صبح ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم لوگوں نے جو کیا (یعنی تم لوگ جو نماز ادا کرنے آئے تھے) وہ میں نے دیکھ لیا تھا لیکن میں اس لیے تمہاری طرف نہیں آیا مجھے یہ اندیشہ تھا، یہ تم پر فرض ہو جائے گی۔“ (راوی کہتے ہیں) یہ رمضان کے مہینے کی بات ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2542]

2543

Sahih Ibn Hibban #2543

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ الْمَخْزُومِيُّ ، عَنْ يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ الأَيْلِيِّ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، أَنَّ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْهُ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ فِي جَوْفِ اللَّيْلِ فَصَلَّى فِي الْمَسْجِدِ ، فَصَلَّى النَّاسُ ، فَأَصْبَحَ النَّاسُ يَتَحَدَّثُونَ بِذَلِكَ ، فَكَثُرَ النَّاسُ ، فَخَرَجَ عَلَيْهِمُ اللَّيْلَةَ الثَّانِيَةَ فَصَلَّى ، فَصَلَّوْا بِصَلاتِهِ ، فَأَصْبَحُوا يَتَحَدَّثُونَ بِذَلِكَ حَتَّى كَثُرَ النَّاسُ ، فَخَرَجَ مِنَ اللَّيْلَةِ الثَّالِثَةِ ، فَصَلَّى فَصَلَّوْا بِصَلاتِهِ ، فَأَصْبَحَ النَّاسُ يَتَحَدَّثُونَ بِذَلِكَ ، فَكَثُرَ النَّاسُ حَتَّى عَجَزَ الْمَسْجِدُ عَنْ أَهْلِهِ ، فَلَمْ يَخْرُجْ إِلَيْهِمْ ، فَطَفِقَ النَّاسُ يَقُولُونَ : الصَّلاةَ ، فَلَمْ يَخْرُجْ إِلَيْهِمْ حَتَّى خَرَجَ لِصَلاةِ الْفَجْرِ ، فَلَمَّا قَضَى صَلاةَ الْفَجْرِ أَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ فَتَشَهَّدَ ، ثُمَّ قَالَ : أَمَّا بَعْدُ ، فَإِنَّهُ لَمْ يَخْفَ عَلَيَّ شَأْنُكُمُ اللَّيْلَةَ ، وَلَكِنِّي خَشِيتُ أَنْ تُفْرَضَ عَلَيْكُمْ صَلاةُ اللَّيْلِ ، فَتَعْجِزُوا عَنْ ذَلِكَ " ، وَكَانَ يُرَغِّبُهُمْ فِي قِيَامِ رَمَضَانَ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَأْمُرَهُمْ بِعَزِيمَةٍ ، يَقُولُ : "مَنْ قَامَ لَيْلَةَ الْقَدْرِ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا ، غَفَرَ اللَّهُ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ "، قَالَ : فَتُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالأَمْرُ عَلَى ذَلِكَ ، ثُمَّ كَذَلِكَ كَانَ فِي خِلافَةِ أَبِي بَكْرٍ وَصَدْرٍ مِنْ خِلافَةِ عُمَرَ ، حَتَّى جَمَعَهُمْ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ عَلَى أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ، فَقَامَ بِهِمْ فِي رَمَضَانَ ، وَكَانَ ذَلِكَ أَوَّلَ اجْتِمَاعِ النَّاسِ عَلَى قَارِئٍ وَاحِدٍ فِي رَمَضَانَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عروہ بن زبیر بیان کرتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے انہیں بتایا: ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رات کے وقت تشریف لے گئے، آپ نے مسجد میں نماز ادا کی، لوگوں نے بھی (آپ کی اقتداء میں) نماز ادا کی، اگلے دن لوگوں نے اس بارے میں بات چیت کی تو (دوسری رات) لوگوں کی تعداد زیادہ ہو گئی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دوسری رات بھی ان لوگوں کے پاس تشریف لے گئے، آپ نے نماز ادا کی تو لوگوں نے آپ کی نماز کی پیروی کی، اگلے دن لوگوں نے اس بارے میں بات کی تو لوگوں کی تعداد زیادہ ہو گئی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تیسری رات بھی تشریف لے گئے، آپ نے نماز ادا کی، لوگوں نے آپ کی نماز کی اقتداء کی، اگلے دن لوگوں نے اس بارے میں بات چیت کی تو لوگوں کی تعداد زیادہ ہو گئی یہاں تک کہ مسجد ان کے لیے کم پڑ گئی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف نہیں لے گئے، لوگ کہتے رہے: نماز (کے لیے تشریف لے آئیں) لیکن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف نہیں لے گئے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فجر کی نماز کے لیے ان کے پاس تشریف لے گئے، جب آپ نے فجر کی نماز ادا کر لی، تو آپ لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور آپ نے کلمہ شہادت پڑھا اور پھر یہ بات ارشاد فرمائی: ” «أَمَّا بَعْدُ» ! گزشتہ رات تمہاری حالت مجھ سے مخفی نہیں تھی لیکن مجھے یہ اندیشہ ہوا کہ رات کی نماز تم پر فرض قرار دے دی جائے گی اور تم اسے ادا نہیں کر پاؤ گے۔“ (سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رمضان میں لوگوں کو نوافل ادا کرنے کی ترغیب دیتے تھے، آپ عزیمت کے ساتھ انہیں حکم نہیں دیتے تھے۔ آپ ارشاد فرماتے تھے: ”جو شخص ایمان کی حالت میں ثواب کی امید رکھتے ہوئے شب قدر میں نوافل ادا کرے گا، اللہ تعالیٰ اس کے گزشتہ گناہوں کی بخشش کر دے گا۔“ راوی بیان کرتے ہیں: جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوا، تو یہ معاملہ یوں ہی رہا۔ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے عہد کے ابتدائی دور میں معاملہ اسی طرح رہا یہاں تک کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کے پیچھے اکٹھا کیا، تو وہ رمضان میں انہیں تراویح پڑھایا کرتے تھے، یہ لوگوں کا وہ پہلا اجتماع تھا جو رمضان میں کسی قاری کے پیچھے ہوا تھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2543]

2544

Sahih Ibn Hibban #2544

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، بِعَسْقَلانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، أَنَّ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْهُ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ فِي جَوْفِ اللَّيْلِ ، فَصَلَّى فِي الْمَسْجِدِ ، فَصَلَّى رِجَالٌ بِصَلاتِهِ ، فَأَصْبَحَ النَّاسُ يَتَحَدَّثُونَ بِذَلِكَ ، فَاجْتَمَعَ أَكْثَرُ مِنْهُمْ ، فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي اللَّيْلَةِ الثَّانِيَةِ فَصَلَّى ، فَصَلَّوْا بِصَلاتِهِ ، فَأَصْبَحَ النَّاسُ يَتَذَاكَرُونَ ذَلِكَ ، فَكَثُرَ أَهْلُ الْمَسْجِدِ فِي اللَّيْلَةِ الثَّالِثَةِ ، فَخَرَجَ فَصَلَّى بِهِمْ ، فَصَلَّوْا بِصَلاتِهِ ، فَلَمَّا كَانَتِ اللَّيْلَةُ الرَّابِعَةُ عَجَزَ الْمَسْجِدُ عَنْ أَهْلِهِ ، فَلَمْ يَخْرُجْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَطَفِقَ رِجَالٌ مِنْهُمْ يَقُولُونَ : الصَّلاةَ ، فَلَمْ يَخْرُجْ إِلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى خَرَجَ لِصَلاةِ الْفَجْرِ ، فَلَمَّا قَضَى الْفَجْرَ أَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ ، ثُمَّ تَشَهَّدَ فَقَالَ : أَمَّا بَعْدُ ، فَإِنَّهُ لَمْ يَخْفَ عَلَيَّ شَأْنُكُمُ اللَّيْلَةَ ، وَلَقَدْخَشِيتُ أَنْ تُفْرَضَ عَلَيْكُمْ صَلاةُ اللَّيْلِ ، فَتَعْجِزُوا عَنْهَا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نصف رات کے وقت تشریف لے گئے، آپ نے مسجد میں نماز ادا کی اور سب لوگوں نے آپ کی اقتدا میں نماز ادا کی۔ اگلے دن لوگوں نے اس بارے میں بات چیت کی تو پہلے سے زیادہ لوگ اکٹھے ہو گئے، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دوسری رات بھی تشریف لے گئے، آپ نے نماز ادا کی اور لوگوں نے آپ کی اقتدا میں نماز ادا کی۔ اگلی رات لوگوں نے اس بات کا تذکرہ کیا تو تیسری رات تعداد زیادہ ہو چکی تھی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے گئے، آپ نے انہیں نماز پڑھائی اور لوگوں نے آپ کے پیچھے اقتدا میں نماز ادا کی۔ جب چوتھی رات آئی تو مسجد مکمل بھر چکی تھی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف نہیں لے گئے، کچھ لوگوں نے عرض کرنا شروع کیا: نماز (کے لیے تشریف لے آئیں)، لیکن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف نہیں لے گئے یہاں تک کہ آپ فجر کی نماز کے لیے تشریف لے گئے، جب آپ نے فجر کی نماز ادا کر لی تو آپ لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے، پھر آپ نے کلمہ شہادت پڑھا اور یہ بات ارشاد فرمائی: ”گزشتہ رات تمہارا معاملہ مجھ سے مخفی نہیں تھا، مجھے یہ اندیشہ ہوا کہ تم پر رات کی نماز فرض کر دی جائے گی اور تم اس سے عاجز آ جاؤ گے (یعنی اسے ادا نہیں کر پاؤ گے)۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2544]

2545

Sahih Ibn Hibban #2545

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، أَنَّ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْهُ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ مِنْ جَوْفِ اللَّيْلِ فِي الْمَسْجِدِ ، فَصَلَّى رِجَالٌ بِصَلاتِهِ ، فَأَصْبَحَ النَّاسُ يَتَحَدَّثُونَ بِذَلِكَ ، فَاجْتَمَعَ أَكْثَرُ ، فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي اللَّيْلَةِ الثَّانِيَةِ ، فَصَلَّوْا بِصَلاتِهِ ، فَأَصْبَحَ النَّاسُ يَتَذَاكَرُونَ ذَلِكَ ، فَكَثُرَ أَهْلُ الْمَسْجِدِ مِنَ اللَّيْلَةِ الثَّالِثَةِ ، فَخَرَجَ يُصَلِّي بِهِمْ ، فَصَلَّوْا بِصَلاتِهِ ، فَلَمَّا كَانَتِ اللَّيْلَةُ الرَّابِعَةُ عَجَزَ الْمَسْجِدُ عَنْ أَهْلِهِ ، فَلَمْ يَخْرُجْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى خَرَجَ لِصَلاةِ الْفَجْرِ ، فَلَمَّا قَضَى الْفَجْرَ أَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ ، ثُمَّ تَشَهَّدَ فَقَالَ : أَمَّا بَعْدُ ، إِنَّهُ لَمْ يَخْفَ عَلَيَّ شَأْنُكُمُ اللَّيْلَةَ ، وَلَكِنِّيخَشِيتُ أَنْ تُفْرَضَ عَلَيْكُمْ صَلاةُ اللَّيْلِ فَتَعْجِزُوا عَنْهَا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نصف رات کے وقت مسجد تشریف لے گئے، کچھ لوگوں نے آپ کی اقتدا میں نماز ادا کی، اگلے دن لوگوں نے آپس میں اس بارے میں بات چیت کی تو زیادہ تعداد میں لوگ اکٹھے ہو گئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دوسری رات بھی تشریف لے گئے، کچھ لوگوں نے آپ کی اقتدا میں نماز ادا کی۔ اگلے دن لوگوں نے آپس میں اس بات کا تذکرہ کیا، تو تیسری رات اہل مسجد کی تعداد زیادہ ہو گئی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے گئے، آپ نے انہیں نماز پڑھائی اور لوگوں نے آپ کی اقتدا میں نماز ادا کی۔ چوتھی رات آئی تو مسجد مکمل بھر چکی تھی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف نہیں لے گئے یہاں تک کہ آپ فجر کی نماز کے لیے تشریف لے گئے، جب آپ نے فجر کی نماز ادا کر لی، تو ان لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے پھر آپ نے کلمہ شہادت پڑھا اور ارشاد فرمایا: ” «أَمَّا بَعْدُ» ! گزشتہ رات تمہارا معاملہ مجھ سے مخفی نہیں تھا، لیکن مجھے یہ اندیشہ ہوا کہ تم پر رات کے نوافل فرض کر دیے جائیں گے اور تم اس سے عاجز آ جاؤ گے (یعنی انہیں ادا نہ کر پاؤ گے)۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2545]

2546

Sahih Ibn Hibban #2546

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ أَخْبَرَنِي أَبُو سلمة بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لِرَمَضَانَ : مَنْ قَامَهُ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ "قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : الاحْتِسَابُ : قَصْدُ الْعَبِيدِ إِلَى بَارِئِهِمْ بِالطَّاعَةِ رَجَاءَ الْقَبُولِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو رمضان کے بارے میں یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جو شخص ایمان کی حالت میں ثواب کی امید رکھتے ہوئے اس میں نوافل ادا کرے گا، اس کے گزشتہ گناہوں کی مغفرت ہو جائے گی۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) «اِحْتِسَاب» سے مراد یہ ہے کہ بندہ اطاعت کے ہمراہ اپنے پروردگار کی بارگاہ کا قصد کرے اس کی قبولیت کی امید رکھتے ہوئے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2546]

2547

Sahih Ibn Hibban #2547

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو قُدَامَةَ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ : صُمْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَمَضَانَ فَلَمْ يَقُمْ بِنَا فِي السَّادِسَةِ ، وَقَامَ بِنَا فِي الْخَامِسَةِ حَتَّى ذَهَبَ يَنْتَظِرُ اللَّيْلَ ، فَقُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، لَوْ نَفَّلْتَنَا بَقِيَّةَ لَيْلَتِنَا هَذِهِ ، فَقَالَ : إِنَّهُمَنْ قَامَ مَعَ الإِمَامِ حَتَّى يَنْصَرِفَ كُتِبَ لَهُ قِيَامُ لَيْلَةٍ " ، ثُمَّ لَمْ يُصَلِّ بِنَا حَتَّى بَقِيَ ثَلاثَةٌ مِنَ الشَّهْرِ ، فَقَامَ بِنَا فِي الثَّالِثَةِ ، وَجَمَعَ أَهْلَهُ وَنِسَاءَهُ ، فَقَامَ بِنَا حَتَّى تَخَوَّفْنَا أَنْ يَفُوتَنَا الْفَلاحُ ، قُلْتُ : وَمَا الْفَلاحُ ؟ قَالَ : " السَّحُورُ "، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : " قَوْلُ أَبِي ذَرٍّ : لَمْ يَقُمْ بِنَا فِي السَّادِسَةِ ، وَقَامَ بِنَا فِي الْخَامِسَةِ ، يُرِيدُ : مِمَّا بَقِيَ مِنَ الْعَشْرِ لا مِمَّا مَضَى مِنْهُ ، وَكَانَ الشَّهْرُ الَّذِي خَاطَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُمَّتَهُ بِهَذَا الْخَطَّابِ فِيهِ تِسْعًا وَعِشْرِينَ ، فَلَيْلَةُ السَّادِسَةِ مِنْ بَاقِي تِسْعٍ وَعِشْرِينَ تَكُونُ لَيْلَةَ أَرْبَعٍ وَعِشْرِينَ ، وَلَيْلَةُ الْخَامِسَةِ مِنْ بَاقِي تِسْعٍ وَعِشْرِينَ تَكُونُ لَيْلَةَ الْخَامِسِ وَالْعِشْرِينَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ رمضان کے روزے رکھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں چھٹی رات میں نوافل نہیں پڑھائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں پانچویں رات میں نوافل پڑھائے تھے یہاں تک کہ آدھی رات بیت گئی۔ ہم نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اگر آپ اس باقی رہ جانے والی رات میں نفل پڑھائیں، (تو یہ مناسب ہو گا)۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جو شخص امام کے ہمراہ نماز ادا کرے یہاں تک کہ اسے مکمل کرے تو اسے رات بھر نوافل ادا کرنے کا ثواب ملتا ہے۔“ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز نہیں پڑھائی یہاں تک کہ اس مہینے میں تین دن باقی رہ گئے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں تیسری رات میں نماز پڑھائی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اہل خانہ اور اپنی ازواج کو بھی اکٹھا کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نوافل پڑھائے یہاں تک کہ ہمیں یہ اندیشہ ہوا کہ ہماری فلاح رہ جائے گی۔ (راوی کہتے ہیں:) میں نے دریافت کیا: فلاح سے مراد کیا ہے؟ تو انہوں نے جواب دیا: سحری۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں: سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کا یہ کہنا کہ چھٹی رات میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نوافل نہیں پڑھائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانچویں رات میں ہمیں نوافل پڑھائے، اس سے مراد یہ ہے کہ جو عشرہ باقی رہ گیا تھا اس کی چھٹی یا پانچویں رات۔ اس سے یہ مراد نہیں ہے جو مہینہ گزر چکا تھا اس کی پانچویں یا چھٹی رات، کیونکہ وہ مہینہ جس میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کو یہ خطاب کیا تھا، اس میں انتیس دن تھے۔ تو انتیس دنوں والے مہینے کے باقی حصے کی چھٹی رات چوبیسویں رات تھی اور 29 دن والے مہینے کے باقی حصے کی پانچویں رات پچیسویں رات ہو گی۔) [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2547]

2548

Sahih Ibn Hibban #2548

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : ذَكَرْنَا لَيْلَةَ الْقَدْرِ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : كَمْ مَضَى مِنَ الشَّهْرِ ؟ " فَقُلْنَا : مَضَى اثْنَانِ وَعِشْرُونَ يَوْمًا ، وَبَقِيَ ثَمَانٌ ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لا ،بَلْ مَضَى اثْنَانِ وَعِشْرُونَ يَوْمًا ، وَبَقِيَ سَبْعٌ ، الشَّهْرُ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ يَوْمًا ، فَالْتَمِسُوهَا اللَّيْلَةَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے شب قدر کا ذکر کیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”مہینے کا کتنا حصہ گزر چکا ہے؟“ ہم نے عرض کی: بائیس (22) دن گزر گئے ہیں اور آٹھ دن باقی رہ گئے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، بلکہ بائیس (22) دن گزر گئے ہیں اور سات دن باقی رہ گئے ہیں، مہینہ کبھی انتیس (29) کا ہوتا ہے، تو تم اس رات کو تلاش کرو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2548]

2549

Sahih Ibn Hibban #2549

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ النَّرْسِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ الْقُمِّيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ جَارِيَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : جَاءَ أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، كَانَ مِنِّي اللَّيْلَةَ شَيْءٌ فِي رَمَضَانَ ، قَالَ : وَمَا ذَاكَ يَا أُبَيُّ ؟ " قَالَ : نِسْوَةٌ فِي دَارِي قُلْنَ : إِنَّا لا نَقْرَأُ الْقُرْآنَ ، فَنُصَلِّي بِصَلاتِكَ ، قَالَ : فَصَلَّيْتُ بِهِنَّ ثَمَانِيَ رَكَعَاتٍ ، ثُمَّ أَوْتَرْتُ ، قَالَ : فَكَانَ شِبْهُ الرِّضَا ، وَلَمْ يَقُلْ شَيْئًا"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! گزشتہ رات رمضان کے حوالے سے مجھے کچھ مشکل پیش آئی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”وہ کیا تھی؟ اے ابی!“ انہوں نے عرض کی: ہمارے گھر کی کچھ خواتین تھیں، انہوں نے یہ کہا: ہم قرآن نہیں پڑھ سکتیں، ہم آپ کی نماز کی پیروی کرتی ہیں۔ راوی کہتے ہیں: میں نے انہیں آٹھ رکعات پڑھائیں پھر میں نے وتر ادا کر لیے۔ (سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے گویا رضا مندی کا اظہار فرمایا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں کچھ نہیں کہا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2549]

2550

Sahih Ibn Hibban #2550

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ الْقُمِّيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ جَارِيَةَ ، حَدَّثَنَا جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : جَاءَ أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ إِلَى إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّهُ كَانَ مِنِّي اللَّيْلَةَ شَيْءٌ يَعْنِي فِي رَمَضَانَ ، قَالَ : وَمَا ذَاكَ يَا أُبَيُّ ؟ " قَالَ : نِسْوَةٌ فِي دَارِي قُلْنَ : إِنَّا لا نَقْرَأُ الْقُرْآنَ ، فَنُصَلِّي بِصَلاتِكَ ، قَالَ : فَصَلَّيْتُ بِهِنَّ ثَمَانِيَ رَكَعَاتٍ ، ثُمَّ أَوْتَرْتُ ، قَالَ : فَكَانَ شِبْهُ الرِّضَا ، وَلَمْ يَقُلْ شَيْئًا"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی: ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! گزشتہ رات مجھے کچھ پریشانی ہوئی“ (یعنی رمضان کے حوالے سے)۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”اے ابی! وہ کیا تھی؟“ انہوں نے عرض کی: میرے گھر کی خواتین نے کہا: ”ہم قرآن نہیں پڑھ سکتی ہیں، تو ہم آپ کی نماز کی پیروی کریں گی۔“ سیدنا ابی نے بتایا: ”میں نے ان خواتین کو آٹھ رکعات نماز پڑھائی، پھر میں نے وتر ادا کر لیے۔“ (سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں) تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے گویا رضامندی کا اظہار کیا، تاہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں کچھ نہیں کہا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2550]

2551

Sahih Ibn Hibban #2551

فَقُلْتُ : يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ ، أَنْبِئِينِي عَنْ قِيَامِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَتْ : أَلَسْتَ تَقْرَأُ هَذِهِ السُّورَةَ : يَا أَيُّهَا الْمُزَّمِّلُ ؟ قُلْتُ : بَلَى ، قَالَتْ : فَإِنَّ اللَّهَ جَلَّ وَعَلا افْتَرَضَ الْقِيَامَ فِي أَوَّلِ هَذِهِ السُّورَةِ ،فَقَامَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ حَوْلا حَتَّى انْتَفَخَتْ أَقْدَامُهُمْ ، وَأَمْسَكَ اللَّهُ خَاتِمَتَهَا اثْنَيْ عَشَرَ شَهْرًا فِي السَّمَاءِ ، ثُمَّ أَنْزَلَ اللَّهُ جَلَّ وَعَلا التَّخْفِيفَ فِي آخِرِ هَذِهِ السُّورَةِ ، فَصَارَ قِيَامُ اللَّيْلِ تَطَوُّعًا بَعْدَ فَرِيضَتِهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سعد بن ہشام بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں عرض کی کہ آپ مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق کے بارے میں بتائیں، تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: کیا تم نے قرآن کی تلاوت نہیں کی ہے؟ میں نے جواب دیا: جی ہاں! کی ہے، تو انہوں نے فرمایا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق قرآن تھے۔ راوی کہتے ہیں کہ میں نے یہ ارادہ کیا کہ اب میں اٹھ جاتا ہوں اور اب ان سے کسی چیز کے بارے میں دریافت نہیں کروں گا، پھر میں نے کہا: اے ام المؤمنین! آپ مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے قیام کے بارے میں بتائیں، تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: کیا تم نے اس سورت ﴿يَا أَيُّهَا الْمُزَّمِّلُ﴾ [سورة المزمل: 1] ”اے چادر اوڑھنے والے“ کی تلاوت نہیں کی ہے؟ میں نے جواب دیا: جی ہاں! کی ہے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے اس سورت کے آغاز میں رات کے وقت نوافل ادا کرنا فرض قرار دیا تھا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب ایک سال تک رات کے وقت نوافل ادا کرتے رہے یہاں تک کہ ان کے پاؤں ورم آلود ہو گئے۔ اللہ تعالیٰ نے اس سورت کے اختتامی حصے کو بارہ ماہ تک آسمان میں روکے رکھا، پھر اللہ تعالیٰ نے اس سورت کے آخر میں تخفیف کا حکم نازل کر دیا، تو رات کے وقت نوافل ادا کرنا نفل قرار پایا جو پہلے فرض تھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2551]

2552

Sahih Ibn Hibban #2552

أَخْبَرَنَا ابْنُ خُزَيْمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى ، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَإِذَا صَلَّى صَلاةً أَحَبَّ أَنْ يُدَاوِمَ عَلَيْهَا ، وَكَانَ إِذَا شَغَلَهُ عَنْ قِيَامِ اللَّيْلِ نَوْمٌ أَوْ مَرَضٌ ، أَوْ وَجَعٌ صَلَّى مِنَ النَّهَارِ ثِنْتَيْ عَشْرَةَ رَكْعَةً """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سعد بن ہشام، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب کوئی نماز ادا کرتے تھے، تو آپ اس بات کو پسند کرتے تھے کہ اسے باقاعدگی سے ادا کریں اور اگر آپ نیند یا بیماری یا تکلیف وغیرہ جیسی کسی مصروفیت کی وجہ سے رات کے وقت نوافل ادا نہیں کر پاتے تھے، تو آپ دن کے وقت بارہ رکعات ادا کرتے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2552]

2553

Sahih Ibn Hibban #2553

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ الْعَابِدُ ، أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الزُّهْرِيُّ ، عَنْ مَالِك ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : يَعْقِدُ الشَّيْطَانُ عَلَى قَافِيَةِ رَأْسِ أَحَدِكُمْ إِذَا هُوَ نَامَ ثَلاثَ عُقَدٍ يَضْرِبُ مَكَانَ كُلِّ عُقْدَةٍ : عَلَيْكَ لَيْلٌ طَوِيلٌ فَارْقُدْ ، فَإِنِ اسْتَيْقَظَ فَذَكَرَ اللَّهَ ، انْحَلَّتْ عُقْدَةٌ ، وَإِنْ تَوَضَّأَ انْحَلَّتْ عُقْدَةٌ ، وَإِنْ صَلَّى انْحَلَّتْ عُقْدَةٌ ، فَأَصْبَحَ نَشِيطًا طَيِّبَ النَّفْسِ ، وَإِلا أَصْبَحَ خَبِيثَ النَّفْسِ كَسْلانَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”شیطان کسی شخص کی گدی پر تین گرہیں لگاتا ہے جب وہ سوتا ہے، ہر گرہ پر وہ یہ کہتا ہے: «عَلَيْكَ لَيْلٌ طَوِيلٌ، فَارْقُدْ» ”رات بہت لمبی ہے، تم سوئے رہو۔“ اگر وہ شخص بیدار ہو کر اللہ تعالیٰ کا ذکر کرے تو ایک گرہ کھل جاتی ہے، وہ وضو کرے تو دوسری گرہ کھل جاتی ہے اور اگر وہ نماز ادا کرے تو تیسری گرہ بھی کھل جاتی ہے، تو وہ شخص صبح کے وقت چاق و چوبند اور خوش مزاج ہوتا ہے، ورنہ اس کا مزاج بھی ٹھیک نہیں ہوتا اور وہ کاہل ہوتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2553]

2554

Sahih Ibn Hibban #2554

أَخْبَرَنَا ابْنُ خُزَيْمَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الذُّهْلِيُّ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا سُفْيَانَ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ جَابِرًا ، يَقُولُ : قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَا مِنْ ذَكَرٍ وَلا أُنْثَى إِلا عَلَى رَأْسِهِ جَرِيرٌ مَعْقُودٌ حِينَ يَرْقُدُ ، فَإِنِ اسْتَيْقَظَ فَذَكَرَ اللَّهَ ، انْحَلَّتْ عُقْدَةٌ ، فَإِذَا قَامَ فَتَوَضَّأَ وَصَلَّى ، انْحَلَّتِ الْعُقَدُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”جو بھی مرد یا عورت (سوتے ہیں) تو ان کے سونے کے وقت ان کے سر پر گرہ لگا دی جاتی ہے، اگر وہ بیدار ہو کر اللہ تعالیٰ کا ذکر کریں تو گرہ کھل جاتی ہے، اگر وہ اٹھ کر وضو کریں اور نماز ادا کریں تو تمام گرہیں کھل جاتی ہیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2554]

2555

Sahih Ibn Hibban #2555

وَسَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : رَجُلٌ مِنْ أُمَّتِي يَقُومُ مِنَ اللَّيْلِ يُعَالِجُ نَفْسَهُ إِلَى الطَّهُورِ وَعَلَيْهِ عُقَدٌ ، فَإِذَا وَضَّأَ يَدَيْهِ انْحَلَّتْ عُقْدَةٌ ، فَإِذَا وَضَّأَ وَجْهَهُ انْحَلَّتْ عُقْدَةٌ ، وَإِذَا مَسَحَ رَأْسَهُ انْحَلَّتْ عُقْدَةٌ ، وَإِذَا وَضَّأَ رِجْلَيْهِ انْحَلَّتْ عُقْدَةٌ ، فَيَقُولُ اللَّهُ جَلَّ وَعَلا لِلَّذِي وَرَاءَ الْحِجَابِ :انْظُرُوا إِلَى عَبْدِي هَذَا يُعَالِجُ نَفْسَهُ لَيَسْأَلَنِي ، مَا سَأَلَنِي عَبْدِي هَذَا فَهُوَ لَهُ ، مَا سَأَلَنِي عَبْدِي هَذَا فَهُوَ لَهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عقبہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے آج تک نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے کوئی ایسی بات بیان نہیں کی جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد نہ فرمائی ہو، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جو شخص جان بوجھ کر میری طرف کوئی جھوٹی بات منسوب کرے اس کو جہنم میں اپنے گھر تک پہنچنے کے لیے تیار رہنا چاہیے۔“ تو میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”میری امت کا ایک شخص رات کے وقت اٹھتا ہے، وہ وضو کرنے کے لیے جاتا ہے، اس پر گرہیں لگی ہوئی ہوتی ہیں، جب وہ اپنے ہاتھ دھوتا ہے، تو ایک گرہ کھل جاتی ہے، جب وہ اپنا چہرہ دھوتا ہے، تو دوسری گرہ کھل جاتی ہے، جب وہ اپنے سر کا مسح کرتا ہے، تو تیسری گرہ کھل جاتی ہے، جب وہ اپنے پاؤں دھوتا ہے، تو ایک اور گرہ کھل جاتی ہے، تو اللہ تعالیٰ حجاب کے پیچھے سے فرماتا ہے: تم لوگ میرے اس بندے کی طرف دیکھو جو اپنے آپ کو اس لیے تیار کر رہا ہے تاکہ مجھ سے مانگے، آج یہ میرا بندہ جو مانگے گا وہ اس کو ملے گا، میرا یہ بندہ مجھ سے جو مانگے گا وہ اسے ملے گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2555]

2556

Sahih Ibn Hibban #2556

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : مَا مِنْ مُسْلِمٍ ، ذَكَرٍ وَلا أُنْثَى ، يَنَامُ إِلا وَعَلَيْهِ جَرِيرٌ مَعْقُودٌ ، فَإِنِ اسْتَيْقَظَ فَذَكَرَ اللَّهَ ، انْحَلَّتْ عُقْدَةٌ ، وَإِنْ هُوَ تَوَضَّأَ ثُمَّ قَامَ إِلَى الصَّلاةِ أَصْبَحَ نَشِيطًا قَدْ أَصَابَ خَيْرًا ، وَقَدِ انْحَلَّتْ عُقَدُهُ كُلُّهَا ، وَإِنْ أَصْبَحَ وَلَمْ يَذْكُرِ اللَّهَ أَصْبَحَ وَعُقَدُهُ عَلَيْهِ ، وَأَصْبَحَ ثَقِيلا كَسْلانَ لَمْ يُصِبْ خَيْرًا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جو بھی مسلمان مرد یا عورت ہوتا ہے، اس پر گرہیں لگ جاتی ہیں، وہ بیدار ہو کر اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتا ہے، تو ایک گرہ کھل جاتی ہے، اگر وہ وضو کر کے نماز کے لیے اٹھتا ہے، تو وہ چاق و چوبند حالت میں صبح کرتا ہے، اس نے بھلائی حاصل کر لی ہوتی ہے اور اس کی تمام گرہیں کھل چکی ہوتی ہیں اور اگر وہ ایسی حالت میں صبح کرتا ہے، اللہ تعالیٰ کا ذکر نہیں کرتا، تو وہ ایسی حالت میں صبح کرتا ہے، اس کی سب گرہیں لگی ہوئی ہوتی ہیں اور وہ بوجھل ذہن کے ساتھ کاہلی کے عالم میں صبح کرتا ہے، اسے بھلائی نصیب نہیں ہوتی۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2556]

2557

Sahih Ibn Hibban #2557

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ غِيَاثٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ مُرَّةَ الْهَمْدَانِيِّ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : عَجِبَ رَبُّنَا مِنْ رَجُلَيْنِ : رَجُلٍ ثَارَ مِنْ وِطَائِهِ وَلِحَافِهِ مِنْ بَيْنِ حِبِّهِ وَأَهْلِهِ إِلَى الصَّلاةِ ، فَيَقُولُ اللَّهُ جَلَّ وَعَلا :انْظُرُوا إِلَى عَبْدِي ثَارَ مِنْ فِرَاشِهِ وَوِطَائِهِ مِنْ بَيْنَ حِبِّهِ وَأَهْلِهِ إِلَى صَلاتِهِ رَغْبَةً فِيمَا عِنْدِي ، وَشَفَقَةً مِمَّا عِنْدِي ، وَرَجُلٍ غَزَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، فَانْهَزَمَ النَّاسُ ، وَعَلِمَ مَا عَلَيْهِ فِي الانْهِزَامِ ، وَمَا لَهُ فِي الرُّجُوعِ ، فَرَجَعَ حَتَّى أُهْرِيقَ دَمُهُ ، فَيَقُولُ اللَّهُ لِمَلائِكَتِهِ : انْظُرُوا إِلَى عَبْدِي ، رَجَعَ رَجَاءً فِيمَا عِنْدِي ، وَشَفَقَةً مِمَّا عِنْدِي حَتَّى أُهْرِيقَ دَمُهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”ہمارا پروردگار دو بندوں پر خوش ہوتا ہے، ایک وہ شخص جو (رات کے وقت) اپنے بستر اور لحاف میں سے، اپنی بیوی کے پاس سے اٹھ کر نماز کی طرف جاتا ہے، تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میرے اس بندے کو دیکھو، یہ اپنے بستر اور لحاف میں سے، اپنی بیوی کے پاس سے اٹھ کر نماز کی طرف آیا ہے، اس چیز کی رغبت رکھتے ہوئے جو میرے پاس ہے اور اس چیز سے ڈرتے ہوئے جو میرے پاس ہے۔ دوسرا شخص وہ ہے جو اللہ کی راہ میں جہاد میں حصہ لیتا ہے، لوگ پسپا ہو جاتے ہیں وہ شخص بھی جانتا ہے، پسپا ہونے کی صورت میں اس پر کیا وبال ہو گا اور واپس آنے کی صورت میں اسے کیا اجر و ثواب ملے گا، تو وہ واپس (میدان جنگ میں) آ جاتا ہے یہاں تک کہ اس کا خون بہا دیا جاتا ہے، تو اللہ تعالیٰ اپنے فرشتوں سے فرماتا ہے: میرے اس بندے کی طرف دیکھو، یہ اس چیز کی امید رکھتے ہوئے واپس آیا ہے جو میرے پاس ہے اور اس چیز سے ڈرتے ہوئے آیا ہے جو میرے پاس ہے، یہاں تک کہ اس کے خون کو بہا دیا گیا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2557]

2558

Sahih Ibn Hibban #2558

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَحْمُودِ بْنِ عَدِيٍّ ، بِنَسَا ، حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ زَنْجُوَيْهِ ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ أَسْلَمَ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ مُرَّةَ الْهَمْدَانِيِّ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : عَجِبَ رَبُّنَا مِنْ رَجُلَيْنِ : رَجُلٍ ثَارَ عَنْ وِطَائِهِ وَلِحَافِهِ مِنْ بَيْنَ حِبِّهِ وَأَهْلِهِ إِلَى صَلاتِهِ ، فَيَقُولُ اللَّهُ جَلَّ وَعَلا لِمَلائِكَتِهِ :انْظُرُوا إِلَى عَبْدِي ، ثَارَ عَنْ فِرَاشِهِ وَوِطَائِهِ مِنْ بَيْنَ حِبِّهِ وَأَهْلِهِ إِلَى صَلاتِهِ رَغْبَةً فِيمَا عِنْدِي ، وَشَفَقَةً مِمَّا عِنْدِي ، وَرَجُلٍ غَزَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، فَانْهَزَمَ أَصْحَابُهُ ، وَعَلِمَ مَا عَلَيْهِ فِي الانْهِزَامِ ، وَمَا لَهُ فِي الرُّجُوعِ ، فَرَجَعَ حَتَّى هُرِيقَ دَمُهُ ، فَيَقُولُ اللَّهُ لِمَلائِكَتِهِ : انْظُرُوا إِلَى عَبْدِي ، رَجَعَ رَجَاءً فِيمَا عِنْدِي ، وَشَفَقًا مِمَّا عِنْدِي حَتَّى هُرِيقَ دَمُهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”ہمارا پروردگار دو آدمیوں پر خوش ہوتا ہے؛ ایک وہ شخص جو اپنے بستر اور لحاف میں سے اپنی بیوی کے پاس سے اٹھ کر نماز کی طرف جاتا ہے، تو اللہ تعالیٰ اپنے فرشتوں سے فرماتا ہے: میرے اس بندے کی طرف دیکھو جو اپنے بستر سے اپنی بیوی کے پاس سے اٹھ کر نماز کی طرف آیا ہے اس چیز کی رغبت رکھتے ہوئے جو میرے پاس ہے اور اس چیز سے ڈرتے ہوئے جو میرے پاس ہے، اور دوسرا وہ شخص جو اللہ کی راہ میں جہاد میں حصہ لیتا ہے اس کے ساتھی پسپا ہو جاتے ہیں وہ شخص جانتا ہے پسپا ہونے پر اسے کیا وبال ہوگا اور واپس (جنگ میں) آنے پر کیا اجر و ثواب ملے گا، تو وہ واپس آتا ہے یہاں تک کہ اس کا خون بہا دیا جاتا ہے، تو اللہ تعالیٰ فرشتوں سے فرماتا ہے: میرے اس بندے کی طرف دیکھو یہ اس چیز کی امید رکھتے ہوئے واپس آیا ہے جو میرے پاس ہے اور اس چیز سے ڈرتے ہوئے آیا ہے جو میرے پاس ہے یہاں تک کہ اس کا خون بہا دیا گیا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2558]

2559

Sahih Ibn Hibban #2559

فَقُلْتُ : أَخْبِرْنِي بِشَيْءٍ إِذَا عَمِلْتُ بِهِ دَخَلْتُ الْجَنَّةَ ، قَالَ : أَطْعِمِ الطَّعَامَ ، وَأَفْشِ السَّلامَ ، وَصِلِ الأَرْحَامَ ، وَقُمْ بِاللَّيْلِ وَالنَّاسُ نِيَامٌ ، تَدْخُلِ الْجَنَّةَ بِسَلامٍ "، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : قَوْلُ أَبِي هُرَيْرَةَ : أَنْبِئْنِي عَنْ كُلِّ شَيْءٍ ، أَرَادَ بِهِ عَنْ كُلِّ شَيْءٍ خُلِقَ مِنَ الْمَاءِ ، وَالدَّلِيلُ عَلَى صِحَّةِ هَذَا جَوَابُ الْمُصْطَفَى إِيَّاهُ ، حَيْثُ قَالَ : " كُلُّ شَيْءٍ خُلِقَ مِنَ الْمَاءِ " ، فَهَذَا جَوَابٌ خَرَجَ عَلَى سُؤَالٍ بِعَيْنِهِ ، لا أَنَّ كُلَّ شَيْءٍ خُلِقَ مِنَ الْمَاءِ وَإِنْ لَمْ يَكُنْ مَخْلُوقًا"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں نے آپ کو دیکھا تو میرا نفس پاکیزہ ہو گیا اور میری آنکھیں ٹھنڈی ہو گئیں، آپ مجھے ہر چیز کے بارے میں بتا دیجیے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر چیز کو پانی سے پیدا کیا گیا ہے۔“ میں نے عرض کی: آپ مجھے ایسی چیز کے بارے میں بتائیں کہ جب میں اس پر عمل کروں تو میں جنت میں داخل ہو جاؤں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم کھانا کھلاؤ، سلام کو پھیلاؤ، صلہ رحمی کرو اور رات کے وقت نوافل ادا کرو جب لوگ سو رہے ہوں، تم سلامتی کے ساتھ جنت میں داخل ہو جاؤ گے۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا یہ کہنا کہ ”مجھے ہر چیز کے بارے میں بتا دیں“ اس سے ان کی مراد یہ ہے کہ ہر اس چیز کے بارے میں بتائیں جو پانی سے پیدا کی گئی ہے، اور اس بات کے صحیح ہونے کی دلیل نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ان کو دیا جانے والا جواب ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا: ”ہر چیز کو پانی سے پیدا کیا گیا ہے۔“ تو یہ جواب اسی طرح صادر ہوا ہے جس طرح سوال تھا۔ اس سے یہ مراد نہیں ہے کہ ہر چیز کو پیدا ہی پانی سے کیا گیا ہے، خواہ وہ مخلوق نہ بھی ہو۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2559]

2560

Sahih Ibn Hibban #2560

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْقَاسِمِ سُحَيْمٌ حَرَّانِيٌّ ثَبْتٌ ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ فُلانًايُصَلِّي اللَّيْلَ كُلَّهُ ، فَإِذَا أَصْبَحَ سَرَقَ ، قَالَ : سَيَنْهَاهُ مَا تَقُولُ "، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : قَوْلُهُ : " سَيَنْهَاهُ مَا تَقُولُ " مِمَّا نَقُولُ فِي كُتُبِنَا : إِنَّ الْعَرَبَ تُضِيفُ الْفِعْلَ إِلَى الْفِعْلِ نَفْسِهِ ، كَمَا تُضِيفُ إِلَى الْفَاعِلِ ، أَرَادَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ الصَّلاةَ إِذَا كَانَتْ عَلَى الْحَقِيقَةِ فِي الابْتِدَاءِ وَالانْتِهَاءِ ، يَكُونُ الْمُصَلِّي مُجَانِبًا لِلْمَحْظُورَاتِ مَعَهَا ، كَقَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ : إِنَّ الصَّلاةَ تَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ "

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ عرض کی گئی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! فلاں شخص ساری رات نفل پڑھتا رہتا ہے، جب صبح ہوتی ہے تو وہ چوری کر لیتا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”وہ جو پڑھتا ہے وہ چیز عنقریب اسے اس عمل سے روک دے گی۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے یہ الفاظ ”وہ جو پڑھتا ہے وہ چیز اسے عنقریب روک دے گی“ یہ اس نوعیت کے الفاظ ہیں جس کے بارے میں ہم اپنی کتابوں میں یہ بات تحریر کر چکے ہیں کہ بعض اوقات عرب کسی فعل کی نسبت اس فعل کی طرف کر دیتے ہیں جس طرح وہ اس کی نسبت فاعل کی طرف کر دیتے۔ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد یہ ہے کہ جب نماز اپنے آغاز اور اختتام کے حوالے سے حقیقت پر مبنی ہو، تو نمازی شخص اس نماز کے ہمراہ ممنوعہ چیزوں سے مجتنب رہتا ہے، اس کی مثال اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے: ﴿إِنَّ الصَّلَاةَ تَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ﴾ [سورة العنكبوت: 45] ”بے شک نماز فحاشی اور گناہوں سے روکتی ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2560]

2561

Sahih Ibn Hibban #2561

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : فِي اللَّيْلِ سَاعَةٌ لا يُوَافِقُهَا رَجُلٌ مُسْلِمٌ يَسْأَلُ اللَّهَ خَيْرًا مِنَ الدُّنْيَا وَالآخِرَةِ ، إِلا أَعْطَاهُ إِيَّاهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”رات میں ایک گھڑی ایسی ہے اس میں جو بھی مسلمان بندہ اللہ تعالیٰ سے دنیا یا آخرت کی جس بھی بھلائی کا سوال کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اسے وہ عطا کر دے گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2561]

2562

Sahih Ibn Hibban #2562

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَرْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا الْقَاسِمُ بْنُ يَزِيدَ الْجَرْمِيُّ ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِي الأَحْوَصِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْرَجُلٍ نَامَ حَتَّى أَصْبَحَ ، فَقَالَ : بَالَ الشَّيْطَانُ فِي أُذُنِهِأَوْ فِي أُذُنَيْهِ " ، قَالَ سُفْيَانُ : هَذَا عِنْدَنَا يُشْبِهُ أَنْ يَكُونَ نَامَ عَنِ الْفَرِيضَةِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسے شخص کے بارے میں دریافت کیا گیا جو سوتا ہے یہاں تک کہ وہ صبح کر دیتا ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”شیطان نے اس کے کان میں پیشاب کر دیا“ (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں: ”دونوں کانوں میں کیا ہے؟“)، سفیان نامی راوی بیان کرتے ہیں: ہمارے نزدیک اس سے مراد یہ ہوگا کہ وہ شخص فرض نماز کے وقت سویا رہ جاتا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2562]

2563

Sahih Ibn Hibban #2563

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ خَلِيلٍ ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَسْرُوقِيُّ ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ الْمُنْتَشِرِ ، عَنْ حُمَيْدٍ الْحِمْيَرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : سَأَلَ رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَيُّالصَّلاةِ أَفْضَلُ بَعْدَ الْمَكْتُوبَةِ ؟ قَالَ : الصَّلاةُ فِي جَوْفِ اللَّيْلِ " ، قَالَ : فَأَيُّ الصِّيَامِ أَفْضَلُ بَعْدَ شَهْرِ رَمَضَانَ ؟ قَالَ : " شَهْرُ اللَّهِ الَّذِي يَدَعُونَهُ الْمُحَرَّمَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا گیا: فرض نماز کے بعد کون سی نماز زیادہ فضیلت رکھتی ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نصف رات میں ادا کی جانے والی نماز۔“ اس نے دریافت کیا: رمضان کے مہینے کے بعد کون سا روزہ زیادہ فضیلت رکھتا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کے اس مہینے کا روزہ جسے لوگ محرم کہتے ہیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2563]

2564

Sahih Ibn Hibban #2564

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا حِبَّانُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا عَوْفٌ ، عَنِ الْمُهَاجِرِ أَبِي مَخْلَدٍ ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو مُسْلِمٍ ، قَالَ : سَأَلْتُ أَبَا ذَرٍّ : أَيُّ قِيَامِ اللَّيْلِ أَفْضَلُ ؟ قَالَ أَبُو ذَرٍّ : سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَمَا سَأَلْتَنِي ، فَقَالَ : نِصْفُ اللَّيْلِ ، أَوْ جَوْفُ اللَّيْلِ "شَكَّ عَوْفٌ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابومسلم بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ سے سوال کیا کہ رات کے وقت کون سا قیام افضل ہے؟ تو سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی سوال کیا تھا جو تم نے مجھ سے کیا ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”نصف رات کے وقت کا، یا شاید رات کے درمیان کا۔“ یہ شک عوف نامی کو ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2564]

2565

Sahih Ibn Hibban #2565

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : مَنْ خَشِيَ مِنْكُمْ أَنْ لا يَقُومَ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ ، فَلْيُوتِرْ مِنْ أَوَّلِ اللَّيْلِ ، وَمَنْ طَمِعَ مِنْكُمْ أَنْ يَقُومَ آخِرَ اللَّيْلِ ، فَلْيُوتِرْ آخِرَ اللَّيْلِ ، فَإِنَّ قِرَاءَةَ آخِرِ اللَّيْلِ مَحْضُورَةٌ ، وَذَلِكَ أَفْضَلُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”تم میں سے جس شخص کو یہ اندیشہ ہو کہ وہ رات کے آخری حصے میں بیدار نہیں ہو سکے گا، تو وہ رات کے ابتدائی حصے میں وتر ادا کر لے اور تم میں سے جس شخص کو یہ امید ہو کہ وہ رات کے آخری حصے میں نوافل ادا کرے گا، تو اسے رات کے آخری حصے میں وتر ادا کرنا چاہیے کیونکہ رات کے آخری وقت میں کی جانے والی قرأت میں (فرشتوں کی) حاضری ہوتی ہے اور یہ زیادہ فضیلت رکھتی ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2565]

2566

Sahih Ibn Hibban #2566

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ ، أَنَّ أَبَاهُ أَخْبَرَهُ ، أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ أَخْبَرَهُ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَرَقَهُ فَقَالَ : أَلا تُصَلُّونَ ؟ " فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّمَا أَنْفُسُنَا بِيَدِ اللَّهِ ، فَإِذَا شَاءَ أَنْ يَبْعَثَنَا بَعَثَنَا ، فَانْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ قُلْتُ ذَلِكَ ، وَلَمْ يَرْجِعْ إِلَيَّ شَيْئًا ، ثُمَّ سَمِعْتُهُ وَهُوَ يَضْرِبُ بِيَدِهِ وَيَقُولُ : وَكَانَ الإِنْسَانُ أَكْثَرَ شَيْءٍ جَدَلا "

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابن شہاب زہری بیان کرتے ہیں کہ امام زین العابدین رحمہ اللہ نے مجھے یہ بات بتائی کہ ان کے والد (سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ) نے انہیں یہ بتایا اور سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے انہیں یہ بتایا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رات کے وقت ان کے ہاں تشریف لائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”کیا تم لوگوں نے نماز ادا نہیں کی؟“ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہماری جانیں اللہ تعالیٰ کے دستِ قدرت میں ہیں، وہ جب ہمیں بیدار کرنا چاہتا ہے بیدار کر دیتا ہے (تو آج اس نے بیدار نہیں کیا، تو ہم بھی نہیں اٹھے)؛ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب میں نے یہ گزارش کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم واپس مڑ گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے کوئی ارشاد نہیں فرمایا، پھر میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا ہاتھ مارتے ہوئے یہ آیت پڑھ رہے تھے: ﴿وَكَانَ الْإِنْسَانُ أَكْثَرَ شَيْءٍ جَدَلًا﴾ [سورة الكهف: 54] ”انسان سب سے زیادہ بحث کرتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2566]

2567

Sahih Ibn Hibban #2567

أَخْبَرَنَا ابْنُ خُزَيْمَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو قُدَامَةَ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى الْقَطَّانُ ، عَنِ ابْنِ عَجْلانَ ، عَنِ الْقَعْقَاعِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : رَحِمَ اللَّهُ رَجُلا قَامَ مِنَ اللَّيْلِ يُصَلِّي ، وَأَيْقَظَ امْرَأَتَهُ ، فَإِنْ أَبَتْ نَضَحَ فِي وَجْهِهَا الْمَاءَ ، وَرَحِمَ اللَّهُ امْرَأَةً قَامَتْ مِنَ اللَّيْلِ ، وَأَيْقَظَتْ زَوْجَهَا ، فَإِنْ أَبَى نَضَحَتْ فِي وَجْهِهِ الْمَاءَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”اللہ تعالیٰ اس شخص پر رحم کرے جو رات کے وقت اٹھ کر نماز ادا کرتا ہے، اپنی بیوی کو بھی بیدار کرتا ہے، اگر وہ بات نہیں مانتی تو وہ اس کے چہرے پر پانی چھڑک دیتا ہے اور اللہ تعالیٰ اس عورت پر بھی رحم کرے جو اس وقت نوافل ادا کرتی ہے اور اپنے شوہر کو بھی بیدار کرتی ہے، اور اگر وہ بیدار نہیں ہوتا تو وہ عورت اس کے چہرے پر پانی چھڑک دیتی ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2567]

2568

Sahih Ibn Hibban #2568

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ زُهَيْرٍ ، بِتُسْتُرَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الْعِجْلِيُّ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، عَنْ شَيْبَانَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الأَقْمَرِ ، عَنِ الأَغَرِّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، وأبي هريرة ، قَالا : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنِ اسْتَيْقَظَ مِنَ اللَّيْلِ وَأَيْقَظَ أَهْلَهُ ، فَقَامَا فَصَلَّيَا رَكْعَتَيْنِ ، كُتِبَا مِنَ الذَّاكِرِينَ اللَّهَ كَثِيرًا وَالذَّاكِرَاتِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوسعید خدری اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جو شخص رات کے وقت بیدار ہو اور اپنی بیوی کو بھی بیدار کرے اور وہ دونوں کھڑے ہو کر دو رکعات ادا کریں تو ان دونوں کا نام اللہ تعالیٰ کا کثرت سے ذکر کرنے والے مردوں اور کثرت سے ذکر کرنے والی خواتین میں لکھ دیا جاتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2568]

2569

Sahih Ibn Hibban #2569

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ صَالِحٍ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الأَقْمَرِ ، عَنِ الأَغَرِّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، وأبي هريرة ، عن النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : إِذَا اسْتَيْقَظَ الرَّجُلُ مِنَ اللَّيْلِ ، وَأَيْقَظَ امْرَأَتَهُ ، فَصَلَّيَا رَكْعَتَيْنِ ، كُتِبَا مِنَ الذَّاكِرِينَ اللَّهَ كَثِيرًا وَالذَّاكِرَاتِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوسعید خدری اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جب کوئی شخص رات کے وقت بیدار ہو اور اپنی بیوی کو بھی بیدار کرے اور وہ دونوں کھڑے ہو کر دو رکعات ادا کریں تو ان دونوں کا (نام) اللہ تعالیٰ کا کثرت سے ذکر کرنے والے مردوں اور خواتین میں نوٹ کر لیا جاتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2569]

2570

Sahih Ibn Hibban #2570

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ ، وَمُحَمَّدِ بْنِ الْوَلِيدِ بْنِ نُوَيْفِعٍ مَوْلَى آل الزبير ، كلاهما حَدَّثَنِي عَنْ كُرَيْبٍ ، مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَيُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ فِي بُرْدٍ لَهُ حَضْرَمِيٍّ مُتَوَشِّحَهُ مَا عَلَيْهِ غَيْرُهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، آپ نے رات کے وقت اپنی حضرمی چادر کو «تَوْشِيح» کے طور پر لپیٹ کر نفل ادا کیے، آپ کے جسم پر اس کے علاوہ اور کوئی چیز نہیں تھی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2570]

2571

Sahih Ibn Hibban #2571

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَحْتَجِرُ حَصِيرًا بِاللَّيْلِ فَيُصَلِّي إِلَيْهِ ، وَيَبْسُطُهُ بِالنَّهَارِ فَيَجْلِسُ عَلَيْهِ ، قَالَ : فَجَعَلَ النَّاسُ يَثُوبُونَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَيُصَلُّونَ بِصَلاتِهِ حَتَّى كَثُرُوا ، قَالَ : فَأَقْبَلَ عَلَيْهِمْ فَقَالَ : أَيُّهَا النَّاسُ ،خُذُوا مِنَ الأَعْمَالِ مَا تُطِيقُونَ ، فَإِنَّ اللَّهَ لا يَمَلُّ حَتَّى تَمَلُّوا ، وَإِنَّ أَحَبَّ الأَعْمَالِ إِلَى اللَّهِ مَا دَامَ وَإِنْ قَلَّ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رات کے وقت چٹائی کا حجرہ بنا لیتے تھے اور اس میں نماز ادا کیا کرتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم دن کے وقت اسے بچھا لیتے تھے اور اس پر تشریف فرما ہوتے تھے۔ راوی کہتے ہیں: لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف آئے اور آپ کی نماز کی اقتدا میں نماز ادا کرنے لگے یہاں تک کہ لوگوں کی تعداد زیادہ ہو گئی۔ راوی بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور آپ نے ارشاد فرمایا: ”اے لوگو! اتنے عمل کو اختیار کرو جتنے کی تم طاقت رکھتے ہو، کیونکہ اللہ تعالیٰ تھکاوٹ کا شکار نہیں ہوتا یہاں تک کہ تم تھکاوٹ کا شکار ہو جاؤ، اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے پسندیدہ عمل وہ ہے جو باقاعدگی سے کیا جائے، اگرچہ وہ تھوڑا ہو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2571]

2572

Sahih Ibn Hibban #2572

أَخْبَرَنَا ابْنُ سَلْمٍ ، حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، أَنَّ أَبَا سُوَيْدٍ ، حَدَّثَهُ ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ حُجَيْرَةَ يُخْبِرُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ : مَنْ قَامَ بِعَشْرِ آيَاتٍ لَمْ يُكْتَبْ مِنَ الْغَافِلِينَ ، وَمَنْ قَامَ بِمِائَةِ آيَةٍ كُتِبَ مِنَ الْقَانِتِينَ ، وَمَنْ قَامَ بِأَلْفِ آيَةٍ كُتِبَ مِنَ الْمُقَنْطِرِينَ "، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : أَبُو سُوَيْدٍ اسْمُهُ حُمَيْدُ بْنُ سُوَيْدٍ مِنْ أَهْلِ مِصْرَ ، وَقَدْ وَهِمَ مَنْ قَالَ : أَبُو سَوِيَّةَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جو شخص نوافل میں دس آیات کی تلاوت کرتا ہے اس کا شمار «الْغَافِلِيْنَ» ”غافلین“ میں نہیں ہوتا، جو شخص نوافل میں ایک سو آیات کی تلاوت کرتا ہے اس کا شمار «الْقَانِتِيْنَ» ”قانتین“ میں ہوتا ہے اور جو شخص ایک ہزار آیات کی تلاوت کرتا ہے اس کا شمار «الْمُقَنْطِرِيْنَ» ”مقنطرین“ میں ہوتا ہے۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) ابوسوید نامی راوی کا نام حمید بن سوید ہے اور یہ مصر سے تعلق رکھتے ہیں۔ اس شخص کو غلط فہمی ہوئی ہے جس نے ان کا نام ابوسویہ بیان کیا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2572]

2573

Sahih Ibn Hibban #2573

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْلِمٍ الطُّوسِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : الْقِنْطَارُ اثْنَا عَشَرَ أَلْفَ أُوقِيَّةٍ ، كُلُّ أُوقِيَّةٍ خَيْرٌ مِمَّا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالأَرْضِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”ایک قنطار بارہ ہزار اوقیہ کا ہوتا ہے، جن میں سے ہر ایک اوقیہ آسمان اور زمین میں موجود ہر چیز سے زیادہ بہتر ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2573]

2574

Sahih Ibn Hibban #2574

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، مَوْلَى ثَقِيفٍ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ شُجَاعِ بْنِ الْوَلِيدِ السَّكُونِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ خَيْثَمَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جُحَادَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ جُنْدُبٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ قَرَأَ يس فِي لَيْلَةٍ ابْتِغَاءَ وَجْهِ اللَّهِ غُفِرَ لَهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جندب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”جو شخص اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لیے رات کے وقت سورۃ ﴿یسین﴾ [سورة يس: 1] کی تلاوت کرتا ہے، اس کی مغفرت ہو جاتی ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2574]

2575

Sahih Ibn Hibban #2575

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، وَسُلَيْمَانَ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : مَنْ قَرَأَ الآيَتَيْنِ مِنْ آخِرِ سُورَةِ الْبَقَرَةِ فِي لَيْلَةٍ كَفَتَاهُ "، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : سَمِعَ هَذَا الْخَبَرَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَزِيدَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ ، ثُمَّ لَقِيَ أَبَا مَسْعُودٍ فِي الطَّوَافِ فَسَأَلَهُ ، فَحَدَّثَهُ بِهِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابومسعود رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جو شخص رات کے وقت سورہ بقرہ کی آخری دو آیات کی تلاوت کر لیتا ہے، یہ دونوں اس کے لیے کافی ہوتی ہیں۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) عبدالرحمن بن یزید نے یہ روایت علقمہ کے حوالے سے سیدنا ابومسعود رضی اللہ عنہ کے حوالے سے سنی ہے، پھر ان کی ملاقات سیدنا ابومسعود رضی اللہ عنہ کے ساتھ طواف کے دوران ہوئی، انہوں نے ان سے اس بارے میں دریافت کیا تو سیدنا ابومسعود رضی اللہ عنہ نے انہیں یہ حدیث بیان کر دی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2575]