Muslim99Muslim99

Sahih Ibn Hibban · Book 23 · Chapter 3

Book of Hudud

Hadith 2576–2609

33 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

2576

Sahih Ibn Hibban #2576

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ مُدْرِكٍ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ النَّخَعِيُّ ، عَنِ الرَّبِيعِ بْنِ خُثَيْمٍ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : أَيَعْجِزُ أَحَدُكُمْ أَنْ يَقْرَأَ ثُلُثَ الْقُرْآنِ كُلَّ لَيْلَةٍ ؟ " قَالُوا : وَمَنْ يُطِيقُ ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”کیا تم میں سے کوئی ایک شخص اس بات سے عاجز ہے کہ وہ ہر رات تہائی قرآن کی تلاوت کیا کرے؟“ ہم نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کون ایسا کر سکتا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”سورہ اخلاص کی تلاوت کرنا (ایک تہائی قرآن پڑھنے کے برابر ہے)۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2576]

2577

Sahih Ibn Hibban #2577

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ، عَنْ شُرَيْحٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ ، عَنْ ثَوْبَانَ ، قَالَ : كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ ، فَقَالَ : إِنَّهَذَا السَّفَرَ جُهْدٌ وَثُقْلٌ ، فَإِذَا أَوْتَرَ أَحَدُكُمْ فَلْيَرْكَعْ رَكْعَتَيْنِ ، فَإِنِ اسْتَيْقَظَ وَإِلا كَانَتَا لَهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ سفر کر رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”یہ سفر مشقت اور بوجھ کا باعث ہوتا ہے، تو جب کوئی شخص وتر ادا کرے تو اسے دو رکعات ادا کر لینی چاہیے، اگر وہ (فجر کی نماز کے وقت) بیدار ہو گیا تو ٹھیک ہے، ورنہ یہ دونوں اس کے لیے کافی ہوں گی۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2577]

2578

Sahih Ibn Hibban #2578

أَخْبَرَنَا ابْنُ خُزَيْمَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جَعْفَرٍ ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ عَطَاءٍ مَوْلَى أَبِي أَحْمَدَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْثًا ، وَهُمْ نَفَرٌ ، فَدَعَاهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : مَاذَا مَعَكُمْ مِنَ الْقُرْآنِ ؟ " فَاسْتَقْرَأَهُمْ ، حَتَّى مَرَّ عَلَى رَجُلٍ مِنْهُمْ ، هُوَ مِنْ أَحْدَثِهِمْ سِنًّا ، فَقَالَ : " مَاذَا مَعَكَ يَا فُلانُ ؟ " قَالَ : مَعِي كَذَا وَكَذَا ، وَسُورَةُ الْبَقَرَةِ ، قَالَ : " مَعَكَ سُورَةُ الْبَقَرَةِ ؟ " قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : " اذْهَبْ فَأَنْتَ أَمِيرُهُمْ " ، فَقَالَ رَجُلٌ هُوَ أَشْرَفُهُمْ : وَالَّذِي كَذَا وَكَذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا مَنَعَنِي أَنْ لا أَتَعَلَّمَ الْقُرْآنَ إِلا خَشْيَةَ أَنْ لا أَقُومَ بِهِ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تَعَلَّمِ الْقُرْآنَ وَاقْرَأْهُ وَارْقُدْ ، فَإِنَّمَثَلَ الْقُرْآنِ لِمَنْ تَعَلَّمَهُ فَقَرَأَهُ وَقَامَ بِهِ ، كَمَثَلِ جِرَابٍ مَحْشُوٍّ مِسْكًا تَفُوحُ رِيحُهُ كُلَّ مَكَانٍ ، وَمَنْ تَعَلَّمَهُ فَرَقَدَ وَهُوَ فِي جَوْفِهِ كَمَثَلِ جِرَابٍ وُكِئَ عَلَى مِسْكٍ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مہم روانہ کی، وہ کچھ لوگ تھے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بلایا اور دریافت فرمایا: ”تمہیں کتنا قرآن آتا ہے؟“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان سے قرأت کے بارے میں دریافت کرتے رہے، یہاں تک کہ آپ کا گزر ان میں سے ایک ایسے شخص پر ہوا جو ان میں سب سے کم سن تھا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”اے فلاں! تمہیں کتنا قرآن آتا ہے؟“ اس نے عرض کی: مجھے فلاں، فلاں سورتیں اور سورہ بقرہ بھی آتی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”کیا تمہیں سورہ بقرہ آتی ہے؟“ اس نے عرض کی: جی ہاں! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم جاؤ، تم ہی ان لوگوں کے امیر ہو۔“ تو ایک صاحب جو ان میں بڑے معزز تھے، انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اس ذات کی قسم جس میں یہ، یہ خوبیاں پائی جاتی ہیں، میں نے قرآن کا علم صرف اس لیے حاصل نہیں کیا کیونکہ مجھے یہ اندیشہ تھا کہ میں نوافل میں اس کی تلاوت نہیں کر سکوں گا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم قرآن کا علم حاصل کرو اور اس کی تلاوت بھی کرو اور سو بھی جایا کرو، جو شخص قرآن کا علم حاصل کرتا ہے اور پھر (نوافل میں) ان کی تلاوت کرتا ہے اس کی مثال ایک ایسے مشکیزے کی مانند ہے جس میں مشک موجود ہو اور اس کا منہ کھلا ہوا ہو اور اس کی خوشبو ہر طرف پھیل رہی ہو، اور جو شخص قرآن کا علم حاصل کر لے اور سو جائے اور وہ قرآن اس کے ذہن میں ہو، تو اس کی مثال ایسے مشکیزے کی طرح ہے جس میں مشک موجود ہو لیکن اس کا منہ بند کر دیا گیا ہو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2578]

2579

Sahih Ibn Hibban #2579

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ مَخْرَمَةَ بْنِ سُلَيْمَانَ ، عَنْ كُرَيْبٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : نَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى إِذَا انْتَصَفَ اللَّيْلُ ، أَوْ قَبْلَهُ ، أَوْ بَعْدَهُ بِقَلِيلٍ ،اسْتَيْقَظَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْسَحُ النَّوْمَ عَنْ وَجْهِهِ بِيَدَيْهِ ، ثُمَّ قَرَأَ الْعَشْرَ الآيَاتِ الْخَوَاتِمَ مِنْ سُورَةِ آلِ عِمْرَانَ ، ثُمَّ قَامَ إِلَى شَنٍّ مُعَلَّقَةٍ ، فَتَوَضَّأَ مِنْهَا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سو گئے یہاں تک کہ جب نصف رات ہو گئی، یا نصف رات سے کچھ پہلے یا بعد کا وقت تھا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہوئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھ چہرے پر پھیر کر نیند کے اثرات کو دور کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سورہ آل عمران کی آخری دس آیات کی تلاوت کی، اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم لٹکے ہوئے مشکیزے کی طرف بڑھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے وضو کیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2579]

2580

Sahih Ibn Hibban #2580

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الأَنْصَارِيُّ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ أَبِي وَدَاعَةَ السَّهْمِيِّ ، عَنْ حَفْصَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ : إِنْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَيُصَلِّي فِي سُبْحَتِهِ قَاعِدًا ، فَيَقْرَأُ بِالسُّورَةِ فَيُرَتِّلُهَا حَتَّى تَكُونَ أَطْوَلَ مِنْ أَطْوَلَ مِنْهَا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ (بعض اوقات) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ کر نوافل ادا کرنا شروع کرتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم جس سورت کی تلاوت فرماتے تھے اسے ٹھہر ٹھہر کر پڑھتے تھے، یہاں تک کہ وہ اپنے سے طویل سورت سے بھی زیادہ طویل محسوس ہوتی تھی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2580]

2581

Sahih Ibn Hibban #2581

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سَعْدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ : حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلالٍ ، عَنْ مَخْرَمَةَ بْنِ سُلَيْمَانَ ، أَنَّ كُرَيْبًا أَخْبَرَهُ ، قَالَ : سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، فَقُلْتُ : مَا صَلاةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِاللَّيْلِ ؟ قَالَ : كَانَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَيَقْرَأُ فِي بَعْضِ حُجَرِهِ ، فَيَسْمَعُ مَنْ كَانَ خَارِجًا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

کریب بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے سوال کیا، میں نے کہا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رات کے وقت کیسے نماز ادا کرتے تھے؟ انہوں نے بتایا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے حجرے میں تلاوت کر رہے ہوتے تھے اور حجرے کے باہر موجود شخص اسے سن سکتا تھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2581]

2582

Sahih Ibn Hibban #2582

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، عَنْ بُرْدٍ أَبِي الْعَلاءِ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ نُسَيٍّ ، عَنْ غُضَيْفِ بْنِ الْحَارِثِ ، قَالَ : قُلْتُ لِعَائِشَةَ : أَرَأَيْتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَجْهَرُ بِصَلاتِهِ ، أَوْ يُخَافِتُ بِهَا ؟ قَالَتْ : رُبَّمَا جَهَرَ بِصَلاتِهِ ، وَرُبَّمَا خَافَتَ بِهَا "، قُلْتُ : الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي جَعَلَ فِي الأَمْرِ سَعَةً"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

غضیف بن حارث رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں عرض کی: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں آپ کیا فرماتی ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھتے وقت بلند آواز میں قرأت کرتے تھے یا پست آواز میں کرتے تھے؟ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: بعض اوقات آپ صلی اللہ علیہ وسلم بلند آواز میں قرأت کرتے تھے اور بعض اوقات پست آواز میں کرتے تھے، تو میں نے کہا: «الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِي جَعَلَ فِي الْأَمْرِ سَعَةً» ”ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص ہے، جس نے اس معاملے میں گنجائش رکھی ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2582]

2583

Sahih Ibn Hibban #2583

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الأَنْصَارِيُّ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : إِذَا نَامَ أَحَدُكُمْ فِي صَلاتِهِ ، فَلْيَرْقُدْ حَتَّى يَذْهَبَ عَنْهُ النَّوْمُ ، فَإِنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا قَامَ يُصَلِّي وَهُوَ نَاعِسٌ لَعَلَّهُ يَسْتَغْفِرُ فَيَسُبُّ نَفْسَهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جب کسی شخص کو نماز کے وقت نیند آ جائے تو اسے سو جانا چاہیے، یہاں تک کہ اس کی نیند ختم ہو جائے، کیونکہ ایسا ہو سکتا ہے کہ کوئی شخص نماز کے لیے کھڑا ہو اور وہ اونگھ رہا ہو اور اپنی طرف سے دعائے مغفرت کر رہا ہو لیکن درحقیقت خود کو برا بھلا کہہ رہا ہو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2583]

2584

Sahih Ibn Hibban #2584

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ هِلالٍ الصَّوَّافُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِذَا نَعَسَ الرَّجُلُ وَهُوَ يُصَلِّي فَلْيَنْصَرِفْ ، لَعَلَّهُ يَكُونُ يَدْعُو فِي صَلاتِهِ فَيَدْعُو عَلَى نَفْسِهِ وَهُوَ لا يَدْرِي """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”جب کسی شخص کو نماز کے دوران اونگھ آنے لگے، تو اسے نماز ختم کر دینی چاہیے کیونکہ ایسا ہو سکتا ہے وہ اپنی طرف سے نماز کے دوران دعا مانگ رہا ہو حالانکہ درحقیقت اپنے لیے دعائے ضرر کر رہا ہو اور اسے اس بات کا علم بھی نہ ہو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2584]

2585

Sahih Ibn Hibban #2585

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِذَا قَامَ أَحَدُكُمْ مِنَ اللَّيْلِ ، فَاسْتَعْجَمَ الْقُرْآنُ عَلَى لِسَانِهِ فَلَمْ يَدْرِ مَا يَقُولُ ، فَلْيَضْطَجِعْ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جب کوئی شخص رات کے وقت نوافل ادا کر رہا ہو اور قرآن کی تلاوت اس کی زبان پر دشوار ہو جائے اور اسے یہ اندازہ نہ ہو پائے کہ وہ کیا کہہ رہا ہے، تو اسے سو جانا چاہیے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2585]

2586

Sahih Ibn Hibban #2586

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، أَنَّ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْهُ ، أَنَّ الْحَوْلاءَ بِنْتَ تُوَيْتِ بْنِ حَبِيبِ بْنِ عَبْدِ الْعُزَّى ، مَرَّتْ بِهَا ، وَعِنْدَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَتْ : فَقُلْتُ : هَذِهِ الْحَوْلاءُ بِنْتُ تُوَيْتٍ ، زَعَمُوا أَنَّهَا لا تَنَامُ بِاللَّيْلِ ، قَالَتْ : فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لا تَنَامُ اللَّيْلَ !خُذُوا مِنَ الْعَمَلِ مَا تُطِيقُونَ ، فَوَاللَّهِ لا يَسْأَمُ اللَّهُ حَتَّى تَسْأَمُوا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ایک مرتبہ حولاء بنت تویت ان کے پاس سے گزری، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بھی ان کے پاس موجود تھے، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میں نے کہا: یہ حولاء بنت تویت ہے، لوگ یہ کہتے ہیں کہ یہ رات کے وقت سوتی نہیں ہے، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ رات کے وقت سوتی نہیں ہے؟ تم لوگ اتنا عمل کرو جس کی تم طاقت رکھتے ہو، اللہ کی قسم! اللہ تعالیٰ کا فضل اس وقت تک منقطع نہیں ہوتا، جب تک تم اکتاہٹ کا شکار نہیں ہو جاتے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2586]

2587

Sahih Ibn Hibban #2587

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّامِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ الْمَقَابِرِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي حُمَيْدٌ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِحَبْلٍ مَمْدُودٍ بَيْنَ سَارِيَتَيْنِ فِي الْمَسْجِدِ ، فَقَالَ : مَا هَذَا الْحَبْلُ ؟ " قَالُوا : فُلانَةٌ تُصَلِّي ، فَإِذَا خَشِيَتْ أَنْ تُغْلَبَ أَخَذَتْ بِهِ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ :" لِتُصَلِّي مَا عَقَلَتْهُ ، فَإِذَا غُلِبَتْ فَلْتَنَمْ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں دو ستونوں کے درمیان بندھی ہوئی رسی کے پاس سے گزرے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”یہ رسی کیوں ہے؟“ لوگوں نے عرض کی: فلاں خاتون نماز ادا کرتی ہے، اسے یہ اندیشہ ہوتا ہے، اسے نیند آ رہی ہے، تو اسے پکڑ لیتی ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اسے اس وقت تک نماز ادا کرنی چاہیے جب تک وہ جاگ رہی ہو اور جب نیند آنے لگے، تو اسے سو جانا چاہیے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2587]

2588

Sahih Ibn Hibban #2588

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مَعْشَرٍ بِحَرَّانَ ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدٍ الأَنْصَارِيُّ ، حَدَّثَنَا مِسْكِينُ بْنُ بُكَيْرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدَةَ بْنِ أَبِي لُبَابَةَ ، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ غَفَلَةَ ، ، أَنَّهُ عَادَ زِرَّ بْنَ حُبَيْشٍ فِي مَرَضِهِ ، فَقَالَ : قَالَ أَبُو ذَرٍّ ، أَوْ أَبُو الدَّرْدَاءِ ، شَكَّ شُعْبَةُ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَا مِنْ عَبْدٍ يُحَدِّثُ نَفْسَهُ بِقِيَامِ سَاعَةٍ مِنَ اللَّيْلِ ، فَيَنَامُ عَنْهَا ، إِلا كَانَ نَوْمُهُ صَدَقَةً تَصَدَّقَ اللَّهُ بِهَا عَلَيْهِ ، وَكُتِبَ لَهُ أَجْرُ مَا نَوَى """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سوید بن غفلہ بیان کرتے ہیں کہ وہ زر بن حبیش کی بیماری کے دوران ان کی عیادت کے لیے گئے تو انہوں نے بتایا کہ سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نے (راوی کو شک ہے) یا شاید سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ نے، یہ شک شعبہ نامی راوی کو ہے، انہوں نے یہ بات بیان کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ارشاد فرمایا ہے: ”جو بھی بندہ ذہن میں یہ طے کرتا ہے کہ وہ رات کے کسی حصے میں نوافل ادا کرے گا اور وہ اس وقت میں سویا رہ جاتا ہے، تو وہ نیند صدقہ ہوتی ہے جو اللہ تعالیٰ نے اس پر کیا ہوتا ہے اور اس شخص کو اس کی نیت کے مطابق اجر مل جاتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2588]

2589

Sahih Ibn Hibban #2589

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، عَنْ إِسْرَائِيلَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الأَسْوَدِ ، قَالَ : سَأَلْنَا عَائِشَةَ عَنْ صَلاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِاللَّيْلِ ، فَقَالَتْ : كَانَيَنَامُ أَوَّلَ اللَّيْلِ ، وَيَقُومُ آخِرَهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

اسود بیان کرتے ہیں کہ ہم نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی رات کی نماز کے بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے بتایا: ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم رات کے ابتدائی حصے میں سو جاتے تھے اور آخری حصے میں نوافل ادا کیا کرتے تھے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2589]

2590

Sahih Ibn Hibban #2590

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلاءِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ : سَمِعْتُهُ مِنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ مُنْذُ سَبْعِينَ سَنَةً ، يَقُولُ : أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ أَوْسٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ يُخْبِرُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : أَحَبُّ الصَّلاةِ إِلَى اللَّهِ صَلاةُ دَاوُدَ ، كَانَ يَنَامُ نِصْفَ اللَّيْلِ ، وَيَقُومُ ثُلُثَ اللَّيْلِ ، وَيَنَامُ سُدُسَهُ ، وَأَحَبُّ الصِّيَامِ إِلَى اللَّهِ صِيَامُ دَاوُدَ ، كَانَ يَصُومُ يَوْمًا ، وَيُفْطِرُ يَوْمًا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”اللہ تعالیٰ کے نزدیک پسندیدہ ترین نماز سیدنا داؤد علیہ السلام کی نماز ہے، وہ نصف رات سوئے رہتے تھے اور ایک تہائی رات میں نوافل ادا کرتے تھے اور پھر رات کے چھٹے حصے میں سو جاتے تھے، اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک پسندیدہ ترین روزہ رکھنے کا طریقہ سیدنا داؤد علیہ السلام کا روزہ رکھنے کا طریقہ ہے، وہ ایک دن روزہ رکھتے تھے اور ایک دن روزہ نہیں رکھتے تھے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2590]

2591

Sahih Ibn Hibban #2591

أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ ، بِبُسْتَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَإِذَا قَامَ مِنَ اللَّيْلِ يَشُوصُ فَاهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب رات کے وقت بیدار ہوتے تھے، تو آپ مسواک کیا کرتے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2591]

2592

Sahih Ibn Hibban #2592

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الأَنْصَارِيُّ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ مَخْرَمَةَ بْنِ سُلَيْمَانَ ، عَنْ كُرَيْبٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّهُ بَاتَ عِنْدَ مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَهِيَ خَالَتُهُ ، قَالَ : فَاضْطَجَعْتُ فِي عَرْضِ الْوِسَادَةِ ، وَاضْطَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَهْلُهُ فِي طُولِهَا ، فَنَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى انْتَصَفَ اللَّيْلُ ، أَوْ قَبْلَهُ ، أَوْ بَعْدَهُ بِقَلِيلٍ ،اسْتَيْقَظَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَجَعَلَ يَمْسَحُ النَّوْمَ عَنْ وَجْهِهِ بِيَدَيْهِ ، ثُمَّ قَرَأَ الْعَشْرَ آيَاتِ الْخَوَاتِمَ مِنْ سُورَةِ آلِ عِمْرَانَ ، ثُمَّ قَامَ إِلَى شَنٍّ مُعَلَّقَةٍ ، فَتَوَضَّأَ مِنْهَا فَأَحْسَنَ الْوُضُوءَ ، ثُمَّ قَامَ يُصَلِّي " ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : فَقُمْتُ فَصَنَعْتُ مِثْلَ مَا صَنَعَ ، ثُمَّ ذَهَبْتُ فَقُمْتُ إِلَى جَنْبِهِ ، " فَوَضَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ الْيُمْنَى عَلَى رَأْسِي ، فَأَخَذَ بِأُذُنِي الْيُمْنَى يَفْتِلُهَا ، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ ، ثُمَّ رَكْعَتَيْنِ ، ثُمَّ رَكْعَتَيْنِ ، ثُمَّ رَكْعَتَيْنِ ، ثُمَّ أَوْتَرَ ، ثُمَّ اضْطَجَعَ حَتَّى جَاءَهُ الْمُؤَذِّنُ ، فَقَامَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ ، ثُمَّ خَرَجَ فَصَلَّى الصُّبْحَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے ہاں رات بسر کی جو سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی خالہ تھیں، وہ بیان کرتے ہیں کہ میں بستر پر چوڑائی کی سمت لیٹ گیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی اہلیہ لمبائی کی سمت میں لیٹ گئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سو گئے یہاں تک کہ جب نصف رات ہوئی یا شاید اس سے کچھ پہلے یا بعد کی بات ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہوئے، آپ نے اپنے دونوں ہاتھ چہرے پر پھیر کر نیند کے اثرات کو دور کیا، پھر آپ نے سورہ آل عمران کی آخری دس آیات کی تلاوت کی، پھر آپ لٹکے ہوئے مشکیزے کی طرف بڑھے، آپ نے اس سے وضو کیا اور اچھی طرح وضو کیا، پھر آپ کھڑے ہو کر نماز ادا کرنے لگے۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میں اٹھا، میں نے بھی اسی طرح کیا جس طرح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا تھا، پھر میں آیا اور آ کر آپ کے پہلو میں کھڑا ہو گیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دست مبارک میرے سر پر رکھا اور میرے دائیں کان کو پکڑ کر اسے ملنے لگے، آپ نے دو رکعات نماز ادا کیں، پھر آپ نے دو رکعات ادا کیں، پھر دو رکعات ادا کیں، پھر دو رکعات ادا کیں، پھر دو رکعات ادا کیں، پھر آپ نے وتر ادا کیے۔ پھر آپ لیٹ گئے (پھر سو گئے) یہاں تک کہ مؤذن آپ کی خدمت میں حاضر ہوا، آپ اٹھے، آپ نے دو مختصر رکعات ادا کیں، پھر آپ صبح کی نماز پڑھانے کے لیے تشریف لے گئے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2592]

2593

Sahih Ibn Hibban #2593

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ ، عَنِ الأَسْوَدِ ، قَالَ : سَأَلْتُ عَائِشَةَ عَنْ صَلاةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِاللَّيْلِ ، فَقَالَتْ : كَانَيَنَامُ أَوَّلَ اللَّيْلِ ، ثُمَّ يَقُومُ فَيُصَلِّي ، فَإِذَا كَانَ مِنَ السَّحَرِ أَوْتَرَ ، فَإِنْ كَانَتْ لَهُ حَاجَةٌ إِلَى أَهْلِهِ وَإِلا نَامَ ، فَإِذَا سَمِعَ الأَذَانَ وَثَبَ ، وَمَا قَالَتْ : قَامَ ، فَإِنْ كَانَ جُنُبًا أَفَاضَ عَلَيْهِ مِنَ الْمَاءِ ، وَمَا قَالَتِ : اغْتَسَلَ ، وَإِلا تَوَضَّأَ ، وَخَرَجَ إِلَى الصَّلاةِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

اسود بیان کرتے ہیں: میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی رات کی نماز کے بارے میں دریافت کیا، انہوں نے بتایا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رات کے ابتدائی حصے میں سو جاتے تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہو کر نماز ادا کرتے تھے، جب سحری کا وقت قریب آ جاتا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم وتر ادا کر لیتے تھے، اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی اہلیہ سے کوئی حاجت ہوتی تھی تو اسے پورا کرتے تھے ورنہ سو جاتے تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اذان کی آواز سنتے تھے تو اٹھ جاتے تھے، اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم جنابت کی حالت میں ہوتے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم غسل کر لیتے تھے ورنہ وضو کر کے نماز کے لیے تشریف لے جاتے تھے (یہاں راوی نے کچھ الفاظ کی وضاحت کی ہے)۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2593]

2594

Sahih Ibn Hibban #2594

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، قَال : حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي رَبِيعَةُ بْنُ كَعْبٍ الأَسْلَمِيُّ ، قَالَ : كُنْتُ أَبِيتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَتَيْتُهُ بِوَضُوئِهِ وَحَاجَتِهِ ، وَكَانَ يَقُومُ مِنَ اللَّيْلِ ، يَقُولُ : سُبْحَانَ رَبِّي وَبِحَمْدِهِ ، سُبْحَانَ رَبِّي وَبِحَمْدِهِ " الْهَوِيَّ ، ثُمَّ يَقُولُ : " سُبْحَانَ رَبِّ الْعَالَمِينَ ، سُبْحَانَ رَبِّ الْعَالَمِينَ " الْهَوِيَّ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ربیع بن کعب اسلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں ایک مرتبہ رات کے وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا، میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو اور قضائے حاجت کے لیے پانی لے کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم رات کے وقت نوافل ادا کرتے ہوئے یہ پڑھتے رہے: «سُبْحَانَ رَبِّي وَبِحَمْدِهِ، سُبْحَانَ رَبِّي وَبِحَمْدِهِ» ”پاک ہے میرا پروردگار اور حمد اس کے لیے مخصوص ہے، پاک ہے میرا پروردگار، حمد اسی کے لیے مخصوص ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاصی دیر یہ پڑھتے رہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ پڑھتے رہے: «سُبْحَانَ رَبِّ الْعَالَمِينَ، سُبْحَانَ رَبِّ الْعَالَمِينَ» ”پاک ہے تمام جہانوں کا پروردگار اور پاک ہے تمام جہانوں کا پروردگار۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاصی دیر یہ پڑھتے رہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2594]

2595

Sahih Ibn Hibban #2595

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حِبَّانُ بْنُ مُوسَى ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، وَالأَوْزَاعِيُّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ كَعْبٍ الأَسْلَمِيِّ ، قَالَ : كُنْتُ أَبِيتُ عِنْدَ حُجْرَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَكُنْتُ أَسْمَعُهُ إِذَا قَامَ مِنَ اللَّيْلِ ، قَالَ : سُبْحَانَ رَبِّ الْعَالَمِينَ " الْهَوِيَّ ، ثُمَّ يَقُولُ : " سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ " الْهَوِيَّ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ربیع بن کعب اسلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حجرے کے پاس رات بسر کی جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم رات کے وقت نوافل ادا کر رہے تھے، تو میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سنتا رہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ پڑھ رہے تھے: «سُبْحَانَ رَبِّ الْعَالَمِينَ» ”تمام جہانوں کا پروردگار پاک ہے“، آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاصی دیر یہ پڑھتے رہے: «سُبْحَانَ اللّٰهِ وَبِحَمْدِهِ» ”اللہ تعالیٰ کی ذات ہر عیب سے پاک ہے، حمد اسی کے لیے مخصوص ہے“۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2595]

2596

Sahih Ibn Hibban #2596

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ ، حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عُمَيْرُ بْنُ هَانِئٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي جُنَادَةُ بْنُ أَبِي أُمَيَّةَ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ تَعَارَّ مِنَ اللَّيْلِ ، فَقَالَ حِينَ يَسْتَيْقِظُ : لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ وَحْدَهُ لا شَرِيكَ لَهُ ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ ، سُبْحَانَ اللَّهِ ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ ، وَلا إِلَهَ إِلا اللَّهُ ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ ، وَلا حَوْلَ وَلا قُوَّةَ إِلا بِاللَّهِ ، رَبِّ اغْفِرْ لِي ، غُفِرَ لَهُ ، وَإِنْ قَامَ فَتَوَضَّأَ وَصَلَّى قُبِلَتْ صَلاتُهُ "، قَالَ الْوَلِيدُ : قَالَ : " غُفِرَ لَهُ ، أَوِ اسْتُجِيبَ لَهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جو شخص رات کے وقت بیدار ہو اور بیدار ہونے کے بعد یہ پڑھے: «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، سُبْحَانَ اللّٰهِ، وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ، وَلَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ، وَاللّٰهُ أَكْبَرُ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللّٰهِ» ”اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے، وہی ایک معبود ہے، اس کا کوئی شریک نہیں ہے، بادشاہی اسی کے لیے مخصوص ہے، حمد اسی کے لیے مخصوص ہے اور وہ ہر شے پر قدرت رکھتا ہے، اللہ تعالیٰ کی ذات ہر عیب سے پاک ہے، ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص ہے، اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے، اللہ تعالیٰ سب سے بڑا ہے، اللہ تعالیٰ کی مدد کے بغیر کچھ نہیں ہو سکتا، اے اللہ! تو میری مغفرت کر دے۔“ (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے رہے) اس شخص کی مغفرت ہو جاتی ہے، اگر وہ اٹھ کر وضو کرے اور نماز ادا کرے تو اس کی نماز قبول ہوتی ہے۔“ ولید نامی راوی نے یہ بات بیان کی ہے، روایت میں یہ الفاظ ہیں: ”اس شخص کی مغفرت ہو جاتی ہے۔“ راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں: ”اس شخص کی دعا قبول ہوتی ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2596]

2597

Sahih Ibn Hibban #2597

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلاءِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ الأَحْوَلُ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَإِذَا قَامَ مِنَ اللَّيْلِ تَهَجَّدَ ، قَالَ : اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ ، أَنْتَ نُورُ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضِ وَمَنْ فِيهِنَّ ، وَلَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ قَيَّامُ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضِ وَمَنْ فِيهِنَّ ، وَلَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ مَلِكُ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضِ وَمَنْ فِيهِنَّ ، وَلَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ الْحَقُّ ، وَلِقَاؤُكَ حَقٌّ ، وَوَعْدُكَ حَقٌّ ، وَالْجَنَّةُ حَقٌّ ، وَالنَّارُ حَقٌّ ، وَالسَّاعَةُ حَقٌّ ، وَالنَّبِيُّونَ حَقٌّ ، وَمُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَقٌّ ، اللَّهُمَّ بِكَ آمَنْتُ ، وَلَكَ أَسْلَمْتُ ، وَعَلَيْكَ تَوَكَّلْتُ ، وَإِلَيْكَ أَنَبْتُ ، وَبِكَ خَاصَمْتُ ، وَإِلَيْكَ حَاكَمْتُ ، فَاغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ وَمَا أَخَّرْتُ ، وَمَا أَسْرَرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ ، أَنْتَ الْمُقَدِّمُ ، وَأَنْتَ الْمُؤَخِّرُ ، لا إِلَهَ إِلا أَنْتَ ، وَلا إِلَهَ غَيْرُكَ "، قَالَ سُفْيَانُ : وَزَادَ فِيهِ عَبْدُ الْكَرِيمِ : " لا إِلَهَ إِلا أَنْتَ ، وَلا حَوْلَ وَلا قُوَّةَ إِلا بِاللَّهِ " ، قَالَ سُفْيَانُ : فَحَدَّثْتُ بِهِ عَبْدَ الْكَرِيمِ أَبَا أُمَيَّةَ ، فَقَالَ : قُلْ : " أَنْتَ إِلَهِي لا إِلَهَ إِلا أَنْتَ ، وَلا إِلَهَ غَيْرُكَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رات کے وقت جب تہجد کی نماز ادا کرنے کے لیے کھڑے ہوتے تھے، تو یہ پڑھتے تھے: «اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ نُورُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَنْ فِيهِنَّ، وَلَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ قَيِّمُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَنْ فِيهِنَّ، وَلَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ مَلِكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَنْ فِيهِنَّ، وَلَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ الْحَقُّ، وَوَعْدُكَ الْحَقُّ، وَلِقَاؤُكَ حَقٌّ، وَالْجَنَّةُ حَقٌّ، وَالنَّارُ حَقٌّ، وَالسَّاعَةُ حَقٌّ، وَالنَّبِيُّونَ حَقٌّ، وَمُحَمَّدٌ صلی اللہ علیہ وسلم حَقٌّ، اللَّهُمَّ لَكَ أَسْلَمْتُ، وَبِكَ آمَنْتُ، وَعَلَيْكَ تَوَكَّلْتُ، وَإِلَيْكَ أَنَبْتُ، وَبِكَ خَاصَمْتُ، وَإِلَيْكَ حَاكَمْتُ، فَاغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ وَمَا أَخَّرْتُ، وَمَا أَسْرَرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ، أَنْتَ الْمُقَدِّمُ، وَأَنْتَ الْمُؤَخِّرُ، لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ» ”اے اللہ! حمد تیرے ہی لیے مخصوص ہے، تو آسمانوں اور زمین میں موجود ہر چیز کا نور ہے، حمد تیرے لیے مخصوص ہے، تو آسمانوں اور زمین میں موجود ہر چیز کو قائم رکھنے والا ہے۔ حمد تیرے لیے مخصوص ہے، تو آسمانوں اور زمین میں موجود ہر چیز کا بادشاہ ہے، حمد تیرے لیے مخصوص ہے، تو حق ہے، تیری بارگاہ میں حاضری حق ہے، تیرا وعدہ حق ہے، جنت حق ہے، جہنم حق ہے، قیامت حق ہے، انبیاء حق ہیں، سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم حق ہیں، اے اللہ! میں تجھ پر ہی ایمان لایا اور تیرے ہی لیے اسلام قبول کیا، تجھ پر ہی توکل کیا، تیری طرف رجوع کیا، تیری مدد سے میں جھگڑا کرتا ہوں، تجھے ہی ثالث مقرر کرتا ہوں، میں نے جو پہلے کیا، جو بعد میں کروں گا، جو پوشیدہ طور پر کیا، جو علانیہ طور پر کیا ان سب کی مغفرت کر دے، تو ہی آگے کرنے والا ہے، تو ہی پیچھے کرنے والا ہے، صرف تو ہی معبود ہے، تیرے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے۔“ سفیان نامی راوی بیان کرتے ہیں: اس میں عبدالکریم نامی راوی نے یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں: «لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ» ”تیرے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے، اللہ تعالیٰ کی مدد کے بغیر کچھ نہیں ہو سکتا۔“ سفیان نامی راوی کہتے ہیں: میں نے یہ الفاظ عبدالکریم ابوامیہ کے سامنے بیان کیے، تو وہ بولے: تم یہ پڑھو: «أَنْتَ إِلَهِي، لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ» ”تو میرا معبود ہے، صرف تو ہی معبود ہے، تیرے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2597]

2598

Sahih Ibn Hibban #2598

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ الْمَكِّيِّ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَإِذَا قَامَ إِلَى الصَّلاةِ مِنْ جَوْفِ اللَّيْلِ يَقُولُ : اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ ، أَنْتَ نُورُ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضِ ، وَلَكَ الْحَمْدُ ، أَنْتَ قَيَّامُ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضِ ، وَلَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ رَبُّ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضِ وَمَنْ فِيهِنَّ ، أَنْتَ الْحَقُّ ، وَوَعْدُكَ الْحَقُّ ، وَلِقَاؤُكَ حَقٌّ ، وَالْجَنَّةُ حَقٌّ ، وَالنَّارُ حَقٌّ ، وَالسَّاعَةُ حَقٌّ ، اللَّهُمَّ لَكَ أَسْلَمْتُ ، وَبِكَ آمَنْتُ ، وَعَلَيْكَ تَوَكَّلْتُ ، وَإِلَيْكَ أَنَبْتُ ، وَبِكَ خَاصَمْتُ ، وَإِلَيْكَ حَاكَمْتُ ، فَاغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ وَمَا أَخَّرْتُ ، وَمَا أَسْرَرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ ، أَنْتَ إِلَهِي لا إِلَهَ إِلا أَنْتَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب نصف رات کے وقت نماز پڑھنے کے لیے کھڑے ہوتے تھے، تو یہ پڑھتے تھے: «اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ نُورُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ، وَلَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ قَيَّامُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ، وَلَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ رَبُّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَنْ فِيهِنَّ، أَنْتَ الْحَقُّ، وَوَعْدُكَ الْحَقُّ، وَلِقَاؤُكَ حَقٌّ، وَالْجَنَّةُ حَقٌّ، وَالنَّارُ حَقٌّ، وَالسَّاعَةُ حَقٌّ، اللَّهُمَّ لَكَ أَسْلَمْتُ، وَبِكَ آمَنْتُ، وَعَلَيْكَ تَوَكَّلْتُ، وَإِلَيْكَ أَنَبْتُ، وَبِكَ خَاصَمْتُ، وَإِلَيْكَ حَاكَمْتُ، فَاغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ وَمَا أَخَّرْتُ، وَمَا أَسْرَرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ، أَنْتَ إِلَهِي لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ» ”اے اللہ! حمد تیرے لیے مخصوص ہے، تو آسمانوں اور زمین کا نور ہے۔ حمد تیرے لیے مخصوص ہے، تو آسمانوں اور زمین کو قائم رکھنے والا ہے۔ حمد تیرے لیے مخصوص ہے، تو آسمانوں اور زمین میں موجود ہر چیز کا پروردگار ہے۔ تو حق ہے، تیرا وعدہ حق ہے، تیری بارگاہ میں حاضری حق ہے، جنت حق ہے، جہنم حق ہے، قیامت حق ہے۔ اے اللہ! میں نے تیرے لیے اسلام قبول کیا ہے، تجھ پر ایمان لایا، تجھ پر ہی توکل کیا، تیری ہی طرف رجوع کیا، تیری مدد سے میں جھگڑا کرتا ہوں اور تجھے ہی ثالث مقرر کرتا ہوں، میں نے جو پہلے کیا، اور جو بعد میں کروں گا، جو پوشیدہ طور پر کیا، اور جو اعلانیہ طور پر کیا، تو ان سب کی مغفرت کر دے، تو میرا معبود ہے، تیرے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2598]

2599

Sahih Ibn Hibban #2599

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ كَانَإِذَا قَامَ مِنَ اللَّيْلِ كَبَّرَ ، ثُمَّ قَالَ : اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ ، أَنْتَ قَيَّامُ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضِ ، وَلَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ رَبُّ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضِ وَمَنْ فِيهِنَّ ، أَنْتَ حَقٌّ ، وَقَوْلُكَ حَقٌّ ، وَوَعْدُكَ حَقٌّ ، وَلِقَاؤُكَ حَقٌّ ، وَالْجَنَّةُ حَقٌّ ، وَالنَّارُ حَقٌّ ، وَالسَّاعَةُ حَقٌّ ، اللَّهُمَّ لَكَ أَسْلَمْتُ ، وَبِكَ آمَنْتُ ، وَعَلَيْكَ تَوَكَّلْتُ ، وَإِلَيْكَ أَنَبْتُ ، وَإِلَيْكَ حَاكَمْتُ ، وَإِلَيْكَ الْمَصِيرُ ، اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ وَمَا أَخَّرْتُ ، وَمَا أَسْرَرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ ، أَنْتَ إِلَهِي لا إِلَهَ إِلا أَنْتَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم رات کے وقت بیدار ہوتے تھے، تو تکبیر کہتے پھر یہ پڑھتے تھے: «اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ، أَنْتَ قَيِّمُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ، وَلَكَ الْحَمْدُ، أَنْتَ رَبُّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَنْ فِيهِنَّ، أَنْتَ الْحَقُّ، وَقَوْلُكَ الْحَقُّ، وَوَعْدُكَ الْحَقُّ، وَلِقَاؤُكَ الْحَقُّ، وَالْجَنَّةُ حَقٌّ، وَالنَّارُ حَقٌّ، وَالسَّاعَةُ حَقٌّ، اللَّهُمَّ لَكَ أَسْلَمْتُ، وَبِكَ آمَنْتُ، وَعَلَيْكَ تَوَكَّلْتُ، وَإِلَيْكَ أَنَبْتُ، وَبِكَ خَاصَمْتُ، وَإِلَيْكَ حَاكَمْتُ، فَاغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ وَمَا أَخَّرْتُ، وَمَا أَسْرَرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ، أَنْتَ إِلَهِي، لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ» ”اے اللہ! حمد تیرے لیے مخصوص ہے، تو آسمانوں اور زمین کو قائم رکھنے والا ہے۔ حمد تیرے لیے مخصوص ہے، تو آسمانوں اور زمین میں موجود ہر چیز کا پروردگار ہے، تو حق ہے، تیرا فرمان حق ہے، تیرا وعدہ حق ہے، تیری بارگاہ میں حاضری حق ہے، جنت حق ہے، جہنم حق ہے اور قیامت حق ہے۔ اے اللہ! میں نے تیرے ہی لیے اسلام قبول کیا، میں تجھ پر ہی ایمان لایا، میں نے تجھ پر ہی توکل کیا، تیری ہی طرف رجوع کیا، میں نے تیرے ہی ذریعے مقابلہ کیا اور تجھے ہی ثالث (فیصلہ کرنے والا) مانا ہے۔ اے اللہ! میں نے جو پہلے کیا اور جو بعد میں کروں گا، جو پوشیدہ طور پر کیا اور جو علانیہ طور پر کیا، ان سب کے حوالے سے میری مغفرت کر دے، تو ہی میرا معبود ہے، تیرے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2599]

2601

Sahih Ibn Hibban #2601

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ عَاصِمٍ الْعَنَزِيِّ ، عَنِ ابْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ دَخَلَ الصَّلاةَ ، قَالَ : اللَّهُ أَكْبَرُ كَبِيرًا ، اللَّهُ أَكْبَرُ كَبِيرًا ، اللَّهُ أَكْبَرُ كَبِيرًا ، الْحَمْدُ لِلَّهِ كَثِيرًا ، الْحَمْدُ لِلَّهِ كَثِيرًا ، الْحَمْدُ لِلَّهِ كَثِيرًا ، سُبْحَانَ اللَّهِ بُكْرَةً وَأَصِيلا ، سُبْحَانَ اللَّهِ بُكْرَةً وَأَصِيلا ، سُبْحَانَ اللَّهِ بُكْرَةً وَأَصِيلا ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الشَّيْطَانِ ، مِنْ هَمْزِهِ وَنَفْثِهِ وَنَفْخِهِ "، قَالَ عَمْرٌو : وَهَمْزُهُ : الْمُوتَةُ ، وَنَفْخُهُ : الْكِبْرُ ، وَنَفْثُهُ : الشِّعْرُ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز شروع کی تو یہ پڑھا: ” «اللَّهُ أَكْبَرُ كَبِيرًا» ”اللہ تعالیٰ سب سے بڑا ہے، وہ بڑا ہے“، «اللَّهُ أَكْبَرُ كَبِيرًا» ”اللہ تعالیٰ سب سے بڑا ہے، وہ بڑا ہے“، «اللَّهُ أَكْبَرُ كَبِيرًا» ”اللہ تعالیٰ سب سے بڑا ہے، وہ بڑا ہے“، «وَالْحَمْدُ لِلَّهِ كَثِيرًا» ”ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص ہے، جو زیادہ ہو“، «وَسُبْحَانَ اللَّهِ بُكْرَةً وَأَصِيلًا» ”میں ہر صبح و شام اللہ تعالیٰ کے ہر عیب سے پاک ہونے کو بیان کرتا ہوں“، «وَسُبْحَانَ اللَّهِ بُكْرَةً وَأَصِيلًا» ”میں ہر صبح و شام اللہ تعالیٰ کے ہر عیب سے پاک ہونے کو بیان کرتا ہوں“، «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الشَّيْطَانِ مِنْ هَمْزِهِ وَنَفْخِهِ وَنَفْثِهِ» ”اے اللہ! میں شیطان سے اس کے ”ہمز“ اور اس کے ”نفث“ سے اور اس کے ”نفخ“ سے پناہ مانگتا ہوں۔““ عمرو نامی راوی کہتے ہیں: ہمز سے مراد مرگی، اس کے ”نفخ“ سے مراد تکبر اور اس کے ”نفث“ سے مراد شعر کہنا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2601]

2602

Sahih Ibn Hibban #2602

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ ، عَنْ أَزْهَرَ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ حُمَيْدٍ ، أَنَّهُ سَأَلَ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : قُلْتُ : مَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَفْتِحُ بِهِ إِذَا قَامَ مِنَ اللَّيْلِ ؟ قَالَتْ : لَقَدْ سَأَلْتَنِي عَنْ شَيْءٍ مَا سَأَلَنِي عَنْهُ أَحَدٌ قَبْلَكَ ، كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَفْتِحُإِذَا قَامَ مِنَ اللَّيْلِ يُصَلِّي : يَبْدَأُ فَيُكَبِّرُ عَشْرًا ، ثُمَّ يُسَبِّحُ عَشْرًا ، وَيَحْمَدُ عَشْرًا ، وَيُهَلِّلُ عَشْرًا ، وَيَسْتَغْفِرُ عَشْرًا ، وَقَالَ : اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي ، وَاهْدِنِي ، وَارْزُقْنِي عَشْرًا ، وَيَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ ضِيقِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ عَشْرًا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عاصم بن حمید رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے سوال کیا، وہ کہتے ہیں: میں نے دریافت کیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب رات کے نوافل پڑھنے کے لیے کھڑے ہوتے تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کس چیز سے آغاز کرتے تھے؟ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ”تم نے مجھ سے ایک ایسی چیز کے بارے میں دریافت کیا ہے کہ تم سے پہلے کسی نے بھی مجھ سے اس بارے میں دریافت نہیں کیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب رات کے وقت نوافل ادا کرنے کے لیے کھڑے ہوتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پہلے دس مرتبہ «اللّٰهُ أَكْبَرُ» ”اللہ سب سے بڑا ہے“ کہتے تھے، پھر دس مرتبہ «سُبْحَانَ اللّٰهِ» ”اللہ پاک ہے“ کہتے تھے، دس مرتبہ «الْحَمْدُ لِلّٰهِ» ”تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں“ کہتے تھے، پھر دس مرتبہ «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ» ”اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں“ پڑھتے تھے۔ پھر دس مرتبہ استغفار پڑھتے تھے اور یہ کہتے تھے: «اللّٰهُمَّ اغْفِرْ لِي وَاهْدِنِي وَارْزُقْنِي وَعَافِنِي» ”اے اللہ! میری مغفرت فرما، مجھے ہدایت دے، مجھے رزق عطا کر اور مجھے عافیت دے۔“ یہ بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم دس مرتبہ پڑھتے تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم دس مرتبہ «اللّٰهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ ضِيقِ الْمَقَامِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ» ”اے اللہ! میں قیامت کے دن کی تنگی سے تیری پناہ مانگتا ہوں“ کہہ کر اللہ کی پناہ مانگتے تھے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2602]

2603

Sahih Ibn Hibban #2603

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ سَعِيدٍ السَّعْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ زَائِدَةَ بْنِ نَشِيطٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي خَالِدٍ الْوَالِبِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ كَانَإِذَا قَامَ مِنَ اللَّيْلِ رَفَعَ صَوْتَهُ طَوْرًا "، وَيَذْكُرُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَفْعَلُهُ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں منقول ہے کہ جب وہ رات کے وقت نوافل ادا کرتے تھے تو وہ اپنی آواز کو کچھ بلند کیا کرتے تھے اور وہ یہ بات ذکر کرتے تھے کہ ”نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بھی اسی طرح کیا کرتے تھے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2603]

2604

Sahih Ibn Hibban #2604

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ يُوسُفَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ ، عَنِ الْمُسْتَوْرِدِ بْنِ الأَحْنَفِ ، عَنْ صِلَةَ بْنِ زُفَرَ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ : صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ ، فَمَا مَرَّ بِآيَةِ رَحْمَةٍ إِلا وَقَفَ عِنْدَهَا وَسَأَلَ ، وَلا مَرَّ بِآيَةِ عَذَابٍ إِلا وَقَفَ عِنْدَهَا وَتَعَوَّذَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک رات میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتدا میں نماز ادا کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب بھی کسی ایسی آیت کی تلاوت کرتے جس میں رحمت کا مضمون ہوتا تو وہاں ٹھہر کر اس رحمت کا سوال کرتے تھے اور جب بھی کسی ایسی آیت کی تلاوت کرتے جس میں عذاب کا ذکر ہوتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں ٹھہر کر اس سے پناہ مانگتے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2604]

2605

Sahih Ibn Hibban #2605

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ يُوسُفَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ الْعَسْكَرِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ ، عَنِ الْمُسْتَوْرِدِ بْنِ الأَحْنَفِ ، عَنْ صِلَةَ بْنِ زُفَرَ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ : صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ ، فَمَا مَرَّ بِآيَةِ رَحْمَةٍ إِلا وَقَفَ عِنْدَهَا فَسَأَلَ ، وَلا مَرَّ بِآيَةِ عَذَابٍ إِلا وَقَفَ عِنْدَهَا وَتَعَوَّذَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے ایک رات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتدا میں نماز ادا کی تو آپ جب بھی رحمت کے مضمون والی آیت پر پہنچتے تو وہاں آپ ٹھہر کر اس رحمت کا سوال کرتے تھے اور جب بھی عذاب کے مضمون والی آیت پڑھتے تو وہاں ٹھہر کر اس عذاب سے پناہ مانگا کرتے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2605]

2606

Sahih Ibn Hibban #2606

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، بِعَسْقَلانَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ الْحَرَّانِيُّ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِذَا قَامَ أَحَدُكُمْ مِنَ اللَّيْلِ فَلْيَبْدَأْ بِرَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”جب کوئی رات کے وقت بیدار ہو، تو اسے آغاز میں دو مختصر رکعات ادا کرنی چاہییں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2606]

2607

Sahih Ibn Hibban #2607

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخٍ ، حَدَّثَنَا مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ ، حَدَّثَنَا وَاصِلٌ الأَحْدَبُ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، قَالَ : غَدَوْنَا عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ يَوْمًا بَعْدَمَا صَلَّيْنَا الْغَدَاةَ ، فَسَلَّمْنَا بِالْبَابِ ، فَأَذِنَ لَنَا ، فَمَكَثْنَا هُنَيْهَةً ، فَخَرَجَتِ الْخَادِمُ ، فَقَالَتْ : أَلا تَدْخُلُونَ ؟ قَالَ : فَدَخَلْنَا ، فَإِذَا هُوَ جَالِسٌ يُسَبِّحُ ، فَقَالَ : مَا مَنَعَكُمْ أَنْ تَدْخُلُوا وَقَدْ أُذِنَ لَكُمْ ؟ فَقَالُوا : لا ، إِلا أَنَّا ظَنَنَّا أَنَّ بَعْضَ أَهْلِ الْبَيْتِ نَائِمٌ ، قَالَ : ظَنَنْتُمْ بِآلِ أُمِّ عَبْدٍ غَفْلَةً ، ثُمَّ أَقْبَلَ يُسَبِّحُ حَتَّى ظَنّ أَنَّ الشَّمْسَ قَدْ طَلَعَتْ ، قَالَ : يَا جَارِيَةُ ، انْظُرِي هَلْ طَلَعَتْ ؟ قَالَ : فَنَظَرَتْ فَإِذَا هِيَ قَدْ طَلَعَتْ ، فَقَالَ : الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَقَالَنَا يَوْمَنَا هَذَا ، قَالَ مَهْدِيٌّ : وَأَحْسَبُهُ قَالَ : وَلَمْ يُهْلِكْنَا بِذُنُوبِنَا ، قَالَ : فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ : قَرَأْتُ الْمُفَصَّلَ الْبَارِحَةَ كُلَّهُ ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : هَذًّا كَهَذِّ الشِّعْرِ ، إِنِّي لأَحْفَظُالْقَرَائِنَ الَّتِي كَانَ يَقْرَؤُهُنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَمَانِيَةَ عَشَرَ مِنَ الْمُفَصَّلِ ، وَسُورَتَيْنِ مِنْ آلِ حم """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابووائل بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ ہم صبح کی نماز ادا کرنے کے بعد سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے، ہم نے انہیں دروازے پر سلام کہا اور انہوں نے ہمیں اندر آنے کی اجازت دی، ہم تھوڑی دیر ٹھہرے رہے۔ خادمہ باہر آئی، اس نے دریافت کیا: آپ لوگ اندر کیوں نہیں آتے؟ راوی کہتے ہیں: ہم لوگ اندر گئے، تو سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیٹھے ہوئے تھے اور تسبیح پڑھ رہے تھے۔ انہوں نے فرمایا: جب تم لوگوں کو اجازت مل گئی تھی، تو تم لوگ اندر کیوں نہیں آئے۔ ان لوگوں نے کہا: جی نہیں، ہم یہ گمان کر رہے تھے کہ اہل خانہ میں سے کچھ لوگ سوئے ہوئے ہوں گے۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کیا تم نے ام عبد کے گھرانے کے بارے میں غفلت کا گمان کیا تھا؟ پھر وہ تسبیح پڑھنے کی طرف متوجہ ہو گئے، یہاں تک کہ جب انہوں نے یہ گمان کیا کہ سورج نکل آیا ہو گا، تو انہوں نے فرمایا: اے لڑکی! تم جا کر دیکھو، کیا سورج نکل آیا ہے؟ راوی کہتے ہیں: اس لڑکی نے دیکھا تو وہ نکل چکا تھا، تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: «الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِي أَقَالَنَا يَوْمَنَا هَذَا» ”ہر طرح کی حمد اللہ کے لیے مخصوص ہے، جس نے ہمیں یہ دن بھی عطا کیا ہے“۔ مہدی نامی راوی نے یہ بات بیان کی ہے، میرا خیال ہے روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں: «وَلَمْ يُهْلِكْنَا بِذُنُوبِنَا» ”ہمارے گناہوں کی وجہ سے ہمیں ہلاک نہیں کیا ہے“۔ حاضرین میں سے ایک صاحب نے گزارش کی: گزشتہ رات میں نے تمام مفصل سورتوں کی تلاوت کی، تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: یہ تو شعر پڑھنے کی طرح تیزی سے پڑھنا ہوا، مجھے ایک دوسرے کے قریب قریب کی وہ سورتیں یاد ہیں، جنہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تلاوت کیا کرتے تھے، وہ مفصل سورتوں سے تعلق رکھنے والی اٹھارہ سورتیں ہیں اور آل حم سے تعلق رکھنے والی دو سورتیں ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2607]

2608

Sahih Ibn Hibban #2608

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَيْسِ بْنِ مَخْرَمَةَ ، ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ ، أَنَّهُ قَالَ : لأَرْمُقَنَّ صَلاةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللَّيْلَةَ ، قَالَ : فَتَوَسَّدْتُ عَتَبَتَهُ ، أَوْ فُسْطَاطَهُ ، فَقَامَفَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ ، ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ طَوِيلَتَيْنِ طَوِيلَتَيْنِ طَوِيلَتَيْنِ ، ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ دُونَ اللَّتَيْنِ قَبْلَهُمَا ، ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ دُونَ اللَّتَيْنِ قَبْلَهُمَا ، ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ دُونَ اللَّتَيْنِ قَبْلَهُمَا ، ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ دُونَ اللَّتَيْنِ قَبْلَهُمَا ، ثُمَّ أَوْتَرَ ، فَذَلِكَ ثَلاثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے یہ سوچا: آج رات میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کا جائزہ لوں گا۔ وہ کہتے ہیں: میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی چوکھٹ پر (شاید یہ الفاظ ہیں) آپ کے خیمہ کے باہر ٹیک لگا کر بیٹھ گیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو مختصر رکعات ادا کیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعات ادا کیں جو لمبی تھیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعات ادا کیں جو ان سے پہلے کی دو رکعات سے کچھ کم تھیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعات ادا کیں جو ان سے پہلے کی دو رکعات سے کچھ کم تھیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعات ادا کیں جو ان کی دو رکعات سے کچھ کم تھیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وتر ادا کیے، تو یہ تیرہ رکعات ہو گئیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2608]

2609

Sahih Ibn Hibban #2609

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ ، عَنِ الْمُسْتَوْرِدِ بْنِ الأَحْنَفِ ، عَنْ صِلَةَ بْنِ زُفَرَ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ : صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ ،فَافْتَتَحَ سُورَةَ الْبَقَرَةِ ، فقلت : يَقْرَأُ مِائَةَ آيَةٍ ثُمَّ يَرْكَعُ ، فَمَضَى ، فَقُلْتُ : يَخْتِمُهَا فِي الرَّكْعَتَيْنِ ، فَمَضَى ، فَقُلْتُ : يَخْتِمُهَا ثُمَّ يَرْكَعُ ، فَمَضَى حَتَّى قَرَأَ سُورَةَ النِّسَاءِ ، ثُمَّ آلِ عِمْرَانَ ، ثُمَّ رَكَعَ نَحْوًا مِنْ قِيَامِهِ ، يَقُولُ : سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيمِ ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ ، فَقَالَ : سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ ، اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ ، فَأَطَالَ الْقِيَامَ ، ثُمَّ سَجَدَ فَأَطَالَ السُّجُودَ ، ثُمَّ يَقُولُ فِي سُجُودِهِ : سُبْحَانَ رَبِّيَ الأَعْلَى ، لا يَمُرُّ بِآيَةِ تَخْوِيفٍ أَوْ تَعْظِيمٍ إِلا ذَكَرَهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک رات میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں نماز ادا کی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سورہ بقرہ کی تلاوت شروع کی، میں نے سوچا آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک سو آیات کی تلاوت کر کے رکوع میں چلے جائیں گے لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسلسل تلاوت کرتے رہے، میں نے سوچا دو رکعات میں یہ سورہ پوری پڑھ لیں گے لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسلسل تلاوت کرتے رہے، میں نے سوچا آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ سورہ مکمل کر کے پھر رکوع میں جائیں گے لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسلسل تلاوت کرتے رہے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سورہ نساء کی تلاوت شروع کی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سورہ آل عمران بھی پڑھ لی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم رکوع میں گئے اور تقریباً اتنی دیر رکوع میں رہے جتنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قیام کیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس میں «سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيمِ» ”پاک ہے میرا رب جو بہت عظمت والا ہے“ پڑھتے رہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سر اٹھایا، «سَمِعَ اللّٰهُ لِمَنْ حَمِدَهُ» ”اللہ نے اس کی بات سن لی جس نے اس کی تعریف کی“، «رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ» ”اے ہمارے رب! اور تیرے ہی لیے تمام تعریفیں ہیں“ پڑھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اتنا طویل قیام کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدے میں گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدے کو طول دیا، سجدے میں «سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلَىٰ» ”پاک ہے میرا رب جو سب سے بلند ہے“ پڑھتے رہے۔ (اس تلاوت کے دوران) آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب بھی خوف دلانے یا عظمت کے اظہار والی کسی آیت کی تلاوت کرتے تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کا ذکر کیا کرتے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2609]