Muslim99Muslim99

Sahih Ibn Hibban · Book 23 · Chapter 1

Book of Hudud

Hadith 2496–2535

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

2496

Sahih Ibn Hibban #2496

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ ذَرِيحٍ ، بِعُكْبَرَا ، أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ جَوَّاسٍ الْحَنَفِيُّ ، حَدَّثَنَا الأَشْجَعِيُّ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : كَانَلِي دَيْنٌ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَضَانِي وَزَادَنِي ، فَدَخَلْتُ عَلَيْهِ الْمَسْجِدَ ، فَقَالَ لِي : صَلِّ رَكْعَتَيْنِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ وصولی کرنی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ مجھے ادا فرمائی اور کچھ مزید ادائیگی بھی کی، میں مسجد میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”تم دو رکعتیں ادا کر لو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2496]

2497

Sahih Ibn Hibban #2497

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ ، حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سُلَيْمٍ الزُّرَقِيِّ ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ السُّلَمِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : إِذَا جَاءَ أَحَدُكُمُ الْمَسْجِدَ فَلْيُصَلِّ سَجْدَتَيْنِ قَبْلَ أَنْ يَجْلِسَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوقتادہ سلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”جب کوئی شخص مسجد میں آئے، تو اسے بیٹھنے سے پہلے دو رکعات ادا کر لینی چاہیے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2497]

2498

Sahih Ibn Hibban #2498

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مَعْشَرٍ ، بِحَرَّانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَارِثِ الْحَرَّانِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحِيمِ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سُلَيْمٍ الأَنْصَارِيِّ ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : إِذَا دَخَلَ أَحَدُكُمُ الْمَسْجِدَ فَلْيُصَلِّ رَكْعَتَيْنِ قَبْلَ أَنْ يَجْلِسَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جب کوئی شخص مسجد میں آئے، تو اسے بیٹھنے سے پہلے دو رکعات ادا کر لینی چاہیے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2498]

2499

Sahih Ibn Hibban #2499

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سُلَيْمٍ ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : إِذَا دَخَلَ أَحَدُكُمُ الْمَسْجِدَ فَلْيَرْكَعْ رَكْعَتَيْنِ قَبْلَ أَنْ يَجْلِسَ أَوْ يَسْتَخْبِرَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جب کوئی شخص مسجد میں آئے، تو اسے بیٹھنے سے پہلے دو رکعات ادا کر لینی چاہیے“ (یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے)۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2499]

2500

Sahih Ibn Hibban #2500

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، وأبي سفيان ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالا : دَخَلَ سُلَيْكٌ الْغَطَفَانِيُّ الْمَسْجِدَ ، وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ ،فَأَمَرَهُ أَنْ يُصَلِّيَ رَكْعَتَيْنِ "، تَفَرَّدَ بِهِ حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ ، وَهُوَ قَاضِي الْكُوفَةِ ، قَالَهُ الشَّيْخُ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ اور سیدنا جابر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: سیدنا سلیک غطفانی رضی اللہ عنہ مسجد میں داخل ہوئے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت خطبہ دے رہے تھے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ہدایت کی کہ ”وہ دو رکعات نماز ادا کر لیں۔“ اس روایت کو نقل کرنے میں حفص نامی راوی منفرد ہے، یہ کوفہ کے قاضی تھے، یہ بات شیخ نے بیان کی ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2500]

2501

Sahih Ibn Hibban #2501

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُمَيْرِ بْنِ جَوْصَا ، بِدِمَشْقَ ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى الصُّوفِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ الطَّائِيُّ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ قَالَ : دَخَلَ رَجُلٌ الْمَسْجِدَ ، وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ ، فَقَالَ لَهُ صَلِّ رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ قَبْلَ أَنْ تَجْلِسَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص مسجد میں داخل ہوا، اس وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن خطبہ دے رہے تھے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: ”وہ بیٹھنے سے پہلے دو رکعات مختصر طور پر ادا کر لے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2501]

2502

Sahih Ibn Hibban #2502

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ سَعِيدٍ السَّعْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عِيسَى ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : جَاءَ سُلَيْكٌ الْغَطَفَانِيُّ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ فَجَلَسَ ، فَقَالَ لَهُ يَا سُلَيْكُ ، قُمْ فَارْكَعْ رَكْعَتَيْنِ ، وَتَجَوَّزْ فِيهِمَا " ، ثُمَّ قَالَ :" إِذَا جَاءَ أَحَدُكُمْ يَوْمَ الْجُمُعَةِ ، وَالإِمَامُ يَخْطُبُ ، فَلْيَرْكَعْ رَكْعَتَيْنِ ، وَلْيَتَجَوَّزْ فِيهِمَا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا سلیک غطفانی رضی اللہ عنہ جمعہ کے دن آئے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت خطبہ دے رہے تھے، وہ بیٹھ گئے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”اے سلیک! اٹھو اور دو رکعات ادا کر لو اور انہیں مختصر ادا کرنا۔“ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی: ”تم میں سے کوئی ایک شخص جمعہ کے دن آئے اور امام اس وقت خطبہ دے رہا ہو، تو اسے (بیٹھنے سے پہلے) دو رکعات ادا کر لینی چاہئیں اور انہیں مختصر ادا کرنا چاہیے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2502]

2503

Sahih Ibn Hibban #2503

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى الْقَطَّانُ ، عَنِ ابْنِ عَجْلانَ ، حَدَّثَنِي عِيَاضٌ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ : أَنَّ رَجُلا دَخَلَ الْمَسْجِدَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ ، وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ ،فَدَعَاهُ فَأَمَرَهُ أَنْ يُصَلِّيَ رَكْعَتَيْنِ ، ثُمَّ دَخَلَ الْجُمُعَةَ الثَّانِيَةَ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ ، فَدَعَاهُ فَأَمَرَهُ أَنْ يُصَلِّيَ رَكْعَتَيْنِ ، ثُمَّ دَخَلَ الْجُمُعَةَ الثَّالِثَةَ ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ ، فَدَعَاهُ فَأَمَرَهُ أَنْ يُصَلِّيَ رَكْعَتَيْنِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص جمعہ کے دن مسجد میں داخل ہوا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت منبر پر موجود تھے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بلایا اور یہ ہدایت کی: ”وہ دو رکعات ادا کر لے“، پھر وہ شخص اگلے جمعے داخل ہوا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت بھی منبر پر تشریف فرما تھے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بلایا اور اسے یہ ہدایت کی: ”وہ دو رکعات ادا کر لے“، پھر وہ تیسرے جمعے مسجد میں آیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت بھی منبر پر تشریف فرما تھے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بلایا اور اسے یہ ہدایت کی: ”وہ دو رکعات ادا کر لے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2503]

2504

Sahih Ibn Hibban #2504

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ الشَّرْقِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الأَزْهَرِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبَانُ بْنُ صَالِحٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : دَخَلَ سُلَيْكٌ الْغَطَفَانِيُّ الْمَسْجِدَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ النَّاسَ ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : ارْكَعْ رَكْعَتَيْنِ ، وَلا تَعُودَنَّ لِمِثْلِ هَذَا " ، فَرَكَعَهُمَا ثُمَّ جَلَسَ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لا تَعُودَنَّ لِمِثْلِ هَذَا " أَرَادَ الإِبْطَاءَ فِي الْمَجِيءِ إِلَى الْجُمُعَةِ ، لا الرَّكْعَتَيْنِ اللَّتَيْنِ أُمِرَ بِهِمَا ، وَالدَّلِيلُ عَلَى صِحَّةِ هَذَا خَبَرُ ابْنِ عَجْلانَ الَّذِي تَقَدَّمَ ذِكْرُنَا لَهُ أَنَّهُ أَمَرَهُ فِي الْجُمُعَةِ الثَّانِيَةِ أَنْ يَرْكَعَ رَكْعَتَيْنِ مِثْلَهُمَا"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ سیدنا سلیک غطفانی رضی اللہ عنہ جمعہ کے دن مسجد میں آئے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت لوگوں کو خطبہ دے رہے تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”تم دو رکعت ادا کر لو اور آئندہ اس طرح کی حرکت نہ کرنا۔“ راوی کہتے ہیں: انہوں نے دو رکعتیں ادا کیں اور بیٹھ گئے۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان: ”تم اس طرح دوبارہ نہ کرنا“ اس سے مراد جمعہ کی طرف آنے میں تاخیر کرنا ہے، اس سے یہ مراد نہیں ہے کہ ان دو رکعتوں کو دوبارہ ادا کرنے سے منع کیا جا رہا ہے جن کے بارے میں حکم دیا گیا تھا، اور اس کے صحیح ہونے کی دلیل ابن عجلان کی نقل کردہ وہ روایت ہے جو اس سے پہلے ہم ذکر کر چکے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسرے جمعہ میں انہیں یہ حکم دیا تھا کہ وہ اسی طرح دو رکعت ادا کر لیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2504]

2505

Sahih Ibn Hibban #2505

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنِ ابْنِ عَجْلانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عِيَاضُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنَّ رَجُلا دَخَلَ الْمَسْجِدَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ ، فَدَعَاهُ فَأَمَرَهُ أَنْ يُصَلِّيَ رَكْعَتَيْنِ ، ثُمَّ قَالَ تَصَدَّقُوا " ، فَتَصَدَّقُوا ، فَأَعْطَاهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَوْبَيْنِ مِمَّا تَصَدَّقُوا ، وَقَالَ : " تَصَدَّقُوا " ، فَأَلْقَى هُوَ أَحَدَ ثَوْبَيْهِ ، فَكَرِهَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا صَنَعَ وَقَالَ :" انْظُرُوا إِلَى هَذَا ، دَخَلَ الْمَسْجِدَ بِهَيْئَةٍ بَذَّةٍ ، فَرَجَوْتُ أَنْ تَفْطِنُوا لَهُ ، فَتَصَدَّقُوا عَلَيْهِ ، فَلَمْ تَفْعَلُوا ، فَقُلْتُ : تَصَدَّقُوا ، فَأَعْطَوْهُ ثَوْبَيْنِ ، ثُمَّ قُلْتُ : تَصَدَّقُوا ، فَأَلْقَى أَحَدَ ثَوْبَيْهِ ، خُذْ ثَوْبَكَ " ، وَانْتَهَرَهُ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " خُذْ ثَوْبَكَ " ، لَفْظَةُ أَمْرٍ بِأَخْذِ الثَّوْبِ مُرَادُهَا الزَّجْرُ عَنْ ضِدِّهِ وَهُوَ بَذْلُ الثَّوْبِ ، وَفِي هَذَا دَلِيلٌ عَلَى أَنَّ الْمَرْءَ إِذَا أَخْرَجَ شَيْئًا لِلصَّدَقَةِ فَمَا لَمْ يَقَعْ فِي يَدِ الْمُتَصَدِّقِ بِهِ عَلَيْهِ لَهُ أَنْ يَرْجِعَ فِيهِ ، وَفِيهِ دَلِيلٌ عَلَى أَنَّ الْمَرْءَ غَيْرُ مُسْتَحَبٍّ لَهُ أَنْ يَتَصَدَّقَ بِمَالِهِ كُلِّهِ إِلا عِنْدَ الْفَضْلِ عَنْ نَفْسِهِ وَعَمَّنْ يَقُوتُهُ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص جمعہ کے دن مسجد میں داخل ہوا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت منبر پر موجود تھے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بلایا اور اسے یہ حکم دیا کہ وہ دو رکعات ادا کر لے، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم لوگ صدقہ کرو۔“ انہوں نے صدقہ کیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کے دیے ہوئے صدقے سے دو کپڑے اس شخص کو دیے، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم لوگ صدقہ کرو۔“ تو اس شخص نے دو کپڑوں میں سے ایک کپڑا پیش کر دیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کا یہ عمل اچھا نہیں لگا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اس شخص کی طرف دیکھو، یہ بری حالت میں مسجد میں آیا تھا، مجھے یہ امید تھی کہ تم لوگ اس کی حالت کا اندازہ لگا کر اس کو صدقہ دے دو گے لیکن تم لوگوں نے ایسا نہیں کیا، تو میں نے کہا کہ تم لوگ صدقہ دو، پھر لوگوں نے اسے دو کپڑے صدقہ دیے، پھر میں نے کہا کہ تم لوگ صدقہ دو، تو اس نے ان دو کپڑوں میں سے ایک کو پیش کر دیا۔“ (پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کو فرمایا:) ”تم اپنا کپڑا لے لو۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر ناراضی کا اظہار کیا۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ”تم اپنے کپڑے حاصل کر لو“ یہاں لفظی طور پر کپڑے حاصل کرنے کا حکم ہے لیکن اس سے مراد اس کی برعکس صورت حال سے منع کرنا ہے اور وہ اپنے کپڑے کو (اللہ کی راہ میں) دینا ہے، اس روایت میں اس بات کی دلیل موجود ہے کہ جب کوئی شخص صدقہ کرنے کے لیے کوئی چیز نکالتا ہے اور ابھی وہ اس شخص کے ہاتھ میں نہیں گئی جسے وہ صدقے کے طور پر دینی تھی، تو اس شخص کو اسے واپس لینے کا اختیار ہو گا، اس میں اس بات کی بھی دلیل موجود ہے کہ آدمی کے لیے یہ بات مستحب نہیں ہے کہ وہ اپنے سارے مال کو صدقہ کر دے البتہ اس کے پاس اپنی ذات اور اپنی خوراک کے علاوہ اضافی مال موجود ہو، تو (وہ اسے خرچ کر سکتا ہے)۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2505]

2506

Sahih Ibn Hibban #2506

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُخَالِطُنَا كَثِيرًا حَتَّى إِنْ كَانَ لَيَقُولُ لأَخٍ لِي صَغِيرٍ : يَا أَبَا عُمَيْرٍ ،مَا فَعَلَ النُّغَيْرُ ؟ " وَحَضَرَتِ الصَّلاةُ ، فَنَضَحْنَا بُسَاطًا لَنَا ، فَصَلَّى عَلَيْهِ وَصَفَفْنَا خَلْفَهُ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : قَوْلُ أَنَسٍ : وَحَضَرَتِ الصَّلاةُ ، أَرَادَ بِهِ وَقْتَ صَلاةِ السُّبْحَةِ ، إِذِ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ لا يُصَلِّي صَلاةَ الْفَرِيضَةِ جَمَاعَةً فِي دَارِ أَنْصَارِيٍّ دُونَ مَسْجِدِ الْجَمَاعَةِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے ساتھ گھل مل جایا کرتے تھے یہاں تک کہ میرے چھوٹے بھائی سے فرماتے تھے: ”اے ابوعمیر! تمہاری چڑیا کا کیا حال ہے؟“ جب نماز کا وقت ہوا تو ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے اپنی چٹائی بچھا دی، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر نماز ادا کی اور ہم نے آپ کے پیچھے نماز ادا کی۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) سیدنا انس رضی اللہ عنہ کا یہ کہنا کہ ”نماز کا وقت ہو گیا تھا“ اس سے مراد یہ ہے کہ نفل نماز کا وقت ہوا تھا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرض نماز جماعت کے ساتھ کسی انصاری کے گھر ادا نہیں کرتے تھے جو باجماعت نماز والی مسجد کے علاوہ ہو۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2506]

2507

Sahih Ibn Hibban #2507

وَكَانَأَحَبَّ الْعَمَلِ إِلَيْهِ مَا دَاوَمَ عَلَيْهِ الْعَبْدُ وَإِنْ كَانَ يَسِيرًا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ وصال کے قریب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم زیادہ نمازیں بیٹھ کر ادا کیا کرتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک پسندیدہ عمل وہ تھا جسے بندہ باقاعدگی کے ساتھ کرے اگرچہ وہ تھوڑا ہو۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2507]

2508

Sahih Ibn Hibban #2508

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الأَنْصَارِيُّ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ أَبِي وَدَاعَةَ ، عَنْ حَفْصَةَ ، قَالَتْ : مَا رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى فِي سُبْحَتِهِ جَالِسًا قَطُّ ، حَتَّى كَانَ قَبْلَ وَفَاتِهِ بِعَامٍ ، فَكَانَ يُصَلِّي فِي سُبْحَتِهِ جَالِسًا ، فَيَقْرَأُ السُّورَةَ فَيُرَتِّلُهَا حَتَّى تَكُونَ أَطْوَلَ مِنْ أَطْوَلَ مِنْهَا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو کبھی بھی نفل نماز بیٹھ کر ادا کرتے ہوئے نہیں دیکھا، یہاں تک کہ آپ کے وصال سے ایک سال پہلے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نفل نمازیں بیٹھ کر ادا کیا کرتے تھے، اگر کسی سورہ کی تلاوت کرتے تھے تو اسے ٹھہر ٹھہر کر پڑھتے تھے، یہاں تک کہ وہ اپنی سے بڑی سورہ سے زیادہ طویل محسوس ہوتی تھی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2508]

2509

Sahih Ibn Hibban #2509

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَيُصَلِّي وَهُوَ جَالِسٌ بَعْدَمَا دَخَلَ فِي السِّنِّ ، وَكَانَ إِذَا بَقِيَ عَلَيْهِ مِنَ السُّورَةِ ثَلاثُونَ آيَةً قَامَ فَقَرَأَهَا ، ثُمَّ رَكَعَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عمر رسیدہ ہو جانے کے بعد بیٹھ کر نفل نماز ادا کیا کرتے تھے، جب کسی سورت کی تیس آیات باقی رہ جاتی تھیں، تو پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو کر ان کی تلاوت کرتے تھے، پھر رکوع میں جاتے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2509]

2510

Sahih Ibn Hibban #2510

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ النَّرْسِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا وُهَيْبُ بْنُ خَالِدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَ : سَأَلْتُهَا عَنْ صَلاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَيُصَلِّي لَيْلا طَوِيلا قَاعِدًا ، وَلَيْلا طَوِيلا قَائِمًا ، فَإِذَا صَلَّى قَاعِدًا رَكَعَ قَاعِدًا ، وَإِذَا صَلَّى قَائِمًا رَكَعَ قَائِمًا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبداللہ بن شقیق رحمہ اللہ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے بیان کرتے ہیں کہ میں نے ان سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رات کے وقت بیٹھ کر طویل نماز ادا کرتے تھے اور کھڑے ہو کر طویل نماز ادا کرتے تھے؛ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ کر نماز ادا کرتے تھے تو بیٹھے ہوئے ہی رکوع میں چلے جاتے تھے اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو کر نماز ادا کرتے تھے تو قیام کی حالت میں رکوع میں جاتے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2510]

2511

Sahih Ibn Hibban #2511

أَخْبَرَنَا ابْنُ خُزَيْمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ التُّسْتَرِيِّ ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ الْعُقَيْلِيِّ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَيُصَلِّي قَائِمًا وَقَاعِدًا ، فَإِذَا افْتَتَحَ الصَّلاةَ قَائِمًا رَكَعَ قَائِمًا ، وَإِذَا افْتَتَحَ الصَّلاةَ قَاعِدًا رَكَعَ قَاعِدًا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو کر بھی اور بیٹھ کر بھی نماز ادا کر لیتے تھے؛ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو کر نماز کا آغاز کرتے تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم قیام کی حالت میں ہی رکوع میں جاتے تھے اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ کر نماز ادا کرتے تھے، تو بیٹھے ہوئے ہی رکوع میں چلے جاتے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2511]

2512

Sahih Ibn Hibban #2512

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ يُوسُفَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمُخَرِّمِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الْحَفَرِيُّ ، عَنْ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَصَلَّى مُتَرَبِّعًا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم چار زانوں بیٹھ کر نماز ادا کرتے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2512]

2513

Sahih Ibn Hibban #2513

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ حَمَّادٍ سَجَّادَةُ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ حُسَيْنٍ الْمُعَلِّمِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، ، أَنَّهُ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الصَّلاةِ قَاعِدًا ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : صَلِّ قَائِمًا ، فَهُوَ أَفْضَلُ ، وَمَنْ صَلَّى قَاعِدًا فَلَهُ نِصْفُ أَجْرِ الْقَائِمِ ، وَمَنْ صَلَّى نَائِمًا فَلَهُ نِصْفُ أَجْرِ الْقَاعِدِ "، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : هَذَا إِسْنَادٌ قَدْ تَوَهَّمَ مَنْ لَمْ يُحْكِمْ صِنَاعَةَ الأَخْبَارِ ، وَلا تَفَقَّهَ فِي صَحِيحِ الآثَارِ ، أَنَّهُ مُنْفَصِلٌ غَيْرُ مُتَّصِلٍ ، وَلَيْسَ كَذَلِكَ ، لأَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ بُرَيْدَةَ وُلِدَ فِي السَّنَةِ الثَّالِثَةِ مِنْ خِلافَةِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ سَنَةَ خَمْسَ عَشْرَةَ ، هُوَ وَسُلَيْمَانُ بْنُ بُرَيْدَةَ أَخُوهُ تَوْأَمٌ ، فَلَمَّا وَقَعَتْ فِتْنَةُ عُثْمَانَ بِالْمَدِينَةِ خَرَجَ بُرَيْدَةُ عَنْهَا بِابْنَيْهِ ، وَسَكَنَ الْبَصْرَةَ ، وَبِهَا إِذْ ذَاكَ عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ ، وَسَمُرَةُ بْنُ جُنْدُبٍ ، فَسَمِعَ مِنْهُمَا ، وَمَاتَ عِمْرَانُ سَنَةَ اثْنَتَيْنِ وَخَمْسِينَ فِي وِلايَةِ مُعَاوِيَةَ ، ثُمَّ خَرَجَ بُرَيْدَةُ مِنْهَا بِابْنَيْهِ إِلَى سِجِسْتَانَ ، فَأَقَامَ بِهَا غَازِيًا مُدَّةً ، ثُمَّ خَرَجَ مِنْهَا إِلَى مَرْوَ عَلَى طَرِيقِ هَرَاةَ ، فَلَمَّا دَخَلَهَا وَطَّنَهَا ، وَمَاتَ سُلَيْمَانُ بْنُ بُرَيْدَةَ بِمَرْوَ وَهُوَ عَلَى الْقَضَاءِ بِهَا سَنَةَ خَمْسٍ وَمِائَةٍ ، فَهَذَا يَدُلُّكُ عَلَى أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ بُرَيْدَةَ سَمِعَ عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیٹھ کر نماز ادا کرنے کے بارے میں دریافت کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”کھڑے ہو کر نماز ادا کرو، یہ زیادہ فضیلت رکھتا ہے؛ جو شخص بیٹھ کر نماز ادا کرتا ہے اس کو کھڑے ہو کر نماز ادا کرنے والے کے مقابلے میں نصف اجر ملتا ہے اور جو شخص لیٹ کر نماز ادا کرتا ہے، تو اسے بیٹھ کر نماز ادا کرنے والے سے نصف اجر ملتا ہے۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) اس کی سند میں اس شخص کو وہم ہوا جو علم حدیث میں مہارت نہیں رکھتا؛ جو مستند روایات کی سمجھ بوجھ نہیں رکھتا وہ اس بات کا قائل ہے کہ اس کی روایت میں انفصال پایا جاتا ہے اور اس کی سند متصل نہیں ہے۔ حالانکہ ایسا نہیں ہے کیونکہ عبداللہ بن بریدہ کی پیدائش سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت کے تیسرے سال میں ہوئی تھی، یہ سن پندرہ ہجری کی بات ہے، یہ اور ان کے بھائی سلیمان بن بریدہ آگے پیچھے پیدا ہوئے تھے۔ جب مدینہ منورہ میں سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی شہادت سے پہلے کا فتنہ رونما ہوا تو سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ اپنے بچوں کو لے کر مدینہ منورہ سے چلے گئے تھے، انہوں نے بصرہ میں رہائش اختیار کی تھی؛ وہاں اس وقت سیدنا عمران بن حصین اور سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہما موجود تھے، تو بریدہ نے ان دونوں سے احادیث کا سماع کر لیا۔ سیدنا عمران رضی اللہ عنہ کا انتقال سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے عہد حکومت میں باون ہجری میں ہوا، پھر بریدہ وہاں سے اپنے بیٹوں کو لے کر سجستان چلے گئے اور ایک طویل مدت تک ایک غازی کے طور پر وہاں مقیم رہے، پھر وہ وہاں سے نکلے اور مرو چلے گئے جو عراق کے راستے میں آتا ہے، وہ وہاں گئے تو اسے وطن بنا لیا۔ سلیمان بن بریدہ کا انتقال مرو میں ہوا، وہ اس وقت وہاں کے قاضی بھی تھے اور یہ ایک سو پانچ ہجری کی بات ہے؛ یہ بات تمہاری رہنمائی اس طرف کرے گی کہ عبداللہ بن بریدہ نے سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے احادیث کا سماع کیا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2513]

2514

Sahih Ibn Hibban #2514

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحسَنِ بْنِ مُكْرَمٍ ، بِالْبَصْرَةِ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَ : قُلْتُ لَهَا : بِأَيِّ شَيْءٍ كَانَ يَبْدَأُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا دَخَلَ عَلَيْكِ ، وَإِذَا خَرَجَ مِنْ عِنْدِكِ ؟ قَالَتْ : كَانَيَبْدَأُ إِذَا دَخَلَ بِالسِّوَاكِ ، وَإِذَا خَرَجَ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

مقدام بن شریح اپنے والد کے حوالے سے سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں، (ان کے والد کہتے ہیں) میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے دریافت کیا: جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم آپ کے ہاں تشریف لاتے تھے، تو سب سے پہلے کیا کرتے تھے اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں سے تشریف لے جاتے تھے، تو کیا کرتے تھے؟ تو سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے بتایا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب گھر میں تشریف لاتے تھے، تو سب سے پہلے مسواک کرتے تھے اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے جاتے تھے، تو دو نفل ادا کرتے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2514]

2515

Sahih Ibn Hibban #2515

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى الْمَازِنِيِّ ، عَنْ أَبِي الْحُبَابِ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَيُصَلِّي عَلَى حِمَارٍ وَهُوَ مُتَوَجِّهٌ إِلَى خَيْبَرَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو گدھے پر (سوار) ہو کر نماز ادا کرتے ہوئے دیکھا تھا اور اس وقت آپ کا رخ خیبر کی طرف تھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2515]

2516

Sahih Ibn Hibban #2516

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَاجَةٍ ، فَأَدْرَكْتُهُ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ وَهُوَ يُصَلِّي ، فَأَشَارَ إِلَيَّ ، فَلَمَّا فَرَغَ دَعَانِي ، فَقَالَ : إِنَّكَ سَلَّمْتَ عَلَيَّ وَأَنَا أُصَلِّي " ، وَهُوَ مُتَوَجِّهٌ يَوْمَئِذٍ نَحْوَ الْمَشْرِقِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے کسی کام کے سلسلے میں بھیجا، جب میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا تو میں نے آپ کو سلام کیا، آپ اس وقت نماز ادا کر رہے تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اشارے کے ذریعے جواب دیا، جب آپ نماز پڑھ کر فارغ ہوئے، تو آپ نے مجھے بلایا اور ارشاد فرمایا: ”تم نے مجھے جس وقت سلام کیا تھا میں اس وقت نماز پڑھ رہا تھا۔“ (راوی کہتے ہیں) اس وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا رخ مشرق کی طرف تھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2516]

2517

Sahih Ibn Hibban #2517

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّامِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ الْمَقَابِرِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ : وَأَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ يَقُولُ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَيُصَلِّي عَلَى رَاحِلَتِهِ حَيْثُ تَوَجَّهَتْ بِهِ فِي السَّفَرِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سفر کے دوران اپنی سواری پر ہی نماز ادا کر لیتے تھے خواہ اس کا رخ کسی بھی سمت ہو۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2517]

2518

Sahih Ibn Hibban #2518

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ مَوْلَى حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّهُ قَالَ : كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ ، فَبَعَثَنِي مَبْعَثًا ، فَأَتَيْتُهُ وَهُوَ يَسِيرُ ، فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَأَوْمَأَ بِيَدِهِ ، ثُمَّ سَلَّمْتُ فَأَشَارَ وَلَمْ يُكَلِّمْنِي ، فَنَادَانِي بَعْدُ وَقَالَ : إِنِّيكُنْتُ أُصَلِّي نَافِلَةً """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ سفر کر رہے تھے۔ آپ نے مجھے کسی کام سے بھیجا، جب میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا، تو آپ اس وقت (سواری پر) سوار ہو کر چل رہے تھے، میں نے آپ کو سلام کیا، تو آپ نے اپنے دست اقدس کے ذریعے اشارہ کیا، پھر میں نے آپ کو سلام کیا، تو آپ نے اشارہ کیا، آپ نے میرے ساتھ کوئی بات چیت نہیں کی، اس کے بعد آپ نے مجھے بلایا اور ارشاد فرمایا: ”میں اس وقت نفل نماز ادا کر رہا تھا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2518]

2519

Sahih Ibn Hibban #2519

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْقَطَّانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ شُعَيْبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ قَالَ : بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَبْعَثًا ، فَوَجَدْتُهُ يَسِيرُ مُشْرِقًا وَمُغْرِبًا ، فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ ، فَأَشَارَ بِيَدِهِ ، ثُمَّ سَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَأَشَارَ بِيَدِهِ ، فَانْصَرَفْتُ فَنَادَانِي : يَا جَابِرُ " ، فَنَادَانِي النَّاسُ : يَا جَابِرُ ، فَأَتَيْتُهُ فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَدْسَلَّمْتُ عَلَيْكَ فَلَمْ تَرُدَّ عَلَيَّ ، قَالَ : " ذَاكَ أَنِّي كُنْتُ أُصَلِّي """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے کسی کام سے بھیجا، جب میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ اس وقت مشرق کی طرف رخ کر کے یا مغرب کی طرف رخ کر کے چل رہے تھے (یعنی آپ سواری پر سوار تھے)؛ میں نے آپ کو سلام کیا، تو آپ نے اپنے دستِ مبارک کے ذریعے اشارہ کیا، پھر میں نے آپ کو سلام کیا، تو آپ نے اپنے دستِ اقدس کے ذریعے اشارہ کیا۔ میں واپس آیا (تھوڑی دیر بعد) تو آپ نے مجھے بلایا: ”اے جابر!“ لوگوں نے بھی مجھے بلایا: اے جابر! میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں نے آپ کو سلام کیا تھا لیکن آپ نے مجھے جواب نہیں دیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اس وقت میں نماز ادا کر رہا تھا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2519]

2520

Sahih Ibn Hibban #2520

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سُرَاقَةَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَيُصَلِّي عَلَى رَاحِلَةٍ نَحْوَ الْمَشْرِقِ فِي غَزْوَةِ أَنْمَارٍ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: میں نے غزوۂ انمار کے موقع پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو مشرق کی طرف رخ کر کے اپنی سواری پر نماز ادا کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2520]

2521

Sahih Ibn Hibban #2521

أَخْبَرَنَا ابْنُ سَلْمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةٍ ، فَكَانَيُصَلِّي تَطَوُّعًا عَلَى رَاحِلَتِهِ مُسْتَقْبِلَ الْمَشْرِقِ ، فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يُصَلِّيَ الْمَكْتُوبَةَ نَزَلَ وَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ایک غزوے میں شریک ہوئے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری پر ہی نفل نماز ادا کر لیتے تھے جس کا رخ مشرق کی سمت ہوتا تھا اور جب آپ نے فرض نماز ادا کرنی ہوتی تھی تو آپ سواری سے نیچے اترتے تھے اور قبلہ کی طرف رخ کر کے ادا کرتے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2521]

2522

Sahih Ibn Hibban #2522

أَخْبَرَنَا ابْنُ سَلْمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ ، عَنِ ابْنِ نَمِرٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَيُصَلِّي عَلَى دَابَّتِهِ فِي السَّفَرِ فِي السُّبْحَةِ يُومِئُ بِرَأْسِهِ إِيمَاءً """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سالم اپنے والد (سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما) کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سفر کے دوران اپنی سواری پر نفل نماز ادا کرتے ہوئے دیکھا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سر کے اشارے سے (رکوع اور سجدے کر رہے تھے)۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2522]

2523

Sahih Ibn Hibban #2523

أَخْبَرَنَا ابْنُ خُزَيْمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرًا يَقُولُ : رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَيُصَلِّي عَلَى رَاحِلَتِهِ يُصَلِّي النَّوَافِلَ فِي كُلِّ وَجْهٍ ، وَلَكِنَّهُ يَخْفِضُ السَّجْدَتَيْنِ مِنَ الرَّكْعَتَيْنِ يُومِئُ إِيمَاءً """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، آپ اپنی سواری پر نماز ادا کر رہے تھے، آپ نوافل ادا کر رہے تھے خواہ آپ کا رخ کسی بھی طرف ہو، تاہم آپ رکوع کے مقابلے میں سجدہ کرتے ہوئے زیادہ جھک جاتے تھے، آپ اشارے کے ساتھ (رکوع اور سجدہ کر رہے تھے)۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2523]

2524

Sahih Ibn Hibban #2524

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي عَوْنٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ قَالَ : رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَيُصَلِّي وَهُوَ عَلَى رَاحِلَتِهِ النَّوَافِلَ فِي كُلِّ وَجْهٍ ، وَلَكِنَّهُ يَخْفِضُ السَّجْدَتَيْنِ مِنَ الرَّكْعَةِ يُومِئُ إِيمَاءً """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، آپ اپنی سواری پر نفل ادا کر رہے تھے خواہ اس کا رخ کسی بھی سمت میں ہو، اور آپ اشارے کے ساتھ رکوع اور سجدہ کر رہے تھے، آپ رکوع کے مقابلے میں سجدے میں زیادہ جھک رہے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2524]

2525

Sahih Ibn Hibban #2525

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُوسَى عَبْدَانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَيُصَلِّي النَّوَافِلَ عَلَى رَاحِلَتِهِ يَخْفِضُ السَّجْدَتَيْنِ مِنَ الرَّكْعَتَيْنِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی سواری پر نوافل ادا کرتے ہوئے دیکھا، آپ سجدے میں رکوع سے زیادہ جھک رہے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2525]

2526

Sahih Ibn Hibban #2526

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ كَهْمَسِ بْنِ الْحَسَنِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ ، قَالَ : قُلْتُ لِعَائِشَةَ : أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَيُصَلِّي الضُّحَى ؟ " ، قَالَتْ : " لا ، إِلا أَنْ يَجِيءَ مِنْ سَفَرٍ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبداللہ بن شقیق بیان کرتے ہیں: میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے دریافت کیا: کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم چاشت کے وقت نماز ادا کیا کرتے تھے؟ تو انہوں نے جواب دیا: جی نہیں، البتہ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سفر سے آتے تھے (تو اس موقع پر اس وقت میں نماز ادا کر لیتے تھے)۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2526]

2527

Sahih Ibn Hibban #2527

قُلْتُ : هَلْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ شَهْرًا مَعْلُومًا سِوَى رَمَضَانَ ؟ " ، قَالَتْ : " وَاللَّهِإِنْ صَامَ شَهْرًا مَعْلُومًا سِوَى رَمَضَانَ حَتَّى مَضَى لِوَجْهِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَلا أَفْطَرَهُ حَتَّى مَضَى لِوَجْهِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبداللہ بن شقیق رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے دریافت کیا: کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم چاشت کے وقت نماز ادا کیا کرتے تھے؟ تو انہوں نے جواب دیا: جی نہیں، البتہ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سفر سے آتے تھے (تو اس موقع پر اس وقت نماز ادا کر لیتے تھے)۔ میں نے دریافت کیا: کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ کر نماز ادا کرتے تھے؟ انہوں نے فرمایا: جی ہاں! جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر زیادہ ہو گئی (تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ کر نماز ادا کر لیتے تھے)۔ میں نے دریافت کیا: کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سورتیں ملا کر پڑھتے تھے؟ انہوں نے جواب دیا: جی ہاں! آپ صلی اللہ علیہ وسلم مفصل سورتیں (ملا کر) پڑھتے تھے۔ میں نے دریافت کیا: کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے مہینے کے علاوہ کسی اور متعین مہینے میں روزے رکھتے تھے؟ انہوں نے جواب دیا: اللہ کی قسم! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان کے علاوہ کسی بھی متعین مہینے میں روزے نہیں رکھے، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس دنیا سے رخصت ہو گئے اور نہ ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی کسی مہینے کے روزے چھوڑے ہیں یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس دنیا سے رخصت ہو گئے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2527]

2528

Sahih Ibn Hibban #2528

أَخْبَرَنَا أَبُو عَرُوبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الصَّوَّافُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سَالِمُ بْنُ نُوحٍ الْعَطَّارُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَلَمْ يَكُنْ يُصَلِّي الضُّحَى إِلا أَنْ يَقْدُمَ مِنْ غَيْبَةٍ "، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : نَفْيُ ابْنِ عُمَرَ ، وَعَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلاةَ الضُّحَى إِلا أَنْ يَقْدُمَ مِنْ سَفَرٍ أَوْ مَغِيبِهِ ، أَرَادَ بِهِ فِي الْمَسْجِدِ بِحَضْرَةِ النَّاسِ دُونَ الْبَيْتِ ، وَذَاكَ أَنَّ مِنْ خُلُقِ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا قَدِمَ مِنْ سَفَرٍ بَدَأَ بِالْمَسْجِدِ ، فَرَكَعَ فِيهِ رَكْعَتَيْنِ ، فَكَانَ أَكْثَرُ قُدُومِ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ مِنَ الأَسْفَارِ وَالْغَزَوَاتِ كَانَ ضُحًى مِنْ أَوَّلِ النَّهَارِ ، وَنَهَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَطْرُقَ الرَّجُلُ أَهْلَهُ لَيْلا"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم چاشت کی نماز صرف اس وقت ادا کرتے تھے جب آپ سفر سے تشریف لاتے تھے۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اور سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے چاشت کی نماز ادا کرنے کی نفی کی ہے۔ البتہ جب آپ سفر سے واپس تشریف لاتے تھے یا (شہر سے) غیر حاضری کے بعد واپس تشریف لاتے تھے (تو اس کا حکم مختلف ہے) آپ کا مقصد یہ ہوتا تھا کہ آپ لوگوں کو مسجد میں مل لیں نہ کہ گھر پر ملیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق میں یہ بات شامل تھی کہ جب آپ سفر سے واپس تشریف لاتے تھے، تو سب سے پہلے مسجد میں تشریف لاتے تھے اور وہاں دو رکعات ادا کرتے تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اکثر کسی سفر سے یا غزوہ سے چاشت کے وقت تشریف لاتے تھے جو دن کا ابتدائی حصہ ہوتا تھا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع کیا ہے کہ ”کوئی شخص رات کے وقت اپنی بیوی کے پاس (طویل غیر حاضری کے بعد) چلا جائے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2528]

2529

Sahih Ibn Hibban #2529

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، وَابْنُ كَثِيرٍ ، قَالا : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي يَزِيدُ الرِّشْكُ ، عَنْ مُعَاذَةَ ، قَالَتْ : سَأَلْتُ عَائِشَةَ : أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَيُصَلِّي الضُّحَى ؟ " ، قَالَتْ : " نَعَمْ ، أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ وَيَزِيدُ مَا شَاءَ اللَّهُ "، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : إِثْبَاتُ عَائِشَةَ صَلاةَ الضُّحَى لِلْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرَادَتْ بِهِ فِي الْبَيْتِ دُونَ مَسْجِدِ الْجَمَاعَةِ ، لأَنَّهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " أَفْضَلُ صَلاتِكُمْ فِي بُيُوتِكُمْ إِلا الْمَكْتُوبَةَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

معاذہ بیان کرتی ہیں: میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے دریافت کیا: کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم چاشت کی نماز ادا کرتے تھے؟ انہوں نے فرمایا: جی ہاں! آپ چار رکعات ادا کرتے تھے اور جو اللہ کو منظور ہوتا تھا مزید ادا کرتے تھے۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے چاشت کی نماز ادا کرنے کے اثبات کا تذکرہ کیا ہے۔ اس سے ان کی مراد گھر ہے۔ باجماعت نماز والی مسجد مراد نہیں ہے۔ اس سے مراد یہ ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”تمہاری نمازوں میں سب سے افضل نماز وہ ہے جو تم اپنے گھر میں ادا کرو۔ البتہ فرض نماز کا حکم مختلف ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2529]

2530

Sahih Ibn Hibban #2530

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي السَّائِبُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ أَبِي وَدَاعَةَ ، أَنَّ حَفْصَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ : لَمْ أَرَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فِي سُبْحَتِهِ وَهُوَ جَالِسٌ حَتَّى كَانَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَقَبْلَ مَوْتِهِ بِعَامٍ وَاحِدٍ ، فَرَأَيْتُهُ يُصَلِّي فِي سُبْحَتِهِ وَهُوَ جَالِسٌ ، وَيُرَتِّلُ السُّورَةَ حَتَّى تَكُونَ أَطْوَلَ مِنْ أَطْوَلَ مِنْهَا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو کبھی بھی بیٹھ کر نوافل ادا کرتے ہوئے نہیں دیکھا، یہاں تک کہ آپ کے وصال سے ایک سال پہلے میں نے آپ کو دیکھا، آپ بیٹھ کر نوافل ادا کر رہے تھے، آپ سورت کو ٹھہر ٹھہر کر پڑھتے تھے یہاں تک کہ وہ اپنے سے لمبی سورت سے بھی زیادہ طویل محسوس ہوتی تھی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2530]

2531

Sahih Ibn Hibban #2531

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَعْلَى الطَّائِفِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي الْمُطَّلِبُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَنْطَبٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْتِي ،فَصَلَّى الضُّحَى ثَمَانَ رَكَعَاتٍ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے ہاں تشریف لائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چاشت کے وقت آٹھ رکعات ادا کیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2531]

2532

Sahih Ibn Hibban #2532

وَكَانَتْ تَقُولُ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَتَرَكَ كَثِيرًا مِنَ الْعَمَلِ خَشْيَةَ أَنْ يَسْتَنَّ النَّاسُ بِهِ ، فَيُفْرَضَ عَلَيْهِمْ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم چاشت کی نماز ادا نہیں کرتے تھے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا یہ نماز ادا کیا کرتی تھیں، وہ یہ بیان کرتی تھیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت سے عمل اس لیے چھوڑ دیے تھے، آپ کو یہ اندیشہ تھا کہ کہیں لوگ ان کو سنت کے طور پر اختیار نہ کر لیں اور پھر وہ ان پر فرض نہ ہو جائیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2532]

2533

Sahih Ibn Hibban #2533

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ بُرْدًا ، يَقُولُ : حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ مُوسَى ، عَنْ مَكْحُولٍ ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ مُرَّةَ الْحَضْرَمِيِّ ، عَنْ قَيْسٍ الْجُذَامِيِّ ، عَنْ نُعَيْمِ بْنِ هَمَّارٍ الْغَطَفَانِيِّ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، عَنْ رَبِّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى أَنَّهُ قَالَ : يَا ابْنَ آدَمَ ،صَلِّ لِي أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ فِي أَوَّلِ النَّهَارِ أَكْفِكَ آخِرَهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا نعیم بن ہمار غطفانی رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”اے آدم کے بیٹے! تم دن کے ابتدائی حصے میں میرے لیے چار رکعات ادا کرو، میں اس کے آخری حصے میں تمہاری کفایت کروں گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2533]

2534

Sahih Ibn Hibban #2534

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْذِرِ بْنِ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الرَّمَادِيُّ ، حَدَّثَنَا دُحَيْمٌ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ أَبِي السَّائِبِ ، عَنْ بُسْرِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلانِيِّ ، عَنْ نُعَيْمِ بْنِ هَمَّارٍ الْغَطَفَانِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، عَنْ رَبِّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى أَنَّهُ قَالَ : يَا ابْنَ آدَمَ ،صَلِّ لِي أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ أَوَّلَ النَّهَارِ أَكْفِكَ آخِرَهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا نعیم بن ہمار غطفانی رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”اے آدم کے بیٹے! تم دن کے ابتدائی حصے میں میرے لیے چار رکعات ادا کرو، میں اس کے آخری حصے میں تمہاری کفایت کروں گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2534]

2535

Sahih Ibn Hibban #2535

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ صَخْرٍ ، عَنِ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْثًا فَأَعْظَمُوا الْغَنِيمَةَ وَأَسْرَعُوا الْكَرَّةَ ، فَقَالَ رَجُلٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا رَأَيْنَا بَعْثَ قَوْمٍ أَسْرَعَ كَرَّةً ، وَلا أَعْظَمَ غَنِيمَةً ، مِنْ هَذَا الْبَعْثِ ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَلاأُخْبِرُكُمْ بِأَسْرَعَ كَرَّةً وَأَعْظَمَ غَنِيمَةً مِنْ هَذَا الْبَعْثِ ؟ رَجُلٌ تَوَضَّأَ فِي بَيْتِهِ فَأَحْسَنَ وُضُوءَهُ ، ثُمَّ تَحَمَّلَ إِلَى الْمَسْجِدِ ، فَصَلَّى فِيهِ الْغَدَاةَ ، ثُمَّ عَقَّبَ بِصَلاةِ الضُّحَى ، فَقَدْ أَسْرَعَ الْكَرَّةَ ، وَأَعْظَمَ الْغَنِيمَةَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مہم روانہ کی، انہیں بہت سا مالِ غنیمت ملا اور وہ لوگ جلدی بھی واپس آگئے، ایک شخص نے عرض کی: یا رسول اللہ! میں نے کبھی بھی کوئی ایسی مہم نہیں دیکھی جو اتنی جلدی واپس آگئی ہو، جسے اتنا زیادہ مالِ غنیمت ملا ہو جتنا اس مہم کو ملا ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”کیا میں تمہیں اس مہم سے زیادہ تیزی سے واپس آنے اور زیادہ مالِ غنیمت حاصل کرنے کے بارے میں بتاؤں؟ ایک شخص اپنے گھر میں اچھی طرح وضو کرے پھر وہ مسجد جائے وہاں صبح کی نماز ادا کرے پھر اس کے بعد (وہ وہیں بیٹھا رہے اور پھر) چاشت کی نماز ادا کرے تو وہ شخص جلدی بھی واپس آ جاتا ہے اور اسے زیادہ مالِ غنیمت بھی حاصل ہوتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2535]