Muslim99Muslim99

Sahih Ibn Hibban · Book 20 · Chapter 2

Book of Manumission

Hadith 2193–2232

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

2193

Sahih Ibn Hibban #2193

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حِبَّانُ بْنُ مُوسَى ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا زَكَرِيَّا بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِذَا أُقِيمَتِ الصَّلاةُ ، فَلا صَلاةَ إِلا الْمَكْتُوبَةَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جب نماز کے لیے اقامت کہہ دی جائے، تو صرف فرض نماز ادا کی جا سکتی ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2193]

2194

Sahih Ibn Hibban #2194

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الأَحْمَرِ الصَّيْرَفِيُّ ، بِالْبَصْرَةِ قَالَ : حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ النَّرْسِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا وُهَيْبُ بْنُ خَالِدٍ ، عَنْ عَنبَسَةَ الأَعْوَرِ ، عَنِ الْحَسَنِ ، أَنَّ أَبَا بَكْرَةَ ، دَخَلَ الْمَسْجِدَ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَاكِعٌ ،فَرَكَعَ ، ثُمَّ مَشَى حَتَّى لَحِقَ بِالصَّفِّ ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : زَادَكَ اللَّهُ حِرْصًا وَلا تَعُدْ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حسن بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ مسجد میں داخل ہوئے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت رکوع میں تھے، تو وہ بھی رکوع میں چلے گئے اور پھر چلتے ہوئے آ کر صف میں شامل ہو گئے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ تمہاری حرص میں اضافہ کرے، دوبارہ ایسا نہ کرنا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2194]

2195

Sahih Ibn Hibban #2195

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ قَحْطَبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ الْعِجْلِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ زِيَادٍ الأَعْلَمِ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ ، أَنَّهُ دَخَلَ الْمَسْجِدَ ، وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَاكِعٌ ، قَالَ :فَرَكَعْتُ دُونَ الصَّفِّ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : زَادَكَ اللَّهُ حِرْصًا وَلا تَعُدْ ". قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : هَذَا الْخَبَرُ مِنَ الضَّرْبِ الَّذِي ذَكَرْتُ فِي كِتَابِ فُصُولِ السُّنَنِ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ يَنْهَى عَنْ شَيْءٍ فِي فِعْلٍ مَعْلُومٍ ، وَيَكُونُ مُرْتَكِبُ ذَلِكَ الشَّيْءِ الْمَنْهِيِّ عَنْهُ مَأْثُومًا بِفِعْلِهِ ذَلِكَ إِذَا كَانَ عَالِمًا بِنَهْيِ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْهُ ، وَالْفِعْلُ جَائِزٌ عَلَى مَا فَعَلَهُ ، كَنَهْيِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، عَنْ أَنْ يَخْطُبَ الرَّجُلُ عَلَى خِطْبَةِ أَخِيهِ ، أَوْ يَسْتَامَ عَلَى سَوْمِ أَخِيهِ ، فَإِنْ خَطَبَ امْرُؤٌ عَلَى خِطْبَةِ أَخِيهِ بَعْدَ عِلْمِهِ بِالنَّهْيِ عَنْهُ كَانَ مَأْثُومًا ، وَالنِّكَاحُ صَحِيحٌ ، فَكَذَلِكَ قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لأَبِي بَكْرَةَ : " زَادَكَ اللَّهُ حِرْصًا ، وَلا تَعُدْ " ، فَإِنْ عَادَ رَجُلٌ فِي هَذَا الْفِعْلِ الْمَنْهِيِّ عَنْهُ ، وَكَانَ عَالِمًا بِذَلِكَ النَّهْيِ كَانَ مَأْثُومًا فِي ارْتِكَابِهِ الْمَنْهِيَّ ، وَصَلاتُهُ جَائِزَةٌ ، وَلأَنَّهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبَاحَ هَذَا الْقَدْرَ لأَبِي بَكْرَةَ مُسْتثْنًى مِنْ جُمْلَةِ مَا نَهَاهُ عَنْهُ فِي خَبَرِ وَابِصَةَ ، كَالْمُزَابَنَةِ وَالْعَرِيَّةِ وَلَوْ لَمْ تَجُزِ الصَّلاةُ بِهَذَا الْوَصْفِ لأَبِي بَكْرَةَ لأَمَرَهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِإِعَادَةِ الصَّلاةِ . وَقَوْلُهُ : " وَلا تَعُدْ " ، أَرَادَ بِهِ : لا تَعُدُ فِي إِبْطَاءِ الْمَجِيءِ إِلَى الصَّلاةِ ، لا أَنَّهُ أَرَادَ بِهِ أَنْ لا تَعُودَ بَعْدَ تَكْبِيرِكَ فِي اللُّحُوقِ بِالصَّفِّ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ مسجد میں داخل ہوئے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت رکوع کی حالت میں تھے، انہوں نے بیان کیا: میں صف تک پہنچنے سے پہلے ہی رکوع میں چلا گیا (اور پھر صف میں آ کر شامل ہوا) تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: «زَادَکَ اللّٰہُ حِرْصًا وَلَا تَعُدْ» ”اللہ تعالیٰ تمہاری حرص میں اضافہ کرے، دوبارہ ایسا نہ کرنا۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) یہ روایت اس قسم سے تعلق رکھتی ہے جس کے بارے میں میں نے کتاب ”اصول السنن“ میں یہ بات ذکر کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بعض اوقات کسی متعین فعل کے حوالے سے کسی چیز سے منع کرتے ہیں، اور اس ممنوعہ فعل کا مرتکب شخص اس کے سرانجام دینے پر گناہ گار شمار ہوتا ہے، بشرطیکہ وہ شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ممانعت سے واقف ہو، لیکن اس آدمی کا کیا ہوا وہ فعل جائز ہوتا ہے۔ جس طرح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع کیا ہے کہ کوئی شخص اپنے بھائی کے پیغامِ نکاح پر نکاح کا پیغام بھیجے یا اپنے بھائی کی بولی پر بولی لگائے، تو جو شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اس حوالے سے ممانعت کا علم ہونے کے باوجود اپنے بھائی کے پیغامِ نکاح پر نکاح کا پیغام بھیج دیتا ہے تو وہ گناہ گار ہوتا ہے، لیکن (اس پیغام کے نتیجے میں کیا جانے والا) نکاح درست شمار ہوگا۔ اسی طرح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے یہ فرمانا: «زَادَکَ اللّٰہُ حِرْصًا وَلَا تَعُدْ» ”اللہ تعالیٰ تمہاری حرص میں اضافہ کرے، تم دوبارہ ایسا نہ کرنا“، تو اگر کوئی شخص دوبارہ اس ممنوعہ فعل کا مرتکب ہوتا ہے اور وہ اس کی ممانعت سے واقف بھی ہو تو وہ اس ممنوعہ فعل کے ارتکاب پر گناہ گار شمار ہوگا، لیکن اس کی نماز جائز ہوگی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اتنی مقدار کو سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کے لیے مباح قرار دیا تھا کہ یہ اس عمومی حکم سے مستثنیٰ ہو جائے گا جس سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے منع کیا تھا، جس کا ذکر سیدنا وابصہ رضی اللہ عنہ کی نقل کردہ روایت میں ہے۔ اس کی مثال ”مزابنہ“ اور ”عریہ“ کی مانند ہو جائے گی۔ اگر سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کے لیے اس صفت کے ساتھ نماز ادا کرنا جائز نہ ہوتا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کو نماز دہرانے کا حکم دیتے، تاہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد ”تم دوبارہ ایسا نہ کرنا“ اس سے آپ کی مراد یہ ہے کہ نماز کے لیے آتے ہوئے تم دوبارہ ایسی تیزی نہ دکھانا، اس سے یہ مراد نہیں ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ کہنا چاہتے ہوں کہ تم تکبیر کہنے کے بعد صف میں آ کر شامل نہ ہونا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2195]

2196

Sahih Ibn Hibban #2196

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الأَشْعَثِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : بِتُّ عِنْدَ خَالَتِي مَيْمُونَةَ ، فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي ، فَقُمْتُ أُصَلِّي ، فَقُمْتُ عَنْ يَسَارِهِ ، فَأَخَذَ بِرَأْسِي فَأَقَامَنِي عَنْ يَمِينِهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے اپنی خالہ سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے ہاں رات بسر کی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اٹھ کر نماز ادا کرنے لگے، تو میں بھی نماز ادا کرنے کے لیے اٹھا، میں آپ کی بائیں طرف آ کر کھڑا ہوا، تو آپ نے میرے سر کو پکڑا اور مجھے اپنی دائیں طرف کھڑا کر لیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2196]

2197

Sahih Ibn Hibban #2197

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ مُجَاهِدٍ أَبُو حَزْرَةَ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الْوَلِيدِ بْنِ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : سِرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، حَتَّى إِذَا كُنَّا عَشِيَّةً وَدَنَوْنَا مِنْ مِيَاهِ الْعَرَبِ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ رَجُلٌ يَتَقَدَّمُنَا فَيَرِدُ الْحَوْضَ فَيَشْرَبُ وَيَسْقِينَا ؟ " . قَالَ جَابِرٌ : فَقُمْتُ فَقُلْتُ : هَذَا رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَيُّ رَجُلٍ مَعَ جَابِرٍ ؟ " . فَقَامَ جَبَّارُ بْنُ صَخْرٍ ، فَانْطَلَقْنَا إِلَى الْبِئْرِ ، فَنَزَعْنَا فِي الْحَوْضِ سَجْلا أَوْ سَجْلَيْنِ ، ثُمَّ مَدَرْنَاهُ ، ثُمَّ نَزَعْنَا فِيهِ حَتَّى أَفْهَقْنَاهُ ، فَكَانَ أَوَّلَ طَالِعٍ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " أَتَأْذَنَانِ ؟ " . قُلْنَا : نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَأَشْرَعَ نَاقَتَهُ فَشَرِبَتْ ، ثُمَّ شَنَقَ لَهَا فَبَالَتْ ، ثُمَّ عَدَلَ بِهَا فَأَنَاخَهَا ، ثُمَّ جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْحَوْضِ ، فَتَوَضَّأَ مِنْهُ ، ثُمَّ قُمْتُ فَتَوَضَّأْتُ مِنْ مُتَوَضَّأِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَذَهَبَ جَبَّارُ بْنُ صَخْرٍ يَقْضِي حَاجَتَهُ ، وَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي ، وَكَانَتْ عَلَيَّ بُرْدَةٌ ، وَكُنْتُ أُخَالِفُ بَيْنَ طَرَفَيْهَا فَلَمْ تَبْلُغْ لِي وَكَانَتْ لَهَا ذَبَاذِبُ ، فَنَكَّسْتُهَا ثُمَّ خَالَفْتُ بَيْنَ طَرَفَيْهَا ، فَجِئْتُ حَتَّى قُمْتُ عَنْ يَسَارِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَخَذَ بِيَدِي ، فَأَدَارَنِي حَتَّى أَقَامَنِي عَنْ يَمِينِهِ ، وَجَاءَ جَبَّارُ بْنُ صَخْرٍ فَتَوَضَّأَ ، ثُمَّ جَاءَ فَقَامَ عَنْ يَسَارِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَخَذَنَا بِيَدَيْهِ جَمِيعًا ، فَدَفَعَنَا حَتَّى أَقَامَنَا مِنْ خَلْفِهِ ، وَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْمُقُنِي وَأَنَا لا أَشْعُرُ ، ثُمَّ فَطِنْتُ ، فَقَالَ : هَكَذَا وَأَشَارَ بِيَدِهِ شُدَّ ، فَلَمَّا فَرَغَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " يَا جَابِرُ " . قُلْتُ : لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ . قَالَ :" إِذَا كَانَ ثَوْبُكَ وَاسِعًا ، فَخَالِفْ بَيْنَ طَرَفَيْهِ ، وَإِنْ كَانَ ضَيِّقًا فَاشْدُدْهُ عَلَى حَقْوِكَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ سفر کر رہے تھے، یہاں تک کہ جب شام کا وقت ہوا تو ہم پانی کے علاقے کے قریب پہنچے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کون شخص ہم سے آگے جا کر حوض پر پہنچے گا اور خود بھی پانی پیئے گا اور ہمیں بھی پلائے گا؟“ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں کھڑا ہوا اور میں نے عرض کی: یہ شخص یا رسول اللہ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جابر کے ساتھ کون شخص ہو گا؟“ تو سیدنا جبار بن صخر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے، پھر ہم دونوں چلتے ہوئے کنویں کے پاس آئے، آپ نے اس میں سے ایک یا شاید دو ڈول نکالے پھر ہم نے اسے بھر دیا، پھر ہم نے اس میں سے پانی نکالا، یہاں تک کہ ہم نے اسے بھر دیا۔ سب سے پہلے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے سامنے آئے، آپ نے دریافت کیا: ”کیا تم دونوں اجازت دیتے ہو؟“ ہم نے عرض کی: جی ہاں، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی اونٹنی کو پانی پلانا شروع کیا، اس نے پانی پی لیا پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے موقع دیا، تو اس نے پیشاب کیا، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے باندھ دیا، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حوض کے پاس تشریف لائے۔ آپ نے اس سے وضو کیا، پھر میں کھڑا ہوا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو کے پانی سے میں نے بھی وضو کیا، پھر سیدنا جبار بن صخر رضی اللہ عنہ قضائے حاجت کے لیے تشریف لے گئے، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور نماز ادا کرنے لگے، مجھ پر ایک چادر تھی جسے میں نے مخالف سمت میں اوڑھا ہوا تھا اور وہ مجھے پوری نہیں آتی تھی، اس کے کچھ کنارے تھے جنہیں میں نے باندھ لیا اور مخالف سمت میں اوڑھ لیا۔ پھر میں آیا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بائیں طرف کھڑا ہوا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے گھما کر اپنی دائیں طرف کھڑا کر لیا، پھر سیدنا جبار بن صخر رضی اللہ عنہ آئے، انہوں نے وضو کیا، پھر وہ آئے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بائیں طرف کھڑے ہو گئے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم دونوں کو دونوں ہاتھوں کے ذریعے پکڑا اور ہمیں اپنے پیچھے کھڑا کر دیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارا جائزہ لیتے رہے، مجھے اس کا اندازہ نہیں ہو سکا پھر مجھے اندازہ ہو گیا۔ آپ نے ارشاد فرمایا، اس طرح آپ نے اشارہ کر کے بتایا: ”اسے باندھ لو۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ کر فارغ ہوئے تو آپ نے فرمایا: ”اے جابر!“ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں حاضر ہوں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جب تمہارا کپڑا کشادہ ہو، تو تم اسے مخالف سمت میں اوڑھ لو، لیکن جب وہ تنگ ہو، تو پھر اسے تہبند کے طور پر باندھ لو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2197]

2198

Sahih Ibn Hibban #2198

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ الْقَطَّانُ ، بِالرَّقَّةِ وَالرَّافِقَةِ جَمِيعًا ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَكِيمُ بْنُ سَيْفٍ الرَّقِّيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ هِلالِ بْنِ يَسَافٍ الأَشْجَعِيِّ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ رَاشِدٍ ، عَنْ وَابِصَةَ بْنِ مَعْبَدِ بْنِ الْحَارِثِ الأَسَدِيِّ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى رَجُلايُصَلِّي وَحْدَهُ خَلْفَ الصُّفُوفِ ، فَأَمَرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُعِيدَ الصَّلاةَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا وابصہ بن معبد اسدی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو دیکھا جو صف کے پیچھے اکیلا کھڑا ہو کر نماز ادا کر رہا تھا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ہدایت کی کہ ”وہ دوبارہ نماز ادا کرے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2198]

2199

Sahih Ibn Hibban #2199

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي عَوْنٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو قُدَيْدٍ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ فَضَالَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ هِلالِ بْنِ يَسَافٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ رَاشِدٍ ، عَنْ وَابِصَةَ بْنِ مَعْبَدٍ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى رَجُلايُصَلِّي خَلْفَ الصَّفِّ وَحْدَهُ ، فَأَمَرَهُ فَأَعَادَ الصَّلاةَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا وابصہ بن معبد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو صف کے پیچھے تنہا کھڑے ہو کر نماز ادا کرتے دیکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے حکم دیا کہ ”وہ دوبارہ نماز ادا کرے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2199]

2200

Sahih Ibn Hibban #2200

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ حُصَيْنٍ ، عَنْ هِلالِ بْنِ يَسَافٍ ، قَالَ : أَخَذَ بِيَدِي زِيَادُ بْنُ أَبِي الْجَعْدِ ، وَنَحْنُ بِالرَّقَّةِ ، فَأَقَامَنِي عَلَى شَيْخٍ مِنْ بَنِي أَسَدٍ ، يُقَالُ لَهُ : وَابِصَةُ بْنُ مَعْبَدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي هَذَا الشَّيْخُ : أَنَّ رَجُلاصَلَّى خَلْفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَحْدَهُ ، لَمْ يَتَّصِلْ بِأَحَدٍ ، فَأَمَرَهُ أَنْ يُعِيدَ الصَّلاةَ ". قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : سَمِعَ هَذَا الْخَبَرَ هِلالُ بْنُ يَسَافٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ رَاشِدٍ ، عَنْ وَابِصَةَ بْنِ مَعْبَدٍ ، وَسَمِعَهُ مِنْ زِيَادِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ وَابِصَةَ، وَالطَّرِيقَانِ جَمِيعًا مَحْفُوظَانِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ہلال بن یساف بیان کرتے ہیں: زیاد بن ابو جعد نے میرا ہاتھ پکڑا، ہم اس وقت ”رقہ“ میں موجود تھے۔ انہوں نے مجھے بنو اسد سے تعلق رکھنے والے ایک عمر رسیدہ شخص کے پاس لا کر کھڑا کیا، ان کا نام سیدنا وابصہ بن معبد رضی اللہ عنہ تھا۔ زیاد نے یہ بتایا، اس بزرگ نے مجھے یہ حدیث سنائی ہے: ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے اکیلے کھڑے ہو کر نماز ادا کی، وہ کسی دوسرے کے ساتھ (صف میں) کھڑا نہیں ہوا تھا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے نماز دوبارہ ادا کرنے کا حکم دیا۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) یہ روایت ہلال بن یساف نے عمرو بن راشد کے حوالے سے وابصہ بن معبد رضی اللہ عنہ سے سنی ہے اور انہوں نے یہ روایت زیاد کے حوالے سے سیدنا وابصہ رضی اللہ عنہ سے سنی ہے، تو اس کے دونوں طرق محفوظ ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2200]

2201

Sahih Ibn Hibban #2201

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زِيَادِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ عَمِّهِ عُبَيْدِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ أَبِيهِ زِيَادِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ وَابِصَةَ بْنِ مَعْبَدٍ : أَنَّ رَجُلاصَلَّى خَلْفَ الصَّفِّ وَحْدَهُ ، فَأَمَرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُعِيدَ الصَّلاةَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا وابصہ بن معبد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے صف کے پیچھے اکیلے کھڑے ہو کر نماز ادا کی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے حکم دیا کہ ”وہ دوبارہ نماز ادا کرے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2201]

2202

Sahih Ibn Hibban #2202

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُلازِمُ بْنُ عَمْرٍو ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَدْرٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ شَيْبَانَ ، عَنْ أَبِيهِ ، وَكَانَ أَحَدَ الْوَفْدِ ، قَالَ : قَدِمْنَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَصَلَّيْنَا خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَلَمَّا قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلاتَهُ ، إِذَا رَجُلٌ فَرْدٌ فَوَقَفَ عَلَيْهِ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى قَضَى الرَّجُلُ صَلاتَهُ ، ثُمَّ قَالَ لَهُ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اسْتَقْبِلْ صَلاتَكَ ، فَإِنَّهُلا صَلاةَ لِفَرْدٍ خَلْفَ الصَّفِّ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبدالرحمن بن علی بن شیبان اپنے والد سیدنا علی بن شیبان رضی اللہ عنہ کا بیان نقل کرتے ہیں، جو وفد میں شامل تھے، وہ فرماتے ہیں کہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز ادا کی، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز مکمل کی تو ایک شخص نے تنہا کھڑے ہو کر نماز ادا کی تھی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس ٹھہر گئے، جب اس شخص نے اپنی نماز مکمل کی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: ”تم نئے سرے سے نماز پڑھو کیونکہ صف کے پیچھے اکیلے کھڑے ہونے والے شخص کی نماز نہیں ہوتی۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2202]

2203

Sahih Ibn Hibban #2203

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي السَّرِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُلازِمُ بْنُ عَمْرٍو ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَدْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَلِيِّ بْنِ شَيْبَانَ الْحَنَفِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي عَلِيُّ بْنُ شَيْبَانَ ، وَكَانَ أَحَدَ الْوَفْدِ الَّذِينَ وَفَدُوا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ بَنِي حَنِيفَةَ ، قَالَ : صَلَّيْتَ خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَلَمَّا قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلاتَهُ ، نَظَرَ إِلَى رَجُلٍ خَلْفَ الصَّفِّ وَحْدَهُ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : هَكَذَا صَلَّيْتَ ؟ " . قَالَ : نَعَمْ . قَالَ : " فَأَعِدْ صَلاتَكَ ، فَإِنَّهُلا صَلاةَ لِفَرْدٍ خَلْفَ الصَّفِّ وَحْدَهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا علی بن شیبان رضی اللہ عنہ، جو اس وفد میں شامل تھے جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بنو حنیفہ کی طرف سے حاضر ہوا تھا، وہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز ادا کی، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز مکمل کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو دیکھا جو صف کے پیچھے اکیلا کھڑا ہو کر نماز پڑھ رہا تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے دریافت کیا: ”تم نے اسی طرح نماز پڑھی ہے؟“ اس نے عرض کی: جی ہاں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اپنی نماز کو دہراؤ کیونکہ صف کے پیچھے اکیلے کھڑے ہو کر نماز ادا کرنے والے کی نماز نہیں ہوتی۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2203]

2204

Sahih Ibn Hibban #2204

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّغُولِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرِ بْنِ الْحَكَمِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي زِيَادُ بْنُ سَعْدٍ ، أَنَّ قَزَعَةَ ، مَوْلًى لِعَبْدِ الْقَيْسِ أَخْبَرَهُ ، ،أَنَّهُ سَمِعَ عِكْرِمَةَ ، يَقُولُ : قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : صَلَّيْتُ إِلَى جَنْبِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَعَائِشَةُ خَلْفَنَا تُصَلِّي مَعَنَا ، وَأَنَا إِلَى جَنْبِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُصَلِّي مَعَهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلو میں کھڑے ہو کر نماز ادا کی، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا ہمارے پیچھے کھڑی ہو کر نماز ادا کرتی رہیں اور میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلو میں کھڑا ہو کر آپ کی اقتدا میں نماز ادا کرتا رہا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2204]

2205

Sahih Ibn Hibban #2205

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ جَدَّتَهُ مُلَيْكَةَ دَعَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِطَعَامٍ صَنَعَتْهُ ، فَأَكَلَ مِنْهُ ثُمَّ قَالَ : قُومُوا فَلأُصَلِّيَ لَكُمْ " . قَالَ أَنَسٌ : فَقُمْتُ إِلَى حَصِيرٍ لِي قَدِ اسْوَدَّ مِنْ طُولِ مَا لُبِسَ ، فَنَضَحْتُهُ بِمَاءٍ ، فَقَامَ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَصَفَفْتُ أَنَا وَالْيَتِيمُ وَرَاءَهُ ، وَالْعَجُوزُ مِنْ وَرَائِنَا ، فَصَلَّى لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَتَيْنِ ، ثُمَّ انْصَرَفَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ان کی نانی سیدہ ملیکہ رضی اللہ عنہا نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اس کھانے پر دعوت کی جو انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے تیار کیا تھا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے تناول فرمایا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم لوگ اٹھو تاکہ میں تمہیں نماز پڑھاؤں۔“ سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں اٹھ کر اس چٹائی کی طرف گیا جو زیادہ استعمال کی وجہ سے سیاہ ہو چکی تھی، میں نے اسے پانی سے دھویا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس پر کھڑے ہوئے، میں نے اور ایک دوسرے لڑکے نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے صف بنائی اور وہ بوڑھی خاتون ہمارے پیچھے کھڑی ہوئیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں دو رکعات نماز پڑھانے کے بعد نماز ختم کر دی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2205]

2206

Sahih Ibn Hibban #2206

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الْمُخْتَارِ يُحَدِّثُ ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّهُ كَانَ هُوَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأُمُّهُ وَخَالَتُهُ : فَصَلَّى بِهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَجَعَلَ أَنَسًا عَنْ يَمِينِهِ ، وَأُمَّهُ وَخَالَتَهُ خَلْفَهُمَا ". قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : قَدْ جَعَلَ بَعْضُ أَئِمَّتِنَا رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَيْهِمْ خَبَرَ إِسْحَاقَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ أَنَسٍ خَبَرًا مُخْتَصَرًا ، وَخَبَرَ مُوسَى بْنِ أَنَسٍ هَذَا مُتَقَصًّى لَهُ ، وَزَعَمَ أَنَّ أُمَّ سُلَيْمٍ كَانَ مَعَهَا مِثْلُهَا ، خَالَةُ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، وَلَيْسَ عِنْدَنَا كَذَلِكَ ، لأَنَّهُمَا صَلاتَانِ فِي مَوْضِعَيْنِ مُتَبَايِنَيْنِ لا صَلاةً وَاحِدَةً"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ، سیدنا انس رضی اللہ عنہ کی والدہ اور ان کی خالہ موجود تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کو نماز پڑھائی تو سیدنا انس رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دائیں طرف کھڑے ہو گئے اور سیدنا انس رضی اللہ عنہ کی والدہ اور خالہ ان دونوں کے پیچھے کھڑی ہوئیں۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ہمارے بعض ائمہ نے اسحاق بن ابوطلحہ کی سیدنا انس رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول روایت کو مختصر روایت قرار دیا ہے اور موسیٰ بن انس کی روایت اس کی وضاحت کرتی ہے، وہ اس بات کے قائل ہیں کہ اس موقع پر سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا کے ہمراہ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی خالہ بھی موجود تھیں، لیکن ہمارے نزدیک ایسا نہیں ہے کیونکہ یہ دو مختلف نمازیں ہیں جو مختلف موقعوں پر ادا کی گئیں، یہ ایک ہی نماز کا واقعہ نہیں ہے)۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2206]

2207

Sahih Ibn Hibban #2207

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ مُوسَى الْحَادِي ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، وَحَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى بِسَاطٍ ، فَأَقَامَنِي ، عَنْ يَمِينِهِ ، وَقَامَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ ، وَأُمُّ حَرَامٍ خَلْفَنَا ". قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : فِي هَذَا الْخَبَرِ بَيَانٌ وَاضِحٌ ، أَنَّ هَذِهِ الصَّلاةَ خِلافُ الصَّلاةِ الَّتِي حَكَاهَا إِسْحَاقُ بْنُ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، لأَنَّ فِي تِلْكَ الصَّلاةِ قَامَ أَنَسٌ وَالْيَتِيمُ مَعَهُ خَلْفَ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَالْعَجُوزُ وَحْدَهَا وَرَاءَهُمْ ، وَكَانَتْ صَلاتُهُمْ تِلْكَ عَلَى حَصِيرٍ ، وَهَذِهِ الصَّلاةُ قَامَ أَنَسٌ ، عَنْ يَمِينِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأُمُّ سُلَيْمٍ وَأُمُّ حَرَامٍ خَلْفَهُمَا ، وَكَانَتْ صَلاتُهُمْ عَلَى بِسَاطٍ ، فَدَلَّ ذَلِكَ عَلَى أَنَّهُمَا صَلاتَانِ لا صَلاةً وَاحِدَةً"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں چٹائی پر نماز پڑھائی تھی، آپ نے مجھے اپنے دائیں طرف کھڑا کر لیا اور سیدہ ام سلیم اور سیدہ ام حرام رضی اللہ عنہما ہمارے پیچھے کھڑی ہو گئیں۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) اس روایت میں اس بات کا واضح بیان موجود ہے کہ یہ اس نماز سے مختلف تھی جس کا تذکرہ اسحاق بن ابوطلحہ نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ کے حوالے سے کیا ہے، کیونکہ اس نماز میں سیدنا انس رضی اللہ عنہ اور یتیم لڑکا، سیدنا انس رضی اللہ عنہ کے ہمراہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے کھڑے ہوئے تھے، جبکہ بوڑھی خاتون اکیلی ان حضرات کے پیچھے کھڑی ہوئی تھی اور ان لوگوں نے چٹائی پر نماز ادا کی تھی، جبکہ یہ نماز جس میں سیدنا انس رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دائیں طرف کھڑے تھے اور سیدہ ام سلیم اور سیدہ ام حرام رضی اللہ عنہما ان دونوں کے پیچھے کھڑی ہوئی تھیں، یہ نماز بچھونے پر ادا کی گئی تھی۔ تو یہ چیز اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ یہ دو مختلف موقعوں پر ادا کی جانے والی نمازیں تھیں، یہ ایک ہی نماز کا واقعہ نہیں ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2207]

2208

Sahih Ibn Hibban #2208

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَبِي ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : إِذَا اسْتَأْذَنَكُمُ النِّسَاءُ إِلَى الْمَسَاجِدِ فَأْذَنُوا لَهُنَّ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جب خواتین تم سے مسجد میں جانے کی اجازت مانگیں تو تم انہیں اجازت دے دو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2208]

2209

Sahih Ibn Hibban #2209

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ النَّرْسِيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى الْقَطَّانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : لا تَمْنَعُوا إِمَاءَ اللَّهِ مَسَاجِدَ اللَّهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”اللہ کی کنیزوں کو اللہ کی مساجد میں جانے سے نہ روکو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2209]

2210

Sahih Ibn Hibban #2210

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، وَعِيسَى بْنُ يُونُسَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : ائْذَنُوا لِلنِّسَاءِ إِلَى الْمَسَاجِدِ بِاللَّيْلِ ". فَقَالَ بَعْضُ بَنِيهِ : لا تَأْذَنْ لَهُنَّ ، فَيَتَّخِذْنَهُ دَغَلا . قَالَ : فَعَلَ اللَّهُ بِكَ وَفَعَلَ ، أَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَتَقُولُ : لا تَأْذَنْ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”خواتین کو رات کے وقت مساجد کی طرف جانے کی اجازت دو۔“ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے ایک صاحب زادے نے کہا: آپ ان عورتوں کو اجازت نہ دیں، ورنہ وہ اس کو خرابی کا ذریعہ بنا دیں گی۔ تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: اللہ تعالیٰ تمہارے ساتھ یہ کرے اور وہ کرے، میں یہ کہہ رہا ہوں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے اور تم یہ کہتے ہو کہ آپ اجازت نہ دیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2210]

2211

Sahih Ibn Hibban #2211

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، عَنْ بِشْرِ بْنِ الْمُفَضَّلِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : لا تَمْنَعُوا إِمَاءَ اللَّهِ مَسَاجِدَ اللَّهِ وَلْيَخْرُجْنَ تَفِلاتٍ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا زید بن خالد رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”اللہ کی کنیزوں کو اللہ کی مساجد میں جانے سے منع نہ کرو، وہ خوشبو لگائے بغیر (اپنے گھر سے) نکلیں گی۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2211]

2212

Sahih Ibn Hibban #2212

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ أَبِي مُزَاحِمٍ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ هِشَامٍ ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الأَشَجِّ ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ زَيْنَبَ الثَّقَفِيَّةِ ، امْرَأَةِ ابْنِ مَسْعُودٍ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهَا : إِذَا خَرَجْتِ إِلَى الْعِشَاءِ فَلا تَمَسِّينَ طِيبًا ". قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : الإِسْنَادَانِ جَمِيعًا مَحْفُوظَانِ ، وَهُمَا طَرِيقَانِ اثْنَانِ مَتْنَاهُمَا مُخْتَلِفَانِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ زینب رضی اللہ عنہا جو سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی اہلیہ ہیں، وہ بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے یہ فرمایا تھا: ”جب تم عشاء کی نماز کے لیے (اپنے گھر سے) نکلو تو اس وقت تم نے خوشبو نہ لگائی ہوئی ہو۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) اس کی دونوں سندیں محفوظ ہیں اور اس کے دونوں طرق کے متن ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2212]

2213

Sahih Ibn Hibban #2213

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنِ ابْنِ نُمَيْرٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ الزُّهْرِيَّ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَخْبَرَهُ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَاهُ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِذَا اسْتَأْذَنَتْ أَحَدَكُمُ امْرَأَتُهُ إِلَى الْمَسْجِدِ ، فَلا يَمْنَعْهَا ". قَالَ بِلالُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ : وَاللَّهِ لَنَمْنَعُهُنَّ . قَالَ : فَسَبَّهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ أَسْوَأَ مَا سَمِعْتُهُ سَبَّهُ قَطُّ ، وَقَالَ : سَمِعْتَنِي قُلْتُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا اسْتَأْذَنَتْ أَحَدَكُمُ امْرَأَتُهُ إِلَى الْمَسْجِدِ ، فَلا يَمْنَعْهَا " . قُلْتَ : وَاللَّهِ لَنَمْنَعُهُنَّ ؟ !"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبیداللہ بن عبداللہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے اپنے والد (سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما) کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”جب کسی شخص کی بیوی اس سے مسجد میں جانے کی اجازت مانگے تو وہ شخص اس کو منع نہ کرے۔“ اس پر بلال بن عبداللہ بن عمر نے کہا: اللہ کی قسم! ہم تو ان خواتین کو ضرور منع کریں گے۔ راوی کہتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے انہیں بہت برا بھلا کہا، (راوی کہتے ہیں کہ) میں نے انہیں کبھی بھی کسی کو اس سے زیادہ برا کہتے ہوئے نہیں سنا، پھر سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے ارشاد فرمایا: تم نے مجھے سنا ہے کہ میں نے یہ کہا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”جب کسی شخص کی بیوی اس سے مسجد جانے کی اجازت مانگے تو وہ شخص اس کو منع نہ کرے۔“ اور تم پھر بھی یہ کہہ رہے ہو: اللہ کی قسم! ہم تو انہیں ضرور منع کریں گے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2213]

2214

Sahih Ibn Hibban #2214

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيِّ بْنِ بَحْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى الْقَطَّانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : لا تَمْنَعُوا إِمَاءَ اللَّهِ مَسَاجِدَ اللَّهِ ، وَلْيَخْرُجْنَ تَفِلاتٍ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”اللہ کی کنیزوں کو اللہ کی مساجد میں جانے سے نہ روکو البتہ وہ خواتین خوشبو لگائے بغیر (اپنے گھروں سے) نکلیں“۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2214]

2215

Sahih Ibn Hibban #2215

أَخْبَرَنَا ابْنُ خُزَيْمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى الْقَطَّانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ عَجْلانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا بُكَيْرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الأَشَجِّ ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ زَيْنَبَ ، امْرَأَةِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، أَنَّهَا سَمِعَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : إِذَا شَهِدَتْ إِحْدَاكُنَّ الْعِشَاءَ ، فَلا تَمَسَّ طِيبًا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ زینب رضی اللہ عنہا جو سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی اہلیہ ہیں، وہ بیان کرتی ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا: ”جب تم خواتین میں سے کوئی عورت عشاء کی نماز میں شریک ہو، تو وہ خوشبو نہ لگائے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2215]

2216

Sahih Ibn Hibban #2216

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْقَوَارِيرِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ : كُنَّالنِّسَاءُ يُؤْمَرْنَ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الصَّلاةِ أَنْ لا يَرْفَعْنَ رُءُوسَهُنَّ حَتَّى يَأْخُذَ الرِّجَالُ مَقَاعِدَهُمْ مِنَ الأَرْضِ ، مِنْ ضِيقِ الثِّيَابِ ". قَالَ بِشْرٌ : وَقَدْ سَمِعْتُهُ مِنْ أَبِي حَازِمٍ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں خواتین کو نماز کے بارے میں یہ حکم دیا جاتا تھا کہ ”وہ اپنے سر (سجدے سے) اس وقت تک نہ اٹھائیں جب تک مرد اپنی جگہ پر بیٹھ نہیں جاتے۔“ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان مردوں کے کپڑے تنگ ہوتے تھے۔ بشر نامی راوی کہتے ہیں: میں نے یہ روایت ابوحازم سے بھی سنی ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2216]

2217

Sahih Ibn Hibban #2217

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سُوَيْدٍ الأَنْصَارِيِّ ، عَنْ عَمَّتِهِ أُمِّ حُمَيْدٍ امْرَأَةِ أَبِي حُمَيْدٍ السَّاعِدِيِّ ، أَنَّهَا جَاءَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي أُحِبُّ الصَّلاةَ مَعَكَ . قَالَ : قَدْ عَلِمْتُ أَنَّكِ تُحِبِّينَ الصَّلاةَ مَعِي ،وَصَلاتُكِ فِي بَيْتِكَ خَيْرٌ مِنْ صَلاتِكِ فِي حُجْرَتِكِ ، وَصَلاتُكِ فِي حُجْرَتِكِ خَيْرٌ مِنْ صَلاتِكِ فِي دَارِكِ ، وَصَلاتُكِ فِي دَارِكِ خَيْرٌ مِنْ صَلاتِكِ فِي مَسْجِدِ قَوْمِكِ ، وَصَلاتُكِ فِي مَسْجِدِ قَوْمِكِ خَيْرٌ مِنْ صَلاتِكِ فِي مَسْجِدِي ". قَالَ : فَأَمَرَتْ ، فَبُنِيَ لَهَا مَسْجِدٌ فِي أَقْصَى شَيْءٍ مِنْ بَيْتِهَا وَأَظْلَمِهِ ، وَكَانَتْ تُصَلِّي فِيهِ حَتَّى لَقِيَتِ اللَّهَ جَلَّ وَعَلا"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبداللہ بن سوید انصاری اپنی پھوپھی سیدہ ام حمید رضی اللہ عنہا کے حوالے سے نقل کرتے ہیں، یہ سیدنا ابوحمید ساعدی رضی اللہ عنہ کی اہلیہ ہیں، وہ بیان کرتی ہیں کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! مجھے آپ کی اقتداء میں نماز ادا کرنا پسند ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے اس بات کا علم ہے کہ تم میری اقتداء میں نماز ادا کرنے کو پسند کرتی ہو، تاہم تمہارا گھر (کے اندرونی حصے) میں نماز ادا کرنا تمہارے اپنے حجرے (باہر کے قریب والے کمرے) میں نماز ادا کرنے سے بہتر ہے، اور تمہارا اپنے حجرے میں نماز ادا کرنا تمہارے گھر (کے صحن) میں نماز ادا کرنے سے بہتر ہے، اور تمہارا اپنے گھر میں نماز ادا کرنا تمہاری اپنی قوم کی مسجد میں نماز ادا کرنے سے بہتر ہے، اور تمہارا اپنی قوم کی مسجد میں نماز ادا کرنا تمہارا میری مسجد میں نماز ادا کرنے سے بہتر ہے۔“ راوی کہتے ہیں: چنانچہ ان خاتون کی ہدایت کے تحت ان کے لیے گھر کے سب سے دور دراز اور تاریک ترین کونے میں نماز کے لیے جگہ مخصوص کی گئی اور وہ خاتون زندگی بھر اسی جگہ پر نماز ادا کرتی رہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2217]

2218

Sahih Ibn Hibban #2218

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ هَانِئٍ ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ مَحْمُودٍ ، قَالَ : صَلَّيْتُ إِلَى جَنْبِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ بَيْنَ السَّوَارِي ، فَقَالَ : كُنَّا نَتَّقِي هَذَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبدالحمید بن محمود بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے پہلو میں ستونوں کے درمیان نماز ادا کی تو انہوں نے فرمایا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں ہم اس چیز سے بچا کرتے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2218]

2219

Sahih Ibn Hibban #2219

أَخْبَرَنَا ابْنُ خُزَيْمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو قُتَيْبَةَ ، وَيَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ ، عَنْ هَارُونَ أَبِي مُسْلِمٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : كُنَّا نُنْهَى عَنِ الصَّلاةِ بَيْنَ السَّوَارِي ، وَنُطْرَدُ عَنْهَا طَرْدًا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

معاویہ بن قرہ رحمہ اللہ اپنے والد (سیدنا قرہ رضی اللہ عنہ) کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: ”ہمیں ستونوں کے درمیان نماز ادا کرنے سے منع کیا جاتا تھا اور ہمیں ان سے پرے کیا جاتا تھا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2219]

2220

Sahih Ibn Hibban #2220

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : سَأَلْتُ بِلالا : أَيْنَ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ دَخَلَ الْكَعْبَةَ ؟ قَالَ : بَيْنَ الْعَمُودَيْنِ الْمُتَقَدِّمَيْنَ ". قَالَ : وَنَسِيتُ أَنْ أَسْأَلَهُ كَمْ صَلَّى . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : هَذَا الْفِعْلُ يُنْهَى عَنْهُ بَيْنَ السَّوَارِي جَمَاعَةً ، وَأَمَّا اسْتِعْمَالُ الْمَرْءِ مِثْلَهُ مُنْفَرِدًا فَجَائِزٌ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب خانہ کعبہ کے اندر تشریف لے گئے تھے تو آپ نے کہاں نماز پڑھی تھی؟ تو انہوں نے بتایا کہ سامنے والے دو ستونوں کے درمیان۔ راوی کہتے ہیں کہ مجھے یہ خیال نہیں رہا کہ میں ان سے یہ سوال کرتا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کتنی رکعات ادا کی تھیں؟ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) وہ فعل یہ ہے کہ ستونوں کے درمیان باجماعت نماز ادا کرنے سے منع کیا گیا ہے، جہاں تک آدمی کے انفرادی طور پر ستونوں کے درمیان نماز ادا کرنے کا تعلق ہے تو یہ جائز ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2220]

2221

Sahih Ibn Hibban #2221

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَرْمَلَةَ ، عَنْ أَبِي عَلِيٍّ الْهَمْدَانِيِّ ، قَالَ : سَمِعْتُ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : مَنْ أُمَّ النَّاسَ فَأَصَابَ الْوَقْتَ ، وَأَتَمَّ الصَّلاةَ فَلَهُ وَلَهُمْ ، وَمَنِ انْتَقَصَ مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا فَعَلَيْهِ وَلا عَلَيْهِمْ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عقبہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جو شخص لوگوں کی امامت کرے اور وقت پر نماز ادا کرے اور مکمل نماز ادا کرے تو اسے بھی ثواب ملے گا اور لوگوں کو بھی ثواب ملے گا، اگر اس میں سے وہ کوئی کمی کرے تو اس شخص پر اس کا وبال ہوگا، لوگوں پر اس کا وبال نہیں ہوگا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2221]

2222

Sahih Ibn Hibban #2222

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ حَجَّاجٍ الصَّوَّافِ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : إِذَا أُقِيمَتِ الصَّلاةُ ، فَلا تَقُومُوا حَتَّى تَرَوْنِي """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن ابوقتادہ اپنے والد (سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ) کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جب نماز کے لیے اقامت کہہ دی جائے، تو تم لوگ اس وقت تک کھڑے نہ ہو جب تک مجھے دیکھ نہیں لیتے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2222]

2223

Sahih Ibn Hibban #2223

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُحَمَّدٍ الدَّغُولِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُشْكَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِذَا أُقِيمَتِ الصَّلاةُ ، فَلا تَقُومُوا حَتَّى تَرَوْنِي قَدْ خَرَجْتُ إِلَيْكُمْ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبداللہ بن ابی قتادہ اپنے والد (رضی اللہ عنہ) کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جب نماز کے لیے اقامت کہہ دی جائے، تو تم لوگ اس وقت تک کھڑے نہ ہو جب تک مجھے دیکھ نہیں لیتے کہ میں تمہاری طرف آ گیا ہوں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2223]

2224

Sahih Ibn Hibban #2224

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَبَّادُ بْنُ زِيَادٍ ، أَنَّ عُرْوَةَ بْنَ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ أَخْبَرَهُ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَاهُ يَقُولُ : عَدَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَنَا مَعَهُ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ قَبْلَ الْفَجْرِ ، فَعَدَلْتُ مَعَهُ ، فَأَنَاخَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَبَرَّزَ ثُمَّ جَاءَنِي ، فَسَكَبْتُ عَلَى يَدَيْهِ مِنَ الإِدَاوَةِ ، فَغَسَلَ كَفَّيْهِ ، ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ ، ثُمَّ حَسَرَ عَنْ ذِرَاعَيْهِ ، فَضَاقَ كُمُّ جُبَّتِهِ ، فَأَدْخَلَ يَدَيْهِ فَأَخْرَجَهُمَا مِنْ تَحْتِ الْجُبَّةِ ، فَغَسَلَهُمَا إِلَى الْمِرْفَقِ وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ ، ثُمَّ تَوَضَّأَ عَلَى خُفَّيْهِ ، ثُمَّ رَكِبَ ، فَأَقْبَلْنَا نَسِيرُ حَتَّى نَجْدَ النَّاسَ فِي الصَّلاةِ ، قَدَّمُوا عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ ، فَصَلَّى بِهِمْ حِينَ كَانَ وَقْتُ الصَّلاةِ ، وَوَجَدْنَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ قَدْ رَكَعَ بِهِمْ رَكْعَةً مِنْ صَلاةِ الْفَجْرِ ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَ الْمُسْلِمِينَ ، وَرَاءَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، فَصَلَّى الرَّكْعَةَ الثَّانِيَةَ مِنْ صَلاةِ الْفَجْرِ ، ثُمَّ سَلَّمَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُتِمُّ صَلاتَهُ ، فَفَزِعَ الْمُسْلِمُونَ وَأَكْثَرُوا التَّسْبِيحَ لأَنَّهُمْ سَبَقُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَلَمَّا سَلَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ لَهُمْ : أَحْسَنْتُمْ ، أَوْ قَدْ أَصَبْتُمْ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عروہ بن مغیرہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے اپنے والد (سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ) کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ تبوک کے موقع پر فجر سے پہلے راستے سے ہٹ گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ میں بھی ہٹ گیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی سواری کو بٹھایا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم قضائے حاجت کے لیے تشریف لے گئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے۔ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دونوں ہاتھوں پر برتن سے پانی انڈیلا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھوں کو دھویا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے چہرے کو دھویا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی کلائی کو باہر نکالنے کی کوشش کی لیکن جبے کی آستین تنگ تھی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھ اندر داخل کیے اور جبے کے نیچے سے باہر نکالے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں کہنیوں تک دھویا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے سر کا مسح کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے موزوں پر وضو کیا (یعنی مسح کیا)، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سوار ہوئے، کچھ ہی دور چلنے کے بعد ہم ان لوگوں تک پہنچ گئے جو نماز ادا کر رہے تھے۔ انہوں نے سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کو آگے کیا تھا اور وہ انہیں نماز پڑھا رہے تھے، اس وقت جب نماز کا وقت ہو چکا تھا۔ ہم نے سیدنا عبدالرحمن رضی اللہ عنہ کو ایسی حالت میں پایا کہ وہ ان لوگوں کو فجر کی نماز کی ایک رکعت پڑھا چکے تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسلمانوں کے ساتھ سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کے پیچھے کھڑے ہو گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فجر کی نماز کی دوسری رکعت ادا کی، جب سیدنا عبدالرحمن رضی اللہ عنہ نے سلام پھیرا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی نماز مکمل کرنے کے لیے کھڑے ہو گئے۔ مسلمان اس پر گھبرا گئے، انہوں نے بکثرت «سُبْحَانَ اللّٰهِ» ”اللہ پاک ہے“ کہنا شروع کر دیا کیونکہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے آگے نکلنے کی کوشش کی تھی، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے ارشاد فرمایا: ”تم لوگوں نے اچھا کیا ہے۔“ (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں:) ”تم لوگوں نے ٹھیک کیا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2224]

2225

Sahih Ibn Hibban #2225

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ بُرْقَانَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ حَمْزَةَ ، وَعُرْوَةَ ابني المغيرة بن شعبة ، عَنْ أَبِيهِمَا الْمُغِيرَةِ ، قَالَ : تَبَرَّزَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ جَاءَ ، فَأَفْرَغْتُ عَلَيْهِ مِنَ الإِدَاوَةِ ، فَغَسَلَ وَجْهَهُ ، ثُمَّ ذَهَبَ يَحْسِرُ عَنْ ذِرَاعَيْهِ فَضَاقَ كُمُّ جُبَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَهِيَ صُوفٌ رُومِيَّةٌ ، فَأَدْخَلَ يَدَهُ فِي فُرُوجٍ كَانَ فِي خَصْرِهَا ، فَغَسَلَهُمَا إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ ، وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ ، وَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ ، ثُمَّ أَقْبَلَ ، وَأَنَا مَعَهُ ، فَوَجَدَ النَّاسَ فِي الصَّلاةِ ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الصَّفِّ ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ يَؤُمُّهُمْ ، فَأَدْرَكْنَاهُ وَقَدْ صَلَّى رَكْعَةً ، فَصَلَّيْنَا مَعَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الثَّانِيَةَ ، فَلَمَّا سَلَّمَ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَتَمَّ صَلاتَهُ ، فَفَزِعَ النَّاسُ لِذَلِكَ ، فَلَمَّا قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلاتَهُ ، قَالَ : قَدْ أَصَبْتُمْ ، وَأَحْسَنْتُمْإِذَا احْتَبَسَ إِمَامُكُمْ ، وَحَضَرَتِ الصَّلاةُ ، فَقَدِّمُوا رَجُلا يَؤُمُّكُمْ ". قَصَّرَ جَعْفَرُ بْنُ بُرْقَانَ فِي سَنَدِ هَذَا الْخَبَرِ وَلَمْ يَذْكُرْ عَبَّادَ بْنَ زِيَادٍ فِيهِ ، لأَنَّ الزُّهْرِيَّ سَمِعَ هَذَا الْخَبَرَ مِنْ عَبَّادِ بْنِ زِيَادٍ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، وَسَمِعَهُ عَنْ حَمْزَةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ أَبِيهِ . قَالَهُ : أَبُو حَاتِمٍ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا مغیرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم قضائے حاجت کے لیے تشریف لے گئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو میں نے برتن میں سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر پانی انڈیلا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے چہرے کو دھویا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی کلائیاں باہر نکالنے لگے تو جبے کی آستین تنگ تھی، وہ اون کا بنا ہوا رومی جبہ تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دستِ مبارک اس جگہ سے باہر نکالا جو کھلی تھی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلو کے پاس تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں بازو کہنیوں تک دھوئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے سر کا مسح کیا اور دونوں موزوں پر مسح کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو نماز کی حالت میں پایا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بھی صف میں کھڑے ہو گئے۔ سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ ان لوگوں کی امامت کر رہے تھے۔ ہم نے انہیں ایسی حالت میں پایا کہ وہ ایک رکعت پڑھا چکے تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کی اقتدا میں دوسری رکعت ادا کی، جب انہوں نے سلام پھیرا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور اپنی نماز مکمل کی تو لوگ اس بات سے گھبرا گئے۔ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی نماز مکمل کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم لوگوں نے ٹھیک کیا ہے، تم نے اچھا کیا ہے، جب تمہارا امام نہ آ سکے اور نماز کا وقت ہو جائے تو تم کسی شخص کو آگے کر دو جو تمہیں نماز پڑھائے۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) جعفر بن برقان نے اس روایت کی سند کو مختصر نقل کیا ہے، انہوں نے اس کی سند میں عباس بن زیاد کا تذکرہ نہیں کیا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ زہری نے یہ روایت عباس بن زیاد کے حوالے سے عروہ بن مغیرہ کے حوالے سے سنی ہے اور انہوں نے یہ روایت حمزہ بن مغیرہ کے حوالے سے ان کے والد سے بھی سنی ہے۔ یہ بات امام ابو حاتم رحمہ اللہ نے بیان کی ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2225]

2226

Sahih Ibn Hibban #2226

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْعَبْدِيُّ ، وَحَفْصُ بْنُ عُمَرَ الْحَوْضِيُّ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : أَبُو إِسْحَاقَ أَخْبَرَنِي ، قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ يَزِيدَ ، يَقُولُ : حَدَّثَنَا الْبَرَاءُ وَكَانَ غَيْرَ كَذُوبٍ ، أَنَّهُمْ كَانُوا : إِذَا صَلُّوا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَامُوا قِيَامًا حَتَّى يَرَوْهُ قَدْ سَجَدَ ، ثُمَّ يَسْجُدُونَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا براء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، اور انہوں نے غلط بیانی نہیں کی، وہ کہتے ہیں کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز ادا کرتے تھے (تو رکوع) سے سر اٹھانے کے بعد کھڑے رہتے تھے، یہاں تک کہ جب وہ آپ کو دیکھتے کہ آپ سجدے میں چلے گئے ہیں، تو پھر وہ لوگ سجدے میں جاتے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2226]

2227

Sahih Ibn Hibban #2227

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ السَّامِيُّ ، وكاملُ بْنُ طَلْحَةَ الْجَحْدَرِيُّ ، قَالا : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْبَرَاءُ ، وَهُوَ غَيْرُ كَذُوبٍ ، قَالَ : كُنَّاإِذَا صَلَّيْنَا خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، لَمْ نَزَلْ قِيَامًا حَتَّى نَرَاهُ قَدْ سَجَدَ ، ثُمَّ نَسْجُدُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا براء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے جب نماز ادا کرتے تھے، تو (رکوع سے سر اٹھانے) کے بعد اس وقت تک کھڑے رہتے تھے جب تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سجدے میں جاتا ہوا نہ دیکھ لیتے تھے، پھر ہم سجدے میں جاتے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2227]

2228

Sahih Ibn Hibban #2228

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ أَبَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الإِفْرِيقِيِّ ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : سَيَأْتِي أَقْوَامٌ ، أَوْ يَكُونُ أَقْوَامٌ يُصَلُّونَ الصَّلاةَ ، فَإِنْ أَتَمُّوا فَلَكُمْ وَلَهُمْ ، وَإِنْ نَقَصُوا فَعَلَيْهِمْ وَلَكُمْ ". قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : أَبُو أَيُّوبَ الإِفْرِيقِيُّ اسْمُهُ : عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَلِيٍّ ، مِنْ ثِقَاتِ أَهْلِ الْكُوفَةِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”عنقریب ایسے لوگ آئیں گے (راوی کو شک ہے، شاید یہ الفاظ ہیں) ایسے لوگ ہوں گے، جو نماز ادا کریں گے، اگر وہ نماز کو مکمل ادا کریں گے تو تمہیں بھی ثواب ملے گا اور انہیں بھی ملے گا اور اگر وہ اس میں کمی کریں گے تو اس کا وبال ان پر ہوگا اور تمہیں ثواب مل جائے گا۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) ابوایوب افریقی نامی راوی کا نام عبداللہ بن علی ہے اور یہ کوفہ سے تعلق رکھنے والے ثقہ راوی ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2228]

2229

Sahih Ibn Hibban #2229

حَدَّثَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ عَجْلانَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ حِبَّانَ ، عَنِ ابْنِ مُحَيْرِيزٍ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لا تُبَادِرُونِي بِالرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ ، فَإِنِّي مَهْمَا أَسْبِقْكُمْ بِهِ إِذَا رَكَعْتُ ، تُدْرِكُونِي بِهِ إِذَا سَجَدْتُ ، وَمَهْمَا أَسْبِقْكُمْ بِهِ إِذَا سَجَدْتُ ، تُدْرِكُونِي بِهِ إِذَا رَفَعْتُ ، إِنِّي قَدْ بَدَّنْتُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا معاویہ بن ابوسفیان رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”تم لوگ مجھ سے پہلے رکوع یا سجدے میں جانے کی کوشش نہ کرو کیونکہ میں تم سے پہلے جتنی دیر کے لیے رکوع میں جاؤں گا تم مجھے اس وقت اس حالت میں پا لو گے جب میں سجدے میں جاؤں گا اور تم سے پہلے سجدے میں جتنی دیر پہلے جاؤں گا، تو تم مجھے اس وقت پا لو گے جب میں سر اٹھاؤں گا۔ اس کی وجہ یہ ہے، میرا وزن زیادہ ہو چکا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2229]

2230

Sahih Ibn Hibban #2230

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنِ ابْنِ عَجْلانَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ مُحَيْرِيزٍ ، سَمِعَ مُعَاوِيَةَ ، عَلَى الْمِنْبَرِ يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لا تَسْبِقُونِي بِالرُّكُوعِ وَلا بِالسُّجُودِ ، فَإِنِّي قَدْ بَدَّنْتُ ، وَإِنِّي مَهْمَا أَسْبِقْكُمْ بِهِ حِينَ أَرْكَعُ ، تُدْرِكُونِي بِهِ حِينَ أَرْفَعُ ، وَمَا سَبَقْتُكُمْ بِهِ حِينَ أَسْجُدُ ، تُدْرِكُونِي بِهِ حِينَ أَرْفَعُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے منبر پر یہ بات بیان کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”تم لوگ مجھ سے پہلے رکوع یا سجدے میں جانے کی کوشش نہ کرو کیونکہ میرا وزن زیادہ ہو گیا ہے۔ رکوع میں جاتے ہوئے میں تم سے پہلے جاؤں گا، تو تم مجھے اس وقت پا لو گے جب میں رکوع سے سر اٹھاؤں گا اور تم سے پہلے، جب میں سجدے میں جاؤں گا، تو تم مجھے اس وقت پا لو گے جب میں (سجدے سے سر کو) اٹھاؤں گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2230]

2231

Sahih Ibn Hibban #2231

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا عَمِّي ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : أَيُّهَا النَّاسُ ،إِنِّي قَدْ بَدَّنْتُ ، أَوْ بَدَّنْتُ فَلا تَسْبِقُونِي بِالرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ ، وَلَكِنِّي أَسْبِقُكُمْ ، إِنَّكُمْ تُدْرِكُونَ مَا فَاتَكُمْ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”اے لوگو! میرا وزن زیادہ ہو گیا ہے، تو تم لوگ مجھ سے پہلے رکوع یا سجدے میں نہ جاؤ بلکہ میں تم سے پہلے جاؤں گا، تم لوگ وہاں تک پہنچ جاؤ گے جو پہلے گزر جائے گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2231]

2232

Sahih Ibn Hibban #2232

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلاءِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي أَبُو مَعْبَدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : كُنْتُأَعْرِفُ انْقِضَاءَ صَلاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالتَّكْبِيرِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: مجھے تکبیر (کی آواز) کے ذریعے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز ختم ہونے کا پتا چل جاتا تھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2232]