Muslim99Muslim99

Sahih Ibn Hibban · Book 20 · Chapter 3

Book of Manumission

Hadith 2233–2266

34 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

2233

Sahih Ibn Hibban #2233

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ : أَخْبَرَتْنِي هِنْدُ بِنْتُ الْحَارِثِ الْفِرَاسِيَّةُ ، أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَتْهَا : أَنَّالنِّسَاءَ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُنَّ إِذَا سَلَّمْنَ مِنَ الصَّلاةِ ، قُمْنَ ، وَثَبَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَمَنْ صَلَّى مَعَهُ مِنَ الرِّجَالِ مَا شَاءَ اللَّهُ ، فَإِذَا قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَامَ الرِّجَالُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا، جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ ہیں، وہ بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں خواتین سلام پھیرنے کے ساتھ ہی اٹھ جاتی تھیں، جبکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی اقتداء میں نماز ادا کرنے والے مرد حضرات، جب تک اللہ کو منظور ہوتا تھا، بیٹھے رہتے تھے، پھر جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اٹھتے تھے، تو مرد حضرات بھی اٹھتے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2233]

2234

Sahih Ibn Hibban #2234

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ هِنْدَ بِنْتِ الْحَارِثِ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ : كُنَّ النِّسَاءُ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، إِذَا سَلَّمَ مِنَ الْمَكْتُوبَةِ قُمْنَ ، وَثَبَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَمَنْ صَلَّى خَلْفَهُ مِنَ الرِّجَالِ ، فَإِذَا قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَامَ الرِّجَالُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں خواتین اس وقت اٹھ جاتی تھیں جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرض نماز کا سلام پھیرتے تھے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے پیچھے نماز ادا کرنے والے مرد حضرات بیٹھے رہتے تھے، پھر جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اٹھتے تھے، تو مرد حضرات بھی اٹھ جاتے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2234]

2235

Sahih Ibn Hibban #2235

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ زِيَادٍ الأَعْلَمِ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : كَبَّرَ فِي صَلاةِ الْفَجْرِ يَوْمًا ، ثُمَّ أَوْمَأَ إِلَيْهِمْ ، ثُمَّ انْطَلَقَ ، فَاغْتَسَلَ ، فَجَاءَ وَرَأْسُهُ يَقْطُرُ فَصَلَّى بِهِمْ "، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : قَوْلُ أَبِي بَكْرَةَ : " فَصَلَّى بِهِمْ " ، أَرَادَ : يَبْدَأُ بِتَكْبِيرٍ مُحْدَثٍ ، لا أَنَّهُ رَجَعَ فَبَنَى عَلَى صَلاتِهِ ، إِذْ مُحَالٌ أَنْ يَذْهَبَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيَغْتَسِلَ ، وَيَبْقَى النَّاسُ كُلُّهُمْ قِيَامًا عَلَى حَالَتِهِمْ مِنْ غَيْرِ إِمَامٍ لَهُمْ إِلَى أَنْ يَرْجِعَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَمَنِ احْتَجَّ بِهَذَا الْخَبَرِ فِي إِبَاحَةِ الْبِنَاءِ عَلَى الصَّلاةِ ، لَزِمَهُ أَنْ لا يُفْسِدَ وُقُوفَ الْمَأْمُومِ بِلا إِمَامٍ مِقْدَارَ مَا ذَهَبَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاغْتَسَلَ إِلَى أَنْ رَجَعَ مِنْ غَيْرِ قِرَاءَةٍ تَكُونُ مِنْهُمْ ، وَلَمَّا صَحَّ نَفْيُهُمْ جَوَازَ مَا وَصَفْنَا ، صَحَّ أَنَّ الْبِنَاءَ غَيْرُ جَائِزٍ فِي الصَّلاةِ ، وَيَلْزَمُهُمْ مِنْ جِهَةٍ أُخْرَى أَنْ يُوجِبُوا الْقِرَاءَةَ خَلْفَ الإِمَامِ ، لأَنَّهُ لا بُدَّ مِنْ أَحَدِ الأَمْرَيْنِ : إِمَّا أَنْ يُجِيزُوا وُقُوفَ الْمَأْمُومِينَ فِي صَلاتِهِمْ بِلا قِرَاءَةٍ وَلا إِمَامٍ مُدَّةَ مَا وَصَفْنَا ، أَوْ لِيُسَوِّغُوا لِلْمَأْمُومِينَ الَّذِينَ وَصَفْنَا نَعْتَهُمُ الْقِرَاءَةَ خَلْفَ الإِمَامِ ، وَإِنْ لَمْ يَكُنْ قُدَّامَهُمْ إِمَامٌ قَائِمٌ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن فجر کی نماز میں تکبیر کہی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کی طرف اشارہ کیا (کہ وہ ٹھہرے رہیں) پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے غسل کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر سے قطرے ٹپک رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو نماز پڑھائی۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کا یہ کہنا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں نماز پڑھائی، اس سے مراد یہ ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نئے سرے سے تکبیر کہہ کر ایسا کیا۔ اس سے یہ مراد نہیں ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے واپس تشریف لا کر پہلے والی نماز پر بناء قائم کی، کیونکہ یہ بات ناممکن ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے جا کر غسل کریں اور لوگ سارے کے سارے اپنی حالت میں کسی امام کے بغیر قیام کی حالت میں کھڑے رہیں یہاں تک کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم واپس آ جائیں۔ جس شخص نے اس روایت کے ذریعے یہ استدلال کیا ہے کہ نماز پر بناء قائم کرنا مباح ہے، اس کے لیے یہ بات ضروری ہے کہ وہ امام کے بغیر مقتدی کے کھڑے ہونے کو فاسد قرار نہ دے جس کی مقدار اتنی ہو جتنی دیر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے گئے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے غسل کیا تھا، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم واپس تشریف لے آئے تھے اور اس دوران مقتدیوں نے قرأت بھی نہ کی ہو۔ تو جب اس کا ہماری ذکر کردہ چیز کے جائز ہونے کی نفی کرنا درست ہو گا تو یہ بات بھی ثابت ہو جائے گی کہ نماز کے دوران بناء قائم کرنا جائز نہیں ہے۔ اور ان لوگوں پر نئے سرے سے یہ بات لازم ہو گی کہ وہ امام کے پیچھے قرأت کو لازم قرار دیں، کیونکہ ان دونوں میں سے کوئی ایک معاملہ ضروری ہو گا: یا تو وہ مقتدیوں کے نماز کے دوران کسی قرأت اور امام کے بغیر کھڑے رہنے کو جائز قرار دیں گے جس کی مدت اتنی ہو جتنی ہم نے ذکر کی ہے، یا پھر ایسا ہے کہ ان مقتدیوں کو وہ اس طرف لے کر جائیں گے جس کا ہم نے ذکر کیا ہے کہ انہیں امام کے پیچھے قرأت کرنی پڑے گی، اگرچہ ان کے آگے امام کھڑا نہ ہو۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2235]

2236

Sahih Ibn Hibban #2236

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ، قَالَ : خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْأُقِيمَتِ الصَّلاةُ وَعُدِّلَتِ الصُّفُوفُ ، حَتَّى إِذَا قَامَ فِي مُصَلاهُ ، وَانْتَظَرْنَا أَنْ يُكَبِّرَ ، انْصَرَفَ ، وَقَالَ : عَلَى مَكَانِكُمْ " ، وَدَخَلَ بَيْتَهُ ، وَمَكَثْنَا عَلَى هَيْئَتِنَا حَتَّى خَرَجَ إِلَيْنَا يَنْطِفُ رَأْسُهُ وَقَدِ اغْتَسَلَ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : هَذَانِ فِعْلانِ فِي مَوْضِعَيْنِ مُتَبَايِنَيْنِ ، خَرَجَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّةً فَكَبَّرَ ، ثُمَّ ذَكَرَ أَنَّهُ جُنُبٌ ، فَانْصَرَفَ فَاغْتَسَلَ ، ثُمَّ جَاءَ ، فَاسْتَأْنَفَ بِهِمُ الصَّلاةَ ، وَجَاءَ مَرَّةً أُخْرَى ، فَلَمَّا وَقَفَ لِيُكَبِّرَ ، ذَكَرَ أَنَّهُ جُنُبٌ قَبْلَ أَنْ يُكَبِّرَ فَذَهَبَ فَاغْتَسَلَ ، ثُمَّ رَجَعَ ، فَأَقَامَ بِهِمُ الصَّلاةَ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَكُونَ بَيْنَ الْخَبَرَيْنِ تَضَادٌّ وَلا تَهَاتُرٌ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے، نماز کے لیے اقامت کہی جا چکی تھی اور صفیں درست ہو چکی تھیں، یہاں تک کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی جائے نماز پر کھڑے ہوئے اور ہم آپ کے تکبیر کہنے کے منتظر تھے، تو آپ واپس تشریف لے گئے۔ آپ نے ارشاد فرمایا: ”تم اپنی جگہ پر ٹھہرے رہو۔“ پھر آپ گھر میں تشریف لے گئے، کچھ دیر وہیں ٹھہرے رہے، پھر آپ ہمارے پاس تشریف لائے تو آپ کے سر سے پانی ٹپک رہا تھا، آپ نے غسل کیا تھا۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) یہ دونوں فعل دو مختلف مواقع پر سرانجام پائے تھے۔ ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے گئے تھے، آپ نے تکبیر کہہ دی تھی، پھر آپ کو یہ یاد آیا کہ آپ جنابت کی حالت میں ہیں، پھر آپ باہر چلے گئے، پھر آپ نے غسل کیا، پھر آپ تشریف لائے اور آپ نے نئے سرے سے ان کو نماز پڑھائی۔ جبکہ دوسری مرتبہ آپ تشریف لائے، جب آپ تکبیر کہنے کے لیے کھڑے ہوئے تو آپ کو یہ بات یاد آئی کہ آپ جنابت کی حالت میں ہیں، یہ آپ کو تکبیر کہنے سے پہلے یاد آیا تھا، آپ تشریف لے گئے تھے، آپ نے غسل کیا، پھر آپ واپس تشریف لائے اور آپ نے ان لوگوں کو نماز پڑھائی۔ اس صورت میں ان دونوں روایات کے درمیان کوئی تضاد اور کوئی اختلاف باقی نہیں رہے گا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2236]

2237

Sahih Ibn Hibban #2237

وَلا تَأْتُوا النِّسَاءَ فِي أَدْبَارِهِنَّ "، لَمْ يَقُلْ : " وَلْيُعِدْ صَلاتَهُ " إِلا جَرِيرٌ ، قَالَهُ أَبُو حَاتِمٍ ، وَفِيهِ دَلِيلٌ عَلَى أَنَّ الْبِنَاءَ عَلَى الصَّلاةِ لِلْمُحْدِثِ غَيْرُ جَائِزٍ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا علی بن طلق حنفی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جب کسی شخص کی نماز کے دوران ہوا خارج ہو جائے، تو وہ واپس جائے پھر وضو کرے اور دوبارہ نماز ادا کرے اور تم خواتین کے ساتھ ان کی پچھلی شرم گاہ میں صحبت نہ کرو۔“ راوی نے یہ الفاظ نقل نہیں کیے کہ ”پھر وہ اپنی نماز کو دہرائے“ صرف جلیل نامی راوی نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں۔ یہ بات امام ابو حاتم رحمہ اللہ نے بیان کی ہے اور اس میں اس بات کی دلیل موجود ہے کہ بے وضو ہونے والے شخص کے لیے نماز پر بنا قائم کرنا جائز نہیں ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2237]

2238

Sahih Ibn Hibban #2238

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ بِنَصِيبِينَ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ شَبَّةَ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَلِيٍّ الْمُقَدَّمِيُّ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : إِذَا أَحْدَثَ أَحَدُكُمْ وَهُوَ فِي الصَّلاةِ ، فَلْيَأْخُذْ عَلَى أَنْفِهِ ، ثُمَّ لِيَنْصَرِفْ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جب کسی شخص کا وضو نماز کے دوران ٹوٹ جائے، تو اسے اپنی ناک کو پکڑ لینا چاہیے اور پلٹ آنا چاہیے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2238]

2239

Sahih Ibn Hibban #2239

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلانَ ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ : إِذَا أَحْدَثَ أَحَدُكُمْ وَهُوَ فِي الصَّلاةِ ، فَلْيَأْخُذْ عَلَى أَنْفِهِ ، ثُمَّ لِيَنْصَرِفْ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتی ہیں: ”جب کسی شخص کا وضو نماز کے دوران ٹوٹ جائے، تو اسے اپنی ناک پکڑ لینی چاہیے اور پھر واپس جانا چاہیے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2239]

2240

Sahih Ibn Hibban #2240

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الذُّهْلِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ كَثِيرٍ الْكَاهِلِيِّ ، عَنِ الْمُسَوَّرِ بْنِ يَزِيدَ الأَسَدِيِّ ، قَالَ : شَهِدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَيَقْرَأُ فِي الصَّلاةِ ، فَتَرَكَ شَيْئًا لَمْ يَقْرَأْهُ ، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ! تَرَكْتَ آيَةَ كَذَا وَكَذَا ، قَالَ : فَهَلا أَذْكَرْتُمُونِيهَا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا مسور بن یزید اسدی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں اس وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھا جب آپ نماز کے دوران تلاوت کر رہے تھے، آپ نے درمیان میں سے کچھ حصہ چھوڑ دیا جس کی آپ نے تلاوت نہیں کی۔ (نماز کے بعد) ایک صاحب نے آپ کی خدمت میں عرض کی: یا رسول اللہ ( صلی اللہ علیہ وسلم )! آپ نے فلاں فلاں آیت کو چھوڑ دیا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”تم نے اسے مجھے یاد کیوں نہیں کروایا؟“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2240]

2241

Sahih Ibn Hibban #2241

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ كَثِيرٍ الْكُوفِيُّ شَيْخٌ لَهُ قَدِيمٌ ، قَالَ : حَدَّثَنِي الْمُسَوَّرِ بْنُ يَزِيدَ ، قَالَ : شَهِدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَقَرَأَ فِي الصَّلاةِ ، فَتَعَايَى فِي آيَةٍ ، فَقَالَ رَجُلٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّكَ تَرَكْتَ آيَةً ، قَالَ : فَهَلا أَذْكَرْتُمُونِيهَا ؟ " ، قَالَ : ظَنَنْتُ أَنَّهَا قَدْ نُسِخَتْ ، قَالَ : " فَإِنَّهَا لَمْ تُنْسَخْ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا مسور بن یزید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں اس وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھا جب آپ نے نماز کے دوران قرأت کرتے ہوئے ایک آیت کو چھوڑ دیا، (نماز کے بعد) ایک صاحب نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ نے ایک آیت کو چھوڑ دیا تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے مجھے یاد کیوں نہیں کروایا؟“ اس نے عرض کی: میں نے یہ گمان کیا، شاید یہ منسوخ ہو گئی ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”وہ منسوخ نہیں ہوئی ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2241]

2242

Sahih Ibn Hibban #2242

أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بَحْرِ بْنِ مُعَاذٍ الْبَزَّازُ ، بِنَسَا ، قَالَ : حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ شَابُورَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْعَلاءِ بْنِ زَبْرٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى صَلاةً ، فَالْتُبِسَ عَلَيْهِ ، فَلَمَّا فَرَغَ ، قَالَ لأَبِي : أَشَهِدْتَ مَعَنَا ؟ " قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : " فَمَا مَنَعَكَ أَنْ تَفْتَحَهَا عَلَيَّ ؟ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سالم بن عبداللہ اپنے والد (سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما) کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک نماز ادا کر رہے تھے، اس دوران آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو شبہ لاحق ہوا، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ کر فارغ ہوئے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے والد سے فرمایا: ”کیا تم ہمارے ساتھ (نماز میں) شریک تھے؟“ انہوں نے عرض کی: جی ہاں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر تم نے مجھے لقمہ کیوں نہیں دیا؟“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2242]

2243

Sahih Ibn Hibban #2243

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : كُنَّا نُسَلِّمُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَيَرُدُّ عَلَيْنَا ، يَعْنِي فِي الصَّلاةِ ، فَلَمَّا أَنْ جِئْنَا مِنْ أَرْضِ الْحَبَشَةِ ، سَلَّمْتُ عَلَيْهِ ، فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ ، فَأَخَذَنِي مَا قَرُبَ وَمَا بَعُدَ ، فَجَلَسْتُ حَتَّى قَضَى الصَّلاةَ ، قُلْتُ لَهُ : إِنَّكَ كُنْتَ تَرُدُّ عَلَيْنَا ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّ اللَّهَ يُحْدِثُ مِنْ أَمْرِهِ مَا شَاءَ ، وَقَدْ أَحْدَثَ مِنْ أَمْرِهِ قَضَاءً أَنْلا تَكَلَّمُوا فِي الصَّلاةِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: پہلے ہم لوگ (نماز کے دوران) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کرتے تھے، تو آپ ہمیں سلام کا جواب دیا کرتے تھے۔ راوی کہتے ہیں: یعنی نماز کے دوران ایسا ہوتا تھا، پھر جب ہم حبشہ کی سرزمین سے (مدینہ منورہ) آئے، تو میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو (آپ کے نماز پڑھنے کے دوران) سلام کیا، تو آپ نے مجھے جواب نہیں دیا۔ مجھے طرح طرح کے اندیشے آنے لگے۔ میں بیٹھ گیا یہاں تک کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز مکمل کی تو میں نے آپ کی خدمت میں عرض کی: پہلے، تو آپ ہمیں سلام کا جواب دے دیتے تھے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اللہ تعالیٰ جو چاہے نیا فیصلہ دے سکتا ہے اور اس نے اس بارے میں نیا فیصلہ یہ دیا ہے، تم لوگ نماز کے دوران کلام نہ کرو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2243]

2244

Sahih Ibn Hibban #2244

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ الرَّمَادِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ أَبِي النَّجُودِ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : كُنَّا نُسَلِّمُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي الصَّلاةِ فَيَرُدُّ عَلَيْنَا قَبْلَ أَنْ نَأْتِيَ أَرْضَ الْحَبَشَةِ ، فَلَمَّا رَجَعْنَا مِنْ عِنْدِ النَّجَاشِيِّ ، أَتَيْتُهُ وَهُوَ يُصَلِّي فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ ، فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ السَّلامَ ، فَأَخَذَنِي مَا قَرُبَ وَمَا بَعُدَ ، فَجَلَسْتُ أَنْتَظِرُهُ ، فَلَمَّا قَضَى الصَّلاةَ ، قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، سَلَّمْتُ عَلَيْكَ وَأَنْتَ تُصَلِّي فَلَمْ تَرُدَّ عَلَيَّ السَّلامَ ، فَقَالَ : إِنَّ اللَّهَ يُحْدِثُ مِنْ أَمْرِهِ مَا يَشَاءُ ، وَقَدْ أَحْدَثَ أَنْلا نَتَكَلَّمَ فِي الصَّلاةِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: پہلے ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کرتے تھے، اس وقت جب آپ نماز پڑھ رہے ہوتے تھے، تو آپ ہمیں سلام کا جواب دے دیا کرتے تھے، یہ ہمارے حبشہ کی سرزمین سے (مدینہ منورہ) آنے سے پہلے کی بات ہے۔ جب ہم نجاشی کی طرف سے واپس آئے، تو میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا، آپ اس وقت نماز پڑھ رہے تھے، میں نے آپ کو سلام کیا، تو آپ نے مجھے سلام کا جواب نہیں دیا، مجھے طرح طرح کے اندیشے آنے لگے۔ میں آپ کے انتظار میں بیٹھ گیا، جب آپ نے نماز مکمل کی تو میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں نے آپ کو سلام کیا تھا، آپ اس وقت نماز پڑھ رہے تھے لیکن آپ نے مجھے سلام کا جواب نہیں دیا۔ (ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں) پہلے آپ سلام کا جواب دیا کرتے تھے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اللہ تعالیٰ جو چاہے نیا فیصلہ دے سکتا ہے اور اس نے نیا حکم یہ دیا ہے، ہم نماز کے دوران کلام نہیں کریں گے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2244]

2245

Sahih Ibn Hibban #2245

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حِبَّانُ بْنُ مُوسَى ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ شُبَيْلٍ ، عَنْ أَبِي عَمْرٍو الشَّيْبَانِيِّ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ ، قَالَ : كُنَّافِي عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُكَلِّمُ أَحَدُنَا صَاحِبَهُ فِي الصَّلاةِ فِي حَاجَتِهِ ، حَتَّى نَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ : حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلاةِ الْوُسْطَى وَقُومُوا لِلَّهِ قَانِتِينَ ، فَأُمِرْنَا حِينَئِذٍ بِالسُّكُوتِ "، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : هَذِهِ اللَّفْظَةُ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ : كُنَّا فِي عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُكَلِّمُ أَحَدُنَا صَاحِبَهُ فِي الصَّلاةِ ، قَدْ تُوهِمُ عَالِمًا مِنَ النَّاسِ أَنَّ نَسْخَ الْكَلامِ فِي الصَّلاةِ كَانَ بِالْمَدِينَةِ ، لأَنَّ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ مِنَ الأَنْصَارِ ، وَلَيْسَ كَذَلِكَ ، لأَنَّ نَسْخَ الْكَلامِ فِي الصَّلاةِ كَانَ بِمَكَّةَ عِنْدَ رُجُوعِ ابْنِ مَسْعُودٍ وَأَصْحَابِهِ مِنْ أَرْضِ الْحَبَشَةِ ، وَلِخَبَرِ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ مَعْنَيَانِ : أَحَدُهُمَا : أَنَّهُ الْمُحْتَمِلُ أَنَّ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ حَكَى إِسْلامَ الأَنْصَارِ قَبْلَ قُدُومِ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ ، حَيْثُ كَانَ مُصْعَبُ بْنُ عُمَيْرٍ يُعَلِّمُهُمُ الْقُرْآنَ ، وَأَحْكَامَ الدِّينِ ، وَحِينَئِذٍ كَانَ الْكَلامُ مُبَاحًا فِي الصَّلاةِ بِمَكَّةَ وَالْمَدِينَةِ سَوَاءٌ ، فَكَانَ بِالْمَدِينَةِ مَنْ أَسْلَمَ مِنَ الأَنْصَارِ قَبْلَ قُدُومِ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ يُكَلِّمُ أَحَدُهُمْ صَاحِبَهُ فِي الصَّلاةِ قَبْلَ نَسْخِ الْكَلامِ فِيهَا ، فَحَكَى زَيْدُ بْنُ أَرْقَمَ صَلاتَهُمْ فِي تِلْكَ الأَيَّامِ ، لا أَنَّ نَسْخَ الْكَلامِ فِي الصَّلاةِ كَانَ بِالْمَدِينَةِ ، وَالْمَعْنَى الثَّانِي : أَنَّهُ أَرَادَ بِهَذِهِ اللَّفْظَةِ الأَنْصَارَ وَغَيْرَهُمُ الَّذِينَ كَانُوا يَفْعَلُونَ ذَلِكَ قَبْلَ نَسْخِ الْكَلامِ فِي الصَّلاةِ عَلَى مَا يَقُولُ الْقَائِلُ فِي لُغَتِهِ ، فَقُلْنَا : كَذَا ، يُرِيدُ بِهِ بَعْضَ الْقَوْمِ الَّذِينَ فَعَلُوا لا الْكُلَّ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں پہلے ہم میں سے کوئی ایک شخص نماز کے دوران اپنے ساتھی کے ساتھ اپنی کسی ضرورت کے بارے میں بات چیت کر لیتا تھا، یہاں تک کہ یہ آیت نازل ہوئی: ﴿حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاةِ الْوُسْطَىٰ وَقُومُوا لِلَّهِ قَانِتِينَ﴾ [سورة البقرة: 238] ”نمازوں کی اور بالخصوص درمیانی نماز کی حفاظت کرو اور اللہ کی بارگاہ میں فرمانبرداری کے ساتھ کھڑے رہو۔“ تو ہمیں (نماز کے دوران) خاموش رہنے کا حکم دیا گیا۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے منقول یہ الفاظ ”ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں یوں ہوتے تھے کہ ہم میں سے کوئی ایک شخص نماز کے دوران اپنے ساتھی سے بات چیت کر لیتا تھا“ اس نے ایک عالم کو اس غلط فہمی کا شکار کیا کہ نماز کے دوران کلام کے منسوخ ہونے کا واقعہ مدینہ منورہ میں پیش آیا تھا، کیونکہ سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ انصار سے تعلق رکھتے ہیں، حالانکہ ایسا نہیں ہے، نماز کے دوران بات چیت کے منسوخ ہونے کا واقعہ مکہ مکرمہ میں پیش آیا تھا اس وقت جب سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھی حبشہ سے واپس آئے تھے۔ سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے منقول روایت کے دو مفہوم ہو سکتے ہیں: ایک یہ ہو سکتا ہے کہ اس میں اس بات کا احتمال موجود ہو کہ سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے مدینہ منورہ تشریف لانے سے پہلے کے اسلام کا ذکر کیا ہو، جب سیدنا مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ ان لوگوں کو قرآن اور دینی احکام کی تعلیم دیا کرتے تھے۔ اس وقت مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ دونوں جگہوں پر نماز کے دوران بات چیت کرنا مباح تھی، تو اس وقت مدینہ منورہ میں کچھ انصار اسلام قبول کر چکے تھے۔ یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے مدینہ منورہ تشریف لانے سے پہلے کی بات ہے، اس وقت ان میں سے کوئی ایک شخص اپنے ساتھی کے ساتھ نماز کے دوران بات چیت کر لیتا تھا۔ یہ نماز کے دوران بات چیت کے منسوخ ہونے سے پہلے کی بات ہے، تو سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ نے ان ایام کے دوران ان لوگوں کی نماز کا واقعہ ذکر کیا۔ اس سے یہ مراد نہیں کہ نماز کے دوران کلام کرنے کے منسوخ ہونے کا واقعہ مدینہ منورہ میں پیش آیا تھا۔ اس کا دوسرا احتمال یہ ہو سکتا ہے کہ ان الفاظ کے ذریعے ان کی مراد انصار اور دیگر حضرات ہوں، جو نماز کے دوران کلام منسوخ ہونے سے پہلے اس طرح کیا کرتے تھے، جیسا کہ کوئی شخص اپنی زبان میں یہ کہتا ہے کہ ”ہم نے یہ کیا“ حالانکہ اس سے مراد یہ ہوتی ہے کہ بعض لوگوں نے ایسا کیا تھا، سب لوگوں نے ایسا نہیں کیا تھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2245]

2246

Sahih Ibn Hibban #2246

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ ، عَنْ يَحْيَى الْقَطَّانِ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي الْحَارِثُ بْنُ شُبَيْلٍ ، عَنْ أَبِي عَمْرٍو الشَّيْبَانِيِّ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ ، قَالَ : كَانَالرَّجُلُ يُكَلِّمُ صَاحِبَهُ فِي الصَّلاةِ بِالْحَاجَةِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، حَتَّى نَزَلَتْ : حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ " الآيَةَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانۂ اقدس میں پہلے کوئی شخص نماز کے دوران اپنے ساتھی کے ساتھ اپنے کسی کام کے سلسلے میں بات چیت کر لیا کرتا تھا، یہاں تک کہ یہ آیت ﴿حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاةِ الْوُسْطَىٰ وَقُومُوا لِلَّهِ قَانِتِينَ﴾ [سورة البقرة: 238] ”نماز کی حفاظت کرو“ نازل ہوئی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2246]

2247

Sahih Ibn Hibban #2247

قَالَ : وَأَطْلَقْتُ غُنَيْمَةً لِي تَرْعَاهَا جَارِيَةٌ لِي قِبَلَ أُحُدٍ وَالْجَوَّانِيَّةِ ، فوجدت الذئب قد ذهب منها بشاة ، وأنا رجل من بني آدم ، آسف كما يأسفون ، وأغضب كما يغضبون ، فصككتها صكة ، فأخبرت بذلك رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَعَظَّمَ عَلَيَّ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، لَوْ أَعْلَمُ أَنَّهَا مُؤْمِنَةٌ لأَعْتَقْتُهَا ، قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : ائْتِنِي بِهَا " ، فَجِئْتُ بِهَا ، فَقَالَ :" أَيْنَ اللَّهُ ؟ " قَالَتْ : فِي السَّمَاءِ ، قَالَ : " مَنْ أَنَا ؟ " ، قَالَتْ : أَنْتَ رَسُولُ اللَّهِ ، قَالَ : " إِنَّهَا مُؤْمِنَةٌ ، فَأَعْتِقْهَا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا معاویہ بن حکم سلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم لوگ زمانہ جاہلیت سے زیادہ دور نہیں ہیں، اللہ تعالیٰ اسلام کو لے آیا، ہم میں سے کچھ لوگ فال نکالا کرتے تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”یہ ایک ایسی چیز ہے، جو صرف ان کا گمان ہے، یہ انہیں کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتی۔“ میں نے عرض کی: ہم میں سے کچھ کاہنوں کے پاس جایا کرتے تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم ان کے پاس نہ جاؤ۔“ میں نے عرض کی: ہم میں سے کچھ لوگ رمل کا عمل کرتے تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انبیاء میں سے ایک صاحب یہ علم جانتے تھے، تو (ہمارے زمانے میں) جس شخص کی لکیر اس کے مطابق ہو جائے، تو وہ (بات درست ثابت ہوتی ہے)۔“ راوی بیان کرتے ہیں: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز ادا کر رہا تھا، اسی دوران حاضرین میں سے کسی صاحب کو چھینک آ گئی تو میں نے کہا: «يَرْحَمُكَ اللهُ» ”اللہ تعالیٰ تم پر رحم کرے“، تو لوگوں نے مجھے گھور کر دیکھا۔ میں نے کہا: تم لوگوں کا ستیاناس ہو، تم میری طرف گھور کر کیوں دیکھ رہے ہو؟ تو کچھ لوگوں نے اپنے ہاتھ اپنے زانوں پر مارے۔ راوی کہتے ہیں: جب میں نے ان لوگوں کو دیکھا کہ وہ مجھے خاموش کروانے کی کوشش کر رہے ہیں، تو میں خاموش ہو گیا۔ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز مکمل کر لی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلوایا؛ میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم جتنا معلم نہیں دیکھا۔ اللہ کی قسم! نہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ڈانٹا، نہ جھڑکا، نہ برا کہا، بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ہماری اس نماز کے دوران لوگوں کے کلام میں سے کوئی چیز مناسب نہیں ہے، یہ (نماز) تسبیح و تکبیر اور قرآن کی تلاوت (پر مشتمل ہوتی ہے)۔“ راوی بیان کرتے ہیں: میں نے اپنی کچھ بکریاں کھلی چھوڑیں جنہیں ایک کنیز پہاڑ اور جوانیہ کی طرف چرا رہی تھی، میں نے یہ صورت حال پائی کہ کوئی بھیڑیا ان میں سے ایک بکری کو لے گیا ہے، میں بھی آخر ایک انسان ہوں، مجھے بھی اسی طرح افسوس ہوتا ہے، جس طرح دوسروں کو ہوتا ہے اور مجھے بھی اسی طرح غصہ آتا ہے، جس طرح دوسروں کو آتا ہے، میں نے اس کنیز کو مکا رسید کیا، پھر میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بارے میں بتایا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر ناراضگی کا اظہار کیا۔ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اگر مجھے یہ پتہ چل جائے کہ یہ کنیز مومن ہے، تو میں اسے آزاد کر دوں گا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم اسے لے کر میرے پاس آؤ۔“ میں اسے لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کہاں ہے؟“ اس نے جواب دیا: آسمان میں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”میں کون ہوں؟“ اس نے عرض کی: آپ اللہ کے رسول ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”یہ مومن ہے، تم اسے آزاد کر دو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2247]

2248

Sahih Ibn Hibban #2248

قَالَ : وَبَيْنَا أَنَا أُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ عَطَسَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ ، فَقُلْتُ لَهُ : يَرْحَمُكَ اللَّهُ ، فَحَدَّقَنِي الْقَوْمُ بِأَبْصَارِهِمْ ، فَقُلْتُ : وَاثُكْلَ أُمَّيَاهُ ، مَا لَكُمْ تَنْظُرُونَ إِلَيَّ ؟ فَضَرَبَ الْقَوْمُ بِأَيْدِيهِمْ عَلَى أَفْخَاذِهِمْ ، فَلَمَّا رَأَيْتُهُمْ يُصَمِّتُونَنِي لِكَيْ أَسْكُتَ سَكَتُّ ، فَلَمَّا انْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعَانِي ، فَبِأَبِي هُوَ وَأُمِّي ، مَا رَأَيْتُ مُعَلِّمًا قَطُّ قَبْلَهُ ، وَلا بَعْدَهُ أَحْسَنَ تَعْلِيمًا مِنْهُ ، وَاللَّهِ مَا ضَرَبَنِي ، وَلا كَهَرَنِي ، وَلا شَتَمَنِي ، وَلَكِنْ قَالَ : إِنَّصَلاتَنَا هَذِهِ لا يَصْلُحُ فِيهَا شَيْءٌ مِنْ كَلامِ النَّاسِ ، إِنَّمَا هِيَ التَّكْبِيرُ ، وَالتَّسْبِيحُ ، وَتِلاوَةُ الْقُرْآنِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا معاویہ بن حکم سلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم لوگ زمانہ جاہلیت سے زیادہ دور نہیں ہیں، پھر اللہ تعالیٰ اسلام کو لے آیا، ہم میں سے کچھ لوگ فال نکالتے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”یہ ایک ایسی چیز ہے، جسے وہ اپنے سینوں میں پاتے ہیں، یہ انہیں کوئی نقصان نہیں دیتی۔“ راوی کہتے ہیں: میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم میں سے کچھ لوگ کاہنوں کے پاس جاتے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم ان کے پاس نہ جاؤ۔“ راوی کہتے ہیں: میں نے عرض کی: ہم میں سے کچھ لوگ لکیریں لگاتے ہیں (یعنی علم رمل کا عمل کرتے ہیں)۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک نبی لکیریں لگایا کرتے تھے، تو (ہمارے زمانے میں) جس شخص کی لکیر اس کے موافق ہو (اس کی بات درست ثابت ہوتی ہے)۔“ راوی کہتے ہیں: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں نماز ادا کر رہا تھا، حاضرین میں سے کسی صاحب کو چھینک آ گئی تو میں نے ان سے کہا: «يَرْحَمُكَ اللهُ» ”اللہ تعالیٰ آپ پر رحم کرے“، تو لوگوں نے مجھے گھور کے دیکھا، میں نے کہا: تمہارا ستیاناس ہو، تم لوگ میری طرف اس طرح کیوں دیکھ رہے ہو؟ تو لوگوں نے اپنے ہاتھ اپنے زانو پر مارے، جب میں نے انہیں دیکھا کہ وہ لوگ مجھے خاموش کروانے کی کوشش کر رہے ہیں، تو میں خاموش ہو گیا، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز مکمل کی تو آپ نے مجھے بلایا، میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، میں نے آپ سے پہلے اور آپ کے بعد آپ سے اچھا معلم اور کوئی نہیں دیکھا، اللہ کی قسم! نہ آپ نے مجھے مارا، نہ جھڑکا، نہ برا کہا، بلکہ یہ ارشاد فرمایا: ”ہماری اس نماز میں لوگوں کے کلام کی مانند بات چیت کرنا مناسب نہیں ہے، یہ تکبیر، تسبیح اور قرآن کی تلاوت (پر مشتمل ہوتی ہے)۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2248]

2249

Sahih Ibn Hibban #2249

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ أَبِي تَمِيمَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَلَّمَ مِنَ اثْنَتَيْنِ مِنْ صَلاةِ الْعَشِيِّ ، فَقَامَ إِلَيْهِ ذُو الْيَدَيْنِ ، فَقَالَ : أَقُصِرَتِ الصَّلاةُ أَمْ نَسِيتَ ؟ فَقَالَ : كُلُّ ذَلِكَ لَمْ يَكُنْ " ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ ، فَقَالَ : " أَكَمَا يَقُولُ ذُو الْيَدَيْنِ ؟ " قَالُوا : نَعَمْ ، " فَأَتَمَّ مَا بَقِيَ مِنَ الصَّلاةِ ، ثُمَّ سَلَّمَ ، ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيِ السَّهْوِ "، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : هَذَا خَبَرٌ أَوْهَمَ عَالِمًا مِنَ النَّاسِ أَنَّ هَذِهِ الصَّلاةَ كَانَتْ حَيْثُ كَانَ الْكَلامُ مُبَاحًا فِي الصَّلاةِ ، ثُمَّ نُسِخَ هَذَا الْخَبَرُ بِتَحْرِيمِ الْكَلامِ فِي الصَّلاةِ ، وَلَيْسَ كَذَلِكَ ، لأَنَّ نَسْخَ الْكَلامِ فِي الصَّلاةِ كَانَ بِمَكَّةَ عِنْدَ رُجُوعِ ابْنِ مَسْعُودٍ مِنْ أَرْضِ الْحَبَشَةِ ، وَذَلِكَ قَبْلَ الْهِجْرَةِ بِثَلاثِ سِنِينَ ، وَرَاوِي هَذَا الْخَبَرِ أَبُو هُرَيْرَةَ ، وَأَبُو هُرَيْرَةَ أَسْلَمَ سَنَةَ خَيْبَرَ سَنَةَ سَبْعٍ مِنَ الْهِجْرَةِ ، فَذَلِكَ مَا وَصَفْتُ ، عَلَى أَنَّ قِصَّةَ ذِي الْيَدَيْنِ كَانَ بَعْدَ نَسْخِ الْكَلامِ فِي الصَّلاةِ بِعَشْرِ سِنِينَ سَوَاءٌ ، فَكَيْفَ يَكُونُ الْخَبَرُ الْمُتَأَخِّرِ مَنْسُوخًا بِالْخَبَرِ الْمُتَقَدِّمِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے شام کی نماز میں دو رکعات پڑھنے کے بعد سلام پھیر دیا، تو سیدنا ذوالیدین رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کھڑے ہوئے، انہوں نے عرض کی: کیا نماز مختصر ہو گئی ہے یا آپ بھول گئے ہیں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس میں سے کچھ بھی نہیں ہوا“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور دریافت کیا: ”ایسا ہی ہے، جس طرح ذوالیدین کہہ رہا ہے؟“ لوگوں نے عرض کی: جی ہاں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے باقی رہ جانے والی نماز کو مکمل کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا اور دو مرتبہ سجدہ سہو کیا۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) اس روایت نے ایک عالم کو اس غلط فہمی کا شکار کیا کہ یہ وہ نماز تھی جس میں نماز کے دوران کلام کرنا مباح تھا، پھر اس روایت کو منسوخ کر دیا گیا، جو نماز کے دوران کلام کرنے کے حرام ہونے والی روایت کے ذریعے منسوخ ہوا، حالانکہ ایسا نہیں ہے کیونکہ نماز کے دوران کلام کرنا مکہ میں منسوخ ہوا تھا، اس وقت جب سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ حبشہ کی سرزمین سے واپس آئے تھے اور یہ بات ہجرت سے تین سال پہلے کی ہے، جبکہ اس روایت کو نقل کرنے والے راوی سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ہیں اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے سن سات ہجری میں غزوہ خیبر کے سال میں اسلام قبول کیا تھا، جیسا کہ میں یہ بات پہلے ذکر کر چکا ہوں، سیدنا ذوالیدین رضی اللہ عنہ کا واقعہ نماز کے دوران کلام کرنے کے منسوخ ہونے کے دس سال بعد پیش آیا تھا، تو بعد والی روایت پہلی والی روایت کے ذریعے کیسے منسوخ ہو سکتی ہے؟ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2249]

2250

Sahih Ibn Hibban #2250

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ شُبَيْلٍ ، عَنْ أَبِي عَمْرٍو الشَّيْبَانِيِّ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ ، قَالَ : كُنَّانَتَكَلَّمُ فِي الصَّلاةِ بِالْحَاجَةِ حَتَّى نَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ : حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلاةِ الْوُسْطَى وَقُومُوا لِلَّهِ قَانِتِينَ ، فَأُمِرْنَا بِالسُّكُوتِ "، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : هَذَا الْخَبَرُ يُوهِمُ مَنْ لَمْ يَطْلُبِ الْعِلْمَ مِنْ مَظَانِّهِ أَنَّ نَسْخَ الْكَلامِ فِي الصَّلاةِ كَانَ بِالْمَدِينَةِ ، وَأَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ لَمْ يَشْهَدْ قِصَّةَ ذِي الْيَدَيْنِ ، وَذَاكَ أَنَّ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ مِنَ الأَنْصَارِ ، وَقَالَ : كُنَّا نَتَكَلَّمُ فِي الصَّلاةِ بِالْحَاجَةِ ، وَلَيْسَ مِمَّا يَذْهَبُ إِلَيْهِ الْوَاهِمُ فِيهِ فِي شَيْءٍ مِنْهُ ، وَذَلِكَ أَنَّ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ كَانَ مِنَ الأَنْصَارِ الَّذِينَ أَسْلَمُوا بِالْمَدِينَةِ ، وَصَلَّوْا بِهَا قَبْلَ هِجْرَةِ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْهَا ، وَكَانُوا يُصَلُّونَ بِالْمَدِينَةِ كَمَا يُصَلِّي الْمُسْلِمُونَ بِمَكَّةَ فِي إِبَاحَةِ الْكَلامِ فِي الصَّلاةِ لَهُمْ ، فَلَمَّا نُسِخَ ذَلِكَ بِمَكَّةَ نُسِخَ كَذَلِكَ بِالْمَدِينَةِ ، فَحَكَى زَيْدٌ مَا كَانُوا عَلَيْهِ ، لا أَنَّ زَيْدًا حَكَى مَا لَمْ يَشْهَدْهُ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: پہلے ہم ضرورت کے پیش نظر نماز کے دوران کلام کر لیا کرتے تھے، یہاں تک کہ یہ آیت ﴿حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاةِ الْوُسْطَىٰ وَقُومُوا لِلَّهِ قَانِتِينَ﴾ [سورة البقرة: 238] ”نمازوں کی حفاظت کرو اور درمیان والی نماز کی بھی اور اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں فرمانبرداری کے ساتھ کھڑے رہو۔“ نازل ہوئی، تو ہمیں (نماز کے دوران) خاموش رہنے کا حکم دیا گیا۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) اس روایت نے اس شخص کو غلط فہمی کا شکار کیا جس نے علمِ حدیث کو اس کے اصل ماخذ سے حاصل نہیں کیا اور وہ اس بات کا قائل ہے کہ نماز کے دوران کلام کرنے کے منسوخ ہونے کا حکم مدینہ منورہ میں آیا تھا، اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، سیدنا ذوالیدین رضی اللہ عنہ کے واقعہ میں شریک نہیں ہوئے تھے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کا تعلق انصار سے ہے، وہ یہ بیان کرتے ہیں کہ پہلے ہم نماز کے دوران کوئی ضرورت کی بات چیت کر لیا کرتے تھے۔ حالانکہ ایسا نہیں ہے جس غلط فہمی کا شکار یہ شخص ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کا تعلق ان انصار سے ہے جنہوں نے مدینہ منورہ میں اسلام قبول کیا تھا اور وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے مدینہ منورہ ہجرت کرنے سے پہلے مدینہ منورہ میں نمازیں ادا کرتے رہے تھے۔ یہ لوگ مدینہ منورہ میں اسی طرح نماز ادا کرتے تھے جس طرح مسلمان مکہ میں نماز ادا کرتے تھے اور اس وقت ان لوگوں کے لیے نماز کے دوران بات چیت کرنا مباح تھا۔ جب یہ حکم مکہ میں منسوخ ہوا تو اسی طرح مدینہ میں منسوخ ہو گیا۔ تو سیدنا زید رضی اللہ عنہ نے وہ چیز بیان کی ہے جس پر وہ پہلے عمل کیا کرتے تھے، ایسا نہیں ہے کہ سیدنا زید رضی اللہ عنہ نے کسی ایسی چیز کے بارے میں بیان کیا ہو جس میں وہ خود شریک نہیں تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2250]

2251

Sahih Ibn Hibban #2251

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ مَوْلَى ابْنِ أَبِي أَحْمَدَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : صَلَّى لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز پڑھائی۔ (اس کے بعد حسب سابق حدیث ہے)۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2251]

2252

Sahih Ibn Hibban #2252

وَأَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ ، وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، وَأَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ، قَالَ : صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز پڑھائی۔ (اس کے بعد حسب سابق حدیث ہے)۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2252]

2253

Sahih Ibn Hibban #2253

وَأَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمَذَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : صَلَّى بِنَا أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز پڑھائی (اس کے بعد حسب سابق حدیث ہے)۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2253]

2254

Sahih Ibn Hibban #2254

وَأَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ عَلْقَمَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز پڑھائی۔ (اس کے بعد حسب سابق حدیث ہے)۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2254]

2255

Sahih Ibn Hibban #2255

وَأَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز پڑھائی۔ (اس کے بعد حسب سابق حدیث ہے)۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2255]

2256

Sahih Ibn Hibban #2256

وَأَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِحْدَى صَلاتْيِ الْعَشِيِّ ، قَالَ ابْنُ سِيرِينَ : سَمَّاهَا لَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ ، فَنَسِيتُ أَنَا ، فَصَلَّى بِنَا رَكْعَتَيْنِ ، ثُمَّ سَلَّمَ ، ثُمَّ قَامَ إِلَى خَشَبَةٍ مَعْرُوضَةٍ فِي الْمَسْجِدِ ، فَوَضَعَ يَدَهُ الْيُمْنَى عَلَى الْيُسْرَى ، وَشَبَّكَ بَيْنَ أَصَابِعِهِ ، وَاتَّكَأَ عَلَى خَشَبَةٍ كَأَنَّهُ غَضْبَانُ ، قَالَ : وَخَرَجَ سَرَعَانُ النَّاسِ ، قَالَ النَّضْرُ : يَعْنِي أَوَائِلَ النَّاسِ ، فَقَالُوا : أَقُصِرَتِ الصَّلاةُ ؟ ! وَفِي الْقَوْمِ أَبُو بَكْرٍ ، وَعُمَرُ ، فَهَابَاهُ أَنْ يُكَلِّمَاهُ ، وَفِي الْقَوْمِ رَجُلٌ فِي يَدِهِ طُولٌ يُقَالُ لَهُ : ذُو الْيَدَيْنِ ، فَقَالَ : أَقُصِرَتِ الصَّلاةُ أَمْ نَسِيتَ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَمْ تُقْصَرِ الصَّلاةُ ، وَلَمْ أَنَسَ " ، فَقَالَ لِلْقَوْمِ : " أَكَمَا يَقُولُ ذُو الْيَدَيْنِ ؟ " قَالُوا : نَعَمْ ، " فَصَلَّى مَا كَانَ تَرَكَ ، ثُمَّ سَلَّمَ ، ثُمَّ كَبَّرَ وَسَجَدَ مِثْلَ سُجُودِهِ أَوْ أَطْوَلَ ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ وَكَبَّرَ ، ثُمَّ كَبَّرَ وَسَجَدَ مِثْلَهُ أَوْ أَطْوَلَ ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ ثُمَّ كَبَّرَ "، قَالَ : فَرُبَّمَا سَأَلُوا مُحَمَّدًا : ثُمَّ سَلَّمَ ؟ فَيَقُولُ : نُبِّئْتُ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ أَنَّهُ قَالَ : " ثُمَّ سَلَّمَ " ، لَفْظُ الْخَبَرِ لِلنَّضْرِ بْنِ شُمَيْلٍ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں شام کی ایک نماز پڑھائی۔ ابن سیرین نامی راوی بیان کرتے ہیں: سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ہمارے سامنے (اس نماز کا) نام لیا تھا لیکن میں اسے بھول گیا ہوں، (سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں دو رکعات پڑھانے کے بعد سلام پھیر دیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں رکھی ہوئی لکڑی کے ساتھ کھڑے ہو گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دایاں دست مبارک بائیں پر رکھا اور اپنی انگلیوں کو ایک دوسرے میں پیوست کر دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے غضب کے عالم میں اس لکڑی کے ساتھ ٹیک لگائی۔ راوی بیان کرتے ہیں: جلد باز لوگ (مسجد سے) نکل گئے، وہ یہ کہہ رہے تھے: نماز مختصر ہو گئی ہے۔ حاضرین میں سیدنا ابوبکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما بھی موجود تھے لیکن انہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بات کرنے کی جرات نہیں ہوئی۔ حاضرین میں ایک صاحب موجود تھے جن کے ہاتھ کچھ لمبے تھے، انہیں ذوالیدین کہا جاتا تھا۔ انہوں نے عرض کی: کیا نماز مختصر ہو گئی ہے یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھول گئے ہیں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”نہ تو نماز مختصر ہوئی ہے اور نہ ہی میں بھولا ہوں۔“ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حاضرین سے دریافت کیا: ”کیا اسی طرح ہے، جیسے ذوالیدین کہہ رہا ہے؟“ لوگوں نے عرض کی: جی ہاں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ نماز ادا کی جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چھوڑ دی تھی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تکبیر کہی اور اپنے عام سجدوں جتنا یا اس سے کچھ طویل سجدہ کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے سر کو اٹھایا اور تکبیر کہی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تکبیر کہی اور اسی کی مانند یا اس سے کچھ طویل سجدہ کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سر اٹھایا اور تکبیر کہی۔ راوی کہتے ہیں: (ہمارے استاد سے) بعض لوگ یہ کہتے تھے (روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں) پھر انہوں نے سلام پھیر دیا، تو وہ یہ فرماتے تھے: مجھے سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ روایت بیان کی گئی ہے، انہوں نے یہ الفاظ بھی نقل کیے ہیں کہ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا۔ روایت کے یہ الفاظ نضر بن شمیل کے ابن عون کے حوالے سے نقل کردہ ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2256]

2257

Sahih Ibn Hibban #2257

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَاشِمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ حَارِثَةَ بْنِ مُضَرِّبٍ ، عَنْ عَلِيٍّ ، قَالَ : مَا كَانَ فِينَا فَارِسٌ يَوْمَ بَدْرٍ غَيْرَ الْمِقْدَادِ ، وَلَقَدْ رَأَيْتُنَا وَمَا فِينَا قَائِمٌ إِلا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَحْتَ شَجَرَةٍيُصَلِّي وَيَبْكِي حَتَّى أَصْبَحَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ غزوہ بدر کے موقع پر مقداد رضی اللہ عنہ کے علاوہ ہم میں سے اور کوئی گھڑ سوار نہیں تھا اور مجھے یاد ہے، ہم میں سے ہر شخص کھڑا ہوا تھا (یہاں روایت کا لفظ غلط نقل ہوا ہے اصل لفظ یہ ہے، ہم میں سے ہر شخص سویا ہوا تھا) صرف نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم (جاگتے رہے تھے)، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک درخت کے نیچے نماز ادا کرتے رہے اور روتے رہے، یہاں تک کہ صبح ہو گئی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2257]

2258

Sahih Ibn Hibban #2258

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ الرَّمَادِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَسْجِدَ بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ ، يَعْنِي مَسْجِدَ قُبَاءٍ ، فَدَخَلَ رِجَالٌ مِنَ الأَنْصَارِ يُسَلِّمُونَ عَلَيْهِ ، قَالَ ابْنُ عُمَرَ : فَسَأَلْتُ صُهَيْبًا وَكَانَ مَعَهُ : كَيْفَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَيَفْعَلُ إِذَا كَانَ يُسَلَّمُ عَلَيْهِ وَهُوَ يُصَلِّي ؟ فَقَالَ : كَانَ يُشِيرُ بِيَدِهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بنو عمرو بن عوف کی مسجد میں تشریف لائے (راوی کہتے ہیں) یعنی مسجدِ قبا میں تشریف لائے، تو کچھ انصار مسجد میں آئے اور انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا، یہ اس وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب نماز کے دوران سلام کیا گیا تو پھر آپ نے کیا کیا تھا؟ تو سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ نے بتایا: آپ نے اپنے دستِ اقدس کے ذریعے اشارے (کے ذریعے جواب دیا تھا)۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2258]

2259

Sahih Ibn Hibban #2259

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي اللَّيْثُ ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الأَشَجِّ ، عَنْ نَابِلٍ صَاحِبِ الْعَبَاءِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنْ صُهَيْبٍ ، قَالَ : مَرَرْتُ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَيُصَلِّي ، فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ ، فَرَدَّ عَلَيَّ إِشَارَةً " ، وَلا أَعْلَمُ إِلا أَنَّهُ قَالَ : " بِإِصْبَعِهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے گزرا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت نماز ادا کر رہے تھے، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اشارے سے جواب دیا۔ راوی کہتے ہیں: میرا خیال ہے روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں: ”آپ نے انگلی کے اشارے سے جواب دیا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2259]

2260

Sahih Ibn Hibban #2260

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الأَنْصَارِيُّ ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي حَازِمِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَهَبَ إِلَى بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ لِيُصْلِحَ بَيْنَهُمْ ، وَحَانَتِ الصَّلاةُ ، فَجَاءَ بِلالٌ إِلَى أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، فَقَالَ : أَتُصَلِّي لِلنَّاسِ فَأُقِيمَ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، فَصَلَّى أَبُو بَكْرٍ ، فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالنَّاسُ فِي الصَّلاةِ ، فَتَخَلَّصَ حَتَّى وَقَفَ فِي الصَّفِّ ، فَصَفَّقَ النَّاسُ ، وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ لا يَلْتَفِتُ فِي صَلاتِهِ ، فَلَمَّا أَكْثَرَ النَّاسُ التَّصْفِيقَ الْتَفَتَ أَبُو بَكْرٍ ، فَرَأَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَشَارَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَنِ اثْبُتْ مَكَانَكَ ، فَرَفَعَ أَبُو بَكْرٍ يَدَيْهِ ، فَحَمِدَ اللَّهَ تَعَالَى عَلَى مَا أَمَرَهُ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ ذَلِكَ ، ثُمَّ اسْتَأْخَرَ أَبُو بَكْرٍ حَتَّى اسْتَوَى فِي الصَّفِّ ، وَتَقَدَّمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى ، فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ : يَا أَبَا بَكْرٍ ، مَا مَنَعَكَ أَنْ تَلْبَثَ إِذْ أَمَرْتُكَ ؟ " فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : مَا كَانَ لابْنِ أَبِي قُحَافَةَ أَنْ يُصَلِّيَ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا لِي رَأَيْتُكُمْ أَكْثَرْتُمُ التَّصْفِيقَ ؟ !مَنْ نَابَهُ شَيْءٌ فِي صَلاتِهِ فَلْيُسَبِّحْ ، فَإِنَّهُ إِنْ سَبَّحَ الْتُفِتَ إِلَيْهِ ، وَإِنَّمَا التَّصْفِيقُ لِلنِّسَاءِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بنو عمرو بن عوف کے ہاں تشریف لے گئے تاکہ ان کے درمیان صلح کروائیں، اسی دوران نماز کا وقت ہو گیا۔ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی خدمت میں آئے اور بولے: کیا آپ لوگوں کو نماز پڑھا دیں گے تو میں اقامت کہوں؟ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: ٹھیک ہے، پھر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نماز پڑھانے لگے۔ اسی دوران نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے، لوگ اس وقت نماز پڑھ رہے تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم آئے اور صف میں آ کر کھڑے ہو گئے۔ لوگوں نے تالیاں بجانی شروع کیں، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نماز کے دوران ادھر ادھر توجہ نہیں دیتے تھے، جب لوگوں نے زیادہ تالیاں بجائیں اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے توجہ کی تو انہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نظر آئے۔ (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اشارہ کیا): ”تم اپنی جگہ پر رہو“ لیکن سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اپنے دونوں ہاتھ بلند کیے اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں جو یہ حکم دیا تھا، اس پر اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کی اور پھر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ پیچھے ہٹ گئے، یہاں تک کہ صف میں آ کر کھڑے ہو گئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم آگے بڑھے اور آپ نے نماز پڑھائی، جب آپ نے نماز مکمل کر لی، تو آپ نے دریافت کیا: ”اے ابوبکر! جب میں نے تمہیں حکم دیا تھا تو تم اپنی جگہ پر ٹھہرے کیوں نہیں تھے؟“ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کی: ابوقحافہ کے بیٹے کی یہ مجال نہیں ہے کہ وہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے نماز ادا کرے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”کیا وجہ ہے، میں نے تمہیں دیکھا، تم نے بکثرت تالیاں بجائی تھیں؟ جس شخص کو نماز کے دوران (امام کو متوجہ کرنے کے لیے) کوئی ضرورت پیش آ جائے اسے «سُبْحَانَ اللّٰهِ» ”اللہ پاک ہے“ کہنا چاہیے، اگر وہ «سُبْحَانَ اللّٰهِ» کہے گا، تو اس کی طرف توجہ مبذول ہو جائے گی، (نماز کے دوران امام کو متوجہ کرنے کے لیے) تالی بجانے کا حکم خواتین کے لیے ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2260]

2261

Sahih Ibn Hibban #2261

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ الْبَزَّارُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ : كَانَ قِتَالٌ بَيْنَ بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ ، فَأَتَاهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيُصْلِحَ بَيْنَهُمْ ، وَقَدْ صَلَّى الظُّهْرَ ، فَقَالَ لِبِلالٍ : إِنْ حَضَرَتِ صَلاةُ الْعَصْرِ وَلَمْ آتِ ، فَمُرْ أَبَا بَكْرٍ ، فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ " ، فَلَمَّا حَضَرَتْ صَلاةُ الْعَصْرِ ، أَذَّنَ بِلالٌ وَأَقَامَ ، وَقَالَ : يَا أَبَا بَكْرٍ تَقَدَّمْ ، فَتَقَدَّمَ أَبُو بَكْرٍ ، فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَشُقُّ الصُّفُوفَ ، فَلَمَّا رَأَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّاسُ صَفَّحُوا ، قَالَ : وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ إِذَا دَخَلَ فِي الصَّلاةِ لَمْ يَلْتَفِتْ ، فَلَمَّا رَأَى التَّصْفِيحَ لا يُمْسَكُ عَنْهُ الْتَفَتَ ، فَرَأَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَلْفَهُ ، فَأَوْمَأَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَنِ امْضِ " ، فَلَبِثَ أَبُو بَكْرٍ هُنَيَّةً ، فَحَمِدَ اللَّهَ عَلَى قَوْلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَنِ امْضِ " ، ثُمَّ مَشَى أَبُو بَكْرٍ الْقَهْقَرَى عَلَى عَقِبِهِ ، فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَقَدَّمَ فَصَلَّى بِالْقَوْمِ صَلاتَهُمْ ، فَلَمَّا قَضَى صَلاتَهُ ، قَالَ : " يَا أَبَا بَكْرٍ ، مَا مَنَعَكَ إِذْ أَوْمَأْتُ إِلَيْكَ أَنْ لا تَكُونَ مَضَيْتَ ؟ " ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ : لَمْ يَكُنْ لابْنِ أَبِي قُحَافَةَ أَنْ يَؤُمَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ قَالَ لِلنَّاسِ :" إِذَا نَابَكُمْ فِي صَلاتِكُمْ شَيْءٌ ، فَلْيُسَبِّحِ الرِّجَالُ ، وَلْتُصَفِّقِ النِّسَاءُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ بنو عمرو بن عوف کے درمیان لڑائی ہو گئی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے درمیان صلح کروانے کے لیے تشریف لے گئے، ظہر کی نماز کا وقت ہو گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ سے ارشاد فرمایا: ”اگر عصر کا وقت ہو جائے اور میں نہ آ پاؤں، تو ابوبکر سے کہنا لوگوں کو نماز پڑھا دے۔“ جب عصر کی نماز کا وقت ہوا، تو سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے اذان دی اور اقامت کہی اور بولے: اے ابوبکر! آپ آگے بڑھیے، تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ آگے بڑھے، اسی دوران نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم صفوں کو چیرتے ہوئے تشریف لے آئے، جب لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تو انہوں نے تالیاں بجانی شروع کر دیں۔ راوی کہتے ہیں: سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ جب نماز شروع کرتے تھے، تو ادھر ادھر توجہ نہیں کرتے تھے، جب انہوں نے دیکھا کہ مسلسل تالیاں بج رہی ہیں، تو انہوں نے توجہ کی تو انہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے پیچھے کھڑے ہوئے نظر آئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اشارہ کیا: ”تم نماز جاری رکھو“، لیکن سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ ایڑیوں کے بل الٹے چلتے ہوئے پیچھے آ گئے، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ملاحظہ کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم آگے بڑھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو نماز پڑھائی، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز مکمل کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اے ابوبکر! کیا وجہ ہے، جب میں نے تمہاری طرف اشارہ کیا تھا تو تم نے نماز کو جاری کیوں نہیں رکھا؟“ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کی: ابوقحافہ کے بیٹے کی یہ مجال نہیں ہے کہ وہ اللہ کے رسول کی امامت کرے، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں سے ارشاد فرمایا: ”جب تمہیں نماز کے دوران (امام کو متوجہ کرنے کے لیے) ضرورت پیش آئے تو مردوں کو «سُبْحَانَ اللّٰهِ» ”سبحان اللہ“ کہنا چاہیے اور خواتین کو تالی بجانی چاہیے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2261]

2262

Sahih Ibn Hibban #2262

أَخْبَرَنَا الْقَطَّانُ ، بِالرَّقَّةِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْوَزَّانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَوْفٌ ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : التَّسْبِيحُ لِلرِّجَالِ ، وَالتَّصْفِيقُ لِلنِّسَاءِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”(امام کو متوجہ کرنے کے لیے) «سُبْحَانَ اللّٰهِ» ”سبحان اللہ“ کہنے کا حکم مردوں کے لیے ہے اور تالی بجانے کا حکم خواتین کے لیے ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2262]

2263

Sahih Ibn Hibban #2263

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : التَّسْبِيحُ لِلرِّجَالِ ، وَالتَّصْفِيقُ لِلنِّسَاءِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”(نماز کے دوران امام کو متوجہ کرنے کے لیے) «سُبْحَانَ اللّٰهِ» ”سبحان اللہ“ کہنے کا حکم مردوں کے لیے ہے اور تالی بجانے کا حکم خواتین کے لیے ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2263]

2264

Sahih Ibn Hibban #2264

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُشِيرُ فِي الصَّلاةِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے دوران اشارہ کر لیتے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2264]

2265

Sahih Ibn Hibban #2265

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ الْكِلابِيُّ ، حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ مُجَاهِدٍ أَبُو حَزْرَةَ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الْوَلِيدِ بْنِ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، قَالَ : أَتَيْنَا جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ فِي مَسْجِدِهِ ، وَهُوَ يُصَلِّي فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ مُشْتَمِلا بِهِ ، فَتَخَطَّيْتُ الْقَوْمَ حَتَّى جَلَسْتُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ ، فَقُلْتُ : يَرْحَمُكَ اللَّهُ ، تُصَلِّي فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ ، وَهَذَا رِدَاؤُكَ إِلَى جَنْبِكَ ؟ ! فَقَالَ بِيَدِهِ فِي صَدْرِي : أَرَدْتُ أَنْ يَدْخُلَ عَلَيَّ أَحْمَقُ مِثْلُكَ ، فَيَرَانِي كَيْفَ أَصْنَعُ ، فَيَصْنَعُ بِمِثْلِهِ ، أَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَسْجِدِنَا هَذَا ، وَفِي يَدِهِ عُرْجُونُ ابْنِ طَابٍ ، فَرَأَى نُخَامَةً فِي قِبْلَةِ الْمَسْجِدِ ، فَأَقْبَلَ عَلَيْهَا ، فَحَكَّهَا بِالْعُرْجُونِ ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْنَا ، فَقَالَ : أَيُّكُمْ يُحِبُّ أَنْ يُعْرِضَ اللَّهُ عَنْهُ ؟ " قَالَ : فَخَشَعْنَا ، ثُمَّ قَالَ : " أَيُّكُمْ يُحِبُّ أَنْ يُعْرِضَ اللَّهُ عَنْهُ ؟ " فَقُلْنَا : لا أَيُّنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " إِنَّأَحَدَكُمْ إِذَا قَامَ يُصَلِّي فَإِنَّ اللَّهَ قِبَلَ وَجْهِهِ ، فَلا يَبْصُقْ قِبَلَ وَجْهِهِ ، وَلا عَنْ يَمِينِهِ ، وَلْيَبْصُقْ عَنْ يَسَارِهِ تَحْتَ رِجْلِهِ الْيُسْرَى ، فَإِنْ عَجِلَتْ بِهِ بَادِرَةٌ ، فَلْيَقُلْ بِثَوْبِهِ هَكَذَا ، وَرَدَّ بَعْضَهُ عَلَى بَعْضٍ ، أَرُونِي عَبِيرًا " ، فَقَامَ فَتًى مِنَ الْحَيِّ يَشْتَدُّ إِلَى أَهْلِهِ ، فَجَاءَ بِخَلُوقٍ فِي رَاحَتَيْهِ ، فَأَخَذَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَجَعَلَهُ عَلَى رَأْسِ الْعُرْجُونِ ، وَلَطَخَ بِهِ عَلَى أَثَرِ النُّخَامَةِ، قَالَ جَابِرٌ : فَمِنْ هُنَاكَ جَعَلْتُمُ الْخَلُوقَ فِي مَسَاجِدِكُمْ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبادہ بن ولید بیان کرتے ہیں: ہم لوگ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کی خدمت میں ان کی مسجد میں حاضر ہوئے۔ وہ اس وقت ایک کپڑے کو اشتمال کے طور پر لپیٹ کر نماز ادا کر رہے تھے۔ میں لوگوں کی گردنیں پھلانگتا ہوا ان کے اور قبلہ کے درمیان آ کر بیٹھ گیا۔ میں نے کہا: اللہ تعالیٰ آپ پر رحم فرمائے، آپ ایک کپڑے میں نماز ادا کر رہے ہیں حالانکہ آپ کی بڑی چادر آپ کے پہلو میں موجود ہے؟ تو انہوں نے اپنے ہاتھ کے ذریعے میرے سینے پر مارا اور بولے: میں یہ چاہتا تھا کہ تم جیسا احمق آدمی میرے پاس آ کر مجھے دیکھے کہ میں کیا کر رہا ہوں اور پھر وہ اس کی مانند عمل کرے۔ ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہماری اس مسجد میں ہمارے پاس تشریف لائے۔ آپ کے دستِ اقدس میں ایک چھڑی تھی۔ آپ نے مسجد کے قبلہ کی سمت میں بلغم لگا ہوا دیکھا تو آپ اس کی طرف گئے اور اسے چھڑی کے ذریعے کھرچ دیا، پھر آپ ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: ”تم میں سے کون شخص اس بات کو پسند کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس سے منہ پھیر لے؟“ راوی کہتے ہیں: ہم گھبرا گئے، پھر آپ نے ارشاد فرمایا: ”تم میں سے کون شخص اس بات کو پسند کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس سے منہ پھیر لے؟“ ہم نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم میں سے کوئی بھی یہ نہیں چاہتا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ارشاد فرمایا: ”تم میں سے کوئی ایک شخص جب کھڑا ہو کر نماز ادا کرتا ہے، تو اللہ تعالیٰ اس کے سامنے کی طرف ہوتا ہے، تو وہ اپنے سامنے کی طرف نہ تھوکے اور اپنے دائیں طرف بھی نہ تھوکے۔ اسے اپنے بائیں طرف اپنے بائیں پاؤں کے نیچے تھوکنا چاہیے اور اگر بلغم تیزی سے آ رہا ہو، تو وہ اپنے کپڑے میں اس طرح کرے۔“ آپ نے اسے مل دیا۔ ”تم لوگ مجھے کوئی خوشبو دو۔“ تو اس قبیلے کا ایک نوجوان تیزی سے اپنے گھر گیا، اور اپنی ہتھیلیوں میں کچھ خوشبو لے کر آیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے لیا اور اس چھڑی کے کنارے پر رکھا اور اس کے ذریعے بلغم کے نشان پر مل دیا۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: یہیں سے لوگوں نے مسجدوں میں خوشبو رکھنا شروع کی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2265]

2266

Sahih Ibn Hibban #2266

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُوسَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الْقُطَعِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ ، فَلا يَبْصُقْ بَيْنَ يَدَيْهِ ، وَلا عَنْ يَمِينِهِ ، وَلْيَبْصُقْ عَنْ يَسَارِهِ أَوْ تَحْتَ قَدَمِهِ الْيُسْرَى """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”جب کوئی شخص نماز ادا کر رہا ہو، تو وہ اپنے سامنے کی طرف یا دائیں طرف نہ تھوکے، وہ اپنے بائیں طرف یا اپنے بائیں پاؤں کے نیچے تھوکے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2266]