Muslim99Muslim99

Sahih Ibn Hibban · Book 20 · Chapter 1

Book of Manumission

Hadith 2153–2192

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

2153

Sahih Ibn Hibban #2153

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الأَنْصَارِيُّ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ سُمَيٍّ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَوْ يَعْلَمُ النَّاسُ مَا فِي النِّدَاءِ وَالصَّفِّ الأَوَّلِ ، ثُمَّ لَمْ يَجِدُوا إِلا أَنْ يَسْتَهِمُوا عَلَيْهِ لاسْتَهَمُوا ، وَلَوْ يَعْلَمُونَ مَا فِي التَّهْجِيرِ ، لاسْتَبَقُوا إِلَيْهِ ، وَلَوْ يَعْلَمُونَ مَا فِي الْعَتَمَةِ وَالصُّبْحِ ، لأَتَوْهُمَا وَلَوْ حَبْوًا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اگر لوگوں کو یہ پتہ چل جائے کہ اذان دینے اور پہلی صف (میں نماز ادا کرنے) میں کیا اجر و ثواب ہے، اور پھر انہیں صرف قرعہ اندازی کے ذریعے اس کا موقع ملے، تو وہ اس کے لیے قرعہ اندازی کر لیں گے، اور اگر انہیں نماز کے لیے جلد جانے (کے اجر و ثواب) کا پتہ چل جائے، تو وہ اس کی طرف سبقت لے جائیں گے، اور اگر انہیں یہ پتہ چل جائے کہ عشاء اور صبح کی نماز (باجماعت ادا کرنے) میں کیا فضیلت ہے، تو وہ اس میں ضرور شریک ہوں گے، اگرچہ انہیں گھسٹ کر آنا پڑے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2153]

2154

Sahih Ibn Hibban #2154

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْمَرْوَزِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنِ الْمُسَيِّبِ بْنِ رَافِعٍ ، عَنْ تَمِيمِ بْنِ طَرَفَةَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ : دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَسْجِدَ ، فَقَالَ : أَلا تَصُفُّونَ كَمَا تَصُفُّ الْمَلائِكَةُ عِنْدَ رَبِّهِمْ ؟ " . قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَكَيْفَ تَصُفُّ الْمَلائِكَةُ عِنْدَ رَبِّهِمْ ؟ . قَالَ : " يُتِمُّونَ الصُّفُوفُ الأُوَلَ ، وَيَتَرَاصُّونَ فِي الصَّفِّ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں تشریف لائے اور ارشاد فرمایا: ”تم لوگ اس طرح صف کیوں نہیں بناتے ہو، جس طرح فرشتے اپنے پروردگار کی بارگاہ میں صف بناتے ہیں؟“ لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! فرشتے اپنے پروردگار کی بارگاہ میں کیسے صف بناتے ہیں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پہلے وہ پہلی صف کو مکمل کرتے ہیں اور پھر باقی صف کے درمیان خلا نہیں رہنے دیتے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2154]

2155

Sahih Ibn Hibban #2155

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : أَتِمُّوا الصَّفَّ الْمُقَدَّمَ ، فَإِنْ كَانَ نُقْصَانٌ فَلْيَكُنْ فِي الْمُؤَخَّرِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”پہلی صف کو مکمل کرو، اگر کوئی کمی ہو تو وہ سب سے پیچھے والی صف میں ہونی چاہیے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2155]

2156

Sahih Ibn Hibban #2156

أَخْبَرَنَا ابْنُ خُزَيْمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مَهْدِيٍّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لا يَزَالُ قَوْمٌ يَتَخَلَّفُونَ عَنِ الصَّفِّ الأَوَّلِ ، حَتَّى يُخَلِّفَهُمُ اللَّهُ فِي النَّارِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”لوگ پہلی صف سے پیچھے رہنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ جہنم میں انہیں پیچھے کر دے گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2156]

2157

Sahih Ibn Hibban #2157

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحُسَيْنِ ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، سَمِعْتُ زُبَيْدًا الإِيَامِيَّ يُحَدِّثُ ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ مُصَرِّفٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْسَجَةَ ، عَنِ الْبَرَاءِ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْتِينَا ، فَيَمْسَحُ عَوَاتِقَنَا وَصُدُورَنَا وَيَقُولُ : لا تَخْتَلِفْ صُفُوفُكُمْ فَتَخْتَلِفَ قُلُوبُكُمْ ، إِنَّ اللَّهَ وَمَلائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى الصَّفِّ الأَوَّلِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا براء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لاتے تھے، آپ ہماری گردنوں اور ہمارے سینوں پر ہاتھ پھیرتے تھے اور یہ ارشاد فرماتے تھے: ”اپنی صفوں میں اختلاف نہ رکھو ورنہ تمہارے دلوں میں اختلاف آ جائے گا، بے شک اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے پہلی صف والوں پر رحمت نازل کرتے ہیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2157]

2158

Sahih Ibn Hibban #2158

أَخْبَرَنَا حَاجِبُ بُنُ أَرْكِينَ الْحَافِظُ الْفُرْغَانِيُّ ، بِدِمَشْقَ ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ بَكَّارٍ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنْ شَيْبَانَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ ، عَنِ الْعِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَنَّهُ كَانَيُصَلِّي عَلَى الصَّفِّ الأَوَّلِ الْمُقَدَّمِ ثَلاثًا ، وَعَلَى الثَّانِي مَرَّةً """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پہلی صف والوں کے لیے تین مرتبہ اور دوسری صف والوں کے لیے ایک مرتبہ دعائے رحمت کیا کرتے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2158]

2159

Sahih Ibn Hibban #2159

أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُبَارَكِ الْعَابِدُ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الْعِجْلِيُّ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، عَنْ شَيْبَانَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ ، أَنَّ خَالِدَ بْنَ مَعْدَانَ حَدَّثَهُ ، أَنَّ جُبَيْرَ بْنَ نُفَيْرٍ حَدَّثَهُ ، أَنَّ الْعِرْبَاضَ بْنَ سَارِيَةَ حَدَّثَهُ، وَكَانَ الْعِرْبَاضُ من أهل الصفة ، قال : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَيُصَلِّي عَلَى الصَّفِّ الْمُقَدَّمِ ثَلاثًا ، وَعَلَى الثَّانِي وَاحِدَةً """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: یہ سیدنا عرباض رضی اللہ عنہ اہل صفہ سے تعلق رکھتے ہیں۔ یہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ”پہلی صف والوں کے لیے تین مرتبہ اور دوسری صف والوں کے لیے ایک مرتبہ دعائے رحمت کیا کرتے تھے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2159]

2160

Sahih Ibn Hibban #2160

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّاللَّهَ وَمَلائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى مَيَامِنِ الصُّفُوفِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”بے شک اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے صف میں دائیں طرف والوں پر رحمت نازل کرتے ہیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2160]

2161

Sahih Ibn Hibban #2161

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْجُنَيْدِ ، إِمْلاءً ، حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ طَلْحَةَ الإِيَامِيِّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْسَجَةَ ، عَنِ الْبَرَاءِ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْسَحُ مَنَاكِبَنَا وَصُدُورَنَا ، وَيَقُولُ : لا تَخْتَلِفُوا فَتَخْتَلِفَ قُلُوبُكُمْ ، إِنَّ اللَّهَ وَمَلائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى الصُّفُوفِ الْمُقَدَّمَةِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا براء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے کندھوں اور سینوں پر ہاتھ پھیرتے تھے اور یہ ارشاد فرماتے تھے: ”(صف بنانے میں) تم آپس میں اختلاف نہ کرو، ورنہ تمہارے دلوں میں اختلاف آ جائے گا۔ بے شک اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے آگے کی صفوں پر رحمت نازل کرتے ہیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2161]

2162

Sahih Ibn Hibban #2162

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مَعْشَرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرٍو الْبَجَلِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ، قَالَ : سَأَلْتُ الأَعْمَشَ عَنْ حَدِيثِ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ فِي الصُّفُوفِ الْمُقَدَّمَةِ ، فَحَدَّثَنَا ، عَنِ الْمُسَيِّبِ بْنِ رَافِعٍ ، عَنْ تَمِيمِ بْنِ طَرَفَةَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَلا تَصُفُّونَ كَمَا تَصُفُّ الْمَلائِكَةُ عِنْدَ رَبِّهَا ؟ " . قَالَ : قُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَكَيْفَ يَصُفُّونَ الْمَلائِكَةُ عِنْدَ رَبِّهِمْ ؟ . قَالَ : " يُتِمُّونَ الصُّفُوفَ الْمُقَدِّمَةَ وَيَتَرَاصُّونَ فِي الصَّفِّ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

زہیر بن معاویہ بیان کرتے ہیں: میں نے اعمش سے اس حدیث کے بارے میں دریافت کیا جو پہلی صفوں کے بارے میں سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے، تو انہوں نے اپنی سند کے ساتھ سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کیا: «أَلَا تَصُفُّونَ كَمَا تَصُفُّ الْمَلَائِكَةُ عِنْدَ رَبِّهَا؟» ”تم لوگ اس طرح صفیں کیوں نہیں بناتے ہو، جس طرح فرشتے اپنے پروردگار کی بارگاہ میں صف بناتے ہیں؟“ راوی کہتے ہیں: ہم نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! فرشتے اپنے رب کی بارگاہ میں کیسے صف بناتے ہیں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: «يُتِمُّونَ الصُّفُوفَ الْأُوَلَ وَيَتَرَاصُّونَ فِي الصَّفِّ» ”وہ پہلی صفوں کو مکمل کرتے ہیں اور صف میں ایک دوسرے کے ساتھ خوب جڑ کر (مل کر) کھڑے ہوتے ہیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2162]

2163

Sahih Ibn Hibban #2163

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، بِعَسْقَلانَ ، حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : إِنَّاللَّهَ وَمَلائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى الَّذِينَ يَصِلُونَ الصُّفُوفَ ". قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ هَذَا هُوَ اللَّيْثِيُّ ، مَوْلًى لَهُمْ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ ، مُسْتَقِيمُ الأَمْرِ صَحِيحُ الْكِتَابِ ، وَأُسَامَةُ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ مَدَنِيٌّ وَاهٍ ، وَكَانَا فِي زَمَنٍ وَاحِدٍ إِلا أَنَّ اللَّيْثِيَّ أَقْدَمُ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتی ہیں: ”بے شک اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے ان لوگوں پر رحمت نازل کرتے ہیں جو صفوں کو ملاتے ہیں۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) اسامہ بن زید نامی راوی لیثی ہے، یہ ان کا آزاد کردہ غلام ہے، جو اہل مدینہ سے تعلق رکھتا ہے اور مستقیم الامر ہے، اس کی روایات مستند ہیں۔ جبکہ اسامہ بن زید بن اسلم مدینہ منورہ کا رہنے والا ہے لیکن وہ واہی ہے، یہ دونوں ایک ہی زمانے سے تعلق رکھتے ہیں، لیکن لیثی نامی راوی کی عمر زیادہ ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2163]

2164

Sahih Ibn Hibban #2164

حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ شَاذَانَ الْمُقْرِئُ أَبُو الْقَاسِمِ ، بِالرِّيِّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُمَرَ رُسْتَةُ ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ حَفْصٍ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّاللَّهَ وَمَلائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى الَّذِينَ يَصِلُونَ الصُّفُوفَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”بے شک اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے ان لوگوں پر رحمت نازل کرتے ہیں جو صفوں کو ملاتے ہیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2164]

2165

Sahih Ibn Hibban #2165

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ ، يَقُولُ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُسَوِّي الصَّفَّ حَتَّى يَجْعَلَهُ مِثْلَ الْقِدْحِ ، أَوِ الرُّمْحِ ، فَرَأَى صَدْرَ رَجُلٍ نَاتِئًا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : عِبَادَ اللَّهِ سَوُّوا صُفُوفَكُمْ ، أَوْ لَيُخَالِفَنَّ اللَّهُ بَيْنَ وُجُوهِكُمْ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم صف کو درست کیا کرتے تھے، یہاں تک کہ آپ اسے تیر یا نیزے کی مانند بنا دیتے تھے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کسی شخص کے سینے کو آگے نکلا ہوا دیکھتے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے: ”اللہ کے بندو! اپنی صفوں کو درست رکھو، ورنہ اللہ تعالیٰ تمہارے درمیان اختلاف پیدا کر دے گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2165]

2166

Sahih Ibn Hibban #2166

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الأَزْهَرِ السِّجْزِيُّ ، حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا أَبَانُ ، وَشُعْبَةُ ، قَالا : حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : رُصُّوا صُفُوفَكُمْ ، وَقَارِبُوا بَيْنَهَا ، وَحَاذُوا بِالأَكْتَافِ ، فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنِّي لأَرَى الشَّيْطَانَ يَدْخُلُ مِنْ خَلَلِ الصَّفِّ كَأَنَّهَا الْحَذَفُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس رضی اللہ عنہ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”تم اپنی صفوں کو درست رکھو، ایک دوسرے کے قریب رہو اور اپنے کندھوں کو برابر رکھو، اس ذات کی قسم جس کے دستِ قدرت میں میری جان ہے! میں شیطان کو دیکھتا ہوں، وہ صف کے درمیان خالی جگہ میں یوں داخل ہوتا ہے جیسے وہ بکری کا بچہ ہو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2166]

2167

Sahih Ibn Hibban #2167

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ ، حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ يُونُسَ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ حِطَّانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الرَّقَاشِيِّ ، أَنَّ الأَشْعَرِيَّ صَلَّى بِأَصْحَابِهِ ، فَلَمَّا جَلَسَ فِي صَلاتِهِ ، قَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ : أُقِرَّتِ الصَّلاةُ بِالْبِرِّ وَالزَّكَاةِ ؟ . فَلَمَّا قَضَى الأَشْعَرِيُّ صَلاتَهُ ، أَقْبَلَ عَلَى الْقَوْمِ ، فَقَالَ : أَيُّكُمُ الْقَائِلُ كَلِمَةَ كَذَا كَذَا ؟ . فَأَرَمَّ الْقَوْمُ ، فَقَالَ : لَعَلَّكَ يَا حِطَّانُ قُلْتُهَا . قَالَ : وَاللَّهِ مَا قُلْتُهَا ، وَلَقَدْ خِفْتُ أَنْ تَبْكَعَنِي بِهَا . فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ : أَنَا قُلْتُهَا ، وَمَا أَرَدْتُ بِهَا إِلا الْخَيْرَ . فَقَالَ الأَشْعَرِيُّ : أَمَا تَعْلَمُونَ مَا تَقُولُونَ فِي صَلاتِكُمْ ؟ ، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطَبَنَا ، فَعَلَّمَنَا سُنَّتَنَا ، وَبَيَّنَ لَنَا صَلاتَنَا ، فَقَالَ : إِذَا أُقِيمَتِ الصَّلاةُ ، فَأَقِيمُوا صُفُوفَكُمْ ، وَلْيَؤُمَّكُمْ أَحَدُكُمْ ، فَإِذَا كَبَّرَ فَكَبِّرُوا ، وَإِذَا قَالَ : وَلا الضَّالِّينَ ، فَقُولُوا : آمِينَ ، يُجِبْكُمُ اللَّهُ ، ثُمَّ إِذَا كَبَّرَ فَرَكَعَ فَكَبِّرُوا وَارْكَعُوا ، فَإِنَّ الإِمَامَ يَرْكَعُ قَبْلَكُمْ وَيَرْفَعُ قَبْلَكُمْ " ، قَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فَتِلْكَ بِتِلْكَ ، وَإِذَا قَالَ : سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ ، فَقُولُوا : اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ ، فَإِنَّ اللَّهَ جَلَّ وَعَلا قَالَ عَلَى لِسَانِ نَبِيِّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ . ثُمَّ إِذَا كَبَّرَ وَسَجَدَ فَكَبِّرُوا وَاسْجُدُوا ، فَإِنَّ الإِمَامَ يَسْجُدُ قَبْلَكُمْ وَيَرْفَعُ قَبْلَكُمْ " ، قَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فَتِلْكَ بِتِلْكَ ، فَإِذَا كَانَ عِنْدَ الْقَعْدَةِ فَلْيَكُنْ مِنْ قَوْلِ أَحَدِكُمُ التَّحِيَّاتُ الصَّلَوَاتُ لِلَّهِ ، السَّلامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ ، السَّلامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ ، أَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حطان بن عبداللہ رقاشی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے اپنے ساتھیوں کو نماز پڑھائی، جب وہ نماز میں بیٹھے تو حاضرین میں سے ایک صاحب نے کہا: نماز کو نیکی اور زکوٰۃ کے ہمراہ قرار دیا گیا ہے، جب ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے اپنی نماز مکمل کی تو وہ ان کی طرف متوجہ ہوئے اور دریافت کیا: ”فلاں بات تم میں سے کس نے کہی ہے؟“ تو لوگ خاموش رہے۔ ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے کہا: ”اے حطان! شاید تم نے یہ بات کہی ہے۔“ حطان رحمہ اللہ نے کہا: اللہ کی قسم! میں نے یہ بات نہیں کہی، لیکن مجھے اندیشہ تھا کہ آپ اس حوالے سے مجھے مجرم قرار دیں گے۔ حاضرین میں سے ایک صاحب بولے: میں نے یہ بات کہی ہے، میں نے اس کے ذریعے صرف بھلائی کا ارادہ کیا تھا، تو ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا تم لوگ یہ بات نہیں جانتے کہ تمہیں اپنی نماز کے درمیان کیا پڑھنا چاہیے؟ بے شک اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطبہ دیتے ہوئے سنت کی تعلیم دی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کا طریقہ ہمارے سامنے بیان فرمایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جب نماز قائم کی جائے، تو تم اپنی صفوں کو درست کرو اور تم میں سے کوئی ایک شخص تمہاری امامت کرے، جب وہ تکبیر کہے، تو تم بھی تکبیر کہو، جب وہ «وَلَا الضَّالِّينَ» کہے، تو تم «آمِيْن» کہو، اللہ تعالیٰ تمہاری دعا کو قبول کرے گا، پھر جب وہ تکبیر کہے اور رکوع میں جائے، تو تم بھی تکبیر کہتے ہوئے رکوع میں جاؤ۔ امام کو تم سے پہلے رکوع میں جانا چاہیے اور تم سے پہلے (رکوع سے سر کو) اٹھانا چاہیے۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”یہ یوں ہو جائے گا، جب وہ «سَمِعَ اللّٰهُ لِمَنْ حَمِدَهُ» پڑھے تو تم لوگ «اللّٰهُمَّ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ» پڑھو، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی یہ بات ارشاد فرمائی ہے کہ جو شخص اس کی حمد بیان کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کو سن لیتا ہے، پھر جب امام تکبیر کہتے ہوئے سجدے میں جائے، تو تم بھی تکبیر کہتے ہوئے سجدے میں جاؤ، امام کو تم سے پہلے سجدے میں جانا چاہیے اور تم سے پہلے اٹھنا چاہیے۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ یوں ہو جائے گا، پھر جب قعدہ آئے، تو تم یہ پڑھو: «التَّحِيَّاتُ لِلّٰهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ، السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللّٰهِ وَبَرَكَاتُهُ، السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَىٰ عِبَادِ اللّٰهِ الصَّالِحِينَ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ» ”تمام زبانی اور جسمانی عبادتیں اللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص ہیں۔ اے نبی! آپ پر سلام ہو، اللہ تعالیٰ کی رحمتیں اور اس کی برکتیں نازل ہوں، ہم پر اور اللہ تعالیٰ کے تمام نیک بندوں پر سلام ہو، میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے اور بے شک سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔““ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2167]

2168

Sahih Ibn Hibban #2168

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ ، وَعَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ ، قَالا : حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ الأَسْوَدِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُصْعَبُ بْنُ ثَابِتِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، قَالَ : جِئْتُ فَقَعَدْتُ ، فَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمِ بْنِ خَبَّابٍ : جَاءَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ فَقَعَدَ مَكَانَكَ هَذَا ، فَقَالَ : تَدْرُونَ مَا هَذَا الْعُودُ ؟ قُلْنَا : لا . قَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَإِذَا قَامَ إِلَى الصَّلاةِ أَخَذَ بِيَمِينِهِ ، ثُمَّ الْتَفَتَ ، فَقَالَ : اعْتَدِلُوا سَوُّوا صُفُوفَكُمْ " . ثُمَّ أَخَذَ بِيَسَارِهِ ، ثُمَّ قَالَ : " اعْتَدِلُوا سَوُّوا صُفُوفَكُمْ ". فَلَمَّا هُدِمَ الْمَسْجِدُ فُقِدَ ، فَالْتَمَسَهُ عُمَرُ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِ ، فَوَجَدَهُ قَدْ أَخَذَهُ بَنُو عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ ، فَجَعَلُوهُ فِي مَسْجِدِهِمْ ، فَانْتَزَعَهُ ، فَأَعَادَهُ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

مصعب بن ثابت بیان کرتے ہیں: میں آیا اور آ کر بیٹھ گیا تو محمد بن مسلم نے بتایا کہ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ تشریف لائے اور تمہاری اس جگہ پر آ کر بیٹھ گئے، انہوں نے فرمایا: ”کیا تم لوگ یہ بات جانتے ہو، یہ لکڑی کیا ہے؟“ ہم نے جواب دیا: جی نہیں، انہوں نے بتایا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز کے لیے کھڑے ہوئے تھے، تو آپ اپنے دستِ مبارک کے ذریعے اسے پکڑ لیتے تھے، پھر آپ متوجہ ہوتے اور ارشاد فرماتے: ”اعتدال اختیار کرو اور اپنی صفوں کو درست کرو“، پھر آپ اسے اپنے بائیں ہاتھ میں پکڑ لیتے اور ارشاد فرماتے: ”اعتدال اختیار کرو اور اپنی صفوں کو درست کرو“، پھر جب مسجد منہدم ہو گئی تو یہ لکڑی گم ہو گئی، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس کو تلاش کیا، تو انہیں یہ لکڑی مل گئی، یہ لکڑی بنو عمرو بن عوف نے حاصل کر لی تھی اور انہوں نے اسے اپنی مسجد میں رکھ لیا تھا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اسے وہاں سے واپس لا کر اس کی (پہلے والی مخصوص) جگہ پر رکھ دیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2168]

2169

Sahih Ibn Hibban #2169

أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ سُلَيْمَانَ ، بِالْفُسْطَاطِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ هِشَامِ بْنِ أَبِي خَيْرَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مِسْعَرُ بْنُ كِدَامٍ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَيُسَوِّي الصُّفُوفَ كَأَنَّمَا بِهَا الْقِدَاحُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم صفیں یوں درست کرتے تھے جیسے تیر ہو۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2169]

2170

Sahih Ibn Hibban #2170

أَخْبَرَنَا ابْنُ خُزَيْمَةَ ، حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلانَ ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ السَّرِيِّ ، حَدَّثَنَا مُصْعَبُ بْنُ ثَابِتِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمِ بْنِ خَبَّابٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ عُمَرَ ، لَمَّا زَادَ فِي الْمَسْجِدِ غَفَلُوا عَنِ الْعُودِ الَّذِي كَانَ فِي الْقِبْلَةِ ، قَالَ أَنَسٌ : أَتَدْرُونَ لأَيِّ شَيْءٍ جُعِلَ ذَلِكَ الْعُودُ ؟ فَقَالُوا : لا . فَقَالَ : إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَإِذَا أُقِيمَتِ الصَّلاةُ ، أَخَذَ الْعُودَ بِيَدِهِ الْيُمْنَى ، ثُمَّ الْتَفَتَ ، فَقَالَ : اعْدِلُوا صُفُوفَكُمْ وَاسْتَوُوا " ، ثُمَّ أَخَذَ بِيَدِهِ الْيُسْرَى ، ثُمَّ الْتَفَتَ ، فَقَالَ : " اعْدِلُوا صُفُوفَكُمْ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے مسجد نبوی میں توسیع کی تو لوگ اس لکڑی سے غافل ہو گئے جو قبلہ کی سمت میں موجود تھی۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے (لوگوں سے) پوچھا: کیا تم لوگ یہ بات جانتے ہو کہ اس لکڑی کو کیوں رکھا گیا تھا؟ لوگوں نے جواب دیا: جی نہیں، تو انہوں نے بتایا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لیے اقامت کہے جانے کے بعد اس لکڑی کو اپنے دائیں دست اقدس میں لیتے تھے اور پھر (دائیں طرف) متوجہ ہو کر ارشاد فرماتے تھے: ”تم اپنی صفوں کو ٹھیک اور برابر کرو“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے اپنے بائیں دست اقدس میں لے کر (پھر بائیں طرف) متوجہ ہو کر ارشاد فرماتے تھے: ”تم اپنی صفوں کو ٹھیک کرو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2170]

2171

Sahih Ibn Hibban #2171

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَتِمُّوا صُفُوفَكُمْ ، فَإِنَّ تَسْوِيَةَ الصَّفِّ مِنْ تَمَامِ الصَّلاةِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”تم اپنی صفوں کو مکمل کرو کیونکہ صفوں کو درست کرنا نماز کی تکمیل کا حصہ ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2171]

2172

Sahih Ibn Hibban #2172

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي عَوْنٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو عَمَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ اللَّيْثِيِّ ، عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْسَحُ مَنَاكِبَنَا فِي الصَّلاةِ ، وَيَقُولُ : اسْتَوُوا وَلا تَخْتَلِفُوا فَتَخْتَلِفَ قُلُوبُكُمْ ، لِيَلِيَنِّي مِنْكُمْ أُولُو الأَحْلامِ وَالنُّهَى ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ". قَالَ أَبُو مَسْعُودٍ : وَأَنْتُمُ الْيَوْمَ أَشَدُّ اخْتِلافًا"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابومسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز (شروع کرنے سے) پہلے ہمارے کندھوں پر ہاتھ پھیرتے تھے اور ارشاد فرماتے تھے: ”تم (صفوں کو) درست رکھو اور آپس میں اختلاف نہ رکھو ورنہ تمہارے دلوں میں اختلاف آ جائے گا، اور تم میں سے سمجھدار اور تجربہ کار لوگ میرے قریب کھڑے ہوں، پھر اس کے بعد ان کے بعد کے مرتبے کے لوگ ہوں اور پھر اس کے بعد ان کے بعد کے مرتبے کے لوگ ہوں۔“ سیدنا ابومسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ آج تمہارے درمیان شدید اختلاف پائے جاتے ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2172]

2173

Sahih Ibn Hibban #2173

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّامِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ الْمَقَابِرِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : أَقْبَلَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِوَجْهِهِ حِينَ قَامَ إِلَى الصَّلاةِ قَبْلَ أَنْ يُكَبِّرَ ، فَقَالَ : أَقِيمُوا صُفُوفَكُمْ وَتَرَاصُّوا ، فَإِنِّي أَرَاكُمْ مِنْ وَرَاءِ ظَهْرِي """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز ادا کرنے کے لیے کھڑے ہوتے تھے، تو آپ تکبیر کہنے سے پہلے ہماری طرف رخ کرتے تھے اور ارشاد فرماتے تھے: ”صفیں قائم کرو اور ان کے درمیان خلا نہ چھوڑو، کیونکہ میں تمہیں اپنے پیچھے بھی دیکھ لیتا ہوں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2173]

2174

Sahih Ibn Hibban #2174

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : سَوُّوا صُفُوفَكُمْ ، فَإِنُّ تَسْوِيَةُ الصَّفِّ مِنْ تَمَامِ الصَّلاةِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”صفوں کو درست کرو کیونکہ صفیں درست کرنا نماز کی تکمیل کا حصہ ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2174]

2175

Sahih Ibn Hibban #2175

أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ الْمِنْهَالِ بْنِ أَخِي الْحَجَّاجِ الْعَطَّارُ ، بِالْبَصْرَةِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذِ بْنِ مُعَاذٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سِمَاكٌ ، قَالَ : سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ ، وَهُوَ يَخْطُبُ وَيَقُولُ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُسَوِّي الصَّفَّ ، حَتَّى يَدَعَهُ مِثْلَ الْقِدْحِ أَوِ الرُّمْحِ ، فَرَأَى صَدْرَ رَجُلٍ نَاتِئًا مِنَ الصَّفِّ ، فَقَالَ : عِبَادَ اللَّهِلَتُسَوُّنَّ صُفُوفَكُمْ ، أَوْ لَيُخَالِفَنَّ اللَّهُ بَيْنَ وُجُوهِكُمْ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ نے خطبہ دیتے ہوئے یہ بات بیان کی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم صف درست کروایا کرتے تھے، یہاں تک کہ آپ اسے تیر یا نیزے کی مانند کر دیتے تھے۔ ایک مرتبہ آپ نے ایک شخص کے سینے کو صف سے آگے نکلا ہوا دیکھا تو ارشاد فرمایا: ”اے اللہ کے بندو! تم لوگ یا تو صفیں درست رکھو گے یا اللہ تعالیٰ تمہارے درمیان اختلاف پیدا کر دے گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2175]

2176

Sahih Ibn Hibban #2176

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ إِسْحَاقَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي غَنِيَّةَ ، عَنْ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ ، عَنْ أَبِي الْقَاسِمِ الْجَدَلِيِّ ، قَالَ : سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ ، يَقُولُ : أَقْبَلَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِوَجْهِهِ ، فَقَالَ : أَقِيمُوا صُفُوفَكُمْ - ثَلاثًا - وَاللَّهِ لَتُقِيمُنَّ صُفُوفَكُمْ ، أَوْ لَيُخَالِفَنَّ اللَّهُ بَيْنَ قُلُوبِكُمْ ". قَالَ : فَرَأَيْتُ الرَّجُلَ يُلْزِقُ كَعْبَهُ بِكَعْبِ صَاحِبِهِ ، وَمَنْكِبَهُ بِمَنْكِبِ صَاحِبِهِ . أَبُو الْقَاسِمِ الْجَدَلِيُّ هَذَا اسْمُهُ : حُسَيْنُ بْنُ الْحَارِثِ مِنْ جَدِيلَةَ قَيْسٍ ، مِنْ ثِقَاتِ الْكُوفِيِّينَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہماری طرف رخ کرتے اور ارشاد فرماتے: ”اپنی صفیں درست کرو۔“ یہ بات آپ صلی اللہ علیہ وسلم تین مرتبہ ارشاد فرماتے (پھر فرماتے:) ”یا تو تم اپنی صفیں درست رکھو گے یا پھر اللہ تعالیٰ تمہارے درمیان اختلاف پیدا کر دے گا۔“ راوی کہتے ہیں: میں نے دیکھا، ہر شخص ساتھ والے کے ٹخنے کے ساتھ اپنے ٹخنے کو ملاتا تھا اور اپنے کندھے کو اپنے ساتھی کے کندھے کے ساتھ ملاتا تھا۔ ابوالقاسم الجدلی نامی راوی کا نام حسین بن حارث ہے، یہ جدیلہ قیس سے تعلق رکھتے ہیں اور کوفہ سے تعلق رکھنے والے ثقہ راوی ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2176]

2177

Sahih Ibn Hibban #2177

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَقِيمُوا الصَّفَّ فِي الصَّلاةِ ، فَإِنَّ إِقَامَةَ الصَّفِّ مِنْ حُسْنِ الصَّلاةِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم نماز میں اپنی صفوں کو درست رکھو کیونکہ صف کو درست رکھنا نماز کی خوبصورتی کا حصہ ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2177]

2178

Sahih Ibn Hibban #2178

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْعَبْدِيُّ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْسَحُ مَنَاكِبَنَا فِي الصَّلاةِ ، وَيَقُولُ : لا تَخْتَلِفُوا فَتَخْتَلِفَ قُلُوبُكُمْ ، وَلْيَلِيَنِّي مِنْكُمْ أُولُو الأَحْلامِ وَالنُّهَى ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابومسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم (نماز شروع کرنے سے پہلے) ہمارے کندھوں پر ہاتھ پھیرتے تھے اور یہ ارشاد فرماتے تھے: ”(صف سیدھی کرنے میں) ایک دوسرے سے اختلاف نہ کرو ورنہ تمہارے دلوں میں اختلاف آ جائے گا اور تم میں سے میرے قریب سمجھ دار اور تجربہ کار لوگ کھڑے ہوں، پھر اس کے بعد ان کے بعد کے مرتبے کے لوگ ہوں، اس کے بعد ان کے بعد کے مرتبے کے لوگ ہوں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2178]

2179

Sahih Ibn Hibban #2179

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنِ الْعَلاءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : أَحْسِنُوا إِقَامَةَ الصُّفُوفِ فِي الصَّلاةِ ، وَخَيْرُ صُفُوفِ الْقَوْمِ فِي الصَّلاةِ أَوَّلُهَا وَشَرُّهَا آخِرُهَا ، وَخَيْرُ صُفُوفِ النِّسَاءِ فِي الصَّلاةِ آخِرُهَا وَشَرُّهَا أَوَّلُهَا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”نماز میں صف قائم کرنے میں خوبصورتی کو اختیار کرو اور نماز میں لوگوں کی سب سے بہترین صف پہلے والی ہوتی ہے اور سب سے کم بہترین آخری ہوتی ہے اور خواتین کی صفوں میں سے سب سے بہتر صف، سب سے آخر والی ہوتی ہے اور سب سے کم بہتر صف پہلے والی ہوتی ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2179]

2180

Sahih Ibn Hibban #2180

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ زُهَيْرٍ أَبُو يَعْلَى ، بِالأُبُلَّةِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ نَصْرٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، عَنْ أَبِي مَعْشَرٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : لِيَلِيَنِّي مِنْكُمْ أُولُو الأَحْلامِ وَالنُّهَى ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ، وَلا تَخْتَلِفُوا فَتَخْتَلِفَ قُلُوبُكُمْ ، وَإِيَّاكُمْ وَهَيْشَاتِ الأَسْوَاقِ ". قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : أَبُو مَعْشَرٍ هَذَا زِيَادُ بْنُ كُلَيْبٍ ، كُوفِيٌّ ثِقَةٌ ، وَلَيْسَ هَذَا بِأَبِي مَعْشَرٍ السِّنْدِيِّ ، فَإِنَّهُ مِنْ ضُعَفَاءِ الْبَغْدَادِيِّينَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”تم میں سے سمجھ دار اور تجربہ کار لوگ میرے قریب کھڑے ہوں، اس کے بعد ان کے بعد والے مرتبے کے لوگ ہوں، پھر اس کے بعد ان کے بعد کے مرتبے کے لوگ ہوں، (تم لوگ صفیں سیدھی کرنے میں) آپس میں اختلاف نہ کرو، ورنہ تمہارے دلوں میں اختلاف آ جائے گا اور بازاروں کے شور و غوغا سے بچنے کی کوشش کرو۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) ابومعشر نامی یہ راوی زیاد بن کلیب ہے، جو کوفہ کا رہنے والا ہے اور ”ثقہ“ ہے، یہ ابومعشر سندی نہیں ہے، کیونکہ وہ بغداد سے تعلق رکھنے والا ”ضعیف“ راوی ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2180]

2181

Sahih Ibn Hibban #2181

أَخْبَرَنَا ابْنُ خُزَيْمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ عَلِيِّ بْنِ عَطَاءِ بْنِ مُقَدَّمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ السَّدُوسِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ ، عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ عَبَّادٍ ، قَالَ : بَيْنَمَا أَنَا بِالْمَدِينَةِ فِي الْمَسْجِدِ فِي الصَّفِّ الْمُقَدَّمِ قَائِمٌ أُصَلِّي ، فَجَذَبَنِي رَجُلٌ مِنْ خَلْفِي جَذْبَةً ، فَنَحَّانِي وَقَامَ مَقَامِي ، فَوَاللَّهِ مَا عَقَلْتُ صَلاتِي ، فَلَمَّا انْصَرَفَ فَإِذَا هُوَ أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ ، قَالَ : يَابْنَ أَخِي ، لا يَسُؤْكَ اللَّهُ إِنَّ هَذَاعَهْدٌ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْنَا ، أَنْ نَلِيَهُ ثُمَّ اسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ " ، وَقَالَ : هَلَكَ أَهْلُ الْعَهْدِ وَرَبِّ الْكَعْبَةِ ، ثَلاثًا ، ثُمَّ قَالَ : وَاللَّهِ مَا عَلَيْهِمْ آسَى وَلَكِنْ آسَى عَلَى مَنْ أَضَلُّوا . قَالَ : قُلْتُ : مَنْ يَعْنِي بِهَذَا ؟ قَالَ : الأُمَرَاءَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

قیس بن عباد بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ میں مدینہ منورہ میں ایک مسجد کی پہلی صف میں موجود تھا اور کھڑا ہو کر نماز ادا کر رہا تھا۔ میرے پیچھے موجود ایک شخص نے مجھے کھینچا اور مجھے ایک طرف ہٹا کر میری جگہ پر کھڑا ہو گیا۔ اللہ کی قسم! مجھے اپنی نماز کا خیال ہی نہیں رہا۔ پھر جب اس نے نماز مکمل کی تو وہ سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ تھے۔ انہوں نے فرمایا: ”اے میرے بھتیجے! اللہ تعالیٰ تمہارے ساتھ برا نہ کرے، یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے ہمارے ساتھ عہد ہے کہ ہم آپ کے (یعنی امام کے قریب) کھڑے ہوں۔“ پھر انہوں نے قبلہ کی طرف رخ کیا اور ارشاد فرمایا: ”ربِ کعبہ کی قسم! عہد والے لوگ ہلاکت کا شکار ہو گئے۔“ یہ بات انہوں نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی، پھر انہوں نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! ان لوگوں پر افسوس نہیں ہے، بلکہ افسوس ان لوگوں پر ہے جنہوں نے انہیں گمراہ کیا۔“ راوی کہتے ہیں: میں نے دریافت کیا کہ اس سے مراد کون لوگ ہیں؟ تو انہوں نے جواب دیا: ”حکمران۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2181]

2182

Sahih Ibn Hibban #2182

أَخْبَرَنَا ابْنُ سَلْمٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ بَكْرٍ ، حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ الزُّبَيْدِيُّ ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ فَخَلَعَ نَعْلَيْهِ فَلا يُؤْذِ بِهِمَا أَحَدًا وَلْيَجْعَلْهُمَا بَيْنَ رِجْلَيْهِ ، أَوْ لِيُصَلِّ فِيهِمَا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جب کوئی شخص نماز ادا کرتے ہوئے اپنے جوتے اتار دے تو وہ ان کے ذریعے کسی کو تکلیف نہ دے بلکہ انہیں اپنے دونوں پاؤں کے درمیان رکھ لے یا پھر انہیں پہن کر نماز ادا کر لے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2182]

2183

Sahih Ibn Hibban #2183

أَخْبَرَنَا ابْنُ خُزَيْمَةَ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عِيَاضُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْقُرَشِيُّ ، وَغَيْرُهُ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ فَلْيَلْبَسْ نَعْلَيْهِ ، أَوْ لِيَخْلَعْهُمَا بَيْنَ رِجْلَيْهِ ، وَلا يُؤْذِ بِهِمَا غَيْرَهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جب کوئی شخص نماز ادا کرے تو یا تو جوتے پہن کر رکھے یا انہیں اتار کر دونوں پاؤں کے درمیان رکھے، وہ اس کے ذریعے کسی دوسرے کو تکلیف نہ پہنچائے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2183]

2184

Sahih Ibn Hibban #2184

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الصَّيْرَفِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ طَالُوتَ بْنِ عَبَّادٍ الْجَحْدَرِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا كَهْمَسُ بْنُ الْحَسَنِ ، عَنْ أَبِي الْعَلاءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، ، أَنَّهُ : رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَيُصَلِّي وَعَلَيْهِ نَعْلٌ مَخْصُوفَةٌ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابوالعلاء اپنے والد (رضی اللہ عنہ) کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز ادا کرتے ہوئے دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم پیوند لگا ہوا جوتا پہنے ہوئے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2184]

2185

Sahih Ibn Hibban #2185

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي نَعَامَةَ السَّعْدِيِّ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَلَمَّا صَلَّى خَلَعَ نَعْلَيْهِ ، فَوَضَعَهُمَا عَنْ يَسَارِهِ ، فَخَلَعَ الْقَوْمُ نِعَالَهُمْ ، فَلَمَّا قَضَى صَلاتَهُ ، قَالَ : مَا لَكُمْ خَلَعْتُمْ نِعَالَكُمْ ؟ " . قَالُوا : رَأَيْنَاكَ خَلَعْتَ فَخَلَعْنَا . قَالَ : " إِنِّي لَمْ أَخْلَعْهُمَا مِنْ بَأْسٍ ، وَلَكِنَّ جِبْرِيلَ أَخْبَرَنِي أَنَّ فِيهِمَا قَذَرًا ،فَإِذَا أَتَى أَحَدُكُمُ الْمَسْجِدَ فَلْيَنْظُرْ فِي نَعْلَيْهِ ، فَإِنْ كَانَ فِيهِمَا أَذًى فَلْيَمْسَحْهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز پڑھائی، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز ادا کی تو اپنے جوتے اتار کر اپنے بائیں طرف رکھ لیے، حاضرین نے بھی اپنے جوتے اتار لیے، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز مکمل کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”تم نے جوتے کیوں اتارے ہیں؟“ تو لوگوں نے عرض کی: ہم نے آپ کو دیکھا، آپ نے جوتے اتار دیے تو ہم نے بھی اتار دیے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میں نے کسی خرابی کی وجہ سے انہیں نہیں اتارا بلکہ جبرائیل نے مجھے بتایا تھا، ان پر گندگی لگی ہوئی ہے، جب کوئی شخص مسجد میں آئے، تو وہ اپنے جوتوں کا جائزہ لے اگر اس میں گندگی لگی ہوئی ہو، تو وہ اسے صاف کر لے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2185]

2186

Sahih Ibn Hibban #2186

أَخْبَرَنَا ابْنُ قَحْطَبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبَانَ الْقُرَشِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هِلالُ بْنُ مَيْمُونٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو ثَابِتٍ يَعْلَى بْنُ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : خَالِفُوا الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى ، فَإِنَّهُمْ لا يُصَلُّونَ فِي خِفَافِهِمْ ، وَلا فِي نِعَالِهِمْ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابوثابت یعلی بن شداد اپنے والد رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”یہودیوں اور عیسائیوں کے برخلاف کرو، وہ لوگ موزوں اور جوتوں میں نماز ادا نہیں کرتے ہیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2186]

2187

Sahih Ibn Hibban #2187

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عِيَاضُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ وَخَلَعَ نَعْلَيْهِ ، فَلْيَجْعَلْهُمَا بَيْنَ رِجْلَيْهِ ، وَلا يُؤْذِ بِهِمَا غَيْرَهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جب کوئی شخص نماز ادا کرتے ہوئے جوتے اتارے تو انہیں اپنے دونوں پاؤں کے درمیان رکھ لے اور اسے ان کے ذریعے کسی دوسرے کو تکلیف نہیں پہنچانی چاہیے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2187]

2188

Sahih Ibn Hibban #2188

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ زُهَيْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْخَزَّازُ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مَاهَكٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ ، فَلا يَضَعْ نَعْلَهُ عَنْ يَمِينِهِ وَلا عَنْ يَسَارِهِ ، فَيَكُونُ عَنْ يَمِينِ غَيْرِهِ إِلا أَنْ يَكُونَ عَنْ يَسَارِهِ أَحَدٌ ، وَلْيَضَعْهُمَا بَيْنَ رِجْلَيْهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جب کوئی شخص نماز ادا کرے تو وہ اپنے جوتے کو اپنے دائیں طرف یا اپنے بائیں طرف نہ رکھے ورنہ وہ کسی دوسرے شخص کے دائیں طرف ہو جائے گا البتہ اگر اس کے بائیں طرف کوئی شخص موجود نہ ہو، تو پھر (وہ اس طرف رکھ سکتا ہے) یا پھر اسے (جوتوں کو) اپنے دونوں پاؤں کے درمیان رکھ لینا چاہیے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2188]

2189

Sahih Ibn Hibban #2189

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هَوْذَةُ بْنُ خَلِيفَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادِ بْنِ جَعْفَرٍ ، حَدِيثًا يَرْفَعْهُ إِلَى أَبِي سَلَمَةَ بْنِ سُفْيَانَ ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ السَّائِبِ ، قَالَ : حَضَرْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْفَتْحِوَصَلَّى فِي الْكَعْبَةِ ، فَخَلَعَ نَعْلَيْهِ فَوَضَعَهُمَا عَنْ يَسَارِهِ ، ثُمَّ افْتَتَحَ سُورَةَ الْمُؤْمِنِينَ ، فَلَمَّا بَلَغَ ذِكْرَ عِيسَى أَوْ مُوسَى أَخَذَتْهُ سَعْلَةٌ فَرَكَعَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن سائب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ فتح مکہ کے موقع پر میں بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خانہ کعبہ میں نماز ادا کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے جوتے اتارے اور انہیں اپنے بائیں طرف رکھ لیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ﴿سورة المؤمنون﴾ کی تلاوت شروع کی، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا عیسیٰ علیہ السلام یا شاید سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے ذکر تک پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کھانسی آگئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم رکوع میں چلے گئے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2189]

2190

Sahih Ibn Hibban #2190

أَخْبَرَنَا ابْنُ خُزَيْمَةَ ، وَعُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، وَغَيْرُهُمَا ، قَالُوا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَزِيعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُحَادَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِذَا أَخَذَ الْمُؤَذِّنُ فِي الإِقَامَةِ ، فَلا صَلاةَ إِلا الْمَكْتُوبَةَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”جب مؤذن اقامت کہنا شروع کرے تو (اس کے بعد) صرف فرض نماز ادا کی جا سکتی ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2190]

2191

Sahih Ibn Hibban #2191

أَخْبَرَنَا بَكْرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْوَهَّابِ الْقَزَّازُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْجُمَحِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ثَابِتُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنْ عَاصِمٍ الأَحْوَلِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَرْجِسَ ، أَنَّ رَجُلا دَخَلَ الْمَسْجِدَ بَعْدَمَا أُقِيمَتِ الصَّلاةُ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ دَخَلَ الصَّفَّ ، فَلَمَّا انْصَرَفَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : بِأَيَّتِهِمَا اعْتَدَدْتَ ، أَوْ بِأَيَّتِهِمَا احْتَسَبْتَ ؟ الَّتِي صَلَّيْتَ مَعَنَا أَوِ الَّتِي صَلَّيْتَ وَحْدَكَ ؟ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن سرجس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص اقامت ہو جانے کے بعد مسجد میں داخل ہوا جبکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز ادا فرما رہے تھے، اس شخص نے دو رکعتیں ادا کیں، پھر اس کے بعد صف میں شامل ہوا، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز ادا کر لی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”تم نے ان دونوں میں سے کس کو شمار کیا ہے؟“ (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں:) ”ان دونوں میں سے کس کے ذریعے ثواب کی امید رکھی ہے؟ وہ نماز جو تم نے ہمارے ساتھ ادا کی ہے یا وہ نماز جو تم نے تنہا ادا کی ہے؟“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2191]

2192

Sahih Ibn Hibban #2192

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ شَبِيبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَاصِمٍ الأَحْوَلِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَرْجِسَ ، وَكَانَ قَدْ أَدْرَكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى الْفَجْرَ ، فَجَاءَ رَجُلٌ ، فَصَلَّى خَلْفَهُ رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ ، ثُمَّ دَخَلَ مَعَ الْقَوْمِ ، فَلَمَّا قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلاتَهُ ، قَالَ لِلرَّجُلِ : أَيُّهُمَا جَعَلْتَ صَلاتَكَ : الَّتِي صَلَّيْتَ وَحْدَكَ ، أَوِ الَّتِي صَلَّيْتَ مَعَنَا ؟ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن سرجس رضی اللہ عنہ، جنہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ پایا ہے، انہوں نے یہ بات بیان کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فجر کی نماز پڑھا رہے تھے، اسی دوران ایک شخص آیا، اس نے آپ کے پیچھے دو رکعت ادا کیں، پھر وہ حاضرین کے ساتھ (باجماعت نماز) میں شامل ہو گیا، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی نماز مکمل کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: ”تم نے کون سی نماز کو اپنی نماز قرار دیا ہے؟ وہ نماز جو تم نے تنہا ادا کی تھی یا وہ نماز جو تم نے ہمارے ساتھ ادا کی؟“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2192]