Sahih Ibn Hibban #2119
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شَبَابَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ نُعَيْمِ بْنِ أَبِي هِنْدَ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ خَلْفَ أَبِي بَكْرٍ قَاعِدًا ". قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : خَالَفَ نُعَيْمُ بْنُ أَبِي هِنْدَ ، عَاصِمَ بْنَ أَبِي النَّجُودِ فِي مَتْنِ هَذَا الْخَبَرِ ، فَجَعَلَ عَاصِمٌ أَبَا بَكْرٍ مَأْمُومًا ، وَجَعَلَ نُعَيْمُ بْنُ أَبِي هِنْدَ أَبَا بَكْرٍ إِمَامًا ، وَهُمَا ثِقَتَانِ حَافِظَانِ مُتْقِنَانِ ، فَكَيْفَ يَجُوزُ أَنْ يُجْعَلَ خَبَرُ أَحَدِهِمَا نَاسِخًا لأَمْرٍ مُتَقَدِّمٍ ، وَقَدْ عَارَضَهُ فِي الظَّاهِرِ مِثْلُهُ ؟ وَنَحْنُ نَقُولُ بِمَشِيئَةِ اللَّهِ وَتَوْفِيقِهِ : إِنَّ هَذِهِ الأَخْبَارَ كُلَّهَا صِحَاحٌ ، وَلَيْسَ شَيْءٌ مِنْهَا يُعَارِضُ الآخَرَ ، وَلَكِنَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، صَلَّى فِي عِلَّتِهِ صَلاتَيْنِ فِي الْمَسْجِدِ جَمَاعَةً ، لا صَلاةً وَاحِدَةً ، فِي إِحْدَاهُمَا كَانَ مَأْمُومًا ، وَفِي الأُخْرَى كَانَ إِمَامًا . وَالدَّلِيلُ عَلَى أَنَّهُمَا كَانَا صَلاتَيْنِ لا صَلاةً وَاحِدَةً أَنَّ فِي خَبَرِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ بَيْنَ رَجُلَيْنِ يُرِيدُ أَحَدُهُمَا الْعَبَّاسَ وَالآخَرَ عَلِيًّا ، وَفِي خَبَرِ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " خَرَجَ بَيْنَ بَرِيرَةَ وَنُوبَةَ " ، فَهَذَا يَدُلَّكُ عَلَى أَنَّهَا كَانَتْ صَلاتَيْنِ لا صَلاةً وَاحِدَةً"
اردو ترجمہ · UrduUnverified translation
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی اس بیماری کے دوران سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پیچھے بیٹھ کر نماز ادا کی جس بیماری کے دوران آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوا۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نعیم بن ابوہند نامی راوی نے اس روایت کے متن میں عاصم بن ابونجود سے مختلف رائے نقل کی ہے۔ عاصم نے یہ بات نقل کی ہے کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ مقتدی تھے جبکہ نعیم نے یہ بات نقل کی ہے کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ امام تھے۔ یہ دونوں راوی ثقہ اور حافظ ہیں اور ”متفق“ ہیں۔ تو یہ بات کیسے جائز ہو سکتی ہے کہ ان دونوں میں سے کسی ایک خبر کو پہلے سے موجود حکم کی ناسخ بنا دیا جائے، جبکہ اسی کی مانند ایک روایت بظاہر اس کے مقابلے میں موجود ہے؟ تو اللہ تعالیٰ کی مشیت اور اس کی توفیق کے ہمراہ ہم یہ کہتے ہیں کہ یہ تمام روایات مستند ہیں اور ان میں ایسی کوئی چیز نہیں ہے جو دوسری کے مدمقابل ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیماری کے دوران مسجد میں جماعت کے ساتھ دو مرتبہ نماز ادا کی، ایک نماز ادا نہیں کی تھی۔ ان دو میں سے ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مقتدی کے طور پر شریک ہوئے تھے اور دوسری مرتبہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم امام کے طور پر شریک ہوئے تھے۔ اور اس کی دلیل یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو نمازوں میں شرکت کی تھی، ایک نماز میں نہیں کی تھی۔ ایک یہ روایت ہے کہ عبیداللہ بن عبداللہ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے حوالے سے یہ بات نقل کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دو آدمیوں کے درمیان چلتے ہوئے تشریف لے گئے تھے، جن میں سے ایک سیدنا عباس اور دوسرے سیدنا علی رضی اللہ عنہما تھے۔ جبکہ مسروق نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے حوالے سے یہ بات نقل کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بریرہ اور نوبہ رضی اللہ عنہما (نامی کنیزوں) کے درمیان چلتے ہوئے تشریف لے گئے تھے۔ تو یہ بات آپ کی رہنمائی اس چیز کی طرف کرے گی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو نمازیں ادا کی تھیں، ایک نماز ادا نہیں کی تھی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2119]