Muslim99Muslim99

Sahih Ibn Hibban · Book 19 · Chapter 3

Book of Divorce

Hadith 2119–2152

34 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

2119

Sahih Ibn Hibban #2119

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شَبَابَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ نُعَيْمِ بْنِ أَبِي هِنْدَ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ خَلْفَ أَبِي بَكْرٍ قَاعِدًا ". قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : خَالَفَ نُعَيْمُ بْنُ أَبِي هِنْدَ ، عَاصِمَ بْنَ أَبِي النَّجُودِ فِي مَتْنِ هَذَا الْخَبَرِ ، فَجَعَلَ عَاصِمٌ أَبَا بَكْرٍ مَأْمُومًا ، وَجَعَلَ نُعَيْمُ بْنُ أَبِي هِنْدَ أَبَا بَكْرٍ إِمَامًا ، وَهُمَا ثِقَتَانِ حَافِظَانِ مُتْقِنَانِ ، فَكَيْفَ يَجُوزُ أَنْ يُجْعَلَ خَبَرُ أَحَدِهِمَا نَاسِخًا لأَمْرٍ مُتَقَدِّمٍ ، وَقَدْ عَارَضَهُ فِي الظَّاهِرِ مِثْلُهُ ؟ وَنَحْنُ نَقُولُ بِمَشِيئَةِ اللَّهِ وَتَوْفِيقِهِ : إِنَّ هَذِهِ الأَخْبَارَ كُلَّهَا صِحَاحٌ ، وَلَيْسَ شَيْءٌ مِنْهَا يُعَارِضُ الآخَرَ ، وَلَكِنَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، صَلَّى فِي عِلَّتِهِ صَلاتَيْنِ فِي الْمَسْجِدِ جَمَاعَةً ، لا صَلاةً وَاحِدَةً ، فِي إِحْدَاهُمَا كَانَ مَأْمُومًا ، وَفِي الأُخْرَى كَانَ إِمَامًا . وَالدَّلِيلُ عَلَى أَنَّهُمَا كَانَا صَلاتَيْنِ لا صَلاةً وَاحِدَةً أَنَّ فِي خَبَرِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ بَيْنَ رَجُلَيْنِ يُرِيدُ أَحَدُهُمَا الْعَبَّاسَ وَالآخَرَ عَلِيًّا ، وَفِي خَبَرِ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " خَرَجَ بَيْنَ بَرِيرَةَ وَنُوبَةَ " ، فَهَذَا يَدُلَّكُ عَلَى أَنَّهَا كَانَتْ صَلاتَيْنِ لا صَلاةً وَاحِدَةً"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی اس بیماری کے دوران سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پیچھے بیٹھ کر نماز ادا کی جس بیماری کے دوران آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوا۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نعیم بن ابوہند نامی راوی نے اس روایت کے متن میں عاصم بن ابونجود سے مختلف رائے نقل کی ہے۔ عاصم نے یہ بات نقل کی ہے کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ مقتدی تھے جبکہ نعیم نے یہ بات نقل کی ہے کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ امام تھے۔ یہ دونوں راوی ثقہ اور حافظ ہیں اور ”متفق“ ہیں۔ تو یہ بات کیسے جائز ہو سکتی ہے کہ ان دونوں میں سے کسی ایک خبر کو پہلے سے موجود حکم کی ناسخ بنا دیا جائے، جبکہ اسی کی مانند ایک روایت بظاہر اس کے مقابلے میں موجود ہے؟ تو اللہ تعالیٰ کی مشیت اور اس کی توفیق کے ہمراہ ہم یہ کہتے ہیں کہ یہ تمام روایات مستند ہیں اور ان میں ایسی کوئی چیز نہیں ہے جو دوسری کے مدمقابل ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیماری کے دوران مسجد میں جماعت کے ساتھ دو مرتبہ نماز ادا کی، ایک نماز ادا نہیں کی تھی۔ ان دو میں سے ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مقتدی کے طور پر شریک ہوئے تھے اور دوسری مرتبہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم امام کے طور پر شریک ہوئے تھے۔ اور اس کی دلیل یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو نمازوں میں شرکت کی تھی، ایک نماز میں نہیں کی تھی۔ ایک یہ روایت ہے کہ عبیداللہ بن عبداللہ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے حوالے سے یہ بات نقل کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دو آدمیوں کے درمیان چلتے ہوئے تشریف لے گئے تھے، جن میں سے ایک سیدنا عباس اور دوسرے سیدنا علی رضی اللہ عنہما تھے۔ جبکہ مسروق نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے حوالے سے یہ بات نقل کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بریرہ اور نوبہ رضی اللہ عنہما (نامی کنیزوں) کے درمیان چلتے ہوئے تشریف لے گئے تھے۔ تو یہ بات آپ کی رہنمائی اس چیز کی طرف کرے گی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو نمازیں ادا کی تھیں، ایک نماز ادا نہیں کی تھی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2119]

2120

Sahih Ibn Hibban #2120

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، وَعُمَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بُجَيْرٍ ، قَالا : حَدَّثَنَا سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : لَمَّا مَرِضَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَضَهُ الَّذِي مَاتَ فِيهِ ، جَاءَهُ بِلالٌ يُؤْذِنُهُ بِالصَّلاةِ ، فَقَالَ : مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ " . قُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ أَبَا بَكْرٍ رَجُلٌ أَسِيفٌ وَمَتَى يَقُمْ مَقَامَكَ يَبْكِ فَلَوْ أَمَرْتَ عُمَرَ أَنْ يُصَلِّيَ بِالنَّاسِ . قَالَ : " مُرُوا أَبَا بَكْرٍ لِيُصَلِّيَ بِالنَّاسِ - ثَلاثَ مَرَّاتٍ - فَإِنَّكُنَّ صَوَاحِبَاتُ يُوسُفَ " . قَالَتْ : فَأَرْسَلْنَا إِلَى أَبِي بَكْرٍ ، فَصَلَّى بِالنَّاسِ فَوَجَدَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ نَفْسِهِ خِفَّةً ، فَخَرَجَ يُهَادَى بَيْنَ رَجُلَيْنِ وَرِجْلاهُ تَخُطَّانِ فِي الأَرْضِ ، فَلَمَّا حَسَّ بِهِ أَبُو بَكْرٍ ذَهَبَ يَتَأَخَّرُ ، فَأَوْمَأَ إِلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ مَكَانَكَ ، قَالَ : فَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَجَلَسَ إِلَى جَنْبِ أَبِي بَكْرٍ ، فَكَانَ أَبُو بَكْرٍ يَأْتَمُّ بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَالنَّاسُ يَأْتَمُّونَ بِأَبِي بَكْرٍ ". قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : هَذَا خَبَرٌ مُخْتَصَرٌ مُجْمِلٌ ، فَأَمَّا اخْتِصَارُهُ ، فَلَيْسَ فِيهِ ذِكْرُ الْمَوْضِعِ الَّذِي جَلَسَ فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَعَلَى يَمِينِ أَبِي بَكْرٍ أَوْ عَنْ يَسَارِهِ ؟"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس بیماری میں مبتلا ہوئے جس میں آپ کا وصال ہوا تھا، تو سیدنا بلال رضی اللہ عنہ آپ کو نماز کے لیے بلانے کے لیے آئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابوبکر سے کہو لوگوں کو نماز پڑھا دے۔“ ہم نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ ایک نرم دل آدمی ہیں، وہ آپ کی جگہ پر کھڑے ہوئے تو رونے لگ جائیں گے، اگر آپ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو یہ ہدایت کریں کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھا دیں (تو یہ مناسب ہو گا)۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابوبکر سے کہو لوگوں کو نماز پڑھا دے۔“ یہ بات آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی، پھر فرمایا: ”تم یوسف (علیہ السلام) کے زمانے کی خواتین کی طرح ہو۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ہم نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو پیغام بھجوایا، انہوں نے لوگوں کو نماز پڑھانا شروع کی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی طبیعت میں بہتری محسوس ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم دو آدمیوں کے درمیان ٹیک لگا کر تشریف لے گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاؤں زمین پر لکیر بنا رہے تھے، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو آپ کی آہٹ محسوس ہوئی تو وہ پیچھے ہٹنے لگے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اشارہ کیا کہ ”اپنی جگہ پر رہو۔“ راوی بیان کرتے ہیں: پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پہلو میں بیٹھ گئے، تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتدا کرتے رہے اور لوگ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی اقتدا کرتے رہے۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) یہ روایت مختصر اور مجمل ہے، جہاں تک اس کے مختصر ہونے کا تعلق ہے تو اس میں اس مقام کا ذکر نہیں ہے جہاں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے تھے کہ کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے دائیں طرف بیٹھے تھے یا بائیں طرف بیٹھے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2120]

2121

Sahih Ibn Hibban #2121

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : لَمَّا وَجَدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ نَفْسِهِ خِفَّةً ، جَاءَ حَتَّى جَلَسَ عَنْ يَسَارِ أَبِي بَكْرٍ ، وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَيُصَلِّي بِالنَّاسِ قَاعِدًا ، وَأَبُو بَكْرٍ قَائِمًا ". قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : وَأَمَّا إِجْمَالُ الْخَبَرِ ، فَإِنَّ عَائِشَةَ حَكَتْ هَذِهِ الصَّلاةَ إِلَى هَذَا الْمَوْضِعِ ، وَآخِرُ الْقِصَّةِ عِنْدَ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، إِذِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَهُمْ بِالْقُعُودِ أَيْضًا فِي هَذِهِ الصَّلاةِ كَمَا أَمَرَهُمْ بِهِ عِنْدَ سُقُوطِهِ عَنِ فَرَسِهِ عَلَى حَسْبِ مَا ذَكَرْنَاهُ قَبْلُ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی طبیعت میں بہتری محسوس ہوئی تو آپ تشریف لائے اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے بائیں طرف آ کر بیٹھ گئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ کر لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کھڑے ہو کر (نماز پڑھا رہے تھے)۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) جہاں تک اس روایت کے مجمل ہونے کا تعلق ہے، تو اس میں اجمال یہ ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس نماز کا تذکرہ کیا ہے جو اس مقام کے بارے میں ہے، جبکہ دوسرا واقعہ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے منقول ہے جس میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کو ”بیٹھنے کا حکم“ دیا تھا۔ وہ بھی اسی نماز کے بارے میں ہے جس طرح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اس وقت حکم دیا تھا جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم گھوڑے سے گر گئے تھے، جیسا کہ ہم اس سے پہلے اس روایت کو ذکر کر چکے ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2121]

2122

Sahih Ibn Hibban #2122

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ مَوْهِبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : اشْتَكَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَصَلَّيْنَا وَرَاءَهُ وَهُوَ قَاعِدٌ ، وَأَبُو بَكْرٍ يُكَبِّرُ يُسْمِعُ النَّاسَ تَكْبِيرَهُ ، قَالَ : فَالْتَفَتَ إِلَيْنَا فَرَآنَا قِيَامًا ، فَأَشَارَ إِلَيْنَا فَقَعَدْنَا ، فَصَلَّيْنَا بِصَلاتِهِ قُعُودًا ، فَلَمَّا سَلَّمَ ، قَالَ : كِدْتُمْ أَنْ تَفْعَلُوا فِعْلَ فَارِسَ وَالرُّومَ يَقُومُونَ عَلَى مُلُوكِهِمْ وَهُمْ قُعُودٌ ، فَلا تَفْعَلُواائْتَمُّوا بِإِمَامِكُمْ ، إِنْ صَلَّى قَائِمًا فَصَلُّوا قِيَامًا ، وَإِنْ صَلَّى قَاعِدًا فَصَلُّوا قُعُودًا ". قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : فِي هَذَا الْخَبَرِ الْمُفَسِّرِ بَيَانٌ وَاضِحٌ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا قَعَدَ عَنْ يَسَارِ أَبِي بَكْرٍ ، وَتَحَوَّلَ أَبُو بَكْرٍ مَأْمُومًا يَقْتَدِي بِصَلاتِهِ ، وَيُكَبِّرُ يُسْمِعُ النَّاسَ التَّكْبِيرَ لِيَقْتَدُوا بِصَلاتِهِ ، أَمَرَهُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَئِذٍ بِالْقُعُودِ حِينَ رَآهُمْ قِيَامًا ، وَلَمَّا فَرَغَ مِنْ صَلاتِهِ أَمَرَهُمْ أَيْضًا بِالْقُعُودِ ، إِذَا صَلَّى إِمَامُهُمْ قَاعِدًا ، وَقَدْ شَهِدَ جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ صَلاتِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، حَيْثُ سَقَطَ عَنْ فَرَسِهِ فَجُحِشَ شِقُّهُ الأَيْمَنُ ، وَكَانَ سُقُوطُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْفَرَسِ فِي شَهْرِ ذِي الْحِجَّةِ آخِرَ سَنَةِ خَمْسٍ مِنَ الْهِجْرَةِ ، وَشَهِدَ هَذِهِ الصَّلاةَ فِي عِلَّتِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَدَّى كُلَّ خَبَرٍ بِلَفْظِهِ ، أَلا تَرَاهُ يَذْكُرُ فِي هَذِهِ الصَّلاةِ رَفْعَ أَبِي بَكْرٍ صَوْتَهُ بِالتَّكْبِيرِ لِيَقْتَدِيَ النَّاسُ بِهِ ، وَتِلْكَ الصَّلاةُ الَّتِي صَلاهَا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِهِ عِنْدَ سُقُوطِهِ عَنْ فَرَسِهِ ، لَمْ يَحْتَجْ أَبُو بَكْرٍ إِلَى أَنْ يَرْفَعَ صَوْتَهُ بِالتَّكْبِيرِ لَيُسْمِعَ النَّاسَ تَكْبِيرَهُ عَلَى صِغَرُ حُجْرَةُ عَائِشَةَ ، وَإِنَّمَا رَفْعُهُ بِالصَّوْتِ بِالتَّكْبِيرِ فِي الْمَسْجِدِ الأَعْظَمِ الَّذِي صَلَّى فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي عِلَّتِهِ ، فَلَمَّا صَحَّ مَا وَصَفْنَا لَمْ يَجُزْ أَنْ يُجْعَلَ بَعْضُ هَذِهِ الأَخْبَارِ نَاسِخًا لِمَا تَقَدَّمَ عَلَى حَسْبِ مَا وَصَفْنَاهُ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بیمار ہو گئے، ہم نے آپ کے پیچھے نماز ادا کی، آپ بیٹھ کر نماز ادا کر رہے تھے اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ آپ کی تکبیر کی آواز لوگوں تک پہنچا رہے تھے۔ راوی بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہماری طرف توجہ کی تو آپ نے ہمیں کھڑے ہوئے ملاحظہ کیا، آپ نے اشارہ کیا تو ہم بیٹھ گئے اور ہم نے بیٹھ کر وہ نماز ادا کی، آپ نے سلام پھیرا اور ارشاد فرمایا: ”قریب تھا کہ تم وہ عمل کرتے جو اہل فارس اور اہل روم کرتے ہیں۔ وہ لوگ اپنے بادشاہوں کے سامنے کھڑے رہتے ہیں اور بادشاہ بیٹھے رہتے ہیں، تم ایسا نہ کرو، تم اپنے امام کی پیروی کرو، اگر وہ کھڑا ہو کر نماز ادا کرے تو تم بھی کھڑے ہو کر نماز ادا کرو، اگر وہ بیٹھ کر نماز ادا کرے تو تم بھی بیٹھ کر نماز ادا کرو۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) یہ وضاحتی روایت اس بات کا واضح بیان ہے کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے بائیں طرف بیٹھے تھے، تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ مقتدی بن گئے تھے اور وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کی پیروی کر رہے تھے۔ وہ تکبیر کہتے ہوئے تکبیر کی آواز لوگوں تک پہنچا رہے تھے تاکہ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کی پیروی کریں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں قیام کی حالت میں دیکھا تو آپ نے ان کو بیٹھنے کا حکم دیا تھا۔ جب آپ نماز پڑھ کر فارغ ہوئے تو پھر آپ نے ان کو یہی حکم دیا کہ جب ان کا امام بیٹھ کر نماز ادا کر رہا ہو، تو وہ بھی بیٹھ کر نماز ادا کریں۔ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اس نماز میں شریک ہوئے تھے جب آپ اپنے گھوڑے سے گر کر زخمی ہو گئے تھے اور آپ کا دایاں پہلو زخمی ہوا تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا گھوڑے سے گرنے کا واقعہ ذی الحجہ کے مہینے میں پیش آیا تھا، جو سن پانچ ہجری کے آخر میں پیش آیا تھا۔ اور سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری کے دوران ادا کی جانے والی نماز میں بھی شریک ہوئے تھے، تو انہوں نے دونوں میں سے ہر ایک روایت اپنے لفظوں میں بیان کر دی۔ کیا آپ نے یہ بات نوٹ نہیں کی کہ انہوں نے اس نماز کے بارے میں یہ بات نقل کی ہے کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ بلند آواز میں تکبیر کہہ رہے تھے تاکہ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی میں نماز ادا کریں؟ جہاں تک اس نماز کا تعلق ہے جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے گھوڑے سے گرنے کے بعد اپنے گھر میں ادا کی تھی، تو اس میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو بلند آواز میں تکبیر کہنے کی ضرورت نہیں تھی تاکہ لوگوں تک اپنی تکبیر کی آواز پہنچائیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا حجرہ چھوٹا تھا۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے بلند آواز میں تکبیر مسجد میں کہی تھی جو بڑی تھی۔ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیماری کے دوران نماز ادا کی تھی تو ہم نے جو چیز ذکر کی ہے، اس سے وہ بات مستند طور پر ثابت ہو گئی ہے؛ اب یہ بات جائز نہیں ہو گی کہ ان روایات میں سے کسی ایک کو پہلے سے موجود حکم کی ناسخ قرار دیا جائے، جیسا کہ ہم نے یہ بات ذکر کی ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2122]

2123

Sahih Ibn Hibban #2123

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ سَهْلٍ الْجَعْفَرِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حُمَيْدٍ أَبُو عَوْفٍ الرُّؤَاسِيُّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلاةَ الظُّهْرِ وَهُوَ جَالِسٌ وَأَبُو بَكْرٍ خَلْفَهُ ، فَإِذَا كَبَّرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَبَّرَ أَبُو بَكْرٍ يُسْمِعُنَا ، قَالَ : فَنَظَرَنَا قِيَامًا ، فَقَالَ : اجْلِسُوا " ، أَوْمَأَ بِذَلِكَ إِلَيْهِمْ ، قَالَ : فَجَلَسْنَا ، فَلَمَّا قَضَى الصَّلاةَ قَالَ : " كِدْتُمْ تَفْعَلُوا فِعْلَ فَارِسَ وَالرُّومَ بِعُظَمَائِهِمِ ،ائْتَمُّوا بِأَئِمَّتِكُمْ ، فَإِنْ صَلُّوا جُلُوسًا فَصَلُّوا جُلُوسًا ، وَإِنْ صَلُّوا قِيَامًا فَصَلُّوا قِيَامًا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ظہر کی نماز پڑھائی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیٹھ کر نماز پڑھائی اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے تھے، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تکبیر کہی تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے بلند آواز میں تکبیر کہی تاکہ ہم تک آواز آئے، راوی کہتے ہیں: جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں کھڑا ہوا دیکھا تو فرمایا: ”تم لوگ بیٹھ جاؤ۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کی طرف اس کا اشارہ کیا (کہ تم لوگ بیٹھ جاؤ)، راوی کہتے ہیں: ہم بیٹھ گئے، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز مکمل کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم ایسا طرز عمل اختیار کرنے لگے تھے جو اہل فارس اور اہل روم اپنے بادشاہوں کے ساتھ کرتے ہیں، تم لوگ اپنے ائمہ کی پیروی کرو؛ اگر وہ بیٹھ کر نماز ادا کریں تو تم بھی بیٹھ کر نماز ادا کرو اور اگر وہ کھڑے ہو کر نماز ادا کریں تو تم بھی کھڑے ہو کر نماز ادا کرو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2123]

2124

Sahih Ibn Hibban #2124

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذِ بْنِ مُعَاذٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا نُعَيْمُ بْنُ أَبِي هِنْدَ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، أَحْسَبُهُ عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ : أُغْمِيَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَلَمَّا أَفَاقَ قَالَ : هَلْ نُودِيَ بِالصَّلاةِ ؟ " . فَقُلْنَا : لا . فَقَالَ : " مُرِي بِلالا فَلْيُبَادِرْ بِالصَّلاةِ ، وَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ أَبُو بَكْرٍ " . قَالَتْ : فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ أَبَا بَكْرٍ رَجُلٌ أَسِيفٌ لا يَسْتَطِيعُ أَنْ يَقُومَ مَقَامَكَ . قَالَتْ : فَنَظَرَ إِلَيَّ حِينَ فَرَغَ مِنْ كَلامِهِ ، ثُمَّ أُغْمِيَ عَلَيْهِ ، فَلَمَّا أَفَاقَ قَالَ : " هَلْ نُودِيَ بِالصَّلاةِ ؟ " . قَالَتْ : فَقُلْتُ : لا . قَالَ : " مُرِي بِلالا فَلْيُنَادِ بِالصَّلاةِ ، وَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ أَبُو بَكْرٍ " . قَالَتْ : فَأَوْمَأَتْ إِلَى حَفْصَةَ ، فَقَالَتْ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، إِنَّ أَبَا بَكْرٍ رَجُلٌ رَقِيقٌ لا يَسْتَطِيعُ أَنْ يَقْرَأَ إِلا يَبْكِي . قَالَ : فَنَظَرَ إِلَيْهَا حِينَ فَرَغَتْ مِنْ كَلامِهَا ، ثُمَّ أُغْمِيَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَلَمَّا أَفَاقَ قَالَ : " هَلْ نُودِيَ بِالصَّلاةِ ؟ " . قَالَتْ : فَقُلْتُ : لا فَقَالَ :" مُرِي بِلالا فَلْيُنَادِ بِالصَّلاةِ ، وَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ أَبُو بَكْرٍ ، فَإِنَّكُنَّ صَوَاحِبَاتُ يُوسُفَ " . ثُمَّ أُغْمِيَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . قَالَتْ : فَأَقَامَ بِلالٌ الصَّلاةَ ، وَصَلَّى بِالنَّاسِ أَبُو بَكْرٍ ، ثُمَّ أَفَاقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَاءَ بِنُوبَةَ وَبَرِيرَةَ فَاحْتَمَلاهُ ، قَالَتْ عَائِشَةُ : فَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى أَصَابِعِ قَدَمَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَخُطُّ فِي الأَرْضِ ، قَالَتْ : فَلَمَّا أَحَسَّ أَبُو بَكْرٍ بِمَجِيءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرَادَ أَنْ يَسْتَأْخِرَ ، فَأَوْمَأَ إِلَيْهِ أَنْ يَثْبُتَ ، قَالَتْ : وَجِيءَ بِنَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوُضِعَ بِحِذَاءِ أَبِي بَكْرٍ فِي الصَّفِّ ". قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : هَذَا خَبَرٌ يُوهِمُ مَنْ لَمْ يُحْكِمْ صِنَاعَةِ الأَخْبَارِ وَلا يَفْقَهُ فِي صَحِيحِ الآثَارِ أَنَّهُ يُضَادُّ سَائِرَ الأَخْبَارِ الَّتِي تَقَدَّمَ ذِكْرُنَا لَهَا ، وَلَيْسَ بَيْنَ أَخْبَارِ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَضَادٌّ وَلا تَهَاتُرٌ وَلا يُكَذِّبُ بَعْضُهَا بَعْضًا ، وَلا يُنْسَخُ بِشَيْءٍ مِنْهَا الْقُرْآنُ بَلْ يُفَسَّرُ عَنْ مُجْمَلِ الْكِتَابِ وَمُبْهَمِهِ ، وَيُبَيِّنُ عَنْ مُخْتَصَرِهِ وَمُشْكِلِهِ ، وَقَدْ دَلَّلْنَا بِحَمْدِ اللَّهِ وَمَنِّهِ عَلَى أَنَّ هَذِهِ الأَخْبَارَ الَّتِي رُوِيَتْ كَانَتْ فِي صَلاتَيْنِ لا فِي صَلاةٍ وَاحِدَةٍ ، عَلَى حَسْبِ مَا وَصَفْنَاهُ ، فَأَمَّا الصَّلاةُ الأُولَى فَكَانَ خُرُوجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْهَا بَيْنَ رَجُلَيْنِ وَكَانَ فِيهَا إِمَامًا ، وَصَلَّى بِهِمْ قَاعِدًا وَأَمَرَهُمْ بِالْقُعُودِ فِي تِلْكَ الصَّلاةِ ، وَهَذِهِ الصَّلاةُ كَانَ خُرُوجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْهَا بَيْنَ بَرِيرَةَ وَنُوبَةَ ، وَكَانَ فِيهَا مَأْمُومًا وَصَلَّى قَاعِدًا فِي الصَّفِّ خَلْفَ أَبِي بَكْرٍ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر بے ہوشی طاری ہو گئی، جب آپ کو ہوش آیا تو آپ نے دریافت فرمایا: ”کیا نماز کے لیے اذان دے دی گئی ہے؟“ ہم نے عرض کی: جی نہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلال سے کہو وہ نماز کے لیے جلدی کرے اور ابوبکر لوگوں کو نماز پڑھا دے۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ہم نے عرض کی: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ ایک نرم دل آدمی ہیں، وہ آپ کی جگہ پر کھڑے نہیں ہو سکیں گے، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میری طرف دیکھا جب آپ کلام کر کے فارغ ہوئے تھے، پھر آپ پر بے ہوشی طاری ہو گئی، جب آپ کو ہوش آیا تو آپ نے دریافت فرمایا: ”کیا نماز کے لیے اذان ہو گئی ہے؟“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں نے عرض کی: جی نہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلال سے کہو نماز کے لیے اذان دے اور ابوبکر لوگوں کو نماز پڑھا دے۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں نے سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کی طرف اشارہ کیا تو انہوں نے عرض کی: اے اللہ کے نبی! سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ ایک نرم دل آدمی ہیں، وہ قرأت نہیں کر سکیں گے اور روتے رہیں گے، راوی بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی بات ختم ہونے پر ان کی طرف دیکھا، پھر آپ پر بے ہوشی طاری ہو گئی، جب آپ کو ہوش آیا تو آپ نے دریافت فرمایا: ”کیا نماز کے لیے اذان دے دی گئی ہے؟“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں نے عرض کی: جی نہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلال سے کہو نماز کے لیے اذان دے اور ابوبکر لوگوں کو نماز پڑھا دے، تم یوسف (علیہ السلام) کے زمانے کی عورتوں کی طرح ہو۔“ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر بے ہوشی طاری ہو گئی، سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے نماز کے لیے اقامت کہی، پھر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو نماز پڑھانا شروع کی، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ہوش آیا تو آپ نوبہ اور بریرہ رضی اللہ عنہما کے ساتھ تشریف لے گئے، ان دونوں نے آپ کو ٹیک دی ہوئی تھی، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دونوں پاؤں کی انگلیوں کا منظر آج بھی میری نگاہ میں ہے، وہ زمین پر نشان بنا رہی تھیں، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ جب سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد محسوس ہوئی تو انہوں نے پیچھے ہٹنے کا ارادہ کیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اشارہ کیا کہ وہ اپنی جگہ پر رہیں، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو لا کر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ صف میں بٹھا دیا گیا، (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں): یہ روایت اس شخص کو غلط فہمی کا شکار کرتی ہے جو علم حدیث میں مہارت نہیں رکھتا اور مستند روایات کا فہم نہیں رکھتا اور وہ اس بات کا قائل ہے کہ یہ دیگر تمام روایات کے برخلاف ہے جو اس سے پہلے ہم ذکر کر چکے ہیں، حالانکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول روایات میں کوئی تضاد اور کوئی اختلاف نہیں ہوتا اور نہ ان میں سے کوئی ایک کسی دوسری کی تکذیب کرتی ہے اور نہ ہی ان میں سے کسی ایک روایت کے ذریعے قرآن کے حکم کو منسوخ قرار دیا جا سکتا ہے بلکہ اس کے ذریعے کتاب کے مجمل اور مبہم حکم کی وضاحت کی جاتی ہے اور اس کے مشکل اور مختصر حکم کو بیان کیا جاتا ہے، اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم کے تحت ہم اس بات کی طرف رہنمائی کر چکے ہیں کہ یہ تمام روایات جو نقل کی گئی ہیں، یہ دو نمازوں کے بارے میں ہیں، ایک نماز کے بارے میں نہیں جیسا کہ ہم نے پہلے یہ بات نقل کی ہے، جہاں تک پہلی نماز کا تعلق ہے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس نماز کی ادائیگی کے لیے دو صاحبان کے درمیان چلتے ہوئے تشریف لے گئے تھے اور آپ امام کے طور پر اس نماز میں شامل ہوئے تھے، آپ نے بیٹھ کر لوگوں کو نماز پڑھائی تھی اور آپ نے اس نماز میں بھی لوگوں کو بیٹھ کر نماز ادا کرنے کا حکم دیا ہے اور یہ وہ نماز ہے جس کے لیے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ بریرہ رضی اللہ عنہا اور سیدہ نوبہ رضی اللہ عنہا (نامی کنیزوں کے درمیان چلتے ہوئے) تشریف لے گئے تھے، آپ اس میں مقتدی کے طور پر شریک ہوئے تھے اور آپ نے اس میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پیچھے صف میں بیٹھ کر نماز ادا کی تھی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2124]

2125

Sahih Ibn Hibban #2125

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سُوَيْدٍ الرَّمْلِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلالٍ ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : آخِرُ صَلاةٍ صَلاهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَ الْقَوْمِ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ مُتَوَشِّحًا بِهِ " يُرِيدُ قَاعِدًا خَلْفَ أَبِي بَكْرٍ. قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : هَذَا الْخَبَرُ يَنْفِي الارْتِيَابَ عَنِ الْقُلُوبِ أَنَّ شَيْئًا مِنْ هَذِهِ الأَخْبَارِ يُضَادُّ مَا عَارَضَهَا فِي الظَّاهِرِ وَلا يَتَوَهَّمَنَّ مُتَوَهِّمٌ أَنَّ الْجَمْعَ بَيْنَ الأَخْبَارِ عَلَى حَسْبِ مَا جَمَعْنَا بَيْنَهَا فِي هَذَا النَّوْعِ مِنْ أَنْوَاعِ السُّنَنِ يُضَادُّ قَوْلَ الشَّافِعِيِّ رَحْمَةُ اللَّهِ وَرِضْوَانُهُ عَلَيْهِ ، وَذَلِكَ أَنَّ كُلَّ أَصْلٍ تَكَلَّمْنَا عَلَيْهِ فِي كُتُبِنَا ، أَوْ فَرْعٍ اسْتَنْبَطْنَاهُ مِنَ السُّنَنِ فِي مُصَنَّفَاتِنَا ، هِيَ كُلُّهَا قَوْلُ الشَّافِعِيِّ وَهُوَ رَاجِعٌ عَمَّا فِي كُتُبِهِ ، وَإِنْ كَانَ ذَلِكَ الْمَشْهُورَ مِنْ قَوْلِهِ وَذَاكَ أَنِّي سَمِعْتُ ابْنَ خُزَيْمَةَ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ الْمُزَنِيَّ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ الشَّافِعِيَّ ، يَقُولُ : إِذَا صَحَّ لَكُمُ الْحَدِيثُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَخُذُوا بِهِ وَدَعُوا قُولِي . وَللِشَّافِعِيِّ رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَيْهِ فِي كَثْرَةِ عِنَايَتِهِ بِالسُّنَنِ ، وَجَمْعِهِ لَهَا ، وَتَفَقُّهِهِ فِيهَا ، وَذَبِّهِ عَنْ حَرِيمِهَا ، وَقَمْعِهِ مَنْ خَالَفَهَا ، زَعَمَ أَنَّ الْخَبَرَ إِذَا صَحَّ فَهُوَ قَائِلٌ بِهِ ، رَاجِعٌ عَمَّا تَقَدَّمَ مِنْ قَوْلِهِ فِي كُتُبِهِ ، وَهَذَا مِمَّا ذَكَرْنَاهُ فِي كِتَابِ الْمُبَيِّنِ ، أَنَّ لِلشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللَّهُ ثَلاثُ كَلِمَاتٍ ، مَا تَكَلَّمُ بِهَا أَحَدٌ فِي الإِسْلامِ قَبْلَهُ ، وَلا تَفَوَّهَ بِهَا أَحَدٌ بَعْدَهُ ، إِلا وَالْمَأْخَذُ فِيهَا كَانَ عَنْهُ : إِحْدَاهَا : مَا وَصَفْتُ . وَالثَّانِيَةُ : أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْذِرِ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ مُحَمَّدٍ الصَّبَّاحِ الزَّعْفَرَانِيِّ ، قَالَ : سَمِعْتُ الشَّافِعِيَّ ، يَقُولُ : مَا نَاظَرْتُ أَحَدًا قَطُّ فَأَحْبَبْتُ أَنْ يُخْطِئَ . وَالثَّالِثَةُ : سَمِعْتُ مُوسَى بْنَ مُحَمَّدٍ الدَّيْلَمِيَّ بِأَنْطَاكِيَّةَ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ الرَّبِيعَ بْنَ سُلَيْمَانَ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ الشَّافِعِيَّ ، يَقُولُ : وَدِدْتُ أَنَّ النَّاسَ تَعَلَّمُوا هَذِهِ الْكُتُبَ ، وَلَمْ يَنْسِبُوهَا إِلَيَّ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کے ساتھ جو آخری نماز ادا کی تھی، وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ہی کپڑے میں ادا کی تھی جسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے «التَّوَشُّحُ» (توشیح) کے طور پر اوڑھا ہوا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پیچھے بیٹھ کر نماز ادا کی تھی۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں) یہ روایت دلوں سے شک کو ختم کر دیتی ہے کہ ان روایات میں بظاہر کوئی تضاد پایا جاتا ہے اور کوئی بھی شخص اس غلط فہمی کا شکار نہ ہو کہ ہم نے ان روایات کے درمیان جو تطبیق دی ہے وہ امام شافعی رحمہ اللہ کے اس قول کے برخلاف ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ ہر وہ بنیادی اصول جس کے بارے میں ہم نے اپنی کتابوں میں کلام کیا اور ہر وہ فروعی مسئلہ جس کے بارے میں ہم نے احادیث سے استنباط کیا اور ان سب کو اپنی تصنیفات میں ذکر کیا، وہ سارے کے سارے امام شافعی رحمہ اللہ کے اقوال ہی ہوں گے اور وہ اس بارے میں اس چیز کی طرف لوٹیں گے جو ان کی کتابوں میں مذکور ہیں، اگرچہ یہ بات ان کے مشہور قول کے طور پر ہی کیوں نہ ہو، اس کی وجہ یہ ہے کہ میں نے امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے کہ میں نے امام مزنی رحمہ اللہ کو یہ بات بیان کرتے ہوئے سنا کہ وہ کہتے ہیں کہ میں نے امام شافعی رحمہ اللہ کو یہ بیان فرماتے ہوئے سنا کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے کوئی مستند حدیث تمہارے سامنے ثابت ہو جائے تو تم اس کو اختیار کر لو اور میرے قول کو چھوڑ دو۔ امام شافعی رحمہ اللہ نے احادیث کے بارے میں بڑی کوشش کی، انہیں جمع کیا اور ان کا فہم حاصل کیا اور جس شخص نے ان کے خلاف رائے پیش کی اس کی بھرپور مخالفت کی، وہ یہ کہتے ہیں کہ اگر کوئی روایت مستند طور پر ثابت ہو جائے وہ بھی اس حدیث کے مطابق مسئلے کے قائل ہوں گے اور اس چیز سے رجوع کرنے والے شمار ہوں گے جو (حدیث میں مذکور مسئلے کے خلاف ہو) اور اس سے پہلے ان کی کتابوں میں تحریر ہو چکا ہو، ہم اس سے پہلے اپنی کتاب ”المبین“ میں یہ بات بیان کر چکے ہیں کہ امام شافعی رحمہ اللہ کے تین کلمات ایسے ہیں جو ان سے پہلے اسلام میں کسی بھی شخص نے بیان نہیں کیے اور نہ ہی ان کے بعد کسی شخص نے کہے ہیں، اگر بعد میں بھی کسی نے بیان کیے ہوں تو اس کا ماخذ امام شافعی رحمہ اللہ ہی ہوں گے، ان میں سے ایک قول وہ ہے جو میں بیان کر چکا ہوں، دوسرا قول وہ ہے جسے محمد بن منذر نے حسن بن محمد کے حوالے سے بیان کیا ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے امام شافعی رحمہ اللہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ میں نے جب بھی کسی کے ساتھ بحث کی تو میں نے کبھی یہ نہیں سوچا کہ وہ غلطی کر جائے، تیسرا قول وہ ہے جو موسیٰ بن محمد نے ربیع بن سلیمان کے حوالے سے نقل کیا ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے امام شافعی رحمہ اللہ کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ میری یہ خواہش ہے کہ لوگ ان کتابوں کا علم حاصل کریں لیکن ان کو میری طرف منسوب نہ کریں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2125]

2126

Sahih Ibn Hibban #2126

أَخْبَرَنَا ابْنُ خُزَيْمَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جَعْفَرٍ ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ عَطَاءٍ مَوْلَى أَبِي أَحْمَدَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْثًا ، وَهُمْ نَفَرٌ ، فَدَعَاهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : مَاذَا مَعَكُمْ مِنَ الْقُرْآنِ ؟ " . فَاسْتَقْرَأَهُمْ حَتَّى مَرَّ عَلَى رَجُلٍ مِنْهُمْ هُوَ مِنْ أَحْدَثِهِمْ سِنًّا ، فَقَالَ : " مَاذَا مَعَكَ يَا فُلانُ ؟ " . قَالَ مَعِي كَذَا وَكَذَا وَسُورَةُ الْبَقَرَةِ . قَالَ : " مَعَكَ سُورَةُ الْبَقَرَةِ ؟ " . قَالَ : نَعَمْ . قَالَ : " اذْهَبْ فَأَنْتَ أَمِيرُهُمْ " . فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ أَشْرَفِهِمْ ، وَالَّذِي كَذَا وَكَذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا يَمْنَعُنِي أَنْ أَتَعَلَّمَ الْقُرْآنَ إِلا خَشْيَةَ أَنْ لا أَقُومَ بِهِ . قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ :" تَعَلَّمِ الْقُرْآنَ وَاقْرَأْهُ وَارْقُدْ ، فَإِنَّ مَثَلَ الْقُرْآنِ لِمَنْ تَعَلَّمَهُ فَقَرَأَهُ وَقَامَ بِهِ ، كَمَثَلِ جِرَابٍ مَحْشُوٍّ مِسْكًا يَفُوحُ رِيحُهُ عَلَى كُلِّ مَكَانٍ ، وَمَنْ تَعَلَّمَهُ فَرْقَدَ وَهُوَ فِي جَوْفِهِ كَمَثَلِ جِرَابٍ وُكِئَ عَلَى مِسْكٍ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مہم روانہ کی وہ کچھ افراد تھے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بلایا اور دریافت کیا: ”تمہیں کتنا قرآن آتا ہے؟“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے تلاوت سنی یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایسے شخص کے پاس سے گزرے جو ان میں سب سے کم سن تھا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”اے فلاں! تمہیں کتنا قرآن آتا ہے؟“ اس نے جواب دیا: مجھے فلاں اور فلاں سورۃ اور سورۃ البقرہ بھی آتی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”کیا تمہیں سورۃ البقرہ آتی ہے؟“ اس نے عرض کی: جی ہاں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم جاؤ، تم ان لوگوں کے امیر ہو“، تو اس گروہ کے معزز افراد میں سے ایک آدمی نے عرض کی: اس ذات کی قسم جس میں یہ، یہ خوبی ہے، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں نے قرآن کا علم صرف اس لیے حاصل نہیں کیا، مجھے یہ اندیشہ تھا، میں نوافل میں اس کی تلاوت نہیں کروں گا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم قرآن کا علم حاصل کرو اور اس کی تلاوت کرو اور سو بھی جایا کرو، جو شخص قرآن کا علم حاصل کر کے اس کی تلاوت کرتا ہے اسے نوافل میں ادا کرتا ہے، اس کی مثال ایک ایسی تھیلی کی مانند ہے، جس میں مشک موجود ہو اور اس کا منہ کھلا ہوا ہو، اس کی خوشبو ہر جگہ پھیل رہی ہو، اور جو شخص قرآن کا علم حاصل کر کے سویا رہتا ہے، لیکن وہ قرآن اس کے ذہن میں ہوتا ہے اس کی مثال ایسی تھیلی کی مانند ہے، جس میں مشک موجود ہو اور اس کا منہ بند ہو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2126]

2127

Sahih Ibn Hibban #2127

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْهَاشِمِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ مَيْمُونِ بْنِ الرَّمَّاحِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ رَجَاءٍ ، عَنْ أَوْسِ بْنِ ضَمْعَجٍ ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الأَنْصَارِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَؤُمُّ الْقَوْمَ أَقْرَؤُهُمْ لِكِتَابِ اللَّهِ ، فَإِنْ كَانُوا فِي الْقِرَاءَةِ سَوَاءً ، فَأَعْلَمُهُمْ بِالسُّنَّةِ ، فَإِنْ كَانُوا فِي السُّنَّةِ سَوَاءً ، فَأَقْدَمُهُمْ هِجْرَةً ، فَإِنْ كَانُوا فِي الْهِجْرَةِ سَوَاءً ، فَأَكْبَرُهُمْ سِنًّا ، وَلا يُؤَمَّ الرَّجُلُ فِي سُلْطَانِهِ ، وَلا يُجْلَسَ عَلَى تَكْرِمَتِهِ فِي بَيْتِهِ حَتَّى يَأْذَنَ لَهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”لوگوں کی امامت وہ شخص کرے جو ان میں سے اللہ کی کتاب کا سب سے زیادہ علم رکھتا ہو، اگر وہ لوگ قرأت کے حوالے سے برابر ہوں تو وہ شخص کرے جو سنت کا زیادہ علم رکھتا ہو، اگر وہ سنت کے علم کے حوالے سے برابر ہوں تو وہ شخص کرے جس نے پہلے ہجرت کی ہو، اگر وہ ہجرت کے حوالے سے برابر ہوں تو وہ شخص کرے جس کی عمر زیادہ ہو، کسی شخص کی سربراہی کی جگہ پر امامت نہ کی جائے اور اس کے گھر میں اس کی مخصوص جگہ پر نہ بیٹھا جائے جب تک وہ شخص اس کی اجازت نہیں دیتا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2127]

2128

Sahih Ibn Hibban #2128

أَخْبَرَنَا شَبَّابُ بْنُ صَالِحٍ الْمُعَدِّلُ ، بِوَاسِطٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، عَنْ أَبِي قِلابَةَ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ ، قَالَ : أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَا وَصَاحِبٌ لِي ، فَقَالَ : إِذَا صَلَّيْتُمَا فَأَذِّنَا وَأَقِيمَا وَلْيَؤُمَّكُمَا أَكْبَرُكُمَا ". قَالَ : وَكَانَا مُتَقَارِبَيْنِ . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فَأَذِّنَا وَأَقِيمَا " ، أَرَادَ بِهِ أَحَدَهُمَا لا كِلَيْهِمَا"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، میرے ساتھ میرا ایک دوست بھی تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جب تم دونوں نماز ادا کرو تو اذان دو اور اقامت کہو، تم دونوں میں سے جو بڑی عمر کا ہو، وہ امامت کرے۔“ راوی کہتے ہیں: وہ دونوں ہم عمر تھے۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ”کہ تم دونوں اذان دینا اور تم دونوں اقامت کرنا“ اس سے مراد یہ ہے کہ ان دونوں میں سے کوئی ایک شخص ایسا کرے، ایسا نہیں کہ وہ دونوں مل کر ایسا کریں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2128]

2129

Sahih Ibn Hibban #2129

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ، عَنْ أَبِي قِلابَةَ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُ وَلِصَاحِبٍ لَهُ : إِذَا حَضَرَتِ الصَّلاةُ فَأَذِّنَا ثُمَّ أَقِيمَا ، ثُمَّ لِيَؤُمَّكُمَا أَكْبَرُكُمَا ". قَالَ خَالِدٌ : فَقُلْتُ لأَبِي قِلابَةَ : فَأَيْنَ الْقِرَاءَةُ ؟ قَالَ : إِنَّهُمَا كَانَا مُتَقَارِبَيْنِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے اور ان کے ساتھی سے فرمایا: ”جب نماز کا وقت ہو، تو تم دونوں اذان دو اور تم دونوں اقامت کہو، پھر تم دونوں میں سے جو عمر میں بڑا ہو وہ امامت کرے۔“ خالد نامی راوی کہتے ہیں: میں نے ابوقلابہ نامی راوی سے دریافت کیا کہ قراءت کا حکم کہاں گیا؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ وہ دونوں اس حوالے سے برابر کی حیثیت رکھتے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2129]

2130

Sahih Ibn Hibban #2130

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ الدُّولابِيُّ ، مُنْذُ ثَمَانِينَ سَنَةً ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، عَنْ أَبِي قِلابَةَ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِي وَلِصَاحِبٍ لِي : إِذَا خَرَجْتُمَا فَلْيُؤَذِّنْ أَحَدَكُمَا ، وَلْيَقُمْ وَلْيَؤُمَّكُمَا أَكْبَرُكُمَا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے اور میرے ساتھی سے فرمایا: ”جب تم روانہ ہو جاؤ تو تم دونوں میں سے کوئی ایک شخص اذان دے اور وہ اقامت کہے اور تم دونوں میں سے جو شخص عمر میں بڑا ہو وہ تمہاری امامت کرے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2130]

2131

Sahih Ibn Hibban #2131

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي قِلابَةَ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ ، قَالَ : أَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ شَبَبَةٌ مُتَقَارِبُونَ ، فَأَقَمْنَا عِنْدَهُ عِشْرِينَ لَيْلَةً ، فَظَنَّ أَنَّا قَدِ اشْتَقْنَا إِلَى أَهْلِينَا ، سَأَلَنَا عَمَّنْ تَرَكْنَا فِي أَهْلِنَا ، فَأَخْبَرْنَاهُ ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَحِيمًا رَفِيقًا ، فَقَالَ : ارْجِعُوا إِلَى أَهْلِيكُمْ ، فَعَلِّمُوهُمْ ، وَمُرُوهُمْ ، وَصَلُّوا كَمَا رَأَيْتُمُونِي أُصَلِّي ،فَإِذَا حَضَرَتِ الصَّلاةُ فَلْيُؤَذِّنْ أَحَدُكُمْ ، وَلْيَؤُمَّكُمْ أَكْبَرُكُمْ ". قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " صَلُّوا كَمَا رَأَيْتُمُونِي أُصَلِّي " ، لَفْظَةُ أَمْرٍ تَشْتَمِلُ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ كَانَ يَسْتَعْمِلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صَلاتِهِ ، فَمَا كَانَ مِنْ تِلْكَ الأَشْيَاءِ خَصَّهُ الإِجْمَاعُ أَوِ الْخَبَرُ بِالنَّقْلِ ، فَهُوَ لا حَرَجَ عَلَى تَارِكِهِ فِي صَلاتِهِ ، وَمَا لَمْ يَخُصَّهُ الإِجْمَاعُ أَوِ الْخَبَرُ بِالنَّقْلِ فَهُوَ أَمْرٌ حَتْمٌ عَلَى الْمَخَاطَبِينَ كَافَّةً ، لا يَجُوزُ تَرْكُهُ بِحَالٍ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، ہم نوجوان ہم عمر لوگ تھے۔ ہم نے آپ کے پاس بیس دن قیام کیا، جب آپ کو یہ اندازہ ہو گیا کہ ہمارے لیے ہمارے گھر والوں سے علیحدگی دشواری کا باعث ہو رہی ہے، تو آپ نے ہم سے اس بارے میں دریافت کیا کہ ہم اپنے گھر والوں کے لیے کیا چھوڑ کر آئے ہیں۔ ہم نے آپ کو اس بارے میں بتایا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بڑے مہربان اور نرم دل تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم اپنے گھر والوں کے پاس واپس چلے جاؤ، انہیں تعلیم دو، انہیں حکم دو اور تم اسی طرح نماز ادا کرو جس طرح تم نے مجھے نماز ادا کرتے ہوئے دیکھا ہے، جب نماز کا وقت آ جائے، تو تم میں سے ایک شخص اذان دے اور جو شخص عمر میں بڑا ہو وہ تمہاری امامت کرے۔“ امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں: (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان: ”تم لوگ اس طرح نماز ادا کرو جس طرح تم نے مجھے نماز ادا کرتے ہوئے دیکھا ہے“ یہ لفظی طور پر امر کا صیغہ ہے جو ہر اس چیز پر مشتمل ہے جس پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی نماز کے دوران عمل کیا کرتے تھے اور ان میں سے دو چیزیں ایسی ہیں جن کو اجماع نے خاص کر دیا ہے، یا روایت نقل ہونے کے حوالے سے وہ خاص ہو گئی ہیں تو نماز کے دوران اسے ترک کرنے والے شخص کو کوئی حرج نہیں ہو گا، اور جسے اجماع نے یا کسی منقول حدیث نے خاص نہیں کیا، تو وہ لازمی حکم ہو گا جو تمام مخاطب لوگوں کے لیے ضروری ہو گا اور اسے ترک کرنا کسی بھی حالت میں جائز نہیں ہو گا)۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2131]

2132

Sahih Ibn Hibban #2132

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ الضَّرِيرُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، وَهِشَامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِذَا كُنْتُمْ ثَلاثَةً فِي سَفَرٍ ، فَلْيَؤُمَّكُمْ أَحَدُكُمْ ، وَأَحَقَّكُمْ بِالإِمَامَةِ أَقْرَؤُكُمْ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”جب تم تین آدمی سفر کر رہے ہو، تو تم میں سے کوئی ایک شخص تمہاری امامت کرے اور تم میں سے امامت کا زیادہ حق دار وہ شخص ہوگا، جو زیادہ تلاوت جانتا ہو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2132]

2133

Sahih Ibn Hibban #2133

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ رَجَاءٍ ، عَنْ أَوْسِ بْنِ ضَمْعَجٍ ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَؤُمُّ الْقَوْمَ أَقْرَؤُهُمْ لِكِتَابِ اللَّهِ ، فَإِنْ كَانُوا فِي الْقِرَاءَةِ سَوَاءً ، فَأَعْلَمُهُمْ بِالسُّنَّةِ ، فَإِنْ كَانُوا فِي السُّنَّةِ سَوَاءً ، فَأَقْدَمُهُمْ هِجْرَةً ، فَإِنْ كَانُوا فِي الْهِجْرَةِ سَوَاءً ، فَأَقْدَمُهُمْ سِنًّا ، وَلا يَؤُمَّنَّ الرَّجُلُ الرَّجُلَ فِي سُلْطَانِهِ ، وَلا يَقْعُدُ عَلَى تَكْرِمَتِهِ إِلا بِإِذْنِهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابومسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”لوگوں کی امامت وہ شخص کرے جو اللہ کی کتاب کا زیادہ علم رکھتا ہو، اگر وہ لوگ قرأت کے حوالے سے برابر کی حیثیت رکھتے ہوں تو وہ شخص کرے جو سنت کا زیادہ علم رکھتا ہو، اگر وہ لوگ سنت کے حوالے سے برابر کی حیثیت رکھتے ہوں تو وہ شخص کرے جس نے پہلے ہجرت کی ہو، اگر وہ ہجرت کے حوالے سے بھی برابر ہوں تو وہ شخص کرے جس کی عمر زیادہ ہو اور کوئی بھی شخص کسی دوسرے کی سربراہی کی جگہ پر اس کی امامت نہ کرے اور اس کے بیٹھنے کی مخصوص جگہ پر نہ بیٹھے، البتہ اس کی اجازت ہو تو حکم مختلف ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2133]

2134

Sahih Ibn Hibban #2134

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَبِيبٌ الْمُعَلِّمُ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ : أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَاسْتَخْلَفَ ابْنَ أُمِّ مَكْتُومٍ عَلَى الْمَدِينَةِ يُصَلِّي بِالنَّاسِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کو مدینہ منورہ میں نائب مقرر کیا تھا، وہ لوگوں کو نماز پڑھاتے رہے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2134]

2135

Sahih Ibn Hibban #2135

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَبِيبٌ الْمُعَلِّمُ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَاسْتَخْلَفَ ابْنَ أُمِّ مَكْتُومٍ عَلَى الْمَدِينَةِ يُصَلِّي بِالنَّاسِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کو مدینہ منورہ میں اپنا نائب مقرر کیا تھا، وہ لوگوں کو نماز پڑھاتے رہے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2135]

2136

Sahih Ibn Hibban #2136

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ بِالنَّاسِ فَلْيُخَفِّفْ ، فَإِنَّ فِي النَّاسِ الضَّعِيفَ ، وَالسَّقِيمَ ، وَذَا الْحَاجَةِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”جب کوئی شخص لوگوں کو نماز پڑھائے، تو اسے مختصر نماز پڑھانی چاہیے، کیونکہ لوگوں میں کمزور، بیمار اور کام کاج والے لوگ بھی ہوتے ہیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2136]

2137

Sahih Ibn Hibban #2137

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ ، قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي لأَتَأَخَّرُ عَنْ صَلاةِ الْغَدَاةِ مِمَّا يُطِيلُ بِنَا فُلانٌ . فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَمَا رَأَيْتُهُ فِي مَوْعِظَةٍ أَشَدَّ غَضَبًا مِنْهُ يَوْمَئِذٍ ، فَقَالَ : أَيُّهَا النَّاسُ ، إِنَّمِنْكُمْ مُنَفِّرِينَ ، فَأَيُّكُمْ مَا صَلَّى بِالنَّاسِ فَلْيَتَجَوَّزْ ، فَإِنَّ فِيهِمُ الضَّعِيفَ ، وَالْكَبِيرَ ، وَذَا الْحَاجَةِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابومسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اس نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں صبح کی نماز میں اس لیے شریک نہیں ہوتا، کیونکہ فلاں صاحب ہمیں طویل نماز پڑھاتے ہیں؛ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو گئے، (راوی کہتے ہیں) وعظ کرتے ہوئے میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس دن سے زیادہ شدید غصے میں کبھی نہیں دیکھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اے لوگو! تم میں سے کچھ لوگ (دوسروں کو) متنفر کرتے ہیں، تم میں سے جو بھی شخص لوگوں کو نماز پڑھائے اسے مختصر نماز پڑھانی چاہیے کیونکہ لوگوں میں کمزور، عمر رسیدہ اور بوسیدہ اور کام کاج والے لوگ بھی ہوتے ہیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2137]

2138

Sahih Ibn Hibban #2138

أَخْبَرَنَا ابْنُ سَلْمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ : مَا صَلَّيْتُ خَلْفَ إِمَامٍ قَطُّ أَخَفَّ صَلاةً ، وَلا أَتَمَّ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے کبھی کسی ایسے امام کے پیچھے نماز ادا نہیں کی جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ مختصر اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ مکمل نماز ادا کرتا ہو۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2138]

2139

Sahih Ibn Hibban #2139

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ الضَّرِيرُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنِّي لأَدْخُلُ فِي الصَّلاةِ أُرِيدُ أَنْ أُطِيلَهَا ، فَأَسْمَعَ بُكَاءَ الصَّبِيِّ ، فَأُخَفِّفَ مِمَّا أَعْلَمُ مِنْ شِدَّةِ وَجْدِ أُمِّهِ بِهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جب میں نماز شروع کرتا ہوں تو بعض اوقات میرا ارادہ ہوتا ہے کہ میں طویل نماز ادا کروں گا، لیکن پھر میں کسی بچے کے رونے کی آواز سن لیتا ہوں تو میں نماز کو مختصر کر دیتا ہوں، کیونکہ مجھے معلوم ہے کہ اس کی وجہ سے اس کی والدہ کو کتنی پریشانی ہوتی ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2139]

2140

Sahih Ibn Hibban #2140

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي عَوْنٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ : قَالَ عُمَرُ لِسَعْدٍ : قَدْ شَكَاكَ أَهْلُ الْكُوفَةِ فِي كُلِّ شَيْءٍ حَتَّى فِي الصَّلاةِ ، فَقَالَ : أُطِيلُ الأُولَيَيْنِ ، وأَحْذِمُ فِي الأُخْرَيَيْنِ ، وَمَا آلُو مِنْ صَلاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ". فَقَالَ : ذَاكَ الظَّنُّ بِكَ . أَبُو عَوْنٍ اسْمُهُ : مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا سعد رضی اللہ عنہ سے کہا: اہل کوفہ نے ہر معاملے میں آپ کی شکایت کی ہے، یہاں تک کہ نماز کے بارے میں بھی کی ہے، تو سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: میں پہلی دو رکعات طویل ادا کرتا ہوں اور آخری دو رکعات مختصر ادا کرتا ہوں اور میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے نماز کے طریقے کے حوالے سے کوئی کوتاہی نہیں کرتا، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: آپ کے بارے میں یہی گمان تھا۔ ابوعون نامی راوی کا نام محمد بن عبیداللہ ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2140]

2141

Sahih Ibn Hibban #2141

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَطَالَحَتَّى هَمَمْتُ بِأَمْرِ سُوءٍ " . قَالَ : قِيلَ : وَمَا هَمَمْتَ بِهِ ؟ . قَالَ : هَمَمْتُ أَنْ أَجْلِسَ وَأَدَعَهُ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز ادا کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے طویل نماز ادا کی، یہاں تک کہ میں نے ایک برا خیال دل میں سوچ لیا۔ راوی کہتے ہیں: ان سے دریافت کیا گیا: آپ نے کیا ارادہ کیا تھا؟ انہوں نے کہا: میں نے یہ ارادہ کیا تھا، میں بیٹھ جاتا ہوں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز ادا کرنے دیتا ہوں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2141]

2142

Sahih Ibn Hibban #2142

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، مَوْلَى ثَقِيفٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو حَازِمٍ ، أَنَّ رِجَالا أَتَوْا سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ ، وَقَدِ امْتَرَوْا فِي الْمِنْبَرِ : مِمَّ عُودُهُ ؟ فَسَأَلُوهُ عَنْ ذَلِكَ ، فَقَالَ : وَاللَّهِ لأَعْرِفُ مِمَّ هُوَ ؟ وَلَقَدْ رَأَيْتُ أَوَّلَ يَوْمٍ جَلَسَ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى فُلانَةً ، امْرَأَةٌ سَمَّاهَا سَهْلٌ ، أَنْمُرِي غُلامَكِ النَّجَّارَ أَنْ يَعْمَلَ لِي أَعْوَادًا أَجْلِسُ عَلَيْهَا إِذَا كَلَّمْتُ النَّاسَ ، فَأَمَرَتْهُ فَعَمِلَهَا مِنْ طَرْفَاءِ الْغَابَةِ ، ثُمَّ جَاءَ بِهَا ، فَأَرْسَلَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَمَرَ بِهَا فَوَضَعَتْ هَاهُنَا ، ثُمَّ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى عَلَيْهَا ، وَكَبَّرَ وَهُوَ عَلَيْهَا ، وَرَكَعَ وَهُوَ عَلَيْهَا ، وَرَفَعَ وَهُوَ عَلَيْهَا ، وَتَوَلَّى الْقَهْقَرِيَ ، فَسَجَدَ وَرَقَى عَلَى الْمِنْبَرِ ، ثُمَّ عَادَ ، فَلَمَّا فَرَغَ أَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ ، فَقَالَ : يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، إِنَّمَا صَنَعْتُ هَذَا لِتَأْتَمُّوا ، وَلِتَعْلَمُوا صَلاتِي """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابوحازم بیان کرتے ہیں کہ کچھ لوگ سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے، ان کے درمیان منبر کے بارے میں بحث ہو گئی تھی کہ وہ کون سی لکڑی سے بنایا گیا تھا۔ ان لوگوں نے اس بارے میں سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا: اللہ کی قسم! میں یہ بات جانتا ہوں کہ یہ کون سی لکڑی سے بنایا گیا تھا اور میں اس دن دیکھ رہا تھا جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم پہلی مرتبہ منبر پر تشریف فرما ہوئے تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فلاں خاتون کی طرف پیغام بھجوایا تھا، سیدنا سہل رضی اللہ عنہ نے اس خاتون کا نام بھی بیان کیا تھا (بعد کا کوئی راوی اس کا نام بھول گیا)، پیغام یہ تھا: ”تم اپنے بڑے لڑکے سے کہو وہ ہمارے لیے لکڑیوں سے کوئی چیز بنا دے جس پر میں بیٹھ جایا کروں اس وقت جب میں نے لوگوں سے کلام کرنا ہوتا ہے“، تو اس خاتون نے اس لڑکے کو یہ ہدایت کی، اس نے جنگل کی لکڑیوں سے اسے بنا دیا، پھر وہ اس کو لے کر آیا، اس خاتون نے یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھجوایا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے تحت اسے وہاں رکھا گیا، پھر میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر نماز ادا کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تکبیر کہی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت اس پر موجود تھے، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم رکوع میں گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر موجود تھے، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع سے سر اٹھایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر موجود تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم الٹے قدموں پیچھے ہٹے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (زمین پر) سجدہ کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم دوبارہ منبر پر چڑھ گئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی طرح کیا اور جب نماز پڑھ کر فارغ ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اے لوگو! میں نے ایسا اس لیے کیا ہے تاکہ تم میری پیروی کرو اور تم میری نماز (کے طریقے) کے بارے میں جان لو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2142]

2143

Sahih Ibn Hibban #2143

أَخْبَرَنَا ابْنُ خُزَيْمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنِ الشَّافِعِيِّ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ هَمَّامٍ ، قَالَ :صَلَّى بِنَا حُذَيْفَةُ عَلَى دُكَّانٍ مُرْتَفِعٍ ، فَسَجَدَ عَلَيْهِ ، فَجَبَذَهُ أَبُو مَسْعُودٍ ، فَتَابَعَهُ حُذَيْفَةُ ، فَلَمَّا قَضَى الصَّلاةَ ، قَالَ أَبُو مَسْعُودٍ أَلَيْسَ قَدْ نُهِيَ عَنْ هَذَا ؟ " . فَقَالَ لَهُ حُذَيْفَةُ : " أَلَمْ تَرَنِي قَدْ تَابَعْتُكَ ؟ ". قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : " إِذَا كَانَ الْمَرْءُ إِمَامًا ، وَأَرَادَ أَنْ يُصَلِّيَ بِقَوْمٍ حَدِيثٍ عَهْدُهُمْ بِالإِسْلامِ ، ثُمَّ قَامَ عَلَى مَوْضِعٍ مُرْتَفِعٍ مِنَ الْمَأْمُومِينَ لِيُعَلِّمَهُمْ أَحْكَامَ الصَّلاةِ عِيَانًا " ، كَانَ ذَلِكَ جَائِزًا عَلَى مَا فِي خَبَرِ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ، وَإِذَا كَانَتْ هَذِهِ الْعِلَّةُ مَعْدُومَةً لَمْ يُصَلِّ عَلَى مَقَامٍ أَرْفَعَ مِنْ مَقَامِ الْمَأْمُومِينَ عَلَى مَا فِي خَبَرِ أَبِي مَسْعُودٍ ، حَتَّى لا يَكُونَ بَيْنَ الْخَبَرَيْنِ تَضَادٌّ وَلا تَهَاتُرٌ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ہمام بیان کرتے ہیں کہ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے ہمیں نماز ایک بلند چبوترے پر پڑھائی، انہوں نے اس پر سجدہ کیا تو سیدنا ابومسعود رضی اللہ عنہ نے انہیں کھینچ لیا، سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے ان کی بات مان لی اور نماز مکمل کی، جب انہوں نے نماز مکمل کی تو سیدنا ابومسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کیا اس سے منع نہیں کیا گیا؟ تو سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: آپ نے مجھے دیکھا نہیں، میں نے آپ کی بات مان لی ہے۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) جب آدمی امام ہو اور وہ لوگوں کو نماز پڑھانے کا ارادہ کرے، وہ لوگ جنہوں نے نیا نیا اسلام قبول کیا ہو، پھر وہ شخص کسی ایسی جگہ پر کھڑا ہو جائے جو مقتدیوں سے بلند ہو اور اس کا مقصد یہ ہو کہ لوگوں کو واضح طور پر نماز کے احکام کی تعلیم دے تو یہ بات جائز ہو گی، جیسا کہ سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہما سے منقول روایت میں یہ بات مذکور ہے، لیکن جب یہ علت معدوم ہو تو پھر امام مقتدیوں کی جگہ سے بلند جگہ پر کھڑا ہو کر نماز ادا نہیں کرے گا، جیسا کہ سیدنا ابومسعود رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول روایت میں یہ بات مذکور ہے، اس طرح ان دونوں روایات کے درمیان کوئی تضاد اور اختلاف باقی نہیں ہو گا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2143]

2144

Sahih Ibn Hibban #2144

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، وَابْنُ كَثِيرٍ ، وَالْحَوْضِيُّ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ رَجَاءٍ ، عَنْ أَوْسِ بْنِ ضَمْعَجٍ ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الْبَدْرِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَؤُمُّ الْقَوْمُ أَقْرَؤُهُمْ لِكِتَابِ اللَّهِ ، فَإِنْ كَانَتْ قِرَاءَتُهُمْ سَوَاءً ، فَلْيَؤُمَّهُمْ أَقْدَمُهُمْ هِجْرَةً ، فَإِنْ كَانُوا فِي الْهِجْرَةِ سَوَاءً ، فَلْيَؤُمَّهُمْ أَكْبَرُهُمْ سِنًّا ، وَلا يَؤُمُّ الرَّجُلُ الرَّجُلَ فِي بَيْتِهِ ، وَلا فِي فُسْطَاطِهِ ، وَلا يَقْعُدُ عَلَى تَكْرِمَتِهِ إِلا بِإِذْنِهِ ". قَالَ شُعْبَةُ : فَقُلْتُ لإِسْمَاعِيلَ بْنِ رَجَاءٍ : مَا تَكْرِمَتُهُ ؟ قَالَ : فِرَاشُهُ . وَلَمْ يَذْكُرُهُ الْحَوْضِيُّ : فَقُلْتُ لإِسْمَاعِيلَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابومسعود بدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”لوگوں کی امامت وہ شخص کرے جو اللہ کی کتاب کا سب سے زیادہ علم رکھتا ہو، اگر وہ لوگ قرأت کے حوالے سے برابر ہوں تو ان کی امامت وہ شخص کرے جس نے پہلے ہجرت کی ہو، اگر وہ ہجرت کے حوالے سے بھی برابر ہوں، تو ان کی امامت وہ شخص کرے جو عمر میں زیادہ ہو، اور کوئی بھی شخص کسی دوسرے کے گھر میں یا خیمے میں اس کی امامت نہ کرے اور اس کے بیٹھنے کی مخصوص جگہ پر نہ بیٹھے، البتہ اس کی اجازت کا حکم مختلف ہے۔“ شعبہ کہتے ہیں: میں نے اسماعیل سے دریافت کیا کہ لفظ «تَقْرِمَة» سے کیا مراد ہے؟ انہوں نے جواب دیا: ”اس کا بچھونا۔“ حوضی نامی راوی نے یہ بات نقل نہیں کی ہے کہ میں نے اسماعیل سے دریافت کیا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2144]

2145

Sahih Ibn Hibban #2145

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : إِذَا أَتَيْتُمُ الصَّلاةَ ، فَلا تَأْتُوهَا تَسْعَوْنَ ، وَائْتُوهَا وَعَلَيْكُمُ السَّكِينَةُ ، فَمَا أَدْرَكْتُمْ فَصَلُّوا ، وَمَا فَاتَكُمْ فَاقْضُوا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جب تم نماز کے لیے آؤ تو دوڑتے ہوئے اس کی طرف نہ آؤ بلکہ تم اس حالت میں آؤ کہ تم پر سکون ہو، جتنی نماز تمہیں ملے اتنی ادا کر لو اور جو گزر چکی ہو اس کو بعد میں پورا کر لو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2145]

2146

Sahih Ibn Hibban #2146

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، وأبي سلمة ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : إِذَا أُقِيمَتِ الصَّلاةُ فَائْتُوهَا وَعَلَيْكُمُ السَّكِينَةُ ، فَصَلُّوا مَا أَدْرَكْتُمْ ، وَمَا سُبِقْتُمْ فَأَتِمُّوا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جب نماز کھڑی ہو جائے، تو تم سکون سے اس کی طرف چلتے ہوئے آؤ، جتنی نماز تمہیں ملے اسے ادا کر لو اور جو پہلے گزر چکی ہو اسے (بعد) میں مکمل کر لو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2146]

2147

Sahih Ibn Hibban #2147

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : بَيْنَمَا نَحْنُ نُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، إِذْ سَمِعَ جَلَبَةَ رِجَالٍ ، فَلَمَّا صَلَّى دَعَاهُمْ ، فَقَالَ : مَا شَأْنُكُمْ ؟ " . قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، اسْتَعْجَلْنَا إِلَى الصَّلاةِ . قَالَ : " لا تَسْتَعْجِلُواإِذَا أَتَيْتُمُ الصَّلاةَ فَعَلَيْكُمُ السَّكِينَةُ ، فَمَا أَدْرَكْتُمْ فَصَلُّوا ، وَمَا سُبِقْتُمْ فَأَتِمُّوا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن ابو قتادہ اپنے والد (سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ) سے یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں نماز ادا کر رہے تھے، اسی دوران آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ لوگوں کی تیز آہٹ سنی، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز مکمل کی تو دریافت فرمایا: ”تمہیں کیا ہوا تھا؟“ انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم نماز کی طرف جلدی آنا چاہ رہے تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم لوگ جلد بازی کا مظاہرہ نہ کرو، جب تم نماز کی طرف آؤ تو سکون سے چلتے ہوئے آؤ، جتنی نماز تمہیں ملے اسے ادا کر لو اور جو پہلے گزر چکی ہو اسے (بعد) میں مکمل کر لو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2147]

2148

Sahih Ibn Hibban #2148

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنِ الْعَلاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، وَإِسْحَاقِ أبي عبد الله ، أنهما أخبراه أنهما سمعا أبا هريرة ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِذَا ثُوِّبَ بِالصَّلاةِ ، فَلا تَأْتُوهَا وَأَنْتُمْ تَسْعَوْنَ ، وَائْتُوهَا وَعَلَيْكُمُ السَّكِينَةُ ، فَمَا أَدْرَكْتُمْ فَصَلُّوا ، وَمَا فَاتَكُمْ فَأَتِمُّوا ، فَإِنَّ أَحَدَكُمْ فِي صَلاةٍ مَا كَانَ يَعْمِدُ إِلَى الصَّلاةِ ". قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : قَالَ اللَّهُ جَلَّ وَعَلا : إِذَا نُودِيَ لِلصَّلاةِ مِنْ يَوْمِ الْجُمُعَةِ فَاسْعَوْا إِلَى ذِكْرِ اللَّهِ ، وَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فَلا تَأْتُوهَا وَأَنْتُمْ تَسْعَوْنَ " . فَالسَّعْيُ الَّذِي أَمَرَ اللَّهُ جَلَّ وَعَلا بِهِ هُوَ الْمَشْيُ إِلَى الصَّلاةِ عَلَى هَيْنَةِ الإِنْسَانِ ، وَالسَّعْيُ الَّذِي نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْهُ هُوَ الاسْتِعْجَالُ فِي الْمَشْيِ ، لأَنَّ الْمَرْءَ تُكْتَبُ لَهُ بِكُلِّ خُطْوَةٍ يَخْطُوهَا إِلَى الصَّلاةِ حَسَنَةٌ ، فَذَلِكَ مَا وَصَفْتُ ، يَعْنِي فِي تَرْجَمَةِ نَوْعِ هَذَا الْحَدِيثِ عَلَى أَنَّ الْعَرَبَ تُوقِعَ فِي لُغَتِهَا الاسْمَ الْوَاحِدَ عَلَى الشَّيْئَيْنِ الْمُخْتَلِفِي الْمَعْنَى ، فَيَكُونُ أَحَدُهُمَا مَأْمُورًا بِهِ ، وَالآخَرُ مَزْجُورًا عَنْهُ . إِسْحَاقُ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مَوْلَى زَائِدَةَ مِنَ التَّابِعِينَ ، قَالَهُ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جب نماز کے لیے اقامت کہی جائے، تو تم دوڑتے ہوئے اس کی طرف نہ آؤ بلکہ سکون سے چلتے ہوئے آؤ، جتنی نماز تمہیں مل جائے اسے ادا کر لو اور جو گزر چکی ہو اسے (بعد) میں مکمل کر لو کیونکہ جب کوئی شخص نماز کی طرف جاتا ہے، تو وہ نماز کی حالت میں شمار ہوتا ہے۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿إِذَا نُودِيَ لِلصَّلَاةِ مِنْ يَوْمِ الْجُمُعَةِ فَاسْعَوْا إِلَى ذِكْرِ اللَّهِ﴾ [سورة الجمعة: 9] ”جب جمعہ کے دن نماز کے لیے اذان دی جائے تو اللہ کے ذکر کی طرف تیزی سے جاؤ۔“ جبکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے کہ تم لوگ دوڑتے ہوئے اس کی طرف نہ آؤ، تو وہ تیزی جس کا حکم اللہ تعالیٰ نے دیا ہے، اس سے مراد آدمی کا سکون کی حالت میں نماز کی طرف چل کر جانا ہے اور وہ تیزی جس سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے، اس سے مراد تیز رفتاری سے چلنا ہے؛ اس کی وجہ یہ ہے کہ آدمی کے ہر ایک قدم کے عوض میں اس کے لیے نیکیاں لکھی جاتی ہیں، جیسا کہ میں نے پہلے ذکر کیا ہے یعنی اس نوعیت کی احادیث کی وضاحت میں یہ بات ذکر کی ہے کہ جب عرب اپنی زبان میں کسی ایک اسم کو دو مختلف چیزوں کے لیے استعمال کریں، تو ان دونوں میں سے کوئی ایک «مَأْمُورٌ بِهِ» بھی ہو سکتا ہے اور دوسرا ممنوع ہو سکتا ہے؛ اسحاق ابوعبداللہ جو زائدہ کا غلام ہے، وہ تابعین سے تعلق رکھتا ہے، یہ بات امام ابوحاتم رحمہ اللہ نے بیان کی ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2148]

2149

Sahih Ibn Hibban #2149

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَاشِمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنِ ابْنِ عَجْلانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِكَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ : إِذَا تَوَضَّأْتَ ثُمَّ دَخَلْتَ الْمَسْجِدَ ، فَلا تُشَبِّكَنَّ بَيْنَ أَصَابِعِكَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”جب تم وضو کر کے مسجد میں داخل ہو جاؤ تو تم اپنی انگلیوں کو ایک دوسرے میں پیوست نہ کرو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2149]

2150

Sahih Ibn Hibban #2150

أَخْبَرَنَا أَبُو عَرُوبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْدَانَ الْحَرَّانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُ : يَا كَعْبُ بْنَ عُجْرَةَ ، إِذَا تَوَضَّأْتَ فَأَحْسَنْتَ الْوُضُوءَ ، ثُمَّ خَرَجْتَ إِلَى الْمَسْجِدِ ، فَلا تُشَبِّكْ بَيْنَ أَصَابِعِكَ ، فَإِنَّكَ فِي صَلاةٍ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”اے کعب بن عجرہ! جب تم وضو کرو تو اچھی طرح وضو کرو اور پھر تم مسجد کی طرف جاؤ اور (اس دوران) تم اپنی انگلیوں کو ایک دوسرے میں داخل نہ کرو کیونکہ تم نماز کی حالت میں شمار ہو گے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2150]

2151

Sahih Ibn Hibban #2151

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، ، أَنَّهُ قَالَ : أَقْبَلْتُ رَاكِبًا عَلَى أَتَانٍ ، وَأَنَا يَوْمَئِذٍ قَدْ نَاهَزْتُ الاحْتِلامَ ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَيُصَلِّي بِالنَّاسِ بِمِنًى ، فَمَرَرْتُ بَيْنَ يَدَيْ بَعْضِ الصَّفِّ ، فَنَزَلْتُ ، وَأَرْسَلْتُ الأَتَانَ تَرْتَعُ ، وَدَخَلْتُ فِي الصَّفِّ ، وَلَمْ يُنْكِرْ ذَلِكَ عَلَيَّ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: میں ایک گدھی پر سوار ہو کر آیا، میں اس وقت قریب البلوغ تھا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم منی میں لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے۔ میں ایک صف کے کچھ حصے کے آگے سے گزرا، پھر میں اس سے اترا اور میں نے اس گدھی کو چرنے کے لیے چھوڑ دیا اور خود صف میں آ کر شامل ہو گیا تو کسی نے میری (اس حرکت پر) اعتراض نہیں کیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2151]

2152

Sahih Ibn Hibban #2152

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، قَالا : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي عُبَيْدٍ ، أَنَّهُ كَانَ يَأْتِي مَعَ سَلَمَةَ بْنِ الأَكْوَعِ ، إِلَى سُبْحَةِ الضُّحَى ،فَيَعْمِدُ إِلَى الأُسْطُوَانَةِ ، فَيُصَلِّي قَرِيبًا مِنْهَا فَأَقُولُ لَهُ : لا تُصَلِّ هَا هُنَا وَأُشِيرُ لَهُ إِلَى بَعْضِ نَوَاحِي الْمَسْجِدِ ، فَيَقُولُ : إِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَحَرَّى هَذَا الْمَقَامَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

یزید بن ابوعبید بیان کرتے ہیں کہ وہ سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ کے ہمراہ چاشت کی نماز ادا کرنے کے لیے جایا کرتے تھے، تو سیدنا سلمہ رضی اللہ عنہ بطور خاص ایک مخصوص ستون کی طرف جاتے تھے اور اس کے قریب نماز ادا کرتے تھے۔ میں نے ان سے کہا: آپ یہاں نماز ادا نہ کریں۔ میں نے مسجد کے دوسرے گوشوں کی طرف اشارہ کر کے کہا: (کہ آپ وہاں نماز ادا کر لیں) تو انہوں نے فرمایا: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے، آپ اہتمام کے ساتھ اس جگہ (نماز ادا کرتے تھے)۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2152]