Muslim99Muslim99

Sahih Ibn Hibban · Book 19 · Chapter 2

Book of Divorce

Hadith 2078–2118

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

2078

Sahih Ibn Hibban #2078

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الزُّهْرِيُّ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، ، أَنَّهُ أَذَّنَ بِالصَّلاةِ فِي لَيْلَةٍ ذَاتِ بَرْدٍ وَرِيحٍ ، وَقَالَ : أَلا صَلُّوا فِي الرِّحَالِ ، ثُمَّ قَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَأْمُرُ الْمُؤَذِّنَ إِذَا كَانَتْ لَيْلَةٌ ذَاتُ بُرْدٍ وَمَطَرٍ ، يَقُولُ : أَلاصَلُّوا فِي الرِّحَالِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

نافع رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے ایک سرد اور ہوا والی رات میں نماز کے لیے اذان دی اور یہ کہا: «أَلَا صَلُّوا فِي الرِّحَالِ» ”خبردار! اپنی رہائشی جگہ پر ہی نماز ادا کر لو۔“ پھر انہوں نے یہ بات بتائی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مؤذن کو یہ حکم دیتے تھے، جب رات ٹھنڈی یا بارش والی ہو، تو وہ یہ کہے: «أَلَا صَلُّوا فِي الرِّحَالِ» ”خبردار! اپنی رہائشی جگہ پر ہی نماز ادا کر لو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2078]

2079

Sahih Ibn Hibban #2079

أَخْبَرَنَا شَبَّابُ بْنُ صَالِحٍ ، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ ، أَخْبَرَنَا خَالِدٌ ، عَنْ خَالِدٍ ، عَنْ أَبِي قِلابَةَ ، عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَال : كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَمَنَ الْحُدَيْبِيَةِ ، وَأَصَابَنَا مَطَرٌ لَمْ يَبُلَّ أَسَافِلَ نِعَالِنَا ، فَنَادَى مُنَادِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَنْصَلُّوا فِي رِحَالِكُمْ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابوملیح اپنے والد رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ حدیبیہ کے زمانہ میں ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، ہمیں بارش نے آ لیا، وہ اتنی بارش تھی جس سے ہمارے جوتوں کے نیچے والا حصہ بھی گیلا نہیں ہوا، لیکن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے اعلان کرنے والے نے یہ اعلان کیا: ”تم لوگ اپنی رہائشی جگہ پر ہی نماز ادا کر لو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2079]

2080

Sahih Ibn Hibban #2080

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّهُ أَذَّنَ بِضَجْنَانَ فِي لَيْلَةٍ بَارِدَةٍ ، وَقَالَ لأَصْحَابِهِ : صَلُّوا فِي رِحَالِكُمْ ، فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ : يَأْمُرُ الْمُؤَذِّنَ يُؤَذِّنُ فِي اللَّيْلَةِ الْمَطِيرَةِ أَوِ الْبَارِدَةِ ، وَيَأْمُرُ أَصْحَابَهُ أَنْ صَلُّوا فِي رِحَالِكُمْ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

نافع سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے بارے میں یہ بات بیان کرتے ہیں کہ ایک سرد رات میں انہوں نے ضجنان کے مقام پر اذان دی اور اپنے ساتھیوں سے یہ کہا: ”تم لوگ اپنی رہائشی جگہ پر ہی نماز ادا کر لو“، کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے مؤذن کو یہ ہدایت کرتے تھے کہ وہ بارش والی رات میں یا سرد رات میں اذان دے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ساتھیوں کو یہ ہدایت کرتے تھے: ”تم لوگ اپنی رہائشی جگہ پر ہی نماز ادا کر لو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2080]

2081

Sahih Ibn Hibban #2081

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّامِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : أَصَابَنَا مَطَرٍ بِحُنَيْنٍ ، فَنَادَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَنْصَلُّوا فِي الرِّحَالِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابوملیح اپنے والد رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ حنین میں ہمیں بارش نے آ لیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے اعلان کرنے والے نے یہ اعلان کیا: ”تم لوگ اپنی رہائشی جگہ پر ہی نماز ادا کر لو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2081]

2082

Sahih Ibn Hibban #2082

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ فِي عَقِبِهِ قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ ، فَمُطِرْنَا ، فَقَالَ : لِيُصَلِّ مَنْ شَاءَ مِنْكُمْ فِي رَحْلِهِ ". أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الذُّهْلِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ سفر کر رہے تھے کہ بارش ہو گئی، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم میں سے جو شخص چاہے اپنی جگہ پر ہی نماز ادا کر لے۔“ یہی روایت امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ نے بھی اپنی سند کے ساتھ نقل کی ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2082]

2083

Sahih Ibn Hibban #2083

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حِبَّانُ بْنُ مُوسَى ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَمَنَ الْحُدَيْبِيَةِ ، فَأَصَابَنَا سَمَاءٌ لَمْ تَبُلَّ أَسَافِلَ نِعَالِنَا ، فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُنَادِيَهُ : أَنْصَلُّوا فِي رِحَالِكُمْ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابوملیح اپنے والد رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ حدیبیہ کے موقع پر ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، وہاں ہم پر بارش ہو گئی جو اتنی تھی کہ ہمارے جوتوں کا نیچے والا حصہ بھی مکمل طور پر گیلا نہیں ہوا تھا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اعلان کرنے والے کو یہ حکم دیا (کہ وہ یہ اعلان کرے): «صَلُّوا فِي رِحَالِكُمْ» ”تم لوگ اپنی رہائشی جگہ پر ہی نماز ادا کر لو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2083]

2084

Sahih Ibn Hibban #2084

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الأَنْصَارِيِّ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ ، فَكَانَتْ لَيْلَةٌ ظَلْمَاءُ ، أَوْ لَيْلَةٌ مَطِيرَةٌ ، أَذَّنَ مُؤَذِّنُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ نَادَى مُنَادِيهُ : أَنْصَلُّوا فِي رِحَالِكُمْ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ جب ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ سفر کر رہے ہوتے اور رات انتہائی تاریک ہوتی یا رات کے وقت بارش ہو جاتی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا مؤذن یہ اعلان کرتا تھا (راوی کو شک ہے، شاید یہ الفاظ ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے اعلان کرنے والا یہ اعلان کرتا تھا: ”تم لوگ اپنی رہائشی جگہ پر ہی نماز ادا کر لو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2084]

2085

Sahih Ibn Hibban #2085

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ بَكْرِ بْنِ سَوَادَةَ ، أَنَّ أَبَا النَّجِيبِ مَوْلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدٍ حَدَّثَهُ ، أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ حَدَّثَهُ ، أَنَّهُ ذِكْرُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الثُّومُ وَالْبَصَلُ ، وَقِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَأَشَدُّ ذَلِكَ كُلِّهِ الثُّومُ أَفَنُحَرِّمُهُ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : كُلُوهُ وَمَنْ أَكَلَهُ مِنْكُمْ فَلا يَقْرَبْ هَذَا الْمَسْجِدَ حَتَّى تَذْهَبَ رِيحُهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں لہسن اور پیاز کا ذکر کیا گیا، عرض کیا گیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! لہسن ان میں زیادہ بودار ہے، کیا ہم اسے حرام سمجھیں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم لوگ اسے کھاؤ، البتہ تم میں سے جو شخص اسے کھاتا ہے وہ ہماری اس مسجد کے قریب اس وقت تک نہ آئے جب تک اس کی بو ختم نہ ہو جائے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2085]

2086

Sahih Ibn Hibban #2086

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : كُنَّا لا نَأْكُلُ الْبَصَلَ وَالْكُرَّاثَ ، فَغَلَبَتْنَا الْحَاجَةُ فَأَكَلْنَا ، فَقَالَ : رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ أَكَلَ مِنْ هَذِهِ الشَّجَرَةِ الْمُنْتِنَةِ ، فَلا يَقْرَبْ مَسْجِدَنَا ، فَإِنَّ الْمَلائِكَةَ تَتَأَذَّى مِمَّا يَتَأَذَّى بِهِ النَّاسُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم پیاز اور گندنا نہیں کھایا کرتے تھے، پھر ہمیں اس کی ضرورت محسوس ہوئی تو ہم نے اسے کھا لیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جو شخص اس بودار درخت (کا پھل) کھاتا ہے وہ ہماری مسجد کے قریب ہرگز نہ آئے کیونکہ فرشتوں کو بھی اس چیز سے اذیت محسوس ہوتی ہے، جس سے انسانوں کو اذیت محسوس ہوتی ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2086]

2087

Sahih Ibn Hibban #2087

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدٍ الْمَرْوَزِيُّ ، بِالْبَصْرَةِ بِخَبَرٍ غَرِيبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْحَسَّانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ : أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَيَنْهَى عَنْ أَكْلِ الْكُرَّاثِ وَالْبَصَلِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ”گندنا اور پیاز کھانے سے منع کیا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2087]

2088

Sahih Ibn Hibban #2088

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، وَالْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالا : حَدَّثَنَا عَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ النَّرْسِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى الْقَطَّانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : مَنْ أَكَلَ مِنْ هَذِهِ الشَّجَرَةِ ، فَلا يَأْتِيَنَّ الْمَسْجِدَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جو شخص اس درخت (کا پھل) کھا لے وہ مسجد میں ہرگز نہ آئے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2088]

2089

Sahih Ibn Hibban #2089

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا ابْنُ جَرِيج ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ أَكَلَ مِنْ هَذِهِ الْبَقْلَةِ ، فَلا يَغْشَنَا فِي مَسَاجِدِنَا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”جو شخص اس سبزی کو کھا لے وہ ہماری مساجد میں ہمارے پاس نہ آئے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2089]

2090

Sahih Ibn Hibban #2090

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ أَكَلَ مِنْ هَذِهِ الشَّجَرَةِ الْمُنْتِنَةِ فَلا يَقْرَبَنَّ مَسْجِدَنَا ، فَإِنَّ الْمَلائِكَةَ تَتَأَذَّى مِمَّا يَتَأَذَّى مِنْهُ النَّاسُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جو شخص اس بودار درخت (کا پھل) کھا لے وہ ہماری مسجد کے قریب ہرگز نہ آئے، کیونکہ فرشتوں کو اس چیز سے اذیت محسوس ہوتی ہے جس سے انسانوں کو اذیت محسوس ہوتی ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2090]

2091

Sahih Ibn Hibban #2091

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ النُّكْرِيُّ هُوَ الدَّوْرَقِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شَبَابَةُ بْنُ سَوَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ الْيَعْمُرِيِّ ، قَالَ : خَطَبَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ، فَقَالَ : رَأَيْتُ كَأَنَّ دِيكًا أَحْمَرَ نَقَرَنِي نَقْرَةً أَوْ نَقْرَتَيْنِ ، وَلا أَرَى ذَلِكَ إِلا لِحُضُورِ أَجَلِي ، فَإِنْ عَجِلَ بِي أَمْرٌ ، فَإِنَّ الشُّورَى إِلَى هَؤُلاءِ الرَّهْطِ السِّتَّةِ الَّذِينَ تُوُفِّيَ تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَهُوَ عَنهُمْ رَاضٍ ، وَإِنِّي أَعْلَمُ أَنَّ نَاسًا سَيَطْعَنُونَ فِي هَذَا الأَمْرِ ، أَنَا قَاتَلْتُهُمْ بِيَدِي هَذِهِ عَلَى الإِسْلامِ ، فَإِنْ فَعَلُوا ، فَأُولَئِكَ أَعْدَاءُ اللَّهِ ، الْكُفَّارُ الضُّلالُ ، وَإِنِّي أَشْهَدُ عَلَى أُمَرَاءِ الأَمْصَارِ ، فَإِنِّي إِنَّمَا بَعَثْتُهُمْ لِيُعَلِّمُوا النَّاسَ دِينَهُمْ وَسُنَّةَ نَبِيِّهِمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَيَقْسِمُوا فِيهِمْ فَيْئَهُمْ ، وَمَا أَغْلَظَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي شَيْءٍ ، أَوْ مَا نَازَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي شَيْءٍ مِثْلَ آيَةِ الْكَلالَةِ ، حَتَّى ضَرَبَ صَدْرِي ، وَقَالَ : يَكْفِيكَ آيَةُ الصَّيْفِ الَّتِي أُنْزِلَتْ فِي آخِرِ سُورَةِ النِّسَاءِ : يَسْتَفْتُونَكَ قُلِ اللَّهُ يُفْتِيكُمْ فِي الْكَلالَةِ " . وَسَأَقْضِي فِيهَا بِقَضَاءٍ يَعْلَمُهُ مَنْ يَقْرَأُ ، وَمَنْ لا يَقْرَأُ هُوَ مَا خَلا الأَبِ ، وَكَذَا أَحْسَبُ ، أَلا إِنَّكُمْ أَيُّهَا النَّاسُ تَأْكُلُونَ مِنْ شَجَرَتَيْنِ لا أَرَاهُمَا إِلا خَبِيثَتَيْنِ : الْبَصَلِ وَالثُّومِ ، وَإِنْ " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُ بِالرَّجُلِ يُوجَدُ مِنْهُ رِيحُهَا فَيَخْرُجُ إِلَى الْبَقِيعِ ، فَمَنْ كَانَ لا بُدَّ آكِلَهُمَا فَلْيُمِتْهُمَا طَبْخًا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

معدان بن ابوطلحہ یعمری بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ ایک سرخ رنگ کا مرغ ہے، جس نے مجھے ایک مرتبہ یا شاید دو مرتبہ ٹھونگا مارا ہے۔ میرا خیال ہے کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ میری موت کا وقت قریب آ گیا ہے، اگر میں جلد انتقال کر گیا تو شوریٰ کا معاملہ ان چھ افراد کے سپرد ہو گا، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس دنیا سے رخصت ہوئے تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان حضرات سے راضی تھے اور مجھے اس بات کا علم ہے کہ کچھ لوگ اس حوالے سے پیچیدگی پیدا کرنے کی کوشش کریں گے۔ میں اپنے اس ہاتھ کے ذریعے اسلام پر ان لوگوں کے ساتھ جنگ کروں گا۔ اگر وہ پھر بھی ایسا کریں گے تو وہ اللہ کے دشمن ہیں۔ وہ کفار اور گمراہ لوگ ہیں اور میں مختلف علاقوں کے گورنروں کے بارے میں گواہی دیتا ہوں، میں نے ان کو اس لیے بھجوایا تھا تاکہ وہ لوگوں کو دین کی تعلیم دیں اور ان کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کی تعلیم دیں اور ان کا مال ان کے درمیان تقسیم کریں اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی بھی چیز کے بارے میں اتنی زیادہ تاکید نہیں کی (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں:) میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی بھی معاملے میں اتنے زیادہ اہتمام کے ساتھ دریافت نہیں کیا جتنا «الْكَلَالَةِ» ”کلالہ“ سے متعلق آیت کے بارے میں دریافت کیا، یہاں تک کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے سینے پر ہاتھ مارا اور ارشاد فرمایا: ”تمہارے لیے گرمی میں نازل ہونے والی وہ آیت کافی ہے، جو سورہ النساء کے آخر میں نازل ہوئی تھی۔“ ﴿يَسْتَفْتُونَكَ قُلِ اللَّهُ يُفْتِيكُمْ فِي الْكَلَالَةِ﴾ [سورة النساء: 176] ”لوگ تم سے دریافت کرتے ہیں: تم فرما دو، اللہ تعالیٰ کلالہ کے بارے میں تمہیں یہ حکم دیتا ہے۔“ (سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا) عنقریب میں اس بارے میں ایسا فیصلہ دوں گا، جسے وہ شخص جان لے گا جو پڑھ سکتا ہے اور وہ بھی جو نہیں پڑھ سکتا اور وہ (فیصلہ) باپ کے علاوہ (کے لیے) ہو گا۔ اسی طرح میں یہ گمان کرتا ہوں۔ خبردار اے لوگو! تم لوگ ان دو درختوں (کا پھل) کھاتے ہو۔ میں یہ سمجھتا ہوں کہ یہ دونوں خبیث ہیں: پیاز اور لہسن۔ اگر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو کسی شخص سے اس کی بو محسوس ہوتی تھی، تو اس شخص کو «الْبَقِيعِ» ”بقیع“ کی طرف بھیج دیا جاتا تھا۔ جس شخص نے ان دونوں کو ضرور کھانا ہو وہ انہی کو پکا کر اس کی بو کو ختم کر دے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2091]

2092

Sahih Ibn Hibban #2092

أَخْبَرَنَا ابْنُ سَلْمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ بَكْرِ بْنِ سَوَادَةَ ، أَنَّ سُفْيَانَ بْنَ وَهْبٍ حَدَّثَهُ ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الأَنْصَارِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْسَلَ إِلَيْهِ بِطَعَامٍ مَعَ خُضَرٍ ، فِيهِ بَصَلٌ أَوْ كُرَّاثٌ ، فَلَمْ يَرَ فِيهِ أَثَرَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَبَى أَنْ يَأْكُلَهُ ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَا مَنَعَكَ أَنْ تَأْكُلَ ؟ " قَالَ : لَمْ أَرْ أَثَرَكَ فِيهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ . فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ :" أَسْتَحْيِي مِنْ مَلائِكَةِ اللَّهِ وَلَيْسَ بِمُحَرَّمٍ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی طرف کچھ کھانا واپس بھیجا جس میں کچھ سبزیاں تھیں جن میں پیاز اور گندنا بھی تھا۔ سیدنا ابوایوب رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے کھانے میں سے (اس کو) کھانے کا نشان نہیں دیکھا تو انہوں نے خود اسے کھانے سے انکار کر دیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے دریافت فرمایا: ”تم اسے کیوں نہیں کھاتے؟“ انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! مجھے اس میں آپ کے کھانے کا نشان نظر نہیں آیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”مجھے اللہ کے فرشتوں سے حیا آتی ہے، ویسے یہ حرام نہیں ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2092]

2093

Sahih Ibn Hibban #2093

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو قُدَامَةَ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي يَزِيدَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أُمِّ أَيُّوبَ ، قَالَتْ : نَزَلَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَتَكَلَّفْنَا لَهُ طَعَامًا فِيهِ بَعْضُ الْبُقُولِ ، فَقَالَ لأَصْحَابِهِ : كُلُوا فَإِنِّي لَسْتُ كَأَحَدٍ مِنْكُمْ ، إِنِّي أَخَافُ أَنْ أُوذِيَ صَاحِبِي """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ ام ایوب رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے ہاں مہمان کے طور پر ٹھہرے، ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کھانا تیار کیا جس میں یہ سبزیاں بھی تھیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ساتھیوں سے فرمایا: ”تم لوگ اسے کھا لو کیونکہ میں تمہاری مانند نہیں ہوں، مجھے یہ اندیشہ ہے (اسے کھا کر) میں اپنے ساتھی (فرشتے) کو اذیت پہنچاؤں گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2093]

2094

Sahih Ibn Hibban #2094

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِقَصْعَةٍ مِنْ ثَرِيدٍ فِيهَا ثُومٌ ، فَلَمْ يَأْكُلْ مِنْهَا ، وَأَرْسَلَ إِلَى أَبِي أَيُّوبَ ، وَكَانَ أَبُو أَيُّوبَ يَضَعُ يَدَهُ حَيْثُ يَرَى يَدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَضَعَ يَدَهُ ، فَلَمَّا لَمْ يَرَ أَثَرَ يَدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَأْكُلْ ، فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ لَهُ : إِنِّي لَمْ أَرَ أَثَرَ يَدِكَ فِيهَا . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : فِيهَا رِيحُ الثُّومِ وَمَعِي مَلَكٌ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ثرید کا پیالہ لایا گیا جس میں لہسن بھی تھا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے نہیں کھایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ کی طرف بھجوا دیا۔ سیدنا ابوایوب رضی اللہ عنہ اپنا ہاتھ اس جگہ رکھتے تھے جہاں انہیں یہ نظر آتا تھا کہ یہاں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دست مبارک کا نشان ہے، جب انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دست مبارک کا نشان نہیں دیکھا تو انہوں نے بھی اسے نہیں کھایا، پھر وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی: میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دست مبارک کا نشان اس میں نہیں دیکھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اس میں لہسن کی بو تھی اور میرے ساتھ فرشتہ ہوتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2094]

2095

Sahih Ibn Hibban #2095

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلالٍ الْعَدَوِيِّ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، قَالَ : أَكَلْتُ ثُومًا ، ثُمَّ أَتَيْتُ مُصَلَّى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَجَدْتُهُ قَدْ سَبَقَنِي بِرَكْعَةٍ ، فَلَمَّا قُمْتُ أَقْضِي وَجَدَ رِيحَ الثُّومِ ، فَقَالَ : مَنْ أَكَلَ مِنْ هَذِهِ الْبَقْلَةِ ، فَلا يَقْرَبَنَّ مَسْجِدَنَا حَتَّى يَذْهَبَ رِيحُهَا " . قَالَ الْمُغِيرَةُ : فَلَمَّا قَضَيْتُ الصَّلاةَ أَتَيْتُهُ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ لِي عُذْرًا فَنَاوِلْنِي يَدَكَ ، فَنَاوَلَنِي فَوَجَدْتُهُ وَاللَّهِ سَهْلا ، فَأَدْخَلْتُهَا فِي كُمِّي إِلَى صَدْرِي فَوَجَدَهُ مَعْصُوبًا ، فَقَالَ : " إِنَّ لَكَ عُذْرًا ". قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : هَذِهِ الأَشْيَاءُ الَّتِي وَصَفْنَاهَا هِيَ الْعُذْرُ الَّذِي فِي خَبَرِ ابْنِ عَبَّاسٍ الَّذِي لا حَرَجَ عَلَى مَنْ بِهِ حَالَةٌ مِنْهَا فِي تُخَلُّفِهِ ، عَنْ أَدَاءِ فَرْضِهِ جَمَاعَةً ، وَعَلَيْهِ إِثْمُ تَرْكِ إِتْيَانِ الْجَمَاعَةِ ، لأَنَّهُمَا فَرْضَانِ اثْنَانِ : الْجَمَاعَةُ ، وَأَدَاءُ الْفَرْضِ ، فَمَنْ أَدَّى الْفَرْضَ وَهُوَ يَسْمَعُ النِّدَاءَ ، فَقَدْ سَقَطَ عَنْهُ فَرْضُ أَدَاءِ الصَّلاةِ ، وَعَلَيْهِ إِثْمُ تَرْكِ إِتْيَانِ الْجَمَاعَةِ ، وَقَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ سَمِعَ النِّدَاءَ فَلَمْ يُجِبْ ، فَلا صَلاةَ لَهُ إِلا مِنْ عُذْرٍ " ، أَرَادَ بِهِ : فَلا صَلاةَ لَهُ مِنْ غَيْرِ إِثْمٍ يَرْتَكِبُهُ فِي تُخَلُّفِهِ عَنْ إِتْيَانِ الْجَمَاعَةِ إِذَا كَانَ الْقَصْدُ فِيهِ ارْتِكَابُ النَّهْيِ ، لا أَنَّ صَلاتَهُ غَيْرُ مُجْزِئَةٍ ، وَإِنْ لَمْ يَكُنْ بِمَعْذُورٍ إِذَا لَمْ يُجِبْ دَاعِيَ اللَّهِ ، وَهَذَا كَقَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ لَغَا فَلا جُمُعَةَ لَهُ " ، يُرِيدُ بِهِ : فَلا جُمُعَةَ لَهُ مِنْ غَيْرِ إِثْمٍ يَرْتَكِبُهُ بِلَغْوِهِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے لہسن کھایا پھر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی جائے نماز پر آیا، تو میں نے آپ کو پایا کہ آپ ایک رکعت ادا کر چکے ہیں، جب میں باقی رہ جانے والی ایک رکعت ادا کرنے کے لیے کھڑا ہوا، تو آپ کو لہسن کی بو محسوس ہوئی، آپ نے ارشاد فرمایا: ”جو شخص اس سبزی کو کھاتا ہے وہ ہماری مسجد کے قریب ہرگز نہ آئے جب تک اس سبزی کی بو ختم نہیں ہو جاتی۔“ سیدنا مغیرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب میں نے نماز مکمل کی تو میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا، میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میری طرف سے معذرت قبول کیجیے اور اپنا دست مبارک میری طرف بڑھائیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دست مبارک میری طرف بڑھایا تو اللہ کی قسم! میں نے اسے نرم پایا، میں نے اسے اپنی آستین میں سے سینے تک داخل کیا، تو آپ کو اس میں پٹی بندھی ہوئی محسوس ہوئی تو آپ نے ارشاد فرمایا: ”تمہارا عذر (قابل قبول ہے)۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) یہ وہ اشیاء ہیں جن کا ہم نے ذکر کیا ہے کہ وہ عذر ہیں جن کا تذکرہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول روایت میں ہے، یہ وہ عذر ہیں کہ جب کسی شخص کو ان میں سے کوئی ایک عذر لاحق ہو، تو اگر وہ جماعت کے ساتھ اپنے فرض کی ادائیگی میں شریک نہیں ہوتا تو اسے کوئی گناہ نہیں ہو گا، البتہ اسے جماعت کی طرف آنے کو ترک کرنے کا گناہ ہو گا، اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ دو فرض ہیں: جماعت کے ساتھ نماز ادا کرنا اور فرض (نماز) کو ادا کرنا، تو جو شخص فرض ادا کر لیتا ہے حالانکہ وہ اذان کی آواز سنتا ہے، تو اس سے نماز کی ادائیگی کا فرض ساقط ہو جائے گا، لیکن جماعت میں شریک نہ ہونے کا گناہ اس پر ہو گا، کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”جو شخص اذان سنتا ہے، اس کا جواب نہیں دیتا تو اس کی نماز نہیں ہوتی، البتہ عذر کا حکم مختلف ہے۔“ تو اس سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد یہ ہے کہ اس شخص کی نماز گناہ کے بغیر نہیں ہوتی جس کا اس نے جماعت میں شریک نہ ہو کر ارتکاب کیا ہے، جبکہ اس سے مراد ”نہی“ کا ارتکاب ہو، اس سے یہ مراد نہیں ہے کہ ایسے شخص کی نماز سرے سے ہوتی ہی نہیں ہے اگرچہ وہ معذور نہ بھی ہو، اس وقت جب وہ اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے والے شخص کی دعوت کا جواب نہیں دیتا، تو اس کی مثال نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان کی طرح ہو گی: ”جو شخص لغو حرکت کرتا ہے اس کا جمعہ نہیں ہوتا۔“ تو اس کے ذریعے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد یہ ہے کہ اس کا جمعہ اس گناہ کے بغیر نہیں ہوتا جس لغو حرکت کا ارتکاب اس نے کیا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2095]

2096

Sahih Ibn Hibban #2096

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، لَقَدْهَمَمْتُ أَنْ آمُرَ بِحَطَبٍ فَيُحْطَبَ ، ثُمَّ آمُرَ بِالصَّلاةِ فَيُؤَذَّنَ لَهَا ، ثُمَّ آمُرَ رَجُلا فَيَؤُمَّ النَّاسَ ، ثُمَّ أُخَالِفَ إِلَى رِجَالٍ فَأُحَرِّقَ عَلَيْهِمْ بُيُوتَهُمْ ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، لَوْ يَعْلَمُ أَحَدُهُمْ أَنَّهُ يَجِدُ عَظْمًا سَمِينًا أَوْ مِرْمَاتَيْنِ حَسَنَتَيْنِ لَشَهِدَ الْعِشَاءَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے! میں نے یہ ارادہ کیا کہ میں لکڑیوں کے بارے میں حکم دوں کہ انہیں اکٹھا کیا جائے، پھر میں نماز کے لیے حکم دوں کہ اس کے لیے اذان دی جائے، پھر میں کسی شخص کو یہ حکم دوں کہ وہ لوگوں کی امامت کرے اور پھر میں ان لوگوں کی طرف جاؤں اور انہیں ان کے گھروں سمیت آگ لگا دوں (جو باجماعت نماز میں شریک نہیں ہوئے)۔ اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے! اگر ان میں سے کسی ایک کو یہ پتا چل جائے کہ اسے ایک گوشت والی ہڈی ملے گی یا دو اچھے پائے ملیں گے تو وہ عشاء کی نماز میں ضرور شریک ہو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2096]

2097

Sahih Ibn Hibban #2097

أَخْبَرَنَا أَبُو عَرُوبَةَ بِحَرَّانَ ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، عَنْ ذَكْوَانَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : لَقَدْهَمَمْتُ أَنْ آمُرَ رَجُلا يُصَلِّيَ بِالنَّاسِ ، ثُمَّ آتِيَ أَقْوَامًا يَخَلَّفُونَ عَنْهَا فَأُحَرِّقَ عَلَيْهِمْ " يَعْنِي الصَّلاتَيْنِ الْعِشَاءَ وَالْغَدَاةَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”میں نے یہ ارادہ کیا، میں کسی شخص کو یہ ہدایت کروں، وہ لوگوں کو نماز پڑھائے پھر میں ان لوگوں کی طرف جاؤں جو (نماز باجماعت) میں شریک نہیں ہوئے۔ میں ان لوگوں کو آگ لگا دوں۔ (راوی کہتے ہیں: یعنی جو عشاء اور صبح کی نمازوں میں شریک نہیں ہوئے)۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2097]

2098

Sahih Ibn Hibban #2098

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّأَثْقَلَ الصَّلاةِ عَلَى الْمُنَافِقِينَ صَلاةُ الْعِشَاءِ وَصَلاةُ الْفَجْرِ ، وَلَوْ يَعْلَمُونَ مَا فِيهَا لأَتَوْهُمَا وَلَوْ حَبْوًا ، وَلَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ آمُرَ بِالصَّلاةِ فَتُقَامَ ، ثُمَّ آمُرَ رَجُلا فَيُصَلِّيَ بِالنَّاسِ ، ثُمَّ أَنْطَلِقَ مَعِي بِرِجَالٍ مَعَهُمْ حِزَمُ حَطَبٍ إِلَى قَوْمٍ لا يَشْهَدُونَ الصَّلاةَ فَأُحَرِّقَ عَلَيْهِمْ بُيُوتَهُمْ بِالنَّارِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”منافقین کے لیے سب سے زیادہ بوجھل عشاء اور فجر کی نمازیں ہیں، اگر ان لوگوں کو پتا چل جائے کہ ان دونوں میں کتنا اجر اور ثواب ہے، تو وہ ان میں ضرور حاضر ہوں اگرچہ انہیں گھسٹ کر آنا پڑے۔ میں نے یہ ارادہ کیا کہ میں نماز کے بارے میں حکم دوں، کسی شخص کو حکم دوں کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائے، پھر میں اپنے ساتھ کچھ لوگ لے کر جاؤں جن کے ہمراہ لکڑیوں کے گٹھے ہوں اور ان لوگوں کی طرف جاؤں جو اس نماز میں شریک نہیں ہوئے اور ان کے گھروں کو ان سمیت آگ لگا دوں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2098]

2099

Sahih Ibn Hibban #2099

أَخْبَرَنَا أَبُو عَرُوبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلاءِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي نَافِعٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : كُنَّاإِذَا فَقَدْنَا الإِنْسَانَ فِي صَلاةِ الصُّبْحِ وَالْعِشَاءِ أَسَأْنَا بِهِ الظَّنَّ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ہم جب کسی شخص کو صبح یا عشاء کی نماز میں غیر موجود پاتے تھے، تو اس کے بارے میں بدگمانی اختیار کرتے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2099]

2100

Sahih Ibn Hibban #2100

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي زَائِدَةَ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ أَبِي الأَحْوَصِ ، قَالَ : قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : لَقَدْ رَأَيْتُنَا وَمَا يَتَخَلَّفُ عَنِ الصَّلاةِ إِلا مُنَافِقٌ ، قَدْ عُلِمَ نِفَاقُهُ ، أَوْ مَرِيضٌ ، وَإِنْ كَانَ الْمَرِيضُ لَيَمُرُّ بَيْنَ الرَّجُلَيْنِ حَتَّى يَأْتِيَ الصَّلاةَ . وَقَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَّمَنَا سُنَنَ الْهُدَى ،وَمِنْ سُنَنِ الْهُدَى الصَّلاةُ فِي الْمَسْجِدِ الَّذِي يُؤَذَّنُ فِيهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: مجھے اپنے بارے میں یہ بات یاد ہے، نماز (باجماعت) سے پیچھے صرف وہی شخص رہتا تھا جو منافق ہوتا تھا اور اس کا نفاق معلوم ہوتا تھا، یا پھر بیمار شریک نہیں ہوتا تھا۔ اگر کسی بیمار کو دو آدمیوں کے درمیان چل کر آنا ممکن ہوتا تو وہ نماز (باجماعت) میں شریک ہوا کرتا تھا۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ہدایت کے طریقوں کی تعلیم دی اور ”ہدایت کے طریقوں میں ایک اس مسجد میں نماز ادا کرنا ہے جہاں اذان دی جاتی ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2100]

2101

Sahih Ibn Hibban #2101

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارِ بْنِ الرَّيَّانِ الْبَغْدَادِيُّ ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ، عَنْ زَائِدَةَ بْنِ قُدَامَةَ ، عَنِ السَّائِبِ بْنِ حُبَيْشٍ ، عَنْ مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، قَالَ : سَأَلَنِي أَبُو الدَّرْدَاءِ : أَيْنَ مَسْكَنُكَ ؟ قُلْتُ : فِي قَرْيَةٍ دُونَ حِمْصٍ . قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : مَا مِنْ ثَلاثَةٍ فِي قَرْيَةٍ وَلا بَدْوٍ لا تُقَامُ فِيهِمُ الصَّلاةُ إِلا اسْتَحْوَذَ عَلَيْهِمُ الشَّيْطَانُ ، فَعَلَيْكَ بِالْجَمَاعَةِ ، فَإِنَّمَا يَأْكُلُ الذِّئْبُ الْقَاصِيَةَ ". قَالَ السَّائِبُ : إِنَّمَا يَعْنِي بِالْجَمَاعَةِ : جَمَاعَةَ الصَّلاةِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

معدان بن ابوطلحہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ نے مجھ سے دریافت کیا: تمہاری رہائش کہاں ہے؟ میں نے جواب دیا: حمص کے قریب ایک گاؤں میں، انہوں نے فرمایا: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جس بھی گاؤں یا دیہات میں تین آدمی موجود ہوں اور وہاں نماز قائم نہ کی جاتی ہو، تو شیطان ان پر غالب آ جاتا ہے، تم پر جماعت کو اختیار کرنا لازم ہے کیونکہ علیحدہ ہونے والی بکری کو بھیڑیا کھا جاتا ہے۔“ سائب نامی راوی کہتے ہیں: یہاں جماعت سے مراد باجماعت نماز ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2101]

2102

Sahih Ibn Hibban #2102

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالا : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : سَقَطَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ فَرَسٍ ، فَجُحِشَ شِقُّهُ الأَيْمَنُ ، فَحَضَرَتْ صَلاةٌ فَصَلَّى بِنَا قَاعِدًا ، فَلَمَّا قَضَى صَلاتَهُ ، قَالَ : إِنَّمَاجُعِلَ الإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ ، فَإِذَا كَبَّرَ فَكَبِّرُوا ، وَإِذَا رَكَعَ فَارْكَعُوا ، وَإِذَا رَفَعَ فَارْفَعُوا ، وَإِذَا قَالَ : سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ ، فَقُولُوا : رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ ، وَإِذَا صَلَّى قَاعِدًا فَصَلُّوا قُعُودًا أَجْمَعِينَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم گھوڑے سے گر گئے اور آپ کا دایاں پہلو زخمی ہو گیا۔ نماز کا وقت ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بیٹھ کر نماز پڑھائی، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز مکمل کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”امام کو اس لیے مقرر کیا گیا ہے تاکہ اس کی پیروی کی جائے۔ جب وہ تکبیر کہے تو تم بھی تکبیر کہو، جب وہ رکوع میں جائے تو تم بھی رکوع میں جاؤ، جب وہ (رکوع سے) اٹھے تو تم بھی اٹھو، اور جب وہ «سَمِعَ اللّٰهُ لِمَنْ حَمِدَهُ» ”اللہ تعالیٰ نے اس کی سن لی جس نے اس کی تعریف کی“ پڑھے تو تم «رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ» ”اے ہمارے رب! تمام تعریفیں تیرے ہی لیے ہیں“ پڑھو، اور جب وہ بیٹھ کر نماز ادا کرے تو تم سب بھی بیٹھ کر نماز ادا کرو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2102]

2103

Sahih Ibn Hibban #2103

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ بْنُ أَسْمَاءَ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكِبَ فَرَسًا فَصُرِعَ ، يَعْنِي فَجُحِشَ شِقُّهُ الأَيْمَنُ ، فَصَلَّى صَلاةً مِنَ الصَّلَوَاتِ وَهُوَ قَاعِدٌ ، فَصَلَّيْنَا وَرَاءَهُ قُعُودًا ، فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ : إِنَّمَاجُعِلَ الإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ ، فَإِذَا صَلَّى قَائِمًا فَصَلُّوا قِيَامًا ، وَإِذَا رَكَعَ فَارْكَعُوا ، وَإِذَا رَفَعَ فَارْفَعُوا ، وَإِذَا قَالَ : سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ ، فَقُولُوا : رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ ، وَإِذَا صَلَّى جَالِسًا فَصَلُّوا جُلُوسًا أَجْمَعُونَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم گھوڑے پر سوار ہوئے، تو اس سے گر گئے، جس سے آپ کا دایاں پہلو زخمی ہو گیا۔ آپ نے کچھ نمازیں بیٹھ کر ادا کیں، ہم نے بھی آپ کے پیچھے بیٹھ کر نماز ادا کی۔ جب آپ نماز پڑھ کر فارغ ہوئے، تو آپ نے ارشاد فرمایا: ”امام کو اس لیے مقرر کیا گیا ہے تاکہ اس کی پیروی کی جائے، جب وہ کھڑا ہو کر نماز ادا کرے تو تم لوگ کھڑے ہو کر نماز ادا کرو، جب وہ رکوع میں جائے تو تم بھی رکوع میں جاؤ، جب وہ (رکوع سے) اٹھے تو تم بھی اٹھو، جب وہ «سَمِعَ اللّٰهُ لِمَنْ حَمِدَهُ» ”اللہ نے اس کی بات سن لی جس نے اس کی تعریف کی“ پڑھے تو تم «رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ» ”اے ہمارے رب! اور تیرے ہی لیے تمام تعریف ہے“ پڑھو، اور جب وہ بیٹھ کر نماز ادا کرے تو تم سب بھی بیٹھ کر نماز ادا کرو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2103]

2104

Sahih Ibn Hibban #2104

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ : صَلَّى رسولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِهِ وَهُوَ شَاكٍ ، فَصَلَّى جَالِسًا وَصَلَّى وَرَاءَهُ قَوْمٌ قِيَامًا ، فَأَشَارَ إِلَيْهِمْ أَنِ اجْلِسُوا ، فَلَمَّا انْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : إِنَّمَاجُعِلَ الإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ فَإِذَا رَكَعَ فَارْكَعُوا ، وَإِذَا رَفَعَ فَارْفَعُوا ، وَإِذَا صَلَّى جَالِسًا فَصَلُّوا جُلُوسًا ". قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : هَذِهِ السُّنَّةُ رَوَاهَا عَنِ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، وَعَائِشَةُ ، وَأَبُو هُرَيْرَةَ ، وَجَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، وَأَبُو أُمَامَةَ الْبَاهِلِيُّ . وَهُوَ قَوْلُ أُسَيْدِ بْنِ حُضَيْرٍ ، وَقَيْسِ بْنِ قَهْدٍ ، وَجَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ ، وَبِهِ قَالَ جَابِرُ بْنُ زَيْدٍ ، وَالأَوْزَاعِيُّ ، وَمَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، وَأَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَأَبُو أَيُّوبَ سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْهَاشِمِيُّ ، وَأَبُو خَيْثَمَةَ ، وَابْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ وَمَنْ تَبِعَهُمْ مِنْ أَصْحَابِ الْحَدِيثِ مِثْلَ مُحَمَّدِ بْنِ نَصْرٍ ، وَمُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے گھر میں نماز ادا کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیمار تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیٹھ کر نماز ادا کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے لوگوں نے کھڑے ہو کر نماز ادا کرنا شروع کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اشارہ کیا: ”تم لوگ بیٹھ جاؤ۔“ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز مکمل کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”امام کو اس لیے مقرر کیا گیا ہے تاکہ اس کی پیروی کی جائے، جب وہ رکوع میں جائے تم بھی رکوع میں جاؤ، جب وہ رکوع سے اٹھ جائے تو تم بھی اٹھ جاؤ اور جب وہ بیٹھ کر نماز ادا کرے تو تم لوگ بھی بیٹھ کر نماز ادا کرو۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) یہ وہ سنت ہے جسے سیدنا انس رضی اللہ عنہ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا، سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما، سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اور سیدنا ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے روایت کیا ہے۔ سیدنا اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ، سیدنا قیس بن قہد رضی اللہ عنہ، سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اسی بات کے قائل ہیں۔ جابر بن زید، امام اوزاعی، امام مالک، امام احمد بن حنبل، امام اسحاق، ابو ایوب سلیمان بن داؤد ہاشمی، ابو خیثمہ، ابن ابی شیبہ، محمد بن اسماعیل (امام بخاری رحمہ اللہ) اور ان کے پیروکار محدثین جیسے امام محمد بن نصر اور امام ابن خزیمہ نے بھی اس کے مطابق فتویٰ دیا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2104]

2105

Sahih Ibn Hibban #2105

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : ذَرُونِي مَا تَرَكْتُكُمْ ، فَإِنَّمَا هَلَكَ مَنْ قَبْلَكُمْ بِسُؤَالِهِمْ وَاخْتِلافِهِمْ عَلَى أَنْبِيَائِهِمْ ، فَإِذَا نَهَيْتُكُمْ عَنْ شَيْءٍ فَاجْتَنِبُوهُ ، وَإِذَا أَمَرْتُكُمْ بِالأَمْرِ فَأَتَوْا مِنْهُ مَا اسْتَطَعْتُمْ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”جن معاملات میں، میں تمہیں رہنے دوں تم بھی مجھے رہنے دو کیونکہ تم سے پہلے کے لوگ اپنے انبیاء سے بکثرت (غیر ضروری) سوالات کرنے اور اختلاف رکھنے کی وجہ سے ہلاکت کا شکار ہوئے تھے، جب میں تمہیں کسی چیز سے منع کر دوں، تو تم لوگ اس سے اجتناب کرو اور جب میں تمہیں کوئی کام کرنے کا حکم دوں تو تم اپنی استطاعت کے مطابق اس کو بجا لاؤ۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2105]

2106

Sahih Ibn Hibban #2106

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ جَدِّي ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلانَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : ذَرُونِي مَا تَرَكْتُكُمْ ، فَإِنَّمَا هَلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ بِسُؤَالِهِمْ وَاخْتِلافِهِمْ عَلَى أَنْبِيَائِهِمْ ، فَمَا أُمِرْتُمْ فَأَتَوْا مِنْهُ مَا اسْتَطَعْتُمْ ، وَمَا نَهَيْتُ عَنْهُ فَانْتَهُوا ". قَالَ ابْنُ عَجْلانَ : حَدَّثَنِي زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ السَّمَّانِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَزَادَ فِيهِ : " وَمَا أَخْبَرْتُكُمْ أَنَّهُ مِنْ عِنْدِ اللَّهِ فَهُوَ الَّذِي لا شَكَّ فِيهِ " . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : فِي هَذَا الْخَبَرِ بَيَانٌ وَاضِحٌ أَنَّ النَّوَاهِيَ عَنِ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُلَّهَا عَلَى الْحَتْمِ وَالإِيجَابِ ، حَتَّى تَقُومَ الدَّلالَةُ عَلَى نُدْبِيَّتِهَا ، وَأَنَّ أَوَامِرَهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِحَسْبِ الطَّاقَةِ وَالْوُسْعِ عَلَى الإِيجَابِ ، حَتَّى تَقُومَ الدَّلالَةُ عَلَى نُدْبِيَّتِهَا ، قَالَ اللَّهُ جَلَّ وَعَلا : وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا ، ثُمَّ نَفَى الإِيمَانَ ، عَنْ مَنْ لَمْ يُحَكِّمْ رَسُولَهُ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ مِنْ حَيْثُ لا يَجِدُونُ فِي أَنْفُسِهِمْ مِمَّا قَضَى وَحَكَمَ حَرَجًا ، وَيُسَلِّمُوا لِلَّهِ وَلِرَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَسْلِيمًا بِتَرْكِ الآرَاءِ الْمَعْكُوسَةِ وَالْمُقَايَسَاتِ الْمَنْكُوسَةِ ، فَقَالَ : فَلا وَرَبِّكَ لا يُؤْمِنُونَ حَتَّى يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ ثُمَّ لا يَجِدُوا فِي أَنْفُسِهِمْ حَرَجًا مِمَّا قَضَيْتَ وَيُسَلِّمُوا تَسْلِيمًا "

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جن معاملات میں، میں تمہیں رہنے دوں تم بھی مجھے رہنے دو، تم سے پہلے والے لوگ اپنے انبیاء سے (غیر ضروری) سوالات کرنے اور اختلاف رکھنے کی وجہ سے ہلاکت کا شکار ہوئے تھے، جس چیز کا میں تمہیں حکم دوں تم اپنی استطاعت کے مطابق اس پر عمل کرو اور جس چیز سے میں تمہیں منع کر دوں اس سے باز آ جاؤ۔“ ابن عجلاں نامی راوی نے یہ بات بیان کی ہے، یہ روایت ایک اور سند کے ہمراہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے، جس میں یہ الفاظ زائد ہیں: ”جس چیز کے بارے میں، میں تمہیں اطلاع دوں کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے، تو اس کے بارے میں کوئی شک نہیں ہوگا۔“ امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں: (یہ روایت اس بات کا واضح بیان ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے منقول نہی کی تمام روایات حتمی اور لازم قرار دینے کے طور پر ہیں جب تک ان کے مستحب ہونے کے بارے میں دلیل ثابت نہیں ہو جاتی اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام احکام پر عمل کرنا اپنی طاقت اور وسعت کے مطابق لازم ہے، جب تک ان کے مستحب ہونے پر دلیل قائم نہیں ہو جاتی۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے: ﴿وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا﴾ [سورة الحشر: 7] ”رسول تمہیں جو دیں اسے حاصل کر لو اور جس چیز سے تمہیں منع کر دیں اس سے باز آ جاؤ۔“ پھر اللہ تعالیٰ نے اس شخص سے ایمان کی نفی کر دی ہے جو اس کے رسول کو آپس کے اختلافی معاملات میں ثالث تسلیم نہیں کرتا اور رسول نے جو فیصلہ دیا ہوا ہو اس کے بارے میں اپنے ذہن میں کوئی الجھن محسوس کرتا ہے، اور وہ (اپنے معاملات کو) اللہ اور اس کے رسول کے مکمل طور پر سپرد نہیں کر دیتا اور معکوس آراء کو ترک نہیں کرتا اور منحوس قیاس کو ترک نہیں کرتا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ﴿فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ حَتَّىٰ يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ ثُمَّ لَا يَجِدُوا فِي أَنفُسِهِمْ حَرَجًا مِمَّا قَضَيْتَ وَيُسَلِّمُوا تَسْلِيمًا﴾ [سورة النساء: 65] ”تمہارے پروردگار کی قسم یہ لوگ اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتے جب تک آپس کے اختلافی معاملات میں تم کو ثالث نہ بنائیں اور پھر وہ اس چیز کے بارے میں اپنے ذہن میں کوئی حرج محسوس نہ کریں جو تم نے فیصلہ دیا ہے اور وہ اسے مکمل طور پر تسلیم کر لیں۔“) [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2106]

2107

Sahih Ibn Hibban #2107

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الأَنْصَارِيُّ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : إِنَّمَاجُعِلَ الإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ فَلا تَخْتَلِفُوا عَلَيْهِ ، فَإِذَا كَبَّرَ فَكَبِّرُوا ، وَإِذَا رَكَعَ فَارْكَعُوا ، وَإِذَا قَالَ : سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ فَقُولُوا : اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ ، وَإِذَا صَلَّى قَاعِدًا فَصَلُّوا قُعُودًا أَجْمَعُونَ ". قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : قَدْ زَجَرَ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذَا الْخَبَرِ الْمَأْمُومِينَ عَنِ الاخْتِلافِ عَلَى إِمَامِهِمْ إِذَا صَلَّى قَاعِدًا ، وَهُوَ مِنَ الضَّرْبِ الَّذِي ذَكَرْتُ فِي غَيْرِ مَوْضِعٍ مِنْ كُتُبِنَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ يَزْجُرُ عَنِ الشَّيْءِ بِلَفْظِ الْعُمُومِ ، ثُمَّ يَسْتَثْنِي بَعْضَ ذَلِكَ الشَّيْءِ الْمَزْجُورِ عَنْهُ ، فَيُبِيحُهُ لِعِلَّةٍ مَعْلُومَةٍ كَمَا نَهَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمُزَابَنَةِ بِلَفْظٍ مُطْلَقٍ ، ثُمَّ اسْتَثْنَى بَعْضَهَا ، وَهُوَ الْعَرِيَّةُ فَأَبَاحَهَا بِشَرْطٍ مَعْلُومٍ لِعِلَّةٍ مَعْلُومَةٍ وَكَذَلِكَ يَأْمُرُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الأَمْرَ بِلَفْظِ الْعُمُومِ ، ثُمَّ يَسْتَثْنِي بَعْضَ ذَلِكَ الْعُمُومِ ، فَيَحْظُرُهُ لِعِلَّةٍ مَعْلُومَةٍ كَمَا أَمَرَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَأْمُومِينَ ، وَالأَئِمَّةَ جَمِيعًا أَنْ يُصَلُّوا قِيَامًا إِلا عِنْدَ الْعَجْزِ عَنْهُ ، ثُمَّ اسْتَثْنَى بَعْضَ هَذَا الْعُمُومِ ، وَهُوَ إِذَا صَلَّى إِمَامُهُمْ قَاعِدًا فَزَجَرَهُمْ ، عَنِ اسْتِعْمَالِهِ مَسْتَثْنًى مِنْ جُمْلَةِ الأَمْرِ الْمُطْلَقِ ، وَلِهَذَا نَظَائِرُ كَثِيرَةٌ مِنَ السُّنَنِ سَنَذْكُرُهَا فِي مَوَاضِعِهَا مِنْ هَذَا الْكِتَابِ إِنْ قَضَى اللَّهُ ذَلِكَ وَشَاءَهُ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”امام کو اس لیے مقرر کیا گیا ہے تاکہ اس کی پیروی کی جائے، تم اس سے اختلاف نہ کرو؛ جب وہ تکبیر کہے تو تم بھی تکبیر کہو، جب وہ رکوع میں جائے تو تم بھی رکوع میں جاؤ اور جب وہ «سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ» پڑھے تو تم لوگ «رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ» پڑھو، جب وہ بیٹھ کر نماز ادا کرے تو تم سب بھی بیٹھ کر نماز ادا کرو۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس روایت میں ان لوگوں کو منع کیا ہے جو اپنے امام سے مختلف طور پر نماز ادا کرتے ہیں، اس وقت جب امام بیٹھ کر نماز ادا کر رہا ہو۔ یہ وہ قسم ہے جس کا ذکر میں نے اپنی کتاب میں دوسری جگہوں پر کیا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بعض اوقات لفظ کے عموم کے ذریعے کسی چیز سے منع کرتے ہیں اور پھر اس میں سے کچھ حصے کو مستثنیٰ کر لیتے ہیں جس سے منع کیا گیا ہے اور کسی متعین علت کی وجہ سے اس حصے کو مباح قرار دیتے ہیں، جس طرح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مطلق لفظ کے ذریعے بیع مزابنہ سے منع کیا ہے، لیکن پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے کچھ حصے کا استثنیٰ کر دیا اور وہ حصہ عریہ ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے متعین علت کی وجہ سے متعین شرط کے ہمراہ اسے مباح قرار دیا ہے۔ اس طرح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم لفظ کے عموم کے ذریعے کوئی حکم دیتے ہیں، پھر اس عموم کے کچھ حصے کا استثنیٰ کر لیتے ہیں اور کسی متعین علت کی وجہ سے اسے ممنوع قرار دے دیتے ہیں۔ اس طرح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مقتدیوں اور ائمہ سب کو حکم دیا ہے کہ وہ کھڑے ہو کر نماز ادا کریں، البتہ اگر کوئی شخص قیام سے عاجز ہو تو اس کا حکم مختلف ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے عموم کے بعض حصے کا استثنیٰ کیا اور وہ صورت یہ ہے کہ اگر امام بیٹھ کر نماز ادا کر رہا ہو تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو اس سے منع کر دیا کہ (وہ کھڑے ہو کر نماز ادا کریں) تو یہ حکم اس عمومی مطلق حکم سے مستثنیٰ ہو گیا۔ اس کی مثالیں احادیث میں بہت ساری ہیں جن کو ہم ان کے مخصوص مقام پر اس کتاب میں ذکر کریں گے اگر اللہ تعالیٰ نے یہ چاہا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2107]

2108

Sahih Ibn Hibban #2108

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكِبَ فَرَسًا ، فَصُرِعَ عَنْهُ ، فَجُحِشَ شِقُّهُ الأَيْمَنُ ، قَالَ أَنَسٌ : فَصَلَّى لَنَا يَوْمَئِذٍ صَلاةً مِنَ الصَّلَوَاتِ وَهُوَ قَاعِدٌ ، فَصَلَّيْنَا وَرَاءَهُ قُعُودًا ، ثُمَّ قَالَ حِينَ سَلَّمَ : إِنَّمَاجُعِلَ الإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ ، فَإِذَا صَلَّى الإِمَامُ قَائِمًا فَصَلُّوا قِيَامًا ، وَإِذَا رَكَعَ فَارْكَعُوا ، وَإِذَا رَفَعَ فَارْفَعُوا ، وَإِذَا سَجَدَ فَاسْجُدُوا ، وَإِذَا قَالَ : سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ ، فَقُولُوا : رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ ، وَإِذَا صَلَّى قَاعِدًا فَصَلُّوا قُعُودًا أَجْمَعُونَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم گھوڑے پر سوار ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس سے گر گئے، جس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا دایاں پہلو زخمی ہو گیا۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اس دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایک نماز بیٹھ کر پڑھائی اور ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے بیٹھ کر نماز ادا کی۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا تو ارشاد فرمایا: ”امام کو اس لیے مقرر کیا گیا ہے تاکہ اس کی پیروی کی جائے۔ جب امام کھڑا ہو کر نماز ادا کرے تو تم لوگ بھی کھڑے ہو کر نماز ادا کرو، جب وہ رکوع میں جائے تو تم بھی رکوع میں جاؤ، جب وہ رکوع سے سر اٹھائے تو تم بھی اٹھاؤ، جب وہ سجدے میں جائے تو تم بھی سجدے میں جاؤ، جب وہ «سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ» ”اللہ نے اس کی پکار سن لی جس نے اس کی تعریف کی“ پڑھے تو تم «رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ» ”اے ہمارے رب! اور تیرے ہی لیے تمام تعریفیں ہیں“ پڑھو اور جب وہ بیٹھ کر نماز ادا کرے تو تم سب بھی بیٹھ کر نماز ادا کرو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2108]

2109

Sahih Ibn Hibban #2109

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَوْثَرَةُ بْنُ أَشْرَسَ الْعَدَوِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ أَبِي الصَّهْبَاءِ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ فِي نَفَرٍ مِنْ أَصْحَابِهِ ، فَقَالَ : أَلَسْتُمْ تَعْلَمُونَ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ إِلَيْكُمْ ؟ " قَالُوا : بَلَى ، نَشْهَدُ أَنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ . قَالَ : " أَلَسْتُمْ تَعْلَمُونَ أَنَّهُ مَنْ أَطَاعَنِي فَقَدْ أَطَاعَ اللَّهَ ، وَمِنْ طَاعَةِ اللَّهِ طَاعَتِي ؟ " قَالُوا : بَلَى ، نَشْهَدُ أَنَّهُ مَنْ أَطَاعَكَ فَقَدْ أَطَاعَ اللَّهَ ، وَمِنْ طَاعَةِ اللَّهِ طَاعَتُكَ . قَالَ : " فَإِنَّمِنْ طَاعَةِ اللَّهِ أَنْ تُطِيعُونِي ، وَمِنْ طَاعَتِي أَنْ تُطِيعُوا أُمَرَاءَكُمْ ، وَإِنْ صَلُّوا قُعُودًا فَصَلُّوا قُعُودًا ". أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَوْثَرَةُ ، بِإِسْنَادِهِ نَحْوَهُ ، إِلا أَنَّهُ قَالَ : " وَمِنْ طَاعَتِي أَنْ تُطِيعُوا أَئِمَّتَكُمْ " . أَخْبَرْنَاهُ أَبُو يَعْلَى الْمَوْصِلِيُّ ، قَالَ : سَأَلْتُ يَحْيَى بْنَ مَعِينٍ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ أَبِي الصَّهْبَاءِ ، فَقَالَ : ثِقَةٌ . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : فِي هَذَا الْخَبَرِ بَيَانٌ وَاضِحٌ ، أَنَّ صَلاةَ الْمَأْمُومِينَ قُعُودًا إِذَا صَلَّى إِمَامُهُمْ قَاعِدًا مِنْ طَاعَةِ اللَّهِ جَلَّ وَعَلا الَّتِي أَمَرَ عِبَادَهُ وَهُوَ عِنْدِي ضَرْبٌ مِنَ الإِجْمَاعِ الَّذِي أَجْمَعُوا عَلَى إِجَازَتِهِ ، لأَنَّ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعَةٌ أَفْتَوْا بِهِ جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، وَأَبُو هُرَيْرَةَ ، وَأُسَيْدُ بْنُ حُضَيْرٍ ، وَقَيْسُ بْنُ قَهْدٍ ، وَالإِجْمَاعُ عِنْدَنَا إِجْمَاعُ الصَّحَابَةِ الَّذِينَ شَهِدُوا هُبُوطَ الْوَحْيِ وَالتَّنْزِيلِ وَأُعِيذُوا ، مِنَ التَّحْرِيفِ وَالتَّبْدِيلِ حَتَّى حَفِظَ اللَّهُ بِهِمُ الدِّينَ عَلَى الْمُسْلِمِينَ ، وَصَانَهُ عَنْ ثَلْمِ الْقَادِحِينَ ، وَلَمْ يُرْوَ عَنْ أَحَدٍ مِنَ الصَّحَابَةِ خِلافٌ لِهَؤُلاءِ الأَرْبَعَةِ لا بِإِسْنَادٍ مُتَّصِلٍ وَلا مُنْقَطِعٍ ، فَكَأَنَّ الصَّحَابَةَ أَجْمَعُوا عَلَى أَنَّ الإِمَامَ إِذَا صَلَّى قَاعِدًا كَانَ عَلَى الْمَأْمُومِينَ أَنْ يُصَلُّوا قُعُودًا ، وَقَدْ أَفْتَى بِهِ مِنَ التَّابِعِينَ جَابِرُ بْنُ زَيْدٍ أَبُو الشَّعْثَاءِ ، وَلَمْ يُرْوَ عَنْ أَحَدٍ مِنَ التَّابِعِينَ أَصْلا بِخِلافِهِ لا بِإِسْنَادٍ صَحِيحٍ وَلا وَاهٍ ، فَكَأَنَّ التَّابِعِينَ أَجْمَعُوا عَلَى أَجَازَتِهِ ، وَأَوَّلُ مَنْ أَبْطَلَ فِي هَذِهِ الأُمَّةِ صَلاةَ الْمَأْمُومِ قَاعِدًا إِذَا صَلَّى إِمَامُهُ جَالِسًا الْمُغِيرَةُ بْنُ مِقْسَمٍ صَاحِبُ النَّخَعِيِّ ، وَأَخَذَ عَنْهُ حَمَّادُ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ ، ثُمَّ أَخَذَ عَنْ حَمَّادٍ أَبُو حَنِيفَةَ وَتَبِعَهُ عَلَيْهِ مَنْ بَعْدَهُ مِنْ أَصْحَابِهِ وَأَعْلَى شَيْءٍ احْتَجُّوا بِهِ فِيهِ شَيْءٌ رَوَاهُ جَابِرٌ الْجُعْفِيُّ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لا يَؤُمَّنَّ أَحَدٌ بَعْدِي جَالِسًا " . وَهَذَا لَوْ صَحَّ إِسْنَادُهُ لَكَانَ مُرْسَلا وَالْمُرْسَلُ مِنَ الْخَبَرِ وَمَا لَمْ يُرْوَ سِيَّانِ فِي الْحُكْمِ عِنْدَنَا ، لأَنَّا لَوْ قَبْلِنَا إِرْسَالَ تَابِعِيٍّ ، وَإِنْ كَانَ ثِقَةً فَاضِلا عَلَى حُسْنِ الظَّنِّ ، لَزِمَنَا قَبُولُ مِثْلِهِ ، عَنْ أَتْبَاعِ التَّابِعِينَ ، وَمَتَى قَبْلِنَا ذَلِكَ لَزِمَنَا قَبُولُ مِثْلِهِ عَنْ تَبَعِ الأَتْبَاعِ ، وَمَتَى قَبْلِنَا ذَلِكَ لَزِمَنَا قَبُولُ مِثْلِ ذَلِكَ عَنْ تُبَّاعِ التَّبَعِ ، وَمَتَى قَبْلِنَا ذَلِكَ لَزِمَنَا أَنْ نَقْبَلَ مِنْ كُلِّ إِنْسَانٍ إِذَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفِي هَذَا نَقْضُ الشَّرِيعَةِ ، وَالْعَجَبُ مِمَّنْ يَحْتَجُّ بِمِثْلِ هَذَا الْمُرْسَلِ وَقَدْ قَدَحَ فِي رِوَايَتِهِ زِعِيمُهُمْ فِيمَا أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ الْقَطَّانُ بِالرَّقَّةِ قَالَ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي الْحَوَارِيِّ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا يَحْيَى الْحِمَّانِيَّ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا حَنِيفَةَ ، يَقُولُ : مَا رَأَيْتُ فِيمَنْ لَقِيتُ أَفْضَلَ مِنْ عَطَاءٍ وَلا لَقِيتُ فِيمَنْ لَقِيتُ أَكْذَبَ مِنْ جَابِرٍ الْجُعْفِيِّ ، مَا أَتَيْتُهُ بِشَيْءٍ قَطُّ مِنْ رَأْيٍ إِلا جَاءَنِي فِيهِ بِحَدِيثٍ ، وَزَعَمَ أَنَّ عِنْدَهُ كَذَا وَكَذَا أَلْفَ حَدِيثٍ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَنْطِقْ بِهَا ، فَهَذَا أَبُو حَنِيفَةَ يُجَرِّحُ جَابِرًا الْجُعْفِيَّ ، وَيُكَذِّبُهُ ضِدَّ قَوْلِ مَنِ انْتَحَلَ مِنْ أَصْحَابِهِ مَذْهَبَهُ ، وَزَعَمَ أَنَّ قَوْلَ أَئِمَّتِنَا فِي كُتُبِهِمْ : فُلانٌ ضَعِيفٌ غِيبَةٌ ، ثُمَّ لَمَّا اضْطَرُّهُ الأَمْرُ جَعَلَ يَحْتَجُّ بِمَنْ كَذَّبَهُ شَيْخُهُ فِي شَيْءٍ يَدْفَعُ بِهِ سُنَّةً مِنْ سُنَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . فَأَمَّا جَابِرٌ الْجُعْفِيَّ فَقَدْ ذَكَرْنَا قِصَّتَهُ فِي كِتَابِ الْمَجْرُوحِينَ مِنَ الْمُحَدِّثِينَ بِالْبَرَاهِينِ الْوَاضِحَةِ الَّتِي لا يَخْفَى عَلَى ذِي لُبٍّ صِحَّتُهَا فَأَغْنَى ذَلِكَ عَنْ تِكْرَارِهَا فِي هَذَا"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کچھ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے درمیان موجود تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”کیا تم لوگ یہ بات نہیں جانتے ہو، میں تمہاری طرف اللہ کا رسول ہوں؟“ ان لوگوں نے عرض کی: جی ہاں، ہم اس بات کی گواہی دیتے ہیں، آپ اللہ کے رسول ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”کیا تم لوگ یہ بات نہیں جانتے ہو جو شخص میری اطاعت کرتا ہے وہ اللہ کی اطاعت کرتا ہے اور میری اطاعت اللہ تعالیٰ کی اطاعت کا حصہ ہے؟“ ان لوگوں نے عرض کی: جی ہاں، ہم اس بات کی گواہی دیتے ہیں، جو شخص آپ کی اطاعت کرتا ہے وہ اللہ کی اطاعت کرتا ہے اور آپ کی فرمانبرداری کرنا اللہ تعالیٰ کی اطاعت کا حصہ ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں یہ بات شامل ہے، تم میری اطاعت کرو اور میری اطاعت میں یہ بات شامل ہے، تم امراء کی اطاعت کرو اگر وہ بیٹھ کر نماز ادا کرتے ہیں، تو تم لوگ بھی بیٹھ کر نماز ادا کرو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2109]

2111

Sahih Ibn Hibban #2111

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بُجَيْرٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَاهُ الْقَوْمُ وَحَضَرَتِ الصَّلاةُ ، فَصَلَّى بِهِمْ قَاعِدًا وَهُمْ قِيَامٌ ، فَلَمَّا حَضَرَتِ الصَّلاةُ الأُخْرَى ذَهَبُوا يَقُومُونَ ، فَقَالَ : ائْتَمُّوا بِإِمَامِكُمْ ، وَإِنْ صَلَّى قَاعِدًا فَصَلُّوا قُعُودًا ، وَإِنْ صَلَّى قَائِمًا فَصَلُّوا قِيَامًا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ کچھ لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور نماز کا وقت ہو گیا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو بیٹھ کر نماز پڑھانا شروع کی۔ وہ لوگ کھڑے رہے، جب اگلی نماز کا وقت آیا تو وہ لوگ کھڑے ہونے لگے، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اپنے امام کی پیروی کرو، اگر وہ بیٹھ کر نماز ادا کرے تو تم لوگ بھی بیٹھ کر نماز ادا کرو، اگر وہ کھڑا ہو کر نماز ادا کرے تو تم لوگ بھی کھڑے ہو کر نماز ادا کرو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2111]

2112

Sahih Ibn Hibban #2112

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : رَكِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَسًا بِالْمَدِينَةِ ، فَصَرَعَهُ عَلَى جِذْعِ نَخْلَةٍ ، فَانْفَكَّتْ قَدَمُهُ فَأَتَيْنَاهُ نَعُودُهُ فَوَجَدْنَاهُ فِي مَشْرَبَةٍ لِعَائِشَةَ يُسَبِّحُ جَالِسًا ، فَقُمْنَا خَلْفَهُ فَتَنَكَّبَ عَنا ، ثُمَّ أَتَيْنَاهُ مَرَّةً أُخْرَى فَوَجَدْنَاهُ يُصَلِّي الْمَكْتُوبَةَ ، فَقُمْنَا خَلْفَهُ فَأَشَارَ إِلَيْنَا فَقَعَدْنَا ، فَلَمَّا قَضَى الصَّلاةَ ، قَالَ : إِذَا صَلَّى الإِمَامُ جَالِسًا فَصَلُّوا جُلُوسًا ، وَإِذَا صَلَّى قَائِمًا فَصَلُّوا قِيَامًا ، وَلا تَفْعَلُوا كَمَا يَفْعَلُ أَهْلُ فَارِسٌ بِعُظَمَائِهَا ". قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : فِي هَذَا الْخَبَرِ بَيَانٌ وَاضِحٌ أَنَّ اللَّفْظَةَ الَّتِي فِي خَبَرِ حُمَيْدٍ حَيْثُ صَلَّى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهِمْ قَاعِدًا وَهُمْ قِيَامٌ إِنَّمَا كَانَتْ تِلْكَ سُبْحَةً ، فَلَمَّا حَضَرَتِ الصَّلاةُ الْفَرِيضَةُ أَمَرَهُمْ أَنْ يُصَلُّوا قُعُودًا كَمَا صَلَّى هُوَ ، فَفِي هَذَا أَوْكَدُ الأَشْيَاءِ أَنَّ الأَمْرَ مِنْهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِمَا وَصَفْنَا أَمْرُ فَرِيضَةٍ لا فَضِيلَةٍ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ میں گھوڑے پر سوار ہوئے، آپ اس سے ایک کھجور کے تنے پر گر گئے جس کی وجہ سے آپ کے پاؤں میں موچ آ گئی، ہم آپ کی عیادت کے لیے آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے، ہم نے آپ کو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے بالا خانے میں پایا، آپ بیٹھ کر نوافل ادا کر رہے تھے، ہم آپ کے پیچھے کھڑے ہو گئے، تو آپ ہم سے ہٹ گئے، پھر ہم دوسری مرتبہ آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے، تو آپ کو فرض نماز پڑھتے ہوئے پایا، ہم آپ کے پیچھے کھڑے ہوئے، تو آپ نے ہماری طرف اشارہ کیا، تو ہم بیٹھ گئے، جب آپ نے نماز مکمل کی تو ارشاد فرمایا: ”جب امام بیٹھ کر نماز ادا کرے تو تم بھی بیٹھ کر نماز ادا کرو، جب وہ کھڑے ہو کر نماز ادا کرے تو تم بھی کھڑے ہو کر نماز ادا کرو، تم لوگ اس طرح نہ کرو جس طرح اہل فارس اپنے بادشاہوں کے لیے کرتے ہیں۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) اس روایت میں اس بات کا واضح بیان موجود ہے کہ حمید کے حوالے سے منقول روایت کے وہ الفاظ کہ اس میں یہ مذکور ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کو بیٹھ کر نماز پڑھائی، اور وہ لوگ کھڑے ہوئے تھے، یہ نفل نماز تھی، جب فرض نماز کا وقت ہوا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو یہ ہدایت کی کہ وہ بیٹھ کر نماز ادا کریں، جس طرح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز ادا کی تھی، تو یہ چیز سب سے زیادہ تاکید والی ہو جائے گی (اور اس بات کو ثابت کر دے گی) کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ حکم جس کا ہم نے ذکر کیا ہے لازم قرار دینے کے طور پر حکم ہے، فضیلت کے اظہار کا حکم نہیں تھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2112]

2113

Sahih Ibn Hibban #2113

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ مَوْهِبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : خَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ فَرَسٍ فَجُحِشَ ، فَصَلَّى لَنَا قَاعِدًا فَصَلَّيْنَا مَعَهُ قُعُودًا ، ثُمَّ انْصَرَفَ ، فَقَالَ : إِنَّمَاالإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ ، فَإِذَا كَبَّرَ فَكَبِّرُوا ، وَإِذَا رَكَعَ فَارْكَعُوا ، وَإِذَا رَفَعَ فَارْفَعُوا ، وَإِذَا قَالَ : سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ ، فَقُولُوا : رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ ، وَإِذَا سَجَدَ فَاسْجُدُوا ، وَإِذَا صَلَّى قَاعِدًا فَصَلُّوا قُعُودًا أَجْمَعُونَ ". قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : زَعَمَ بَعْضُ الْعِرَاقِيِّينَ مِمَّنْ كَانَ يَنْتَحِلُ مَذْهَبَ الْكُوفِيِّينَ أَنَّ قَوْلَهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : وَإِذَا صَلَّى قَاعِدًا فَصَلُّوا قُعُودًا ، أَرَادَ بِهِ وَإِذَا تَشَهَّدَ قَاعِدًا فَتَشَهَّدُوا قُعُودًا أَجْمَعُونَ ، فَحَرَّفَ الْخَبَرَ عَنْ عُمُومِ مَا وَرَدَ الْخَبَرُ فِيهِ بِغَيْرِ دَلِيلٍ يَثْبُتُ لَهُ عَلَى تَأْوِيلِهِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم گھوڑے سے گر کر زخمی ہو گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بیٹھ کر نماز پڑھائی، ہم نے آپ کی اقتدا میں بیٹھ کر نماز ادا کی۔ جب آپ نے نماز مکمل کی تو آپ نے ارشاد فرمایا: ”امام کو اس لیے مقرر کیا گیا ہے تاکہ اس کی پیروی کی جائے، جب وہ تکبیر کہے تو تم بھی تکبیر کہو، جب وہ رکوع میں جائے تو تم بھی رکوع میں جاؤ، جب وہ (رکوع سے سر) اٹھائے تو تم بھی اٹھاؤ، جب وہ «سَمِعَ اللّٰهُ لِمَنْ حَمِدَهُ» ”اللہ نے اس کی بات سن لی جس نے اس کی تعریف کی“ کہے تو تم لوگ «رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ» ”اے ہمارے رب! اور تیرے ہی لیے تمام تعریفیں ہیں“ کہو، جب وہ سجدے میں جائے تو تم بھی سجدے میں جاؤ اور جب وہ بیٹھ کر نماز ادا کرے تو تم سب بھی بیٹھ کر نماز ادا کرو۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) بعض اہل عراق جو اہل کوفہ کے مسلک کے قائل ہیں، وہ یہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ”جب وہ بیٹھ کر نماز ادا کرے تو تم لوگ بھی بیٹھ کر نماز ادا کرو“ اس سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد یہ ہے کہ جب وہ بیٹھ کر تشہد پڑھے تو تم لوگ بھی بیٹھ کر تشہد پڑھو۔ تو اس شخص نے اس روایت کو اس کے اس عمومی مفہوم سے پھیر دیا ہے جس کے بارے میں وہ روایت منقول ہوئی تھی اور اس نے کسی دلیل کے بغیر ایسا کیا ہے جس دلیل سے اس کی بیان کردہ تاویل ثابت ہوتی ہو۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2113]

2114

Sahih Ibn Hibban #2114

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : صُرِعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ فَرَسٍ لَهُ ، فَوَقَعَ عَلَى جِذْعِ نَخْلَةٍ ، فَانْفَكَّتْ قَدَمُهُ فَدَخَلْنَا عَلَيْهِ نَعُودُهُ وَهُوَ يُصَلِّي فِي مَشْرَبَةٍ لِعَائِشَةَ جَالِسًا فَصَلَّيْنَا بِصَلاتِهِ وَنَحْنُ قِيَامٌ ، ثُمَّ دَخَلْنَا عَلَيْهِ مَرَّةً أُخْرَى وَهُوَ يُصَلِّي جَالِسًا فَصَلَّيْنَا بِصَلاتِهِ وَنَحْنُ قِيَامٌ ، فَأَوْمَأَ إِلَيْنَا أَنِ اجْلِسُوا ، فَلَمَّا صَلَّى قَالَ : إِنَّمَاجُعِلَ الإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ ، فَإِذَا صَلَّى قَائِمًا فَصَلُّوا قِيَامًا ، وَإِنْ صَلَّى جَالِسًا فَصَلُّوا جُلُوسًا وَلا تَقُومُوا وَهُوَ جَالِسٌ كَمَا يَصْنَعُ أَهْلُ فَارِسٍ بِعُظَمَائِهَا ". قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : فِي قَوْلِ جَابِرٍ : فَصَلَّيْنَا بِصَلاتِهِ وَنَحْنُ قِيَامٌ ، بَيَانٌ وَاضِحٌ عَلَى دَحْضِ قَوْلِ هَذَا الْمُتَأَوِّلِ إِذِ الْقَوْمُ لَمْ يَتَشَهَّدُوا خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُمْ قِيَامٌ ، وَكَذَلِكَ قَوْلُهُ فِي الصَّلاةِ الأُخْرَى : فَصَلَّيْنَا بِصَلاتِهِ وَنَحْنُ قِيَامٌ فَأَوْمَأَ إِلَيْنَا أَنِ اجْلِسُوا ، أَرَادَ بِهِ الْقِيَامَ الَّذِي هُوَ فَرْضُ الصَّلاةِ لا التَّشَهُّدَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم گھوڑے سے گر گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھجور کے تنے پر گرے تھے جس کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاؤں پر چوٹ آئی، ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عیادت کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے بالا خانے میں بیٹھ کر نماز ادا کر رہے تھے، ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کی پیروی شروع کی اور ہم کھڑے ہوئے تھے، پھر جب ہم دوبارہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ کر نماز ادا کر رہے تھے، ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کی پیروی کی اور ہم اس وقت بھی کھڑے ہوئے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اشارہ کیا کہ تم لوگ بیٹھ جاؤ، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز مکمل کر لی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”امام کو اس لیے مقرر کیا گیا ہے، تاکہ اس کی پیروی کی جائے جب وہ کھڑا ہو کر نماز ادا کرے تو تم لوگ بھی کھڑے ہو کر نماز ادا کرو اور اگر وہ بیٹھ کر نماز ادا کرے تو تم لوگ بھی بیٹھ کر نماز ادا کرو۔ وہ بیٹھا ہوا ہو، تو تم لوگ کھڑے نہ ہو، جس طرح اہل فارس اپنے بادشاہوں کے لیے کرتے ہیں۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کا یہ کہنا کہ ہم نے آپ کی نماز کی پیروی کی اور ہم اس وقت کھڑے ہوئے تھے، اس بات کا واضح بیان موجود ہے جو تاویل کرنے والے شخص کے موقف کو پرے کر دیتا ہے، کیونکہ ان لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے قیام کی حالت میں تشہد نہیں پڑھا تھا۔ اسی طرح دوسری نماز کے بارے میں راوی کا یہ کہنا کہ ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کی پیروی میں نماز ادا کی اور ہم کھڑے ہوئے تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اشارہ کیا کہ تم لوگ بیٹھ جاؤ، اس کے ذریعے ان کی مراد وہ قیام ہے جو نماز میں فرض ہے، اس سے مراد تشہد نہیں ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2114]

2115

Sahih Ibn Hibban #2115

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ ، بِبَيْتِ الْمَقْدِسِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ أَبِي يُونُسَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : إِنَّمَاالإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ ، فَإِذَا كَبَّرَ فَكَبِّرُوا ، وَإِذَا رَكَعَ فَارْكَعُوا ، وَإِذَا رَفَعَ فَارْفَعُوا ، وَإِذَا قَالَ : سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ ، فَقُولُوا : اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ ، وَإِذَا صَلَّى قَائِمًا فَصَلُّوا قِيَامًا ، وَإِذَا صَلَّى قَاعِدًا فَصَلُّوا قُعُودًا أَجْمَعُونَ ". قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : فِي تَقْرِيرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الأَمْرَ لِلْمَأْمُومِينَ أَنْ يُصَلُّوا قِيَامًا إِذَا صَلَّى إِمَامُهُمْ قَائِمًا بِالأَمْرِ بِالصَّلاةِ قُعُودًا إِذَا صَلَّى إِمَامُهُمْ جَالِسًا ، أَعْظَمُ الْبَيَانِ أَنَّهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يُرِدْ بِهِ التَّشَهُّدَ فِي الأَمْرَيْنِ جَمِيعًا ، وَإِنَّمَا أَرَادَ الْقِيَامَ الَّذِي هُوَ فَرْضُ الصَّلاةِ أَنْ يُؤْتَى بِهِ كَمَا يَأْتِي الإِمَامُ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”امام کو اس لیے مقرر کیا گیا ہے تاکہ اس کی پیروی کی جائے، جب وہ تکبیر کہے تو تم بھی تکبیر کہو، جب وہ رکوع میں جائے تو تم بھی رکوع میں جاؤ، جب وہ (رکوع سے سر) کو اٹھائے تو تم بھی اٹھاؤ، جب وہ «سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ» ”اللہ نے اس کی بات سن لی جس نے اس کی تعریف کی“ پڑھے، تو تم «اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ» ”اے اللہ! اے ہمارے رب! تیرے ہی لیے تمام تعریفیں ہیں“ پڑھو، جب وہ کھڑا ہو کر نماز ادا کرے تو تم لوگ کھڑے ہو کر نماز ادا کرو اور جب وہ بیٹھ کر نماز ادا کرے تو تم سب بھی بیٹھ کر نماز ادا کرو۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا مقتدیوں کے لیے حکم کو پختہ کر دینا کہ جب ان کا امام کھڑا ہو کر نماز ادا کر رہا ہو، تو وہ کھڑے ہو کر نماز ادا کریں اور جب ان کا امام بیٹھ کر نماز ادا کر رہا ہو، تو وہ بیٹھ کر نماز ادا کریں، اس بات کا سب سے بڑا بیان ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں احکام میں تشہد مراد نہیں لیا بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ قیام مراد لیا ہے جو نماز میں فرض ہے کہ آدمی اسے اسی طرح بجا لائے گا جس طرح امام اسے ادا کرتا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2115]

2116

Sahih Ibn Hibban #2116

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ ، عَنْ زَائِدَةَ ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي عَائِشَةَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، قَالَ : دَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ ، فَقُلْتُ لَهَا : أَلا تُحَدِّثِينِي عَنْ مَرَضِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَتْ : بَلَى ، ثَقُلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : أَصَلَّى النَّاسُ ؟ " فَقُلْتُ : لا ، هُمْ يَنْتَظِرُونَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ . قَالَ : " ضَعُوا لِي مَاءً فِي الْمِخْضَبِ " . قَالَتْ : فَفَعَلْنَا فَاغْتَسَلَ ، ثُمَّ ذَهَبَ لِيَنْوِيَ فَأُغْمِيَ عَلَيْهِ ، ثُمَّ أَفَاقَ ، فَقَالَ : " أَصَلَّى النَّاسُ ؟ " فَقُلْتُ : لا ، هُمْ يَنْتَظِرُونَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ . وَالنَّاسُ عُكُوفٌ فِي الْمَسْجِدِ يَنْتَظِرُونَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِصَلاةِ الْعِشَاءِ الآخِرَةِ ، قَالَتْ : فَأَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ أَنْ صَلِّ بِالنَّاسِ ، فَأَتَاهُ الرَّسُولُ ، فَقَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُكَ أَنْ تُصَلِّيَ بِالنَّاسِ ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ وَكَانَ رَجُلا رَقِيقًا : يَا عُمَرُ صَلِّ بِالنَّاسِ . فَقَالَ لَهُ عُمَرُ : أَنْتَ أَحَقُّ بِذَلِكَ . قَالَ : فَصَلَّى بِهِمْ أَبُو بَكْرٍ تِلْكَ الأَيَّامَ ، قَالَتْ : ثُمَّ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَدَ مِنْ نَفْسِهِ خِفَّةً ، فَخَرَجَ بَيْنَ رَجُلَيْنِ لِصَلاةِ الظُّهْرِ ، وَأَبُو بَكْرٍ يُصَلِّي بِالنَّاسِ ، قَالَتْ : فَلَمَّا رَآهُ أَبُو بَكْرٍ ذَهَبَ لِيَتَأَخَّرَ ، فَأَوْمَأَ إِلَيْهِ أَنْ لا يَتَأَخَّرَ ، وَقَالَ لَهُمَا : " أَجْلِسَانِي إِلَى جَنْبِهِ " . فَأَجْلَسَاهُ إِلَى جَنْبِ أَبِي بَكْرٍ ، فَجَعَلَ أَبُو بَكْرٍ يُصَلِّي وَهُوَ قَائِمٌ بِصَلاةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَالنَّاسُ يُصَلُّونَ بِصَلاةِ أَبِي بَكْرٍ ، وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَاعِدٌ. قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ : فَدَخَلْتُ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ، فَقُلْتُ : أَلا أَعْرِضُ عَلَيْكَ مَا حَدَّثَتْنِي عَائِشَةُ عَنْ مَرَضِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ فَقَالَ : هَاتِ . فَعَرَضْتُ حَدِيثَهَا عَلَيْهِ ، فَمَا أَنْكَرَ مِنْهُ شَيْئًا"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبید اللہ بن عبداللہ بیان کرتے ہیں: میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا۔ میں نے ان سے گزارش کی: کیا آپ مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری کے بارے میں نہیں بتائیں گی؟ انہوں نے فرمایا: جی ہاں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طبیعت خراب ہو گئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”کیا لوگوں نے نماز ادا کر لی ہے؟“ میں نے عرض کی: جی نہیں، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! وہ آپ کا انتظار کر رہے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے لیے کسی ٹب میں پانی رکھو۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: ہم نے ایسا ہی کیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے غسل کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھنے لگے، تو آپ پر بے ہوشی طاری ہو گئی۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہوش آیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”کیا لوگوں نے نماز ادا کر لی؟“ میں نے عرض کی: جی نہیں، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! وہ آپ کا انتظار کر رہے ہیں۔ لوگ اس وقت مسجد میں بیٹھے ہوئے عشاء کی نماز کے لیے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا انتظار کر رہے تھے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو پیغام بھجوایا: ”تم لوگوں کو نماز پڑھا دو۔“ پیغام رساں شخص سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا (اور کہا): اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو حکم دیا ہے، آپ لوگوں کو نماز پڑھا دیں، تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ جو ایک نرم دل آدمی تھے، انہوں نے فرمایا: اے عمر! تم لوگوں کو نماز پڑھاؤ۔ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: آپ اس کے زیادہ حق دار ہیں۔ راوی بیان کرتے ہیں: ان دنوں میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو نماز پڑھائی۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی طبیعت میں بہتری محسوس ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم دو آدمیوں کے درمیان چلتے ہوئے ظہر کی نماز کے لیے تشریف لے گئے، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اس وقت لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تو پیچھے ہٹنے لگے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اشارہ کیا کہ ”وہ پیچھے نہ ہٹیں۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں صاحبان سے فرمایا: ”مجھے اس کے پہلو میں بٹھا دو۔“ ان دونوں حضرات نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پہلو میں بٹھا دیا، پھر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نماز ادا کرنے لگے، وہ کھڑے ہو کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کی پیروی کر رہے تھے اور لوگ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی نماز کی پیروی کر رہے تھے حالانکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت بیٹھے ہوئے تھے۔ عبیداللہ نامی راوی کہتے ہیں: میں سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی خدمت میں حاضر ہوا اور میں نے کہا: کیا میں آپ کے سامنے وہ حدیث پیش کروں جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری کے بارے میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے مجھے بیان کی ہے؟ انہوں نے فرمایا: پیش کرو۔ میں نے وہ حدیث ان کے سامنے بیان کی تو انہوں نے اس کی کسی بھی بات کا انکار نہیں کیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2116]

2117

Sahih Ibn Hibban #2117

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا بَدَلُ بْنُ الْمُحَبَّرِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي عَائِشَةَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَائِشَةَ : أَنَّأَبَا بَكْرٍ صَلَّى بِالنَّاسِ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الصَّفِّ خَلْفَهُ ". قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : خَالَفَ شُعْبَةُ بْنُ الْحَجَّاجِ زَائِدَةَ بْنَ قُدَامَةَ فِي مَتْنِ هَذَا الْخَبَرِ ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي عَائِشَةَ ، فَجَعَلَ شُعْبَةُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَأْمُومًا حَيْثُ صَلَّى قَاعِدًا وَالْقَوْمُ قِيَامٌ ، وَجَعَلَ زَائِدَةُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِمَامًا حَيْثُ صَلَّى قَاعِدًا وَالْقَوْمُ قِيَامٌ ، وَهُمَا مُتْقِنَانِ حَافِظَانِ ، فَكَيْفَ يَجُوزُ أَنْ تُجْعَلُ إِحْدَى الرِّوَايَتَيْنِ اللَّتَيْنِ تَضَادَّتَا فِي الظَّاهِرِ فِي فِعْلٍ وَاحِدٍ نَاسِخًا لأَمْرٍ مُطْلَقٍ مُتَقَدِّمٍ ، فَمَنْ جَعَلَ أَحَدَ الْخَبَرَيْنِ نَاسِخًا لِمَا تَقَدَّمَ مِنْ أَمْرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَتَرَكَ الآخَرَ مِنْ غَيْرِ دَلِيلٍ يَثْبُتُ لَهُ عَلَى صِحَّتِهِ سَوَّغَ لِخَصْمِهِ أَخْذَ مَا تَرَكَ مِنَ الْخَبَرَيْنِ وَتَرْكَ مَا أَخَذَ مِنْهُمَا"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو نماز پڑھائی جبکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پیچھے صف میں موجود تھے۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) شعبہ بن حجاج نے اس روایت کا متن نقل کرنے میں زائدہ بن قدامہ کی مخالفت کی ہے، انہوں نے اسے موسیٰ بن ابوعائشہ کے حوالے سے نقل کیا ہے۔ تو شعبہ نے اپنی روایت میں یہ بات نقل کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب بیٹھ کر نماز ادا کر رہے تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم مقتدی کے طور پر شریک ہوئے تھے اور لوگ کھڑے ہوئے تھے۔ جبکہ زائدہ نامی راوی نے اپنی روایت میں یہ بات نقل کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب بیٹھ کر نماز ادا کر رہے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم امام کے طور پر نماز ادا کر رہے تھے اور لوگ کھڑے ہو کر نماز ادا کر رہے تھے۔ یہ دونوں راوی متقی ہیں اور دونوں حافظ ہیں تو یہ بات کیسے جائز ہو سکتی ہے کہ ان دونوں میں سے کسی ایک کی نقل کردہ روایت کو قبول کر لیا جائے حالانکہ یہ دونوں روایات ایک ہی فعل کے بارے میں منقول ہیں اور بظاہر ایک دوسرے کے متعارض ہیں۔ اور یہ پہلے موجود مطلق حکم کو ناسخ قرار دینے والی روایت بنتی ہیں تو جو شخص ان دونوں روایات میں سے کسی ایک کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلے موجود حکم کی ناسخ قرار دیتا ہے اور دوسری روایت کو ترک کر دیتا ہے اور کسی دلیل کے بغیر ایسا کرتا ہے جو دلیل اس کے صحیح ہونے کو ثابت کرتی ہو، تو وہ اپنے مدمقابل کو اس طرف جانے پر مجبور کرتا ہے کہ وہ اس دوسری روایت کو قبول کر لے جس روایت کو اس نے ان دونوں روایات میں سے ترک کیا ہے اور اس کا مدمقابل اس روایت کو ترک کر دے جسے اس نے قبول کیا ہے۔ احادیث میں اس نوعیت کی ایک مثال سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے حوالے سے منقول روایت ہے جس میں یہ مذکور ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے احرام کی حالت میں سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ نکاح کیا تھا۔ جبکہ سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ نے یہ بات نقل کی ہے کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خاتون کے ساتھ نکاح کیا تھا، اس وقت آپ دونوں حالتِ احرام میں نہیں تھے۔ تو یہ دونوں روایات ایک ہی فعل کے بارے میں ایک دوسرے کے متعارض ہیں۔ حالانکہ ہمارے نزدیک بھی ان دونوں کے درمیان کوئی بھی تضاد نہیں ہے۔ محدثین کی ایک جماعت نے سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے نکاح کے بارے میں منقول ان دونوں روایات کو ایک دوسرے کے متعارض قرار دیا ہے اور ان لوگوں نے اس روایت کے مطابق فتویٰ دیا ہے جو سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: «لَا يَنْكِحُ الْمُحْرِمُ وَلَا يُنْكَحُ» ”احرام والا شخص نہ تو نکاح کر سکتا ہے اور نہ ہی کسی کا نکاح پڑھوا سکتا ہے۔“ محدثین نے اس روایت کو قبول کر لیا کیونکہ یہ ان دونوں روایات میں سے ایک روایت کے موافق ہے جو سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ نکاح کے بارے میں نقل کی گئی ہیں اور محدثین نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے حوالے سے منقول اس روایت کو ترک کر دیا۔ جس میں یہ مذکور ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ نکاح کیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت حالتِ احرام میں تھے۔ جو شخص ایسا کرتا ہے، اس کے لیے یہ بات ضروری ہو گی کہ وہ یہ کہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے نماز ادا کرنے کے بارے میں اس کی علت کے حوالے سے یہ دونوں روایات ایک دوسرے کی متضاد ہیں۔ جیسا کہ ہم نے پہلے ذکر کیا ہے۔ تو اب یہ بات ضروری ہو گی کہ ہم اس روایت کی طرف رجوع کریں جس میں مقتدیوں کو اس وقت بیٹھ کر نماز ادا کرنے کا حکم دیا گیا ہے جب ان کا امام بیٹھ کر نماز ادا کر رہا ہو، تو اب ہم اس روایت کے مطابق فتویٰ دے دیں گے کیونکہ یہ ان دو روایات میں سے ایک روایت کے موافق ہے جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے بارے میں نقل کی گئی ہیں جس میں اس کی علت کا تذکرہ ہے اور ہم اس روایت کو ترک کر دیں جو ان دونوں میں سے منفرد ہے، جس طرح سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا سے نکاح کے بارے میں روایت کے بارے میں کیا گیا ہے۔ ہمارے نزدیک ان روایات میں کوئی تضاد اور اختلاف نہیں ہے اور نہ کوئی روایت ان میں سے ناسخ ہے اور نہ ہی منسوخ ہے۔ بلکہ ان میں سے ایک روایت مختصر ہے اور دوسری تفصیلی ہے، ایک مجمل ہے اور دوسری وضاحتی ہے۔ جب اس کے ایک حصے کو دوسرے کے ساتھ ملایا جائے گا تو ان دونوں کے درمیان موجود تضاد ختم ہو جائے گا اور ان میں سے ہر ایک روایت کو اس کے مخصوص موقع و محل پر محمول کر لیا جائے گا، جیسا کہ ہم عنقریب آگے چل کر یہ بات بیان کریں گے، اگر اللہ نے چاہا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2117]

2118

Sahih Ibn Hibban #2118

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ الْعَبْسِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ ، عَنْ زَائِدَةَ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ شَقِيقٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : أُغْمِيَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ أَفَاقَ ، فَقَالَ : أَصَلَّى النَّاسُ ؟ " . قُلْنَا : لا . قَالَ : "مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسُ ؟ " . فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ أَبَا بَكْرٍ رَجُلٌ أَسِيفٌ إِذَا قَامَ مَقَامَكَ لَمْ يَسْتَطِعْ أَنْ يُصَلِّيَ بِالنَّاسِ . قَالَ عَاصِمٌ : وَالأَسِيفُ الرَّقِيقُ الرَّحِيمُ ، قَالَ : " مُرُوا أَبَا بَكْرٍ أَنْ يُصَلِّيَ بِالنَّاسِ " . قَالَ ذَلِكَ ثَلاثَ مَرَّاتٍ ، كُلُّ ذَلِكَ أَرُدُّ عَلَيْهِ ، قَالَتْ : فَصَلَّى أَبُو بَكْرٍ بِالنَّاسِ ، ثُمَّ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَدَ خِفَّةً مِنْ نَفْسِهِ ، فَخَرَجَ بَيْنَ بَرِيرَةَ وَنُوبَةَ ، إِنِّي لأَنْظُرُ إِلَى نَعْلَيْهِ تَخُطَّانِ فِي الْحَصَا وَأَنْظُرُ إِلَى بُطُونِ قَدَمَيْهِ ، فَقَالَ لَهُمَا : " أَجْلِسَانِي إِلَى جَنْبِ أَبِي بَكْرٍ " . فَلَمَّا رَآهُ أَبُو بَكْرٍ ذَهَبَ يَتَأَخَّرُ ، فَأَوْمَأَ إِلَيْهِ أَنِ اثْبُتْ مَكَانَكَ ، فَأَجْلَسَاهُ إِلَى جَنْبِ أَبِي بَكْرٍ ، قَالَتْ : فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي وَهُوَ جَالِسٌ ، وَأَبُو بَكْرٍ قَائِمٌ يُصَلِّي بِصَلاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَالنَّاسُ يُصَلُّونَ بِصَلاةِ أَبِي بَكْرٍ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر بے ہوشی طاری ہو گئی، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہوش آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”کیا لوگوں نے نماز ادا کر لی ہے؟“ میں نے عرض کی: جی نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابوبکر سے کہو، وہ لوگوں کو نماز پڑھا دے۔“ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ ایک نرم دل آدمی ہیں، جب وہ آپ کی جگہ پر کھڑے ہوں گے تو وہ لوگوں کو نماز نہیں پڑھا سکیں گے۔ عاصم نامی راوی نے یہ بات بیان کی ہے۔ روایت کے متن میں استعمال ہونے والے لفظ «أَسِيفٌ» سے مراد ”نرم دل اور مہربان ہونا“ ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابوبکر سے کہو، لوگوں کو نماز پڑھا دے۔“ یہ بات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ کہی اور ہر مرتبہ میں نے بھی وہی جواب دیا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ پھر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو نماز پڑھائی، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو طبیعت میں بہتری محسوس ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم بریرہ اور نوبہ (نامی کنیزوں) کے درمیان (یعنی ان کے ساتھ ٹیک لگا کر چلتے ہوئے) تشریف لے گئے، یہ منظر آج بھی میری نگاہ میں ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نعلین شریفین کنکریوں پر لکیر بنا رہے تھے اور میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاؤں کے تلووں کو دیکھ رہی تھی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں سے فرمایا: ”تم مجھے ابوبکر کے پہلو میں بٹھا دو۔“ جب سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تو وہ پیچھے ہٹنے لگے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اشارہ کیا: ”اپنی جگہ پر رہو۔“ اور ان دونوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پہلو میں بٹھا دیا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ کر نماز ادا کرتے رہے، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کھڑے ہو کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کی پیروی میں نماز ادا کرتے رہے، اور لوگ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی نماز کی پیروی میں نماز ادا کرتے رہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2118]