Muslim99Muslim99

Sahih Ibn Hibban · Book 19 · Chapter 1

Book of Divorce

Hadith 2037–2077

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

2037

Sahih Ibn Hibban #2037

أَخْبَرَنَا ابْنُ خُزَيْمَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُطَرِّفٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ غَدَا إِلَى الْمَسْجِدِ ، أَوْ رَاحَ ، أَعَدَّ اللَّهُ لَهُ نُزُلا فِي الْجَنَّةِ كُلَّمَا غَدَا أَوْ رَاحَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جو شخص صبح کے وقت یا شام کے وقت مسجد جاتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت میں مہمانی تیار کرتا ہے، جب بھی وہ صبح کے وقت یا شام کے وقت جاتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2037]

2038

Sahih Ibn Hibban #2038

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ ، حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، أَنَّ أَبَا عُشَّانَةَ حَدَّثَهُ ، أَنَّهُ سَمِعَ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ يُحَدِّثُ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : الْقَاعِدُ عَلَى الصَّلاةِ كَالْقَانِتِ ، وَيُكْتَبُ مِنَ الْمُصَلِّينَ مِنْ حِينِ يَخْرُجُ مِنْ بَيْتِهِ حَتَّى يَرْجِعَ إِلَى بَيْتِهِ ". قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : أَبُو عُشَّانَةَ اسْمُهُ حَيُّ بْنُ يُؤْمِنَ الْمَعَافِرِيُّ ، مِنْ ثِقَاتِ أَهْلِ مِصْرَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عقبہ بن عمرو رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”نماز کا بیٹھ کر انتظار کرنے والا شخص نماز پڑھنے والے کی مانند ہے اور نمازی جب اپنے گھر سے نکلتا ہے، تو اس کے گھر واپس آنے تک اس کے لیے ثواب نوٹ کیا جاتا ہے۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) ابوعشانہ نامی راوی کا نام حیی بن عبداللہ مغافری ہے اور یہ مصر سے تعلق رکھنے والے ثقہ راوی ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2038]

2039

Sahih Ibn Hibban #2039

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنِي حُيَيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمَعَافِرِيُّ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ رَاحَ إِلَى مَسْجِدِ جَمَاعَةٍ ، فَخُطْوَتَاهُ : خُطْوَةٌ تَمْحُو سَيِّئَةً ، وَخَطْوَةٌ تَكْتُبُ حَسَنَةً ، ذَاهِبًا وَرَاجِعًا ". قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : الْعَرَبُ تُضِيفُ الْفِعْلَ إِلَى الأَمْرِ ، كَمَا تُضِيفُ إِلَى الْفَاعِلِ ، وَرُبَّمَا أَضَافَتِ الْفِعْلَ إِلَى الْفِعْلِ نَفْسِهِ كَمَا تُضِيفُهُ إِلَى الأَمْرِ ، فَإِخْبَارُ ابْنِ عَمْرٍو أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَلَقَ رَأْسَهُ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ ، أَرَادَ بِهِ أَنَّ الْحَالِقَ فَعَلَ ذَلِكَ بِهِ لا نَفْسُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأُضِيفَ الْفِعْلُ إِلَى الأَمْرِ ، كَمَا يُضَافُ ذَلِكَ إِلَى الْفَاعِلِ ، وَفِي خَبَرِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، الَّذِي ذَكَرْنَاهُ : خُطْوَةٌ تَمْحُو سَيِّئَةً ، أَضَافَ الْفِعْلَ إِلَى الْفِعْلِ ، لا أَنَّ الْخُطْوَةَ تَمْحُو السَّيِّئَةَ نَفْسَهَا ، وَلَكِنَّ اللَّهَ جَلَّ وَعَلا هُوَ الَّذِي يَتَفَضَّلُ عَلَى عَبْدِهِ بِذَلِكِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جو شخص نماز باجماعت کے لیے مسجد میں جاتا ہے، تو اس کے دو قدموں میں سے ایک قدم کسی گناہ کو مٹاتا ہے اور ایک قدم نیکی لکھتا ہے، اس شخص کے جاتے ہوئے بھی اور واپس آتے ہوئے بھی ایسا ہی ہوتا ہے۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) اہل عرب بعض اوقات کسی فعل کی نسبت اصل معاملے کی طرف کر دیتے ہیں، جس طرح وہ اس کی نسبت فاعل کی طرف کرتے ہیں۔ اسی طرح بعض اوقات فعل کی نسبت نفس فعل کی طرف ہوتی ہے، جس طرح اس کی نسبت امر کی طرف ہوتی ہے، تو سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما نے اطلاع دی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر اپنا سر مونڈ لیا تھا، اس سے مراد یہ ہے کہ سر مونڈنے والے (حجام) نے ایسا کیا تھا، یہ مراد نہیں ہے کہ خود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا کیا تھا۔ تو یہاں فعل کی نسبت امر کی طرف کی گئی ہے، جس طرح اس کی نسبت فاعل کی طرف کی جاتی ہے۔ جبکہ سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کے حوالے سے منقول وہ روایت جسے ہم پہلے ذکر کر چکے ہیں کہ ”ایک قدم گناہ کو مٹا دیتا ہے“ تو یہاں فعل کی نسبت فعل کی طرف کی گئی ہے؛ کیونکہ وہ قدم گناہ کے وجود کو نہیں مٹاتا بلکہ اللہ تعالیٰ بندے پر یہ فضل فرماتا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2039]

2040

Sahih Ibn Hibban #2040

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنِ التَّيْمِيِّ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ، قَالَ : كَانَ رَجُلٌ لا أَعْلَمُ أَحَدًا مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ مِمَّنْ يُصَلِّي الْقِبْلَةَ يَشْهَدُ الصَّلاةَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبْعَدَ جِوَارًا مِنَ الْمَسْجِدِ مِنْهُ ، فَقِيلَ : لَوِ ابْتَعْتَ حِمَارًا تَرْكَبُهُ فِي الرَّمْضَاءِ ، أَوِ الظَّلْمَاءِ ، فَقَالَ :مَا يَسُرُّنِي أَنَّ مَنْزِلِي بِلِزْقِ الْمَسْجِدِ ، فَذُكِرَ ذَلِكَ للنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَنْطَاكَ اللَّهُ ذَلِكَ كُلَّهُ ، أَوْ أَعْطَاكَ اللَّهُ مَا احْتَسَبْتَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میرے علم کے مطابق اہل مدینہ میں سے قبلہ رخ نماز ادا کرنے والوں اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتدا کرنے والوں میں سے ایک شخص ایسا تھا کہ اس سے زیادہ دور کسی اور کا گھر مسجد سے نہ تھا، اسے کہا گیا: اگر تم ایک گدھا خرید لو جس پر تم سوار ہو کر سردی اور گرمی کے موسم میں (مسجد) آیا کرو (تو یہ مناسب ہوگا)، اس نے کہا: مجھے یہ بات پسند نہیں ہے کہ میرا گھر مسجد کے بالکل ساتھ ہو، اس بات کا تذکرہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا گیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اللہ تعالیٰ یہ سب تمہیں عطا کرے گا“ (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں:) ”جس ثواب کی تم نے امید رکھی ہے، اللہ تعالیٰ وہ تمہیں عطا کرے گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2040]

2041

Sahih Ibn Hibban #2041

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ، قَالَ : كَانَ رَجُلٌ لا أَعْلَمُ رَجُلا مِنَ النَّاسِ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ مِمَّنْ يُصَلِّي الْقِبْلَةَ أَبْعَدَ جِوَارًا مِنَ الْمَسْجِدِ مِنْ ذَلِكَ الرَّجُلِ ، قَالَ : قُلْتُ لَوْ أَنَّكَ اشْتَرَيْتَ حِمَارًا تَرْكَبُهُ فِي الظَّلْمَاءِ ، أَوِ الرَّمْضَاءِ ؟ فَقَالَ : فَنَمَا الْحَدِيثُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَسَأَلَهُ ، فَقَالَ : يَا نَبِيَّ اللَّهِأَرَدْتُ أَنْ يُكْتَبَ لِي إِقْبَالِي إِذَا أَقْبَلْتُ إِلَى الْمَسْجِدِ وَرُجُوعِي إِذَا رَجَعْتُ . قَالَ : فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَعْطَاكَ اللَّهُ ذَلِكَ أَجْمَعَ ، أَنْطَاكَ اللَّهُ مَا احْتَسَبْتَ أَجْمَعَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک ایسا شخص تھا، میرے علم کے مطابق اہل قبلہ (مسلمانوں) میں سے کسی کا گھر مسجد سے اس کے گھر سے زیادہ دور نہیں تھا۔ سیدنا ابی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے اس سے کہا: ”کاش تم ایک گدھا خرید لو جس پر سوار ہو کر تم اندھیری رات یا گرمی کے موسم میں آیا کرو (تو یہ مناسب ہو گا)۔“ راوی کہتے ہیں کہ یہ بات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص سے اس بارے میں دریافت کیا تو اس نے عرض کیا: اے اللہ کے نبی! میں یہ چاہتا ہوں کہ جب میں مسجد کی طرف آؤں تو میرا آنا اور جب میں واپس جاؤں تو میرا واپس جانا نوٹ کیا جائے (یعنی اس کا اجر و ثواب مجھے ملے)، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اللہ تعالیٰ یہ ساری چیز تمہیں عطا کرے گا، تم نے جو ثواب کی امید رکھی ہے، یہ سب اجر و ثواب اللہ تعالیٰ تمہیں عطا کرے گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2041]

2042

Sahih Ibn Hibban #2042

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا حِبَّانُ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا الْجُرَيْرِيُّ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : أَرَدْنَا النُّقْلَةَ إِلَى الْمَسْجِدِ ، وَالْبِقَاعُ حَوْلَ الْمَسْجِدِ خَالِيَةٌ ، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَتَانَا فِي دَارِنَا فَقَالَ : يَا بَنِي سَلِمَةَ ، بَلَغَنِي أَنَّكُمْ تُرِيدُونَ النُّقْلَةَ إِلَى الْمَسْجِدِ " . فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، بَعُدَ عَلَيْنَا الْمَسْجِدُ وَالْبِقَاعُ حَوْلَهُ خَالِيَةٌ . فَقَالَ : يَا بَنِي سَلِمَةَ ،" دِيَارَكُمْ دِيَارَكُمْ تُكْتَبْ آثَارُكُمْ ". قَالَ : فَمَا وَدِدْنَا أَنَّا بِحَضْرَةِ الْمَسْجِدِ لَمَّا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا قَالَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ہم نے مسجد کے قریب منتقل ہونے کا ارادہ کیا کیونکہ مسجد کے اردگرد کچھ جگہ خالی ہوئی تھی، اس کی اطلاع نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ملی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے محلے میں تشریف لائے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اے بنو سلمہ! مجھ تک یہ اطلاع پہنچی ہے، تم لوگ مسجد کے قریب منتقل ہونا چاہتے ہو۔“ انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم مسجد سے خاصے دور ہیں اور مسجد کے آس پاس کی جگہ خالی ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اے بنو سلمہ! تم اپنے علاقے میں رہو، تم اپنے علاقے میں رہو، تمہارے قدم نوٹ کیے جائیں گے۔“ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ پھر ہم نے یہ آرزو نہیں کی کہ ہم مسجد کے قریب رہیں کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی تھی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2042]

2043

Sahih Ibn Hibban #2043

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدِ بْنِ مُسَرْبَلِ بْنِ مُغَرْبَلٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : صَلاةُ الرَّجُلِ فِي جَمَاعَةٍ تَزِيدُ عَلَى صَلاتِهِ فِي بَيْتِهِ ، وَصَلاتِهِ فِي سُوقِهِ خَمْسًا وَعِشْرِينَ دَرَجَةً ، وَذَلِكَ أَنَّ أَحَدَهُمْ إِذَا تَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ الْوُضُوءَ ، ثُمَّ أَتَى الْمَسْجِدَ لا يُرِيدُ إِلا الصَّلاةَ لَمْ يَخْطُ خُطْوَةً إِلا رَفَعَ اللَّهُ لَهُ بِهَا دَرَجَةً ، وَحَطَّ عَنْهُ بِهَا خَطِيئَةً حَتَّى يَدْخُلَ الْمَسْجِدَ ، فَإِذَا دَخَلَ الْمَسْجِدَ كَانَ فِي صَلاةٍ مَا كَانَتِ الصَّلاةُ تَحْبِسُهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”آدمی کا باجماعت نماز ادا کرنا اس کا اپنے گھر میں نماز ادا کرنے یا اس کے بازار میں نماز ادا کرنے پر پچیس (25) درجے زیادہ فضیلت رکھتا ہے۔ اس کی صورت یوں ہے کہ جب کوئی شخص وضو کرے تو اچھی طرح وضو کرے، پھر وہ مسجد میں آئے اور اس کا ارادہ صرف نماز ادا کرنے کا ہو، تو وہ شخص جو بھی قدم اٹھاتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے عوض اس کا درجہ بلند فرماتا ہے اور اس کی وجہ سے اس کا گناہ معاف فرماتا ہے، یہاں تک کہ وہ شخص مسجد میں داخل ہو جاتا ہے؛ پھر جب وہ مسجد میں داخل ہوتا ہے، تو وہ مسلسل نماز کی حالت میں شمار ہوتا ہے، جب تک وہ نماز کی وجہ سے مسجد میں رہتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2043]

2044

Sahih Ibn Hibban #2044

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ عَاصِمٍ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو الرَّقِّيُّ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ تَطَهَّرَ فِي بَيْتِهِ ، ثُمَّ مَشَى إِلَى بَيْتٍ مِنْ بُيُوتِ اللَّهِ لِيَقْضِيَ فَرِيضَةً مِنْ فَرَائِضِ اللَّهِ ، كَانَ خَطْوَتَاهُ : إِحْدَاهُمَا تَحُطُّ خَطِيئَةً ، وَالأُخْرَى تَرْفَعُ دَرَجَةً """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”جو شخص اپنے گھر میں وضو کرے، پھر وہ اللہ کے کسی گھر کی طرف چل کر جائے تاکہ اللہ تعالیٰ کے فرائض میں سے کوئی فرض ادا کرے، تو اس کے دونوں قدموں میں سے ایک (قدم) گناہ کو مٹاتا ہے اور دوسرا (قدم) درجے کو بلند کرتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2044]

2045

Sahih Ibn Hibban #2045

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ ، حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، أَنَّ أَبَا عُشَّانَةَ ، حَدَّثَهُ ، أَنَّهُ سَمِعَ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ ، يُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : إِذَا تَطَهَّرَ الرَّجُلُ ، ثُمَّ أَتَى الْمَسْجِدَ يَرْعَى الصَّلاةَ ، كَتَبَ لَهُ كَاتِبَاهُ بِكُلِّ خُطْوَةٍ يَخْطُوهَا إِلَى الْمَسْجِدِ عَشْرَ حَسَنَاتٍ ". قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : أَبُو عُشَّانَةَ اسْمُهُ : حَيُّ بْنُ يُؤْمِنَ مِنْ ثِقَاتِ أَهْلِ فُسْطَاطِ مِصْرَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عقبہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان نقل کرتے ہیں: ”جب کوئی شخص وضو کرے پھر وہ نماز کی حفاظت کے لیے مسجد کی طرف آئے، تو اس کے دونوں کاتب فرشتے مسجد کی طرف جانے والے ہر قدم کے بدلے میں دس نیکیاں نوٹ کرتے ہیں۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) ابوعشانہ نامی راوی کا نام حیی بن یؤمن ہے اور وہ مصر کے شہر فسطاط سے تعلق رکھنے والے ثقہ راوی ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2045]

2046

Sahih Ibn Hibban #2046

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مَعْشَرٍ أَبُو عَرُوبَةَ ، بِحَرَّانَ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ زَيْدٍ الْخَطَّابِيُّ ، وَأَيُّوبُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْوَزَّانُ ، قَالا : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ ، عَنْ جُنَادَةَ بْنِ أَبِي أُمَيَّةَ ، عَنْ مَكْحُولٍ ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلانِيِّ ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ : مَنْ مَشَى فِي ظُلْمَةِ اللَّيْلِ إِلَى الْمَسَاجِدِ ، آتَاهُ اللَّهُ نُورًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ ". قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : هَكَذَا حَدَّثَنَا أَبُو عَرُوبَةَ ، فَقَالَ : جُنَادَةُ بْنُ أَبِي أُمَيَّةَ ، وَإِنَّمَا هُوَ جُنَادَةُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ ، وَجُنَادَةُ بْنُ أَبِي أُمَيَّةَ مِنَ التَّابِعِينَ أَقْدَمُ مِنْ مَكْحُولٍ ، وَجُنَادَةُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ مِنْ أَتْبَاعِ التَّابِعِينَ وَهُمَا شَامِيَّانَ ثِقَتَانِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جو شخص تاریک رات میں مسجد کی طرف پیدل چل کر جاتا ہے، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اسے نور عطا فرمائے گا۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) ابوعروبہ نے ہمیں یہ حدیث اسی طرح بیان کی ہے۔ انہوں نے یہ بات بیان کی ہے کہ جنادہ بن ابوامیہ نامی راوی تابعین کے طبقے سے تعلق رکھتے ہیں اور مکحول سے مقدم ہیں، جبکہ جنادہ بن ابوخالد نامی راوی تبع تابعین کے طبقے سے تعلق رکھتے ہیں۔ یہ دونوں راوی شام کے رہنے والے ہیں اور دونوں ثقہ ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2046]

2047

Sahih Ibn Hibban #2047

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ ، حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ بْنُ عُثْمَانَ ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : إِذَا دَخَلَ أَحَدُكُمُ الْمَسْجِدَ فَلْيُسَلِّمْ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلْيَقُلِ : اللَّهُمَّ افْتَحْ لِي أَبْوَابَ رَحْمَتِكَ ، وَإِذَا خَرَجَ فَلْيُسَلِّمْ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَلْيَقُلِ : اللَّهُمَّ أَجِرْنِي مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جب کوئی شخص مسجد میں داخل ہو تو وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجے اور یہ پڑھے: «اللَّهُمَّ افْتَحْ لِي أَبْوَابَ رَحْمَتِكَ» ”اے اللہ! میرے لیے اپنی رحمت کے دروازے کھول دے۔“ اور جب وہ شخص مسجد سے باہر آئے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجے اور وہ یہ کلمہ پڑھے: «اللَّهُمَّ اعْصِمْنِي مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ» ”اے اللہ! تو مجھے شیطان مردود سے پناہ میں رکھ۔““ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2047]

2048

Sahih Ibn Hibban #2048

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ ، عَنْ بِشْرِ بْنِ الْمُفَضَّلِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُمَارَةُ بْنُ غَزِيَّةَ ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سُوَيْدٍ الأَنْصَارِيُّ ، عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ ، أَوْ أَبِي أُسَيْدٍ السَّاعِدِيِّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِذَا دَخَلَ أَحَدُكُمُ الْمَسْجِدَ فَلْيُسَلِّمْ وَلْيَقُلِ : اللَّهُمَّ افْتَحْ لِي أَبْوَابَ رَحْمَتِكَ ، وَإِذَا خَرَجَ فَلْيَقُلِ : اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنْ فَضْلِكَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوحمید ساعدی یا شاید سیدنا ابواسید ساعدی رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”جب کوئی شخص مسجد میں داخل ہو، تو وہ سلام کرے اور یہ پڑھے: «اللَّهُمَّ افْتَحْ لِي أَبْوَابَ رَحْمَتِكَ» ”اے اللہ! تو میرے لیے اپنی رحمت کے دروازے کھول دے۔“ اور جب وہ (مسجد سے باہر) جائے، تو وہ یہ پڑھے: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنْ فَضْلِكَ» ”اے اللہ! میں تجھ سے تیرے فضل کا سوال کرتا ہوں۔““ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2048]

2049

Sahih Ibn Hibban #2049

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلالٍ ، عَنْ رَبِيعَةَ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ سُوَيْدٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا حُمَيْدٍ ، وَأَبَا أُسَيْدٍ ، يَقُولانِ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِذَا جَاءَ أَحَدُكُمْ إِلَى الْمَسْجِدِ فَلْيَقُلِ : اللَّهُمَّ افْتَحْ لِي أَبْوَابَ رَحْمَتِكَ ، وَإِذَا خَرَجَ فَلْيَقُلِ : اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنْ فَضْلِكَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوحمید ساعدی رضی اللہ عنہ یا شاید سیدنا ابواسید ساعدی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”جب کوئی شخص مسجد آئے، تو اسے یہ پڑھنا چاہیے: «اللَّهُمَّ افْتَحْ لِي أَبْوَابَ رَحْمَتِكَ» ”اے اللہ! تو میرے لیے اپنی رحمت کے دروازے کھول دے۔“ اور جب وہ باہر جائے، تو اسے یہ پڑھنا چاہیے: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنْ فَضْلِكَ» ”اے اللہ! میں تجھ سے تیرے فضل کا سوال کرتا ہوں۔۔““ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2049]

2050

Sahih Ibn Hibban #2050

أَخْبَرَنَا ابْنُ خُزَيْمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ بْنُ عُثْمَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي سَعِيدٌ الْمَقْبُرِيُّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : إِذَا دَخَلَ أَحَدُكُمُ الْمَسْجِدَ ، فَلْيُسَلِّمْ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَلْيَقُلِ : اللَّهُمَّ افْتَحْ لِي أَبْوَابَ رَحْمَتِكَ ، وَإِذَا خَرَجَ فَلْيُسَلِّمْ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَلْيَقُلِ : اللَّهُمَّ أَجِرْنِي مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جب کوئی شخص مسجد میں داخل ہو، تو وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر سلام بھیجے اور یہ پڑھے: «اللَّهُمَّ افْتَحْ لِي أَبْوَابَ رَحْمَتِكَ» ”اے اللہ! تو میرے لیے اپنی رحمت کے دروازے کھول دے۔“ اور جب وہ باہر جائے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر سلام بھیجے اور یہ پڑھے: «اللَّهُمَّ اعْصِمْنِي مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ» ”اے اللہ! تو مجھے شیطان مردود سے پناہ نصیب کر۔““ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2050]

2051

Sahih Ibn Hibban #2051

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : فَضْلُ صَلاةِ الْجَمِيعِ عَلَى صَلاةِ الرَّجُلِ وَحْدَهُ خَمْسٌ وَعِشْرُونَ دَرَجَةً ". قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : هَذَا الْخَبَرُ مِمَّا نَقُولُ فِي كُتُبِنَا بِأَنَّ الْعَرَبَ تَذْكُرُ الشَّيْءَ بِعَدَدٍ مَحْصُورٍ مَعْلُومٍ ، وَلا تُرِيدُ بِذِكْرِهَا ذَلِكَ الْعَدَدَ نَفْيًا عَمَّا وَرَاءَهُ ، وَلَمْ يُرِدْ بِقَوْلِهِ هَذَا أَنَّهُ لا يَكُونُ لِلْمُصَلِّي مِنَ الأَجْرِ بِصَلاتِهِ أَكْثَرُ مِمَّا وُصِفَ فِي خَبَرِ أَبِي هُرَيْرَةَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”باجماعت نماز ادا کرنا آدمی کے تنہا نماز ادا کرنے پر پچیس گنا فضیلت رکھتا ہے۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) یہ وہ روایت ہے جس کے بارے میں ہم اپنی کتابوں میں یہ بات بیان کر چکے ہیں کہ عرب بعض اوقات کسی چیز کا تذکرہ کسی متعین محدود تعداد کے ہمراہ کرتے ہیں لیکن اس عدد کے ذکر کرنے سے مراد یہ نہیں ہوتی کہ اس کے علاوہ عدد کی نفی کر دی جائے۔ اس لیے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان سے یہ مراد نہیں ہے کہ نمازی کو اپنی نماز میں اس سے زیادہ اجر نہیں ملتا جو سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول روایت میں بیان کیا گیا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2051]

2052

Sahih Ibn Hibban #2052

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الأَنْصَارِيُّ ، أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : صَلاةُ الْجَمَاعَةِ أَفْضَلُ مِنْ صَلاةِ الْفَذِّ بِسَبْعٍ وَعِشْرِينَ دَرَجَةً """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جماعت کے ساتھ نماز ادا کرنا تنہا نماز ادا کرنے پر ستائیس (27) درجے فضیلت رکھتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2052]

2053

Sahih Ibn Hibban #2053

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الأَنْصَارِيُّ ، أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : صَلاةُ الْجَمَاعَةِ تَزِيدُ عَلَى صَلاةِ الْفَذِّ بِخَمْسٍ وَعِشْرِينَ دَرَجَةً """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جماعت کے ساتھ نماز ادا کرنا تنہا نماز ادا کرنے پر پچیس (25) درجے فضیلت رکھتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2053]

2054

Sahih Ibn Hibban #2054

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : صَلاةُ الْجَمَاعَةِ أَفْضَلُ مِنْ صَلاةِ الْفَذِّ بِسَبْعٍ وَعِشْرِينَ دَرَجَةً """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جماعت کے ساتھ نماز ادا کرنا تنہا نماز ادا کرنے پر ستائیس درجے فضیلت رکھتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2054]

2055

Sahih Ibn Hibban #2055

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ هِلالِ بْنِ مَيْمُونٍ ، عَنْ عَطَاءُ بْنُ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : صَلاةُ الرَّجُلِ فِي جَمَاعَةٍ تَزِيدُ عَلَى صَلاتِهِ وَحْدَهُ بِخَمْسٍ وَعِشْرِينَ دَرَجَةً ، فَإِنْ صَلاهُ بِأَرْضِ قَيٍّ فَأَتَمَّ رُكُوعَهَا وَسُجُودَهَا بَلَغَتْ صَلاتُهُ بِخَمْسِينَ دَرَجَةً """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”آدمی کا جماعت کے ساتھ نماز ادا کرنا اس کے تنہا نماز ادا کرنے پر پچیس (25) درجے فضیلت رکھتا ہے اور اگر وہ کسی بے آب و گیاہ جگہ پر نماز ادا کرتا ہے، رکوع اور سجود مکمل ادا کرتا ہے، تو اس کی نماز پچاس درجے تک پہنچ جاتی ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2055]

2056

Sahih Ibn Hibban #2056

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَصِيرٍ ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ، قَالَ : صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصُّبْحَ فَقَالَ : أَشَاهِدٌ فُلانٌ ؟ " . قَالُوا : لا . فَقَالَ : " أَشَاهِدٌ فُلانٌ ؟ " . قَالُوا : لا . قَالَ : " إِنَّهَاتَيْنِ الصَّلاتَيْنِ أَثْقَلُ الصَّلَوَاتِ عَلَى الْمُنَافِقِينَ ، وَلَوْ يَعْلَمُونَ فَضْلَ مَا فِيهِمَا لأَتَوْهُمَا وَلَوْ حَبْوًا ، وَإِنَّ الصَّفَّ الأَوَّلَ لَعَلَى مِثْلِ صَفِّ الْمَلائِكَةِ ، وَلَوْ تَعْلَمُونَ فَضِيلَتَهُ لابْتَدَرْتُمُوهُ ، وَصَلاةُ الرَّجُلِ مَعَ الرَّجُلَيْنِ أَزْكَى مِنْ صَلاتِهِ مَعَ رَجُلٍ وَكُلَّمَا كَثُرَ فَهُوَ أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ ". أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ فِي عَقِبِهِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ الْحَجَبِيُّ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُمْ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَصِيرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ شُعْبَةُ : وَقَدْ قَالَ أَبُو إِسْحَاقَ : سَمِعْتُهُ مِنْهُ ، وَمِنْ أَبِيهِ ثُمَّ سَاقَهُ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں صبح کی نماز پڑھائی، پھر آپ نے دریافت فرمایا: ”کیا فلاں شخص موجود ہے؟“ لوگوں نے عرض کی: جی نہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”کیا فلاں شخص موجود ہے؟“ لوگوں نے عرض کی: جی نہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”یہ دو نمازیں منافق کے لیے سب سے زیادہ بوجھل نمازیں ہیں، اگر انہیں ان دونوں نمازوں کی فضیلت کا پتہ چل جائے تو وہ ان دونوں نمازوں میں ضرور شریک ہوں اگرچہ وہ گھسٹ کر آئیں اور پہلی صف فرشتوں کی صف کی مانند ہے، اگر تمہیں اس کی فضیلت کا پتہ چل جائے تو تم تیزی سے اس کی طرف لپکو اور آدمی کا دو آدمیوں کے ہمراہ نماز ادا کرنا اس کے ایک آدمی کے ہمراہ نماز ادا کرنے سے زیادہ پاکیزہ ہے اور جب بھی (جماعت میں شریک لوگوں) کی تعداد زیادہ ہو گی، تو یہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک زیادہ پسندیدہ ہو گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2056]

2058

Sahih Ibn Hibban #2058

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ حَكِيمٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَمْرَةَ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : مَنْ صَلَّى الْعِشَاءَ وَالْغَدَاةَ فِي جَمَاعَةٍ ، فَكَأَنَّمَا قَامَ اللَّيْلَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جو شخص صبح اور عشاء کی نماز باجماعت ادا کرتا ہے، گویا اس نے رات بھر نوافل ادا کیے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2058]

2059

Sahih Ibn Hibban #2059

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَحْمُودِ بْنِ عَدِيٍّ بِنَسَا ، حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ زَنْجُوَيْهِ ، حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ حَكِيمٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَمْرَةَ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ صَلَّى الْعِشَاءَ وَالْفَجْرَ فِي جَمَاعَةٍ كَانَ كَقِيَامِ لَيْلَةٍ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جو شخص صبح اور عشاء کی نماز باجماعت ادا کرتا ہے، تو یہ رات بھر نوافل ادا کرنے کی مانند ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2059]

2060

Sahih Ibn Hibban #2060

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ سَلَمَةَ الْمَخْزُومِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ حَكِيمٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي عَمْرَةَ ، قَالَ : دَخَلَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ الْمَسْجِدَ بَعْدَ صَلاةِ الْمَغْرِبِ ، فَقَعَدَ وَحْدَهُ وَقَعَدْتُ إِلَيْهِ ، فَقَالَ : يَا ابْنَ أَخِي ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : مَنْ صَلَّى الْعِشَاءَ فِي جَمَاعَةٍ ، فَكَأَنَّمَا قَامَ نِصْفَ اللَّيْلِ ، وَمَنْ صَلَّى الصُّبْحَ فِي جَمَاعَةٍ ، فَكَأَنَّمَا صَلَّى اللَّيْلَ كُلَّهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبدالرحمن بن ابوعمرہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ مغرب کی نماز کے بعد مسجد میں داخل ہوئے اور تنہا بیٹھ گئے، میں ان کے پاس آ کر بیٹھا تو انہوں نے کہا: اے میرے بھتیجے! میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جو شخص عشاء کی نماز باجماعت ادا کرتا ہے گویا وہ نصف رات نوافل ادا کرتا رہتا ہے اور جو شخص صبح کی نماز بھی باجماعت ادا کرتا ہے گویا وہ رات بھر نوافل ادا کرتا رہتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2060]

2061

Sahih Ibn Hibban #2061

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَتَعَاقَبُونَ فِيكُمْ ، إِذَا كَانَتْ صَلاةُ الْفَجْرِ نَزَلَتْ مَلائِكَةُ النَّهَارِ ، فَشَهِدَتْ مَعَكُمُ الصَّلاةَ جَمِيعًا ، وَصَعِدَتْ مَلائِكَةُ اللَّيْلِ ، وَمَكَثَتْ مَعَكُمْ مَلائِكَةُ النَّهَارِ ، فَيَسْأَلُهُمْ رَبُّهُمْ وَهُوَ أَعْلَمُ : مَا تَرَكْتُمْ عِبَادِي يَصْنَعُونَ ؟ فَيَقُولُونَ : جِئْنَاهُمْ وَهُمْ يُصَلُّونَ وَتَرَكْنَاهُمْ وَهُمْ يُصَلُّونَ . فَإِذَا كَانَ صَلاةُ الْعَصْرِ نَزَلَتْ مَلائِكَةُ اللَّيْلِ ، فَشَهِدُوا مَعَكُمُ الصَّلاةَ جَمِيعًا ، ثُمَّ صَعِدَتْ مَلائِكَةُ النَّهَارِ ، وَمَكَثَتْ مَعَكُمْ مَلائِكَةُ اللَّيْلِ " ، قَالَ : " فَيَسْأَلُهُمْ رَبُّهُمْ وَهُوَ أَعْلَمُ بِهِمْ ، فَيَقُولُ : مَا تَرَكْتُمْ عِبَادِي يَصْنَعُونَ ؟ " قَالَ : " فَيَقُولُونَ : جِئْنَا وَهُمْ يُصَلُّونَ وَتَرَكْنَاهُمْ وَهُمْ يُصَلُّونَ " . قَالَ : " فَحَسِبْتُ أَنَّهُمْ يَقُولُونَ : فَاغْفِرْ لَهُمْ يَوْمَ الدِّينِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”فرشتے تمہارے درمیان آتے جاتے ہیں۔ فجر کی نماز ہوتی ہے، تو دن کے فرشتے نیچے اترتے ہیں، (رات اور دن کے) سارے فرشتے تمہارے ساتھ اس نماز میں شریک ہوتے ہیں۔ پھر رات کے فرشتے اوپر چلے جاتے ہیں اور دن کے فرشتے تمہارے ساتھ رک جاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان فرشتوں سے دریافت کرتا ہے حالانکہ وہ زیادہ علم رکھتا ہے: ”تم نے میرے بندوں کو کیا کرتے ہوئے چھوڑا ہے؟“ وہ عرض کرتے ہیں: ”جب ہم ان کے پاس گئے تھے، تو وہ نماز ادا کر رہے تھے اور جب ہم انہیں چھوڑ کر آئے، تو بھی وہ نماز ادا کر رہے تھے۔“ پھر جب عصر کی نماز ہوتی ہے، تو رات کے فرشتے نیچے اتر جاتے ہیں اور وہ دن اور رات کے سارے فرشتے تمہارے ساتھ نماز میں شریک ہوتے ہیں، پھر دن کے فرشتے اوپر چلے جاتے ہیں اور رات کے فرشتے تمہارے ساتھ ٹھہر جاتے ہیں۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”ان کا پروردگار ان سے دریافت کرتا ہے حالانکہ وہ ان سے زیادہ علم رکھتا ہے، وہ فرماتا ہے: ”تم نے میرے بندوں کو کیا کرتے ہوئے چھوڑا ہے؟“ وہ فرشتے عرض کرتے ہیں: ”جب ہم ان کے پاس گئے تھے، تو وہ نماز ادا کر رہے تھے اور جب ہم انہیں چھوڑ کر آئے، تو بھی وہ نماز ادا کر رہے تھے۔“”راوی بیان کرتے ہیں: میرا خیال ہے (روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں) ”وہ فرشتے عرض کرتے ہیں: ”تو قیامت کے دن ان لوگوں کی مغفرت کر دینا۔“” [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2061]

2062

Sahih Ibn Hibban #2062

أَخْبَرَنَا حَامِدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شُعَيْبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو حَفْصٍ الأَبَّارُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُحَادَةَ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، قَالَ : رَأَى أَبُو هُرَيْرَةَ رَجُلا قَدْخَرَجَ مِنَ الْمَسْجِدِ ، وَقَدْ أَذَّنَ الْمُؤَذِّنُ ، فَقَالَ : أَمَّا هَذَا فَقَدْ عَصَى أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ". قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : أُضْمِرَ فِي هَذَا الْخَبَرِ شَيْئَانِ ، أَحَدُهُمَا : وَقَدْ أَذَّنَ الْمُؤَذِّنُ وَهُوَ مُتَوَضِّئٌ ، وَالثَّانِي : وَهُوَ غَيْرُ مُؤَدٍّ لِفَرْضِهِ . أَبُو صَالِحٍ هَذَا مِنْ أَهْلِ الْبَصْرَةِ ، اسْمُهُ : مِيزَانُ ، ثِقَةٌ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابوصالح بیان کرتے ہیں: سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ایک شخص کو دیکھا جو مؤذن کے اذان دینے کے بعد مسجد سے باہر چلا گیا تھا تو سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اس شخص نے سیدنا ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کی ہے۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) اس روایت میں دو اشیاء کا تذکرہ محذوف ہے: ایک یہ کہ مؤذن نے اذان دے دی تھی اور یہ کہ وہ اس وقت وضو کر رہا تھا، اور دوسری یہ کہ وہ فرض کو ادا کرنے والا نہیں تھا۔ ابوصالح نامی راوی کا تعلق بصرہ سے ہے، اس کا نام میزان ہے اور یہ ثقہ ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2062]

2063

Sahih Ibn Hibban #2063

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْقُمِّيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ جَارِيَةَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : جَاءَ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّيمَكْفُوفُ الْبَصَرِ شَاسِعُ الدَّارِ ، فَكَلَّمَهُ فِي الصَّلاةِ أَنْ يُرَخِّصَ لَهُ أَنْ يُصَلِّيَ فِي مَنْزِلِهِ ، قَالَ : أَتَسْمَعُ الأَذَانَ ؟ " قَالَ : نَعَمْ . قَالَ : " فَأْتِهَا وَلَوْ حَبْوًا ". قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : فِي سُؤَالِ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُرَخِّصَ لَهُ فِي تَرْكِ إِتْيَانِ الْجَمَاعَاتِ ، وَقَوْلِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " ائْتِهَا وَلَوْ حَبْوًا " ، أَعْظَمُ الدَّلِيلِ عَلَى أَنَّ هَذَا أَمْرُ حَتْمٍ لا نَدْبٍ ، إِذْ لَوْ كَانَ إِتْيَانُ الْجَمَاعَاتِ عَلَى مَنْ يَسْمَعُ النِّدَاءَ لَهَا غَيْرَ فَرْضٍ ، لأَخْبَرَهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالرُّخْصَةِ فِيهِ ، لأَنَّ هَذَا جَوَابٌ خَرَجَ عَلَى سُؤَالٍ بِعَيْنِهِ ، وَمُحَالٌ أَنْ لا يُوجَدَ لِغَيْرِ الْفَرِيضَةِ رُخْصَةٌ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں نابینا شخص ہوں اور میرا گھر دور ہے۔ انہوں نے نماز کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بات کی کہ آپ انہیں اجازت دیں کہ وہ اپنے گھر میں نماز ادا کر لیا کریں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”کیا تم اذان کو سنتے ہو؟“ انہوں نے عرض کی: جی ہاں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر تم (اس باجماعت نماز) میں شریک ہو، اگرچہ تمہیں گھسٹ کر چل کر آنا پڑے۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) سیدنا ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ درخواست کی تھی کہ آپ انہیں اس بات کی رخصت دیں کہ وہ جماعت میں شریک نہ ہوں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان: ”تم اس میں شریک ہو خواہ تمہیں گھسٹ کر چل کر آنا پڑے“ یہ اس بات کی سب سے بڑی دلیل ہے کہ یہ حکم لازمی طور پر ہے، استحباب کے طور پر نہیں ہے، کیونکہ جو شخص اذان کی آواز سنتا ہے، اگر اس کا جماعت میں شریک ہونا فرض نہ ہوتا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کو بتا دیتے کہ اس بارے میں اجازت ہے، کیونکہ یہ جواب بھی اسی طرح کے سوال کے جواب میں آیا ہے، تو یہ بات ناممکن ہے کہ جو چیز فرض ہو اس کی رخصت موجود نہ ہو۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2063]

2064

Sahih Ibn Hibban #2064

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى ، وَعَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ بَيَانٍ السُّكَّرِيُّ ، قَالا : حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ سَمِعَ النِّدَاءَ فَلَمْ يُجِبْ ، فَلا صَلاةَ لَهُ إِلا مِنْ عُذْرٍ ". قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : فِي هَذَا الْخَبَرِ دَلِيلٌ أَنَّ أَمْرَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِإِتْيَانِ الْجَمَاعَاتِ أَمْرُ حَتْمٍ لا نَدْبٍ ، إِذْ لَوْ كَانَ الْقَصْدُ فِي قَوْلِهِ : " فَلا صَلاةَ لَهُ إِلا مِنْ عُذْرٍ " ، يُرِيدُ بِهِ فِي الْفَضْلِ لَكَانَ الْمَعْذُورُ إِذَا صَلَّى وَحْدَهُ كَانَ لَهُ فَضْلُ الْجَمَاعَةِ ، فَلَمَّا اسْتَحَالَ هَذَا ، وَبَطَلَ ثَبَتَ أَنَّ الأَمْرَ بِإِتْيَانِ الْجَمَاعَةِ أَمْرُ إِيجَابٍ لا نَدْبٍ . وَأَمَّا الْعُذْرُ الَّذِي يَكُونُ الْمُتَخَلِّفُ عَنْ إِتْيَانِ الْجَمَاعَاتِ بِهِ مَعْذُورًا ، فَقَدْ تَتَبَّعْتُهُ فِي السُّنَنِ كُلِّهَا فَوَجَدْتُهَا تَدُلُّ عَلَى أَنَّ الْعُذْرَ عَشْرَةُ أَشْيَاءَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جو شخص اذان کو سنتا ہے اور اس کا جواب نہیں دیتا (یعنی باجماعت نماز میں شریک نہیں ہوتا) تو اس کی نماز نہیں ہوتی، البتہ عذر کا حکم مختلف ہے۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) اس روایت میں اس بات کی دلیل موجود ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا جماعت میں شرکت کا حکم دینا ایک لازمی حکم ہے، استحباب کے طور پر نہیں ہے؛ کیونکہ اگر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان ”اس کی نماز نہیں ہوتی، البتہ اس شخص کا حکم مختلف ہے جسے عذر لاحق ہو“ سے مقصود یہ ہوتا کہ اس میں فضیلت پائی جاتی ہے تو معذور شخص جب تنہا نماز ادا کرتا تو اسے جماعت کی فضیلت حاصل ہو جاتی، تو جب یہ بات ناممکن ہے تو یہ بات ثابت ہو جائے گی کہ جماعت کے لیے آنے کا حکم لازم قرار دینے کے طور پر ہے، استحباب کے طور پر نہیں ہے؛ جہاں تک اس عذر کا تعلق ہے جس کی وجہ سے آدمی جماعت میں شریک ہونے کے حوالے سے معذور شمار ہوتا ہے، تو میں نے اس بارے میں تمام احادیث کی تحقیق کی ہے تو میں نے یہ بات پائی ہے کہ احادیث اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ یہ عذر دس مختلف چیزیں ہو سکتی ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2064]

2065

Sahih Ibn Hibban #2065

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مِهْرَانَ السَّبَّاكُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ صُهَيْبٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : لَمْ يَخْرُجْ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلاثًا ، فَأُقِيمَتِ الصَّلاةُ فَذَهَبَ أَبُو بَكْرٍ يتَقَدَّمُ ، وَقَالَ : رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحِجَابِ . فَرَفَعَهُ ، فَلَمَّا وَضَحَ لَنَا بَيَاضُ وَجْهِ نَبِيِّ اللَّهِمَا نَظَرْنَا مَنْظَرًا قَطُّ أَعْجَبَ إِلَيْنَا مِنْ وَجْهِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ وَضَحَ لَنَا ، قَالَ : فَأَوْمَأَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهْ إِلَى أَبِي بَكْرٍ أَنْ يَتَقَدَّمَ ، قَالَ : وَأَرْخَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْحِجَابَ ، فَلَمْ يَقْدِرِ عَلَيْهِ حَتَّى مَاتَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: تین دن تک نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس (نماز پڑھانے کے لیے) تشریف نہیں لائے، پھر نماز کے لیے اقامت کہی گئی۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ آگے بڑھنے لگے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے تحت پردے کو اٹھایا گیا، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک کی سفیدی ہمارے سامنے آئی تو ہم نے ایسا کوئی منظر نہیں دیکھا تھا جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت سے زیادہ ہمارے لیے محبوب ہو جب آپ ہمارے سامنے آئے تھے۔ راوی کہتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دستِ مبارک کے ذریعے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو اشارہ کیا ”وہ آگے ہو جائیں۔“ راوی کہتے ہیں: پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پردہ نیچے کر دیا۔ اس کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے وصال تک (مسجد میں) تشریف نہیں لائے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2065]

2066

Sahih Ibn Hibban #2066

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : إِذَا قُرِّبَ الْعَشَاءُ وَحَضَرَتِ الصَّلاةُ ، فَابْدَءُوا بِهِ قَبْلَ صَلاةِ الْمَغْرِبِ ، وَلا تَعْجَلُوا عَنْ عَشَائِكُمْ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”جب رات کا کھانا آ جائے اور نماز کا وقت ہو جائے، تو مغرب کی نماز سے پہلے کھانا کھا لو اور کھانا کھاتے ہوئے جلد بازی نہ کرو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2066]

2067

Sahih Ibn Hibban #2067

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ جَرِيجٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، قَالَ : كَانَ ابْنُ عُمَرَ إِذَا غَرَبَتِ الشَّمْسُ وَتَبَيَّنَ لَهُ اللَّيْلُ ، فَكَانَ أَحْيَانًا يُقَدِّمُ عَشَاءَهُ وَهُوَ صَائِمٌ وَالْمُؤَذِّنُ يُؤَذِّنُ ، ثُمَّ يُقِيمُ وَهُوَ يَسْمَعُ ، فَلا يَتْرُكُ عَشَاءَهُ وَلا يُعَجِّلُ حَتَّى يَقْضِيَ عَشَاءَهُ ، ثُمَّ يَخْرُجَ فَيُصَلِّيَ ، وَيَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لا تَعْجَلُوا عَنْ عَشَائِكُمْ إِذَا قُدِّمَ إِلَيْكُمْ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

نافع بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا یہ معمول تھا کہ جب سورج غروب ہو جاتا اور رات ہو جاتی، تو بعض اوقات وہ کھانا پہلے کھا لیتے تھے کیونکہ انہوں نے روزہ رکھا ہوا ہوتا تھا، حالانکہ اس وقت مؤذن اذان دے رہا ہوتا تھا اور وہ اقامت بھی کہہ دیتا تھا۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اس کو سن رہے ہوتے تھے لیکن وہ اپنے کھانے کو ترک نہیں کرتے تھے اور کھانا کھاتے ہوئے جلد بازی کا مظاہرہ بھی نہیں کرتے تھے، یہاں تک کہ جب وہ کھانا کھا لیتے تھے، تو تشریف لے جا کر نماز ادا کرتے تھے اور فرماتے تھے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”جب کھانا تمہارے سامنے رکھ دیا جائے، تو تم کھانا کھاتے ہوئے جلد بازی نہ کرو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2067]

2068

Sahih Ibn Hibban #2068

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ وَاقِدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ أَعْيَنَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِذَا أُقِيمَتِ الصَّلاةُ وَأَحَدُكُمْ صَائِمٌ ، فَلْيَبْدَأْ بِالْعَشَاءِ قَبْلَ صَلاةِ الْمَغْرِبِ ، وَلا تَعْجَلُوا عَنْ عَشَائِكُمْ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب نماز قائم ہو جائے اور تم میں سے کوئی روزے سے ہو (یعنی روزہ دار ہو) تو وہ مغرب کی نماز پڑھنے سے پہلے اپنا کھانا کھا لے، اور اپنے کھانے سے جلدی نہ کرے۔“ وضاحت: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے رہنمائی فرمائی کہ اگر مغرب کی نماز کا وقت ہو گیا ہو اور ساتھ ہی روزہ افطار کا بھی وقت ہو، تو پہلے آرام سے افطار کر لو، پھر نماز ادا کرو۔ اس میں نہ گھبراہٹ ہو اور نہ ہی کھانے میں جلدبازی کی جائے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2068]

2069

Sahih Ibn Hibban #2069

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، وَالْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالا : حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ قَفَلَ مِنْ غَزْوَةِ حُنَيْنٍ سَارَ لَيْلَةً حَتَّى إِذَا أَدْرَكَهُ الْكَرَى عَرَّسَ ، وَقَالَ لِبِلالٍ : اكْلأْ لَنَا اللَّيْلَ " . فَصَلَّى بِلالٌ مَا قُدِّرَ لَهُ ، وَنَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ ، فَلَمَّا تَقَارَبَ الصُّبْحُ اسْتَسْنَدَ بِلالٌ إِلَى رَاحِلَتِهِ يُوَاجِهُ الْفَجْرَ ، فَغَلَبَتْ بِلالا عَيْنَاهُ ، وَهُوَ مُسْتَسْنِدٌ إِلَى رَاحِلَتِهِ ، فَلَمْ يَسْتَيْقِظْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَلا بِلالٌ ، وَلا أَحَدٌ مِنْ أَصْحَابِهِ حَتَّى ضَرَبَتْهُمُ الشَّمْسُ ، فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوَّلَهُمُ اسْتِيقَاظًا ، فَفَزِعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَقَالَ : " أَيْ بِلالُ " . فَقَالَ بِلالٌ : أَخَذَ بِنَفْسِي الَّذِي أَخَذَ بِنَفْسِكَ ، بِأَبِي أَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ . قَالَ : " اقْتَادُوا رَوَاحِلَكُمْ " . ثُمَّ تَوَضَّأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَمَرَ بِلالا فَأَقَامَ الصَّلاةَ ، وَقَالَ :" مَنْ نَسِيَ الصَّلاةَ أَوْ نَامَ عَنْهَا ، فَلْيُصَلِّهَا إِذَا ذَكَرَهَا ، فَإِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى قَالَ : أَقِمِ الصَّلاةَ لِذِكْرِي ". وَقَالَ يُونُسُ : وَكَانَ ابْنُ شِهَابٍ يَقْرَؤُهَا : لِلذِّكْرَى . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ بِهَذَا الْخَبَرِ ، وَقَالَ فِيهِ : خَيْبَرُ ، وَأَبُو هُرَيْرَةَ لَمْ يَشْهَدْ خَيْبَرَ ، إِنَّمَا أَسْلَمَ وَقَدِمَ الْمَدِينَةَ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِخَيْبَرَ ، وَعَلَى الْمَدِينَةِ سِبَاعُ بْنُ عُرْفُطَةَ ، فَإِنْ صَحَّ ذِكْرُ خَيْبَرَ فِي الْخَبَرِ فَقَدْ سَمِعَهُ أَبُو هُرَيْرَةَ مِنْ صَحَابِيٍّ غَيْرِهِ ، فَأَرْسَلَهُ كَمَا يَفْعَلُ ذَلِكَ الصَّحَابَةُ كَثِيرًا ، وَإِنْ كَانَ ذَلِكَ حُنَيْنَ لا خَيْبَرَ ، وَأَبُو هُرَيْرَةَ شَهِدَهَا وَشُهُودُهُ الْقِصَّةَ الَّتِي حَكَاهَا شُهُودُ صَحِيحٍ ، وَالنَّفْسُ إِلَى أَنَّهُ حُنَيْنٌ أَمِيلُ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ حنین سے واپس تشریف لا رہے تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم رات بھر چلتے رہے، یہاں تک کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نیند آنے لگی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑاؤ کر لیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”ہمارے لیے رات کا دھیان رکھنا۔“ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کے جو مقدر میں تھا وہ نماز ادا کرتے رہے۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب سو گئے۔ صبح صادق کا وقت قریب آیا، تو سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے اپنی سواری کے ساتھ ٹیک لگائی اور صبح صادق والی طرف رخ کر کے بیٹھ گئے۔ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کی بھی آنکھ لگ گئی، وہ اپنی سواری کے ساتھ ٹیک لگائے ہوئے تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ، سیدنا بلال رضی اللہ عنہ اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے کوئی بھی شخص بیدار نہیں ہوا، یہاں تک کہ دھوپ نکل آئی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سب سے پہلے بیدار ہوئے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پریشان ہو گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے بلال!“ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میرے والد آپ پر قربان ہوں، جس ذات نے آپ کو نیند عطا کی تھی، اس نے مجھے بھی نیند کا شکار کر دیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اپنی سواریوں کو لے کر چل پڑو۔“ (کچھ آگے جانے کے بعد) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا، انہوں نے نماز کے لیے اقامت کہی۔ (نماز سے فارغ ہونے کے بعد) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جو شخص نماز کو بھول جائے یا نماز کے وقت سویا رہ جائے، تو جب وہ (نماز) اسے یاد آئے، تو وہ اسے ادا کر لے۔“ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ﴿أَقِمِ الصَّلَاةَ لِذِكْرِي﴾ [سورة طه: 14] ”میرے ذکر کے لیے نماز کو قائم کرو۔“ یونس نامی راوی بیان کرتے ہیں: ابن شہاب اس لفظ کو یوں تلاوت کرتے تھے: «لِلذِّكْرَى» ۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) ابن قتیبہ نے ہمیں یہ حدیث بیان کی ہے اور اس میں انہوں نے یہ بات بیان کی ہے کہ یہ خیبر کا واقعہ ہے، حالانکہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ غزوہ خیبر میں شریک نہیں ہوئے تھے۔ جب انہوں نے اسلام قبول کیا اور مدینہ منورہ آئے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خیبر میں موجود تھے اور مدینہ منورہ کے نگران سیدنا سباع بن عرفطہ رضی اللہ عنہ تھے۔ اگر اس روایت میں خیبر کا تذکرہ درست ہو، تو پھر یہ ہو سکتا ہے کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کسی دوسرے صحابی سے یہ روایت سنی ہو اور اسے «مُرْسَل» روایت کے طور پر نقل کر دیا ہو، جس طرح صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اکثر اس طرح کر دیا کرتے تھے۔ اور اگر اس سے مراد غزوہ حنین ہی ہو، غزوہ خیبر مراد نہ ہو، تو سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اس میں شریک ہوئے ہیں اور ان کے اس میں شریک ہونے کا واقعہ اور وہ واقعہ جو انہوں نے بیان کیا ہے یہ مستند طور پر ثابت ہے اور ذہن یہی کہتا ہے کہ یہ غزوہ حنین کا واقعہ ہو گا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2069]

2070

Sahih Ibn Hibban #2070

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، قَالَ : قَالَ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ وَكَانَ ضَخْمًا لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنِّي لا أَسْتَطِيعُ الصَّلاةَ مَعَكَ ، فَلَوْ أَتَيْتَ مَنْزِلِي فَصَلَّيْتَ فِيهِ فَأَقْتَدِيَ بِكَ . فَصَنَعَ الرَّجُلُ لَهُ طَعَامًا وَدَعَاهُ إِلَى بَيْتِهِ ، فَبَسَطَ لَهُ طَرَفَ حَصِيرٍ لَهُمْ ، فَصَلَّى عَلَيْهِ رَكْعَتَيْنِ . قَالَ : فَقَالَ فُلانُ بْنُ الْجَارُودِ ، لأَنَسٍ : أَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَيُصَلِّي الضُّحَى ؟ قَالَ : " مَا رَأَيْتُهُ صَلاهَا غَيْرَ ذَلِكَ الْيَوْمَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انصار سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب نے، جو خوب بھاری بھرکم تھے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی: میں آپ کی اقتداء میں نماز کے لیے حاضر ہونے کی استطاعت نہیں رکھتا، اگر آپ میرے ہاں تشریف لائیں اور وہاں نماز ادا کریں، تو میں آپ کی پیروی کروں گا (یعنی اس جگہ نماز ادا کر لیا کروں گا)۔ پھر ان صاحب نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کھانا تیار کیا اور آپ کو اپنے گھر میں بلوایا۔ انہوں نے اپنی چٹائی کا کنارہ آپ کے لیے بچھایا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر دو رکعات نماز ادا کی۔ راوی کہتے ہیں: فلاں بن جارود نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا: کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم چاشت کی نماز ادا کرتے تھے؟ تو سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے اس دن کے علاوہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ نماز ادا کرتے ہوئے نہیں دیکھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2070]

2071

Sahih Ibn Hibban #2071

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الأَنْصَارِيُّ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الأَرْقَمِ ، كَانَ يَؤُمُّ أَصْحَابَهُ ، فَحَضَرَتِ الصَّلاةُ يَوْمًا ، فَذَهَبَ لِحَاجَتِهِ ، ثُمَّ رَجَعَ ، فَقَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : إِذَا وَجَدَ أَحَدٌ الْغَائِطَ ، فَلْيَبْدَأْ بِهِ قَبْلَ الصَّلاةِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن ارقم رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے کہ وہ اپنے ساتھیوں کی امامت کیا کرتے تھے۔ ایک دن نماز کا وقت ہوا، وہ قضائے حاجت کے لیے تشریف لے گئے، پھر وہ واپس تشریف لائے اور انہوں نے بتایا: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جب کسی شخص کو پاخانہ کی ضرورت محسوس ہو، تو نماز سے پہلے اسے وہ (حاجت پوری) کر لینی چاہیے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2071]

2072

Sahih Ibn Hibban #2072

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو شِهَابٍ هُوَ عَبْدُ رَبِّهِ بْنُ نَافِعٍ ، عَنْ إِدْرِيسَ بْنِ يَزِيدَ الأَوْدِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لا يُصَلِّ أَحَدُكُمْ وَهُوَ يُدَافِعُهُ الأَخْبَثَانِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”کوئی بھی شخص ایسی حالت میں نماز ادا نہ کرے جبکہ وہ پیشاب یا پاخانہ کو روکے ہوئے ہو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2072]

2073

Sahih Ibn Hibban #2073

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الطَّاهِرِ بْنُ السَّرْحِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ مُجَاهِدٍ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدٍ حدثاه ، أَنَّ عَائِشَةَ حَدَّثَتْهُمَا ، قَالَتْ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : لا يَقُمْ أَحَدُكُمْ إِلَى الصَّلاةِ وَهُوَ بِحَضْرَةِ الطَّعَامِ ، وَلا هُوَ يُدَافِعُهُ الأَخْبَثَانِ : الْغَائِطُ ، وَالْبَوْلُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”کوئی بھی شخص ایسی حالت میں نماز کے لیے کھڑا نہ ہو کہ اس کا کھانا آ چکا ہو یا جب وہ دو خبیث چیزوں پاخانہ یا پیشاب کو روکے ہوئے ہو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2073]

2074

Sahih Ibn Hibban #2074

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ الشَّيْبَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ سَهْلٍ الْجَعْفَرِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ ، عَنْ أَبِي حَزْرَةَ الْمَدِينِيِّ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : كَانَ بَيْنَ عَائِشَةَ وَبَيْنَ بَعْضِ بَنِي أَخِيهَا شَيْءٌ ، فَدَخَلَ عَلَيْهَا ، فَلَمَّا جَلَسَ ، جِيءَ بِالطَّعَامِ ، فَقَامَ إِلَى الْمَسْجِدِ ، فَقَالَتْ لَهُ : اجْلِسْ غُدَرُ ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : لا يُصَلِّ أَحَدُكُمْ بِحَضْرَةِ الطَّعَامِ ، وَلا وَهُوَ يُدَافِعُهُ الأَخْبَثَانِ ". قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : الْمَرْءُ مَزْجُورٌ عَنِ الصَّلاةِ عِنْدَ وُجُودِ الْبَوْلِ وَالْغَائِطِ ، وَالْعِلَّةُ الْمُضْمَرَةُ فِي هَذَا الزَّجْرِ هِيَ أَنْ يَسْتَعْجِلَهُ أَحَدُهُمَا حَتَّى لا يَتَهَيَّأَ لَهُ أَدَاءُ الصَّلاةِ عَلَى حَسْبِ مَا يَجِبُ مِنْ أَجْلِهِ ، وَالدَّلِيلُ عَلَى هَذَا تَصْرِيحُ الْخِطَابِ : " وَلا هُوَ يُدَافِعُهُ الأَخْبَثَانِ " ، وَلَمْ يَقُلْ وَلا هُوَ يَجِدُ الأَخْبَثَيْنِ ، وَالْجَمْعُ بَيْنَ الأَخْبَثَيْنِ قُصِدَ بِهِ وُجُودُهُمَا مَعًا . وَانْفِرَادُ كُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا لا اجْتِمَاعُهُمَا دُونَ الانْفِرَادِ . أَبُو حَزْرَةَ : يَعْقُوبُ بْنُ مُجَاهِدٍ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

قاسم بن محمد بیان کرتے ہیں کہ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا اور ان کے کسی بھانجے کے درمیان کوئی ناراضگی تھی، وہ بھانجے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے، جب وہ بیٹھے تو کھانا آ گیا، وہ اٹھ کر مسجد کی طرف جانے لگے تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان سے کہا: او نالائق! بیٹھے رہو، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”کوئی بھی شخص کھانے کی موجودگی میں نماز ادا نہ کرے اور نہ اس وقت نماز ادا کرے جب وہ «الأَخْبَثَانِ» ”دو خبیث چیزوں“ یعنی پیشاب اور پاخانے کو روکے ہوئے ہو۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) (آدمی کو اس بات سے منع کیا گیا ہے کہ جب اسے پیشاب یا پاخانہ کی ضرورت محسوس ہو تو اس وقت اسے نماز ادا نہیں کرنی چاہیے۔ اس ممانعت میں پوشیدہ علت یہ ہے کہ اگر آدمی کو ان دونوں کے کرنے کی ضرورت درپیش ہو تو آدمی صحیح طریقے سے نماز ادا نہیں کر سکے گا۔ اور اس بات کی دلیل یہ ہے کہ روایت کے الفاظ میں اس بات کی صراحت موجود ہے کہ آدمی «الأَخْبَثَانِ» ”دو خبیث چیزوں“ کو روکنے کی کوشش نہ کر رہا ہو۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد نہیں فرمائی کہ وہ دو خبیث چیزوں کو محسوس نہ کر رہا ہو۔ اور یہاں «الأَخْبَثَانِ» ”دو خبیث چیزوں“ کو جمع کرنے سے مراد یہ ہے کہ ان دونوں کا وجود ایک ساتھ پایا جائے یا ان دونوں میں سے کوئی ایک پایا جائے۔ اس سے مراد یہ نہیں ہے کہ جب یہ دونوں اکٹھے ہوں تو یہ حکم رہے گا اور جب کوئی ایک ہو تو یہ حکم نہیں رہے گا۔ ابوجزرہ نامی راوی کا نام یعقوب بن مجاہد ہے۔) [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2074]

2075

Sahih Ibn Hibban #2075

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَّ مَحْمُودَ بْنَ الرَّبِيعِ الأَنْصَارِيَّ ، حَدَّثَهُ ، أَنَّ عِتْبَانَ بْنَ مَالِكٍ ، مِمَّنْ شَهِدَ بَدْرًا مِنَ الأَنْصَارِ ، أَتَى سُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي قَدْ أَنْكَرْتُ بَصَرِي وَأَنَا أُصَلِّي لِقَوْمِي ، وَإِذَا كَانَ الأَمْطَارُ ، سَالَ الْوَادِي الَّذِي بَيْنِي وَبَيْنَهُمْ ، وَلَمْ أَسْتَطِعْ أَنْ آتِيَ مَسْجِدَهُمْ فَأُصَلِّيَ بِهِمْ ، وَدِدْتُ أَنَّكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ تَأْتِي ، فَتُصَلِّي فِي بَيْتِي حَتَّى أَتَّخِذَهُ مُصَلًّى . قَالَ : فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : سَأَفْعَلُ " . قَالَ عِتْبَانُ : فَغَدَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ حِينَ ارْتَفَعَ النَّهَارُ ، فَاسْتَأْذَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَذِنْتُ لَهُ ، فَلَمْ يَجْلِسْ حِينَ دَخَلَ الْبَيْتَ ، ثُمَّ قَالَ :" أَيْنَ تُحِبُّ أَنْ أُصَلِّيَ مِنْ بَيْتِكَ ؟ " قَالَ : فَأَشَرْتُ إِلَى نَاحِيَةٍ مِنَ الْبَيْتِ ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَكَبَّرَ فَقُمْنَا وَرَاءَهُ ، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ سَلَّمَ . قَالَ : وَحَبَسْنَاهُ عَلَى خَزِيرَةٍ صَنَعْنَاهَا لَهُ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا محمود بن ربیع انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: سیدنا عتبان بن مالک رضی اللہ عنہ، جو غزوہ بدر میں شریک ہو چکے تھے اور ان کا تعلق انصار سے تھا، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، انہوں نے عرض کی: ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میری نگاہ کمزور ہو چکی ہے۔ میں اپنی قوم کی امامت کرتا ہوں جب بارش آتی ہے تو نشیبی علاقے میں پانی بھر جاتا ہے، جو میرے اور ان لوگوں کے درمیان ہے، تو میں ان کی مسجد تک نہیں آ سکتا تاکہ ان کو نماز پڑھاؤں۔ اس لیے میں یہ چاہتا ہوں، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ تشریف لائیں میرے گھر میں نماز ادا کریں، تو میں اس جگہ کو جائے نماز بنا لوں۔“ راوی کہتے ہیں: تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں ایسا کروں گا۔“ سیدنا عتبان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: اگلے دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ دن چڑھ جانے کے بعد تشریف لائے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اندر آنے کی اجازت طلب کی۔ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اجازت پیش کی، گھر میں داخل ہونے کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما نہیں ہوئے بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”تم اپنے گھر میں کہاں یہ چاہتے ہو میں وہاں نماز ادا کروں؟“ راوی کہتے ہیں: میں نے گھر کے ایک گوشے کی طرف اشارہ کیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم وہاں کھڑے ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہاں تکبیر کہی۔ ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے کھڑے ہو گئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعات ادا کرنے کے بعد سلام پھیر دیا۔ راوی کہتے ہیں: ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خزیرہ کھانے کے لیے روک لیا جو ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے تیار کیا تھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2075]

2076

Sahih Ibn Hibban #2076

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حِبَّانُ بْنُ مُوسَى السُّلَمِيُّ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ هُوَ ابْنُ الْمُبَارَكِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، ، أَنَّهُ وَجَدَ ذَاتَ لَيْلَةٍ بَرْدًا شَدِيدًا ، فَأَذِنَ مَنْ مَعَهُ فَصَلُّوا فِي رِحَالِهِمْ ، وَقَالَ : إِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا كَانَ مِثْلُ هَذَا : أَمَرَ النَّاسَ أَنْيُصَلُّوا فِي رِحَالِهِمْ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے بارے میں یہ بات منقول ہے، (سفر کے دوران) ایک رات انہیں شدید سردی محسوس ہوئی تو انہوں نے اپنے ساتھیوں کو یہ اجازت دی، وہ اپنی رہائشی جگہ پر ہی نماز ادا کر لیں اور ہمیں یہ بات بتائی، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے، جب اس طرح کا معاملہ ہوتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو یہ حکم دیتے تھے: ”وہ اپنی رہائشی جگہ پر ہی نماز ادا کر لیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2076]

2077

Sahih Ibn Hibban #2077

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ نَزَلَ بِضَجْنَانَ لَيْلَةً بَارِدَةً ، فَأَمَرَهُمْ أَنْ يُصَلُّوا فِي الرِّحَالِ ، وَحَدَّثَنَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا نَزَلَ فِي مَوْضِعٍ فِي اللَّيْلَةِ الْبَارِدَةِ : أَمَرَهُمْ أَنْيُصَلُّوا فِي الرِّحَالِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

نافع بیان کرتے ہیں کہ شدید سرد رات میں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بضجنان کے مقام پر پڑاؤ کیا اور لوگوں کو یہ ہدایت کی کہ وہ اپنی رہائش والی جگہ پر ہی نماز ادا کر لیں۔ انہوں نے ہمیں یہ بات بتائی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب سرد رات میں کسی جگہ پڑاؤ کرتے تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو یہ حکم دیتے تھے: ”وہ اپنی رہائشی جگہ پر ہی نماز ادا کر لیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2077]