Muslim99Muslim99

Sahih Ibn Hibban · Book 18 · Chapter 3

Book of Fosterage

Hadith 2003–2036

34 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

2003

Sahih Ibn Hibban #2003

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ ، بِبَيْتِ الْمَقْدِسِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ ، وَعُمَرُ هُوَ ابْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ ، قَالا : حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي شَدَّادٌ أَبُو عَمَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو أَسْمَاءَ الرَّحَبِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي ثَوْبَانُ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَنْصَرِفَ مِنَ الصَّلاةِ ، اسْتَغْفِرْ ثَلاثَ مَرَّاتٍ ، ثُمَّ قَالَ : اللَّهُمَّ أَنْتَ السَّلامُ ، وَمِنْكَ السَّلامُ ، تَبَارَكْتَ يَا ذَا الْجَلالِ وَالإِكْرَامِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز کے بعد اٹھنے کا ارادہ کرتے تھے، تو آپ تین مرتبہ استغفار پڑھتے تھے، پھر یہ دعا پڑھتے تھے: «اللَّهُمَّ أَنْتَ السَّلَامُ وَمِنْكَ السَّلَامُ، تَبَارَكْتَ ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ» ”اے اللہ! تو سلامتی عطا کرنے والا ہے، سلامتی تجھ سے ہی حاصل ہو سکتی ہے، اے جلال و اکرام والے، تو برکت والا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2003]

2004

Sahih Ibn Hibban #2004

أَخْبَرَنَا ابْنُ خُزَيْمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ حُنَيْنِ بْنِ أَبِي حَكِيمٍ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ رَبَاحٍ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اقْرَءُوا الْمُعَوِّذَاتِ فِي دُبُرِ كُلِّ صَلاةٍ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”ہر نماز کے بعد «الْمُعَوِّذَاتِ» ”معوذات“ کی تلاوت کرو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2004]

2005

Sahih Ibn Hibban #2005

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنِ الْمُسَيِّبِ بْنِ رَافِعٍ ، عَنْ وَرَّادٍ ، قَالَ : كَتَبَ مُعَاوِيَةُ إِلَى الْمُغِيرَةِ : أَيُّ شَيْءٍ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِذَا انْصَرَفَ مِنَ الصَّلاةِ ؟ قَالَ : كَانَ يَقُولُ فِي دُبُرِ كُلِّ صَلاتِهِ : لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ وَحْدَهُ لا شَرِيكَ لَهُ ، لَهُ الْمُلْكُ ، وَلَهُ الْحَمْدُ ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ ، اللَّهُمَّ لا مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ ، وَلا مُعْطِي لِمَا مَنَعْتَ ، وَلا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

وراد بیان کرتے ہیں کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے سیدنا مغیرہ رضی اللہ عنہ کو خط لکھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز پڑھ کر فارغ ہوتے تھے، تو آپ کیا پڑھا کرتے تھے؟ سیدنا مغیرہ رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہر نماز کے بعد یہ پڑھا کرتے تھے: «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ، وَهُوَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، اَللّٰهُمَّ لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ، وَلَا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ، وَلَا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ» ”اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے، وہی ایک معبود ہے، اس کا کوئی شریک نہیں ہے، بادشاہی اسی کے لیے مخصوص ہے، حمد اسی کے لیے مخصوص ہے اور وہ ہر شے پر قدرت رکھتا ہے۔ اے اللہ! جسے تو عطا کر دے اسے کوئی روکنے والا نہیں ہے، جسے تو نہ دے اسے کوئی کچھ دینے والا نہیں ہے اور تیری مرضی کے مقابلے میں کسی بھی صاحبِ حیثیت کی حیثیت فائدہ نہیں دیتی۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2005]

2006

Sahih Ibn Hibban #2006

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ زُهَيْرٍ ، بِتُسْتَرَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ أَبِي بُكَيْرٍ الْكَرْمَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدَ ، وَغَيْرُهُ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي وَرَّادٌ ، أَنَّ مُعَاوِيَةَ كَتَبَ إِلَى الْمُغِيرَةِ أَنِ اكْتُبْ إِلَيَّ بِشَيْءٍ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَكَتَبَ إِلَيْهِ : إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ حِينَ يَفْرُغُ مِنْ صَلاتِهِ : لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ وَحْدَهُ لا شَرِيكَ لَهُ ، لَهُ الْمُلْكُ ، وَلَهُ الْحَمْدُ ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ ، اللَّهُمَّ لا مَانِعَ لَمَّا أَعْطَيْتَ ، وَلا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ ، وَلا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ ". قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : قَالَ لَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ زُهَيْرٍ : دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدَ ، وَمُجَالِدٌ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ . وَأَنَا قُلْتُ : وَغَيْرُهُ ، لأَنَّ مُجَالِدًا تَبَرَّأْنَا مِنْ عُهْدَتِهِ فِي كِتَابِ الْمَجْرُوحِينَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

وراد بیان کرتے ہیں: سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے سیدنا مغیرہ رضی اللہ عنہ کو خط لکھا کہ آپ مجھے کوئی ایسی چیز تحریر کر کے بھیجیں جو آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی سنی ہو، تو انہوں نے خط میں لکھا کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا ہے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ کر فارغ ہوتے تو آپ یہ پڑھتے تھے: «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ، وَهُوَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، اَللّٰهُمَّ لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ، وَلَا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ، وَلَا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ» ”اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے وہی ایک معبود ہے اس کا کوئی شریک نہیں ہے۔ بادشاہی اسی کے لیے مخصوص ہے حمد اسی کے لیے مخصوص ہے اور وہ ہر شے پر قدرت رکھتا ہے۔ اے اللہ! جسے تو عطا کر دے اسے کوئی روکنے والا نہیں ہے اور جسے تو نہ دے اسے کوئی کچھ دینے والا نہیں ہے اور تیری مرضی کے مقابلے میں کسی بھی صاحبِ حیثیت شخص کی حیثیت فائدہ نہیں دیتی۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) احمد بن یحییٰ نے ہمیں یہ روایت داؤد بن ابوہند اور مجالد کے حوالے سے امام شعبی کے حوالے سے منقول روایت کے طور پر سنائی تھی، لیکن میں نے یہاں سند میں یہ کہا ہے کہ ”اور دوسرے صاحب نے“ (یعنی مجالد کا نام ذکر نہیں کیا ہے)؛ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم کتاب ”المجروحین“ میں مجالد سے بری الذمہ ہونے کا اظہار کر چکے ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2006]

2007

Sahih Ibn Hibban #2007

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذِ بْنِ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ وَرَّادًا ، كاتب المغيرة يُحَدِّثُ ، أَنَّ الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ ، كَتَبَ إِلَى مُعَاوِيَةَ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَإِذَا قَضَى صَلاتَهُ ، فَسَلَّمَ ، قَالَ : لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ وَحْدَهُ لا شَرِيكَ لَهُ ، لَهُ الْمُلْكُ ، وَلَهُ الْحَمْدُ ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ ، اللَّهُمَّ لا مَانِعَ لَمَّا أَعْطَيْتَ ، وَلا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ ، وَلا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ ". أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ فِي عَقِبِهِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُخَيْمِرَةَ ، عَنْ وَرَّادٍ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، مِثْلَ ذَلِكَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

وراد جو سیدنا مغیرہ رضی اللہ عنہ کے سیکرٹری ہیں وہ بیان کرتے ہیں: سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو خط میں لکھا، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز مکمل کر کے سلام پھیرتے تو آپ یہ پڑھتے تھے: «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَحْدَهُ لَا شَرِیکَ لَهُ، لَهُ الْمُلْکُ وَلَهُ الْحَمْدُ، وَهُوَ عَلَی کُلِّ شَيْءٍ قَدِیرٌ، اَللّٰهُمَّ لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ، وَلَا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ، وَلَا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْکَ الْجَدُّ» ”اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے، وہی ایک معبود ہے، اس کا کوئی شریک نہیں ہے۔ بادشاہی اس کے لیے مخصوص ہے، حمد اسی کے لیے مخصوص ہے اور وہ ہر شے پر قدرت رکھتا ہے۔ اے اللہ! جسے تو عطا کر دے اسے کوئی روکنے والا نہیں ہے اور جسے تو نہ دے اسے کوئی کچھ دینے والا نہیں ہے اور تیری مرضی کے مقابلے میں کسی بھی صاحبِ حیثیت شخص کی حیثیت کام نہیں آتی۔“ یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ سیدنا مغیرہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کی مانند منقول ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2007]

2008

Sahih Ibn Hibban #2008

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ الْمَكِّيِّ ، أَنَّهُ حَدَّثَهُ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ ، كَانَ يَقُولُ فِي دُبُرِ كُلِّ صَلاةٍ : لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ وَحْدَهُ لا شَرِيكَ لَهُ ، لَهُ الْمُلْكُ ، وَلَهُ الْحَمْدُ ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ ، لا حَوْلَ وَلا قُوَّةَ إِلا بِاللَّهِ ، لا نَعْبُدُ إِلا إِيَّاهُ ، لَهُ الْمَنُّ ، وَلَهُ النِّعْمَةُ ، وَلَهُ الْفَضْلُ وَالثَّنَاءُ الْحَسَنُ ، لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ وَلَوْ كَرِهَ الْكَافِرُونَ ". وَيَقُولُ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ هَؤُلاءِ الْكَلِمَاتِ دُبُرَ كُلِّ صَلاةٍ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابوزبیر مکی بیان کرتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نماز کے بعد یہ پڑھا کرتے تھے: «لَا إِلَهَ إِلَّا اللّٰهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللّٰهِ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللّٰهُ وَلَا نَعْبُدُ إِلَّا إِيَّاهُ، لَهُ النِّعْمَةُ وَلَهُ الْفَضْلُ وَلَهُ الثَّنَاءُ الْحَسَنُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللّٰهُ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ وَلَوْ كَرِهَ الْكَافِرُونَ» ”اللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے، وہی ایک معبود ہے، اس کا کوئی شریک نہیں ہے۔ بادشاہی اسی کے لیے مخصوص ہے، حمد اسی کے لیے مخصوص ہے اور وہ ہر شے پر قدرت رکھتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی مدد کے بغیر کچھ نہیں ہو سکتا، ہم صرف اسی کی عبادت کرتے ہیں۔ احسان اسی کا ہے، نعمت اسی کی دی ہوئی ہے، فضل اسی کا ہے، اچھی تعریف اسی کے لیے ہے۔ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے، ہم لوگ دین کو اسی کے لیے خالص کرتے ہیں اگرچہ یہ بات کافروں کو اچھی نہ لگے۔“ سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے: ”نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بھی نماز کے بعد یہ کلمات پڑھا کرتے تھے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2008]

2009

Sahih Ibn Hibban #2009

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْمَدَائِنِيُّ ، بِمِصْرَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَصْبَغَ بْنِ الْفَرَجِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْمُنْذِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ الْمَكِّيِّ ، أَنَّهُ حَدَّثَهُ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ ، كَانَ يَقُولُ فِي دُبُرِ كُلِّ صَلاةٍ : لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ وَحْدَهُ لا شَرِيكَ لَهُ ، لَهُ الْمُلْكُ ، وَلَهُ الْحَمْدُ ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ ، لا حَوْلَ وَلا قُوَّةَ إِلا بِاللَّهِ ، لا نَعْبُدُ إِلا إِيَّاهُ ، لَهُ الْمَنُّ ، وَلَهُ النِّعْمَةُ ، وَلَهُ الْفَضْلُ وَالثَّنَاءُ الْحَسَنُ ، لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ وَلَوْ كَرِهَ الْكَافِرُونَ ". وَيَقُولُ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ هَؤُلاءِ الْكَلِمَاتِ دُبُرَ كُلِّ صَلاةٍ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابوزبیر مکی بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نماز کے بعد یہ کلمات پڑھا کرتے تھے: «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيْكَ لَهٗ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلٰى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ، لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللّٰهِ، لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَلَا نَعْبُدُ إِلَّا إِيَّاهُ، لَهُ النِّعْمَةُ وَلَهُ الْفَضْلُ وَلَهُ الثَّنَاءُ الْحَسَنُ، لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ مُخْلِصِيْنَ لَهُ الدِّيْنَ وَلَوْ كَرِهَ الْكَافِرُوْنَ» ”اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے، وہی ایک معبود ہے، اس کا کوئی شریک نہیں ہے۔ بادشاہی اسی کے لیے مخصوص ہے، حمد اسی کے لیے مخصوص ہے اور وہ ہر شے پر قدرت رکھتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی مدد کے بغیر کچھ نہیں ہو سکتا۔ ہم صرف اسی کی عبادت کرتے ہیں۔ احسان اسی کے لیے مخصوص ہے، نعمت اسی کے لیے مخصوص ہے، فضل اسی کے لیے مخصوص ہے اور اچھی تعریف اسی کے لیے مخصوص ہے، اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے، ہم لوگ دین کو اسی کے لیے خالص کرتے ہیں، اگرچہ یہ بات کافروں کو ناپسند ہو۔“ سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہر نماز کے بعد یہ کلمات پڑھا کرتے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2009]

2010

Sahih Ibn Hibban #2010

أَخْبَرَنَا ابْنُ خُزَيْمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ الدَّوْرَقِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُلَيَّةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ أَبِي عُثْمَانَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ ، يَخْطُبُ عَلَى هَذَا الْمِنْبَرِ ، وَهُوَ يَقُولُ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَإِذَا سَلَّمَ فِي دُبُرِ الصَّلاةِ يَقُولُ : لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ ، لا نَعْبُدُ إِلا إِيَّاهُ ، أَهْلُ النِّعْمَةِ وَالْفَضْلِ ، وَالثَّنَاءِ الْحَسَنِ ، لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ وَلَوْ كَرِهَ الْكَافِرُونَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابوزبیر بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کو اس منبر پر خطبہ دیتے ہوئے سنا ہے، انہوں نے یہ فرمایا تھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز کا سلام پھیرنے کے بعد یہ دعا پڑھتے تھے: «لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَلَا نَعْبُدُ إِلَّا إِيَّاهُ، لَهُ النِّعْمَةُ وَلَهُ الْفَضْلُ وَلَهُ الثَّنَاءُ الْحَسَنُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ وَلَوْ كَرِهَ الْكَافِرُونَ» ”اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے، ہم صرف اسی کی عبادت کرتے ہیں، وہ نعمت، فضل اور اچھی تعریف کا اہل ہے، اللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے، ہم دین کو اسی کے لیے خالص کرتے ہیں اگرچہ یہ بات کافروں کو بری لگے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2010]

2011

Sahih Ibn Hibban #2011

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : جَاءَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ عَلِّمْنِي كَلِمَاتٍ أَدْعُو بِهِنَّ فِي صَلاتِي ، فَقَالَ : سَبِّحِي اللَّهَ عَشْرًا ، وَاحْمَدِيهِ عَشْرًا ، وَكَبِّرِيهِ عَشْرًا ، ثُمَّ سَلِيهِ حَاجَتَكِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ مجھے ایسے کلمات کی تعلیم دیجیے جن کے ذریعے میں نماز میں دعا مانگا کروں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم دس مرتبہ «سُبْحَانَ اللّٰهِ» ”سبحان اللہ“ پڑھو، دس مرتبہ «الْحَمْدُ لِلّٰهِ» ”الحمدللہ“ پڑھو اور دس مرتبہ «اَللّٰهُ أَكْبَرُ» ”اللہ اکبر“ پڑھو، پھر تم اپنی حاجت کا سوال کرو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2011]

2012

Sahih Ibn Hibban #2012

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، وَابْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : خَصْلَتَانِ لا يُحْصِيهُمَا رَجُلٌ مُسْلِمٌ إِلا دَخَلَ الْجَنَّةَ ، هُمَا يَسِيرٌ وَمَنْ يَعْمَلُ بِهِمَا قَلِيلٌ : يُسَبِّحُ اللَّهَ دُبُرَ كُلِّ صَلاةٍ عَشْرًا ، وَيَحْمَدُهُ عَشْرًا ، وَيُكَبِّرُ عَشْرًا " . قَالَ : فَأَنَا رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَعْقِدُهَا بِيَدِهِ ، قَالَ : فَقَالَ : " خَمْسُونَ وَمِائَةٌ بِاللِّسَانِ ، وَأَلْفٌ وَخَمْسُ مِائَةٍ فِي الْمِيزَانِ . وَإِذَا أَوَى إِلَى فِرَاشِهِ سَبَّحَ وَحَمَّدَ وَكَبَّرَ مِائَةً ، فَتِلْكَ مِائَةٌ بِاللِّسَانِ ، وَأَلْفٌ فِي الْمِيزَانِ ، فَأَيُّكُمْ يَعْمَلُ فِي الْيَوْمِ الْوَاحِدِ أُلْفِيَنَّ وَخَمْسَ مِائَةِ سَيِّئَةٍ " . قَالَ : كَيْفَ لا يُحْصِيهِمَا ؟ قَالَ : " يَأْتِي أَحَدَكُمُ الشَّيْطَانُ ، وَهُوَ فِي صَلاةٍ ، فَيَقُولُ : اذْكُرْ كَذَا ، اذْكُرْ كَذَا ، حَتَّى شَغَلَهُ ، وَلَعَلَّهُ أَنْ لا يَعْقِلَ ، وَيَأْتِيهِ فِي مَضْجَعِهِ فَلا يَزَالُ يُنَوِّمُهُ حَتَّى يَنَامَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”دو خصوصیات ایسی ہیں کہ جو بھی مسلمان ان کو حاصل کر لے گا وہ جنت میں داخل ہو گا، یہ دونوں آسان ہیں، لیکن ان پر عمل کرنے والے لوگ کم ہیں: ہر نماز کے بعد دس مرتبہ «سُبْحَانَ اللّٰهِ» ”اللہ پاک ہے“، دس مرتبہ «الْحَمْدُ لِلّٰهِ» ”تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں“ اور دس مرتبہ «اللّٰهُ أَكْبَرُ» ”اللہ سب سے بڑا ہے“ پڑھنا۔“ راوی بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، آپ اپنی انگلیوں پر انہیں شمار کر رہے تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”یہ زبان پر پڑھنے کے حساب سے (روزانہ) ایک سو پچاس (150) ہوں گے اور میزان میں ایک ہزار پانچ سو ہوں گے۔ اور دوسری خصوصیت یہ ہے کہ جب آدمی اپنے بستر پر جائے، تو (ایک سو مرتبہ) «سُبْحَانَ اللّٰهِ»، «الْحَمْدُ لِلّٰهِ» اور «اللّٰهُ أَكْبَرُ» پڑھے، تو یہ زبان پر پڑھنے کے حساب سے ایک سو ہوں گے اور نامہ اعمال میں ایک ہزار ہوں گے، تو تم میں سے کون شخص ایک دن میں دو ہزار پانچ سو برائیاں کرتا ہے؟“ راوی نے دریافت کیا: کوئی شخص ان دونوں پر عمل کیوں نہیں کر سکتا؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”شیطان کسی شخص کے پاس آتا ہے جب وہ نماز پڑھ رہا ہوتا ہے، وہ یہ کہتا ہے: فلاں چیز کو یاد کرو، فلاں چیز کو یاد کرو، یہاں تک کہ اسے مصروف کر دیتا ہے (اور آدمی کو یہ یاد ہی نہیں رہتا کہ اس نے تسبیح پڑھنی تھی)، اسی طرح شیطان اس کے بستر پر اس کے پاس آتا ہے، وہ اسے سلاتا رہتا ہے، یہاں تک کہ آدمی (تسبیح پڑھے بغیر) سو جاتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2012]

2013

Sahih Ibn Hibban #2013

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ الْكَلاعِيُّ ، بِحِمْصَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ بَكَّارٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُصَفَّى ، قَالا : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ صَالِحٍ الْوُحَاظِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ ، حَاجِبِ سُلَيْمَانَ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ سَبَّحَ اللَّهَ ثَلاثًا وَثَلاثِينَ دُبُرَ صَلاتِهِ ، وَحَمِدَهُ ثَلاثًا وَثَلاثِينَ ، وَكَبَّرَهُ ثَلاثًا وَثَلاثِينَ ، وَخَتَمَ الْمِائَةَ بِلا إِلَهَ إِلا اللَّهُ وَحْدَهُ لا شَرِيكَ لَهُ ، لَهُ الْمُلْكُ ، وَلَهُ الْحَمْدُ ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ ، غُفِرَتْ لَهُ ذُنُوبُهُ وَلَوْ كَانَتْ مِثْلَ زَبَدِ الْبَحْرِ ". قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : رَفَعَهُ يَحْيَى بْنُ صَالِحٍ ، عَنْ مَالِكٍ وَحْدَهُ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”جو شخص نماز کے بعد تیس مرتبہ «سُبْحَانَ اللّٰهِ»، تیس مرتبہ «الْحَمْدُ لِلّٰهِ» اور تیس مرتبہ «اللّٰهُ أَكْبَرُ» پڑھتا ہے اور یہ (درج ذیل) کلمہ پڑھ کر پورا ایک سو کر لیتا ہے: «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ، وَهُوَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ» ”اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے، وہی ایک معبود ہے، اس کا کوئی شریک نہیں ہے۔ بادشاہی اسی کے لیے مخصوص ہے، حمد اسی کے لیے مخصوص ہے، وہ ہر شے پر قدرت رکھتا ہے“، تو اس شخص کے گناہوں کی مغفرت ہو جاتی ہے اگرچہ وہ سمندر کی جھاگ جتنے ہوں۔“ امام ابوحاتم رحمہ اللہ فرماتے ہیں: امام مالک رحمہ اللہ کے حوالے سے صرف یحییٰ بن صالح نے یہ روایت ”مرفوع حدیث“ کے طور پر نقل کی ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2013]

2014

Sahih Ibn Hibban #2014

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، قَالا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ ، قَالَ : سَمِعْتُ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، عَنْ سُمَيٍّ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : جَاءَ الْفُقَرَاءُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالُوا : ذَهَبَ أَهْلُ الدُّثُورِ مِنَ الأَمْوَالِ بِالدَّرَجَاتِ الْعُلَى وَالنَّعِيمِ الْمُقِيمِ ، يُصَلُّونَ كَمَا نُصَلِّي ، وَيَصُومُونَ كَمَا نَصُومُ ، وَلَهُمْ فُضُولُ أَمْوَالٍ يَحُجُّونَ بِهَا وَيَعْتَمِرُونَ وَيُجَاهِدُونَ وَيَتَصَدَّقُونَ . قَالَ : أَفَلا أَدُلُّكُمْ عَلَى أَمْرٍ إِنْ أَخَذْتُمْ بِهِ أَدْرَكْتُمْ مَنْ سَبَقَكُمْ ، وَلَمْ يُدْرِكْكُمْ أَحَدٌ بَعْدَكُمْ ، وَكُنْتُمْ خَيْرَ مَنْ أَنْتُمْ بَيْنَ ظَهْرَيْهِ إِلا أَحَدٌ عَمِلَ بِمِثْلِ أَعْمَالِكُمْ ؟ تُسَبِّحُونَ ، وَتُحَمِّدُونَ ، وَتُكَبِّرُونَ خَلْفَ كُلِّ صَلاةٍ ثَلاثًا وَثَلاثِينَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ غریب لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، انہوں نے عرض کی کہ مال و دولت والے لوگ بلند درجات اور قائم رہنے والی نعمتیں حاصل کر گئے کیونکہ وہ اسی طرح نماز ادا کرتے ہیں جس طرح ہم نماز ادا کرتے ہیں اور وہ اسی طرح روزے رکھتے ہیں جس طرح ہم روزے رکھتے ہیں، لیکن ان کے پاس اضافی اموال ہوتے ہیں جس کی مدد سے وہ حج کر لیتے ہیں، عمرہ کرتے ہیں، جہاد میں حصہ لیتے ہیں اور صدقہ و خیرات کرتے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”کیا میں تمہاری رہنمائی ایسی چیز کی طرف نہ کروں کہ اگر تم اسے اختیار کر لو گے تو تم ان لوگوں کو پا لو گے جو تم سے آگے نکل چکے ہیں اور تمہارے پیچھے والا کوئی شخص تم تک نہیں پہنچ سکے گا، اور تم سب لوگوں کے درمیان سب سے بہترین ہو گے ماسوائے اس شخص کے جو تمہارے اس عمل کی مانند عمل کرے؟ تم لوگ ہر نماز کے بعد 33، 33 مرتبہ «سُبْحَانَ اللّٰهِ» ”اللہ پاک ہے“، «الْحَمْدُ لِلّٰهِ» ”سب تعریف اللہ کے لیے ہے“ اور «اللّٰهُ أَكْبَرُ» ”اللہ سب سے بڑا ہے“ پڑھا کرو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2014]

2015

Sahih Ibn Hibban #2015

أَخْبَرَنَا ابْنُ سَلْمٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ ، حَدَّثَنَا حَسَّانُ بْنُ عَطِيَّةَ ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَائِشَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ أَبُو ذَرٍّ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، ذَهَبَ أَصْحَابُ الدُّثُورِ بِالأَجْرِ ، يُصَلُّونَ كَمَا نُصَلِّي ، وَيَصُومُونَ كَمَا نَصُومُ ، وَلَهُمْ فُضُولُ أَمْوَالٍ يَتَصَدَّقُونَ بِهَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَا أَبَا ذَرٍّ : أَلا أُعَلِّمُكَ كَلِمَاتٍ تُدْرِكُ بِهِنَّ مَنْ سَبَقَكَ ، وَلا يَلْحَقُكَ مَنْ خَلْفَكَ ، إِلا مَنْ أَخَذَ بِمِثْلِ عَمَلِكَ ؟ " . قَالَ : بَلَى رَسُولَ اللَّهِ . قَالَ :" تُكَبِّرُ اللَّهَ دُبُرَ كُلِّ صَلاةٍ ثَلاثًا وَثَلاثِينَ ، وَتُحَمِّدُهُ ثَلاثًا وَثَلاثِينَ ، وَتُسَبِّحُهُ ثَلاثًا وَثَلاثِينَ ، وَتَخْتِمُهَا بِلا إِلَهَ إِلا اللَّهُ وَحْدَهُ لا شَرِيكَ لَهُ ، لَهُ الْمُلْكُ ، وَلَهُ الْحَمْدُ ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! مال دار لوگ اجر لے گئے ہیں، وہ لوگ اسی طرح نماز ادا کرتے ہیں جس طرح ہم نماز ادا کرتے ہیں، وہ اسی طرح روزے رکھتے ہیں جس طرح ہم روزے رکھتے ہیں لیکن ان کے پاس اضافی اموال ہوتے ہیں، جنہیں وہ صدقہ کر دیتے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اے ابوذر! کیا میں تمہیں ایسے کلمات کی تعلیم نہ دوں، تم ان کی مدد سے اس شخص تک پہنچ جاؤ گے، جو تم سے آگے ہے اور تم سے پیچھے والا شخص تم تک نہیں پہنچ سکے گا؛ ماسوائے اس شخص کے جو تمہارے اس عمل کی مانند عمل کو اختیار کرے۔“ سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نے عرض کی: جی ہاں، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم ہر نماز کے بعد تینتیس مرتبہ «اللهُ أَكْبَرُ» ”اللہ سب سے بڑا ہے“ کہو اور تینتیس مرتبہ «الْحَمْدُ لِلّٰهِ» ”سب تعریف اللہ کے لیے ہے“ پڑھو اور تینتیس مرتبہ «سُبْحَانَ اللّٰهِ» ”اللہ پاک ہے“ پڑھو اور یہ کلمہ پڑھ کر اسے ختم کرو: «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ» ”اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں۔ وہی ایک معبود ہے اس کا کوئی شریک نہیں ہے۔ بادشاہی اسی کے لیے مخصوص ہے۔ حمد اسی کے لیے مخصوص ہے اور وہ ہر شے پر قدرت رکھتا ہے۔““ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2015]

2016

Sahih Ibn Hibban #2016

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ سَبَّحَ اللَّهَ فِي دُبُرِ كُلِّ صَلاةٍ ثَلاثًا وَثَلاثِينَ ، وَحَمَدَهُ ثَلاثًا وَثَلاثِينَ ، وَكَبَّرَهُ ثَلاثًا وَثَلاثِينَ ، فَتِلْكَ تِسْعٌ وَتِسْعُونَ ، وَقَالَ تَمَامَ الْمِائَةِ : لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ وَحْدَهُ لا شَرِيكَ لَهُ ، لَهُ الْمُلْكُ ، وَلَهُ الْحَمْدُ ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ ، غُفِرَتْ لَهُ خَطَايَاهُ وَإِنْ كَانَتْ مِثْلَ زَبَدِ الْبَحْرِ ". قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : أَبُو عُبَيْدٍ هَذَا ، حَاجِبُ سُلَيْمَانَ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ رَوَى عَنْهُ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”جو شخص ہر نماز کے بعد تینتیس مرتبہ «سُبْحَانَ اللّٰهِ» ”اللہ پاک ہے“، تینتیس مرتبہ «الْحَمْدُ لِلّٰهِ» ”سب تعریف اللہ ہی کے لیے ہے“ اور تینتیس مرتبہ «اللّٰهُ أَكْبَرُ» ”اللہ سب سے بڑا ہے“ پڑھتا ہے، تو یہ ننانوے بن جاتے ہیں، اور وہ اس کلمے کو پڑھ کر سو کو مکمل کرے: «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ» ”اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے، وہی ایک معبود ہے، اس کا کوئی شریک نہیں ہے، بادشاہی اسی کے لیے مخصوص ہے، حمد اسی کے لیے مخصوص ہے اور وہ ہر شے پر قدرت رکھتا ہے“، تو اس شخص کے گناہوں کی مغفرت ہو جاتی ہے، اگرچہ وہ سمندر کی جھاگ کے برابر ہوں۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) ابوعبید نامی راوی سلیمان بن عبدالملک کا دربان تھا، اس سے امام مالک نے روایات نقل کی ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2016]

2017

Sahih Ibn Hibban #2017

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو قُدَامَةَ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ أَفْلَحَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ ، أَنَّهُ قَالَ : أُمِرْنَا أَنْ نُسَبِّحَ فِي دُبُرِ كُلِّ صَلاةٍ ثَلاثًا وَثَلاثِينَ ، وَنُحِمِّدَ ثَلاثًا وَثَلاثِينَ ، وَنُكَبِّرَ أَرْبَعًا وَثَلاثِينَ " ، فَأُتِيَ رَجُلٌ فِي مَنَامِهِ ، فَقِيلَ لَهُ : إِنَّهُ أَمَرَكُمْ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنْتُسَبِّحُوا فِي دُبُرُ كُلُّ صَلاةٍ ثَلاثًا وَثَلاثِينَ ، وَتُحَمِّدُوا ثَلاثًا وَثَلاثِينَ ، وَتُكَبِّرُوا أَرْبَعًا وَثَلاثِينَ ؟ قَالَ : نَعَمْ . قَالَ : اجْعَلُوهَا خَمْسًا وَعِشْرِينَ ، وَاجْعَلُوا فِيهِ التَّهْلِيلَ . فَلَمَّا أَصْبَحَ ، أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَخْبَرَهُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فَافْعَلُوهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہمیں ہر نماز کے بعد تینتیس مرتبہ «سُبْحَانَ اللّٰهِ» ”اللہ پاک ہے“ پڑھنے، تینتیس مرتبہ «الْحَمْدُ لِلّٰهِ» ”سب تعریف اللہ ہی کے لیے ہے“ پڑھنے اور چونتیس مرتبہ «اللّٰهُ أَكْبَرُ» ”اللہ سب سے بڑا ہے“ پڑھنے کا حکم دیا گیا، پھر ان کے خواب میں ایک شخص آیا اور ان سے کہا گیا: سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو ہر نماز کے بعد تینتیس مرتبہ «سُبْحَانَ اللّٰهِ» پڑھنے، تینتیس مرتبہ «الْحَمْدُ لِلّٰهِ» اور چونتیس مرتبہ «اللّٰهُ أَكْبَرُ» پڑھنے کا حکم دیا ہے؟ سیدنا زید نے جواب دیا: جی ہاں، تو اس شخص نے کہا: آپ اسے پچیس پچیس مرتبہ پڑھ لیں اور اس میں «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ» ”اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں“ کو بھی شامل کر لیں، جب صبح ہوئی تو وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ کو اس بارے میں بتایا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم ایسا کر لو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2017]

2018

Sahih Ibn Hibban #2018

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ الْحَجَبِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : خَصْلَتَانِ لا يُحْصِيهِمَا عَبْدٌ إِلا دَخَلَ الْجَنَّةَ ، وَهُمَا يَسِيرً وَمَنْ يَعْمَلُ بِهِمَا قَلِيلٌ : يُسَبِّحُ اللَّهَ أَحَدُكُمْ فِي دُبُرُ كُلُّ صَلاةٍ عَشْرًا ، وَيُحَمِّدُهُ عَشْرًا ، وَيُكَبِّرُهُ عَشْرًا ، فَتِلْكَ خَمْسُونَ وَمِائَةٌ بِاللِّسَانِ ، وَأَلْفٌ وَخَمْسُ مِائَةٍ فِي الْمِيزَانِ . وَإِذَا أَوَى إِلَى فِرَاشِهِ يُسَبِّحُ ثَلاثًا وَثَلاثِينَ ، وَيُحَمِّدُ ثَلاثًا وَثَلاثِينَ ، وَيُكَبِّرُ أَرْبَعًا وَثَلاثِينَ ، فَتِلْكَ مِائَةٌ بِاللِّسَانِ ، وَأَلْفٌ فِي الْمِيزَانِ " ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فَأَيُّكُمْ يَعْمَلُ فِي يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ أَلْفَيْنِ وَخَمْسَ مِائَةِ سَيِّئَةٍ ؟ " . قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو : وَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَعْقِدُهُنَّ بِيَدِهِ . قَالَ : فَقِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَكَيْفَ لا يُحْصِيهَا ؟ قَالَ : " يَأْتِي أَحَدَكُمُ الشَّيْطَانُ ، وَهُوَ فِي صَلاتِهِ ، فَيَقُولُ : اذْكُرْ كَذَا ، اذْكُرْ كَذَا ، وَيَأْتِيهِ عِنْدَ مَنَامِهِ فَيُنَوِّمُهُ ". قَالَ حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ : كَانَ أَيُّوبُ حَدَّثَنَا ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ بِهَذَا الْحَدِيثِ ، فَلَمَّا قَدِمَ عَطَاءٌ الْبَصْرَةَ ، قَالَ لَنَا أَيُّوبُ ، قَدْ قَدِمَ صَاحِبُ حَدِيثِ التَّسْبِيحِ ، فَاذْهَبُوا فَاسْمَعُوهُ مِنْهُ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”دو خصوصیات ایسی ہیں، جن کو جو بھی بندہ اختیار کر لے گا وہ جنت میں داخل ہو گا۔ یہ دونوں آسان ہیں لیکن ان پر عمل کرنے والے لوگ تھوڑے ہیں۔ ایک یہ، کوئی شخص نماز کے بعد دس مرتبہ «سُبْحَانَ اللّٰهِ» ”سبحان اللہ“، دس مرتبہ «الْحَمْدُ لِلّٰهِ» ”الحمد اللہ“ اور دس مرتبہ «اللّٰهُ أَكْبَرُ» ”اللہ اکبر“ پڑھے تو یہ (ایک دن اور رات میں) زبان سے پڑھنے کے حساب سے ایک سو پچاس ہوں گے اور میزان میں ایک ہزار پانچ سو ہوں گے، (دوسری عادت یہ ہے)، جب کوئی شخص اپنے بستر پر جائے، تو تینتیس مرتبہ «سُبْحَانَ اللّٰهِ» ”سبحان اللہ“، تینتیس مرتبہ «الْحَمْدُ لِلّٰهِ» ”الحمد اللہ“ اور چونتیس مرتبہ «اللّٰهُ أَكْبَرُ» ”اللہ اکبر“ پڑھے تو یہ زبان پر پڑھنے کے حساب سے ایک سو ہوں گے اور میزان میں ایک ہزار ہوں گے۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کون شخص روزانہ دو ہزار پانچ سو برائیاں کرتا ہے؟“ سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، آپ اپنے دستِ مبارک کے ذریعے انہیں شمار کر رہے تھے۔ راوی بیان کرتے ہیں: عرض کی گئی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کوئی شخص ان دونوں پر کیوں عمل نہیں کرے گا؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم میں سے کسی ایک کے پاس شیطان آتا ہے اور وہ آدمی اس وقت نماز پڑھ رہا ہوتا ہے، تو شیطان کہتا ہے کہ تم فلاں چیز کو یاد کرو، فلاں چیز کو یاد کرو اور جب آدمی سونے لگتا ہے اس وقت شیطان آدمی کے پاس آتا ہے اور اسے سلا دیتا ہے۔“ حماد بن زید رحمہ اللہ نے یہ بات بیان کی ہے کہ ایوب رحمہ اللہ نے عطاء بن سائب رحمہ اللہ کے حوالے سے یہ حدیث ہمیں سنائی تھی۔ جب عطاء رحمہ اللہ بصرہ آئے تو ایوب رحمہ اللہ نے ہمیں کہا: کہ تسبیح والی اس حدیث کو نقل کرنے والے صاحب تشریف لے آئے ہیں، تم لوگ جاؤ اور ان سے اسے سن لو۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2018]

2019

Sahih Ibn Hibban #2019

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنِ قَحْطَبَةَ ، بِفَمِ الصِّلْحِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَسَّانَ الأَزْرَقُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، وَحَمْزَةُ الزَّيَّاتُ ، وَمَالِكُ بْنُ مِغْوَلٍ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : مُعَقِّبَاتٌ لا يَخِيبُ قَائِلُهُنَّ : تُسَبِّحُ اللَّهَ فِي دُبُرِ كُلِّ صَلاةٍ ثَلاثًا وَثَلاثِينَ ، وَتُحَمِّدُهُ ثَلاثًا وَثَلاثِينَ ، وَتُكَبِّرُهُ أَرْبَعًا وَثَلاثِينَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”(نماز) کے بعد پڑھے جانے والے کچھ کلمات ایسے ہیں، جنہیں پڑھنے والا شخص رسوا نہیں ہو گا؛ تم ہر نماز کے بعد تینتیس مرتبہ «سُبْحَانَ اللّٰهِ» ”اللہ پاک ہے“، تینتیس مرتبہ «الْحَمْدُ لِلّٰهِ» ”تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں“ اور چونتیس مرتبہ «اَللّٰهُ أَكْبَرُ» ”اللہ سب سے بڑا ہے“ پڑھو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2019]

2020

Sahih Ibn Hibban #2020

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا الْمُقْرِئُ ، حَدَّثَنَا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ ، سَمِعْتُ عُقْبَةَ بْنَ مُسْلِمٍ التُّجِيبِيُّ ، يَقُولُ : حَدَّثَنِي أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيُّ ، عَنِ الصُّنَابِحِيُّ ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَخَذَ بِيَدِ مُعَاذٍ ، فَقَالَ : يَا مُعَاذُ ، وَاللَّهِ إِنِّي لأُحِبُّكَ " . فَقَالَ مُعَاذٌ : بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي ، وَاللَّهِ إِنِّي لأُحِبُّكَ . فَقَالَ : يَا مُعَاذُ ، " أُوصِيكَ أَنْلا تَدَعَنَّ فِي دُبُرِ كُلِّ صَلاةٍ أَنْ تَقُولَ : اللَّهُمَّ أَعِنِّي عَلَى ذِكْرِكَ ، وَشُكْرِكَ ، وَحُسْنِ عِبَادَتِكَ ". قَالَ : وَأَوْصَى بِذَلِكَ مُعَاذٌ الصُّنَابِحِيَّ ، وَأَوْصَى بِذَلِكَ الصُّنَابِحِيُّ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، وَأَوْصَى بِذَلِكَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ عُقْبَةَ بْنَ مُسْلِمٍ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑا اور ارشاد فرمایا: ”اے معاذ! اللہ کی قسم! میں تم سے محبت رکھتا ہوں۔“ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے عرض کی: میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، اللہ کی قسم! میں بھی آپ سے محبت رکھتا ہوں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اے معاذ! میں تمہیں یہ تلقین کر رہا ہوں، تم ہر نماز کے بعد یہ کلمات پڑھنا کبھی نہ چھوڑنا: «اَللّٰهُمَّ أَعِنِّيْ عَلَىٰ ذِكْرِكَ وَشُكْرِكَ وَحُسْنِ عِبَادَتِكَ» ”اے اللہ! تو اپنے ذکر، اپنے شکر اور اچھے طریقے سے اپنی عبادت کے بارے میں میری مدد کر۔““ راوی بیان کرتے ہیں: سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے (اپنے شاگرد) صنابحی کو ان کلمات کی تلقین کی تھی، صنابحی نے ابوعبدالرحمن نامی راوی کو تلقین کی تھی اور ابوعبدالرحمن نے عقبہ بن مسلم نامی راوی کو ان کی تلقین کی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2020]

2021

Sahih Ibn Hibban #2021

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا الْمُقْرِئُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَيْوَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ عُقْبَةَ بْنَ مُسْلِمٍ التُّجِيبِيَّ ، يَقُولُ : حَدَّثَنِي أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيُّ ، عَنِ الصُّنَابِحِيِّ ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَخَذَ بِيَدِهِ يَوْمًا ، فَقَالَ : يَا مُعَاذُ ، إِنِّي وَاللَّهِ لأُحِبُّكَ " ، فَقَالَ مُعَاذٌ : بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَأَنَا وَاللَّهِ أُحِبُّكَ . فَقَالَ : " أُوصِيكَ يَا مُعَاذُ ،لا تَدَعْ فِي دُبُرِ كُلِّ صَلاةٍ أَنْ تَقُولَ : اللَّهُمَّ أَعِنِّي عَلَى ذِكْرِكَ ، وَشُكْرِكَ ، وَحُسْنِ عِبَادَتِكَ ". وَأَوْصَى بِذَلِكَ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ الصُّنَابِحِيَّ ، وَأَوْصَى بِذَلِكَ الصُّنَابِحِيُّ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، وَأَوْصَى بِهِ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ عُقْبَةَ بْنَ مُسْلِمٍ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا ہاتھ پکڑا اور فرمایا: ”اے معاذ! اللہ کی قسم! میں تم سے محبت رکھتا ہوں۔“ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، اللہ کی قسم! میں بھی آپ سے محبت رکھتا ہوں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اے معاذ! میں تمہیں یہ تلقین کر رہا ہوں، تم ہر نماز کے بعد یہ کلمات پڑھنا اور کبھی نہ چھوڑنا: «اللَّهُمَّ أَعِنِّي عَلَى ذِكْرِكَ وَشُكْرِكَ وَحُسْنِ عِبَادَتِكَ» ”اے اللہ! تو اپنے ذکر، اپنے شکر اور اچھے طریقے سے اپنی عبادت کے بارے میں میری مدد کر۔““ (راوی بیان کرتے ہیں) سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے صنابحی کو ان کلمات کی تلقین کی تھی، صنابحی نے ابوعبدالرحمن کو تلقین کی تھی اور ابوعبدالرحمن نے عقبہ بن مسلم کو ان کلمات کی تلقین کی تھی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2021]

2022

Sahih Ibn Hibban #2022

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَسَّانَ الْكِنَانِيِّ ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ مُسْلِمٍ التَّمِيمِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : بَعَثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَرِيَّةٍ ، فَلَمَّا بَلَغْنَا الْمُغَارَ ، اسْتَحْثَثْتُ فَرَسِي ، فَسَبَقْتُ أَصْحَابِي ، فَتَلَقَّانِي الْحَيُّ بِالرَّنِينِ ، فَقُلْتُ : قُولُوا : لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ تُحَرَّزُوا ، فَقَالُوهَا . فَلامَنِي أَصْحَابِي ، وَقَالُوا : حُرِمْنَا الْغَنِيمَةَ بَعْدَ أَنْ رُدَّتْ بِأَيْدِينَا . فَلَمَّا قَدِمْنَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَخْبَرُوهُ بِمَا صَنَعْتُ ، فَدَعَانِي ، فَحَسَّنَ لِي مَا صَنَعْتُ ، وَقَالَ : أَمَا إِنَّ اللَّهَ قَدْ كَتَبَ لَكَ بِكُلِّ إِنْسَانٍ مِنْهُمْ كَذَا وَكَذَا " . قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ : فَأَنَا نَسِيتُ الثَّوَابَ ، قَالَ : ثُمَّ قَالَ لِي : " إِنِّي سَأَكْتُبُ لَكَ كِتَابًا ، وَأُوصِي بِكَ مَنْ يَكُونُ بَعْدِي مِنْ أَئِمَّةِ الْمُسْلِمِينَ " . قَالَ : فَكَتَبَ لِي كِتَابًا ، وَخَتَمَ عَلَيْهِ ، وَدَفَعَهُ إِلَيَّ ، وَقَالَ :" إِذَا صَلَّيْتَ الْمَغْرِبَ ، فَقُلْ قَبْلَ أَنْ تُكَلِّمَ أَحَدًا : اللَّهُمَّ أَجِرْنِي مِنَ النَّارِ سَبْعَ مَرَّاتٍ ، فَإِنَّكَ إِنْ مُتَّ مِنْ لَيْلَتِكَ تِلْكَ كَتَبَ اللَّهُ لَكَ جَوَازًا مِنَ النَّارِ ، وَإِذَا صَلَّيْتَ الصُّبْحَ فَقُلْ قَبْلَ أَنْ تُكَلِّمَ أَحَدًا : اللَّهُمَّ أَجِرْنِي مِنَ النَّارِ سَبْعَ مَرَّاتٍ ، فَإِنَّكَ إِنْ مُتَّ مِنْ يَوْمِكَ ذَلِكَ كَتَبَ اللَّهُ لَكَ جَوَازًا مِنَ النَّارِ ". قَالَ : فَلَمَّا قَبَضَ اللَّهُ رَسُولَهُ ، أَتَيْتُ أَبَا بَكْرٍ بِالْكِتَابِ ، فَفَضَّهُ ، فَقَرَأَهُ وَأَمَرَ لِي بِعَطَاءٍ وَخَتَمَ عَلَيْهِ ، ثُمَّ أَتَيْتُ بِهِ عُمَرَ ، فَقَرَأَهُ ، وَأَمَرَ لِي ، وَخَتَمَ عَلَيْهِ ، ثُمَّ أَتَيْتُ بِهِ عُثْمَانَ ، فَفَعَلَ مِثْلَ ذَلِكَ . قَالَ مُسْلِمُ بْنُ الْحَارِثِ : تُوُفِّيَ الْحَارِثُ بْنُ مُسْلِمٍ فِي خِلافَةِ عُثْمَانَ ، وَتَرَكَ الْكِتَابَ عِنْدَنَا ، فَلَمْ يَزَلْ عِنْدَنَا حَتَّى كَتَبَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ إِلَى الْوَالِي بِبَلَدِنَا يَأْمُرُهُ بِإِشْخَاصِي إِلَيْهِ وَالْكِتَابَ ، فَقَدِمْتُ عَلَيْهِ ، فَفَضَّهُ ، وَأَمَرَ لِي ، وَخَتَمَ عَلَيْهِ ، وَقَالَ : أَمَا إِنِّي لَوْ شِئْتُ أَنْ يَأْتِيَكَ ذَلِكَ وَأَنْتَ فِي مَنْزِلِكَ فَعَلْتُ ، وَلَكِنْ أَحْبَبْتُ أَنْ تُحَدِّثَنِي بِالْحَدِيثِ عَلَى وَجْهِهِ . قَالَ : فَحَدَّثْتُهُ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

مسلم بن حارث رضی اللہ عنہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایک مہم پر روانہ کیا، جب ہم مطلوبہ مقام کے قریب پہنچے تو میں نے اپنے گھوڑے کو ایڑ لگائی اور اپنے ساتھیوں سے آگے نکل گیا، ”رنین“ کے مقام پر ایک قبیلے سے میرا سامنا ہوا، میں نے کہا: تم لوگ «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ» پڑھ لو تم لوگ محفوظ رہو گے، ان لوگوں نے یہ کلمہ پڑھ لیا، میرے ساتھیوں نے مجھے ملامت کی اور کہا: ہم لوگ مالِ غنیمت سے محروم رہ گئے ہیں اور یہ ہمارے ہاتھ آتے رہ گیا، پھر ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، میرے ساتھیوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو میرے طرزِ عمل کے بارے میں بتایا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلوایا اور میرے اس عمل پر تحسین کا اظہار کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”بے شک اللہ تعالیٰ ان لوگوں میں سے ہر ایک انسان کے عوض میں تمہارے لیے اتنا اجر نوٹ کر لے گا۔“ عبدالرحمن نامی راوی بیان کرتے ہیں: وہ ثواب میں بھول گیا ہوں، راوی بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”میں تمہارے لیے ایک تحریر لکھواؤں گا اور (اس تحریر میں) میں اپنے بعد آنے والے مسلمانوں کے حکمران کو تمہارے بارے میں عطیات دینے کی ہدایت کروں گا، میں تمہیں اس بات کی تلقین کروں گا، میرے بعد مسلمانوں کے حکمران کون لوگ ہوں گے۔“ راوی بیان کرتے ہیں: پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے لیے ایک تحریر لکھوائی، اس پر مہر لگوائی اور اسے میرے سپرد کر دیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جب تم مغرب کی نماز ادا کر لو تو کسی کے ساتھ بات چیت کرنے سے پہلے سات مرتبہ یہ کلمہ پڑھو: «اللّٰهُمَّ أَجِرْنِي مِنَ النَّارِ» ”اے اللہ! تو مجھے جہنم سے نجات عطا کر۔“ اگر تم اسی رات میں فوت ہو جاتے ہو تو اللہ تعالیٰ تمہارے لیے جہنم سے آزادی کو نوٹ کر لے گا اور جب تم صبح کی نماز پڑھ لو تو کسی کے ساتھ بات چیت کرنے سے پہلے سات مرتبہ یہ کلمہ پڑھ لو: «اللّٰهُمَّ أَجِرْنِي مِنَ النَّارِ» ”اے اللہ! تو مجھے جہنم سے نجات عطا کر۔“ اگر تم اس دن میں فوت ہو جاتے ہو تو اللہ تعالیٰ تمہارے لیے آگ سے آزادی کو نوٹ کر لے گا۔“ راوی بیان کرتے ہیں: جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہو گیا تو میں وہ تحریر لے کر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اس مہر کو توڑا اور اس مکتوب کو پڑھا، پھر انہوں نے مجھے ادائیگی کا حکم دیا اور اس پر مہر لگا دی، پھر میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس (ان کے عہدِ خلافت میں) آیا، انہوں نے اس کو پڑھا اور میرے لیے ادائیگی کا حکم دیا، انہوں نے بھی اس پر مہر لگا دی، پھر میں اسے لے کر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس آیا تو انہوں نے بھی ایسا ہی کیا، مسلم بن حارث رضی اللہ عنہ نامی راوی بیان کرتے ہیں: سیدنا حارث بن مسلم رضی اللہ عنہ کا انتقال سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے عہدِ خلافت میں ہوا تھا، وہ تحریر ہمارے پاس موجود رہی، یہاں تک کہ عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے ہمارے علاقے کے گورنر کو خط لکھ کر اسے حکم دیا کہ وہ مجھے اور اس تحریر کو عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کی خدمت میں پیش کرے، میں عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کے پاس آیا، انہوں نے اس مہر کو توڑا، میرے لیے ادائیگی کا حکم دیا اور پھر اس پر مہر لگا دی، پھر ارشاد فرمایا: ”میں چاہتا تو یہ سب کچھ تمہارے پاس تمہارے گھر میں پہنچ سکتا تھا لیکن میں یہ چاہتا تھا کہ تم مجھے یہ حدیث بیان کرو۔“ راوی کہتے ہیں: میں نے انہیں یہ حدیث سنائی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2022]

2023

Sahih Ibn Hibban #2023

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، فِي عَقِبِهِ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ ، عَنْ مَكْحُولٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَعِيشَ ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ قَالَ دُبُرَ صَلاتِهِ إِذَا صَلَّى : لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ وَحْدَهُ لا شَرِيكَ لَهُ ، لَهُ الْمُلْكُ ، وَلَهُ الْحَمْدُ ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ ، كُتِبَ لَهُ بِهِنَّ عَشْرُ حَسَنَاتٍ ، وَمُحِيَ عَنْهُ بِهِنَّ عَشْرُ سَيِّئَاتٍ ، وَرُفِعَ لَهُ بِهِنَّ عَشْرُ دَرَجَاتٍ ، وَكُنَّ لَهُ عِتْقَ عَشْرِ رِقَابٍ ، وَكُنَّ لَهُ حَرَسًا مِنَ الشَّيْطَانِ حَتَّى يُمْسِيَ ، وَمَنْ قَالَهُنَّ حِينَ يُمْسِي كَانَ لَهُ مِثْلُ ذَلِكَ حَتَّى يُصْبِحَ ". قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : سَمِعَ هَذَا الْخَبَرَ يَزِيدُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ ، عَنْ مَكْحُولٍ ، وَالْقَاسِمِ بْنِ مُخَيْمِرَةَ ، جَمِيعًا وَهُمَا طَرِيقَانِ مَحْفُوظَانِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”جو شخص صبح کے وقت یہ کلمات پڑھ لے: «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ» ”اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے، وہی ایک معبود ہے، اس کا کوئی شریک نہیں ہے، بادشاہی اسی کے لیے مخصوص ہے، حمد اسی کے لیے مخصوص ہے اور وہ ہر شے پر قدرت رکھتا ہے۔“ آدمی دس مرتبہ یہ کلمہ پڑھے تو ان کلمات کے عوض میں اس کے لیے دس نیکیاں نوٹ کی جائیں گی، اس کے دس گناہ ختم کیے جائیں گے، ان کلمات کی وجہ سے اس کے دس درجات بلند کیے جائیں گے اور یہ کلمات اس شخص کے لیے چار غلام آزاد کرنے کے برابر ہوں گے اور یہ کلمات اس کے لیے شام تک شیطان سے حفاظت کا ذریعہ ہوں گے، جو شخص مغرب کی نماز ادا کرنے کے بعد ان کلمات کو پڑھ لے، تو اسے صبح تک یہ خصوصیت حاصل رہے گی۔“ ایک اور سند کے ساتھ یہ روایت منقول ہے۔ سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جو شخص نماز پڑھ لینے کے بعد یہ کلمہ پڑھ لے: «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ» ”اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے، وہی ایک معبود ہے، کوئی اس کا شریک نہیں ہے، بادشاہی اسی کے لیے مخصوص ہے، حمد اسی کے لیے مخصوص ہے اور وہ ہر شے پر قدرت رکھتا ہے۔“ تو ان کلمات کی وجہ سے اس شخص کے لیے دس نیکیاں نوٹ کی جائیں گی، ان کی وجہ سے اس کے دس گناہ معاف کر دیے جائیں گے، ان کی وجہ سے اس کے دس درجات بلند ہوں گے اور یہ کلمات اس کے لیے دس غلام آزاد کرنے کے برابر ہوں گے اور یہ کلمات اس کے لیے شیطان سے حفاظت کا ذریعہ ہوں گے، جو شخص شام کے وقت یہ کلمات پڑھ لے گا، تو صبح تک اسے یہ خصوصیت حاصل رہے گی۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) یزید بن یزید نے یہ روایت مکحول اور قاسم بن مخیمرہ دونوں سے سنی ہے اور دونوں طریقے محفوظ ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2023]

2024

Sahih Ibn Hibban #2024

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الْعِجْلِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، عَنْ شَيْبَانَ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ ، وَعَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ الأَوْدِيِّ ، قَالا : كَانَ سَعْدٌ يُعَلِّمُ بَنِيهِ هَؤُلاءِ الْكَلِمَاتِ كَمَا يُعَلِّمُ الْمَكْتَبُ الْغِلْمَانَ ، يَقُولُ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَتَعَوَّذُ بِهِنَّ بَعْدَ كُلِّ صَلاةٍ : اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْبُخْلِ ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الْجُبْنِ ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ أَنْ أُرَدَّ إِلَى أَرْذَلِ الْعُمُرِ ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الدُّنْيَا ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبدالملک بن عمیر، مصعب بن سعد اور عمرو بن میمون اودی کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں کہ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ اپنے بچوں کو ان کلمات کی تعلیم یوں دیتے تھے جس طرح (مدرسے میں) استاد شاگردوں کو تعلیم دیتا ہے، وہ یہ فرماتے تھے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے بعد ان کلمات کے ذریعے پناہ مانگتے تھے: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْبُخْلِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الْجُبْنِ، وَأَعُوذُ بِكَ أَنْ أُرَدَّ إِلَى أَرْذَلِ الْعُمُرِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الدُّنْيَا، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ» ”اے اللہ! میں کنجوسی سے تیری پناہ مانگتا ہوں، اور میں بزدلی سے تیری پناہ مانگتا ہوں، اور میں اس بات سے تیری پناہ مانگتا ہوں کہ مجھے سٹھیا جانے والی عمر تک لوٹا دیا جائے، اور میں دنیا کی آزمائش سے تیری پناہ مانگتا ہوں، اور میں قبر کے عذاب سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2024]

2025

Sahih Ibn Hibban #2025

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عَمِّهِ الْمَاجِشُونِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَإِذَا فَرَغَ مِنَ الصَّلاةِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ ، وَمَا أَخَّرْتُ ، وَمَا أَسْرَرْتُ ، وَمَا أَعْلَنْتُ ، وَمَا أَسْرَفْتُ ، وَمَا أَنْتَ أَعْلَمُ بِهِ مِنِّي ، أَنْتَ الْمُقَدَّمُ ، وَأَنْتَ الْمُؤَخِّرُ ، لا إِلَهَ إِلا أَنْتَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز پڑھ کر فارغ ہوتے تھے، تو آپ یہ پڑھتے تھے: «اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ وَمَا أَخَّرْتُ، وَمَا أَسْرَرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ، وَمَا أَسْرَفْتُ، وَمَا أَنْتَ أَعْلَمُ بِهِ مِنِّي، أَنْتَ الْمُقَدِّمُ وَأَنْتَ الْمُؤَخِّرُ، لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ» ”اے اللہ! جو میں نے پہلے کیا، اور جو بعد میں کروں گا اور جو میں نے پوشیدہ طور پر کیا جو اعلانیہ طور پر کیا، اور جو اسراف کیا، اور ہر وہ چیز جس کے بارے میں، تو مجھ سے زیادہ جانتا ہے ان سب کے حوالے سے میری مغفرت کر دے، تو آگے کرنے والا ہے، تو پیچھے کرنے والا ہے، تیرے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2025]

2026

Sahih Ibn Hibban #2026

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ ، قَالَ : قُرِئَ عَلَى حَفْصِ بْنِ مَيْسَرَةَ ، قَالَ : وَأَنَا أَسْمَعُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي مَرْوَانَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ كَعْبًا حَلَفَ لَهُ بِالَّذِي فَلَقَ الْبَحْرَ لِمُوسَى ، أَنَّا نَجِدُ فِي الْكِتَابِ أَنَّ دَاوُدَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، كَانَإِذَا انْصَرَفَ مِنَ الصَّلاةِ ، قَالَ : اللَّهُمَّ أَصْلِحْ لِي دِينِي الَّذِي جَعَلْتَهُ لِي عِصْمَةَ أَمْرِي ، وَأَصْلِحْ لِي دُنْيَايَ الَّتِي جَعَلْتَ فِيهَا مَعَاشِي ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ بِرِضَاكَ مِنْ سَخَطِكَ ، وَبِعَفْوِكَ مِنْ نِقْمَتِكَ ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْكَ ، اللَّهُمَّ لا مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ ، وَلا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ ، وَلا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ ". وَحَدَّثَنِي كَعْبٌ ، أَنَّ صُهَيْبًا حَدَّثَهُ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُهُنَّ عِنْدَ انْصِرَافِهِ مِنْ صَلاتِهِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عطاء بن ابومروان اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ کعب نے (شاید اس سے مراد کعب الاحبار ہیں) اس ذات کی قسم کھائی جس نے سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے لیے دریا کو چیر دیا اور یہ بات بیان کی: ہم نے کتاب (یعنی تورات) میں یہ بات پائی ہے کہ اللہ کے نبی سیدنا داؤد علیہ السلام جب نماز پڑھ کر فارغ ہوتے تھے تو یہ کلمات پڑھتے تھے: «اللَّهُمَّ أَصْلِحْ لِي دِينِي الَّذِي جَعَلْتَهُ عِصْمَةَ أَمْرِي، وَأَصْلِحْ لِي دُنْيَايَ الَّتِي جَعَلْتَ فِيهَا مَعَاشِي، اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِرِضَاكَ مِنْ سَخَطِكَ، وَبِعَفْوِكَ مِنْ نِقْمَتِكَ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْكَ، اللَّهُمَّ لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ، وَلَا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ، وَلَا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ» ”اے اللہ! تو میرے لیے میرے دین کو ٹھیک کر دے جس کو تو نے میرے انجام کا ذریعہ بنایا ہے اور میرے لیے میری دنیا کو ٹھیک کر دے جس میں تو نے میری زندگی رکھی ہے۔ اے اللہ! میں تیری ناراضگی کے مقابلے میں تیری رضا مندی کی، تیرے انتقام لینے کے مقابلے میں تیری معافی کی اور تیری ذات کے مقابلے میں تیری پناہ مانگتا ہوں۔ اے اللہ! جسے تو عطا کر دے اسے کوئی روکنے والا نہیں ہے اور جسے تو نہ دے اسے کوئی کچھ دینے والا نہیں ہے اور تیری ذات کے مقابلے میں کسی بھی صاحب حیثیت شخص کی حیثیت فائدہ نہیں دیتی۔“ راوی بیان کرتے ہیں کہ کعب الاحبار نے مجھے یہ بات بتائی، سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ نے انہیں یہ بات بتائی تھی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بھی نماز سے فارغ ہونے کے بعد یہ کلمات پڑھا کرتے تھے: ”اے اللہ! تو میرے لیے میرے دین کو ٹھیک کر دے جس کو تو نے میرے انجام کا ذریعہ بنایا ہے اور میرے لیے میری دنیا کو ٹھیک کر دے جس میں تو نے میری زندگی رکھی ہے۔ اے اللہ! میں تیری ناراضگی کے مقابلے میں تیری رضا مندی کی، تیرے انتقام لینے کے مقابلے میں تیری معافی کی اور تیری ذات کے مقابلے میں تیری پناہ مانگتا ہوں۔ اے اللہ! جسے تو عطا کر دے اسے کوئی روکنے والا نہیں ہے اور جسے تو نہ دے اسے کوئی کچھ دینے والا نہیں ہے اور تیری ذات کے مقابلے میں کسی بھی صاحب حیثیت شخص کی حیثیت فائدہ نہیں دیتی۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2026]

2027

Sahih Ibn Hibban #2027

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ صُهَيْبٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، كَانَ أَيَّامَ خَيْبَرَ يُحَرِّكُ شَفَتَيْهِ بِشَيْءٍ بَعْدَ صَلاةِ الْفَجْرِ ، فَقِيلَ لَهُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّكَ تُحَرِّكُ شَفَتَيْكَ بِشَيْءٍ مَا كُنْتَ تَفْعَلُهُ ، فَمَا هَذَا الَّذِي تَقُولُ ؟ قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَقُولُ :اللَّهُمَّ بِكَ أُحَاوِلُ ، وَبِكَ أُقَاتِلُ ، وَبِكَ أُصَاوِلُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: جنگ خیبر کے دوران نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فجر کی نماز کے بعد اپنے ہونٹوں کو حرکت دے کر کچھ پڑھ رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی گئی: ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ اپنے ہونٹوں کو حرکت دے کر کیا پڑھ رہے تھے؟ وہ کیا چیز ہے، جو آپ کہہ رہے تھے؟“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں یہ پڑھ رہا تھا: «اللَّهُمَّ بِكَ أُحَاوِلُ، وَبِكَ أُصَاوِلُ، وَبِكَ أُقَاتِلُ» ”اے اللہ! میں تیری مدد سے بچاؤ کرتا ہوں، تیری مدد سے حملہ کرتا ہوں اور تیری مدد سے جنگ کرتا ہوں۔““ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2027]

2028

Sahih Ibn Hibban #2028

أَخْبَرَنَا حَامِدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شُعَيْبٍ ، حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ أَبِي مُزَاحِمٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ،إِذَا صَلَّى الْفَجْرَ جَلَسَ فِي مَجْلِسِهِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب فجر کی نماز پڑھ لیتے تھے، تو سورج نکلنے تک اسی جگہ تشریف فرما رہتے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2028]

2029

Sahih Ibn Hibban #2029

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْجُنَيْدِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ،إِذَا صَلَّى الْفَجْرَ ، قَعَدَ فِي مُصَلاهُ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب فجر کی نماز پڑھ لیتے تو آپ اپنی جائے نماز پر سورج نکلنے تک تشریف فرما رہتے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2029]

2030

Sahih Ibn Hibban #2030

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ : أَنَّأُسَيْدَ بْنَ حُضَيْرٍ ، وَرَجُلا آخَرَ مِنَ الأَنْصَارِ ، تَحَدَّثَا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، لَيْلَةً حَتَّى ذَهَبَ مِنَ اللَّيْلِ سَاعَةٌ ، فِي لَيْلَةٍ شَدِيدَةِ الظُّلْمَةِ ، ثُمَّ خَرَجَا مِنْ عِنْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْقَلِبَانِ ، وَبِيَدِ كُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا عَصَاهُ ، فَأَضَاءَتْ عَصًا أَحَدِهِمَا لَهُمَا حَتَّى مَشَيَا فِي ضَوْئِهَا ، حَتَّى إِذَا افْتَرَقَتْ بِهِمَا الطَّرِيقُ أَضَاءَتْ بِالآخَرِ عَصَاهُ ، فَمَشَى كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا فِي ضَوْئِهَا حَتَّى بَلَغَ أَهْلَهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ اور ایک اور انصاری نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس رات گئے تک بیٹھے بات چیت کرتے رہے، یہاں تک کہ رات کا کچھ حصہ گزر گیا، وہ رات انتہائی تاریک تھی۔ یہ دونوں حضرات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے اٹھ کر واپس جانے لگے، تو ان دونوں میں سے ہر ایک کے ہاتھ میں چھڑی تھی۔ ان میں سے ایک کی چھڑی ان کے لیے روشنی کرتی رہی، یہاں تک کہ یہ دونوں حضرات اس کی روشنی میں چلتے رہے۔ جب راستے میں یہ دونوں ایک دوسرے سے جدا ہونے لگے، تو دوسرے صاحب کی چھڑی بھی روشن ہو گئی اور ان میں سے ہر ایک اپنی چھڑی کی روشنی میں چلتا ہوا اپنے گھر تک پہنچ گیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2030]

2031

Sahih Ibn Hibban #2031

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : جَدَبَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ السَّمَرَ بَعْدَ صَلاةِ الْعَتَمَةِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے لیے عشاء کی نماز کے بعد ”بات چیت کرنے کو ناپسند قرار دیا ہے“۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2031]

2032

Sahih Ibn Hibban #2032

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّعَبَّادَ بْنَ بِشْرٍ ، وَأُسَيْدَ بْنَ حُضَيْرٍ ، خَرَجَا مِنْ عِنْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي لَيْلَةٍ ظَلْمَاءَ حِنْدِسٍ ، فَكَانَ مَعَ كُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا عَصًا ، فَأَضَاءَتْ عَصَا أَحَدِهِمَا كَأَشَدِّ شَيْءٍ ، فَلَمَّا تَفَرَّقَا أَضَاءَتْ عَصَا كُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عباد بن بشر اور سیدنا اسید بن حضیر رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت سے ایک تاریک رات میں اٹھے تو ان دونوں میں سے ہر ایک کے پاس اپنی لاٹھی تھی، ان دونوں میں سے ایک کی لاٹھی انتہائی روشن ہو گئی، جب یہ دونوں (واپس جاتے ہوئے راستے میں) ایک دوسرے سے جدا ہونے لگے تو ان دونوں میں سے ہر ایک کی لاٹھی روشن ہو گئی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2032]

2033

Sahih Ibn Hibban #2033

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الصَّبَّاحِ الْعَطَّارُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو عَلِيٍّ الْحَنَفِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا قُرَّةُ بْنُ خَالِدٍ ، قَالَ : انْتَظَرْنَا الْحَسَنَ ، وَرَاثَ عَلَيْنَا حَتَّى قَرُبْنَا مِنْ وَقْتِ قِيَامِهِ جَاءَ ، فَقَالَ : دَعَانَا جِيرَانُنَا هَؤُلاءِ ، ثُمّ قَالَ : قَالَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ : انْتَظَرْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ ، حَتَّى كَانَ شَطْرُ اللَّيْلِ ، فَجَاءَ ، فَصَلَّى لَنَا ، ثُمَّ خَطَبَنَا فَقَالَ : إِنَّالنَّاسَ قَدْ صَلُّوا ، وَرَقَدُوا ، وَإِنَّكُمْ لَنْ تَزَالُوا فِي صَلاةٍ مُذِ انْتَظَرْتُمُ الصَّلاةَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

قرہ بن خالد بیان کرتے ہیں: ہم حسن بصری کا انتظار کر رہے تھے، وہ کافی دیر تک ہمارے پاس نہیں آئے، یہاں تک کہ جب ان کے اٹھنے کا وقت قریب آیا تو وہ اس وقت تشریف لے آئے، انہوں نے فرمایا: ہمارے ان پڑوسیوں نے بلا لیا تھا، پھر انہوں نے یہ بات بتائی کہ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے یہ بات بیان کی ہے کہ ایک رات ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا انتظار کرتے رہے، یہاں تک کہ نصف رات ہو گئی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز پڑھائی، پھر خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: ”لوگ نماز ادا کر کے سو بھی چکے ہیں اور تم لوگ جب سے نماز کا انتظار کر رہے تھے، نماز کی حالت میں شمار ہو گے۔“ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جو لوگ بھلائی کا جب تک انتظار کرتے رہتے ہیں، وہ بھلائی کی حالت میں شمار ہوتے ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2033]

2034

Sahih Ibn Hibban #2034

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لا يَزَالُيَسْمُرُ عِنْدَ أَبِي بَكْرٍ اللَّيْلَةَ فِي الأَمْرِ مِنْ أُمُورِ الْمُسْلِمِينَ وَإِنَّهُ سَمَرَ عِنْدَهُ ذَاتَ لَيْلَةٍ وَأَنَا مَعَهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ہاں رات کے وقت مسلمانوں کے کسی معاملے سے متعلق بات چیت کرتے رہے، ایک مرتبہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں رات کے وقت بات چیت کرتے رہے اور میں اس وقت ان کے ساتھ تھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2034]

2035

Sahih Ibn Hibban #2035

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْجُنَيْدِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : أُقِيمَتِ الصَّلاةُ ذَاتَ يَوْمٍ ، فَعَرَضَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ ، فَكَلَّمَهُ فِي حَاجَةٍ لَهُ هُوِيًّا مِنَ اللَّيْلِ حَتَّى نَعَسَ بَعْضُ الْقَوْمِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دن نماز قائم ہو گئی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص آیا، اس نے پست آواز میں آپ کے ساتھ اپنی کسی ضرورت کے بارے میں بات چیت کی، یہ رات کے وقت کی بات ہے (یہ بات چیت اتنی طویل ہو گئی)، حاضرین میں سے بعض لوگ سو گئے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2035]

2036

Sahih Ibn Hibban #2036

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ ، عَنْ سَعْدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو ثُمَامَةَ الْحَنَّاطُ ، أَنَّ كَعْبَ بْنَ عُجْرَةَ ، أَدْرَكَهُ وَهُوَ يُرِيدُ الْمَسْجِدَ ، قَالَ : فَوَجَدَنِي وَأَنَا مُشَبِّكٌ يَدَيَّ إِحْدَاهُمَا بِالأُخْرَى ، قَالَ : فَفَتَقَ يَدَيَّ وَنَهَانِي عَنْ ذَلِكَ ، وَقَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : إِذَا تَوَضَّأَ أَحَدُكُمْ ، فَأَحْسَنَ وُضُوءَهُ ، ثُمَّ خَرَجَ عَامِدًا إِلَى الْمَسْجِدِ ، فَلا يُشَبِّكَنَّ يَدَهُ ، فَإِنَّهُ فِي صَلاةٍ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابوثمامہ حناط بیان کرتے ہیں کہ سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے ان کی ملاقات اس وقت ہوئی جب وہ مسجد کی طرف جا رہے تھے۔ راوی کہتے ہیں کہ انہوں نے مجھے ایسی حالت میں پایا کہ میں نے اپنے ہاتھ ایک دوسرے میں پھنسائے ہوئے تھے۔ انہوں نے میرے ہاتھ کھلوا دیے اور مجھے ایسا کرنے سے منع کیا۔ انہوں نے بتایا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”جب کوئی شخص وضو کرے تو اچھی طرح وضو کرے اور پھر مسجد کی طرف جانے کے ارادے سے نکلے، تو وہ اپنے ہاتھوں کو ایک دوسرے میں داخل نہ کرے کیونکہ وہ شخص نماز کی حالت میں شمار ہوتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2036]