Sahih Ibn Hibban #1963
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْجُعْفِيُّ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ الْحُرِّ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُخَيْمِرَةَ ، قَالَ : أَخَذَ بِيَدِي عَلْقَمَةُ بْنُ قَيْسٍ ، قَالَ : أَخَذَ بِيَدِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ ، قَالَ : أَخَذَ بِيَدِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَعَلِّمْنِي التَّشَهُّدَ : التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ ، السَّلامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ ، السَّلامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ ، أَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ ". قَالَ الْحَسَنُ بْنُ الْحُرِّ : وَزَادَنِي فِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ أَبَانَ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ ، قَالَ : فَإِذَا قُلْتَ هَذَا فَإِنْ شِئْتَ فَقُمْ . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : مُحَمَّدُ بْنُ أَبَانَ ، ضَعِيفٌ ، قَدْ تَبَرَّأْنَا مِنْ عُهْدَتِهِ فِي كِتَابِ الْمَجْرُوحِينَ"
اردو ترجمہ · UrduUnverified translation
قاسم بن مخیمرہ بیان کرتے ہیں کہ علقمہ بن قیس نے میرا ہاتھ پکڑا اور بیان کیا کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے میرا ہاتھ پکڑا اور بیان کیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے تشہد کے کلمات کی تعلیم دی (جو درج ذیل ہیں): «التَّحِيَّاتُ لِلّٰهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ، السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللّٰهِ وَبَرَكَاتُهُ، السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلٰى عِبَادِ اللّٰهِ الصَّالِحِينَ، أَشْهَدُ أَنْ لَّا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ» ”تمام زبانی، جسمانی اور مالی عبادات اللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص ہیں۔ اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ پر سلام ہو اور اللہ تعالیٰ کی رحمتیں اور اس کی برکتیں نازل ہوں۔ ہم پر اور اللہ تعالیٰ کے تمام نیک بندوں پر سلام ہو۔ میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے اور میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔“ حسن بن حر نامی راوی نے یہ بات بیان کی ہے، محمد بن حبان نامی راوی نے اسی سند کے ساتھ یہ حدیث نقل کی ہے، جس میں یہ الفاظ مزید نقل کیے ہیں: ”جب تم یہ پڑھ لو گے تو پھر اگر تم چاہو تو اٹھ جاؤ۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) محمد بن ابان نامی راوی ضعیف ہے، ہم کتاب «الْمَجْرُوحِينَ» میں اس سے بری الذمہ ہونے کا ذکر کر چکے ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1963]