Muslim99Muslim99

Sahih Ibn Hibban · Book 18 · Chapter 2

Book of Fosterage

Hadith 1963–2002

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

1963

Sahih Ibn Hibban #1963

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْجُعْفِيُّ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ الْحُرِّ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُخَيْمِرَةَ ، قَالَ : أَخَذَ بِيَدِي عَلْقَمَةُ بْنُ قَيْسٍ ، قَالَ : أَخَذَ بِيَدِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ ، قَالَ : أَخَذَ بِيَدِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَعَلِّمْنِي التَّشَهُّدَ : التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ ، السَّلامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ ، السَّلامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ ، أَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ ". قَالَ الْحَسَنُ بْنُ الْحُرِّ : وَزَادَنِي فِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ أَبَانَ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ ، قَالَ : فَإِذَا قُلْتَ هَذَا فَإِنْ شِئْتَ فَقُمْ . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : مُحَمَّدُ بْنُ أَبَانَ ، ضَعِيفٌ ، قَدْ تَبَرَّأْنَا مِنْ عُهْدَتِهِ فِي كِتَابِ الْمَجْرُوحِينَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

قاسم بن مخیمرہ بیان کرتے ہیں کہ علقمہ بن قیس نے میرا ہاتھ پکڑا اور بیان کیا کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے میرا ہاتھ پکڑا اور بیان کیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے تشہد کے کلمات کی تعلیم دی (جو درج ذیل ہیں): «التَّحِيَّاتُ لِلّٰهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ، السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللّٰهِ وَبَرَكَاتُهُ، السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلٰى عِبَادِ اللّٰهِ الصَّالِحِينَ، أَشْهَدُ أَنْ لَّا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ» ”تمام زبانی، جسمانی اور مالی عبادات اللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص ہیں۔ اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ پر سلام ہو اور اللہ تعالیٰ کی رحمتیں اور اس کی برکتیں نازل ہوں۔ ہم پر اور اللہ تعالیٰ کے تمام نیک بندوں پر سلام ہو۔ میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے اور میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔“ حسن بن حر نامی راوی نے یہ بات بیان کی ہے، محمد بن حبان نامی راوی نے اسی سند کے ساتھ یہ حدیث نقل کی ہے، جس میں یہ الفاظ مزید نقل کیے ہیں: ”جب تم یہ پڑھ لو گے تو پھر اگر تم چاہو تو اٹھ جاؤ۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) محمد بن ابان نامی راوی ضعیف ہے، ہم کتاب «الْمَجْرُوحِينَ» میں اس سے بری الذمہ ہونے کا ذکر کر چکے ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1963]

1964

Sahih Ibn Hibban #1964

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، مَوْلَى ثَقِيفٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ ، وَشُعْبَةُ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ ، قَالَ : أَلا أُهْدِي لَكَ هَدِيَّةً ؟ قُلْنَا : بَلَى . قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَدْ عَرَفْنَا كَيْفَ السَّلامُ عَلَيْكَ ، فَكَيْفَ الصَّلاةُ عَلَيْكَ ؟ فَقَالَ : قُولُوا :اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ ، وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ ، كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ ، اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ ، وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ ، كَمَا بَارَكْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبدالرحمن بن ابولیلی بیان کرتے ہیں: سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ (نے مجھ سے فرمایا): ”کیا میں تمہیں ایک تحفہ نہ دوں؟“ ہم نے کہا: جی ہاں، انہوں نے بتایا: میں نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہمیں یہ بات پتہ چل گئی ہے، آپ پر سلام کیسے بھیجنا ہے، تو آپ پر درود کیسے بھیجا جائے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم یہ پڑھو: «اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ، اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ» ”اے اللہ، سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی آل پر درود نازل فرما، جس طرح سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی آل پر درود نازل کیا۔ بے شک تو لائقِ حمد و بزرگی کا مالک ہے۔ اے اللہ! تو سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر اور سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی آل پر برکت نازل کر جس طرح تو نے سیدنا ابراہیم کی آل پر برکت نازل کی، بے شک تو لائقِ حمد اور بزرگی کا مالک ہے۔““ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1964]

1965

Sahih Ibn Hibban #1965

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ نُعَيْمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمُجْمِرُ ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ الأَنْصَارِيَّ أَخْبَرَهُ ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الأَنْصَارِيِّ ، ، أَنَّهُ قَالَ : أَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَنَحْنُ فِي مَجْلِسِ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ ، فَقَالَ بَشِيرُ بْنُ سَعْدٍ : أَمَرَنَا اللَّهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنْ نُصَلِّيَ عَلَيْكَ ، فَكَيْفَ نُصَلِّي عَلَيْكَ ؟ قَالَ : فَسَكَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، حَتَّى تَمَنَّيْنَا أَنَّهُ لَمْ يَسْأَلْهُ ، ثُمَّ قَالَ : قُولُوا :اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ ، وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ ، كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ ، وَبَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ ، وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ ، كَمَا بَارَكْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ ، فِي الْعَالَمِينَ ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ . وَالسَّلامُ كَمَا قَدْ عَلِمْتُمْ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے، ہم اس وقت سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کی محفل میں موجود تھے، سیدنا بشیر بن سعد رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اللہ تعالیٰ نے ہمیں آپ پر درود بھیجنے کا حکم دیا ہے، تو ہم آپ پر درود کیسے بھیجیں؟ راوی بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے، یہاں تک کہ ہم نے یہ آرزو کی کہ کاش انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سوال نہ کیا ہوتا، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم یہ پڑھو: «اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ وَبَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ فِي الْعَالَمِينَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ» ”اے اللہ! تو سیدنا محمد پر اور سیدنا محمد کی آل پر درود نازل کر جس طرح تو نے سیدنا ابراہیم اور سیدنا ابراہیم کی آل پر درود نازل کیا، اور سیدنا محمد پر اور سیدنا محمد کی آل پر برکت نازل کر جس طرح تو نے سیدنا ابراہیم اور سیدنا ابراہیم کی آل پر تمام جہانوں میں برکت نازل کی: بے شک تو لائق حمد اور بزرگی کا مالک ہے۔““ (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا) ”اور سلام کا طریقہ اسی طرح ہے جیسے تم جان چکے ہو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1965]

1966

Sahih Ibn Hibban #1966

أَخْبَرَنَا ابْنُ خُزَيْمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا بَحْرُ بْنُ نَصْرِ بْنِ سَابِقٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْمَاجِشُونُ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ آخِرُ مَا يَقُولُبَيْنَ التَّشَهُّدِ وَالتَّسْلِيمِ : اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ ، وَمَا أَخَّرْتُ ، وَمَا أَسْرَرْتُ ، وَمَا أَعْلَنْتُ ، وَمَا أَسْرَفْتُ ، وَمَا أَنْتَ أَعْلَمُ بِهِ مِنِّي ، أَنْتَ الْمُقَدَّمُ وَأَنْتَ الْمُؤَخَّرُ ، لا إِلَهَ إِلا أَنْتَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشہد اور سلام پھیرنے کے درمیان سب سے آخر میں یہ پڑھتے تھے: «اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ وَمَا أَخَّرْتُ، وَمَا أَسْرَرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ، وَمَا أَسْرَفْتُ، وَمَا أَنْتَ أَعْلَمُ بِهِ مِنِّي، أَنْتَ الْمُقَدِّمُ وَأَنْتَ الْمُؤَخِّرُ، لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ» ”اے اللہ! میں نے جو پہلے کیا، جو بعد میں کروں گا، جو پوشیدہ طور پر کیا، اور جو اعلانیہ طور پر کیا، اور جو زیادتی کی اور ہر وہ چیز جس کے بارے میں تو مجھ سے زیادہ علم رکھتا ہے، تو اس سب کے حوالے سے میری مغفرت کر دے۔ بے شک تو ہی آگے کرنے والا ہے اور تو ہی پیچھے کرنے والا ہے۔ تیرے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1966]

1967

Sahih Ibn Hibban #1967

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ ، حَدَّثَنِي حَسَّانُ بْنُ عَطِيَّةَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَائِشَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِذَا فَرَغَ أَحَدُكُمْ مِنَ التَّشَهُّدِ الآخِرِ ، فَلْيَتَعَوَّذْ بِاللَّهِ مِنْ أَرْبَعٍ : مِنْ عَذَابِ جَهَنَّمَ ، وَمِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ ، وَمِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ ، وَمِنْ شَرِّ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”جب کوئی شخص آخری تشہد پڑھ کر فارغ ہو، تو اسے چار چیزوں سے اللہ کی پناہ مانگنی چاہیے: جہنم کے عذاب سے، قبر کے عذاب سے، زندگی اور موت کی آزمائش سے اور دجال کے شر سے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1967]

1968

Sahih Ibn Hibban #1968

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ الْكَلاعِيُّ ، بِحِمْصَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَدْعُو فِي الصَّلاةِ : اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ النَّارِ ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ ، وَأَعُوذُ بِكْ مِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ . اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْمَأْثَمِ وَالْمَغْرَمِ " . قَالَتْ : فَقَالَ قَائِلٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا أَكْثَرَ مَا تَسْتَعِيذُ مِنَ الْمَغْرَمِ . فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ الرَّجُلَ إِذَا غَرِمَ حَدَّثَ فَكَذَبَ ، وَوَعَدَ فَأَخْلَفَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے دوران یہ دعا مانگا کرتے تھے: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ النَّارِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْمَأْثَمِ وَالْمَغْرَمِ» ”اے اللہ! میں جہنم کے عذاب سے تیری پناہ مانگتا ہوں اور میں قبر کے عذاب سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔ میں دجال کی آزمائش سے تیری پناہ مانگتا ہوں اور میں زندگی اور موت کی آزمائش سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔ اے اللہ! میں گناہ اور قرض سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ایک صاحب نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ قرض سے اکثر پناہ مانگتے ہیں۔ (اس کی حکمت کیا ہے) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جب آدمی مقروض ہو، تو وہ بات کرتے ہوئے غلط بیانی کرتا ہے اور وعدہ کرے تو اس کی خلاف ورزی کرتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1968]

1969

Sahih Ibn Hibban #1969

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : لَمَّا رَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الرَّكْعَةِ الآخِرَةِ مِنْ صَلاةِ الصُّبْحِ ، قَالَ : اللَّهُمَّ أَنْجِ الْوَلِيدَ بْنَ الْوَلِيدِ ، وَسَلَمَةَ بْنَ هِشَامٍ ، وَعَيَّاشَ بْنَ أَبِي رَبِيعَةَ ، اللَّهُمَّ اشْدُدْ وَطْأَتَكَ عَلَى مُضَرَ ، وَاجْعَلْهَا عَلَيْهِمْ سِنِينَ كَسِنِي يُوسُفَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح کی نماز کی آخری رکعت سے سر اٹھایا (یعنی رکوع سے اٹھے) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دعا مانگی: «اللّٰهُمَّ أَنْجِ الْوَلِيدَ بْنَ الْوَلِيدِ، وَسَلَمَةَ بْنَ هِشَامٍ، وَعَيَّاشَ بْنَ أَبِي رَبِيعَةَ، اللّٰهُمَّ اشْدُدْ وَطْأَتَكَ عَلَى مُضَرَ، اللّٰهُمَّ اجْعَلْهَا عَلَيْهِمْ سِنِينَ كَسِنِي يُوسُفَ» ”اے اللہ! ولید بن ولید، سلمہ بن ہشام، عیاش بن ابوربیعہ کو نجات عطا کر، اے اللہ! مضر قبیلے پر اپنی سختی نازل کر اور ان پر سیدنا یوسف کے زمانے کی سی قحط سالی مسلط کر دے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1969]

1970

Sahih Ibn Hibban #1970

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ بَهْدَلَةَ ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ ، أَنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ كَانَ قَائِمًا يُصَلِّي ، فَلَمَّا بَلَغَ رَأْسَ الْمِائَةِ مِنَ النِّسَاءِ ، أَخَذَ يَدْعُو ، فَقَالَ الَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : سَلْ تُعْطَهْ " ، ثَلاثًا ، فَقَالَ : اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ إِيمَانًا لا يَرْتَدُّ ، وَنَعِيمًا لا يَنْفَدُ ، وَمُرَافَقَةَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَعْلَى جُنَّةِ الْخُلْدِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

زر بن حبیش بیان کرتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کھڑے ہو کر نماز ادا کر رہے تھے، جب انہوں نے سورۃ النساء کی ایک سو آیات کی تلاوت کر لی، تو وہ دعا مانگنے لگے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سَلْ تُعْطَهْ“ ”تم مانگو تمہیں دیا جائے گا۔“ یہ بات آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی تو سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے یہ دعا مانگی: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ إِيمَانًا لَا يَرْتَدُّ، وَنَعِيمًا لَا يَنْفَدُ، وَمُرَافَقَةَ مُحَمَّدٍ صلی اللہ علیہ وسلم فِي أَعْلَى جَنَّةِ الْخُلْدِ» ”اے اللہ! میں تجھ سے ایسے ایمان کا سوال کرتا ہوں جو مرتد نہ ہو اور ایسی نعمت کا سوال کرتا ہوں جو ختم نہ ہو اور جنت الخلد کے اعلیٰ درجہ میں سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کا سوال کرتا ہوں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1970]

1971

Sahih Ibn Hibban #1971

أَخْبَرَنَا ابْنُ خُزَيْمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : كُنَّا جُلُوسًا فِي الْمَسْجِدِ ، فَدَخَلَ عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ ، فَصَلَّى صَلاةً خَفَّفَهَا ، فَمَرَّ بِنَا فَقِيلَ لَهُ : يَا أَبَا الْيَقْظَانِ ، خَفَّفْتَ الصَّلاةَ . قَالَ : أَوَ خَفِيفَةً رَأَيْتُمُوهَا ؟ قُلْنَا : نَعَمْ . قَالَ : أَمَا إِنِّي قَدْ دَعَوْتُ فِيهَا بِدُعَاءٍ قَدْ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . ثُمَّ مَضَى ، فَأَتْبَعَهُ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ ، قَالَ عَطَاءٌ : اتَّبَعَهُ أَبِي وَلَكِنَّهُ كَرِهَ أَنْ يَقُولَ اتَّبَعْتُهُ ، فَسَأَلَهُ عَنِ الدُّعَاءِ ، ثُمَّ رَجَعَ فَأَخْبَرَهُمْ بِالدُّعَاءِ : اللَّهُمَّ بِعِلْمِكَ الْغَيْبَ ، وَقُدْرَتِكَ عَلَى الْخَلْقِ ، أَحْيِنِي مَا عَلِمْتَ الْحَيَاةَ خَيْرًا لِي ، وَتَوَفَّنِي إِذَا كَانَتِ الْوَفَاةُ خَيْرًا لِي ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ خَشْيَتَكَ فِي الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ ، وَكَلِمَةَ الْعَدْلِ وَالْحَقِّ فِي الْغَضَبِ وَالرِّضَا ، وَأَسْأَلُكَ الْقَصْدَ فِي الْفَقْرِ وَالْغِنَى ، وَأَسْأَلُكَ نَعِيمًا لا يَبِيدُ ، وَقُرَّةَ عَيْنٍ لا تَنْقَطِعُ ، وَأَسْأَلُكَ الرِّضَا بَعْدَ الْقَضَاءِ ، وَأَسْأَلُكَ بَرْدَ الْعَيْشِ بَعْدَ الْمَوْتِ ، وَأَسْأَلُكَ لَذَّةَ النَّظَرِ إِلَى وَجْهِكَ ، وَأَسْأَلُكَ الشَّوْقَ إِلَى لِقَائِكَ ، فِي غَيْرِ ضَرَّاءَ مُضِرَّةٍ ، وَلا فِتْنَةٍ مُضِلَّةٍ ، اللَّهُمَّ زَيِّنَّا بِزِينَةِ الإِيمَانِ ، وَاجْعَلْنَا هُدَاةً مُهْتَدِينَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عطاء بن سائب اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ ہم لوگ مسجد میں موجود تھے، اسی دوران سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ اندر آئے، انہوں نے نماز ادا کی اور مختصر ادا کی، پھر وہ ہمارے پاس سے گزرے تو انہیں کہا گیا: اے ابویقظان! آپ نے مختصر نماز ادا کی ہے۔ انہوں نے دریافت کیا: ”کیا تم نے جو نماز دیکھی ہے وہ مختصر ہے؟“ ہم نے جواب دیا: جی ہاں! انہوں نے فرمایا: ”میں نے تو اس میں وہ دعا بھی پڑھی ہے، جو میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو پڑھتے ہوئے سنا ہے۔“ پھر وہ تشریف لے گئے، حاضرین میں سے ایک صاحب ان کے پیچھے گئے۔ عطاء نامی راوی نے یہ بات بیان کی ہے کہ میرے والد ان کے پیچھے گئے تھے لیکن انہیں یہ کہنا اچھا نہیں لگا کہ میں ان کے پیچھے گیا تھا۔ اس نے ان سے اس دعا کے بارے میں دریافت کیا، وہ واپس آیا اور ان لوگوں کو اس دعا کے بارے میں بتایا (اس کے الفاظ یہ تھے): «اللَّهُمَّ بِعِلْمِكَ الْغَيْبَ، وَقُدْرَتِكَ عَلَى الْخَلْقِ، أَحْيِنِي مَا عَلِمْتَ الْحَيَاةَ خَيْرًا لِي، وَتَوَفَّنِي إِذَا عَلِمْتَ الْوَفَاةَ خَيْرًا لِي، اللَّهُمَّ وَأَسْأَلُكَ خَشْيَتَكَ فِي الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ، وَأَسْأَلُكَ كَلِمَةَ الْحَقِّ فِي الرِّضَا وَالْغَضَبِ، وَأَسْأَلُكَ الْقَصْدَ فِي الْفَقْرِ وَالْغِنَى، وَأَسْأَلُكَ نَعِيمًا لَا يَنْفَدُ، وَأَسْأَلُكَ قُرَّةَ عَيْنٍ لَا تَنْقَطِعُ، وَأَسْأَلُكَ الرِّضَا بَعْدَ الْقَضَاءِ، وَأَسْأَلُكَ بَرْدَ الْعَيْشِ بَعْدَ الْمَوْتِ، وَأَسْأَلُكَ لَذَّةَ النَّظَرِ إِلَى وَجْهِكَ، وَالشَّوْقَ إِلَى لِقَائِكَ، فِي غَيْرِ ضَرَّاءَ مُضِرَّةٍ، وَلَا فِتْنَةٍ مُضِلَّةٍ، اللَّهُمَّ زَيِّنَّا بِزِينَةِ الْإِيمَانِ، وَاجْعَلْنَا هُدَاةً مُهْتَدِينَ» ”اے اللہ! میں تیرے غیب کے علم اور اپنی مخلوق پر تیری قدرت کے وسیلے سے یہ سوال کرتا ہوں، تو مجھے اس وقت تک زندہ رکھنا جب تک زندگی میرے حق میں بہتر ہو اور تو مجھے اس وقت موت دے دینا جب موت میرے حق میں بہتر ہو۔ اے اللہ! میں غیب اور شہادت (ہر حالت) میں تجھ سے ڈرنے کا سوال کرتا ہوں اور ناراضگی اور رضا مندی (ہر حالت میں) انصاف اور حق کی بات کہنے (کا تجھ سے سوال کرتا ہوں) اور میں غربت اور خوشحالی (दोनों حالتوں میں) میانہ روی کا تجھ سے سوال کرتا ہوں۔ میں تجھ سے ایسی نعمت کا سوال کرتا ہوں جو ختم نہیں ہو گی اور آنکھوں کی ایسی ٹھنڈک کا سوال کرتا ہوں جو منقطع نہیں ہو گی۔ میں تیرے فیصلے پر تجھ سے رضا مندی کا سوال کرتا ہوں اور میں مرنے کے بعد زندگی کی ٹھنڈک (یعنی مرنے کے بعد کی اچھی زندگی) کا تجھ سے سوال کرتا ہوں اور میں تیرے دیدار کی لذت کا تجھ سے سوال کرتا ہوں اور میں تیری بارگاہ میں حاضری کے شوق کا تجھ سے سوال کرتا ہوں۔ (یہ سب کچھ) کسی نقصان کے بغیر اور کسی گمراہ کرنے والی آزمائش کے بغیر ہو، اے اللہ! ہمیں ایمان کی زینت سے آراستہ کر دے اور ہمیں ہدایت دینے والا اور ہدایت یافتہ بنا دے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1971]

1972

Sahih Ibn Hibban #1972

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ ، وَأَبُو سَلَمَةَ ، أَنَّهُمَا سَمِعَا أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُحِينَ يَفْرُغُ مِنْ صَلاةِ الْفَجْرِ مِنَ الْقِرَاءَةِ وَيُكَبِّرُ وَيَرْفَعُ رَأْسَهُ : سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ ، رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ " ، يَقُولُ وَهُوَ قَائِمٌ : " اللَّهُمَّ أَنْجِ الْوَلِيدَ بْنَ الْوَلِيدِ ، وَسَلَمَةَ بْنَ هِشَامٍ ، وَعَيَّاشَ بْنَ أَبِي رَبِيعَةَ ، مِنَ الْمُؤْمِنِينَ ، اللَّهُمَّ اشْدُدْ وَطْأَتَكَ عَلَى مُضَرَ ، وَاجْعَلْهَا عَلَيْهِمْ كَسِنِي يُوسُفَ ، اللَّهُمَّ الْعَنْ لِحْيَانَ ، وَرِعْلا ، وَذَكْوَانَ ، وَعُصَيَّةً عَصَتِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ " . ثُمَّ بَلَغَنَا أَنَّهُ تَرَكَ ذَلِكَ لَمَّا نَزَلَتْ : لَيْسَ لَكَ مِنَ الأَمْرِ شَيْءٌ أَوْ يَتُوبَ عَلَيْهِمْ أَوْ يُعَذِّبَهُمْ فَإِنَّهُمْ ظَالِمُونَ "

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب فجر کی نماز میں قرأت کر کے فارغ ہوتے تو آپ تکبیر کہتے (ہوئے رکوع میں چلے جاتے) پھر آپ اپنے سر کو اٹھاتے اور «سَمِعَ اللّٰهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ» ”اللہ نے اس کی سن لی جس نے اس کی تعریف کی، اے ہمارے رب! تیرے ہی لیے تمام تعریفیں ہیں“ پڑھتے، پھر آپ قیام کی حالت میں ہی یہ دعا مانگتے: ”اے اللہ! تو ولید بن ولید، سلمہ بن ہشام، عیاش بن ابوربیعہ اور کمزور اہل ایمان کو نجات عطا کر، اے اللہ! تو مضر قبیلے پر اپنی سختی نازل کر اور ان پر سیدنا یوسف علیہ السلام کے زمانے کی سی قحط سالی نازل کر دے۔ اے اللہ! لحیان، رعل، ذکوان اور عصیہ قبیلے پر لعنت کر، انہوں نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی۔“ راوی بیان کرتے ہیں: پھر ہم تک یہ روایت پہنچی ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عمل کو ترک کر دیا: ﴿لَيْسَ لَكَ مِنَ الْأَمْرِ شَيْءٌ أَوْ يَتُوبَ عَلَيْهِمْ أَوْ يُعَذِّبَهُمْ فَإِنَّهُمْ ظَالِمُونَ﴾ [سورة آل عمران: 128] ”تمہارا اس معاملے سے کوئی واسطہ نہیں ہے خواہ اللہ تعالیٰ انہیں توبہ کی توفیق دے یا انہیں عذاب دے، بے شک وہ لوگ ظالم ہیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1972]

1973

Sahih Ibn Hibban #1973

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ مُكْرَمٍ الْبَزَّارُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، وَيَحْيَى الْقَطَّانُ ، قَالا : حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ ، عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَنَتَ شَهْرًا بَعْدَ الرُّكُوعِ يَدْعُو عَلَى حَيٍّ مِنْ أَحْيَاءِ الْعَرَبِ ، رِعْلٍ ، وَذَكْوَانَ ، وَقَالَ : عُصَيَّةٌ عَصَتِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ ". أَبُو مِجْلَزٍ اسْمُهُ لاحِقُ بْنُ حُمَيْدٍ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ماہ تک رکوع کے بعد قنوتِ نازلہ پڑھی تھی جس میں آپ عربوں کے کچھ قبائل رعل اور ذکوان کے خلاف دعائے ضرر کرتے رہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”عصیہ قبیلے کے لوگوں نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی ہے۔“ ابومجلز نامی راوی کا نام لاحق بن حمید ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1973]

1974

Sahih Ibn Hibban #1974

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا كَامِلُ بْنُ طَلْحَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ سَعِيدٍ الْجُرَيْرِيِّ ، عَنْ أَبِي الْعَلاءِ ، عَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ فِي صَلاتِهِ : اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الثَّبَاتَ فِي الأَمْرِ ، وَعَزِيمَةَ الرُّشْدِ ، وَشُكْرَ نِعْمَتِكَ ، وَحُسْنَ عِبَادَتِكَ ، وَأَسْأَلُكَ قَلْبًا سَلِيمًا ، وَأَسْأَلُكَ مِنْ خَيْرِ مَا تَعْلَمُ ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا تَعْلَمُ ، وَأَسْتَغْفِرُكَ لِمَا تَعْلَمُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا شداد بن اوس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں یہ پڑھا کرتے تھے: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الثَّبَاتَ فِي الْأَمْرِ، وَالْعَزِيمَةَ عَلَى الرُّشْدِ، وَأَسْأَلُكَ شُكْرَ نِعْمَتِكَ، وَحُسْنَ عِبَادَتِكَ، وَأَسْأَلُكَ قَلْبًا سَلِيمًا، وَأَسْأَلُكَ مِنْ خَيْرِ مَا تَعْلَمُ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا تَعْلَمُ، وَأَسْتَغْفِرُكَ لِمَا تَعْلَمُ» ”اے اللہ! میں ایمان پر ثابت قدمی کا، ہدایت میں عزیمت کا، تیری نعمتوں پر شکر کا، تیری اچھے طریقے سے عبادت کا تجھ سے سوال کرتا ہوں، میں تجھ سے سلامتی والے دل کا سوال کرتا ہوں اور میں تجھ سے اس چیز کی بھلائی کا سوال کرتا ہوں جو تیرے علم میں ہے، اور میں ہر اس چیز کے شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں جو تیرے علم میں ہے، اور میں ہر اس چیز (یعنی گناہ یا کوتاہی کے حوالے) سے تجھ سے مغفرت طلب کرتا ہوں جو تیرے علم میں ہو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1974]

1975

Sahih Ibn Hibban #1975

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْمَرْوَزِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ صُهَيْبٍ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَمَسَ شَيْئًا لا نَفْهَمُهُ ، فَقَالَ : أَفَطِنْتُمْ لِي ؟ " . قُلْنَا : نَعَمْ . قَالَ : " إِنِّيذَكَرْتُ نَبِيًّا مِنَ الأَنْبِيَاءِ أُعْطِيَ جُنُودًا مِنْ قَوْمِهِ ، فَقَالَ : مَنْ يَقُومُ لِهَؤُلاءِ ؟ فَأَوْحَى اللَّهُ إِلَيْهِ : أَنِ اخْتَرْ لِقَوْمِكَ إِحْدَى ثَلاثٍ : إِمَّا أَنْ أُسَلِّطَ عَلَيْهِمْ عَدُوًّا مِنْ غَيْرِهِمْ ، أَوِ الْجُوعَ ، أَوِ الْمَوْتَ ، فَاسْتَشَارَ قَوْمَهُ فِي ذَلِكَ ، فَقَالُوا : أَنْتَ نَبِيُّ اللَّهِ نَكِلُ ذَلِكَ إِلَيْكَ خِرْ لَنَا ، فَقَامَ إِلَى صَلاتِهِ ، وَكَانُوا إِذَا فَزِعُوا فَزِعُوا إِلَى الصَّلاةِ ، فَصَلَّى مَا شَاءَ اللَّهُ ، فَقَالَ : أَيْ رَبِّ ، أَمَّا عَدُوُّهُمْ مِنْ غَيْرِهِمْ وَالْجُوعُ فَلا ، وَلَكِنِ الْمَوْتُ ، فَسُلِّطَ عَلَيْهِمُ الْمَوْتَ ثَلاثَةَ أَيَّامٍ ، فَمَاتَ مِنْهُمْ سَبْعُونَ أَلْفًا ، فَهَمْسِي الَّذِي تَرَوْنَ أَنْ أَقُولَ : اللَّهُمَّ بِكَ أُقَاتِلُ ، وَبِكَ أُصَاوِلُ ، وَلا حَوْلَ وَلا قُوَّةَ إِلا بِاللَّهِ ". قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : مَاتَ صُهَيْبٌ سَنَةَ ثَمَانٍ وَثَلاثِينَ فِي رَجَبٍ فِي خِلافَةِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، وَوُلِدَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي لَيْلَى لِسَنَتَيْنِ مَضَتَا مِنْ خِلافَةِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پست آواز میں کوئی بات کہی جس کو ہم سمجھ نہیں سکے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”کیا تم نے میری بات سمجھ لی ہے؟“ ہم نے عرض کی: جی ہاں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے ایک نبی کا ذکر کیا ہے جنہیں ان کی قوم سے تعلق رکھنے والے کچھ لشکر دیے گئے، تو انہوں نے دریافت کیا: کون ان کا سامنا کر سکتا ہے؟ تو اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی کی کہ تم اپنی قوم کے لیے تین (صورتوں) میں سے ایک کو اختیار کرو؛ یا تو میں ان پر ایسا دشمن مسلط کروں گا جو دوسروں میں سے ہو گا، یا ان پر بھوک یا موت مسلط کر دوں گا۔ اس نبی نے اس بارے میں اپنی قوم سے مشورہ کیا۔ ان لوگوں نے عرض کی: اے اللہ کے نبی! ہم یہ معاملہ آپ کے سپرد کرتے ہیں، آپ ہمارے لیے اسے اختیار کر لیجیے، تو وہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں نماز پڑھنے کے لیے کھڑے ہوئے۔ وہ لوگ جب اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرتے تھے تو نماز کی طرف رجوع کرتے تھے۔ اس نبی نے جتنا اللہ کو منظور تھا نماز ادا کی، پھر انہوں نے عرض کی: اے میرے پروردگار! جہاں تک دوسری قوم سے تعلق رکھنے والے ان کے دشمن کے تسلط کا تعلق ہے یا بھوک کا تعلق ہے تو وہ ان پر مسلط نہ ہو، البتہ موت ہو جائے، تو ان پر تین دن تک کی موت کو مسلط کیا گیا تو ان میں سے ستر ہزار لوگ انتقال کر گئے۔ ابھی جو تم نے میری سرگوشی دیکھی تھی، اس میں میں نے یہ دعا کی تھی: «اللَّهُمَّ بِكَ أُقَاتِلُ وَبِكَ أُصَاوِلُ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ» ”اے اللہ! میں تیری مدد سے لڑائی کرتا ہوں اور تیری مدد سے حملہ کرتا ہوں، اللہ تعالیٰ کی مدد کے بغیر کچھ نہیں ہو سکتا۔““ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ کا انتقال سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں رجب کے مہینے میں 38 ہجری میں ہوا، جبکہ عبد الرحمن بن ابی لیلیٰ کی پیدائش سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت کے دو سال گزرنے کے بعد ہوئی تھی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1975]

1976

Sahih Ibn Hibban #1976

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّهُ قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : عَلِّمْنِي دُعَاءً أَدْعُو بِهِ فِي صَلاتِي ، قَالَ : قُلِ :اللَّهُمَّ إِنِّي ظَلَمْتُ نَفْسِي ظُلْمًا كَثِيرًا وَلا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلا أَنْتَ ، فَاغْفِرْ لِي ، مَغْفِرَةً مِنْ عِنْدِكَ ، وَارْحَمْنِي إِنَّكَ أَنْتَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی: ”آپ مجھے کسی ایسی دعا کی تعلیم دیجیے جو میں نماز کے دوران مانگ لیا کروں۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم یہ پڑھا کرو: «اَللّٰهُمَّ إِنِّي ظَلَمْتُ نَفْسِي ظُلْمًا كَثِيرًا، وَلَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ، فَاغْفِرْ لِي مَغْفِرَةً مِنْ عِنْدِكَ، وَارْحَمْنِي، إِنَّكَ أَنْتَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ» ”اے اللہ! میں نے اپنے اوپر بہت زیادہ ظلم کیا ہے اور گناہوں کی مغفرت صرف تو ہی کر سکتا ہے، تو اپنی بارگاہ سے میری مغفرت عطا کر دے اور مجھ پر رحم کر، بے شک تو مغفرت کرنے والا اور رحم کرنے والا ہے۔““ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1976]

1977

Sahih Ibn Hibban #1977

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عَمِّهِ الْمَاجِشُونِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ عَلِيٍّ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ،إِذَا سَجَدَ قَالَ : اللَّهُمَّ لَكَ سَجَدْتُ ، وَبِكَ آمَنْتُ ، وَلَكَ أَسْلَمْتُ ، سَجَدَ وَجْهِي لِلَّذِي خَلَقَهُ وَصَوَّرَهُ فَأَحْسَنَ صُوَرَهُ ، وَشَقَّ سَمْعَهُ وَبَصَرَهُ ، فَتَبَارَكَ اللَّهُ أَحْسَنُ الْخَالِقِينَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب سجدے میں جاتے تو یہ پڑھتے تھے: «اللَّهُمَّ لَكَ سَجَدْتُ، وَبِكَ آمَنْتُ، وَلَكَ أَسْلَمْتُ، سَجَدَ وَجْهِي لِلَّذِي خَلَقَهُ وَصَوَّرَهُ، فَأَحْسَنَ صُوَرَهُ، وَشَقَّ سَمْعَهُ وَبَصَرَهُ، ﴿فَتَبَارَكَ اللَّهُ أَحْسَنُ الْخَالِقِينَ﴾ [سورة المؤمنون: 14] » ”اے اللہ! میں نے تیرے لیے سجدہ کیا، میں تجھ پر ایمان لایا اور تیرے لیے اسلام قبول کیا۔ میرا چہرہ اس ذات کے سامنے سجدہ ریز ہے جس نے اسے پیدا کیا ہے، اسے شکل و صورت عطا کی ہے اور بڑی خوبصورت شکل و صورت عطا کی ہے، جس نے اسے سماعت اور بصارت عطا کی ہے، تو اللہ تعالیٰ کی ذات برکت والی ہے جو سب سے بہترین خالق ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1977]

1978

Sahih Ibn Hibban #1978

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْذِرِ بْنِ سَعِيدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ مُسْلِمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنِ ابْنِ جَرِيجٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَإِذَا سَجَدَ فِي الصَّلاةِ الْمَكْتُوبَةِ قَالَ : اللَّهُمَّ لَكَ سَجَدْتُ ، وَبِكَ آمَنْتُ ، وَلَكَ أَسْلَمْتُ ، أَنْتَ رَبِّي ، سَجَدَ وَجْهِي لِلَّذِي خَلَقَهُ ، وَشَقَّ سَمْعَهُ وَبَصَرَهُ ، تَبَارَكَ اللَّهُ أَحْسَنُ الْخَالِقِينَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب فرض نماز کے دوران سجدے میں جاتے تھے تو یہ پڑھتے تھے: «اللَّهُمَّ لَكَ سَجَدْتُ، وَبِكَ آمَنْتُ، وَلَكَ أَسْلَمْتُ، أَنْتَ رَبِّي، سَجَدَ وَجْهِي لِلَّذِي خَلَقَهُ وَصَوَّرَهُ، وَشَقَّ سَمْعَهُ وَبَصَرَهُ، ﴿فَتَبَارَكَ اللَّهُ أَحْسَنُ الْخَالِقِينَ﴾ [سورة المؤمنون: 14] » ”اے اللہ! میں نے تیرے لیے سجدہ کیا، اور تجھ پر ہی ایمان لایا، تیرے لیے اسلام قبول کیا، تو میرا پروردگار ہے، میرا چہرہ اس ذات کے سامنے سجدہ ریز ہے جس نے اسے پیدا کیا، جس نے اسے سماعت اور بصارت عطا کی ہے، تو اللہ تعالیٰ کی ذات برکت والی ہے، جو سب سے بہترین خالق ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1978]

1979

Sahih Ibn Hibban #1979

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلانِيِّ ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ ، قَالَ : قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ : أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْكَ " ، ثُمَّ قَالَ : " أَلْعَنُكَ بِلَعْنَةِ اللَّهِ " ثَلاثًا ، ثُمَّ بَسَطَ يَدَهُ كَأَنَّهُ يَتَنَاوَلُ شَيْئًا ، فَلَمَّا فَرَغَ مِنَ الصَّلاةِ ، قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَدْ سَمِعْنَاكَ تَقُولُ فِي صَلاتِكَ شَيْئًا لَمْ نَسْمَعْكَ تَقُولُ مِثْلَ ذَلِكَ ، وَرَأَيْنَاكَ بَسَطْتَ يَدَكَ ، قَالَ : " إِنَّعَدُوَّ اللَّهِ إِبْلِيسَ جَاءَ بِشِهَابٍ مِنْ نَارٍ لِيَجْعَلَهُ فِي وَجْهِي ، فَقُلْتُ : أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْكَ ، فَلَمْ يَسْتَأْخِرْ ، ثُمَّ قُلْتُ ذَلِكَ ، فَلَمْ يَسْتَأْخِرْ ، ثُمَّ قُلْتُ ، فَلَمْ يَسْتَأْخِرْ ، فَأَرَدْتُ أَنْ أَخْنُقَهُ ، فَلَوْلا دَعْوَةُ أَخِي سُلَيْمَانَ لأَصْبَحَ مُوثَقًا يَلْعَبُ بِهِ صِبْيَانُ أَهْلِ الْمَدِينَةِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز ادا کرنے کے لیے کھڑے ہوئے، تو میں نے آپ کو کہتے ہوئے سنا: ” «أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْكَ» ”میں تجھ سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں“”پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «أَلْعَنُكَ بِلَعْنَةِ اللَّهِ» ”میں تجھ پر اللہ کی لعنت کرتا ہوں“”یہ بات آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دستِ مبارک آگے بڑھایا جیسے آپ کوئی چیز پکڑنا چاہتے ہوں، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ کر فارغ ہوئے، تو سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم نے آپ کو نماز کے دوران ایک ایسی چیز کہتے ہوئے سنا ہے، ہم نے اس طرح کی بات کہتے ہوئے آپ کو پہلے نہیں سنا اور ہم نے دیکھا، آپ نے اپنا دستِ مبارک آگے بڑھایا تھا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اللہ کا دشمن ابلیس آگ کا انگارہ لے کر میرے پاس آیا تھا تاکہ اسے میرے چہرے پر لگائے، تو میں نے کہا: «أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْكَ» ”میں تجھ سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں“ وہ پیچھے نہیں ہٹا، پھر میں نے یہ بات کہی وہ پھر پیچھے نہیں ہٹا، پھر میں نے یہ بات کہی وہ پھر پیچھے نہیں ہٹا، تو میں نے یہ ارادہ کیا کہ میں اس کا گلا دبا دیتا ہوں، اگر میرے بھائی (سیدنا) سلیمان علیہ السلام کی دعا نہ ہوتی، تو وہ صبح بندھا ہوا ہوتا جس کے ساتھ مدینہ منورہ کے بچے کھیل رہے ہوتے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1979]

1980

Sahih Ibn Hibban #1980

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ زُهَيْرٍ الْحَافِظُ ، بِتُسْتَرَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْحَارِثِيُّ أَبُو الرَّبِيعِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ سُفْيَانَ ، وَشُعْبَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ : أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ،قَنَتَ فِي الْفَجْرِ وَالْمَغْرِبِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فجر اور مغرب کی نماز میں قنوتِ نازلہ پڑھتے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1980]

1981

Sahih Ibn Hibban #1981

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ هِشَامٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ هِشَامٍ الدَّسْتُوَائِيِّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : وَاللَّهِ إِنِّي لأَقْرَبُكُمْ صَلاةً بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَكَانَ أَبُو هُرَيْرَةَ : يَقْنُتُ فِي صَلاةِ الظُّهْرِ ، وَصَلاةِ الْعِشَاءِ ، وَصَلاةِ الصُّبْحِ ، بَعْدَ مَا يَقُولُ : سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ ، فَيَدْعُو لِلْمُؤْمِنِينَ ، وَيَلْعَنُ الْكَافِرِينَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اللہ کی قسم! میں تم سب کے مقابلے میں زیادہ بہتر طور پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے مطابق نماز ادا کرتا ہوں۔ راوی بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ظہر کی نماز میں، عشاء کی نماز میں اور فجر کی نماز میں «سَمِعَ اللّٰهُ لِمَنْ حَمِدَهٗ» ”اللہ نے اس کی پکار سن لی جس نے اس کی تعریف کی“ کہنے کے بعد قنوتِ نازلہ پڑھا کرتے تھے، وہ اس میں اہل ایمان کے لیے دعا کیا کرتے تھے اور کافروں پر لعنت کیا کرتے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1981]

1982

Sahih Ibn Hibban #1982

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، عَنْ يَحْيَى الْقَطَّانِ ، عَنْ هِشَامٍ الدَّسْتُوَائِيِّ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : قَنَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَهْرًا بَعْدَ الرُّكُوعِ ، يَدْعُو عَلَى أَحْيَاءٍ مِنَ الْعَرَبِ ، ثُمَّ تَرَكَهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع کے بعد ایک ماہ تک قنوتِ نازلہ پڑھی تھی، اس میں آپ نے عربوں کے قبائل کے خلاف دعائے ضرر کی تھی، پھر آپ نے اس عمل کو ترک کر دیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1982]

1983

Sahih Ibn Hibban #1983

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا الأَزْرَقُ بْنُ عَلِيٍّ أَبُو الْجَهْمِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَسَّانُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ ، وَأَبُو سَلَمَةَ ، أنهما سمعا أبا هريرة ، يَقُولُ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ حِينَ رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ فِي صَلاةِ الْفَجْرِ فِي الرَّكْعَةِ الثَّانِيَةِ بَعْدَ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ :رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ ، اللَّهُمَّ أَنْجِ الْوَلِيدَ بْنَ الْوَلِيدِ ، وَسَلَمَةَ بْنَ هِشَامٍ ، وَعَيَّاشَ بْنَ أَبِي رَبِيعَةَ ، مِنَ الْمُؤْمِنِينَ ، اللَّهُمَّ اشْدُدْ وَطْأَتَكَ عَلَى مُضَرَ ، وَاجْعَلْهَا سِنِينَ كَسِنِي يُوسُفَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فجر کی نماز میں دوسری رکعت کے بعد جب رکوع سے سر اٹھاتے تھے اور «سَمِعَ اللّٰهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ» پڑھ لیتے تھے، پھر یہ کہتے تھے: ”اے اللہ! تو ولید بن ولید، سلمہ بن ہشام، عیاش بن ابوربیعہ، کمزور اہل ایمان کو نجات عطا کر، اے اللہ! تو مضر قبیلے پر اپنی سختی نازل کر اور ان پر سیدنا یوسف علیہ السلام کے زمانے کی سی قحط سالی مقرر کر دے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1983]

1984

Sahih Ibn Hibban #1984

أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ سِنَانٍ الْقَطَّانُ ، بِوَاسِطٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ خَالِدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَرْمَلَةَ ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ خُفَافِ بْنِ رَحَضَةَ الْغِفَارِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ خُفَافٍ ، قَالَ : رَكَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الصَّلاةِ ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ ، فَقَالَ : غِفَارٌ غَفَرَ اللَّهُ لَهَا ، وَأَسْلَمُ سَالَمَهَا اللَّهُ ، وَعُصَيَّةُ عَصَتِ اللَّهَ وَرَسُولَهِ ، اللَّهُمَّ الْعَنْ بَنِي لِحْيَانَ ، اللَّهُمَّ الْعَنْ رِعْلا ، وَذَكْوَانَ " ، ثُمَّ كَبَّرَ ، وَوَقَعَ سَاجِدًا . قَالَ : فَجَعَلَ لَعْنَةَ الْكَفَرَةِ مِنْ أَجْلِ ذَلِكَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حارث بن خفاف غفاری اپنے والد سیدنا خفاف رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے دوران رکوع میں گئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سر اٹھایا اور ارشاد فرمایا: «غِفَارُ غَفَرَ اللَّهُ لَهَا، وَأَسْلَمُ سَالَمَهَا اللَّهُ، وَعُصَيَّةُ عَصَتِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ، اللَّهُمَّ الْعَنْ بَنِي لِحْيَانَ، اللَّهُمَّ الْعَنْ رِعْلًا وَذَكْوَانَ» ”غفار قبیلے کی اللہ تعالیٰ مغفرت فرمائے، اسلم قبیلے کو اللہ تعالیٰ سلامت رکھے، عصیہ قبیلے نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی ہے۔ اے اللہ! بنولحیان پر لعنت کر، اے اللہ! رعل اور ذکوان (قبیلوں) پر لعنت کر۔“ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تکبیر کہتے ہوئے سجدے میں چلے جاتے تھے۔ راوی بیان کرتے ہیں کہ کفار پر لعنت اسی وجہ سے کی جاتی ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1984]

1985

Sahih Ibn Hibban #1985

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : قَنَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَهْرًا بَعْدَ الرُّكُوعِ وَيَدْعُو عَلَى أَحْيَاءٍ مِنْ أَحْيَاءِ الْعَرَبِ ، ثُمَّ تَرَكَهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ماہ تک رکوع کے بعد قنوت نازلہ پڑھی تھی جس میں آپ عربوں کے بعض قبائل کے خلاف دعائے ضرر کرتے رہے، پھر آپ نے اسے ترک کر دیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1985]

1986

Sahih Ibn Hibban #1986

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَنَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صَلاةِ الْعَتَمَةِ شَهْرًا ، يَقُولُ فِي قُنُوتِهِ :" اللَّهُمَّ أَنْجِ الْوَلِيدَ بْنَ الْوَلِيدِ ، اللَّهُمَّ نَجِّ سَلَمَةَ بْنَ هِشَامٍ ، اللَّهُمَّ نَجِّ عَيَّاشَ بْنَ أَبِي رَبِيعَةَ ، اللَّهُمَّ نَجِّ الْمُسْتَضْعَفِينَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ ، اللَّهُمَّ اشْدُدْ وَطْأَتَكَ عَلَى مُضَرَ ، اللَّهُمَّ اجْعَلْهَا عَلَيْهِمْ سِنِينَ كَسِنِي يُوسُفَ " . قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : وَأَصْبَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ ، فَلَمْ يَدَعْ لَهُمْ ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَمَا تَرَاهُمْ قَدْ قَدِمُوا ؟ ". قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : فِي هَذَا الْخَبَرِ بَيَانٌ وَاضِحٌ أَنَّ الْقُنُوتَ إِنَّمَا يُقْنَتُ فِي الصَّلَوَاتِ عِنْدَ حُدُوثِ حَادِثَةٍ ، مِثْلَ ظُهُورِ أَعْدَاءِ اللَّهِ عَلَى الْمُسْلِمِينَ ، أَوْ ظُلْمِ ظَالِمٍ ظُلِمَ الْمَرْءُ بِهِ ، أَوْ تَعَدَّى عَلَيْهِ ، أَوْ أَقْوَامٍ أَحَبَّ أَنْ يَدْعُوَ لَهُمْ ، أَوْ أَسْرَى مِنَ الْمُسْلِمِينَ فِي أَيْدِي الْمُشْرِكِينَ ، وَأَحَبَّ الدُّعَاءَ لَهُمْ بِالْخَلاصِ مِنْ أَيْدِيهِمْ ، أَوْ مَا يُشْبِهُ هَذِهِ الأَحْوَالَ ، فَإِذَا كَانَ بَعْضُ مَا وَصَفْنَا مَوْجُودًا ، قَنَتَ الْمَرْءُ فِي صَلاةٍ وَاحِدَةٍ ، أَوِ الصَّلَوَاتِ كُلِّهَا ، أَوْ بَعْضِهَا دُونَ بَعْضٍ بَعْدَ رَفْعِهِ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ فِي الرَّكْعَةِ الآخِرَةِ مِنْ صَلاتِهِ ، يَدْعُو عَلَى مَنْ شَاءَ بِاسْمِهِ ، وَيَدْعُو لِمَنْ أَحَبَّ بِاسْمِهِ ، فَإِذَا عَدَمِ مِثْلَ هَذِهِ الأَحْوَالِ لَمْ يَقْنُتْ حِينَئِذٍ فِي شَيْءٍ مِنْ صَلاتِهِ ، إِذِ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقْنُتُ عَلَى الْمُشْرِكِينَ ، وَيَدْعُو لِلْمُسْلِمِينَ بِالنَّجَاةِ ، فَلَمَّا أَصْبَحَ يَوْمًا مِنَ الأَيَّامِ تَرَكَ الْقُنُوتَ ، فَذَكَرَ ذَلِكَ أَبُو هُرَيْرَةَ ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَمَا تَرَاهُمْ قَدْ قَدِمُوا ؟ " فَفِي هَذَا أَبْيَنُ الْبَيَانِ عَلَى صِحَّةِ مَا أَصَّلْنَاهُ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عشاء کی نماز میں قنوت نازلہ پڑھی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم قنوت نازلہ میں یہ پڑھتے تھے: «اَللّٰهُمَّ أَنْجِ الْوَلِيدَ بْنَ الْوَلِيدِ، اَللّٰهُمَّ أَنْجِ سَلَمَةَ بْنَ هِشَامٍ، اَللّٰهُمَّ أَنْجِ عَيَّاشَ بْنَ أَبِي رَبِيعَةَ، اَللّٰهُمَّ أَنْجِ الْمُسْتَضْعَفِينَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ، اَللّٰهُمَّ اشْدُدْ وَطْأَتَكَ عَلَى مُضَرَ، اَللّٰهُمَّ اجْعَلْهَا عَلَيْهِمْ سِنِينَ كَسِنِي يُوسُفَ» ”اے اللہ! تو ولید بن ولید کو نجات عطا کر، اے اللہ! تو سلمہ بن ہشام کو نجات عطا کر، عیاش بن ابوربیعہ کو نجات عطا کر، اے اللہ! تو کمزور اہل ایمان کو نجات عطا کر، اے اللہ! مضر قبیلے پر اپنی سختی نازل کر، اے اللہ! ان پر سیدنا یوسف علیہ السلام کے زمانے کی قحط سالی مسلط کر دے۔“ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کے لیے دعا نہیں کی، میں نے اس بات کا تذکرہ کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے دیکھا نہیں، وہ لوگ آ گئے ہیں۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) یہ روایت اس بات کا واضح بیان ہے کہ نماز میں قنوت نازلہ پڑھنا اس وقت ہو گا جب کوئی حادثہ رونما ہو، جیسے اللہ تعالیٰ کے دشمن مسلمانوں کے سامنے آ جائیں یا کسی ظالم کے ظلم کی صورت میں ہو گا، جب کسی شخص پر ظلم کیا جائے یا اس کے ساتھ زیادتی کی جائے، یا کچھ لوگ اس بات کے خواہش مند ہوں کہ ان کے حق میں دعا کی جائے، یا کچھ مسلمان مشرکین کے ہاں قید ہوں اور وہ اس دعا کے خواہش مند ہوں کہ ان لوگوں سے نجات کی دعا کی جائے، یا کوئی اور صورتحال درپیش ہو، تو ہم نے جن صورتوں کا ذکر کیا ہے ان میں سے کوئی صورتحال موجود ہو گی، تو آدمی اپنی ایک نماز میں یا تمام نمازوں میں یا کسی ایک نماز کو چھوڑ کر دوسری نماز میں قنوت نازلہ پڑھ لے گا اور وہ اپنی نماز کی آخری رکعت میں رکوع سے سر اٹھانے کے بعد اسے پڑھے گا، اور وہ جس کے خلاف چاہے گا اس کے خلاف نام لے کر دعا کرے گا، اور جس شخص کے حق میں چاہے گا اس کے حق میں نام لے کر دعا کرے گا؛ جب اس طرح کی صورتحال پیش نہ ہو، تو آدمی کسی بھی نماز میں قنوت نازلہ نہیں پڑھے گا، کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مشرکین کے خلاف قنوت نازلہ پڑھی تھی اور مسلمانوں کے لیے نجات کی دعا مانگی تھی، پھر ایک ایسا دن بھی آیا کہ جس میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قنوت نازلہ کو پڑھنا ترک کر دیا، سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے اس بات کا تذکرہ کیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے ان لوگوں کو دیکھا نہیں ہے کہ اب وہ لوگ (مشرکین کی قید سے نجات پا کر) آ گئے ہیں۔“ تو یہ اس بات کے صحیح ہونے کا واضح بیان ہے جو اصول ہم نے بیان کیا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1986]

1987

Sahih Ibn Hibban #1987

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي صَلاةِ الْفَجْرِ ، حِينَ رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ : رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ " ، فِي الرَّكْعَةِ الآخِرَةِ ، ثُمَّ قَالَ : " اللَّهُمَّ الْعَنْ فُلانًا وَفُلانًا " ، دَعَا عَلَى أُنَاسٍ مِنَ الْمُنَافِقِينَ ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ : لَيْسَ لَكَ مِنَ الأَمْرِ شَيْءٌ ، أَوْ يَتُوبَ عَلَيْهِمْ ، أَوْ يُعَذِّبَهُمْ فَإِنَّهُمْ ظَالِمُونَ "

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فجر کی نماز میں سنا، جب آپ نے رکوع سے سر اٹھایا، تو آپ نے یہ پڑھا: «رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ» ”اے ہمارے رب! اور تیرے ہی لیے تمام تعریف ہے“، ہر دوسری رکعت میں ہوا تھا، پھر آپ نے یہ دعا مانگی: ”اے اللہ! فلاں اور فلاں پر لعنت کر۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے منافقین سے تعلق رکھنے والے افراد کے خلاف دعائے ضرر کی تھی، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی تھی: ﴿لَيْسَ لَكَ مِنَ الْأَمْرِ شَيْءٌ أَوْ يَتُوبَ عَلَيْهِمْ أَوْ يُعَذِّبَهُمْ فَإِنَّهُمْ ظَالِمُونَ﴾ [سورة آل عمران: 128] ”تمہارا اس معاملے سے کوئی واسطہ نہیں ہے خواہ اللہ تعالیٰ انہیں توبہ کی توفیق دے، یا انہیں عذاب دے، بے شک وہ لوگ ظالم ہیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1987]

1988

Sahih Ibn Hibban #1988

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ زُهَيْرٍ الْحَافِظُ ، بِتُسْتَرَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنِ حَبِيبُ بْنُ عَرَبِيٍّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ ، عَنِ ابْنِ عَجْلانَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ : أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، كَانَ" يَدْعُو عَلَى أَقْوَامٍ فِي قُنُوتِهِ ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ : لَيْسَ لَكَ مِنَ الأَمْرِ شَيْءٌ أَوْ يَتُوبَ عَلَيْهِمْ أَوْ يُعَذِّبَهُمْ فَإِنَّهُمْ ظَالِمُونَ ". قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : هَذَا الْخَبَرُ قَدْ يُوهِمُ مَنْ لَمْ يُمْعِنِ النَّظَرَ فِي مُتُونِ الأَخْبَارِ ، وَلا يَفْقَهُ فِي صَحِيحِ الآثَارِ ، أَنَّ الْقُنُوتَ فِي الصَّلَوَاتِ مَنْسُوخٌ ، وَلَيْسَ كَذَلِكَ ، لأَنَّ خَبَرَ ابْنِ عُمَرَ الَّذِي ذَكَرْنَاهُ ، أَنَّ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، كَانَ يَلْعَنُ فُلانًا وَفُلانًا فَأَنْزَلَ اللَّهُ : لَيْسَ لَكَ مِنَ الأَمْرِ شَيْءٌ فِيهِ الْبَيَانُ الْوَاضِحُ لِمَنْ وَفَّقَهُ اللَّهُ لِلسَّدَادِ ، وَهُدَاهُ لِسُلُوكِ الصَّوَابِ ، أَنَّ اللَّعْنَ عَلَى الْكُفَّارِ وَالْمُنَافِقِينَ فِي الصَّلاةِ غَيْرُ مَنْسُوخٍ ، وَلا الدُّعَاءَ لِلْمُسْلِمِينَ ، وَالدَّلِيلُ عَلَى صِحَّةِ هَذَا قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي خَبَرِ أَبِي هُرَيْرَةَ : " أَمَا تَرَاهُمْ وَقَدْ قَدِمُوا ؟ " ، تُبَيِّنُ لَكَ هَذِهِ اللَّفْظَةُ أَنَّهُمْ لَوْلا أَنَّهُمْ قَدِمُوا وَنَجَّاهُمُ اللَّهُ مِنْ أَيْدِي الْكُفَّارِ لأَثْبَتَ الْقُنُوتَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَدَاوَمَ عَلَيْهِ ، عَلَى أَنَّ فِي قَوْلِ اللَّهِ جَلَّ وَعَلا : لَيْسَ لَكَ مِنَ الأَمْرِ شَيْءٌ أَوْ يَتُوبَ عَلَيْهِمْ أَوْ يُعَذِّبَهُمْ فَإِنَّهُمْ ظَالِمُونَ لَيْسَ فِيهِ الْبَيَانُ بِأَنَّ اللَّعْنَ عَلَى الْكُفَّارِ أَيْضًا مَنْسُوخٌ ، وَإِنَّمَا هَذِهِ آيَةٌ فِيهَا الإِعْلامُ بِأَنَّ الْقُنُوتَ عَلَى الْكُفَّارِ لَيْسَ مِمَّا يُغْنِيهِمْ عَمَّا قَضَى عَلَيْهِمْ أَوْ يُعَذِّبُهُمْ يُرِيدُ : بِالإِسْلامِ يَتُوبُ عَلَيْهِمْ ، أَوْ بِدَوَامِهِمْ عَلَى الشِّرْكِ يُعَذِّبُهُمْ ، لا أَنَّ الْقُنُوتَ مَنْسُوخٌ بِالآيَةِ الَّتِي ذَكَرْنَاهَا"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم قنوتِ نازلہ کے دوران کچھ لوگوں کے خلاف دعائے ضرر کیا کرتے تھے، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی: ﴿لَيْسَ لَكَ مِنَ الْأَمْرِ شَيْءٌ أَوْ يَتُوبَ عَلَيْهِمْ أَوْ يُعَذِّبَهُمْ فَإِنَّهُمْ ظَالِمُونَ﴾ [سورة آل عمران: 128] ”تمہارا اس معاملے کے ساتھ کوئی واسطہ نہیں ہے، خواہ اللہ تعالیٰ انہیں توبہ کی توفیق دے یا انہیں عذاب دے، بے شک وہ لوگ ظالم ہیں۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) یہ روایت اس شخص کو غلط فہمی کا شکار کرتی ہے جو روایات کے متون میں غور و فکر سے کام نہیں لیتا اور صحیح روایات کا فہم حاصل نہیں کرتا (اور وہ اس بات کا قائل ہے) کہ نماز میں قنوتِ نازلہ کو پڑھنے کا حکم منسوخ ہے، حالانکہ ایسا نہیں؛ کیونکہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے حوالے سے منقول وہ روایت جس کا ہم نے ذکر کیا ہے اس میں یہ بات مذکور ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فلاں اور فلاں پر لعنت کرتے رہے، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی: ﴿لَيْسَ لَكَ مِنَ الْأَمْرِ شَيْءٌ﴾ [سورة آل عمران: 128] ”تمہارا اس معاملے سے کوئی واسطہ نہیں“، اس میں اس بات کا واضح بیان موجود ہے کہ اگر اس شخص کو اللہ تعالیٰ سیدھے راستے کی توفیق دے اور درست راستے کی طرف اس کی رہنمائی کرے (تو وہ یہ بات جان لے گا) کہ کفار اور منافقین پر نماز کے دوران لعنت کرنے کا حکم منسوخ نہیں ہے، اور نہ ہی مسلمانوں کے لیے دعا کرنے کا حکم منسوخ ہے۔ اور اس بات کے صحیح ہونے کی دلیل نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ہے جو سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول روایت میں ہے: ”کیا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا کہ وہ لوگ آ گئے ہیں؟“ یہ الفاظ آپ کے سامنے اس بات کو واضح کر دیں گے کہ اگر اب وہ لوگ نہ آئے ہوتے اور اللہ تعالیٰ نے انہیں کفار کے ہاتھوں سے نجات عطا نہ کی ہوتی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے لیے قنوتِ نازلہ پڑھتے رہتے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم باقاعدگی کے ساتھ ایسا کرتے رہتے، اس کے باوجود کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے فرمان میں یہ بات بیان فرمائی ہے: ﴿لَيْسَ لَكَ مِنَ الْأَمْرِ شَيْءٌ أَوْ يَتُوبَ عَلَيْهِمْ أَوْ يُعَذِّبَهُمْ فَإِنَّهُمْ ظَالِمُونَ﴾ [سورة آل عمران: 128] ”تمہارا اس معاملے کے ساتھ کوئی واسطہ نہیں ہے، خواہ اللہ تعالیٰ انہیں توبہ کی توفیق دے یا عذاب دے، بے شک وہ لوگ ظالم ہیں۔“ اس میں اس بات کا بیان موجود نہیں ہے کہ کافروں پر لعنت کرنے کا حکم منسوخ ہے، کیونکہ اس آیت میں اس بات کی اطلاع دی گئی ہے کہ کفار کے خلاف قنوتِ نازلہ پڑھنا ایک ایسی چیز نہیں ہے جو ان کے بارے میں اس چیز سے بے نیاز کر دے جو ان کے خلاف فیصلہ ہو چکا ہے یا جو انہیں عذاب دیا جانا ہے، اور اس سے مراد یہ ہے کہ اسلام کے ذریعے انہیں توبہ کی توفیق مل جائے یا پھر وہ شرک پر ثابت قدم رہیں اور انہیں عذاب دیا جائے۔ ایسا نہیں ہے کہ قنوتِ نازلہ پڑھنے کا حکم اس آیت کی وجہ سے منسوخ ہو گیا ہے جسے ہم نے ذکر کیا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1988]

1989

Sahih Ibn Hibban #1989

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ خَلِيفَةَ ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ الأَشْجَعِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : صَلَّيْتُ خَلْفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَلَمْ يَقْنُتْ "، وَصَلَّيْتُ خَلْفَ أَبِي بَكْرٍ فَلَمْ يَقْنُتْ ، وَصَلَّيْتُ خَلْفَ عُمَرَ ، فَلَمْ يَقْنُتْ ، وَصَلَّيْتُ خَلْفَ عُثْمَانَ ، فَلَمْ يَقْنُتْ ، وَصَلَّيْتُ خَلْفَ عَلِيٍّ ، فَلَمْ يَقْنُتْ ، ثُمَّ قَالَ : يَا بُنَيَّ إِنَّهَا بِدْعَةٌ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابومالک اشجعی اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز ادا کی ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قنوت نازلہ نہیں پڑھی، میں نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پیچھے بھی نماز ادا کی ہے، انہوں نے بھی قنوت نازلہ نہیں پڑھی، میں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پیچھے بھی نماز ادا کی ہے، انہوں نے بھی قنوت نازلہ نہیں پڑھی، میں نے سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے پیچھے بھی نماز ادا کی، انہوں نے بھی قنوت نازلہ نہیں پڑھی، میں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پیچھے نماز ادا کی ہے، انہوں نے بھی قنوت نازلہ نہیں پڑھی، (پھر ان کے والد) نے فرمایا: ”اے میرے بیٹے! یہ بدعت ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1989]

1990

Sahih Ibn Hibban #1990

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عُبَيْدٍ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي الأَحْوَصِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَيُسَلِّمُ عَنْ يَمِينِهِ حَتَّى يَبْدُوَ بَيَاضُ خَدِّهِ : السَّلامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ " ، وَعَنْ يَسَارِهِ مِثْلَ ذَلِكَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دائیں طرف سلام پھیرتے تھے، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے رخسار کی سفیدی نمایاں ہوتی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم «السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللّٰهِ» ”تم پر سلامتی اور اللہ کی رحمت ہو“ کہتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم بائیں طرف بھی اسی طرح سلام پھیرتے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1990]

1991

Sahih Ibn Hibban #1991

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ النَّرْسِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي الأَحْوَصِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَيُسَلِّمُ عَنْ يَمِينِهِ ، وَعَنْ شِمَالِهِ : السَّلامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ ، السَّلامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ " ، حَتَّى يُرَى بَيَاضُ خَدِّهِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نماز میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دائیں طرف اور بائیں طرف سلام پھیرتے ہوئے «اَلسَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللهِ، اَلسَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللهِ» ”تم پر سلامتی اور اللہ کی رحمت ہو، تم پر سلامتی اور اللہ کی رحمت ہو“ کہتے تھے، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے رخسار کی سفیدی نظر آ جاتی تھی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1991]

1992

Sahih Ibn Hibban #1992

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حِبَّانُ بْنُ مُوسَى ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مُصْعَبُ بْنُ ثَابِتٍ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَيُسَلِّمُ عَنْ يَمِينِهِ ، وَعَنْ يَسَارِهِ ، حَتَّى يُرَى بَيَاضُ خَدِّهِ ". فَقَالَ الزُّهْرِيُّ : لَمْ يُسْمَعْ هَذَا الْخَبَرُ مِنْ حَدِيثِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ إِسْمَاعِيلُ : كُلَّ حَدِيثِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمِعْتَهُ ؟ قَالَ : لا . قَالَ : فَالثُّلُثَيْنِ ؟ قَالَ : لا . قَالَ : فَالنِّصْفَ ؟ قَالَ : لا . قَالَ : فَهُوَ مِنَ النِّصْفِ الَّذِي لَمْ تَسْمَعْ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عامر بن سعد رحمہ اللہ اپنے والد (سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ) کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دائیں طرف اور بائیں طرف سلام پھیرتے ہوئے دیکھا ہے، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے رخسار کی سفیدی نظر آ جاتی تھی۔ زہری رحمہ اللہ نے یہ بات بیان کی کہ یہ روایت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث کے طور پر نہیں سنی گئی ہے۔ اسماعیل رحمہ اللہ نے کہا: کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہر حدیث تم نے سن رکھی ہے؟ انہوں نے جواب دیا: جی نہیں۔ اسماعیل رحمہ اللہ نے دریافت کیا: کیا دو تہائی سن رکھی ہیں؟ انہوں نے جواب دیا: جی نہیں۔ اسماعیل رحمہ اللہ نے دریافت کیا: کیا نصف سن رکھی ہیں؟ انہوں نے جواب دیا: جی نہیں، تو اسماعیل رحمہ اللہ نے کہا: یہ اس نصف حصے سے تعلق رکھتی ہے، جسے تم نے نہیں سنا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1992]

1993

Sahih Ibn Hibban #1993

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي الأَحْوَصِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَيُسَلِّمُ عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ يَسَارِهِ ، حَتَّى يُرَى بَيَاضُ خَدِّهِ : السَّلامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ ، السَّلامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دائیں طرف اور بائیں طرف سلام پھیرتے تھے، یہاں تک کہ آپ کے رخسار کی سفیدی نظر آ جاتی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ” «السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللهِ» ”تم پر سلامتی اور اللہ کی رحمت ہو“، «السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ» ”تم پر سلامتی، اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں ہوں““ کہا کرتے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1993]

1994

Sahih Ibn Hibban #1994

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ مُكْرَمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ أَبِي مُزَاحِمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمِ بْنِ وَضَّاحٍ ، عَنْ زَكَرِيَّا ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : مَا نَسِيتُ مِنَ الأَشْيَاءِ ، فَإِنِّي لَمْ أَنَسَتَسْلِيمَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الصَّلاةِ عَنْ يَمِينِهِ ، وَعَنْ شِمَالِهِ : السَّلامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ ، السَّلامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ " ، ثُمَّ قَالَ : كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى بَيَاضِ خَدَّيْهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : وَيُقَالُ : مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمِ بْنِ أَبِي وَضَّاحٍ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ”میں سب کچھ بھول سکتا ہوں لیکن یہ بات نہیں بھول سکتا۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے دوران دائیں طرف اور بائیں طرف سلام پھیرتے ہوئے «اَلسَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللهِ، اَلسَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللهِ» ”السلام علیکم ورحمت اللہ، السلام علیکم ورحمت اللہ“ کہا کرتے تھے۔ پھر سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے رخساروں کی سفیدی کا منظر گویا آج بھی میری نگاہ میں ہے۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) یہ بات بیان کی گئی ہے کہ محمد بن مسلم (کے دادا کا نام) ابووضاح ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1994]

1995

Sahih Ibn Hibban #1995

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ زُهَيْرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ : أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَيُسَلِّمُ تَسْلِيمَةً وَاحِدَةً عَنْ يَمِينِهِ يَمِيلُ بِهَا وَجْهُهُ إِلَى الْقِبْلَةِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم صرف ایک مرتبہ اپنی دائیں طرف سلام پھیرتے تھے، جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے چہرے کو کسی حد تک قبلہ کی طرف مائل رکھتے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1995]

1996

Sahih Ibn Hibban #1996

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْعَبْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ السُّدِّيِّ ، قَالَ : سَمِعْتَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ : إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَيَنْصَرِفُ عَنْ يَمِينِهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم (نماز پڑھنے کے بعد) دائیں طرف سے اٹھا کرتے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1996]

1997

Sahih Ibn Hibban #1997

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ : مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنِ الأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ ، قَالَ : قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : لا يَجْعَلْ أَحَدُكُمْ لِلشَّيْطَانِ جُزْءًا مِنْ نَفْسِهِ ، يَرَى أَنَّ حَقًّا عَلَيْهِ أَنْ يَنْصَرِفَ إِلا عَنْ يَمِينِهِ ، فَلَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَوَأَكْثَرُ انْصِرَافِهِ عَنْ يَسَارِهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: کوئی بھی شخص اپنی ذات کے حوالے سے شیطان کا حصہ نہ رکھے، وہ یہ نہ سمجھے کہ اس پر یہ بات لازم ہے، (وہ نماز پڑھنے کے بعد) صرف دائیں طرف سے ہی اٹھ سکتا ہے، کیونکہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اکثر اوقات بائیں طرف سے اٹھتے ہوئے دیکھا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1997]

1998

Sahih Ibn Hibban #1998

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : أَنْبَأَنِي سِمَاكٌ ، عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ هُلْبٍ ، رَجُلٌ مِنْ طَيِّئٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، ، أَنَّهُ صَلَّى مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : فَكَانَيَنْصَرِفُ عَنْ شِقَّيْهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

قبیصہ بن ہلب طے قبیلے سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کے حوالے سے ان کے والد (ہلب طائی رضی اللہ عنہ) کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتدا میں نماز ادا کی ہے، ”نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دونوں طرف سے اٹھ جایا کرتے تھے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1998]

1999

Sahih Ibn Hibban #1999

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الأَسْوَدِ حَدَّثَهُ ، أَنَّ أَبَاهُ الأَسْوَدَ حَدَّثَهُ ، أَنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ حَدَّثَهُ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَعَامَّةُ مَا يَنْصَرِفُ عَنْ يَسَارِهِ إِلَى الْحُجُرَاتِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم زیادہ تر بائیں طرف سے اٹھا کرتے تھے جو حجروں والی سمت تھی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1999]

2000

Sahih Ibn Hibban #2000

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ الْقَطَّانُ ، بِالرَّقَّةِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ، عَنْ عَاصِمٍ الأَحْوَلِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ الأَنْصَارِيِّ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَلا يَقْعُدُ بَعْدَ التَّسْلِيمِ إِلا قَدْرَ مَا يَقُولُ : اللَّهُمَّ أَنْتَ السَّلامُ ، وَمِنْكَ السَّلامُ ، تَبَارَكْتَ يَا ذَا الْجَلالِ وَالإِكْرَامِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سلام پھیرنے کے بعد صرف اتنی دیر بیٹھتے تھے جتنی دیر میں یہ پڑھتے تھے: «اللَّهُمَّ أَنْتَ السَّلَامُ وَمِنْكَ السَّلَامُ، تَبَارَكْتَ يَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ» ”اے اللہ! تو سلامتی عطا کرنے والا ہے، تجھ سے ہی سلامتی حاصل ہو سکتی ہے، اے جلال اور اکرام والے، تو برکت والا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2000]

2001

Sahih Ibn Hibban #2001

أَخْبَرَنَا شَبَّابُ بْنُ صَالِحٍ ، بِوَاسِطٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا خَالِدٌ ، عَنْ خَالِدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَإِذَا سَلَّمَ ، قَالَ : اللَّهُمَّ أَنْتَ السَّلامُ ، وَمِنْكَ السَّلامُ ، تَبَارَكْتَ يَا ذَا الْجَلالِ وَالإِكْرَامِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب سلام پھیرتے تھے، تو یہ فرماتے تھے: «اللَّهُمَّ أَنْتَ السَّلَامُ وَمِنْكَ السَّلَامُ، تَبَارَكْتَ يَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ» ”اے اللہ! تو سلامتی عطا کرنے والا ہے، تجھ سے ہی سلامتی حاصل ہو سکتی ہے، اے جلال اور اکرام والے! تو برکت والا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2001]

2002

Sahih Ibn Hibban #2002

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ الدُّولابِيُّ ، مُنْذُ ثَمَانِينَ سَنَةً ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ زَكَرِيَّا ، عَنْ عَاصِمٍ الأَحْوَلِ ، عَنْ عَوْسَجَةَ بْنِ الرَّمَّاحِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي الْهُذَيْلِ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَلا يَجْلِسُ بَعْدَ التَّسْلِيمِ إِلا قَدْرَ مَا يَقُولُ : اللَّهُمَّ أَنْتَ السَّلامُ ، وَمِنْكَ السَّلامُ ، تَبَارَكْتَ يَا ذَا الْجَلالِ وَالإِكْرَامِ ". قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : سَمِعَ هَذَا الْخَبَرَ عَاصِمٌ الأَحْوَلُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، وَسَمِعَهُ عَنْ عَوْسَجَةَ بْنِ الرَّمَّاحِ ، عَنْ أَبِي الْهُذَيْلِ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، الطَّرِيقَانِ جَمِيعًا مَحْفُوظَانِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سلام پھیرنے کے بعد صرف اتنی دیر بیٹھتے تھے جتنی دیر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ پڑھتے تھے: «اَللّٰهُمَّ أَنْتَ السَّلَامُ وَمِنْكَ السَّلَامُ، تَبَارَكْتَ يَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ» ”اے اللہ! تو سلامتی عطا کرنے والا ہے، سلامتی تجھ سے ہی حاصل ہو سکتی ہے، اے جلال اور اکرام والے! تو برکت والا ہے۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) عاصم احول نے یہ روایت عبداللہ بن حارث کے حوالے سے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے سنی ہے اور انہوں نے یہ روایت عوسجہ بن رماح کے حوالے سے ابن ابوہذیل کے حوالے سے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے سنی ہے، تو اس کے دونوں طرق محفوظ ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2002]