Muslim99Muslim99

Sahih Ibn Hibban · Book 18 · Chapter 1

Book of Fosterage

Hadith 1923–1962

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

1923

Sahih Ibn Hibban #1923

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ زُهَيْرٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الصَّبَّاحِ الْعَطَّارُ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَوَاءٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، وَرَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : أُمِرْتُ أَنْ أَسْجُدَ عَلَى سَبْعَةٍ ، وَلا أَكُفَّ شَعْرًا ، وَلا ثَوْبًا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”مجھے اس بات کا حکم دیا گیا ہے کہ میں سات اعضا پر سجدہ کروں اور میں (نماز کے دوران) اپنے بال یا کپڑے کو نہ موڑوں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1923]

1924

Sahih Ibn Hibban #1924

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مَيْسَرَةَ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أُمِرْتُ أَنْ أَسْجُدَ عَلَى سَبْعَةِ أَعْظُمٍ ، وَأَنْ لا أَكُفَّ شَعْرًا ، وَلا ثَوْبًا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”مجھے اس بات کا حکم دیا گیا ہے کہ میں سات ہڈیوں پر سجدہ کروں اور (نماز کے دوران) بال یا کپڑے کو نہ موڑوں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1924]

1925

Sahih Ibn Hibban #1925

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ السَّامِيُّ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : أُمِرْتُ أَنْ أَسْجُدَ عَلَى سَبْعَةِ أَعْظُمٍ : الْجَبْهَةِ ، وَأَشَارَ بِيَدِهِ إِلَى أَنْفِهِ ، وَالْيَدَيْنِ ، وَالرُّكْبَتَيْنِ ، وَالْقَدَمَيْنِ ، وَلا أَكُفَّ الثِّيَابَ وَلا الشَّعْرَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”مجھے اس بات کا حکم دیا گیا ہے کہ میں سات ہڈیوں پر سجدہ کروں: پیشانی“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دستِ مبارک کے ذریعے اپنی ناک کی طرف بھی اشارہ فرمایا، ”دونوں ہاتھ، دونوں گھٹنے اور دونوں پاؤں، اور میں (نماز کے دوران) کپڑے یا بالوں کو نہ موڑوں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1925]

1926

Sahih Ibn Hibban #1926

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذِ بْنِ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اعْتَدِلُوا فِي السُّجُودِ ، وَلا يَفْتَرِشْ أَحَدُكُمْ ذِرَاعَيْهِ افْتِرَاشَ الْكَلْبِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”سجدے کے دوران اعتدال اختیار کرو اور کوئی بھی شخص اپنی کلائیاں یوں نہ بچھائے جس طرح کتا بچھاتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1926]

1927

Sahih Ibn Hibban #1927

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا كَامِلُ بْنُ طَلْحَةَ الْجَحْدَرِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : اعْتَدِلُوا فِي السُّجُودِ ، وَلا يَكُونُ أَحَدُكُمْ بَاسِطَ ذِرَاعَيْهِ كَالْكَلْبِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”سجدے کے دوران اعتدال اختیار کرو اور کوئی بھی شخص کتے کی طرح اپنی کلائیاں نہ بچھائے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1927]

1928

Sahih Ibn Hibban #1928

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عِيسَى الْمِصْرِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ ، عَنْ سُمَيٍّ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : إِنَّأَقْرَبَ مَا يَكُونُ الْعَبْدُ مِنْ رَبِّهِ وَهُوَ سَاجِدٌ ، فَأَكْثِرُوا الدُّعَاءَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”بندہ اپنے پروردگار کے سب سے زیادہ قریب اس وقت ہوتا ہے جب بندہ سجدے کی حالت میں ہو، تو تم (اس حالت کے دوران) بکثرت دعا کیا کرو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1928]

1929

Sahih Ibn Hibban #1929

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مَحْمُودٍ السَّعْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ بَحْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُكْثِرُ أَنْ يَقُولَفِي رُكُوعِهِ ، وَسُجُودِهِ : سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ رَبَّنَا وَبِحَمْدِكَ ، اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي "يَتَأَوَّلُ الْقُرْآنَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رکوع اور سجود کے دوران بکثرت یہ کلمات «سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ رَبَّنَا وَبِحَمْدِكَ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي» پڑھا کرتے تھے: ”تو ہر عیب سے پاک ہے اے اللہ! اے ہمارے پروردگار! حمد تیرے لیے مخصوص ہے۔ اے اللہ! تو میری مغفرت کر دے۔“ (سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم قرآن کے حکم پر عمل کیا کرتے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1929]

1930

Sahih Ibn Hibban #1930

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ صَالِحٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ أَبِي الضُّحَى ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُكْثِرُ أَنْ يَقُولَفِي سُجُودِهِ : سُبْحَانَكَ رَبَّنَا وَبِحَمْدِكَ ، اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي ". قَالَتْ : فَكَانَ يَتَأَوَّلُ الْقُرْآنَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سجدے کے دوران بکثرت یہ کلمات پڑھا کرتے تھے: «سُبْحَانَكَ اللّٰهُمَّ رَبَّنَا وَبِحَمْدِكَ اللّٰهُمَّ اغْفِرْ لِي» ”تو ہر عیب سے پاک ہے اے ہمارے پروردگار! حمد تیرے لیے مخصوص ہے، اے اللہ! تو میری مغفرت کر دے۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم قرآن کے حکم پر عمل کیا کرتے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1930]

1931

Sahih Ibn Hibban #1931

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ ، عَنْ سُمَيٍّ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُفِي سُجُودِهِ : اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي ذَنْبِي كُلَّهُ ، دِقَّهُ وَجِلَّهُ ، وَأَوَّلَهُ وَآخِرَهُ ، وَعَلانِيَتَهُ وَسَرَّهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سجدے میں یہ پڑھا کرتے تھے: «اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي ذَنْبِي كُلَّهُ، دِقَّهُ وَجِلَّهُ، وَأَوَّلَهُ وَآخِرَهُ، وَعَلَانِيَتَهُ وَسِرَّهُ» ”اے اللہ! میرے تمام ذنوب کی مغفرت کر دے؛ جو خفی ہوں، جو جلی ہوں، جو پہلے کیے گئے ہوں، جو بعد میں ہوں، جو علانیہ طور پر ہوں اور جو پوشیدہ ہوں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1931]

1932

Sahih Ibn Hibban #1932

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : فَقَدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ مِنَ الْفِرَاشِ ، فَالْتَمَسْتُهُ ، فَوَقَعَتْ يَدِي عَلَى بَطْنِ قَدَمَيْهِ وَهُوَ فِي الْمَسْجِدِ ، وَهُمَا مَنْصُوبَتَانِ ، وَهُوَ يَقُولُ : اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِرِضَاكَ مِنْ سَخَطِكَ ، وَبِمُعَافَاتِكَ مِنْ عُقُوبَتِكَ ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْكَ ، لا أُحْصِي ثَنَاءً عَلَيْكَ أَنْتَ كَمَا أَثْنَيْتَ عَلَى نَفْسِكَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: ایک رات میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بستر پر غیر موجود پایا (اندھیرا ہونے کی وجہ سے) میں نے آپ کو تلاش کیا، تو میرا ہاتھ آپ کے پاؤں کے تلوے پر پڑا۔ آپ اس وقت جائے نماز پر تھے، آپ کے دونوں پاؤں کھڑے ہوئے تھے اور آپ (سجدے کی حالت میں) یہ کہہ رہے تھے: «اللَّهُمَّ أَعُوذُ بِرِضَاكَ مِنْ سَخَطِكَ، وَبِمُعَافَاتِكَ مِنْ عُقُوبَتِكَ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْكَ، لَا أُحْصِي ثَنَاءً عَلَيْكَ أَنْتَ كَمَا أَثْنَيْتَ عَلَى نَفْسِكَ» ”اے اللہ! میں تیری ناراضگی کے مقابلے میں تیری رضا مندی کی، تیری سزا کے مقابلے میں تیری معافی کی پناہ مانگتا ہوں اور میں تیری ذات کے مقابلے میں تیری پناہ مانگتا ہوں، میں تیری تعریف کا شمار نہیں کر سکتا، تو ویسا ہی ہے جیسے تو نے خود اپنی تعریف کی ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1932]

1933

Sahih Ibn Hibban #1933

أَخْبَرَنَا ابْنُ خُزَيْمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحِيمِ الْبَرْقِيُّ ، وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْكُوفِيُّ ، سَكَنَ الْفُسْطَاطَ ، قَالا : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عُمَارَةُ بْنُ غَزِيَّةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا النَّضْرِ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ ، يَقُولُ : قَالَتْ عَائِشَةُ : فَقَدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَكَانَ مَعِي عَلَى فِرَاشِي ، فَوَجَدْتُهُ سَاجِدًا ، رَاصًّا عَقِبَيْهِ ، مُسْتَقْبِلا بِأَطْرَافِ أَصَابِعِهِ لِلْقِبْلَةِ ، فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ : اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِرِضَاكَ مِنْ سَخَطِكَ ، وَبِعَفْوِكَ مِنْ عُقُوبَتِكَ ، وَبِكَ مِنْكَ أُثْنِي عَلَيْكَ ، لا أَبْلُغُ كُلَّ مَا فِيكَ " . فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا عَائِشَةُ ، أَحَرَّبَكِ شَيْطَانُكِ ؟ " . فَقُلْتُ : مَا لِي مِنْ شَيْطَانٍ . فَقَالَ : " مَا مِنْ آدَمِيٍّ إِلا لَهُ شَيْطَانٌ " . فَقُلْتُ : وَأَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " وَأَنَا ، وَلَكِنِّي دَعَوْتُ اللَّهَ عَلَيْهِ فَأَسْلَمَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: (ایک مرتبہ رات کے وقت میری آنکھ کھلی) میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو غیر موجود پایا حالانکہ پہلے آپ میرے ساتھ بستر پر موجود تھے (اندھیرے میں، میں نے آپ کو تلاش کرنے کی کوشش کی) تو میں نے آپ کو سجدے کی حالت میں پایا۔ آپ نے اپنی ایڑیاں کھڑی کی ہوئی تھیں اور اپنی انگلیوں کے کناروں کا رُخ قبلہ کی طرف کیا ہوا تھا۔ میں نے آپ کو یہ کہتے ہوئے سنا: «اللَّهُمَّ أَعُوذُ بِرِضَاكَ مِنْ سَخَطِكَ، وَبِمُعَافَاتِكَ مِنْ عُقُوبَتِكَ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْكَ، لَا أُحْصِي ثَنَاءً عَلَيْكَ، أَنْتَ كَمَا أَثْنَيْتَ عَلَى نَفْسِكَ» ”اے اللہ! میں تیری ناراضگی کے مقابلے میں تیری رضا مندی کی، تیرے سزا دینے کے مقابلے میں تیری معافی کی اور تیری ذات کے مقابلے میں تیری پناہ مانگتا ہوں، میں تیری تعریف کرتا ہوں لیکن میں تیرے اندر موجود (ہر خوبی) تک نہیں پہنچ سکتا۔“ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس سے فارغ ہوئے، تو آپ نے ارشاد فرمایا: ”اے عائشہ! کیا تمہارے شیطان نے تمہیں بہکانے کی کوشش کی تھی؟“ میں نے عرض کی: میرا شیطان کہاں سے آ گیا؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر انسان کے ساتھ اس کا مخصوص شیطان ہوتا ہے۔“ میں نے دریافت کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا آپ کے ساتھ بھی ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے ساتھ بھی ہے، لیکن میں نے اللہ تعالیٰ سے اس کے لیے دعا کی تو اس نے اسلام قبول کر لیا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1933]

1934

Sahih Ibn Hibban #1934

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي عَوْنٍ الرَّيَّانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، عَنْ أَبِي قِلابَةَ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ : أَنَّهُ رَأَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ،يُصَلِّي فَإِذَا كَانَ فِي وِتْرٍ مِنْ صَلاتِهِ ، لَمْ يَنْهَضْ حَتَّى يَسْتَوِيَ جَالِسًا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز ادا کرتے ہوئے دیکھا ہے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کی طاق رکعت (یعنی تیسری رکعت) کے لیے کھڑے ہوتے تھے، تو اس وقت تک نہیں اٹھتے تھے جب تک پہلے سیدھے بیٹھ نہیں جاتے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1934]

1935

Sahih Ibn Hibban #1935

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ السَّخْتِيَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، عَنْ أَبِي قِلابَةَ أَنَّهُ حَدَّثَ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ ، قَالَ : دَخَلَ عَلَيْنَا مَسْجِدَنَا قَالَ : إِنِّي لأُصَلِّي وَمَا أُرِيدُ الصَّلاةَ ، وَلَكِنِّي أُرِيدُ أَنْ أُعَلِّمَكُمْ كَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي . قَالَ : فَذَكَرَ اللَّهَ حَيْثُ رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ السُّجُودِ فِي الرَّكْعَةِ الأُولَى ، اسْتَوَى قَاعِدًا ، ثُمَّ قَامَ فَاعْتَمَدَ عَلَى الأَرْضِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابوقلابہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ ہمارے پاس ہماری مسجد میں تشریف لائے اور انہوں نے فرمایا: ”میں نماز ادا کرنے لگا ہوں، میرا نماز ادا کرنے کا ارادہ نہیں ہے بلکہ میرا ارادہ یہ ہے کہ میں تمہیں اس بات کی تعلیم دوں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کس طرح نماز ادا کیا کرتے تھے۔“ انہوں نے یہ بات بیان کی کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پہلی رکعت میں (دوسرے) سجدے کے بعد سر کو اٹھاتے تھے، تو پہلے سیدھے بیٹھتے تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم زمین کا سہارا لے کر کھڑے ہوتے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1935]

1936

Sahih Ibn Hibban #1936

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَسْلَمَ الطُّوسِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَبْدِ الْوَاحِدِ بْنِ زِيَادٍ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ،إِذَا نَهَضَ مِنَ الرَّكْعَةِ الثَّانِيَةِ ، اسْتَفْتَحَ الْقِرَاءَةَ وَلَمْ يَسْكُتْ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب دو رکعات ادا کرنے کے بعد اٹھتے تھے تو آپ قرأت کا آغاز کرتے تھے، آپ خاموش نہیں ہوتے تھے (یعنی قرأت سے پہلے ثناء نہیں پڑھتے تھے)۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1936]

1937

Sahih Ibn Hibban #1937

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي عَوْنٍ الثَّقَفِيِّ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ قَالَ عُمَرُ ، لِسَعْدٍ : قَدْ شَكَاكَ أَهْلُ الْكُوفَةِ فِي كُلِّ شَيْءٍ حَتَّى فِي الصَّلاةِ . فَقَالَ : أُطِيلُ الأُولَيَيْنِ ، وَأَحْذِفُ فِي الأُخْرَيَيْنِ ، وَمَا آلُو مِنْ صَلاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ". فَقَالَ : ذَاكَ الظَّنُّ بِكَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے کہا: اہل کوفہ نے ہر معاملے میں آپ کی شکایت کی ہے یہاں تک کہ نماز کے بارے میں بھی کی ہے، تو سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: میں ابتدائی دو رکعات طویل ادا کرتا ہوں اور آخری دو رکعات مختصر ادا کرتا ہوں اور میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے طریقے کے حوالے سے کوئی کوتاہی نہیں کرتا، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: آپ کے بارے میں یہی گمان تھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1937]

1938

Sahih Ibn Hibban #1938

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ مَوْهِبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ هُرْمُزَ الأَعْرَجِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُحَيْنَةَ الأَسَدِيِّ ، حَلِيفِ بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ،قَامَ مِنْ صَلاةِ الظُّهْرِ وَعَلَيْهِ جُلُوسٌ ، فَلَمَّا أَتَمَّ صَلاتَهُ ، سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ قَبْلَ أَنْ يُسَلِّمَ ، وَسَجَدَهُمَا النَّاسُ مَعَهُ مَكَانَ مَا نَسِيَ مِنَ الْجُلُوسِ ". قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : فِي قِيَامِ النَّاسِ خَلْفَ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، عِنْدَ قِيَامِهِ مِنْ مَوْضِعِ جَلْسَتِهِ الأُولَى ، وَتَرْكِهِ الإِنْكَارَ عَلَيْهِمْ ، ذَلِكَ أَبْيَنُ الْبَيَانِ عَلَى أَنَّ الْقَعْدَةَ الأُولَى فِي الصَّلاةِ غَيْرُ فَرْضٍ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن بحینہ اسدی رضی اللہ عنہ جو بنو عبدالمطلب کے حلیف ہیں وہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ظہر کی نماز میں کھڑے ہو گئے اس وقت جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر بیٹھنا لازم تھا، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز مکمل کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرنے سے پہلے بیٹھنے کے دوران دو مرتبہ سجدہ سہو کیا۔ لوگوں نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ دو سجدے کیے، یہ اس کی جگہ تھا جو بیٹھنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھول گئے تھے۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) جس مقام پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے قعدہ کے لیے بیٹھنا تھا، اس مقام پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کھڑے ہونے کے وقت لوگوں کا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے کھڑے ہو جانا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ان کی اس حرکت پر انکار نہ کرنا اس بات کا واضح بیان ہے کہ نماز میں پہلا قعدہ فرض نہیں ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1938]

1939

Sahih Ibn Hibban #1939

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ مَوْهِبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ هُرْمُزَ الأَعْرَجِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُحَيْنَةَ الأَسَدِيِّ ، حَلِيفِ بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَقَامَ مِنْ صَلاةِ الظُّهْرِ وَعَلَيْهِ جُلُوسٌ ، فَلَمَّا أَتَمَّ صَلاتَهُ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ قَبْلَ أَنْ يُسَلِّمَ ، وَسَجَدَهُمَا النَّاسُ مَكَانَ مَا نَسِيَ مِنَ الْجُلُوسِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن بحینہ اسدی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ظہر کی نماز میں اس وقت کھڑے ہو گئے جب آپ پر بیٹھنا لازم تھا، جب آپ نے نماز مکمل کر لی تو آپ نے سلام پھیرنے سے پہلے بیٹھنے کے دوران دو سجدے کیے، لوگوں نے بھی یہ دو سجدے کیے، یہ اس کی جگہ تھے جو بیٹھنا آپ بھول گئے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1939]

1940

Sahih Ibn Hibban #1940

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْجُنَيْدِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ مُضَرَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شِمَاسَةَ ، قَالَ :صَلَّى بِنَا عُقْبَةُ بْنُ عَامِرٍ ، فَقَامَ وَعَلَيْهِ جُلُوسٌ ، فَقَالَ النَّاسُ وَرَاءَهُ : سُبْحَانَ اللَّهِ ، فَلَمْ يَجْلِسْ فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ صَلاتِهِ ، سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ، فَقَالَ : إِنِّي سِمِعْتُكُمْ تَقُولُونَ : سُبْحَانَ اللَّهِ كَيْمَا أَجْلِسَ ، وَلَيْسَ تِلْكَ سُنَّةً ، إِنَّمَا السُّنَّةُ الَّتِي صَنَعْتُهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبدالرحمن بن شماسہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ نے ہمیں نماز پڑھائی، وہ اس وقت کھڑے ہو گئے جب ان پر بیٹھنا لازم تھا، تو ان کے پیچھے موجود لوگوں نے «سُبْحَانَ اللَّهِ» ”سبحان اللہ“ کہا لیکن وہ نہیں بیٹھے، جب وہ نماز پڑھ کر فارغ ہوئے تو انہوں نے بیٹھنے کے دوران دو مرتبہ سجدہ کیا (نماز سے فارغ ہونے کے بعد)، انہوں نے فرمایا: میں نے تم لوگوں کا «سُبْحَانَ اللَّهِ» ”سبحان اللہ“ کہنا سن لیا تھا لیکن یہ سنت نہیں ہے، سنت وہ ہے جو میں نے کیا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1940]

1941

Sahih Ibn Hibban #1941

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ مَوْهِبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ هُرْمُزَ الأَعْرَجِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُحَيْنَةَ الأَسَدِيِّ ، حَلِيفِ بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ،قَامَ مِنْ صَلاةِ الظُّهْرِ وَعَلَيْهِ جُلُوسٌ ، فَلَمَّا أَتَمَّ صَلاتَهُ ، سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ قَبْلَ أَنْ يُسَلِّمَ ، وَسَجَدَهُمَا النَّاسُ مَعَهُ ، مَكَانَ مَا نَسِيَ مِنَ الْجُلُوسِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن بحینہ اسدی رضی اللہ عنہ، جو عبدالمطلب کے حلیف ہیں، وہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ظہر کی نماز میں اس وقت کھڑے ہو گئے جب آپ پر بیٹھنا لازم تھا، جب آپ نے نماز مکمل کی تو آپ نے سلام پھیرنے سے پہلے بیٹھنے کے دوران دو سجدے کیے، آپ کے ہمراہ لوگوں نے بھی یہ دو سجدے کیے، یہ اس کی جگہ تھا جو بیٹھنا آپ بھول گئے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1941]

1942

Sahih Ibn Hibban #1942

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُعَاوِيِّ ، ، أَنَّهُ قَالَ : رَآنِي ابْنُ عُمَرَ وَأَنَا أَعْبَثُ بِالْحَصَى فِي الصَّلاةِ ، فَلَمَّا انْصَرَفَ نَهَانِي ، وَقَالَ : اصْنَعْ كَمَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُ ، قَالَ : كَانَإِذَا جَلَسَ فِي الصَّلاةِ وَضَعَ كَفَّهُ الْيُمْنَى عَلَى فَخِذِهِ الْيُمْنَى ، وَقَبَضَ أَصَابِعَهُ كُلَّهَا ، وَأَشَارَ بِأُصْبُعِهِ الَّتِي تَلِي الإِبْهَامَ ، وَوَضَعَ كَفَّهُ الْيُسْرَى عَلَى فَخِذِهِ الْيُسْرَى """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

علی بن عبدالرحمن معاوی بیان کرتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے مجھے دیکھا، میں نماز کے دوران کنکریوں سے کھیل رہا تھا، جب انہوں نے نماز مکمل کی تو مجھے (ایسا کرنے سے) منع کیا، اور ارشاد فرمایا: ”تم اس طرح کرو جس طرح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کیا کرتے تھے۔“ انہوں نے بتایا: ”جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے دوران بیٹھتے تھے، تو آپ اپنی دائیں ہتھیلی کو اپنے دائیں زانو پر رکھتے تھے۔ آپ اپنی تمام انگلیوں کو سمیٹ لیتے تھے اور انگوٹھے کے ساتھ والی انگلی کے ذریعے اشارہ کرتے تھے اور آپ اپنی بائیں ہتھیلی کو اپنے بائیں زانو پر رکھتے تھے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1942]

1943

Sahih Ibn Hibban #1943

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ ، عَنِ ابْنِ عَجْلانَ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَإِذَا جَلَسَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ ، افْتَرَشَ الْيُسْرَى ، وَنَصَبَ الْيُمْنَى ، وَوَضَعَ إِبْهَامَهُ عَلَى الْوُسْطَى ، وَأَشَارَ بِالسَّبَّابَةِ ، وَوَضَعَ كَفَّهُ الْيُسْرَى عَلَى فَخِذِهِ الْيُسْرَى ، وَأَلْقَمَ كَفَّهُ الْيُسْرَى رُكْبَتَهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عامر بن عبداللہ اپنے والد رضی اللہ عنہما کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب دو رکعات ادا کرنے کے بعد بیٹھتے تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم بائیں ٹانگ کو بچھا لیتے تھے اور دائیں پاؤں کو کھڑا کر لیتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے انگوٹھے کو درمیانی انگلی پر رکھتے تھے اور شہادت کی انگلی کے ذریعے اشارہ کرتے تھے۔ آپ اپنی بائیں ہتھیلی کو بائیں زانو پر رکھتے تھے اور آپ اپنی بائیں ہتھیلی کو گھٹنے پر رکھتے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1943]

1944

Sahih Ibn Hibban #1944

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى الْقَطَّانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ عَجْلانَ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَإِذَا تَشَهَّدَ وَضَعَ يَدَهُ الْيُسْرَى عَلَى فَخِذِهِ الْيُسْرَى ، وَوَضَعَ يَدَهُ الْيُمْنَى عَلَى فَخِذِهِ الْيُمْنَى ، وَأَشَارَ بِأُصْبُعِهِ السَّبَّابَةِ لا يُجَاوِزُ بَصَرُهُ إِشَارَتَهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عامر بن عبداللہ اپنے والد (عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما) کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب تشہد میں بیٹھتے تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا بایاں ہاتھ اپنے بائیں زانو پر رکھتے اور دایاں ہاتھ دائیں زانو پر رکھتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی شہادت کی انگلی کے ذریعے اشارہ کیا کرتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نگاہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اشارے سے آگے نہیں بڑھتی تھی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1944]

1945

Sahih Ibn Hibban #1945

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ يُوسُفَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ ، قَالَ : قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ ، وَهُمْ يَنْفُضُونَ أَيْدِيَهُمْ مِنْ تَحْتِ الثِّيَابِ ، فَقُلْتُ : لأَنْظُرَنَّ إِلَى صَلاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : فَكَبَّرَ حَتَّى افْتَتَحَ الصَّلاةَ ، وَرَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى رَأَيْتُ إِبْهَامَيْهِ قَرِيبًا مِنْ أُذُنَيْهِ ، قَالَ : ثُمَّ أَخَذَ شِمَالَهُ بِيَمِينِهِ ، فَلَمَّا رَكَعَ رَفَعَ يَدَيْهِ ، فَلَمَّا رَفَعَ رَأْسَهُ قَالَ : سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ ، ثُمَّ كَبَّرَ ، وَرَفَعَ يَدَيْهِ ، ثُمَّ سَجَدَ ، فَوَضَعَ رَأْسَهُ بَيْنَ يَدَيْهِ فِي الْمَوْضِعِ مِنْ وَجْهِهِ ، فَلَمَّا جَلَسَ افْتَرَشَ قَدَمَيْهِ ، وَوَضَعَ مِرْفَقَهُ الأَيْمَنَ عَلَى فَخِذِهِ الْيُمْنَى ، وَقَبَضَ خِنْصَرَهُ وَالَّتِي تَلِيهَا ، وَجَمَعَ بَيْنَ إِبْهَامِهِ وَالْوُسْطَى ، وَرَفَعَ الَّتِي تَلِيهَا يَدْعُو بِهَا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عاصم بن کلیب اپنے والد کے حوالے سے سیدنا وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ ہم لوگ مدینہ منورہ آئے، تو لوگ اپنے ہاتھ اپنے کپڑوں (یعنی چادروں) کے اندر رکھے ہوئے تھے، میں نے سوچا: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کا ضرور جائزہ لوں گا۔ راوی بیان کرتے ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تکبیر کہی، نماز کا آغاز کیا اور رفع یدین کیا، یہاں تک کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے انگوٹھوں کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کانوں کے قریب دیکھا۔ راوی بیان کرتے ہیں: پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دائیں ہاتھ کے ذریعے بائیں ہاتھ کو پکڑ لیا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم رکوع میں گئے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رفع یدین کیا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سر اٹھایا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے «سَمِعَ اللّٰهُ لِمَنْ حَمِدَهُ» ”اللہ نے اس کی بات سن لی جس نے اس کی تعریف کی“ پڑھا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تکبیر کہی اور رفع یدین کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدے میں چلے گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سر دونوں ہاتھوں کے درمیان چہرے کے مد مقابل رکھا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں پاؤں کو بچھا لیا اور دائیں کہنی کو دائیں زانو پر رکھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سب سے چھوٹی انگلی اور اس کے ساتھ والی انگلی کو بند کیا، اپنے انگوٹھے اور درمیانی انگلی کو اکٹھا کیا اور اس کے ساتھ والی انگلی (یعنی شہادت کی انگلی) کو بلند کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے ہمراہ دعا پڑھی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1945]

1946

Sahih Ibn Hibban #1946

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا مُجَاهِدُ بْنُ مُوسَى الْمُخَرِّمِيُّ ، حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ حَرْبٍ الْمَدَائِنِيُّ ، حَدَّثَنَا عِصَامُ بْنُ قُدَامَةَ الْجَدَلِيُّ ، أَخْبَرَنَا مَالِكُ بْنُ نُمَيْرٍ الْخُزَاعِيُّ ، أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ ، أَنَّهُ : رَأَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الصَّلاةِوَاضِعًا الْيُمْنَى عَلَى فَخِذِهِ الْيُمْنَى ، رَافِعًا أُصْبُعَهُ السَّبَّابَةَ قَدْ حَنَاهَا شَيْئًا وَهُوَ يَدْعُو """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

مالک بن نمیر خزاعی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ ان کے والد رضی اللہ عنہ نے انہیں یہ بات بتائی ہے کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز کے دوران اپنا دایاں ہاتھ دائیں زانو پر رکھے ہوئے دیکھا ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے شہادت کی انگلی اٹھائی ہوئی تھی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو تھوڑا سا جھکایا ہوا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم دعا مانگ رہے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1946]

1947

Sahih Ibn Hibban #1947

أَخْبَرَنَا ابْنُ خُزَيْمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُعَاوِيِّ عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، ، أَنَّهُ رَأَى رَجُلا يُحَرِّكُ الْحَصَى بِيَدِهِ وَهُوَ فِي الصَّلاةِ فَلَمَّا انْصَرَفَ ، قَالَ لَهُ عَبْدُ اللَّهِ : لا تُحَرِّكِ الْحَصَى وَأَنْتَ فِي الصَّلاةِ ، فَإِنَّ ذَلِكَ مِنَ الشَّيْطَانِ ، وَلَكِنِ اصْنَعْ كَمَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُ ، قَالَ :" فَوَضَعَ يَدَهُ الْيُمْنَى عَلَى فَخِذِهِ ، وَأَشَارَ بِأُصْبُعِهِ الَّتِي تَلِي الإِبْهَامَ إِلَى الْقِبْلَةِ ، وَرَمَى بِبَصَرِهِ إِلَيْهَاأَوْ نَحْوَهَا " ، ثُمَّ قَالَ : هَكَذَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے بارے میں یہ بات منقول ہے، انہوں نے ایک شخص کو نماز کے دوران اپنے ہاتھ کے ذریعے کنکریوں کو حرکت دیتے ہوئے دیکھا، جب اس نے نماز مکمل کی تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہما نے اس سے فرمایا: ”تم نماز کے دوران کنکریوں کو حرکت نہ دو کیونکہ یہ عمل شیطان کی طرف سے ہوتا ہے بلکہ تم اس طرح کرو جس طرح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کیا کرتے تھے۔“ راوی بیان کرتے ہیں: پھر سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنا دایاں ہاتھ اپنے زانو پر رکھا اور انہوں نے انگوٹھے کے ساتھ والی انگلی کے ذریعہ قبلہ کی طرف اشارہ کیا۔ انہوں نے اپنی نگاہ اس انگلی کی طرف (راوی کو شک ہے، شاید یہ الفاظ ہیں:) اس انگلی کی سمت رکھی۔ پھر انہوں نے فرمایا: ”میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس طرح کرتے ہوئے دیکھا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1947]

1948

Sahih Ibn Hibban #1948

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا حُصَيْنُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، وَالْمُغِيرَةُ ، وَالأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : كُنَّا إِذَا جَلَسْنَا خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الصَّلاةِ ، نَقُولُ : السَّلامُ عَلَى اللَّهِ ، السَّلامُ عَلَى جِبْرِيلَ ، السَّلامُ عَلَى مِيكَائِيلَ السَّلامُ عَلَى فُلانٍ ، السَّلامُ عَلَى فُلانٍ ، فَالْتَفَتَ إِلَيْنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : إِنَّاللَّهَ هُوَ السَّلامُ ، فَقُولُوا : التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ ، وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ ، السَّلامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ ، السَّلامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ ، أَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ ، فَإِنَّكُمْ إِذَا فَعَلْتُمْ ذَلِكَ فَقَدْ سَلَّمْتُمْ عَلَى كُلِّ عَبْدٍ صَالِحٍ فِي السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: پہلے جب ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز میں بیٹھتے تھے، تو ہم یہ پڑھتے تھے: ”اللہ تعالیٰ پر سلام ہو، سیدنا جبرائیل پر سلام ہو، سیدنا میکائیل پر سلام ہو، فلاں پر سلام ہو، فلاں پر سلام ہو“، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہماری طرف متوجہ ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ تو خود سلام ہے، تم لوگ یہ پڑھو: «التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ، السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ، السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ» ”ہر طرح کی زبانی، جسمانی اور مالی عبادات اللہ تعالیٰ کے لئے مخصوص ہیں۔ اے نبی! آپ پر سلام ہو، اللہ تعالیٰ کی رحمتیں اور اس کی برکتیں نازل ہوں، ہم پر اور اللہ تعالیٰ کے تمام نیک بندوں پر سلام ہو۔ میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے اور میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ سیدنا محمد اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔“ (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:) ”جب تم لوگ ایسا کر لو گے تو تم آسمان اور زمین میں موجود ہر نیک بندے پر سلام بھیج دو گے۔““ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1948]

1949

Sahih Ibn Hibban #1949

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ حَمَّادٍ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : كُنَّا نَقُولُ : السَّلامُ عَلَى اللَّهِ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لا تَقُولُوا : السَّلامُ عَلَى اللَّهِ ، فَإِنَّاللَّهَ هُوَ السَّلامُ وَأَمَرَهُمْ بِالتَّشَهُّدِ : التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ ، السَّلامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ ، السَّلامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ ، أَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم لوگ پہلے یہ پڑھا کرتے تھے: ”اللہ تعالیٰ پر سلام ہو۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم لوگ یہ نہ کہو: ”اللہ تعالیٰ پر سلام ہو“ کیونکہ اللہ تعالیٰ خود سلامتی عطا کرنے والا ہے۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو تشہد (کہ یہ کلمات پڑھنے) کا حکم دیا: «اَلتَّحِيَّاتُ لِلّٰهِ وَالصَّلَوٰتُ وَالطَّيِّبَاتُ، اَلسَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللّٰهِ وَبَرَكَاتُهُ، اَلسَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلٰى عِبَادِ اللّٰهِ الصَّالِحِينَ، أَشْهَدُ أَنْ لَّا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ» ”تمام زبانی، جسمانی اور مالی عبادات اللہ تعالیٰ کے لئے مخصوص ہیں۔ اے نبی! آپ پر سلام ہو، اللہ تعالیٰ کی رحمتیں اور اس کی برکتیں نازل ہوں۔ ہم پر اور اللہ تعالیٰ کے تمام نیک بندوں پر بھی سلام ہو۔ میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے اور میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1949]

1950

Sahih Ibn Hibban #1950

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُحَمَّدٍ الدَّغُولِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا الثَّوْرِيُّ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، وَالأَعْمَشِ ، وأبي هاشم ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، وَعَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الأَسْوَدِ ، وأبي الأحوص ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : كُنَّا لا نَدْرِي مَا نَقُولُ فِي الصَّلاةِ ، نَقُولُ : السَّلامُ عَلَى جِبْرِيلَ ، السَّلامُ عَلَى مِيكَائِيلَ ، فَعَلَّمَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَقَالَ : إِنَّاللَّهَ هُوَ السَّلامُ ، فَإِذَا جَلَسْتُمْ فِي الرَّكْعَتَيْنِ فَقُولُوا : التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ ، وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ ، السَّلامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ ، وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ ، السَّلامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ قَالَ أَبُو وَائِلٍ فِي حَدِيثِهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ : إِذَا قُلْتُهَا أَصَابَتْ كُلَّ مَلَكٍ مُقَرَّبٍ ، وَنَبِيٍّ مُرْسَلٍ ، وَعَبْدٍ صَالِحٍ أَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: پہلے ہمیں یہ پتا نہیں تھا کہ ہمیں نماز میں کیا پڑھنا چاہیے، تو ہم یہ کہا کرتے تھے: سیدنا جبرائیل پر سلام ہو، سیدنا میکائیل پر سلام ہو، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں تعلیم دی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ” «إِنَّ اللَّهَ هُوَ السَّلَامُ» ”اللہ تعالیٰ تو خود سلامتی عطا کرنے والا ہے، جب تم دو رکعات ادا کرنے کے بعد بیٹھو تو یہ پڑھو: «التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ، السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ، السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ» ”تمام زبانی، جسمانی اور مالی عبادات اللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص ہیں۔ اے نبی! آپ پر سلام ہو، اللہ تعالیٰ کی رحمتیں اور اس کی برکتیں نازل ہوں، ہم پر اور اللہ تعالیٰ کے تمام نیک بندوں پر سلام ہو۔““ ابووائل نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول اپنی روایت میں یہ الفاظ نقل کیے ہیں۔ (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:) ”جب تم یہ کلمات پڑھ لو گے تو ہر مقرب فرشتے، ہر مرسل نبی اور ہر نیک بندے تک یہ سلام پہنچ جائے گا، (تم یہ بھی پڑھو:) «أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ» ”میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے اور میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔““ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1950]

1951

Sahih Ibn Hibban #1951

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ ، قَالا : أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَبُو إِسْحَاقَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَبُو الأَحْوَصِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : كُنَّا لا نَدْرِي مَا نَقُولُ فِي كُلِّ رَكْعَتَيْنِ ، إِلا أَنْ نُسَبِّحَ وَنُكَبِّرَ وَنُحَمِّدَ رَبَّنَا ، وَإِنَّ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عُلِّمَ فَوَاتِحَ الْخَيْرِ وَخَوَاتِمَهُ ، أَوْ قَالَ جَوَامِعَهُ ، وَإِنَّهُ قَالَ لَنَا : إِذَا قَعَدْتُمْ فِي كُلِّ رَكْعَتَيْنِ فَقُولُوا : التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ ، السَّلامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ ، السَّلامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ ، أَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ ، ثُمَّ لِيَتَخَيَّرْ مِنَ الدُّعَاءِ مَا أَعْجَبَهُ ، فَلْيَدْعُ بِهِ رَبَّهُ ". قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : الأَمْرُ بِالْجُلُوسِ فِي كُلِّ رَكْعَتَيْنِ أَمْرُ فَرْضٍ دَلَّ فِعْلُهُ مَعَ تَرْكِ الإِنْكَارِ عَلَى مَنْ خَلْفَهُ عَلَى أَنَّ الْجُلُوسَ الأَوَّلَ نَدْبٌ ، وَبَقِيَ الآخَرُ عَلَى حَالَتِهِ فَرْضًا"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہمیں اس بات کا علم نہیں تھا کہ ہمیں دو رکعات پڑھنے کے بعد (تشہد کے دوران) کیا پڑھنا چاہیے، صرف یہ پتا تھا کہ ہمیں تسبیح بیان کرنی چاہیے، تکبیر پڑھنی چاہیے اور اپنے پروردگار کی حمد بیان کرنی چاہیے۔ سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو بھلائی کو کھولنے والی چیزوں اور بھلائی کے مجموعوں (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں:) بھلائی کے بارے میں جامع باتوں کا علم عطا کیا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے یہ فرمایا: ”جب تم دو رکعات ادا کرنے کے بعد بیٹھو تو تم یہ پڑھو: «التَّحِيَّاتُ لِلّٰهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ، السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللّٰهِ وَبَرَكَاتُهُ، السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللّٰهِ الصَّالِحِينَ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللّٰهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ» ”تمام زبانی، جسمانی اور مالی عبادات اللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص ہیں، اے نبی! آپ پر سلام ہو، اللہ تعالیٰ کی رحمتیں اور اس کی برکتیں نازل ہوں، ہم پر اور اللہ تعالیٰ کے تمام نیک بندوں پر بھی سلام ہو۔ میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے اور میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ سیدنا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔“ (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:) ”پھر دعا کے بارے میں آدمی کو اختیار ہے، وہ جو چاہے اپنے پروردگار سے دعا مانگے۔““ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) دو رکعات کے بعد بیٹھنے کا حکم ہونا ایک فرض حکم ہے لیکن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فعل اور اس کے ہمراہ آپ کا اپنے پیچھے موجود لوگوں کا انکار نہ کرنا اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ پہلا قعدہ مستحب ہے جبکہ دوسرا قعدہ اپنی حالت پر فرض رہے گا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1951]

1952

Sahih Ibn Hibban #1952

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا كَامِلُ بْنُ طَلْحَةَ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، وَطَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعَلِّمُنَا التَّشَهُّدَ كَمَا يُعَلِّمُنَا السُّورَةَ مِنَ الْقُرْآنِ : التَّحِيَّاتُ الْمُبَارَكَاتُ الصَّلَوَاتُ الطَّيِّبَاتُ لِلَّهِ ، السَّلامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ ، سَلامٌ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ ، أَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں تشہد کی تعلیم اس طرح دیا کرتے تھے جس طرح آپ ہمیں قرآن کی کوئی سورت سکھاتے تھے (تشہد کے کلمات یہ ہیں): «التَّحِيَّاتُ الْمُبَارَكَاتُ الصَّلَوَاتُ الطَّيِّبَاتُ لِلَّهِ، السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ، السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ» ”تمام برکت والی زبانی عبادات اور پاکیزہ دعائیں اللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص ہیں۔ اے نبی! آپ پر سلام ہو، اللہ تعالیٰ کی رحمتیں اور اس کی برکتیں نازل ہوں، ہم پر اور اللہ تعالیٰ کے تمام نیک بندوں پر بھی سلام ہو۔ میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے اور میں اس بات کی بھی گواہی دیتا ہوں کہ سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1952]

1953

Sahih Ibn Hibban #1953

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، مِنْ كِتَابِهِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ مَوْهِبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، وَطَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعَلِّمُنَا التَّشَهُّدَ كَمَا يُعَلِّمُنَا السُّورَةَ مِنَ الْقُرْآنِ ، كَانَ يَقُولُ : التَّحِيَّاتُ الْمُبَارَكَاتُ الصَّلَوَاتُ الطَّيِّبَاتُ لِلَّهِ ، السَّلامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ ، سَلامٌ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ ، أَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ ". قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : تَفَرَّدَ بِهِ أَبُو الزُّبَيْرِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں تشہد کی تعلیم اس طرح دیتے تھے جس طرح آپ ہمیں قرآن کی کسی سورت کی تعلیم دیتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ پڑھا کرتے تھے: «التَّحِيَّاتُ الْمُبَارَكَاتُ الصَّلَوَاتُ الطَّيِّبَاتُ لِلّٰهِ، السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللّٰهِ وَبَرَكَاتُهُ، السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلٰى عِبَادِ اللّٰهِ الصَّالِحِينَ، أَشْهَدُ أَنْ لَّا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللّٰهِ» ”برکت والی زبانی عبادات اور پاکیزہ جسمانی عبادات اللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص ہیں۔ اے نبی! آپ پر سلام ہو، اللہ تعالیٰ کی رحمتیں اور اس کی برکتیں نازل ہوں۔ ہم پر اور اللہ تعالیٰ کے نیک بندوں پر بھی سلام ہو۔ میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے اور میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) اس روایت کو نقل کرنے میں ابوزبیر نامی راوی منفرد ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1953]

1954

Sahih Ibn Hibban #1954

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، مَوْلَى ثَقِيفٍ ، حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، وَطَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعَلِّمُنَا التَّشَهُّدَ كَمَا يُعَلِّمُنَا السُّورَةَ مِنَ الْقُرْآنِ ، فَكَانَ يَقُولُ : التَّحِيَّاتُ الْمُبَارَكَاتُ الصَّلَوَاتُ الطَّيِّبَاتُ لِلَّهِ ، السَّلامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ ، سَلامٌ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ ، أَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں تشہد کی تعلیم اس طرح دیتے تھے جس طرح آپ ہمیں قرآن کی کسی سورت کی تعلیم دیتے تھے، آپ یہ پڑھا کرتے تھے: «التَّحِيَّاتُ الْمُبَارَكَاتُ الصَّلَوَاتُ الطَّيِّبَاتُ لِلَّهِ، السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ، السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ» ”برکت والی زبانی عبادات اور پاکیزہ جسمانی عبادات اللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص ہیں۔ اے نبی! آپ پر سلام ہو، اللہ تعالیٰ کی رحمتیں اور برکتیں نازل ہوں۔ ہم پر اور اللہ تعالیٰ کے تمام نیک بندوں پر بھی سلام ہو۔ میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں، اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں اور میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں، سیدنا محمد اللہ کے رسول ہیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1954]

1955

Sahih Ibn Hibban #1955

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، عَنْ شَقِيقِ بْنِ سَلَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : كُنَّا إِذَا جَلَسْنَا خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قُلْنَا : السَّلامُ عَلَى اللَّهِ قَبْلَ عِبَادِهِ ، السَّلامُ عَلَى جِبْرِيلَ ، السَّلامُ عَلَى مِيكَائِيلَ ، السَّلامُ عَلَى فُلانٍ وَفُلانٍ ، فَلَمَّا انْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الصَّلاةِ ، قَالَ : إِنَّاللَّهَ هُوَ السَّلامُ ، فَإِذَا جَلَسَ أَحَدُكُمْ فِي الصَّلاةِ فَلْيَكُنْ مِنْ أَوَّلِ قَوْلِهِ : التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ ، وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ ، السَّلامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ ، السَّلامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ ، فَإِذَا قَالَهَا أَصَابَتْ كُلَّ عَبْدٍ صَالِحٍ فِي السَّمَاءِ وَالأَرْضِ ، أَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ ، ثُمَّ يَتَخَيَّرْ مِنَ الدُّعَاءِ مَا أَحَبَّ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ پہلے جب ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے (نماز کے دوران) بیٹھتے تھے، تو ہم یہ پڑھتے تھے کہ اللہ تعالیٰ پر اس کے بندوں سے پہلے سلام ہو، جبرائیل پر سلام ہو، سیدنا میکائیل پر سلام ہو اور فلاں پر سلام ہو، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز مکمل کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بے شک اللہ تعالیٰ تو خود سلام ہے، لہٰذا جب کوئی شخص نماز کے دوران بیٹھے تو اسے سب سے پہلے یہ پڑھ لینا چاہیے: «التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ، السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ، السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ» ”تمام جسمانی اور زبانی اور مالی عبادات اللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص ہیں۔ اے نبی! آپ پر سلام ہو، اللہ تعالیٰ کی رحمتیں اور اس کی برکتیں نازل ہوں، ہم پر اور اللہ تعالیٰ کے تمام نیک بندوں پر سلام ہو۔“ (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں) جب بندہ یہ کلمات پڑھ لے گا، تو آسمان اور زمین میں موجود ہر نیک بندے تک (سلام) پہنچ جائے گا۔ (اس کے بعد آدمی یہ پڑھے) «أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ» ”میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں، اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے اور میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں، سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔“ (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں) پھر دعا کے حوالے سے آدمی کو اختیار ہے، جو وہ پسند کرے (وہ دعا مانگ لے)۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1955]

1956

Sahih Ibn Hibban #1956

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْجَرَادِيُّ ، بِالْمَوْصِلِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ زُرَيْقٍ الرَّسْعَنِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ خَالِدٍ الصَّنْعَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الثَّوْرِيُّ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، وَمَنْصُورٍ ، وَحُصَيْنٍ ، وأبي هاشم ، وَحَمَّادِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، وأبي إسحاق ، عَنْ أَبِي الأَحْوَصِ ، وَالأَسْوَدِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : كُنَّا لا نَدْرِي مَا نَقُولُ فِي الصَّلاةِ ، نَقُولُ : السَّلامُ عَلَى اللَّهِ ، السَّلامُ عَلَى جِبْرِيلَ ، السَّلامُ عَلَى مِيكَائِيلَ ، فَعَلَّمَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : إِنَّاللَّهَ هُوَ السَّلامُ ، فَإِذَا جَلَسْتُمْ فِي رَكْعَتَيْنِ ، فَقُولُوا : التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ ، وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ ، السَّلامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ ، السَّلامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ قَالَ أَبُو وَائِلٍ فِي حَدِيثِهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِذَا قُلْتَهَا ، أَصَابَتْ كُلَّ عَبْدٍ صَالِحٍ فِي السَّمَاءِ وَالأَرْضِ . وَقَالَ أَبُو إِسْحَاقَ فِي حَدِيثِهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ : إِذَا قُلْتَهَا أَصَابَتْ كُلَّ عَبْدٍ مُقَرَّبٍ وَنَبِيٍّ مُرْسَلٍ ، أَوْ عَبْدٍ صَالِحٍ أَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہمیں یہ نہیں معلوم تھا کہ ہم نماز میں کیا پڑھیں۔ ہم یہ پڑھا کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ پر سلام ہو، سیدنا جبرائیل پر سلام ہو، سیدنا میکائیل پر سلام ہو، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں تعلیم دی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”بے شک اللہ تعالیٰ خود سلامتی عطا کرنے والا ہے، جب تم دو رکعات ادا کرنے کے بعد بیٹھو تو یہ پڑھو: «التَّحِيَّاتُ لِلّٰهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ، السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ، السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلٰى عِبَادِ اللهِ الصَّالِحِينَ» ”تمام زبانی، جسمانی اور مالی عبادات اللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص ہیں۔ اے نبی! آپ پر سلام ہو، اللہ تعالیٰ کی رحمتیں اور اس کی برکتیں نازل ہوں، ہم پر اور اللہ تعالیٰ کے تمام نیک بندوں پر سلام ہو۔““ ابووائل نامی راوی نے اپنی روایت میں سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے یہ الفاظ بھی نقل کیے ہیں: ”جب تم یہ پڑھ لو گے تو آسمان اور زمین میں موجود ہر نیک بندے تک (تمہارا سلام) پہنچ جائے گا۔“ ابواسحاق نامی راوی نے اپنی روایت میں سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ الفاظ نقل کیے ہیں: ”جب تم انہیں پڑھ لو گے تو ہر مقرب فرشتے اور مرسل نبی (راوی کو شک ہے، شاید یہ الفاظ ہیں:) نیک بندے تک (تمہارا سلام) پہنچ جائے گا۔“ (پھر تم یہ پڑھو:) «أَشْهَدُ أَنْ لَّا إِلٰهَ إِلَّا اللهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ» ”میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے اور میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔““ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1956]

1957

Sahih Ibn Hibban #1957

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ مِسْعَرٍ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ ، قَالَ : قُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَدْ عَلِمْنَا السَّلامَ عَلَيْكَ ، فَكَيْفَ الصَّلاةُ عَلَيْكَ ؟ قَالَ : قُولُوا :اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ ، وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ ، كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَآلِ إِبْرَاهِيمَ ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ ، وَبَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ ، وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ ، كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَآلِ إِبْرَاهِيمَ ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہمیں یہ تو پتا چل گیا ہے کہ آپ پر سلام کیسے بھیجنا ہے، لیکن ہم آپ پر درود کیسے بھیجیں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم لوگ یہ پڑھو: «اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ، وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَآلِ إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ، وَبَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ، وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَآلِ إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ» ”اے اللہ! تو سیدنا محمد اور سیدنا محمد کی آل پر درود نازل کر جس طرح تو نے سیدنا ابراہیم اور سیدنا ابراہیم کی آل پر درود نازل کیا۔ بے شک تو لائق حمد اور بزرگی کا مالک ہے اور تو سیدنا محمد اور سیدنا محمد کی آل پر برکت نازل کر جس طرح تو نے سیدنا ابراہیم اور سیدنا ابراہیم کی آل پر برکت نازل کی: بے شک تو لائق حمد اور بزرگی کا مالک ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1957]

1958

Sahih Ibn Hibban #1958

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ الطَّائِيُّ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ نُعَيْمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُجْمِرِ ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ الأَنْصَارِيَّ ، أَخْبَرَهُ عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الأَنْصَارِيِّ ، أَنَّهُ قَالَ : أَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ فِي مَجْلِسِ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ ، فَقَالَ بَشِيرُ بْنُ سَعْدٍ : أَمَرَنَا اللَّهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنْ نُصَلِّيَ عَلَيْكَ ، فَكَيْفَ نُصَلِّي عَلَيْكَ ؟ قَالَ : فَسَكَتْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، حَتَّى تَمَنَّيْنَا أَنَّهُ لَمْ يَسْأَلْهُ ، ثُمَّ قَالَ : قُولُوا :اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ ، وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ ، كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ ، وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ ، وَبَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ ، وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ ، كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ ، فِي الْعَالَمِينَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ . وَالسَّلامُ كَمَا قَدْ عَلِمْتُمْ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابومسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے، ہم اس وقت سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کی محفل میں بیٹھے ہوئے تھے، تو سیدنا بشیر بن سعد رضی اللہ عنہ نے عرض کی: ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اللہ تعالیٰ نے ہمیں یہ حکم دیا ہے کہ ہم آپ پر درود بھیجیں، تو ہم آپ پر کیسے درود بھیجیں؟“ راوی بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے، یہاں تک کہ ہم نے یہ آرزو کی کہ کاش انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سوال نہ کیا ہوتا، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم یہ پڑھو: «اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ وَبَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ فِي الْعَالَمِينَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ» ”اے اللہ! تو سیدنا محمد پر اور سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی آل پر درود نازل کر جس طرح تو نے سیدنا ابراہیم اور سیدنا ابراہیم کی آل پر درود نازل کیا، اور تو سیدنا محمد پر اور سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی آل پر برکت نازل کر جس طرح تو نے سیدنا ابراہیم اور سیدنا ابراہیم کی آل پر تمام جہانوں میں برکت نازل کی: بے شک تو لائق حمد اور بزرگی کا مالک ہے“۔“ (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا) ”سلام کا طریقہ اسی طرح ہے، جس طرح تم جان چکے ہو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1958]

1959

Sahih Ibn Hibban #1959

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، وَكَتَبْتُهُ مِنْ أَصْلِهِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الأَزْهَرِ أَحْمَدُ بْنُ الأَزْهَرِ ، وَكَتَبْتُهُ مِنْ أَصْلِهِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، قَالَ : وَحَدَّثَنِي فِي الصَّلاةِ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا الْمَرْءُ الْمُسْلِمُ صَلَّى عَلَيْهِ فِي صَلاتِهِ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيُّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَبْدِ رَبِّهِ ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ ، قَالَ : أَقْبَلَ رَجُلٌ حَتَّى جَلَسَ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ عِنْدَهُ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَمَّا السَّلامُ عَلَيْكَ فَقَدْ عَرَفْنَاهُ ، فَكَيْفَ نُصَلِّي عَلَيْكَ إِذَا نَحْنُ صَلَّيْنَا فِي صَلاتِنَا ، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْكَ ؟ قَالَ : فَصَمَتَ حَتَّى أَحْبَبْنَا أَنَّ الرَّجُلَ لَمْ يَسْأَلْهُ ، قَالَ : إِذَا صَلَّيْتُمْ عَلَيَّ فَقُولُوا : اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ النَّبِيِّ الأُمِّيِّ ، وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ ، كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ ، وَبَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ النَّبِيِّ الأُمِّيِّ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ ، كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ نے اپنی سند کے ساتھ ابن اسحاق نامی راوی کے حوالے سے یہ روایت نقل کی ہے، وہ کہتے ہیں انہوں نے مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجنے کے بارے میں روایت بیان کی تھی جب کوئی شخص نماز کے دوران آپ پر درود بھیجتا ہے۔ سیدنا ابومسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص آیا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آ کر بیٹھ گیا، اس وقت ہم آپ کے پاس موجود تھے۔ اس شخص نے عرض کی: ”جہاں تک آپ پر سلام بھیجنے کا تعلق ہے اس کا ہمیں پتہ چل گیا ہے، جب ہم نماز پڑھ رہے ہوں، تو ہم آپ پر درود کیسے بھیجیں؟ اللہ تعالیٰ آپ پر درود نازل کرے۔“ راوی بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے، یہاں تک کہ ہم نے یہ پسند کیا (کہ کاش) اس شخص نے آپ سے یہ سوال نہ کیا ہوتا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم مجھ پر درود بھیجنے لگو تو تم یہ پڑھو: «اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ النَّبِيِّ الْأُمِّيِّ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، وَبَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ النَّبِيِّ الْأُمِّيِّ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ» ”اے اللہ! تو امی نبی سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی آل پر درود نازل کر جس طرح تو نے سیدنا ابراہیم علیہ السلام اور سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی آل پر درود نازل کیا، اور تو امی نبی سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی آل پر برکت نازل کر جس طرح تو نے سیدنا ابراہیم علیہ السلام اور سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی آل پر برکت نازل کی، بے شک تو لائقِ حمد اور بزرگی کا مالک ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1959]

1960

Sahih Ibn Hibban #1960

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ مَوْلَى ثَقِيفٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى الْقَطَّانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْمُقْرِئُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو هَانِئٍ حُمَيْدُ بْنُ هَانِئٍ ، أَنَّ أَبَا عَلِيٍّ عَمْرَو بْنَ مَالِكٍ الْجَنْبِيَّ حَدَّثَهُ ، أَنَّهُ سَمِعَ فَضَالَةَ بْنَ عُبَيْدٍ ، يَقُولُ : سَمِعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلا يَدْعُو فِي صَلاتِهِ ، لَمْ يَحْمَدِ اللَّهَ ، وَلَمْ يُصَلِّ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : عَجِلَ هَذَا " . ثُمَّ دَعَاهُ فَقَالَ لَهُ :" إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ فَلْيَبْدَأْ بِتَحْمِيدِ اللَّهِ وَالثَّنَاءِ عَلَيْهِ ، ثُمَّ لِيُصَلِّ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ لَيَدَعُ بَعْدُ بِمَا شَاءَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو نماز کے دوران دعا مانگتے ہوئے سنا، اس نے اللہ تعالیٰ کی حمد بھی بیان نہیں کی تھی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھی نہیں بھیجا تھا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس شخص نے جلد بازی کا مظاہرہ کیا ہے۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بلوایا اور اس سے فرمایا: ”جب کوئی شخص نماز ادا کرے (یا دعا مانگنے لگے) تو اسے پہلے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کرنی چاہیے، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجنا چاہیے، اس کے بعد وہ جو چاہے دعا مانگے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1960]

1961

Sahih Ibn Hibban #1961

أَخْبَرَنَا أَبُو عَرُوبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرٍو الْبَجَلِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي الْحَسَنُ بْنُ الْحُرِّ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُخَيْمِرَةَ ، قَالَ : أَخَذَ عَلْقَمَةُ بِيَدِي فَحَدَّثَنِي ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ ، أَخَذَ بِيَدِهِ ، وَأَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَذَ بِيَدِ عَبْدِ اللَّهِ ، فَعَلَّمَهُ التَّشَهُّدَ فِي الصَّلاةِ : التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ ، السَّلامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ ، السَّلامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ ". قَالَ زُهَيْرٌ : عَقَلْتُ حِينَ كَتَبْتُهُ مِنَ الْحَسَنِ ، فَحَدَّثَنِي مِنْ حِفْظِهِ مِنَ الْحَسَنِ ، بِبَقِيَّتِهِ : " أَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ " . قَالَ زُهَيْرٌ : ثُمَّ رَجَعْتُ إِلَى حِفْظِي ، قَالَ : فَإِذَا قُلْتَ هَذَا فَقَدْ قَضَيْتَ صَلاتَكَ إِنْ شِئْتَ أَنْ تَقُومَ فَقُمْ ، وَإِنْ شِئْتَ أَنْ تَقْعُدَ فَاقْعُدْ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

قاسم بن مغیرہ بیان کرتے ہیں کہ علقمہ نے میرا ہاتھ پکڑا اور انہوں نے مجھے یہ حدیث بیان کی، سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے ان کا ہاتھ پکڑا تھا اور یہ بات بیان کی تھی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑ کر انہیں نماز کے دوران تشہد کے کلمات تعلیم دیے تھے (جو درج ذیل ہیں:) «التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ، السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ، السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ» ”تمام زبانی، جسمانی اور مالی عبادات اللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص ہیں۔ اے نبی! آپ پر سلام ہو، اللہ تعالیٰ کی رحمتیں اور اس کی برکتیں نازل ہوں، ہم پر اور اللہ تعالیٰ کے تمام نیک بندوں پر سلام ہو۔“ زہیر نامی راوی نے یہ بات بیان کی ہے کہ میں نے حسن کے حوالے سے جب اس حدیث کو نوٹ کیا تھا تو میں نے یہ بات یاد رکھی تھی، پھر زہیر نے اپنے حافظے کی بنیاد پر حسن کے حوالے سے روایت کے بقیہ الفاظ نقل کیے جو درج ذیل ہیں: «أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ» ”میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔“ زہیر نامی راوی کہتے ہیں: پھر میں نے اپنی یادداشت کی طرف رجوع کیا جس میں روایت کے یہ الفاظ ہیں: ”جب تم یہ پڑھ لو گے تو تم اپنی نماز کو مکمل کر لو گے، اگر اٹھنا چاہو تو اٹھ جاؤ اور اگر بیٹھے رہنا چاہو تو بیٹھے رہو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1961]

1962

Sahih Ibn Hibban #1962

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا غَسَّانُ بْنُ الرَّبِيعِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ ثَوْبَانَ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ الْحُرِّ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُخَيْمِرَةَ ، قَالَ : أَخَذَ عَلْقَمَةُ بِيَدِي ، وَأَخَذَ ابْنُ مَسْعُودٍ ، بِيَدِ عَلْقَمَةَ ، وَأَخَذَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، فَعَلَّمَهُ التَّشَهُّدَ : التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ ، السَّلامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ ، السَّلامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ ، أَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ ". قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ : فَإِذَا فَرَغْتَ مِنْ هَذَا فَقَدْ فَرَغْتَ مِنْ صَلاتِكَ ، فَإِنْ شِئْتَ فَاثْبُتْ ، وَإِنْ شِئْتَ فَانْصَرِفْ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حصین بن حر، قاسم بن مخیمرہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ علقمہ نے میرا ہاتھ پکڑا (انہوں نے یہ بتایا)، سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے علقمہ کا ہاتھ پکڑا تھا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑا تھا اور انہیں تشہد (کے کلمات) تعلیم دیے تھے (جو درج ذیل ہیں:) «التَّحِيَّاتُ لِلّٰهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ، السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللّٰهِ وَبَرَكَاتُهُ، السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللّٰهِ الصَّالِحِينَ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ» ”تمام زبانی، جسمانی اور مالی عبادات اللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص ہیں، اے نبی! آپ پر سلام ہو اور اللہ تعالیٰ کی رحمتیں اور اس کی برکتیں نازل ہوں۔ ہم پر اور اللہ تعالیٰ کے تمام نیک بندوں پر سلام ہو۔ میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔“ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”جب تم (یہ پڑھ کر) فارغ ہو جاؤ گے تو تم اپنی نماز سے فارغ ہو جاؤ گے، اگر تم چاہو تو بیٹھے رہو اور اگر چاہو تو اٹھ جاؤ۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1962]