Sahih Ibn Hibban #1889
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى الْقَطَّانُ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي سَعِيدٌ الْمَقْبُرِيُّ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ عَمَّارَ بْنَ يَاسِرٍ ، صَلَّى رَكْعَتَيْنِ ، فَخَفَّفَهُمَا ، فَقَالَ لَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَارِثِ : يَا أَبَا الْيَقْظَانِ ، أَرَاكَ قَدْ خَفَّفْتَهُمَا . قَالَ : إِنِّي بَادَرْتُ بِهِمَا الْوَسْوَاسَ ، وَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : إِنَّالرَّجُلَ لِيُصَلِّي الصَّلاةَ ، وَلَعَلَّهُ لا يَكُونُ لَهُ مِنْهَا إِلا عُشْرُهَا ، أَوْ تُسْعُهَا ، أَوْ ثُمُنُهَا ، أَوْ سُبُعُهَا ، أَوْ سُدْسُهَا " حَتَّى أَتَى عَلَى الْعَدَدِ. قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : هَذَا إِسْنَادٌ يُوهِمُ مَنْ لَمْ يُحْكِمْ صِنَاعَةَ الْعِلْمِ أَنَّهُ مُنْفَصِلٌ غَيْرُ مُتَّصِلٍ ، وَلَيْسَ كَذَلِكَ ، لأَنَّ عُمَرَ بْنَ أَبِي بَكْرٍ سَمِعَ هَذَا الْخَبَرَ عَنْ جَدِّهِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ ، عَلَى مَا ذَكَرَهُ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، لأَنَّ عُمَرَ بْنَ أَبِي بَكْرٍ لَمْ يَسْمَعْهُ مِنْ عَمَّارٍ عَلَى ظَاهِرِهِ"
اردو ترجمہ · UrduUnverified translation
عمر بن ابوبکر بن عبدالرحمن بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما نے دو رکعات ادا کیں، انہوں نے انہیں مختصر ادا کیا تو عبدالرحمن بن حارث نے ان سے کہا: اے ابویقظان! میں نے دیکھا ہے کہ آپ نے مختصر نماز ادا کی ہے، تو انہوں نے فرمایا: میں نے وسوسے آنے سے پہلے ہی انہیں مکمل ادا کر لیا کیونکہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”ایک شخص نماز ادا کرتا ہے اور نماز میں اس کا حصہ صرف دسواں ہوتا ہے یا نواں ہوتا ہے یا آٹھواں ہوتا ہے یا ساتواں ہوتا ہے یا چھٹا ہوتا ہے، یہاں تک کہ وہ ایک کے عدد تک آئے۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) اس حدیث کی سند اس شخص کو جو علم حدیث میں مہارت نہیں رکھتا، اس غلط فہمی کا شکار کرتی ہے کہ اس کی سند منفصل ہے متصل نہیں ہے، حالانکہ ایسا نہیں ہے کیونکہ عمر بن ابوبکر نے یہ روایت اپنے دادا عبدالرحمن بن حارث کے حوالے سے سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما سے سنی ہے، جیسا کہ عبیداللہ بن عمر نے بیان کیا ہے؛ عمر بن ابوبکر نے یہ روایت براہ راست سیدنا عمار رضی اللہ عنہما سے نہیں سنی ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1889]