Muslim99Muslim99

Sahih Ibn Hibban · Book 17 · Chapter 3

Book of Marriage

Hadith 1889–1922

34 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

1889

Sahih Ibn Hibban #1889

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى الْقَطَّانُ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي سَعِيدٌ الْمَقْبُرِيُّ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ عَمَّارَ بْنَ يَاسِرٍ ، صَلَّى رَكْعَتَيْنِ ، فَخَفَّفَهُمَا ، فَقَالَ لَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَارِثِ : يَا أَبَا الْيَقْظَانِ ، أَرَاكَ قَدْ خَفَّفْتَهُمَا . قَالَ : إِنِّي بَادَرْتُ بِهِمَا الْوَسْوَاسَ ، وَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : إِنَّالرَّجُلَ لِيُصَلِّي الصَّلاةَ ، وَلَعَلَّهُ لا يَكُونُ لَهُ مِنْهَا إِلا عُشْرُهَا ، أَوْ تُسْعُهَا ، أَوْ ثُمُنُهَا ، أَوْ سُبُعُهَا ، أَوْ سُدْسُهَا " حَتَّى أَتَى عَلَى الْعَدَدِ. قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : هَذَا إِسْنَادٌ يُوهِمُ مَنْ لَمْ يُحْكِمْ صِنَاعَةَ الْعِلْمِ أَنَّهُ مُنْفَصِلٌ غَيْرُ مُتَّصِلٍ ، وَلَيْسَ كَذَلِكَ ، لأَنَّ عُمَرَ بْنَ أَبِي بَكْرٍ سَمِعَ هَذَا الْخَبَرَ عَنْ جَدِّهِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ ، عَلَى مَا ذَكَرَهُ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، لأَنَّ عُمَرَ بْنَ أَبِي بَكْرٍ لَمْ يَسْمَعْهُ مِنْ عَمَّارٍ عَلَى ظَاهِرِهِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عمر بن ابوبکر بن عبدالرحمن بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما نے دو رکعات ادا کیں، انہوں نے انہیں مختصر ادا کیا تو عبدالرحمن بن حارث نے ان سے کہا: اے ابویقظان! میں نے دیکھا ہے کہ آپ نے مختصر نماز ادا کی ہے، تو انہوں نے فرمایا: میں نے وسوسے آنے سے پہلے ہی انہیں مکمل ادا کر لیا کیونکہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”ایک شخص نماز ادا کرتا ہے اور نماز میں اس کا حصہ صرف دسواں ہوتا ہے یا نواں ہوتا ہے یا آٹھواں ہوتا ہے یا ساتواں ہوتا ہے یا چھٹا ہوتا ہے، یہاں تک کہ وہ ایک کے عدد تک آئے۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) اس حدیث کی سند اس شخص کو جو علم حدیث میں مہارت نہیں رکھتا، اس غلط فہمی کا شکار کرتی ہے کہ اس کی سند منفصل ہے متصل نہیں ہے، حالانکہ ایسا نہیں ہے کیونکہ عمر بن ابوبکر نے یہ روایت اپنے دادا عبدالرحمن بن حارث کے حوالے سے سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما سے سنی ہے، جیسا کہ عبیداللہ بن عمر نے بیان کیا ہے؛ عمر بن ابوبکر نے یہ روایت براہ راست سیدنا عمار رضی اللہ عنہما سے نہیں سنی ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1889]

1890

Sahih Ibn Hibban #1890

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مَعْشَرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، دَخَلَ الْمَسْجِدَ ، فَدَخَلَ رَجُلٌ فَصَلَّى ثُمَّ جَاءَ فَجَلَسَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : ارْجِعْ فَصَلِّ فَإِنَّكَ لَمْ تُصَلِّ " . حَتَّى فَعَلَ ذَلِكَ ثَلاثَ مَرَّاتٍ ، فَقَالَ الرَّجُلُ : وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا أَعْرِفُ غَيْرَ هَذَا ، فَعَلِّمْنِي . قَالَ :" إِذَا قُمْتَ إِلَى الصَّلاةِ ، فَكَبِّرْ ، وَاقْرَأْ مَا تَيَسَّرَ مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ ، ثُمَّ ارْكَعْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ رَاكِعًا ، ثُمَّ ارْفَعْ حَتَّى تَعْتَدِلَ قَائِمًا ، ثُمَّ اسْجُدْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ سَاجِدًا ، ثُمَّ ارْفَعْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ جَالِسًا ، وَافْعَلْ ذَلِكَ فِي صَلاتِكَ كُلِّهَا ". قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَاقْرَأْ مَا تَيَسَّرَ مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ " ، يُرِيدُ فَاتِحَةَ الْكِتَابِ . وَقَوْلُهُ : " ارْجِعْ فَصَلِّ فَإِنَّكَ لَمْ تُصَلِّ " ، نَفَى الصَّلاةَ عَنْ هَذَا الْمُصَلِّي ، لِنَقْصِهِ عَنْ حَقِيقَةِ إِتْيَانِ مَا كَانَ عَلَيْهِ مِنْ فَرْضِهَا ، لا أَنَّهُ لَمْ يُصَلِّ . فَلَمَّا كَانَ فِعْلُهُ نَاقِصًا عَنْ حَالَةِ الْكَمَالِ ، نَفَى عَنْهُ الاسْمَ بِالْكُلِّيَّةِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں تشریف لائے، ایک شخص مسجد میں آیا، اس نے نماز ادا کی پھر وہ آ کر بیٹھ گیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم واپس جا کر نماز ادا کرو کیونکہ تم نے نماز ادا نہیں کی ہے“، یہاں تک کہ اس شخص نے تین مرتبہ ایسا کیا، پھر اس شخص نے عرض کی: اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے، مجھے اس کے علاوہ کسی چیز کا علم نہیں ہے، آپ مجھے تعلیم دیجیے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جب تم نماز کے لیے کھڑے ہو، تو تکبیر کہو اور جو قرآن تمہیں آتا ہو اس کی تلاوت کرو پھر تم رکوع میں جاؤ یہاں تک کہ اطمینان سے رکوع کرو پھر تم (سر کو) اٹھاؤ یہاں تک کہ سیدھے کھڑے ہو جاؤ پھر سجدے میں جاؤ یہاں تک کہ اطمینان سے سجدہ کرو پھر (سر کو) اٹھاؤ یہاں تک کہ اطمینان سے بیٹھ جاؤ، تم اپنی پوری نماز اسی طرح ادا کرو۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان: ”جو قرآن تمہیں آتا ہو اس کی تلاوت کرو۔“ اس سے آپ کی مراد سورہ فاتحہ کی تلاوت ہے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان: ”تم واپس جا کر نماز ادا کرو کیونکہ تم نے نماز ادا نہیں کی“، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کے اپنے ذمے لازم چیز کی ادائیگی میں کوتاہی کی وجہ سے اس نمازی کی نماز (ادا ہونے) کی نفی کر دی، اس سے یہ مراد نہیں ہے کہ اس شخص نے نماز ادا ہی نہیں کی تھی، تو جب اس کا فعل کمال کے حوالے سے ناقص ہوا تو اس سے کلی طور پر اسم کی نفی کر دی گئی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1890]

1891

Sahih Ibn Hibban #1891

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ ، عَنْ مُلازِمِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَدْرٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ شَيْبَانَ الْحَنَفِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، وَكَانَ أَحَدَ الْوَفْدِ السِّتَّةِ ، قَالَ : قَدِمْنَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَصَلَّيْنَا مَعَهُ ، فَلَمَحَ بِمُؤَخَّرِ عَيْنَيْهِ رَجُلا لا يُقِرُّ صُلْبَهُ فِي الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ ، فَقَالَ : إِنَّهُلا صَلاةَ لِمَنْ لَمْ يُقِمْ صُلْبَهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبدالرحمن بن علی بن شیبان رحمہ اللہ اپنے والد علی بن شیبان رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں، جو چھ افراد کے وفد میں سے ایک فرد تھے، وہ بیان کرتے ہیں: ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، ہم نے آپ کی اقتداء میں نماز ادا کی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی دونوں آنکھوں کے گوشے سے ایک شخص کو دیکھا جو رکوع اور سجدے کے دوران اپنی پشت کو سیدھا نہیں رکھ رہا تھا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اس شخص کی نماز نہیں ہوتی جو اپنی پشت کو سیدھا نہیں رکھتا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1891]

1892

Sahih Ibn Hibban #1892

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ ، قَالا : حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لا تُجْزِئُ صَلاةٌ لا يُقِيمُ الرَّجُلُ فِيهَا صُلْبَهُ فِي الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابومسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”وہ نماز درست نہیں ہوتی جس میں آدمی رکوع اور سجود کے دوران اپنی پشت کو سیدھا نہیں رکھتا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1892]

1893

Sahih Ibn Hibban #1893

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ يُوسُفَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ عُمَارَةَ بْنَ عُمَيْرٍ ، عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لا تُجْزِئُ صَلاةٌ لأَحَدٍ لا يُقِيمُ صُلْبَهُ فِي الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابومسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”ایسے کسی شخص کی نماز درست نہیں ہوتی جو رکوع اور سجود کے دوران اپنی پشت کو سیدھا نہیں رکھتا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1893]

1894

Sahih Ibn Hibban #1894

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ مَهْدِيٍّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ ، قَالَ : رَأَى حُذَيْفَةُ رَجُلا عِنْدَ أَبْوَابِ كِنْدَةَ يَنْقُرُ ، فَقَالَ : مُذْ كَمْ صَلَّيْتَ هَذِهِ الصَّلاةَ ؟ قَالَ : مُنْذُ أَرْبَعِينَ سَنَةً ؟ قَالَ : لَوْ مُتَّ ، مُتَّ عَلَى غَيْرِ الْفِطْرَةِ الَّتِي فُطِرَ عَلَيْهَا مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّالرَّجُلَ لَيُخَفِّفُ وَيُتِمُّ الرُّكُوعَ وَالسُّجُودَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

زید بن وہب بیان کرتے ہیں کہ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے ”کندہ“ کے دروازوں کے نزدیک ایک شخص کو ٹھونگے مارتے ہوئے دیکھا تو دریافت کیا: تم کتنے عرصے سے اس طرح نماز پڑھ رہے ہو؟ اس نے جواب دیا: چالیس سال سے۔ تو سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اگر تم اسی حالت میں مرتے ہو، تو تم اس فطرت کے علاوہ مرو گے جس پر سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث کیا گیا تھا۔ آدمی نماز مختصر پڑھ لے لیکن رکوع اور سجود مکمل ادا کرے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1894]

1895

Sahih Ibn Hibban #1895

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُنَيْنٍ ، أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ ، أَنَّهُ سَمِعَ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ ، يَقُولُ : نَهَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْأَقْرَأَ رَاكِعًا وَسَاجِدًا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اس بات سے منع کیا ہے کہ ”میں رکوع یا سجدے کے دوران تلاوت کروں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1895]

1896

Sahih Ibn Hibban #1896

ثُمَّ قَالَ : أَلا إِنِّينُهِيتُ أَنْ أَقْرَأَ رَاكِعًا وَسَاجِدًا ، أَمَّا الرُّكُوعُ ، فَعَظِّمُوا فِيهِ الرَّبَّ ، وَأَمَّا السُّجُودُ ، فَاجْتَهِدُوا فِي الدُّعَاءِ ، فَقَمِنٌ أَنْ يُسْتَجَابُ لَكُمْ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پردہ ہٹایا تو لوگ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پیچھے صفیں بنائے ہوئے تھے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے لوگو! نبوت کے مبشرات میں سے اب صرف سچے خواب باقی رہ گئے ہیں، جنہیں کوئی مسلمان دیکھتا ہے یا جو اسے دکھائے جاتے ہیں۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”خبردار! مجھے اس بات سے منع کیا گیا ہے کہ میں رکوع یا سجدے کے دوران تلاوت کروں۔ جہاں تک رکوع کا تعلق ہے، تو تم اس میں پروردگار کی عظمت کا اعتراف کرو اور جہاں تک سجدے کا تعلق ہے، تو تم اس میں اہتمام کے ساتھ دعا مانگو کیونکہ وہ اس لائق ہو گی کہ اسے تمہارے لیے مستجاب کیا جائے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1896]

1897

Sahih Ibn Hibban #1897

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ ، عَنِ الْمُسْتَوْرِدِ بْنِ أَحْنَفَ ، عَنْ صِلَةَ بْنَ زُفَرَ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ : صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَلَمَّارَكَعَ جَعَلَ يَقُولُ : سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيمِ . ثُمَّ سَجَدَ فَقَالَ : سُبْحَانَ رَبِّيَ الأَعْلَى """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتدا میں نماز ادا کی، جب آپ رکوع میں گئے، تو آپ نے ” «سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيمِ» “ پڑھنا شروع کیا، پھر جب آپ سجدے میں گئے تو آپ نے ” «سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلَىٰ» “ پڑھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1897]

1898

Sahih Ibn Hibban #1898

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حِبَّانُ بْنُ مُوسَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مُوسَى بْنُ أَيُّوبَ الْغَافِقِيُّ ، عَنْ عَمِّهِ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، قَالَ : لَمَّا نَزَلَتْ : فَسَبِّحْ بِاسْمِ رَبِّكَ الْعَظِيمِ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اجْعَلُوهَا فِي رُكُوعِكُمْ " . فَلَمَّا نَزَلَ سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الأَعْلَى ، قَالَ : " اجْعَلُوهَا فِي سُجُودِكُمْ ". قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : عَمُّ مُوسَى بْنِ أَيُّوبَ اسْمُهُ : إِيَاسُ بْنُ عَامِرٍ مِنْ ثِقَاتِ الْمِصْرِيِّينَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: جب یہ آیت ﴿فَسَبِّحْ بِاسْمِ رَبِّكَ الْعَظِيمِ﴾ [سورة الواقعة: 74] ”تم اپنے عظیم پروردگار کے اسم کی تسبیح بیان کرو“ نازل ہوئی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم اسے اپنے رکوع میں شامل کر لو۔“ جب یہ آیت ﴿سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى﴾ [سورة الأعلى: 1] ”تم اپنے اعلیٰ پروردگار کے اسم کی تسبیح بیان کرو“ نازل ہوئی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم لوگ اسے اپنے سجود میں شامل کر لو۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) موسیٰ بن ایوب نامی راوی کے چچا کا نام ایاس بن عامر ہے اور یہ مصر سے تعلق رکھنے والے ”ثقہ“ راوی ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1898]

1899

Sahih Ibn Hibban #1899

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ ، أَنَّ عَائِشَةَ أَنْبَأَتْهُ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُفِي رُكُوعِهِ ، وَفِي سُجُودِهِ : سُبُّوحٌ ، قُدُّوسٌ ، رَبُّ الْمَلائِكَةِ وَالرُّوحِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رکوع اور سجدوں میں یہ پڑھا کرتے تھے: «سُبُّوحٌ قُدُّوسٌ رَبُّ الْمَلَائِكَةِ وَالرُّوحِ» ”ہر طرح کے عیب سے پاک ہے وہ مقدس ہے، جو فرشتوں اور روح الامین کا پروردگار ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1899]

1900

Sahih Ibn Hibban #1900

ثُمَّ قَالَ : أَلا إِنِّينُهِيتُ أَنْ أَقْرَأَ رَاكِعًا ، أَوْ سَاجِدًا ، أَمَّا الرُّكُوعُ ، فَعَظِّمُوا فِيهِ الرَّبَّ ، وَأَمَّا السُّجُودُ ، فَاجْتَهِدُوا فِي الدُّعَاءِ ، فَقَمِنٌ أَنْ يُسْتَجَابَ لَكُمْ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پردہ ہٹایا، لوگ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پیچھے صفیں بنائے ہوئے تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اے لوگو! نبوت کے مبشرات میں سے صرف سچے خواب باقی رہ گئے ہیں، جنہیں کوئی مسلمان دیکھتا ہے یا جو اسے دکھائے جاتے ہیں۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”خبردار! مجھے رکوع یا سجدے کی حالت میں تلاوت کرنے سے منع کیا گیا ہے؛ جہاں تک رکوع کا تعلق ہے، تو تم اس میں پروردگار کی عظمت کا اعتراف کرو اور جہاں تک سجدے کا تعلق ہے، تو تم اس میں اہتمام کے ساتھ دعا مانگو، وہ اس لائق ہو گی، اسے تمہارے لیے مستجاب کیا جائے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1900]

1901

Sahih Ibn Hibban #1901

أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ الأَنْمَاطِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَإِذَا رَكَعَ قَالَ : اللَّهُمَّ لَكَ رَكَعْتُ ، وَبِكَ آمَنْتُ ، وَلَكَ أَسْلَمْتُ ، أَنْتَ رَبِّي ، خَشَعَ سَمْعِي ، وَبَصَرِي ، وَمُخِّي ، وَعَظْمِي ، وَعَصَبِي ، وَمَا اسْتَقَلَّتْ بِهِ قَدَمِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا علی بن ابو طالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب رکوع میں جاتے تھے، تو یہ پڑھتے تھے: «اللَّهُمَّ لَكَ رَكَعْتُ، وَبِكَ آمَنْتُ، وَلَكَ أَسْلَمْتُ، أَنْتَ رَبِّي، خَشَعَ لَكَ سَمْعِي، وَبَصَرِي، وَمُخِّي، وَعَظْمِي، وَعَصَبِي، وَمَا اسْتَقَلَّتْ بِهِ قَدَمِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ» ”اے اللہ! تیرے لیے میں نے رکوع کیا، تجھ پر ہی میں ایمان لایا، تیرے لیے میں نے اسلام قبول کیا، تو میرا پروردگار ہے۔ میری سماعت، میری بصارت، میرا گودا، میری ہڈیاں، میرے پٹھے اور میرے دونوں پاؤں پر جو چیز قائم ہے (یعنی میرا پورا وجود) اللہ کے حضور جھکا ہوا ہے، جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1901]

1902

Sahih Ibn Hibban #1902

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَنْعَتُ لَنَا صَلاةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَقُومُ فَيُصَلِّي ،فَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ ، قُلْنَا : قَدْ نَسِيَ مِنْ طُولِ الْقِيَامِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ثابت بنانی بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کو سنا، انہوں نے ہمارے سامنے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کی کیفیت بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز ادا کر رہے ہوتے تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب رکوع سے سر اٹھاتے تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قیام کی طوالت کی وجہ سے ہم یہ سوچتے تھے کہ شاید آپ صلی اللہ علیہ وسلم (سجدے میں جانا) بھول گئے ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1902]

1903

Sahih Ibn Hibban #1903

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَبُو النَّضْرِ هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عَمِّهِ الْمَاجِشُونِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَإِذَا رَكَعَ قَالَ : اللَّهُمَّ لَكَ رَكَعْتُ ، وَبِكَ آمَنْتُ ، وَلَكَ أَسْلَمْتُ ، خَشَعَ لَكَ سَمْعِي ، وَبَصَرِي ، وَمُخِّي ، وَعِظَامِي ، وَعَصَبِي " ، وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ ، قَالَ : " سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ ، رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ مِلْءَ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضِ ، وَمِلْءَ مَا بَيْنَهُمَا وَمِلْءَ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْءٍ بَعْدُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب رکوع میں جاتے تھے، تو یہ پڑھتے تھے: «اللَّهُمَّ لَكَ رَكَعْتُ، وَبِكَ آمَنْتُ، وَلَكَ أَسْلَمْتُ، خَشَعَ لَكَ سَمْعِي، وَبَصَرِي، وَمُخِّي، وَعَظْمِي، وَعَصَبِي» ”اے اللہ! میں نے تیرے لیے رکوع کیا، میں تجھ پر ایمان لایا، میں نے تیرے لیے اسلام قبول کیا، میری سماعت، میری بصارت، میرا گودا، میری ہڈیاں اور میرے پٹھے تیری بارگاہ میں جھکے ہوئے ہیں۔“ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم رکوع سے سر اٹھاتے تھے، تو یہ پڑھتے تھے: «سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ» ”اللہ تعالیٰ نے اس شخص کی بات کو سن لیا جس نے اس کی حمد بیان کی ہے“ «رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ مِلْءَ السَّمَاوَاتِ، وَمِلْءَ الْأَرْضِ، وَمِلْءَ مَا بَيْنَهُمَا، وَمِلْءَ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْءٍ بَعْدُ» ”اے ہمارے پروردگار! ہر طرح کی حمد تیرے لیے مخصوص ہے، جو آسمانوں اور زمین جتنی بھری ہوئی ہو اور ان دونوں کے درمیان جو جگہ ہے اتنی بھری ہوئی ہو، اس کے بعد جس چیز کو تو چاہے اتنی بھری ہوئی ہو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1903]

1904

Sahih Ibn Hibban #1904

أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ الأَنْمَاطِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ فِي الصَّلاةِ ، قَالَ : اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ مِلْءَ السَّمَاوَاتِ ، وَمِلْءَ الأَرْضِ ، وَمِلْءَ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْءٍ بَعْدُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے دوران جب رکوع سے سر اٹھاتے تھے، تو آپ یہ پڑھتے تھے: «اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ مِلْءَ السَّمَاوَاتِ وَمِلْءَ الْأَرْضِ وَمِلْءَ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْءٍ بَعْدُ» ”اے اللہ! اے ہمارے پروردگار! حمد تیرے لیے مخصوص ہے جو آسمانوں جتنی بھری ہوئی ہو، زمین جتنی بھری ہوئی ہو اور اس کے بعد جو چیز تو چاہے اتنی بھری ہوئی ہو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1904]

1905

Sahih Ibn Hibban #1905

أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَاصِمٍ الأَنْصَارِيُّ ، بِدِمَشْقَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي الْحَوَارِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو مُسْهِرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، عَنْ عَطِيَّةَ بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ قَزَعَةَ بْنِ يَحْيَى ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَإِذَا قَالَ : سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ " ، قَالَ : " رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ مِلْءَ السَّمَاوَاتِ ، وَمِلْءَ الأَرْضِ ، وَمِلْءَ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْءٍ بَعْدُ ، أَهْلُ الثَّنَاءِ وَالْمَجْدِ ، أَحَقُّ مَا قَالَ الْعَبْدُ وَكُلُّنَا لَكَ عَبْدٌ ، لا مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ ، وَلا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ ، وَلا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب «سَمِعَ اللّٰهُ لِمَنْ حَمِدَهُ» پڑھ لیتے تھے، پھر آپ یہ پڑھتے تھے: ”اے ہمارے پروردگار! حمد تیرے لیے مخصوص ہے، جو آسمانوں جتنی بھری ہوئی ہو، زمین جتنی بھری ہوئی ہو اور اس کے بعد جو چیز تو چاہے اتنی بھری ہوئی ہو، تو تعریف اور بزرگی کا اہل ہے، وہ چیز سب سے زیادہ حق ہے جو ایک بندے نے کہی ہے، ویسے ہم سب تیرے بندے ہیں (اس بندے نے یہ کہا ہے:) جسے تو عطا کر دے اسے کوئی روکنے والا نہیں ہے اور جسے تو نہ دے اسے کوئی دینے والا نہیں ہے اور تیری مرضی کے مقابلے میں کسی بھی صاحب حیثیت شخص کی حیثیت فائدہ نہیں دیتی۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1905]

1906

Sahih Ibn Hibban #1906

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ ، قَالَ : اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ مِلْءَ السَّمَاوَاتِ ، وَمِلْءَ الأَرْضِ ، وَمِلْءَ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْءٍ بَعْدُ ، أَهْلُ الثَّنَاءِ وَالْمَجْدِ ، لا مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ ، وَلا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ ، وَلا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب رکوع سے سر اٹھا لیتے تھے تو یہ پڑھتے تھے: «اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ مِلْءَ السَّمَاوَاتِ وَمِلْءَ الْأَرْضِ وَمِلْءَ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْءٍ بَعْدُ، أَهْلَ الثَّنَاءِ وَالْمَجْدِ، لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ، وَلَا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ، وَلَا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ» ”اے اللہ! اے ہمارے پروردگار! حمد تیرے لیے مخصوص ہے، جو آسمانوں جتنی بھری ہوئی ہو اور زمین جتنی بھری ہوئی ہو اور اس کے بعد جو چیز تو چاہے اتنی بھری ہوئی ہو، تو تعریف اور بزرگی کا اہل ہے، جس کو تو عطا کر دے اسے کوئی روکنے والا نہیں ہے اور جسے تو نہ دے اسے کوئی کچھ دینے والا نہیں ہے اور تیری مرضی کے مقابلے میں کسی بھی صاحبِ حیثیت شخص کی حیثیت فائدہ نہیں دیتی ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1906]

1907

Sahih Ibn Hibban #1907

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ سُمَيٍّ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِذَا قَالَ الإِمَامُ : سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ ، فَقُولُوا : اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ ، فَإِنَّهُ مَنْ وَافَقَ قَوْلُهُ قَوْلَ الْمَلائِكَةِ ، غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”جب امام «سَمِعَ اللّٰهُ لِمَنْ حَمِدَهٗ» کہے، تو تم لوگ یہ کہو ”اے اللہ! اے ہمارے پروردگار! حمد تیرے ہی لیے مخصوص ہے۔“ کیونکہ جس شخص کا یہ کہنا فرشتوں کے کہنے کے ہمراہ ہو، اس شخص کے گزشتہ گناہوں کی مغفرت ہو جاتی ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1907]

1908

Sahih Ibn Hibban #1908

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِذَا قَالَ الإِمَامُ : سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ ، فَقُولُوا : رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”جب امام «سَمِعَ اللّٰهُ لِمَنْ حَمِدَهٗ» پڑھے تو تم لوگ یہ کہو: ”اے اللہ! ہمارے پروردگار! حمد تیرے ہی لیے مخصوص ہے۔“” [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1908]

1909

Sahih Ibn Hibban #1909

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : إِذَا قَالَ الإِمَامُ : سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ ، فَقُولُوا : رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جب امام «سَمِعَ اللّٰهُ لِمَنْ حَمِدَهُ» ”اللہ نے اس کی بات سن لی جس نے اس کی تعریف کی“ پڑھے تو تم «رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ» ”اے ہمارے رب! تیرے ہی لیے تمام تعریفیں ہیں“ پڑھو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1909]

1910

Sahih Ibn Hibban #1910

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ نُعَيْمٍ الْمُجْمِرِ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ يَحْيَى الزُّرَقِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ الزُّرَقِيِّ ، قَالَ : كُنَّا يَوْمًا نُصَلِّي وَرَاءَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَلَمَّا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرَّكْعَةِ ، وَقَالَ : سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ " . قَالَ رَجُلٌ وَرَاءَهُ : رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ ، حَمْدًا كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيهِ . فَلَمَّا انْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنِ الْمُتَكَلِّمُ آنِفًا ؟ " ، فَقَالَ رَجُلٌ : أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَقَدْ رَأَيْتُ بِضْعًا وَثَلاثِينَ مَلَكًا يَبْتَدِرُونَهَا أَيُّهُمْ يَكْتُبُهَا أَوَّلُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا رفاعہ بن رافع زرقی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک دن ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز ادا کر رہے تھے جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع سے سر اٹھایا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے «سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ» فرمایا، آپ کے پیچھے ایک شخص نے یہ کلمات پڑھے: «رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ حَمْدًا كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيهِ» ”اے ہمارے پروردگار! حمد تیرے ہی لئے مخصوص ہے۔ ایسی حمد جو زیادہ ہو پاکیزہ ہو اس میں برکت موجود ہو۔“ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز مکمل کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”ابھی کلام کرنے والا شخص کون تھا؟“ ایک صاحب نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں تھا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میں نے تیس سے زیادہ فرشتوں کو دیکھا، وہ ان کلمات کی طرف لپکے، ان میں سے کون پہلے ان کلمات کو نوٹ کرتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1910]

1911

Sahih Ibn Hibban #1911

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الأَنْصَارِيُّ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ سُمَيٍّ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : إِذَا قَالَ الإِمَامُ : سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ ، فَقُولُوا : اللَّهُمَّ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ ، فَمَنْ وَافَقَ قَوْلُهُ قَوْلَ الْمَلائِكَةِ ، غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جب امام «سَمِعَ اللّٰهُ لِمَنْ حَمِدَهُ» ”اللہ نے اس کی سن لی جس نے اس کی تعریف کی“ کہے، تو تم لوگ «اللّٰهُمَّ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ» ”اے اللہ! اے ہمارے رب! تیرے ہی لیے تمام تعریف ہے“ پڑھو، جس شخص کا یہ پڑھنا فرشتوں کے کہنے کے ہمراہ ہو گا، اس شخص کے گزشتہ گناہوں کی مغفرت ہو جائے گی۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1911]

1912

Sahih Ibn Hibban #1912

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الثَّقَفِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ ، قَالَ : رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ،إِذَا سَجَدَ ، وَضَعَ رُكْبَتَيْهِ قَبْلَ يَدَيْهِ ، وَإِذَا نَهَضَ ، رَفَعَ يَدَيْهِ قَبْلَ رُكْبَتَيْهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا وائل بن حجر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، جب آپ سجدے میں گئے تو آپ نے اپنے دونوں گھٹنے دونوں ہاتھوں سے پہلے زمین پر رکھے اور جب آپ اٹھے تو آپ نے دونوں گھٹنوں سے پہلے دونوں ہاتھ اٹھائے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1912]

1913

Sahih Ibn Hibban #1913

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى الشَّحَّامُ ، بِالرِّيِّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمِ بْنِ وَارَةَ ، حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ رَوْحٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ ، عَنِ الزُّبَيْدِيِّ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدَ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، مَوْلَى آلِ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، قَالَ : كُنْتُ عِنْدَ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَتَاهَا ذُو قَرَابَتِهَا غُلامٌ شَابٌّ ذُو جُمَّةٍ ، فَقَامَ يُصَلِّي ، فَلَمَّا ذَهَبَ لِيَسْجُدَ ، نَفَخَ ، فَقَالَتْ : لا تَفْعَلْ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ لِغُلامٍ لَنَا أَسْوَدَ : يَا رَبَاحُ ،تَرِّبْ وَجْهَكَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابوصالح بیان کرتے ہیں: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس موجود تھا، ان کے رشتے داروں میں سے ایک نوجوان ان کے پاس آیا جس کے بڑے بڑے بال تھے، وہ کھڑا ہو کر نماز ادا کرنے لگا، جب وہ سجدے میں جانے لگا تو اس نے پہلے پھونک ماری، تو سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: تم ایسا نہ کرو کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے ایک سیاہ فام لڑکے کو یہ فرمایا تھا: «تَرِّبْ وَجْهَكَ يَا رَبَاحُ» ”اے رباح! (سجدے کے دوران) تم اپنے چہرے کو خاک آلود کرو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1913]

1914

Sahih Ibn Hibban #1914

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الزُّهْرِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، وَعَمِّي ، قَالا : حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي مِسْعَرُ بْنُ كِدَامٍ ، عَنْ آدَمَ بْنِ عَلِيٍّ الْبَكْرِيِّ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لا تَبْسُطْ ذِرَاعَيْكَ إِذَا صَلَّيْتَ كَبَسْطِ السَّبُعِ ، وَادَّعِمْ عَلَى رَاحَتَيْكَ ، وَجَافِ عَنْ ضَبْعَيْكَ ، فَإِنَّكَ إِذَا فَعَلْتَ ذَلِكَ سَجَدَ كُلُّ عُضْوٍ مِنْكَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”جب تم نماز ادا کر رہے ہو تو اپنے بازوؤں کو یوں نہ بچھاؤ جس طرح درندے بچھاتے ہیں، تم اپنی ہتھیلیوں پر ٹیک لگاؤ اور اپنے بازوؤں کو اپنے پہلو سے دور رکھو، جب تم ایسا کرو گے تو تمہارا ہر عضو سجدہ کرے گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1914]

1915

Sahih Ibn Hibban #1915

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرِ بْنِ الْحَكَمِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو إِسْحَاقَ ، قَالَ : سَمِعْتُ الْبَرَاءَ ، يَقُولُ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَيَسْجُدُ عَلَى أَلْيَتَيْ كَفَّيْهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا براء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی دونوں ہتھیلیوں پر سجدہ کیا کرتے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1915]

1916

Sahih Ibn Hibban #1916

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ إِيَادِ بْنِ لَقِيطٍ ، عَنْ إِيَادِ بْنِ لَقِيطٍ ، عَنِ الْبَرَاءِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : إِذَا سَجَدْتَ ، فَضَعْ كَفَّيْكَ ، وَارْفَعْ مِرْفَقَيْكَ ، وَانْتَصِبْ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا براء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جب تم سجدے میں جاؤ تو اپنی دونوں ہتھیلیاں (زمین پر) رکھو اور اپنی دونوں کہنیوں کو بلند رکھو اور ان کو نصب (کھڑا) رکھو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1916]

1917

Sahih Ibn Hibban #1917

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ السَّلامِ ، بِبَيْرُوتَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ دَرَّاجٍ ، عَنِ ابْنِ حُجَيْرَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : إِذَا سَجَدَ أَحَدُكُمْ فَلا يَفْتَرِشِ افْتِرَاشَ الْكَلْبِ ، وَلْيَضُمَّ فَخِذَيْهِ ". قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : لَمْ يَسْمَعِ اللَّيْثُ مِنْ دَرَّاجٍ غَيْرَ هَذَا الْحَدِيثِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جب کوئی شخص سجدے میں جائے، تو وہ کتے کی طرح (اپنے بازو) نہ بچھائے اور وہ اپنے زانو کو ملا کر رکھے۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) لیث نامی راوی نے دراج نامی راوی کے حوالے سے اس حدیث کے علاوہ اور کوئی حدیث نہیں سنی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1917]

1918

Sahih Ibn Hibban #1918

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنِ ابْنِ عَجْلانَ ، عَنْ سُمَيٍّ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : شَكَى أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَشَقَّةَ السُّجُودِ عَلَيْهِمْ ، فَقَالَ : اسْتَعِينُوا بِالرُّكَبِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے کچھ اصحاب نے آپ کی خدمت میں سجدے کے دوران مشقت کی شکایت کی تو آپ نے ارشاد فرمایا: ”تم گھٹنوں کے ذریعے مدد حاصل کرو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1918]

1919

Sahih Ibn Hibban #1919

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَهْلِ بْنِ عَسْكَرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الأَسْوَدِ النَّضْرُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ مُضَرٍ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ رَبِيعَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ هُرْمُزَ الأَعْرَجِ ، عَنِ ابْنِ بُحَيْنَةَ ، قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَإِذَا سَجَدَ فَرَّجَ بَيْنَ يَدَيْهِ حَتَّى يَبْدُوَ بَيَاضُ إِبْطَيْهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابن بحینہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب سجدے میں جاتے تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے دونوں بازوؤں کو اتنا کشادہ رکھتے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بغلوں کی سفیدی نمایاں ہو جاتی تھی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1919]

1920

Sahih Ibn Hibban #1920

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَإِذَا رَكَعَ ، فَرَّجَ أَصَابِعَهُ ، وَإِذَا سَجَدَ ضَمَّ أَصَابِعَهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

علقمہ بن وائل اپنے والد رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب رکوع میں جاتے تھے، تو اپنی انگلیوں کو کشادہ رکھتے تھے اور جب آپ سجدے میں جاتے تھے، تو اپنی انگلیاں ملا کر رکھتے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1920]

1921

Sahih Ibn Hibban #1921

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْجُنَيْدِ ، بِبُسْتَ ، حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ مُضَرَ ، عَنِ ابْنِ الْهَادِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : إِذَا سَجَدَ الْعَبْدُ سَجَدَ مَعَهُ سَبْعَةُ آرَابٍ : وَجْهُهُ ، وَرُكْبَتَاهُ ، وَكَفَّاهُ ، وَقَدَمَاهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عامر بن سعد، سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جب بندہ سجدہ کرتا ہے، تو اس کے ہمراہ سات اعضا سجدہ کرتے ہیں: اس کا چہرہ، اس کے دونوں گھٹنے، اس کی دونوں ہتھیلیاں اور اس کے دونوں پاؤں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1921]

1922

Sahih Ibn Hibban #1922

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا حَيْوَةُ ، عَنِ ابْنِ الْهَادِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : إِذَا سَجَدَ الْعَبْدُ سَجَدَ مَعَهُ سَبْعَةُ آرَابٍ : وَجْهُهُ ، وَكَفَّاهُ ، وَرُكْبَتَاهُ ، وَقَدَمَاهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عامر بن سعد، سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جب بندہ سجدہ کرتا ہے، تو اس کے ہمراہ سات اعضاء سجدہ کرتے ہیں: اس کا چہرہ، اس کی دونوں ہتھیلیاں، اس کے دونوں گھٹنے اور اس کے دونوں پاؤں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1922]